Tag: lok kahani

  • بس عشق ہو — کشاف اقبال (دوسرا اور آخری حصّہ)

    بس عشق ہو — کشاف اقبال (دوسرا اور آخری حصّہ)

    ’’تو آج آ رہے ہو نا اپنے بھائی کی منگنی پر؟‘‘برہان نے ناشتے سے فارغ ہوتے ہی ظہیر کو فون کیا۔
    ’’مبارک ہو بھائی۔بات منگنی تک جا پہنچی،ضرور آؤں گا! ‘‘برہان کی منگنی کی خبر سن کر ظہیر کو بہت خوشی ہو ئی۔برہان اسے اپنا سگا بھائی سمجھتا تھا،کیسے وہ اسے اپنی اس خوشی میں شریک نہ کرتا۔
    ’’ہاں یار۔اس کے گھر والے بھی اس کی طرح بناوٹ سے پاک ہیں،انہیں جیسے ہی یقین ہوا کہ میں ان کی بیٹی کے لیے درست ہوں ،تو پھر انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ دیر کس بات کی۔‘‘آج اس کے گھر میںخوب چہل پہل تھی۔ نبیہہ بیگم اور ندیم صاحب یہ فیصلہ کرنے میں مصروف تھے کہ کون سی مٹھائی جائے گی ،کتنی مقدار جائے گی،انگوٹھی کس طرز کی ہوگی،وغیرہ وغیرہ۔
    برہان نے ابھی تک ممتحنہ کی تصویر اپنے گھر والوں کو نہیں دکھائی تھی۔اسے یقین تھا کہ اس کے گھر والوں کو اس کی پسند ضرور پسند آ ئے گی،وہ انہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا۔
    ’’تم اپنے اخبار کے انٹرٹینمٹ کے صفحے پر میری منگنی کی خبر چھاپ دو۔‘‘وہ اپنی منگنی کا فنکشن بھلے سادگی سے کر رہا تھا،پر اپنی منگنی کی خبر وہ پورے پاکستان میں پھیلا دینا چاہتا تھا،وہ نہیں چاہتا تھا کہ میڈیا اسے اور ممتحنہ کو ساتھ دیکھ کر غلط باتیں اچھالتا پھرے۔
    ’’اس کی تو ٹینشن ہی مت لو۔ویسے بھی آپ تو ’’دا برہان ندیم‘ ہیں جن کا اپنی ہونے والی منگیتر کے ساتھ گھومنے جانا خبر بن گیا، تو پھر یہ تو باقاعدہ منگنی ہے۔ یہ خبر تو فرنٹ پیج کی زینت بنے گی،بولڈ لیٹرز میں۔‘‘ظہیر قہقہے مارنے لگا۔
    ’’تمہیں یہ خبر کیسے ملی کہ میں ممتحنہ کے ساتھ گھومنے گیا تھا؟‘‘ جہاں تک برہان کا خیال تھا وہاں کوئی میڈیا والا موجود نہیں تھا ۔برہان کو یہ بات بالکل بھی اچھی نہیں لگی۔
    ’’میں ایک بہت بڑے اخبار کا ایڈیٹر ہوں برہان صاحب۔میرے مخبر پاکستان کے ہر مشہور علاقے میں چھپے ہیں اور پھر آپ تو ’دا برہان ندیم ‘ ہیں۔ آپ کی خبر ملنا کوئی بڑی بات نہیں۔‘‘وہ برہان کو اپنی اور اپنے اخبار کی اہمیت جتانے لگا۔
    ’’تم میرے بھائی ہو اس لیے تم سے کہہ رہا ہوں۔برا مت ماننا،تم چاہے میری کوئی بھی خبر چھاپ لو،پر میری اور ممتحنہ کی کوئی بھی خبر مجھ سے پوچھے بغیر مت چھاپنا ،پلیز۔‘‘وہ ممتحنہ کے معاملے میں بہت سین سیٹو(Sensitive)تھا۔
    ’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر بھائی۔میں نے بالکل برا نہیں مانا۔ایک بار پھر بہت مبارک باد اپنی منگنی پر۔‘‘اور پھر دونوں نے فون رکھ دیا۔
    ظہیر کا فون بند ہوتے ہی برہان کے موبائل پر ’محمود علی کالنگ‘ کے الفاظ جگمگانے لگے۔
    ’’سلام محمود صاحب، کیسے یاد کیا؟‘‘اس نے بڑے خوش گوار موڈ میں سلام کیا۔
    ’’وعلیکم السلام۔کیا بات ہے؟آواز بتا رہی ہے کہ آج برہان ندیم کا دل باغ باغ ہوا ہے،کیوں؟‘‘کافی عرصے سے محمود علی اس کے ساتھ کام کر رہا تھا،اسے وہ اچھی طرح پہچان گیا تھا۔
    ’’اس دل کو باغ باغ اسی نے کیا ہے جس نے آپ کے لان کو ایک حسین باغ بنا دیا تھا۔آج منگنی ہے میری ممتحنہ کے ساتھ۔‘‘وہ کھل کر اپنے دل کا حال بیان کرنے لگا۔
    ’’مبارک ہو بہت۔سن کر خوشی ہوئی۔‘‘ وہ خوشی رسمی تھی۔اصل میں تو محمود علی حیال کے ساتھ ہی برہان کو دیکھنا چاہتا تھا۔
    ’’خیرمبارک۔‘‘
    ’’میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ ہماری فلم کی شوٹنگ اگلے ہفتے سے شروع ہے،فلم کا ایک حصہ کراچی میں شوٹ ہوگا اور دوسرا دبئی میں۔آج تمہیں بور نہیں کروں گا۔اسکرپٹ اور باقی تمام تفصیلات کل تمہارے گھر پہنچادوں گا۔Enjoy your day،اللہ حافظ۔‘‘برہان کو شوٹنگ کی تاریخ سے آگاہ کرنے کے بعد اس نے فون رکھ دیا۔
    ٭…٭…٭





    ’’یا اللہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟میری بھی تو برابر کی محنت ہوتی ہے۔ پھر میری محنت کا پھل وہ کیوں لے اڑتی ہے؟قسمت اس پر اتنی مہربان کیوں ہے؟اسے مقبولیت بھی ملی اور برہان ندیم جیسے اداکار کی سچی محبت بھی،پر میرے نصیب میں کیا آیا؟کچھ بھی تو نہیں۔‘‘وہ تیز آواز میں موسیقی لگا کر گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی۔
    ’’مجھے محبت نہیں چاہیے تھی،مجھے صرف میری محنت کا پھل چاہیے تھا،پر و ہ مجھے جائز طریقے سے نہیں ملا۔ اس لیے میرے اللہ تو مجھے معاف کر دینا،میں کچھ غلط کرنے نہیں جا رہی،بس اپنی محنت کا پھل پانے کے لیے غلط راستے کا انتخاب کر رہی ہوں۔‘‘
    اور بالآخر وہ اس جگہ پر آپہنچی جہاں ہر وہ انسان آتا ہے جو حسد کی آگ میں جھلساہوا ہو،جہاں ہر وہ انسان آتا ہے جسے اپنا مقصد حاصل کرنا ہو،ہر ناجائز طریقے سے،جہاں ہر وہ مسلمان آتا ہے جس کا ایمان اللہ پر سے اٹھ جاتا ہے،جہاں ہر وہ مسلمان آتا ہے جو خدا سے نا امید ہو کر شیطان سے مانگنے لگتا ہے۔ہاں! وہ سفلی عامل کے پاس آ پہنچی تھی۔
    اس نے اندر داخل ہونے سے پہلے ہزار بار سوچا کہ کیا وہ غلط کر رہی ہے؟ دل اور دماغ دونوں نے کہا کہ وہ اسلام سے خارج ہونے جا رہی ہے۔ پر تھوڑی دیر بعد اسے اپنا مقصد نظر آنے لگا۔مانا کہ جائز مقصد حاصل کرنے کے لیے انسان کسی بھی حد تک چلا جاتا ہے،پر وہ ساری حدیں پار کی ہوتی ہیں،مگر وہ تو ایمان کے دائرے ہی سے خارج ہونے جا رہی تھی۔
    ’’سلام بابا جی۔‘‘ وہ چہرہ وحشت سے بھرا تھا۔کچھ اتنا کہ اس کے پاس سلام کا جواب دینے کا بھی وقت نہ تھا۔
    ’’مسئلہ بتا۔‘‘اس کے یہاں کسٹمرز کا کافی ہجوم تھا۔ غلاظت اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہی تھی۔اس نے زارا کے سلام کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔
    ’’محنت میری بھی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی اس کی،پر ساری کی ساری تعریفیں و ہ اپنے حصے میں لے جاتی ہے۔مجھے تو وہ اپنا نوکر سمجھتی ہے۔میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ اس کے حصے کی تعریفیں میرے حصے میں آ جائیں،اس کے ساتھ بھی وہی ہو جو میرے ساتھ ہوا ہے۔محنت وہ کرے اور پھل میں لے اڑوں۔‘‘وہ جلد بازی میں بابا کو سارا مسئلہ بتانے لگی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنا مقصد بھی۔
    ’’کام ہو جائے گا۔اس کی ماں کے نام کی ضرورت پڑے گی۔کل بیس ہزار روپے لے کر آجانا،میں کام شروع کر دوں گا۔اگر تیرا کام نہ ہوا ،تو تیرے پیسے واپس۔‘‘وہ واقعی بہت پہنچا ہوا سفلی عامل تھا۔زارا نے انٹرنیٹ پر اس کے متعلق کافی تحقیقات کی تھیں۔
    ’’جی بابا۔‘‘اور وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    ’’میں تو آپ کا دیوانہ ہوں حیال صاحبہ۔آپ کے حسن پر تو دنیا مرتی ہے پر میں آپ کے حسن کو دیکھ کر جی اٹھتا ہوں۔‘‘محمود علی کی فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے نمیر علی نے حیال سے ملاقات کرنا چاہی۔
    ’’ہونہہ۔‘‘ وہ ہر ایک سے اپنی تعریفیں سن سن کر جیسے بے زار سی ہو گئی تھی۔
    ’’سنا ہے بہت خواہش ہے آپ کو میرے ساتھ کام کرنے کی؟‘‘ حیال نے کا ک ٹیل کا ایک سپ لیتے ہوئے پوچھا۔
    ’’جی! وہ تو ہے۔میں آپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں۔بس یہی چاہتا ہوں کہ برہان ندیم کی طرح میں بھی آپ کے ہر پراجیکٹ میں آپ کے ساتھ کام کروں۔آپ کی صحبت میں رہ کر تو وہ آسمان کا سب سے زیادہ چمکتا ہوا ستارہ بن گیا،ہمیں بھی آسمان کا ستارہ بننے کا موقع دے کر دیکھیے،آپ ہمارے کام سے بہت متاثر ہوں گی۔‘‘وہ تو جیسے اس کا دیوانہ تھا،پر حیال اتنا عرصہ میڈیا میں کام کرنے کے بعد اتنا ضرور سمجھ گئی تھی کہ وہ اسے صرف اپنی کام یابی کی طرف جانے والی سیڑھی سمجھ رہا ہے۔ پر وہ بھی حیال طاہر تھی،دوسروں کو اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے سیڑھی بنانے کے فن میں اسے کمال حاصل تھا۔
    ’’میرے ساتھ بڑے بڑے کام کرنے کے لیے تمہیں میرے چھوٹے چھوٹے کام کرنا ہوں گے۔‘‘وہ اسے آفر دینے لگی۔
    ’’آفر منظور ہے۔‘‘نمیر نے سوچنے کے لیے ایک لمحہ بھی انتظار نہ کیا۔
    ’’ایسے بڑے بڑے ڈائریکٹرز ،بڑے بڑے پروڈکشن ہاؤسز کے ساتھ کام دلاؤں گی کہ سوچ ہے تمہاری۔کام کے بارے میں تمہیں تفصیلات فلم کی شوٹنگ کے دوران ہی پتا چل جائیں گی۔‘‘حیال نے نمیر علی کو نہال کر دیا اور ساتھ ساتھ اپنا مقصد پورا کرنے کا سامان بھی کر لیا۔
    ٭…٭…٭
    وہ پارلر تیار ہونے نہیں،صرف مہندی لگوانے گئی تھی۔عنایہ بیگم اور حار ث نے بہت اصرار کیا کہ پارلر جا ہی رہی ہو تو تھوڑا بہت تیار بھی ہو جانا پر اس نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا ۔
    ’’تیار ایک ہی دن ہوں گی، وہ بھی جم کے اور وہ دن میری شادی کا ہوگا۔‘‘اسے میک اپ کرنے کا بالکل بھی شوق نہیں تھا اور اس نے یہ طے کر لیا تھا کہ اگر وہ تیار ہو گی بھی تو محض اپنی شادی والے دن۔
    وہ مہندی والے ہاتھ لیے،جن کے بازوؤں تک باریک اور نہایت نفاست کے ساتھ مہندی لگی ہوئی تھی،اپنے کمرے میں آ گئی۔
    ’’تم نے اپنے مہندی والے ہاتھوں پر میرا نام لکھوایا؟‘‘اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی برہان ندیم کا فون آگیا۔ پارلر سے آتے آتے اس کی مہندی خشک ہو چکی تھی،اس نے بہ آسانی برہان کا فون ریسیو کر کیا۔
    ’’نہیں۔‘‘اس نے ہوش و حواس کے ساتھ جواب دیا۔
    ’’کیوں؟‘‘برہان افسردہ ہو گیا۔
    ’’مہندی تو ہاتھوں سے مٹ ہی جاتی ہے،بہت زیادہ کتنے دن قائم رہے گی؟پانچ دن؟دس دن؟پھر اسے مٹنا ہی ہوگا۔پھر میں ایسی تختی پر کیسے آپ کا نام لکھواتی جس پر لگی سیاہی کو مٹ ہی جانا ہے؟‘‘وہ اسے اپنے ہاتھوں پر اس کا نام نہ لکھوانے کی دلیل پیش کرنے لگی۔
    ’’تو پھر کس تختی پر محبوب کا نام لکھا جاتا ہے؟‘‘وہ اس کے جواب کا منتظر تھا۔
    ’’محبوب کا نام تو اس تختی پر لکھا جاتا ہے جہاں غیروں کی نظر نہ پڑ سکے اور وہاں میں آپ کا نام بہت پہلے ہی لکھوا چکی ہوں۔‘‘ہاتھوں پر نام نہ لکھوانے کی ناراضی وقتی تھی پر دل پر نام ہمیشہ کے لیے لکھوانے کی خوشی جاوداں تھی۔
    ’’ہونہہ۔ پر اگر رسماً ہی لکھوا لیتی تو کیا ہوجاتا؟سنا ہے عاشق کا اپنے محبوب کے مہندی والے ہاتھوں میں اپنانام ڈھونڈ لینا اس کا کمال ہوتا ہے۔‘‘وہ ممتحنہ کی کہی بات سمجھ چکا تھا پھر بھی چاہتا تھا کہ وہ رسماً ہی سہی، اپنے ہاتھوں پر اس کا نام لکھوا لے۔
    ’’محبوب کے ہاتھوں میں لگی مہندی پر اپنا نام ڈھونڈناکمال نہیں ہوتا برہان،اس کے چہرے پر لکھے اپنے نام کا نظر آنا کمال ہوتا ہے۔وہ اس لیے کیوں کہ اس نام کو دیکھنے کے لیے آنکھوں کی نہیں،محبت جیسی بینائی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘برہان اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھنے لگا ،اسے اتنی سمجھ دار منگیتر جو ملنے والی تھی۔
    ’’صحیح کہہ رہی ہو تم۔تو پھر تیار رہنا،میں نکل رہا ہوں۔‘‘ وہ تو ایسے بول رہا تھا جیسے برات لے کر آ رہا ہو اور وہ اپنے گھر سے رخصت ہونے لگی ہو۔
    ایک گھنٹا گزرا ہی تھا کہ ممتحنہ کو اپنے کمرے میں ہارن کی آواز سنائی دی۔لڑکے والے آ چکے تھے۔اس نے زارا کو کتنی بار فون کیا پر اس نے اس کی ایک کا ل کا بھی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔اس نے زارا کی لینڈ لائن پر فون کرنے کا فیصلہ کیا۔
    ’’کوئی لینا دینا نہیں ہے میری بیٹی کا تم سے،سمجھیں! بہت اچھا کیا تم نے اس کے ساتھ۔آئندہ میری بیٹی کے موبائل پر یا لینڈ لائن پر فون مت کرنا۔خدا حافظ۔‘‘ لینڈ لائن پر فون کرتے ہی سمیہ بیگم کی جانب سے اسے بہت تلخ جواب ملا۔وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ آخر ایک دن میں ایسا کیا ہو گیا جو زارا اس سے اتنی لاتعلق ہو گئی۔اس نے سر جھٹک کر اپنی زندگی کے اہم دن کو کھل کر جی لینے کا فیصلہ کیا۔
    میرون رنگ کا ڈائینسٹی(Dynasty)کا کرتہ پہنے وہ شہزادے کے طرح اپنے گھر والوں کے ہمراہ ممتحنہ کے گھر داخل ہوا۔وہ اپنی نظریں اِدھر اُدھر دوڑانے لگاپر اسے حارث اور عنایہ بیگم کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آیا۔ بے چارا عاشق۔
    ایک دوسرے کے گھر والوں سے سلام دعا ہونے کے بعد حارث اور عنایہ بیگم نے مہمانوں کو لاؤنج میں بٹھایا۔
    ’’کب آؤ گی کمر ے سے باہر؟ Me waiting‘‘ براجمان ہوتے ہی برہان واٹس ایپ پر اپنی ہونے والی منگیتر کے ساتھ چیٹنگ کرنے میں مصروف ہو گیا۔ظہیر بھی ساتھ آیا تھا،وہ اسے دیکھ کر سمجھ گیا کہ برہان سے مزید انتظار نہیں ہورہا۔
    ’’آ جاؤں گی۔ Have patience۔‘‘ جتنی تیزی سے برہان نے پیغام ٹائپ کیااتنی ہی پھرتی سے ممتحنہ کا جواب موصول ہوا۔
    دونوں گھر والوں کی مفصل سی گفت گو کے بعد بالآخر نبیہہ بیگم نے عنایہ بیگم سے کہا۔
    ’’ہماری ہونے والی بہو کہاں ہے؟اسے بلائیں تو سہی۔‘‘برہان کی جان میں اس وقت تک جان نہیں آنے والی تھی جب تک کہ وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے۔اسے خلش سی ہو رہی تھی کہ ممتحنہ اس کے آس پاس ہو کر بھی اس کی نظروں سے اوجھل ہے۔
    ’’جی میں ابھی لے کر آتی ہوں اسے۔‘‘نبیہہ بیگم کے کہتے ہی عنایہ بیگم ممتحنہ کے کمرے کی طرف چلی گئیں۔
    مسٹرڈ رنگ کی ٹخنوں کو چھوتی ڈیزائنر فراک،میرون پاجامہ،سر پر میرون دوپٹا اوڑھے،کمر تک آتے بالوں کی اسٹائلش سی چوٹی باندھے اور چوٹی کو آگے کی طرف کرتی وہ عنایہ بیگم کے ساتھ سیڑھیوں سے اترنے لگی۔سب کی نظریں اس پھول پر ٹھہر سی گئیں۔منگیتر صاحب کا تو بس نہیں چل رہاتھا کہ اپنی منگنی والی رات کو ممتحنہ کی رخصتی والی رات بنا دے،بھگا کر لے جائے اسے اپنے ساتھ۔
    ’’ماشا ء اللہ ! اللہ نظر بد سے بچائے۔میرے بیٹے کی پسند تو کافی روایتی ہے۔میں تو ابھی تک یہی سمجھ رہی تھی اس میک اپ کی دکان حیال کو ہماری بہو بنائے گا۔ پر ہمارا بیٹا تو عقل مند نکلا ندیم صاحب۔‘‘نبیہہ بیگم صاحبزادے کی پسند کی تعریف کرنے لگیں۔
    ’’حسن بے شک تمہارا ہو پر عقل تو مجھ پر گئی ہے ہمارے صاحبزادے کی۔‘‘ندیم صاحب کہہ بھلے نبیہہ بیگم سے رہے تھے پر نظریں سب ہی کی طرح ان کی بھی ممتحنہ پر ٹکی تھیں۔
    ’’ماشاء اللہ۔ یہ تو چاند کا ٹکڑا ہے۔اس کی خوب صورتی بتا رہی ہے کہ یہ کتنی خوب سیرت ہو گی۔‘‘برہان کی طرح اس کی امی بھی ممتحنہ کی سادگی پر پہلی ہی نظر میں اپنا دل ہار بیٹھیں۔
    ممتحنہ اب برہان کے ابو کو سلام کہنے لگی۔
    ’’وعلیکم السلام۔خوش رہو۔‘‘وہ اس کے سرپر ہاتھ رکھ کر اسے دعائیں دینے لگے۔سلام دعاکے بعد سب ایک بار پھر محو گفت گو ہوئے۔
    ’’بھئی مان گئی۔ ایسی شہزادی تو برہان کو شوبز کیا،پوری دنیامیں کہیں نہ ملتی۔‘‘وہ اپنے بیٹے کی پسند پر رشک کرنے لگیں۔
    ’’میرا خیال ہے ہم منگنی کی رسم شروع کر لیں؟‘‘ نبیہہ بیگم نے حارث سے انگوٹھی کی رسم شروع کرنے کی اجازت لی۔
    اب وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ۔وہ جوڑی آسمانی لگ رہی تھی،آسمانوں پر بنائی گئی دنیا کی سب سے حسین جوڑی۔پہلے ممتحنہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔انگوٹھی انگلی میں جاتے ہی جیسے ہی تالیاں بجنا شروع ہو ئیں،برہان نے ان کی آواز کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ممتحنہ سے کہہ دیا۔
    ’’آئی لو یو!‘‘ وہ اسے گھور کر دیکھنے لگی جیسے وہ کہنا چاہ رہی ہو۔’’سب دیکھ رہے ہیں برہان۔‘‘
    اب باری تھی ممتحنہ کی انگوٹھی پہنانے کی اور بالآخر اس نے بھی برہان کی انگلی میں اپنے نام کی انگوٹھی ڈال دی۔
    ’’آئی لو یو ٹو!‘‘اگر برہان کہہ سکتا تھا تو وہ کیوں نہیں؟ اس نے بھی شورغل کا بھرپور فائد ہ اٹھایا۔و ہ اسے آئی لو یو کہہ چکا تھا اور وہ اس کے جذبات کا جواب نہ دے کر اس کی محبت کی بے ادبی نہیں کر سکتی تھی۔
    ’’بھئی میرا خیال ہے کہ اب ہمیں دونوں کو تھوڑی دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دینا چاہیے۔ دونوں کا حق بنتا ہے ایک دوسرے سے باتیں کرنے کا، کیوں عنایہ بھابی؟اجاز ت ہے؟‘‘نبیہہ بیگم لڑکی والوں کے جواب کی منتظر تھیں۔
    ’’جی بالکل۔کیوں نہیں!‘‘جواب دینے والی عنایہ بیگم نے حارث کی طرف اک نظر دیکھا اور مان گئیں۔ حارث کے چہرے کے تاثرات بھی عنایہ بیگم کی حمایت میں تھے۔
    ’’ظہیر بیٹا! جاؤ دونوں کو کھلی ہوا میں چھوڑ آؤ۔‘‘ ظہیر ان دونوں کو چھت کی طرف لے جانے لگا۔
    ’’کیا تکلفات کرنے بیٹھ گئیں؟‘‘نبیہہ بیگم عنایہ بیگم کو کچن میں کام کرتا دیکھ کر ان کے پاس آ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    ’’چلیں جی۔ میرا کام تو ہو گیا ،اب میں چلا۔‘‘برہان اور ممتحنہ کو چھت پر چھوڑتے ہی ظہیر وہاں سے جانے لگا۔
    ’’یہ آپ کے بھائی ہیں؟‘‘ ممتحنہ کو ظہیر برہان کے بھائی سے کچھ کم نہ لگا۔
    ’’ہاں بھائی ہی سمجھو، ویسے یہ میرا بہت پرانا دوست ہے،مجھے اداکار بنانے میں اس کا بڑا ہاتھ ہے۔اسی کے ریفرنس سے میں مختلف پروڈیوسرز ،ڈائریکٹرز سے ملا۔ بہت مشہور و معروف اخبار کا ایڈیٹر ہے۔میرے لیے بھائی سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘وہ ممتحنہ کو ظہیر کی اس کی زندگی میں کیا اہمیت ہے،بتانے لگا۔
    ’’زبردست! انہیں جانے کیوں دیا آپ نے؟تعارف ہی کروا دیتے۔‘‘ممتحنہ کو ظہیر کے متعلق سن کر کافی خوشی ہوئی۔
    ’’یہاں موضو ع ہم ہیں یا کہ ظہیر ؟‘‘ برہان کو ڈر لگنے لگا کہ کہیں نصیب سے ملی اس ملاقات کا موضوع ظہیر ہی نہ بن جائے۔
    ’’ایسی کوئی بات نہیں،موضوع تو ہم ہی ہیں۔آپ پوزیسسو ہو رہے ہیں؟‘‘وہ چھت پر لگے چوڑے جھولے پر آ کر بیٹھ گئی۔
    ’’ہونہہ۔میں تمہارے ساتھ ہر گفت گو کی ابتدا ’ہم ‘ سے اور اختتام ’ہم‘ پر ہی کرنا چاہتا ہوں اور جس گفت گو کی ابتدا ہم سے ہو، اس کا اختتا م میں ’تم‘ پر ’مجھ‘ پر یا ’اوروں‘ پر کر کے تمہارے ساتھ ظلم نہیں کر سکتا۔‘‘وہ جھولے کے پاس آیا اسے محبت میں گفت گو کے آداب سے آگاہ کرنے لگا۔
    ’’بہت حسین لگ رہی ہو اور تمہارا سب سے حسین زیور جو تم ہمیشہ پہنے رہتی ہو،مجھے تمہارا وہ زیور سب سے زیادہ عزیز ہے۔خدا نہ کرے کہ کبھی ایسا ہو پر چاہے ہماری محبت کے حالات کتنے ہی حساس کیوں نہ ہو جائیں،اس زیور کو ہرگز مت گمانا، ایسا کرنا تم سے زیادہ میرے لیے نقصان کا باعث ہوگا۔‘‘
    وہ اسے فرصت کے ساتھ دیکھنے لگا۔اس کی آنکھوں کو ،پھر اس کے بالوں کو اور پھر اس کے ہاتھوں میں لگی مہندی کو۔مہندی پر نظر پڑتے ہی برہان نے ممتحنہ کی انگلیوں میں پہنی اپنے نام کی انگوٹھی کو دیکھا۔
    ’’نکاح اور منگنی میں کیا فرق ہو تا ہے ممتحنہ؟‘‘ اس کی نظر ابھی تک منگنی کی انگوٹھی پر تھی۔
    ’’حد ہو گئی برہان،بہت فرق ہوتا ہے۔‘‘وہ اسے اتنا بھی بے وقوف نہیں سمجھتی تھی کہ نکاح اور منگنی میں فرق نہ کر سکے۔
    ’’بہت فرق تو نہیں ہوتا،بس تھوڑا سا ہوتا ہے۔‘‘اس نے ممتحنہ کا انگوٹھی والا ہاتھ تھام لیا۔
    ’’تھوڑا سا؟وہ کیسے؟‘‘ممتحنہ کو تجسس ہوا۔
    ’’چاہے منگنی کی انگوٹھی ہو یا نکاح کا نکاح نامہ،فرق صرف شریعت کی بنا پر آتا ہے اور نکاح کے بعد دو محبت کرنے والوں کو ’میاں‘ اور ’بیوی‘ کا لقب دے دیا جاتا ہے ورنہ کبھی نہ ٹوٹنے والا بندھن تو دو محبت کرنے والوں کا بہت پہلے ہی جڑ چکا ہوتا ہے۔‘‘اب وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
    ’’ہاتھ چھوڑیں۔یہ دو دریا نہیں ہے،آپ کے سسرا ل کی چھت ہے جہاں آپ کی ساس اور سسر کبھی بھی کسی بھی وقت حاضر ہو سکتے ہیں۔‘‘ ممتحنہ برہان کے ہاتھوں کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگی۔
    ’’تمہاری آنکھیں محبت کے خط کی طرح ہر لمحہ مجھے محبت کا ایک نیا پیغام بھیج رہی ہوتی ہیں۔‘‘اس نے ابھی تک ممتحنہ کا ہاتھ نہ چھوڑا۔ اسے اس وقت کسی کی بھی پروا نہیں تھی، سوائے اپنے دل کے۔
    ’’ اور آپ کی آنکھیں اسی خط کے جواب کی طرح ہیں، میری نظروں کے خط کا جواب مجھے دیکھتے ہی دے دیتی ہیں۔‘‘اس نے بھی صرف اپنے دل کی پروا بغیر کیے برہان کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
    ’’مجھے اپنی محبت میں اس طرح قید کر لینا کہ آزادی صرف موت ہی دلا سکے۔‘‘ ممتحنہ کے لمس نے اسے اس کی قید میں ہمیشہ اسیر بن کر رہنے پر مجبور کر دیا۔
    ’’جہاں بات محبت کی ہو، وہاں ذکر موت کا نہیں کرتے، ایسا کرنے سے محبت کی عمر میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔‘‘وہ دونوں ایک دوسرے میں پوری طرح گم ہو چکے تھے۔
    ’’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنی نظر اتروا لینی چاہیے۔نظر بہت بری چیز ہوتی ہے،برباد کردیتی ہے۔‘‘ممتحنہ کو اچانک سے برے برے خیالات آنے لگے، وہ سہم گئی۔
    ’’ہماری نظر تو اتر ہی جائے گی پر میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنی محبت کی بھی نظراتروا لیں۔‘‘ اسے سب سے زیادہ ڈر اپنی محبت کو نظر لگنے کا تھا۔
    ’’محبت کی نظر کیسے اتاری جاتی ہے برہان؟‘‘ ممتحنہ کو تجسس ہوا۔
    ’’دعاؤں سے۔‘‘اب وہ اس کے ہاتھوں کو دعا والے ہاتھ کی شکل دینے لگا اور خود بھی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا دیے۔
    ’’آؤ آج مل کر دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ!ہماری محبت کو تاقیامت سلامت رکھنا۔حاسدوں سے بچانا جو ہماری محبت کے بارے میں برا سوچتے ہیں ان کے حال پر رحم کبھی نہ کرنا اور ہماری محبت کو ہمیشہ پروان چڑھانا۔آمین۔‘‘وہ برہان کے منہ سے نکلی ہر ایک دعا کے بعد آمین کہنے لگی۔اسے دعائیں مانگنا نہیں آتی تھیں،دعائیں تو ممتحنہ کی محبت کی دین تھیں۔
    عنایہ بیگم ان دونوں کو نیچے کھانے پر بلانے چھت پر پہنچیں تو ان دونوں کو دعا کرتا دیکھ کر وہ سکون کا سانس لینے لگیں۔
    ’’اللہ نظر بد سے بچائے اس جوڑی کو۔کتنے پیارے لگ رہے ہیں ایک ساتھ۔Made for each other، دعا کرتے ہوئے ایک تصویر تو بنتی ہے۔‘‘ایک طرف محبت کو نظر بد سے بچانے کی دعا کی جارہی تھی دوسری طرف محبت کرنے والوں کو۔اس سے پہلے کہ وہ ان کی دعا میں خلل ڈالتیں، عنایہ بیگم نے اپنے اسمارٹ فون سے ان کی دو چار تصاویر لے لیں۔
    ’’اگر آپ کی دعائیں ختم ہو گئی ہوں تو کیا نیچے تشریف لا سکتے ہیں؟آپ کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی عنایہ بیگم ان دونوں کے بیچ آ گئیں۔
    ’’جج…جی امی…آتے ہیں۔‘‘عنایہ بیگم کو اچانک چھت پر موجود پا کر ممتحنہ بوکھلا سی گئی جب کہ برہان پرسکون رہا۔
    ’’میں نے آپ سے کہا تھا نا کوئی آ جائے گا۔‘‘وہ اپنی امی کے پیچھے پیچھے چلتی برہان کو مدھم آواز میں ڈانٹنے لگی۔
    ’’دعا کرنا جرم تمہارے لیے ہوگا،میرے لیے تو عباد ت ہے اور عباد ت کرتے وقت جب رب ہمارے اتنے نزدیک ہوتا ہے،ہمارے سامنے ہوتا ہے،تو دنیا والوں سے کیا پردہ؟‘‘وہ اسے سمجھانے لگا اور سمجھایا بھی ایسا کہ ممتحنہ کا منہ خود بہ خود بند ہو گیا۔
    ’’آپ لوگوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔آج سے ممتحنہ آپ کے پاس ہماری امانت ہے۔ اسے سنبھال کر رکھیے گا کیوں کہ بہت جلد ہم اسے یہاں سے اپنے گھر لے جانے والے ہیں۔‘‘ نبیہہ بیگم جاتے جاتے عنایہ بیگم اور حارث کو آگاہ کرنے لگیں کہ وہ بہت جلد برہان کی شادی کرنے والی ہیں۔
    ’’آپ فکر مت کریں بھابی، ہم آ پ کی امانت کو سنبھال کر رکھیں گے۔ہمیں بھی آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔آتے رہیے گا۔‘‘عنایہ بیگم رشتے داری نبھانے لگیں۔
    اور پھر و ہ لوگ چلے گئے۔ممتحنہ کی زندگی کا ایک اہم دن اپنے اختتام کو پہنچا۔وہ مطمئن تھی کہ سب کچھ بہت اچھے سے ہو گیا اور اس سے کہیں زیادہ مطمئن حارث اور عنایہ بیگم تھے۔
    وہ اپنے کمرے میں چلی گئی ۔فریش ہو کر جب وہ باتھ روم سے اپنے کمرے میں آئی تو اس کا موبائل بج رہا تھا۔
    ’’السلام و علیکم محمود علی صاحب۔ خیریت؟کوئی فلورل ارینجمنٹ کروانی ہے آپ نے؟‘‘رات کے گیارہ بجے محمود علی نے اسے فون کیا۔
    ’’فی الحال تو کوئی نہیں پر اب مجھے جب بھی پھولوں کی سجاوٹ کروانا ہوگی، تو سب سے پہلے آپ ہی کو یاد کروں گا۔‘‘
    ’’شکریہ۔‘‘اسے ابھی تک محمود علی کے فون کرنے کی وجہ سمجھ نہ آئی۔
    ’’میں نے آپ کو مبارک باد دینے کے لیے فون کیا ہے۔برہان سے منگنی بہت بہت مبارک ہو۔ میں بہت خوش ہوں آپ دونوں کے لیے۔‘‘محمود علی کے فون کرنے کی وجہ ممتحنہ کو مبارک باد دینا تھی۔
    اگرچہ محمود علی کی خواہش تھی کہ برہان اور حیال شادی کے بندھن میں بندھ جائیں پر و ہ ممتحنہ سے برہان کی منگنی پر مایوس نہیں ہوا تھا۔
    ’’بہت بہت شکریہ۔‘‘ممتحنہ نے اندازہ لگا لیا کہ یقینا برہان نے ہی محمود علی کو بتایا ہو گا۔
    ’’میں نے آپ کی کمپنی کی ای میل آئی ڈی پر سکسیس پارٹی کی ویڈیو بھیجی تھی،وہ دیکھ لی آپ نے؟‘‘وہ بہت ہلکان ہو چکی تھی اس روز، مزید لب کشائی کرنے کے بالکل بھی موڈ میں نہیں تھی۔




  • بس عشق ہو — کشاف اقبال (حصّہ اوّل)

    بس عشق ہو — کشاف اقبال (حصّہ اوّل)

    ـ’’ہمیں پہلی فرصت میں ہی ممتحنہ کا نکاح کر دینا چاہیے تھا، لیکن ہم نے اس وقت سماجی رسم کو تفریحی رسم پر فوقیت دی اور دیکھو، آج کیا ہو گیاہماری بیٹی کے ساتھ۔اگر اس دن اس کا نکاح ہو گیا ہوتا تو کم از کم یہ نوبت تو ہرگز نہ آتی۔ نکاح میں اللہ کی رضامندی شامل ہوتی ہے اور منگنی میں صرف ہماری۔ ہم نے اللہ کی رضامندی پر اپنی رضامندی کو فوقیت دی اور دیکھو آج ہماری بیٹی کی کیا حالت ہو گئی۔‘‘ ماں کے ساتھ باپ بھی آنسو بہانے لگا۔
    ’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں حارث، لیکن اب کیا فائدہ ان باتوں کا، ہماری بیٹی اس حال تک پہنچ ہی گئی۔‘‘ غم تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا اور آنسو تھے جو تھم نہیں رہے تھے۔
    ــ’’آپ لوگ اس طرح مت روئیں۔ وہ ابھی اپنی زندگی سے جنگ میں ہے۔شکست نہیں کھائی اس نے اور جب اپنے جنگ پر جاتے ہیں، تو گھر والے مایوس ہو کر غم نہیں مناتے۔ غازی بن کر ان کے واپس لوٹنے کی دعا کرتے ہیں اور وہ غازی بن کر ہی میدان جنگ سے واپس لوٹے گی۔‘‘ وہ اپنی زندگی کو اپنی زندگی کا کچھ حصہ، اپنا خون دے کر آیا ہی تھا کہ اس نے ممتحنہ کے امی ابو کو غمگین دیکھا ۔ وہ انہیں سوگ مناتا دیکھ کر غصہ کرنے لگا۔
    اس کے غصہ کرتے ہی حارث اور عنایہ کو سمجھ آیا کہ غم زدہ ہونے سے بہتر ہے کہ ہوش میں آنے کی دعا کی جائے۔عنایہ بیگم مصلّے پر بیٹھ گئیں اور حارث تسبیح ہاتھ میں لیے اپنی بیٹی کی صحت یابی کے لیے دعائیں کرنے لگااور وہ… اس کا نظریہ تو کچھ اور ہی تھا۔
    ’’اب یہ بندہ شکرانے کے نفل بھی ادا کرے گا۔
    عنایہ بیگم کے سلام پھیرتے ہی ڈاکٹر صاحب آپریشن تھیٹر سے باہر نکل آئے۔
    ’’کیسی حالت ہے اب اس کی؟‘‘ سوال تینوں کا تھا پر پوچھنے میں پہل برہان نے کی۔
    ’’ہم نے مریضہ کو خون کی بوتل لگا دی ہے پر حالت پر کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔ اگلے پندرہ منٹ تک ان کی ہارٹ بیٹ نارمل نہیں ہوئی تو آئی ایم سوری۔‘‘ڈاکٹر صاحب جواب دے چکے تھے۔ وہ ممتحنہ سے کچھ سوالات کرنے اندر چلا گیا۔
    ’’میں نے اپنا لہو تمہیں دیا ہے۔تم اس کے ساتھ بے وفائی نہیں کر سکتیں ممتحنہ۔ ‘‘وہ اس کا منگنی کی انگوٹھی والا ہاتھ اپنے دل پر رکھنے لگا، وہ انگوٹھی اتر نہ سکی تھی۔
    ’’میری جان! دیکھو میرا دل تمہارے بغیر بھی دھڑک رہا ہے اور یہ تو ممکن ہی نہیں کہ میں تمہارے بغیر سانس لوں۔ اس کا مطلب یہی ہوا کہ تم مجھے سن رہی ہو۔ اگر سن رہی ہو تو ایک بار دیکھ بھی لو۔ پلیز…‘‘ وہ اس کے ہاتھوں کو چومنے لگا لیکن اس نے کچھ رسپانس نہیں دیا۔
    ’’تم ہو تو میں ہوں۔ تم نہیں ہو تو میں کون ہوں؟‘‘ برہان کو یقین تھا کہ اس کی باتیں اس کے دل تک ضرور جائیں گی اور اسے دھڑکنے پر مجبور کردیں گی۔ اس کی شہادت کی انگلی میں حرکت ہونے لگی۔
    ’’ممتحنہ! اپنی آنکھیں کھولو پلیز۔ ورنہ میں مزید اپنی آنکھوں کو کھلا رکھنے کا گناہ نہیں کر پاؤں گا۔ ‘‘ وہ رونے لگا۔ روتے روتے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔
    ٭…٭…٭





    وہ بہار کے دن تھے، گلوں کے کھلنے کے دن، خوشبوؤں کے دن، شجر پر نئی شاخوں کے اگنے کے دن اور خزاں کے پتے جھڑنے کے دن۔
    آج اس کے اسکول میں سالانہ بہار فیسٹول تھا۔ اسے ہمیشہ اس تقریب کا انتظار رہتا۔ پھولوں سے اتنی مانوس جو تھی۔ اس کے دن کا آغاز ہوتا بھی تو صرف پھولوں سے اور اپنے ہر دن کا اختتام بھی وہ پھولوں پر کرتی۔ہر صبح اپنے لان سے ایک پھول توڑ کر اپنے بالوں میں سجا لیا کرتی۔ کبھی گلاب تو کبھی چنبیلی،کبھی سوسن تو کبھی گل ِ لہمی۔ بچپن ہی سے پھولوں سے اتنی واقفیت اتنی شناسائی تھی کہ پھولوں کا حسن بھی اس کے چہرے پر نمودار ہونے لگا تھا۔ وہ گلوں کا ہر رنگ اوڑھے ہوئے تھی ۔ کبھی کھلتا ہوا گلاب لگتی تو کبھی سورج مکھی کا پھول۔ ایسی بات نہیں تھی کہ اس میں موجود تمام خوب صورتی، تمام نزاکت ان پھولوں کے ساتھ رہنے، ان سے باتیں کرنے کی بنا پر آئی تھی۔ وہ تو خود ہی ایک پھول تھی۔ قدرتی حسن سے مالا مال ممتحنہ پھولوں کے مانند تھی۔ہر پھول کے کھلنے کا کوئی نہ کوئی موسم ضرور ہوتا ہے، لیکن وہ سدا بہا ر تھی جسے کھلنے کے لیے بہار کا انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔
    ’’ماما میں بہت لیٹ ہو گئی ہوں پلیز تھوڑا جلدی کر دیں۔‘‘ عنایہ بیگم اپنی بیٹی کے لمبے گھنے بالوں میں کنگھی کر رہی تھیں کہ ممتحنہ نے جلد بازی دکھانا شروع کر دی۔
    ’’کوئی دیر نہیں ہوئی میری گلابو۔ فیسٹول آٹھ بجے شروع ہو گا، ابھی صرف سات ہی بجے ہیں اور خبردار جو ورکنگ وومن کی طرح ناشتا کیے بغیر نکل گئیں تو۔ ‘‘ عنایہ بیگم اس بارہ سالہ بچی، جو سوچ اور اندازِ گفت گو سے ورکنگ وومن لگتی تھی، کو فیسٹول کے اوقات سے آگاہ کرنے لگیں۔
    ’’میری گلابو تو بہت پیاری بچی ہے۔ناشتے سے انکار نہیں کرتی اور آج تو اس کی دادی اسے اپنے ہاتھوں سے ناشتا کروائیں گی۔ ‘‘ ممتحنہ کے بالوں میں جیسے ہی پونی بندھی، دادی نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
    ’’آپ سب تو مجھے ایسے ٹریٹ کرتے ہیں جیسے میں دودھ پیتی بچی ہوں۔ کر لوں گی ناشتا، دادی آپ زحمت نہ کریں اور میں لیٹ نہیں ہونا چاہتی۔آپ تو جانتی ہی ہیں کہ آج کے دن کا انتظار میں پورا سال کرتی ہوں۔‘‘وہ اپنی دادی کے رخسار پر اپنی گول مٹول گلابی ہتھیلی پھیرتے ہوئے بولی۔ اس کے اس رویے کو دیکھ کر دادی نے اس کا ماتھا چوم لیا۔
    ’’دادی کی پوتی بڑی ہو کر کیا بنے گی؟‘‘ اور روزکی طرح دادی نے وہ سوال ایک بار پھر اپنی پوتی سے پوچھ لیا ، یہ سوچ کر کہ شاید اس بار اس کا جواب ڈاکٹر یا انجینئر ہوگا۔پر وہ بارہ سالہ ممتحنہ ایک بار پھر اپنے گھر والوں کو چونکا گئی۔
    ’’گل کار، یعنی فلورسٹ(Florist) ‘‘ وہ جھلملاتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ بولی اور اپنے دادا کے پاس چلی گئی جو کمرے میں موجود اپنی پوتی کو نوعمری ہی میں بڑا ہوتا دیکھ رہے تھے ۔
    ’’گل کار گل کار…بس یہی رٹ لگائے رکھتی ہے یہ چھٹکی۔بھئی کسی تعلیم سے منسلک شعبے میں جائے تو بات بھی ہو پر یہ تو وہی مرغی کی ایک ٹانگ۔‘‘ اپنی پوتی کو اپنے پاس سے جاتا دیکھ کر دادی نے طنزاً کہا۔
    ’’بننے دو میری پوتی کو جو وہ بننا چاہتی ہے۔ مجھے اپنی گلابو پر پورا بھروسا ہے، یہ جو بھی شعبہ اختیار کرے گی، کام یابیاں اور تعریفیں ہی سمیٹے گی۔‘‘ وہ دادا کے پاس بھاگتی ہوئی آ رہی تھی کہ دادا نے اسے اپنے سینے لگا لیا۔
    ’’دیکھا آپ نے دادی، دادا بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں اور انسان کو بڑے ہو کر وہی کام کرنا چاہیے جس میں اس کا بچپن سے انٹرسٹ ہو اور آپ سب لوگ تو جانتے ہی ہیں کہ پھولوں کے ساتھ میرا تعلق کتنا گہرا ہے۔ تو پلیز جب میں بڑی ہو جاؤں تو مجھے ان پھولوں سے دور مت کیجیے گا۔‘‘ وہ بارہ سالہ بچی جو اپنے دادا کی گود میں تھی، کھڑکی سے نظر آنے والے لان کو دیکھنے لگی۔
    اس کا اندازِ گفت گو گھر کے تمام افراد کے لیے کسی فرحت بخش جام کی طرح تھا۔ سب کی جان اس بارہ سالہ بچی کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔
    ناشتا کرنے کے بعد وہ اپنے دادا کے ہم راہ اسکول جانے لگی لیکن ہمیشہ کی طرح گھر کے دروازے سے قدم باہر نکالنے سے پہلے وہ لان میں جانانہیں بھولی۔
    ’’آ ج کون سے پھول کا انتخاب کرے گی میری گلابو؟ آج وہ کون سا خوش قسمت پھول ہو گا جو میری گلابو کے بالوں کی زینت بنے گا؟‘‘اور ہمیشہ کی طرح ممتحنہ کے جواب نے انہیں لاجواب کر دیا۔ وہ ایسے ایسے پھولوں کے نام بتاتی جن کا دادا کو پتا تک نہ ہوتا۔ یہ سب معلومات اسے انٹرنیٹ سے ملا کرتی تھیں۔
    ’’آج میں گلِ وفا کا انتخاب کروں گی۔ گل وفا جسے انگریزی میں فار گیٹ می ناٹ(Forget Me Not) کہتے ہیں۔ ‘‘ اور پھر اس نے نیلا پھول توڑکر اپنی پونی کے ساتھ لگا لیا۔
    ’’او ر اسے گل ِ وفا کیوں کہتے ہیں کیا یہ بتانا پسند کریں گی مس فلورسٹ؟‘‘ اس پھول کا نام سن کر دادا کے اندر بھی تجسس کی آگ بھڑک اٹھی۔
    ’’یہ میں آپ کو گھر آ کر بتاؤں گی۔ابھی ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔پلیز جلدی جلدی چلیں۔‘‘ ممتحنہ کو اِس وقت صرف فیسٹیول پر پہنچنے کی جلدی تھی، لہٰذا وہ جلدی سے گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔
    ٭…٭…٭
    ’’آ گئیں مس فلورسٹ؟ آج تو آپ ہی کا دن ہے۔‘‘ وہ جیسے ہی اسکول کے مرکزی دروازے پر گاڑی سے اتری، اس کی سہیلی زارا بھاگ کر اس کے پاس آ گئی۔
    ’’ہاں! یہ تو ہے۔‘‘ وہ جان بوجھ کر اپنی پونی آگے پیچھے کرنے لگی تاکہ زارہ کو بھی پتا چلے کہ آج وہ کون سا پھول اپنے بالوں میں لگاکر آئی ہے۔
    ’’واہ! یہ پھو ل تو کافی یونیک لگ رہا ہے۔میں نے آج سے پہلے اسے کہیں نہیں دیکھا، کیا نام ہے اس کا؟ بہت پیارا لگ رہا ہے یہ۔‘‘ زارا اس کے بالوں میں گل ِ وفا کو محسوس کرنے لگی۔
    ’’فار گیٹ می ناٹ مطلب گلِ وفا۔‘‘ اور وہ ایک بار پھر اپنے دادا کو دیکھ کر مسکرانے لگی۔دادا کے اندر ابھی تک اس پھول کے نام کا مطلب جاننے کا تجسس بھرا تھا۔
    ’’واؤ! Sounds Beautiful‘‘ زارا ایک لمحے کے لیے اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔
    ’’ویسے میری یہ فلور ل ہیٹ دیکھ رہی ہو؟ بڑی مشکل سے تیار کی ہے میں نے۔ تم نہیں پہن کر آئیں فلورل ہیٹ؟میں نے کہا تھا سب نے پہن کرآنی ہے۔‘‘ زارا اپنی فلورل ہیٹ دکھا کر اسے جلانے لگی۔
    ’’ہونہہ! فلورل ہیٹ۔ وہ تو آج میں سب کو بنانا سکھاؤں گی۔تمہاری فلورل ہیٹ میں لگائے گئے پھولوں کا کنٹراسٹ غلط ہے۔آج میں سکھاؤں گی ،تم بھی سیکھ لینا۔ آج میں نے فلورل ہیٹ ہی کا تو اسٹال لگانا ہے۔‘‘اس کے انداز میں غرور نہیں تھا بالکل بھی نہیں۔ بس جب کوئی پھولوں سے متعلق کوئی بھی بات کرتا تو وہ اپنا پورا انسائیکلو پیڈیا کھول لیتی۔ یہ کہہ کر وہ گاڑی سے پھولوں کا ڈول نکالنے لگی جس میں طرح طرح کے پھول موجود تھے۔
    ’’اچھا بیٹا اب میں چلتا ہوں، خوب انجوائے کرنا اور ہاں! میں، تمہاری دادی ،ماما پاپا سب آئیں گے آج تمہاری پھولوں کی دکان دیکھنے۔‘‘دادا نے جاتے جاتے اسے کہا تھا۔
    ’’ویسے ایک بات تو بتاؤ ممتحنہ، تمہیں پھول اتنے زیادہ کیوں پسند ہیں؟‘‘ اب وہ دونوں سہیلیاں ممتحنہ کا اسٹال لگانے میں مصروف ہو گئیں۔
    ’’تم بتاؤ۔ ہمیں چاکلیٹ کیوں پسند ہے؟ نئے نئے کپڑے کیوں پسند ہیں؟ بارش کیوں پسند ہے؟‘‘ زارا کے ایک سوال پوچھنے پر ممتحنہ نے تین اور سوالات پوچھ لیے۔ اس کے سوالوں کا جواب ان تینوں سوالات کے جوابات میں ہی مخفی تھا۔
    ’’وہ…وہ اس لیے کیوں کہ چاکلیٹ ہمیں اچھی لگتی ہے، بارش اچھی لگتی ہے،کپڑے اچھے لگتے ہیں۔ اس لیے پسند ہے یہ سب۔‘‘ زارا کو اس کا جواب مل چکا تھا۔
    ’’ بس ؟مل گیا جواب؟ پھول مجھے اچھے لگتے ہیں اسی لیے پسند بھی ہیں۔ دادا کہتے ہیں کہ کسی چیز کو پسند کرنے کے لیے وجوہات نہیں ڈھونڈی جاتیں، بس اگر وہ ہمیں اچھی لگتی ہے تو اپنے آپ ہی پسند آجاتی ہے اور اگر کوئی چیز ایک بار ہمیں پسند آ گئی تو پھر ہم اس شے کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کی تہ میں جا کر اس کی خامیاں تلاش کرنے نہیں بیٹھ جاتے۔‘‘ اور وہ ٹھہری چھوٹی عورت ، دادا کی ہر نصیحت کو اپنے ڈیڑھ فٹ کے دامن کے ساتھ کس کر باندھنے والی۔
    ’’تمہاری باتیں مجھے سمجھ نہیں آتیں۔ پر بہت اچھی بھی لگتی ہیں۔‘‘ زارا اس کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکی۔
    ’’ تو بچو! کیا آپ تیار ہیں؟ فیسٹول شروع ہونے میں صرف پندرہ منٹ باقی ہیں۔ اپنے اپنے اسٹالز تیار رکھیں۔ آپ سب کے گھر والے بھی آنے ہی والے ہوں گے۔‘‘ وہ دونوں باتیں کرنے میں مصروف تھیں کہ اتنے میں ٹیچر نے آکر فائنل اناؤنسمنٹ کی۔
    ٭…٭…٭




  • گھٹن — اعتزاز سلیم وصلی

    ’’غیرت کے نام پر‘‘اس کی زبان سے یہ الفاظ سن کر میرا جسم ساکت ہوگیا۔
    ’’کک کیوں؟‘‘میرا چلتا قلم رک گیا تھا۔
    ’’آپ کے خیال میں غیرت صرف مرد میں ہوتی ہے؟عورت غیرت کے نام پر قتل نہیں کرسکتی؟‘‘وہ بات مکمل کر کے ہنس پڑی۔
    ’’کتنا عجیب ہے نا یہ؟ایک عورت نے ایک مرد کو غیرت کے نام پر قتل کردیا۔‘‘اس نے مجھ سے پوچھا اور میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
    ’’لوگ بھی حیران ہوں گے مجھ پر، لیکن میرا ایک سوال ہے کہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والی صرف عورت ذات کیوں ہو؟مرد ذات بھی تو حد پار کرتے ہیں؟اور مرد کو قانون غیرت کے نام پر قتل کرنے کے بعد رعایت بھی دیتا ہے؟مجھے بھی ملے گی رعایت؟میں بھی بچ جاؤں گی نا پھانسی اور عمرقید سے؟‘‘اس کی باتیں تلخ مگر سچ تھیں۔
    میں…ثناحمید،ایک قلم کار،ایک پولیس افسرکی بیوی۔ جو ہمیشہ ایسے قیدیوں کی سچی کہانیاں تحریر کرتی ہوں۔ آج پہلی بار اپنے الفاظ کی طاقت میں کمی محسوس کررہی تھی۔
    ’’تمہاری باتیں بالکل سچ ہیں سکینہ، ایک ایک لفظ سچ ہے، مگر یہ ہمارا معاشرہ ہی ایسا ہے۔‘‘اپنی بات پر میں خودمطمئن نہیں تھی۔
    ’’مس، ہمارا کیا قصور تھا؟جو اتنے برس ذلیل ہوئیں؟ پتا ہے میں برقع پہنتی ہوں اس لیے نہیں کہ وہ سختی کرتاتھابلکہ اس لیے کہ یہ میرے اللہ اورمیرے پیارے نبیؐ کا حکم ہے۔ میں اپنی مرضی سے یہ سب کرتی تھی۔ میں ہی کیاہمارے گھر کی ہر لڑکی ہر عورت ایسے کرتی تھی۔ نماز کی پابندی، قرآن مجید کی تلاوت، مگر وہ برا تھا، بہت برا۔ اسے شک تھا ہم پر، ہر وقت شک کرتا تھا۔‘‘سکینہ نے چہرے پر ہاتھ رکھے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
    میں نے سپاہی کو اشارہ کیا۔ اس نے قریب پڑے گھڑے سے پانی لا کر سکینہ کو دیا۔پانی حلق سے اتارنے کے بعد وہ کچھ سنبھلی۔
    ’’میں پوری کہانی سنناچاہتی ہوں۔‘‘ میں نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔
    ’’ایک شرط پر میں سب سچ سچ بتا دوں گی کہ آپ جب کسی اور کو بتانے لگیں یا سنانے لگیں تو پلیز، کچھ باتیں چھپا لینا، میرا راز ہو گا آپ کے پاس،میری امانت۔‘‘ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھااور میں نے وعدہ کر لیا۔





    کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس کے چہرے پرکرب کے آثار دکھائی دیے۔مجھے لگاجیسے وہ کچھ بولے گی ۔اس کے ہونٹ تھرتھرائے￿ مگرالفاظ اس کی زبان سے ادا نہ ہوسکے۔
    ’’آپ ایک کام کریں۔‘‘وہ جیسے ہار گئی۔
    ’’کیا؟‘‘
    ’’آپ یہ ڈائری مجھے دے دیں میں خو د اپنی کہانی لکھ دوں گی۔ آپ کل آکر ڈائری لے جانا۔‘‘ اس کی تجویز قابل ِ قبول تھی۔ میں نے اس کی بات مان کر پن اور ڈائری اسے پکڑا دی اور باہر جانے ہی لگی تھی کہ سپاہی دوڑ کر میرے پاس آیا۔
    ’’میڈم ہم یہ نہیں کرسکتے، قیدی کے پاس کچھ چھوڑ کر نہیں جاسکتے یہ قانون کے خلاف ہے۔‘‘ میں ایس پی کی بیوی نہ ہوتی تو شاید وہ ڈائری اورپن سکینہ سے چھین لیتا، مگروہ بے حد احترام سے بات کررہا تھا۔
    ’’میں ایس پی صاحب کو کال کرتی ہوں،تم انہیں یہ قانون بتا دینا۔‘‘ میں نے پرس سے اپنا سیل فون نکالا۔
    ’’نن نہیں میڈم…سوری۔‘‘وہ پیچھے ہٹ گیا۔ واپسی پرسکینہ کی باتیں میرے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھیں۔ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں لگتی تھی مگراس کی باتوں سے ایک عجیب طرح کی تلخی ظاہر ہوتی تھی۔ شاید حالات کے سردوگرم نے اسے یہ باتیں سکھادی تھیں۔
    ’’یہ کہانی آگے بڑھانے سے پہلے میں اپنا تعارف کروا دوں۔ میرانام ثنا حمید ہے اور میں ایس پی حمید احمد کی بیوی ہوں۔ میں ایک لکھاری ہوں جو پولیس قید میں آنے والے بہت سے قیدیوں کے سچے واقعات اور ان کے پیچھے موجود کہانیاں ایک مشہورڈائجسٹ میں لکھ رہی ہوں۔ان تحریروں پر مشتمل میری کتاب ’’حقائق‘‘شائع ہوچکی ہے۔اس کام میں مجھے اپنے شوہر کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ ہر جگہ میری مدد کرتے ہیں۔میرے شوہر پولیس میں نہ ہوتے تو شاید میں یہ کام کبھی نہ کرسکتی، لیکن اب میرے لیے یہ بہت آسان ہے۔خیربات ہورہی تھی سکینہ کی کہانی کی۔‘‘
    اگلے دودن میں کچھ مصروفیت کی وجہ سے سکینہ سے ملنے نہ جاسکی۔تیسرے دن جب میں اس کے پاس پہنچی، تو وہ شدت سے میری منتظر تھی۔ سکینہ کو قتل کے جرم میں عمر قید کی سزاہوئی تھی۔ اس نے اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی ہوئی تھی۔
    ’’کیسی ہو سکینہ؟‘‘میں اس کے پاس بیٹھ کر مسکرائی۔
    ’’جیل کی قیدی کیسی ہو سکتی ہے؟‘‘اس کی مسکراہٹ ہمیشہ ایسی ہی ہوتی تھی۔ اداسی اور پریشانی لیے۔
    ’’ان شااللہ سب بہتر ہوگا۔‘‘میں نے اس کا کندھاتھپتھپایا۔
    ’’آپ کی یہ ڈائری‘‘اس نے ڈائری اٹھا کر مجھے دی۔
    ’’میں نے پوری کوشش کی ہے اپنے حالات اور واقعات کو کہانی کی شکل میں لکھ سکوں۔ آپ پڑھ کر بتادیجیے گا میں اس میں کتنی کامیاب ہوئی ہوں۔‘‘
    ’’ضرور‘‘میں تھامے جانے لگی۔ اس نے پیچھے سے آواز دی۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔
    ’’میری سزا کم ہو جائے￿ گی نا؟‘‘نمی اس کی آنکھوں کے کنارے پر دکھائی دی۔
    ’’ہو جائے گی پریشان نہ ہو۔‘‘ میں نے اس سے نظریں چرا لیں۔
    ’’اللہ کر ے ہو جائے میرا دم گھٹتا ہے یہاں، مجھے لگتا ہے کسی دن میں یہیں مرجاؤں گی۔‘‘ گہری سانس خارج کر کے اس نے جملہ مکمل کیا۔
    ’’ان شااللہ ہو جائے گی سزا کم۔‘‘میرے قدم باہر جاتے ہوئے لڑکھڑا رہے تھے۔ قیدی اکثر اپنی سزا قبول کرکے اپنے فیصلے قسمت پر چھوڑ دیتے ہیں، مگرسکینہ کا معاملہ اور تھا۔ وہ صرف بائیس سال کی تھی۔ جوانی سے بھرپور۔ گھر آکر میں نے سارے کام نمٹائے￿ اور ڈائری لے کر بیٹھ گئی۔ سکینہ کی ہینڈ رائٹنگ گزارے لائق ہی تھی۔ پہلے صفحے سے کہانی شروع کرنے کے بعد میں ایک لمحہ بھی اس سے نظر نہیں ہٹا پائی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • شبِ آرزو کا چاند — مونا نقوی

    شبِ آرزو کا چاند — مونا نقوی

    رات کا پچھلا پہر اور درد اور کرب میں ڈوبی بھیانک چیخیں ماحول کو اور بھی وحشت ناک بنا دیتی تھیں۔ دل اتنی زور زور سے دھڑکنے لگتا جیسے ابھی سینے کی دیوار پھلانگ کر یا توڑ کر باہر نکل آئے گا ۔شدید سردیوں میں بھی میرا پورا وجود پسینے سے شرابور ہو جاتا۔ اگر اماں میری جائے پناہ نہ ہوتیں، تو شاید خوف کے مارے کب کی میری روح پرواز کر چکی ہوتی۔ اماں کے دلاسے اور رات رات بھر مجھے اپنے سینے سے لپٹائے رکھنا میرے لیے ڈھال کے مانند تھا، مگر پھر بھی میرا وجود اُن خوف زدہ کر دینے والی چیخوں کے سبب تب تک کانپتا اور پھڑپھڑاتا رہتا جب تک میں نیند کی وادی میں اتر نہیں جاتی تھی۔ نیند آجانے کے بعد خوابِ پریشاں کی صورت وہی دِکھتی تھی۔ اپنے لمبے سیاہ بال کھولے، شعلے برساتی نگاہوں اور تیز نوکیلے دانتوں سے غراتے ہوئے میری جانب بڑھتی اور اپنے لمبے ناخن میری گردن میں گاڑتے ہوئے مجھے اپنی مضبوط گرفت میں دبوچ لیتی ، تو میں دل خراش چیخیں مارتے ہوئے اُٹھ بیٹھتی۔ اماں تمام رات مجھے اپنی گود میں لیے آیتیں پڑ ھ پڑھ کر مجھ پر پھونکتی رہتی۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوئی ان چیخوں سے مانوس ہوتی گئی۔ بچپن میں جو خوف مجھے ہلکان کیے رکھتا وہ یہ تھا کہ یہ آوازیں کسی چڑیل کی ہیں جو اپنے لمبے سیاہ بال کھولے گاؤں کی گلیوں میں گھومتی پھر رہی ہے۔ اُس کی غراہٹوں سے یہی لگتا تھا جیسے وہ اپنے تیز نوکیلے دانتوں سے اپنی من پسند خوراک کو بھنبھوڑ رہی ہو۔کبھی وہ چڑیل ملن کے گیت درد بھری لے میں چھیڑتی، تو کبھی کسی متاعِ عزیز کے چِھن جانے کے نوحے پڑھتی تھی۔ جب شعور کی منزل پر قدم رکھا، تو اُس چڑیل کی حقیقت سے آشنا ہوئی۔ وہ کوئی آدم خور چڑیل نہ تھی جیسا کہ میں سمجھا کرتی تھی ۔وہ میری سگی پھوپھی تھی جو تنہائی کی وحشت ناک راتوں اور دنوں کی ستائی ہوئی تھی۔ ہمارے خاندان کا برسوں پرانا رواج جو اِس ترقی یافتہ دور میں بھی جوں کا توں قائم تھا۔ اُسی رواج کا شکار میری اکلوتی پھوپھی بھی ہوئی جو پانچ مربعوں کی مالک تھی۔ جب خاندان بھر میں اُس کے جوڑ کا کوئی رشتہ نا ملا، تو نہ جانے عمر کے کس حصے میں اُسے حویلی کے بالائی منزل کے ایک کمرے میں نماز اور قرآن میں مشغول رہنے کے لیے بٹھا دیا گیا تھا۔ بہرحال میرا بچپن اُس چڑیل کے سامنے آ جانے کے خوف کے زیرِ اثر ہی گزرا۔ جب بڑی ہوئی تو اُس چڑیل کو پہچاننے لگی تھی۔ آنکھیں پھٹی پھٹی اور بے حد سرخ شاید کافی عرصہ سے وہ ٹھیک سے سوئی ہی نہیں تھی۔اُس کے لمبے سیاہ بالوں میں اب چاندی کے تار زیادہ نظر آتے تھے۔سُنا ہے پہلے پہل وہ اپنے کمرے تک محدود رہا کرتی تھیں، مگر اب جیسے ہی حویلی کا دروازہ کھلا دیکھتیں تو باہر نکل جاتیں۔ پھر گاؤں کا کوئی مرد وزن یا بچہ اُن کا بازو پکڑ کے اُنہیں حویلی چھوڑ جاتا تھا۔اُن کی اِس حرکت سے سرِشام ہی اُنہیں کمرے میں بند کر کے باہر سے دروازہ بند کر دیا جاتا تھا وہ وقفے وقفے سے دروازہ کھٹکھٹاتیں اور عجیب آوازوں سے غراتی رہتی تھیں۔ اُنہیں اسے دنیا سے گزرے دس برس بیت چکے، مگر میرے ذہن پر آج بھی اُن کی درد و الم میں ڈوبی زندگی کی گہری چھاپ موجود ہے ،جسے ہزار کوشش کے بعد بھی میں نا تواپنے ذہن سے کھرچ سکی اور نا ہی اُن اذیت ناک یادوں سے چھٹکارا ہی پا سکی تھی۔ بعض اوقات یہ خیال جینا محال کر دیتا تھا کہ اگر میرا انجام بھی پھوپھی ثریا جیسا ہوا تو؟ لیکن پھر عادل کا وجود ڈھارس بندھاتا تھا کہ یہ خوف وہم کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
    ٭…٭…٭





    ًً’’السلام علیکم رانی بی بی۔‘‘ دلاور دوماہ بعد گاؤں واپس آیا اور آتے ہی رانی کے پاس حاضری لگوانے چلا گیاتھا۔
    ًً’’وعلیکم السلام، مل گئی فرصت پڑھاکُو تمہیںگاؤں لوٹنے کی۔‘‘ رانی کے لہجے میں مصنوعی طنز تھا تبھی دلاور کے لبوں پر آئی مسکراہٹ معدوم نہ ہوئی جب کہ رانی سپاٹ چہرہ لیے اُسے دیکھ رہی تھی۔
    ’’پہلے امتحانوں کی تیاری کی وجہ سے نہیں آسکا اور پھر پیپرز شروع ہو گئے، تو کیسے چھوڑ کے آتا۔آپ دیکھ لیں یہی کتابیں منگوائی تھیں نا آپ نے۔ اگر کوئی واپس کرنی ہے، تو بتا دیں پرسوں پھر چکر لگے گا شہر۔‘‘دلاور نے اتنا عرصہ نہ آنے کی وجہ بتانے کے بعد رانی کی بتائی گئی چار پانچ کتابیں اُس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
    ’’ تم آج سے پہلے کبھی کوئی غلط کتاب لائے ہو جو اب لاؤ گے۔‘‘رانی نے اک اک کتاب اُٹھا کے دیکھتے ہوئے کہا۔ رانی گاؤں کے چودھری الیاس کی بیٹی ہے۔ چودھری الیاس کے دو ہی بچے ہیں ایک بیٹا اور اُس سے تین سال چھوٹی رانی۔ چودھری الیاس کا ایک ہی بھائی ہے باسط جس کے اکلوتے بیٹے عادل سے رانی کا بچپن ہی میں نکاح ہو چکا تھا۔ رانی کو میٹرک کے بعد اُنہوں نے شہر جا کر مزید تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی، تو اُس نے دلاور کے ہاتھوں اچھی اچھی بکس منگوا کر پڑھنا شروع کردیں اِس طرح وہ اپنے علم حاصل کرنے کی پیاس بجھا لیا کرتی تھی۔دلاور کا بچپن ہی سے اِس حویلی میں آنا جانا تھا، وہ گاؤں کے منشی کا بیٹا تھا اور اب اعلیٰ تعلیم کی غرض سے شہر میں ایک ہوسٹل میں مقیم کا تھا۔جب بھی گاؤں لوٹتا ، تو رانی کے لیے اچھی اچھی کتابیں اور اپنی پسند کی یا رانی کی بتائی ہوئی لاتا تھا۔
    ًً’’ساری کتابیں بہت اچھی ہیں ،بہت بہت شکریہ تمہارا۔‘‘ رانی نے مسکراتے ہوئے کہا اور کتابیں اُٹھا کر اپنے کمرے کی سمت بڑھ گئی۔
    ’’شکریہ کہہ کر شرمندہ نہ کیا کریں رانی بی بی میں ہمیشہ کہتا ہوں اور آپ ہمیشہ بھول جاتی ہیں۔‘‘ دلاور نے بُرا مناتے ہوئے کہا۔
    ’’اچھا اچھا آئندہ نہیں کہوں گی شکریہ، خوش۔‘‘ وہ جاتے جاتے پلٹ کے بولی۔
    ’’مجھے بھی یہی امید ہے کہ آپ اپنی کہی یہ بات یاد رکھیں گی۔‘‘ دلاور نے سنجیدہ انداز میں کہا، تو رانی کے چہرے پر آئی مسکراہٹ اور بھی گہری ہوگئی۔ وہ جانے کے لیے اُٹھا ، تو وہ بولی۔
    ’’بیٹھو چائے پی کے جانا۔ رضیہ … دلاور کے لیے چائے لاؤ اور ساتھ کچھ کھانے کو بھی۔‘‘وہ اُسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ وہ بھی پیپل کے گھنے درخت کے نیچے بچھی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ رانی کو کمرے کی طرف بڑھتے دیکھ کر اُس کے لبوں پر خوب صورت سی مسکراہٹ رقصاں ہوگئی اور دل کا موسم کچھ اور بھی خوش گوار ہوگیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    محبت ایسا جذبہ ہے جس کے ادراک کے پہلے لمحے کاسراانسان سے کبھی سلجھتا ہی نہیں۔وہ کب اور کیسے کی کشمکش میں ہمیشہ گھرا رہتا ہے۔ کوئی ان جانا اجنبی کب اور کیسے آپ کی دھڑکنوں میں محبت کی حلاوت اور مٹھاس گھول دیتا ہے آپ اِس سے ہمیشہ نابلد رہتے ہیں۔نہ جانے وہ کون سا لمحہ ہوتا ہے جب محبت کی دیوی آپ پر مہربان ہوکر آپ کے دل کوصنفِ مخالف کے وجود کے ساتھ محبت کی ریشمی ڈور سے مضبوطی سے باندھ دیتی ہے۔ آپ کو خبر بھی نہیں ہوتی اور آپ پور پور اُس انسان کی محبت میں ڈوب چکے ہوتے ہیں۔ محبت ہو جانے کے بعد آپ کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ آپ کا محبوب بھی آپ کو اپنی محبت کا احساس دلائے۔آپ کے کان اُس کے اقرار کے شریں الفاظ سننے کو ہر لمحہ منتظر رہتے ہیں اور محبوب کی آنکھوں میں اپنی محبت کی قوسِ قزح اترتی ہوئی دیکھنا چاہتے ہیں، مگر اکثر آپ کا منتظر رہنا ثمر آور ثابت نہیں ہوتا۔محبوب تو ہمیشہ سے ظالم اور سنگ دل رہا ہے، اُسے عاشق کے شوق اور خواہش سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔وہ تو بس من مندر کے سنگھاسن پر بیٹھا اپنی شعلہ برساتی نگاہوں سے آپ کے وجود کو موم کی طرح پگھلاتا رہتا ہے، محبوب کو کب آپ کی بے چینیوں اور آنسوؤں سے غرض ہوتی ہے۔ محبوب تو اُس بت کے مانند ہوتا ہے جس سے ماتھا ٹیکے آپ بھلے رات بھر اپنے درد بیان کریں۔ رو رو کے اپنا حالِ غم سناتے رہیں وہ جواب میں اک لفظ تسلی کا دینا ضروری نہیں سمجھتا ۔
    ’’عادل تم بھی میرے بت نما اک ایسے ہی محبوب ہو جسے میرا درد ،میرا تڑپنا کبھی دکھائی نہیں دیتا۔ نہ جانے اور کتنی صدیاں وصل کی اُس شب کے انتظار میں گزارنی ہوں گی جس کا نہ آنا کئی سالوں سے ٹھہر چکا ہے۔‘‘وہ کمرے کی نیم تاریکی میں اپنے بستر پر لیٹی اپنے الجھے ذہن کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • اناہیتا — تنزیلہ احمد

    اناہیتا — تنزیلہ احمد

    آنکھیں کھولتے ہی اس کا پالا گھپ اندھیرے اور سیلن زدہ بو سے پڑا تھا اور یہ عجیب بات تھی کہ پہلی بار اندھیرے میں اسے خوف یا گھٹن محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
    ’’آہ میں زندہ ہوں۔‘‘ اپنے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کر اس نے خود کو تسلی دی۔
    ’’مگر میں کہاں ہوں؟‘‘ اس نے ٹٹول کر اندھیرے میں کچھ تلاشنے کی کوشش کی۔
    ’’آپ بالکل محفوظ ہیں اور ٹھیک وہیں ہیں جہاں آپ کو ہونا چاہیے۔‘‘ مہیب سناٹے میں سرگوشی نما آواز کانوں کے پاس سرسرائی۔ وہ دبک کے پیچھے ہوئی۔ چراغ ہاتھ میں تھامے دبے پاؤں چلتی اپنے قریب آتی اس عورت کو وہ پلکیں جھپکے بنا دیکھتی رہی۔
    ’’کیا میں تم سے پہلے مل چکی ہوں؟‘‘ اس کے چہرے کو خودبہ خود جانچتے ہوئے وہ خود سے الجھی۔
    اناہی کے سوال پر اس مؤدب کھڑی عورت کے ہونٹ ذرا سے مسکائے۔ یکلخت دماغ میں جھماکا ہوا وہ تڑپ کے اُٹھ بیٹھی۔
    ’’تم… تم تو دریہ ہو۔ بولو تم وہی ہو نا؟ ‘‘وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔
    اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں بچی تھی کہ وہ دریہ ہی ہے جس نے اسے دنیا میں لانے میں مدد کی اور اب وہ اسے اس جہاں میں لے آئی جدھر ہر شے نے وقت کے دھارے سے بے نیاز ہو کر اُس کی راہ تکی تھی۔
    ٭…٭…٭





    گرمیوں کی چھٹیوں میں وہ ماما کے ساتھ اپنے ماموں کے گھر آئی ہوئی تھی۔
    ’’لائیں بے بے میں آپ کے ٹرنک کی صفائی کر دوں۔‘‘ ماما نے نانو سے کہا اور ساتھ ہی ان کے پسندیدہ جہیز میں آئے چھوٹے سے پرانے ٹرنک کا ڈھکن اٹھایا۔ اس میں سے گنی چنی چیزیں نکلی تھیں۔ وہ ذرا فاصلے پر چارپائی پر بیٹھی اپنے گڈے سے کھیل رہی تھی۔ اس کے پاس کوئی گڑیا نہیں تھی۔ بابا جب اسے ٹوائے شاپ پر لے گئے تو اس نے ایک بڑا سا خوب صوت گڈا پسند کیا جو اس کے سائز سے کچھ زیادہ چھوٹا نہ تھا۔ وہ گڈا اسے بے حد عزیز تھا۔ اسے لینے کے بعد اسے کوئی گڑیا خریدنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔
    ’’بے بے اس میں کیا ہے؟‘‘ ایک سرخ رنگ کی پوٹلی ٹرنک سے برآمد کر کے ماما نے نانو سے پوچھا۔
    ’’اس میں پرانے سکے ہیں۔‘‘ اس نے نظر اٹھائے بغیر جواب دیا۔ نانو نے اسے چونک کر دیکھا جب کہ ماما نے کوئی پروا نہیں کی تھی۔ وہ اس کی اکثر باتوں کو سیریس نہیں لیتی تھیں۔ پوٹلی کھولتے ہی ان کی حیران آواز سنائی دی۔
    ’’ارے اس میں تو پرانے سکے ہیں۔‘‘
    ’’تمہیں دیکھ کے پتا چلا جب کہ تمہاری چار سالہ بیٹی تو بغیر دیکھے ہی بتا چکی تھی۔‘‘
    ’’ارے بے بے دیکھیں یہ تو وہی سکے ہیں جو میں بچپن میں جمع کیا کرتی تھی۔ یاد ہے آپ کو؟‘‘
    ’’ہاں یاد ہے۔‘‘
    ماما لگاوٹ سے ایک ایک سکے کو دیکھ رہی تھیں۔ ان کے چہرے پر آئی چمک سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اُن سکوں سے جڑی ان کے بچپن کی تمام یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔ دبے پاؤں چلتی ہوئی وہ ماما کے سر پر آکھڑی ہوئی۔
    ’’کیا یہ سکے میں لے سکتی ہوں؟‘‘
    ’’ہاں کیوں نہیں۔ تمہاری ماں کے جمع کیے ہوئے ہیں تو تمہارے ہی ہوئے۔‘‘ نانو کے کہنے پر ایک مطمئن نظر اُس نے پوٹلی پر ڈالی اور اسے لیے چارپائی پر دھرے اپنے گڈے کے پاس آبیٹھی۔
    ’’آپ کا ٹرنک تو صاف ہے اس میں اتنی چیزیں ہی نہیں ہیں۔‘‘ ماما نے نکالی ہوئی چیزیں واپس ڈالتے ہوئے کہا۔
    ’’چلو یہ اچھا ہوا کہ سکے مل گئے مجھے تو بالکل بھی یاد نہیں تھا۔ کئی دنوں سے اناہی مجھے کہہ رہی تھی کہ اسے پرانے سکے کولیکٹ کرنے ہیں۔لگے ہاتھ اس کا کام تو ہوا۔‘‘
    ’’اچھا۔‘‘ نانی ہلکے سے مسکرا دیں۔
    ’’یوں لگتا ہے جیسے تم نے ٹرنک کھولا ہی سکے تلاشنے کے لیے تھا۔ تمہاری بیٹی بہت گہری ہے۔‘‘ مطمئن بیٹھی اناہی پر انہوں نے ایک نظر ڈالی تھی۔
    ٭…٭…٭
    پتا نہیں وہ وہاں کیسے پہنچی تھی۔ اندر داخل ہونے پر کوئی ذی روح نظر نہیں آیا تھا۔ اس عالی شان محل کی اونچی کھڑکیوں کے مخملی پردے سرسرا رہے تھے شاید باہر ہوا چل رہی تھی۔ خنک ہوا اسے اپنے گالوں پر مس ہوتی محسوس ہوئی اور بے اختیار جھرجھری لینے پر مجبور کر گئی۔ ایک دم وہ نیند سے جاگی تھی۔
    کبھی وادیاں، کبھی جنگل، کبھی جھیل اور اب یہ محل۔ ہوش سنبھالتے ہی یہ خواب کسی قسط وار سلسلے کی طرح اس کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ وہ ہر وقت ان کے زیر اثر رہتی۔ یہ کیسی حیرانی کی بات تھی کہ اگر اس کے علاوہ کوئی بھولا بھٹکا خواب اسے آبھی جاتا، تو دماغ دھندلا جاتا اور کوئی بات اسے یاد نہ ہوتی مگر یہ مخصوص خواب پوری جزیات سے یاد رہتے۔ اس کا دل کہتا کہ جو اس نے دیکھا ہے۔ کاش وہ اصل میں اس کے سامنے آجائے۔ وہ اپنے خوابوں میں خوش دلی سے جینا چاہتی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ’’مامامجھے چھوٹا بھائی چاہیے۔ اپنی چھٹی برتھ ڈے پہ اس نے انوکھا گفٹ مانگا تھا۔
    ’’ارے۔‘‘ اس کی بات پر کئی قہقہے چھوٹے۔ سب مہمانوں کے سامنے وہ بلش کر کے رہ گئیں۔ اسی رات جب وہ اپنا گڈا لیے اپنے بیڈ پر سونے کے لیے لیٹ چکی، تو وہ دھیرے سے دروازہ کھول کر اس کے بیڈ روم میں داخل ہوئیں۔کچھ تھا جو اپنی بیٹی سے شیئر کرنا چاہتی تھیں۔
    ’’آپ کو آج کیسے خیال آگیا چھوٹے بھائی کا؟ پہلے تو آپ چھوٹے بے بی کے حق میں نہیں تھی۔‘‘ اس کے نرم و ملائم بال سہلاتے ہوئے انہوں نے برملا بات کا آغاز کیا۔
    وہ کئی بار آزما کے دیکھ چکی تھیں کہ اناہی سے گھما پھرا کے بات کرنا فضول ہے کیوں کہ وہ ان کے دل کی بات تک خود ہی پہنچ جاتی تھی۔
    اناہیتا کی چھٹی حس اور انٹیوشن کا اعتراف خاندان تو خاندان تمام ملنے جلنے والے بھی کرتے تھے۔
    ’’مجھے لگتا ہے کہ چھوٹا بھائی ہونا چاہیے جو ہمیشہ آپ کا خیال رکھ سکے۔‘‘
    کیوں میری بیٹی نہیں رکھے گی میرا خیال کیا؟‘‘ انہوں نے اسے چھیڑا۔
    بیٹیاں ہمیشہ تھوڑی نا پیرنٹس کے گھر بیٹھی رہتی ہیں۔‘‘ اس نے ان کی ہی کہی ہوئی بات ان کے سامنے دہرائی۔ وہ لاجواب ہوگئیں۔
    ’’اصل میں بیٹا شاید اب آپ کا کوئی اور چھوٹا بھائی یا بہن نہ آسکے۔ وہ دراصل کبھی کبھی کچھ پرابلمز آجاتی ہیں۔‘‘ سنبھل سنبھل کر انہوں نے بات پوری کی۔ وہ اپنی چھوٹی سی بچی کو صاف الفاظ میں نہیں کہہ سکتی تھی کہ اس کی پیدائش ہی انتہائی مشکل سے ہوئی تھی اور تب کی ہوئی پیچیدگیوں کی بنیاد پر ڈاکٹرز نے انہیں کہہ رکھا تھا کہ اب ان کے لیے مزید بچہ پیدا کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
    ’ڈونٹ وری ماما۔ کوئی کامپلیکیشن نہیں ہے۔‘‘ ہمیشہ کی طرح وہ ان کے دل کی بات پڑھ چکی تھی۔ وہ اس کے مدبرانہ انداز پر پھیکا سا ہنس دیں۔
    ’’پر بچے یہ تو اللہ کی دین ہے کیا پتا بھائی نہیں بہن آجائے۔‘‘
    ’’بھائی ہی آئے گا۔ میری نیکسٹ برتھ ڈے پر ہوگا۔‘‘ اس نے مزید کہا۔ اس کے کہے پر ثبت ہوئی۔ مہر کی طرح عین اس کی نیکسٹ برتھ ڈے والے دن ان کی زندگیوں میں فجر کے وقت ایک ننھا وجود آشامل ہوا جسے دیکھتے ہی اناہیتا نے اُس ریان کہہ کر پکارا تھا۔
    ٭…٭…٭
    میلاد شریف کے لیے وہ اناہی کی خالہ کی طرف موجود تھے۔ وہ سب کزنز کے ساتھ پچھلے لان میں پھول پودوں سے کھیلتی رہی۔ خالہ نے دعا کے لیے خاص طور پر اپنے خاندانی پیر شاہ صاحب کو بلایا تھا۔ دوسرے بچوں کے ساتھ انہیں سلام کر کے اور سر پر پیار لے کر وہ سکون سے صوفے پر جا بیٹھی۔ ملازم سالن کے ڈونگے اٹھائے اندر داخل ہو رہا تھا۔ شاہ صاحب کو کھانا کھلانے کی تیاری ہورہی تھی۔
    ’’اس میں کیا ہے؟‘‘ ایک ڈونگے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے کزن نے اپنی ماں سے پوچھا۔
    ’’اس میں حلیم ہے۔‘‘ جواب اناہی کی طرف سے آیا تھا۔
    ’’جی وہی ہے۔‘‘ ملازم نے تائید کی۔
    ’’آپ کو کیسے پتا چلا؟ گھر میں دو تین سالن بنے ہوئے تھے۔‘‘ ایسے میں اُس کا بالکل درست اندازہ پیر صاحب کو چونکا گیا۔
    ’’اسے الہام ہوتے ہیں۔‘‘ ماما نے انہیں انفارم کیا۔
    ’’ہممم…‘‘انہوں نے اسے سوالیہ نظروں سے پرکھا۔
    ’’نماز پڑھتی ہیں بیٹا آپ؟‘‘
    وہ چپ رہی۔ وہ جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔
    ’’جی میں کہتی ہوں اسے تو پڑھ لیتی ہے۔‘‘
    ’’ہوں۔ اچھا۔ ‘‘اناہی کو لگا وہ اس کا سچ جان چکے ہیں۔ اس کا نماز میں دل ہی نہیں لگتا تھا۔
    ماما کے بار بار کہنے پر وہ جھوٹ موٹ کا وضو کر کے مصلہ بچھا کے بیٹھ جاتی اور ان کے دیکھنے پر ایکٹنگ کرتی کہ وہ نماز پڑھ رہی ہے۔ ہے تو یہ غلط مگر وہ مجبور تھی کہ اسے نماز کی توفیق ہی نہیں ہوتی تھی۔
    ان کی گہری نظر اس کی طرف اٹھی عین اسی وقت اناہی کی نظر بھی شاہ صاحب کی طرف اٹھی۔ دونوں کی نگاہوں میں مختلف پیغام تھے۔ جاتے سمے انہوں نے اسے ’’سلامت رہو بیٹا‘‘ کی دعا سے نوازا۔
    ’’آپ بھی۔‘‘ اس نے دوبدو کہا۔ وہ آہستگی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کے چلے گئے تھے۔
    دس سال کی بچی نے انھیں ششدر کر دیا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • گھر — مدیحہ ریاض

    گھر — مدیحہ ریاض

    میں چھے سال کی تھی جب ’’اپنے‘‘گھر کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ ’’اپنا‘‘ گھر،ایک خوبصورت، چھوٹا سا ، سرخ اینٹوں والا گھر جس کا صحن میں روز صبح پائپ لگا کر دھویا کروں گی اور جس کے اطراف میں سبز پودوں کی قطار ہو گی۔ اس گھر کا نقشہ میرے ذہن میں کبھی نہیں بدلا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ گھر میرے لیے اس مکان سے زیادہ حقیقی ہو گیا تھا جس میں، میں رہ رہی تھی۔
    وہ مکان بھی برا نہیں تھا۔ ٹھیک تھا۔ مجھے کبھی بھی بڑے گھروں کی خواہش نہیں رہی۔ اس لیے وہ دو کمرے کا مکان مجھے کچھ زیادہ برا نہیں لگتا تھا، لیکن وہ ’’اپنا ‘‘ نہیں تھا اور ’’گھر‘‘ بھی نہیں تھا۔ وہ بس ایک جگہ تھی جہاں ہم رہتے تھے۔
    ’’گھر وہ ہوتا ہے جہاں سب ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ‘‘بہت روایتی جملہ ہے۔ لیکن میں نے بہت سوچ کر لکھا ہے۔
    میں سوچتی رہی کہ گھر کیا ہوتا ہے، کیا تعریف ہے گھر کی۔ اُسے کیسے بیان کر سکتے ہیں؟ کیا چیزیں ہوں گی جن کی موجودگی کی وجہ سے کوئی مکان گھر کہلائے گا؟
    گھر وہ ہوتا ہے جہاں شام کو تھکے ہارے واپس لوٹنے کو دل کرے۔ جہاں وہ چند لوگ رہتے ہیں جو آپ کی پوری دنیا ہوتے ہیں۔جہاں آپ سب سے اہم، ضروری اور معتبر ہوتے ہیں۔




    گھر میں آپ کا خیال رکھا جاتا ہے، آپ کی پروا کی جاتی ہے، آپ کی پسند نا پسند کوئی معنی رکھتی ہے اور اس مکان میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ وہ جگہ ہماری پناہ گاہ تو تھی، اتنی بڑی دنیا میں اپنی ایک چھت، لیکن وہ چھت چھن جانے کا دھڑکا اسے کبھی ’’اپنا‘‘ نہیں ہونے دیتا تھا اور یہ دھڑکا ہمیشہ لگا رہتا تھا۔امی ابو سے ہر لڑائی میں انہیں گھر چھوڑ جانے کی دھمکی دیتیں اور ابو ڈھیلے پڑ جاتے۔ لڑائی ختم ہو جاتی۔ کم سے کم اگلی بار تک کے لیے، لیکن ہمارے دل سے گھر چھُٹ جانے کا خوف نہ جاتا۔
    ’’میں رہوں گی تم جیسے آدمی کے ساتھ؟‘‘وہ سوال نہیں طمانچہ ہوتا تھا۔’’نہ تمہاری شکل نہ صورت اور نہ کرتوت!‘‘ وہ کہتیں تو ابو کو تھیں، لیکن یہ سب جملے مجھے خود پر تنے ہوئے لگتے۔ میں اور ماند پڑتی اور چھوٹی اور خوف زدہ۔ دماغ سے سرخ اینٹوں والا وہ گھر غائب ہو جاتا اور میں خوف زدہ آنکھوں سے چھپ چھپ کر ابو کو دیکھتی رہتی۔ وہ کبھی رو کر منت سے امی کو روکتے، کبھی جھنجلا جاتے اور کبھی تنگ آ کر ہاتھ جوڑ دیتے۔ لڑائی کے دوران کچھ جملے ایسے تھے جو ہر بار کہے جاتے۔ وہ ہمیں اتنے ازبر ہو چکے تھے کہ لڑائی میں کس موقع پر اب بس وہ کہے جانے والے تھے، ہمیں پتا ہوتا تھا۔ ان جملوں میں ابو کی شکل و صورت اور کردار کے علاوہ پاکستان کے فیملی کورٹ لا کی بھی کچھ شقیں شامل ہوتی تھیں۔
    ’’اتنے چھوٹے بچے کوئی عدالت تمہیں رکھنے نہیں دے گی۔ میں اپنے بچے ساتھ لے کے جاؤں گی۔ ‘‘ اور ابو کی رہی سہی ہوا بھی نکل جاتی۔ کیوں کہ ہم بچوں میں، خاص طور پر مجھ میں، ان کی جان تھی۔ بعض اوقات لڑائی اس نہج پر پہنچ جاتی جہاں انہیں لگتا کہ اب ان کی منت زاری بھی کام نہیں آئے گی اور اس بار تو گھر ٹوٹا ہی ٹوٹا۔ ایسے چند مواقع پر ایک دو بار انہوں نے روتے ہوئے چپکے سے مجھے اپنے پاس بلا کر پوچھا تھاکہ میں کس کے ساتھ رہنا چاہوں گی۔
    میں ایک بات آپ سب سے کہنا چاہتی ہوں۔ جب آپ اپنے چھوٹے بچوں کے سامنے لڑیں تو کچھ بھی ہو جائے، ان سے یہ کبھی نہ پوچھیں کہ وہ ماں اور باپ میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہیں گے۔ اس سوال سے زیادہ خود غرضانہ، ظالم اور خوف زدہ کر دینے والی ایسی کوئی بات نہیں جو آپ اپنی اولاد سے کہہ سکتے ہیں۔
    میں اپنے ابو سے بہت پیار کرتی تھی، لیکن ایک دو بار جب انہوں نے مجھ سے یہ سوال کیا، مجھے ان سے سخت نفرت محسوس ہوئی اور ان پر ترس بھی آیا۔
    وہ ہمارے والدین تھے۔ ہماری حفاظت کرنا، ہمیں محبت دینا، تحفظ کا احساس دلانا، ہمارے لیے قربانی دینا ان کی ذمے داری تھی۔ جب آپ پیرنٹ بن جاتے ہیں، تو آپ کے پاس خود غرض ہونے کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ آپ چھے سال کے بچے سے اتنا تلخ اور قیامت ڈھا دینے والا سوال کریں! ایک ایسا سوال جس کا جواب انہیں ساری زندگی کنفیوز رکھے گا۔ زندگی کی کوئی خوشی، کوئی موڑ ،کوئی کامیابی ان کی یہ الجھن دور نہیں کر پائے گی۔
    اور مجھے ان پر ترس آتا تھا کہ وہ اتنے کمزور ، بے بس اور خوف زدہ انسان کیوں تھے۔ کیوں انہوں نے کبھی امی کو یہ نہیں کہا کہ جانا ہے تو جاؤ۔ اب بس!
    کیوں کبھی اپنے حق کے لیے کھڑے نہیں ہوئے؟کیوں اپنی عزت نہیں کروائی؟
    اور میرے ذہن میں اس کا بس ایک جواب ابھرتا۔ امی کی ہر بدتمیزی ، بد کلامی ، طنز، تضحیک اور ذلت بھرا رویہ سہ کر بھی وہ امی کے ساتھ، کسی نہ کسی طرح ،اس رشتے کو قائم رکھنا چاہتے تھے۔
    ہم تینوں بہن بھائیوں نے چند مرتبہ اس بات کو ڈسکس بھی کیا، لیکن ہر نئی سوچ سلجھانے کے بجائے اور الجھا دیتی۔ ماں باپ کی عزت دل سے کم ہو جاتی۔ دنیا میں اکیلے ہونے کا احساس ہونے لگتا۔ سکول سے واپسی پر گھر آ کر سونے کی خوشی تو ہوتی، لیکن ذہن کا ایک کونا ہر وقت امی کے موڈ پر اٹکا رہتا۔ انہیں ناراض نہ کردینے کے جتن کیے جاتے، لیکن ہر ایک دو دن بعد صبح صبح ان دونوں کی لڑائی ہر احتیاط، ہر تسلی پر پانی پھیر دیتی۔
    پتا نہیں و ہ دونو ں صبح صبح ہی کیوں لڑتے تھے۔
    اپنے دونوں بہن بھائیوں کا تو مجھے پتا نہیں، لیکن آہستہ آہستہ میں نے ان لڑائیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنے اندر پناہ ڈھونڈنا سیکھ لیا۔ کتابیں پڑھنے کا شوق تو مجھے نہ جانے کب سے تھا، لیکن اب کتابیں میرے ذہن میں اپنی اپنی دنیائیں بنانے لگ گئی تھیں۔ عمران سیریز میں ان کے ایڈونچرز پڑھتے پڑھے میں بھی ان کے ساتھ مہم جوئی پر نکل پڑتی۔ الف لیلیٰ کی کہانیوں میں شہزادی جہاں کہیں پھنستی، میرے پیٹ میں بل پڑنے لگتے اور کہانی کا نیک دل انسان جب اُسے اُس مصیبت سے بچا کر نکال لے جاتا، میرے ذہن میں ’’اپنے‘‘ شہزادے کا تصور شکل لینے لگتا۔ وہ ایک بہت مہربان، نرم گو اور خیال رکھنے والا شخص ہو گا۔ میں فیصلہ کرتی۔
    اور میں بھی شہزادی کی طرح بہت ہمت والی اور نڈر بنوں گی۔
    یہ خیالی ہیولے اور fantasies کب میرے لیے اپنی اصل زندگی سے زیادہ اصلی ہو گئے مجھے اندازہ نہیں ہوا۔
    اب جب بھی امی چیخنا شروع کرتیں، وہ سرخ اینٹوں والا گھر خوف کے دھوئیں میں غائب ہونے کے بہ جائے ایک نئی ترنگ سے اور واضح ہو کر سامنے آتا۔ ہر لڑائی اس گھر کے آرکیٹکچر میں اضافہ کر دیتی۔
    اب اس گھر میں ایک برآمدے کا اضافہ بھی ہو چکا تھا۔ وہ برآمدہ تین بڑے بڑے کمروں کے سامنے تھا۔ بہت سوچ بچار کے بعد ان میں سے ایک کمرے کو میں نے نماز اور قرآن کے لیے مخصوص کر دیا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی صحن پار کر کے جو سب سے بڑا کمرا تھا، وہ میرا بیڈ روم تھا۔ اس کی بائیں جانب ڈائننگ روم اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا کچن۔ جس کے ساتھ اور ڈیوڑھی کی سیڑھیوں کے بیچ ایک نیلے رنگ کا واش بیسن تھا جس کے اوپر دیوار پر ایک آئینہ بھی ٹنگا ہوا تھا۔ اس واش بیسن کے نیچے وہ نل تھا جہاں سے پائپ لگا کر میں روزانہ وہ سرخ اینٹوں والا فرش دھوتی تھی۔
    میرے بیڈ روم کی دوسری طرف ڈرائنگ روم تھا جہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی مہمان آیا ہوتا۔ میں خود کو تسلی دیتی کہ جب تک میں اتنی بڑی ہوں گی کہ میرا اپنا الگ گھر ہو گا، مجھے لوگوں سے سوشل ہونا آ چکا ہو گا اور میں اب لوگوں سے بات کرتے ہوئے جتنی کنفیو زہوتی ہوں، تب نہیں ہوں گی۔ میں ایک پرفیکٹ میزبان ہوں گی اور میرے بہت سارے دوست اور جاننے والے ہوں گے اور ان میں سے کوئی نہ کوئی اکثر میرے گھر آیا کرے گا۔
    کچن اور واش بیسن کے درمیان سے سیڑھیاں چھت کی طرف جاتی تھیں جہاں میں ہر ہفتے کپڑے دھونے کے بعد پھیلانے کے لیے جاتی۔ ایک ٹب جو میری کمر سے ٹکا ہوتا، اور کپڑے دھو دھو کر میرے اپنے کپڑے بھیگ چکے ہوتے، لیکن میرے چہرے پر ہزار واٹ کی مسکراہٹ ہوتی اور دل میں ایسی خوشی کہ اب پھٹا کہ تب۔
    گھر کا نقشہ میرے ذہن میں جتنا واضح تھا، گھر والے کا اتنا ہی مدھم۔ میں نے کبھی سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ سرخ اینٹوں والے اس گھر میں، میں جس کے ساتھ رہ رہی ہوں گی اور اتنا ہنس ہنس کے جس کے کپڑے دھو رہی ہوں گی، وہ کیسا ہو گا۔ اس کی آنکھیں کیسی ہوں گی، چلتا کیسے ہو گا، بولتا کیسے ہو گا، اس کی پسند نا پسند کیا ہوگی، اقدار کیا ہوں گی۔ مجھے بس یہ معلوم تھا کہ اس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی اور میری ہر خواہش کو وہ پورا کرنے کی ضرور کوشش کرتا تھا۔
    اپنی فینٹسی لائف میں بھی میں حقیقت کی قیود کے اندر رہنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میری سوچوں کا وہ شخص مجھ سے بہت محبت کرتا تھا اور ہر وقت میرے آس پاس رہنا چاہتا تھا۔ میری بھی کوشش ہوتی تھی کہ میں اس کے آنے سے پہلے سارا کام کر کے تیار ہو جاؤں تا کہ وہ تھکا ہارا آفس سے آئے تو میں اسے مسکراتی ہوئی ملوں۔
    ایک چھے سات سال کی بچی کے دماغ میں پتا نہیں یہ کہاں سے آ گیا تھا کہ شوہر گھر آئے توبیوی کو اسے مسکرا کر ملنا چاہیے۔ شاید اس لیے کہ ابواکثر جب گھر آتے امی محلے میں کسی نہ کسی سے ملنے گئی ہوتی تھیں اور جب گھر پر ہوتیں تب بھی ابو کا آفس سے واپس آنا ان کے لیے کوئی خاص واقعہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ ویسے ہی برے حال میں گھر میں گھوم رہی ہوتیں۔




  • رانی سے گرانی تک — عائشہ تنویر

    رانی سے گرانی تک — عائشہ تنویر

    سونا کسے پسند نہیں ہوتا، خواتین سونے پر جان دیتی ہیں تو بعض حضرات اس کے لیے جان لے بھی لیتے ہیں۔ سونے کے بھاؤ بڑھنیکے ساتھ اقدار کا نرخ کم ہو گیا ہے اور انسانی جان بے حد ارزاں۔ امن و امان کی اسی ناقص صورتِ حال کے باعث سونا تو دور کی بات اب لوگوں نے سونے جیسی خصوصیات سے بھی دور رہنا شروع کر دیا ہے۔ سونے میں تولنے کے قابل باتیں کرنا یاباتوں ہی باتوں میں کسی کو سونے میں تول دینا خود اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے والی بات ہے۔
    ان ہی وجوہات کی بنا پر بچے بھی اب منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونا پسند نہیں کرتے البتہ پیدا ہوتے ہی موبائل یا ٹیبلٹ لے لیں تووہ الگ بات ہے ۔ مہنگائی کی وجہ سے سونے کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی دیکھ کر حکومت نے عوامی مفاد میں اشیائے خوردونوش کو سونے کے بھاؤ کر دیا ہے تا کہ عوام کو قیمتی چیز حاصل کرنے کا لطف بھی آ جائے اور سنبھال کر رکھنے کا جھنجھٹ بھی نہ ہو ۔ فوری خریدو اور کھا کر ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلو ۔جیسا کہ کہا جاتا ہے ہر کام کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہوتا ہے تو سونے کی قیمتوں میں بہ تدریج اضافے سے آرٹیفیشلزیورات کی صنعت کو فروغ ملا ہے ۔ پہلے شادی بیاہ پر دلہن کو سونے سے پیلا کردیتے تھے۔ اب اگر سونا نہ بھی میسر ہو تو لباس کے ہم رنگ زیورات پہنا کر لال نیلا ضرور کر دیتے ہیں۔ پھر بھی اگر کسی کا پیلا ہونے کا دل چاہے تو وہ آرٹیفیشل زیور ہی ایسے لیتا ہے کہ چمک دمک میں سونے کو مات دیں ۔ پیلے تو بعض اوقات دلہا بھی ہو جاتے ہیں، دلہن کا میک اپ اترنے کے بعد۔ لیکن اس پیلے پن میں سونے جیسی چمک دمک کہاں؟ بجھے ہوئے چہرے کے ساتھ ان کی سائیڈ پر رکھی وگ اور دانت دلہن کو غصے سے جامنی کر دیتے ہیں اور یوں رنگوں کا کھیل چلتا رہتا ہے ۔
    ہماری ایک پڑوسن ہمہ وقت اپنے سونے کے زیورات دکھا دکھا کر محلے کے گھروں میں لڑائی کا باعث بنتی تھیں۔ جب وہ ناز سے اپنے کنگن چھنکا کر بتاتیں:
    ’’انہوں نے کہا ہے، رانی اسے اتارنا مت۔‘‘ تو ان کی اتراہٹ سننے والی خواتین کے دل میں خنجر کی طرح اتر جاتی بلکہ گڑ جاتی۔ قصور ان خاتون کا بھی اتنا نہیں تھا ، ’’سونے دی تعویتڑی‘‘ اور ’’لیا دے مینوں گولڈن جھمکے‘‘ سننے والی تمام خواتین اپنے شوہر سے یہی شکوہ کرتی ہیں کہ:
    ’’آپ نے تو کبھی مجھے سونے کی چیز نہ دلائی، آپ کو تو مجھ سے سچی محبت ہی نہیں ۔ ‘‘
    حضرات شاید یہ سوچتے ہیں کہ اگر یہ فرمائش برابر میں بیٹھی ظالم کی بہ جائے سامنے اسکرین پر مٹکتی حسینہ کرتی تو دل، جگر، گردے سب بیچ کر پوری کرتے۔ اپنے محلِ وقوع میں اضافے کے بعد اہلیہ اب اس کی اہل نہیں رہیں ۔ آخر محلہ بھر کی نظر لگی اور ایک دن گلی میں انہیں چند لٹیرے مل گئے ۔ گن پوائنٹ پر پہلے ہاتھوں کے موٹے موٹے کنگن اتروائے ۔ زندگی سے بڑھ کر کیا تھا، چپ چاپ اتار دیے پھر انگوٹھیاں اور چین اتروانے کے بعد جب انہوں نے کانوں کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس بھی اتروانے چاہے تو وہ بے ساختہ بولیں:
    ’’یہ تو اصلی ہیں۔‘‘ اس کے بعد ڈاکوؤں نے انہیں کیا کہا وہ تو معلوم نہیں لیکن چھپ چھپ کر کھڑکی سے منظر دیکھتی خواتین کے سینے میں ٹھنڈ پڑ گئی ۔ سونا چاندی کا ساتھ تو ہمیشہ سے ہے، صرف ڈرامے میں ہی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی ہے۔ تب ہی، تو بادشاہوں کو سونے کی پیالی میں اور چاندی کے ورق سے سجی کھیر پیش کی جاتی تھی ۔ بڑھتی مہنگائی نے سونا، چاندی کو خواب کردیا تو طلائی رنگت والی فصل ہی ہماری قومی محبوبہ بن گئی۔ زرعی ملک میں بھی گندم عوام سے آگے بھاگنے لگی ۔گندم کی سنہری سونے جیسی بالیوں کی قدر میں اضافے کے ساتھ ساتھ عوام میں چاندی جیسی سفید چمکتی رنگت بھی مقبول ہو گئی۔ شاید گندم کے پیچھے خوار ہونے کے بعد لوگ گندمی رنگت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہتے۔ وجہ چاہے جو بھی ہو لیکن اس چاندی جیسی رنگت کے عشاق نے بیوٹی پارلر اور رنگ گورا کرنے کی کریم بنانے والوں کی چاندی کر دی ہے۔ وقت اور پیسے کے بے دریغ زیاں سے حاصل ہونے والی چاندی رنگت بھی جب اصلی چاندی کی طرح کچھ ہی عرصے میں ماند پڑنے لگتی ہے تو سب کی عقل ٹھکانے لگتی ہے ۔جیسے ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، اسی طرح ہر چمکتی چیز چاندی بھی نہیں ہوتی ۔جب سونا چاندی پہنچ سے دور ہوا تو انگور کھٹے ہیں کہ مصداق ایسے جملے سنائی دینے لگے۔
    ’’حیا خواتین کا زیور ہے۔‘‘
    ’’تعلیم ہی اصل زیور ہے۔‘‘
    یہ سن سن کر بعض سادگی پسند خواتین نے زیور سے تعلق توڑ لیا، حیا اور تعلیم والے زیور سے۔ اب گہنے تو پہننے ہیں نا تو ضروت سے زائد کیوں ہوں ؟ کچھ خواتین یہ بھی سمجھتی ہیں:
    ’’ نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی۔‘‘ تب ہی وہ اپنی خوبیوں پر نازاں شرم و حیا کو پاس نہیں پھٹکنے دیتیں۔ بعض مرد حضرات کو اس پر اکثر اعتراض رہتا ہے کہ ہر قسم کا زیور خواتین کے لیے ہی کیوں؟بھئی اگر خواتین رانی ہیں تو وہ بھی تو راجا ہیں ، انہیں بھی آرائش کا حق ہے، سو وہ بھی ہر طرح کے زیور سے آراستہ رہنے لگے۔
    پہلے وقتوں میں اماں کو لڑکی پسند آتی توجھٹ ہاتھ سے انگوٹھی یا کنگن اتار کر نشانی کے طور پر پہنا دیتیں، لیں بہو مانگ لی گئی اور آج کل یہ کام لڑکے خود کرتے ہیں ۔ جب منگنی کا دل چاہا، لڑکی کو انگوٹھی اتار کر پہنا دی ۔ اپنی افتاد طبع سے یہ لڑکے بہ خوبی آگاہ ہیں ، تب ہی ہاتھ میں ایک وقت میں کئی کئی انگوٹھیاں پہنتے ہیں اور وہ بھی آرٹیفیشل ۔ یوں تو آج کل کی لڑکیاں بھی کم نہیں،سونے کا پانی چڑھا نقلی زیور لے کر بے وقوف بننے کی بجائے ادا سے فرمائش کرتی ہیں:
    ’’ڈارلنگ اپنا آئی فون دے دو مجھے، اس میں تمہارے ہاتھوں کی خوش بو بسی ہے۔‘‘ اب ڈارلنگ انہیں کیا بتائے کہ صرف ہاتھوں کی خوش بو نہیں بلکہ پوری کی پوری خوش بو اپنی ہوش ربا تصاویر کے ساتھ اس میں بسی ہے ۔
    حقوقِ مرداں کے دعوے دار بعض حضرات تو لباس میں بھی خواتین کا مقابلہ کرتے ہیں اور ’’مرد اور عورت برابر ہیں‘‘ کا نعرہ بلند کرتے لہنگے اور دوپٹے پہن کر ریمپ پر گھومتے ہیں ۔اب جنہیں خواتین کے مردانہ کپڑے پہننے پر اعتراض نہیں ، وہ ان پر کیوں انگلی اٹھاتے ہیں ۔ یہ رواج ابھی ریمپ سے معاشرے میں نہیں آیا لیکن دیکھا جائے تو یہ بھی آج کل کی بڑھتی مہنگائی سے مقابلے کی ہی صورت ہے ۔ گھر میں الگ الگ کپڑوں کی ضرورت نہیں ،کبھی شوہر صاحب بیگم کی ساڑھی پہن گئے تو کبھی بیگم صاحبہ جینز، ٹی شرٹ پہن گئیں ۔اس سے پیار بڑھے گا اور خرچا گھٹے گا بلکہ جن خواتین کو شکوہ رہتا ہے کہ ہمارے شوہر دوپٹے پیکو کروانے نہیں لے جاتے، ان کا مسئلہ بھی حل ہو گا ۔ جب صاحب نے اگلے دن پہننا ہو گا تو خود ہی ٹیلر اور پیکو والے کے چکر کاٹیں گے اور ملک میں برابری کی سطح بھی جنم لے گی ۔ میاں بیوی میں اتفاق بڑھے گا تو نئی نسل پر سکون ماحول میں پروان چڑھے گی اور ملک بھی ترقی کرے گا۔ یوں کہانیوں کی طرح سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔ اب اگر ایسے میں چند پرانے خیالات کے لوگ مردوں کا یہ حق تسلیم کرنے میں ناک بھوں چڑھائیں بھی تو ان تنگ نظر لوگوں کے رونے پرملکی ترقی تو قربان نہیں کی جا سکتی نا۔ آخر ہمارے جوانوں نے بھی دنیا کے ساتھ چلنا ہے ۔

    ٭…٭…٭




  • پھوہڑ — ثمینہ طاہر بٹ

    پھوہڑ — ثمینہ طاہر بٹ

    ’’اُف! تو بہ ہے۔ یہ سالن ہے یا زہر؟ بھابی، تمہیں اتنا عرصہ ہو گیا ہمارے گھر آئے، مگر مجال ہے جو اس گھر کا ایک بھی اصول اپنانے کی کوشش کی ہو۔ آج بھی پہلے دن والی غلطیاں کرتی ہو اور پھر منہ بسور کر سب کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتی ہو۔ کمال ہے بھئی۔ والدہ صاحبہ نے تو بیٹی کے سگھڑاپے کے جھنڈے زمانے بھر میں گاڑ رکھے ہیں اور بیٹی صاحبہ ہیں کہ ڈھنگ سے دال کو بھگار بھی نہیںلگا سکتیں۔ اونہہ، اماں ۔تم نے تو بھائی کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ بس بہو کی ’’چٹی چمڑی‘‘ دیکھی اور کسی گن کو دیکھنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی کوشش کی۔ ‘‘ گڑیا کی پاٹ دار آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی اور کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔ ہوتا بھی کیسے، گڑیا گھر بھی لاڈلی اور ماں کی سر چڑھی تھی۔دو بہنوں اور تین بھائیوں سے چھوٹی ، مگر رتبے کے لحاظ سے سب کی اماں لگتی تھی۔ نین تارہ کو اس گھر میں بیاہ کر آئے چھے ماہ ہونے کو آئے تھے اور اس سارے عرصے میں اس کے سارے گن ایک ایک کر کے گہنائے جا چکے تھے۔ گڑیا کی زبان کے آگے واقعی کوئی گہری خندق ہی تھی کہ وہ بولنے سے پہلے نہ تو کچھ سوچتی اور نہ ہی بولنے کے بعد اگلے کے تاثرات دیکھنے کی عادی تھی۔اس کے دل میں جو آتا کر ڈالتی اور منہ میں جو آتا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیتی چاہے اس کے نتیجے میں سامنے والے کی عزت دو کوڑی کی ہی کیوں نہ ہو جاتی۔
    نین تارہ بے حد سگھڑ اور سلیقہ شعار لڑکی تھی۔اس سے بڑی ایک بہن اور دو بھائی تھے۔ سب شادی شدہ اور اپنی اپنی فیملیز میں مگن تھے۔ جب تک نین تارہ کے ابا جی حیات تھے، اسے اور اس کی امی کو کوئی پریشانی لاحق نہیں تھی، مگر کچھ عرصہ پہلے والد کے انتقال کے بعد ان کی زندگی کی سبک رفتار ناؤ جیسے ہچکولے کھانے لگی تھی۔یوں تو دونوں بھائی بھی اچھے تھے اور بھابھیوں کو بھی ان دونوں سے کوئی مسئلہ نہ تھا، مگر اصل مسئلہ تو یہی بنا تھا کہ نین تارہ کا وجود اس کے بھائیوں اور بہن کے مابین دراڑ بنتا جا رہا تھا۔ اس کی خاموش اور سلجھی ہوئی طبیعت ، سلیقہ اور سگھڑاپا دیکھتے ہوئے بہنوئی صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی کے لیئے دست سوال دراز کیا تو بڑی بھابی نے یہ کہتے ہوئے دو ٹوک انکار کر دیا کہ مرحوم ابا جی نین تارہ کو اپنی زندگی ہی میں اس کے بھائی کے ساتھ منسوب کر چکے تھے۔ بس اعلان کرنا باقی تھا۔ ورنہ باقی کی کارروائی تو سمجھو ہو ہی چکی تھی۔بڑی بھابھی کی باتوں نے جہاں آپا کو حواس باختہ کیا تھا، وہیں چھوٹی بھابی کے ہوش بھی اُڑا دیے تھے کیوں کہ چھوٹی بھابی بھی اسے اپنی بھاوج بنانے کا دل ہی دل میں پکا منصوبہ بنا چکی تھیں، مگر اب انہیں اپنے سارے ارمان مٹی میں ملتے دکھائی دے رہے تھے۔
    ٭…٭…٭





    ’’امی! یہ سب لوگ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ابا کی زندگی میں تو کسی کو ایسا خیال بھی نہیں آیا تھا۔ بے چارے میرے اباجی، میری شادی کا ارمان دل ہی میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر اب ایسا کیا ہوگیا کہ بھابھیوں اور بھائی صاحب کی محبت نے جوش مارنا شروع کر دیا ہے۔؟ ‘‘ حالات جب حد سے زیادہ خراب ہونے لگے، تو نین تارہ کی ہمت بھی جواب دے گئی۔وہ ماں سے لپٹ کر رودی اور ماں بے چاری کیا کہتیں۔ انہیں سمجھ تو سب آرہا تھا، مگر یقین کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا کہ قریبی رشتوں کا یہ فریب ان سے برداشت ہی نہیں ہو رہا تھا۔
    ’’تارہ! بیٹی یہ سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ہمارے سر پر احسان کا بوجھ رکھنے کے لیے کر رہے ہیں۔ تمہاری آپا نے تو اکیلے میں مجھے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اس کے نکھٹو دیور سے بیاہنے کی بہ جائے میں تمہارا گلا دبا دوں تو زیادہ بہتر ہے۔ اور رہ گئیں تمہاری بھابھیاں تو وہ بھی اسی کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے میکے کی چاکری کے لیے بھابی بنا نے میں کامیاب ہو جائیں۔ اس طرح دوہرے رشتے کی وجہ سے ان کا کھونٹا بھی مضبوط ہو جائے گا اور میرے سر ہمیشہ کا احسان بھی آ جائے گا۔‘‘ امی نے اپنے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، تو وہ شاک کی کیفیت میں انہیں دیکھتی چلی گئی۔
    ’’ اور پھر انہیں شاید یہ بھی پتا چل چکا ہے بیٹی کہ تمہارے ابا نے تمہارے نام کچھ جائیداد بھی کر دی تھی۔ وہ اس جائیداد کے لالچ میں بھی ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔‘‘ نین تارہ حیران کھلی آنکھوں سے ماں کو دیکھتی ان کے انکشافات سن رہی تھی۔ اس کے دل پر چھریاں چل رہی تھیں، مگر وہ بے بس تھی۔ کچھ کر نہیں سکتی تھی سوائے رونے کے۔ سو، رو کر ہی دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔
    ’’نین تارہ! میں نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے۔ صغریٰ کے جاننے والے ہیں وہ لوگ۔ کبیر کی اپنی کپڑے کی دکان ہے۔ کبیر سے بڑے دو بھائی ہیں اور دو بہنیں۔ وہ سب شادی شدہ اور اپنے اپنے گھر بار والے ہیں۔ کبیر اپنی ماں اور چھوٹی بہن کے ساتھ رہتا ہے۔صغریٰ نے ان کے آگے تمہاری بہت تعریفیں کی تھیں۔ بس، انہوں نے رشتہ مانگا، تو میں نے ہاں کر دی۔‘‘ امی نے ایک دن اسے سامنے بٹھاتے ہوئے پیار سے کہا، تو وہ سر جھکا کر رہ گئی۔ کیا عجیب وقت آ گیا تھا کہ سر چھپانے کو اپنے باپ بھائی کا گھر ہی کم پڑنے لگا تھا۔اس کی آنکھوں میں آنسو بھرتے جارہے تھے، مگر وہ ماں کی آزردگی کے خیال سے انہیں بہنے سے روکے ہوئے تھی۔
    ٭…٭…٭
    جلد ہی نین تارہ ماں کی دعائیں اور بھابھیوں کی آہیں سمیٹے ہوئے پیا دیس سدھارگئی۔ شادی کے شروع دن تو جیسے پنکھ لگا کر رخصت ہوئے اور پھر اس کے سامنے آئیں زندگی کی تلخ حقیقتیں۔
    ’’بہو! تمہاری شادی کو دس روز ہو گئے۔ اب تم میٹھے میں ہاتھ ڈالو اور اپنی گھرداری سنبھالو۔ مجھ سے اس بڑھاپے میں تم لوگوں کی خدمتیں نہیں کی جاتیں۔ ‘‘ شادی کے دسویں روز ہی ساس صاحبہ نے صبح ہی صبح آرڈر جاری کیا اور خود اپنے کمرے کی راہ لی۔ کبیر اس وقت کام پر جانے کی تیاریوں میں تھا۔ ماں کے کمرے سے نکلتے ہی وہ محبت بھرے انداز سے اسے دیکھنے لگا۔
    ’’اچھا، تو آج سے کھانا تم بناؤ گی۔ چلو اچھا ہے ۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ تمہارے ہاتھ کا ذائقہ کیسا ہے۔ بھئی، تعریف تو بہت سنی ہے ۔اب ٹرائی کرکے دیکھیں گے، تو پتا چلے گا نا۔‘‘ کبیر نے ہنستے ہوئے شرارت سے کہا، تو وہ بھی خوش دلی سے مُسکرانے لگی۔
    ’’امی! کھانے میں کیا بنانا ہے۔ بتا دیں مجھے ، میں بنا لوں گی۔‘‘ میٹھے میں فرنی بنانے کے بعد اس نے ساس سے اگلے کام کی بابت پوچھا، تو وہ گڑیا کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگیں۔
    ’’بھابی!آج کچھ اسپیشل بناؤ۔ سمجھو، آج تمہارا امتحان ہے اور ہاں یہ دھیان میں رکھنا کہ تمہارے دونوں جیٹھ اور دونوں بڑی نندیں بھی کھانے پر آ رہی ہیں۔ ‘‘ گڑیا نے مزے سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کچھ اس طرح کہا کہ وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔اس نے اپنی ساس کی طرف دیکھا ،وہ بھی اسے عجیب سی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔ ایک لمحے کو تو نین تارہ کی نگاہوں کے سامنے رنگ بہ رنگے تارے ہی ناچ گئے۔ وہ سلیقہ شعار اور سمجھ دار ہونے کے ساتھ ساتھ بہت حساس بھی تھی۔ فوراً سمجھ گئی کہ اب اس کے سختی کے دن شروع ہوا چاہتے ہیں۔
    ’’ ٹھیک ہے ۔ آپ مجھے بتا دیں کہ کیا کیا بنانا ہے۔ میں سب بنا لوں گی۔‘‘ اس نے بے دلی سے مُسکراتے ہوئے کہا ۔
    ’’بھئی، دعوتی کھانا بنانا ہے اور وہ بھی ساری فیملی کے لیے۔ تو ایسا کرو بھابی کہ تم بریانی کے ساتھ قورمہ بھی بنا لینا۔ شامی کباب بنا کے میں نے فریز کیے ہوئے ہیں اور نان بھائی بازار سے لے آئیں گے۔ کیوں امی، یہ مینیو ٹھیک رہے گا نا؟ ‘‘ گڑیا نے خود ہی ساری لسٹ ترتیب دی اور پھر خود ہی اسے فائنل کرتے ہوئے ماں سے تائید چاہی، تو انہوں نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔
    ’’ٹھیک ہے امی، میں بنا لوں گی سب کچھ۔آپ فکر مت کریں۔‘‘ نین تارہ نے فرماں برداری سے کہا، تو گڑیا بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ’’دیکھتے ہیں، تم کیا کمال کرتی ہو بھابی۔ دھوم تو بہت سنی ہے تمہارے سگھڑاپے کی۔‘‘ گڑیا نے طنزیہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے چبھتے ہوئے انداز سے کہا، تو نین تارہ کا دم جیسے گھٹنے لگا۔ اُس کی ساس بیٹی کی بات کا مزہ لیتے ہوئے ہنس رہی تھیں۔وہ گڑیا کی معیت میں کچن میں داخل ہوئی اور پھر شام سے پہلے اسے کچن سے نکلنا نصیب نہیں ہوا۔ اس دوران اس کے دونوں جیٹھ اور نندیں بھی اپنے اپنے بال بچوں سمیت پہنچ چکے تھے۔ کھانے کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان کی مہمان نوازی بھی اسے ہی کرنی پڑی تھی کہ گڑیا تو بہنوں کو دیکھتے ہی اُن کے ساتھ جڑ کر جا بیٹھی تھی اور پھر وہ چاروں ماں بیٹیاں تھیں اور ان کی نہ ختم ہونے والی باتیں۔ البتہ اس کی جیٹھانیوں نے رسماً ہی سہی اس کی تھوڑی بہت مدد ضرور کروائی تھی بلکہ بڑی بھابی نے تو اسے اتنے بڑے بڑے پتیلوں کے سامنے جھلستے دیکھ کر سخت افسوس کا اظہار بھی کیا تھا اور کبیر کو ڈانٹا بھی تھا کہ وہ نئی نویلی دلہن پر اتنا بوجھ ڈالنے کی بہ جائے کھانا باہر سے آرڈر کروا سکتا تھا۔اب کبیر بے چارہ کیا کہتا۔ اسے تو خود گھر آنے کے بعد ساری صورت حال کا پتا چلا تھا۔ وہ خود بھی بہت پریشان تھا، مگر ماں کو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا اور نہ ہی گھر آئے مہمانوں کو کچھ بتا سکتا تھا۔
    ’’کبیر! میری مانو تو تم بازار سے کچھ اور بھی کھانے پینے کا سامان لے آؤ۔‘‘ بڑی بھابی نے تشویش سے بریانی اور قورمے کے دیگچوں میں جھانکتے ہوئے کہا، تو نین تارہ کے ساتھ ساتھ کبیر بھی حیرت سے انہیں دیکھنے لگا۔
    ’’کیوں بھابی۔ کھانا اچھا نہیں بنا کیا؟‘‘ نین تارہ نے ڈوبتے دل کو بہ مشکل سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
    ’’نہیں ۔نہیں تارہ! تم نے کھانا تو ماشااللہ بہت اچھا بنایا ہے، مگر یہ سب پورا نہیں ہوگا بہنا اور پھر اگر گڑیا کو ایک چیز میں بھی کوئی نقص نظر آگیا، تو سمجھو سب ہی دسترخوان سے بھوکے اُٹھیں گے۔ تمہاری محنت بھی اکارت جائے گی اوربد مزگی علیحدہ سے ہو جائے گی۔ اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ کچھ اور ورائٹی بھی ہونی چاہیے کھانے میں۔ ‘‘ بھابی نے مفصل جواب دیا، تو بات کبیر کی سمجھ میں بھی آ گئی۔ اس پر چھوٹی بھابی نے بھی پُر زور تائید کی تو کبیر چھوٹے بھیا کو ساتھ لیے بازار روانہ ہوا۔ خیریت رہی کہ امی اور بہنوں کو اس کارروائی کا پتا ہی نہیں چل سکا ، ورنہ جانے وہ کبیر اور تارہ کا کیا حال کرتیں۔




  • ہم رکاب — عرشیہ ہاشمی

    ہم رکاب — عرشیہ ہاشمی

    وہ کافی دیر سے آنکھیں بند کیے بانسری بجا رہاتھا جس کی مدھر تان ہولے ہولے میرے دل پر دستک دینے لگی تھی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس نے اپنی رس بھری سرگوشی سے مجھے اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔ دل تھا کہ اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا اور دماغ ’’یہ غلط ہے‘‘ کی گردان الاپے جا رہا تھا۔ کچھ پل کی نادیدہ سلاسل میں قید سکون کے علاوہ مجھے اس سے کچھ نہ ملا تھا۔
    عجیب کشمکش میں آن پڑی تھی میں۔ اس نے تو مجھے ہمیشہ مشکل ہی میں ڈالا تھا لیکن میں تھی کہ ریشم کے دھاگے کی طرح اس کی طرف کھنچی چلی جا رہی تھی۔
    جب سے ہوش سنبھالا، میں نے اسے اپنا ہم رکاب پایا۔ عجیب رشتہ تھا ہم دونوں کا بھی۔ وہ میرے لیے زہرِ قاتل تھا اور میں اسے تریاق کی طرح سنبھالے رکھتی تھی۔ ہر دم اس کی جی حضوری کرتی، اس کی ہاں میں ہاں ملاتی اور اس کی اس طرف داری کا صلہ مجھے ہمیشہ دکھ ہی دیتا۔
    مجھے یاد ہے ایک بار جب ندی کنارے چلتے ہوئے عینی بھی میرے برابر آن پہنچی تو اس نے میرے دماغ کی ڈوری کھینچی اور دھیان کا دامن پکڑے اس طرف لے گیا۔ یہ صحیح ہے کہ میری عینی کے ساتھ کبھی نہ بنی تھی اور عینی ہمیشہ ہی مجھے چڑاتی رہتی تھی۔ میرے گھنگھریالے بالوں کی وجہ سے ہمیشہ وہ میرا مذاق اڑایا کرتی تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ بدلے میں اسے نقصان پہنچاوؑں۔ اسے جسمانی تکلیف کا مزہ چکھاوؑں۔ لیکن اس روز، اس کے پرزور اصرار پر میں نے عینی کو دھکا دے کر ندی میں گرا دیا۔ ندی میں بپا ہونے والے ہیجان نے میرے اندر کے احساس کو جگانا شروع کیا تو میں نے چلاچلا کر آس پاس کے لوگوں کو اکٹھا کر لیا۔ عینی کی جان تو بچ گئی لیکن میری شامت آگئی۔ چاچا چاچی کی لعنت ملامت کے بعد اماں ابا اور اوراستانی جی کی ڈانٹ اور بِے عزتی کے بعد مجھے احساس ہواکہ مجھے اس کی بات نہیں ماننا چاہیے تھی۔ میں نے خود سے وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی اس کی بات نہیں سنوں گی۔




    پھر ایک روز جب میں اماں کے ساتھ بازار گئی تو خواہشوں کی ننھی تتلی لہک لہک کر کبھی سرخ لہنگے پر جا بیٹھتی تو کبھی سنہری جوتی پر۔
    ’’شش… چپ! اگر اماں کو تیری خبر ہو گئی تو اگلی بار ساتھ بازار نہیں لائیں گی۔‘‘ میں نے خواہشوں کی تتلی کو آہستہ سے تنبیہ کی۔
    لیکن وہ بھی اپنی فطرت سے مجبور، ضبط کے آگے سر پٹختے پٹختے تھک گئی تھی شاید۔ پھر سے ایک ست رنگی دوپٹے پر جا بیٹھی تو میں اسے گھور کر ہی رہ گئی۔ ہم دونوں کی اڑان بلند ہوتی اور پھر سمجھوتے کی گہری پاتال کا رخ کرتی۔
    اماں جب کتابوں کی دکان پر میری کاپیاں خریدنے کے لیے رکیں تو میری نگاہ سامنے ہی کھلے جیومیٹری باکس پر جم گئی۔ گلابی رنگ کی وہ جیومیٹری،نازک سی پرکار، ڈی،پنسل اور سکیل پر مشتمل تھی۔ اس کی سب سے زیادہ خاص بات یہ تھی کہ اس میں باربی گڑیا کی شکل کی پنسل موجودتھی اور باہر کی طرف بنی گلابی رنگ کی باربی کی آنکھیں ستاروں کی طرح چمک رہی تھیں۔
    ’’یہ جیومیٹری بھی لینی ہے خالہ جی؟‘‘ دکان والے نے میری نظروں کا ارتکاز دیکھتے ہوئے اماں سے سوال کیا۔
    ’’ارے نہیں بیٹا، یہ فضول خرچیاں ہم جیسے لوگ نہیں کر سکتے۔‘‘ اماں نے آہستگی سے کہا تو میں نے حسرت سے اسے دیکھتے ہوئے نگاہ چرا لی لیکن خواہش کی ننھی تتلی کافی دنوں تک اس کے گرد منڈلاتی رہی۔
    ’’مینا مینا! دیکھو تو ذرا شیزا کے پاس بالکل ویسی ہی جیومیٹری ہے جو اس روز دکان میں دیکھی تھی تم نے۔‘‘ سکول میں تفریح کا وقت گزرنے کے بعد وہ میرے دھیان کا ہاتھ پکڑے زور سے بولنے لگا۔
    ’’اوہو! تو کیا ہوا۔وہ یہ فضول خرچی کر سکتی ہے۔ اس کا باپ ہزاروں کماتا ہے۔ ‘‘میں نے شیزا کے ہاتھ میں تھامی جیومیٹری پر نگاہ ڈالتے ہوئے قدرے اُداسی سے کہا۔
    ’’اداس مت ہو میری جان! ہمیں اپنی خواہش پوری کر لینی چاہیے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ طریقہ کیا ہے۔ چھین لو اس سے یہ جیومیٹری۔ یہ صرف تمہارے لیے بنی ہے۔‘‘ اس نے مجھے راہ سجھائی تھی۔
    ’’نہیں! وہ کیا کہے گی کہ مینا چیزیں چھینتی ہے۔ نہیں!‘‘ میں نے اس کے مشورے کو پسِ پشت ڈال دیا لیکن جب شیزا پانی پینے اٹھی تو اس نے پھر میرے دھیان کا پلو تھاما اور سامنے ڈیسک پر رکھی جیومیٹری کی طرف لے گیا۔ اتنے میں چھٹی کی گھنٹی بجی اور میرے ہاتھ خود بہ خود اس جومیٹری کی طرف بڑھ گئے۔ سکول سے گھرواپسی کا سفر میرے لیے بے حد حسین تھا۔ خواہش کی ننھی پری یہاں سے وہاں اٹکھیلیاں کرنے لگی تھی۔ کبھی میرے دل کے تار چھیڑتی تو کبھی آنکھوں میں ڈھیر سارے رنگ بکھیر دیتی۔
    ہاں میری اس خوشی کا سارا کریڈٹ اسے ہی جاتا تھا۔ اگر وہ میری ہمت نہ بندھاتا تو میری یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوتی۔ اسی طرح میری ہر خواہش پوری کرنے کے لیے وہ ہر جتن کرتا تھا۔ کبھی کبھار تو بنا خواہش کے ہی مجھے مشکلات سے بچانے میدان میں کود پڑتا۔
    ٭…٭…٭
    رمضان المبارک کے آخری روز تھے۔ سکول میں ہر روز ہی سہیلیاں ایک دوسرے کو تحفے اور عید کارڈ دیتی نظر آتیں اور میں ہمیشہ کی طرح حسرت کو گلے لگائے یہ تماشا دیکھتی۔
    ’’پیشگی عید مبارک!‘‘ شیزا نے کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور سرخ کاغذ میں لپٹا تحفہ میری جھولی میں ڈالتے ہوئے کہا۔ حیرت اور خوشی کے مارے میں کچھ دیر تو بول ہی نہ پائی تھی۔ بنا خواہش کے ملنے والی خوشی کا تجربہ پہلی بار ہوا تھا۔ گھر آ کر اماں کو کارڈ اور گفٹ دکھایا تو وہ ڈانٹنے لگیں۔
    ’’ارے کیوں لیا یہ تحفہ؟اب بدلے میں کیا دو گی اسے؟ یہ سب امیروں کے چونچلے ہیں، ہم جیسوں کو راس نہیں آتے۔‘‘ خوشی ایک دم سے اڑن چھو ہو گئی تھی۔ نم آنکھوں سے تحفے کا لبادہ اتارا تو اندر سے ست رنگی کانچ کی جھلمل کرتی چوڑیاں بر آمد ہوئیں جنہیں دیکھ کر مسکراہٹ خود بہ خود میرے چہرے پر در آئی۔
    ’’ہو جائے گا سب۔ فکر نہ کرو۔ کتنا پیارا تحفہ دیا ہے شیزا نے،اسے بھی تو ملنا چاہیے ایسا ہی تحفہ۔‘‘ اس نے ایک بار پھر آنکھوں میں امید کے جگنوسجائے تو میں بے فکر ہو گئی۔
    شام کو جب اماں نے حلوے کی پلیٹ ڈھانپ کر ہاتھ میں تھمائی اور مولوی صاحب کے گھر بھیجا تو وہ بھی میرے ساتھ ہو لیا۔
    ’’شیزا کو کیا تحفہ دینا ہے؟‘‘ گہری خاموشی میں اچانک اس کی آواز ابھری ۔
    ’’سوچوں گی۔‘‘
    ’’ارے! سوچنے کا وقت کہاں ہے؟ کل جانا ہے اسکول اور پھر عید کی چھٹیاں ہو جائیں گی۔‘‘ اس نے مجھے وقت کی کمی کا احساس دلایا تو میں حقیقتاً پریشان ہو گئی۔ انہی سوچوں میں گھرے وقت کا پتا ہی نہ چلا اور میں استانی جی کے سامنے کھڑی تھی۔
    ’’استانی جی! اماں نے یہ حلوہ بھیجا ہے اورکہا ہے کہ پلیٹ ابھی خالی کردیں۔‘‘ استانی جی تو باورچی خانے میں چلی گئیں اور میں باہر ہی تخت کے پاس کھڑی رہ گئی۔ دفعتاًمیری نگاہ تکیے کے نیچے سے جھلکتی سنہری مندریوں پر پڑی۔
    ’’دیکھ تو اللہ پاک نے شیزا کو دینے کے لیے کیساانتظام کیا۔ کتنی پیاری مندری ہے نا۔ جلدی سے اٹھا لو۔‘‘ وہ مجھ سے پہلے ہی ان سنہری مندریوں کودیکھ چکا تھا، سو مجھے کہنے لگا۔
    ’’نن نہیں! یہ چوری ہے، انہوں نے اماں کو بتایا تو میری چمڑی اتار دیں گی وہ۔‘‘ شعور نے اس کی بات نظر انداز کر دی۔
    ’’استانی جی کے پاس کس چیز کی کمی ہے؟ اور اگر یہ موقع بھی ہاتھ سے چلا گیا توکل شیزاکوکیا دو گی تحفے میں؟ اس نے تیزی سے کہا تو شعور نے اس کے آگے سر جھکا دیا۔
    اگلے دن استانی جی اماں کے سامنے موجود تھیں۔
    ’’باجی آپ اس سے لاڈ پیار سے پوچھو،بڑی قیمتی مندری تھی میری۔‘‘
    ’’استانی جی! سنہری مندری کی بات کر رہی ہیں نا آپ؟‘ وہ تومیں نے عینی کے پاس دیکھی تھی۔ کل جب حلوہ دے کر واپس گھر جا رہی تھی،تومیرے ساتھ ہی توتھی عینی بھی۔ ‘‘ان کی پریشانی اور اماں کے ہاتھوں بننے والی درگت کا خیال آتے ہی میں نے خودہی بولنا شروع کر دیااور پھر میرے نصیب کی سزا عینی کو ملی۔ اس کے جسم پر پڑے نیل مجھے پشیمان کرنے لگے تومیرے اندر اور باہر خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے۔
    پیسہ ہو تو زندگی میں رنگ بھر جاتے ہیں ورنہ تو زندگی بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی جیسی ہے۔ کچھ روز بعد وہ پھر میرے سامنے چلا آیا۔




  • فیصلہ — محمد ظہیر شیخ

    فیصلہ — محمد ظہیر شیخ

    پولیس والوں کی بھی عجیب قسمت ہوتی ہے۔ ہر شخص امن و امان اور سلامتی کی دعا مانگتا ہے، مگر پولیس کے محکمے سے تعلق رکھنے والا ہر کارندہ یہی کہتا ہو گا کہ پروردگار آج کوئی کسی کا سر پھاڑ دے، آج کوئی قتل ہو، آج کوئی ڈکیتی کرے یا ہمسائیوں کی ہی آپس میں لڑائی ہو جائے۔
    اگر ہر طرف امن و امان اور سلامتی رہے تو کون پوچھے تھانیدار کو اور کون گھاس ڈالے اس محکمے کو… گو کہ ہر جگہ ایسی وارداتوں کا سب سے زیادہ فائدہ پولیس ہی کو ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود راج نگر میں کسی بھی بدامنی کی اطلاع پر پولیس ناک بھوں چڑھا لیتی تھی۔ اس علاقے کے تھانیدار کی بدقسمتی کہ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی ایسی خبر ملتی کہ مجبوراً پولیس کو پہنچنا پڑتا تھا۔ چھوٹے موٹے واقعات اپنی جگہ تھے کہ اطلاع ملی کہ راجہ شہباز کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے۔ گاؤٔں کی بات تھی جنگل کی آگ کے مانند پورے علاقے میں فوری طور پر پھیل گئی۔
    ٭…٭…٭





    راج نگر یوں تو گاؤں ہی تھا، مگر اس کی آبادی اور رقبہ کسی چھوٹے شہر سے کم نہ تھا۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک حلقے کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے تمام متعلقہ امیدواروں کی توجہ کا مرکز راج نگر ہوتا تھا۔ یوں تو راج نگر کی آبادی کا بڑا حصہ راجپوت خاندان پر مشتمل تھا، مگر اس کے باوجود کم ازکم چھے سات مختلف برادریوں کے لوگ بھی اسی گاؤں کے باسی تھے۔ ساری برادریوں کے ہوتے ہوئے بھی راجپوتوں کو اکثریت حاصل تھی۔ اس لیے کسی قسم کے سماجی یا سیاسی فیصلے کرنے میں ان کے پاس جملہ حقوق محفوظ تھے اور کسی برادری کے کسی فرد کی مجال نہ تھی کہ ان کے فیصلوں پر احتجاج یا نافرمانی کرے۔ باقی لوگ تو اللہ اللہ کرکے اور مصلحت کے تحت جی حضوری کرکے وقت گزار رہے تھے مگر جب سامنے اپنا ہی خون آجاتا تو بات بڑی دور تک چلی جاتی۔ اپنوں سے محبت تو ہوتی ہے، مگر جب وہی ادشمنی پر اتر آتے ہیں تو قیامت کا سماں ہوتا ہے۔
    راجہ عامر بچپن ہی سے بہت نازک طبیعت واقع ہوا تھا۔ اسکول کے لڑکے اکثر اسے لیڈی، لیڈی کہہ کر چھیڑتے تھے۔ اسے خود بھی کبھی کبھی احساس ہوتا تھا کہ وہ جس گاؤں اور فیملی سے تعلق رکھتا ہے وہاں تو حاکم رہا جاتا ہے ، مگر وہ الگ طبیعت رکھتا تھا ۔ گاؤں میں کوئی بھی شادی بیاہ یا کسی بھی قسم کی تقریب میں شامل ہونا اسے باعثِ شرم محسوس ہوتا تھا۔ لڑائی جھگڑا کرنا تو درکنار وہ کسی ایسی جگہ جانا بھی ناپسند کرتا تھا جہاں اس قسم کی کسی بات کا اندیشہ ہو۔ اسکول سے کالج پہنچا تو مسیں بھیگی اور نوجوانی سے جوانی کا سفر طے ہوا، مگر طبیعت کی وہ شادابی برقرار رہی۔ گھر والے تو ایک طرف گاؤں والے بھی حیرت زدہ تھے کہ یہ کیسا راجپوت ہے جو ہر ایک سے مسکرا کر ملتا ہے اور گریبان بھی کھلا نہیں رکھتا۔ باقی برادریوں کے تمام افراد اس کی دل سے عزت کرتے تھے مگر اپنی برادری میں وہ کم حیثیت شمار ہوتا تھا ۔ وہ ایسا پھول تھا جو صرف دکھائی دینے کے لیے تھا، مگر پھول کانٹوں کے بغیر ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ اسی لیے اس کے ساتھ بھی ایک زہریلا کانٹا تھا، اس کا بڑا بھائی ناصر……..
    عامر شبنم تھا تو ناصر شعلہ، دونوں بھائیوں کی آپس میں گاڑھی چھنتی تھی۔ ہر کام مل جل کر کرتے، ہر راز ایک کا دوسرے کو پتا ہوتا تھا۔ کھانا پینا اور کھیلنا حتیٰ کہ سونے کا کمرا بھی کا مشترکہ تھا، مگر جب بات آتی لڑائی جھگڑے کی تو عامر بھیگی بلی اور ناصر بھیڑیا بن جاتا تھا۔ ناصر بلا کا لڑاکا تھا۔ گھر والوں کی روک ٹوک نہ ہونے کے باعث وہ ہر پھڈے میں پیش پیش ہوتا تھا۔ اس کے والد راجہ دلاور ایک سرکاری کالج کے پرنسپل تھے، گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ عیاش پرست گھرانہ تھا۔ مکان کی تعمیر کے علاوہ جو کچھ کمایا جاتا عیش و عشرت میں اڑا دیا جاتا۔ گزر بسر اچھے سے ہو رہی تھی اور کیا چاہیے تھا۔ مستقبل کی فکر اس لیے بھی نہیں تھی کہ چار پانچ سال بعد ریٹائرمنٹ کی رقم سے کاروبار کرنے کا ارادہ تھا۔ اسی لیے کسی بھی پھڈے کی صورت میں فوری طور پر ناصر کو مکھن کے بال کی مانند بچا لیا جاتا۔ زیادہ باز پرس نہ کی جاتی کیونکہ یہی ایک ہتھیار تھا جس کی بدولت وہ برادری ہر سو حاوی تھی۔ ناصر، عامر کو اکثر طنز کا نشانہ بناتا مگر عامر ٹس سے مس نہ ہوتا۔ وہ اکثر کہتا ’’دیکھ عامرے! یہ جو طاقت ہے نا یہ مرد کی شان ہوتی ہے ۔ اگر انسان اس سے محروم ہو جائے یا جان بوجھ کر اسے زنگ لگا دے تو پھر مرد اور خواجہ سرا میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔‘‘
    ’’ہوں! تو اس کو تم مردانگی کہتے ہو۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے سادہ سے انداز میں کہتا۔
    ’’اگر مظلوموں کو دبانے کو، ان کا حق چھین لینے کو اور اپنے سے کمزور لوگوں کو پیٹنے کو تم مردانگی سمجھتے ہو تو میں ایسی مردانگی پر سو بار لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘
    ’’ایک دن آئے گا جب میری بات تمہاری سمجھ میں آجائے گی ۔ جب تمہیں احساس ہوگا کہ ہر چیز تمنا اور محبت سے نہیں ملتی، کچھ حقوق ایسے ہوتے ہیں جو چھیننے پڑتے ہیں ۔ پھر تم میرے پاس آؤ گے اپنا ہیجڑا پن لے کر……
    ’’دیکھنا ایک دن تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی عامرے۔‘‘وہ میٹھی ڈانٹ پلاتے ہوئے عامر سے کہتا اور پھر ایک دن عامر کو اس کی بات سمجھ آگئی۔ وہ پریشان تھا کہ اپنی مشکل کیسے ناصر سے بیان کرے۔ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ ناصر نے اس کی حالت سے خود ہی اندازہ لگا لیا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ عامر اپنی کتب لیے بیٹھا تھا کہ ناصر اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ناصر زیر لب مسکرا رہا تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ اب اس کی خیر نہیں سب کچھ ناصر کے گوش گزار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔
    ٭…٭…٭
    نیلم، راج نگر کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ جب وہ یونیفارم میں ملبوس گاؤں کے راستوں سے اسکول پہنچتی تھی تو راہ میں گزرنے والا ہر جوان اسے دیکھ کر سانس لینا بھول جاتا تھا۔ راجپوت گھرانے کی لڑکی ہوتی تو ہر کوئی دیکھ کر نظر جھکا لیتا، مگر اس کی بدقسمتی کہ وہ ایک غریب کسان غلامو کی بیٹی تھی جو راجہ اکرام کی زمینوں پر کام کرتا تھا۔ غلامو خود تو مریل سا کالی رنگت کا تھا، مگر اس کی بیٹی لاکھوں میں ایک تھی ۔ غریب کی بیٹی تھی اس لیے ہر کوئی دیدارِ عام کا حق رکھتا تھا۔ نیلم کی ماں نے جب ایسی صورتحال کے بارے میں محسوس کیا تو اپنی بیٹی کو گاون، میں اسکول بھیجنے لگی مگر لوگوں کی نظریں پھر بھی نہ رکیں۔ غلامو کو اپنی محنت مزدوری سے فرصت نہیں ملتی تھی گھر کا خیال خاک رکھتا۔ ہاں البتہ وہ اور اس کی بیوی، نیلم کے بچپن ہی سے اس کے جہیز کے لیے پائی پائی جمع کررہے تھے۔ نیلم کی میٹرک کے بعد اس کی شادی کا ارادہ تھا۔ ابھی نیلم نویں جماعت میں ہی تھی کہ گاؤں کا بچہ بچہ اس کے خواب دیکھنے لگ گیا۔ ایک دو بار لڑکوں نے اس سے بات کرنی چاہی مگر اس نے کسی کو لفٹ نہ دی۔ گھر آکر اس نے ماں کو بتایا تو اس کی وساطت سے غلامو تک یہ خبر پہنچی۔ غریب آدمی تھا اس لیے عزت ہی سب کچھ سمجھتا تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس نے مالک سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو راجہ اکرام نے اس کی بات سن کر اسے مشورہ دیا کہ جلد از جلد بیٹی کی شادی کردے ، مگر وہ جانتا تھا کہ فی الحال وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ بیٹی کو عزت سے رخصت کرسکے۔ اس کے پاس جمع پونجی ابھی مطلوبہ ہدف سے بہت کم تھی۔ دوسرا وہ کم از کم دسویں کا امتحان پاس کروانے تک اپنی بیٹی کی شادی کا خواہش مند بھی نہیں تھا۔ اس نے راجہ صاحب کی بات سن کر سر جھکا لیا۔ گھر آکر اس نے بیوی سے مشورہ کیا اور اس بات پر دونوں راضی ہو گئے کہ اگر اچھا لڑکا مل گیا تو وہ لوگ شادی میں دیر نہیں لگائیں۔ فی الحال اللہ کے بھروسے وہ نیلم کو اسکول بھیجتے رہے۔ نیلم کے چاہنے والوں میں راجپوت خاندان کے بھی کئی لڑکے تھے مگر وہ لوگ برادری سے باہر رشتہ داری باعثِ ندامت سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر بہت سے لڑکے دل تھام کے رہ گئے مگر عابد اس کے تیرِ نگاہ کا ایسا شکار ہوا کہ اس نے سارے بندھن، ذات پات، برادری اور رسوم و رواج کے فلسفے کو پسِ پشت ڈال دیا۔
    وہ راجہ اکرام کا بھتیجا تھا اور سوائے بدمعاشی کے اسے کچھ نہیں آتا تھا۔ تین بڑے بھائی تھے جو برسرِ روزگار تھے۔ اس لیے سوائے بدمعاشی اور آوارہ گردی کے اور کچھ بھی نہیں کرتا تھا۔
    اس نے کئی دنوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث آخر کار گھر والوں کو راضی کر لیا کہ اس کا رشتہ نیلم کے لیے مانگا جائے۔ یہ الگ بات تھی کہ مانگنے کا جھنجھٹ پالا گیا تھا ورنہ سب ہی اس بات سے آگاہ تھے کہ غلامو کی یہ مجال کیسے کہ وہ انکار کر دیتا، چنانچہ اس سے بات کی گئی اور اس نے بخوشی اس بات پر رضامندی ظاہر کردی۔ یوں ایک مشکل مرحلہ عابد کے لیے طے ہوا، مگر وہ حالات کا ایک رخ تھا دوسرے رخ سے اس پر کون سے طوفان نازل ہونے والے تھے وہ اس سے بے خبر تھا۔
    ٭…٭…٭