Tag: covid

  • پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر



    پورا دکھ اور آدھا چاند
    ہجر کی شب اور ایسا چاند

    دن میں وحشت بہل گئی
    رات ہوئی اور نکلا چاند

    کس مقتل سے گزرا ہوگا
    اتنا سہما سہما چاند

    یادوں کی آباد گلی میں
    گھوم رہا ہے تنہا چاند

    میری کروٹ پر جاگ اٹھے
    نیند کا کتنا کچا چاند

    میرے منہ کو کس حیرت سے
    دیکھ رہا ہے بھولا چاند

    اتنے گھنے بادل کے پیچھے
    کتنا تنہا ہوگا چاند

    آنسو روکے نور نہائے
    دل دریا تن صحرا چاند

    اتنے روشن چہرے پر بھی
    سورج کا ہے سایا چاند

    جب پانی میں چہرہ دیکھا
    تو نے کس کو سوچا چاند

    برگد کی اک شاخ ہٹا کر
    جانے کس کو جھانکا چاند

    بادل کے ریشم جھولے میں
    بھور سمے تک سویا چاند

    رات کے شانے پر سر رکھے
    دیکھ رہا ہے سپنا چاند

    سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
    شبنم تھی یا ننھا چاند

    ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا
    اس کی صورت ہجر کا چاند

    صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
    اپنے عشق میں سچا چاند

    رات کے شاید ایک بجے ہیں
    سوتا ہوگا میرا چاند



  • قرنطینہ ڈائری ۔ تیسرا دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ تیسرا دن

    قرنطینہ ڈائری

    تیسرا دن: جمعرات 26 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری!

    رات خواب میں مرزا غالب کو دیکھا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ ایک مشاعرہ ہے۔ قافیہ ہے رات، بات اور ردیف ہے ”یاخدا“۔ مرزا غالب میرے بائیں جانب بیٹھے ہیں، ہاتھ میں پرچہ ہے جس پر غزل لکھی ہے۔ میں اشتیاق سے ان کے پرچے کو پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس پر غالب کے شایانِ شان کوئی شعر لکھا ہے۔ مرزا مجھے اپنی غزل پڑھتا پا کر ابرو اچکاتے ہیں اور گردن بڑھا کر میرے ہاتھ میں پکڑا پرچہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میری نظر اپنے کاغذ پر پڑتی ہے اور وہاں اس قسم کا ایک شعر لکھا ہے۔

              ہو گئی ہے ان سے ملاقات یا خدا

             کبھی خواب میں نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا

    یا خدا! میں گھبرا کر اپنا کاغذ غالب سے چھپانے کی کوشش کرتی ہوں اور اس گھبراہٹ میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ خدا کا شکر کہ یہ خواب تھا اور میں اس شعر کے غالب کی نظروں میں آنے کی بے عزتی سے بچ گئی۔ ویسے دیکھا جائے تو نکما ہی سہی لیکن یہ شعر میرے خواب کی صورتحال پر بڑا فِٹ بیٹھتا ہے۔ خواب میں ہو رہی ہے غالب سے ملاقات ےاخدا، کبھی خواب میں بھی نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا۔

    اخبار اٹھانے باہر نکلی تو دیکھا کہ لان میں مالی چہرے پر ماسک چڑھائے مشین سے گھاس کاٹ رہا ہے اور ہمارا پالتو بلا سمبا دروازے کے آگے بیٹھا بڑی بے نیازی سے اسے دیکھ رہا ہے۔ مجھے وہ وقت یاد آیا جب سمبا نیا نیا ہمارے گھر آیا تھا۔ میں اپنی ایک دوست سے اسے جب لے کر آئی تھی تو وہ دو مہینے کا تھا اور ایک ہتھیلی میں سما جاتا تھا۔ گھر لاتے ہی سمبا لان کی ایک جھاڑی میں جا چھپا اور ہمارے لاکھ پچکارنے بلانے پر بھی باہر نہ نکلا۔ جب ہم اسے باہر نکالنے کی کوشش میں ناکام ہو کر تھک ہار کر اندر آنے لگے تو عین اس وقت مالی اپنی مشین لے کر آگیا اور گھاس کاٹنا شروع کر دی۔ سمبا نے جو یہ ہیبت ناک آواز سنی تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ اچھل کر نکلا اور تیر کی سی تیزی سے بھاگتا ہوا گیٹ سے باہر نکل گیا۔ میں اور بچے گھبرا کر اس کے پیچھے بھاگے۔ آخر آدھے گھنٹے کی کوششوں کے بعد کہیں سمبا صاحب ہاتھ لگے اور انہیں پکڑ کر گھر لایا گیا جہاں آتے ہی وہ دوبارہ جھاڑی میں جا چھپے۔ یہ معمول تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہا تاوقتیکہ سمبا ہم سے مانوس نہ ہو گیا اور گھر کے اندر آنے جانے لگا اور ہمارے ہاتھ سے کھانا کھانے لگا۔ یوں ہم نے اور سمبا نے ایک دوسرے کو دل سے اپنا لیا۔

     کبھی کبھی میں سوچتی ہوں دنیا کی ہر کہانی محبت کی کہانی ہے۔ ہر جذبہ، ہر الفت، ہر دوستی، ہر احسان حتیٰ کہ ہر نفرت کے ڈانڈے بھی کہیں نہ کہیں کسی محبت سے جا ملتے ہیں۔ اور محبت کی دو قسمیں ہوتی ہیں، اول کسی رشتے یا غرض کی محبت اور دوم بے غرض محبت۔ سمبا ہم سے اس لیے مانوس ہے کہ ہم اس کے قیام و طعام کا بندوبست کرتے ہیں۔ لیکن ہم سمبا سے کیوں محبت کرتے ہیں، یہ آج تک سمجھ نہ آیا۔ جب میں ننھے سمبا کو گھر لے کر آئی تھی تو میرے میاں صاحب بہت ناخوش ہوئے تھے۔ انہیں بلی کے بالوں سے بچوں کو الرجی ہو جانے کا ڈر تھا اور سمبا کو لانے کی اجازت انہوں نے اس شرط پر دی تھی کہ وہ گھر کے اندر نہیں لایا جائے گا۔ یوں ہم نے سمبا کو پورچ میں ایک ٹوکری میں رکھ لیا۔ شروع شروع میں مجھے سمبا سے لاڈ پیار کرتے دیکھ کر وہ بہت جز بز ہوتے اور چوں کہ خود کبھی کوئی جانور نہ پالا تھا اس لیے میری محبت کو سمجھ نہ پاتے۔ پھر یوں ہوا کہ آہستہ آہستہ سمبا نے ان کے دل میں جگہ بنانا شروع کی۔ پہلے اس کے لیے خوبصورت سا گھر آیا، پھر اس کے لیے چن کر بہترین کیٹ فوڈ بھی وہ خود لانے لگے۔ پھر سمبا ان کے ساتھ واک پر جانے لگا جہاں وہ اس کو دوسرے بڑے بلوں سے یوں بچاتے جیسے کوئی باپ اپنے بچے کو بڑے لڑکوں سے بچاتا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ سمبا ڈرائنگ روم میں صوفے پر سوتا ہے اور ہمارے فونز میں گھر والوں سے زیادہ سمبا کی تصویریں ہیں۔ ہم سمبا پر یوں جان کیوں چھڑکتے ہیں ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔ نہ وہ گھر کی رکھوالی کرتا ہے، نہ اسے کوئی کرتب آتے ہیں اور نہ ہی وہ ہمارے ساتھ کسی قسم کا کوئی کھیل کھیلتا ہے۔ اس کا واحد کام کھانا اور سونا ہے، لیکن ہمارے دل اس کی محبت سے لبریز ہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ انسان کے دل کی سب سے بڑی ضرورت، خواہش اور غذا محبت ہے اور جب کوئی معصوم، بے غرض اور بے اختیار محبت دل میں گھر کر لیتی ہے تو انسان پر اپنے دل کی وسعت کے نئے راز افشا ہوتے ہیں اور اسے ادراک ہوتا ہے کہ اس وسیع دل کے لیے معاف کرنا، درگزر کرنا، رحم کرنا اور بلاتفریق محبت کرنا کتنا آسان ہو گیا ہے۔ تو ڈیئر ڈائری آج میں اس بے غرض محبت کے لیے شکرگزار ہوں جو اللہ نے میرے دل کو بخشی ہے اور اس دراک کے لیے شکر گزار ہوں جو میں نے اپنے دل کے بارے میں پایا ہے اور میں ان تمام راستوں کے لیے ممنون ہوں جو اس محبت نے میری روح کے لیے کھولے ہیں۔

    آج پھر موسم بہت سہانا تھا۔ سنا ہے ملتان میں خوب اولے پڑے ہیں۔ اتنے حسین موسم میں مجھ سے رہا نہ گیا اور تقریباً ایک ہفتے بعد میں واک کے لیے نکل کھڑی ہوئی۔ جاگرز پہنے، دستانے پہنے، ماسک لگایا اور اللہ کا نام لے کر گیٹ سے باہر قدم رکھا۔ ہماری کالونی gated communityہے اور یہاں صرف وہی لوگ آتے ہیں جو یہاں رہتے ہیں یا یہاں رہنے والوں کے مہمان ہیں۔ لہٰذا عام حالات میں بھی ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن آج تو یوں لگتا تھا جیسے میں سلیپنگ بیوٹی کے شہر میں آنکلی ہوں۔ اکادکا چند بزرگ حضرات ماسک لگائے چہل قدمی کر رہے تھے۔ میں تیز قدموں سے چلتی پارک تک گئی تو اس کے چھوٹے سے گیٹ کو تالا لگا پایا۔ حسرت سے پارک میں لگے پھولوں کو دیکھا اور سڑک پرواک کے ارادے سے چل پڑی۔ سڑک صاف اور خالی تھی۔ ہوا خوشگوار تھی اور خاموشی میں فطرت کا ساز بجتا تھا۔ یہ وہ ساز ہے جو انسانوں کی آوازوں کے ہوتے سننے میں نہیں آتا۔ ہوا کے چلنے کی موہوم سی آواز، ہوا سے پتوں کا یوں ہلنا گویا اپنی خوشی میں سرمست تالیاں بجاتے ہوں اور چڑیوں کا چہچہانا۔ ایسی ایسی رنگ برنگی اور خوبصورت چڑیاں نظر آئیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ ایسی ایسی چہکاریں سننے کو ملیں جن سے کان ناآشنا تھے۔ دیواروں پر چڑھی بیلیں پھولوں سے لدی تھیں۔ ایک مکان کے باہر دیوار کے ساتھ گلاب کے پھولوں کی جھاڑیاں تھیں۔ ہر جھاڑی کے پھولوں کا رنگ جدا تھا۔ میں رک کر ان پھولوں کو دیکھتی رہی۔ سات رنگوں کے پھول میں نے گنے اور ان پر اڑتی تتلیوں کو نہ گن سکی۔ ایک دوسرے گھر کے باہر اس قدر خوبصورت اور انوکھے پھول نظر آئے جو پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ دل چاہا ماسک اتار کر ان کی خوشبو سونگھوں لیکن پھر ارادہ بدل دیا۔ ذرا یہ کرونا کا ڈبہ گول ہو جائے پھر ہم ہوں گے اور پھول ہوں گے۔ جی بھر کر سونگھنے کا شوق پورا کریں گے۔ ایک گھر کے باہر سے گزری جہاں پورچ میں ڈھیر سارے بچے فٹ بال کھیل رہے تھے ۔بند گیٹ کے پیچھے سے بچوں کی چہکار اور ہنسی کی آوازیں سن کر دل خوش ہو گیا۔ ایک اور گھر میں ایک باپ اپنے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا۔ ننھی بٹیا رو رو کر فرما رہی تھیں کہ بھائی کو باﺅلنگ نہیں کرائیں گی کیوں کہ وہ بیٹ سے بال کو مارے گا اور بال روئے گی۔ ان کے ابا انہیں سمجھا رہے تھے لیکن وہ ضد پر اڑی تھیں۔ تھوڑا آگے گئی تو ایک گھر کے بند گیٹ پر ایک بلبل بیٹھی تھی اور خوشی کے گیت الاپتی تھی۔ اس سے ذرا دور ایک لمبی سی سبز دم والی چڑیا بلبل کے گیتوں کا جواب اپنی میٹھی بولی میں دیتی تھی۔

    کسی زمانے میں انگریزی شاعری میں sensous poetry کی اصطلاح بہت مقبول تھی۔ یعنی وہ شاعری جو پڑھنے والے کی senses یعنی حسیات پر اثرانداز ہو۔ اسے لگے کہ وہ جو پڑھ رہا ہے، اسے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، چھو رہا ہے۔ واک کرتے ہوئے مجھے یوں لگتا تھا کہ میں فطرت کی sensousشاعری پڑھ رہی ہوں۔ لذت کام و دہن کا لفظ تو سنا تھا، آج لذتِ حسیات کا احساس ہوا۔ میری آنکھوں نے شوخ رنگوں کے حسین پھولے دیکھے ، میری سماعت نے بچوں کی ہنسی اور چڑیوں کی چہکار سنی اورمیرے چہرے نے لطیف ہوا کے جھونکے محسوس کیے۔ میں فطرت کی اس شاعری میں یوں کھوئی کہ سچ مچ کھو گئی۔ جی ہاں کھو گئی، گم ہو گئی، راستہ بھٹک گئی اور نہ جانے کہاں کی کہاں جا نکلی۔ چلتی جاتی تھی اور اجنبی مکان اور گردوپیش دیکھتی جاتی تھی اور سوچتی تھی کہ ”یہ کہاں آگئے ہم یونہی ساتھ ساتھ چلتے؟“ ویسے گم جانے میں مجھے یدطولیٰ حاصل ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بغیر گمے میں کسی نئے ایڈریس پر جا پہنچوں۔ بقول میری دوستوں کے ”سارہ تو ٹہلتے ٹہلتے ہی مینارِ پاکستان جا پہنچتی ہے۔“ لیکن یہ تو اپنی ہی سوسائٹی ہے، یہاں گم جانا چہ معنی دارد؟ چھوٹی سی سوسائٹی ہے اور اسکے تقریب©ا© تمام رستے میرے دیکھے بھالے ہیں۔ بےشک میں نئے رستوں پر گم جاتی ہوں لیکن اپنے گھر کے رستوں پر گم جاو¾ں گی ےہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔کبھی خواب میں نہ سوچی تھی یہ بات یا خدا۔ سوسائٹی کا ایک ہی گیٹ ہے جس پر ناکہ لگا ہے۔ اس لیے یہ تسلی تو تھی کہ وہ گیٹ پار نہیں کیا۔ یعنی ہوں میں سوسائٹی کے اندر ہی۔ لیکن کہاں؟ کس جگہ؟ چلتے چلتے ٹانگیں شل ہو گئیں اور پاﺅں دکھنے لگے۔ میں اندازے سے بڑی سڑک پر نکلی۔ دور سے ایک سڑک نظر آرہی تھی جو بالکل پہچان میں نہ آتی تھی۔ میں اس سڑک کی طرف چلی اور اچانک مین بلیوارڈ پر جا نکلی۔ دیکھا تو وہ دور سے نظر آتی سڑک میرے ہی گھر کی سڑک تھی۔ کونے پر ڈولی آنٹی کا گھر اپنے سولر پینلز کے ساتھ کھڑا تھا اور اس سے ذرا آگے میرا گھر اپنی مہربانی چھت لیے ایستادہ تھا۔ جیسے مسکرا کر مجھے دیکھ رہا ہو اور کہتا ہو۔ ”میں تو یہیں تھا، تم کہاں رہ گئی تھیں؟“

    اے میرے رب! ہم دنیا کی لذتوں میں کھو جاتے ہیں، رستہ بھٹک جاتے ہیں، تیری طرف آنے والی راہ گم کر بیٹھتے ہیں۔ لیکن کہیں بھی جا نکلیں، رہتے تیری بادشاہت ہی میں ہیں۔ تیری عملداری سے نکلنے کی قدرت ہم میں کہاں؟ اور یونہی بھٹکتے بھٹکتے اچانک تیری عظمت، تیرے جلال اور تیری کبریائی کا احساس مجسم ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس تیرے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہوتی۔ ہم نالائق ہیں، گناہگار ہیں، بے وقوف ہیں لیکن تیرے پاس لوٹتے ہیں۔

              چنگی ہاں یا مندی ہاں

              صاحب تیری بندی ہاں

    اپنے شرمسار بندوں کو اپنی رحمت کے سائے سے محروم نہ کر، اس وبا کو ہم پر سے ٹال دے۔ اے رحم کرنے والے، اے لطف و کرم کرنے والے، اے معاف کرنے والے ، ہمیں اپنی مہربان پناہ میں لے لے۔ آمین یا رب العالمین۔

    سارہ قیوم

  • قرنطینہ ڈائری ۔ دوسرا دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ دوسرا دن

    قرنطینہ ڈائری

    دوسرا دن: 25 مارچ 2020

    ڈیئر ڈائری،

    زباں پہ بارِ خدا یہ کس کا نام آیا یاد ہے کل مونگروں کے ساتھ میں نے کسی سبزی کا نام لیا تھا اور جنت کی سبزی کہہ کر یاد کیا تھا؟ میتھی کا ۔ تو آج، اللہ خوش رکھے ساتھ والی آنٹی کو، ہری بھری تازہ میتھی ایک ہرے بھر ے برکت والے باغ سے ہمارے گھر وارد ہوئی۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، زندگی کی یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں، معصوم خواہشیں، بے ضرر دعاﺅں کی قبولیت ہی ہے جو زندگی کو جینے کے قابل بناتی ہے۔ یہ نہ ہو تو بڑی بڑی خوشیوں کے انتظارمیں انسان جینا بھول جائے۔ 

    کل ماسی کی چھٹی کر دی گئی تھی۔ آج سے گھر کا کام ہے اور ہم ہیں دوستو۔ ڈیڑھ سال پہلے جب مجھ پر شیاٹکا نے حملہ کیا تو میں اپنی ٹوٹی کمر لیے پورے تین مہینے بستر سے بندھ کر رہ گئی۔ نہ کروٹ بدل سکتی تھی، نہ اٹھ کر بیٹھ سکتی تھی۔ تین لوگ اٹھا کر واش روم لے جاتے تھے۔ کھانا بھی لیٹے لیٹے، نماز بھی لیٹے لیٹے اور علاج بھی لیٹے لیٹے۔ آسمان کو دیکھنا خواب ہو گیا، ہوا کے جھونکے چہرے پر کیسے لگتے تھے بھول گئی، بیٹھ کر پانی پینے کو ترس گئی۔ تب میں سوچا کرتی تھی صبح آنکھ کھلنے پر اٹھ بیٹھنا، اپنے پیروں پر چل کر دن کا آغاز کرنا دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور جب یہ نعمت مجھے میسر تھی، میں نے کبھی اس پر غور ہی نہ کیا۔ کیوں نہ کیا؟ بس اسے ایک معمول کی بات سمجھتی رہی۔ پھر اللہ نے مجھ پر کرم کیا اور مجھے شفا بخشی۔ تب سے ہر نیا دن ایک نعمتِ عظیم ہے۔ صبح اٹھنا، اپنے پیروں پر کھڑے ہونا اور ایک دن کا صحت کے ساتھ آغاز کرنا ایک عبادت ہے اور ہر عبادت کی طرح اس عبادت کے لیے بھی ایک وضو ضروری ہے۔ ہر دن کے آغاز پر میری روح شکرگزاری کا وضو کرتی ہے۔ ہر صبح کے طلوع ہونے پر میں کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچتی ہوں جو عام ہونے کے باوجود خاص الخاص ہے، نعمت عظیم ہے، خدا کا حسین تحفہ ہے۔ تو آج ڈیئر ڈائری میں آسائش کے بعد آنے والی مشکل کے لیے شکرگزار ہوں۔ ملازم کا ہونا آسائش تھی، نہ ہونا مشکل۔ اس مشکل میں کام کا بوجھ ہے اور تھکن بھی۔ لیکن اس کے ساتھ اس میں مصروفیت ہے اور اپنے بچوں کے کام کرنے کی طمانیت اور سکون کی نیند۔ یہ وہ مشکل ہے جو مجھے میری اوقات میں رکھتی ہے۔ کل بیٹھ کر حکم چلاتی تھی، آج کام میں جتی ہوں۔ نہ کل میری بڑائی تھی، نہ آج میری تحقیر۔ کل گزر گیا، آج بھی گزر جائے گا اور اس مشکل کے بعد جو آسائش آئے گی اس کی قدرومنزلت میرے دل میں کئی گنا بڑھ کر ہو گی۔ اور اس آسائش کے لیے اور اس ادراک کے لیے اے زندگی، میں ابھی سے شکرگزار ہوں۔

    لاک ڈاﺅن میں زندگی کو جامد ہونے سے بچانے کے لیے میں نے ارادہ کیا ہے کہ ہر روز ایک نئی چیز سیکھوں گی۔ اس ہفتے دو کتابیں ہاتھ لگی تھیں۔ پہلی کتاب اردو کی تھی اور کسی خاتون کی لکھی ہوئی تھی جس میں انہوں نے ایک ایسے گلوکار کی کہانی بیان کی تھی جو دین کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ مذہب کی طرف مائل ہونے سے پہلے وہ اچھا بیٹا، بہترین شوہر اور شفیق باپ ہوتا ہے اور جونہی اس کی دینی غیرت جاگتی ہے وہ ایک عجیب و غریب قسم کی چیز بن جاتا ہے۔ بیوی سے لڑنے لگتا ہے، لوگوں پر حد جاری ہونے کے فتوے دینے لگتا ہے، دادا سے بدتمیزی کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ ننھی بیٹی کے سامنے ذراسے اختلاف پربیوی کو مار مارکر حلیہ بگاڑ دیتا ہے۔