Tag: Urdu fiction

  • دوسرا دوزخ

    میرے پیارے اللہ!
    ”آپ کے نام یہ میرا پہلا اور آخری خط ہے، بچپن میں ایک بار ایک کہانی پڑھی تھی… ایک یتیم بچے کی کہانی، جسے اپنی کوئی ضرورت پوری کرنے کے لیے کچھ رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اللہ کے نام ایک چٹھی لکھتا ہے، وہ چٹھی ڈاک خانے والے کھول لیتے ہیں اور پھر اس بچے پر ترس کھاتے ہوئے کچھ رقم اکٹھی کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بھیج دیتے ہیں۔
    تب وہ کہانی پڑھتے ہوئے مجھے ترس سے زیادہ اس بچے پر رشک آیا تھا، جس پر دنیا نے ترس کھا لیا…
    مگر میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی میں ایک وقت ایسا آئے گا ،جب مجھے بھی اللہ کے نام ایسا ہی ایک خط لکھنا پڑے گا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ دنیا اس خط کو کھول کر پڑھنے کے بعد بھی کبھی مجھ پر ترس نہیں کھائے گی… یا شاید لوگ کبھی اس خط کو پڑھ ہی نہیں پائیں گے…”
    ”نہیں کیا یہ کہوں کہ پڑھنا نہیں چاہیں گے۔”
    ”نہیں… کیا… کہوں کہ یہ خط ان تک پہنچ ہی نہیں پائے گا…”
    کاغذ پر سیاہی سے لکھی ہوئی تحریر دیکھی جا سکتی ہے۔ پڑھی جا سکتی ہے… سوچ کی لہروں پر بھیجی جانے والی تحریر کتنے لوگ پڑھ سکتے ہیں… لکھنے والے اور اللہ کے سوا…؟ میری خواہش تھی، میں بھی اس بچے کی طرح ایک کاغذ پر یہ تحریر لکھتی اور پھر اسی طرح لفافے پر اللہ کے نام لکھ کر ڈاک کے سپرد کر دیتی، مگر میں ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوں۔
    لکھنے کے لیے ہاتھ میں قلم اور کاغذ ہونا چاہیے، میں دونوں چیزیں تھامنے کے قابل نہیں ہوں۔ میں اپنا ہاتھ بستر سے اٹھا نہیں سکتی۔ ہاتھ ہلانے کی کوشش کروں گی تو میرے جسم پر موجود زخموں سے خون رسنا شروع ہو جائے گا۔ قلم ہاتھ میں تھاموں گی تو ہتھیلی کا ماس قلم کے ساتھ چپک جائے گا۔ انگلیاں موڑوں گی تو میرے Knuckles (انگلیوں کے جوڑ) پر پڑنے والی دراڑیں ہاتھوں کے باقی ماندہ گوشت کو برہنہ کر دیں گی۔ آنکھیں مسلسل کھلی رکھنا بھی میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ درد کم کرنے کی دوائیں، مجھے ہوش میں رہنے نہیں دے رہیں۔ درد مجھے ہوش کھونے نہیں دے رہا۔
    میں بول کر کسی دوسرے کو بھی خط نہیں لکھوا سکتی، میں الفاظ اکٹھے کرنے کے قابل نہیں رہی میرا ذہن درد اور اذیت سے مائوف ہو رہا ہے، میرے منہ سے کرا ہوں کے علاوہ اور کچھ نہیں نکل پا رہا۔ اور تکلیف اتنی ہے کہ میں… میں کراہ بھی نہیں پا رہی۔ منہ کھولنے کی کوشش میں میرے چہرے کی جلی ہوئی جلد اور گوشت چٹخنے لگتا ہے۔ خون اور پیپ رسنے لگتی ہے۔ لفظ کراہ بن جاتا ہے۔





    میوہاسپٹل کے برن یونٹ میں ایک بستر پر میں اپنی زندگی کے آخری گھنٹے گزار رہی ہوں، میرا ستر فیصد جسم جل چکا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹے سے میں زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار ہوں۔ کیونکہ ڈاکٹر نے مجھے لاعلاج قرار دے دیا ہے۔
    ”یہ اگلے ایک دو گھنٹوں میں مر جائیں گی۔” میں نے اپنے بستر سے کچھ فاصلے پر ڈاکٹر کو کچھ دیر پہلے کہتے سنا تھا۔ وہ پتا نہیں کس سے مخاطب تھا۔
    ”امی سے… ابو سے… مہوش سے… سجاد سے… لئیق سے پتہ نہیں کس سے…؟”
    مگر اس نے یہ کہا ضرور تھا، میں نے اپنے کانوں سے سنا تھا… کان…؟ پتہ نہیں انھیں کان کہنا اب ٹھیک ہوگا یا نہیں… جلنے کے بعد چیزوں کو کوئلہ کہتے ہیں یا راکھ… جلی ہوئی عورت کو کیا کہتے ہیں؟ پچھلے چوبیس گھنٹوں سے میں جن سوالوں کے جواب تلاش کر رہی ہوں ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔
    میری ناک میں لگی ہوئی آکسیجن کی نالی دنیا میں میری آخری سانسوں کو ممکن بنا رہی ہے۔ میرے دائیں ہاتھ کی آبلہ بنی ہوئی پشت میں پیوست ایک ڈرپ قطرہ قطرہ کر کے میرے اندر وہ نمی پہنچا رہی ہے جو میرے وجود کو اس ہولناک اذیت سے چھٹکارا پانے بھی نہیں دے رہی۔ میں گردن سے پیروں تک ایک سلاخ دار پنجرے میں ہوں جس کو سفید رنگ کی ایک چادر سے ڈھانپا گیا ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ کپڑا میرے جسم سے نہ چھوئے۔ میرے جسم پر موجود گوشت، چربی، کھال سب کچھ جل کر صرف خون آلودہ اور پیپ زدہ ایک ڈھیر رہ گیا ہے۔ اور ڈاکٹر اس ڈھیر کو مزید کسی تکلیف سے بچانے کے لیے اس پر کپڑا چھونے نہیں دے رہے۔
    میں اپنا ہاتھ اٹھا کر چہرہ چھو نہیں سکتی۔ مگر میں پھر بھی جانتی ہوں وہاں اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔ میرے چہرے کے سارے نقوش مسخ ہو چکے ہوں گے…
    ”ہاں… ہاں مگر آنکھیں… آنکھیں اب بھی باقی ہیں۔ آنکھیں اب بھی دیکھ سکتی ہیں… اور… اور دکھا بھی سکتی ہیں… میں پچھلے چوبیس گھنٹوں سے خود پر نظریں ڈالنے والے ہر شخص کی آنکھ کی پتلی میں اپنی شبیہہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ہر شخص نظریں چرا جاتا ہے۔ مجھے اپنی شبیہہ نظر نہیں آتی…
    چوبیس گھنٹے…
    چوبیس گھنٹے…
    چوبیس گھنٹے…
    صرف چوبیس گھنٹے ہی تو گزرے ہیں، مجھے گوشت پوست کے ایک نارمل انسان سے جھلسے ہوئے اس بے شناخت ڈھیر میں تبدیل ہوئے۔ چوبیس گھنٹے پہلے میں اپنی انگلیوں کے پوروں سے اپنے چہرے کے ہر نقش کو محسوس کر سکتی تھی۔ ناک کی باریک اٹھی ہوئی نوک، ہونٹوں کی مخصوص ساخت، گالوں کی ملائم جلد، بھنوئوں کے بال، دراز خمدار پلکیں، تھوڑی کا گڑھا، مسکرانے پر گالوں میں پڑنے والے ڈمپل، کانوں کی نرم لو اور اس میں لٹکتی ہوئی بالیاں، کمر تک لمبے سیاہ گھنے اور ملائم بال جو بہت اچھی طرح باندھے جانے کے باوجود میرے ماتھے اور گالوں پر بکھرے رہتے تھے اور جنھیں میں ہر وقت کانوں کے پیچھے اڑستی رہتی… اور… دراز خمدار پلکوں والی سیاہ ہنستی ہوئی آنکھیں۔
    اب وہاں کیا ہے؟ میں جانتی ہوں… میں نہیں جانتی۔
    مجھے آپ کو تو یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ تو سب کچھ جانتے ہیں۔ میں آپ کو یہ سب کچھ بتانے کے لیے تو خط نہیں لکھ رہی، میں تو آپ سے کچھ پوچھنا چاہ رہی تھی۔
    ”کیا پوچھنا چاہ رہی تھی؟ کیا پوچھنا چاہ رہی تھی؟ کیا پوچھنا چاہ رہی تھی…؟ آہ… مجھے یاد نہیں آ رہا۔
    درد ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نرس میری ناک میں لگی ہوئی نالی کو ٹھیک کر رہی ہے۔ اس نے آکسیجن کے پریشر میں کچھ تبدیلی کی ہے۔ میں محسوس کر سکتی ہوں۔ میرے چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں رحم ہے، ترس ہے؟ خوف ہے؟ کیا ہے؟ میری آنکھیں ایک بار پھر بند ہو رہی ہیں۔
    میرے بستر کے پاس کھڑے لوگ میری سانسیں گن رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے میں مر جائوں… میں جانتی ہوں، وہ چاہتے ہیں میں اس اذیت سے چھٹکارا پا جائوں، مجھے علم ہے… میری بھی یہی خواہش ہے، میں بھی یہی چاہتی ہوں… مگر… مگر… وہ سوال جو میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں… وہ یاد نہیں آ رہا… پتہ نہیں کیوں… کیوں یاد نہیں آ رہا… میں وہ سوال پوچھے بغیر… پوچھے بغیر مرنا بھی نہیں چاہتی۔ کیسے مر جائوں؟ مگر سوال… مگر سوال…
    میں یاد کر رہی ہوں، مجھے یاد آ جائے گا۔ کوئی میرے بستر کے پاس رو رہا ہے۔ میں آنکھیں کھولے بغیر بھی آواز پہچان سکتی ہوں… آخری سانسیں لیتے ہوئے بھی ان سسکیوں کو شناخت کر سکتی ہوں…
    وہ میری ماں ہے… پچھلے چوبیس گھنٹوں سے میں اسے اسی طرح اپنے سرہانے دیکھ رہی ہوں۔ جلے پیر کی بلی کی طرح وہ… میرے بستر کے گرد پھر رہی ہے… میرے دائیں جانب… پھر میرے بائیں جانب… دائیں جانب… بائیں جانب… وہ روتی ہے… چپ ہو جاتی ہے… ہاتھ میں پکڑے ہوئے پنج سورة سے آیات اور دعائیں پڑھتی ہے۔ مجھ پر پھونکتی ہے… مجھے دیکھتی ہے۔ پھر رونے لگتی ہے۔ وہ پھر کچھ پڑھتی ہے… پھر پھونکتی ہے… وہ مجھے ہاتھ نہیں لگا سکتی۔ تسلی دینے کے لیے نا محبت جتانے کے لیے…
    وہ میرا ماتھا چھوئے گی تو میرے ماتھے کی جھلسی ہوئی جلد اپنی جگہ چھوڑنے لگے گی… میں اور کراہوں گی…




  • لاحاصل — قسط نمبر ۳ (آخری قسط)

    سیڑھیاں غائب ہو چکی تھیں اور وہ جسے گھر کی چھت سمجھ رہی تھی وہ ایک پہاڑ کی چوٹی تھی جس سے نیچے اترنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ستاروں کی دھندلی روشنی بھی اسے ان کھائیوں کی گہرائی دکھانے میں ناکام تھی جو اس چوٹی کے چاروں جانب تھیں۔
    —–*—–
    زینب کی پیدائش کے بعد مریم نے ایک بار پھر نئے سرے سے اپنی سرگرمیوں کو شروع کر دیا تھا۔ اس نے زینب کے لیے ایک گورنس رکھ لی تھی اور ذالعید کے اعتراض کی بالکل پروا نہیں کی۔
    مگر اب پہلی بار اس نے محسوس کیا کہ ذالعید کی سوشل لائف بالکل ختم ہو چکی ہے۔ وہ بہت کم ہی اب ان پارٹیز اور ڈنرز میں شرکت کرتا جن میں وہ پہلے اس کے ساتھ جایا کرتا تھا۔ ہر بار اس کے پاس کوئی نہ کوئی بہانا ہوتا۔ مریم کو بعض دفعہ اس کی اس بدلی ہوئی روٹین پر حیرت ہوتی۔ اس نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ چند ماہ پہلے کی نسبت وہ اب بہت خوش تھا۔ مریم کا خیال تھا کہ یہ خوشی زینب کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ زینب کے ساتھ خاصا وقت گزارتا تھا۔ گورنس کی موجودگی کے باوجود وہ اس کے کئی کام خود کرتا تھا۔ مریم اسے منع کرتی، وہ سمجھتی تھی کہ اس طرح زینب کی پرورش ٹھیک سے نہیں ہو پائے گی۔ مگر بعض دفعہ مریم کو احساس ہوتا کہ ذالعید کی زندگی میں کوئی اور تبدیلی بھی آئی ہے۔
    وہ کئی بار بہت پریشان ہو جاتا۔ بیٹھے بیٹھے کہیں کھو جاتا اور پھر مریم کے استفسار پر بالکل خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگتا۔ مریم نے اب اسے کئی بار نماز پڑھتے ہوئے بھی دیکھا اور اسے شاک لگا تھا۔ ذالعید مذہبی نہیں تھا مگر اب…
    اسے پریشانی ہونے لگی کہ کہیں وہ اس پر بھی کوئی پابندی عائد نہ کر دے مگر ذالعید نے ایسا نہیں کیا تھا۔ مریم کو یہ بھی احساس ہونے لگا کہ اب وہ ماما جان کی بات نہیں کرتا۔ اگر کبھی وہ ان کا ذکر کرنے لگتی تو وہ موضوع بدل دیتا۔ اسے اس وقت اس کے چہرے پر ایک عجیب سا اضطراب اور وحشت نظر آتی۔
    زینب کی پیدائش کے کچھ دن بعد باتوں باتوں میں مریم نے اس پر یہ انکشاف کیا کہ وہ ماما جان کی حقیقی بیٹی نہیں ہے، انہوں نے اسے گود لیا تھا۔ وہ اس وقت حیران رہ گئی جب ذالعید نے اس پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔
    ”میں جانتا ہوں۔” اس نے کہا۔
    ”کیا ماما جان نے بتایا ہے تمہیں؟”
    ”ہاں۔”
    ”کب؟” اس نے مریم کی بات کا جواب نہیں دیا۔ وہ زینب کو کاٹ میں لٹا کر اس سے نظریں چراتے ہوئے باہر چلا گیا۔
    اس کی یہ کیفیت زینب کے چھ ماہ کا ہونے تک رہی پھر وہ یک دم پرسکون اور مطمئن نظر آنے لگا۔ صرف ایک چیز نارمل نہیں ہوئی تھی۔ وہ اب ماما جان کے پاس جانے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ تہواروں کے موقع پر بھی وہ مریم سے یہی کہتا کہ وہ خود ماما جان کے پاس چلی جائے۔ مریم کے اصرار پر بھی وہ اس کے ساتھ نہ جاتا۔ مریم بہت خوش تھی، کم از کم ماما جان کی اس فلاسفی سے اسے کوئی خطرہ نہیں رہا تھا جو ذالعید پر اپنا اثر دکھا رہی تھی۔
    اس کی شہرت دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔ شادی کے تیسرے سال وہ نیویارک میں دو جگہ اپنی پینٹنگز کی نمائش کر چکی تھی۔ Time میں اس کی تصویروں کے بارے میں پہلی بار ایک آرٹیکل چھپا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اس بین الاقوامی شہرت کی دہلیز پر جا پہنچی تھی جس کی اسے خواہش تھی۔
    ان دنوں وہ لندن میں اپنی پہلی بڑی نمائش کی تیاریوں میں مصروف تھی جب ایک جھماکے کے ساتھ اس نے اپنی زندگی کے افق پر ان تحریروں کو آتے دیکھا جنہوں نے سب کچھ راکھ کر دیا۔
    —–*—–





    وہ اس رات fبہت عرصے کے بعد اسٹوڈیو گیا۔ مریم گھر پر نہیں تھی اور وہ ان پینٹنگز کو دیکھنا چاہ رہا تھا جن کی وہ پچھلے کچھ عرصہ سے بہت پرُجوش ہو کر بات کر رہی تھی اور جن کی اگلے کچھ ہفتوں کے بعد نمائش ہونے والی تھی مگر اسٹوڈیو میں جاتے ہی وہ جیسے ہکا بکا رہ گیا تھا۔
    وہ بہت عرصہ کے بعد مریم کی بنائی ہوئی پینٹنگز دیکھ رہا تھا۔ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ اب کیا پینٹ کر رہی ہے، وہ Nude آرٹ تھا۔ ہر پینٹنگ میں بڑی پرفیکشن کے ساتھ انسانی جسم کو کسی نہ کسی زاویے سے پینٹ کیا گیا تھا۔
    اسے وہ ساری پینٹنگز یک دم فحاشی نظر آنے لگی تھی۔ یہ وہ آرٹ نہیں تھا جسے وہ دیکھنے کا عادی تھا، وہ ان ہی پیروں وہاں سے پلٹ آیا۔
    ملازم کو کافی کا کہہ کر وہ خود الاؤنج میں ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا۔ مریم ساڑھے گیارہ بجے واپس آئی وہ اس وقت کافی پی رہا تھا۔ مریم اس کے پاس صوفہ پر بیٹھ گئی۔ ملازم کو کافی کا ایک اور مگ لانے کے لیے کہہ کر وہ ذالعید کی طرف متوجہ ہوئی۔
    ”زینب سو گئی؟”
    ”ہاں۔” وہ مختصراً کہہ کر اسی طرح کافی پیتا رہا۔
    مریم اپنی جیولری اتارنے لگی۔ ملازم جب کافی دے کر چلا گیا تو ذالعید نے اس سے کہا۔
    ”میں آج سٹوڈیو گیا تھا۔” اس کی آواز خاصی خشک تھی مگر مریم نے غور نہیں کیا۔
    ”اچھا پینٹنگز دیکھیں تم نے میری؟” اس نے خاصے اشتیاق سے پوچھا۔
    ”وہ پینٹنگز نہیں ہیں، گندگی ہے۔”
    ”ذالعید!” مریم کو جیسے ایک دھچکا لگا۔
    ”اس گندگی کی نمائش کرنا چاہ رہی ہو تم؟”
    ”وہ گندگی نہیں آرٹ ہے۔” مریم کا چہرہ یک دم سرخ ہو گیا۔
    "Nude art”
    ”تو پھر کیا ہے، اس سے اس کی اہمیت تو ختم نہیں ہو جاتی۔”
    ”تمہیں پتا ہے وہ کس قدر بے ہودہ پینٹنگز ہیں۔”
    ”بے ہودگی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے، پینٹنگ میں نہیں۔ آرٹ میں کچھ بھی بے ہودہ نہیں ہوتا۔ تخلیق، تخلیق ہوتی ہے۔ تم تو خود آرٹ کے اسٹوڈنٹ رہے ہو، تم نے آرٹ میں ولگیرٹی کیسے ڈھونڈ لی۔” وہ کچھ کہے بغیر اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
    ”تم کیا پینٹ کیا کرتی تھیں مریم اور اب کیا پینٹ کر رہی ہو!” اس نے جیسے افسوس کیا۔
    ”یہ وہ آرٹ ہے جو مجھے شہرت دلا رہا ہے، میرا نام، میری ساکھ بنا رہا ہے، یہ وہ آرٹ ہے جو بکتا ہے۔ تم جانتے ہو ان میں سے کوئی بھی پینٹنگ پچاس ہزار سے کم میں نہیں بکے گی اور جس آرٹ کی تم بات کرتے ہو۔ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، دیکھتے ہیں، خریدتے بھی ہیں مگر ٹکوں میں۔
    تم تو واقف ہو میں نے ان پینٹنگز کو دو دو ہزار میں بھی بیچا ہے۔ دوہزار سے کیا ہوتا ہے رنگ، کینوس اور برش خریدنے کے بعد کیا بچتا ہے آرٹسٹ کے پاس… کیوں بناؤں میں ایسی پینٹنگز جو مجھے تعریف کے علاوہ اور کچھ نہیں دیتیں۔ یہ ہے وہ آرٹ جو اب ڈرائنگ روم میں سجایا جاتا ہے۔ اس آرٹ کو خریدنا چاہتے ہیں لوگ… منہ مانگی قیمت پر۔”
    ”تمہیں اپنی پینٹنگز بیچنے کی کوئی ضروروت نہیں ہے… مت بیچو اپنی پینٹنگز تمہیں کس چیز کی کمی ہے… جن پینٹنگز کو تم نے بنانا چھوڑ دیا ہے۔ وہی تمہاری Essence تھیں، تمہاری پہچان تھیں اور کون کہتا ہے تم انہیں دوہزار میں بیچو۔ مت بیچو صرف نمائش کرو اور ان پر وہ قیمت لگا دو جس پر تم انہیں بیچنا چاہتی ہو۔ اگر کوئی وہ قیمت ادا کرتا ہے تو ٹھیک ورنہ مت بیچو۔ اپنے پاس رکھو۔”
    ”اس سے کیا ہوگا۔ مجھے شہرت تو نہیں ملے گی۔ پینٹنگز میرے پاس رہیں گی تو کیا ہوگا۔ میں چاہتی ہوں میں اپر کلاس کی آرٹسٹ بنوں۔”
    بورژوا کلاس کے لیے Nude paintings بنانے والی آرٹسٹ؟” ذالعید کو دکھ ہوا۔
    ”ذالعید! اگر مجھے انٹرنیشنل مارکیٹ میں جانا ہے تو مجھے اپنا اسٹائل بدلنا ہے اور میں نے وہی کیا ہے یہ وہ تصویریں ہیں جو مجھے انٹرنیشنل لیول پر شہرت دلائیں گی۔”
    ”یہ وہ تصویریں ہیں جو تمہارا نام ڈبو دیں گی، تم اپنا سٹائل چھوڑ دو گی، تم سب کچھ کھودو گی۔” وہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
    ”یہ تم نہیں بول رہے ذالعید! یہ ماما جان بول رہی ہیں ورنہ تم اتنے کنزرویٹو کبھی نہیں ہو سکتے تھے۔ مجھے اسی دن سے خوف آتا تھا۔ آج تمہیں ان پینٹنگز پر اعتراض ہے کل تم چاہو گے کہ میں پینٹنگ کروں ہی ناں۔ پرسوں تم مجھے گھر کے اندر رکھنا چاہو گے۔ اس کے بعد تم ہر روز مجھ پر ایک نئی پابندی لگاؤ گے۔ مگر یاد رکھو میں ماما جان نہیں ہوں۔ میں نے تم سے اس لیے شادی نہیں کی کہ تم…” ذالعید نے اس کی بات کاٹ دی۔
    ”میں تم پر کوئی پابندی نہیں لگا رہا نہ ہی لگاؤں گا۔ میں تمہیں صرف سمجھا رہا تھا۔ تم آزاد ہو جو کرنا چاہتی ہو کرو۔ میں تم پر کبھی بھی زبردستی نہیں کروں گا۔ نہ ہی تمہیں گھر کے اندر بند کر کے رکھوں گا۔” وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
    —–*—–
    مریم نے اس دن دوپہر کو ذالعید کے آفس فون کیا۔ اس دن وہ گھر پر ہی تھی اور اس کا دل چاہا کہ وہ ذالعید کے ساتھ کہیں باہر لنچ کرے۔
    ”ذالعید صاحب آفس میں نہیں ہیں۔” اس کی سیکرٹری نے اسے بتایا۔
    ”کہاں ہیں وہ؟”
    ”وہ لنچ کرنے گئے ہیں۔”
    ”کہاں گئے ہیں؟”
    ”یہ نہیں پتا۔” مریم نے فون بند کر دیا اور موبائل پر کال کرنے لگی۔ موبائل پر جلد ہی ذالعید کے ساتھ اس کا رابطہ ہوگیا۔
    ”کہاں ہو ذالعید تم؟ میں لنچ کرنا چاہ رہی تھی تمہارے ساتھ۔” اس نے رابطہ ہوتے ہی کہا۔
    ”مگر میں تو لنچ کر چکا ہوں۔” ذالعید نے اس سے کہا۔ مریم کو مایوسی ہوئی۔
    ”کل کا پروگرام رکھیں؟”
    ”نہیں لنچ کا کوئی پروگرام میں تمہارے ساتھ سیٹ نہیں کر سکتا۔ میری کئی بار کلائنٹس کے ساتھ میٹنگز ہوتی ہیں۔” ذالعید نے صاف انکار کر دیا۔
    ”کہاں لنچ کرتے ہو تم؟” مریم کو کچھ تجسس ہوا۔ دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی۔ ”کوئی مخصوص جگہ نہیں ہے۔ موڈ کے مطابق ریسٹورنٹ بدلتا رہتا ہوں۔ اچھا اب میں مصروف ہوں رات کو ملوں گا۔ ذالعید نے خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا۔
    مریم نے دوبارہ فیکٹری فون کیا۔ ”ذالعید کی آج لنچ پر کسی کلائنٹ کے ساتھ اپائنمنٹ ہے؟ ذرا چیک کر کے بتائیں۔” اس نے سیکرٹری سے بات کرتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں، لنچ پر تو وہ کبھی بھی کوئی اپائنمنٹ نہیں رکھتے۔ انہوں نے خاص طور پر منع کیا ہوا ہے۔” مریم چند لمحوں کے لیے کچھ بول نہیں سکی۔
    ”لنچ کے لیے کس وقت جاتے ہیں؟”
    ”ایک بجے۔”
    ”اور واپس کس وقت آتے ہیں؟”
    ”چار بجے۔”
    ”روز یہی روٹین ہے؟”
    ”ہاں۔”
    ”کتنے عرصے سے؟”
    ”تقریباً دو سال سے۔” وہ دم بخود رہ گئی۔
    فون بند کرنے کے بعد وہ بے حد پریشان تھی۔ ”وہ تین گھنٹے کہاں گزارتا تھا؟ اور پچھلے دو سال سے۔ اسے ایک دم سونے جیسے بال یاد آ گئے۔
    ”پچھلے دو سال…؟ کیا ہوا ہے پچھلے دو سال میں؟” وہ بے تابی سے لاؤنج میں چکر لگانے لگی۔ وہ پچھلے دو سال میں واقعی بہت بدل گیا تھا۔ اسے اس کی شخصیت میں ہونے والی تمام تبدیلیاں یاد آنا شروع ہو گئیں۔ شادی کے تین سال میں پہلی دفعہ وہ خوفزدہ ہوئی۔
    ”کیا میرا اور اس کا رشتہ اتنا ناپائیدار تھا کہ…؟” وہ صوفہ پر بیٹھ کر اپنے ناخن کاٹنے لگی۔ ”ذالعید کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیوں جھوٹ بول رہا ہے وہ؟”
    وہ اس دن کہیں نہیں گئی۔ رات تک اس کا انتظار کرتی رہی۔ ذالعید اسے خلافِ معمول گھر پر دیکھ کر حیران ہوا۔
    ”آج کہیں جانے کا ارادہ نہیں ہے؟” اس نے خوشگوار انداز میں اس سے پوچھا۔
    ”جانا تو چاہتی تھی مگر تم نے منع کر دیا۔” اس نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”لنچ کی بات کر رہی ہو تم… چلو اب چلتے ہیں۔ ڈنر کہیں باہر کر لیتے ہیں۔” ذالعید نے اسے آفر کی۔ چند لمحوں کے تامل کے بعد مریم نے اس کی آفر قبول کر لی۔
    ریسٹورنٹ میں کھانا سرو ہونے کے بعد وہ دونوں بڑی خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔ ”میں ڈیڑھ ماہ کے لیے انگلینڈ جا رہا ہوں۔” ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے کہا۔ مریم نے ہاتھ میں پکڑا ہوا گلاس نیچے رکھ دیا۔
    ”کس لیے؟” وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے لہجے کی خشکی نہیں چھپا سکی۔
    ”کچھ کام ہیں… فیکٹری سے متعلقہ۔” وہ کھانا کھاتا رہا۔ مریم اس کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کرتی رہی۔
    ”خاصا لمبا عرصہ ہے۔” کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مریم نے کہا۔
    ”ہاں… مگر کیا کیا جا سکتا ہے۔” اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
    ”میں سوچ رہی ہوں۔ میں بھی تمہارے ساتھ رہوں۔ خاصا عرصہ ہو گیا، ہم کہیں اکٹھے نہیں گئے۔” اس نے کھانا کھاتے ہوئے ذالعید کا ہاتھ رکتے دیکھا۔ کچھ دیر دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے رہے۔
    ”تم بہت مصروف رہتی ہو۔ اتنا وقت نکال سکو گی؟” اس نے چند لمحوں کے بعد کہا۔
    ”ہاں، نکال لوں گی۔” مریم نے بڑے اطمینان سے پانی کا گلاس دوبارہ اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ”ٹھیک ہے چلو۔” وہ بھی دوبارہ کھانا کھانے لگا۔
    مریم الجھ گئی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی آسانی سے اسے ساتھ لے جانے پر مان جائے گا۔ ”ہو سکتا ہے یہ سب میرا وہم ہو… ہو سکتا ہے وہ واقعی لنچ پر…”
    ”ذالعید! تمہاری سیکرٹری کہہ رہی تھی کہ تم لنچ کے دوران کسی کلائنٹ کے ساتھ میٹنگ نہیں رکھتے۔” اس نے ذالعید سے صاف صاف بات کرنے کا سوچا۔
    مریم نے اس کے چہرے پر پہلے تعجب اور پھر خفگی دیکھی۔ ”تم میری سیکرٹری سے میرے بارے میں تفتیش کر رہی تھیں۔” اس نے خاصے خشک انداز میں نیپکن سے منہ صاف کرتے ہوئے کہا۔ اس کا موڈ خراب ہو چکا تھا۔
    ”نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ میں نے پہلے اسے ہی فون کیا تھا۔ تم ملے نہیں تو میں اس سے باتیں کرنے لگی۔” مریم نے جھوٹ بولا۔ وہ کچھ دیر اسے گھورتا رہا۔
    ”سیکرٹری میرے بارے میں صرف اتنا ہی جانتی ہے جتنا میں اسے بتاتا ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ میں اپنے ہر کلائنٹ کے بارے میں اس کو بتاؤں اور ہر کلائنٹ سے بزنس ڈیلنگز ہی تو نہیں ہوتیں۔ ویسے بھی تعلقات بنائے جا سکتے ہیں۔ بعض دفعہ میں انوائیٹڈ ہوتا ہوں لنچ پر… بعض دفعہ دوستوں کے ساتھ کر لیتا ہوں۔ تمہارے پاس بھی تو کبھی لنچ اکٹھا کرنے کے لیے وقت نہیں رہا۔ اب تین سال بعد اچانک تمہیں میرے ساتھ لنچ کرنے کا خیال آ جائے تو میں تمہارے لیے اپنی روٹین تو نہیں بدل سکتا۔” مریم کو کچھ شرمندگی ہونے لگی۔
    ”اس کے بعد تم یہ تحقیق کرنے بیٹھ جاتی ہو کہ میں کہاں لنچ کرتا ہوں، کس کے ساتھ کرتا ہوں۔”
    ”میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ میں نے ویسے ہی پوچھا ہے، تم دو تین گھنٹے کے لیے جاتے ہو۔ اس لیے میں نے سوچا شاید کوئی خاص ایکٹیویٹی ہو۔”
    ”میں لنچ کے بعد جِم خانہ جاتا ہوں سوئمنگ کے لیے… نہ جایا کروں؟” مریم کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔




  • لاحاصل — قسط نمبر ۲

    اس نے سانس لیتے ہوئے فضا میں کسی خوشبو کو محسوس کیا۔ آنکھیں بند کر کے گہرے سانس لیتے ہوئے اس نے اس خوشبو کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کی… اس نے خوشبو کے منبع کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ وہ ناکام رہی۔ اس نے خوشبو کو شناخت کرنے کی کوشش کی۔ اسے اب بھی کامیابی نہیں ہوئی۔
    —–*—–
    مریم نے اس واقعہ کے اگلے چند ہفتوں میں اسے کئی بار این سی اے میں دیکھا۔ مگر اس نے ایک بار بھی مریم سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ ہمیشہ کی طرح صوفیہ کے ساتھ ہوتا اور اسے دیکھ کر کترا کر گزر جاتا۔ صوفیہ اس کے ساتھ نہ بھی ہوتی تب بھی اس نے مریم سے کبھی ہیلو ہائے نہیں کی۔ مریم کو لاشعوری طور پر یہ توقع تھی کہ وہ اس سے معذرت کرے گا یا کم از کم ان کے درمیان سلام دعا ضرور ہوگی مگر ذالعید کے رویے نے اسے حیران کیا تھا بلکہ شاید مشتعل بھی۔ وہ اب بھی اسی طرح پیش آ رہا تھا جیسے وہ مریم سے ناواقف تھا۔
    ان ہی دنوں کالج میں صوفیہ کے بارے میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ وہ ذالعید کے ساتھ انگیجڈ ہو گئی ہے اور بہت جلد ان دونوں کی شادی ہونے والی ہے۔ مریم نے پہلی بار یہ خبر سننے پر اپنے اندر عجیب سا ڈپریشن محسوس کیا تھا۔ وہ سارا دن اپنے کام پر توجہ نہیں دے سکی۔ ذالعید اور صوفیہ بار بار اس کے سامنے آ رہے تھے۔ وہ اپنے احساسات کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ وہ صوفیہ کو شروع سے ناپسند کرتی تھی۔ مگر پہلی دفعہ اسے صوفیہ سے عجیب طرح کا حسد محسوس ہو رہا تھا۔ یہ تصور کہ ذالعید… اسے تکلیف پہنچا رہا تھا۔ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ ذالعید اور صوفیہ کے تعلق پر اس طرح ری ایکٹ کیوں کر رہی تھی۔ وہ اس دن گھر جا کر بھی بہت مضمحل رہی۔
    اگلے دن پہلی بار صوفیہ کو دیکھنے پر اسے اس سے نفرت محسوس نہیں ہوئی۔ اسے عجیب سا رشک آیا اس پر۔
    ”یہ خوش قسمت ہے کہ ذالعید اس سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کر لے گا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار صوفیہ کی خوش قسمتی کو تسلیم کیا۔ پہلی دفعہ اسے کسی معاملہ میں خود سے بہتر اور برتر پایا۔ صوفیہ نے اس خبر کی تردید نہیں کی اور یہ جیسے اس بات کی تصدیق کرنا تھا کہ ان خبروں میں واقعی سچائی ہے مریم ان دنوں ذہنی طور پر بہت اپ سیٹ رہنے لگی تھی۔ ماما جان سے اس کے شکوے بہت زیادہ بڑھ گئے کالج میں وہ اپنے کام میں دلچسپی کھونے لگی۔ گھر پر وہ واپس آنے کے بعد سوتی رہتی یا پھر ذالعید اور صوفیہ کے بارے میںسوچتی رہتی۔
    ان ہی دنوں پروفیسر عباس کے ذریعے اسے ایک ہوٹل میں بننے والے نئے جاپانی ریسٹورنٹ میں کچھ کام ملا۔ اسے پیانو فلور کے اردگرد کی دیواروں پر ایک میورل بنانا تھا۔ اس قسم کی ذہنی کیفیت کے ساتھ وہ کبھی یہ کام نہ کرتی مگر اسے ان دنوں پیسوں کی خاصی ضرورت تھی اور پھر یہ صرف کام کرنے کا ہی نہیں اچھا کام کرنے کا موقع تھا۔
    ہوٹل کے مینیجر نے اس کی تمام شرائط خاصی خوش دلی سے تسلیم کیں۔ کالج سے فارغ ہونے کے بعد ہوٹل کی گاڑی اسے کالج سے ہوٹل لے جاتی اور پھر شام کو اس کے گھر چھوڑ جاتی۔ ٹرانسپورٹ کی یہ سہولت ان لوگوں نے اسے خود آفر کی تھی۔





    مریم کو وہاں کام کرتے دوسرا دن تھا جب پینٹ کرتے ہوئے اس کے ہاتھ تھک گئے وہ برش رکھ کر کچھ دیر کے لیے اِدھر اُدھر دیکھنے لگی اور تب ہی اس نے اس فلور سے چند میز پرے ایک میز پر ذالعید اور صوفیہ کو بیٹھے دیکھا۔ اسے شرمندگی اور ہتک کا عجیب سا احساس ہوا چند لمحوں کے لیے اس کا دل چاہا کہ وہ وہاں سے غائب ہو جائے مگر پھر وہ اپنا رخ تبدیل کر کے دوبارہ کام کرنے لگی… اس کے سٹروکس میں یک دم بے ربطگی آ گئی تھی۔
    اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ اب چند منٹوں سے زیادہ کام نہیں کر سکتی اور پھر اس نے یہی کیا چند منٹوں کے بعد اس نے اپنا تمام سامان پیک کرنا شروع کر دیا انتظامیہ کو مطلع کرنے کے بعد وہ اس دن وہاں سے اسی طرح واپس آ گئی۔
    اگلے چند دن اس نے قدرے سکون کے ساتھ کام کیا۔ مگر چھٹے دن اس نے ایک بار پھر ذالعید اور صوفیہ کو اسی ریسٹورنٹ میں دیکھا۔ اس بار ان کی میز اس فلور سے اور بھی قریب تھی۔ اس بار اس نے ان کو مسلسل خود کو دیکھتے پایا وہ دونوں ہنس رہے تھے۔ باتیں کر رہے تھے مریم کو محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اس کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں ایک بار پھر اپنے کام میں اس کی توجہ ختم ہو گئی۔
    آج اس کی حالت پہلے سے زیادہ خراب تھی اور شاید اس کے چہرے کے یہ تاثرات ریسپشن پر بیٹھے ہوئے اس شخص سے بھی نہیں چھپے رہے جس کو اس نے اپنے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے گاڑی منگوانے کے لیے کہا۔
    ”آپ کافی پی لیں۔” اس نے مریم کو پیش کش کی۔ مریم نے انکار کر دیا۔ اس کا رونے کو دل چاہ رہا تھا۔
    ماما جان کو اس کے چہرے سے اس کے موڈ کا اندازہ ہو گیا۔
    ”میری طبیعت خراب ہے۔” وہ کچھ اور کہنے کے بجائے سیدھا کمرے میں گئی اور اپنے بستر میں گھس گئی۔ چہرہ بازوؤں میں چھپا کر اس نے بے آواز رونا شروع کر دیا۔ ”کاش میں یہاں سے کسی ایسی جگہ چلی جاؤں۔ جہاں مجھے ذالعید دوبارہ کبھی نظر نہ آئے۔” اس پر ایک بار پھر ڈپریشن کا دورہ پڑا۔
    —–*—–
    وہ ساری رات سو نہیں پائی۔ ماما جان اپنے بستر پر ہمیشہ کی طرح پرُسکون نیند سو رہی تھیں اور وہ نائٹ بلب کی دھندلی روشنی میں چھت کو گھور رہی تھی۔ ذالعید کے علاوہ اس کے ذہن میں اور کچھ بھی نہیں تھا۔ اسے ذالعید کے کندھے پر رکھا ہوا صوفیہ کا ہاتھ یاد آ رہا تھا اسے صوفیہ پر رشک آ رہا تھا۔
    ”کچھ لوگ کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں۔ ہر اچھی چیز جیسے ان کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے۔ وہ نعمتوں میں گھرے ہوئے دنیا میں آتے ہیں اور نعمتوں میں گھرے ہوئے دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی میں کسی بھی چیز کے لیے کوئی جدوجہد نہیں ہوتی، جیسے صوفیہ کے لیے ذالعید ہے۔” سوچتے سوچتے اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
    زندگی میں پہلی بار ہر چیز سے اس کا دل اچاٹ ہو رہا تھا۔ حتیٰ کہ اپنے کام سے بھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ صبح کالج نہ جائے وہ دوبارہ کبھی کالج نہ جائے نہ کبھی رنگ اور برش کو ہاتھ لگائے۔
    ”آخر فرق ہی کیا پڑے گا، دنیا میں میرے ہونے یا نہ ہونے سے۔ میں پینٹنگ کرنا چھوڑ دوں گی تو کون سی قیامت آ جائے گی۔” وہ بستر پر چت لیٹی بے آواز روتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ ”زندگی صرف پینٹنگ ہی تو نہیں ہوتی۔” وہ اپنی انگلیوں کی پوروں سے آنکھیں پونچھ رہی تھی۔
    رات گزرتی جا رہی تھی اور وہ اسی طرح بے آواز روتی رہی۔ جب رات کا پچھلا پہر شروع ہو گیا تو اس نے ماما جان کو اپنے بستر سے اٹھتے ہوئے دیکھا۔ مریم نے غیر محسوس انداز میں اپنی کلائی آنکھوں پر رکھ لی وہ جانتی تھی۔ اب تھوڑی دیر میں ماما جان تہجد پڑھنے لگیں گی۔ ماما جان بے آواز انداز میں کمرے میں روشنی کیے بغیر کمرے سے باہر چلی گئیں۔ مریم نے کروٹ بدل کر دیوار کی طرف رخ کر لیا۔ ماما جان کچھ دیر بعد دوبارہ کمرے میں داخل ہوئیں۔ جب مریم کو یقین ہو گیا کہ وہ تہجد پڑھنا شروع کر چکی ہیں تو اس نے ایک بار پھر اپنا رخ ان کی طرف کر لیا۔ نیم تاریکی میں سفید چادر میں خود کو سر سے پاؤں تک ڈھانپے وہ بڑے مگن سے انداز میں رکوع کی حالت میں تھیں۔ مریم بہتے آنسوؤں کے ساتھ انہیں دیکھتی رہی۔
    ”کیا ماما جان کو اندازہ ہے کہ میں اپنی زندگی کے کس تکلیف دہ دور سے گزر رہی ہوں؟ مگر یہ کیسے جان سکتی ہیں۔ ان کی زندگی نماز سے شروع ہو کر نماز پر ختم ہو جاتی ہے۔ ساری دنیا کے لیے ایثار کا پیکر ہیں یہ۔ بس میرے لیے یہ کچھ بھی نہیں کرنا چاہتیں۔
    اگر یہ چند سال پہلے مجھے انگلینڈ بھجوا دیتیں تو میرا سامنا کبھی ذالعید سے نہ ہوتا اور میں اس اذیت سے دوچار نہ ہوتی۔” اس کی آنسوؤں کی رفتار میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
    ”مجھے لگتا ہے ماما جان نے کبھی میرے لیے دعا نہیں کی… اگر انہوں نے ایسا کیا ہوتا تو میں آج اس تکلیف سے کیوں گزر رہی ہوتی۔ مگر پھر یہ اتنی عبادت کیوں کرتی ہیں؟ اتنی لمبی دعائیں کس کے لیے مانگتی ہیں؟ کم از کم میری زندگی میں تو ان کی دعائیں کوئی آسانی نہیں لا رہیں… اور کیا دعا میں اتنی تاثیر ہوتی ہے کہ…”
    اس کا ڈپریشن بڑھتا جا رہا تھا۔ میں نے بھی تو ذالعید کے لیے بہت دعا کی ہے۔ میں نے بھی تو… کیا فرق پڑا ہے؟ کیا ذالعید کو مجھ سے محبت ہو سکی؟… کیا وہ مجھے مل گیا؟… ساری بات قسمت کی ہوتی ہے۔ یہ قسمت ہے، عقل نہیں جو ہماری زندگیوں پر حکمرانی کرتی ہے۔”
    ماما جان اب دعا مانگ رہی تھیں۔ وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ ان کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو دیکھتی رہی پھر پتا نہیں اس کے دل میں کیا آیا۔ وہ بے اختیار اپنے بستر سے اٹھ کر ماما جان کے پاس فرش پر بیٹھ گئی۔ وہ آنکھیں بند کیے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہی تھیں۔
    مریم نے ان کے ہاتھ پکڑ لیے۔ ماما جان نے حیران ہو کر آنکھیں کھول دیں۔ نیم تاریکی میں بھی وہ مریم کے چہرے پر بہتے ہوئے آنسو دیکھ سکتی تھیں۔
    ”کیا ہوا ماما جان! اگر اللہ سے صرف ایک چیز چاہیے ہو اور وہ بھی نہ ملتی ہو؟” وہ ان کا ہاتھ پکڑے نم آنکھوں سے ان سے پوچھ رہی تھی۔ ماما جان کچھ بول نہیں سکیں۔ مریم کیا کہہ رہی تھی۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
    ”میں نے اللہ سے صرف ایک چیز مانگی ہے اور وہ مجھے وہ بھی نہیں دے رہا… آپ بتائیے ماما جان! میری دعا میں اثر نہیں ہے یا پھر میں بدقسمت ہوں۔”
    ”تم بدقسمت نہیں ہو، تم نے جو مانگا ہے اس کے نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمہاری دعا میں اثر نہیں ہے۔ ارشاد رسولۖ ہے زمین پر جو مسلمان اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں کوئی گناہ یا قطع رحمی کی بات نہ ہو تو اللہ تعالیٰ یا تو اس کو وہی عطا فرما دیتا ہے جو اس نے مانگا ہے یا اس کی کوئی تکلیف اس دعا کے بقدر رفع کر دیتا ہے یا اس کے لیے اس دعا کے برابر اجر کا ذخیرہ کر دیتا ہے۔”
    ماما جان نے اپنی پوروں سے اس کی آنکھوں کو پونچھتے ہوئے کہا۔
    ”آپ اللہ سے کہیں۔ مجھے ذالعید دے دے اور اگر وہ مجھے ذالعید نہیں دیتا تو وہ مجھے کچھ بھی نہ دے۔” ماما جان ہل نہیں سکیں۔ وہ ان کی گود میں منہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
    ”ماما جان! اللہ اس طرح کیوں کرتا ہے چیزیں کیوں نہیں دے دیتا۔ اس طرح کیوں ترساتا ہے۔” وہ اس طرح منہ چھپائے بول رہی تھی۔
    ”آپ دیکھ لینا۔ میں اب کالج نہیں جاؤں گی۔ صبح میں اپنی ساری چیزوں کو آگ لگا دوں گی یا پھر اٹھا کر گلی میں پھینک دوں گی۔”
    ”کیوں مریم…! کیوں کرو گی تم ایسا؟” انہوں نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔
    ”میرا دل نہیں لگتا… ماما جان…! میرا دل اب کسی بھی چیز میں نہیں لگتا۔ مجھے آرٹسٹ نہیں بننا مجھے کوئی بڑا آرٹسٹ نہیں بننا مجھے تو اس کے علاوہ کوئی اور چیز اچھی ہی نہیں لگتی۔ وہ ہر وقت میرے سامنے رہتا ہے ماما جان۔” وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بے بسی سے کہہ رہی تھی۔ وہ بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہیں۔
    ”میں برش اٹھاتی ہوں تو مجھے لگتا ہے میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ میں پے لٹ پر رنگ ڈالتی ہوں۔ وہ وہاں آ جاتا ہے۔ میں کینوس پر اسٹروک لگاتی ہوں، وہ وہاں بھی موجود ہوتا ہے اور ماما جان! اس سے زیادہ تکلیف دہ چیز کوئی اور ہو سکتی ہے کہ جس سے آپ محبت کرتے ہیں وہ آپ کو دیکھتا تک نہ ہو۔ آپ کے علاوہ اس کو سب نظر آتے ہوں۔ سب کا خیال ہوا سے۔ وہ سب سے بات کرتا ہو… بس آپ سے بات نہ کرے۔
    ماما جان! آپ نے کبھی کسی سے محبت نہیں کی نا، اس لیے آپ یہ سب نہیں سمجھ سکتیں۔” ماما جان کی آنکھوں میں نمی جھلکنے لگی۔
    وہ ایک بار پھر ان کی گود میں منہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
    ”جس سے محبت کریں اس کو پا نہ سکیں تو پھر دنیا میں کیا باقی رہ جاتا ہے۔” ماما جان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ وہ کہہ رہی تھی۔
    ”ماما جان! انسان خالی نہیں ہو جاتا اندر سے؟ خالی ہو جانے کے بعد کیسے رہتے ہیں؟”
    ”مریم تمہارے سامنے تمہارا کیریر ہے۔ تمہیں اپنی فیلڈ میں بہت آگے جانا ہے۔” وہ اس کا دھیان بٹانا چاہتی تھیں، وہ اس کی تکلیف کم کرنا چاہتی تھیں مگر شاید یہ ممکن نہیں تھا۔
    ”نہیں ماما جان! اب میرا کوئی کیریر نہیں ہے۔ سب کچھ دھواں بن کر اڑ گیا ہے، پیر رکھنے کے لیے زمین نہ ہو اور میں گھر بنانے کا سوچوں… وہ شخص میرا حاصل ہے ماما جان…! آپ اللہ سے کہیں وہ مجھے ذالعید دے دے۔ پھر چاہے جنت بھی نہ دے، پلیز ماما جان! آپ اس سے کہیں کہ وہ مجھے ذالعید دے دے۔ آپ تو اتنی عبادت کرتی ہیں اپنی اولاد کے لیے کچھ نہیں مانگ سکتیں۔ اللہ کو بتائیں کہ آپ صرف انسان نہیں ماں بھی ہیں۔”
    وہ اب اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اور ایک بار پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر جھنجھوڑ رہی تھی۔ ماما جان بالکل خاموش بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں مگر ان کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ وہ بچوں کی طرح روتی ہوئی اٹھ کر اپنے بستر پر چلی گئی۔ کچھ دیر بعد اس نے ماما جان کو کمرے سے باہر نکلتے دیکھا تھا۔ وہ واپس کب آئیں اسے یاد نہیں۔
    وہ ذہنی اور جذباتی طور پر بالکل تھک کر چور ہو چکی تھی غنودگی اسے اپنی گرفت میں لینے لگی اس کی سسکیاں رک گئیں۔ تھکن اس کے پورے وجود میں سرایت کر رہی تھی۔ اس کے سوجے ہوئے پپوٹے اور بھی بوجھل ہو رہے تھے۔ نیند کی آغوش میں جاتے ہوئے اس نے بہت دور کسی کی سسکیاں سنی تھیں۔ پھر اس کا ذہن تاریکی میں ڈوب گیا۔
    —–*—–
    اگلے دن صبح وہ ماما جان کے اصرار پر کام مکمل کرنے کے لیے ہوٹل چلی گئی۔ وہ اب جلد از جلد اس کام سے چھٹکارا حاصل کر لینا چاہتی تھی۔
    شام کو ساڑھے سات بجے کے قریب وہ اس کام سے فارغ ہو گئی۔ مینیجر کو اپنا بنایا میورل دکھانے کے بعد وہ ہوٹل کی گاڑی میں آ کر بیٹھی تو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر تحفے کی طرح پیک کی ہوئی دو پینٹنگز پڑی تھیں۔ اس نے کچھ حیرت سے انہیں دیکھا مگر خاموش رہی۔ ڈرائیور نے گاڑی چلاتے ہی اس سے کہا۔ ”ذالعید صاحب نے یہ دو تصویریں آپ کے لیے رکھوائی ہیں۔”
    وہ اس کے منہ سے ذالعید کا نام سن کر حیران رہ گئی۔
    ”کون ذالعید؟” وہ حیران تھی کہ ڈرائیور اسے کیسے جانتا تھا۔
    ”اس ہوٹل کے مالک کے بیٹے ہیں۔” وہ گم صم بیٹھی رہی۔ پروفیسر عباس نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ ایک بار پھر ذالعید کے کہنے پر… ڈرائیور نے اپنی بات جاری رکھی۔
    ”انہوں نے کہا تھا کہ میں یہ تصویریں آپ کو دے دوں اور آپ سے کہوں کہ آپ انہیں کھول کر ضرور دیکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آپ نے اندر فلور پر بہت اچھا کام کیا ہے اور انہوں نے آپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔”
    مریم نے اسی گم صم انداز میں ایک پینٹنگ اٹھا کر اس پر سے کاغذ اتار دیا اور پھر وہ دم بخود رہ گئی۔ اس نے بڑی تیزی سے دوسری پینٹنگ سے بھی کاغذ اتار دیا۔ اس کے چہرے پر اب عجیب سی چمک تھی۔ خواہش اور ایمان وہ دونوں اس کی اپنی تصویریں تھیں جنہیں اس نے ڈیڑھ سال پہلے بنایا تھا۔ ان دنوں وہ بیکن ہاؤس کی ایک بچی کو پینٹنگ سکھانے اس کے گھر جایا کرتی تھی اور پیسوں کی ضرورت پڑنے پر اس نے اپنی وہ دونوں پینٹنگز اسی بچی کی ماں کو فروخت کر دی تھیں۔
    ان پینٹنگز کو فروخت کرنے پر وہ بڑی خوش نہیں تھی خاص طور پر اس وجہ سے کیونکہ وہ بہت اچھی تھیں مگر اسے وہ بہت سستی بیچنی پڑیں اور اب وہ دونوں دوبارہ اس کے پاس آ گئی تھیں۔ وہ حیران ہو رہی تھی کہ ذالعید کے پاس وہ دونوں پینٹنگز کیسے آئیں اور اس نے وہ دونوں مریم کو کیوں دی تھیں۔
    ”آپ ذالعید سے کہیں کہ میں اس سے ملنا چاہتی ہوں۔” اس نے تصویروں پر دوبارہ کاغذ چڑھاتے ہوئے کہا۔
    گھر آ کر اس نے بڑے پرُجوش انداز میں ماما جان کو وہ دونوں تصویریں دکھائیں۔ ماما جان مریم کے چمکتے ہوئے چہرے کو دیکھتی رہیں۔ صبح اور شام والی مریم میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
    ”اب تم ان پینٹنگز کو کیا کرو گی؟” ماما جان نے اس سے پوچھا۔
    ”میں انہیں ذالعید کو واپس دینا چاہتی ہوں۔” اس نے کھانا کھاتے ہوئے انہیں بتایا۔
    —–*—–




  • لاحاصل — قسط نمبر ۱

    انتساب!

    نجمہ سلطان محمود کے نام
    جنہوں نے 30 سال پہلے اسلام قبول کرنے کے بعد
    انگلینڈ چھوڑ کر پاکستان میں سکونت اختیار کرلی۔

    پیش لفظ

    لاحاصل کے بارے میں مجھے مزید کچھ نہیں کہنا… مجھے جو کچھ کہنا تھا… میں نے کہانی میں کہہ دیا… بعض کہانیوں کو لکھ کر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ اس کہانی کو اس سے بہتر نہیں لکھ سکتے تھے… لاحاصل کے بارے میں میرے بھی یہی تاثرات ہیں… اسے لکھنے میں ایک سال لگا… دس سال یا دس دن لگتے تب بھی یہ آپ کے سامنے اسی صورت میں آتی۔
    اعزاز کی بات میرے لیے صرف یہ ہے کہ اسے میں نے نجمہ سلطان محمود کے نام کیا ہے… واضح رہے یہ ان کی زندگی کی کہانی نہیں ہے کیونکہ میں ان سے صرف دو دفعہ ملی ہوں اور دونوں بار میں نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا مگر خدیجہ نور کے کردار کو لکھتے ہوئے میرے ذہن میں انہی کی شخصیت تھی…
    عمیرہ احمد

    umeraahmed@yahoo.com




  • حاصل — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

    حاصل — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

    ”سسٹر! مجھے آپ سے ایک درخواست کرنی ہے۔”
    وہ اس دن چرچ سے واپس آکر سیدھی سسٹر پیٹریشیا کے پاس گئی تھی۔ سسٹر الزبتھ بھی ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔
    ”میں یہاں کانونٹ میں رہنا نہیں چاہتی۔ آپ مجھے کہیں اور بھجوا دیں۔ ”سسٹر پیٹریشیا اس کے مطالبے پر حیران رہ گئی تھیں۔
    ”کیوں کیا ہوگیا ہے؟”
    ” میں یہاں خود کو آزاد محسوس نہیں کرتی۔ میں اپنے مذہب کے مطابق عبادت نہیں کرسکتی۔ مجھے صرف قرآن پاک میں دلچسپی ہے۔ ان کتابوں میں نہیں جو آپ مجھے پڑھنے کے لیے دیتی ہیں۔”
    سسٹر پیٹریشیا کو وہ اتنی بدلی ہوئی لگی تھی کہ انہیں چند لمحوں کے لیے یقین نہیں آیا تھا کہ یہ سب الفاظ اس کے ہیں۔
    ”کرسٹینا! تمہیں کیا ہوا ہے؟”
    ”پلیز سسٹر! میں کرسٹینانہیں ثانیہ ہوں۔ آپ مجھے میرے نام سے پکاریں۔”
    سسٹر پیٹریشیا نے سسٹر الزبتھ کی طرف دیکھا تھا۔
    ”سسٹر! میں مسلمان ہوں اور میں مسلمان ہی رہنا چاہتی ہوں۔ میری برین واشنگ کرنے کی کوشش نہ کریں۔”
    وہ خود یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اتنی طاقتور کیسے ہوگئی تھی مگر اس وقت اسے کسی چیز سے خوف نہیں آرہا تھا نہ کسی کی ناراضی سے نہ کسی کے اکیلا کردینے سے اورنہ ہی موت سے۔
    ”ثانیہ!تمہارا نام صرف اس لیے بدلا گیا تھا تاکہ تمہارے نام کی کسی لڑکی کے یہاں ہونے کی بات لیک آؤٹ نہ ہوسکے ورنہ اورکوئی وجہ نہیں تھی۔”
    سسٹر پیٹریشیا کا لہجہ ایک دم معذرت خواہانہ ہوگیا تھا۔
    ”آپ یہ خبر لیک آؤٹ ہوجانے دیں مگر مجھے میرے اپنے نام سے پکاریں۔ میں اب کسی چیز سے خو فزدہ نہیں ہوں۔ میرے ساتھ جو ہونا ہے وہ ہوگا اور میں اسے روک نہیں سکتی۔ مگر آپ مجھ سے میرا تشخص چھیننے کی کوشش نہ کریں۔ مجھے یہاں سے بھجوا دیں۔”
    اس کا لہجہ اتنا قطعی تھا کہ دونوں سسٹرز میں سے کسی نے مزید کچھ نہیں کہا تھا۔
    ”ٹھیک ہے ، تم کو یہاں سے بھجوادیا جائے گا۔”
    ”تھینک یو سسٹر۔” وہ کمرے سے نکل آئی تھی۔
    پچھلے بہت سے دنوں میں پہلی بار اس نے بڑی بے خوفی سے لائبریری میں جا کر قرآن پاک کی بلند آواز سے تلاوت شروع کردی تھی۔
    ”اب مجھے اس شخص کے لیے چرچ نہیں جانا کیونکہ وہ وہاں نہیں آئے گا۔ وہ کبھی کسی چرچ میں اللہ کو ڈھونڈنے اور سکون پانے نہیں جائے گا اورمجھے کسی جھوٹ کا سہارا لے کر یہاں سے اس کے پاس نہیں جانا پڑے گا اوراب مجھے کسی سے یہ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں کون ہوں اور کیا چاہتی ہوں اورآج مجھے ڈائننگ روم میں کسی دعامیں شرکت کے ساتھ اپنا کھانانہیں کھانا۔ مجھے کھاناکھانے سے پہلے صرف بسم اللہ پڑھنی ہے اوربآواز بلند پڑھنی ہے اور کل مجھے کسی چرچ کی سروس میں شرکت نہیں کرنا۔ واحد کام جو مجھے کرنا ہے ، وہ اس قرآن پاک کی تلات ہے اور مجھے یہ تلاوت کبھی بھی چھپ کر اور ڈر کرنہیں کرنی نہ ہی نماز پڑھتے وقت مجھے دل میں کوئی خوف رکھنا ہے پھر جنہیں مجھے چھوڑنا ہوگا۔ وہ مجھے چھوڑدیں گے اور مجھے صرف اپنے اللہ سے سہارا چاہیے۔ میرا اللہ اورمیرا رسولۖ میرے لئے کافی ہے اورمیں اپنے گناہوں کے لیے اللہ سے رحمت کی طلبگار ہوں۔”
    اس نے زندگی میں کبھی خود کو اتنا طاقتور محسوس نہیں کیا تھا جتنا وہ اس وقت محسوس کر رہی تھی۔
    *…*…*





    ”تم نے کیا سوچا ہے؟” ہیومن رائٹس کمیشن کی اس نامی گرامی عہدے دار نے اس سے ایک بار پھر پوچھا تھا۔
    ”میں آپ کو بتا چکی ہوں، مجھے کسی کورٹ میں پیش ہونا ہے نہ ہی میڈیا کے سامنے آنا ہے۔ مجھے ایسا کچھ نہیں کرنا ہے۔” اس نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا۔
    ”تم انکار نہیں کر سکتیں۔ یہ دونوں کام تمہارے لیے ضروری ہیں۔ تم اس کیس میں گواہ ہو۔ تمہاری گواہی بہت ضروری ہے ۔ تمہاری گواہی کے بغیر بلال بچ جائے گا۔”
    اس کے سر میں درد کی لہریں اٹھنے لگی تھیں۔
    ”اورمیڈیا کے سامنے آنا اس لیے ضروری ہے تاکہ تم انہیں بتا سکو کہ اس ملک میں عورتوں کو کس قسم کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے حقوق کس طرح پامال کیے جاتے ہیں ۔ اقلیتوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے، ان کے ساتھ کس طرح امتیاز برتا جاتا ہے۔ تمہارا میڈیا کے سامنے آنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔” وہ عورت بولتی جارہی تھی۔
    ”آپ کو پتا ہے، میرے اس طرح کے بیانات سے کیا ہوگا؟ مسلمانوں اور اقلیتوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے۔ میں نہیں چاہتی میری وجہ سے کسی اقلیت کو نقصان اٹھانا پڑے مگر آپ مجھ سے جو چاہ رہی ہیں ، اس کے بعد یہی ہوگا۔” وہ کچھ برہم ہوگئی تھی۔
    ”ہم نے اس بارے میں بہت سوچا ہے اورپچھلے ایک سال کے عرصے میں یہی سوچ کرخاموشی اختیار کیے رکھی ہے تاکہ اس مسئلے کی وجہ سے دونوں کمیونٹیز کے درمیان کوئی کشیدگی نہ ہو، مگر اب حالات کافی حد تک نارمل ہیں۔ جوئیل کی فیملی باہر منتقل ہوچکی ہے ، ان پر کسی قسم کے حملے کا خطرہ نہیں ہے۔”
    ”مگر باقی لوگوں پر تو ہے، ساری اقلیتیں تو باہر شفٹ نہیں ہوسکتیں۔ میری ایک غلطی سے میری اور ڈیوڈ کی فیملی کو جو نقصان پہنچ چکا ہے۔ میں نہیں چاہتی ۔ اب ویسا کوئی نقصان کسی دوسرے کو برداشت کرنا پڑے۔”
    ”تم نے کوئی غلطی نہیں کی۔ تم نے جو کیا، وہ اپنے حق کے لیے کیا۔ تاریخ میں تم جیسی لڑکیوں کا نام بہت اونچی جگہ لکھا جائے گا۔” وہ عورت اب ایک بار پھر اس کے سامنے جال بچھا رہی تھی۔
    ”مجھے کسی تاریخ میں نام نہیں لکھوانا ہے۔ مجھے کسی تاریخ کا حصہ نہیں بننا ہے۔ میں نے جو کچھ کیا۔ مجھے اس پر کوئی فخر نہیں ہے۔ تاریخ میرے چہرے کو سونے سے لکھے یا چاندی سے مگر میری نظروں میں، میرا سیاہ چہرہ سیاہ ہی رہے گا۔ دنیا کا کوئی پانی اس سیاہی کو دور نہیں کرسکتا، میرے گناہ نے میرے ہاتھ پاؤں کاٹ کر مجھے محتاج بناکر آپ کے سامنے پھینک دیا ہے۔ اب میں چاہوں بھی تو اپنے پیروں پر خود کھڑی نہیں ہوسکتی، مگر میں اس سب کے لیے کسی کو ذمہ دار نہیں سمجھتی۔ یہ صرف اور صرف میری غلطی تھی۔ میری غلطی کی وجہ سے ڈیوڈ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اوربس یہ کافی ہے۔ مجھے کسی میڈیا کے سامنے آکر اپنا یہ بد صورت چہرہ لوگوں کو نہیں دکھانا ہے۔”
    وہ عورت عجیب نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔
    ”میڈیا کے سامنے تمہیں آنا چاہیے یا نہیں مگر کورٹ میں تمہیں پیش ہونا چاہیے۔ تم مانتی ہو کہ غلطی تمہاری تھی جس کی وجہ سے ڈیوڈ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ تم انصاف کرو ڈیوڈ کے ساتھ؟ اس کی فیملی کیساتھ؟ تم کورٹ میں پیش نہ ہو کر ایک اورگناہ نہیں کرو گی کیا؟ سچ چھپا کر؟ بلال کو سزا سے بچا کر۔”
    ”پلیز، اس وقت مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔ اس وقت میں کچھ سوچنا نہیں چاہتی۔ پلیز آپ یہاں سے چلی جائیں۔”
    وہ یکدم سر پکڑ کر چلانے لگی تھی۔
    ہیومن رائٹس کمیشن سے متعلق وہ تینوں عورتیں کچھ دیر خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہنے کے بعد کمرے سے نکل گئی تھیں۔
    ان عورتوں کے جانے کے بعد بہت دیر تک اس کے ذہن میں ان کی باتیں گونجتی رہی تھیں۔ وہ ایک عجیب شش و پنج میں گرفتار تھی۔ اس کی گواہی سے بلال کو نقصان پہنچتا تھا اورگواہی نہ دینے سے وہ ضمیر کی خلش کا شکار تھی۔
    بلال نے ڈیوڈ کو قتل کیا ہے اور میں گواہی نہ دے کر اس گناہ میں اس کی شریک کیوں بننا چاہتی ہوں۔ میں گواہی نہ دے کر ایک بار پھر اللہ کے سامنے… نہیں میں اب ایسا کوئی کام نہیں کروں گی جس سے مجھے اللہ کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑے اگر میں اپنے غلط کام کی سزا بھگت رہی ہوں تو پھر بلال کو بھی سزا ملنی چاہیے۔ دنیا کا کوئی قانون اسے یہ حق نہیں دیتا کہ وہ ڈیوڈ کو قتل کردے اگر بات انصاف کی ہے تو ڈیوڈ اوراس کے گھروالوں کے ساتھ بھی انصاف ہونا چاہیے۔
    اس شام نماز پڑھنے کے بعد خود بخود ہی جیسے اس کے لیے ہر فیصلہ کرنا آسان ہوگیا تھا۔
    *…*…*
    اس نے زندگی میں کبھی اتنے لوگوں کو خود کو گھورتے نہیں دیکھا تھا ان میں ہر طرح کی نظریں تھی۔ وہ نظریں جن میں اس کے لیے نفرت تھی، وہ نظریں جن میں اس کو دیکھ کر حیرانی تھی اور وہ نظریں جن میں اس کے لیے ترس تھا۔ کورٹ کے اندر داخل ہونے تک اس نے اپنے بارے میں بہت سے جملے سن لیے تھے۔ اس کا دل ان جملوں کو سن کر زمین میں گڑنے کو نہیں چاہا تھا وہ پہلے ہی زمین میں گڑ چکی تھی۔
    ” وہ جسے چاہے ذلت دیتا ہے۔”
    اس کے ذہن میں ایک آیت لہرائی” اور اس ذلت کا انتخاب میں نے اپنی مرضی سے کیا اورا ب مجھے صبر کرنا چاہیے۔”اس نے چادر سے چہرے کوچھپاتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو بھینچ لیا تھا۔
    کورٹ روم میں بہت عرصے کے بعد اس نے چند ایسے چہروں کو دیکھا تھا جن کے بغیر رہنا کبھی اس کے لیے ناممکن تھا اوراب وہ کتنے عرصے سے ان کے بغیر ہی رہ رہی تھی اس نے یاد کرنے کی کوشش کی تھی ۔ کٹہرے میں کھڑے بلال پر اس نے دوسری نظر نہیں ڈالی تھی۔ پہلی نظر اس سے ملتے ہی بلال نے زمین پر تھوک دیا تھا۔ اور یہ بلال وہ تھا جو اس کے کہنے پر کوئی بھی کام کرنے کو تیار رہتا تھا اور آج…آج اس کی آزمائش تھی اسے پہلی بار احساس ہو رہا تھا کہ عدل کرنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے اور تب عدل کرنا جب اس سے اپنے ہی جسم کا ایک حصہ زخمی ہوتا ہو۔ اس نے اپنے وجود میں پہلی بار کپکپاہٹ محسوس کی تھی۔
    جج نے اسے کٹہرے میں بلوالیا تھا۔ لوگوں سے بھرے ہوئے کورٹ روم پر نظر دوڑاتے ہوئے اس نے جج کو دیکھا تھا۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے اپنا بیان ریکارڈ کروانا شروع کر دیا تھا۔ کورٹ روم میں سناٹا تھا۔ اور وہ جانتی تھی بلال کی زندگی کا فیصلہ اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کریں گے اوراس نے وہاں سچ کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا تھا۔
    *…*…*
    اگلے چند ہفتوں میں عدالت نے اس کی کسٹڈی کا فیصلہ بھی کیا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ جج پر کتنا پریشر ڈالا گیا تھا مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اسے اس کی مرضی کے مطابق اسی ادارے کے پاس رہنے دیاگیا تھا۔ جہاںوہ ر ہی تھی وہ جانتی تھی چند دنوں کے اندر اسے اپنے ملک سے باہر بھجوادیا جائے گا اور اس کے بعد…
    اس نے عدالت کو بلال کو عمر قید کی سزا دیتے ہوئے بھی سنا تھا۔ ا س نے بلال کے چہرے پر پھیلتی ہوئی تاریکی بھی دیکھی تھی۔ وہ بلال کے خوابوں سے واقف تھی اوروہ یہ بھی جانتی تھی کہ اب اس کی زندگی کہاں گزرے گی۔ وہ تیس سال کا تھا اوراگلے کئی سال اس نے…۔
    ” اور یہ سب صرف میری وجہ سے ہوا، صرف میری وجہ سے۔”
    اس نے سوچا تھا اوراس کے اعصاب پر تھکن سوار ہونے لگی تھی۔ کوئی اپنے خاندان کے لیے اتنی رسوائی کا سبب نہیں بن سکتا۔ جتنی رسوائی میں نے اپنے خاندان کو دی ہے۔ کاش اللہ نے مجھے اس دنیا میں اتارا نہ ہوتا یا اتارا تھا تو بہت پہلے مجھے مار دیا ہوتا اتنی لمبی زندگی نہ دی ہوتی۔”
    اس نے کورٹ سے باہر نکلتے ہوئے اپنی گیلی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے کہا تھا۔
    *…*…*
    ”مجھے اپنی زندگی کے لیے خود راستہ ڈھونڈنے دیں، میں وہ سب نہیں کرسکتی جو آپ چاہتے ہیں، مجھے کسی پریس کانفرنس میں اسلام اورپاکستان میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی مذمتی بیان نہیں دینا۔ آپ مجھے اپنے ہاتھ کا ہتھیار مت بنائیں، مجھے چھوڑ دیں۔ میری برین واشنگ کرنے کی کوشش مت کریں۔”
    ”تم بہت سے حقائق کو نظر انداز کر رہی ہو۔ اس وقت اگر تم اس ملک میں زندہ سلامت موجود ہو تو یہ ہماری وجہ سے ہے تم کو یاد رکھنا چاہیے کہ تمہارے لوگ اور تمہارا خاندان تمہارے ساتھ کیا کرسکتے تھے، صرف ہم لوگوں کی وجہ سے تم یہاں محفوظ بیٹھی ہو۔”
    ”بعض دفعہ زندگی سب کچھ نہیں ہوتی میرے پاس بھی زندگی کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں۔”
    ”ہم تمہیں صرف ایک بار پریس کانفرنس میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد تم بے شک دوبارہ کبھی پریس کے سامنے مت آنا۔”
    ”مجھے ایک بار بھی پریس کے سامنے نہیں آنااگرآپ نے مجھے مجبور کیا تو میں پریس کانفرنس میں یہ کہہ دوں گی کہ مجھے آپ لوگوں نے ٹریپ کیا تھا اورمیں یہ سب کچھ آپ لوگوں کے کہنے پر کر رہی ہوں اس لیے بہتر ہے کہ آپ مجھے چھوڑ دیں۔”
    امریکہ آنے کے بعد اسے مسلسل پریشرائز کیا جارہا تھا کہ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرے تاکہ میڈیا کے ذریعے ان ایشوز کو مزید اچھالا جائے جو پاکستان کے متعلق مغربی عوام کی رائے خراب کرتے رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس کی جو مغربی تنظیم اسے پاکستان سے امریکہ لانے اوروہاں سیاسی پناہ دلوانے کی موجب بنی تھی اب وہ بدلے میں اس کو ایکسپلائٹ کرنا چاہ رہے تھے۔
    امریکہ میں ہی اس کی ملاقات ڈیوڈ کی فیملی سے کروائی گئی تھی اوراس بار ڈیوڈ کی فیملی نے اسے اسی کام پر مجبور کرنے کی کوشش کی تھی جو کام اس تنظیم کے افراد کرواناچاہ رہے تھے۔ اس کا جواب ایک بار پھر انکار کی صورت میں تھا۔
    ”میں جانتی ہوں، میری وجہ سے آپ کو اپنے بیٹے کی جان سے ہاتھ دھونا پڑا مگر میں مجبور ہوں۔ میں آپ کی بات نہیں مان سکتی۔”
    ڈیوڈ کی فیملی واپس جاتے ہوئے بہت مشتعل تھی ، اسے قائل کرنے میں ناکامی پر چند ہفتوں کے بعد اسے اس کی مرضی کے مطابق چھوڑ دیا گیا تھا۔
    وہ وہاں سے نکلتے ہی طے کر چکی تھی کہ اسے کہاں جانا تھا۔ پرس میں کچھ ڈالرز اورایک بیگ لیے وہ اسلامک سینٹر چلی گئی تھی۔ وہ جانتی تھی اب اسے مدد کی ضرورت تھی اور یہ مدد اسے امریکہ میں کہیں اور سے نہیں مل سکتی تھی۔ اسے سر چھپانے کے لیے جگہ اور ایک جاب کی ضرورت تھی اور یہ چیزیں اسے اب کوئی اورنہیں دے سکتا تھا۔
    اسلامک سینٹر میں اس نے چند ماہ کے سوا اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا اورپھر مدد کے لیے درخواست کی تھی۔ اسے جواب میں ایک ریفرنس لیٹر کے ساتھ ایک پاکستانی کے پاس بھجوا دیا گیا تھا۔ وہاں جا کر اسے دوبارہ اپنی داستان نہیں سنانی پڑی تھی۔ اس پاکستانی نے اپنے ایک سٹور میں اسے سیلز گرل کے طور پر ملازمت دے دی تھی۔ اسی کے توسط سے ایک جگہ پر پے انگ گیسٹ کے طور پر اس کے لیے رہائش کابندوبست بھی کردیا گیا تھا۔




  • حاصل — قسط نمبر ۱

    حاصل — قسط نمبر ۱

    پیش لفظ…!

    ”حاصِل” میری زندگی کی چند اہم تحریروں میں سے ایک ہے… میرے خیال میں میری ابتدائی تحریروں میں سے سب سے میچور اور بہتر… اور یہی تحریر ہے جو بعد میں آنے والے میرے ناول لاحاصِل کی بنیاد بنی… دونوں تحریروں میں کیا تعلق ہے یہ آپ پڑھنے کے بعد طے کریں…
    انسان ساری زندگی حاصِل سے لا حاصلِ اور لاحاصلِ سے حاصِل کی طرف سفر کرتا رہتا ہے… اور یہی سفر انسان کی اپنی زندگی کا حاصِل بھی ہے…
    ”حاصِل” اسی”سفر” کا آغاز ہے۔ آئیے”سفر” شروع کرتے ہیں۔

    عمیرہ احمد




  • ایمان، امید اور محبت — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

    ”پھر تم نے کیا طے کیا ہے؟” اس رات ڈنر پر سبل نے پیٹرک سے پوچھا۔
    ”کیا طے کرنا ہے… میرا خیال ہے، جو تم کہہ رہی ہو وہی ٹھیک ہے۔ اس کا فیصلہ ڈینی کو ہی کرنا چاہیے۔” پیٹرک نے بڑے مطمئن انداز میں کہا۔
    اس کی بات پر سبل مسکرائی۔ ”ڈینی جب بڑا ہوگا تو وہ ہم دونوں کے مذہب کا مطالعہ کرے گا جس مذہب میں اسے زیادہ دلچسپی محسوس ہوگی اسے وہی اختیار کرنا چاہیے کم از کم اس طرح اس کے ذہن میں کوئی الجھن نہیں ہوگی۔ میں نے اسی لیے تمہیں یہ مشورہ دیا تھا۔”
    ”ہاں ٹھیک ہے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔”
    ”میرا خیال تھا، شاید تمہیں کوئی اعتراض ہوگا۔ کیونکہ مجھ سے زیادہ مذہبی ہو۔”
    ”نہیں خیر، اتنا مذہبی نہیں جتنا تم سمجھ رہی ہو۔ مذہب اصل میں بہت وقت مانگتا ہے اور میرے پاس وقت کی کمی ہے۔”
    ”پھر بھی ہر ہفتے تم عبادت کے لیے تو باقاعدگی سے جاتے ہو۔” سبل نے اسے کچھ جتانے والے انداز میں کہا۔
    ”ہاں جاتا ہوں۔ میرے لیے وہاں جانے کی اہمیت عبادت سے زیادہ ایک روایت کی حیثیت سے ہے۔ ماں باپ نے ایک عادت بنا دی ہے۔ مگر مجھے اس روٹین سے الجھن نہیں ہوتی۔ جہاں دوسرے بہت سے کام ہوتے ہیں، چلو یہ بھی سہی۔” وہ کھانا کھاتے ہوئے اسے بتا رہا تھا۔
    ”اتنی مصروف زندگی میں مذہب کے لیے وقت نکالنا واقعی بہت مشکل کام ہے۔ مجھے تمہاری اس روٹین پر بہت حیرت ہوتی ہے۔ خود مجھے تو ہفتے بلکہ مہینے میں ایک بار بھی چرچ جانا بہت مشکل لگتا ہے۔” سبل نے کندھے اچکا کر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
    ”میں نے کہا نا، مجھے عادت ہو چکی ہے ورنہ اور کوئی بات نہیں۔” پیٹرک کھانے سے تقریباً فارغ ہو چکا تھا۔
    پیٹرک ایڈگر جرمنی کے ایک اچھے یہودی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا خاندان بہت کٹر قسم کے یہودیوں پر مشتمل تھا۔ پیٹرک کے ماں باپ بھی بہت زیادہ مذہبی تھے۔ اپنی ساری اولاد کو انھوں نے ا سی راستے پر چلانے کی کوشش کی۔ ہٹلر کے زمانے میں جرمنی میں یہودیوں کو بڑے پیمانے پر قتل کرنے کے بعد باقی یہودیوں کو جِلا وطن کر دیا گیا۔
    پیٹرک کی فیملی بھی اس زمانے میں امریکہ آ گئی تھی مگر جرمنی کے دو ٹکڑے ہونے کے بعد جب یہودیوں نے آہستہ آہستہ واپس جرمنی جانا شروع کیا تو پیٹرک کی فیملی بھی واپس چلی گئی۔ مگر پیٹرک نے اپنے ماں باپ کے ساتھ واپس جانے کے بجائے امریکہ میں ہی سیٹل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ماں باپ کی مخالفت اور ناراضگی کے باوجود وہ اپنے اس فیصلے پر قائم رہا۔ امریکہ میں اس کو اپنے لیے سب کچھ خود ہی کرنا پڑا کیونکہ اس کی فیملی واپس جا چکی تھی اور واپس جانے کے بعد وہ نئے سرے سے وہاں سیٹل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس لیے ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ پیٹرک کی کسی بھی طرح سے مالی مدد کرتے۔
    پیٹرک نے مکینیکل انجینئرنگ کرنے کے کچھ عرصے بعد ایک بہت اچھی امریکن کمپنی میں ملازمت کر لی۔ اس ملازمت کے کچھ عرصے کے بعد جب وہ اپنے والدین کے پاس دو ہفتے کی چھٹیاں گزارنے جرمنی آیا ہوا تھا تو اس کی ملاقات سبل سے ہوئی۔
    سبل ایک ٹرکش عیسائی تھی۔ پیٹرک کی طرح وہ بھی اپنے والدین کے ساتھ جرمنی میں آ کر سیٹل ہو گئی تھی۔ دونوں کے درمیان فرق صرف یہ تھا کہ پیٹرک کا آبائی وطن جرمنی ہی تھا اور سبل کا آبائی وطن ترکی تھا۔ دونوں کے درمیان بڑی تیزی سے روابط بڑھے اور پھر یہ روابط شادی کے پرپوزل تک آ گئے۔
    شادی کے اس پرپوزل پر دونوں کے خاندانوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ پیٹرک کے والدین چونکہ کٹر یہودی تھے، اس لیے وہ پیٹرک کی شادی بھی اپنی کمیونٹی کی کسی لڑکی سے کرنا چاہتے تھے۔ دوسری طرف سبل ایک کیتھولک گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور یہودیوں کے بارے میں اس کے ماں باپ کو بہت زیادہ اعتراضات تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ کسی عیسائی فیملی میں ہی شادی کرے مگر دونوں نے اپنے خاندان کے اختلافات کے باوجود شادی کر لی۔
    *…*…*





    شادی کے بعد سبل پیٹرک کے ساتھ امریکہ آ گئی اور وہاں اس نے ایک معروف ادارے میں جرمن ٹرانسلیٹر کے طور پر کام شروع کر دیا۔ کافی عرصے تک دونوں کے خاندان اس شادی پر ناراض ہی رہے مگر پھر آہستہ آہستہ دونوں کے خاندانوں نے اس شادی کو قبول کر لیا۔
    پیٹرک اور سبل میں بہت سی باتیں مشترکہ تھیں۔ دونوں کے خاندان مذہبی اور کٹر تھے۔ ان کی تربیت ایک مخصوص ماحول میں ہوئی تھی جہاں اخلاقیات کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ دونوں ہی بہت سوشل نہیں تھے۔ شاید اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ان کے خاندان میں ہر کسی سے میل جول بڑھانے کا رواج نہیں تھا۔ بہت سے معاملات کے بارے میں ان کا نقطہ نظر خاصا قدامت پرست تھا۔ سبل کی پیدائش اور پرورش ترکی میں ہوئی تھی اور اس پر اس معاشرے کا خاصا اثر تھا جس میں اس نے پرورش پائی تھی۔
    لباس کے معاملے میں وہ لاشعوری طور پر بہت محتاط ہو گئی تھی۔ مغربی معاشرے میں رہنے کے باوجود وہ ایسے لباس کو پسند نہیں کرتی تھی جو اس کے جسم کو پوری طرح سے ڈھانپ نہ سکتا ہو اور ایسا لباس پہننے سے وہ ہمیشہ گریزاں رہتی تھی۔ پیٹرک بھی اس معاملے میں خاصا قدامت پرست تھا۔ وہ خود بھی سبل کو اس طرح کے کپڑوں میں دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ دونوں شراب پیتے تھے مگر اس کا استعمال صرف کسی فنکشن میں ہی کرتے تھے۔ سبل کے ذہن پر اس معاملے میں اپنے والدین کے بچپن سے دیے جانے والے وعظ کا خاصا اثر تھا اور یہی وجہ تھی کہ جب پیٹرک بعض دفعہ گھر میں بھی شراب پینے کی کوشش کرتا تو وہ اسے روک دیا کرتی تھی۔ دونوں کا حلقہ احباب محدود تھا اور وہ بھی ان ہی لوگوں پر مشتمل تھا جو ان ہی کی طرح کچھ اخلاقی قدریں رکھتے تھے۔ دونوں کی زندگی میں کسی نہ کسی حد تک مذہب کا عمل دخل رہا تھا اور امریکہ میں رہنے کے باوجود یہ عمل دخل کم نہیں ہوا تھا۔
    شاید اگر وہ امریکہ میں کچھ زیادہ عرصہ گزارتے تو ان کے طرزِ زندگی میں اور خیالات میں نمایاں تبدیلیاں آ جاتیں مگر امریکہ میں آنے کے ایک ڈیڑھ سال بعد ہی پیٹرک کی کمپنی نے اسے اردن میں بھجوا دیا جہاں وہ کچھ بہت بڑے تعمیراتی پروجیکٹس کے لیے تین سال رہا۔ تین سال کے بعد اسے مڈل ایسٹ کے ہی ایک اور ملک مراکش میں بھیج دیا گیا۔ وہاں اس کا قیام دو سال رہا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ ان دونوں کو مڈل ایسٹ اور ایشیا کے بہت سے ملکوں میں رہنے کا اتفاق ہوا اور ان میں سے زیادہ تر ممالک مسلم تھے۔ یورپ یا امریکہ میں لمبے قیام کا انھیں موقع نہیں ملا۔ اس لیے ان کی قدامت پرستی نہ صرف برقرار رہی بلکہ اس میں کسی حد تک اضافہ بھی ہوا۔
    سبل مختلف ممالک میں قیام کے دوران مختلف سفارت خانوں کے تحت چلنے والے اسکولز میں پڑھاتی رہی۔ وہ ایک بہت مہربان اور فیاض قسم کی لڑکی تھی۔ پیٹرک کے ساتھ اس کی بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ تھی اور مذہب کے فرق کے باوجود وہ اس کے ساتھ ایک بہت اچھی زندگی گزار رہی تھی۔ مذہب کے بارے میں دونوں بہت زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ مذہبی روایات کی پیروی کرنے کے باوجود مذہبی رسومات پر عمل کرنا ان کے لیے خاصا مشکل ہو گیا تھا اور آہستہ آہستہ مذہب ان کی زندگی میں ثانوی حیثیت اختیار کر گیا۔
    *…*…*
    ڈینیل کی پیدائش مراکش میں ہوئی اور اس کی پیدائش پر پہلی بار پیٹرک اور سبل اس الجھن کا شکار ہوئے کہ ڈینیل کو کس مذہب کو ا ختیار کرنا چاہیے۔ دونوں کی خواہش تھی کہ وہ ان کے مذہب کو اختیار کرے مگر دونوں ہی ایک دوسرے کے سامنے اس خواہش کا اظہار کرنے سے جھجکتے تھے اور اس کشمکش میں ڈینیل کسی مذہب کو اختیار کیے بغیر ہی پرورش پانے لگا۔
    پہلی بار دونوں کے درمیان ڈینیل کے مذہب کے بارے میں تب بات ہوئی جب پیٹرک سبل کے ساتھ چھٹیوں میں جرمنی گیا تھا۔ پیٹرک اور سبل کے ماں باپ نے ڈینیل کو پہلی بار دیکھا تھا۔ ڈینیل اس وقت دو سال کا تھا۔
    پیٹرک کے والدین کو اتفاقاً یہ پتا چل گیا پیٹرک نے ڈینیل کے مذہب کے حوالے سے ابھی کچھ طے نہیں کیا۔ اس بات نے انھیں بھڑکا دیا تھا۔
    ”وہ تمہارا بیٹا ہے، اسے یہودی ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں کسی دوسری سوچ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔” اس کے باپ نے سختی سے پیٹرک سے کہا۔
    ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر آپ جانتے ہیں کہ سبل کیتھولک ہے اور اس طرح میں ڈینیل کے مذہب کے بارے میں اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش کروں گا تو اسے اعتراض ہوگا۔” پیٹرک نے وضاحت پیش کی۔
    ”میں اسی لیے چاہتا تھا کہ تم سبل سے شادی نہ کرو۔” اس کے باپ کے اشتعال میں اور اضافہ ہو گیا تھا۔
    ”بہرحال سبل کو اس معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اولاد ہمیشہ وہی مذہب اختیار کرتی ہے جو باپ کا مذہب ہوتا ہے۔”
    ”یہ ضروری نہیں ہے ڈیڈی! اولاد کو وہی مذہب اختیار کرنا چاہیے جو اس کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ جس میں اسے دلچسپی محسوس ہو۔”
    پیٹرک نے ان کے غصے کو کم کرنے کی کوشش کی مگر اس کوشش نے الٹا اثر کیا تھا۔ ایڈگر کچھ اور بھڑک گیا۔
    ”مجھے عقل سکھانے کی کوشش مت کرو۔ تمہارے دماغ میں یہ خناس بٹھانے والی تمہاری بیوی ہے۔ تم اپنے بیٹے کو یہودی نہیں بناؤ گے تو کیا کیتھولک بناؤ گے؟”
    ”اس بارے میں ابھی ہم دونوں نے کچھ طے نہیں کیا۔”
    ”تم دونوں کو کچھ طے کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ وہ ایک پیدائشی یہودی ہے اور یہودی ہی رہے گا۔” ایڈگر نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا۔
    پیٹرک نے ان سے مزید بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا اور خاموش ہو گیا۔ مگر جرمنی سے واپس آنے کے فوراً بعد اس نے سبل سے اس سلسلے میں بات کی۔
    ”ہمیں ڈینیل کے بارے میں کچھ طے نہیں کرنا چاہیے۔ وہ کون سا مذہب اختیار کرتا ہے یہ اس کے ہاتھ میں دے دینا چاہیے۔ بہت ممکن ہے کہ ابھی ہم اس کے لیے جس مذہب کا انتخاب کریں۔ بڑا ہو کر وہ اس کے بجائے دوسرے مذہب کی طرف راغب ہو جائے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم دونوں اس کو اپنے اپنے مذہب کے بارے میں ساری معلومات دیتے رہیں۔ اسے اپنے ساتھ عبادت اور دوسری رسوم میں بھی شریک کرتے رہیں مگر باقاعدہ طور پر اسے یہودی یا عیسائی بنانے کی کوشش نہ کریں۔” سبل نے جیسے ایک تجویز اس کے سامنے رکھ دی تھی۔
    ”مگر سبل! میری فیملی کو اس پر اعتراضات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بچہ ہمیشہ وہی مذہب اختیار کرتا ہے جو اس کے باپ کا ہو اس لیے ڈینیل کو بھی یہودی مذہب کو اختیار کرنا چاہیے۔”
    سبل نے ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی بات سنی۔ ”میرے خاندان والوں کو بھی اس پر بہت سے اعتراضات ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بچے کی ماں میں ہوں اور میں اس کے لیے اچھے اور برے راستے کا تعین بہتر طور پر کر سکتی ہوں، کیونکہ بچہ باپ کی نسبت ماں سے زیادہ قریب ہوتا ہے اس لیے اسے میرا مذہب اختیار کرنا چاہیے لیکن میں نے ان کے اس اعتراض کو رد کر دیا۔ میں نے اپنے والدین سے یہی کہا کہ ڈینیل اپنی مرضی سے اپنے لیے مذہب کا انتخاب کرے گا اور اپنی مرضی سے کیا جانے والا یہ انتخاب ہمارے باہمی رشتے پر اثر انداز نہیں ہوگا مگر اس طرح صرف خاندان کے دباؤ پر کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ ہمارے باہمی تعلق اور اعتماد کو بری طرح متاثر کرے گا۔”
    پیٹرک خاموش ہو گیا۔ وہ واقعی اتنا مذہبی نہیں تھا کہ صرف مذہب کی خاطر اپنے اور سبل کے رشتے کی قربانی دے دیتا۔ یا باہمی تعلقات میں آنے والی کوئی دراڑ قبول کر لیتا۔ مذہب ویسے بھی ان کے لیے ایک اضافی چیز تھی، روٹین میں شامل، کوئی ایسی ضرورت نہیں تھی جسے پورا کرنے کے لیے وہ باہمی اختلافات کو بھی برداشت کر لیتے۔ یہی وجہ تھی کہ جب سبل نے دوبارہ اس کا فیصلہ پوچھا تو اس نے بھی اس کی تجویز سے اتفاق کر لیا کہ ڈینیل کے لیے اپنی مرضی سے مذہب کا انتخاب ہی بہتر رہے گا۔
    ڈینیل اسی ماحول میں پرورش پاتا رہا۔ ماں اسے اپنے مذہب کے بارے میں بنیادی باتوں سے آگاہ کرتی رہتی۔ باپ اسے اپنے مذہب کے بارے میں بتاتا رہتا۔ جب بھی سبل اور پیٹرک عبادت کے لیے اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جاتے وہ ڈینیل کو بھی ساتھ لے جاتے۔ وہ بڑی دلچسپی سے یہودیوں اور کیتھولکس کی مذہبی رسومات دیکھتا۔ اس کے لیے یہ سب ایسا ہی تھا جیسے مہینے میں کبھی تھیٹر چلے جانا یا پارک میں تفریح کے لیے جانا۔ وہ دونوں جگہ جا کر انجوائے کرتا تھا۔
    شروع میں پیٹرک ہر ہفتے اپنی عبادت گاہ باقاعدگی سے جایا کرتا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی یہ روٹین تبدیل ہوتی گئی۔ ویسے بھی دوسرے ممالک میں یہودیوں کی عبادت گاہوں کی تعداد کم تھی اور اس کا زیادہ تر قیام ایسے علاقوں میں ہوتا تھا جہاں پر اکثر ان کی عبادت گاہ نہیں ہوتی تھی۔ اس کے برعکس سبل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے چرچ جانے لگی۔ پیٹرک کے برعکس اسے ہمیشہ ہی عبادت کے لیے ہر جگہ کوئی نہ کوئی چرچ مل ہی جایا کرتا تھا۔ امریکہ میں قیام کے دوران اس کی سرگرمیوں کی نوعیت دوسرے ممالک میں قیام سے مختلف ہوتی تھی۔ ان ممالک میں اس کی سرگرمیاں زیادہ محدود ہوتی تھیں۔ ایمبیسی کے اسکول میں پڑھانے کے بعد اس کا زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزرتا تھا اور ڈینیل پر ماں کے خیالات و نظریات کا اثر گہرا ہوتا گیا۔
    اس نے ماں سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ کچھ لاشعوری طور پر اور کچھ شعوری طور پر۔ سبل عیسائی ہونے کے باوجود مشرقی روایات کو نہ صرف پسند کرتی تھی بلکہ بہت سی مشرقی روایات اس نے اپنائی بھی تھیں۔ مشرق کے لیے یہ پسندیدگی ڈینیل میں بھی منتقل ہوئی تھی اس نے اپنی ابتدائی زندگی ایسے ماحول میں گزاری تھی جہاں مغرب کی آزادی کا نہ صرف کوئی تصور نہیں تھا بلکہ اس آزادی کو ناپسند بھی کیا جاتا تھا۔ اسکولز میں بھی وہ زیادہ تر مسلمان اسٹوڈنٹس کے ساتھ ہی پڑھتا رہا اور وہاں بھی آزادی کے کسی نئے تصور سے وہ آشنا نہیں ہو سکا۔ گھر آنے کے بعد وہ سارا وقت سبل کے ساتھ ہی گزارا کرتا تھا کیونکہ غیر ملکی ہونے کی حیثیت سے سبل اور پیٹرک باہر آمد و رفت میں خاصے محتاط تھے۔ ان کا آنا جانا مخصوص فیملیز میں تھا۔ ڈینیل اگر کبھی سیر و تفریح کے لیے کہیں جاتا بھی تو سبل اور پیٹرک کے ساتھ ہی۔
    *…*…*
    پندرہ سال کی عمر میں وہ واپس امریکہ آیا تھا اور امریکہ آ کر وہ ایڈجسٹمنٹ کے پرابلمز سے دوچار ہونے لگا تھا۔ امریکہ میں آ کر ملنے والی آزادی کو پسند کرنے کے بجائے وہ ناپسند کرنے لگا تھا۔ اس کے لیے یہ ایک ایسی دنیا تھی جو اس کے نظریات سے میچ نہیں کرتی تھی۔ ماں باپ کی طرح وہ بھی خاصا ریزرو تھا اور اس کی یہ عادت خوبی کے بجائے ایک خامی کی طرح اسے ہر جگہ بہت زیادہ نمایاں کرنے لگی۔
    ”پاپا! میں واپس انڈیا جانا چاہتا ہوں۔” اس نے امریکہ آنے کے بعد ایک دن پیٹرک سے کہا تھا۔ پیٹرک کی آخری پوسٹنگ انڈیا میں ہوئی جہاں دو سال قیام کے دوران وہ دارجلنگ کے ایک بورڈنگ میں پڑھتا رہا تھا۔ پیٹرک نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا۔
    ”کیوں ڈینیل؟”
    ”میں یہاں نہیں رہ سکتا۔ یہاں سب کچھ بہت عجیب ہے۔ اسکول میں میرے کلاس فیلوز ڈرگز استعمال کرتے ہیں اور…” وہ کہتے کہتے رک گیا۔ ”مجھے ان کی عادتیں اور حرکتیں پسند نہیں ہیں۔”
    پیٹرک نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ بہت بے چین اور مایوس نظر آ رہا تھا۔
    ”میں جانتا ہوں ڈینیل! یہاں کا ماحول کچھ اور طرح کا ہے مگر تمہیں خود کو اس کا عادی بنانا چاہیے کیونکہ اب تمہیں اعلیٰ تعلیم یہیں حاصل کرنی ہے۔”
    ”پاپا! مجھے اسکول کا ماحول پسند نہیں ہے۔”
    ”میں تمہیں کسی دوسرے بہتر اسکول میں داخل کروا دیتا ہوں۔”
    ”پاپا! مجھے یہاں کی زندگی پسند نہیں ہے۔ میں یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتا۔ مجھے لگتا ہے میں کسی ایلین کی طرح غلط جگہ پر آ گیا ہوں۔ میرے کلاس فیلوز میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ بے ہودہ باتیں کرتے ہیں۔”
    ”تم انھیں نظر انداز کر دیا کرو… ہر جگہ کا اپنا ایک مخصوص کلچر ہوتا ہے۔ یہاں کا طرز زندگی یہی ہے۔” سبل نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔




  • ایمان، امید اور محبت — قسط نمبر ۱

    ”اِیمان، اُمید اور محبت” ذاتی طور پر میری اپنی پسندیدہ تحریروں میں سے ایک ہے… اسے ملنے والے فیڈ بیک سے آپ لوگ مجھ سے زیادہ واقف ہیں۔
    میں نے کوشش کی ہے کہ میں آپ لوگوں کو زندگی کے کچھ اور رنگ دکھاؤں یا زندگی کو اس اینگل سے دکھاؤں جہاں سے میں اسے دیکھتی ہوں، ہو سکتا ہے آپ کو یہ رنگ بہت پھیکے یا ضرورت سے زیادہ گہرے لگیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میرا اینگل چیزوں کو یا زندگی کو اس طرح آپ کے سامنے پیش نہ کر سکے جس طرح آپ چاہتے ہیں۔ پھر بھی دنیا پر موجود چھ ارب انسانوں میں کم از کم ایک انسان زندگی کو اسی اینگل سے دیکھتا ہے اور وہی رنگ دنیا کے کینوس پر بکھیرنا چاہتا ہے، جو اس کہانی میں آپ کو نظر آئیں گے… اور وہ انسان میں ہوں۔
    بہت سے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کچھ لکھنا یا کہنا انسان کو بہت خوشی دیتا ہے۔ مگر صرف اپنی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی بات کہنا یا لکھنا اس سے زیادہ خوشی دیتا ہے۔ اس تحریر میں، میں نے اپنی بات کہی ہے اسے پڑھتے ہوئے شاید آپ اسے ”اپنی بات” سمجھیں۔

    عمیرہ احمد




  • دربارِ دل — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

    میں نے اسے پہلی بار لبرٹی بکس پر دیکھا تھا۔ باربی کیو ٹونائٹ پر کھانا کھانے کے لیے بیٹھے بیٹھے بیٹھے مجھے اچانک کسی کتاب کا خیال آیا۔ اپنے دوست کو میں اس کی ٹیبل پر چھوڑ کر خود لبرٹی بکس کے اندر چلا آیا۔ اور وہیں پہلی بار میں نے مہر کو دیکھا۔ وہ سیاہ سلیولیس شرٹ پہنے ہوئے تھی اور میں نے سیاہ اور سفید کا اتنا خوبصورت Combination یا کنٹراسٹ جو بھی کہہ لیں… پہلی بار دیکھا تھا۔ اس کے تراشیدہ بال اس کے کندھوں اور پشت پر بکھرے ہوئے تھے اور وہ میگزین کی ورق گردانی کرتے ہوئے بار بار انھیں جھٹک رہی تھی اور ہر جھٹکے کے ساتھ اس کی مخروطی گردن کسی Swan کی طرح چند لمحوں کے لیے لمبی ہوتی پھر دوبارہ پہلے والی پوزیشن پر آ جاتی۔ اس کے ہونٹوں پر سرخ لپ اَسٹک لگی ہوئی تھی اور میگزین دیکھتے ہوئے وہ وقفے وقفے سے اپنے ہونٹ سکوڑ رہی تھی اور اس کے ہونٹوں کی ہر حرکت مجھے اس کی طرف کھینچ رہی تھی۔ اور اس کا فگر… کمال کا تھا… وہ ایک خوبصورت Painting تھی جو اس وقت لبرٹی بکس کے اندر ایستادہ تھی… Perfect… میں نے بے اختیار کہا… اگر وہ کہیں سڑک پر ہوتی تو میں پاس سے گزرتے ہوئے سیٹی بھی بجا دیتا… وہ سیٹی Deserve کرتی تھی…
    تین سال بعد پاکستان واپس آنے کے بعد یہ کسی لڑکی سے میرا اس طرح کا پہلا ”آمنا سامنا” تھا۔ تین سال پہلے پاکستان میں قیام کے دوران تو خیر روز ہی میں کئی لڑکیوں کو دیکھ کر اس طرح کے احساسات سے دوچار ہوتا تھا جس طرح کے احساسات سے مجھے اس لڑکی نے دوچار کیا تھا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں حسن پرست تھا بلکہ میں تو فخریہ طور پر اس بات کو کہتا ہوں کہ میں حسن پرست تھا… حسن کا مداح تھا اور خوبصورتی کو سراہتا تھا اور خوبصورتی اگر ایک عورت کی شکل میں ہو تو پھر تو سونے پر سہاگہ والی بات ہو جاتی ہے۔
    خیر میں سیاہ لباس والی لڑکی کی بات کر رہا تھا جو اس وقت مجھے لبرٹی بکس پر نظر آئی تھی اور جس نے چند لمحوں کے اندر مجھے اپنا معمول بنا دیا تھا۔ میں اس وقت اسے دیکھتے ہوئے یہ قطعاً بھول چکا تھا کہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ وہاں کھانا کھانے آیا تھا اور میرا وہ دوست آرڈر دینے کے بعد میرے انتظار میں باہر بیٹھا ہوگا اور اگر ویٹر نے کھانا سرو کر دیا تو… شاید مجھے کوس بھی رہا ہوگا۔
    یہ نہیں تھا کہ اس شاپ میں اور لڑکیاں نہیں تھیں… تھیں… یہ بھی نہیں تھا کہ میں نے زندگی میں پہلی بار کوئی خوبصورت لڑکی دیکھی تھی… میں روز درجنوں خوبصورت لڑکیاں دیکھتا تھا… مگر بعض چہرے پتہ نہیں آپ کے وجود کے کس حصے پر نقش ہوتے ہیں کہ آپ ان کو چاہنے کے باوجود اپنے اندر سے نکال نہیں پاتے۔ میں نے بھی مہر کے لیے ایسا ہی کچھ محسوس کیا تھا۔





    دنیا میں تین قسم کے مرد ہوتے ہیں ایک وہ جو خوبصورت لڑکیوں کو دیکھتے ہیں دوسرے وہ جو ہر لڑکی کو دیکھتے ہیں اور تیسرے وہ جو کسی لڑکی کو نہیں دیکھتے… اور یہ تیسری قسم کے مرد پاگل خانے میں ہوتے ہیں۔ میں خود پہلی قسم کے مردوں میں شامل تھا… صرف خوبصورت لڑکیوں کو دیکھتا تھا… خوبصورت اور فیشن ایبل… یا دوسرے لفظوں میں یہ کہیں کہ… "Presentable” لڑکیاں… اور مہر ایسی ہی ایک لڑکی تھی… اس کو دیکھا جا سکتا تھا، غور کیا جا سکتا تھا، چاہا جا سکتا تھا۔ ”کچھ اور” بھی کیا جا سکتا تھا مگر وہاں لبرٹی پر میں نے اس کو صرف دیکھا… اور ٹکٹکی باندھ کر دیکھا… لڑکیوں کو کوئی دیکھ رہا ہو تو انھیں فوراً پتہ چل جاتا ہے اور میں تو اسے گھور رہا تھا مگر مجال ہے اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا ہو… ہو سکتا ہے وہ ساری عمر اسی طرح دیکھی جاتی رہی ہو اور اس کے اندر سے یہ احساس ہی ختم ہو گیا ہو کہ کوئی اسے معیوب انداز میں دیکھ رہا ہے… مگر میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ وہ بھی مجھے ایک نظر دیکھے… میں خوبصورت مرد تھا کوئی بھی لڑکی مجھ پر دوسری نظر ڈالے بغیر نہیں رہ سکتی تھی… اور میں وہاں کھڑا تھا کہ دوسری نظر تو ایک طرف وہ پہلی بار تو دیکھے مجھے۔
    میں کتاب واپس شیلف میں رکھ کر میگزینز کے سیکشن کے پاس چلا گیا۔ اس سے بمشکل دو قدم کے فاصلے پر کھڑے ہو کر میں نے ایک میگزین ہاتھ میں لیا… کم از کم اب تو گردن موڑ کر دیکھ لیتی… نہیں وہ اسی انداز میں میگزین ”پڑھ” رہی تھی… یقینا پڑھ رہی تھی صرف دیکھنے والے تو اتنے محو نہیں ہوتے۔
    اور میں اس کے اتنا پاس کھڑا تھا کہ اس کے پرفیوم کی خوشبو کو محسوس کر رہا تھا اس کے برہنہ دودھیا بازو پر کندھے سے کلائی تک مختلف جگہوں پر تین تِل تھے۔ میرا دل چاہا میں اس کے بازو کو چھو کر دیکھوں۔ اس کی شرٹ کے Slits اتنے لمبے تھے کہ اس کی ٹراؤزرز نما پاجامہ سے اوپر سفید کمر کا ایک انچ کے برابر جسم بھی نظر آ رہا تھا… وہ دور سے حسین لگی تھی پاس آ کر میں سحر زدہ ہو گیا تھا۔ اس کی سیاہ مہین شرٹ اس کے دودھیا جسم کو چھپانے میں مکمل طور پر ناکام ہو رہی تھی اور میرے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہی تھی۔ گردن کے ہر جھٹکے کے ساتھ کچھ دیر کے لیے اس کے تراشیدہ بال اس کی ہیئت سے ہٹتے اور میری نظریں جسم کے اس حصے پر جم جاتیں جو شرٹ کے پچھلی طرف کھلے گلے کی وجہ سے عیاں تھا… بے اختیار میرا دل چاہا میں اس سے بات کروں۔
    ”کیا میں یہ میگزین دیکھ سکتا ہوں؟” مہر نے گردن کو ہلکا سا ترچھا کر کے مجھے دیکھا پھر انگلی کے اشارے سے ریک میں لگے اسی میگزین کی دوسری کاپیز کی طرف اشارہ کیا۔ میں بے ساختہ شرمندہ ہوا۔ ”سوری میں نے دیکھا نہیں تھا۔” میں نے کہا۔ ”اس سے بات کرنے کی خواہش پوری نہیں ہوئی مگر چلو اس نے ایک بار دیکھا تو سہی… میں نے دل کو تسلی دی بات تو پھر بھی کی جا… اس سے پہلے کہ میں ایک اور کوشش کرتا مہر میگزین ہاتھ میں لیے کاؤنٹر پر چلی گئی۔ میں منہ کھولے اسے دیکھتا رہ گیا۔ دو منٹ لگے ہوں گے اسے میگزین کی ادائیگی اور پھر لبرٹی بکس سے باہر نکلنے میں… اور میں اگلے دس منٹ اسی ہونق انداز میں منہ کھولے لبرٹی بکس کے گلاس ڈور سے باہر پارکنگ کو دیکھتا رہا جہاں وہ لبرٹی سے نکل کر ایک گاڑی میں بیٹھ کر گئی تھی۔ تو یہ مہر سے میری پہلی ملاقات تھی۔
    وہاں باہر اوپن ائیر میں بیٹھے اپنے دوست کے ساتھ اس رات میں کسی چٹنی کے بغیر Vegetable سیخ کباب کھاتا رہا… اور خود بولنے کی بجائے اپنے دوست کی باتیں سنتا رہا اور آس پاس بیٹھی خوبصورت لڑکیوں کو زندگی میں پہلی بار نظر انداز کرتا رہا۔ میرا ذہن صرف اس ایک لڑکی پر جماہوا تھا جو لبرٹی بکس سے باہر گئی تھی۔اس کے برہنہ دودھیا بازو کی پشت کا خوبصورت خم جو اس کے بالوں کے ہٹتے ہی نظر آتا، اس کے لمبے Slits سے نظر آنے والی کمر، اس کی مہین شرٹ سے نظر آنے والا جسم، اس کی لمبی گردن، اس کے ریشمی بال، سرخ لپ اَسٹک میں چھپے خوبصورت ہونٹ، اس کی گھنی پلکوں والی سیاہ آنکھیں… اور اس کے تین تِل… میرے خدا وہ مرد کتنا خوش قسمت ہوگا جو اس کا شوہر بنے گا۔
    ”مراد یار ذرا پیچھے مڑ کر دیکھو وہ سیاہ کپڑوں والی لڑکی کو۔” میرے دوست نے کھانا کھاتے ہوئے ٹیبل پر آگے جھک کر میرے کانوں میں جیسے سرگوشی کی۔ میں کرنٹ کھا کر پیچھے مڑا۔ وہ مہر نہیںتھی ایک اور لڑکی تھی ایک گہرا سانس لے کر میں نے گردن سیدھی کی… ”دیکھا؟” میرے دوست نے مجھ سے پوچھا۔ ”ہاں۔” میں نے پانی کا گھونٹ لیا۔ سیاہ لباس کی جو ”تباہ کاریاں” میں لبرٹی بکس پر دیکھ چکا تھا وہ ہر جگہ نظر نہیں آتی تھیں۔ ”اچھی ہے نا؟” میرے دوست نے رائے لی۔ ”اچھی ہے… ہر لڑکی اچھی ہے۔” میں لاپرواہی سے بڑبڑایا۔
    ……***……
    ”اگر ہر لڑکی اچھی ہے تو آخر پھر تم میری بات کیوں نہیں سنتے؟” ممی نے بہت غصے سے مجھ سے کہا۔ میں ناشتہ کرنے میں مصروف تھا اور وہ میرا سر کھانے میں…
    ”آپ کا سوال یہ ہونا چاہیے کہ میں آپ کی بات پر عمل کیوں نہیں کرتا؟” میں نے لاپرواہی سے ان کی تصحیح کی۔
    ”مجھے زہر لگتی ہے تمہاری ہر بات کو مذاق میں اڑا دینے کی عادت۔”
    ”وہ تپیں… اچھا چلیں میں اب سنجیدہ ہو جاتا ہوں اور۔” میں نے یک دم اپنی مسکراہٹ غائب کرتے ہوئے کہا۔
    ”تمھیں اب شادی کر لینی چاہیے۔” ممی نے تحمل سے کہا۔
    ”کیونکہ میری شادی کی عمر ہو چکی ہے اور اس لیے بھی کیونکہ میں آپ کا اکلوتا بیٹا ہوں اور اس لیے بھی کیونکہ آپ گھر میں تنہا ہوتی ہیں… دیکھ لیں مجھے آپ کا پورا سکرپٹ یاد ہے۔” میں نے ان کی بات کاٹ کر بڑے اطمینان سے فخریہ انداز میں کہا۔
    ممی کچھ لمحے خاموشی سے میرا چہرہ دیکھتی ہیں پھر انھوں نے صبر و تحمل کے سارے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا۔
    ”تم مجھے صرف یہ بتاؤ کہ میرے ساتھ سعیدہ کے گھر چلو گے یا نہیں؟” انھوں نے ایک بار پھر اپنی اسی دوست کا نام لیا جن کی اکلوتی بیٹی کے وجود نے پچھلے تین سال سے میری زندگی حرام کر رکھی تھی۔ Canada ایم بی اے کرنے جانے سے پہلے ممی کئی سالوں بعد اپنی اس دوست سے ملی تھیں اور وہ میری زندگی کا تاریک ترین دن تھا کیونکہ انھیں اپنی دوست کی باحیا، پارسا اور شریف بیٹی بے حد پسند آ گئی تھی۔ مجھے ان کی اس پسند پر بالکل اعتراض نہ ہوتا مگر بدقسمتی سے انھیں وہ لڑکی میرے لیے پسند آ گئی تھی۔
    ”ممی جب مجھے آپ کی فرینڈ کی بیٹی سے شادی ہی نہیں کرنی تو ان کے گھر جانے کا کیا فائدہ؟” میں نے بے حد سکون سے کہا۔
    ”تم ایک بار وہاں چلو تو… تم دیکھ لینا وہ لڑکی تمھیں بھی اتنی ہی پسند آئے گی۔ میں نے تین سال پہلے اسے دیکھا تھا اور تب سے آج تک اسے اپنے ذہن سے نہیں نکال سکی۔” ممی نے مجھ سے کہا۔
    ”جو نقشہ آپ اس لڑکی کا میرے سامنے کھینچتی ہیں وہ میری بیوی والا نہیں ہے۔” میں نے انھیں صاف صاف لفظوںمیں بلاشبہ 250 ویں بار بتایا۔ ”ایک بار دیکھنے میں تو کوئی ہرج نہیں۔” ممی نے کہا۔
    ”آپ اسے یہاں منگوا لیں میں دیکھ لوں گا۔” میں جملہ بول کر پچھتایا۔ ممی کا پارہ آسمان سے چھونے لگا تھا۔
    ”یہاں منگوا لوں؟ کوئی چیز ہے… جانور ہے… کیا ہے کہ یہاں منگوا لوں؟ خدا کسی کو اگر اکلوتی اولاد دے تو فرمانبردار دے…” میں نے ان کی بات کاٹی۔
    ”ورنہ زیادہ بچے دے اور سارے نافرمان دے تاکہ ایک اولاد کو بار بار نافرمانی کے طعنے دے دے کر اس کی زندگی اجیرن نہ کی جا سکے۔” میں نے چائے کا آخری گھونٹ اطمینان سے لیا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ ممی ناراضگی سے وہیں بیٹھی رہیں۔
    تین سال پہلے Canada جانے سے پہلے میری شادی یا منگنی ٹائپ کی کسی چیز کا مسئلہ پہلی بار زیر غور آیا تھا۔ ماؤں کا خیال ہوتا ہے کہ وہ بیوی کی صورت میں کوئی نکیل لا کر اپنے بیٹوں کے ناک اور منہ میں ڈال دیں گی اور اس کے بعد جدھر چاہے انھیں دوڑاتی پھریں گی… میری ممی بھی مختلف نہیں تھیں: پاپا اور وہ اپنی سوچ اور طور طریقوں کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ پاپا جتنے لبرل اور ماڈرن تھے۔ ممی اتنی ہی کنزرویٹو… بلکہ Rigid کا لفظ استعمال کروں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ مجھ پر ددھیال کا زیادہ اثر تھا اور ممی کو میرے ددھیال والے ایک آنکھ نہ بھاتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ میرے ویسٹرنائزڈ ہونے کی بنیادی وجہ میرے ددھیالی کزنز اور ان کی فیملیز ہی تھیں جو میرے ساتھ سکول کالج میں پڑھتے رہے اور جن کے گھر میرا بہت آنا جانا تھا۔
    اور بہت شروع سے ہی وہ اس خوف میں مبتلا ہو گئیں کہ اگر میں اپنے جیسی ہی کوئی آزاد خیال لڑکی پسند کر بیٹھا تو ان کا اور ان کی آنے والی نسل کا کیا ہوگا۔ وہ پہلے دبے لفظوں میں… پھر کھلم کھلا… اور پھر دو ٹوک الفاظ میں میری ہر گرل فرینڈ کا فون ریسیو کرنے کے بعد مجھے بتا دیتیں کہ انھیں ”کیسی” بہو چاہیے تھی۔ میں ہر بار ان کی ٹینشن کو کم کرنے کی کوشش کرتا اب گرل فرینڈز کے اس ہجوم میں میں بالآخر عمر کے اس حصے میں بیوی کی تلاش میں مصروف نہیں تھا جب سب کیرئیر بنا رہے ہوتے ہیں اور میں بھی تب سنجیدگی سے اگر کسی چیز کے بارے میں سوچتا تھا تو وہ کیرئیر ہی تھا… گرل فرینڈز پارٹیز، پھرنا پھرانا تو صرف شوق اور دلچسپی کی بات تھی۔
    ممی کے برعکس پاپا نے مجھے Free hand دے رکھا تھا۔ انھیں پرواہ نہیں تھی کہ میں گھر سے باہر کیا کرتا تھا اور کس کے ساتھ پھرتا تھا انھیں اگر کسی چیز میں دلچسپی تھی تو وہ میرے گریڈز تھے اور میرے گریڈز ہمیشہ شاندار رہتے تھے۔ ”تمہاری ممی کو خوامخواہ عادت ہے ہر چھوٹی چھوٹی بات پر ٹینشن لینے کی… تم پرواہ مت کیا کرو۔” وہ ممی کے ہر ”ایمان افروز” لیکچر کے بعد مجھے کہتے اور ممی کے لیکچر کا جو رتی برابراثر ہوتا وہ بھی زائل کر دیتے۔
    ”میں تمھیں منگنی کیے بغیر Canada نہیں جانے دوں گی۔” میرے گریجویشن کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر جانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہی انھوں نے میرے سر پر ایٹم بم پھوڑا تھا۔ میں لو میرج کرنا چاہتا تھا مکمل لو میرج… اپنی مرضی سے اپنی پسند کی لڑکی سے شادی اور ممی… وہ میرے راستے میں کانٹے بچھا رہی تھیں یا کنواں کھود رہی تھیں میں جان نہیں سکا۔
    ”یہ نری جہالت ہے صفیہ… سو سال پہلے لوگ اس طرح کرتے ہوں گے اب کون منگنیاں کر کے بیٹوں کو پڑھنے کے لیے باہر بھجواتا ہے۔” پاپا نے بے حد ناراضگی کے ساتھ میری حمایت میں ممی سے کہا۔
    ”آپ کا بیٹا اگر منگنی کے بغیر باہر گیا تو شادی کر کے واپس آئے گا۔” ممی نے جیسے پاپا کو خبردار کیا۔
    ”اگر میرا ایسا ارادہ ہوا تو وہ تو میں منگنی کے بعد بھی باہر سے شادی کر کے ہی واپس آؤں گا۔ آپ سمجھتی ہیں منگیتر نام کی چیز کوئی امام ضامن ہے جو باہر مجھے ہر لڑکی سے دور رکھے گی۔” میں نے خاصی بدلحاظی سے کہا اور یہ بدلحاظی مجھے خاصی مہنگی پڑی۔ پاپا نے خاصی درشتی سے مجھے ڈانٹا۔
    ”ہاں ڈھونڈو اس کے لیے کوئی لڑکی… بہتر ہے یہ منگنی کروا کر ہی باہر جائے۔” انھوں نے اعلان کیا اور میرے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔




  • دربارِدل — قسط نمبر ۱

    میرے سامنے ڈائننگ ٹیبل پر رکھے ہوئے گلاس میں موجود مشروب یک دم اور سیاہ ہو گیا تھا۔ گلاس کے کناروں پر میری لپ اسٹک کے نشان تھے۔ کوئی اُن نشانوں پر انگلی پھیر کر یا محض ایک نظر ڈال لینے پر یہ اندازہ کر سکتا تھا کہ میرے ہونٹ خوبصورت تھے۔ مشروب میں موجود برف کے کیوبز اب بہت ننھے ننھے سے رہ گئے تھے… چند لمحوںمیں وہ بھی تحلیل ہو جاتے… اس سیاہ مشروب میں غائب ہو جاتے بالکل اسی طرح جس طرح میں ہو رہی تھی… ابھی… اس وقت…
    میرے بائیں طرف ٹیبل کے سرے پر بیٹھا قہقہے لگانے والا مرد میرا شوہر تھا… اور ”وہ” تھا جیسے میں نے دنیا میں سب سے زیادہ چاہا تھا… ہنستے ہوئے اس کا ”سفید چہرہ” سرخ ہو رہا تھا… اور وہ ”سفید شرٹ” پہنے ہوئے تھا اور "D&G” کا آفٹر شیو اس کے وجود کو مہکا رہا تھا اور اس کی کلائی میں "Gucci” کی گھڑی تھی اور اس کی پلیٹ میں ”فرائیڈ چکن” کا ایک ٹکڑا اور اس کے گلاس میں ”لیمن سپرائٹ”… اور میں… میں… میں… دربارِ دل میں تھی… کسی نے میری آنکھوں سے پٹی اتار دی تھی مجھے ٹھیک طرح سے دیکھنے کے لیے آنکھیں جھپکنی بھی نہیں پڑیں… سب کچھ نظر آ رہا تھا… صاف نظر آ رہا تھا۔
    مگر میری بینائی کو واپس آنے میں بہت دیر لگ گئی تھی اتنی دیر کہ اب سامنے نظر آنے والے منظر پر مجھے یقین نہیں آ رہا تھا… خود اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لینے پر بھی میرا ذہن یہ سب کچھ تسلیم کرنے سے انکار کر رہا تھا… ذہن جو کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا آنکھیں اور دل نہیں مان رہا تھا… اور آنکھیں جو کچھ دکھانے کی کوشش کر رہی تھیں… ذہن اس پر یقین نہیں لا رہا تھا۔
    مجھے اپنا وجود یک دم برف کا بت بنتا محسوس ہوا تھا یا پھر کانچ کا مجسمہ… جو انگلی کی ہلکی سی ضرب سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا… یوں ڈھے جاتا جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں… میں نے اپنے ہونٹ بھینچنے کی کوشش کی… اور میرے ہونٹوں نے میرا ساتھ نہیں دیا ایک عجیب Defiance تھی جو میرے وجود کے ہر عضو میں اتر آئی تھی… مہر سمیع کا اپنا جسم اس کو Own کرنے سے انکار کر رہا تھا… وہ کسی اور کے اشارے پر چل رہا تھا… کسی اور کے اشارے پر؟… میں، میں پِس رہی تھی… مہر سمیع… میرا ذہن سب کچھ تسلیم کرنے کی سعی میں مصروف تھا۔
    اور مراد… وہ ہنس رہا تھا… میرا شوہر… وہ شخص جسے میں نے سب سے بڑھ کر چاہا تھا… وہ ہنس رہا تھا۔ اس کی ہنسی میں کانٹوں جیسی چبھن تھی… وہ مجھ پر ہنس رہا تھا… اور پھر میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے چھری اور کانٹے کو بھی یک دم ہنستے دیکھا… پھر ٹیبل پر میرے سامنے پڑی میری ڈنر پلیٹ… پھر میرا گلاس… باری باری سب ہنسنے لگے تھے اور پھر میز پر پڑی ہر شے… ہر چیز… ڈشز، پلیٹیں، چمچ، کانٹے، چھریاں، ڈونگے، گلاسز… سب اس کورس میں شامل ہو گئے تھے… پھر ٹیبل، کرسیاں، ڈیکوریشن پیسز، دیوار پر لگی Paintings، لائٹس، پردے، فرنیچر، ڈرائنگ روم اور ڈائننگ کی ہر شے قہقہے لگانے لگی تھی۔ ان سب کی نظریں مجھ پر تھیں اور ان سب کی انگلیاں بھی مجھی پر اٹھی ہوئی تھیں… وہاں کمرے میں موجود ہر شے کا جیسے ایک چہرہ اُگ آیا تھا اور ہر چہرے کی نظریں مجھ پر تھیں… اور میں… میں انھیں دیکھ نہیں پا رہی تھی۔
    میرے ہاتھ سے کانٹا پلیٹ میں گرا… مراد نے مجھے چونک کر دیکھا۔ ”کیا ہوا؟”… ”تم نے کھانا کیوں چھوڑ دیا؟” مراد نے مجھ سے پوچھا۔ اس کے لہجے میں تشویش تھی۔
    ”اور انسان شر کو اس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر کو بے شک انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔” سورة بنی اسرائیل پارہ 15۔
    ”بھابھی کیا ہوا؟” یہ مونس تھا… میرے شوہر کا بہترین دوست… ”آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟” وہ بھی مراد کی تشویش میں شامل تھا۔ میں نے اس کے چہرے کو دیکھا… اس کے نام کو دل میں دہرایا… مونس… مومی… بے یقینی تھی کہ بھنور کی طرح مجھے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھی اور میں بے بسی سے اس کی گرفت سے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ”پریکٹیکل جوک” کسی نے میرے سر پر کچھ مارا۔ ”500 روپے” ایک دوسری آواز نے سرگوشی کی۔ ”1000 روپے” آوازیں تھیں کہ بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ میں نے سانس لینے کی کوشش کی… میں نے آوازوں کی بازگشت سے فرار ہونے کے لیے کوشش کی۔





    ”کیا بات ہے مہر؟” وہ پھر مراد تھا۔ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا مگر میرے ہاتھ نے اس کے ہاتھ کا لمس محسوس نہیں کیا۔ میں نے اپنے ہاتھ کو دیکھا… وہ لمس محسوس کیوں نہیں کر رہا تھا… کیا ”وہ” نہیں تھا؟… ”یا میں” نہیں تھی؟
    ”کھانا کھانا کیوں بند کر دیا؟” وہ پوچھ رہا تھا… ”میں کیوں کھا رہی تھی؟” میں سوچ رہی تھی۔ ”اس طرح کیوں دیکھ رہی ہو؟” اسے میری نظریں عجیب لگیں۔ ”اس طرح کیا دیکھ رہی تھی؟” میں نے سوچا… وہ تو کبھی بھی چہرہ نہیں تھا میرے لیے… صرف آواز تھی… پھر میں چہرے کو کیوں دیکھ رہی تھی؟… کیا دیکھ رہی تھی؟… جب آوازیں چہروں میں تبدیل ہوتی ہیں تو کیا وہ سب کو اسی طرح بھیانک لگتی ہیں جیسے مجھے لگ رہی تھیں… یا پھر یہ سب صرف میرے ساتھ ہی ہوا تھا…؟ میرے ساتھ ہی ہونا تھا؟…
    ”مہر کیا سوچ رہی ہو؟” آواز نے ایک بار پھر کہا… نہیں چہرے نے ایک بار پھر کہا… ہاں۔ یہ وہی تو تھا… وہی آواز… پھر آخر میں نے اسے Illusion کیوں سمجھا؟… کیوں جانا؟… میں نے اس کے ہاتھ کے نیچے سے اپنے ہاتھ کو کھینچا… میں اس کی نہیں تھی۔ میں کسی اور کی تھی… کس کی؟… میں نے دل کو ٹٹولا۔
    ”آئیے مہر سمیع… آپ بھی آئیے۔” دل نے مجھے خوش آمدید کہا۔ ”دیکھئے آپ نے کیا پایا ہے؟” وہ مسکرا رہا تھا ”جو پایا ہے… وہ کھرا ہے یا کھوٹا؟” وہ پوچھ رہا تھا۔ ”کھرا ہے تو کیا دام دیے ہیں؟” اس کا لہجہ عجیب تھا۔ ”کھوٹا ہے… تو کیا کھویا ہے؟” میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔
    میں دربارِ دل میں تھی… دل بادشاہ کے حضور… ”دیکھئے انجام محبت… اور کہیے آپ کہاں ہیں؟” وہ تمسخر سے کہہ رہا تھا۔ ”کیا محسوس کر رہی ہیں؟… کیا کہنا چاہتی ہیں؟”… کچھ کہہ پائیں گی؟… اب بھی؟… ابھی بھی…؟ دل نے ہنس کر مجھ سے کہا تھا… اور پھر میرے وجود سے اپنی زنجیریں ہٹا دی تھیں میں دل کی گرفت سے آزاد ہو گئی تھی… اتنے سالوں میں پہلی بار بوجھ ہٹا تھا… یا بوجھ بڑھا تھا؟
    ”جائیے آپ کو آزاد کرتے ہیں… انجام محبت دیکھ لینے والے دربارِ دل میں کیا ٹھہریں گے؟ وہ کہہ رہا تھا۔ ”جائیے۔” مگر میں کہاں جاتی… اب… اب… کہاں؟ اتنا بڑا دھوکہ کھا کے؟ ”میں نے دھوکہ نہیں دیا آپ کو… میں نے تو صرف فریب دیا تھا۔” وہ ہنسا۔ ”دھوکہ تو آپ نے خود کھایا ہے۔” اس کے ماتھے پر یک دم بل آئے… میں نے خود کو دربارِ دل سے باہر پایا۔
    ”آئی ایم سوری بھابھی…” یہ مونس تھا۔ ”اگر میری باتوں سے آپ کو تکلیف پہنچی ہے تو۔” مونس نے جیسے میری حالت کو Assess کرتے ہوئے نتیجہ نکالا تھا۔
    ”تکلیف پہنچی ہو تو؟” میں نے سوچا۔ ”کیا مجھے تکلیف پہنچی تھی؟” میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ تکلیف؟… یہ تکلیف کیا ہوتی ہے؟… کیا یہ تکلیف تھی جو میں محسوس کر رہی تھی؟… یا پھر بے عزتی تھی؟… یا پھر یہ پچھتاوا تھا؟… یا کوئی احساسِ زیاں تھا؟… یا یہ کچھ اور تھا؟… کچھ اور جس کو میں نام نہیں دے پا رہی تھی۔ جس کو کوئی نام نہیں دے سکتا تھا۔ ”مجھے اس موضوع پر بات کرنی نہیں چاہیے تھی۔” مونس وضاحت کر رہا تھا۔ ”مجھے اصل میں اندازہ نہیں تھا کہ آپ کو اتنا برا لگے گا ورنہ میں بات کرتے ہوئے محتاط رہتا۔” ”نہیں نہیں یار تم نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ تمھیں ایکسکیوز کرنی پڑے۔” مراد نے مونس کو ٹوکا تھا، وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ معذرت مونس کو نہیں کرنی چاہیے تھی… وہ کسی اور کو کرنی چاہیے تھی… میرے شوہر کو… مراد کو… مومی کو… یا پھر شاید مجھے۔
    ”مہر سمجھ دار لڑکی ہے وہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوتی ہے نہ برا مانتی ہے۔” مراد مونس کو تسلی دے رہا تھا۔ ”چھوٹی چھوٹی باتیں؟” میں نے اس کے الفاظ سنے۔ اس کے نزدیک ہر بات ہمیشہ چھوٹی چھوٹی ہوتی ہے… ہر بار… ہر بات… اور میں… میں کہاں کی سمجھ دار تھی… میں تو…
    میں نے کرسی چھوڑ دی اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی… مراد کے چہرے سے نظریں ہٹائے بغیر… چپ چاپ… میں نے ایک بار بھی اسے دیکھتے ہوئے پلک نہیں جھپکی تھی… میں نے دیکھا ہی پہلی بار تھا اسے… ایک سال میں پہلی بار میں نے اس چہرے کو دیکھا تھا… اس سے جس سے مجھے عشق تھا… نہیں عشق نہیں تھا کچھ اور تھا… عشق انسان سے خدا نہیں چھڑواتا… میں نے چھوڑا تھا… تو پھر کیا یہ عشق تھا؟… اگر عشق نہیں تھا تو پھر کیا تھا؟ ”اور انسان شر کو اس طرح مانگتا ہے جیسے خیر کو… اور بے شک انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔”
    ”مہر… مہر… رکو… کہاں جا رہی ہو؟” وہ مجھے پیچھے سے آوازیں دے رہا تھا… وہ جو میرا کچھ بھی نہیں تھا… اور میں… میں اگر پیچھے مڑ کر دیکھ لیتی تو ایک بار پھر پتھر کی ہو جاتی جیسے چار سال سے پتھر کی ہو گئی تھی۔
    ”بھابھی ناراض ہو گئی ہیں مراد… ہمیں یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔” مونس کہہ رہا تھا۔ ”وہ ناراض نہیں ہوتی… تم کھانا کھاؤ… میری اور اس کی بہت اچھی انڈر سٹینڈنگ ہے میں اسے منا لوں گا۔”
    وہ آخری جملہ تھا جو میں نے سنا تھا اس کے بعد میں ڈائننگ روم سے باہر نکل آئی… اور میں نے پہلی بار لاؤنج کو دیکھا… میں اس گھر میں پچھلے ایک سال سے رہ رہی تھی مگر میں نے ایک سال میں پہلی بار اس جگہ کو دیکھنے کی کوشش کی جو میرا گھر تھی اور میں اسے پہچان نہیں پائی… میں وہاں کیوں تھی؟… کیا تعلق تھا میرا اس گھر سے؟ میرا ذہن جیسے ماؤف ہو گیا تھا… کسی سوال کا جواب نہیں دے پا رہا تھا اور میں… میں چہروں کی شناخت کھو رہی تھی… یا پھر شاید پہلی بار کر رہی تھی۔
    پھر لاؤنج سے گزرتے ہوئے میں نے اپنے عکس کو آئینے میں دیکھا اور میں اسے بھی پہچان نہیں پائی… وہ کون تھی جو آئینے میں تھی… وہ میں تو نہیں ہو سکتی تھی۔ میں… مہر سمیع تو کوئی اور تھی… اور جو وہاں میرے سامنے آئینے میں تھی وہ کون تھی… ساڑھی میں ملبوس… کٹے ہوئے Streaked بال… زیورات سے لدا پھندا وجود میک اَپ سے لتھڑا چہرہ… کیوٹکس لگے لمبے ناخن… سلیولیس بلاؤز سے جھلکتے عُریاں بازو… مہر سمیع تو… میں نے بے یقینی سے آئینے کو دیکھا…پھر اپنے ناخنوں کو… پھر اپنے ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک کو پوروں سے چھوا… یہ سب کچھ کس وقت ہو گیا تھا؟… بے یقینی سی بے یقینی تھی… میں مہر سمیع تھی؟… مگر آئینے میں نظر آنے والا وجود کسی اور کا تھا… مگر آئینے کے سامنے میں تھی… مہر سمیع… تو پھر آئینے کے اندر کون تھا؟… کیا مہر سمیع؟… کوئی بھیانک خواب تھا جو ختم ہو گیا تھا یا پھر خواب شروع ہوا تھا؟

    **…**…**