
استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 7
تحریر:مدیحہ شاہد استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)” انقرہ کی روشنیاں باب7 صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ
![]()

تحریر:مدیحہ شاہد استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)” انقرہ کی روشنیاں باب7 صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ
![]()

عجیب بات ہے کہ مجھے آیا اچھی نہیں لگتی تھی مگر اس کی بیٹی اچھی لگنے لگی تھی۔ آمنہ۔۔۔ آمنہ فرمان ۔۔۔ آمنہ ۔۔۔عبداللہ آمنہ
![]()

وہ گونگا نہیں تھا۔ گونگے تو ہمہ وقت ”آں آں، غوں غوں ” کر کے اپنے ہاتھوں کو زور زور سے حرکت دے کر دوسرے
![]()

چھوٹی سی زندگی امایہ خان خود کو پانی کی سطح پر تیرتے دیکھ کر مجھے یقین ہو گیاکہ دنیا کی ساری عورتیں مر چکی ہیں۔
![]()

داستانِ حیات علی فاروق (داستانِ شبِ غم اور قصہ روزِ درد، اُس مظلوم مخلوق کا جسے ”طالبِ علم” کہتے ہیں……) اپنی پیدائش کے چند لمحات
![]()

پیش لفظ ایک محبت….! محبت جس نے اپنے لیے ہمیشہ عام چہروں سے لے کر ، بہت خاص چہروں کو چنا ہے۔ ہر بار محبت
![]()

ریڈروم میں روشنی کا انتظام خوشبو دار موم بتیوں کے ذریعے کیا گیا تھا۔ ایک سفید موم بتی عین آئینے کے سامنے رکھ کر اس
![]()

پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر پورا دکھ اور آدھا چاند ہجر کی شب اور ایسا چاند دن میں وحشت بہل گئی رات
![]()

گفتگو فصیح باری خان فصیح باری خان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ پاکستانی ڈرامہ کو ایک نیا رنگ اور ایک نیا مزاج
![]()

قرنطینہ ڈائری تیسرا دن: جمعرات 26 مارچ 2020 ڈیئر ڈائری! رات خواب میں مرزا غالب کو دیکھا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ ایک مشاعرہ ہے۔ قافیہ
![]()