Tag: peerekamil

  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۴

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۴

    گاڑی اس بڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی جو تقریباً سنسان تھی۔ ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔
    اسٹیئرنگ پر دایاں ہاتھ رکھے اس نے بائیں ہاتھ کو منہ کے سامنے رکھ کر جماہی روکی اور نیند کے غلبے کو بھگانے کی کوشش کی۔ اس کے برابر کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی امامہ بے آواز رو رہی تھی اور سالار اس بات سے باخبر تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنے ہاتھ میں پکڑے رومال سے اپنی آنکھیں پونچھتی اور ناک رگڑ لیتی… اور پھر سامنے ونڈ اسکرین سے باہر سڑک پر نظریں جما کر رونا شروع کردیتی۔
    سالار وقفے وقفے سے اس پر اچٹتی نظر ڈالتا رہا۔ اس نے امامہ کو کوئی تسلی دینے یا چپ کروانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ خود ہی کچھ دیر آنسو بہا کر خاموش ہوجائے گی، مگر جب آدھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اسی رفتار سے روتی رہی تو وہ کچھ اکتانے لگا۔
    ”اگر تمہیں گھر سے اس طرح بھاگ آنے پر اتنا پچھتاوا ہونا تھا تو پھر تمہیں گھر سے بھاگنا ہی نہیں چاہئے تھا۔”
    سالار نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔ امامہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
    ”ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، ابھی تو شاید تمہارے گھر میں کسی کو تمہاری غیر موجودگی کا پتا بھی نہیں چلا ہوگا۔” اس نے کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کرنے کے بعد اسے مشورہ دیا۔
    ”مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔” اس بار اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد قدرے بھرائی ہوئی مگر مستحکم آواز میں کہا۔
    ”تو پھر تم رو کیوں رہی ہو؟” سالار نے فوراً پوچھا۔
    ”تمہیں بتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” وہ ایک بار پھر آنکھیں پونچھتے ہوئے بولی۔ سالار نے گردن موڑ کر اسے غور سے دیکھا اور پھر گردن سیدھی کرلی۔
    ”لاہور میں کس کے پاس جاؤگی؟”
    ”پتا نہیں۔” امامہ کے جواب پر سالار نے قدرے حیرانی سے اسے دیکھا۔
    ”کیا مطلب… تمہیں پتا نہیں ہے کہ تم کہاں جا رہی ہو؟”
    ”فی الحال تو نہیں۔”
    ”تو پھر تم آخر لاہور جا کیوں رہی ہو؟”
    ”تو پھر اور کہاں جاؤں؟”
    ”تم اسلام آباد میں ہی رہ سکتی تھیں۔”
    ”کس کے پاس؟”
    ”لاہور میں بھی تو کوئی نہیں ہے جس کے پاس تم رہ سکو… اور وہ بھی مستقل… جلال کے علاوہ۔” سالار نے آخری تین لفظوں پر زور دیتے ہوئے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
    ”اس کے پاس جا رہی ہو تم۔” کچھ دیر بعد اس نے قدرے چبھتے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”نہیں، جلال میری زندگی سے نکل چکا ہے۔” سالار اندازہ نہیں کرسکا کہ اس کی آواز میں مایوسی زیادہ تھی یا افسردگی۔ ”اس کے پاس کیسے جاسکتی ہوں میں۔”
    ”تو پھر اور کہاں جاؤگی؟” سالار نے ایک بار پھر تجسس کے عالم میں پوچھا۔
    ”یہ تو میں لاہور جانے پر ہی طے کروں گی کہ مجھے کہاں جانا ہے، کس کے پاس جانا ہے۔” امامہ نے کہا۔
    سالار نے کچھ بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھا۔ کیا واقعی وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کہاں جانا تھا یا پھر وہ اسے بتانا نہیں چاہتی تھی۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔




    ”تمہارا فیانسی… کیا نام ہے اس کا… ہاں اسجد… کافی اچھا، ہینڈسم آدمی ہے۔” ایک بار پھر سالار نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔ ”اور یہ جو دوسرا آدمی تھا… جلال… اس کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں ہے… کچھ زیادتی نہیں کردی تم نے اسجد کے ساتھ؟”
    اِمامہ نے اس کے سوال کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف سامنے سڑک کو دیکھتی رہی۔ سالار کچھ دیر گردن موڑ کر اس کے جواب کے انتظار میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا مگر پھر اسے احساس ہوگیا کہ وہ جواب دینا نہیں چاہتی۔
    ”میں تمہیں سمجھ نہیں پایا… جو کچھ تم کر رہی ہو، اسے بھی نہیں… تمہاری حرکتیں بہت … بہت عجیب ہیں… اور تم اپنی حرکتوں سے زیادہ عجیب ہو۔” سالار نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔
    اس بار امامہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
    ”کیا تمہاری حرکتوں سے زیادہ عجیب ہیں میری حرکتیں… اور کیا میں تم سے زیادہ عجیب ہوں…” بڑے دھیمے مگر مستحکم لہجے میں پوچھے گئے اس سوال نے چند لمحوں کے لیے سالار کو لاجواب کر دیا تھا۔
    ”میری کون سی حرکتیں عجیب ہیں… اور میں کس طرح عجیب ہوں؟” چند لمحے خاموش رہنے کے بعد سالار نے کہا۔
    ”تم جانتے ہو، تمہاری کون سی حرکتیں عجیب ہیں۔” امامہ نے واپس ونڈاسکرین کی طرف گردن موڑتے ہوئے کہا۔
    ”یقینا میری خود کشی کی ہی بات کر رہی ہو تم۔” سالار نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ ”حالاں کہ میں خود کشی نہیں کرنا چاہتا، نہ ہی میں خود کشی کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں تو صرف ایک تجربہ کرنا چاہتا تھا۔”
    ”کیسا تجربہ؟”
    ”میں ہمیشہ لوگوں سے ایک سوال پوچھتا ہوں، مگر کوئی بھی مجھے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا، اس لیے میں اس سوال کا جواب خود ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں۔” وہ بولتا رہا۔
    ”کیا پوچھتے ہو تم لوگوں سے؟”
    ”بہت آسان سا سوال ہے مگر ہر ایک کو مشکل لگتا ہے۔” What is next to ecstasy? اس نے گردن موڑ کر امامہ سے پوچھا۔
    وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔ ”Pain”
    ”And what is next to pain?” سالار نے بلا توقف ایک اور سوال کیا۔
    "Nothingness”۔
    "What is next to nothingness?” سالار نے اسی انداز میں ایک اور سوال کیا۔
    ”Hell” امامہ نے کہا۔
    ”And what is next to hell?”اس بار امامہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
    ”What is next to hell?” سالار نے پھر اپنا سوال دہرایا۔
    ”تمہیں خوف نہیں آتا۔” سالار نے امامہ کو قدرے عجیب سے انداز میں پوچھتے سنا۔
    ”کس چیز سے۔” سالار حیران ہوا۔
    ”Hellسے… اس جگہ سے جس کے آگے اور کچھ بھی نہیں ہوتا… سب کچھ اس کے پیچھے ہی رہ جاتا ہے… معتوب اور مغضوب ہوجانے کے بعد باقی بچتا کیا ہے جسے جاننے کا تمہیں تجسس ہے۔” امامہ نے قدرے افسوس سے کہا۔
    ”میں تمہاری بات سمجھ نہیں سکا… سب کچھ میرے سر کے اوپر سے گزرا ہے۔” سالار نے جیسے اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
    ”فکر مت کرو… آجائے گی… ایک وقت آئے گا… جب تمہیں ہر چیز کی سمجھ آجائے گی پھر تمہاری ہنسی ختم ہوجائے گی… تب تمہیں خوف آنے لگے گا… موت سے بھی اور دوزخ سے بھی… اللہ تمہیں سب کچھ دکھا اور بتادے گا… پھر تم کسی سے یہ کبھی نہیں پوچھا کروگے۔ "What is next to ecstasy?” امامہ نے بہت رسانیت سے کہا۔
    ”یہ تمہاری پیش گوئی ہے؟” سالار نے اس کی بات کے جواب میں کچھ چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”نہیں۔؛؛ امامہ نے اسی انداز میں کہا۔
    ”تجربہ؟” سالار نے گردن سیدھی کرلی۔
    ”ہاں، یہ تمہارا تجربہ ہی ہوسکتا ہے… کی تو تم نے بھی خود کشی ہی ہے… میرا مطلب ہے کرنے کی کوشش کی ہے… میں نے اپنے طریقے سے یہ کوشش کی تھی… تم نے اپنے طریقے سے کی ہے۔” سالار نے سرد مہری سے کہا۔
    ”امامہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آگئے۔ گردن موڑ کر اس نے سالار کو دیکھا۔
    ”میں نے کوئی خود کشی نہیں کی ہے۔”
    “کسی لڑکے کے لیے گھر سے بھاگنا ایک لڑکی کے لیے خود کشی ہی ہوتی ہے… وہ بھی اس صورت میں جب وہ لڑکا شادی پر تیار ہی نہ ہو… دیکھو، میں خود ایک لڑکا ہوں… بہت بڑاڈ مائنڈڈ اور لبرل ہوں اور میں بالکل برا نہیں سمجھتا اگر ایک لڑکی گھر سے بھاگ کر کسی لڑکے کے ساتھ کورٹ میرج یا شادی کرلے… مگر وہ لڑکا اس کا ساتھ تو دے، ایک ایسے لڑکے کے لیے گھر سے بھاگ جانا جو شادی کر چکا ہو … چچ چچ… میری سمجھ میں نہیں آتا اور پھر تمہاری عمر میں بھاگنا… بالکل حماقت ہے۔”
    ”میں کسی لڑکے کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔”
    ”جلال انصر!” سالار نے اس کی بات کاٹ کر اسے یاد دلایا۔
    ”میں اس کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔” وہ بے اختیار آواز میں چلائی۔ سالار کا پاؤں بے اختیار بریک پر جا پڑا۔ اس نے حیرانی سے امامہ کو دیکھا۔
    ”تو مجھ پر کیوں چلا رہی ہو، مجھ پر چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔” سالار نے ناراضی سے کہا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
    ”یہ جو تمہاری مذہب والی تھیوری یا فلاسفی یا پوائنٹ یا جو بھی ہے I don’t get it کیا فرق پڑتا ہے۔ اگر کوئی کسی اور پیغمبر کو ماننا شروع ہوگیا ہے… زندگی ان فضول بحثوں کے علاوہ بھی کچھ ہے… مذہب، عقیدے یا فرقے پر لڑنا … What rubbish”
    امامہ نے گردن موڑ کر ناراضی کے عالم میں اسے دیکھا۔ ”جو چیزیں تمہارے لیے فضول ہیں، ضروری نہیں وہ ہر ایک کے لیے فضول ہوں۔ میں اپنے مذہب پر قائم رہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی اس مذہب کے کسی شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ تو یہ میرا حق ہے کہ میں ایسا کروں، میں تم سے ایسی چیزوں کے بارے میں بحث نہیں کرنا چاہتی جسے تم نہیں سمجھتے… اس لیے تم ان معاملات کے بارے میں اس طرح کے تبصرے مت کرو۔”
    ”مجھے حق ہے کہ میں جو چاہے کہوں Freedom of expression (اظہار کی آزادی)” سالار نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ امامہ نے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ سالار بھی خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔
    یہ جلال انصر … میں اس کی بات کر رہا تھا۔” وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر اپنے اسی موضوع کی طرف آگیا۔
    ”اس میں کیا خاص بات ہے؟”اس نے گردن موڑ کر امامہ کو دیکھا۔ وہ اب ونڈاسکرین سے باہر سڑک کو دیکھ رہی تھی۔
    ”جلال انصر اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے… وہ بالکل بھی ہینڈسم نہیں ہے۔ تم ایک خوب صورت لڑکی ہو، میں حیران ہوں، تم اس میں کیسے دلچسپی لینے لگیں… کیا وہ بہت زیادہ intelligent ہے؟” اس نے امامہ سے پوچھا۔
    امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ intelligent…” کیا مطلب؟”
    ”دیکھو یا تو کسی کی شکل اچھی لگتی ہے… میں نہیں سمجھتا تمہیں جلال کی شکل اچھی لگی ہوگی یا پھر کسی کا فیملی بیک گراؤنڈ… پیسہ وغیرہ کسی میں دلچسپی کا باعث بنتا ہے… اب جلال کا فیملی بیک گراؤنڈ یا مالی حالت کے بارے میں، میں نہیں جانتا مگر خود تمہارا فیملی بیک گراؤنڈ جتنا ساؤنڈ ہے، یہ بھی تمہارے لیے اس میں دلچسپی کا باعث نہیں بن سکتا… واحد بچ جانے والی وجہ کسی کی ذہانت، قابلیت وغیرہ ہے… اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ کیا وہ بہت intelligentہے… کیا بہت آؤٹ اسٹینڈنگ اور brilliant ہے؟”
    ”نہیں۔” امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔
    سالار کو مایوسی ہوئی۔ ”تو پھر… تم اس کی طرف متوجہ کیسے ہوئی امامہ ونڈاسکرین سے باہر ہیڈ لائٹس کی روشنی میں نظر آنے والی سڑک دیکھتی رہی۔ سالار نے اپنا سوال دوبارہ نہیں دہرایا۔ صرف کندھے اچکاتے ہوئے وہ دوبارہ ڈرائیونگ پر توجہ دینے لگا۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
    ”وہ نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔” تقریبا پانچ منٹ بعد خاموشی ٹوٹی تھی۔ ونڈاسکرین سے باہر دیکھتے ہوئے مدھم آواز میں امامہ یوں بڑبڑائی تھی جیسے خود کلامی کر رہی ہو۔ سالار نے اس کا جملہ سن لیا تھا مگر اسے وہ ناقابل یقین لگا۔
    ”کیا؟” اس نے جیسے تصدیق چاہی۔
    ”جلال نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔” اسی طرح ونڈاسکرین سے باہر جھانکتے ہوئے کہا مگر اس بار اس کی آواز کچھ بلند تھی۔
    ”بس آواز کی وجہ سے… سنگر ہے؟” سالار نے تبصرہ کیا۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۳

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۳

    ”یہ احمقانہ تجویز اسجد کے علاوہ کسی دوسرے کی ہو ہی نہیں سکتی۔ اسے احساس نہیں ہے کہ ابھی میں پڑھ رہی ہوں۔” امامہ نے اپنی بھابھی سے کہا۔
    ”نہیں اسجد نے یا اس کے گھر والوں نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ بابا خود تمہاری شادی کرنا چاہ رہے ہیں۔” اِمامہ کی بھابھی نے رسانیت سے جواب دیا۔
    ”بابا نے کہا ہے؟ مجھے یقین نہیں آرہا۔ جب میں نے میڈیکل میں ایڈمیشن لیا تھا تب ان کا دور دور تک ایسا کوئی خیال نہیں تھا۔ وہ تو انکل اعظم سے بھی یہی کہتے تھے کہ وہ میرے ہاؤس جاب کے بعد ہی میری شادی کریں گے۔ پھر اب اچانک کیا ہوا؟” اِمامہ نے بے یقینی سے کہا۔
    ”کوئی دباؤ ہوگا مگر مجھے تو امی نے یہی بتایا تھا کہ یہ خود بابا کی خواہش ہے۔” بھابھی نے کہا۔
    ”آپ انہیں بتا دیں کہ مجھے ہاؤس جاب سے پہلے شادی نہیں کرنی۔”
    ”ٹھیک ہے میں تمہاری بات ان تک پہنچادوں گی مگر بہتر ہے تم اس سلسلے میں خود بابا سے بات کرو۔” بھابھی نے اسے مشورہ دیا۔
    بھابھی کے کمرے سے جانے کے بعد بھی وہ کچھ پریشان سی وہیں بیٹھی رہی۔ یہ اطلاع اتنی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ اس کے پیروں کے نیچے سے محاورتاً نہیں حقیقتاً زمین نکل گئی تھی۔ وہ مطمئن تھی کہ اس کی ہاؤس جاب تک اس کی شادی کا مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا اور ہاؤس جاب کرنے کے بعد وہ اس قابل ہوجائے گی کہ خود کو سپورٹ کرسکے یا اپنی جلال سے شادی کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔ تب تک جلال بھی اپنی ہاؤس جاب مکمل کر کے سیٹ ہو جاتا اور ان دونوں کے لیے کسی قسم کا کوئی مسئلہ کھڑا نہیں ہوتا مگر اب اچانک اس کے گھر والے اس کی شادی کی بات کر رہے تھے۔ آخر کیوں؟
    ”نہیں اسجد اور اس کے گھر والوں نے مجھ سے اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ میں نے خود ان سے بات کی ہے۔”
    اس رات وہ ہاشم مبین کے کمرے میں موجود تھی۔ اس کے استفسار پر ہاشم مبین نے بڑے اطمینان کے ساتھ کہا۔
    ”بات بھی کرلی ہے؟ بابا! آپ مجھ سے پوچھے بغیر کس طرح میری شادی ارینج کرسکتے ہیں۔” امامہ نے بے یقینی سے کہا۔
    ہاشم مبین نے کچھ سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ ”یہ نسبت تمہاری مرضی سے ہی طے ہوئی تھی۔ تم سے پوچھا گیا تھا۔” انہوں نے جیسے اسے یاد دہانی کروائی۔
    ”منگنی کی بات اور تھی… شادی کی بات اور ہے… آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ ہاؤس جاب سے پہلے آپ میری شادی نہیں کریں گے۔” امامہ نے انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا۔
    ”تمہیں اس شادی پر اعتراض کیوں ہے۔ کیا تم اسجد کو پسند نہیں کرتیں؟”
    ”بات پسند یا ناپسند کی نہیں ہے۔ اپنی تعلیم کے دوران میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں آئی اسپیشلسٹ بننا چاہتی ہوں۔ اس طرح آپ میری شادی کردیں گے تو میرے تو سارے خواب ادھورے رہ جائیں گے۔”





    ”بہت سی لڑکیاں شادی کے بعد تعلیم مکمل کرتی ہیں۔ تم اپنی فیملی میں دیکھو… کتنی…” ہاشم مبین نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔”
    امامہ نے ان کی بات کاٹ دی۔ ”وہ لڑکیاں بہت ذہین اور قابل ہوتی ہوں گی۔ میں نہیں ہوں۔ میں ایک وقت میں ایک ہی کام کرسکتی ہوں۔”
    ”میں اعظم بھائی سے بات کرچکا ہوں، وہ تو تاریخ طے کرنے کے لیے آنے والے ہیں۔” ہاشم مبین نے اس سے کہا۔
    ”آپ میری ساری محنت کو ضائع کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو میرے ساتھ یہی کرنا تھا تو آپ کو چاہئے تھا کہ آپ اس طرح کا کوئی وعدہ ہی نہ کرتے۔” امامہ نے ان کی بات پر ناراضی سے کہا۔
    ”جب میں نے تم سے وعدہ کیا تھا تب کی بات اور تھی… تب حالات اور تھے اب۔۔۔۔”
    امامہ نے ان کی بات کاٹی۔ ”اب کیا بدل گیا ہے… حالات میں کون سی تبدیلی آئی ہے جو آپ میرے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہیں؟”
    ”میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اسجد تمہاری تعلیم میں تمہارے ساتھ پورا تعاون کرے گا اور تمہیں کسی چیز سے منع نہیں کرے گا۔” ہاشم مبین نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
    ”بابا مجھے اسجد کے تعاون کی ضرورت نہیں ہے مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آپ مجھے میری تعلیم مکمل کرنے دیں۔” امامہ نے اس بار قدرے ملتجیانہ انداز میں کہا۔
    ”اِمامہ تم فضول ضد مت کرو… میں وہی کرں گا جو میںطے کر چکا ہوں۔” ہاشم مبین نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ ”میں ضد نہیں کر رہی درخواست کر رہی ہوں۔ پلیز بابا میں ابھی اسجد سے شادی کرنا نہیں چاہتی۔” اس نے ایک بار پھر اسی ملتجیانہ انداز میں کہا۔
    ”تمہارے نسبت کو چار سال ہونے والے ہیں اور یہ ایک بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے خود کچھ عرصے کے بعد کسی نہ کسی وجہ سے منگنی توڑ دی تو۔”
    ”تو کوئی بات نہیں کوئی قیامت نہیں آئے گی وہ منگنی توڑنا چاہیں تو توڑ دیں بلکہ ابھی توڑ دیں۔”
    ”تمہیں اس شرمندگی اور بے عزتی کا احساس نہیں ہے، جس کا سامنا تمہیں کرنا پڑے گا۔”
    ”کیسی شرمندگی بابا! یہ ان لوگوں کا اپنا فیصلہ ہوگا۔ اس میں ہماری تو کوئی غلطی نہیں ہوگی۔” اس نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔
    ”تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے یا پھر تم عقل سے پیدل ہو۔” ہاشم مبین نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
    ”بابا! کچھ نہیں ہوگا لوگ دو چار دن باتیں کریں گے پھر سب کچھ بھول جائیں گے۔ آپ اس بارے میں خوامخواہ پریشان ہو رہے ہیں۔” اِمامہ نے قدرے بے فکری اور لاپروائی سے کہا۔
    ”تم اس وقت بہت فضول باتیں کر رہی ہو۔ فی الحال تم یہاں سے جاؤ، ہاشم مبین نے ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    امامہ بادل نخواستہ وہاں سے چلی آئی مگر اس رات وہ خاصی پریشان رہی۔
    اگلے دن وہ واپس لاہور چلی آئی ہاشم مبین نے اس سلسلے میں دوبارہ بات نہیں کی لاہور آکر وہ قدرے مطمئن ہوگئی اور ہر خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنے امتحان کی تیاری میں مصروف ہوگئی۔
    ہاشم مبین نے اس واقعہ کو ذہن سے نہیں نکالا تھا، وہ ایک انتہائی محتاط طبیعت کے انسان تھے۔
    وہ اِمامہ کے بارے میں پہلی بار اس وقت تشویش میں مبتلا ہوئے تھے، جب اسکول میں تحریم کے ساتھ جھگڑے والا واقعہ پیش آیا تھا۔ اگرچہ وہ کوئی ایسا غیر معمولی واقعہ نہیں تھا مگر اس واقعے کے بعد انہوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر امامہ کی نسبت اسجد کے ساتھ طے کردی تھی۔ ان کا خیال تھا اس طرح اس کا ذہن ایک نئے رشتے کی جانب مبذول ہوجائے گا اور اگر اس کے ذہن میں کوئی شبہ یا سوال پیدا ہوا بھی تو اس نئے تعلق کے بعد وہ اس بارے میں زیادہ تردد نہیں کرے گی۔ ان کا یہ خیال اور اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا۔
    اِمامہ کا ذہن واقعی تحریم کی طرف سے ہٹ گیا تھا۔ اسجد میں وہ پہلے بھی کچھ دلچسپی لیتی تھی مگر اس تعلق کے قائم ہونے کے بعد اس دلچسپی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ ہاشم نے اسے بہت مطمئن اور مگن دیکھا تھا۔ وہ پہلے ہی کی طرح تمام مذہبی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتی تھی۔
    مگر اس بار جو کچھ وسیم نے انہیں بتایا تھا اس نے ان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دی تھی۔ وہ فوری طور پر یہ نہیں جان سکے مگر انہیں یہ ضرور علم ہوگیا کہ امامہ کے عقائد اور نظریات میں خاصی تبدیلی آچکی تھی اور یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کے پورے خاندان کے لیے بڑی تشویش کا باعث تھا۔
    وہ اپنی بڑی بیٹیوں کی طرح اسے بھی اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے اور یہ اس لیے بھی اہم تھا کہ اسے شادی کے بعد خاندان ہی میں جانا تھا۔ وہ خاندان بہت تعلیم یافتہ تھا۔ خود ان کا ہونے والا داماد اسجد بھی امامہ کو اعلی تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا تھا۔ ہاشم مبین کے لیے اس کی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر کے اسے گھر بٹھا لینا آسان نہ تھا، کیوں کہ اس صورت میں اسے اعظم مبین کو اس کی وجہ بتانی پڑتی اور امامہ سے سخت ناراض ہونے کے باوجود وہ نہیں چاہتے تھے کہ اعظم مبین اور ان کا خاندان امامہ کے ان بدلے ہوئے عقائد کے بارے میں جان کر برگشتہ اور بدظن ہوں اور پھر شادی کے بعد وہ اسجد کے ساتھ بری زندگی گزارے۔ انہوں نے ایک طرف اپنے گھر والوں کو اس بات کو راز رکھنے کی تاکید کی تو دوسری طرف امامہ کی منت سماجت پر اسے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
    امامہ صبیحہ کے لیکچر اٹینڈ کرنے اور اس کے ہاں جانے یا جلال سے ملنے کے معاملے میں اس قدر محتاط تھی کہ اس کا یہ میل جول ان لوگوں کی نظروں میں نہیں آسکا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ جویریہ اور رابعہ کو بھی ہر چیز کے بارے میں اندھیرے میں رکھے ہوئے تھی۔ ورنہ اس کے بارے میں ضرور کوئی نہ کوئی خبر ادھر ادھر گردش کرتی اور ہاشم مبین تک بھی پہنچ جاتی مگر ایسا نہیں ہوا ہاشم مبین اس کی طرف سے مطمئن ہوگئے تھے، مگر امامہ کے اندر آنے والی ان تبدیلیوں نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔
    ان کے دماغ میں جو واحد حل آیا تھا وہ اس کی شادی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اس کی شادی کردینے سے کم از کم وہ خود امامہ کی ذمہ داری سے مکمل طور پر آزاد ہوجائیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اس طرح اچانک اس کی شادی کا فیصلہ کرلیا تھا۔
    ”جلال! میرے پیرنٹس اسجد سے میری شادی کر دینا چاہتے ہیں۔” لاہور آنے کے بعد امامہ نے سب سے پہلے جلال سے ملاقات کی تھی۔
    ”مگر تم تو کہہ رہی تھیں کہ وہ تمہاری ہاؤس جاب تک تمہاری شادی نہیں کریں گے۔” جلال نے کہا۔
    ”وہ ایسا ہی کہتے تھے، مگر اب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی تعلیم شادی کے بعد بھی جاری رکھ سکتی ہوں۔ اسجد لاہور میں گھر لے لے گا تو میں زیادہ آسانی سے اپنی تعلیم مکمل کرسکوں گی۔”
    جلال اس کے چہرے سے اس کی پریشانی کا اندازہ کرسکتا تھا۔ جلال بھی ایک دم فکر مند ہوگیا۔ ”جلال! میں اسجد سے شادی نہیں کرسکتی۔ میں کسی صورت اسجد سے شادی نہیں کرسکتی۔” وہ بڑبڑائی۔
    ”پھر تم اپنے پیرنٹس کو صاف صاف بتادو۔” جلال نے ایک دم کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے کہا۔
    ”کیا بتادوں؟”
    ”یہی کہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
    ”آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ وہ کس طرح ری ایکٹ کریں گے… مجھے انہیں پھر سب کچھ ہی بتانا پڑے گا۔” وہ بات کرتے کرتے کچھ سوچنے لگی۔
    ”جلال! آپ اپنے پیرنٹس سے میرے سلسلے میں بات کریں۔ آپ انہیں میرے بارے میں بتائیں۔ اگر میرے پیرنٹس نے مجھ پر اور دباؤ ڈالا تو پھر مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑے گا، پھر مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی۔”
    ”امامہ! میں اپنے پیرنٹس سے بات کروں گا۔ وہ رضا مند ہوجائیں گے۔ میں جانتا ہوں میں انہیں منا سکتا ہوں۔” جلال نے اسے یقین دلایا پوری گفتگو کے دوران پہلی بار امامہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔
    ”اگلے چند ہفتے وہ اپنے پیپرز کے سلسلے میں مصروف رہی، جلال سے بات نہ ہوسکی۔ آخری پیپر والے دن وسیم اسے لینے کے لیے لاہور آگیا تھا۔ وہ اسے وہاں یوں دیکھ کر حیران رہ گئی۔
    ”وسیم! میں ابھی تو نہیں جاسکتی۔ آج تو میں پیپرز سے فارغ ہوئی ہوں مجھے ابھی یہاں کچھ کام ہیں۔”
    ”میں کل تک یہیں ہوں۔ اپنے دوست کے ہاں ٹھہر جاتا ہوں جب تک تم اپنے کام نمٹا لو پھر اکٹھے چلیں گے۔” وسیم نے اس کے لیے مدافعت کا آخری راستہ بھی بند کر دیا۔
    ”میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔” امامہ نے کچھ بے دلی سے فیصلہ کرتے ہوئے کہا۔ اسے اندازہ تھا کہ وسیم اسے ساتھ لے کر ہی جائے گا۔
    ”تم اپنی چیزیں پیک کرلو۔ اب تم ساری چھٹیاں وہاں گزار کر ہی آنا۔” اسے واپس مڑتے دیکھ کر وسیم نے کہا۔
    ”اس نے سر ہلا دیا مگر اس کا اپنی تمام چیزیں پیک کرنے یا اسلام آباد میں ساری چھٹیاں گزارنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس نے طے کیا تھا کہ وہ چند دن وہاں گزار کر کسی نہ کسی بہانے سے واپس لاہور آجائے گی اور یہ ہی اس کی غلط فہمی تھی۔
    رات کے کھانے پر وہ سب گھر والوں کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی اور سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
    ”پیپر کیسے ہوئے تمہارے؟” ہاشم مبین نے کھانا کھاتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”بہت اچھے ہوئے۔ ہمیشہ کی طرح۔” اس نے چاول کا چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ویری گڈ۔ چلو کم از کم پیپرز کی ٹینشن تو ختم ہوئی۔ اب تم کل سے اپنی شاپنگ شروع کردو۔”
    امامہ نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔ ”شاپنگ؟ کیسی شاپنگ؟”
    ”فرنیچر کی اور جیولرز کے پاس پہلے چلے جانا تم لوگ۔ باقی چیزیں تو آہستہ آہستہ ہوتی رہیں گی۔” ہاشم مبین نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس بار اپنی بیوی سے کہا۔
    ”بابا! مگر کس لیے؟” امامہ نے ایک بار پھر پوچھا۔ ”تمہاری امی نے بتایا نہیں تمہیں کہ ہم نے تمہاری شادی کی تاریخ طے کردی ہے۔”
    امامہ کے ہاتھ سے چمچ چھوٹ کر پلیٹ میں جاگرا۔ ایک لمحہ میں اس کا رنگ فق ہوگیا تھا۔
    ”میری شادی کی تاریخ؟” اس نے بے یقینی سے باری باری سلمیٰ اور ہاشم کو دیکھا جو اس کے تاثرات پر حیران نظر آرہے تھے۔
    ”ہاں تمہاری شادی کی تاریخ…” ہاشم مبین نے کہا۔
    ”یہ آپ کیسے کرسکتے ہیں؟ مجھ سے پوچھے بغیر۔ مجھے بتائے بغیر۔” وہ ہونق چہرے کے ساتھ انہیں دیکھ رہی تھی۔
    ”تم سے پچھلی دفعہ بات ہوئی تھی، اس سلسلے میں۔” ہاشم مبین یک دم سنجیدہ ہوگئے۔
    ”اور میں نے انکار کر دیا تھا۔ میں۔”
    ہاشم مبین نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔ ”میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ مجھے تمہارے انکار کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں اسجد کے گھر والوں سے بات کرچکا ہوں۔” ہاشم مبین نے تیز آواز میں کہا۔
    ”ڈائننگ ٹیبل پر یک دم گہری خاموشی چھا گئی تھی کوئی بھی کھانا نہیں کھا رہا تھا۔
    امامہ یک دم اپنی کرسی سے کھڑی ہوگئی۔ ”آئی ایم سوری بابا، مگر میں اسجد سے ابھی شادی نہیں کر سکتی۔ آپ نے یہ شادی طے کی ہے۔ آپ ان سے بات کر کے اسے ملتوی کردیں۔ ورنہ میں خود ان سے بات کرلوں گی۔” ہاشم مبین کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”تم اسجد سے شادی کروگی اور اسی تاریخ کو جو میں نے طے کی ہے۔ تم نے سنا؟” وہ بے اختیار چلائے۔
    ”It’s not fair” امامہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
    ”تم اب مجھے یہ بتاؤگی کیا فیئر ہے اور کیا نہیں۔ تم بتاؤگی مجھے؟” ہاشم مبین کو اس کی بات پر اور غصہ آیا۔
    ”بابا! جب میں نے آپ سے کہا تھا کہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی تو آپ زبردستی کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ۔” امامہ بے اختیار رونے لگی۔
    ”کر رہا ہوں زبردستی پھر میں حق رکھتا ہوں۔” وہ چلائے۔ امامہ اس بار کچھ کہنے کے بجائے اپنے ہونٹ بھینچتے ہوئے سرخ چہرے کے ساتھ تیزی سے ڈائننگ روم سے نکل گئی۔
    ”میں اس سے بات کرتی ہوں، آپ پلیز کھانا کھائیں۔ اتنا غصہ نہ کریں۔ وہ جذباتی ہے اور کچھ نہیں۔” سلمیٰ نے ہاشم مبین سے کہا اور خود وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
    ان کے کمرے سے نکلتے ہی وسیم کو دیکھ کر امامہ بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”تم دفع ہوجاؤ یہاں سے۔ نکل جاؤ۔” اس نے تیزی سے وسیم کے پاس جاکر اسے دھکا دینے کی کوشش کی۔ وہ پیچھے ہٹ گیا۔
    ”کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟”
    ”جھوٹ بول کر اور دھوکا دے کر تم مجھے یہاں لے کر آئے ہو۔ مجھے اگر لاہور میں پتہ چل جاتا کہ تم اس لیے مجھے اسلام آباد لا رہے ہو تو میں کبھی یہاں نہ آتی۔” وہ دھاڑی۔
    ”میں نے وہی کیا جو مجھ سے بابا نے کہا۔ بابا نے کہا تھا میں تمہیں نہ بتاؤں۔” وسیم نے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی۔
    ”پھر تم یہاں میرے پاس کیوں آئے ہو۔ بابا کے پا س جاؤ۔ ان کے پاس بیٹھو۔ بس یہاں سے دفع ہوجاؤ۔” وسیم ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا پھر کچھ کہے بنا کمرے سے نکل گیا۔
    امامہ اپنے کمرے میں جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس وقت اس کے پیروں کے نیچے سے صحیح معنوں میں زمین نکل چکی تھی۔ یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے گھر والے اس کے ساتھ اس طرح کرسکتے ہیں۔ وہ اتنے قدامت پرست یا کٹر نہیں تھے جتنے وہ اس وقت ہوگئے تھے۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ "مجھے اس صورت حال کا سامنا کرنا ہے۔ مجھے ہمت نہیں ہارنی۔ مجھے کسی نہ کسی طرح فوری طور پر جلال سے کانٹیکٹ کرنا ہے۔ وہ یقینا اب تک اپنے پیرنٹس سے بات کرچکا ہوگا۔ اس سے بات کر کے کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔”
    وہ بے چینی سے کمرے میں ٹہلتے ہوئے سوچتی رہی۔ اس کے کمرے میں دوبارہ کوئی نہیں آیا۔
    رات بارہ بجے کے بعد وہ اپنے کمرے سے نکلی۔ وہ جانتی تھی۔ اس وقت تک سب سونے کے لیے جاچکے ہوں گے۔ اس نے جلال کے گھر کا نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔ فون کسی نے نہیں اٹھایا۔ اس نے یکے بعد دیگرے کئی بار نمبر ملایا۔ آدھ گھنٹہ تک اسی طرح کالز کرتے رہنے کے بعد اس نے مایوسی کے ساتھ فون رکھ دیا۔ وہ جویریہ یا رابعہ کو فون نہیں کرسکتی تھی۔ وہ دونوں اس وقت ہاسٹل میں تھیں۔ کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد اس نے صبیحہ کا نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔ اس کے والد نے فون اٹھایا تھا۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۲

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۲

    یہ سب کچھ اسکول میں ہونے والے ایک واقعے سے شروع ہوا تھا۔ اِمامہ اس وقت میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی اور تحریم اس کی اچھی دوستوں میں سے ایک تھی۔ وہ لوگ کئی سال سے اکٹھے تھے اور نہ صرف ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے بلکہ ان کی فیملیز بھی ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں۔ اپنی فرینڈز میں سے امامہ کی سب سے زیادہ دوستی تحریم اور جویریہ سے تھی مگر اسے حیرت ہوتی تھی کہ اتنی گہری دوستی ہونے کے باوجود بھی جویریہ اور تحریم اس کے گھر آنے سے کتراتی تھیں۔ امامہ ہر سال اپنی سال گرہ پر انہیں انوائٹ کرتی اور اکثر وہ اپنے گھر پر ہونے والی دوسری تقریبات میں بھی انہیں مدعو کرتی، وہ گھر سے اجازت نہ ملنے کا بہانہ بنا دیتیں۔ چند بار امامہ نے خود ان دونوں کے والدین سے اجازت لینے کے لیے بات کی، لیکن اس کے بے تحاشا اصرار کے باوجود ان دونوں کے والدین انہیں اس کے گھر آنے کی اجازت نہ دیتے۔ ان کے اس رویے پر کچھ شاکی ہوکر اس نے اپنے والدین سے شکایت کی۔
    ”تمہاری یہ دونوں فرینڈز سید ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر ہمارے فرقہ کو پسند نہیں کرتے۔ اسی لیے ان دونوں کے والدین انہیں ہمارے گھر آنے نہیں دیتے۔”
    ایک بار اس کی امی نے اس کی شکایت پر کہا۔
    ”یہ کیا بات ہوئی… ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے…” امامہ کو ان کی بات پر تعجب ہوا۔
    ”اب یہ تو وہی لوگ بتا سکتے ہیں کہ وہ ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے… یہ تو ہمیں غیر مسلم بھی کہتے ہیں۔” اس کی امی نے کہا۔
    ”کیوں غیر مسلم کہتے ہیں۔ ہم تو غیر مسلم نہیں ہیں۔” امامہ نے کچھ الجھ کر کہا۔
    ”ہاں بالکل۔ ہم مسلمان ہیں… مگر یہ لوگ ہمارے نبی پر یقین نہیں رکھتے۔” اس کی امی نے کہا۔
    ”کیوں…؟”
    ”اب اس کیوں کا میں کیا جواب دے سکتی ہوں۔ بس یہ لوگ یقین نہیں رکھتے۔ کٹر ہیں بڑے، یہ تو انہیں قیامت کے دن ہی پتہ چلے گا کہ کون سیدھے رستے پر تھا۔ ہم یا یہ۔۔۔۔”
    ”مگر امی! مجھ سے تو انہوں نے کبھی مذہب پر بات نہیں کی۔ پھر مذہب مسئلہ کیسے بن گیا… اس سے کیا فرق پڑتا ہے، پھر دوسرے کے گھر آنے جانے سے کیا ہوتا ہے۔” امامہ ابھی بھی الجھی ہوئی تھی۔
    ”یہ بات انہیں کون سمجھائے… یہ لوگ ہمیں جھوٹا کہتے ہیں، حالاں کہ خود انہیں ہمارے بارے میں کچھ پتا نہیں… بس مولویوں کے کہنے میں آکر ہم پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ انہیں ہمارے بارے میں اورہمارے نبی کی تعلیمات کے بارے میں کچھ پتا ہو تو یہ لوگ اس طرح نہ کہیں۔ شاید پھر انہیں کچھ شعور آجائے… اوریہ لوگ بھی ہماری طرح راہِ ہدایت پر آجائیں۔ تمہاری فرینڈز اگر تمہارے گھر نہیں آتیں تو تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم بھی ان کے گھر مت جایا کرو۔”
    ”مگر امی! ان کی غلط فہمیاں تو دور ہونی چاہئیں میرے بارے میں۔” اِمامہ نے ایک با رپھر کہا۔
    ”یہ کام تم نہیں کرسکتیں۔ ان لوگوں کے ماں باپ مسلسل اپنے بچوں کی ہمارے خلاف برین واشنگ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ہمارے خلاف زہر بھرتے رہتے ہیں۔”
    ”نہیں امی! وہ میری بیسٹ فرینڈز ہیں۔ ان کو میرے بارے میں اس طرح نہیں سوچنا چاہیے۔ میں ان لوگوں کو اپنی کتابیں پڑھنے کے لیے دوں گی، تاکہ ان کے دل سے میرے بارے میں یہ غلط فہمیاں دور ہوسکیں، پھر ہوسکتا ہے یہ ہمارے نبی کو بھی مان جائیں۔” امامہ نے کہا۔اس کی امی کچھ سوچ میں پڑ گئیں۔
    ”آپ کو میری تجویز پسند نہیں آئی؟”
    ”ایسا نہیں ہے… تم ضرور انہیں اپنی کتابیں دو… مگر اس طریقے سے نہیں کہ انہیں یہ لگے کہ تم اپنے فرقہ کی ترویج کے لیے انہیں یہ کتابیں دے رہی ہو۔ تم انہیں یہ کہہ کر کتابیں دینا کہ تم چاہتی ہو وہ ہمارے بارے میں جانیں۔ ہم کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اوران سے یہ بھی کہنا کہ ان کتابوں کا ذکر وہ اپنے گھر والوں سے نہ کریں… ورنہ وہ لوگ زیادہ ناراض ہوجائیں گے۔” امامہ نے ان کی بات پر سر ہلا دیا۔
    ٭…٭…٭





    اس کے چند دنوں بعد اِمامہ اسکول میں کچھ کتابیں لے گئی تھی۔ بریک کے دوران وہ جب گراؤنڈ میں آکر بیٹھیں توامامہ اپنے ساتھ وہ کتابیں بھی لے آئی۔
    ”میں تمہارے اور جویریہ کے لیے کچھ لے کر آئی ہوں۔”
    ”کیا لائی ہو دکھاؤ؟” اِمامہ نے شا پر سے دو کتابیں نکال لیں اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان دونوں کی طرف بڑھا دیا۔ وہ دونوں ان کتابوں پر ایک نظر ڈالتے ہی کچھ چپ سی ہوگئیں۔ جویریہ نے امامہ سے کچھ نہیں کہا مگر تحریم یک دم کچھ اکھڑ گئی۔
    ”یہ کیا ہے؟” اس نے سر دمہری سے پوچھا۔
    ”یہ کتابیں ہیں تمہارے لیے لائی ہوں۔” امامہ نے کہا۔
    ”کیوں…؟”
    ”تاکہ تم لوگوں کی غلط فہمیاں دورہوسکیں۔”
    ”کس طرح کی غلط فہمیاں؟”
    ”وہی غلط فہمیاں جو تمہارے دل میں، ہمارے فرقے کے بارے میں ہیں۔” اِمامہ نے کہا۔
    ”تم سے کس نے کہا کہ ہمیں تمھارے ”مذہب” یا تمہارے نبی کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں ہیں؟ تحریم نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”میں خود اندازہ کرسکتی ہوں۔ صرف اسی وجہ سے تو تم لوگ ہمارے گھر نہیں آتے۔ تم لوگ شاید سمجھتے ہو کہ ہم لوگ مسلمان نہیں ہیں یا ہم لوگ قرآن نہیں پڑھتے یا ہم لوگ محمدﷺکو پیغمبر نہیں مانتے حالاں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے… ہم لوگ ان سب چیزوں پر یقین رکھتے ہیں۔ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ محمدﷺکے بعد ہمارا ایک امتی نبی ہے اور وہ بھی اسی طرح قابل احترام ہے جس طرح محمدۖ۔” اِمامہ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
    تحریم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں اسے واپس تھما دیں۔ ”ہمیں تمہارے اور تمہارے مذہب کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے… ہم تمہارے مذہب کے بارے میں ضرورت سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس لیے تم کو کوئی وضاحت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے بڑے روکھے لہجے میں اِمامہ سے کہا۔ ”اورجہاں تک ان کتابوں کا تعلق ہے تو میرے اورجویریہ کے پاس اتنا بے کار وقت نہیں ہے کہ ان احمقانہ دعووں، خوش فہمیوں اور گمراہی کے اس پلندے پر ضائع کریں جسے تم اپنی کتابیں کہہ رہی ہو۔” تحریم نے ایک جھٹکے کے ساتھ رابعہ کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں کھینچ کر انہیں بھی اِمامہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اِمامہ کا چہرہ خفت اورشرمندگی سے سرخ پڑ گیا۔ اسے تحریم سے اس طرح کے تبصرے کی توقع نہیں تھی اگر ہوتی تو وہ کبھی اسے وہ کتابیں دینے کی حماقت ہی نہ کرتی۔
    ”اور جہاں تک اس احترام کا تعلق ہے تو اس نبی میں جس پر نبوت کا نزول ہوتا ہے اوراس نبی میں جو خود بخود نبی ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے زمین اورآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ تم لوگوں کو اگر قرآن پر واقعی یقین ہوتا تو تمہیں اس کے ایک ایک حرف پر یقین ہوتا۔ نبی ہونے میں اورنبی بننے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔”
    ”تحریم! تم میری اورمیرے فرقہ کی بے عزتی کر رہی ہو۔” امامہ نے آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ کہا۔
    ”میں کسی کی بے عزتی نہیں کر رہی۔ میں صرف حقیقت بیان کر رہی ہوں، وہ اگر تمہیں بے عزتی لگتی ہے تو اس کے بارے میں کچھ نہیں کرسکتی…” تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”روزہ رکھنے میں اوربھوکے رہنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ قرآن پڑھنے اور اس پر ایمان لانے میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے۔ بہت سارے عیسائی اور ہندو بھی اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے قرآن پاک پڑھتے ہیں تو کیا انہیں مسلمان مان لیا جاتا ہے اوربہت سے مسلمان بھی دوسرے مذہب کے بارے میں جاننے کے لیے دوسری الہامی کتابیں پڑھتے ہیں تو کیا وہ غیر مسلم ہوجاتے ہیں اورتم لوگ اگر حضورﷺکوپیغمبر مانتے ہو تو کوئی احسان نہیں کرتے۔ تم ان کی نبوت کو جھٹلاؤگے تو اور کیا کیا جھٹلاؤگے، پھر تو انجیل کو بھی جھٹلانا پڑے گا، جس میں حضورﷺکی نبوت کی خوش خبری دی گئی ہے، پھر تو توریت کو بھی جھٹلانا پڑے گا، جس میں ان کی نبوت کی بات کی گئی ہے، پھر قرآن پاک کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو محمدﷺکو آخری نبی قرار دیتا ہے اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر تمہارا نبی محمدﷺکی نبوت کو جھٹلاتا تو وہ ان مناظروں کی کیا توجیہہ پیش کرتا جو وہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے کئی سال عیسائی پادریوں سے محمدﷺ کی نبوت اور اسلام کے آخری دین ہونے پر کرتا رہا تھا۔ اس لیے امامہ ہاشم! تم ان چیزوں کے بارے میں بحث کرنے کی کوشش مت کرو، جن کے بارے میں تمہیں سرے سے کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ تمہیں نہ اس مذہب کے بارے میں پتا ہے، جس پر تم چل رہی ہو اورنہ اس کے بارے میں جس پر تم بات کر رہی ہو۔”
    تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”اورمیں ایک چیز بتادوں تمہیں… دین میں کوئی جبر نہیں ہوتا… تم لوگ محمد ﷺ کی نبوت کے حتمی ہونے کا انکار کرتے ہو تو ہمارے پیغمبر محمد ﷺ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
    ”مگر ہم محمدﷺکی نبو ت پر یقین رکھتے ہیں۔” اِمامہ نے اس با ت پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”تو پھرہم بھی انجیل پر یقین رکھتے ہیں، اسے الہامی کتاب مانتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں تو کیا ہم کرسچن ہیں…؟ اور ہم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت داؤد علیہ السلام کی نبوت پر بھی یقین رکھتے ہیں تو کیا پھر ہم یہودی ہیں؟ "تحریم نے کچھ تمسخر سے کہا ”لیکن ہمارا دین اسلام ہے، کیوں کہ ہم محمد ﷺ کے پیروکا رہیں، اورہم ان پیغمبروں پر یقین رکھنے کے باوجود نہ عیسائیت کا حصہ ہیں نہ یہودیت کا، بالکل اسی طرح تم لوگوں کا نبی ہے کیوں کہ تم اس کے پیروکار ہو۔ ویسے تم لوگ تو ہمیں بھی مسلمان نہیں سمجھتے۔ ابھی تم اصرار کر رہی ہو کہ تم اسلام کا ایک فرقہ ہو… جب کہ تمہارے نبی اوراس کے بعد آنے والے تمہاری جماعت کے تمام لیڈرز کا دعویٰ ہے کہ جو مرزا کی نبوت پریقین نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے… تو اسلام سے تو تم لوگ تمام مسلمانوں کو پہلے ہی خارج کر چکے ہو۔۔۔”
    ”ایسا کچھ بھی نہیں ہے… میں نے ایسا کب کہا ہے؟” امامہ نے قدرے لڑکھڑائے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”تو پھر تم اپنے والد صاحب سے ذرا اس معاملے کو ڈسکس کرنا… وہ تمہیں خاص اپ ٹو ڈیٹ انفارمیشن دیں گے، اس بارے میں … تمہارے مذہب کے خاصے سرکردہ رہ نما ہیں وہ …” تحریم نے کہا ”اور یہ جو کتابیں تم ہمیں پیش کر رہی ہو… انہیں خود پڑھا ہے تم نے … نہیں پڑھا ہوگا۔ ورنہ تمہیں پتا ہوتا ان سرکردہ رہ نماؤں کے بارے میں۔”
    جویریہ تحریم کی اس ساری گفتگو کے دوران خاموش رہی تھی، وہ صرف کن اکھیوں سے امامہ کو دیکھتی رہی تھی۔” اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ محمدﷺا س کے آخری نبی ہیں اورمیرے پیغمبرﷺاس پر گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کے آخری نبی ہیں اورمیری کتاب مجھ تک یہ دونوں باتیں بہت صاف واضح اور دو ٹوک انداز میں پہنچا دیتی ہے تو پھر مجھے کسی اورشخص کے ثبوت اور اعلان کی ضرورت نہیں ہے… سمجھیں۔”
    تحریم نے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”بہتر ہے تم اپنے مذہب کو یا میرے مذہب کو زیر بحث لانے کی کوشش نہ کرو۔ اتنے سالوں سے دو ستی چل رہی ہے، چلنے دو۔۔۔”
    ”جہاں تک تمہارے گھر نہ آنے کا تعلق ہے تو ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے کہ میرے والدین کو تمہارے گھر آنا پسند نہیں ہے۔ یہاں اسکول میں تم سے دوستی اور بات ہے۔ بہت سے لوگوں سے دوستی ہوتی ہے ہماری اور دوستی میں عام طورپر مذہب آڑے نہیں آتا لیکن گھر میں آنا جانا … کچھ مختلف چیز ہے… انہیں شاید میری کسی عیسائی یا یہودی یا ہندو دوست کے گھر جانے پر اعتراض نہ ہو لیکن تمہارے گھر جانے پر ہے… کیوں کہ وہ لوگ اپنے مذہب کو مانتے ہیں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے، جس مذہب سے تعلق ہوتا ہے وہی بتاتے ہیں، اوریہ بھی حقیقت ہے کہ جتنا تم لوگوں کو ناپسند کیا جاتاہے اتنا ان لوگوں کو نہیں کیا جاتا کیوں کہ تم لوگ صرف پیسے کے حصول اوراچھے مستقبل کے لیے یہ نیا مذہب اختیار کر کے ہمارے دین میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہو، مگر کرسچن، ہندو یا یہودی ایسا نہیں کرتے۔”
    امامہ نے بے اختیا رٹوکا ”کس پیسے کی بات کر رہی ہو تم…؟ تم ہماری فیملی کو جانتی ہو… ہم لوگ شروع سے ہی بہت امیر ہیں۔ ہمیں کون سا روپیہ مل رہا ہے اس مذہب پر رہنے کے لیے۔”
    ”ہاں تم لوگ اب بڑے خوش حال ہو، مگر شروع سے تو ایسے نہیں تھے تمہارے دادا مسلمان مگر غریب آدمی تھے۔ وہ کاشت کاری کیا کرتے تھے اورایک چھوٹے سے کاشت کار تھے۔ ربوہ سے کچھ فاصلے پر ان کی تھوڑی بہت زمین تھی پھر تمہارے تایا نے اپنے کسی دوست کے توسط سے وہاں جانا شروع کردیا اور یہ مذہب اختیار کرلیا اور بے تحاشا امیر ہوگئے کیوں کہ انہیں وہاں سے بہت زیادہ پیسہ ملا پھر آہستہ آہستہ تمہارے والد اورتمہارے چچا نے بھی اپنا مذہب بدل لیا پھر تم لوگوں کا خاندان اس ملک کے متمول ترین خاندانوں میں شما رہونے لگا اوریہ کام کرنے والے تم لوگ واحد نہیں ہو زیادہ تر اسی طریقے سے لوگوں کو اس مذہب کا پیرو کار بنایا جا رہا ہے۔”
    امامہ نے کچھ بھڑکتے ہوئے اس کی بات کو کاٹا ”تم جھوٹ بول رہی ہو۔”
    ”تمہیں یقین نہیں آرہا تو تم اپنے گھر والوں سے پوچھ لینا کہ اس قدر دولت کس طرح آئی ان کے پاس… اورابھی بھی کس طرح آرہی ہے۔ تمہارے والد اس مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں ڈالرز آتے ہیں، انہیں غیر ملکی مشنریز اوراین جی اوز سے …” تحریم نے کچھ تحقیر آمیز انداز میں کہا۔
    ”یہ جھوٹ ہے، سفید جھوٹ۔” امامہ نے بے اختیار کہا۔ ”میرے بابا کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیتے۔ وہ اگر اس فرقہ کے لیے کام کرتے ہیں، تو غلط کیا ہے۔ کیا دوسرے فرقوں کے لیے کام نہیں کیا جاتا۔ دوسرے فرقوں کے بھی تو علماء ہوتے ہیں یا ایسے لوگ جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔”
    ”دوسرے فرقوں کو یورپی مشنریز سے روپیہ نہیں ملتا۔”
    ”میرے بابا کو کہیں سے کچھ نہیں ملتا۔” امامہ نے ایک با رپھر کہا۔ تحریم نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    اِمامہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا پھر گردن موڑ کر اپنے پاس بیٹھی جویریہ کی طرف دیکھا۔
    ”کیا تم بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہو؟”
    ”تحریم نے غصہ میں آکر تم سے یہ سب کچھ کہا ہے۔ تم اس کی باتوں کا برا مت مانو۔” جویریہ نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
    ”تم ان سب باتوں کو چھوڑو… آؤ کلاس میں چلتے ہیں، بریک ختم ہونے والی ہے۔” جویریہ نے کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوگئی۔
    ٭…٭…٭




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱

    پیش لفظ

    پیر کاملﷺکو میں نے آپ کے لیے لکھا ہے۔ آپ سب کی زندگی میں آنے والے اس موڑ کے لیے، جب روشنی یا تاریکی کے انتخاب کا فیصلہ ہم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، ہم چاہیں تو اس راستے پر قدم بڑھادیں جو روشن ہے اور چاہیں تو تاریکی میں داخل ہو جائیں۔
    روشنی میں ہوتے ہوئے بھی انسان کو آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔ اگر وہ ٹھوکر کھائے بغیر زندگی کا سفر طے کرنا چاہتا ہے تو تاریکی میں داخل ہونے کے بعد آنکھیں کھلی رکھیں یا بند کوئی فرق نہیں پڑتا، تاریکی ٹھوکروں کو ہماری زندگی کا مقدر بنا دیتی ہے۔
    مگر بعض دفعہ تاریکی میں قدم دھرنے کے بعد ٹھوکر لگنے سے پہلے ہی انسان کو پچھتاوا ہونے لگتا ہے۔ وہ واپس اس موڑ پر آنا چاہتا ہے جہاں سے اس نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ تب صرف ایک چیز اس کی مدد کرسکتی ہے، کوئی آواز جو رہ نمائی کا کام کرے اور انسان اطاعت کے علاوہ کچھ نہ کرے۔
    پیر کاملﷺوہی آواز ہے، جو انسان کو تاریکی سے روشنی تک لاسکتی ہے اور لاتی ہے۔ اگر انسان روشنی چاہے تو اور ”یقینا ہدایت انہیں کو دی جاتی ہے جو ہدایت چاہتے ہیں۔”
    آئیے ایک بار پھر پیر کاملﷺکو سنیں!
    عمیرہ احمد