Tag: umera Ahmed

  • جنریٹر — یاسر شاہ

    جنریٹر — یاسر شاہ

    وہ کوئی عام ایجاد نہیں تھی۔
    منٹوں میں جہنم کو جنت میں تبدیل کرنے والا ایک جادوئی آلہ تھا۔
    ایک ہی بٹن دبانے سے انسان دوزخ کی آگ سے نجات پا کر ساتویں آسمان کے پرسکون بادلوں میں پہنچ جاتا تھا۔
    کیسی ٹھنڈی ہوا تھی۔۔۔۔
    ایسی ہوا جو گرمی سے چکرائے سر کو فوراََ آرام پہنچا دے۔ ایسی ہوا جو بدن کو چھوتے ہی سارے دن کی تھکن کو غائب کر دیتی تھی۔ محنت اور مشقت میں بہایا ہوا پسینہ جو جسم پر بدبودار کیچڑ بن کر چپک جاتا تھا وہ ایسے خشک ہوتا، کہ چِپ چِپ کرتے کپڑے تو دور کی بات ،پورا بدن روئی کی طرح ملائم محسوس ہونے لگتا۔
    یہ ہوا نہیں یہ تو ایک نعمت تھی۔ جس کو میسر ہوجائے اس کو جینے کا مزہ آجائے۔
    بس ایسی ہی ٹھنڈی ہوا میں چند گھنٹوں کے لئے آرام کرنا چاہتا تھا۔ اس ہی ٹھنڈی ہوا میں کچھ دیرسونے کی خواہش تھی۔
    مجھے اپنے کیے پر نہ کوئی رنج ہے اور نہ ہی کوئی ندامت ۔۔
    بس اب جائو۔۔مجھے کچھ اور گھنٹوں کے لئے اس نرم بستر پر اور ٹھنڈی ہوا میں کچھ دیر اور سونے دو۔
    بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔
    ٭٭٭٭

    میرے اندازے کے مطابق مجھے کوئی ڈیڑھ بجے نیند آئی ہوگی۔
    یہ میں یقین سے اس لئے کہہ سکتا ہوں کیوںکہ پتا نہیں کس منحوس کی بد دعا لگی جو رات ایک یا ڈیڑھ بجے سے پہلے نیند آتی ہی نہیں۔ آنکھوں میں نیند بھری ہوتی اور بدن بھی تھکن سے ٹوٹتا مگر نہ جانے کیوں؟۔۔جیسے ہی ــ’’کوارٹر‘‘ میں آکر چارپائی پر لیٹا ہوں، یہ کم بخت نیند فوراََ بھاگ جاتی ہے۔
    پوری رات کروٹیں بدل بدل کر خدا سے دعا کرتا رہتا ہوںکہ نیند آجائے۔ تھوڑی دیر کے لئے ہی آنکھ لگ جائے۔ کچھ نہیں تو ایک دو گھنٹے کی نیند ہی میسر ہوجائے بس اس کے بعد تو آگے تھکاوٹ ہی تھکاوٹ۔ صبح سویرے ، دن چڑھتے ہی اس تنور یعنی اپنے کوارٹر سے نکل کرصاحب جی اور بیگم صاحب کا ناشتہ بنانا ہوتا ہے اور یوں گرمی سے جلتے جسم اور نیند سے بھری آنکھوں کے ساتھ میں ایک اور دن گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہوں۔
    ہمیشہ کی طرح آج رات بھی ٹھیک دو بجے مجھے بدتمیزی سے جگایا گیا۔’’انٹر کام‘‘ کی وہ منحوس ’’بیل‘‘ کانوں میں ایسے گونج رہی تھی جیسے کوئی صور پھونکا جا رہا ہو۔ اپنا سر کھجاتے اُٹھا تو فوراََ اندازہ ہوگیا کہ یہ جو آدھے گھنٹے کی نیند ملی غنیمت ہے۔ آگے کی رات اب بہت اذیت سے گزرے گی۔
    پسینہ پونچھتے ہوئے میں نے انٹرکام اُٹھایا اور فرماںبرداری سے کہا: ’’جی صاحب جی‘‘
    آگے سے وہ چلائے۔ ’’صاحب جی کا چاچا ۔۔کیا گھوڑے بیچ کر سوتے ہو تم جو تمہیں احساس نہیں کہ پچھلے بیس منٹ سے بتی گئی ہوئی ہے۔ گرمی سے براحال ہو رہا ہے ہمارا۔ جنریٹر خود آن ہوگا کیا؟‘‘
    ’’معاف کیجئے گا صاحب جی ۔۔۔پتا ہی نہیں چلا۔۔‘‘
    ’’ہاں پتا ہی نہیں چلا۔۔ہم جب پسینوں میں بھیگ بھیگ کر بیمار ہوجائیں گے تب احساس ہو گا تمہیں۔۔کیا ہم انسان نہیں۔۔ ؟ یا ہم گرمی میں پڑے پڑے مر جائیں؟ جائو فوراََ جا کر ’’جنریٹر‘‘ چلائو تاکہ ہمارا اے سی چل سکے۔ تم جانتے ہو صبح میری لاہور کی فلائٹ ہے۔ اگر میری نیند پوری نہیں ہوئی تو تمہارا وہ حشر کروں گا تم یاد رکھو گے۔‘‘
    میں نے اپنے صاحب جی سے مزید معافیاں مانگیں اور پھر اپنی ٹوٹی چپلوں میں پائوں ڈال کر ’’جنریٹر‘‘ چلانے گیا۔ صاحب کی ڈانٹ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ غصے کے ساتھ اپنی قسمت پر ہنسی بھی آرہی تھی۔ صاحب فرمارہے ہیں ’’ہم انسان نہیں‘‘۔۔؟ پھر کہتے ہیں ’’میرا وہ حشر کریں گے کہ میں یاد رکھوںگا۔‘‘ اگر وہ انسان نہیںتو میں کیا۔۔؟ وہ تو پھر اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں آرام سے سوتے ہیں۔ بیس منٹ میں کون سا ان کا کمرہ اُبلنے لگا ہو گا، جو ان سے برداشت نہیں ہو رہا۔ اور میں۔۔؟ ایک ٹوٹے ہوئے ’’پیڈسٹل فین‘‘ کا رخ اپنی طرف کر کے پوری رات خاموشی سے گزار دیتا ہوں اور آج تک اپنی انسانیت پر کبھی شک نہیں کیا۔ آئے بڑے میرا برا حشر کرنے والے! اس گرمی میں تو رات مجھے گزارنی پڑتی ہے۔ اس سے زیادہ اور برا حشر کیا ہوسکتا ہے؟
    ویسے یہ جنریٹر چلانا بھی بہت مشکل کام ہے۔ اس کو چلانے کے لئے بڑی جان چاہئے اور کوئی دو تین بار کشتی لڑوں تب جا کر یہ ’’جنریٹر‘‘ چلنے کا نام لیتا ہے۔ جب ایک بار ’’آن‘‘ ہو کر گرجتا ہے تو اس بات سے ہی خوشی ملتی ہے کہ اب صاحب جی اور بیگم صاحبہ چین سے سو سکیں گے۔
    میں نے چہرہ اوپر کیا اور اے سی کی طرف دیکھا۔ واہ بھئی واہ۔۔جنریٹر بھی کتنی انوکھی ایجاد ہے، جو صرف امیروں کے لئے ہی بنائی گئی ہے۔ ہم جیسے غریب اسے باہر سے چلا ضرور سکتے ہیں مگر کمرے میں جا کر اس کی بدولت چلنے والے اے سی کی ٹھنڈی ہوا سے ہمیشہ محروم ہی رہ جاتے ہیں۔کبھی کبھار کھانا یا چائے پیش کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ کبھی خدا نے وفات کے بعد جنت کی کھڑکیاں ہمارے لئے بھی اگر کھولیں تو ضرور جنت میں بھی ہر جگہ ــ’’جنریٹر‘‘ اور اُن کی بدولت ’’اے سی‘‘ ہی لگے ہوں گے۔ جہاں چکراتے دماغ اور جلتے ہوئے جسم کو ہمیشہ ٹھنڈی ہوا کا سکون مل سکے گا۔
    اوپر دیوارپر لگے اے سی سے دو چار پانی کے قطرے ٹپک کر میرے ہاتھ پر گرے۔ میں نے وہی قطرے اپنے منہ پر مل لئے۔ اس اے سی سے ٹپکتا ہوا پانی بھی کتنا مزے دا ر ہوتا ہے۔ چلو اگر اندر کی ٹھنڈی ہوا نہیں تو ان دو چار قطروں سے ہی سکون حاصل کرتے ہیں۔کچھ قطرے منہ پر ملے اور کچھ تو پی بھی لئے۔ واپس آکر میں نے اپنا معذور سا پنکھا چلایا اور دوبارہ آنکھ لگانے کی کوشش کی۔
    ٭٭٭٭
    ڈھائی بجے کمبخت انٹر کام پھر بجنا شروع ہوا۔ اس بار صاحب کے لئے ایک موٹی سی گالی نکلی۔
    ’’ارے خبیث آدمی کیا کھا کر سوئے ہو جو تمہیں کسی چیز کا ہوش نہیں ‘‘صاحب جی پھر ’’انٹر کام‘‘ پر غرائے۔
    آنکھیں ملتے ہوئے میں نے پہلے تو معافی مانگی پھر پوچھا ’’کیا ہوا صاحب جی۔۔؟؟‘‘
    ’’اوپر سے پوچھ رہے ہو کیا ہوا؟ ہوش نہیں تمہیں۔۔؟ پچھلے دس منٹ سے جنریٹر ٹرپ ہو چکا ہے اور اے سی بند ہے۔ جا کر دیکھو۔‘‘
    ’’جی میں ابھی دیکھتا ہوں۔۔‘‘
    ’’پٹرول کتنا ہے اُس میں ۔۔؟؟کم تو نہیں ہوگیا۔؟ کتنی مرتبہ کہا ہے کہ ہر رات جنریٹر کا پٹرول دیکھ کر سویا کرو‘‘۔
    ’’صاحب جی میں نے دیکھا تھا۔ پٹرول ختم نہیں ہوا ہوگا۔‘‘
    ’’تو پھر لوڈپڑ رہا ہوگا۔ تم نے تو اپنا پنکھا تو نہیں چلایا ہوا؟‘‘
    میں نے فوراََ جھوٹ بولا ’’نہیں سر ۔۔میں نے نہیں چلایا‘‘
    ’’بکواس کرتے ہو۔سب جانتا ہوں تم لوگوںکی چالاکیاں۔۔یہ جنریٹر ہم نے اس لئے لگوایا ہے کہ رات کو صر ف ایک کمرے کا اے سی چل سکے۔ تمہیں اگر زیادہ گرمی لگتی ہے تو باہر صحن میں جا کر سو جایا کرو۔ کسی اور کمرے کی لائٹ نہیں جلنی چاہئے ورنہ ’جنریٹر‘ پر لوڈ پڑے گا۔ اب جائو فوراََ دیکھو کیا ہوا ہے؟‘‘
    ’’جی سر۔۔‘‘
    پھر میں نے وہی کیا جس کا حکم مجھے دیا گیا۔ آنکھیں ملتے ہوئے نیند کی مد ہوشی میں جا کر ’’جنریٹر‘ ‘سے دوبارہ کشتی کی۔ جب وہ چل پڑا تو اس بار اپنا پنکھا چلائے بغیر گرمی اور پسینے میں ہی چارپائی پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔
    ٭٭٭٭
    خدا کی شان میں گستاخی کبھی نہیں کرنی چاہئے مگر یا اللہ! یہ مچھر بھی کیا شے ہے؟ ایسی تخلیق کا مقصد ہی کیا جو آدمی کو صرف نقصان ہی پہنچاتی ہے۔ ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے علاوہ مچھروں نے اس دنیا کو دیا بھی کیا ہے؟ان کے وجود کا تو صرف ایک ہی مقصد ہے۔۔غریبوں کی راتیں کالی کرنا۔
    پنکھے کے بغیر یہ مچھر انسان کو ایسے کھا تے ہیں جیسے کہ کوئی پرانا دشمن حملہ کر رہا ہو۔ جگہ جگہ کاٹ کاٹ کر اس نے جسم چھلنی کر دیا ۔ باقی جو کسر بچی تھی میں نے خود کو کھجا کھجا زخمی کر لیا۔
    اگر مشکل سے کھجلی کو بھول کر ایک دو منٹ کے لئے آنکھ لگ بھی جائے تو پھر یہی مچھر کان میں بھنبھنا نا شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر مارنے کی کوشش کروتو اپنا تھپڑ خود ہی اپنے منہ ہی پر پڑتا ہے۔ ’’واہ بھئی واہ!‘‘ ہم بے قصور اپنے آپ کو ہی مار رہے ہیں۔
    سمجھ نہیں آتاکہ اپنی بدقسمتی پر قہقہے لگائوں یا آنسو بہائوں۔۔
    ان مچھروں سے تنگ آکر میں تین بجے باہر صحن میں جاکر لیٹ گیا۔ اگر مچھروں نے کاٹنا ہی ہے تو اس گرم کمرے میں رہنے کا کیا فائدہ۔ باہرصحن میں ہی جا کر اپنے ہتھیار ڈال دوں۔ کم از کم کوئی بھولی بھٹکی ہوا کا جھونکا تو مل جائے شاید۔
    ٭٭٭٭

  • دو مسافر —- احمد سعدی (مترجم:شوکت عثمان)

    دو مسافر —- احمد سعدی (مترجم:شوکت عثمان)

    گرمی کی دوپہر ڈھلنے لگی تھی اور ارہر کے کھیت میں پڑتے ہوئے سائے آہستہ آہستہ لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ اسی ڈھلتی دوپہر میں کشٹیا ضلع بورڈ کی سڑک پر ایک مسافر کہیں جا رہا تھا۔ اس نے گیروے رنگ کا تہ بند اور صدری پہن رکھی تھی۔ لمبوترے چہرے پر گھنی سفید ڈاڑھی اور ہاتھ میں اک تارا تھا۔ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا، اس کی نگاہیں راستے پر نہیںبلکہ دور کہیں کھوئی ہوئی تھیں۔ گرمی کی تیز دھوپ میں ہر چیز جھلس کر رہ گئی تھی۔ اس جھلسے ہوئے رنگ کا حسن بیراگی کے دل کے رنگ سے مشابہ تھا شاید اسی لیے وہ اسے دیکھتا ہوا راستہ طے کر رہا تھا۔ گاہ بہ گاہ ان جانے میں اس کی انگلی اک تارے کی تار سے ٹکرا جاتی اور اس کی ٹنگ ٹنگ کی آواز دھوپ سے تپتی فضا میں ہلکی سی چیخ سن کر گونج اٹھتی مگر یہ گویا اس کی لاعلمی میں ہورہا تھا کیوں کہ مسافر کا دل تو اس وقت اک تارے کی موسیقی سے کہیں دور بھٹک رہا تھا، کسی دوسری دنیا کی سیر کررہا تھا۔ راستے میں سایہ دار درخت بھی تھے لیکن وہ ان درختوں کے سائے میں رکے بغیر چلا جا رہا تھا۔ وہاں سے تقریباً تین میل کی دوری پر ایک گاؤں تھا شاید وہی اُس کی منزل تھی۔
    پہلے مسافر کے پیچھے پیچھے ایک اور مسافر بھی اسی راستے پر چل رہا تھا۔ اس کے قدم تیز تیز اٹھ رہے تھے۔ لگتا تھا، وہ آگے جاتے مسافر کے قریب پہنچنا چاہتا ہے۔ پہلے مسافر کو آواز دے کر روکا جا سکتا تھا، مگر دوسرا مسافر شاید آواز دینا نہیں چاہتا تھا۔ دوسرے مسافر کا چہرہ روکھا سوکھا سا تھا اور اس کی مونچھ اور اس کے دونوں بازوؤں کے بال سیاہ تھے۔ چہرہ چوڑا اور آنکھیں گول تھیں۔ اسے دیکھنے سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ حکم دینے کا عادی رہا ہو، حکم کی تعمیل کا نہیں۔ راستے کی تکان دور کرنے کے لیے ہم سفر سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں ہوتی شاید اسی لیے وہ تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا۔ تیز چلنے کی وجہ سے اس کے چہرے پر تھکن کے آثار ابھر آئے تھے پھر بھی اس کی رفتار میں کمی نہیں آئی، وہ تیز تیز چلتا رہا۔ ذرا قریب پہنچ کر دوسرے مسافر نے پہلے کو آواز دی:
    ’’بھائی صاحب!‘‘

    پہلے نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ دوسرے مسافر کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر استقبالیہ مسکراہٹ پھیل گئی:
    ’’کیا آپ نے مجھے آواز دی ہے؟‘‘
    ’’جی ہاں۔‘‘
    دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’السلام علیکم۔‘‘
    ’’وعلیکم السلام۔‘‘
    پہلے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘‘
    دوسرے مسافر نے پوچھا۔
    ’’وہ جو سامنے آبادی نظر آرہی ہے، وہیں جانا ہے مجھے۔‘‘
    ’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔‘‘
    دوسرے مسافر نے کہا۔
    ’’میں بھی وہی جا رہا ہوں۔‘‘
    ’’چلیے پھر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔‘‘
    پہلے مسافر نے خوشی کا اظہار کیا۔
    راہ میں ہم سفر مل جائے تو راستے کی طوالت کا خوف دل سے نکل جاتا ہے شاید یہی وجہ تھی کہ وہ دونوں دھیرے دھیرے قدم اٹھانے لگے۔ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے، مگر ڈاڑھی والے مسافر کی نگاہیں دور خلا میں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔ مونچھوں والے مسافر کی نگاہیں بار بار اپنے ہم سفر کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ گرمی کے دنوں میں دورافق پر بہت تیز روشنی دکھائی دیتی ہے۔ افق کا یہ حال ہمیشہ نظر نہیں آتا۔ دوسرا مسافر بار بار اپنے ہم سفر کی طرف دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کی نگاہوں کی جستجو کیا ہے اور وہ دور افق پر نظر جمائے کیا دیکھ رہا ہے۔ دوسرے مسافر نے کئی بار دور افق کی طرف دیکھا، پھر پہلے مسافر کی نگاہوں کے تعاقب میں اپنی نظریں پھیر لیں۔
    پہلا مسافر خاموشی سے آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہا تھا۔
    دوسرے مسافر کو اس کی خاموشی اچھی نہیں لگی۔ آپس میں باتیں ہی نہ ہوں تو ہم سفری کیسی؟ اس نے خاموشی توڑنے کے لیے بلند آواز میں پہلے مسافر سے پوچھا:
    ’’بھائی صاحب! آپ گانا گاتے ہیں کیا؟‘‘
    پہلا مسافر محویت سے چونک اٹھا: ’’آپ نے مجھ سے کچھ کہا بھائی صاحب؟‘‘
    ’’جی ہاں۔‘‘
    دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    پہلا مسافر دوسرے مسافر سے مخاطب ہو کر بولا: ’’کہیے؟‘‘
    ’’آپ گانا گاتے ہیں کیا؟‘‘
    اس نے دوبارہ پوچھا۔
    ’’جی ہاں۔ گانا گاتا ہوں۔‘‘
    ’’تو پھر کوئی گانا سنائیے نا؟‘‘
    دوسرا مسافر بولا۔
    ’’اگر آپ کو زحمت نہ ہو۔‘‘
    ’’زحمت کی کیا بات ہے؟‘‘
    پہلے مسافر نے کہا۔
    ’’سننا چاہتے ہیں تو سنیے۔‘‘
    گیروے لباس والے نے اک تارا سنبھال لیا اور گانے لگا۔
    میں نے دل کے دریا میں ایک عجیب تماشا دیکھا۔
    جسم کے اندر ایک گھر ہے۔
    اس گھر میں چور گھس آیا ہے۔
    چھے آدمیوں نے مل کر نقب لگائی ہے۔
    جسم کے اندر ایک باغ ہے۔
    اس میں مختلف اقسام کے پھول کھلے ہیں۔
    پھولوں کی خوشبو سے ساری خلقت دیوانی ہو گئی ہے۔
    لیکن لالن کا دل دیوانہ نہیں ہوا۔
    نغمے اور موسیقی کے آب شار سے سنسنان میدان نے ہونٹوں میں پانی بھر کر اپنی پیاس بجھالی۔ دھوپ کی حدت پرے ہٹ گئی اور سروں کے اندر ساری دنیا ملفوف ہو گئی۔ گانا کب ختم ہوا، محسوس ہی نہیں ہوا۔
    دوسرے مسافر نے اس سکوت میں اپنی آواز کا پتھر پھینکا۔
    ’’واہ واہ، آپ تو بہت اچھا گاتے ہیں۔‘‘
    ’’جی!‘‘
    پہلے مسافر نے مختصر جواب دیا۔
    ’’آپ کا نغمہ بھی خوب تھا۔‘‘
    دوسرے نے تعریفی انداز میں کہا۔
    ’’جی! بس یہی کچھ مجھے آتا ہے۔‘‘
    ’’نہیں، نہیں۔ سچ مچ آپ کی آواز میں بلاکالوچ اور درد ہے۔‘‘
    دوسرا مسافر بولا۔ ’’میں نے ایسا نغمہ پہلے کبھی نہیں سنا!‘‘
    ’’کبھی نہیں سنا؟‘‘
    پہلے مسافر نے حیرت سے پوچھا۔
    ’’جی نہیں۔‘‘ دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’بہت خوب۔‘‘ پہلا مسافر مسکرایا۔
    دونوں کے درمیان مزید گفتگو نہیں ہوئی۔ وہ دونوں پھر تیزقدم بڑھانے لگے تاکہ جلد از جلد منزل پر پہنچ سکیں۔
    میدانی علاقہ ختم ہو گیا اور دونوں آبادی کے قریب پہنچ گئے۔ چاروں طرف درختوں کی قطاریں تھیں اور درختوں کے درمیان مکانات کھڑے تھے۔ پختہ عمارتیں اور ٹین کے گھر دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ لوگ گھروں سے نکل کر اپنے اپنے کام پر جا رہے تھے۔ یہ دونوں آگے بڑھتے گئے مگر کسی نے ان دونوں کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔
    ’’چلو، اتنی دیر بعد کچھ آدمی تو نظر آئے۔‘‘
    پہلا مسافر بڑبڑایا۔
    دونوں ایک دوراہے پر جا کر رک گئے۔ راستے کے دونوں طرف دور تک زمین خالی تھی۔ اس کے بعد متمول لوگوں کے مکانات اور تالاب تھے۔ ایک جگہ ایک ساتھ کئی عمارتیں تھیں اور پھلوں سے لدے ہوئے درختوں کا ایک بڑا سا باغ تھا۔
    اس طرف نگاہ پڑتے ہی دوسرے مسافر نے اپنے بیراگی ہم سفر کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا:
    ’’جلدی ادھر آئیے، وہ دیکھیے، وہ میرا گھر دکھائی دے رہا ہے، وہ میرا باغ ہے اور اس کے چاروں طرف جتنی زمینیں پھیلی ہوئی ہیں، وہ سب میری کاشت کی زمینیں ہیں۔ اس طرف آئیے۔ وہ جو ناریل کے پیڑوں کی لمبی قطار دکھائی دے رہی ہے نا، آپ ان پیڑوں کے ایک ناریل کا پانی پی لیں تو سات دن تک پیاس بجھ جائے۔‘‘
    پہلے مسافر کو کوئی جواب دینے کا موقع نہیں ملا۔ اس کا ہاتھ دوسرے مسافر کی مٹھی میں تھا اور وہ اسے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے جا رہا تھا۔ دونوں ایک پختہ کنارے والے تالاب کے پاس جا کر رک گئے۔ تالاب کنارے ناریل کے سینکڑوں پیڑ تھے۔
    دوسرے مسافر نے کہا:
    ’’آپ اس پیڑ کے سائے میں بیٹھ جائیے۔ میں ناریل توڑنے کا انتظام کرتا ہوں۔ یہ سب کچھ میرا ہے۔
    یہ تالاب، یہ باغ باغیچہ، یہ پختہ عمارت اور وہ جو حد نظر تک پھیلی ہوئی کاشت کی زمینیں ہیں، وہ سب میری ہیں اور یہ گاؤں بھی میری ہی زمین پر آباد ہے اور وہ جو…‘‘
    دوسرے مسافر کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی بڑی بڑی مونچھوں والا ایک فربہ اندام شخص آکر ان دونوں کے درمیان کھڑا ہو گیا۔ وہ تالاب کنارے دو موٹے موٹے پیڑوں کے پیچھے کھڑا دوسرے مسافر کی باتیں سن رہا تھا۔ اس نے ان دونوں کو سر سے پاؤں تک گھور کر دیکھا پھر دوسرے مسافر کو مخاطب کرتے ہوئے بولا:
    ’’آپ کیا کہہ رہے تھے؟‘‘
    ’’میں کہہ رہا تھا کہ یہ باغ، یہ تالاب، یہ عمارت سبھی کچھ میرا ہے۔‘‘
    دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’آپ کا اسم شریف؟‘‘
    اس آدمی نے پوچھا۔
    ’’سبحان جواردار۔‘‘

  • ڈھال — نازیہ خان

    ڈھال — نازیہ خان

    ثنا بڑی بے چینی سے اپنے شوہر واصف کا انتظار کرتے ہوئے کمرے میں چکر لگا رہی تھی۔ بالآخر اُس نے گاڑی کے ہارن کی آواز سُنی اور کھڑکی کی طرف بھاگی۔
    ’’شکر ہے۔‘‘ وہ بے دھڑک بولی۔
    واصف گھر داخل ہوتے ہی اپنے کمرے کی طرف مُڑا۔
    ’’کیا ہوا واصف؟‘‘ باپ نے بیٹے کی بے چینی دیکھتے پوچھا۔
    ’’آآآ…کچھ نہیں پاپا… بس وہ ایک فائل رہ گئی تھی۔‘‘ اُس نے جھوٹ بولتے ہوئے بات سنبھالی۔
    ’’آرام سے بیٹا… تمہارے کمرے میں ہوگی۔‘‘ماں نے بھی چائے کا کپ رکھتے ہوئے دلاسا دیا۔
    وہ بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں پہنچا۔
    ’’کیا ہوگیا ہے ثنا؟ ایسی کون سی قیامت آگئی ہے کہ تم کالز پر کالز کرتی جارہی تھی۔‘‘ اُس نے غصے سے سرگوشی کی۔
    ’’واصف آپ کو اندازہ بھی ہے، اس گھر میں کیا ہو رہا ہے؟‘‘ وہ گھورتے ہوئے بولی۔
    ’’ارے ہوا کیا ہے؟ تم سیدھی طرح کیوں نہیں بتاتی؟‘‘
    ’’ماما پاپا شاہ میر کی بات مان کر اس کی شادی اُس دو ٹکے کی لڑکی ماہرہ کے ساتھ کروانے پر راضی ہوگئے ہیں۔‘‘ وہ غصے سے چلّائی۔
    ’’کیا؟ لیکن مجھ سے تو انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔‘‘ وہ حیرانگی سے بولا۔
    ’’میں آپ کو بتا رہی ہوں واصف، آپ کے بھائی شاہ میر کی شادی صرف میری بہن ماہ نور سے ہوگی ورنہ…‘‘
    ’’ورنہ کیا؟‘‘ واصف نے اُس کی بات کاٹی۔
    ’’واصف آپ سمجھ نہیں رہے، اگر شاہ میر کی شادی ماہ نور سے ہوگی، تو آپ ساری زندگی اس کاروبار کے اکیلے مالک بن کر زندگی گزاریں گے، لیکن اگر کوئی باہر کی لڑکی گھر آگئی تو یہ راج دو دنوں میں ختم ہو سکتا ہے۔‘‘
    ’’لیکن ہم شاہ میر کے ساتھ زبردستی بھی تو نہیں کرسکتے۔‘‘واصف نے کہا۔

    ’’وہ ماما اور پاپا کا بہت پیارا ہے۔ اگر وہ لوگ نہیں مانیں گے، تو وہ ماہرہ سے کسی صورت شادی نہیں کرے گا۔‘‘ اُس نے واصف کے کان بھرے۔
    ’’تو تم کیا چاہتی ہو؟‘‘ اُس نے حیرانگی سے پوچھا۔
    ’’میں چاہتی ہوں کہ آپ ماما اور پاپا کو کسی بھی طرح اس رشتے کے حق میں نہ جانے دیں۔ اُس کا گھرانہ غریب ہے، تو آپ سٹیٹس کو اپنا ہتھیار بنا سکتے ہیں۔‘‘ اُس نے آہستہ سے مشورہ دیا۔
    ’’میں بات کرتا ہوں ماما سے۔‘‘ وہ تیزی سے مُڑا۔
    ٭…٭…٭
    اُس نے بڑے ادب سے چائے پیتے ہوئے ماں باپ کو جوائن کیا۔
    ’’تمہاری فائل مل گئی بیٹا؟‘‘ ماں نے سوال کیا۔
    ’’جی ماں، وہ کمرے میں ہی تھی۔‘‘
    ’’شکر ہے۔‘‘ ماں نے تسلی سے جواب دیا اور بیٹے کو دیکھ کر مُسکرائی۔
    ’’سنو واصف… شاہ میر شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ ماں نے آہستہ سے بات شروع کی۔
    ’’یہ تو اچھی بات ہے۔ دیر کس بات کی ہے کردیں اُس کی شادی۔‘‘ ماں نے واصف کی بات سُن کر اچانک اُس کے پاپا کی طرف دیکھا۔
    ’’مگر بیٹا وہ اپنی کلاس فیلو سے شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘
    ’’ہاں تو ٹھیک ہے اگر ان لوگوں کا سٹیٹس ہمارے ساتھ میچ کرتا ہے، تو کردیں وہاں شادی۔‘‘ اُس نے تسلی سے جواب دیا۔
    ’’یہی تو مسئلہ ہے واصف… وہ لڑکی ایک غریب پرائمری اسکول ٹیچر کی بیٹی ہے۔‘‘ باپ نے غصے کا اظہار کیا۔
    ’’کیا؟‘‘ واصف نے حیرانگی اور غصے سے چائے کا کپ میز پر رکھا۔
    ’’شاہ میر پاگل ہوچکا ہے؟ ہم بھلا شاہ میر کی شادی وہاں کیسے کرسکتے ہیں؟‘‘ اُس نے ماں کو گھورتے ہوئے کہا۔
    ’’مگر بیٹا وہ ضد کررہا ہے کہ وہ صرف اُسی سے شادی کرے گا۔‘‘
    ’’ماں پلیز… آپ اُسے سمجھائیں، شاہ میر کا اور اُس لڑکی کا کوئی جوڑ نہیں۔‘‘ وہ غصے سے کھڑا ہوگیا۔
    ’’میں کیا کروں؟ اُس کی مانوں یا تم لوگوں کی؟‘‘ ماں نے غصے سے پوچھا۔
    ’’آپ اُس کی شادی ماہ نور سے کیوں نہیں کروا دیتیں؟‘‘ اُس نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کان میں بات ڈالی اور پھر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
    ’’بات تو واصف کی بھی ٹھیک ہے۔‘‘ باپ نے مشورہ دیا۔
    ماں غصے سے دوسری طرف دیکھنے لگی۔
    ٭…٭…٭
    شاہ میر یونی ورسٹی سے آتے ہی ماں کے کمرے میں سلام کرنے گیا۔
    ماں نے اُسے پیار سے دیکھا اور مُسکرائی، وہ سلام کرنے کے بعد واپس مڑا۔
    ’’رُکو شاہ میر… بیٹا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘
    ’’جی ماما۔‘‘ اُس نے مڑ کر دیکھا۔
    ’’بیٹا ماہرہ تمہارے لائق نہیں، اُس کا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں۔ تم اُس سے شادی کی ضد چھوڑ دو۔‘‘ ماں نے نظریں چراتے ہوئے بیٹے کو ساری بات سمجھائی۔
    ’’لیکن ماما، وہ لڑکی پڑھی لکھی ہے، اچھی ہے، مجھے اِس کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے۔‘‘ اُس نے بات سمجھانے کی کوشش کی۔
    ’’نہیں شاہ میر، بس اب میں دوبارہ تمہارے منہ سے یہ بات نہ سنوں۔ شادی کرنے سے صرف دو لوگ نہیں جڑتے بلکہ دو خاندان جڑتے ہیں۔‘‘
    ’’مگر میں شادی صرف ماہرہ سے کروں گا۔‘‘ وہ جوش سے بولا۔
    ’’تم ماہ نور سے شادی کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘
    ’’ماہ نور جیسی آوارہ لڑکیوں میں مجھے کوئی دل چسپی نہیں۔‘‘ وہ چلّایا۔
    ’’بکواس بند کرو۔ وہ ثنا کی بہن ہے اور ثنا بھی تو اتنی اچھی اور فرماں بردار لڑکی ہے۔‘‘
    ’’میں آپ کو آخری دفعہ بتا رہا ہوں، میں صرف اور صرف ماہرہ سے شادی کروں گا۔‘‘ اُس نے گھورتے ہوئے اپنی بات مکمل کی اور کمرے سے چلا گیا۔
    ’’وہ میری کوئی بات سننے کو راضی نہیں ہے۔‘‘ ماں نے اُداسی سے واصف اور اُس کے باپ کو بتایا۔
    وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔
    ’’بیٹے کی خوشی سے بڑھ کر آخر کیا ہوتا ہے ماں باپ کے لیے۔‘‘ ماں نے غصے سے اپنے میاں کو دیکھا۔
    واصف غصے سے ماں باپ کو گھورتے ہوئے کمرے میں چلا گیا۔
    ٭…٭…٭
    شاہ میر کی ضد کو مانتے ہوئے ماں باپ نے اُس کا نکاح ماہرہ سے کروا دیا۔
    ماہرہ نے پہلے دن ہی جانچ لیا کہ شاہ میر کے گھر والے اس رشتے پر خاص راضی نہ تھے، اُن سب کے لہجے، الفاظ کا ساتھ نہ دے رہے تھے۔ شادی کی پہلی رات ہی جب وہ کمرے میں داخل ہوا، تو ماہرہ نے اُس سے پوچھا۔
    ’’شاہ میر کیا تمہارے گھر والے اس شادی پر راضی نہیں تھے؟‘‘
    ’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں ماہرہ۔‘‘ وہ جھجکتے ہوئے بولا۔
    ’’کیا تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ تمہارے گھر والے اس رشتے پر راضی ہیں۔‘‘ اُس نے آنسو بھری نگاہوں سے اُسے دیکھا۔
    ’’سب ٹھیک ہو جائے گا ماہرہ! ماما پاپا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ وہ کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جائیں گے۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں میں سب ٹھیک کردوں گا۔‘‘
    ’’شاہ میر تم پر تمہارے والدین کا حق سب سے پہلے ہے۔ اگر وہ راضی نہیں تھے، تو تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘ اُس نے مایوسی سے کہا۔
    ’’میں تم سے وعدہ کرتا ہوں ماہرہ، میں ماما، پاپا کو منالوں گا۔ تمہارے علاوہ میں اپنی زندگی میں کسی اور کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔‘‘ اُس نے اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ماہرہ نے بھی شاہ میر پر بھروسا کرتے ہوئے اُسے معاف کردیا۔
    ٭…٭…٭

  • اور جنّت مرگئی — دلشاد نسیم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    اور جنّت مرگئی — دلشاد نسیم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    پوری یونیورسٹی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی کہ جنت نے خودکشی کر لی۔ اس کے فیس بک اکاوؑنٹ پر بڑا بڑا RIP لکھا ہوا تھا۔
    نجیب نے دیکھا، تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ جنت مر گئی۔
    زندگی اس کے ساتھ کیسی چال چل گئی اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ حسین سنہری دھوپ جیسی آنکھوں والی لڑکی ہمیشہ کے لیے اندھیرا کر گئی۔ حسین آنکھیں بند ہو گئیں وہ اپنی عزت سے ڈر گئی ہو گی۔
    میری بے وفائی سے خوف زدہ ہو گئی ہو گی۔
    نجیب نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا۔
    نہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کی عمر اتنی ہی ہو گی۔
    خود کو بہلانے کے لیے نجیب نے بے وقوفی سے سوچا، لیکن خودکشی گناہ ہے کچھ بھی سہی جنت کو یہ گناہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔
    نجیب کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر بھینچا۔ گناہ و ثواب کی باتیں وہ کیسے کر سکتا ہے۔ وہ کون ہوتا ہے کرنے والا۔
    اس دن گھر آکر بھی وہ بہت بے چین رہا کسی بہت بھیانک خواب سے جاگنے کے بعد آنکھیں بند ہونے سے بھی ڈرنے لگتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی نجیب نے موبائل پہ فیس بک کو ڈیلیٹ کر دیا، لیکن ظاہر ہے ڈیلیٹ نہیں ہوئی تھی۔ وہیں موجود تھی۔ ڈیلیٹ تو صرف موبائل سے ہوئی تھی۔
    ندا نے کھانے کا پوچھا۔ نجیب نے انکار کر دیا۔
    امی نے طبیعت کا پوچھا۔ نجیب نے ’’ٹھیک ہوں‘‘ کہہ کے ٹال دیا۔ ابو نے امتحانوں کا پوچھا اس نے جھوٹے لفظوں سے تسلی دے دی۔
    جھوٹے سچے لفظ چننا، تو اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
    نجیب نے اپنا بایاں ہاتھ دیکھا ابھی کل ہی تو جنت نے اس کا ہاتھ پکڑ کر التجا کی تھی۔ کل صرف چند گھنٹے پہلے اس نے کہا تھا۔
    ’’نجیب، میری تو زندگی تم ہو۔‘‘
    نجیب نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
    جنت کی سنہری آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں۔
    نجیب نے کہا۔
    ’’تم جیسی لڑکیاں اپنا گناہ چھپانے کے لیے کچھ بھی کہہ سکتی ہیں۔ تم جیسی لڑکیاں کسی کے ساتھ بھی وقت گزار سکتی ہیں۔ تم جیسی… تم جیسی…‘‘
    نجیب اندھیرے کمرے میں بیٹھا ان دولفظوں کی تکرار سے گھبرا گیا۔

    ساری رات جاگ کر گزاری۔ اس ایک رات نے اس کو بالکل بدل دیا۔
    کسی کی موت کی وجہ بننے کے بارے میں، تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ اس نے تو زندگی کو صرف قہقہہ سمجھا۔
    اس نے کسی کی زندگی کو موت کا پھندہ بنا دیا۔ وہ کلاس روم میں بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا۔ عبداللہ نے ایسے میں اس کا سچا دوست ہونے کا ثبوت دیا۔ جب جب وہ گم ہوتا عبداللہ اُسے ٹوک دیتا۔ اس کو ماضی سے کھینچ لاتا۔
    اس دن بھی وہ یونی کے سنسان کونے میں آنکھیں صاف کر رہا تھا جب عبداللہ نے کہا تھا۔
    ’’یار بس آگے چل کب تک پلٹ پلٹ کر دیکھتا رہے گا؟‘‘
    نجیب نے عبداللہ کو اس طرح دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کیا یہ اتنا آسان ہے۔
    عبداللہ نے سچے دوست کی طرح نجیب کے غم کو محسوس کیا۔ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور بولا۔
    ’’یہ سب بہت مشکل ہے، لیکن اگر تو سمجھتا ہے زندگی مشکلات کا نام ہے، تو غلط ہے۔ زندگی مشکلات کے حل کا نام ہے۔ ہم ایک جگہ الجھ کر نہیں بیٹھ سکتے میرے یار۔
    مجھے جنت سے محبت نہیں تھی۔ کاش ہوتی۔ ہو پاتی، لیکن اس وقت تو میں کسی سے بھی محبت نہیں کر رہا تھا۔ میرے اندر اس احساس نے کبھی سر ہی نہیں اٹھایا ، مگر اس کی موت کا غم مل گیا۔
    ’’شاید مجھے اس کی موت کا غم نہیں ہے، وجہ موت بن جانے کا غم ہے۔‘‘نجیب نے خود سے کہا۔
    ’’ہاں شاید۔‘‘ اُس نے جیسے سانس لی۔ دکھی آزردہ سانس۔
    نجیب ساری شام عبداللہ سے بے معنی گفتگو کرتا رہا۔
    ’’یار کسی کے لیے کوئی مر بھی سکتا ہے؟‘‘
    ’’مر بھی سکتا ہے، لیکن اس کو تیری بے وفائی سے زیادہ اس بات کا غم مار گیا کہ وہ اس حالت میں ہے اور کسی کو کیا منہ دکھائے گی۔‘‘
    ’’اس کے پاس مرنے کی بہت زیادہ وجہیں تھیں اور ہر وجہ میں تھا۔‘‘ نجیب نے عبداللہ کے سامنے مجرمانہ اقرار کیا۔
    ’’اچھا آج جی بھر کے باتیں کر اچھی بری ساری۔ ساری بھڑاس نکال دے اور کل صبح نماز پڑھ کے اللہ سے اپنے لیے دعا کرنا۔ حاجت کی نماز پڑھنا اور اللہ سے گڑگڑا کے توبہ کرنا۔ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘
    نجیب نے عبداللہ کو حیران ہو کر دیکھا اور پھیکی ہنسی کے ساتھ بولا۔
    ’’جس اللہ کی مخلوق نے میری وجہ سے خودکشی کی اسی اللہ سے معافی مانگوں۔ وہ کیسے معاف کرے گا؟‘‘
    ’’کر دے گا۔‘‘ عبداللہ نے یقین سے کہا۔
    ’’کیوں کہ وہ اللہ ہے اور اللہ ہی اس بات پر قادر ہے۔وہ کس کو معاف کرے کس کو نہ کرے۔‘‘
    ’’اور اگر معافی نہ ملی تو؟‘‘ نجیب نے خوف زدہ ہو کر سوچا۔
    ’’ملے گی۔ ضرور ملے گی۔‘‘
    نجیب، عبداللہ کی بات پر واقعی بہل گیا جس نے ایک عرصے سے سجدے میں سر نہیں جھکایا تھا۔ فجر کے وقت الارم لگا کر سویا اور سویا بھی کیا خاک سارا وقت الارم اور اذان کے انتظار میں تھوڑی دیر دیر میں جاگتا رہا۔ الارم اور اذان سے پہلے وہ آنکھیں کھول کے چھت والے پنکھے کو گھور رہا تھا۔ الارم بند کر کے وہ وضو کرنے چلا گیا۔ واش بیسن کے سامنے اس نے اپنا چہرہ دیکھا۔ آنکھوں کے نیچے سیاہی تھی۔ خود بہ خود آنکھوں میں آنسو آگئے اور شاید کئی آنسو اس نے وضو کرتے بہا دیے تھے۔
    نماز کے بعد نفل پڑھ کے کتنی دیر وہ اللہ سے باتیں کرتا رہا۔ سجدہ اتنا لمبا ہو گیا کہ اگر کوئی دیکھ لیتا تو یہی سوچتا نجیب مر چکا ہے اور واقعی حقیقت دیکھی جائے تو نجیب زندہ ہی کہاں تھا۔
    بہت دیر بعد سر اٹھایا۔ جائے نماز بھیگ چکی اور آنکھیں رونے سے بھاری ہو گئی تھیں۔ سر تو کئی دنوں سے بوجھل تھا۔
    ناشتے کی میز پر ابو نے سب سے پہلے نوٹس کیا۔
    ’’تم صبح بہت جلدی اٹھ گئے تھے۔‘‘
    ’’جی۔‘‘ نجیب نے سرجھکا کر یوں اقرار کیا گویا کوئی جرم کیا ہو۔
    ’’میں نماز کے لیے اٹھا، تو نجیب جاگ رہا تھا۔ عابدہ‘‘
    انہوں نے اپنی حیرت میں بیوی کو بھی شامل کیا۔
    عابدہ حیران ہو کر بولیں۔ ’’نماز کے لیے اٹھے تھے؟‘‘
    ’’نماز ہی پڑھ رہا تھا۔‘‘
    نجیب نے باپ کی بات پر چونک کے سر اٹھایا۔
    ’’آپ میرے کمرے میں آئے تھے؟‘‘
    ’’آیا تھا۔‘‘
    ’’اوہ۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا۔‘‘
    ابو نے مسکرا کے تھوڑی شرارت سے کہا۔ ’’میاں اتنے لمبے سجدے تو خاص وقت میں ہی ہوا کرتے ہیں۔‘‘
    نجیب ایک لمحے تو گڑبڑا گیا۔
    ’’کسی سے محبت ہو گئی ہے کیا؟‘‘
    ندا کالج جا چکی تھی ورنہ وہ بھی ابو کی صاف گوئی پر حیران ہوتی۔ عابدہ مسکرا دیں۔ نجیب خفت سے ہنس دیا۔
    ’’نہیں ابو۔‘‘
    وہ حیرت سے ہونٹوں کو لٹکا کر بولے۔’’حیرت ہے۔‘‘ اور ساتھ ہی مسکرا دیے۔
    ’’اچھا… اللہ تمہارے سجدے قبول کرے۔ ناشتا کرو۔‘‘
    ناشتا پھر کس کم بخت نے کرنا تھا اس کے حلق میں پانی روٹی کے سخت نوالے کی طرح پھنس گیا۔
    ابو اٹھے تو عابدہ نے نجیب کے سنورے ہوئے بالوں میں انگلیاں پھنسائیں اور محبت سے کہا۔
    ’’کیا بات ہے بیٹا؟‘‘
    نجیب نے عابدہ کے ہاتھوں پر پیار کیا۔
    ’’کچھ نہیں امی۔‘‘
    ’’جانے ماں اتنی وہمی کیوں ہوتی ہے لفظوں کی ہیرا پھیری سمجھ ہی نہیں پاتی۔‘‘ عابدہ بھی دہل گئیں کہنے لگیں۔
    ’’اللہ نہ کرے کچھ ہو۔‘‘
    نجیب نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور اٹھ گیا۔ عابدہ کو گلے لگا کے پیار کیا۔ آج وہ بہت آسودہ تھا۔ اس کو تو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ کے سامنے رونے سے جی اتنا ہلکا ہو جاتا ہے۔
    ٭…٭…٭
    خیر پہلے جیسا معاملہ تو نہیں تھا ،لیکن حالات قدرے بہتر ہو گئے۔ اس نے عبداللہ کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ پڑھائی میں دل لگانے کی بھرپور کوشش شروع کی تھی۔ فیس بک پر مکمل پرائیویسی لگ چکی تھی۔
    میسجز کے آخر میں نجیب کی محنت رنگ لائی اچھنے نمبرز سے پاس ہونے کی نوید نے اُسے یقین دلا دیا کہ اس کا معافی نامہ قبول ہو چکا ہے۔ اس کے ذہن پر اب پہلے جیسا بوجھ بھی نہیں رہا۔ یوں بھی وقت کی مرحمی طبیعت سے کون واقف نہیں۔
    بڑے سے بڑے غم پر ایسے کھرنڈ لے آتا ہے جیسے کبھی کوئی زخم ملا ہی نہ ہو یا پھر یوں سمجھ لیں نشان رہ بھی جائے زخموں کا درد جاتا رہتا ہے۔ یہ بات وہی تھی۔ اس نے ایک اور کلاس فیلو سے یونی کے مشاعرے کی تصویریں شیئر کیں۔ تب اسے اپنی پرائیویسی کھولنی پڑی۔
    فیس بک کھل گیا جن یادوں کے دفتر کو تالا لگا تھا وہ بھی کھل گئے۔ وہ دبے پاؤں کئی پیر پکڑی غم زدہ تصویروں سے بچتا بچاتا مشاعرے کی تصویروں تک پہنچا۔ بہت اچھا مشاعرہ تھا۔ اس کو دوبارہ سن کر بھی اچھا لگ رہا تھا۔ اس میں اچانک نوٹیفکیشن کی بیپ بجی۔
    زارا کی فرینڈ ریکویسٹ سامنے تھی۔
    نجیب شاہ نے اگنور کر دیا۔
    میسنجر پہ میسج آیا۔ Add me.
    نجیب کے ذہن میں ایک چھناکا ہوا۔
    اس نے کتنے دن جنت کے در پر ٹکریں ماری تھیں۔
    Add me. Add me.
    زارا کی درخواست کو اگنور کر کے وہ آگے نکل گیا، مگر کئی دن یہ درخواست دستک دیتی رہی۔

  • اور جنّت مرگئی — دلشاد نسیم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    اور جنّت مرگئی — دلشاد نسیم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    پوری یونیورسٹی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی کہ جنت نے خودکشی کر لی۔ اس کے فیس بک اکاوؑنٹ پر بڑا بڑا RIP لکھا ہوا تھا۔
    نجیب نے دیکھا، تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ جنت مر گئی۔
    زندگی اس کے ساتھ کیسی چال چل گئی اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ حسین سنہری دھوپ جیسی آنکھوں والی لڑکی ہمیشہ کے لیے اندھیرا کر گئی۔ حسین آنکھیں بند ہو گئیں وہ اپنی عزت سے ڈر گئی ہو گی۔
    میری بے وفائی سے خوف زدہ ہو گئی ہو گی۔
    نجیب نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا۔
    نہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کی عمر اتنی ہی ہو گی۔
    خود کو بہلانے کے لیے نجیب نے بے وقوفی سے سوچا، لیکن خودکشی گناہ ہے کچھ بھی سہی جنت کو یہ گناہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔
    نجیب کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر بھینچا۔ گناہ و ثواب کی باتیں وہ کیسے کر سکتا ہے۔ وہ کون ہوتا ہے کرنے والا۔
    اس دن گھر آکر بھی وہ بہت بے چین رہا کسی بہت بھیانک خواب سے جاگنے کے بعد آنکھیں بند ہونے سے بھی ڈرنے لگتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی نجیب نے موبائل پہ فیس بک کو ڈیلیٹ کر دیا، لیکن ظاہر ہے ڈیلیٹ نہیں ہوئی تھی۔ وہیں موجود تھی۔ ڈیلیٹ تو صرف موبائل سے ہوئی تھی۔
    ندا نے کھانے کا پوچھا۔ نجیب نے انکار کر دیا۔
    امی نے طبیعت کا پوچھا۔ نجیب نے ’’ٹھیک ہوں‘‘ کہہ کے ٹال دیا۔ ابو نے امتحانوں کا پوچھا اس نے جھوٹے لفظوں سے تسلی دے دی۔
    جھوٹے سچے لفظ چننا، تو اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
    نجیب نے اپنا بایاں ہاتھ دیکھا ابھی کل ہی تو جنت نے اس کا ہاتھ پکڑ کر التجا کی تھی۔ کل صرف چند گھنٹے پہلے اس نے کہا تھا۔
    ’’نجیب، میری تو زندگی تم ہو۔‘‘
    نجیب نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
    جنت کی سنہری آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں۔
    نجیب نے کہا۔
    ’’تم جیسی لڑکیاں اپنا گناہ چھپانے کے لیے کچھ بھی کہہ سکتی ہیں۔ تم جیسی لڑکیاں کسی کے ساتھ بھی وقت گزار سکتی ہیں۔ تم جیسی… تم جیسی…‘‘
    نجیب اندھیرے کمرے میں بیٹھا ان دولفظوں کی تکرار سے گھبرا گیا۔

    ساری رات جاگ کر گزاری۔ اس ایک رات نے اس کو بالکل بدل دیا۔
    کسی کی موت کی وجہ بننے کے بارے میں، تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ اس نے تو زندگی کو صرف قہقہہ سمجھا۔
    اس نے کسی کی زندگی کو موت کا پھندہ بنا دیا۔ وہ کلاس روم میں بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا۔ عبداللہ نے ایسے میں اس کا سچا دوست ہونے کا ثبوت دیا۔ جب جب وہ گم ہوتا عبداللہ اُسے ٹوک دیتا۔ اس کو ماضی سے کھینچ لاتا۔
    اس دن بھی وہ یونی کے سنسان کونے میں آنکھیں صاف کر رہا تھا جب عبداللہ نے کہا تھا۔
    ’’یار بس آگے چل کب تک پلٹ پلٹ کر دیکھتا رہے گا؟‘‘
    نجیب نے عبداللہ کو اس طرح دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کیا یہ اتنا آسان ہے۔
    عبداللہ نے سچے دوست کی طرح نجیب کے غم کو محسوس کیا۔ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور بولا۔
    ’’یہ سب بہت مشکل ہے، لیکن اگر تو سمجھتا ہے زندگی مشکلات کا نام ہے، تو غلط ہے۔ زندگی مشکلات کے حل کا نام ہے۔ ہم ایک جگہ الجھ کر نہیں بیٹھ سکتے میرے یار۔
    مجھے جنت سے محبت نہیں تھی۔ کاش ہوتی۔ ہو پاتی، لیکن اس وقت تو میں کسی سے بھی محبت نہیں کر رہا تھا۔ میرے اندر اس احساس نے کبھی سر ہی نہیں اٹھایا ، مگر اس کی موت کا غم مل گیا۔
    ’’شاید مجھے اس کی موت کا غم نہیں ہے، وجہ موت بن جانے کا غم ہے۔‘‘نجیب نے خود سے کہا۔
    ’’ہاں شاید۔‘‘ اُس نے جیسے سانس لی۔ دکھی آزردہ سانس۔
    نجیب ساری شام عبداللہ سے بے معنی گفتگو کرتا رہا۔
    ’’یار کسی کے لیے کوئی مر بھی سکتا ہے؟‘‘
    ’’مر بھی سکتا ہے، لیکن اس کو تیری بے وفائی سے زیادہ اس بات کا غم مار گیا کہ وہ اس حالت میں ہے اور کسی کو کیا منہ دکھائے گی۔‘‘
    ’’اس کے پاس مرنے کی بہت زیادہ وجہیں تھیں اور ہر وجہ میں تھا۔‘‘ نجیب نے عبداللہ کے سامنے مجرمانہ اقرار کیا۔
    ’’اچھا آج جی بھر کے باتیں کر اچھی بری ساری۔ ساری بھڑاس نکال دے اور کل صبح نماز پڑھ کے اللہ سے اپنے لیے دعا کرنا۔ حاجت کی نماز پڑھنا اور اللہ سے گڑگڑا کے توبہ کرنا۔ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘
    نجیب نے عبداللہ کو حیران ہو کر دیکھا اور پھیکی ہنسی کے ساتھ بولا۔
    ’’جس اللہ کی مخلوق نے میری وجہ سے خودکشی کی اسی اللہ سے معافی مانگوں۔ وہ کیسے معاف کرے گا؟‘‘
    ’’کر دے گا۔‘‘ عبداللہ نے یقین سے کہا۔
    ’’کیوں کہ وہ اللہ ہے اور اللہ ہی اس بات پر قادر ہے۔وہ کس کو معاف کرے کس کو نہ کرے۔‘‘
    ’’اور اگر معافی نہ ملی تو؟‘‘ نجیب نے خوف زدہ ہو کر سوچا۔
    ’’ملے گی۔ ضرور ملے گی۔‘‘
    نجیب، عبداللہ کی بات پر واقعی بہل گیا جس نے ایک عرصے سے سجدے میں سر نہیں جھکایا تھا۔ فجر کے وقت الارم لگا کر سویا اور سویا بھی کیا خاک سارا وقت الارم اور اذان کے انتظار میں تھوڑی دیر دیر میں جاگتا رہا۔ الارم اور اذان سے پہلے وہ آنکھیں کھول کے چھت والے پنکھے کو گھور رہا تھا۔ الارم بند کر کے وہ وضو کرنے چلا گیا۔ واش بیسن کے سامنے اس نے اپنا چہرہ دیکھا۔ آنکھوں کے نیچے سیاہی تھی۔ خود بہ خود آنکھوں میں آنسو آگئے اور شاید کئی آنسو اس نے وضو کرتے بہا دیے تھے۔
    نماز کے بعد نفل پڑھ کے کتنی دیر وہ اللہ سے باتیں کرتا رہا۔ سجدہ اتنا لمبا ہو گیا کہ اگر کوئی دیکھ لیتا تو یہی سوچتا نجیب مر چکا ہے اور واقعی حقیقت دیکھی جائے تو نجیب زندہ ہی کہاں تھا۔
    بہت دیر بعد سر اٹھایا۔ جائے نماز بھیگ چکی اور آنکھیں رونے سے بھاری ہو گئی تھیں۔ سر تو کئی دنوں سے بوجھل تھا۔
    ناشتے کی میز پر ابو نے سب سے پہلے نوٹس کیا۔
    ’’تم صبح بہت جلدی اٹھ گئے تھے۔‘‘
    ’’جی۔‘‘ نجیب نے سرجھکا کر یوں اقرار کیا گویا کوئی جرم کیا ہو۔
    ’’میں نماز کے لیے اٹھا، تو نجیب جاگ رہا تھا۔ عابدہ‘‘
    انہوں نے اپنی حیرت میں بیوی کو بھی شامل کیا۔
    عابدہ حیران ہو کر بولیں۔ ’’نماز کے لیے اٹھے تھے؟‘‘
    ’’نماز ہی پڑھ رہا تھا۔‘‘
    نجیب نے باپ کی بات پر چونک کے سر اٹھایا۔
    ’’آپ میرے کمرے میں آئے تھے؟‘‘
    ’’آیا تھا۔‘‘
    ’’اوہ۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا۔‘‘
    ابو نے مسکرا کے تھوڑی شرارت سے کہا۔ ’’میاں اتنے لمبے سجدے تو خاص وقت میں ہی ہوا کرتے ہیں۔‘‘
    نجیب ایک لمحے تو گڑبڑا گیا۔
    ’’کسی سے محبت ہو گئی ہے کیا؟‘‘
    ندا کالج جا چکی تھی ورنہ وہ بھی ابو کی صاف گوئی پر حیران ہوتی۔ عابدہ مسکرا دیں۔ نجیب خفت سے ہنس دیا۔
    ’’نہیں ابو۔‘‘
    وہ حیرت سے ہونٹوں کو لٹکا کر بولے۔’’حیرت ہے۔‘‘ اور ساتھ ہی مسکرا دیے۔
    ’’اچھا… اللہ تمہارے سجدے قبول کرے۔ ناشتا کرو۔‘‘
    ناشتا پھر کس کم بخت نے کرنا تھا اس کے حلق میں پانی روٹی کے سخت نوالے کی طرح پھنس گیا۔
    ابو اٹھے تو عابدہ نے نجیب کے سنورے ہوئے بالوں میں انگلیاں پھنسائیں اور محبت سے کہا۔
    ’’کیا بات ہے بیٹا؟‘‘
    نجیب نے عابدہ کے ہاتھوں پر پیار کیا۔
    ’’کچھ نہیں امی۔‘‘
    ’’جانے ماں اتنی وہمی کیوں ہوتی ہے لفظوں کی ہیرا پھیری سمجھ ہی نہیں پاتی۔‘‘ عابدہ بھی دہل گئیں کہنے لگیں۔
    ’’اللہ نہ کرے کچھ ہو۔‘‘
    نجیب نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور اٹھ گیا۔ عابدہ کو گلے لگا کے پیار کیا۔ آج وہ بہت آسودہ تھا۔ اس کو تو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ کے سامنے رونے سے جی اتنا ہلکا ہو جاتا ہے۔
    ٭…٭…٭
    خیر پہلے جیسا معاملہ تو نہیں تھا ،لیکن حالات قدرے بہتر ہو گئے۔ اس نے عبداللہ کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔ پڑھائی میں دل لگانے کی بھرپور کوشش شروع کی تھی۔ فیس بک پر مکمل پرائیویسی لگ چکی تھی۔
    میسجز کے آخر میں نجیب کی محنت رنگ لائی اچھنے نمبرز سے پاس ہونے کی نوید نے اُسے یقین دلا دیا کہ اس کا معافی نامہ قبول ہو چکا ہے۔ اس کے ذہن پر اب پہلے جیسا بوجھ بھی نہیں رہا۔ یوں بھی وقت کی مرحمی طبیعت سے کون واقف نہیں۔
    بڑے سے بڑے غم پر ایسے کھرنڈ لے آتا ہے جیسے کبھی کوئی زخم ملا ہی نہ ہو یا پھر یوں سمجھ لیں نشان رہ بھی جائے زخموں کا درد جاتا رہتا ہے۔ یہ بات وہی تھی۔ اس نے ایک اور کلاس فیلو سے یونی کے مشاعرے کی تصویریں شیئر کیں۔ تب اسے اپنی پرائیویسی کھولنی پڑی۔
    فیس بک کھل گیا جن یادوں کے دفتر کو تالا لگا تھا وہ بھی کھل گئے۔ وہ دبے پاؤں کئی پیر پکڑی غم زدہ تصویروں سے بچتا بچاتا مشاعرے کی تصویروں تک پہنچا۔ بہت اچھا مشاعرہ تھا۔ اس کو دوبارہ سن کر بھی اچھا لگ رہا تھا۔ اس میں اچانک نوٹیفکیشن کی بیپ بجی۔
    زارا کی فرینڈ ریکویسٹ سامنے تھی۔
    نجیب شاہ نے اگنور کر دیا۔
    میسنجر پہ میسج آیا۔ Add me.
    نجیب کے ذہن میں ایک چھناکا ہوا۔
    اس نے کتنے دن جنت کے در پر ٹکریں ماری تھیں۔
    Add me. Add me.
    زارا کی درخواست کو اگنور کر کے وہ آگے نکل گیا، مگر کئی دن یہ درخواست دستک دیتی رہی۔

  • اور جنّت مرگئی — دلشاد نسیم (حصّہ اول)

    اور جنّت مرگئی — دلشاد نسیم (حصّہ اول)

    موبائل کی اسکرین چمکی اور سیاہ ہو گئی۔ کلاس میں بیٹھے نجیب کی نظر میز پر رکھے اپنے موبائل پر پڑی۔ اس کے ماتھے پر چند شکنیں ابھریں اور ڈوب گئیں۔ اس نے پھیپھڑوں کو تنفس کی آزاری سے آزاد کیا۔ اس کے بالکل ساتھ والی کرسی پر بیٹھا عبداللہ، نجیب کے چہرے پر چھائی خاموش پریشانی کو محسوس کررہا تھا۔
    کلاس ختم ہوئی تو سب لڑکے لڑکیاں باہر نکل آئے مگر نجیب نہ اٹھا۔ عبداللہ نے اپنی کرسی گھسیٹ کر نجیب کے بالکل قریب کر لی اور جھلا کے بولا۔
    ’’یار تیرا مسئلہ کیا ہے؟‘‘
    نجیب نے ایک خاموش نظر عبداللہ پر ڈالی اور سرجھکا لیا ۔
    ’’بتا نا یار۔‘‘
    ’’کیا تجھے پتا نہیں، نجیب نے زچ ہو کر پوچھا۔تو نہیں جانتا؟‘‘
    ’’سب جانتا ہوں، لیکن زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔‘‘
    نجیب کا چہرہ کرخت ہو گیا۔ اس نے تلخی سے کہا۔
    ’’اب جب میں کسی سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا۔ کوئی تعلق ہی نہیں رکھنا چاہتا، تو کوئی کیوں مجھے ریکوئسٹ بھیج رہا ہے۔‘‘
    عبداللہ نے نرمی سے نجیب کے کندھے پر ہاتھ رکھا جیسے دلاسا دے رہا ہو۔
    ’’جو ہوا… اسے بھول جا… دفع کر۔ زندگی بہت خوب صورت ہے۔ یہ بار بار نہیں ملتی۔ اس کو روگ تھوڑی لگانا ہے۔‘‘
    نجیب نے عبداللہ کو اس طرح دیکھا جیسے وہ کسی اور زبان سے بات کر رہا ہو۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہ آرہا ہو۔
    ’’ایک لڑکی تھی، تجھے چاہتی تھی۔ تیرے عشق میں اس نے خودکشی کرلی۔ یہی نا اس میں تیرا کیا قصور؟ بول۔‘‘
    نجیب نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر کلاس سے نکل گیا۔ عبداللہ اس کے پیچھے پیچھے ہی نکلا، لیکن بہت بور ہو رہا تھا۔ نجیب پر اسے رہ رہ کر غصہ آتا۔ اس کی خاموشی عبداللہ کو الجھن اور غصے میں مبتلا کردیتی۔ لڑکی اپنی موت کی خود ذمہ دار تھی۔ نجیب نے تھوڑی کہا تھا مرجاوؑ۔
    مگر نجیب جانتا تھا اس نے کہا نہیں لیکن ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ مر گئی۔ جنت مر گئی۔
    وہ حسین، کومل، محبت کرنے والی لڑکی جس نے نجیب کو سچے دل سے چاہا۔ مر گئی۔
    موت اتنی آسان ہو گئی۔ اتنی مہربان۔
    نجیب کی آنکھیں سلگنے لگیں۔

    ’’آج لڑکوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ کوئی لڑکی انوالو نہیں ہوتی ہو جائے تو وفا نہیں ہوتی۔ اسی میں تو یہ ساری خوبیاں تھیں۔‘‘
    ’’بہت بدقسمت ہو نجیب شاہ، بہت بدقسمت۔ بن مانگی مراد راس نہ آئی تجھے۔ جنت کا خیال بھی اس کو ہلا کے رکھ دیتا۔
    اس کی سوز میں ڈوبی محبت بھری آواز آج بھی سرگوشی کرتی۔
    اف کیسے سمجھاؤں کسی کو اس کی قربت اس کی آنکھوں کا نشہ۔
    میری بدقسمتی کی داستان۔ اس کی آخری ملاقات۔ آنسوؤں میں ڈوبی۔
    ’’نجیب میں مر جاؤں گی۔‘‘
    نجیب نے قہقہہ لگایا۔
    ’’کبھی کسی کو کسی کے لیے مرتے دیکھا نہیں۔‘‘
    ’’تو اب دیکھ لینا۔‘‘
    ’’ویری فنی…‘‘
    اور صبح خبر آئی۔
    ’’جنت…‘‘
    نجیب کا دل ایک لمحے کو دھڑکنا بند ہو گیا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ اس صبح اس نے جب موبائل آن کیا تھا۔ کیسے پتھر کا ہو گیا تھا۔ کاش۔ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا۔
    لڑکوں نے مذاق اڑایا۔
    ’’یار ہم میں سے کسی پر مر جاتی۔ مر گئی کسی کے کام نہ آئی۔‘‘
    لڑکیاں دکھی ہو رہی تھیں اس کی موت کا اصل سبب تو کوئی جانتا ہی نہیں تھا۔ کسی کو خبر نہیں تھی کہ…
    اس حادثے نے نجیب کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ وہ کسی کی موت کا ذمہ دار ہو سکتا ہے یہ خیال اسے پل پل مارنے کے لیے کافی تھا۔
    اس کی خاموشی پر چھوٹی ندا بہت افسردہ تھی۔ گرہ کھولنا چاہتی لیکن نجیب نہ خود کھلتا نہ اس کی خاموش گرہ۔ وہ تو سلگ رہا تھا۔ جیسے چپ چاپ لکڑی اپنی آخری آنچ پر ہو۔ سلگتی ہوئی اندر ہی اندر راکھ بنتی ہوئی۔
    رات نو بجے کھانا کھا کے وہ ابھی کمرے میں آیا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہو ئی۔ نجیب کو معلوم تھا کہ ندا کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اس نے اندر آنے کا کہا۔ ندا نے آتے ہی کمر پر ہاتھ رکھ کر خفگی سے کہنا شروع کر دیا۔
    ’’بھائی مجھے سچ سچ ایک بات بتائیں۔‘‘
    نجیب نے مسکرا کے بہن کو دیکھا اور اس کے دبدبے کو محسوس کیا۔
    ’’کون سی بات؟‘‘
    ’’یہ… زارا کون ہے؟‘‘
    نجیب کا مسکراتا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔
    ’’بتائیں نا؟‘‘
    نجیب نے بہ مشکل خود کو پرسکون کیا اور پوچھا۔
    ’’کیوں تمہیں کیا کہا ہے زارا بی بی نے؟‘‘
    ’’آپ اسے جانتے ہیں؟‘‘
    ندا نے بہ غور نجیب کو دیکھا اور آنکھیں سکیڑیں۔
    نجیب کو ندا کا یہ کھوجی انداز بہت بھلا لگتا۔ وہ ہنس کے بولا۔
    ’’تمہاری قسم۔ بالکل نہیں۔‘‘
    ’’تو پھر اس نے مجھے کیوں ریکوئسٹ بھیجی؟‘‘
    ’’تو بھیجنے دو۔ کوئی بات نہیں۔‘‘
    ’’پھر بھی پتا تو چلے؟‘‘
    ’’کیا پتا چلے۔‘‘
    ’’کہ وہ مجھے سیڑھی کیوں بنانا چاہتی ہے۔‘‘
    ’’لیکن تم بننا نہیں۔‘‘
    نجیب سنجیدہ تھا۔
    ’’ٹھیک ہے۔‘‘
    ندا نے اطمینان سے کہا۔
    ’’لیکن وہ مجھے ان باکس کر کے یہ کہتی ہے کہ وہ آپ سے بے حد محبت کرتی ہے۔ اس لیے میں اس کی یعنی زارا احمد ندا شاہ آپ سے سفارش کروں کہ آپ اس کی دوستی قبول کر لیں۔‘‘
    نجیب کے چہرے پر سنجیدگی نمایاں ہو گئی۔ ندا نے اپنے اسی کھوجی انداز سے نجیب کو دیکھا۔
    ’’آپ جانتے ہیں زارا کو؟‘‘
    نجیب نے ندا کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔
    ’’میری جان میں اُسے بالکل نہیں جانتا۔‘‘
    ’’بھائی۔ اگر اچھی لڑکی ہے، تو کیا حرج ہے بات کر لیں۔‘‘
    نجیب نے سنجیدہ اور دکھی مسکراہٹ سے کہا۔
    ’’تمہارے بھائی کو اچھے برے کی پہچان نہیں ہے۔ اس لیے وہ کیسے جان سکتا ہے کہ کون اچھا ہے کون بُرا؟‘‘
    ندا حیرت سے نجیب کو دیکھنے لگی۔
    نجیب نے اپنا دھیان ہٹایا۔
    ’’اب جاؤ میری گڑیا رانی۔ میں کچھ پڑھ لوں۔‘‘
    ’’کوئی آپ کی یونی کی ہو۔ ہو سکتا ہے کسی نے نام اور آئی ڈی بدل کے آپ کو اپروچ کرنا چاہا ہو۔‘‘ وہ ابھی تک زارا احمد ہی میں پھنسی ہوئی تھی۔
    نجیب نے بے زاری سے کہا۔
    ’’تو میں کیا کروں۔ کرتا ہے تو کرے۔‘‘
    ندا دوچار اور سوال پوچھ کے چلی گئی۔ نجیب نے بے چینی سے لیپ ٹاپ آن کیا اور میسنجر پر آئے زارا کے میسجز دیکھنے لگا۔ جسے وہ کئی دنوں سے اگنور کر رہا تھا۔ پڑھنے لگا۔
    بیس دن پرانا ایک میسج تھا۔
    ’’کیا میں آپ کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیج سکتی ہوں؟‘‘
    اگلے دن سوال تھا۔
    ’’آپ نے جواب نہیں دیا۔‘‘
    دو دن کے بعد پھر ایک میسج تھا۔
    ’’یہ تو میں جانتی ہوں آپ مغرور نہیں اور یہ بھی کہ لڑکیوں سے دوستی کرنا آپ کو بہت اچھا لگتا ہے، تو پھر مجھ سے کیوں گریز کر رہے ہیں۔
    نجیب نے لمبی سانس لی۔ زارا کی ڈی پی بھی اس کے سامنے تھی۔ آنکھوں میں شوخی کے بہ جائے حزن تھا اور چہرے پر اداس مسکراہٹ۔
    میسجز کے انداز میں جو والہانہ پن تھا۔
    ’’آپ میری بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔‘‘
    وہ کیا کرے اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
    نجیب میسجز پڑھ کے ڈر گیا تھا۔
    ’’پچھلے پورے ہفتے سے ایک ہی بات بار بار لکھی جا رہی تھی۔‘‘
    ’’Add me… Add me.‘‘
    اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اس قدر حساس ہو سکتا ہے۔
    شاید جنت کی وجہ سے…یہ ایک سال پرانی بات تھی۔ نجیب نے جنت کا فیس بک اکاؤنٹ سرچ کیا اور جنت کی تصویر نکال لی۔ ہنستا مسکراتا زندگی سے بھرپور چہرہ آنکھیں جیسے کوئی ستارے ہوں۔ چمک دار ماتھا، خمیدہ پلکیں وہ مکمل حُسن تھی۔ کسی شاعر کا شعر۔ کسی دیوانے کا خواب۔کسی مصور کا تخیل۔
    نجیب نے جنت کو ریکوئسٹ بھیجی تھی۔
    ’’add me.‘‘
    ایک دن، دو دن، تین دن۔ وہ میسجز پر ’’ایڈ۔ می‘‘ کی تکرار کیے جا رہا تھا۔ کسی ضدی بچے کی طرح شوکیس میں پڑا جیسے اس کا من پسند کھلونا اس کی پہنچ سے دور ہو اور وہ ایڑھیاں اٹھا کر التجا کر رہا ہو۔ اسے حاصل کرنا چاہ رہا ہو۔
    ’’مجھے دے دو۔ مجھے دے دو۔‘‘
    اور کوئی سن نہیں رہا۔
    روزانہ وہ جنت کی وال کا چکر لگاتا۔ بالکل ایسے جیسے وہ اس کی گلی میں پھر کے آیا ہے۔ شاید دروازے سے۔ ٹیرس سے۔ کہیں دکھائی دے۔ کوئی جھلک، آنکھیں، بال، سراپا۔
    پھر ایک روز جنت نے اس کی درخواست کو، اس کی التجا کو قبول کر لیا۔
    اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔
    سب سے پہلے نجیب نے یہ خوش خبری عبداللہ ہی کو تو سنائی تھی اور عبداللہ نے قہقہہ لگا کر کہا تھا۔ ’’یار تمہیں کسی ڈائری میں اپنی سہیلیوں کا بائیوڈیٹا ریکارڈ کرنا چاہیے۔ گینز بک والے مانگ سکتے ہیں۔‘‘
    نجیب کا بے باک قہقہہ گونجا، بے لاگ، اپنی کام یابی پر اترایا فخریہ قہقہہ گونجا۔
    ٭…٭…٭

  • رعنا کی چھتری — روبینہ شاہین

    رعنا کی چھتری — روبینہ شاہین

    ’’تیری دو ٹکیاں دی نوکری وے میرا لاکھوں کا ساون جائے۔‘‘ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ لاحول ولا قوۃ پڑھتا اور چل دیتا، مگر کچھ لمحے بڑے طاقت ور ہوتے ہیں۔ اسیر کر لیتے ہیں۔ وہ پرندے جنہیں اپنی پرواز پر بڑا مان ہوتا ہے، وہ سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں۔ نہ جانے کیوں؟ رب کی حکمتیں رب ہی جانے۔ حمدان بھی اسیر کر لیا گیا تھا یا ہو گیا تھا، یہ تو وہی جانتا ہے۔ اس نے آسمان کی طرف پرنم آنکھوں سے دیکھا۔
    جولائی کا وسط شروع ہو چکا تھا۔ حبس اور گرمی نے اچھے بھلے بندے کے ہوش ٹھکانے لگا دیے تھے۔ بادلوں کی آنکھ مچولی جاری تھی۔ بادل تو بادل محکمہ موسمیات والے اس سے بھی سوا تھے۔ پیشین گوئیاں کرتے رہ جاتے مگر وہ برس کے نہ دیتے۔ آتے، اپنی چھب دکھاتے اور پھر یہ جا وہ جا۔ حمدان کو یہ موسم سخت نا پسند تھا۔
    ’’پتا نہیں یہ شاعر اور مصنف قسم کے لوگوں کی عقلیں کہاں گھاس چرنے چلی جاتیں ہیں جو اس موسم کے گن گاتے نہیں تھکتے۔نری مصیبت، برس جائے تو بھی اور نا برسے تو بھی۔‘‘ حمدان بڑبرایا۔
    بس اسٹاپ پر کھڑے بس کا انتظار کرتے حمدان پر جھنجلاہٹ سوار تھی۔
    ’’گرمی، حبس اور اوپر سے بس کا انتظار۔‘‘ ساتھ کھڑی لڑکی کی حسیات کچھ زیادہ ہی تیز تھیں جو آہستگی سے کی گئی بڑبڑاہٹ بھی بآسانی سن چکی تھی۔
    ’’مسٹر! آپ جو کوئی بھی ہیں، پلیز آپ ساون کی شان میں جتنی مرضی برائیاں کریں پر شاعروں اور مصنفوں کی بے عزتی مت کریں۔‘‘ رعنا اس کی بے ساختہ کی گئی بڑبڑاہٹ کا اچھا خاصا برا مان چکی تھی۔ اب اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے بیس منٹ تک وہ اس کے سر پر سوار ہو چکی تھی۔ حمدان جو اپنے آپ میں رہنے والا ایک سنجیدہ سا نوجوان تھا، کو یہ بڑبڑاہٹ کافی مہنگی پڑچکی تھی۔ جب وہ چپ ہوئی تو اسے اندازہ ہوا کہ اردگرد کا موسم خاصا خوش گوار ہو چکا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ یک دم ہی فضا بدل گئی۔ بس اسٹاپ پر صرف وہ دونوں رہ گئے تھے۔

    ’’تیری دو ٹکیاں دی نوکری وے میرا لاکھوں کا ساون جائے۔‘‘ رعنا کی آواز بے حد سریلی تھی۔ موسم کے سارے رنگ اس کی شوخ آواز میں سمٹ آئے تھے۔
    ’’بہت ہی بولڈ لڑکی ہے۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔ یہ ان دونوں کی پہلی ملاقات تھی۔
    اس کے بعد اسے ساون کبھی برا نہ لگا۔ جب بھی فضا حبس آلود ہوتی، ایک سیاہ بالوں والی نٹ کھٹ سی لڑکی اپنی سریلی آواز میں گنگناتی۔ ’’تیری دوٹکیاں دی نوکری وے میرا لاکھوں کا ساون جائے۔‘‘ پھر ساری کلفت دور ہو جاتی۔ بن بادل برسات شروع ہو جاتی اور وہ اندر تک جل تھل ہو جاتا۔
    پورا ایک سال گزر چکا تھا۔ رعنا پھر کبھی دکھائی نہ دی۔ اس کی نظریں انجانے میں اسے تلاشتی رہتیں۔ وہ یکسر بد ل چکا تھا۔ اس کی آنکھوں میں انتظارکے دیپ واضح دکھائی دیتے تھے۔ پھر قدرت کو اس پر رحم آگیا۔ و ہ اپنی بہن کی شادی کی شاپنگ کے لیے بہارہ کہو سے صدر آیا تھا۔ جب راستے میں ایک آئس کریم پارلر پروہ اسے اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں دکھائی دی۔ وہی تھی۔ ہو بہو وہی۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ پہچان گیا تھا۔ پہچانتا کیسے نا، اس کی بنجر اور ویران زندگی میں کچھ رنگ آئے تھے تو اسی کے دم سے ورنہ وہ تو خاندان بھر میں سڑیل مشہور تھا۔ اب گاہ بہ گاہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ آویزاں رہتی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سوچتاوہ آئس کریم پارلر میں گم ہو چکی تھی۔
    ’’مہندی لگے گی تیرے ہاتھ، ڈھولک بجے گی ساری رات۔‘‘ آواز نے جہاں اس کا دل جکڑا تھا وہیں اس کے قدم بھی جہاں تھے وہیں رہ گئے۔آج مہندی تھی۔ وہ کسی کام سے اندر آیا تو اس کے کانوں میں میں آواز گونجی۔تھوڑا اندر آیا تو وہ سامنے ہی دھنک رنگ کے ملٹی شیڈ کا چنری والا سوٹ پہنے ڈھولک بجارہی تھی۔
    ’’پر وہ یہاں کہاں… نئیں نئیں۔ اُف میں زیادہ ہی پاگل ہوگیا ہوں۔ اب مجھے الوژن بھی نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔‘‘ اس نے پل بھر کو سوچا اور آنکھوں کو مسلا۔ کبھی کبھی الوژن سچ بھی ہو جایا کرتے ہیں۔ وہ سچ میں اس کے گھر موجود تھی۔
    ’’ارے مسٹر! تم وہی ہو نا!جواس دن ساون کو کوس رہے تھے بس اسٹاپ پر؟‘‘ اور حمدان کا دھیان بس اس دن پر اٹک کے رہ گیا۔
    ’’اس دن نہیں ۔ یہ بات ایک سال پرانی ہے۔‘‘
    ’’ارے واہ! تم نے تو پورا حساب کتاب رکھا ہوا ہے۔‘‘ رعنا نے ایک بھر پور نظر اس پر ڈالی۔
    ’’کافی اسمارٹ دکھتے ہو۔ ہاں اگر تھوڑا ہنس لیا کرو۔‘‘ اس نے اس کے سنجیدہ چہرے پر چوٹ کی۔ وہ پتھر کا بت بنے کھڑا تھا۔ جب ہوش آیا تو وہ جا چکی تھی۔ پھر شادی کے تینوں دن وہ اسے دکھائی دیتی رہی۔ رنگ برنگ شوخ کپڑوں میں تتلی کی طرح کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر۔ وہ صبا باجی کی فرینڈ تھی۔
    رخصتی ہو چکی تھی۔ وہ بہت اُداس تھا۔ ایک ہی تو بہن تھی۔ اب وہ اور اماں گھر میں اکیلے رہ گئے تھے۔ یہ سب سوچ سوچ کراس کا دل اُداس ہو رہا تھا جب اس کی شوخ آواز سنائی دی۔
    ’’حمدان! آپ مجھے گھر چھوڑ آئیں گے؟ موسم کافی خراب ہے۔ بارش پتا نہیں کب شروع ہو جائے۔‘‘ اس کے خوب صورت صبیح چہرے پہ پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے۔
    ’’جی جی میں چھوڑ آتا ہوں۔ آپ نے جانا کہاں ہے؟‘‘
    ’’مری روڈ پر۔‘‘اس نے مختصر جواب دیا۔
    وہ بائیک پر ساتھ بیٹھی توحمدان کو لگا وہ ہواؤں میں اڑ رہا ہے۔ من چاہے ساتھی کا ساتھ، زندگی اتنی خوب صورت بھی ہو سکتی ہے، حمدان نے کبھی سوچا نہ تھا۔
    ’’ جی یہاں روک دیجیے بائیں طرف۔‘‘ وہ خیالوں کی دنیا میں محو تھا جب اس کی آواز سنائی دی۔
    ’’جی اچھا۔‘‘ یکایک بادل گرجے اور موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ مجبوراً اسے اس کے گھر رکنا پڑا۔ اس کا خیال تھا وہ کافی امیر گھر کی ہوگی پر وہ تو ہمارے جیسے ہی متوسط گھرانے سے تھی۔ یہ سوچ کر اس کی کچھ ہمت بندھی۔
    ’’حلیے سے تو میڈم یوں دکھتی ہیں جیسے کسی بہت امیر فیملی سے ہوں۔‘‘ اس نے سوچا۔ بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ بالآخر اس نے جانے کی ٹھان لی۔
    ’’اچھا ٹھیک ہے، یہ چھتری لے لیں۔ کچھ بچت تو ہو گی۔‘‘ رعنا نے فکرمندی سے کہا۔ حمدان نے خداحافظ کہا اور چھتری تھام لی۔
    حمدان کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ رعنا کا اس کے لیے پریشان ہونا،اسے چھتری پیش کرنا، مطلب وہ بھی میرے لیے…‘‘اسے لگا جیسے اسے کوئی کھوئی ہوئی دولت مل گئی ہو۔ وہ جلد ازجلد اسے اپنانا چاہتا تھا اور موقع کی تاک میں تھا کہ کب امی سے بات کرے۔ اسے خود تو بات کرنے کا حوصلہ نہ ہوا تو سوچا صبا باجی سے بات کی جائے۔ یہ سوچ کر وہ مطمئن ہو گیا۔
    انتخابی مہم زوروں پر تھی۔ ہر جگہ الیکشن کے آثار نمایاں دکھائی دیتے۔ جلسے جلوس جاری تھے۔ شہر بھر میں ہائی الرٹ تھا۔ وہ امی کی دوائی لینے نکلا تھا جب وہ اسے ایک سیاسی جماعت کے جلسے میں ماڈرن لباس پہنے، چہرے پہ فلیگ پینٹ کیے رقص کرتے دکھائی دی۔ غم اور غصے سے اس کی مٹھیاں بھنچ گئیں مگر وہ دور کھڑا تھا۔ وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ کرنا تو دور کی بات کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھاکہ اس سے کوئی ایسا رشتہ نہ تھا۔

  • ذاتی — نظیر فاطمہ

    ذاتی — نظیر فاطمہ

    ’’عورت کا کوئی ذاتی گھر کیوں نہیں ہوتا؟مجھے طلاق سے بڑا ڈر لگتا ہے۔میں کہاں جاؤں گی؟‘‘ پینو نے سسکتے سسکتے سوال کیا۔
    ’’ عورت کی تو ہستی اپنی نہیں ہوتی، تم گھر کی بات کر رہی ہو۔ باپ، بھائی، شوہر اور پھر بیٹے ، اِن سب کو اللہ نے عورت کا محافظ بنایا ہے کہ وہ اللہ کی اس نازک تخلیق کی حفاظت کریں مگریہ سب اپنے فرائض بھول کر اس کے مالک بن جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ عورت کی سانسیں بھی اس کی ذاتی ملکیت نہیں رہتیں۔‘‘ اس کی بڑی بہن رجی کے سلگتے لہجے نے پینو کے اندر بھڑکتی آگ کی شدت میں یوں اضافہ کیا جیسے بھڑکتی آگ پر تیل چھڑک دیا جائے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ پینو نے رجی کے سامنے دل بھر آنسو بہاکراپنے دل کا بوجھ توہلکا کر لیا، مگررجّی کے دل کا بوجھ کئی گنا بڑھا دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    نہ جانے کیسی بد نصیب تھیں یہ چاروں بہنیں۔ عام سی شکل و صورت کے ساتھ حد سے زیادہ سیدھی سادھی جنھیں بچپن میں کسی نے پیار کرنا تو درکنار پیار بھری نظروں سے بھی دیکھنے کی زحمت نہ کی۔ پہلے دو بھائی پھر اُوپر تلے یہ چار بہنیں ۔ بھائیوںکی شادیاں ہو گئیں۔ ایک بڑی بہن کی شادی کی تھی کہ سال بعد ہی ان کے ماں باپ ایک مہینے کے وقفے سے عدم سدھارے اور ان تینوں بہنوں پر گھر تنگ ہو گیا۔
    ماں باپ کے مرنے کے بعد سال کے اندر اندر بغیر کسی چھان پھٹک کے رجی اور پینو کی شادی کر کے ان سے جان چھڑا لی گئی۔ سب سے چھوٹی جو سب سے زیادہ سیدھی تھی، وہ گیند کی طرح کبھی اس بھائی کے گھر تو کبھی اس بہن کے گھر رلنے لگی۔
    رجی کی قسمت پھر بھی قدرے بہتر تھی کہ اس کا شوہر اچھا انسان تھا۔ غربت تھی مگر سکون تھا۔ لیکن پینو کی قسمت نے اسے یہاں بھی پچھاڑا تھا۔اس کی ساس تو مانو سو ڈائنوں سے بھی بڑھ کر تھی کہ ڈائنیں بھی سو گھر چھوڑ دیتی ہیں، مگر یہ تو اپنی ہی اولادکی دشمن تھی ۔ نہ جانے کیسا خبط تھا اسے طلاقو ں کا کہ آٹھ بچّے پیدا کر کے پہلے اپنے شوہر سے طلاق لے کر اسے گھر سے نکالا ۔ اس کا شوہر عزت شرم والا انسان تھا جو بچوں کی دربدری کے خیال سے گھر بیوی کے نام کر کے خود اپنے گاؤں چلا گیااورزمینوں کے ساتھ دل لگا لیا۔ زمینوں کی آمدنی اچھی تھی سو بچّوں کا خرچہ بھی اُٹھایا۔ پھر اولاد جوان ہوئی تو ان کی شادیاں کروا دیں۔ اس بھلے مانس نے اپنے سارے فرائض ادا کیے۔ مگر اس عو رت نے پہلے اپنے سب سے بڑے بیٹے کی بیوی کو طلاق دلوائی اور پھر اپنی دو بیٹیوں کو طلاق دلوا کر گھر بٹھا لیا۔ دوسرے بیٹے کی شادی ہوئی تو اس کی ازدواجی زندگی خراب کی، مگر وہ ایک سمجھ دار انسان تھا۔ ماں اور بیوی دونوں کے حقوق کی اہمیت جانتا تھا سو اپنی بیوی اور بچّے کو لے کر الگ جا بسا۔
    پھر پینو کا نمبر تھا۔ اس کا شوہر رُکن دین جس نے پہلے دن ہی پینو پر اپنی ناپسندیدگی جتا دی تھی ۔ پینو شوہر کی دل چڑھی نہیں تھی، سو ہر لمحہ ساس کے عتاب کا نشانہ بنی رہتی۔ بھلی بُری گزرنے لگی ۔ پینو سب کچھ برداشت کرتی گئی۔ پیچھے کیا دیکھتی کہ جنھوں نے جان چھڑائی تو پلٹ کر خبر نہ لی۔ یہ بہنیں ہی ایک دوسرے کا سہارا تھیں۔ کوئی بہت ہی بڑی بات ہوجاتی تو بھائی بھابھیوں کی بجائے ان کے ایک ماموں ممانی آگے آتے کہ آج کل کے دور میں یہ ان افراد میں سے تھے جن کے دلوں میں خوفِ خدا تھا۔
    پھر جیسے موت ان بہنوں کے پیچھے ہاتھ جھاڑ کر پڑ گئی۔ سب سے چھوٹی کو تو جانے کی سب سے زیادہ جلدی تھی۔ وہ فٹ بال کی طرح اِدھر اُدھر لڑھکتے ہوئے گھٹ کر مر گئی۔
    ’’ارے کون شادی کرے گا اس سے۔‘‘
    ’’نہ کوئی کرے گا نہ اس بیماری سے جان چھوٹے گی۔‘‘
    لوگوں کے سوال، بھابھیوں کے جلے جواب اس کے کانوں میں پڑتے اور اس کے دل پر سلگتے ہوئے نشان چھوڑ جاتے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس بد صورت، کم عقل سیدھی سی لڑکی کے سینے میں دھڑکتا دل کتنا نرم و نازک اور حساس تھا۔وہ سنتی رہی ، سہتی اور سہتے سہتے ایک دن اپنی جان سے چلی گئی۔ابھی اس کا غم بہنوں کے دلوں میں پنجے گاڑے بیٹھا تھا کہ ان کی سب سے بڑی بہن جو پہ در پہ آٹھ مردہ بچّوں کو جنم دے کر اندر سے ختم ہو چکی تھی ، ایک دن اچانک آنکھیں موند گئی۔ نو بار ماں بننے کی اذیت سہنے کے باوجود اس کی جھولی میں اس وقت آٹھ سال کا ایک بیٹا تھا۔ رجی اور پینو غم سے دہری ہو گئیں، مگر کسی کے جانے سے زندگی کہاں رکتی ہے ۔ یہ چلتی رہتی ہے سو یہاں بھی چلنے لگی۔ پینو اور رجی ایک دوسرے کے اور قریب آگئیں۔ دونوں سارے رشتے جیسے ایک دوسرے میں ہی تلاش کرتی تھیں ۔
    ٭…٭…٭

    پینو اپنے شوہر اور ساس کی زیادتیوں پر خاموش ہو جاتی۔ اس کی ساس ہر وقت اسے طلاق دلوانے کا اعلان کرتی رہتی۔ بدصورتی،غربت اور بانجھ پن کے طعنے سن سن کر اس کا دل لہو لہان ہو جاتا، مگر وہ لبوں پر قفل لگالیتی۔ وہ بد صورت تھی، غریب والدین کی بیٹی تھی، یہ بھی حقیقت تھی، مگر وہ بانجھ تھی یہ اس کا قصور ہر گز نہیں تھا۔وہ اپنے شوہر کے لیے اس ناپسندیدہ لباس کی طرح تھی جسے پہننا تو بہت دور کی بات، وہ ہاتھ لگانا یا نظر اُٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ یہاں وہ قصور وار نہیں تھی لیکن ٹھہرائی جاتی تھی۔ وہ ماں نہ بن سکی، یہ رکن دین کی پلاننگ تھی۔ پینو اندر سے بہت خوف زدہ تھی کہ اگر اسے طلاق ہو گئی تو وہ کہاں جائے گی۔ پیچھے کوئی تھا نہیں سوائے ایک بہن کے ۔ دربدری کا خوف تھا یا کیا کہ وہ ہر بار طلاق کی دھمکی ملنے پر رکن دین کے قدموں میں گر جاتی۔
    ’’اللہ کا واسطہ! مجھے طلاق نہ دینا، مجھے یہیں پڑا رہنے دو ۔ گھر سے نہ نکالو ، نوکرانی سمجھ کر رکھ لو۔‘‘ اب پتا نہیں رکن دین اللہ کے واسطے شرم کھاتا تھا یا کیا کہ وہ اسے دو تین ٹھوکریں رسید کر کے گھر سے نکل جاتا اور پینو اپنی ساس کے منہ سے نکلنے والی آگ میں جھلس کر اور سیاہ پڑ جاتی۔
    پینو کے دیور کی شادی ہوئی۔ دلہن بہت ہی خوب صورت تھی، اتنی کہ پینو تو بالکل ہی دیوار سے جا لگی اور رکن دین دلہن کی خوب صورت بہن سجو کے آگے سمجھو دل ہار گیا۔
    پینو کی زندگی اور عذاب میں آگئی۔ رکن دین سجو کو لیے لیے گھومتا۔وہ گھر آتی تو اس کے آگے پیچھے پھرتا اور پینو بس دیکھ دیکھ کر اندر ہی اندرجلتی۔
    ’’ میں سجو سے شادی کر رہا ہو۔‘‘ رکن دین نے جانے اطلاع دی تھی یا حکم سنایا تھا۔
    ’’ کر لو ، مگر مجھے نہ چھوڑنا۔‘‘ پینو نے ہاتھ جوڑ دیے۔
    ’’ تجھے نہیں چھوڑوں گا تو اسے نہیں پا سکوں گا۔‘‘وہ اور بے مہر ہوا۔
    ’’ تمہارے بیوی بچوں کی خدمت کروں گی۔‘‘وہ گڑ گڑائی۔
    ’’ خدمت کے لیے نوکرانیاں بہت۔‘‘ پینو خاموش ہو گئی۔ اس کے سارے الفاظ جیسے گم ہو گئے کیوں کہ اسے اس کی حیثیت کا ادراک ہو گیا تھا۔
    ’’کہاں جاؤں گی؟ کیا کروں گی؟ میرا کیا بنے گا؟‘‘ پینو کی آنکھوں کے سامنے سوال ناچتے اور ذہن خالی ہو جاتا۔
    ’’منحوس بانجھ ہے۔ تین سال ہو گئے شادی کو۔ چڑیا کا ایک بچہ تک پیدا نہ کر سکی ۔ ‘‘ساس زہر اگل رہی تھی۔ ایسے میں پینو کی بہن رجی اس سے ملنے آئی تو اس نے اپنا غم سنا کر اس کا دل بھاری کر دیا تھا۔
    ’’ہم لوگ لڑکیوں کی ذاتی پہچان اور حیثیت کیوں نہیں بناتے؟ کیوں انہیں ڈر کر جینا سکھاتے ہیں۔ کیوں ان کے ہاتھ میں ہنر یا تعلیم کی تلوار نہیں دیتے جس سے وہ اپنے برے حالات کا مقابلہ بہادری سے کر سکیں۔کیوں پیدا ہوتے ہی بوجھ قرارد ے دی جاتی ہیں؟‘‘ رجی اس کے گلے شکوے سنتی رہی اور تسلی دلاسا دے کر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    ’’ میری طبیعت بہت خراب ہو رہی ہے۔‘‘ پینو نے پھولے سانسوں کے درمیان بمشکل کہا۔ رکن دین نے مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا، اپنی تیاری مکمل کی اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ اس کی ساس سبزی وغیرہ لینے گئی ہوئی تھی۔
    ’’میں … میر… میری طبیعت۔‘‘کمرے کے دروازے تک آکر اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ وہیںگر گئی۔ اس کا سانس سینے میں گھٹ رہا تھا اور دل کوئی مٹھی میں لے کر مسل رہا تھا۔
    ’’بہانے نہ بنایا کر، جاچلی جا میر نظروں سے دور، بد صورت عورت۔‘‘ وہ اس پر لفظوں کے سنگ برسا کر گھر سے ہی چلا گیا۔
    پینو خود کو بمشکل گھسیٹ کر میز تک لائی اور موبائل اُٹھا کر اپنی بہن رجی کا نمبر ملایا۔
    ’’رجی ! میری طبیعت… ٹھیک نہیں … تو آجا‘‘ پینو نے گھٹی گھٹی سانسوں کے درمیان بمشکل بات مکمل کی۔
    ’’ پینو حوصلہ کر!موسم بدل رہا ہے نا اس لیے تیرا سانس خراب ہو رہا ہے۔تو گرم پانی میں وکس ڈال کے بھاپ لے۔‘‘ رجی نے محبت سے کہا۔
    ’’ہمت نہیں ہے۔‘‘ پینو جیسے بالکل ہی بے جان ہو رہی تھی۔
    ’’ہمت کر میری بہن ، کچھ نہیں ہوتا ۔ ابھی میں نہیں آسکتی ، پیچھے گھر میں کوئی نہیں ہے ۔ میں کل تیری طرف آؤں گی۔‘‘پینو سے مزید بات کرنا محال ہو گیا تو فون بند کر کے گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ یوں جیسے اس کے ارد گرد آکسیجن ختم ہو گئی ہو اور وہ بے ہوش ہو کر وہیں لڑھک گئی۔
    ٭…٭…٭
    ’’اری بد بخت مر کر جان چھوڑ دے ہماری۔ کم بخت دروازہ کھلا چھوڑا ہوا ہے۔‘‘ پینو کی ساس سبزی لے کر واپس آئی تو بیرونی دروازہ کھلاہوا تھا ، پانی کی موٹر چل رہی تھی اور پانی ٹینکی سے بہ رہا تھا۔ وہ صحن کے بیچوں بیچ کھڑی ہو کر پینو کو کوسنے لگی۔ ساس کی سانس کی آواز سن کر تھر تھر کانپنے والی آج ساس کی دھاڑ پر بھی سامنے نہ آئی تو اس کا پارہ آسمان تک جا پہنچا۔
    ’’کدھر مر گئی ہے۔‘‘ وہ بولتے بولتے کمرے میں داخل ہوئی تو پینو کو بے ہوش پڑے دیکھ کر ناک بھوں چڑھایا۔
    ’’بہانے باز! ہونہہ۔‘‘ کہہ کر باہر آگئی۔
    ’’ارے خالہ! پینو کدھر ہے؟‘‘ ہمسائی نے آکر پوچھا۔
    ’’اندر ہے بہانے باز۔‘‘
    ’’ پینو !‘‘ وہ اسے پکارتی آگے بڑھی تو اسے یوں گرے دیکھ کر بھاگ کر اس تک پہنچی۔
    ’’پینو! پینو! ہوش کر ، کیا ہوا؟‘‘ وہ اس کے گال تھپتھپانے لگی۔ اس نے پینو کی سانس اور نبض چیک کی جو بالکل مدھم تھی۔
    ’’خالہ وہ پینو… پینو کو کچھ ہو گیا ہے۔‘‘ہمسائی کے بتانے پر اس نے ناک پر سے مکھی اُڑائی۔ ہمسائی پینو کے سارے حالات سے واقف تھی۔وہ جیسے تیسے پینو کو لے کر اسپتال پہنچی اور اس کی بہن کو فون کیا۔رجی اسپتال پہنچی تو پینو بہت دور جا چکی تھی۔ اسے ہارٹ اٹیک ہوا جو اس کی جان لے گیا۔
    ’’پینو! اُٹھ دیکھ میں آگئی۔ ہائے میں کیا کروں۔ میری بہن مررہی تھی۔ مجھے بلا رہی تھی، مگر میں اسے بھاپ لینے کا کہہ رہی تھی۔ مجھے کیا پتا تھا، پتا ہوتا تو اُڑ کر آتی۔‘‘رجی کے بین لوگوں کے دل دہلا رہے تھے۔
    ’’ ہائے ہائے مرن جوگی نے مجھے بتایا ہی نہیں کہ اس کی طبیعت اتنی خراب ہے۔ سبزی لینے گئی تو بھلی چنگی تھی ۔ مجھے بتاتی میں کچھ کرتی۔‘‘ اس کی ساس اپنی اچھائی اور معصومیت ثابت کرتی رہی اور رکن دین یوں بے فکرا پھرتا رہا جیسے ان چاہا بوجھ اس کے کندھوں سے ہٹ گیا ہو۔
    ’’ پینو! دیکھ آج تو اپنے ذاتی گھر جا رہی ہے۔کہ صرف قبر ہی تو ہے جو سب کی ذاتی ہوتی ہے۔‘‘
    رجی نے کہا تھا کہ قبر سب کی ذاتی ہوتی ہے۔ مگر اس کی تو قبر بھی ذاتی نہیں رہی تھی کہ اس کے اُوپر لگنے والے کتبے پر اس کے نام کی بجائے ’’مرقدزوجہ رکن دین‘‘ درج تھا۔
    اب اس کی قبر بھی ذاتی حیثیت سے نہیں پہچانی جانی تھی۔

    ٭…٭…٭

  • ممتا کی پوٹلی — فرحین اظفر

    ممتا کی پوٹلی — فرحین اظفر

    بوا بیگم کا نام تو ہر پرانے زمانے کی عورتوں کی طرح پتا نہیں کیا تھا۔ جیسے افسر سلطانہ، اختری، اللہ بندی، مشتری، البتہ یہ ضرور تھا کہ جب پہلی بار ڈفلی نے ان کا نام جاننے کی فرمائش کی، تو سن کر بولی تھی۔
    ’’اکبری، اصغری۔‘‘ اور ہمیشہ کی طرح منہ پر ہاتھ رکھ کر کھی کھی کھی ، کھلکھلاتی چلی گئی۔
    ’’چل ہٹ منحوس۔‘‘ ہمیشہ کی طرح بوا نے اسے دھتکارا اور پھر ان کے پوپلے جھری زدہ ہونٹوں پر ایک محبت بھری پیاری سی مسکان سج گئی تھی۔
    بوا بیگم اس گھر کا ایک عجیب فرد تھیں۔ نہ اپنی تھیں نہ پرائی۔ چھوٹوں سے ننھی۔ بڑوں سے بزرگ۔ نہ شوخ نہ سنجیدہ بانو۔
    عرصۂ دراز پہلے جیون ساتھی کے آنکھیں بند کرلینے کے بعد، قرابت داروں نے ان سے وہی سلوک کیا تھا جو ، جوان بیوہ کے حصے میں آتا ہے اور وقت کے پہیے نے انہیں اوپر سے نیچے اتار پھینکنے میں چند دنوں کا بھی تکلف نہ کیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اور ان کی ننھی زیبو، اسی پہیے کے نیچے آکر بری طرح کچلی جاتیں، مگر کامنی باجی اور ان کے شوہر سلیم میاں انہیں اپنی بہن بناکر گھر لے آئے۔ تب سے یہ گھر اور گھر کے مکین ہی ان کے لیے کائنات کی سب سے اہم اور حسین ترین چیزوں کا درجہ پاگئے۔
    اس گھر میں جہاں محبتوں کا ذائقہ ، باجرے کی ٹکیوں ، سردائی اور کچی لسی میں بولتا تھا اور ذمہ دار رویے اپنی خوشبو سے مہکتے ایک انجانی روشنی کا حصار باندھے محسوس ہوتے تھے۔
    کامنی نے شادی کے بعد انتہائی اوّلین دنوں میں انہیں دیکھا تھا ۔ اس کے بعد وہ گھر کے لیے یوں لازم و ملزوم ہوگئیں جیسے، مزار کے لیے منت کی چادر۔
    یہ وہ دور تھا جب ، غربت کا کسیلا پن نہ رشتوں میں جھلکتا تھا۔ نہ رویوں اور لہجوں کی بکل مارے، چھلاوے کی طرح یہاں وہاں اچھل پھاند کرتا تھا۔
    صحن کے مشرقی کونے میں لگے پیپل اور بوا بیگم نے آٹھ پہر کی سامری ساعتیں اور چار موسموں کے بعد ہجر کا پانچواں موسم، ہمیشہ کے لیے ٹھہر جانے کے بعد ایک ساتھ ہی بھوگا تھا۔ دونوں سکھ کے سانجھی تھے اور دکھ کے دم ساز تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اب، بھی کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد جب کہ بوا بیگم کی کمزور نگاہ دامن چھڑا لیتی تھی۔ رعشہ زدہ کلائیاں احتجاج کرتی تھیں، لیکن وہ حتیٰ المقدور اونچائی تک پیپل کے چکلے تنے کو حسب ِ توفیق سفیدی سے پوتتی رہتی تھیں۔
    ہر چند کہ کامنی نے اور بہت سی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ یہ کشٹ بھی اپنے کندھوں پر اٹھانا چاہا، لیکن بوا بیگم مان کے نہ دیں۔
    کنگھی چوٹی، سنگار ، کٹار اور کاجل دند اسے جیسی کسی چیز سے انہیں کوئی غرض نہ تھی۔ ان کی خوشیاں تو اس بوڑھے پیپل یا اس کی جڑیں دبائے آنگن سے تھیں۔ یا پھر اسی آنگن سے جڑے دالان اور کمروں کے مکینوں سے جن کے درمیان انتہا کی لگاوٹ صرف باتوں سے نہیں، ایک دوجے کے لیے مختص کیے گئے من پسند ناموں میں بھی بولتی تھی۔

    ڈفلی تو خود بوا بیگم کے ہاتھوں کی جنی تھی۔ ذرا جو شعور سنبھالا، تو اس کی جھنکار ہنسی نے گویا سمے کے پیروں میں گھنگھر و باندھ ڈالے اور ان گھنگھرووؑں کی گنگناہٹ سے درو دیوار تک مسکا اٹھے۔ تب ہی سے بوا بیگم کے لبوں سے پہلی بار اس کا نام ’’ڈفلی‘‘ محبت کے انوکھے چشمے کے مانند پھوٹا اور پھواریں لٹاتا، سبھوں کے لبوں کو بھگوتا چلا گیا۔ اب تو شاید ہی کسی کو یاد تھا کہ ڈفلی کا اصلی نام ’’امینہ خاتون ‘‘ تھا۔ اس کی شخصیت پر یہ بھاری بھرکم نام شاید جچتا بھی نہیں۔ وہ تو ڈفلی تھی بس… جس کی بے چین بوٹی کو قرار نام کو نہیں تھا اور جس کی کھلکھلا ہٹوں میں ٹھہراؤ کا عنصر مفقود تھا۔ سب کے لیے ہنسی کا انجن، خوشی کا شاخسانہ ، ہی ہی ہی … کھی کھی کھی کھی کا مربا۔
    بوا بیگم بچوں کے لیے بوا بیگم ہی تھیں، لیکن کامنی کے لیے صرف بیگم…
    کہ اس کی یادداشت میں جمع شدہ ان دنوں کی گرد پر کبھی جھاڑو نہیں پھری تھی، جب وہ سچ مچ بیگم بن کر سرکاری نوکروں پر حکم چلایا کرتی تھیں۔ سلیم میاں کے لیے وہ صرف بوا تھیں کہ بیگم کہنا شاید ان کی محتاط طبیعت اور بوا بیگم کی غیر محتاط طبیعت پر بارگراں ہوتا۔ خود انہوں نے عمر میں خود سے چھوٹے سلیم میاں کو ہمیشہ سلیم میاں ہی پکارا۔ خالی ’’میاں‘‘ کہنے کی غلطی نہ کی۔ اس رشتے کے رموز کی گہرائی میں کوئی جاتا یا نہ جاتا۔کئی دہائیاں گزارنے کے بعد اس رشتے کی محبت، خالص پن اور سچائی کو ضرور بنا کسی کسوٹی کے پرکھ سکتا تھا۔ بنا کسی آلے کے ماپ سکتا تھا۔
    بوا بیگم سراپا ضد تھیں یا ہر رنگ و سانچے میں ڈھل جانے والا مائع جس کی اپنی کوئی شکل تھی نہ رنگ۔ مزاج ایسا کہ ہر ایک کو اپنی ہم مزاج لگتیں۔ محبت کے سوتے ان کے وجود سے پھوٹے چشمے کے مانند بھل بھل پھوٹتے اور گالیاں پوپلے لکیر زدہ لبوں سے پھولوں کی طرح جھڑتیں… کبھی کسی یاد کی حدت اپنی چاشنی سے ان کا بوڑھا چہرہ دبکا کر سرخ کر ڈالتی، تو کبھی کسی خیال کا پنچھی ، اپنے مضطرب ست رنگی پر پھڑ پھڑا کر سانولی رنگت گرمادیتا۔
    گھر کے تینوں بچوں کو بات بے بات بلاتفریق و تخصیص ، اکثر ہی گالیوں کے تمغے پہنا تیں۔ سلیم میاں خجل ہوجاتے اور کامنی باجی منہ چھپالیتیں، لیکن بات اتنی بھی سادہ نہیں تھی۔
    ایک روز ان کے کھرے پلنگ پر ذرا کی ذرا قریب ہوکر سلیم میاں نے بصد ادب و احترام فرمان جاری کردیا۔
    ’’بوا اتنی گالیاں مت دیا کر یں۔ بچے بڑے ہورہے ہیں۔ سیکھ جائیں گے، تو جگہ جگہ بکیں گے۔ ہماری اور آپ کی ہی سبکی ہوگی۔‘‘
    بوا بیگم تنک گئیں۔
    ’’چل ہٹ مردود مجھے سکھانے چلا ہے۔‘‘
    بری طرح دھتکار دیا۔ سلیم میاں اپنی ٹنڈکھجاتے ہوئے نکل لیے اور اریب قریب کہیں اپنے پٹولوں سے کھیلتی ڈفلی کھلکھلا اٹھی۔
    عین ممکن تھا کہ اسے بھی سننے کو مل جاتی، لیکن بر وقت انہوں نے انہی نوک دار زبان کو دہانے میں اندر کی طرف گھستے ہونٹوں میں دبا لیا کہ دانت تو تھے ہی نہیں لیکن، ایک بات یہ ہوئی کہ اس دن کے بعد سے بوا بیگم کی قدیم لغت میں کافی تراش خراش ہوگئی۔ نت نئی اثر انگیز اور تاثر پزیر گالیاں حذف کردی گئیں۔
    کچھ معاملات میں بہت فرماں بردار تھیں، لیکن کچھ میں بہت ہٹ دھرم بھی تھیں۔ لاکھ منع کیا کہ آنکھوں سے دشمنی نہ کرو پر مان کے نہ دیں۔
    سالہا سال پہلے محلے کی عورتوں کے کپڑوں لتوں پر کروشیے کا کام اُجرت کے طور پر شروع کیا تھا۔
    ’’کام کیا ہے۔ نگوڑ مارا ۔ ساری نظر کھا گیا بوا بیگم کی۔‘‘
    کامنی باجی سخت جھنجھلائی تھیں، لیکن ان کی وہی ایک رٹ۔
    ’’ہم سے فالتو نہیں بیٹھے بنتا بھئی… ہاں۔‘‘
    نظر کی مجبوری تھی کہ کام کم ہوتے ہوتے بالکل ہی سکڑ گیا۔ اب وہ صرف دوپٹے کے کناروں پر لیس ٹانک دیا کرتی تھیں۔ اس میں بھی کئی دن لگ جاتے، لیکن انہیں کون سمجھائے۔ گھٹی میں خود داری کے جو سبق گھول کر پلائے گئے تھے۔ وہ اب تک خون میں اپنا اثر رکھتے تھے۔
    ایسی ہی ہٹ انہیں اپنی پوٹلی کے لیے بھی تھی۔ مٹھی میں سما جانے والے کپڑے کے چیتھڑے میں جانے کون سی متاع حیات بند تھی کہ آج تک کسی کو معلوم نہ ہوا۔
    وہ پوٹلی انہیں شاید ساری دنیا، شاید اپنی اکلوتی بیٹی سے بھی زیادہ عزیز تھی۔ قمیص کے گریبان کے سوا اس کی کوئی اور جگہ نہ تھی اور اس گریبان تک پہنچنے کی کسی کی جرأت … توبہ۔
    خود ہی غسل کے لیے جاتیں، تو پوٹلی کھول کھال کپڑا دھوتیں ۔ اور اس میں بند اپنے قیمتی سرمائے کو بھی۔ اور جب غسل لے کر نکلتیں توپوٹلی دوبارہ گرہ کس… گریبان کے کسی جھول میں غڑاپ۔
    ’’ابا نے منہ دکھائی میں دی تھی بوا کو، تولے بھر کی انگوٹھی… وہی ہوگی۔ اس میں۔‘‘ زیبو کے لہجے کا تیقن بولتا۔
    ’’اور وہ تیری بالیاں جو بچپن میں کھوئی تھیں۔‘‘
    کبھی رازو نیاز کا موقع ملتا، تو کامنی باجی یاد دلاتیں ۔
    ’’نہ نہ … وہ تو کب کی کھو ، کھواگئیں۔‘‘ زیبو کے لہجے میںجتنی بے پروائی ہوتی، بوا بیگم اس کے لیے ہمیشہ اتنی ہی چوکنا رہیں۔
    ’’ارے دیکھو تو… کیسے الل ٹپ کھڑی ہے زینے پر… اری زیبو پیچھے ہوجا… نئیں تو گرے گی منہ کے بل۔‘‘
    آنگن سے چھت کو جاتی لکڑی کی سیڑھیاں ، ان کے ضبط کا امتحان تھیں۔
    ادھر زیبو، عجمی یا ڈفلی میں سے کوئی بھدر بھدر بھاگتا سیڑھیاں چڑھتا ادھر پیپل تلے ہبڑ دھبڑ مچ جاتی۔
    ’’ڈفلی…ی…ی…‘‘ ان کا کان پھاڑتا نقارۂ خدا آدھے محلے کو خبر کردیتا کہ سلیم میاں کی دختر آج تو ضرور سیڑھیاں چڑھ گئی ہیں۔
    ’’اری سن لے… اتے اٹک ٹوٹو قدمچے ہیں۔ پیر رپٹ جائے گا۔ سن لے۔‘‘
    لیکن ان کی محبت بھری دہائیوں پر کان دھرنے کے بجائے، ڈفلی کی پوری بتیسی باہر نکل آتی۔
    ’’کچھ نہیں ہوتا بوا بیگم۔‘‘ اس کی کھنکھناتی آواز جیسے ان کے اندر ہزار وولٹ کی بجلی دوڑا کران کے نحیف وجود کو از سر نوجوان کردیتی ۔
    ’’ماں صدقے۔‘‘ بالآخر بڑبڑا کر واپس اپنے کام میں جت جاتیں۔ یا پھر منہ زبانی آیتیں پڑھ پڑھ کر دم کرتی رہتیں۔
    کامنی باجی جو محلے بھر کی کامنی باجی، سلیم میاں کی بختاور اور بوا بیگم کی پیاری ’’کمو‘‘ تھیں۔ اس عمر میں، کمزور نظر کے ساتھ انہیں کروشیے سے نبرد آزما دیکھ کر کئی بار ان کے کام خود نمادینے کی آفر کرچکی تھیں۔
    ’’ارے رہنے دو… کیسے اٹکل پچو ٹانکے نکالتی ہو تم… رہنے دو۔ لاوؑ دو ادھر۔‘‘
    بوا بیگم کبھی مان بھی گئیں تو دو یا تین بل نکالنے کے بعد ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
    ’’بوا بیگم اصل میں تو آپ کا منی باجی کے بل نکالتی ہیں صحیح کے۔‘‘
    ڈفلی جب بہت موڈ میں ہوتی تو ماں کو بھی کامنی باجی پکارتی ۔ کھلکھلاتی انہیں آگ لگاتی اور انہیں حقیقتاً آگ لگ بھی جاتی۔‘‘
    ’’دفع دور … بڑی آئی نجومن… میرے دل کا حل بتانے والی۔‘‘
    ڈفلی کی نہ رکنے والی ہنسی میں کامنی کی مسکراہٹ بھی شامل ہوجاتی۔ بوا بیگم البتہ پوپلے لبوں کی کپکپاہٹ بھری مسکراہٹ چھپانے کو انہیں اور مسوڑھوں میں دبالیتیں۔
    ان کا وجود چٹختی ہوئی زمین پر، پانی سے بھرے بادل کی طرح تھا۔ ان کی شخصیت کھلی کتاب تھی جس کے آسان الفاظ و معنی میں کہیں کچھ بھی بین السطور نہ تھا۔ جو کچھ تھا پیش منظر تھا جس میں پس منظر کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ہاں اگر کوئی راز تھا، تو صرف وہ ایک پوٹلی جسے زیبو بڑے دھڑلے سے گاہ بہ گاہ افشا کرتی رہتی تھی۔
    ’’ہونہ ہو اس میں بوا بیگم کی سرمے دانی والا سرخ یاقوت ہے… اچھے دنوں کی نشانی تھا نا!‘‘
    بوا بیگم سن لیتیں تو وہیں سے ربڑ کی دو پٹی کھینچ کر دے مارتیں۔ زیبو زد میں آجاتی تو آئندہ کے لیے کسوٹی کھیلنے سے سچے دل سے توبہ کرلیتی، لیکن چند دن کے بعد پھر وہی…
    زیب النساء عرف زیبو کی تربیت میں بھی سبھی بڑوں نے حتی المقدور اور حسب ِ مزاج اپنا حصہ ڈالا تھا اور زیبو…
    ڈفلی اور مجو کی زیبو آپا۔ سلیم میاں اور کامنی باجی کی پہلوٹی اولاد سے بھی پہلی اولاد تھی۔ وہ … زیبو بیٹی…
    یہاں آکر فکر و خیال کے استعارے ٹھٹک کر رکتے، گہری سانس بھرتے اور پھر ذرا تھم کر آگے چلتے ہیں۔

  • تین سوال — لیو ٹالسٹائی (مترجم: سعادت حسن منٹو)

    تین سوال — لیو ٹالسٹائی (مترجم: سعادت حسن منٹو)

    ایک دفعہ کسی بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ اگر اسے تین چیزیں معلوم ہو جائیں تو اسے کبھی بھی شکست کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور جس کام میں ایک دفعہ ہاتھ ڈال دے۔ حسبِ خواہش انجام پذیر ہو جائے۔ جن تین چیزوں نے اس پر رات کی نیند حرام کر دی وہ یہ تھیں۔
    ۱۔ کسی کام کو شروع کرنے کا کون سا وقت موزوں ہے؟
    ۲۔ کن اشخاص سے صحبت رکھنی چاہیے اور کن سے پرہیز کرنا چاہیے؟
    ۳۔ دنیا میں سب سے زیادہ اہم اور ضروری چیز کیا ہے؟
    رفتہ رفتہ اس خیال نے بادشاہ کے دل میں جگہ کر لی اور وہ ہر وقت اسی جستجو میں رہنے لگا کہ کسی نہ کسی طرح ان تین سوالوں کا تسلی بخش جواب مل جائے۔
    اسی غرض کے لیے اس نے ملک بھر میں منادی کرا دی کہ جو کوئی اس کے سوالوں کا صحیح جواب دے گا۔ اس کا منہ موتیوں سے بھر دیا جائے گا اور منہ مانگا انعام پائے گا۔
    ملک کے ہر گوشہ سے بڑے بڑے عالم و فاضل بادشاہ کے حضور میں آئے، مگر ان تین سوالوں کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ پہلے سوال کے جواب میں بعض مفکروں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ
    ’’کسی کام کے شروع کرنے کا صحیح وقت صرف اسی صورت میں معلوم ہو سکتا ہے۔ جب انسان اپنے روز مرہ معمول کے اوقات کو تقسیم کر کے اس کا ایک نقشہ مرتب کرے اور اس پر ہمیشہ کے لیے کاربند رہے۔ بعض عالموں نے اسی سوال کے جواب میں یہ رائے ظاہر کی کہ کسی کام کے لیے موزوں وقت معلوم کرنا اکیلے انسان کے لیے اگر مشکل نہیں تو ناممکن ضرور ہے۔ اس لیے بادشاہ سلامت کو چاہیے کہ وہ اس غرض کے لیے عالموں کی ایک مجلس مقرر کرے اور ان کی متفقہ رائے پر عمل کرے۔‘‘
    لیکن بعض فاضلوں نے اس رائے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ
    ’’بعض اوقات کئی ایسے کام درپیش ہوتے ہیں جن کے لیے اتنا وقت نہیں ہوتا کہ عالموں کی مجلس سے رائے طلب کی جا سکے اس لیے کسی کام کے لیے موزوں وقت معلوم کرنے کے لیے بادشاہ سلامت کو نجومیوں اور جاگیرداروں سے مشورہ کرنا چاہیے کیوںکہ وہی غیب کے علم کو جانتے ہیں۔‘‘
    اسی طرح دوسرے سوال کے بھی مختلف جواب ملے۔ بعض نے کہا کہ ’’بادشاہ کو صرف وزرا سے صحبت رکھنی چاہیے۔‘‘
    تو بعض نے کہا کہ:
    ’’ولیوں اور خدارسیدہ لوگوں کی صحبت ہی بادشاہ کے لیے ضروری ہے۔‘‘
    تیسرے سوال کے جواب میں کہ دنیا میں سب سے اہم اور ضروری چیز کیا ہے۔ بعض عالموں نے یہ جواب دیا کہ :
    ’’ستائش ہی دنیا میں سب سے زیادہ ضروری ہے۔‘‘
    بعض نے یہ کہا کہ آلاتِ جنگ تو بعض نے کہا کہ
    ’’نہیں خدا کی عبادت ہی سب چیزوں پر مقدم ہے۔ اس لیے بادشاہ کو خدا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔‘‘
    ان تینوں سوالوں کے جواب بالکل مختلف تھے۔ اس لیے بادشاہ نے اعلان کردہ انعام ان میں سے کسی کو بھی نہ دیا۔
    جب علما فضلا سے خاطر خواہ جوابات نہ مل سکے تو ایک دن بادشاہ نے ایک فقیر کے پاس جو اپنی ریاضت اور بزرگی کے سبب ملک بھر میں مشہور تھا، جانے کی ٹھان لی۔ وہ خدارسیدہ بزرگ آبادی سے دور ایک جنگل میں فروکش تھا جہاں وہ دن رات خدا کی عبادت میں گزارتا۔
    چناںچہ ایک دن بادشاہ معمولی دہقان کا بھیس بدل کر اس فقیر کی جھونپڑی کی طرف روانہ ہو گیا۔
    جھونپڑی کے قریب پہنچ کر بادشاہ نے دیکھا کہ فقیر زمین کھودنے میں مصروف ہے۔ بادشاہ کو دیکھ کر فقیر نے سلام کیا۔ لیکن کچھ کہے سنے بغیر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔

    فقیر اس قدر لاغر اور کمزور تھا کہ کدال کی ایک ضرب کے بعد ہی سانس درست کرنے کے لیے تھوڑی دیر ٹھہر جاتا۔
    بادشاہ اس مردِ لاغر کے قریب گیا اور کہا:
    ’’اے عقل مند درویش! میں تیری خدمت میں تین سوال لے کر حاضر ہوا ہوں۔ کیا تْو ان تین سوالوں کا جواب دے سکتا ہے؟‘‘
    ۱۔ کسی کام کے شروع کرنے کا موزوں وقت کون سا ہے؟
    ۲۔ مجھے کن اشخاص سے صحبت رکھنی چاہیے اور کن سے پرہیز کرنا چاہیے؟
    ۳۔ دنیا میں سب سے زیادہ اہم ضروری کام کیا ہیں؟
    فقیر بادشاہ کی گفتگو خاموشی سے سنتا رہا۔ مگر کوئی جواب نہ دیا اور کدال پکڑ کر پھر زمین کھودنا شروع کر دی۔
    ’’تم کدال چلاتے چلاتے تھک گئے ۔ کدال مجھے پکڑا دو اور تھوڑی دیر کے لیے آرام کرلو۔‘‘
    بادشاہ نے فقیر سے کہا۔ ’’شکریہ!!‘‘
    یہ کہہ کر فقیر نے کدال بادشاہ کو پکڑا دی اور آپ زمین پر ہانپتا ہوا بیٹھ گیا۔ دو کیاریاں کھودنے کے بعد بادشاہ نے اپنے سوالات پھر دہرائے لیکن فقیر خاموش رہا اور بادشاہ کے سوالات کا جواب نہ دیا۔ زمین سے اٹھا اور کہنے لگا:
    ’’اب آپ آرام فرمائیں، میں اس کام کو ختم کر لیتا ہوں۔‘‘
    مگر بادشاہ نے فقیر کو کدال نہ دی اور زمین کھودنی شروع کردی۔ بادشاہ اسی طرح زمین کھودتا رہا۔ حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا آخرکار تنگ آ کر کدال کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہنے لگا:
    ’’عقل مند درویش میں تیری خدمت میں اس لیے حاضر ہوا تھا کہ تو میرے سوالات کا جواب دے گا۔ اگر تو ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتا تو صاف کہہ دے تاکہ میں واپس چلا جاؤں۔‘‘
    ’’وہ دیکھو کون بھاگا چلا آ رہا ہے۔ آؤ دیکھیں تو یہ کون ہے؟‘‘
    درویش نے جنگل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    بادشاہ نے مڑ کر دیکھا کہ ایک آدمی ان کی طرف بھاگا چلا آ رہا ہے۔ وہ اپنے پیٹ کو دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے تھا جس سے خون فوارے کے مانند بہ رہا تھا۔
    بادشاہ کے قریب پہنچ کر وہ شخص بے ہوش ہو کر زمین پر گڑ پڑا۔
    درویش اور بادشاہ دونوں نے مل کر اس کے کپڑے اتار دیے تو معلوم ہوا کہ اس کے پیٹ میں ایک بڑا سا زخم ہے جس سے خون کافی تعداد میں بہ چکا ہے۔ بادشاہ نے بڑی احتیاط سے اس زخم کو دھو کر اپنے رومال کی پٹی بنا کر اس پر باندھ دی، لیکن پھر بھی زخم سے خون نکلنا بند نہ ہوا۔
    آہستہ آہستہ خون کے بند ہو جانے پر اس شخص کو ہوش آئی اور اس نے اشارے سے کچھ پینے کے لیے مانگا۔
    اس پر بادشاہ دوڑا ہوا گیا اور کنویں سے پانی لا کر اسے دے دیا۔
    اب سورج غروب ہو چکا تھا۔ چناںچہ بادشاہ اور درویش دونوں اس شخص کو اٹھا کر جھونپڑی میں لے آئے اور اسے بستر پر لٹا دیا۔ بستر پر لیٹتے ہی وہ سو گیا۔ بادشاہ دن بھر کی تھکاوٹ سے چور ہو کر دہلیز پر سستانے کے لیے بیٹھا تھا کہ وہیں سو گیا۔
    جب صبح بیدار ہوا تو زخمی کو اپنی طرف غور سے گھورتے ہوئے دیکھا۔
    ’’مجھے معاف کر دیجیے۔‘‘
    زخمی نے بادشاہ سے کہا۔ جو اَب پوری طرح ہوش و حواس میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
    ’’میں تمہیں نہیں جانتا پھر یہ معافی کی درخواست کیسی؟‘‘ بادشاہ نے زخمی سے دریافت کیا۔
    ’’آپ مجھے نہیں پہچانتے مگر میں آپ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں آپ کا دشمن ہوں۔ وہ دشمن جس کے بھائی کو قتل کروا کر آپ نے اس کی جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ دشمن جس نے اپنے بھائی کے خون کا انتقام لینے کی قسم کھا رکھی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ درویش کو ملنے باہر آئیں گے۔ اس لیے میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ آپ کو واپسی پر قتل کر دوں۔ چناںچہ آپ کی تلاش میں اپنی جائے پناہ سے نکلا مگر آپ کے محافظوں کے ساتھ ٹاکرا ہوگیا۔ انہوں نے مجھے پہچان لیا اور مجروح کر دیا۔ کسی نہ کسی طرح میں ان کی گرفت سے بچ نکلا۔ ان کے ہاتھوں سے تو بچ گیا میری حالت بہت نازک تھی۔ زخم سے فوارے کی طرح خون نکل رہا تھا۔ اگر آپ میرے حال پر رحم کر کے مرہم پٹی نہ کرتے تو میری موت یقینی تھی۔ میں آپ کی موت کا خواہاں تھا مگر آپ نے میری جان بچائی۔ اب اگر میں زندہ رہا تو تمام عمر ایک وفادار غلام کی طرح آپ کی خدمت بجا لاؤں گا اور اپنے بیٹوں کو تلقین کر دوں گا۔ کیا آپ مجھے معاف نہ فرمائیں گے؟‘‘
    اس آسانی سے ایک جانی دشمن کو دوستی کا ہاتھ بڑھاتے دیکھ کر بادشاہ بہت خوش ہوا۔ اس لیے اس نے نہ صرف اسے معاف کر دیا بلکہ وعدہ کیا کہ وہ اس کے علاج کے لیے شاہی حکیم اور شاہی خادم مقرر کر دے گا اور اس کی چھینی ہوئی جائیداد بھی واپس کر دے گا۔
    زخمی سے رخصت لے کر بادشاہ جھونپڑی سے باہر آیا اور درویش کی تلاش شروع کی۔ جھونپڑی کو خیر باد کہنے سے پیشتر وہ آخری بار درویش کی خدمت میں ان سوالوں کے جواب کے لیے درخواست کرنا چاہتا تھا۔
    درویش کیاریوں کے پاس ہی گھٹنوں کے بل بیٹھا بیج بو رہا تھا۔ بادشاہ اس کے پاس گیا اور کہنے لگا:
    ’’عقل مند درویش! میں تیری خدمت میں پھر حاضر ہوا ہوں کہ تو میرے سوالوں کا جواب دے۔‘‘
    ’’تمہارے سوالوں کا جواب تو مل گیا۔ اب کیا چاہتے ہو؟‘‘
    درویش نے بادشاہ کی طرف نگاہیں اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ’’وہ کس طرح؟ آپ کا اس سے کیا مطلب ہے؟‘‘
    ’’سنو! اگر کل تم میری کمزوری کا خیال کرتے ہوئے کیاریاں کھودنے کے لیے نہ ٹھہرتے اور اس کی بجائے واپس چلے جاتے تو تمہارا دشمن تم پر ضرور حملہ آور ہوتا۔ چناںچہ وہ وقت ہی تمہارے لیے موزوں تھا۔ جب تم زمین کھودنے میں مصروف تھے، میری ذات ہی اس وقت سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی اور تمہاری ہمدردی کا اظہار ہی سب سے زیادہ ضروری اور اہم کام تھا۔
    اس کے بعد جب زخمی شخص ہماری طرف آ رہا تھا تو تمہارے لیے کسی اچھے کام کے لیے وہی وقت موزوں تھا، جب تم اس کے زخموں کی مرہم پٹی کر رہے تھے۔ کیوںکہ اگر اس کی اچھی طرح نگہداشت نہ کرتے تو تمہارا ایک جانی دشمن تمہارے ساتھ صلح کیے بغیر اس جہان سے رخصت ہو جاتا۔ پس وہ شخص ہی اس وقت سب سے زیادہ ضروری اور اہم کام تھا۔ اس لیے یاد رکھو کہ کسی خاص کام کے لیے صرف ایک ہی وقت موزوں ہوا کرتا ہے جب کہ ہم میں اتنی قوت ہو کہ ہم اسے سرانجام دے سکیں۔ سب سے زیادہ ضروری شخص وہی ہوتا ہے جس کے ساتھ تم اس وقت موجود ہو کیوں کہ اس بات کا معلوم کرنا کہ اس شخص کے سوا تمہیں کسی اور شخص سے بھی واسطہ پڑے گا، انسان کے فہم و قیاس سے بالا ہے اور سب سے ضروری کام اس شخص کے ساتھ نیکی کرنا ہے۔ کیوںکہ خدا نے انسان کو صرف اسی غرض سے دنیا میں بھیجا ہے۔‘‘