Tag: peerekamil

  • آبِ حیات — قسط نمبر ۶ (حاصل و محصول)

    کسی اپنے کی موت انسان کو پل بھر میں کس طرح خاک کردیتی ہے یہ کوئی امامہ سے پوچھتا۔
    وسیم اور سعد کی موت نے اسے بتایا تھا کہ مارتی تو موت ہی ہے اور جیسی مار وہ انسان کو دیتی ہے کوئی اور تکلیف نہیں دیتی۔ آب حیات پی کر بھی انسان اپنی موت ہی روک سکتاہے پر ان کو جانے سے کیسے روک سکتا ہے جو جان سے بھی پیارے ہوتے ہیں۔
    وہ اس وقت نیویارک میں تھی۔ اس کے ہاں پہلا بچہ ہونے والا تھا۔ وہ ساتویں آسمان پر تھی کیوں کہ جنت پاؤں کے نیچے آنے والی تھی۔ نعمتیں تھیں کہ گنی ہی نہیں جارہی تھیں۔ تیسرا مہینہ تھا اس کی pregnancyکا، جب ایک رات سالار نے اسے نیند سے جگایا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ اسے نیند سے جگا کر کیا بتانے کی کوشش کررہا تھا اور شاید ایسی ہی کیفیت سالار کی تھی، کیوں کہ اس کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے کن الفاظ میں اتنے بڑے نقصان کی اطلاع دے۔ اس سے پہلے سکندر عثمان اور وہ یہی ڈسکس کرتے رہے تھے کہ امامہ کو اطلاع دینی چاہیے یا اس حالت میں اس سے یہ خبر چھپالینی چاہیے۔
    سکندر عثمان کا خیال تھا امامہ کو یہ خبر ابھی نہیں پہنچانی چاہیے، لیکن سالار کا فیصلہ تھا کہ وہ اس سے اتنی بڑی خبر چھپا کر ساری عمر کے لئے اسے کسی رنج میں مبتلا نہیں کرسکتا۔ وہ وسیم سے فون اور میسج کے ذریعے ویسے بھی رابطے میں تھی، یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اسے ایک آدھ دن میں اس کے بارے میں اطلاع نہ مل جاتی۔
    وہ دونوں قادیانیوں کی ایک عبادت گاہ پر ہونے والی فائرنگ میں درجنوں دوسرے لوگوں کی طرح مارے گئے تھے اور امامہ چند گھنٹے پہلے ایک پاکستانی چینل پر یہ نیوز دیکھ چکی تھی، وہ اس جانی نقصان پر رنجیدہ بھی ہوئی تھی ایک انسان کے طور پر، مگر اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان لوگوں میں اس کے دو اتنے قریبی لوگ بھی شامل تھے۔ اسے شبہ ہوتا بھی کیسے۔ وہ اسلام آباد کی عبادت گاہ نہیں تھی ایک دوسرے شہر کی تھی۔ سعد اور وسیم وہاں کیسے پہنچ سکتے تھے اور وسیم تو بہت کم اپنی عبادت گاہ میں جاتا تھا۔





    وہ اگلے کئی گھنٹے گم صم آنسو بہائے بغیر سالار کے کسی سوال اور بات کا جواب دیئے بغیر ایک بت کی طرح وہیں بستر پر بیٹھی رہی تھی، یوں جیسے انسان نہیں برف کی سل بن گئی تھی۔ اور برف کی سل نہیں جیسے ریت کی دیوار تھی جو ڈھے گئی تھی۔ اسے لگا تھا وہ اب کبھی زندگی میں اپنی انگلی تک نہیں ہلاسکے گی۔ پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکے گی۔ سانس نہیں لے سکے گی۔ جی نہیں سکے گی۔ کوئی ایسے تو نہیں جاتا… ایسے… اس کی حالت دیکھ کر سالار کو شدید پچھتاوا ہوا تھا۔ اس نے سکندر عثمان کی بات نہ مان کر کتنی بڑی غلطی کی تھی، اسے اب سمجھ میں آیا تھا۔ سالار نے اپنے ایک ڈاکٹر کزن کو بلایا تھا گھر پر ہی اسے دیکھنے کے لئے۔
    اس کے بعد کیا ہوا تھا امامہ کو ٹھیک سے یاد نہیں تھا۔ سالار کو لمحہ لمحہ یاد تھا۔ وہ کئی ہفتے اس نے اسے پاگل پن کی سرحد پر جاتے اور وہاں سے پلٹتے دیکھا تھا۔ وہ چپ ہوتی تو کئی کئی دن چپ ہی رہتی، یوں جیسے اس گھر میں موجود ہی نہیں تھی۔ روتی تو گھنٹوں روتی۔ سوتی تو پورا دن اور رات آنکھیں نہیں کھولتی اور جاگتی دو دو دن بستر پر چند لمحوں کے لئے بھی لیٹے بغیر لاؤنج سے بیڈروم اور بیڈ روم سے لاؤنچ کے چکر کاٹتے کاٹتے اپنے پاؤں سجالیتی۔ یہ صرف ایک معجزہ تھا کہ اس ذہنی حالت اور کیفیت میں بھی جبریل کو کچھ نہیں ہوا تھا۔ وہ جیسے یہ فراموش ہی کر بیٹھی تھی کہ اس کے اندر ایک اور زندگی پرورش پارہی تھی۔ ذہن یادوں سے نکل پاتا تو جسم کو محسوس کرتا۔
    اور وحشت جب کچھ کم ہوئی تھی تو اس نے سالار سے پاکستان جانے کا کہا تھا۔ اسے اپنے گھر جانا تھا۔ سالار نے اس سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ وہ کس گھر کو اپنا کہہ رہی تھی۔ اس نے خاموشی سے دو سیٹیں بک کروالی تھی۔
    ’’مجھے اسلام آباد جانا ہے۔‘‘ اس نے سالار کے پوچھنے پر کہا تو سالار نے بحث نہیں کی تھی، اگر اس کے گھر والوں سے ملاقات اس کو نارمل کردیتی تو وہ اس ملاقات کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔
    ہاشم مبین ان کے ہمسائے تھے۔ ان کے گھر میں آنے والی قیامت سے سالار سکندر کا خاندان بے خبر نہیں تھا۔ انہوں نے ہاشم مبین کے گھر جاکر ان سے دوسرے بہت لوگوں کے ساتھ تعزیت کی تھی۔ اس صدمے میں بھی ہاشم مبین نے بے حد سردمہری کے ساتھ ان کی تعزیت قبول کی تھی۔
    سکندر عثمان کوامید نہیں تھی کہ وہ امامہ سے ملیں گے۔ انہوں نے سالار سے اپنے خدشات کا ذکر ضرور کیا تھا، لیکن امامہ کو جس حالت میں انہوں نے دیکھا تھا، وہ سالار کو ایک کوشش کرلینے سے روک نہیں سکے تھے۔
    ہاشم مبین نے نہ صرف فون پر سکندر عثمان سے بات کرنے سے انکار کیا تھا، بلکہ سالار کو ان کے گھر پر گیٹ سے اندر جانے نہیں دیا گیا۔ سکندر عثمان اور وہ دونوں مایوسی کے عالم میں واپس آگئے تھے۔
    سالار اس کے سامنے بے بس تھا، لیکن وہ پہلا موقع تھا جب اس نے امامہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ اس نے امامہ کو اس کے گھر جانے کی کوشش بھی نہیں کرنے دی تھی۔
    ’’تمہیں اگر گھر جانا ہے تو پہلے اپنے باپ سے بات کرو۔ وہ اجازت دیں تو پھر میں تمہارے ساتھ چلوں گا، لیکن میں تمہیں بغیر اجازت کے وہاں گیٹ پر گارڈز کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے لئے نہیں بھیج سکتا۔‘‘
    اس کے رونے اور گڑگڑانے کے باوجود سالار نہیں پگھلا تھا۔ امامہ نے اپنے باپ سے فون پر بات کرکے اجزت لینے کی ہامی بھرلی تھی، مگر اس فون کال نے سب کچھ بدل دیا تھا۔ جو چیز سالار اسے نہیں سمجھا سکا تھا وہ اس فون کال میں ہاشم مبین نے سمجھادی تھی۔
    ’’یہ جو کچھ ہوا ہے تمہاری وجہ سے ہوا۔ تم جن لوگوں کے ساتھ جا بیٹھی ہو ان ہی لوگوں نے جان لی ہے میرے دونوں بیٹوں کی، اور تم اب میرے گھر آنا چاہتی ہو۔ قاتلوں کے ساتھ میرے گھر آنا چاہتی ہو۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں چلاتے اور اسے گالیاں دیتے رہے تھے۔
    ’’تم لوگ۔‘‘ اور ’’ہم لوگ‘‘ فرق کتنا بڑا تھا امامہ کو یاد آگیا تھا۔ آج بھی۔ اس سب کے بعد بھی اس غم کے ساتھ بھی اسے پچھتاوا نہیں تھا کہ اس نے وہ مذہب چھوڑ دیا تھا۔ اسے یاد آیا تھا ایک بار اس کے باپ نے کہا تھا وہ ایک دن گڑگڑاتے ہوئے اس کے پاس آکر معافی مانگے گی، اور وہ آج یہی کرنے جارہی تھی۔ پر کیوں کرنے جارہی تھی؟
    خون کا رشتہ تھا۔ تڑپ تھی۔ وہ کھینچی تھی ان کی طرف۔ اب جب اسے ان سے پہلے کی طرح جان کا خوف نہیں رہا تھا، پر خون کا رشتہ صرف اسی کے لئے کیوں تھا۔ تڑپ تھی تو صرف اس کو کیوں تھی۔ شاید اس لئے کہ اس کے پاس ان لوگوں کے سوا اور کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔ وہ اپنے لوگوں کے پاس تھے۔ اس کے پاس سالار تھا، لیکن وہ خونی رشتہ نہیں تھا محبت کا رشتہ تھا۔ خون جیسی تڑپ پیدا ہونے کے لئے ابھی اس کو کئی سال چاہیے تھے،سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں ماؤف ہونے کے باوجود اسے پہلی بار احساس ہورہا تھا کہ جو غم اسے وہاں کھینچ کر لایا تھا۔ وہ غم اس گھر میں جاکر پچھتاوے میں بدل جاتا۔
    ہاشم مبین کی مزید کوئی بات سننے کے بجائے اس نے فون رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد وہ بلک بلک کر روئی تھی۔ اس گھر میں اور اس دنیا میں اب کا خونی رشتہ کوئی نہیں رہا تھا۔ اس گھر میں صرف وسیم اس کا تھا، اور وسیم جاچکا تھا۔ وہ ایک کھڑکی جو پچھواڑے میں کھلی تھی ٹھنڈی ہوا کے لئے، وہ آندھی کے زور سے بند ہوگئی تھی۔ اب اس کھڑکی کو دوبارہ کبھی نہیں کھلنا تھا۔
    وہ سالار سکندر کے ساتھ واپس نیویارک لوٹ آئی تھی۔ وہ سمجھ رہا تھا وہ نارمل ہورہی تھی، آہستہ آہستہ بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔ کچھ وقت لگنا تھا۔ امامہ بھی ایسا ہی سمجھتی تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہاں موجود تنہائی نے امامہ کے اعصاب کو ایک بار پھر مفلوج کرنا شروع کردیا تھا۔ سالار پی ایچ ڈی کررہا تھا اور ساتھ ایک آرگنائزیشن میں ہفتے میں تین دن کے لئے پارٹ ٹائم کام کرتا تھا۔ وہ صبح پانچ بجے گھر سے نکلتا تھا اور رات کو کہیں آٹھ نو بجے اس کی واپسی ہوتی تھی اور واپسی پر وہ اتنا تھکا ہوا ہوتا تھا کہ ایک دو گھنٹے ٹی وی دیکھ کر کھانا کھا کر وہ دوبارہ سوجاتا تھا۔
    امامہ بارہ چودہ گھنٹے ایک بیڈروم کے آٹھویں منزل کے اس اپارٹمنٹ میں بالکل تنہا ہوتی تھی اور تنہائی کا یہ دورانیہ سالار کے گھر آجانے کے بعد اس کے سوجانے پر اور بڑھ جاتا تھا۔ ایک بیڈروم، ایک لاؤنج اور کچن ایریا کے علاوہ جہاں کچھ بھی نہیں تھا جہاں وہ جاکر کچھ وقت گزارسکتی۔ گھر کا کام بھی بہت مختصر تھا کیوں کہ گھر چھوٹا تھا۔ نیند اسے آتی نہیں تھی اور گھر میں کوئی مشغلہ نہیں تھا، صرف سوچنے کے علاوہ۔
    وسیم اس کے ذہن سے نہیں نکلتا تھا وہ روز اپنے فون میں موجود اس کے اور اپنے میسجز کو جو سینکڑوں کی تعداد میں ہوتے بیٹھ کر پڑھنا شروع کرتی اور پھر گھنٹوں اسی میں گزار دیتی۔ اسے وہ سینکڑوں میسجز اب جیسے زبانی حفظ ہوچکے تھے، لیکن پتا نہیں خود اذیتی کی وہ کون سی سیڑھی تھی جس پر بیٹھی وہ ہر روز ایک ہی کام بھیگی آنکھوں کے ساتھ کرتی رہتی تھی۔
    اپنے وجود کے ناکارہ پن اور زندگی کی بے معنویت امامہ ہاشم نے جیسے اس دور میں محسوس کی تھی، اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ اس کا اپنا وجود اس کے لیے سب سے بڑا بوجھ بن گیا تھا۔ اسے وہ کہاں پھینک آتی اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ بستر پر صبح نیند سے آنکھ کھلتے ہی اسے یہ خیال آتا تھا۔ ایک اور دن۔ پھر وہی روٹین۔ پھر وہی تنہائی۔ وہی ڈپریشن۔ وہ آہستہ آہستہ ڈپریشن کی طرف جانا شروع ہوگئی تھی، اور سالار ایک بار پھر اپنے آپ کو بے حد بے بس محسوس کرنے لگا تھا۔ وہ اس کے لئے کیا کرتا اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا، جس سے وہ پھر پہلے جیسی ہوجاتی۔
    چودہ گھنٹے تک اپنے کاموں اور سفر سے خوار ہونے کے بعد وہ تھکا ہارا گھر آنے پر بھی امامہ کے کہنے پر کہیں بھی چلنے کے لئے تیار رہتا تھا اور کہیں نہیں تو اپارٹمنٹ کے باہر پارک تک، لیکن وہ اس سے کہیں جانے کا کہتی ہی نہیں تھی۔
    وہ صبح سویرے گھر سے اس کے بارے میں سوچتے ہوئے نکلتا اور رات کو جب گھر واپس آنے کے لئے ٹرین میں بیٹھتا تو بھی اس کے بارے میں سوچ رہا ہوتا تھا۔ امامہ کی ذہنی کیفیت نے جیسے اس کے اعصاب شل کرنے شروع کردیئے تھے۔ جبریل کی پیدائش میں ابھی بہت وقت تھا اور وہ اسے اس جہنم سے نکالنا چاہتا تھا جس میں وہ ہر وقت نظر آتی تھی۔
    اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے سے پہلے ہی ایک رات امامہ نے کہا تھا۔
    ’’مجھے پاکستان جانا ہے۔‘‘
    ’’کیوں؟‘‘ سالار کو اپنا سوال خود بے تکا لگا۔
    وہ بہت دیر چپ رہی، یوں جیسے اپنے الفاظ جمع کررہی ہو پھر اس نے جو کہا تھا اس نے سالار کا دماغ بھک سے اڑا دیا تھا۔
    ’’کل میں نے وسیم کو دیکھا… وہاں کچھ کاؤنٹر کے پاس وہ پانی پی رہا تھا… دو دن پہلے بھی میں نے اسے دیکھا تھا، وہ اس کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا۔‘‘ بات کرتے ہوئے اس کی آواز بھرائی اور وہ شاید اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کے لئے رکی تھی۔
    ’’مجھے لگتا ہے میں کچھ عرصہ اور یہاں رہی تو پاگل ہوجاؤں گی۔ یا شاید ہونا شروع ہوچکی ہوں لیکن میں یہ نہیں چاہتی۔‘‘
    اس نے چند لمحوں کے بعد دوبارہ بات کرنی شروع کی تھی۔ وہ اگر واہموں کا شکار ہورہی تھی تو وہ اس بات سے واقف بھی تھی اور اس سے فرار چاہتی تھی تو یہ جیسے ایک مثبت علامت تھی۔
    ’’ٹھیک ہے، ہم واپس چلے جاتے ہیں، مجھے صرف چند ہفتے دے دو سب کچھ وائنڈ اپ کرنے کے لئے۔‘‘
    سالار نے جیسے لمحوں میں فیصلہ کیا تھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے امامہ نے نفی میں سرہلایا۔
    ’’تم پی ایچ ڈی کررہے ہو، تم کیسے میرے ساتھ جاسکتے ہو؟‘‘
    ’’میں پی ایچ ڈی چھوڑ دوں گا… ڈاکٹر کی ڈگری ضروری نہیں ہے… تم اور تمہاری زندگی ضروری ہے۔‘‘
    سالار نے جواباً اس سے کہا، کچھ کہنے کی کوشش میں امامہ کی آواز بھرائی وہ کہہ نہیں پائی۔ اس نے دوبارہ بولنے کی کوشش کی اور اس بار وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔
    ’’نہیں تم ساتھ نہیں آؤگے… یہ کیوں ضروری ہے کہ ساری زندگی تم قربانیاں ہی دیتے رہو میرے لئے… اب پی ایچ ڈی چھوڑو… اپنا کیرئیر چھوڑو… تمہاری زندگی ہے۔ قیمتی ہے تمہارا وقت، تم کیوں اپنی زندگی کے اتنے قیمتی سال میرے لئے ضائع کرو۔‘‘
    سالار نے کچھ کہنے کی کوشش کی، کوئی اور موقع ہوتا تو اس کا یہ اعتراف اس کو خوشی دیتا، لیکن اب اسے تکلیف ہورہی تھی۔ وہ روتے ہوئے اسی طرح کہہ رہی تھی۔
    ’’میں تم سے بہت شرمندہ ہوں، لیکن میں بے بس ہوں میں کوشش کے باوجود بھی اپنے آپ کو نارمل نہیں کر پارہی… اور اب … اب وسیم کو دیکھنے کے بعد تو میں اور بھی… اور بھی۔‘‘ وہ بولتے بولتے رک گئی، صرف اس کے آنسو اور ہچکیاں تھیں جو نہیں تھمی تھیں۔
    ’’سالار، تم بہت اچھے انسان ہو… بہت اچھے ہو تم بہت قابل ہو… تم مجھ سے بہتر عورت ڈیزرو کرتے ہو… میں نہیں۔I am a worthless woman…..I m a nobody تمہیں ایسی عورت ملنی چاہیے جو تمہارے جیسی ہو… تمہیں زندگی میں آگے بڑھنے میں سپورٹ کرے… میری طرح تمہارے پاؤں کی بیڑی نہ بن جائے۔‘‘
    ’’اور یہ سب کچھ تم آج کہہ رہی ہو جب ہم اپنا پہلا بچہ expect کررہے ہیں…؟‘‘
    ’’مجھے لگتا ہے یہ بچہ بھی مرجائے گا۔‘‘ اس نے عجیب بات کہی تھی سالار نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی اس نے ہاتھ چھڑالیا۔
    ’’تم کیوں اس طرح سوچ رہی ہو… اسے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ سالار پتا نہیں کس کو تسلی دینا چاہتا تھا لیکن اس وقت امامہ سے زیادہ اس کی اپنی حالت قابل رحم ہورہی تھی۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۵ (بیت العنکبوت)

    ’’باجی! آپ کہاں تھیں؟‘‘
    اگلی صبح وہ ملازمہ کے بیل دینے پر جاگی تھی۔ دروازہ کھولنے پر اسے دیکھتے ہی ملازمہ نے پوچھا۔
    ’’میں چند دن اپنے گھر رہنے کے لئے گئی ہوئی تھی۔‘‘ اس نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ’’طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟‘‘ ملازمہ نے اس کا چہرہ غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ’’ہاں! نہیں ، بس تھوڑا سا بخار ہے اور کچھ نہیں۔‘‘ اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔
    ’’کوئی خوش خبری تو نہیں ہے باجی؟‘‘
    وہ بیڈ روم کی طرف جاتے جاتے ملازمہ کے جوش پر ٹھٹکی اور پھر بری طرح شرمندہ ہوئی۔
    ’’ایسی کوئی بات نہیں ہے، تم صفائی کرو۔‘‘
    فون کی بیل ہونے پر، وہ کچن میں اپنے لئے ناشتا بناتے ہوئے باہر نکل آئی۔ وہ سالار تھا جو عام طور پر اسی وقت اسے کال کیا کرتا تھا۔ اتنے دنوں کے وقفے کے بعد فون پر اس کی آواز اسے بے حد عجیب لگی تھی۔
    ’’کیسی طبیعت ہے تمہاری؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔
    ’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے کہا تھا۔
    ’’ناشتا کرکے گئے تھے آفس؟‘‘ اسے کچن میں کوئی استعمال شدہ برتن نظر نہیں آیا تھا۔
    ’’نہیں، لیٹ ہوگیا تھا۔ ناشتے کے لئے ٹائم نہیں تھا۔‘‘
    ’’مجھے جگادیا ہوتا، میں بنادیتی۔‘‘ اس نے کہا۔
    ’’نہیں، مجھے بھوک بھی نہیں تھی۔‘‘ رسمی جملوں کے بعد اب وہ خندق آگئی تھی جس سے دونوں بچنا چاہ رہے تھے اور بچ نہیں پارہے تھے۔ ایک دوسرے سے کچھ کہنے کے لئے ان کے پاس یک دم الفاظ نہیں رہے تھے۔
    ’’اور؟‘‘ وہ خود کوئی بات ڈھونڈنے میں ناکام رہنے کے بعد اس سے پوچھنے لگا۔
    ’’کچھ نہیں۔‘‘ وہ بھی اتنی ہی خالی تھی۔
    ’’رات کو کہیں باہر کھانا کھانے چلیں گے۔‘‘ اس نے کہا۔
    ’’اچھا۔‘‘ گفتگو پھرsquare one پر آگئی۔ سالار نے خدا حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔
    وہ بہت دیر ریسیو پکڑے بیٹھی رہی۔ بہت فرق تھا اس گفتگو میں جو وہ ایک ہفتہ پہلے فون پر کرتے تھے اور اس گفتگو میں جو وہ اب کررہے تھے۔ دراڑیں بھرنا زیادہ مشکل تھا کیوں کہ نشان کبھی نہیں جاتے، وہ بھی یہی دقت محسوس کررہے تھے۔
    اس نے زندگی میں اس ایک ہفتے میں جو کچھ سیکھا تھا، وہ شادی کے اتنے مہینوں میں نہیں سیکھا تھا۔ کسی انسان کی محبت کبھی ’’غیر مشروط‘‘ نہیں ہوسکتی۔ خاص طور پر تب، جب کوئی محبت، شادی نام کے رشتے میں بھی بندھی ہو۔ سالار کی محبت بھی نہیں تھی۔ ایک ناخوشگوار واقعہ اسے آسمان سے زمین پر لے آیا تھا۔ وہ زمینی حقائق اسے پہلی بار نظر آئے تھے، جو پہلے اس کی نظروں سے اوجھل تھے۔ وہ صرف محبوبہ نہیں تھی، بیوی بن چکی تھی۔ ایک مرد کے لئے اسے اب زندگی ، دل اور ذہن سے نکالنا زیادہ آسان تھا۔ سالار نے دوسروں کی نظروں میں اس کی عزت ضرور رکھ لی تھی، لیکن اس کی اپنی نظروں میں اسے بہت بے وقعت کردیا تھا۔ خوش فہمیوں اور توقعات کا پہاڑ آہستہ آہستہ ریزہ ریزہ ہورہا تھا۔
    وہ شام کو جلدی گھر آگیا تھا اور وہ جانتی تھی کہ یہ ارادی طور پر تھا۔ ا س کے لئے بیرونی دروازہ کھولنے پر اس نے ہمیشہ کی طرح گرم جوش سے اسے اپنے ساتھ نہیں لگایا تھا۔ اس سے نظر ملانا، مسکرانا اور اس کے قریب آنا شاید اس کے لئے بھی بہت مشکل ہوگیا تھا۔ پہلے سب کچھ بے اختیار ہوتا تھا، اب کوشش کے باوجود بھی نہیں ہو پارہا تھا۔
    کھانے کے لئے باہر جاتے ہوئے بھی گاڑی میں ویسی ہی خاموشی تھی۔ دونوں وقفے وقفے سے کچھ پوچھتے پھر یک حرفی جواب کے بعد خاموشی ہوجاتے۔
    وہ پہلا ڈنر تھا جو انہوں نے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے اپنی ڈنر پلیٹ کو دیکھتے ہوئے کیا تھا اور دونوں نے کھانا کسی دلچسپی کے بغیر کھایا تھا۔
    واپسی بھی اسی خاموشی کے ساتھ ہوئی تھی۔ وہ ایک بار پھر سونے کے لئے بیڈروم میں اور وہ اسٹڈی روم میں چلا گیا۔
    ٭…٭…٭





    اگلے دن وہ تقریباً ایک ہفتے کے بعد ناشتے کی ٹیبل پر تھے۔ بات کرنا، نظر ملانے سے زیادہ آسان تھا اور وہ بات کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ شرمندگی اور ان تکلیف دہ احساسات کو ختم کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھے جو اس ٹیبل پر بن بلائے مہمان کی طرح موجود تھے لیکن وہ مہمان ٹیبل چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔
    ایک ہفتہ کے بعد ہی وہ گھر کا بنا ہوا لنچ آفس لے کر جارہا تھا۔ وہ امامہ سے کہہ نہیں سکا کہ اس نے پورا ہفتہ ناشتے سمیت کھانا کھانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ وہ گھر اتنے دن اس کے لئے بھوت بنگلہ بنارہا۔ گھر سے نکلتے ہوئے اس نے امامہ سے کہا۔
    ’’میرے دراز میں تمہاری رنگ ہے، وہ لے لینا۔‘‘ امامہ نے جیسے کرنٹ کھا کر اپنا ہاتھ دیکھا۔
    ’’میری رنگ…؟‘‘ وہ رنگ اسے پہلی بار یاد آئی تھی۔
    ’’وہ میں نے کہاں رکھ دی؟‘‘
    ’’میرے آفس کے واش روم میں۔‘‘ اس نے باہر نکلتے ہوئے بے تاثر لہجے میں کہا، وہ کھڑی رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    کئی دنوں کے بعد اس رات سالار نے رغبت سے کھانا کھایا تھا۔ وہ عام طور پر ایک چپاتی سے زیادہ نہیں کھاتا تھا، لیکن آج اس نے دو چپاتیاں کھائی تھیں۔
    ’’اور بنادوں؟‘‘ امامہ نے اسے دوسری چپاتی لیتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔ وہ خود چاول کھا رہی تھی۔
    ’’نہیں، میں پہلے ہی اوور ایٹنگ کررہا ہوں۔‘‘ اس نے منع کردیا۔
    امامہ نے اس کی پلیٹ میں کچھ سبزی ڈالنے کی کوشش کی، اس نے روک دیا۔
    ’’نہیں، میں ویسے ہی کھانا چاہ رہا ہوں۔‘‘ امامہ نے کچھ حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ بے حد گہری سوچ میں ڈوبا اس چپاتی کے لقمے لے رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اسے اس کے ہاتھ کی چپاتی پسند ہے، لیکن اس نے اسے صرف چپاتی کھاتے پہلی بار دیکھا تھا۔ اس دن پہلی بار اس نے آخری لقمہ اسے نہیں دیا۔ وہ کھانا کھانے کے بعد اٹھ گیا۔ وہ برتن اکٹھے کررہی تھی، جب وہ کچھ پیپرز لئے آیا تھا۔
    ’’یہ کیا ہے؟‘‘ امامہ نے کچھ حیرانی سے ان پیپرز کو دیکھا جو وہ اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔
    ’’بیٹھ کر دیکھ لو۔‘‘ وہ خود بھی کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔
    وہ بھی کچھ الجھے انداز میں پیپرز لے کر بیٹھ گئی۔
    پیپرز پر ایک نظر ڈالتے ہی اس کا رنگ فق ہوگیا تھا۔
    ’’طلاق کے پیپرز ہیں یہ؟‘‘ وہ بمشکل بول سکی۔
    ’’نہیں، میں نے اپنے وکیل سے ایک divorce deed تیار کروایا ہے۔ اگر کبھی خدانخواستہ ایسی صورت حال ہوگئی کہ ہمیں الگ ہونا پڑا تو یہ تمام معاملات کو پہلے سے کچھ خوش اسلوبی سے طے کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘
    ’’مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی۔‘‘ وہ اب بھی حواس باختہ تھی۔
    ’’ڈرو مت… یہ کوئی دھمکی نہیں ہے۔ میں نے یہ پیپرز تمہارے تحفظ کے لئے تیار کروائے ہیں۔‘‘
    سالار نے اس کے کانپتے ہوئے ہاتھ کو پانے ہاتھ میں لیا۔
    ’’کیسا تحفظ ؟‘‘ اسے اب بھی ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔
    ’’میں نے علیحدگی کی صورت میں فنانشل سیکیورٹی اور بچوں کی کسٹڈی تمہیں دی ہے۔‘‘
    ’’لیکن میں تو طلاق نہیں مانگ رہی۔‘‘ اس کی ساری گفتگو اس کے سر کے اوپر سے گزر رہی تھی۔
    ’’میں بھی تمہیں طلاق نہیں دے رہا، صرف قانونی طور پر خود کو پابند کررہا ہوں کہ میں علیحدگی کے کیس کو کورٹ میں نہیں لے جاؤں گا۔ فیملی کے ذریعے معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر نہ ہوئے تو میں تمہیں علیحدگی کا حق دے دوں گا اور اسی صورت میں اگر ہمارے بچے ہوئے تو ان کی کسٹڈی تمہیں دے دوں گا۔ ایک گھر اور کچھ رقم بھی تمہیں دوں گا۔ جو بھی چیزیں اس سارے عرصے میں حق مہر، تحائف، جیولری یا روپے اور پراپرٹی کی صورت میں تمہیں دوں گا، وہ سب خلع یا طلاق، دونوں صورتوں میں تمہاری ملکیت ہوں گی، میں ان کا دعویٰ نہیں کروں گا۔‘‘
    ’’یہ سب کیوں کررہے ہو تم؟‘‘ اس نے بے حد خائف انداز میں اس کی بات کاٹی۔
    ’’میں اپنے آپ سے ڈر گیا ہوں امامہ۔‘‘ وہ بے حد سنجیدہ تھا۔
    ’’میں کبھی سوچ نہیں سکتا تھا کہ مجھے تم پر اتنا غصہ آسکتا ہے۔ میں نے تمہیں گھر سے نہیں نکالا، لیکن میں نے اس رات یہ پروا نہیں کی کہ تم گھر سے جارہی ہو تو کیوں جارہی ہو اور کہاں جارہی ہو۔ میں اتنا مشتعل تھا کہ مجھے کوئی پروا نہیں تھی کہ تم بحفاظت کہیں پہنچی بھی ہو یا نہیں۔‘‘ وہ بے حد صاف گوئی سے کہہ رہا تھا۔
    ’’اور پھر اتنے دن میں نے ڈاکٹر صاحب کی بھی بات نہیں سنی۔ I just wanted to punish you.۔ ‘‘وہ ایک لمحہ کے لئے رکا۔
    ’’اور اس سب نے مجھے خوف زدہ کردیا۔ میرا غصہ ختم ہوا تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں اتنا گر سکتا ہوں، میں تمہارے ساتھ اس طرح بی ہیو کرسکتا ہوں، لیکن میں نے کیا۔ بہر حال میں انسان ہی ہوں، تم کو ساتھی کے بجائے حریف سمجھوں گا تو شاید آئندہ بھی کبھی ایسا کروں۔ ابھی شادی کو تھوڑا وقت ہوا ہے، مجھے بہت محبت ہے تم سے، میں بہت خوشی خوشی یہ سارے وعدے کرسکتا ہوں تم سے، سب کچھ دے سکتا ہوں تمہیں، لیکن کچھ عرصے بعد کوئی ایسی سچویشن آگئی تو پتا نہیں ہمارے درمیان کتنی تلخی ہوجائے۔ تب شاید میں اتنی سخاوت نہ دکھا سکوں اور ایک عام مرد کی طرح خودغرض بن کر تمہیں تنگ کروں۔ اس لئے ابھی ان دنوں، جب میرا دل بہت بڑا ہے تمہارے لئے، تو میں نے کوشش کی ہے کہ یہ معاملات طے ہوجائیں صرف زبانی وعدے نہ کروں تمہارے ساتھ۔ میری طرف سے میرے والد کےsignatures ہیں اس پر، تم ڈاکٹر صاحب سے بھی اس پر سائن کروالو۔ ڈاکٹر صاحب چاہیں تو یہ پیپرز وہ اپنے پاس رکھ لیں یا تم اپنے لاکر میں رکھوادو۔‘‘ وہ آنکھوں میں آنسو لئے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
    ’’میں نے تو تم سے کوئی سیکیورٹی نہیں مانگی۔‘‘ اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
    ’’لیکن مجھے تو دینی چاہیے نا… میں یہ پیپرز جذبات میں آکر نہیں دے رہا ہوں تمہیں، یہ سب کچھ بہت سوچ سمجھ کر کررہا ہوں۔ تمہارے بارے میں بہت پوزیسو، بہت ان سیکیور ہوں امامہ…‘‘
    وہ ایک لمحہ کے لئے ہونٹ کاٹتے ہوئے رکا۔
    ’’اور اگر کبھی ایسا ہوا کہ تم مجھے چھوڑنا چاہوتو میں تمہیں کتنا تنگ کرسکتا ہوں، تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے، لیکن مجھے اندازہ ہوگیا ہے۔‘‘ وہ پھر رک کر ہونٹ کاٹنے لگا تھا۔
    ’’تم میرا ایسا واحد اثاثہ ہو، جسے میں پاس رکھنے کے لئے فیئر اور فاؤل کی تمیز کے بغیر کچھ بھی کرسکتا ہوں اور یہ احساس بہت خوفناک ہے میرے لئے۔ میں تمہیں تکلیف پہنچانا چاہتا ہوں، نہ تمہاری حق تلفی چاہتا ہوں۔ ہم جب تک ساتھ رہیں گے، بہت اچھے طریقے سے رہیں گے اور اگر کبھی الگ ہوجائیں تو میں چاہتا ہوں ایک دوسرے کو تکلیف دیئے بغیرالگ ہوں ۔‘‘
    وہ اس کا ہاتھ تھپکتے ہوئے اٹھ کر چلا گیا تھا۔ وہ پیپرز ہاتھ میں لئے بیٹھی رہی۔
    ٭…٭…٭
    ’’پودوں کو پانی کب سے نہیں دیا؟‘‘ اگلی صبح اس نے ناشتے کی ٹیبل پر سالار سے پوچھا۔
    ’’پودوں کو ؟‘‘ وہ چونکا۔
    ’’پتا نہیں… شاید کافی دن ہوگئے۔‘‘ وہ بڑبڑایا تھا۔
    ’’سارے پودے سوکھ رہے تھے۔‘‘ وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے حیران ہوئی تھی۔ وہ جم سے آنے کے بعد روز صبح پودوں کو پانی دیا کرتا تھا۔ اس سے پہلے کبھی امامہ نے اسے اپنی روٹین بھولتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ سلائس کھاتے کھتے یک دم اٹھ کر ٹیرس کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ چند منٹوں کے بعد وہ کچھ پریشان سا واپس آیا تھا۔
    ’’ہاں، مجھے خیال ہی نہیں رہا۔‘‘ اس صبح وہ پودوں کو پانی دے کر آئی تھی۔
    ’’تمہاری گاڑی فی الحال میں استعمال کررہا ہوں۔ دو چار دن میں میری گاڑی آجائے گی تو تمہاری چھوڑدوں گا۔‘‘ اس نے دوبارہ بیٹھتے ہوئے امامہ سے کہا۔
    ’’تمہاری گاڑی کہاں ہے؟‘‘
    ’’ورکشاپ میں ہے لگ گئی تھی۔‘‘ اس نے عام سے لہجے میں اسے کہا، وہ چونک گئی۔
    ’’کیسے لگ گئی؟‘‘
    ’’پتا نہیں کیسے لگ گئی، میں نے کسی گاڑی کے پیچھے مار دی تھی۔‘‘ وہ کچھ معذرت خواہانہ انداز میں اسے بتارہا تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی، وہ سلائس پر مکھن لگا رہا تھا۔ وہ ایکسپرٹ ڈرائیور تھا اور یہ ناممکن تھا کہ وہ کسی گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مار دے۔
    گھر میں آنے والی دراڑیں مرد اور عورت پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ عورت کی پریشانی آنسو بہانے، کھانا چھوڑ دینے اور بیمار ہوجانے تک ہوتی ہے۔ مرد ان میں سے کچھ بھی نہیں کرتا اس کا ہر ردعمل اس کے آس پاس کی دنیا پر اثر انداز ہوتا ہے، مگر وہ ایک رشتہ دونوں کے وجود پر اپنا عکس چھوڑتا ہے۔ مضبوط ہو تب بھی، کمزور ہو تب بھی، ٹوٹ رہا ہو تب بھی دونوں اپنی مرضی سے اس رشتے سے نکلنا چاہ رہے ہو ں ، تب بھی۔
    امامہ نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹالیں۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۴ (بیت العنکبوت)

    وہ عید کے دوسرے دن رات کی فلائٹ سے واپس لاہور آگئی تھی کیوں کہ اگلی رات آٹھ بجے کی فلائٹ سے وہ واپس آرہا تھا۔ وہ زود رنجی اور حساسیت جو پچھلے چار ہفتوں سے اسے ناخوش رکھے ہوئے تھی، وہ یک دم جیسے کہیں غائب ہوگئی تھی۔
    اور چار ہفتے کے بعد بالآخر اس نے کیک کا وہ ٹکڑا اور وہ کین ڈسپوز آف کردیئے۔
    اگر فرقان کو سیدھا ہاسپٹل سے ائیر پورٹ نہ جانا ہوتا تو وہ خود اسے ریسیو کرنے چلی جاتی، وہ کچھ اتنی ہی ایکسائیٹڈ ہورہی تھی۔
    نو بج کر پینتالیس منٹ پر بالآخر ڈور بیل بجی، اسے دروازے تک پہنچنے میں سیکنڈز لگے تھے۔
    ’’خدایا! کیا خوشی اس کو کہتے ہیں جو اس شخص کے چہرے پر پہلی نظر ڈالتے میں نے محسوس کی ہے؟‘‘
    اس نے دروازہ کھول کر ڈور ہینڈل پر اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھے سالار کو دیکھ کر اچنبھے سے سوچا تھا۔
    فرقان سے باتیں کرتا دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ سیدھا ہوا اور ان دونوں کی نظریں ملیں۔ وہی گرم جوش مسکراہٹ، جس کی وہ عادی تھی اور ہمیشہ کی طرح سلام میں بھی پہل اسی نے کی تھی۔ وہ اسے دیکھتے ہی چند لمحوں کے لئے جیسے ساکت ہوگئی تھی۔
    ’’امامہ! سامان کی ڈلیوری دینے آیا ہوں، چیک کر لو کوئیbreakage یا damageتونہیں ہے۔‘‘ فرقان نے ایک سوٹ کیس کھینچ کر اندر لے جاتے ہوئے اس کو چھیڑا۔ سالار مسکرایا۔
    امامہ نے سلام کا جواب دینے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کے گلے میں کوئی گرہ لگنے لگی تھی۔ بات گلے کی گرہ تک رہتی تو ٹھیک تھی، لیکن آنکھوں میں پانی کیسے اور کیوں آگیا تھا؟ وہ آگے بڑھا اور اس نے ہمیشہ کی طرح اسے گلے لگایا، جیسے وہ آفس سے آنے کے بعد لگایا کرتا تھا۔ بے اختیار،بے ساختہ آنسوؤں کا ایک اور ریلا آیا۔ یہی چیز تو وہ ڈھونڈ تی پھر رہی تھی، پچھلے چار ہفتوں سے یہی نرم لمس، اپنے گرد بازوؤں کا یہی حصار۔ اس کے ساتھ لگے اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کے جسم سے اٹھتی کلون کی مہک، ڈریسنگ ٹیبل پر کلون کی شیشی سے اٹھتی مہک سے بالکل الگ تھی۔ وہ اس کے جسم پر لگنے کے بعد زیادہ مسحور کن تھی، زیادہ جان لیو اتھی۔
    ’’کیسی ہو تم؟‘‘ وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔ گلے کی گرہیں اور بڑھ گئیں تھیں۔ اس نے اب اسے خود سے الگ کیا اور اس کا چہرہ اور آنسو دیکھے۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘ وہ ٹھٹکا اور سوٹ کیس اندر لے جاتے ہوئے فرقان نے پلٹ کر دیکھا۔





    ’’میں ابھی… ابھی سلاد کے لئے پیاز کاٹ رہی تھی۔‘‘ اس نے کچھ گھبراہٹ میں مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا۔ پھر شاید اسے خود ہی یہ بہانہ کمزور لگا۔ ’’وہ سر میں بھی کچھ درد تھا… اور فلو تھا۔‘‘ وہ فرقان کی مسکراتی ہوئی نظروں سے کچھ گڑبڑائی تھی۔
    سالار نے فرقان کو نظر انداز کیا اور اسے ایک بار پھر ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ’’تو یار! کوئی میڈیسن لینی چاہیے تھی۔‘‘
    ’’کوکنگ رینج پر کچھ رکھ کر آئی ہوں۔‘‘ وہ رکے بغیر کچن میں چلی آئی۔
    اس کے سامنے کھڑے رہ کر، اس سے نظریں ملاکر، جھوٹ بولنا بڑا مشکل ہوگیا تھا۔ سنک میں چہرے پر پانی کے چھپاکے مارنے کے بعد اس نے کچھ پانی پیا۔ آواز کی تھرتھراہٹ صرف اسی طرح ختم ہوسکتی تھی۔ وہ دونوں اب اس کے عقب، لاؤنج میں، کچن کاؤنٹر کے پاس کھڑے باتیں کررہے تھے اور ان میں سے کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ اپنا چہرہ کچن رول سے تھپتھپا کر اس نے چند گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کیا۔
    ’’بیٹھو! کھانا کھا کر جاؤنا۔‘‘ وہ جب لاؤنج میں آئی تو سالار، فرقان سے کہہ رہا تھا۔
    ’’نہیں، اس وقت نہیں، کھانے پر انتظار کررہے ہوں گے بچے۔ کچھ دنوں کے بعد چلیں گے کہیں ڈنر کے لئے…‘‘ وہ بیرونی دروازہ کی طرف جاتے ہوئے بولا۔ سالار دروازے تک اسے چھوڑنے گیا۔ وہ کچن میں آکر کھانے برتن نکالنے لگی۔
    وہ دروازے سے واپسی پرکچن میں سیل فون پر بات کرتے ہوئے آیا تھا، فون پر سکندر تھے۔ امامہ نے اسے کچن کاؤنٹر پر رکھی پانی کی بوتل کو کھولتے دیکھا۔ فون، کندھے اور کان کے بیچ دبائے اس نے بوتل کا ڈھکن کھولا۔ امامہ نے اس کے گلاس کی طرف جانے سے پہلے، ایک گلاس لاکر اس کے سامنے کاؤنٹر پر رکھ دیا۔ سالار کے ہاتھ سے بوتل لے کر اس نے گلاس میں اس کے لئے پانی ڈالا۔ سالار نے سکندر سے بات کرتے ہوئے سرکے اشارے سے اس کاشکریہ ادا کیا اور پھر پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔
    ’’پاپا، خیریت پوچھ رہے ہیں تمہاری۔‘‘
    فریج کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ مسکرائی۔
    ’’میں اب ٹھیک ہوں۔‘‘ سالار نے اس کے جملے پر غور کئے بغیر سکندر تک اس کا جملہ پہنچادیا۔
    کاؤنٹر پر پڑے سلاد میں سے سیب کا ایک ٹکڑا کانٹے سے اٹھا کر منہ میں ڈالتے ہوئے وہ اسی طرح فون پر سکندر سے بات کرتے ہوئے کچن سے نکلا۔ امامہ نے اسے ٹیرس کا دروازہ کھول کر ٹیرس کے پودوں پر نظر دوڑاتے دیکھا۔ ٹیبل پر برتن رکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ایک بار پھر نمی آنے لگی۔ ایک مہینہ کے بعد یہ جگہ اسے ’’گھر‘‘ لگی تھی اور اس کی وجہ گھر میں گونجتی وہ ’’آواز‘‘ اور اِدھر سے اُدھر جاتا اس کا وجود تھا۔ برتن رکھنے کے باوجود جیسے بے اختیاری کے عالم میں ٹیبل کے پاس کھڑی، فون کان سے لگائے، سالار کو ٹیرس پر اِدھر سے اُدھر ٹہلتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ بات محبت کی نہیں، عادت کی تھی۔ اسے اس کی عادت ہوگئی تھی اور عادت بعض دفعہ محبت سے بھی زیادہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
    اسے اچانک خیال آیا کہ وہ کھانا کھانے سے پہلے کپڑے تبدیل کرے گا۔ بیڈروم میں جاکر وہ اس کے لئے کپڑے نکال کر واش روم میں لٹکا کر آئی۔
    وہ واش روم سے نکل رہی تھی، جب وہ بیڈروم میں داخل ہوا۔
    ’’میں شاور لے کر کھانا کھاؤں گا۔‘‘ اس نے جیسے اعلان کیا تھا۔
    وہ نہ بھی کہتا پھر بھی وہ جانتی تھی، وہ سفر سے واپسی پر ہمیشہ نہاکر ہی کھانا کھاتا تھا۔
    ’’میں نے تمہارے کپڑے اور ٹاولز رکھ دیئے ہیں اور یہ میں تمہارے لئے نئے سلیپرز لے کر آئی تھی۔‘‘ وہ سلیپرز کا ڈبا شوریک سے نکالتے ہوئے بولی۔
    ’’رہنے دو امامہ! میں خود ہی نکال لوں گا۔‘‘
    رسٹ واچ اتارتے ہوئے اس نے امامہ کو منع کیا۔ اسے کبھی بھی کسی دوسرے کا اپنے جوتے اٹھانا پسند نہیں تھا، وہ جانتی تھی۔ لیکن اس کے منع کرنے کے باوجود وہ سلیپرز نکال لائی تھی۔
    ’’کچھ نہیںہوتا۔‘‘ اس نے سلیپرز اس کے پاس رکھ دیئے۔
    وہ اب بیڈ پر بیٹھا اپنے جوتے اور جرابیں اتار رہا تھا اور وہ بے مقصد اس کے پاس کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔ شادی کے اتنے مہینوں میں آج پہلی بار وہ اس طرح بے مقصد اس کے پاس کھڑی تھی۔ سالار نے کچھ حیرانی سے نوٹس کیا تھا۔
    ’’یہ yellow کپڑے تم نے میرے انتظار میں پہنے ہیں؟‘‘ اس نے جرابیں اتارتے ہوئے امامہ کو چھیڑا۔ وہ بے وجہ ہنسی۔ وہ مسٹرڈ کو yellow کہہ رہاتھا لیکن آج اس نے اس کی تصحیح نہیں کی اور اس نے آج بھی اس کی تعریف نہیں کی تھی، مگر اسے یہ بھی برا نہیںلگا تھا۔
    ’’نائس سلیپرز!‘‘ اپنی جرابیں اور جوتے اٹھاتے ہوئے اس نے سلیپرز پہنے اور امامہ سے کہا۔
    ’’میں رکھتی ہوں۔‘ ‘ امامہ نے جوتے اور جرابیں اس سے لینے کی کوشش کی۔
    ’’کیوں یار، پہلے کون رکھتا ہے؟‘‘ سالار نے کچھ حیرانی سے اسے روکا، امامہ رک گئی۔ واقعی وہ اپنے جوتے خود اٹھانے کا عادی تھا۔ جوتے شوریک میں رکھتے ہوئے اس نے لانڈری باسکٹ میں جرابیں ڈالیں اور واش روم میں گھس گیا۔
    امامہ نے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑی اس کی رسٹ واچ اور سیل فون کودیکھا۔ ہر خالی جگہ بھرنے لگی تھی۔
    وہ جب تک نہا کر آیا امامہ کھانا لگا چکی تھی۔ سالار نے ڈائننگ ٹیبل پر نظر ڈالتے ہی بے اختیار کہا۔
    ’’امامہ! کیا کیا پکا رکھا ہے یار!‘‘
    ’’جو ، جو تمہیں اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس نے سادگی سے کہا۔
    ’’مجھے…؟‘‘ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے ٹیبل پر پھیلی ہوئی ڈشز دیکھ کر جیسے کسی سوچ میں پڑا۔
    ’’تم نے اپنا وقت ضائع کیا۔‘‘
    کوئی اور وقت ہوتا تو وہ پورے دن کی محنت پر، بولے جانے والے اس جملے پر بری طرح ناراض ہوتی لیکن آج اسے کچھ برا نہیں لگ رہا تھا۔ کسی بات پر غصہ نہیں آرہا تھا، وہ اتنی ہی سرشار تھی۔
    ’’میں نے اپنا وقت تمہارے لئے استعمال کیا۔‘‘ اس نے مدھم آواز میں سالار کی تصحیح کی۔
    ’’لیکن تم تھک گئی ہوگی…؟‘‘
    ’’نہیں… کیوں تھکوں گی میں؟‘‘ اس نے چاولوں کی ڈش سالار کی طرف بڑھائی۔
    سالار نے اس کی پلیٹ میں ہمیشہ کی طرح، پہلے چاول ڈالے۔ اپنی پلیٹ کے ایک کونے میں پڑے ان چاولوں کو دیکھ کر اس کا دل بھر آیا تھا۔ تو اتنے دنوں سے یہ ایک چیز تھی جو وہ مس کررہی تھی کھانے پر اور یہ ’’ایک‘‘ چیز نہیں تھی۔ وہ اب اپنی پلیٹ میں چاول ڈال رہا تھا۔ ایک مہینے کے بعد وہ اس کے اتنے قریب بیٹھی تھی۔ کھانا سرو کرتے اس کے ہاتھ دیکھ رہی تھی۔ سفید شرٹ کی آستینیں موڑے، اس کے ہاتھوں نے ہمیشہ کی طرح اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ اس کا دل بے اختیار اس کے ہاتھ چھونے کو چاہا، اس نے بہ مشکل نظر ہٹائی، خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس کے لئے یہ یک دم بہت مشکل ہورہا تھاکہ وہ اس کے قریب ہواور وہ صرف کھانے کی طرف متوجہ رہے۔
    ’’پینٹنگز مکمل ہوگئی ہیں تمہاری؟‘‘
    وہ کھانا شروع کرتے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا۔ امامہ نے چونک کر ٹیبل پر پڑا کانٹا اور چمچ اٹھایا۔
    ’’کون سی پینٹنگز؟‘‘ اس نے بے خیالی میں کہا، وہ ٹھٹکا۔
    ’’تم بنارہی تھیں نا،کچھ؟‘‘ اس نے یاد دلایا۔
    ’’یہ بھی لو۔‘‘ جواب دینے کے بجائے اس نے ایک اور ڈش اس کی طرف بڑھائی۔
    ’’ڈر تو نہیں لگا تمہیں، یہاں اکیلے رہتے ہوئے؟‘‘ سالار نے اس سے پوچھا۔
    ’کھانا اچھا ہے؟‘‘ امامہ نے ایک بار پھر جواب گول کیا۔ وہ مزید جھوٹ نہیں بول سکتی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے وہ سچ نہیں بول سکتی تھی۔
    ’’ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا تھا۔
    ’’کتنے ناولز پڑھے تم نے؟‘‘ وہ اب پوچھ رہاتھا۔
    ’’یہ چوپس بھی ہیں۔‘‘ اس نے ایک اور ڈش سرو کی۔
    ’’تمہاری فلائٹ ٹھیک رہی ؟‘‘
    اس سے پہلے کہ وہ اس سے کوئی مشکل سوال کرتا، اس نے پوچھنا ضروری سمجھا تھا۔
    ’’ہاں! اوور آل ، کچھ bumpyرہی… لیکن ٹھیک ہی تھی۔‘‘ اس نے بتایا۔
    ’’اور کانفرنس بھی اچھی رہی؟‘‘
    ’’Excellent!‘‘ اس نے بے اختیار کہا۔
    ’’کیا روٹین تھی تمہاری؟‘‘ وہ اسے موضوع سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔
    ’’میری روٹین…‘‘ وہ سوچ میں پڑی۔
    ’’ہاں! کیا کیا کرتی تھیں سارا دن ؟‘‘ وہ اب چپاتی کا ٹکڑا توڑتے ہوئے پوچھ رہاتھا۔
    ’’جو پہلے کیا کرتی تھی۔‘‘ اس نے نظریں چرا کر ایک اور ڈش اس کی طرف بڑھائی۔
    ’’لیکن تب تو بہت زیادہ وقت ہوتا ہوگا تمہارے پاس۔‘‘ اس نے کرید اتھا۔
    ’’بالکل ساری شام، ساری رات۔‘‘
    ’’پھر تو عیش ہوگئے ہوں گے تمہارے؟‘‘ اپنی پلیٹ میں قورمہ نکالتے ہوئے اس نے مسکر اکر کہا۔
    امامہ نے جواب دینے کے بجائے اپنی پلیٹ کو دیکھا، جس میں چیزوں کا ڈھیر بالکل اسی طرح پڑا تھا۔ اس سے کچھ کھایا نہیں جارہا تھا۔ سالار کو اتنی رغبت کے ساتھ کھاتے دیکھ کر اسے یوں لگ رہاتھا، جیسے اس کا پیٹ بھر رہا ہو۔
    ’’تم سعیدہ اماں کویہاں لے آتیں۔‘‘ سالار نے یک دم اس سے کہا۔ اسے پتا نہیں کیاخیال آیا تھا۔
    ’’میں نے کہا تھا ان سے، لیکن تمہیں تو پتا ہے وہ اتنے دنوں کے لئے اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتیں۔‘‘
    اس نے جواب دیا۔
    "That’s understandable.” سالار نے کھانا کھاتے ہوئے بے اختیار ایک نوالہ اس کی طرف بڑھایا۔ وہ آخری لقمہ ہمیشہ اسے ہی کھلاتا تھا۔ ایک لمحے کے لئے وہ ٹھٹکی پھر اس نے لقمہ منہ میں لے لیا، لیکن وہ اسے چبا نہیں سکی۔ وہ لقمہ جیسے آخری حد ثابت ہوا، وہ بے اختیار رو پڑی۔ وہ پانی پیتے پیتے یک دم رک گیا۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘ وہ ہکا بکا تھا۔ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتی گئی۔
    ’’کیا ہو ا ہے امامہ؟‘‘ وہ بری طرح بدحواس ہوا۔ کم از کم اس وقت اس طرح کی گفتگو کے دوران آنسو…؟ وہ ان کی وجہ تلاش نہیں کرسکا۔
    ایک دفعہ آنسو بہہ جانے کے بعد سب کچھ آسان ہوگیا تھا۔ مزید رونا، بے بسی کا اظہار اور کمزوری کا اعتراف ۔ اب مزید دیواریں کھڑی رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔
    ’’فار گاڈسیک… تم پاگل کردوگی مجھے، کیا ہوا ہے…؟ سب کچھ ٹھیک رہا میرے بعد؟ کسی نے تمہیں پریشان تو نہیں کیا؟‘‘ وہ اب مکمل طور پر حواس باختہ تھا۔ ٹشو پیپر سے آنکھیں رگڑتے ہوئے امامہ نے خود پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے سرہلایا۔
    ’’تو پھر کیوں رو رہی ہو؟‘‘ سالار مطمئن نہیں ہوا تھا۔
    ’’ایسے ہی بس میں تمہیں بہت مس کرتی رہی اس لئے۔‘‘ وہ کہتے کہتے پھر رو پڑی۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۳ (بیت العنکبوت)

    ’’بیت العنکبوت ‘‘
    وہ اس ہفتے پھر اسے اپنے ساتھ کراچی لے کر گیا لیکن اس بار وہ رات کی فلائٹ سے واپس آگئے تھے۔ پہلے کی طرح اس بار بھی وہ اسی ہوٹل میں رہے۔ سالار اپنے آفس میں مصروف رہا، جبکہ وہ انیتا کے ساتھ گھومتی پھرتی رہی۔
    سالار سے اس کی دوبارہ ملاقات اسی طرح رات فلائٹ سے پہلے ہوئی تھی، و ہ کچھ چپ تھی۔ سالار نے نوٹس کیا تھا مگر اس کے ساتھ اس فلائٹ میں اس کے بینک کے کچھ غیر ملکی عہدے داران بھی سفر کررہے تھے۔ وہ لاؤنج میں ان کے ساتھ مصروف رہا۔ فلائٹ میں بھی وہ سیٹ بدل کر ان کے پاس چلا گیا۔
    امامہ سے اس کو بات کرنے کا موقع ائیر پورٹ سے واپسی پر ملا تھا۔ کار پارکنگ میں پڑی اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے امامہ سے پہلا سوال یہی کیا تھا۔
    ’’تم اتنی خاموش کیوں ہو؟‘‘
    ’’کس سے باتیں کروں… اپنے آپ سے؟ تم تو مصروف تھے۔‘‘ امامہ نے جواباً کہا۔
    ’’چلو، اب بات کرو۔‘‘ سالار نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
    ’’کیسا رہا آج کا دن؟‘‘
    ’’بس ٹھیک تھا۔‘‘
    ’’بس ٹھیک تھا… کہاں گئی تھی آج تم؟‘‘
    اس نے سالار کو ان دو تین جگہوں کے نام بتائے، جہاں وہ انیتا کے ساتھ گئی تھی، مگر سالار کو اس کے انداز میںexcitement کا وہ عنصر اب نظر نہیں آیاتھا جو پچھلی بار تھا۔
    ’’تمہاری پے کتنی ہے سالار؟‘‘ وہ چند لمحوں کے لئے ٹھٹکا۔
    وہ بے حد سنجیدہ تھی۔ وہ بے اختیار ہنس دیا۔ فوری طور پر اس سوال کی وجہ اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
    ’’No comments.‘‘
    ’’میں سیریس ہوں۔‘‘
    ’’میں بھی سیریس ہوں۔ میں شوہر ہوں تمہارا، لیکن بے وقوف نہیں ہوں۔‘‘
    ’’جس اپارٹمنٹ میں ہم رہ رہے ہیں، وہ تمہارا ذاتی ہے؟‘‘





    اگلے سوال نے سالار کو اور حیران کیا تھا۔ وہ اب بھی بے حد سنجیدہ تھی۔
    ’’نہیں، یہrented ہے لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو یہ سب کچھ…؟‘‘
    اپنے جواب پر اسے امامہ کے چہرے پر مایوسی اتنی صاف نظر آئی کہ وہ بھی یک دم سنجیدہ ہوگیا۔
    ’’ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔ میں سمجھ رہی تھی ، تمہارا اپنا ہوگا۔‘‘
    وہ اب اسے کچھ سوچتی ہوئی لگی۔ سالار بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
    ’’میں سوچ رہی تھی کہ تم نے مجھے جو پیسے دیئے ہیں، اس سے کوئی پلاٹ لے لیں۔‘‘
    ’’امامہ… کیا پرابلم ہے؟‘‘ سالار نے اس بار اس کے کندھوں کے گرد اپنا بازو پھیلاتے ہوئے کہا۔
    ’’کوئی پرابلم نہیں ہے، اپنا گھر تو بنانا چاہیے نا ہمیں۔‘‘ وہ اب بھی سنجیدہ تھی۔
    ’’تم انیتا کا گھر دیکھ کر آئی ہو؟‘‘ ایک جھماکے کی طرح سالار کو ایک خیال آیا تھا۔ انیتا کچھ عرصے تک اپنے نئے گھر میں شفٹ ہونے والی تھی اور ان دنوں اس کے گھر کا انٹیرئیر ہورہا تھا۔
    ’’ہاں۔‘‘ امامہ نے سرہلایا، سالار نے گہرا سانس لیا۔ اس کا اندازہ ٹھیک نکلا تھا۔
    ’’بہت اچھا گھر ہے نا اس کا ؟‘‘ وہ اب سالار سے کہہ رہی تھی۔ اس کے لہجے میں بے حد اشتیاق تھا۔
    ’’ہاں، اچھا ہے۔‘‘ سالار نے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔
    چار کنال پر محیط انیتا کے گھر کو کراچی کے ایک معروف آرکیٹیکٹ نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کے برے ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
    ’’تم نے سوئمنگ پول کی بوٹ دیکھی ہے؟‘‘
    ’’نہیں، میں نے کافی مہینوں پہلے اس کا گھر دیکھا تھا، تب انٹیرئیر شروع نہیں ہوا تھا۔‘‘
    ’’ویسے سوئمنگ پول میں بوٹ کا کیا کام؟‘‘
    ’’اصلی والی نہیں ہے، چھوٹی سی ہے، لکڑی کی لگتی ہے لیکن کسی اور مٹیریل کی ہے۔ اس پر ایک چھوٹی سی ونڈمل ہے اور وہ ہوا سے اس سارے سوئمنگ پول میں حرکت کرتی رہتی ہے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھتا، اس کی بات سنتا رہا۔ وہ اسے اس کشتی کی ایک ایک چیز بتارہی تھی۔
    ’’انیتا نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر۔‘‘ اس کے خاموش ہونے پر سالار نے کہا۔
    ’’کیوں؟‘‘ وہ چونکی۔
    ’’میری شادی کے تیسرے ہی ہفتے میری بیوی کو اپنا گھر دکھا دیا۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔
    ’’کہیں زمین خرید لیتے ہیں سالار!ـ‘‘ امامہ نے اس کی بات نظر انداز کی۔
    ’’امامہ میرے پاس دو پلاٹ ہیں، پاپا نے دیئے ہیں۔ اسلام آباد میں تو گھر بنانا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ جب بنانا ہوگا، بنالیں گے۔‘‘ سالار نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
    وہ یک دم پرجوش ہوئی۔ ’’کتنے بڑے پلاٹ ہیں؟‘‘
    ’’دس دس مرلے کے ہیں۔‘‘
    ’’بس…؟ کم از کم ایک ، دو کنال تو ہونا چاہیے۔‘‘ وہ مایوس سی ہوئی تھی۔
    ’’ہاں، دس مرلے کم ہیں۔ دو کنال تو ہونا ہی چاہیے۔‘‘ سالار نے تائید کی۔
    ’’نہیں، دو نہ ہو، ایک ہی ہوجائے۔ ایک بھی بہت ہے… اس میں ایک سبزیوں کا فارم بنائیں گے، جانور بھی رکھیں گے۔ ایک سمر ہاؤس بنائیں گے، ایک گزیبو بنائیں گے اور ایک فش فارم بھی بنالیں گے۔‘‘
    سالار کو لگا کہ امامہ کو جگہ کا اندازہ کرنے میں غلطی ہوئی تھی۔
    ’’ایک کنال میں یہ سب کچھ نہیں بن سکتا امامہ!‘‘ اس نے مدھم آواز میں اس سے کہا ، وہ چونکی۔
    ’’لیکن میں تو ایکڑ کی بات کررہی تھی۔‘‘
    وہ چند لمحے بھونچکا سارہ گیا۔
    ’’اسلام آباد میں تمہیں ایکڑ زمین کہاں سے ملے گی؟‘‘ چند لمحوں کے بعد اس نے سنبھل کر کہا۔
    ’’اسلام سے باہر تو مل سکتی ہے نا؟‘‘ امامہ سنجیدہ تھی۔
    ’’تم پھر گھر نہ کہو، یہ کہو کہ فارم ہاؤس بنانا چاہتی ہو تم۔‘‘
    ’’نہیں، فارم ہاؤس نہیں، ایک بڑی سی کھلی سی جگہ پر ایک چھوٹا سا گھر … جیسے کوئی وادی… اس طرح کی وادی میں گھر ۔‘‘
    ’’پاپا کا بھی ایک فارم ہاؤس ہے، کبھی کبھار جاتے ہیں ہم لوگ… تمہیں بھی لے جاؤں گا وہاں ۔‘‘
    سالار نے اسے پھر ٹالا۔
    ’’میں فارم ہاؤس کی بات نہیں کررہی، اصلی والے گھر کی بات کررہی ہوں۔‘‘
    امامہ اب بھی اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔
    ’’جس طرح کا میرا پروفیشن ہے امامہ۔ اس میں میں فارم ہاؤس یا شہر سے باہر رہائش رکھنا افورڈ نہیں کرسکتا۔ کم از کم جب تک میں کام کررہاہوں، تب تک مجھے بڑے شہروں میں رہنا ہے اور بڑے شہروں میں اب بہت مشکل ہے ایکڑز میں شہرکے اندر کوئی گھر بنانا۔ یہ تمہارے ان رومانٹک ناولز میں ہو سکتا ہے لیکن رئیل لائف میں نہیں، جو چیز ممکن اور پریکٹیکل ہے وہ یہ ہے کہ چند سالوں کے بعد کوئی لگژری فلیٹ لے لیا جائے یا دو چار کنال کا کوئی گھر بنالیا جائے یا چلو پانچ چھے کنال بھی ہوسکتا ہے، لیکن کسی اچھی جگہ پر اس سے بڑا گھر افورڈ ایبل نہیں ہوگا۔ ہاں! یہ ضرور کرسکتا ہوں کہ پانچ دس سال بعد لاہور یا اسلام آباد سے باہر کہیں ایک فارم ہاؤس بنالیا جائے، لیکن میں جانتا ہوں، بیس یا تیس سال میں ہم دس یا بیس بار سے زیادہ نہیں جا پائیں گے وہاں۔ وہ بھی چند دنوں کے لئے، لیکن وہ ایک سفید ہاتھی ثابت ہوگا ہمارے لئے، جس پر ہر ماہ ہمارے اخراجات ہوں گے۔‘‘
    سالار کو اندازہ نہیں ہوا کہ اس نے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی صاف گوئی کا مظاہرہ کردیا ہے۔ امامہ کا رنگ کچھ پھیکا سا پڑگیا تھا۔ وہ حقیقت تھی، جو وہ اسے دکھا رہا تھا۔ سالار نے اسے دوبارہ بولتے نہیں دیکھا۔ گھر پہنچنے تک وہ خاموش رہی اور پورا راستہ اس کی خاموشی اسے چبھی تھی۔
    ’’اچھا، تم گھر کا ایک اسکیچ بناؤ، میں دیکھوں گا اگر فیز یبل ہوا تو بنایا جاسکتا ہے۔‘‘
    یہ اس نے سونے سے پہلے سرسری انداز میں امامہ سے کہا تھا اور ایک سیکنڈ میں امامہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوتے دیکھا۔ ایک چھوٹی سی بات اسے اتنا خوش کردے گی، اسے اس کا اندازہ نہیں تھا۔
    سحری کے وقت وہ جب الارم کی آواز پر اٹھا تو وہ بستر میں نہیں تھی۔
    ’’تم آج پہلے اٹھ گئیں۔‘‘
    وہ کچن میں کام کررہی تھی جب سالار سحری کے لئے وہاں گیا۔ وہ جواب دینے کے بجائے مسکرائی تھی۔ سالار کو حیرت ہوئی، آج اس نے سحری ختم کرنے میں بڑی عجلت دکھائی تھی اور کیوں دکھائی تھی، یہ راز زیادہ دیر تک راز نہیں رہا تھا۔ کھانا ختم کرتے ہی وہ اپنی اسکیچ بک اٹھا لائی تھی۔
    ’’یہ میں نے اسکیچ کرلیا ہے جس طرح کا گھر میں کہہ رہی تھی۔‘‘
    سحری کرتے ہوئے سالار بری طرح چونکا تھا۔ وہ اپنی کسی ہدایت پر اتنے فوری عمل درآمد کی توقع نہیں کررہا تھا۔ وہ اسکیچ بک اس کے سامنے کھولے بیٹھی تھی۔ ٹشو سے ہاتھ پونچھتے ہوئے،ا س اسکیچ بک کو تھامے، سالار نے ایک نظر اس پر ڈالی اور دوسری اس گھر پر ، جو سامنے اسکیچ میں نظر آرہا تھا۔ گھر سے زیادہ اسے ایک اسٹیٹ کہنا زیادہ بہتر تھا۔ اس نے گھر میں ہر وہ چیز شامل کی تھی جس کا ذکر اس نے اس رات کو کیا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ پہلے وہ اسے زبانی بتارہی تھی، اب وہی سب کچھ ایک ڈرائنگ کی شکل میں اس کے سامنے تھا۔
    پہاڑوں کے دامن میں، کھلے سبزے میں، ایک چھوٹا سا گھر، جس کے سامنے ایک جھیل تھی اور اس کے اردگرد وہ چھوٹے چھوٹے اسٹرکچرز تھے جس کا وہ ذکر کررہی تھی، گزیبو اور سمر ہاؤس۔ اس نے اپنے اسکیچز کو کلر بھی کیا ہوا تھا۔
    ’’اور یہ آگے بھی ہے…‘‘ اس نے سالار کو اسکیچ بک بند کرتے دیکھ کر جلدی سے اگلا صفحہ پلٹ دیا۔
    وہ اس کے گھر کا یقینا عقبی حصہ تھا جہاں پر ایک اصطبل اور پرندوں کی مختلف قسم کی رہائش گاہیں بنائی گئی تھیں۔ اس میں وہ فش فارم بھی تھا، جس کا وہ رات کو ذکر کررہی تھی۔
    ’’تم رات کو سوئی نہیں؟‘‘ اسکیچ بک بند کرتے ہوئے سالار نے اس سے پوچھا۔
    وہ اسکیچز گھنٹوں کی محنت کے بغیر نہیں بن سکتے تھے۔ امامہ کو اس تبصرے نے جیسے مایوس کیا۔ وہ اسکیچز دیکھنے پر سالار سے کسی اور بات کے سننے کی توقع کررہی تھی۔
    ’’اچھا ہے نا؟‘‘ اس نے سالار کے سوال کا جواب دیئے بغیر کہا۔
    کانٹا ہاتھ میں لئے وہ بہت دیر تک اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ جو اس کے لئے گھر تھا، وہ اس کے لئے اب بھی فارم ہاؤس ہی تھا اور آسان نہیں تھا لیکن وہ ایک بار پھر اس بات پر بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔
    ’’بہت اچھا ہے۔‘‘ ایک لمبی سی خاموشی کے بعد کہے جانے والے اس جملے پر وہ بے اختیار کھل اٹھی تھی۔
    ’’تمہارے دونوں پلاٹس بیچ کر ہم کسی جگہ پر، ذرا بڑی جگہ…‘‘
    ’’ذرا بڑی جگہ…؟ ایک ایکڑ کی بات کررہی ہو کم از کم تم… اور زمین تو چلو کسی نہ کسی طرح آہی جائے گی لیکن اس گھر کی مینٹی نینس کے اخراجات… ویل… مجھے کم از کم کروڑ پتی ہوکر مرنا پڑے گا اگر ارب پتی نہیں تو…‘‘ سالار نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
    امامہ نے بے حد خفگی سے اسکیچ بک بند کردی۔
    ’’ٹھیک ہے، میں نہیں کروں گی اب گھر کی بات۔‘‘
    وہ پلک جھپکتے میں اٹھ کر، اپنی اسکیچ بک کے ساتھ غائب ہوگئی تھی۔
    وہ کانٹا ہاتھ میں پکڑے بیٹھا رہ گیا۔ یہ ایک بے حد مضحکہ خیز صورت حال تھی جس کا وہ سامنا کررہا تھا۔
    سالار سحر ی ختم کرکے بیڈ روم میں آگیا۔ امامہ صوفے پر اسکیچ بک کھولے بیٹھی تھی۔ سالار کو دیکھ کر اس نے اسکیچ بک بند کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔
    ’’اگر تمہیں فوری طور پر گھر چاہیے تو میں خرید دیتا ہوں تمہیں۔‘‘
    اس نے بے حد سنجیدگی سے اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
    ’’مجھے اس طرح کا گھر چاہیے۔‘‘ اس نے پھر اسکیچ بک اٹھالی۔
    ’’ایک ایکڑ ہو یا نہ ہو، لیکن ایسا ایک بنادوں گا میں تمہیں۔ وعدہ … لیکن اب یہ ہوم مینیاکو اپنے سر سے اتار دو۔‘‘ وہ امامہ کا کندھا تھپکتے ہوئے اٹھ کیا۔
    وہ بے اختیار مطمئن ہوگئی۔ وعدہ کا لفظ کافی تھا فی الحال اس کے لئے… ’’وعدہ‘‘ کو ’’گھر‘‘ بنانا زیادہ مشکل نہ ہوتا اس کے لئے۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۲ (آدم و حوّا)

    وہ پہلی صبح تھی جب اس کی آنکھ سالار سے پہلے کھلی تھی، الارم سیٹ ٹائم سے بھی دس منٹ پہلے۔ چند منٹ وہ اسی طرح بستر میں پڑی رہی۔ اسے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ رات کا کون سا پہر ہے۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑا الارم کلاک اٹھا کر اس نے ٹائم دیکھا پھر ساتھ ہی الارم آف کر دیا۔ بڑی احتیاط سے وہ اٹھ کر بستر میں بیٹھی۔ سائیڈٹیبل کا لیمپ بڑی احتیاط سے آن کرتے ہوئے اس نے سلیپرز ڈھونڈے، پھر اس نے کھڑے ہوتے ہوئے سائیڈ ٹیبل کا لیمپ آف کیا۔ تب اس نے سالار کی سائیڈ کے لیمپ کو آن ہوتے دیکھا۔ وہ کس وقت بیدار ہوا تھا، امامہ کو اندازہ نہیں ہوا تھا۔
    ’’میں سمجھی تم سو رہے ہو۔‘‘ اس نے سالار کے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
    ’’میں ابھی اٹھا ہوں، کمرے میں آہٹ کی وجہ سے۔‘‘
    وہ اسی طرح لیٹے لیٹے اب اپنا سیل فون دیکھ رہا تھا۔
    ’’لیکن میں نے تو کوئی آواز نہیں کی۔ میں تو کوشش کر رہی تھی کہ تم ڈسٹرب نہ ہو۔‘‘ امامہ کچھ حیران ہوئی تھی۔
    ’’میری نیند زیادہ گہری نہیں ہے امامہ! کمرے میں ہلکی سے ہلکی آہٹ بھی ہو تو میں جاگ جاتا ہوں۔‘‘ اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے سیل سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
    ’’میں آئندہ احتیاط کروں گی۔‘‘ اس نے کچھ معذرت خوانہ انداز میں کہا۔
    ’’ضرورت نہیں، مجھے عادت ہے اسی طرح کی نیند کی۔ مجھے اب فرق نہیں پڑتا۔‘‘ اس نے بیڈ پر پڑا ایک اور تکیہ اٹھا کر اپنے سر کے نیچے رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ وہ واش روم میں جانے سے پہلے چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔ ہر انسان ایک کتاب کی طرح ہوتا ہے۔ کھلی کتاب جسے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے۔ سالار بھی اس کے لیے ایک کھلی کتاب تھا لیکن چائنیز زبان میں لکھی ہوئی کتاب۔
    اس دن اس نے اور سالار نے سحری اکٹھے کی اور ہر روز کی طرح سالار، فرقان کے ساتھ نہیں گیا۔ وہ شاید پچھلے کچھ دنوں کی شکایتوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امامہ کا موڈ رات کو ہی بہت اچھا ہو گیا تھا اور اس میں مزید بہتری اس کی اس ’’توجہ‘‘ نے کی۔
    مسجد میں جانے سے پہلے آج پہلی بار اس نے اسے مطلع کیا۔
    ’’امامہ! تم میرا انتظار مت کرنا۔ نماز پڑھ کر سو جانا، میں کافی لیٹ آوؑں گا۔‘‘
    اس نے جاتے ہوئے اسے تاکید کی لیکن وہ اس کی تاکید کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے انتظار میں بیٹھی رہی۔
    وہ ساڑھے آٹھ بجے اس کے آفس جانے کے بعد سوئی تھی۔ دوبارہ اس کی آنکھ گیارہ بجے ڈور بیل کی آواز پر کھلی۔ نیند میں اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے، اس نے بیڈ روم سے باہر نکل کر اپارٹمنٹ کا داخلی دروازہ کھولا۔ چالیس، پینتالیس سالہ ایک عورت نے اسے بے حد پُرتجسس نظروں سے دیکھتے ہوئے سلام کیا۔
    ’’مجھے نوشین باجی نے بھیجا ہے۔‘‘ اس نے اپنا تعارف کروایا۔
    امامہ کو ایک دم یاد آیا کہ اس نے نوشین کو صفائی کے لیے ملازمہ کو کل کے بجائے اگلے دن بھیجنے کے لیے کہا تھا۔ وہ اسے راستہ دیتی ہوئی دروازے سے ہٹ گئی۔
    ’’اتنی خوشی ہوئی جب نوشین باجی نے مجھے بتایا کہ سالار صاحب کی بیوی آگئی ہے۔ مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ کب شادی کر لی سالار صاحب نے۔ ‘‘ امامہ کے پیچھے اندر آتے ہوئے ملازمہ کی باتوں کا آغاز ہو گیا تھا۔
    ’’کہاں سے صفائی شروع کرنی ہے تم نے؟‘‘
    امامہ کی فوری طور پر سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے صفائی کے بارے میں کیا ہدایات دے۔
    ’’باجی! آپ فکر نہ کریں۔ میں کر لوں گی، آپ چاہے آرام سے سو جاؤ۔‘‘ملازمہ نے اسے فوری آفر کی۔ یہ شاید اس نے اس کی نیند سے بھری ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر کہا تھا۔
    ’’نہیں، تم لاؤنج سے صفائی شروع کرو، میں ابھی آتی ہوں۔‘‘
    آفر بری نہیں تھی، اسے واقعی نیند آرہی تھی لیکن وہ اس طرح اسے گھر میں کام کرتا چھوڑ کر سو نہیں سکتی تھی۔
    واش روم میں آکر اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، کپڑے تبدیل کر کے بال سمیٹے اور لاؤنج میں نکل آئی۔ ملازمہ ڈسٹنگ میں مصروف تھی۔ لاؤنج کی کھڑکیوں کے بلائنڈز اب ہٹے ہوئے تھے،سورج ابھی پوری طرح نہیں نکلا تھا لیکن اب ھند نہ ہونے کے برابر تھی۔ لاؤنج کی کھڑکیوں سے باہر پودے دیکھ کر اسے انہیں پانی دینے کا خیال آیا۔
    ملازمہ ایک بار پھر گفتگو کا آغاز کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اسے بالکونی کی طرف جاتے دیکھ کر چپ ہو گئی۔
    جب وہ پودوں کو پانی دے کر فارغ ہوئی تو ملازمہ لاؤنج صاف کرنے کے بعد اب سالار کے اس کمرے میں جا چکی تھی جسے وہ اسٹڈی روم کی طرح استعمال کرتا تھا۔
    ’’’سالار صاحب بڑے اچھے انسان ہیں۔‘‘
    تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں اپارٹمنٹ کی صفائی کرنے کے بعد امامہ نے اس سے چائے کا پوچھا تھا۔ چائے پیتے ہوئے ملازمہ نے ایک بار پھر اس سے باتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ امامہ اس کے تبصرے پر صرف مسکرا کر خاموش ہو گئی۔
    ’’آپ بھی ان کی طرح بولتی نہیں ہیں؟‘‘ ملازمہ نے اس کے بارے میں اپنا پہلا اندازہ لگایا۔
    ’’اچھا، سالار بھی نہیں بولتا۔‘‘ امامہ نے جان بوجھ کر اسے موضوع گفت گوبنایا۔
    ’’کہاں جی۔ حمید بھی یہی کہتا ہے صاحب کے بارے میں۔‘‘
    ملازمہ نے شاید سالار کے ملازم کا نام لیا تھا۔
    ’’لیکن باجی! بڑی حیا ہے آپ کے آدمی کی آنکھ میں۔‘‘
    اس نے ملازمہ کے جملے پر جیسے بے حد حیران ہو کر اس کا چہرہ دیکھا تھا۔ ملازمہ بڑی سنجیدگی سے بات کر رہی تھی۔
    ’’جیسے فرقان صاحب ہیں ویسی ہی عادت سالار صاحب کی ہے۔ فرقان صاحب تو خیر سے بال بچوں والے ہیں لیکن سالار صاحب تو اکیلے رہتے تھے ادھر۔ میں تو کبھی بھی اس طرح اکیلے مردوں والے گھروں میں صفائی نہ کروں۔ بڑی دنیا دیکھی ہے جی میں نے، لیکن یہاں کام کرتے ہوئے کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا صاحب نے مجھے۔ میں کئی بار سوچتی تھی کہ بڑے ہی نصیب والی عورت ہو گی، جو اس گھر میں آئے گی۔‘‘
    ملازمہ فراٹے سے بول رہی تھی۔
    ہیٹر کے سامنے صوفے پر نیم دراز زمامہ اس کی باتیں سنتی کسی سوچ میں گم رہی۔ ملازمہ کو حیرت ہوئی تھی کہ باجی اپنے شوہر کی تعریف پر خوش کیوں نہیں ہوئی۔ ’’باجی‘‘ کیا خوش ہوتی، کم از کم اسے اتنی توقع تو تھی اس سے کہ وہ گھر میں کام کرنے والی کسی عورت کے ساتھ کبھی انوالو نہیں ہو سکتا۔ وہ مردوں کی کوئی بری ہی بد ترین قسم ہوتی ہو گی، جو گھر میں کام کرنے والی ملازمہ پربھی نظر رکھتے ہوں گے اور سالار کم از کم اس قسم کے مردوں میں شمار نہیں ہو سکتا تھا۔
    ملازمہ اس کی مسلسل خاموشی سے کچھ بے زار ہو کر جلدی چائے پی کر فارغ ہو گئی۔ امامہ اس کے پیچھے دروازہ بند کرنے گئی تو ملازمہ نے باہر نکلنے سے پہلے مڑ کر اس سے کہا۔
    ’’باجی! کل ذرا جلدی آجاؤں آپ کے گھر؟‘‘
    امامہ ٹھٹک کر رک گئی۔ اس کے چہرے پر یقینا کوئی ایسا تاثر تھا جس نے ملازمہ کو کچھ بوکھلا دیا تھا۔
    ’’باجی! مجھے چھوٹے بچے کو ہسپتال لے کر جانا ہے، اس لیے کہہ رہی تھی۔‘‘ اس نے جلدی سے کہا۔
    ’’ہاں، ٹھیک ہے۔‘‘ امامہ نے بہ مشکل جیسے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا اور دروازہ بند کر دیا۔ کل جلدی آنے کے مطالبے نے اسے ساکت نہیں کیا تھا بلکہ اسے ساکت کیا تھا اس کے تین لفظوں نے… ’’آپ کے گھر‘‘ یہ ’’اس کا گھر ‘‘ تھا جس کے لیے وہ اتنی سالوں سے خوار ہوتی پھر رہی تھی۔ جس کی آس میں وہ کتنی بار جلال انصر کے پیچھے گڑ گڑانے گئی تھی۔ وہ بے یقینی سے لاؤنج میں آکر ان دیواروں کو دیکھ رہی تھی جنہیں دنیا ’’اس کے گھر‘‘ کے نام سے شناخت کر رہی تھی، وہ واقعی اس کا گھر تھا۔ وہ پناہ گاہیں نہیں تھیں جہاں وہ اتنے سال سرجھکا کر ممنون و احسان مند بن کر رہی تھی۔ آنسوؤں کا ایک ریلا آیا تھا اس کی آنکھوں میں… بعض اوقات انسان سمجھ نہیں پاتا کہ وہ روئے یا ہنسے… روئے ، تو کتنا روئے… ہنسے، تو کتنا ہنسے… وہ بھی کچھ ایسی ہی کسی کیفیت سے گزر رہی تھی۔ وہ بچوں کی طرح ہر کمرے کا دروازہ کھول کھول کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہی تھی۔ وہ جا سکتی تھی وہاں… جو چاہے کر سکتی تھی… یہ اس کا گھر تھا۔ یہاں کوئی جگہ اس کے لیے ’’علاقہ غیر‘‘ نہیں تھی۔ اسے بس اتنی سی دنیا ہی چاہیے تھی اپنے لیے… کوئی ایسی جگہ جہاں وہ استحقاق کے ساتھ رہ سکتی ہو… سالار یک دم جیسے کہیں پیچھے چلا گیا تھا۔ گھر کے معاملے میں عورت کے لیے ہر مرد پیچھے رہ جاتا ہے۔
    سالار نے اسے دوبار وقفے وقفے سے سیل پر کال کی لیکن امامہ نے ریسیو نہیں کی… سالار نے تیسری بار پھر پی ٹی سی ایل پر کال کی، اس بار امامہ نے ریسیو کی لیکن اس کی آواز سنتے ہی سالار کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ رو رہی تھی۔ اسے اس کی آواز بھر آئی ہوئی لگی۔ وہ بہت پریشان ہوا۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘
    ’’کچھ نہیں۔‘‘
    وہ دوسری طرف جیسے اپنے آنسوؤں اور آواز پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ’’کیوں رو رہی ہو؟‘‘
    سالار کی واقعی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ رات ہر جھگڑے کا اختتام بے حد خوشگوار انداز میں ہوا تھا۔ وہ صبح دروازے تک مسکرا کر اسے رخصت کرنے آئی تھی۔ پھر اب… ؟ وہ اُلجھ رہا تھا۔
    دوسری طرف امامہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے اپنے رونے کا کیا جواز پیش کرے۔ اس سے یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ اس لیے رو رہی ہے کہ کسی نے اسے ’’گھر والی‘‘ کہا ہے۔ سالار یہ بات نہیں سمجھ سکتا تھا… کوئی بھی مرد نہیں سمجھ سکتا۔
    ’’مجھے امی اور ابو یاد آرہے رہیں۔‘‘ سالار نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔
    یہ وجہ سمجھ میں آتی تھی… وہ یک دم پر سکون ہوا۔ ادھر وہ بالکل خاموش تھی۔ ماں باپ کا ذکر کیا تھا، جھوٹ بولا تھا لیکن اب رونے کی جیسے ایک اور وجہ مل گئی تھی۔ جو آنسو پہلے تھم رہے تھے، وہ ایک بار پھر سے برسنے لگے تھے۔ کچھ دیر وہ چپ چاپ فون پر اس کی سسکیاں اور ہچکیاںسنتا رہا۔
    وہ اس غیر ملکی بینک میں انویسٹمنٹ بینکنگ کو ہیڈ کرتا تھا۔ چھوٹے سے چھوٹا investment scam پکڑ سکتا تھا، خسارے میں جاتی بڑی سے بڑی کمپنی کے لیے بیل آؤٹ پلان تیار کر سکتا تھا۔ کمپنیز کے مرجر پیکجز تیار کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ وہpoint one percentکیprecision کے ساتھ ورلڈ اسٹاک مارکیٹیں کے ٹرینڈز کی پیش بینی کر سکتاتھا۔ مشکل سے مشکل سرمایہ کار کے ساتھ سودا طے کرنے میں اسے ملکہ حاصل تھا لیکن شادی کے اس ایک ہفتے کے دوران ہی اسے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ امامہ کو روتے ہوئے چپ نہیں کرا سکتا، نہ وہ ان آنسوؤں کی وجہ ڈھونڈ سکتا تھا، نہ انہیں روکنے کے طریقے اسے آتے تھے۔ وہ کم از کم اس میدان میں بالکل اناڑی تھا۔
    ’’ملازمہ نے گھر صاف کیا تھا آج؟‘‘ ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے امامہ کی توجہ رونے سے ہٹانے کے لیے جس موضوع اور جملے کا انتخاب کیا وہ احمقانہ تھا۔ امامہ کو جیسے یقین نہیں آیا کہ یہ بتانے پر کہ اسے اپنے ماں باپ یاد آرہے ہیں، سالار نے اس سے یہ پوچھا ہے۔ پچھلی رات کے سالار کے سارے لیکچرز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس نے ریسیور کریڈل پر پٹک دیا اور فون منقطع ہوتے ہی سالار کو اپنے الفاظ کے غلط انتخاب کا احساس ہو گیا تھا۔ اپنے سیل کی تاریک اسکرین کو دیکھتے ہوئے اس نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔
    اگلے پانچ منٹ وہ سیل ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔ اسے پتا تھا اس نے اب کال کی تو وہ ریسیو نہیں کرے گی۔ پانچ منٹ کے بعد اس نے دوبارہ کال کی۔ خلاف توقع امامہ نے کال ریسیو کی۔ اس بار اس کی آواز میں خفگی تھی لیکن وہ بھرائی ہوئی نہیں تھی۔ وہ یقینا رونا بند کر چکی تھی۔
    ’’آئی ایم سوری!؟‘‘ سالار نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔
    امامہ نے جواب نہیں دیا۔ وہ اُس وقت اس کی معذرت نہیں سن رہی تھی۔ وہ صرف ایک ہی بات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی، اسے سالار پر غصہ کیوں آجاتا تھا…؟ یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر… اتنے سالوں میں جس ایک احساس کو وہ مکمل طور پر بھول گئی تھی، وہ غصے کا احساس ہی تھا۔ یہ احساس اس کے لیے اجنبی ہو چکا تھا۔ اتنے سالوں سے اس نے اللہ کے علاوہ کسی سے بھی کوئی گلہ، کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ کسی سے ناراض ہونا یا کسی کو خفگی دکھانا تو بہت دور کی بات ہے، پھر اب یہ احساس اس کے اندر کیوں جاگ اٹھا تھا۔ سعیدہ اماں، ڈاکٹر سبط علی اور ان کی فیملی… اس کے کلاس فیلوز… کولیگز… ان میں سے کبھی کسی پر اسے غصہ نہیں آیا تھا۔ ہاں، کبھی کبھار شکایت ہوتی تھی لیکن وہ شکایت کبھی لفظوں کی شکل اختیار نہیں کر سکی، پھر اب کیا ہو رہا تھا اسے؟
    ’’امامہ پلیز بولو… کچھ کہو۔‘‘ وہ چونکی۔
    ’’نماز کا وقت نکل رہا ہے، مجھے نماز پڑھنی ہے۔‘‘ اس نے اسی الجھے ہوئے انداز میں اس سے کہا۔
    ’’تم خفا نہیں ہو؟‘‘ سالار نے اس سے پوچھا۔
    ’’نہیں۔‘‘ اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    وہ نماز کے بعد دیر تک اسی ایک سوال کا جواب ڈھونڈتی رہی اور اسے جواب مل گیا… نو سال میں اس نے پہلی بار اپنے لیے کسی کی زبان سے محبت کا اظہار سنا تھا۔ وہ احسان کرنے والوں کے ہجوم میں تھی، پہلی بار کسی محبت کرنے والے کے حصار میں آئی تھی۔ گلہ، شکوہ، ناز، نخرہ، غصہ، خفگی یہ سب کیسے نہ ہوتا، اسے ’’پتا‘‘ تھا کہ جب وہ روٹھے گی تو وہ اسے منا لے گا، خفا ہو گی تو وہ اسے وضاحتیں دے گا، مان تھا یا گمان… لیکن جو کچھ بھی تھا، غلط نہیں تھا۔ اتنے سالوں میں جو کچھ اس کے اندر جمع ہو گیا تھا، وہ کسی لاوے کی طرح نکل رہا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ نارمل ہو رہی تھی۔
    ٭٭٭٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱ (آدم و حوّا)

    پیر کاملؐ سے آبِ حیات تک
    ’’آب حیات‘‘ پیر کاملؐ کا دوسرا حصہ ہے جسے میں نے 2004ء میں پیر کاملؐ کی اشاعت کے فوراً بعد لکھنے کے بجائے کچھ سال بعد آپ کے سامنے لانے کا فیصلہ اس لئے کیا تھا کہ پیر کاملؐ کی کامیابی کی گرد اور بازگشت میں آبِ حیات کا موضوع نظر انداز نہ ہوجائے۔
    ’’آب ِ حیات‘‘ کا موضوع ’’سود‘‘ ہے… وہ فتنہ جسے نبی کریمؐ نے اپنے آخری خطبے میں حرام قرار دیتے ہوئے اس کی بیخ کُنی کا حکم دیا لیکن ان واضح احکامات کے باوجود آج بھی مسلمانوں کی زندگی کا بالواسطہ اور بلاواسطہ حصہ بنا ہوا ہے۔
    بہت سے قارئین کو سود سے پاک ایک طاقتور اسلامی مالیاتی نظام کا وہ خاکہ جو ’’آبِ حیات‘‘ پیش کررہا ہے شاید ایک خیالی پلاؤ اور آئیڈیل ازم سے زیادہ کچھ نہ لگے، اس کے باوجود میں اپنے کرداروں اور کہانی کو اسی یقین اور آئیڈیل ازم کے ساتھ پیش کررہی ہوں کہ لکھے جانے والے الفاظ دنیا کی بڑی بڑی تحاریک کے آغاز کا باعث بنتے ہیں۔ کتابوں کے صفوں پر تخلیق ہونے والے ’’رول ماڈلز‘‘ حقیقی زندگی کے بہت سارے ’’ہیروز‘‘ کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں اور آنے والے زمانوں میں ایک زمانہ ایسا ضرور آئے گا جس میں سود سے پاک ایک اسلامی مالیاتی نظام سے دنیا بھر کے انسان اسی طرح مستفید ہوں گے جس طرح ہم آج مغرب کے دیئے ہوئے سودی نظام پر انحصار کررہے ہیں۔
    سود میں استحصال ہے، فلاح نہیں ہے اور قرآن میں اس کی ممانعت انسانوں کی اپنی بھلائی کے لئے ہے… بالکل اسی طرح جیسے قرآن کے باقی تمام احکامات۔
    لفظ آبِ حیات جن چھے حروف سے مل کر بنا ہے، ان میں ہر حرف انسانی زندگی کی ایک بنیادی اسٹیج کو بیان کرتا ہے :
    آ: آدم و حوّا
    ب: بیت العنکبوت
    ح: حاصل و محصول
    ی: یا مجیب السائلین
    ا: ابداً ابداَ
    ت: تبارک الّذی
    یہ چھے الفاظ پوری انسانی زندگی کا خلاصہ کرتے ہیں۔
    سالار اور امامہ آبِ حیات میں وہی سفر طے کرتے ہیں جو ہم سب کی زندگی کا سفر ہے۔
    آدم و حوّا کا ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوکر زندگی بھر کا ساتھی بن جانا۔
    دنیا میں اس جنت جیسا گھر بنانے کی خواہش اور سعی میں جت جانا جہاں سے وہ دونوں نکالے گئے تھے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کا گھر بیت العنکبوت (مکڑی کا جالا) جیسی ناپائیداری رکھتا ہے جو بننے میں عرصہ لیتا ہے اور ٹوٹنے میں لمحہ…
    حاصل و محصول کا چکر… کیا کھویا کیا پایا؟ کیا پانے کے لئے کیا کیا کھویا؟ کامیابی، خواب، خواہشات اور تمناؤں کا ایک گرداب جو زندگی کو گھن چکر بنادیتا ہے۔
    اس کے بعد اگلا مرحلہ جہاں آزمائشیں ہوتی ہیں… اتنی اور ایسی ایسی آزمائشیں کہ بس اللہ یاد آتا ہے اور وہی کام آتا ہے کیوں کہ وہ ہی مجیب السائلین ہے۔
    اور پھر وہ مرحلہ جب انسان اپنی اگلی نسل کے ذریعے اپنے عروج کا دوام چاہتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ اس زندگی کو زوال ہے۔
    اور پھر وہ جو زندگی کے ان سارے مرحلوں سے نکل آتے ہیں، مومن بن کے انسانی پستیوں سے نکل کے۔ ان کے لئے تبارک الّذی… اللہ کی ذات جو تمام خوبیوں کی املک ہے۔ بزرگ و برتر ہے اور اپنے بندوں کو سب عطا کردینے پر قادر ہے… جس کی محبت ’’آبِ حیات‘‘ ہے جو انسان کو ابدی جنت میں لے جاتا ہے۔ دنیا ختم ہوجاتی ہے لیکن زندگی نہیں۔
    چند الفاظ آپ سب کے لئے… آپ سب سے ملنے والی عزت اور محبت وہ بیج ہے جس سے میری ہر تحریر پھوٹتی ہے۔ آپ سب کا بہت شکریہ… میں آپ کی داد و ستائش کا بدلہ نہ پہلے کبھی دے سکی، نہ اب دے سکتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی نعمتوں اور برکات سے نوازے اور وہی بہترین اجر دینے والا ہے۔
    والسلام
    عمیرہ احمد




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱۰ (آخری قسط)

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱۰ (آخری قسط)

    وہ اس سے تین قدم آگے کھڑا تھا۔ اتنا قریب کہ وہ ہاتھ بڑھاتی تو اس کا کندھا چھولیتی۔ وہاں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ وہ اس کے کندھے سے اوپر خانہ کعبہ کے کھلتے ہوئے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ نور کے اس سیلاب کو دیکھ رہی تھی جس نے وہاں موجود ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا تھا۔ وہ خانہ کعبہ کے غلاف پر تحریر آیات کو بآسانی دیکھ سکتی تھی۔ وہ آسمان پر موجود ستاروں کی روشنی کو یک دم بڑھتے محسوس کرسکتی تھی۔
    اس سے آگے کھڑا شخص تلبیہ پڑھ رہا تھا۔ وہاں گونجنے والی واحد آواز اسی کی آواز تھی۔ خوش الحان آواز… اس نے بے اختیار اپنے آپ کو اس کے پیچھے وہی کلمات دہراتے پایا۔ اسی طرح جس طرح وہ پڑھ رہا تھا، مگر زیر لب پھر وہ اپنی آواز اس کی آواز میں ملانے لگی۔ اسی کی طرح مگر زیرلب… پھر اس کی آواز بلند ہونے لگی پھر اس کو احساس ہوا… وہ اپنی آواز اس کی آواز سے بلند نہیں کرپارہی تھی۔ اس نے کوشش ترک کردی۔ وہ اس کی آواز میں آواز ملاتی رہی۔
    خانہ کعبہ کا دروازہ کھل چکا تھا۔ اس نے اس شخص کو آگے بڑھ کر دروازے کے پاس جاکر کھڑے ہوتے دیکھا۔ اس نے اسے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے دیکھا۔ وہ دعا کررہا تھا۔ وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس نے ہاتھ نیچے کرلئے۔ اب وہ نیچے بیٹھ کر زمین پر سجدہ کررہا تھا، کعبہ کے دروازے کے سامنے۔ وہ اسے دیکھتی رہی۔ اب وہ کھڑا ہورہا تھا۔ وہ پلٹنے والا تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کی آواز شناسا تھی مگر چہرہ، چہرہ دیکھے بغیر… وہ اب مڑرہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    وہ یک دم ہڑبڑا کراٹھ بیٹھی۔ کمرے میں تاریکی تھی۔ چند لمحوں کے لئے اسے لگا وہ وہیں ہو، خانہ کعبہ میں، پھر جیسے وہ حقیقت میں واپس آگئی۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ جلادی اور پھر بیڈپر آکر دوبارہ بیٹھ گئی۔ اسے خواب اپنی پوری جزئیات سمیت یاد تھا، یوں جیسے اس نے کوئی فلم دیکھی ہو، مگر اس آدمی کا چہرہ وہ اسے نہیں دیکھ سکی تھی۔ اس کے مڑنے سے پہلے اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔
    ”خوش الحان آواز، جلال انصر کے سوا کس کی ہوسکتی ہے۔” اس نے سوچا۔
    مگر وہ شخص دراز قد تھا۔ جلال انصر سانولا تھا، اس شخص کے احرام میں سے نکلے ہوئے کندھے اور بازوؤں کی رنگت صاف تھی اور اس کی آواز شناسا تھی۔ وہ یہ پہچان نہیں پارہی تھی کہ وہ آواز جلال کی تھی یا کسی اور کی۔
    خواب بہت عجیب تھا مگر اس کے سر کادرد غائب ہوچکا تھا اور وہ حیران کن طورپر پر سکون تھی۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ آن کی۔ وال کلاک ایک بجارہا تھا۔ امامہ کو یاد آیا وہ رات کو عشاء کی نماز پڑھے بغیر ہی سوگئی تھی۔ اس نے کپڑے بھی تبدیل نہیں کئے تھے نہ ہی سونے سے پہلے وضو کیا تھا۔ اس نے کپڑے تبدیل کئے اور اپنے کمرے سے باہر آگئی۔ سعیدہ اماں کے کمرے میں روشنی نہیں تھی۔ وہ سورہی تھیں۔ پورے گھر میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صحن میں بلب جل رہا تھا۔ ہلکی ہلکی دھند کی موجودگی بھی بلب کی روشنی میں محسوس کی جاسکتی تھی۔ صحن کی دیواروں کے ساتھ چڑھی سبز بیلیں، سرخ انیٹوں کی دیواروں کے ساتھ بالکل ساکت تھیں۔ وہ وضو کرنے کے لئے صحن کے دوسری طرف موجود باتھ روم میں جانا چاہتی تھی مگر صحن میں جانے کے بجائے وہ برآمدے کے ستون کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ اپنے سوئیٹر کی آستینوں کو اوپر کرتے ہوئے اس نے اپنی شرٹ کی آستینوں کے بٹن کھولتے ہوئے انہیں اوپر فولڈ کردیا۔ چند لمحوں کے لئے اسے جھرجھری آئی۔ خنکی بہت زیادہ تھی پھر وہ ان بیلوں کو دیکھنے لگی۔ ایک بار پھر جلال انصر کے ساتھ شام کو ہونے والی ملاقات اسے یاد آرہی تھی مگر اس بار اس کی باتوں کی گونج اسے اشک بار نہیں کررہی تھی۔





    دستگیری میری تنہائی کی تونے ہی تو کی
    میں تو مرجاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا
    تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پرجب ٹوٹتی ہیں
    نور ہوجاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا
    کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
    اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
    ایک افسردہ سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نمودار ہوئی۔ گزرے ہوئے پچھلے ساڑھے آٹھ سالوں میں یہ آواز… اور یہ الفاظ اس کے ذہن سے کبھی معدوم نہیں ہوئے تھے اور پھر اسے کچھ دیر پہلے کے خواب میں سنائی دینے والی وہ دوسری آواز یاد آئی۔
    ”لبیک اللھم لبیک، لبیک لاشریک لک لبیک، ان الحمد والنعمتہ لک والملک لا شریک لک.”
    وہ آواز مانوس اور شناسا تھی مگر جلال انصر کی آواز کے علاوہ اور کسی آواز سے واقف نہیں تھی۔ آنکھیں بند کرکے اس نے خواب میں دیکھے ہوئے اس منظر کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ مقام ملتزم، خانہ کعبہ کا کھلا دروازہ، غلاف کعبہ کی وہ روشن آیات… وہ پرسکون، ٹھنڈی معطررات… خانہ کعبہ کے دروازے سے پھوٹتی وہ دودھیا روشنی اور سجدہ کرتا تلبیہ پڑھتا وہ مرد… امامہ نے آنکھیں کھول دیں۔ کچھ دیر تک وہ صحن میں اتری دھند میں نظریں جمائے اس آدمی کے بارے میں سوچتی رہی۔
    اس آدمی کے برہنہ کندھے کی پشت پر ہلکے ہلکے بالوں میں زخم کا ایک مندمل شدہ نشان تھا۔ امامہ کو حیرت ہورہی تھی۔ خواب کی اس طرح کی جزئیات اسے پہلے کبھی یاد نہیں رہی تھیں۔ اس نے زندگی میں پہلی بار خانہ کعبہ کو خواب میں دیکھا تھا اور وہاں بیٹھے اسے خواہش ہوئی تھی کہ کاش وہ کبھی اسی طرح مسجد نبوی ﷺ میں روضہء رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو۔ اسی طرح مسجد نبوی ﷺ لوگوں سے خالی ہو، وہاں صرف وہ ہو، وہ اندازہ نہیں لگاسکی وہ کتنی دیر وہاں اسی طرح بیٹھی رہی۔ وہ اپنے گرد و پیش میں تب لوٹی تھی جب سعیدہ اماں تہجد پڑھنے کے لئے وضو کرنے کی خاطر باہر صحن میں نکلی تھیں۔ امامہ کو وہاں اس وقت دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھیں۔
    ”تمہارے سرکا درد کیسا ہے؟” اس کے پاس کھڑے ہوکر انہوں نے پوچھا۔
    ”اب تو درد نہیں ہے۔” امامہ نے سراٹھاکر انہیں دیکھا۔
    ”رات کو کھانا کھائے بغیر ہی سوگئی تھی؟” وہ اس کے پاس برآمدے کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔
    وہ خاموشی رہی۔ سعیدہ اماں ایک گرم اونی شال اوڑھے ہوئے تھیں۔ امامہ نے ان کے کندھے پر اپنا چہرہ ٹکادیا۔ اس کے سن چہرے کو گرم شال سے ایک عجیب سی آسودگی کا احساس ہوا۔
    ”اب تم شادی کرلو آمنہ!” سعیدہ اماں نے اس سے کہا۔ وہ اسی طرح گرم شال میں اپنا چہرے چھپائے رہی۔ سعیدہ اماں پہلی بار یہ بات نہیں کہہ رہی تھیں۔
    ”آپ کردیں۔” وہ ہمیشہ ان کی اس بات پر خاموشی اختیار کرلیتی تھی۔ کیوں؟ وجہ خود بھی نہیں جانتی تھی لیکن آج پہلی بار وہ خاموش نہیں رہی تھی۔
    ”تم سچ کہہ رہی ہو؟” سعیدہ اماں اس کی بات پر حیران ہوئی تھیں۔
    ”میں سچ کہہ رہی ہوں…” امامہ نے سر ان کے کندھے سے اٹھالیا۔
    ”تمہیں کوئی پسند ہے؟” سعیدہ اماں نے اس سے پوچھا۔ وہ سر جھکائے صحن کے فرش کو دیکھ رہی تھی۔
    ”کوئی مجھے پسند ہے؟ نہیں مجھے کوئی بھی پسند نہیں ہے۔” سعیدہ اماں کو اس کی آواز بھرّائی ہوئی لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ کہتیں اس نے ایک بارپھر ان کی شال میں اپنا چہرہ چھپالیا۔
    ”تمہاری شادی ہوجائے تو میں بھی انگلینڈ چلی جاؤں گی۔”
    انہوں نے اس کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور اس کے سرکو تھپتھپاتے ہوئے ہی انہیں احساس ہواکہ وہ ان کی شال میں منہ چھپائے ہچکیوں سے رورہی تھی۔
    ”آمنہ! آمنہ بیٹا کیا ہوا؟” انہوں نے پریشان ہوکر اس کا چہرے اٹھانے کی کوشش کی۔ وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ وہ اسی طرح ان کے ساتھ لگ کر روتی رہی۔
    ”اللہ کے لئے… کچھ تو بتاؤ، کیوں رورہی ہو؟” وہ دل گرفتہ ہوگئیں۔
    ”کچھ نہیں… بس ایسے ہی… سر میں درد ہورہا ہے۔” انہوں نے زبردستی اس کا گیلا چہرہ اوپر کیا تھا۔ وہ اب اپنی آستینوں سے چہرہ پونچھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے سعیدہ اماں سے آنکھیں نہیں ملائی تھیں۔ سعیدہ اماں کی اس کی شادی کی بات کرنے والی اکیلی نہیں تھیں۔ اس کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر سبط علی نے ایک بارپھر اس سے شادی کا ذکر کیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تب اس نے کیوں انکار کردیا تھا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اب آزاد تھی۔
    ”مجھے کچھ عرصہ جاب کرلینے دیں اس کے بعد میں شادی کرلوں گی۔” اس نے ڈاکٹر سبط علی سے کہا تھا۔ شاید یہ پچھلے کئی سالوں سے ڈاکٹر سبط علی پر مالی طورپر ایک بوجھ بننے کا احساس تھا، جس سے وہ نجات حاصل کرنا چاہتی تھی یا پھر کہیں اس کے لاشعور میں یہ چیز تھی کہ ڈاکٹر سبط علی کو اس کی شادی پر ایک بارپھر اخراجات کرنے پڑیں گے اور وہ یہ چاہتی تھی کہ وہ ان اخراجات کے لئے خود کچھ جمع کرنے کی کوشش کرلے۔ اس نے یہ بات ڈاکٹر سبط علی کو نہیں بتائی تھی مگر اس نے ان سے جاب کی اجازت لے لی تھی۔
    شاید وہ ابھی کچھ عرصہ مزید جاب کرتی رہتی، مگر جلال انصر سے اس ملاقات کے بعد وہ ایک تکلیف دہ ذہنی دھچکے سے دوچار ہوئی تھی اور اس نے یک دم سعیدہ اماں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ وہ نہیں جانتی۔ سعیدہ اماں نے ڈاکٹر سبط علی سے اس بات کا ذکر کیا یا نہیں مگر وہ خود ان دنوں مکمل طورپر اس کے لئے رشتے کی تلاش میں سرگرداں تھیں اور اس کوشش کا نتیجہ فہد کی صورت میں نکلا تھا۔ فہد ایک کمپنی میں اچھے عہدے پر کام کررہا تھا اور اس کی شہرت بھی بہت اچھی تھی۔ فہد کے گھروالے اسے پہلی بار دیکھ کر ہی پسند کرگئے تھے اور اس کے بعد سعیدہ اماں نے ڈاکٹر سبط علی سے اس رشتے کی بات کی۔
    ڈاکٹر سبط علی کو کچھ تامل ہوا… شاید وہ اس کی شادی اب بھی اپنے جاننے والوں میں کرنا چاہتے تھے، مگر سعیدہ اماں کی فہد اور اس کے گھر والوں کی بے پناہ تعریفوں کے بعد اور فہد اور اس کے گھر والوں سے خود ملنے کے بعد انہوں نے سعیدہ اماں کی پسند پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، البتہ انہوں نے فہد کے بارے میں بہت چھان بین کروائی تھی اور پھر وہ بھی مطمئن ہوگئے تھے۔
    فہد کے گھروالے ایک سال کے اندر شادی کرنا چاہتے تھے لیکن پھر اچانک انہوں نے چند ماہ کے اندر شادی پر اصرار کرنا شروع کردیا۔ یہ صرف ایک اتفاق ہی تھا کہ ڈاکٹر سبط علی اسی دوران اپنی کچھ مصروفیات کی وجہ سے انگلینڈ میں تھے جب فہد کے گھر والوں کے اصرار پر تاریخ طے کردی گئی تھی۔ سعیدہ اماں فون پر ان سے مشورہ کرتی رہی تھیں اور ڈاکٹر سبط علی نے انہیں اپنا انتظار کرنے کے لئے کہا تھا۔ وہ فوری طور پر وہاں سے نہیں آسکتے تھے، البتہ انہوں نے کلثوم آنٹی کو واپس پاکستان بھجوادیا تھا۔
    اس کی شادی کی تیاری کلثوم آنٹی اور مریم نے ہی کی تھی جو راولپنڈی سے کچھ ہفتوں کے لئے اپنی سسرال لاہور آگئی تھی۔ ڈاکٹر سبط علی نے اس کی شادی کی تاریخ طے ہوجانے کے بعد فون پر اس سے طویل گفتگو کی تھی۔ ان کی تینوں بیٹیوں کی شادی ان کے اپنے خاندان میں ہی ہوئی تھی اور ان کے سسرال میں سے کسی نے بھی جہیز نہیں لیا تھا، مگر ڈاکٹر سبط علی نے تینوں بیٹیوں کے جہیز کے لئے مخصوص کی جانے والی رقم انہیں تحفتاً دے دی تھی۔
    ”ساڑھے آٹھ سال پہلے جب آپ میرے گھر آئیں تھیں اور میں نے آپ کو اپنی بیٹی کہا تھا تو میں نے آپ کے لئے بھی کچھ رقم رکھ دی تھی۔ وہ رقم آپ کی امانت ہے۔ آپ اسے ویسے لے لیں یا پھر میں مریم اور کلثوم سے کہہ دوں گا کہ وہ آپ کے جہیز کی تیاری پر اسے خرچ کریں۔ سعیدہ آپا کی خواہش تھی کہ شادی ان کے گھر پر ہو ورنہ میں چاہتا تھا کہ یہ شادی میرے گھر پر ہو۔ آپ کے گھر پر۔۔۔۔”
    انہوں نے اس سے کہا تھا۔
    ”مجھے اس بات پر بہت رنج ہے کہ میں اپنی چوتھی بیٹی کی شادی میں شرکت نہیں کرسکوں گا مگر شاید اس میں ہی کوئی بہتری ہے۔ میں پھر بھی آخری وقت تک کوشش کروں گا کسی طرح شادی پر آجاؤں۔”
    وہ ان کی باتوں کے جواب میں بالکل خاموش رہی تھی۔ اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا نہ ہی یہ اصرار کیا تھا کہ وہ اپنی شادی پر اپنی رقم خرچ کرے گی اور نہ ہی یہ کہ وہ شادی ان کی رقم سے نہیں کرنا چاہتی۔ اس دن اس کا دل چاہا تھا ان کا ایک اور احسان لینے کو۔ وہ اس پر اتنے احسان کرچکے تھے کہ اب اسے ان احسانوں کی عادت ہونے لگی تھی۔ اسے صرف ان سے ایک گلہ تھا وہ آخر اس کی شادی میں شرکت کیوں نہیں کررہے تھے۔
    ٭…٭…٭
    فہد کے گھر والوں کا اصرار تھا کہ شادی سادگی سے ہو اور اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوا تھا۔ امامہ خود بھی شادی سادگی سے کرنا چاہتی تھی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ فہد کے گھر والوں کا سادگی پر اصرار دراصل کچھ اور وجوہات کی بناء پر تھا۔
    اس کا نکاح مہندی والی شام کو ہونا تھا، مگر اس شام کو سہ پہر کے قریب فہد کے گھر والوں کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی کہ نکاح اگلے دن یعنی شادی والے دن ہی ہوگا۔ تب تک اسے یا سعیدہ اماں کوکوئی اندازہ نہیں ہوا تھا کہ فہد کے گھر میں کوئی مسئلہ تھا۔ مہندی کی ویسے بھی کوئی لمبی چوڑی تقریب نہیں تھی۔ صرف سعیدہ اماں کے بہت قریبی لوگ تھے یا پھر نزدیکی ہمسائے۔ نکاح کی تقریب کے لئے جس کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا وہ ان لوگوں کو سرو کردیا گیا۔
    شادی کی تقریب بھی سادگی سے گھرپر ہی ہونی تھی۔ چار بجے بارات کو آجانا تھا اور چھے بجے کے قریب رخصتی تھی لیکن بارات آنے سے ایک گھنٹہ پہلے فہد کے گھر والوں نے سعیدہ اماں کو فہد کی روپوشی کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے اس رشتے سے معذرت کرلی۔
    امامہ کو چار بجے تک اس سارے معاملے کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔ فہد کے گھر سے عروسی لباس پہلے بھجوا دیا گیا تھا اور وہ اس وقت وہ لباس پہنے تقریباً تیار تھی جب مریم اس کے کمرے میں چلی آئی، اس کا چہرہ ستا ہوا تھا۔ اس نے امامہ کو کپڑے تبدیل کرنے کے لئے کہا، اس نے امامہ کو فوری طورپر یہ نہیں بتایا تھا کہ فہد کے گھروالے انکار کرکے جاچکے تھے۔ اس نے امامہ سے صرف یہی کہا کہ فہد کے گھر والوں نے شادی کینسل کردی ہے اس کے گھر میں کسی قریبی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ یہ بتاکر بہت افراتفری میں کمرے سے نکل گئی۔ امامہ نے کپڑے تبدیل کرلئے لیکن اس وقت اس کی چھٹی حس نے اسے اس پریشانی سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔ اسے مریم کی بات پر یقین نہیں آیا تھا۔
    کپڑے تبدیل کرکے وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئی اور باہر موجود لوگوں کے تاثرات نے اس کے تمام شبہات کی تصدیق کردی تھی۔ وہ سعیدہ اماں کے کمرے کی طرف چلی گئی۔ وہاں بہت سے لوگ جمع تھے۔ کلثوم آنٹی، میمونہ نورالعین آپا… ہمسائے میں رہنے والی چند عورتیں، مریم اور سعیدہ اماں… مریم سعیدہ اماں کو پانی پلارہی تھی۔ وہ بہت نڈھال نظر آرہی تھیں۔ ایک لمحے کے لئے اس کے دل کی دھڑکن رکی۔ انہیں کیا ہوا تھا۔ اس کے اندر داخل ہوتے ہی سب کی نظریں اس پر پڑیں۔ میمونہ آپا اس کی طرف تیزی سے بڑھیں۔
    ”آمنہ! تم باہر آجاؤ۔” انہوں نے اسے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔
    ”اماں کو کیا ہوا ہے؟” وہ ان کی طرف بڑھ گئی۔ کلثوم آنٹی نے کمرے میں موجود لوگوں کو باہر نکالنا شروع کردیا۔ وہ سعیدہ اماں کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
    ”انہیں کیا ہواہے؟” اس نے بے تابی سے مریم سے پوچھا۔
    اس نے جواب نہیں دیا۔ سعیدہ اماں کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ وہ امامہ کو دیکھ رہی تھیں مگر اسے یوں لگا جیسے وہ اس وقت اسے دیکھ نہیں پارہی تھیں۔ گلاس ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے انہوں نے اسے ساتھ لگا کر رونا شروع کردیا۔
    کمرہ خالی ہوچکا تھا۔ صرف ڈاکٹر سبط علی کی فیملی وہاں پر تھی۔
    ”کیا ہوا ہے اماں؟ مجھے بتائیں۔” امامہ نے انہیں نرمی سے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔
    ”فہد نے اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر گھر سے جا کر کسی اور کے ساتھ شادی کرلی ہے۔” مریم نے مدھم آواز میں کہا۔”وہ لوگ کچھ دیر پہلے معذرت کرنے آئے تھے۔ وہ لوگ یہ رشتہ ختم کرگئے ہیں۔”
    چند منٹ تک وہ بالکل ساکت رہی تھی۔ خون کی گردش، دل کی دھڑکن، چلتی ہوئی سانس… چند سیکنڈز سب کچھ جیسے رک گیا تھا۔”
    ”کیا میرے ساتھ یہ بھی ہونا تھا؟” اس نے بے اختیار سوچا۔
    ”کوئی بات نہیں اماں! آپ کیوں رورہی ہیں؟” اس نے بڑی سہولت سے سعیدہ اماں کے آنسو صاف کئے۔ سب کچھ ایک بار پھر بحال ہوگیا تھا سوائے اس کی رنگت کے وہ فق تھی۔
    ”آپ پریشان نہ ہوں۔” سعیدہ اماں کو اس کی باتوں پر اور رونا آیا۔
    ”یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے… میں…” امامہ نے انہیں بات مکمل کرنے نہیں دی۔
    ”اماں! چھوڑیں ناں۔ کوئی بات نہیں، آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ لیٹ جائیں۔ کچھ دیر آرام کرلیں۔” وہ انہیں پرسکون کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
    ”میں تمہارے دل کی حالت کو سمجھ سکتی ہوں۔ میں تمہارے غم کو جانتی ہوں۔ آمنہ! میری بچی مجھے معاف کردو۔ یہ سب میری وجہ سے ہی ہوا ہے؟” انہیں تسلی نہیں ہوپارہی تھی۔
    ”مجھے کوئی غم نہیں ہے اماں! کوئی تکلیف نہیں ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے سعیدہ اماں سے کہا۔
    سعیدہ اماں یک دم روتے ہوئے اٹھ کر باہر نکل گئیں۔
    امامہ کسی سے کوئی بات کہے بغیر ایک بارپھر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس کے بیڈ پر تمام چیزیں اسی طرح پڑی ہوئی تھیں۔ اس نے انہیں سمیٹنا شروع کردیا۔ اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس وقت وہاں بیٹھی رورہی ہوتی مگر وہ غیر معمولی طور پر پرسکون تھی۔
    ”اگر میں جلال کے نہ ملنے پر صبر کرسکتی ہوں تو یہ تو پھر ایک ایسا شخص تھا جس کے ساتھ میری کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی۔” اس نے اپنے عروسی لباس کوتہ کرتے ہوئے سوچا۔
    ”زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، یہاں بھی لوگوں کے سامنے نظریں چراکر اور سرجھکا کر چلنا پڑے گا۔
    کچھ باتیں اور بے عزتی برداشت کرنی پڑے گی تو پھر کیا ہوا۔ اس میں میرے لئے نیا کیا ہے۔”
    مریم کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے ساتھ چیزیں سمیٹنے لگی۔
    ”ابو کو فون کردیا ہے۔” اس نے امامہ کو بتایا۔
    وہ پہلی بار کچھ جھنجھلائی۔
    ”کیوں خواہ مخواہ تم لوگ انہیں تنگ کررہے ہو۔ انہیں وہاں سکون سے رہنے دو۔”
    ”اتنا بڑا حادثہ ہوگیا ہے اور تم۔۔۔”
    اس نے مریم کی بات کاٹ دی۔
    ”مریم میری زندگی میں اس سے بڑے حادثے ہوچکے ہیں۔ یہ کیا معنی رکھتا ہے۔ مجھے تکلیف سہنے کی عادت ہوچکی ہے۔ تم سعیدہ اماں کو تسلی دو۔ مجھے کچھ نہیں ہوا میں بالکل ٹھیک ہوں اور ابو کو بھی خوا مخواہ تنگ نہ کرو۔ وہ وہاں پریشان ہوں گے۔”




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۹

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۹

    لاہور پہنچنے کے بعد اس کے لیے اگلا مرحلہ کسی کی مدد حاصل کرنے کا تھا مگر کس کی؟ وہ ہاسٹل نہیں جاسکتی تھی۔ وہ جو یریہ اور باقی لوگوں سے رابطہ نہیں کرسکتی تھی، کیوںکہ اس کے گھر والے اس کے دوستوں سے واقف تھے اور چند گھنٹوں میں وہ اسے لاہور میں ڈھونڈنے والے تھے، بلکہ ہوسکتا تھا اب تک اس کی تلاش شروع ہوچکی ہو اور اس صورت حال میں ان لوگوں سے رابطہ کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ اس کے لئے صبیحہ کی صورت میں واحد آپشن رہ جاتا تھا، مگر وہ اسے بات اس واقف نہیں تھی کہ وہ ابھی پشاور سے واپس آئی تھی یا نہیں۔
    صبیحہ کے گھر پر ملازم کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ وہ لوگ ابھی پشاور میں ہی تھے۔
    ”واپس کب آئیں گے؟” اس نے ملازم سے پوچھا۔ وہ اسے جانتا تھا۔
    ”یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے مگر ایک دو دن تک آجائیں گے۔” اس نے امامہ کو بتایا۔
    ”کیا آپ کے پاس وہاں کا فون نمبر ہے؟” اس نے قدرے مایوسی کے عالم میں پوچھا۔
    ”جی، وہاں کا فون نمبر میرے پاس ہے۔” ملازم نے اس سے کہا۔
    ”وہ آپ مجھے دے دیں۔ میں فون پر اس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔”
    اسے کچھ تسلی ہوئی۔ ملازم اسے اندر لے آیا۔ ڈرائنگ روم میں اسے بٹھا کر اس نے وہ نمبر لادیا۔ اس نے موبائل پر وہیں بیٹھے بیٹھے صبیحہ کو رنگ کیا۔ فون پشاور میں گھر کے کسی فرد نے اٹھایا تھا اور اسے بتایا کہ صبیحہ باہر گئی ہوئی ہے۔
    امامہ نے فون بند کردیا۔
    ”صبیحہ سے میری بات نہیں ہوسکی۔ میں کچھ دیر بعد اسے دوبارہ فون کروں گی۔” اس نے پاس کھڑے ملازم سے کہا۔
    ”تب تک میں یہیں بیٹھوں گی۔”
    ملازم سرہلاتے ہوئے چلاگیا۔ اس نے ایک گھنٹے کے بعد دوبارہ صبیحہ کو فون کیا۔ وہ اس کی کال پر حیران تھی۔
    اس نے اسے مختصر طورپر اپنا گھر چھوڑ آنے کے بارے میں بتایا۔ اس نے اسے سالار سے اپنے نکاح کے بارے میں نہیں بتایا کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی صبیحہ اس سارے معاملے کو کس طرح دیکھے گی۔
    ”امامہ! تمہارے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ تم اس معاملے میں کورٹ سے رابطہ کرو۔ تبدیلی مذہب کے حوالے سے پروٹیکشن مانگو۔” صبیحہ نے اس کی ساری گفتگو سننے کے بعد کہا۔
    ”میں یہ کرنا نہیں چاہتی۔”
    ”کیوں؟”
    ”صبیحہ! میں پہلے ہی اس مسئلے کے بارے میں بہت سوچ چکی ہوں۔ تم میرے بابا کی پوزیشن اور اثرور سوخ سے واقف ہو۔ پریس تو طوفان اٹھادے گا۔ میری فیملی کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں یہ تو نہیں چاہتی کہ میرے گھر پر پتھراؤ ہو، میری وجہ سے میرے گھر والوں کی زندگی کو خطرہ ہو اور آج تک جتنی لڑکیوں نے اسلام قبول کرکے کورٹ پروٹیکشن لینے کی کوشش کی ہے ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ کورٹ دارالامان بھجوادیتی ہے۔ جو کہ جیل بھجوانے کے مترادف ہے۔ کیس کا فیصلہ کتنی دیر تک ہو، کچھ پتا نہیں۔
    گھر والے ایک کے بعد ایک کیس فائل کرتے رہتے ہیں۔ کتنے سال اس طرح گزر جائیں، کچھ پتا نہیں ہوتا اگر کسی کو کورٹ آزاد رہنے کی اجازت دے بھی دے تو وہ لوگ اتنے مسئلے کھڑے کرتے رہتے ہیں کہ بہت ساری لڑکیاں واپس گھر والوں کے پاس چلی جاتی ہیں۔ میں نہ تو دارالامان میں اپنی زندگی برباد کرنا چاہتی ہوں نہ ہی لوگوں کی نظروں میں آنا چاہتی ہوں۔ میں نے خاموشی کے ساتھ گھر چھوڑا ہے اور میں اسی خاموشی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔”
    ”میں تمہاری بات سمجھ سکتی ہوں امامہ! لیکن مسائل تو تمہارے لئے ابھی بھی کھڑے کئے جائیں گے۔ وہ تمہیں تلاش کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیں گے اور ان لوگوں کے لئے مسائل پیدا ہوں گے جو تمہیں پناہ دیں گے اور وہ جب تمہیں ڈھونڈنا شروع کردیں گے تو مجھ تک پہنچنا تو ان کے لئے بہت آسان ہوگا۔ تمہاری مدد کرکے ہمیں بہت خوشی ہوگی مگر میرے ابو یہی چاہیں گے کہ مدد چھپ کر کر نے کے بجائے کھل کر کی جائے اور کورٹ اس معاملے میں یقینا تمہارے حق میں اپنا فیصلہ دے گا۔ تم ابھی میرے گھر پر ہی رہو۔ میں اس بارے میں ملازم کو کہہ دیتی ہوں اور آج میں اپنے ابو سے بات کرتی ہوں ہم کوشش کریں گے، کل لاہور واپس آجائیں۔”
    امامہ نے ملازم کو بلا کر فون اس کے حوالے کردیا۔ صبیحہ نے ملازم کو کچھ ہدایات دیں اور پھر رابطہ منقطع کردیا۔
    ”میں صبیحہ بی بی کا کمرہ کھول رہا ہوں، آپ وہاں چلی جائیں۔” ملازم نے اس سے کہا۔
    وہ صبیحہ کے کمرے میں چلی آئی مگر اس کی تشویش اور پریشانی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ صبیحہ کے نقطہء نظر کو سمجھ سکتی تھی۔ وہ یقینا یہ نہیں چاہتی تھی کہ خود صبیحہ اور اس کی فیملی پر کوئی مصیبت آئے۔ اس معاملے میں صبیحہ کے اندیشے درست تھے۔ اگر ہاشم مبین کو یہ پتا چل جاتا کہ اسے صبیحہ کی فیملی نے پناہ دی تھی تو وہ ان کے جانی دشمن بن جاتے۔ شاید اس لئے صبیحہ نے اس سے قانون کی مدد لینے کے لئے کہا تھا مگر یہ راستہ اس کے لئے زیادہ دشوار تھا۔
    جماعت کے اتنے بڑے لیڈر کی بیٹی کا اس طرح مذہب چھوڑ دینا پوری جماعت کے منہ پر طمانچے کے مترادف تھا اور وہ جانتے تھے کہ اس سے پورے ملک میں جماعت اور خود ان کے خاندان کو کتنی زک پہنچے گی اور وہ اس بے عزتی سے بچنے کے لئے کس حدتک جاسکتے تھے، امامہ جانتی نہیں تھی، مگر اندازہ کر سکتی تھی۔
    وہ صبیحہ کے کمرے میں داخل ہورہی تھی جب اس کے ذہن میں ایک جھما کے کے ساتھ سیدہ مریم سبط علی کا خیال آیا تھا۔ وہ صبیحہ کی دوست اور کلاس فیلو تھی۔ وہ اس سے کئی بار ملتی رہی تھی۔ ایک بار صبیحہ کے گھر پر ہی مریم کو اس کے قبول اسلام کا پتا چلا تھا۔ وہ شاید صبیحہ کی واحد دوست تھی جسے صبیحہ نے امامہ کے بارے میں بتا دیا تھا اور مریم بہت حیران نظر آئی تھی۔
    ”تمہیں اگر کبھی میری کسی مدد کی ضرورت ہوئی تو مجھے ضرور بتانا بلکہ بلا جھجک میرے پاس آجانا۔”
    اس نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ امامہ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ بعد میں بھی امامہ سے ہونے والی ملاقاتوں میں وہ ہمیشہ اس سے اسی گرم جوشی کے ساتھ ملتی رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے اس کا کیوں خیال آیا تھا یا وہ کس حد تک اس کی مدد کرسکتی تھی مگر اس وقت اس نے اس سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے موبائل سے فون کرنا چاہا مگر موبائل کی بیٹری ختم ہوچکی تھی۔ اس نے اسے ری چارج کرنے کے لئے لگایا اور خود لاؤنج میں آکر اپنی ڈائری سے مریم کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
    فون ڈاکٹر سبط علی نے اٹھایا تھا۔
    ”میں مریم سے بات کرنا چاہتی ہوں، میں ان کی دوست ہوں۔”
    ”اس نے اپنا تعارف کروایا۔ اس نے پہلی بار مریم کو فون کیا تھا۔
    ”میں بات کرواتا ہوں۔” انہوں نے فون ہولڈ رکھنے کا کہا۔ کچھ سیکنڈز کے بعد امامہ نے دوسری طرف مریم کی آواز سنی۔
    ”ہیلو۔۔۔”
    ”ہیلو مریم! میں امامہ بات کررہی ہوں۔”
    ”امامہ… امامہ ہاشم؟” مریم نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں، مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔”
    وہ اسے اپنے بارے میں بتاتی گئی۔ دوسری طرف مکمل خاموشی تھی جب اس نے بات ختم کی تو مریم نے کہا۔
    ”تم اس وقت کہاں ہو؟”
    ”میں صبیحہ کے گھر پر ہوں، مگر صبیحہ کے گھرپر کوئی نہیں ہے۔ صبیحہ پشاور میں ہے۔”
    اس نے صبیحہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں اسے نہیں بتایا۔
    ”تم وہیں رہو۔ میں ڈرائیور کو بھجواتی ہوں۔ تم اپنا سامان لے کر اس کے ساتھ آجاؤ… میں اتنی دیر میں اپنی امی اور ابو سے بات کرتی ہوں۔”
    اس نے فون بند کرتے ہوئے کہا۔ یہ صرف ایک اتفاق تھا کہ اس نے ڈاکٹر سبط علی کے گھر کی جانے والی کال سالار کے موبائل سے نہیں کی تھی ورنہ سکندر عثمان ڈاکٹر سبط علی کے گھر بھی پہنچ جاتے اور اگر امامہ کو یہ خیال آجاتا کہ وہ موبائل کے بل سے اسے ٹریس آؤٹ کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ لاہور آکر ایک بار بھی موبائل استعمال نہ کرتی۔
    یہ ایک اور اتفاق تھاکہ ڈاکٹر سبط علی نے اپنے آفس کی گاڑی اور ڈرائیور کو اسے لینے کے لئے بھجوایا تھا، ورنہ صبیحہ کا ملازم مریم کی گاڑی اور ڈرائیور کو پہچان لیتا کیونکہ مریم اکثر وہاں آیا کرتی تھی اور صبیحہ کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی یہ جان جاتے کہ وہ صبیحہ کے گھر سے کہاں گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    آدھ گھنٹہ کے بعد ملازم نے ایک گاڑی کے آنے کی اطلاع دی۔ وہ اپنا بیگ اٹھانے لگی۔
    ”کیا آپ جارہی ہیں؟”
    ”ہاں۔۔۔”
    ”مگر صبیحہ بی بی تو کہہ رہی تھیں کہ آپ یہاں رہیں گی۔”
    ”نہیں… میں جارہی ہوں… اگر صبیحہ کا فون آئے تو آپ اسے بتادیں کہ میں چلی گئی ہوں۔”
    اس نے دانستہ طورپر اسے یہ نہیں بتایا کہ وہ مریم کے گھر جارہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    وہ پہلی بار مریم کے گھر گئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اسے وہاں جاکر ایک بارپھر مریم اور اس کے والدین کو اپنے بارے میں سب کچھ بتانا پڑے گا۔ وہ ذہنی طورپر خود کو سوالوں کے لئے تیار کررہی تھی مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔
    ”ہم لوگ تو ناشتہ کرچکے ہیں تم ناشتہ کرلو۔”
    مریم نے پورچ میں اس کا استقبال کیا تھا اور اسے اندر لے جاتے ہوئے کہا۔ اندر لاؤنج میں ڈاکٹر سبط علی اور ان کی بیوی سے اس کا تعارف کروایا گیا۔ وہ بڑے تپاک سے ملے۔ امامہ کے چہرے پر اتنی سراسیمگی اور پریشانی تھی کہ ڈاکٹر سبط علی کو اس پر ترس آیا۔
    ”میں کھانا لگواتی ہوں۔ مریم تم اسے اس کا کمرہ دکھادو… تاکہ یہ کپڑے چینج کرلے۔” سبط علی کی بیوی نے مریم سے کہا۔
    وہ جب کپڑے بدل کر آئی تو ناشتہ لگ چکا تھا۔ اس نے خاموشی سے ناشتہ کیا۔
    ”امامہ! اب آپ جاکر سوجائیں۔ میں آفس جارہا ہوں، شام کو واپسی پر ہم آپ کے مسئلے پر بات کریں گے۔”
    ڈاکٹر سبط علی نے اسے ناشتہ ختم کرتے دیکھ کر کہا۔
    ”مریم! تم اسے کمرے میں لے جاؤ۔” وہ خود لاؤنج سے نکل گئے۔
    وہ مریم کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی آئی۔
    ”امامہ! اب تم سوجاؤ… تمہارے چہرے سے لگ رہا ہے کہ تم پچھلے کئی دنوں سے نہیں سوئیں۔ عام طورپر تھکن اور پریشانی میں نیند نہیں آتی اور تم اس وقت اس کا شکار ہوگی۔ میں تمہیں کوئی ٹیبلٹ لاکر دیتی ہوں اگر نیند آگئی تو ٹھیک ہے ورنہ ٹیبلٹ لے لینا۔”
    وہ کمرے سے باہر نکل گئی، کچھ دیر بعد اس کی واپسی ہوئی، پانی کا گلاس اور ٹیبلٹ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے کہا۔
    ”تم بالکل ریلیکس ہوکر سوجاؤ۔ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ تم سمجھوکہ تم اپنے گھر میں ہو۔” وہ کمرے کی لائٹ آف کرتی ایک بارپھر کمرے سے باہر نکل گئی۔
    صبح کے ساڑھے نوبج رہے تھے مگر ابھی تک باہر بہت دھند تھی اور کمرے کی کھڑکیوں پر پردے ہونے کی وجہ سے کمرے میں اندھیرا کچھ اور گہرا ہوگیا تھا۔ اس نے کسی معمول کی طرح ٹیبلٹ پانی کے ساتھ نگل لی۔ اس کے بغیر نیند آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس کے ذہن میں اتنے بہت سے خیالات آرہے تھے کہ بیڈپر لیٹ کر نیند کا انتظار کرنا بہت مشکل ہوجاتا۔ چند منٹوں کے بعد اس نے اپنے اعصاب پر ایک غنودگی طاری ہوتی محسوس کی۔
    ٭…٭…٭
    وہ جس وقت دوبارہ اٹھی اس وقت کمرہ مکمل طور پر تاریک ہوچکا تھا۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر دیوار کی طرف آئی اور اس نے لائٹ جلادی، وال کلال رات کے ساڑھے گیارہ بجارہا تھا۔ وہ فوری طورپر اندازہ نہیں کرسکی کہ یہ اتنی لمبی نیند ٹیبلٹ کا اثر تھی یا پھر پچھلے کئی دنوں سے صحیح طورپر نہ سوسکنے کی۔
    جو کچھ بھی تھا وہ صبح سے بہت بہتر حالت میں تھی۔ اسے بے حد بھوک لگ رہی تھی، مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ گھر کے افراد اس وقت جاگ رہے ہوں گے یا نہیں۔ بہت آہستگی سے وہ دروازہ کھول کر لاؤنج میں نکل آئی۔ ڈاکٹر سبط علی لاؤنج کے ایک صوفے پر بیٹھے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر انہوں نے سراٹھا کر دیکھا اور اسے دیکھ کر مسکرائے۔
    ”اچھی نیند آئی؟” وہ بڑی بشاشت سے بولے۔
    ”جی…!” اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔
    ”اب ایسا کریں کہ وہ سامنے کچن ہے،وہاں چلی جائیں۔ کھانا رکھا ہوا ہے۔ گرم کریں۔ وہاں ٹیبل پر ہی کھالیں اس کے بعد چائے کے دوکپ بنائیں اور یہاں آجائیں۔”
    وہ کچھ کہے بغیر کچن میں چلی گئی۔ فریج میں رکھا ہوا کھانا نکال کر اس نے گرم کیا اور کھانے کے بعد چائے لے کر لاؤنج میں آگئی۔ چائے کا ایک کپ بناکر اس نے ڈاکٹر سبط علی کو دیا۔
    وہ کتاب میز پر رکھ چکے تھے۔ دوسرا کپ لے کر وہ ان کے بالمقابل دوسرے صوفے پر بیٹھ گئی۔ وہ اندازہ کرچکی تھی کہ وہ اس سے کچھ باتیں کرنا چاہتے تھے۔
    ”چائے بہت اچھی ہے۔”
    انہوں نے ایک سپ لے کر مسکراتے ہوئے کہا وہ اتنی نروس تھی کہ ان کی تعریف پر مسکراسکی نہ شکریہ ادا کرسکی۔ وہ صرف انہیں دیکھتی رہی۔
    ”امامہ! آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے صحیح ہونے میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی مگر فیصلہ بہت بڑا ہے اور اتنے بڑے فیصلے کرنے کے لئے بہت ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طورپر اس کم عمری میں، مگر بعض دفعہ فیصلے کرنے کے لئے اتنی جرأت کی ضرورت نہیں ہوتی جتنی ان پر قائم رہنے کے لئے ہوتی ہے۔ آپ کو کچھ عرصہ بعد اس کا اندازہ ہوگا۔”
    وہ بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہہ رہے تھے۔
    ”میں آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مذہب کی تبدیلی کا فیصلہ صرف مذہب کے لئے ہے یا کوئی اور وجہ بھی ہے۔”
    وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔
    ”میرا خیال ہے مجھے زیادہ واضح طورپر یہ سوال پوچھنا چاہئے کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کسی لڑکے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور اس کے کہنے پر یا اس کے لئے آپ نے گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہو یا مذہب بدلنے کا۔ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے آپ یہ مت سوچنا کہ اگر ایسی کوئی وجہ ہوگی تو میں آپ کو برا سمجھوں گا یا آپ کی مدد نہیں کروں گا۔ میں یہ صرف اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو پھر مجھے اس لڑکے اور اس کے گھر والوں سے بھی ملنا ہوگا۔”
    ڈاکٹر سبط علی اب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس وقت امامہ کو پہلی بار مریم سے اتنی دیر سے رابطہ کرنے پر پچھتاوا ہوا اگر سالار کے بجائے ڈاکٹر سبط علی، جلال سے یا اس کے گھر والوں سے بات کرتے تو شاید…” اس نے بوجھل دل سے نفی میں سرہلادیا۔
    ”ایسا کچھ نہیں ہے۔”
    ”کیا آپ کو واقعی یقین ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے؟” انہوں نے ایک بارپھر پر سکون انداز میں اس سے کہا۔
    ”جی… میں نے اسلام کسی لڑکے کے لئے قبول نہیں کیا۔” وہ اس بار جھوٹ نہیں بول رہی تھی، اس نے اسلام واقعی جلال انصر کے لئے قبول نہیں کیا تھا۔
    ”پھر آپ کویہ اندازہ ہونا چاہئے کہ آپ کو کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
    ”مجھے اندازہ ہے۔”




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۷

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۷

    پیرس سے واپسی پر اس کی زندگی کے ایک نئے فیز کا آغاز ہوا تھا۔ ابتدائی طورپر وہ اسلام آباد میں اس غیر ملکی بینک میں کام کرتا رہا۔ پھر کچھ عرصے کے بعد وہ اسی بینک کی ایک نئی برانچ کے ساتھ لاہور چلا آیا۔ اسے کراچی جانے کا موقع بھی مل رہا تھا مگر اس نے لاہور کا انتخاب کیا تھا۔ اسے یہاں ڈاکٹر سبط علی کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع بھی مل رہا تھا۔
    پاکستان میں اس کی مصروفیات کی نوعیت تبدیل ہوگئی تھی مگر ان میں کمی نہیں آئی تھی۔ وہ یہاں بھی دن رات مصروف رہتا تھا۔ ایکExceptionalماہر معاشیات کے طورپر اس کی شہرت اس کے ساتھ ساتھ سفر کررہی تھی۔ حکومتی حلقوں کے لئے اس کا نام نیا نہیں تھا مگر پاکستان آجانے کے بعد فنانس منسٹری مختلف مواقع پر وقتاً فوقتاً اپنے زیر تربیت آفیسرز کو دئیے جانے والے لیکچرز کے لئے اسے بلواتی رہتی۔ لیکچرز کا سلسلہ بھی اس کے لئے نیا نہیں تھا۔Yaleمیں زیر تعلیم رہنے کے بعد وہ وہاں مختلف کلاسز کو لیکچر دیتا رہا تھا یہ سلسلہ نیویارک منتقل ہوجانے کے بعد بھی جاری رہا۔ جہاں وہ کو لمبیا یونیورسٹی میں ہیومن ڈویلپمنٹ پر ہونے والے سیمنیارز میں حصہ لیتا رہا بعد میں اس کی توجہ ایک بارپھر اکنامکس کی طرف مبذول ہوگئی۔
    پاکستان میں بھی بہت جلد وہ ان سیمینارز کے ساتھ انوالو ہوگیا تھا۔ جو IBA،LUMS اور FAST جیسے ادارے کروارہے تھے۔ اکنامکس اور ہیومن ڈویلپمنٹ واحد موضوعات تھے جن پر وہ خاموشی اختیار نہیں کیا کرتا تھا۔ وہ اس کے پسندیدہ موضوع گفتگو تھے اور سیمینارز میں اس کے لیکچرز کا فیڈبیک ہمیشہ بہت زبردست رہا تھا۔
    وہ مہینے کا ایک ویک اینڈ گاؤں میں اپنے اسکول میں گزارا کرتا تھا اور وہاں رہنے کے دوران وہ زندگی کے ایک نئے رخ سے آشنائی حاصل کررہا تھا۔
    ”ہم نے اپنی غربت اپنے دیہات میں چھپادی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے لوگ مٹی کو کارپٹ کے نیچے چھپا دیتے ہیں۔”
    ”اس اسکول کی تعمیر کا آغاز کرتے ہوئے فرقان نے ایک بار اس سے کہا تھا اور وہاں گزارے جانے والے دن اسے اس جملے کی ہولناکی کا احساس دلاتے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں غربت کی موجودگی سے ناآشنا تھا۔ وہ یونیسکو اور یونی سیف میں کام کے دوران دوسرے ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بارے میں بھی بہت ساری رپورٹس دیکھتا رہا تھا مگر پاکستان میں غربت کی آخری حدوں کو بھی پار کرنے والے لوگوں کو وہ پہلی بار ذاتی طورپر دیکھ رہا تھا۔
    ”پاکستان کے دس پندرہ بڑے شہروں سے نکل جائیں تو احساس ہوتا ہے کہ چھوٹے شہروں میں رہنے والے لوگ تیسری دنیا میں نہیں دسویں بارھویں دنیا میں رہتے ہیں۔ وہاں تو لوگوں کے پاس نہ روزگار رہے، نہ سہولتیں۔ وہ اپنی آدھی زندگی خواہش میں گزارتے ہیں اور آدھی حسرت میں مبتلا ہوکر کون سی اخلاقیات سیکھا سکتے ہیں آپ اس شخص کو جس کا دن سوکھی روٹی سے شروع ہوتا ہے اور فاقے پر ختم ہوجاتا ہے اور ہم… ہم لوگوں کی بھوک مٹانے کے بجائے مسجدیں تعمیر کرتے ہیں۔ عالی شان مسجدیں، پر شکوہ مسجدیں، ماربل سے آراستہ مسجدیں۔ بعض دفعہ تو ایک ہی سڑک پر دس دس مسجدیں کھڑی ہوتی ہیں۔ نمازیوں سے خالی مسجدیں۔”
    فرقان تلخی سے کہتا تھا۔
    ”اس ملک میں اتنی مسجدیں ہوچکی ہیں کہ اگر پورا پاکستان ایک وقت کی نماز کے لئے مسجدوں میں اکٹھا ہوجائے تو بھی بہت سی مسجدیں خالی رہ جائیں گی۔ میں مسجدیں بنانے پر یقین نہیں رکھتا جہاں لوگ بھوک سے خودکشیاں کرتے پھررہے ہوں جہاں کچھ خاص طبقوں کی پوری پوری نسل جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی پھر رہی ہو وہاں مسجد کے بجائے مدرسے کی ضرورت ہے۔ اسکول کی ضرورت ہے، تعلیم اور شعور ہوگا اور رزق کمانے کے مواقع تو اللہ سے محبت ہوگی ورنہ صرف شکوہ ہی ہوگا۔”
    وہ فرقان کی باتیں خاموشی سے سنتا رہتا تھا۔ اس نے مستقل طورپر گاؤں میں جانا شروع کیا تو اسے اندازہ ہوا فرقان ٹھیک کہتا تھا۔ غربت لوگوں کو کفر تک لے گئی تھی۔ چھوٹی چھوٹی ضرورتیں ان کے اعصاب پر سوار تھیں اور جو ان معمولی ضرورتوں کو پورا کردیتا وہ جیسے اس کی غلامی کرنے پر تیار ہوجاتے۔ اس نے جس ویک اینڈ پر گاؤں جانا ہوتا اسکول میں لوگ اپنے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے جمع ہوتے۔ بعض دفعہ لوگوں کی قطاریں ہوتیں۔
    ”بیٹے کو شہر کی کسی فیکٹری میں کام پر رکھوادیں۔ چاہے ہزار روپیہ ہی مل جائے مگر کچھ پیسہ تو آئے۔”
    ”دو ہزار روپے مل جاتے تو میں اپنی بیٹی کی شادی کردیتا۔”
    ”بارش نے ساری فصل خراب کردی۔ اگلی فصل لگانے کے لئے بیج خریدنے تک کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ آپ تھوڑے پیسے قرض کے طورپر دے دیں، میں فصل کٹنے کے بعد دے دوں گا۔”
    ”بیٹے کو پولیس نے پکڑلیا ہے، قصور بھی نہیں بتاتے، بس کہتے ہیں ہماری مرضی جب تک چاہیں اندر رکھیں، تم آئی جی کے پاس جاؤ۔”
    ”پٹواری میری زمین پر جھگڑا کررہا ہے۔ کسی اور کوالاٹ کررہا ہے۔ کہتا ہے میرے کاغذ جعلی ہیں۔”
    ”بیٹا کام کے لئے پاس کے گاؤں جاتا ہے۔روز آٹھ میل چل کر آنا جانا پڑتا ہے۔ آپ ایک سائیکل لے دیں تو مہربانی ہوگی۔”
    ”گھر میں پانی کا ہینڈ پمپ لگوانا ہے۔ آپ مدد کریں۔”
    وہ تعجب سے ان درخواستوں کو سنتا تھا۔ کیا لوگوں کے یہ معمولی کام بھی ان کے لئے پہاڑ بن چکے ہیں۔ ایسا پہاڑ جسے عبور کرنے کے لئے وہ زندگی کے کئی سال ضائع کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتا۔
    مہینے کے ایک ویک اینڈ پر جب وہ وہاں آتا تو اپنے ساتھ دس پندرہ ہزار روپے زیادہ لے کر آتا وہ روپے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بہت سے لوگوں کو بظاہر بڑی لیکن حقیقتاً بہت چھوٹی ضرورتیں پوری کردیتے۔ ان کی زندگی میں کچھ آسانیاں لے آتے، اس کے لکھے ہوئے چند سفارشی رقعے اور فون کالز ان لوگوں کے کندھوں کے بوجھ اور پیروں میں پڑی نہ نظر آنے والی بیڑیوں کو کیسے اتار دیتے۔ اس کا احساس شاید سالار کو خود بھی نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭





    لاہور میں اپنے قیام کے دوران وہ باقاعدگی سے ڈاکٹر سبط علی صاحب کے پاس جاتا تھا۔ ان کے ہاں ہر رات عشاء کی نماز کے بعد کچھ لوگ جمع ہوتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کسی نہ کسی موضوع پر بات کیا کرتے تھے۔ بعض دفعہ اس موضوع کا انتخاب وہ خود کرتے بعض دفعہ ان کے پاس آنے والے لوگوں میں سے کوئی ان سے سوال کرتااور پھر یہ سوال اس رات کا موضوع گفتگو بن جاتا۔ عام اسکالرز کے برعکس ڈاکٹر سبط علی صرف خود نہیں بولتے تھے، نہ ہی انہوں نے اپنے پاس آنے والے لوگوں کو صرف سامع بنا دیا تھا بلکہ وہ اکثر اپنی بات کے دوران ہی چھوٹے موٹے سوالات کرتے رہتے اور پھر ان سوالات کا جواب دینے کے لئے نہ صرف لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے بلکہ ان کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ان کے اعتراضات کو بڑے تحمل اور برد باری سے سنتے۔ ان کے پاس آنے والوں میں صرف سالار سکندر تھا، جس نے ان سے کبھی سوال کیا تھا نہ کبھی ان کے کسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی تھی۔ وہ کبھی کسی بات پر اعتراض کرنے والوں میں شامل ہوا نہ کسی بات پر رائے دینے والوں میں۔
    وہ فرقان کے ساتھ آتا۔ فرقان نہ آتا تو اکیلا چلا آتا، کمرے کے آخری حصے میں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ جاتا، خاموشی سے ڈاکٹر صاحب اور وہاں موجود لوگوں کی گفتگو سنتا۔ بعض دفعہ اپنے دائیں بائیں آ بیٹھنے والے لوگوں کے استفسار پر اپنا ایک جملہ تعارف پیش کرتا۔
    ”میں سالار سکندر ہوں، ایک بینک میں کام کرتا ہوں۔”
    وہ جب تک امریکہ میں رہا تب تک ہر ہفتے ایک بار وہاں سے ڈاکٹر سبط علی کو فون کرتا رہا مگر فون پر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہونے والی اس کی گفتگو بہت مختصر اور ایک ہی نوعیت کی ہوتی تھی۔ وہ کال کرتا، ڈاکٹر صاحب کال ریسیو کرتے اور ایک ہی سوال کرتے۔
    وہ پہلی بار اس سوال پر تب چونکا تھا جب وہ پاکستان سے چند دن پہلے ہی امریکہ آیا تھا اور ڈاکٹر صاحب اس کی واپسی کا پوچھ رہے تھے۔ اسے تعجب ہوا تھا۔
    ”ابھی تو نہیں…” اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا تھا۔ بعد میں وہ سوال اسے کبھی عجیب نہیں لگا کیونکہ وہ لاشعوری طور پر جان گیا تھا کہ وہ کیا پوچھ رہے تھے۔
    آخری بار انہوں نے وہ سوال اس سے تب کیا تھا جب وہ امامہ کی تلاش میں ریڈ لائٹ ایریا میں پہنچا تھا۔ پیرس واپس پہنچنے کے ایک ہفتے کے بعد اس نے ہمیشہ کی طرح انہیں کال کیا تھا۔ ہمیشہ جیسی گفتگو کے بعد گفتگو اسی سوال پر آ پہنچی تھی۔
    ”واپس پاکستان کب آ رہے ہیں؟”
    بے اختیار سالار کا دل بھر آیا۔ اسے خود کو کمپوز کرنے میں کچھ دیر لگی۔
    ”اگلے ماہ آجاؤں گا۔ میں ریزائن کر رہا ہوں۔ واپس آکر پاکستان میں ہی کام کروں گا۔”
    ”پھر ٹھیک ہے، آپ سے اگلے ماہ ملاقات ہوگی۔” ڈاکٹر صاحب نے تب کہا تھا۔
    ”دعا کیجئے گا۔” سالار آخر میں کہتا۔
    ”کروں گا کچھ اور …؟”
    ”اور کچھ نہیں۔ اللہ حافظ …” وہ کہتا۔
    ”اللہ حافظ۔” وہ جواب دیتے۔ گفتگو کا یہ سلسلہ پاکستان آنے تک جاری رہا جب وہ ان کے پاس باقاعدگی سے جانے لگا تو یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔
    ٭…٭…٭
    لاہور آنے کے بعد وہ باقاعدگی سے ان کے پاس جانے لگا تھا۔ اسے ان کے پاس سکون ملتا تھا۔ صرف ان کے پاس گزارا ہوا وقت ایسا ہوتا تھا جب وہ کچھ دیر کے لئے مکمل طور پر اپنے ڈیرپشن سے سے آزادی حاصل کرلیتا تھا۔ بعض دفعہ ان کے پاس خاموش بیٹھے بیٹھے بے اختیار اس کا دل چاہتا وہ ان کے سامنے وہ سب کچھ اگل دے جسے وہ اتنے سالوں سے اپنے اندر زہر کی طرح بھرے پھر رہا تھا۔ پچھتاوا، احساس جرم… بے چینی، بے بسی، شرمندگی، ندامت، ہر چیز۔ پھر اسے خوف پیدا ہوتا ڈاکٹر سبط علی اس کو پتا نہیں کن نظروں سے دیکھیں گے۔ اس کی ہمت دم توڑ جاتی۔
    ڈاکٹر سید سبط علی ابہام کو دور کرنے میں کمال رکھتے تھے۔ وہ ان کے پاس خاموش بیٹھا رہتا۔ صرف سنتا، صرف سمجھتا، صرف نتیجے اخذ کرتا۔ کوئی دھند تھی جو چھٹ رہی تھی۔ کوئی چیز تھی جو نظر آنے لگی تھی۔ جن سوالوں کو وہ کئی سالوں سے سر پر بوجھ کی صورت میں لئے پھر رہا تھا ان کے پاس ان کے جواب تھے۔
    ”اسلام کو سمجھ کر سیکھیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ اس میں کتنی وسعت ہے۔ یہ تنگ نظری اور تنگ دل کا دین نہیں ہے نہ ہی ان دونوں چیزوں کی اس میں گنجائش ہے۔ یہ میں سے شروع ہوکر ہم پر جاتا ہے۔ فرد سے معاشرے تک۔ اسلام آپ سے یہ نہیں کہتا کہ آپ چوبیس گھنٹے سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح پکڑے ہر جگہ مصلےٰ بچھائے بیٹھے رہیں۔ ہر بات میں اس کے حوالے دیتے رہیں۔ نہیں، یہ تو آپ کی زندگی سے… آپ کی اپنی زندگی سے حوالہ چاہتاہے۔ یہ تو آپ سے راست بازی اور پارسائی کا مطالبہ کرتاہے۔ دیانت داری اور لگن چاہتا ہے۔ اخلاص اور استقامت مانگتا ہے۔ ایک اچھا مسلمان اپنی باتوں سے نہیں اپنے کردار سے دوسروں کو متاثر کرتاہے۔”
    سالار ان کی باتوں کو ایک چھوٹے سے ریکارڈر میں ریکارڈ کر لیتا پھر گھر آکر بھی سنتا رہتا۔ اسے ایک رہبر کی تلاش تھی، ڈاکٹر سبط علی کی صورت میں اسے وہ رہبر مل گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”سالار آؤ، اب آ بھی جاؤ۔ کتنی منتیں کر واؤگے؟” انیتا نے اس کا بازو کھینچتے ہوئے ناراضی سے کہا۔
    وہ عمار کی شادی میں شرکت کے لئے اسلام آباد آیا ہوا تھا۔ تین دن کی چھٹی لے کر حالانکہ اس کے گھر والوں کا اصرار تھا کہ وہ ایک ہفتے کے لئے آئے۔ شادی کی تقریبات کئی دن پہلے شروع ہوچکی تھیں۔ وہ ان تقریبات کی ”اہمیت” اور ”نوعیت” سے واقف تھا۔ اس لئے گھر والوں کے اصرار کے باوجود وہ تین دن کی رخصت لے کر آیا اور اب وہ عمار کی مہندی کے فنکشن میں شرکت کر رہا تھا جو عمار اور اس کے سسرال والے مل کر کر رہے تھے۔ عمار اور اسریٰ دونوں کے عزیز و اقارب اور دوست مختلف اور پاپ گانوں پر رقص کرنے میں مصروف تھے۔ ایک طوفان بدتمیزی تھا جو وہاں برپا تھا۔ سلیو لیس شرٹس، کھلے گلے، جسم کے ساتھ چپکے ہوئے کپڑے، باریک ملبوسات ، سلک اور شیفون کی ساڑھیاں، نیٹ کے بلاؤز، اس کی فیملی کی عورتیں بھی دوسری عورتوں کی طرح اسی طرح کے ملبوسات پہنے ہوئے تھیں۔
    مکسڈ گید رنگ تھی اور وہ تقریب شروع ہونے پر اس ہنگامے سے کافی دور کچھ ایسے لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو کارپوریٹ یا بینکنگ سیکٹر سے تعلق رکھتے تھے اور سکندر یا اس کے اپنے بھائیوں کے شناسا تھے۔
    مگر پھر مہندی کی رسومات کا آغاز ہونے لگا اور انیتا اسے اسٹیج کی طرف لے گئی۔ اسریٰ اور عمار بے تکلفی سے اسٹیج پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ وہ پہلی بار اسریٰ سے مل رہا تھا۔ عمار نے اس کا اور اسریٰ کا تعارف کروایا۔ مہندی کی رسومات کے بعد اس نے وہاں سے جانے کی کوشش کی مگر کامران اور طیبہ نے اسے زبردستی روک دیا۔
    ”بھائی کی مہندی ہو رہی ہے اور تم اس طرح وہاں کونے میں بیٹھے ہو۔” طیبہ نے اسے ڈانٹا تھا۔ ”تمہیں یہاں ہونا چاہئے۔”
    وہ ان کے کہنے پر وہیں کامران اور اس کی بیوی کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ اس کے ایک کزن نے ایک بار پھر وہ دو پٹہ اس کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کی جو وہ سب ڈالے ہوئے تھے۔ اس نے ایک بار پھر قدرے ناگواری سے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے اسے تنبیہ کی۔
    اگلے چند منٹوں کے بعد وہاں رقص شروع ہوچکا تھا۔ عمار سمیت اس کے سارے بہن بھائی اور کنزنز رقص کر رہے تھے اور انیتا نے اسے بھی کھینچنا شروع کردیا تھا۔
    ”نہیں انیتا! میں نہیں کرسکتا۔ مجھے نہیں آتا۔”
    اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے معذرت کی مگر اس کی معذرت قبول کرنے کے بجائے وہ اور عمار اسے کھینچ کر رقص کرنے والوں کے ہجوم میں لے آئے تھے۔ کامران اور معیز کی شادی میں وہ بھی ایسے ہی رقص کرتا رہاتھا، مگر عمار کی مہندی پر وہ پچھلے سات سالوں میں اتنا لمبا ذہنی سفر طے کر چکا تھا کہ وہاں اس ہجوم کے درمیان خالی بازو کھڑے کرنا بھی اس کے لئے دشوار تھا۔ قدرے بے بس مسکراہٹ کے ساتھ وہ اسی طرح ہجوم کے درمیان کھڑا رہا پھر اس نے انیتا کے کان میں کہا۔
    ”انیتا… میں ڈانس بھول چکا ہوں۔ Please Let me go (براہِ مہربانی مجھے جانے دو)۔”
    ”تم کرنا شروع کرو… آجائے گا۔” انیتا نے جواباً اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ اب اسریٰ بھی اس ہجوم میں شامل ہوچکی تھی۔
    ”میں نہیں کرسکتا۔ تم لوگ کرو۔ میں انجوائے کر رہا ہوں۔ مجھے جانے دو۔”
    اس نے مسکراتے ہوئے نکلنے کی کوشش کی۔ اسریٰ کی آمد نے اسے اس کوشش میں کامیاب کردیا۔
    ”عروج ہر قوم، ہر نسل کا خواب ہوتا ہے اور پھر وہ قومیں جن پر الہامی کتابیں نازل ہوئی ہوں وہ تو عروج کو اپنا حق سمجھتی ہیں مگر کبھی بھی کسی قوم پر عروج صرف اس بنا پر نہیں آیا کہ اسے ایک کتاب اور نبی دے دیاگیا جب تک اس قوم نے اپنے اعمال اور افعال سے عروج کے لئے اپنی اہلیت ثابت نہیں کردی وہ کسی مرتبہ، کسی مقام، کسی فضیلت کے قابل نہیں ٹھہریں۔ مسلمان قوم یا امت کے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور ہورہا ہے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ا ن کے اعلیٰ طبقات تعیش اور نفس پرستی کا شکار ہیں۔ یہ دونوں چیزیں وبا کی طرح ہوتی ہیں۔ ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے اور پھر یہ سلسلہ کہیں رُکتا نہیں۔” اسے وہاں کھڑے ان ناچتے ہوئے عورتوں اور مردوں کے ہجوم کو دیکھتے ہوئے بے اختیار ڈاکٹر سبط علی کی باتیں یاد آنے لگیں۔
    ”مومن عیاش نہیں ہوتا نہ تب جب وہ رعایا ہوتاہے نہ تب جب وہ حکمران ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کسی جانور یا کیڑے کی زندگی جیسی نہیں ہوتی۔ کھانا پینا، اپنی نسل کو آگے بڑھانا اور فنا ہوجانا۔ یہ کسی جانور کی زندگی کا انداز تو ہوسکا ہے مگر کسی مسلمان کی نہیں۔” سالار بے اختیار مسکرایا۔ وہ آج پھر ”جانوروں” اور ”حشرات الارض” کاایک گروہ دیکھ رہا تھا۔ اسے خوشی ہوئی، وہ بہت عرصہ پہلے ان میں سے نکل چکا تھا۔ وہاں ہر ایک خوش باش، پرسکون اور مطمئن نظر آرہا تھا۔ بلند قہقہے اور چمکدار چہرے اور آنکھیں۔ اس کے سامنے طیبہ عمار کے سسر کے ساتھ رقص کر رہی تھیں۔ انیتا اپنے سب سے بڑے بھائی کامران کے ساتھ۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۶

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۶

    نیوہیون واپس آنے کے بعد اس نے زندگی کے ایک نئے سفر کو شروع کیا تھا۔
    اس رات اس جنگل کے ہولناک اندھیرے اور تنہائی میں اس درخت کے ساتھ بندھے بلکتے ہوئے کئے گئے تمام وعدے اسے یاد تھے۔
    وہ سب سے بالکل الگ تھلگ رہنے لگا تھا۔ معمولی سے رابطے اور تعلق کے بھی بغیر۔
    ”مجھے تم سے نہیں ملنا۔”
    وہ صاف گو تو ہمیشہ سے ہی تھا مگر اس حد تک ہوجائے گا اس کے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اس کی توقع نہیں تھی۔ چند ہفتے اس کے بارے میں اس کا گروپ چہ میگوئیاں کرتا رہا پھر یہ چہ میگوئیاں اعتراضات اور تبصروں میں تبدیل ہوگئیں اور اس کے بعد طنزیہ جملوں اور ناپسندیدگی میں پھر سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہوگئے۔ سالار سکندر کسی کی زندگی کا مرکز اور محور نہیں تھا نہ دوسرا کوئی اس کی زندگی کا۔ اس نے نیوہیون میں پہنچنے کے بعد جو چند کام کئے تھے اس میں جلال انصر سے ملاقات کی کوشش بھی کی تھی۔ وہ پاکستان سے واپس آتے ہوئے اس کے گھر سے امریکہ میں اس کا ایڈریس لے آیا تھا۔ یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ اس کا ایک کزن بھی اسی ہاسپٹل میں کام کررہا تھا جہاں جلال کام کررہا تھا۔ باقی کاکام بہت آسان ثابت ہوا۔ ضرورت سے زیادہ آسان۔
    وہ اس سے ایک بار مل کر اس سے معذرت کرنا چاہتا تھا۔ اسے ان تمام جھوٹوں کے بارے میں بتا دینا چاہتا تھا جو وہ اس سے امامہ کے بارے میں اور امامہ سے اس کے بارے میں بولتا رہاتھا۔ وہ ان دونوں کے تعلق میں اپنے رول کے لئے شرمندہ تھا۔ وہ اس کی تلافی کرنا چاہتا تھا۔ وہ جلال انصر تک پہنچ چکا تھا اور وہ امامہ ہاشم تک پہنچنا چاہتا تھا۔
    وہ جلال انصر کے ساتھ ہاسپٹل کے کیفے ٹیریا میں بیٹھا ہوا تھا۔ جلال انصر کے چہرے پر بے حد سنجیدگی تھی اور اس کے ماتھے پر پڑے ہوئے بل اس کی ناراضی کو ظاہر کررہے تھے۔
    سالار کچھ دیر پہلے ہی وہاں پہنچا تھا اور جلال انصراسے اپنے سامنے دیکھ کر ہکابکا رہ گیا تھا۔ اس نے جلال سے چند منٹ مانگے تھے۔ وہ دوگھنٹے انتظار کروانے کے بعد بالآخر کیفے ٹیریا میں آگیا تھا۔
    ”سب سے پہلے تو میں یہ جاننا چاہوں گا کہ تم نے مجھے ڈھونڈا کیسے؟” اس نے آپ جناب کے تمام تکلفات کو برطرف رکھتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھتے ہی سالار سے کہا۔
    ”یہ اہم نہیں ہے۔”
    ”یہ بہت اہم ہے۔ اگر تم واقعی یہ چاہتے ہو کہ میں کچھ دیر تمہارے ساتھ یہاں گزاروں تو مجھے پتا ہونا چاہئے کہ تم نے مجھے کیسے ڈھونڈا؟”
    ”میں نے اپنے کزن سے مدد لی ہے۔ وہ ایک ڈاکٹر ہے اور اس شہر میں بہت عرصے سے کام کررہا ہے۔ میں یہ نہیں جانتا کہ اس نے آپ کو کیسے ڈھونڈا ہے۔ میں نے صرف اس کو آپ کا نام اور کچھ دوسری معلومات دی تھیں۔” سالار نے کہا۔
    ”لنچ…..؟جلال نے بڑے رسمی انداز میں کہا، وہ ٹیبل پر آتے ہوئے اپنی لنچ ٹرے ساتھ لیکر آیا تھا۔
    ”نہیں، میں نہیں کھاؤں گا۔” سالار نے شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی۔
    جلال نے کندھے اچکائے اور کھانا شروع کردیا۔
    ”کس معاملے میں بات کرنا چاہتے تھے تم مجھ سے؟”
    ”میں آپ کو چند حقائق سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔”
    جلال نے اپنی بھنویں اچکائیں۔”حقائق؟”
    ”میں آپ کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا۔ میں امامہ کا دوست نہیں تھا۔ وہ میرے دوست کی بہن تھی، صرف میری نیکسٹ ڈور ”neighbour… جلال نے کھانا جاری رکھا۔
    ”میری اس سے معمولی جان پہچان تھی۔ وہ بھی صرف اس لئے کیونکہ ایک بار اس نے مجھے فرسٹ ایڈ دے کر میری جان بچائی تھی۔ وہ مجھے پسند نہیں کرتی تھی خود میں بھی اسے پسند نہیں کرتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ میں نے آپ پریوں ظاہر کیا جیسے وہ میری بہت گہری دوست تھی۔ میں آپ دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتا تھا۔”
    جلال سنجیدگی سے اس کی بات سنتے ہوئے کھانا کھاتا رہا۔
    ”اس کے بعد جب امامہ گھر سے نکل کر آپ کے پاس آنا چاہتی تھی تو میں نے اس سے جھوٹ بولا۔ آپ کی شادی کے بارے میں۔”
    اس بار جلال کھانا کھاتے کھاتے رک گیا۔” میں نے اس سے کہا کہ آپ شادی کرچکے ہیں۔ وہ آپ کے پاس اسی لئے نہیں آئی تھی۔ مجھے بعد میں احساس ہواکہ میں نے بہت نامناسب حرکت کی ہے مگر اس وقت تک دیر ہوچکی تھی۔ امامہ سے میرا کوئی رابطہ نہیں تھا مگر یہ ایک اتفاق ہے کہ آپ سے میرا رابطہ ہوگیا۔ میں آپ سے ایکسکیوز کرنا چاہتا ہوں۔”




    ”میں تمہاری معذرت قبول کرتا ہوں مگر میں نہیں سمجھتا کہ تمہاری وجہ سے میرے اور امامہ کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی، میں پہلے ہی اس سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔” جلال نے بڑی صاف گوئی سے کہا۔
    ”وہ آپ سے بہت محبت کرتی تھی۔” سالار نے دھیمی آواز میں کہا۔
    ”ہاں میں جانتا ہوں مگر شادی وغیرہ میں صرف محبت تو نہیں دیکھی جاتی اور بھی بہت کچھ دیکھا جاتا ہے۔” جلال بہت حقیقت پسندانہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ”جلال! کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ اس سے شادی کرلیں۔”
    ”پہلی بات یہ کہ میرا اس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ میرا اس کے ساتھ رابطہ ہوتا بھی تب بھی میں اس کے ساتھ شادی نہیں کرسکتا۔”
    ”اس کو آپ کے سہارے کی ضرورت ہے۔” سالار نے کہا۔
    ”میں نہیں سمجھتا کہ اسے میرے سہارے کی ضرورت ہے۔ اب تو بہت عرصہ گزرچکا ہے اب تک وہ کوئی نہ کوئی سہارا تلاش کرچکی ہوگی۔” جلال نے اطمینان سے کہا۔
    ”ہوسکتا ہے اس نے ایسا نہ کیا ہو۔ وہ ابھی بھی آپ کا انتظار کررہی ہو۔”
    ”میں اس طرح کے امکانات پر غور کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ میں نے تمہیں بتایا ہے کہ میرے لئے اپنے کیرئیر کی اسٹیج پر شادی کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ وہ بھی اس سے۔”
    ”کیوں…؟”
    ”اس کیوں کا جواب میں تمہیں کیوں دوں۔ تمہارا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں اس سے کیوں شادی نہیں کرتا چاہتا۔ میں تب ہی اسے بتا چکا ہوں اور اتنے عرصے کے بعد تم دوبارہ آکر پھر وہی پینڈوراباکس کھولنے کی کوشش کررہے ہو۔” جلال نے قدرے ناراضی سے کہا۔
    ”میں صرف اس نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کررہا ہوں، جو میری وجہ سے آپ دونوں کا ہوا۔” سالار نے نرمی سے کہا۔
    ”میرا کوئی نقصان نہیں ہوا اور امامہ کا بھی نہیں ہوا ہوگا۔ تم ضرورت سے زیادہ حساس ہورہے ہو۔”
    جلال نے سلاد کے چند ٹکڑے منہ میں ڈالتے ہوئے اطمینان سے کہا۔ سالار اسے دیکھتا رہا۔ وہ نہیں سمجھ پارہا تھا کہ وہ اسے اپنی بات کیسے سمجھائے۔
    ”میں اس کو ڈھونڈنے میں آپ کی مدد کرسکتا ہوں۔” اس نے کچھ دیر بعد کہا۔” مگر میں اسے ڈھونڈنا نہیں چاہتا۔ شادی مجھے اس سے نہیں کرنی تو پھر ڈھونڈنے کا فائدہ۔”
    سالار نے ایک گہرا سانس لیا۔” آپ جانتے ہیں اس نے کس لئے گھر چھوڑا تھا؟”
    ”میرے لئے بہرحال نہیں چھوڑا تھا۔” جلال نے بات کاٹی۔
    ”آپ کے لئے نہیں چھوڑا تھا، مگر جن وجوہات کی بناپر چھوڑا تھا کیا ایک مسلمان کے طورپر آپ کو اس کی مدد نہیں کرنی چاہئے جب کہ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ لڑکی آپ سے بہت محبت کرتی ہے۔ آپ سے بہت انسپائرڈ ہے۔”
    ”میں دنیا میں کوئی واحد مسلمان نہیں ہوں اور نہ ہی مجھ پر یہ فرض کردیا گیا ہے کہ میں اس کی مدد ضرور کروں۔ میری ایک ہی زندگی ہے اور میں اسے کسی دوسرے کی وجہ سے تو خراب نہیں کرسکتا اور پھر تم بھی مسلمان ہو، تم کیوں نہیں شادی کرتے اس سے؟ میں نے توتب بھی تم سے کہا تھا کہ تم اس سے شادی کرلو۔ تم ویسے بھی اس کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہو۔”
    جلال انصر نے قدرے چبھتے ہوئے انداز میں کہا۔ سالار اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ وہ اسے بتا نہیں سکتا تھا کہ وہ اس سے شادی کرچکا ہے۔
    ”شادی…؟ وہ مجھے پسند نہیں کرتی۔” اس نے کہا۔
    ”میں اس سلسلے میں اسے سمجھا سکتا ہوں۔ تم میرا اس سے رابطہ کرو ادو تو میں اسے تم سے شادی پر تیار کرلوں گا۔ اچھے آدمی ہو تم…اور خاندان وغیرہ بھی ٹھیک ہی ہوگا تمہارا۔ کار تو ڈیڑھ سال پہلے بھی بڑی شاندار رکھی ہوئی تھی تم نے۔ اس کا مطلب ہے روپیہ وغیرہ ہوگا تمہارے پاس۔ ویسے یہاں کس لئے ہو؟”
    ”ایم بی اے کررہاہوں۔”
    ”پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ جاب تمہیں مل جائے گی۔ روپیہ ویسے بھی تمہارے پاس ہے۔ لڑکیوں کو اور کیا چاہئے۔ امامہ تو ویسے بھی تمہیں جانتی ہے۔” جلال نے چٹکی بجاتے مسئلہ حل کیا تھا۔
    ”سارا مسئلہ تو اسی”جاننے” نے ہی پیدا کیا ہے۔ وہ مجھے ضرورت سے زیادہ جانتی ہے۔” سالار نے جلال کو دیکھتے ہوئے سوچا۔
    ”وہ آپ سے محبت کرتی ہے۔” سالار نے جیسے اسے یاد دلایا۔
    ”اب اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ لڑکیاں کچھ زیادہ جذباتی ہوتی ہیں اس معاملے میں۔” جلال نے قدرے بیزاری سے کہا۔
    ”یہ ون سائیڈڈ لوافیئر تو نہیں ہوگا۔ آپ کسی نہ کسی حدتک اس میں انوالو تو ضرور ہوں گے۔” سالار نے قدرے سنجیدگی سے کہا۔
    ”ہاں تھوڑا بہت انوالو تھا، مگر وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ ترجیحات بھی بدلتی رہتی ہیں انسان کی۔”
    ”اگر آپ کو وقت اور حالات کے ساتھ اپنی ترجیحات بدلنی تھیں تو آپ کو اس کے بارے میں امامہ کو انوالو ہوتے ہوئے ہی بتا دینا چاہئے تھا۔ کم از کم اس سے یہ ہوتا کہ وہ آپ سے مدد کی توقع رکھتی نہ ہی آپ پر اس قدر انحصار کرتی۔ میں امید کرتا ہوں آپ یہ تو نہیں کہیں گے کہ آپ نے اس سے شادی کے حوالے سے کبھی کوئی بات یا وعدہ کیا ہی نہیں تھا۔”
    جلال کچھ کہنے کے بجائے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔
    ”تم مجھے کیا جتانے اور بتانے کی کوشش کررہے ہو؟” اس نے چند لمحوں کے بعد اکھڑے ہوئے انداز میں اس سے کہا۔
    ”اس نے جب مجھ سے پہلی بار رابطہ کیا تھا تو آپ کا فون نمبر اور ایڈریس دے کر اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں آپ سے پوچھوں آپ نے اپنے پیرنٹس سے شادی کی بات کرلی ہے۔ میں نے اسے اپنا فون دیا تھا کہ وہ آپ سے یہ بات خود پوچھ لے۔ یقینا اسلام آباد آنے سے پہلے آپ نے اس سے یہ کہا ہوگا کہ آپ اس سے شادی کے لئے اپنے پیرنٹس سے بات کریں گے۔ آپ نے یقینا پہلے محبت وغیرہ کے اظہار کے بعد اسے پروپوز کیا ہوگا۔”
    جلال نے کچھ برہمی سے اس کی بات کاٹی۔”میں نے اسے پروپوز نہیں کیا تھا۔ اس نے مجھے پروپوز کیا تھا۔”
    ”مان لیتا ہوں اس نے پروپوز کیا۔ آپ نے کیا کیا؟ انکار کردیا؟” وہ چیلنج کرنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
    ”انکار نہیں کیا ہوگا۔” سالار عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
    ”اس نے مجھے بتایا تھا کہ آپ نعت بہت اچھی پڑھتے ہیں اور آپ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی بہت محبت ہے۔ آپ کو بھی بتایا ہوگا اس نے کہ وہ آپ سے محبت کیوں کرتی تھی مگر آپ سے مل کر اور آپ کو جان کر مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ آپ نعت بہت اچھی پڑھتے ہوں گے مگر جہاں تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا تعلق ہے میں نہیں سمجھتا وہ آپ کوہے۔ میں خود کوئی بہت اچھا آدمی نہیں ہوں اور محبت کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرسکتا۔ خاص طورپر اللہ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے بارے میں مگر اتنا میں ضرور جانتا ہوں کہ جو شخص اللہ یا اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے یا لوگوں کو یہ امپریشن دیتا پھرتا ہے وہ مدد کے لئے پھیلے ہوئے ہاتھ کو نہیں جھٹک سکتا نہ ہی وہ کسی کو دھوکا اور فریب دے گا۔” سالار اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
    ”اور میں تو آپ سے ریکویسٹ کررہا ہوں اس کی مدد کے لئے۔ ہوسکتا ہے اس نے بھی ڈیڑھ سال پہلے کی ہو،پھر بھی اگر آپ انکار پر مصر ہیں تو…میں یا کوئی آپ کو مجبور تو نہیں کرسکتا مگر آپ سے مل کر اور آپ سے بات کرکے مجھے بہت مایوسی ہوئی۔”
    اس نے الوداعی مصافحہ کے لئے جلال کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ جلال نے اپنا ہاتھ نہیں بڑھایا، وہ تنفر بھرے انداز میں ماتھے پر بل لئے اسے دیکھتا رہا۔
    ”خدا حافظ۔” سالار نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا۔ جلال اسی انداز میں اسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر اس نے خود کلامی کی۔”It’s really an idiots world out there۔”
    وہ دوبارہ لنچ ٹرے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ اس کا موڈبے حد آف ہورہا تھا۔
    ٭…٭…٭