Tag: Ary digital

  • فیصلے — نازیہ خان

    فیصلے — نازیہ خان

    ہر انسان اس زندگی میں اپنے حصے کی خوشیاں اور غم لے کر آتا ہے۔ وہ چاہے کوئی کتنا ہی خوش نصیب کیوں نہ ہو، اُس کے حصے کا دکھ اور درد اُسے ہی سہنا پڑتا ہے۔ بس اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کا ظرف آزمانا ہوتا ہے۔ بے پناہ محبتوں کے ہوتے ہوئے بھی وہ بتاتا ہے کہ اُس کی محبت سچی ہے اور اسی کے فیصلے اٹل ہیں۔
    دنیا والوں کا ظرف نہیں، مگر وہ بڑے سے بڑا گناہ بھی معاف کرنے والا ہے۔ میں نے اس دُنیا کی بے تحاشا محبتوں کے بعد آخر اپنے رب کی محبت پا ہی لی۔
    میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئی جہاں کئی سالوں بعد ہزاروں منتوں اور دعاؤں کے بعد بیٹی پیدا ہوئی۔ میرے بابا جان کے تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ یہ ایک ایسا گھرانہ تھا جہاں عورتوں پر پردے کا بڑا سخت حکم تھا اور بات بات پر اُن پر پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔
    یہ اُس دور کی بات ہے جب میرے دادا جان زندہ اور پورے گاؤں میں ایک وہی پڑھے لکھے شخص تھے۔ اس لیے سب لوگ اُن کی عزت کرتے اور اُن کی ہر بات مانی جاتی تھی۔ اُن کا بہت رعب اور دبدبہ تھا۔ وہ غریبوں کی مدد کرنے والے انسان تھے، مگر عورتوں کے معاملے میں بہت سخت تھے۔ کوئی بھی عورت اپنی حدود سے تجاوز کرتی تو اُس کی شادی کسی لولے لنگڑے سے کروا دی جاتی، اب چاہے وہ عورت گھر کی ہو یا باہر کی۔
    عورتوں کے معاملے میں وہ کچھ زیادہ ہی سخت مزاج تھے۔ انہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو پڑھایا، مگر پھوپھو کو اسکول تک نہیں بھیجا۔
    اُن کی یہ سختیاں شاید اللہ پاک کو پسند نہیں آئیں کہ اُن کی وفات کے بعد بھی اِس خاندان میں کوئی بیٹی ہی پیدا نہیں ہورہی تھی۔ دادی جان بہت چاہتی تھیں کہ اُن کے کسی ایک بیٹے کے گھر بیٹی پیدا ہو۔ میرے بابا جان اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ میرے بڑے تایا جان کے چار بیٹے اور چھوٹے دونوں تاؤں کے تین تین بیٹے تھے، مگر بیٹی کوئی نہ تھی۔ جب پھوپھو کی شادی ہوئی تو دادی جان نے بیٹی کے لیے بہت دعائیں کیں، مگر اُن کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا۔ پھر میرے بابا جان کی شادی کے بعد سب لوگ بیٹی کے لیے منتیں مانگنے لگے۔ بہت سی منتوں اور دعاؤں سے دو بھائیوں کے بعد خاندان میں پہلی بیٹی پیدا ہوئی اور وہ میں تھی۔
    سب بتاتے ہیں کہ میری پیدائش پر مٹھائیاں بانٹی گئیں اور گاؤں کے قرب وجوار کے سب درباروں میں منتیں اتاری گئیں۔




    میری وجہ سے گھر میں بابا جان اور اماں جان کو بھی زیادہ پیار اور عزت ملنے لگی۔ میں اپنے گھر میں سب سے لاڈلی تھی۔ نہ صرف اپنے گھر والوں میں بلکہ پورے خاندان میں۔ پورے گاؤں میں جہاں جہاں تک لوگ ہمارے گھر والوں کو جانتے تھے، سب مجھے بہت محبت دیتے۔ جو محبت اور پیار میں نے اس دُنیا میں دیکھا، وہ شاید ہی کسی اور لڑکی نے دیکھا ہو۔مجھے کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا کہ میں کسی بہت قدامت پرست خاندان میں پیدا ہوئی ہوں جہاں عورتوں کے معاملے میں اتنی سختی ہے۔ میں گھر کی باقی عورتوں کے ساتھ ساتھ گاؤں کی عورتوں کو بھی بابا جان اور تایا جان سے ڈرتے دیکھتی تو بہت حیران ہوتی۔
    میری پھوپھو کے ایک بیٹے کی پیدائش کے بعد اُن کا خاوند انہیں چھوڑ کر بیرون ملک چلا گیا اور پھر نہ پھوپھو کو اُس کی اطلاع ملی اور نہ ہی اُس کے گھر والوں کو۔ اُس کے چلے جانے کے کچھ مہینوں بعد بابا اور تایا جان پھوپھو کو گھر لے آئے۔ اب وہ بھی ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں کیوں کہ پھوپھو نے اپنا وہ دور دیکھا تھا جب اُن پر پابندیاں لگائی جاتی تھیں۔ اس لیے مجھے اتنی آزادی ملنے پر وہ کافی جلتی تھیں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ مجھے پیار نہیں کرتی تھیں۔ وہ بھی مجھ سے محبت کرتی تھیں مگر اکثر مجھے گھر کے اصول اور طور طریقے سمجھانے بیٹھ جاتیں مگر مجھے کبھی اُن کی کوئی بات سمجھ نہ آتی۔ میں اُن سے دور دور رہتی تھی۔ ہمارے گھرانے میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانے پر بھی پابندی تھی مگر مجھے شہر کے سب سے بڑے اسکول میں بھیجا گیا۔ میں ڈرائیور کے ساتھ جاتی اور ڈرائیور کے ساتھ ہی آتی، پھوپھو اس بات پر بھی حیران ہوتیں۔ میری ہر بات مانی جاتی۔ اگر کسی بات سے انکار ہو جاتا، تو میں دادی جان کی طرف دوڑی چلی جاتی اور وہ ہر بات منوانے میں میرا ساتھ دیتیں۔
    میری زندگی گھر کے لڑکوں سے بھی منفرد تھی۔ وہ لوگ بھی مجھ سے جلتے تھے کیوں کہ جو چیز وہ لوگ ضد کرکے منگواتے، وہ چیز اُن سے پہلے میرے لیے خریدی جاتی۔ چوں کہ ہم سب ایک ہی حویلی میں رہتے تھے تو لڑکوں کو بھی اِن سب باتوں کی عادت ہوگئی تھی۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی، میری آسائشیں اور بھی زیادہ ہوتی گئیں۔ میرا کمرا سب سے خوب صورت، بڑا اور شان دار چیزوں سے مزین تھا۔ بچپن میں میرے بھائی اور کزن چھپ چھپ کر میری گیمز کھیلا کرتے اور میں بڑے غرور اور شوخی سے ان میں اپنی گیمز بانٹا کرتی۔ مجھے بچپن ہی سے ایسا لگنے لگا تھاکہ شاید میں واقعی کچھ الگ ہوں۔ میرے گھر والوں کی بے انتہا محبت پر مجھے بہت مان تھا۔ میں بھی ان سے بہت محبت کرتی تھی، مگر میں آزاد ہواؤں میں اُڑنے لگی تھی۔ میں عمر میں تو بڑی ہورہی تھی مگر سمجھ داری میں نہیں۔ بہت معصوم لیکن مغرور سی لڑکی تھی میں۔
    اتنی زیادہ محبت اور لاڈ پیار ملنے کے باوجود میری زندگی کے ہر فیصلے کا اختیار بابا اور تایا جان کے ہاتھ میں ہی تھا، مگر میں نے اس بات کو کبھی محسوس ہی نہیں کیا۔ یہاں تک کہ مجھے آگے کیا پڑھنا ہے، کس کالج میں جانا ہے، حتیٰ کہ کیا پہننا ہے، یہ فیصلے بھی وہ لوگ خود کرتے۔ اُن کا ہر فیصلہ میری خوشی میں ہوتا تھا، اس لیے مجھے لگتا شاید یہ لوگ وہی کرتے ہیں جو میں چاہتی ہوں۔
    اسکول کے بعد میں ایک بہت اچھے کالج جانا چاہتی تھی اور بابا جان نے میرے نمبرز کم ہونے کے باوجود بھی مجھے اُسی کالج میں بھیجا، مگر میری رائے پوچھے بغیر۔ وہ لاہور کا سب سے اچھا گرلز کالج تھا۔
    ہر ہفتے ہاسٹل گاڑی بھیجی جاتی کہ میں گھر والوں سے ملنے جاؤں کیوں کہ وہ میرے بغیر بہت اُداس ہو جاتے۔ میں جب بھی گھر جاتی تو عید کا سا سماں ہوتا۔ کالج بھیجنے کے لیے بابا اور تایا جان نے میری خاطر بہت بڑا دل کیا تھا۔ جب کالج جانے کے لیے پہلی بار بابا جان کے ساتھ میں شہر آنے والی تھی تو اماں جان نے مجھے آواز دے کر بلایا اور ہاتھ پکڑ کر چپکے سے کچن میں لے گئیں کیوں کہ وہاں کوئی نہیں تھا ۔ کچن میں آکر انہوں نے سرگوشی کے انداز میں مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہا:
    ’’سنو ماہا! تم اتنے بڑے کالج جارہی ہو، وہاں دھیان سے رہنا، کچھ غلط نہیں ہونا چاہیے۔ تم نے اپنے بابا اور تایا جان کی محبت دیکھتی ہے بیٹا، مگر ان کی نفرت کبھی نہ دیکھنا۔کچھ ایسا مت کرنا جو تمہارے بابا جان کی عزت میں کمی کا باعث بنے۔‘‘
    اماں جان نے آہستہ سے ڈرتے ہوئے یہ سب بولا۔ میں کچھ دیر حیرانی سے انہیں دیکھتی رہی اور پھر ہنستے ہوئے باہر آگئی۔ دراصل مجھے اُن کی بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ کہنا کیا چاہتی ہیں۔ میں بابا جان کے ساتھ ہاسٹل آگئی۔ کالج کے دو سال بہت اچھے گزرے۔ گھر سے دور رہنے کے باوجود میں نے بہت انجوائے کیا۔ نئے نئے دوست بنانا اور اُن کے ساتھ باہر جانا، گھومنا پھرنا۔ غرض یہ کہ زندگی بہت خوب صورت تھی۔ جن لڑکیوں کے ساتھ میری دوستی تھی، وہ بھی اچھے گھروں کی تھیں، مگر وہ پھربھی مجھے دیکھ کر رشک کرتیں۔
    کالج بند ہونے کے چار مہینے بعد میں واپس گھر چلی گئی۔ ہاسٹل رہتے ہوئے مجھے اپنی شاپنگ خود کرنے کی عادت ہوگئی تھی۔ گھر واپس جاکر میں نے اماں جان سے شاپنگ پر جانے کے لیے کہا تو وہ حیران رہ گئیں۔ انہوں نے قدرے غصے سے کہا:
    ’’تمہیں جو بھی منگوانا ہے لکھ دو، میں منگوا دوں گی۔‘‘
    یہ سن کر میں نے غصہ کیا تو دادی جان نے مجھے ڈرائیور کے ساتھ شاپنگ پر بھیج دیا۔ جب میں گھر واپس آئی تو بابا جان غصے سے برآمدے میں ہی ٹہل رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ آگے آئے اور قدرے سخت لہجے میں کہا:
    ’’ہمارے گھر کی لڑکیاں ایسے بازاروں میں نہیں جاتیں۔‘‘ ان کی اس بات پر دادی جان نے میری طرف داری کی اور میں آرام سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    مجھے کبھی گھر کے اصولوں کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ بابا اور تایا جان اب بھی دادا جان کی طرح بھاگی ہوئی عورتوں کو سزا سنایا کرتے تھے اور ان کی شادیاں لولے لنگڑے مردوں سے کروا دی جاتی تھیں، اس سے بھی مجھے کوئی سروکار نہیں تھا کیوں کہ میں خود کو سب سے الگ سمجھتی تھی۔ میرے اندر ابھی بھی بچپنا اور معصومیت تھی۔
    کچھ مہینوں بعد میری کالج کی ایک دوست کی کال آئی ۔ اس نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی میں داخلہ لے رہی ہے۔ میں نے بابا جان سے یونی ورسٹی کی بات کی تو انہوں نے پیار سے ٹال دیا اور پھر تایا جان سے کہا تو انہوں نے صاف انکار کردیا۔ چوں کہ یونی ورسٹی میں لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پڑھتے ہیں اس لیے وہ مجھے یونی ورسٹی نہیں بھیجیں گے۔ ان کا انکار سن کر مجھے حیرانی ضرور ہوئی لیکن میں پریشان نہ ہوئی۔ مجھے پتا تھا بابا جان میری بات ضرور مانیں گے۔ کچھ دن بعد میری اُسی دوست کی کال آئی اور اُس نے داخلے کی آخری تاریخ بتائی۔ اس پر میں غصے سے دادی کے پاس گئی اور بناوٹی ناراضی سے ان سے کہا:
    ’’کوئی میری بات کیوں نہیں سُن رہا؟ میرا ایڈمیشن کروائیں، مجھے آگے پڑھنا ہے۔‘‘ دادی جان نے بابا جان سے بات کی تو انہوں نے کہا:
    ’’اماں! وہ تو بچی ہے، آپ کیوں بچی بن رہی ہیں۔ اب کیا ہم اُسے لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دیں گے؟ ایسا بالکل نہیں ہوسکتا۔‘‘




  • کارآمد — عریشہ سہیل

    کارآمد — عریشہ سہیل

    میں بچپن ہی سے چوہوں سے شدید خوف زدہ رہتی تھی۔ کبھی کبھار گھر میں کوئی چوہا گھس آتا، تو میں اسے دیکھتے ہی کسی اونچی جگہ پر چڑھ جاتی اور چیخ چیخ کر سارا گھر سر پر اُٹھا لیتی۔ میری چیخیں سن کر چوہا بھاگ جاتا اور گھر والے مجھے اگلے آدھے گھنٹے تک نیچے اترنے کے لیے قائل کرتے رہتے۔ دراصل یہ ڈر مجھے وراثت میں اپنی اماں سے ملا تھا۔ ویسے تو میرے ددھیال کی بھی تمام خواتین اس ’’بلا‘‘ سے ڈرتی تھیں، مگر چوہے سے خوف کھانے میں میری اماں کا کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔ انہیں خوف زدہ دیکھ کر تو اچھے اچھے دل پکڑ لیتے کہ نہ جانے کیا ناگہانی آفت آگئی ہے۔
    ایک بار یوں ہوا کہ امی باورچی خانے میں برتن دھو رہی تھیں۔ پانی کے شور میں انہیں میری چیخیں سنائی نہ دیں اور پھر جیسے ہی انہیں آواز گئی، وہ معاملے کی نزاکت جانے بغیر بلا خوف و خطر چمٹا اٹھائے لائونج میں چلی آئیں۔ میں جو پہلے ہی صوفے پر کھڑی چیخ رہی تھی، امی کو دیکھ کر مزید چیخنے لگی۔ اس سے قبل کہ وہ مجھ پر برستیں، ان کی نظربھاگتے دوڑتے ڈرائونی شکل والے موٹے سے چوہے پر پڑی۔ بس اسے دیکھتے ہی امی ایک ہی چھلانگ میں صوفے پر آدھمکیں۔ان کے ہاتھ سے چمٹا چھوٹ کر ہوا میں لہراتا ہوا اس بدشکل چوہے کے عین سر پر گرا اور خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔ ہمیں حادثاتی طور پر نشانہ ٹھیک لگنے سے بھی خوشی نہ ہوئی بلکہ ہم دونوں کتنی ہی دیر اس کی لاش کو دیکھ کر سہمی اور ایک دوسرے سے لپٹی رہیں۔ یہاں تک کہ اس روز ابو جی کو دروازہ چابی سے کھول کر اندر آنا پڑا کیوں کہ میں یا امی اس زمین پر کیسے قدم رکھ سکتی تھیں جس پر چوہے کا سایہ بھی پڑ جائے۔
    میں نے گھر والوں سے سنا تھا کہ چوہے گھروں میں گھس کر راشن کھا جاتے اور ہر چیز کتر دیتے ہیں۔ یہ سُن کر مجھے ان چور نما چوہوں سے خوف کے ساتھ ساتھ نفرت بھی محسوس ہونے لگی جو انتہائی دیدہ دلیری سے کسی کے بھی گھر گھس کر نقب زنی کرتے ہیں۔اس کے بعد مجھے چوہوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ کر ایک عجیب سی تسکین ہونے لگی۔ میں اپنے ہاتھوں سے آٹے کی گولیوں میں زہر ملا کر گھر کے ہر کونے میں ان کے لیے رکھ دیتی۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے کہ چوہوں کے آباء واجداد کا تعلق یقینا امریکا یا برطانیہ سے ہو گا۔ اسی لیے کسی کے بھی گھر پر بڑی مہارت سے قبضہ جما لیتے ہیں۔ کسی گھر میں کس طرح نقب لگائی جاتی ہے اس کی تربیت یقینا امریکی فوج نے ہی انہیں دی ہو گی۔
    بڑے ہوتے ہوتے میرا خوف اس وقت حیرت میں بدلنے لگا جب میں نے لوگوں کو چوہے کے ذریعے کام کرتے دیکھا۔ بچے، نوجوان، بوڑھے اور یہاں تک کہ لڑکیاں بھی چوہوں کی مدد سے کام کرتی نظر آتی تھیں۔انہیں دیکھ کر میرے چہرے کے زاویے از خود ہی بگڑنا شروع ہو جاتے۔ گھروں میں تو پھر بھی چوہوں کا استعمال زیادہ نہیں تھا، مگر دفاتر میں چوہوں کے بغیر کام کرنا اپنی توہین سمجھی جانے لگی۔ مگر پھر جلد ہی طالب علموں کے سبب گھروں میں بھی چوہے استعمال کیے جانے لگے۔ گویا ہوم ورک کرنے کے لیے چوہے لازمی جز بن گئے۔ ہائے ری قسمت! دنیا اتنی ترقی کرنے لگی کہ چوہے دھیرے دھیرے سب کی ضرورت بن گئے۔ اب میرے لیے اس ضرورت سے آنکھیں چرانا ناگزیر ہوتا جا رہا تھا۔
    اپنی تمام تر توانائی جمع کر کے ایک روز میں نے بھی چوہا استعمال کرنے کی ٹھانی۔ خوف کے مارے میرا بدن کانپ رہا اور ہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑ رہے تھے۔ قریب کھڑے میرے بھائی مجھے چوہے کا استعمال سمجھا رہے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے لرزتا ہاتھ کالے مینڈک جیسے چوہے کی پشت پر رکھا اور اس کی ایک آنکھ کو دھیرے سے دبایا۔ احتجاجاً چوہے نے صدا بلند کی اور میں نے گِھن کھاتے ہوئے آنکھیں میچ لیں، مگر پھربھائی کے حوصلہ دینے پر میں نے آنکھیں کھولیں اور چوہے کا باقاعدہ استعمال سیکھا۔دھیرے دھیرے میرے اندر سے خوف جاتا رہا اور مجھے چوہے کو دیکھنے اور چھونے کی عادت ہو گئی بلکہ اُسے ہاتھ میں پکڑنا اچھا لگتا۔ کچھ ہی عرصے میں، میں چوہوں کی صلاحیتوں کی دل سے قائل ہو گئی۔
    رفتہ رفتہ انسان ان کارآمد چوہوں کے عادی ہوتے چلے گئے اور ان کے بغیر زندگی گزارنا مشکل لگنے لگا۔ بھلا ہو ان سائنس دانوں کا جو سوتے جاگتے نت نئی ایجادات کرتے رہتے ہیں۔چند ہی سالوں میں ان کار آمد چوہوں کو قید کرنے کی منظم سازش کی گئی اور سائنس دان اپنی اس سازش میں کام یاب بھی ہو گئے۔ انسان اندھا دھند چوہوں کے رقیب خریدنے لگے، مگر میرا دل چوہے کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا۔ کچھ ہی عرصے میں یہ چوہے قصۂ پارینہ بن گئے۔ لوگ یہ بھی بھول گئے کہ کس طرح ان چوہوں نے ہمارا ساتھ دیا اور رات دن کا فرق بھلا کر ہمارے کام آسان کیے تھے۔ اب ان چوہوں کی آخری آرام گاہ اسٹور روم میں قید یا کچرے کا ڈھیر تھی۔
    بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے میں بھی نئی ایجادات سے محظوظ ہونے لگی۔ میرا لاڈلا چوہا ڈبے میں قید گھر کے ایک کونے میں پڑا میری راہ تکتارہتا، مگر مجھے کبھی اس معصوم کا خیال تک نہ آیا۔ کچھ عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ یہ نئی ایجادات اتنی سہولت فراہم نہیں کرتیں جتنا کہ چوہے کیا کرتے تھے۔ یہ احساس ہوتے ہی میں نے بھائی سے اپنے لاڈلے کی واپسی کا مطالبہ کیا، جو کافی عرصے سے اسٹور روم میں قیدتھا، تو جب بھائی نے مجھے یہ اطلاع دی کہ میرا لاڈلا چوہا اسٹور روم میں پڑے پڑے اس جہانِ فانی سے کُوچ کر گیا ہے۔ اِک پل میں میرا دل ٹوٹ کر چکنا چور ہوگیا۔ ایک اور چوہے کی کارستانی کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی تھی۔دوسرے چوہے نے اس کی دم کتر دی تھی اور پیٹ کی انتڑیاں بھی نظر آرہی تھیں۔ اس نے وہیں تڑپ تڑپ کر جان دے دی اور مجھے خبرتک نہ ہوئی۔ بس یہی احساس ِ ندامت مجھے جینے نہیں دے رہا تھا۔ہر وقت مجھے اپنے لاڈلے کی یاد ستاتی رہتی۔ ہر چیز سے دل اُچاٹ ہو گیا ۔بھائی نے لاکھ سمجھایا، مگر مجھ پر اثر نہ ہوا۔ اتنے سالوں کی رفاقت بھلانا میرے لیے آسان نہیں تھا۔پھر ایک دن بھائی میرے لیے ایک نیا چوہا لے آئے۔اسے دیکھ کر میرا غم غلط ہو گیا۔ وہ رنگ روپ میں میرے لاڈلے سے مشابہ تھا۔ میں نے پیار سے اسے سینے سے لگا لیا اور عہد کیا کہ اب کبھی اسے نظر انداز نہیں کروں گی۔
    میں نے اپنی پچیس سالہ زندگی میں یہی جانا ہے کہ جو آرام ’’مائوس‘‘ کے ساتھ کام کرنے میں ہے، وہ لیپ ٹاپ یا اینڈرائیڈ فون سے کام کرنے میں نہیں ہے۔ لہٰذا میں اب اپنے چوہے کو لیپ ٹاپ کے ساتھ کنیکٹ کر کے سہولت سے کام کرتی ہوں اور آج بھی اس بات کی دل سے قائل ہوں کہ چوہے واقعی کارآمد ہوتے ہیں۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱۰ (یا مجیب السائلین)

    آبِ حیات — قسط نمبر ۱۰ (یا مجیب السائلین)

    ’’نہیں کوئی ایسی بات نہیں ہے… فلو کی وجہ سے ہی گیا تھا دوبارہ… بس گپ شپ کرتے ہوئے فون ٹیبل پر رکھا اور پھر اٹھانا یاد ہی نہیں رہا۔‘‘
    سالار نے اس رات فون پر امامہ سے بات کرتے ہوئے کہا۔ وہ مطمئن ہوگئی۔
    ’’اور فلو…؟ اس کا کیا ہوا؟‘‘
    ’’بس چل رہا ہے۔‘‘
    ’’ٹیسٹوں کی رپورٹس آگئیں؟‘‘
    ’’ہاں سب ٹھیک ہے بس وائرل انفیکشن ہے، اس نے کچھ میڈیسنز دی ہیں، ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
    ’’میں تو پریشان ہی ہوگئی تھی… میں نے سوچا پتا نہیں کیا مسئلہ ہے۔ کیوں دوبارہ اسپتال میں فرقان کے ساتھ بیٹھے ہو۔‘‘
    وہ خاموشی سے اس کی گفتگو سنتا رہا۔ فرقان نے ٹھیک مشورہ دیا تھا۔ اسے بھی امامہ کو کچھ بھی نہیں بتانا چاہیے تھا، لیکن اس کے لہجے میں جھلکنے والے اطمینان نے اسے عجیب طریقے سے گھائل کیا تھا… وہ اسے دھوکا دے رہا تھا۔
    وہ اب اسے بچوں کے بارے میں بتارہی تھی۔ بچوں سے باری باری بات کروا رہی تھی۔ وہ پچھلے تین دن سے جبریل کو قرآن پاک نہیں پڑھا پایا تھا۔ امامہ نے اسے یاد دلایا۔
    ’’تم پڑھادو۔‘‘ سالار نے جواباً کہا۔
    ’’میں تو پچھلے تین دن سے پڑھا رہی ہوں۔ revision (دہرائی) کروا رہی ہوں۔ نیا سبق تو تم ہی دوگے۔‘‘ وہ اس سے کہہ رہی تھی۔
    ’’کتنے پارے رہ گئے؟‘‘ سالار نے اس کی بات پر عجیب غائب دماغی سے پوچھا۔
    امامہ نے نوٹس کیا۔ ’’آخری دس۔‘‘
    ’’جلدی ہوجائیں گے۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔





    ’’ہاں انشاء اللہ… وہ ماشاء اللہ ذہین بھی تو بہت ہے۔ دس سال کا ہونے سے پہلے ہی قرآن پاک مکمل ہوجائے گا اس کا۔‘‘
    وہ اس بار سالار کے لہجے پر غور کئے بغیر کہتی گئی۔ وہ چاہتے تھے جبریل اس سے بھی کم عمری میں قرآن پاک حفظ کرلیتا کیوں کہ وہ بلا کا ذہین تھا اور اس کی زبان بے حد صاف تھی، لیکن سالار نے اسے اس عمر میں قرآن پاک حفظ کرنے پر لگایا تھا جب وہ کچھ باشعور ہوکر اس کے معنی و مفہوم کے ساتھ ساتھ اس فریضے کی اہمیت سے بھی واقف ہوگیا تھا۔
    اسکائپ کی اسکرین پر اب باری باری اس کے بچے دکھنے لگے تھے… وہ اب لیپ ٹاپ آن کئے ہوئے بیٹھا ان کی شرارتوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک بھیانک حقیقت کے اندر بیٹھا ایک خوب صورت خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ باری باری اپنی طرف کے کمپیوٹر کے کیمرے کے سامنے منہ کر کر کے باپ کو ہیلو کہہ رہے تھے۔
    ’’بابا! آج میں نے ککی بنائی ہے۔‘‘ عنایہ اسے اسکرین پر ایک بڑے سائزکا بسکٹ دکھا رہی تھی۔
    ’’واہ یہ تو بہت یمی دکھتی ہیں۔‘‘ سالار نے اپنے اندر کے فشار کو چھپاتے ہوئے بیٹی کو داد دی۔ وہ سب کچھ وہ اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا، کیوں کہ وہ سب کچھ ختم ہوجانے والا تھا۔
    امامہ ان سب کو وہاں سے ہٹا کر لے گئی تھی کیوں کہ اب جبریل کو نیا سبق پڑھنا تھا۔ وہ اور اس کا نو سالہ بیٹا آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سالار سے اگلا سبق پوچھ رہا تھا۔ سالار نے اسے پچھلا سبق سنانے کے لئے کہا تھا۔ جبریل نے پڑھنا شروع کیا تھا۔ سینے پر ہاتھ باندھے آنکھیں بند کئے خوش الحان آواز میں… اس نے باپ سے صرف ذہانت ورثے میں نہیں پائی تھی، خوش الحانی بھی پائی تھی۔
    نو سال کی عمر میں بھی اس کی قرأت دلوں کو چھو لینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ کسی بھی سننے والے کی آنکھوں کو نم کرسکتی تھی۔ جبریل نے کب اپنا پہلا سبق ختم کیا تھا، سالار کو اندازہ ہی نہیں ہوا، وہ کہیں اور پہنچا ہوا تھا۔ جبریل نے آنکھیں کھول کر اپنے ہاتھ سینے سے ہٹا کر سامنے رکھے قرآن پاک کو دیکھا پھر اسکرین پر باپ کے نظر آنے والے چہرے کو کو جو کسی بت کی طرح بے حس و حرکت تھا۔
    ’’بابا!‘‘ جبریل کو ایک لمحہ کے لئے لگا شاید نیٹ کا کنکشن ختم ہوگیا تھا یا سگنلز کی وجہ سے streaming نہیں ہوپائی تھی۔
    سالار چونکا اور اپنا گلا صاف کرتے ہوئے اس نے جبریل کو ایک بار پھر پچھلا سبق سنانے کو کہا۔ وہ حیران ہوا تھا۔ ’’وہ تو میں نے سنادیا۔‘‘
    ’’میں نہیں سن سکا ایک بار پھر سناؤ۔‘‘
    وہ پہلا موقع تھا جب جبریل نے باپ کے چہرے کو بے حد غور سے دیکھا تھا۔ کچھ مسئلہ تھا اس دن باپ کو… اسے یہ اندازہ ہوگیا تھا، لیکن کوئی سوال کئے بغیر اس نے ایک بار پھر پچھلا سبق سنانا شروع کردیا۔ اس بار سالار پہلے کی طرح کہیں اور محو نہیں ہوا تھا۔ اس نے بیٹے کو نیا سبق پڑھا کر اور چند بار دہرانے کے بعد اسکائپ بند کردیا تھا۔
    "Is baba ok?”(کیا بابا ٹھیک ہیں؟) جبریل نے اسکائپ پر سالار سے باتکرنے کے بعد ماں سے پوچھا۔
    ’’ہاں! وہ ٹھیک ہیں، بس فلو ہے، اس لئے کچھ طبیعت خراب ہے ان کی۔‘‘ امامہ نے اس کے سوال پر زیادہ غور کئے بغیر کہا۔
    "When is he returning?” (’’وہ واپس کب لوٹ رہے ہیں؟‘‘)
    جبریل نے اگلا سوال کیا۔
    ’’ابھی تو امریکا جارہے ہیں دو ہفتے کے لئے پاکستان سے… کہہ رہے تھے کچھ میٹنگز ہیں، پھر امریکا سے آئیں گے۔‘‘
    امامہ نے سالار سے فون پر ہونے والی گفتگو اسے بتائی۔
    ٭…٭…٭
    ورلڈ بینک کی نائب صدارت چھوڑنے سے صرف دو ہفتے پہلے جب سالار کانگو میں الوداعی ملاقاتیں اور فیئر ویل ڈنرز لینے میں مصروف تھا، وال اسٹریٹ جرنل نے ورلڈ بینک کی صدارت سے انکار کی وجہ ڈھونڈ نکالتے ہوئے سالار سکندر کو ہونے والے برین ٹیومر کی نیوز بریک کی تھی اور پھر یہ خبر صرف اس اخبار ہی نے نہیں، ڈھیروں دوسرے اخبارات نے بھی لگائی تھی۔ سالار سکندر کے برین ٹیومر کی بریکنگ نیوز میں مغرب کو دلچسپی نہیں تھی نہ ہی میڈیا کو… دلچسپی اگر تھی تو سی آئی اے کو… اس اسٹیج پر سالار کی مہلک بیماری کی خبر بریک کرنے کا مطلب اس پروجیکٹ کے شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی کمر توڑ نے کے مترادف تھا جس پر سالار کام کررہا تھا۔ ’’وہ‘‘ جانتے تھے سالار ورلڈ بینک سے الگ ہونے کے بعد کیا کرنے جارہا تھا اور انہیں یقین تھا، جو وہ کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا، وہ ناممکنات میں سے تھا۔ اس کے باوجود حفاظتی اقدامات ضروری تھے اور سب سے بہترین دفاعی حکمت عملی وہی تھی جو انہوں نے اختیار کی تھی۔ وہ سالار سکندر کی بیماری کو مشتہر کرنے کے بعد اب اس پروجیکٹ کے ممکنہ سرمایہ کاروں کے پیچھے ہٹ جانے کا انتظار کررہے تھے۔ وہ شطرنج تھی۔ سالار اپنے مہرے سجا کر پہلی چال چلنے کی تیاری کررہا تھا۔ ’’وہ‘‘ پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ ’’انہوں‘‘ نے پہلی چال چل دی تھی اور پہلی چال میں ہی بادشاہ کو شہہ مات ہونے والی تھی… یہ کم از کم ’’ان‘‘ کو یقین تھا۔
    ٭…٭…٭
    اس نے انٹر نیٹ پر glioma کا لفظ گوگل پر سرچ کیا… پھر oligodendrogliomaکو … ساڑھے نو سال کی عمر میں محمد جبریل سکندر نے ان دو لفظوں کو Spelling Bee کے مقابلے میں حصہ لینے کے لئے ان الفاظ کی فہرست میں شامل کیا تھا جس کی اسپیلنگ اسے یاد کرنا تھی۔ اسے ان دو الفاظ کی اسپیلنگ یاد کرتے ہوئے یہ اندازہ نہیں تھا۔ وہ اپنے باپ کو لاحق دنیا کے مہلک ترین برین ٹیومر سے واقفیت حاصل کررہا تھا۔
    Spelling Bee کے مقابلے کے لئے جبریل نے صرف ان الفاظ کی اسپیلنگ یاد کی تھی۔ وہ دو الفاظ کیا تھے، وہ کھوجنے کی کوشش اس نے بت کی تھی جب اس نے انٹر نیٹ پر اپنے باپ کے نام کے ساتھ اس کی بیماری کے حوالے سے ایک خبر دیکھی تھی۔ وہ ورلڈ بینک کی ویب سائٹ تھی جو ان کے ڈیسک ٹاپ کا ہوم پیج تھا اور کئی بار سالار کے زیر استعمال آتا تھا اور ہوم پیج پر تازو ترین اسکرول ہونے والی خبروں میں سے ایک سالار سکندر کی بیماری کے حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل کی نیوز تھی جو صرف آدھ گھنٹہ پہلے بریک ہوئی تھی۔
    ساڑھے نو سال کے اس بچے نے اس بیماری کو کھوجنا شروع کیا تھا۔ سالار ابھی گھر نہیں لوٹا تھا۔ امامہ دوسرے کمرے میں بچوں کو پڑھا رہی تھی اور جبریل انٹر نیٹ پر ساکت بیٹھا یہ پڑھ رہا تھا کہ اس کا باپ گریڈ ٹوکے oligodendroglioma کا شکار تھا۔ اس ٹیومر کا علاج نہیں ہوسکتا تھا۔ مکمل طور پر کامیاب علاج… اور اگر علاج ہو بھی جاتا تو مریض سات سے دس سال تک زندہ رہ سکتا تھا۔ اس برین ٹیومر کے مریض صحت مندرہ کر بھی اس سے زیادہ نہیں جی سکتے تھے۔
    ساڑھے نو سال کا وہ بچہ اس دن چند لمحوں میں بڑا ہوگیا تھا۔ اس گھر میں سالار کے بعد وہ پہلا شخص تھا جسے سالار کی بیماری اور اس کی نوعیت اور اثرات کا علم ہوا تھا۔ جبریل کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، وہ اس ہولناک انکشاف کا کیا کرے۔ ماں کو بتادے یا نہ بتائے… یہ اس کا Dilemma (مخمصہ) نہیں تھا۔ اس کا مخمصہ اور تھا۔
    ’’حمین! جاؤ بھائی کو بلا کے لاؤ، وہ سونے سے پہلے تم لوگوں کو دعا پڑھا دے۔ پتا نہیں اتنی دیر کیوں لگا دی اس نے۔‘‘
    بچوں کو پڑھانے سے فارغ ہونے کے بعد انہیں سونے کے لئے لیٹنے کا کہتے ہوئے امامہ کو جبریل یاد آیا۔ اسے کمرے سے گئے کافی دیر ہوگئی تھی۔
    ’’آج میں پڑھاتا ہوں۔‘‘
    حمین نے اعلان کرتے ہی اپنے دونوں ہاتھ کسی نمازی کی طرح سینے پہ باندھتے ہوئے بڑے جذب کے عالم میں دعا پڑھنے کے لئے اپنا منہ کھولا اور امامہ نے تحکمانہ انداز میں فوری طور پر اسے ٹوکا۔
    ’’حمین! بھائی پڑھائے گا۔‘‘
    حمین نے بند آنکھیں کھول لیں اور سینے پر بندھے ہاتھ بھی… اس سے پہلے کہ وہ کمرے سے نکل جاتا، امامہ نے نائٹ سوٹ کے اس پاجامے پر لگی گرہ کو دیکھا جو وہ ابھی ابھی باتھ روم سے پہن کر باہر نکلا تھا۔ پاجامے کے اوپری حصے کو ازابندکے بجائے ایک بڑی سی گرہ لگا کر کسا گیا تھا اور اس گرہ کے دونوں سرے کسی خرگوش کے کانوں کی طرح اس کے پیٹ کے اوپر کھڑے تھے۔
    ’’ادھر آؤ…‘‘ امامہ نے اسے بلایا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے جھک کر نیچے بیٹھتے ہوئے اس گروہ کو کھولنے کی کوشش کی، تاکہ پاجامے کو ٹھیک کرسکے۔
    حمین نے ایک چیخ ماری اور جھٹکا کھا کر اس گرہ پر دونوں ہاتھ رکھے، پیچھے ہٹا۔ ’’ممی! نہیں۔‘‘
    ’’اس کی string کہاں ہے؟‘‘ امامہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس گرہ کو باندھنے کی وجہ کیا تھا۔
    ’’میں نے اسکول میں کسی کو دے دی ہے؟‘‘
    امامہ نے حیرانی سے پوچھا۔ ’’کیوں…؟‘‘
    ’’چیریٹی میں…‘‘ حمین نے جملہ مکمل کیا۔
    امامہ نے ہکا بکا ہوکر اپنے اس بیٹے کا اعتماد اور اطمینان دیکھا۔ ’’چیریٹ میں؟‘‘ وہ واقعی حیرن تھی۔ ’’صرف ایک ڈوری کو؟‘‘
    ’’نہیں…‘‘ مخصر جواب آیا۔
    ’’پھر…؟‘‘
    ’’ڈوری سے بیگ کو باندھا تھا۔‘‘
    ’’کس بیگ کو؟‘‘ امامہ کا ہاتھ ٹھٹکا۔
    ’’اس بیگ کو جس میں toys (کھلونے) تھے۔‘‘ جواب اب بھی پورا آیا تھا۔
    ’’کس کے toys (کھلونے)؟‘‘ امامہ کے ماتھے پر بل پڑے۔
    {"Well”حمین نے اب ماں، رئیسہ اور عنایہ کو باری باری… محتاط انداز میں دیکھا اور اپنے جواب کو گول مول کرنے کی بہترین کوشش کی۔
    "There were many owners.” (وہ کئی لوگوں کے تھے)
    امامہ کو ایک لمحے میں سمجھ میں آیا تھا۔
    ’’ many owners کون تھے۔ کس کو دیئے؟ کیوں دیئے کس سے اجازت لی؟‘‘
    اس نے یکے بعد دیگرے تابڑ توڑ سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔




  • نئے موسموں کی خوشبو — دانیہ آفرین امتیاز

    نئے موسموں کی خوشبو — دانیہ آفرین امتیاز

    روڈ پر اِکا دُکا گاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ سورج نے مکینوں کو گھروں سے نکلنے سے باز رکھا ہوا تھا۔
    ’’اُف! اللہ کی پناہ یہ گرمی۔‘‘ اس نے رومال سے اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کیا۔ ستمبر شروع ہونے والاتھا‘ مگر گرمی کے مزاج نہیں بدلے تھے۔
    دوپہر تقریباً ڈھل چکی اور سائے بڑھنے لگے تھے۔ ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی‘ لیکن اس کے باجود فضا میں حبس اس قدر زیادہ تھا کہ وہ اسٹیشن پر کھڑے کھڑے پسینے میں نہا گئی۔ ’’یا اللہ کوئی رکشا جلدی سے بھیج دے۔‘‘ اس نے قریب سے گزرتے سواریوں سے بھرے رکشوں کو بے زاری سے دیکھتے ہوئے دل سے دعا کی تھی۔ تب ہی ہارن کی تیز آواز نے اس کا دل دھڑکا دیا۔ گاڑی والا ہارن پر ہاتھ رکھ کے اٹھانا بھول گیا تھا۔
    اس نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور اگلے ہی پل کھل اٹھی۔ چادر سنبھالتی وہ تیزی سے گاڑی کی طرف آئی ۔ فرنٹ سیٹ پر موجود خوب رو نوجوان نے اس کے لیے اگلا دروازہ کھولا تھا۔
    ’’شکر ہے آپ آگئے ورنہ آج میرا حشر ہو جاتا۔‘‘ وہ بیٹھتے ہی شروع ہوگئی۔ نوجوان نے خاموشی سے بیک مرر میں دیکھتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔
    ’’اگر مزید اس گرمی میں کھڑی ہوتی تو مر ہی جاتی۔‘‘ اس سے پہلے کہ اس کی بات مکمل ہوتی، وہ نوجوان درمیان میں ہی بول پڑا۔
    ’’تمہارا کب ختم ہو رہا ہے آخری سمیسٹر؟ ‘‘سادہ سے لہجے میں سمپل سا سوال۔ وہ اس کی شانِ بے نیازی پر اندر ہی اندر تلملا گئی۔ اسے دیکھ کر ابھرنے والا سارا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ وہ خود بھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ آج اسے گھر جانا تھا، تب ہی اس وقت کیمپس کے باہر کھڑی بس کا انتظار کررہی تھی۔ بس تو کیا، کوئی خالی رکشا بھی نہیں آیا تھا۔
    اسے لگا شاید وہ اس کے روڈ پر کھڑے ہونے سے خفا تھا۔ تب ہی جواب میں وضاحت بھی دے گئی، مگر شاید کبھی کبھی وضاحتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا۔ کچھ ہی دیر میں وہ بس پر تھے ۔ سبین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اسے لگا۔ وہ اسے گاؤں تک چھوڑ کے آئے گا، مگر وہ ٹکٹ لے کر واپس آگیا۔
    ’’چلو! تمہیں سیٹ دکھا دوں اور ہاں، یاد سے کسی کو فون کر دینا کہ تمہیں لینے اسٹاپ پر ضرور آجائے۔‘‘ وہ اس کا بیگ اٹھاتے ہوئے بولا۔
    سبین جو اس کی گاڑی کو دیکھ کر پرجوش سی ہوئی تھی ۔ اب مرجھا سی گئی تھی۔
    ٭…٭…٭




    آسمان پر پھیلتی سرمئی نیلاہٹ کے ساتھ ہی باورچی خانے سے کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگی تھیں۔ جھنجھلاہٹ سے کروٹیں بدلتے اسے ایک گھنٹا گزر گیا، مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
    برتنوں کے شور کے ساتھ ساتھ صحن میں بیٹھی دادی کی آواز بھی اس کے کانوں سے ہو کر سر پر ڈنڈے برسا رہی تھی۔ تنگ آکر اس نے منہ سے چادر ہٹائی اور جھٹکے سے پلنگ سے اٹھ گئی۔ پچھلی دو راتوں سے وہ جاگ رہی تھی ۔ آج فجر کے بعد نیند نے بھولے سے دستک دی، تو گھر کے فوجی ماحول نے اسے سونے نہ دیا ۔ دادی محترمہ کا حکم تھا کہ زمین پر صبح کی پہلی کرن پڑتے ہی چولہا جل جائے۔ دیر کرنے سے گھر سے برکت اٹھ جاتی ہے اور بھلا ہو اماں کا جو اپنی فولادی قوت جہیز میں لائی تھیں۔
    اگر اماں ہلکے سے بھی تپائی پر برتن رکھ دیتیں تو یوں معلوم ہوتا گاؤں کی بڑی عمارت گر گئی ہو۔صبح جلدی جلدی میں اماں برتن پٹختیں تو گاؤں کے سب لوگ بے دار ہو جاتے ۔یہ گونج دار آواز گاوؑں والوں کے لیے الارم کا کام دیتی۔الارم بھی وہ جس کے بجنے کے بعد کسی کا سونے کو دل ہی نہ چاہے۔
    ’’السلام علیکم!‘‘ سر تھامے وہ کمرے سے نکل آئی۔ سامنے چارپائی پر دادی تشریف فرماں تھیں اور اماں کو ایسے مشوروں نواز رہی تھیں جیسے اماں نو بیاہتا ہوں اور کل رات ہی دہلیز پر قدم رکھا ہو۔
    ’’وعلیکم السلام! اُٹھ گئی پتر؟‘‘ دادی نے مشورے روک کر اپنی شہری پوتی کو پیار سے دیکھا۔
    ’’جی! ہلکی سی آواز میں کہہ کر وہ چارپائی پر ان کے برابر بیٹھ گئی۔ دادی کو وہ کیا بتاتی کہ پچھلی دو راتوں سے جاگ رہی ہے۔
    ’’گڑیا ناشتا بناؤں تمہارے لیے؟‘‘ اماں نے کچن ہی سے آواز لگائی۔
    ’’بس چائے دے دیں اماں۔‘‘ اس پر بے زاریت چھائی ہوئی تھی۔
    پتر! صبح صبح یہ کلموا پانی نہ پیا کر، تازہ دودھ پیا کر۔ کالا پانی پی پی کر دیکھ رنگ کیسا کملا گیا ہے۔‘‘ دادی نے اپنے مخصوص انداز میں محبت سے سمجھایا۔
    ’’دادی مجھ سے صبح صبح دودھ نہیں پیا جاتا ۔‘‘سبین نے منہ بنا کر کہا۔
    اس سے پہلے کہ دادی اپنی نصیحتوں کی پٹاری کھولتیں، اماں ناشتا لیے صحن میں آگئیں۔ دادی بسم اللہ پڑھ کر رغبت سے دودھ ، اصلی گھی کا پراٹھا اور بھنی مرغی نوش فرمانے لگیں۔ چائے کا کپ تھامے وہ ان کوحیرت سے دیکھتی رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    چائے سے سر درد میں کچھ کمی آئی تو اس نے اُٹھ کے کپڑے تبدیل کیے، بال بنائے اور اماں کو بتا کر اپنی بچپن کی سہیلی نیلم کے گھر چلی گئی۔ گاؤں آئے اسے دو روز ہو گئے تھے، مگر اپنی سستی کی وجہ سے وہ گھر سے نہیں نکلی تھی۔ سب سہیلیاں خود ہی آکے مل گئی تھیں۔
    ’’السلام علیکم چچی! دروازے پر دستک دے کر وہ اندر آئی تو بینا چچی صحن میں ہی بیٹھی نظر آگئیں۔‘‘
    ’’وعلیکم السلام!‘‘ چاولوں سے بھرا تھال نیچے رکھ کے چچی خوش دلی سے ملیں۔
    ’’واہ بھئی! آج تو سبین نے یہاں کا رخ کیا ہے۔‘‘ چچی نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔
    ’’نیلم کمرے میں ہے، جا بیٹا اندر چلی جا۔‘‘چچی نے اسے پیار دیتے ہوئے کہا تو وہ کمرے میں چلی گئی۔
    نیلم صاحبہ بڑے مزے سے خراٹے لے رہی تھیں۔ اس نے کمرے میں اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں تو اسٹڈی ٹیبل پر اپنی مطلوبہ چیز پا کر اس کے چہرے پر شریر سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
    وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اور پانی سے بھرا جگ نیلم پر تیزی سے انڈیل دیا۔ ایک چیخ کے ساتھ گھبرا کے اٹھی، سامنے سبین پیٹ پر ہاتھ رکھے کھڑی ہنس رہی تھی۔ نیلم نے اسے خون خوار نظروں سے دیکھا، دونوں کا قہقہہ ایک ساتھ کمرے میں گونجا تھا۔
    ’’صبح بہ خیر!‘‘ سبین نے ہنستے ہوئے کہا۔
    ’’بدلہ اُدھار رہا۔‘‘ نیلم نے ناک سکیڑ کر کہا۔
    ’’کیا ہوا بیٹا؟‘‘ بینا چچی کی آواز پر دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا‘ جہاں بیناچچی حیران و پریشان کھڑی دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔ کچھ لمحے بعد اُن کے چہرے پر بھی مسکراہٹ اُمڈ آئی۔
    ’’تم دونوں نہیں سدھرنے والی۔‘‘ بینا چچی نے ہنس کے کہا۔
    ’’امی سبین کے لیے سینڈوچ اور بروسٹ بنا لیں ۔‘‘نیلم نے ماں کو مخاطب کیا۔
    ’’سبین کے لیے یا تمہارے لیے ؟‘‘ بینا چچی نے اسے گھورا۔
    ’’دونوں کے لیے ۔‘‘ نیلم نے مسکرا کر کہا۔
    ’’چچی بس سینڈوچ بنا دیں‘ میں نے آپ کے ہاتھ کے سینڈوچز تو ہاسٹل میں بہت مس کیے۔‘‘
    بینا چچی خود بھی پڑھی لکھی تھیں اور انہوں نے جدید کھانے بنانا‘ کراچی میں مقیم اپنی نند سے سیکھے تھے جو ہر سال چھٹیوں میں گاؤں کا ضرور چکر لگاتی تھیں۔
    باتوں باتوں میں وقت کیسے گزرا‘ پتا ہی نہیں چلا۔ تپتی دوپہر شام میں تبدیل ہو رہی تھی۔ سبین ایک خوش گوار دن گزار کر نیلم سے اس کے گھر آنے کا وعدہ لے کر لوٹ آئی۔
    دادی صحن میں بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں اور اماں کچھ دیر سستانے کے لیے کمرے میں پلنگ پر لیٹی تھیں۔ وہ بھی خاموشی سے اماں کے ساتھ لیٹ گئی ۔کچھ دیر بعد اسے نرم گداز ہاتھوں کا لمس اپنے سر پر محسوس ہوا۔ سبین نے موندی موندی آنکھوں سے دیکھا اماں مسکراتے ہوئے اس کا سر سہلا رہی تھیں۔
    ’’کیا بات ہے؟ آج چودھرانی جی کو ہم پر بڑا پیار آرہا ہے؟‘‘ سبین نے شریر لہجے میں کہا۔
    ’’جب کڑیاں بڑی ہو جائیں تو ان کی جدائی کی سوچ ہر وقت ماں باپ کو بے چین رکھتی ہے۔‘‘ سبین نے چونک کر دیکھا‘ اماں کی آنکھیں نم تھیں۔
    ’’میں نے آپ سے دور نہیں جانا، وہ لاڈ سے ماں کے گلے لگ گئی۔
    ’’چل پگلی! ایک دن ہر کڑی نے رخصت ہونا ہوتا ہے۔‘‘ اماں نے پیار سے اس کے سر پر چپت لگائی۔
    ’’سبین! تیرے بابا بتا رہے تھے کہ بھائی فخر، بھابی اور سب بچے اسی ماہ گاؤں آرہے ہیں۔ اکتیس کو وہ لوگ تیرے اور زین کے ویاہ کا کہہ رہے ہیں۔ وقت ہی کتنا ہے؟ آج پانچ تاریخ ہے اور تیاری کے لیے ہفتہ دو ہفتہ ہے، بس پھر تو تو مایوں بیٹھ جائے گی۔‘‘ اماں نے فکر مندی سے کہا۔
    ’’اماں اتنی جلدی ؟‘‘ سبین کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ دو دن تو ہوئے تھے اسے ہوسٹل سے گاؤں آئے۔
    ’’بیٹا! بھائی فخر تیری پڑھائی ختم ہونے کا کب سے انتظار کر رہے تھے۔ پھر سردیوں کی چھٹیوں میں سب رشتے دار بھی جمع ہوتے ہیں۔اچھا ہے، سب شریک ہو جائیں گے۔ نیک کام میں مزید دیر کرنا مناسب نہیں۔ اماں اسے سمجھاتے ہوئے بولیں۔
    ’’کل خریداری کرنے نیلم کے ساتھ شہر چلی جانا۔ تمہارے بابا لے جائیں گے تم دونوں کو۔‘‘ اماں مزید پروگرام ترتیب دینے لگیں اور وہ غائب دماغی سے سر جھکائے سنتی رہی۔
    ٭…٭…٭
    رات دھیرے دھیرے اپنے پنکھ پھیلا رہی تھی۔ شام ڈھلتے ہی ٹھنڈ میں بھی اضافہ ہوگیا۔ چاروں طرف پھیلے امرود کے درخت اندھیرے میں چھپ گئے تھے۔
    چاند کی ہلکی سی روشنی کھیتوں کو روشن کیے ہوئے تھی۔ سوچوں کا جہاں آباد کیے چھت کی منڈیر پر وہ مضطرب کھڑی تھی۔ ذہنی طور پر وہ خود کو تیار نہیں کر پا رہی تھی۔ یہ سب تو بہت پہلے سے طے تھا کہ ایک نہ ایک دن اسے زین کی سنگت میں نئی دنیا آباد کرنی ہی تھی ‘ مگر اتنی جلدی اس نے یہ نہیں سوچا تھا۔
    ہائے اللہ!نیلم کو اپنے عقب میں دیکھ کر سبین کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلگئی۔
    ’’کن خیالوں میں گم ہو؟‘‘وہ بھی اس کے ساتھ چھت کی منڈیر سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔
    ’’زین کے گھر والے عید پر شادی کا کہہ رہے ہیں۔‘‘ سبین نے اسے بتایا۔
    ’’تو اس میں دکھی ہونے کی کیا بات ہے؟‘‘ نیلم نے اپنی نظریں اس کے پریشان چہرے پر ٹکاتے ہوئے کہا۔
    ’’یار! مجھے زین سے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘سبین آسمان کو تکتے ہوئے اپنا خدشہ زبان پر لے آئی۔
    ’’زین سے ڈر؟ کیوں؟ وہ کوئی بھوت ہے کیا؟‘‘نیلم نے ہنستے ہوئے کہا۔ اسے حیرت ہوئی۔
    ’’نہیں یار!‘‘وہ مضطرب تھی۔
    ’’کھل کے بتا سبین کیا بات ہے ؟ ‘‘نیلم نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔ سبین نے گاؤں آتے وقت زین سے ہونے والی ملاقات کا قصہ من و عن نیلم کے گوش گزار کر دیا اورساتھ ہی اپنے دل میں جنم لینے والے سب خدشات بھی اسے بتا دیے۔نیلم خاموشی سے سنتی رہی۔
    ’’اُف سبین! اس بے کار سی بات کو تم دل پر لے بیٹھی ہو؟ کیا پتا زین بھائی اس وقت پریشان ہوں۔‘‘نیلم نے غصے سے کہا۔
    ’’جو بھی ہو‘ بھلا اپنی منگیتر کے ساتھ کوئی ایسے کرتا ہے ۔‘‘سبین نے منہ پھلا کے کہا۔ اس کی ستواں ناک غصے سے سرخ ہو رہی تھی۔
    ’’تم دونوں اس وقت تنہا تھے‘ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ جھجک رہے ہوں۔‘‘ نیلم کو اس وقت وہ چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔




  • تسکین — امینہ خان سعد

    میرا بھائی سامی جو مجھ سے عمر میںنوسال چھوٹا تھااس سال نیو ایئر منانے کی ضد کر رہا تھا- میری ماما اس کو سمجھانے کی کو شش کر رہی تھیں کہ نیو ایئرنائٹ پر باہر جانا محفوظ نہیںہے ۔اس کی ضد کی وجہ سے مجھے اس پر بہت غصّہ آرہا تھا بلکہ اپنے ہی بھائی سے نفرت سی ہورہی تھی۔ یہ احساس نیا نہیںتھا۔ کم ازکم سال میں دو مرتبہ میراجی اسے دل کھول کر مارنے اور نوچنے کا چاہتا تھا۔
    ’’امّی میرے سب دوست اپنے گھر والوںکے ساتھ نئے سال کاجشن مناتے ہیں ـ،گھومتے پھرتے ہیں ،پٹاخے پھوڑتے ہیں۔ ایک تو ہم کہیں جاتے نہیںاوپر سے بابا ہر سال دس گیارہ بجے تک گھر کی سب لائٹیںبند کرکے ہمیںزبردستی سلا دیتے ہیں۔‘‘ سامی نے ماما کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
    ’’ ارے بھئی! ہم مسلمان ہیں یہ کوئی ہمارا نیو ایئرتھوڑی ہے اور اسلام میں سادگی کو پسند کیا گیا ہے۔‘‘ماما سامی کو بہلانے لگیں۔
    ’’ ما ما ذرا اس سے پوچھیںتو صحیح کہ اس نے آپ کو امّی کیوں کہا ،اگر میںنے بابا کو شکایت کردی تو نئے سال پر تو کیا یہ کسی دن بھی باہر نہیں جاسکے گا ۔‘‘ میں غصّے سے بولتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    بعض اوقات مجھے احساس ہوتاکہ میں سامی کے ساتھ زیادتی کر جا تی ہوں پر غصّے میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا۔ سامی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ امّی کو امّی پکارے۔ یہ پابندی بھی میں نے لگائی تھی کہ ماما کو ہم دونوں صرف ماما بولیں گے۔ یہ فیصلہ تو سامی کے پیدا ہونے کے چھ ماہ بعد ہی ہوگیا تھا۔ عام حالات میں ہم لوگوں کی کوئی خاص لڑائی نہیں ہوتی تھی ۔ ویسے بھی ماما بابا ہم دونوں میں سے کبھی کسی ایک کی طرف داری نہیں کرتے تھے۔ دونوں کو ہی سمجھا کر یا جس کی غلطی ہو اس کو ڈانٹ کر لڑائی فوراً ختم کروا دیتے تھے۔
    سال 2015ختم ہونے میں ابھی پندرہ دن باقی تھے۔ ہر نئے سال کی آمد مجھے چڑچڑا بنا دیتی تھی۔
    ’’اُف نیا سال۔۔۔‘‘ میںیہ سوچ ہی رہی تھی کی ماما دستک دے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔
    ’’ سکینہ ـ۔‘‘
    ’’ جی ماما ۔‘‘
    ’’ بیٹا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
    ’’ ابھی؟‘‘
    ’’ ہاں بیٹا، صرف دو چار منٹ لگیں گے۔‘‘
    ’’ ماما میںسونا چاہتی ہوں۔‘‘ میں نے رک رک کے بولا۔
    ’’ ٹھیک ہے تو آپ لیٹ جائو، میں مختصر سی بات کرکے چلی جائوں گی۔‘‘
    میں سمجھ گئی کہ ماما کچھ خاص بات کرنے والی ہیں۔میں فوراً لیٹ گئی تاکہ ماما جلدی جلدی اپنی بات ختم کرلیں۔




    ’’بیٹاسامی بچّہ ہے ، باقی بچّوں سے قصّے کہانیاں سنتا ہے تو اس کا دل بھی تفریح کرنا چاہتا ہے۔ آپ حسّاس ہونے کے ساتھ سمجھدار بھی تو ہو۔‘‘ ماما نے جھک کر میرے ماتھے پر پیار کیا اور وہیں میرا غصّہ پانی کے بلبلے کی طرح غائب ہوگیا۔
    ’’ دوسری بات جو کہ کافی خاص ہے وہ یہ کہ ایک بہت اچھی فیملی آپ کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آنا چاہتی ہے۔‘‘ ماما جملہ مکمّل کرکے چند سیکنڈ کے لیے رکیں پر جب میں چپ رہی تو انھوں نے بات جار ی رکھی ۔
    ’’ بیٹا ہم نہیں چاہیں گے کہ آپ ہر ایک کے آگے ٹرے سجا کر لائو۔ آپ کے بابا تو انجان لوگوں کے منہ اٹھا کر چلے آنے کے سخت خلاف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے آپ لڑکے کی تصویر دیکھ لو اور لڑکا آپ کی۔اور شکل و صورت پسند آنے کی صورت میں ہی بات آگے بڑھائی جائے۔‘‘
    ’’پر آپ لوگوں کو اچانک شادی کی کیوں پڑگئی؟ کہیں سامی کی دلہن بھی ابھی سے لانے کا ارادہ تو نہیں ہو گیا؟‘‘ میں نے بات ٹالنا چاہی۔
    ’’ شریر لڑکی اس میں ابھی بہت وقت ہے۔ وہ تو تم ہمارے داماد کے ساتھ مل کر خود ڈھونڈنا۔ بیٹا تمہاری پڑھائی مکمّل ہو چکی ہے،ماشااللہ سے تیئس برس کی ہوگئی ہو، یہ بالکل صحیح عمر ہے شادی کی۔‘‘ماما مجھے زیادہ تر آپ کہہ کر مخاطب کرتی تھیںاور مذاق کے موڈ میں تم۔
    تو یہ تھی مختصر بات جو ابھی تک مکمّل ہی نہیں ہوئی؟
    ’’سکینہ بیٹا۔ بابا کے دوست کے بیٹے کا رشتہ تو آپ نے قبول نہیںکیا تھا، چلو اس وقت تو آپ پڑھ بھی رہی تھیںمگر اب سنجیدگی سے سوچئے گا۔‘‘ ماما کو سنجیدہ دیکھ کر میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔
    ’’ بیٹا سعیدہ آپا جنہوں نے سارہ کا رشتہ کروایا تھا انہوں نے ایک بہت اچھا رشتہ بتایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تصویر چھوڑواوران پر اعتماد کرکے لڑکے والوں کو گھر بلالو۔‘‘
    سارہ آپی ماما کی بھانجی تھیں۔ ان کی شادی پچھلے سال ایک بہت اچھے گھرانے کے نہایت شریف اور پڑھے لکھے شخص سے ہوئی تھی۔وہ اپنی شادی شدہ زندگی سے پوری طرح مطمئن تھیں اور اٹھتے بیٹھتے رشتے والی سعیدہ آپاکو دعائیں دیتی تھیں۔
    ’’ اچھا وہ کتنے بہن بھائی ہیں ؟ ماں باپ کیسے ہیں؟کہاں رہتے ہیںجو بابا نے پہلے تصویر دیکھنے کا کہا ہے‘‘ میں نے اپنے ذہن میں موجود سوال ایک سانس میںپوچھ ڈالے۔
    ’’سکینہ CID سانس تو لے لو ، اگر ہماری شہزادی کی اجازت ہو تو تفتیش کے لیے اس ویک اینڈ بلوا لیتے ہیں ۔ سعیدہ آپا کے مطابق وہ لوگ لڑکے کے بارے میں مل کرکچھ خاص بات بتانا چاہتے ہیںاور ویسے بھی ہمیںبھی ان کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا۔ رشتے سچ کی بنیاد پر ہی رکھنا چاہئیں۔‘‘ماما نے گہرا سانس لیا۔’’اور ہاں جہاں تک تمھارے سوالات کا تعلّق ہے، آمنے سامنے بیٹھ کرتمام سوالات بھی کر لیں گے اور ان کوان کے سوالات کے جوابات بھی دے دیں گے۔‘‘
    میں نے ماما کوزور سے گلے لگا لیااور ماما مجھے پیار کرکے کمرے سے باہر چلی گئیں۔جاتے جاتے کمرے کی ڈم لائٹ اور دروازہ بند کر گئیں۔
    حقیقت، نیا گھر، نئے انجان لوگ اور نئے سال کی آمد،یہ سب خیالات مجھے بے چین کرنے کے لیے کافی تھے۔
    ماما اور بابا دونوں ہی بہت شفیق تھے۔ میں نے ہمیشہ ان کی آنکھوں میں پیار اور لہجے میں نرمی پائی۔ سامی اور مجھے ایک جیسا پیاردیا۔ جب بھی مجھے غصّہ آتا ،میں سامی کو چڑاتی کہ بابا مجھے زیادہ پیار کرتے ہیں پر مجھے معلوم ہوتا کہ سامی کو اس بات پر کبھی یقین نہیں آئے گاکیوں کہ مامابابا بیلنس رکھنے میں ماہر تھے۔
    میں نے دھیان بٹانے کو اپنی دراز سے کتاب نکالی، لحاف اوڑھا اور لیٹ کر کتاب پڑھنا شروع کردی۔ مجھے رومانوی کتابیں پڑھنا بہت پسند تھا مگر ابھی تو جیسے میں الفاظ رومانوی پڑھ رہی تھی اور کہانی میرے دماغ میںڈرائونی چل رہی تھی۔
    ایک دم یادیں مجھے سولہ سال پیچھے دھکیل کر لے گئیں۔سال 2000 نے میری زندگی بدل کر رکھ دی تھی ،ہاں شاید اچھے کے لیے پر اس سال رونما ہونے والے واقعات نے میرا اب تک پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔
    اس نئے سال2000 کا سب کو بڑی بے چینی سے انتطار تھا۔
    ہر کوئی میلینیئم ) (Milleniumمیلینیئم (Millenium)کر رہا تھا۔ چونکہ میری عمر اس وقت صرف سات برس تھی اور مجھے اسکول میں کلاس ٹیچر کی باتیں سن کر یہ لگنے لگا تھا کہ سال 2000ء شروع ہوتے ہی دنیا بدل جائے گی اور پھر حقیقتاً میری دنیا ہی بدل گئی۔ ہم حیدرآباد میں رہتے تھے کیوں کہ ابّو کی وہاں نوکری تھی۔میں نے ابّو سے ضد کی کہ نیا سال منانے ماموں کے گھر کراچی چلیں۔
    ’’بھئی اس سال ایسی کیا خاص بات ہے ؟‘‘ابّو نے پوچھا۔
    ’ابّونئے سال کے ساتھ نئی صدی شروع ہو رہی ہے‘، میں نے بڑے جوش سے بتایا۔
    پہلے توابّو خرچے کا سوچ کر پریشان ہوئے مگرمیرے پیچھے پڑنے پر راضی ہو گئے۔
    ہم اکتیس دسمبر 1999کی دوپہر ایک بجے کراچی پہنچے۔ ماموں ہمیں اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ماموں اچھے تھے مگر ممانی سے نہ جانے کیوںمجھے ڈر لگتا تھا۔ اس وقت بھی مجھے خوف تھا کہ ممانی کہیں گھومنے پھرنے پر پابندی نہ لگادیں۔ماموں ممانی کا ایک ہی بیٹا تھا، نادر۔نادر بھائی مجھ سے چھ سال بڑے تھے۔وہ بہت ہی پڑھاکو تھے اور ہر وقت ’’جی امّی، جی امّی‘‘ کرتے رہتے تھے۔
    شام کی چائے پر ابّو نے ذکر چھیڑا۔
    ’’بھئی بچّے سمندر کی سیر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
    ’’بھائی جان آپ نے ہمیں کراچی کی نئے سال کی رونقیں دکھانی ہیں۔‘‘ امّی بولیں۔
    میں بہت پُرجوش ئٹڈ ہو گئی پر وہی ہواجس کا مجھے ڈر تھا۔ ممانی فوراً بولیں:
    ’’رونقیں کیا، بے ہودگی ہوتی ہے ، بائیک والے سائیلنسر نکال کر سڑکوں پر ہلڑ بازی کرتے پھرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہیں سمندر پر کل دوپہر کو چلیں گے، میں بریانی اور کباب بنالوں گی اور پکنک بھی ہو جائے گی۔ ممانی نے تجویز پیش کی۔ نادر بھائی اپنی امّی کی بات سن کر کھل اُٹھے۔
    ’’بریانی، پکنک،یاہوووو۔‘‘
    دوسری طرف میرا چہرہ اتر گیا۔میں نئے سال کی آمد پر باہر جانا چاہتی تھی۔ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ ملینیئم کیا تبدیلی لاتا ہے۔ کیا آسمان کا رنگ بدل جائے گا؟ ایسی کیا تبدیلی ہوگی جس کا حیدرآباد میں موجود میری دوستوں کو بھی انتظار تھا؟ایک دم میرے ننھے دماغ میں خیال آیا کہ کیا پتا چاکلیٹ کی بارش ہو ویسے بھی کراچی اتنا بڑا شہر ہے یہاں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
    ’’ماموں جان آج ہی چلیں نہ سمندر پر۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
    ماموں مسکراتے ہوئے بولے:
    ’’بیٹا آج رات تو سمندر کا راستہ بند ہوتا ہے، کنٹینر لگے ہوتے ہیں، پھر بھی کچھ من چلے کچھ نہ کچھ کرکے کر پہنچ ہی جاتے ہیں۔ لیکن ہم کہیں اور چلیں گے فکر نہ کرو بڑا مزہ آئے گا۔‘‘
    ’’ہاںبھئی سنا ہے اس دفعہ تو لوگوں کا کچھ ذیادہ ہی موج مستی کا ارادہ ہے، نئی صدی میں جو داخل ہورہے ہیں۔ ہم تو نئی صدی اور نئے سال کا استقبال کرنے آپ کے پاس آگئے ہیں۔‘‘ ابّو بڑے جوش سے بولے۔
    ’’بہت اچھا کیا بھائی صاحب، ہمارا نادر ویسے بھی اکیلا ہوتا ہے۔ آپ سب کے آجانے سے اس کے بھی مزے ہوگئے ہیں۔‘‘ ممانی نے خوشی خوشی جوا ب دیا۔
    اس رات سب رات کا کھانا دس بجے تک کھا کر تیّار ہوگئے۔ اس زمانے میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک نیا مال بنا تھا۔ہم چوں کہ حیدرآباد سے آئے تھے لہذا ہم نے مال نہیں دیکھا تھا۔ماموں نے ہمیں مال گھمانے کا ارادہ کیا۔ نادر بھائی نے مال کی اتنی تعریف کی تھی کہ مجھ سے تو صبر نہیں ہو رہا تھا۔
    رات گیارہ بجے کے قریب جب ہم وہاں پہنچے توپتا چلا کہ مال تو بند تھا۔ ماموں کا خیال تھا کہ نئے سال کی تقریبات رات گئے تک مال میں ہو رہی ہوں گی مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اس رات تو مقامی حکومت نے مال کھلنے ہی نہیں دیا تھا۔
    ہم بچّے رونے والے ہوگئے۔ماموں نے ہماری حالت دیکھ کر کہا کہ اب یہاں تک آگئے ہیں تو کسی طرح راستے عبور کرکے سی ویو جانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ یہ سن کر میری خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اور میں نے خوشی میں امّی کو چومنا شروع کر دیا۔
    ’’سکینہ بس کرو بیٹھ جائو، گاڑی چلے گی تو گر جائوگی‘، امّی نے کہا۔
    ’’امّی دیکھ لیں یہ موقع اس سال پھر نہیں آئے گا۔ اب تو میں آپ کو اگلی صدی میں ہی پیار کروں گی۔‘‘
    میری بات سن کر سب ہنس پڑے۔
    ماموں نے دوبارہ گاڑی چلانا شروع کی۔ابھی تھوڑا ہی آگے گئے تھے کی ابّو بولے :
    ’’یہاں قریب میں بڑا مزار بھی ہے نا؟‘‘‘
    ’’’جی جی۔‘‘ ماموں نے جواب دیا۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۸ (حاصل و محصول)

    اس کا ہاتھ پکڑے وہ اسے اب کسی راستے پر لے جانے لگا… ایک قدم، دوسرا قدم، تیسرا… وہ ٹھٹک کر رک گئی۔ وہ ایک جھیل تھی۔ چھوٹی سی جھیل جس کے کنارے پر وہ تھے۔ ہلکی نیلی رنگت کے شفاف پانی کی ایک جھیل… جس کے پانی میں وہ رنگ برنگی مچھلیاں تیرتے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔
    اور اس کی تہ میں بے شمار رنگوں کے موتی… پتھر… سیپیاں…
    جھیل کے پانی پر آبی پرندے تیر رہے تھے… خوب صورت راج ہنس۔ جھیل کے چاروں اطراف پھول تھے… اور بہت سے پھول جھیل کے پانی تک چلے گئے تھے… کچھ پانی کی سطح پر تیر رہے تھے۔
    مگر اس کے قدموں کو ان میں سے کسی چیز نے نہیں روکا تھا۔ اس کے قدموں کو روکنے والی شے جھیل کے کنارے پر موجود لکڑی کی وہ خوب صورت چھوٹی سی کشتی تھی جو پانی میں ہلکورے لے رہی تھی۔ اس نے بے اختیار کھلکھلا کر اسے دیکھا۔
    ’’یہ میری ہے؟‘‘ وہ مسکرا دیا۔ وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بچوں کی طرح بھاگتی کشتی کی طرف گئی۔ وہ اس کے پیچھے لپکا۔ اس کے قریب پہنچنے پر کشتی پانی سے کچھ باہر آگئی۔ وہ بڑی آسانی سے اس میں سوار ہوگئی۔ اسے لگا وہ کشتی صندل کی لکڑی سے بنی تھی۔ خوشبودار صندل سے…
    وہ اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔ ہوا کا ایک تیز جھونکا کشتی کو پانی میں لے گیا۔ دونوں بے اختیار ہنسے۔
    کشتی اب جھیل کے دوسرے کنارے کی طرف سفر کررہی تھی۔ اس نے جھک کر پانی میں تیرتا کنول کا پھول پکڑ لیا۔ پھر اسی احتیاط کے ساتھ اسے چھوڑ دیا۔
    اس نے دوسری طرف جھک کر اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں جھیل کا پانی ایک چھوٹی سی رنگین مچھلی سمیت لیا اور اس کے سامنے کردیا۔ اس کے ہاتھوں کے پیالے میں حرکت کرتی مچھلی کو دیکھ کر وہ ہنسی، پھر اس نے اس مچھلی کو ہاتھ سے پکڑا اور پانی میں اچھال دیا۔ وہ دونوں جھک رک اسے دیکھتے رہے۔
    پانی پر تیرتا ایک ہنس کشتی کے پاس آگیا۔ پھر دوسرا، پھر تیسرا… وہ کشتی کے گرداب جیسے ایک دائرہ سا بنا کر تیر رہے تھے۔ یوں جیسے ان کا استقبال کررہے تھے۔ وہ پاس سے تیر کر گزرتے، ہر ہنس کو وہ اپنے ہاتھوں سے چھوتی کھلکھلارہی تھی۔ پھر ایک دم اس نے جھیل کے پانی پر کنول کے پھولوں کی قطاروں کو حرکت کرتے دیکھا۔ وہ جھیل کے پانی پر تیرتے اب رقص کررہے تھے۔




    اِدھر اُدھر جاتے… خوب صورت شکلیں بناتے… پاس آتے دور جاتے… پھر پاس آتے… یوں جیسے وہ یک دم ہنسوں کی طرح زندہ ہوگئے تھے۔ جھیل کے نیلے پانی پر وہ سفید کنول اپنے سبز خوب صورت پتوں کے ساتھ ہونے والی مسلسل حرکت سے پانی میں ارتعاش پیدا کررہے تھے۔ وہ بے خود ہورہی تھی یا بے اختیار… وہ بھی سمجھ نہیں پارہی تھی۔ سمجھنا اب ضروری تھا بھی نہیں۔
    جھیل کے نیلے پانی پر رقص کرتے لاتعداد و خوب صورت پھولوں کے بیچ اس نے یک دم کسی عکس کو نمودار ہوتے دیکھا۔ کشتی میں بیٹھے بیٹھے وہ چونک کر مڑی اور پھر وہ بے ساختہ کھڑی ہوگئی۔ کشتی دوسرے کنارے کے پاس آگئی تھی اور وہاں… وہاں کچھ تھا۔
    امامہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی گہری نیند سے۔ اس نے اپنی کلائی پر کسی کا لمس محسوس کیا تھا۔ خواب آور دوا کے زیر اثر اسے ایک لمحہ کے لئے کمرے کی مدھم روشنی میں یوں لگا، وہ ایک خواب سے کسی دوسرے خواب میں آئی تھی۔ سالار اس کے بستر کے قریب کرسی پر بیٹھا تھا… بے حد قریب، بستر پر دھرا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے۔ پتا نہیں نیند ٹوٹی تھی یا خواب… یا پھر وہ لمس تھا جو اسے خواب سے حقیقت میں لے آیا تھا لیکن وہ خواب آور دوا کے زیر اثر ہوتے ہوئے بھی یک دم اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے کھینچتے ہوئے کہنیوں کے بل اٹھ کر بیٹھنے لگی تھی، سالار نے اسے روکا۔
    ’’اٹھو مت…‘‘
    ’’تم واقعی آگئے ہو؟‘‘ امامہ کو اب بھی جیسے یقین نہیں آیا تھا۔
    وہ دھیرے سے ہنسا۔ ’’تمہیں بتایا تو تھا کہ آجاؤں گا۔‘‘
    ’’یہ تو نہیں بتایا تھا کہ کب آؤگے؟ اور تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟‘‘
    ’’بس میں نے سوچا، تمہاری نیند خراب ہوگی۔‘‘ وہ مدھم آواز میں بات کررہا تھا… دوسرے بستر پر جبریل اور عنایہ تھے جو گہری نیند میں تھے اور صوفے پر ہیڈی تھی جو کچھ دیر پہلے سالار کے آنے پر دروازہ کھلنے کی آواز سے جاگ گئی تھی اور سالار کے ساتھ کچھ خیر مقدمی جملوں کے تبادلے کے بعد وہ کمرے سے چلی گئی تھی۔ وہ رات کے پچھلے پہر کنشاسا پہنچا تھا اور ائیر پورٹ پہ رکے بغیر وہاں آگیا تھا۔ شہر میں حالات اب نارمل ہورہے تھے… فوج اور حکومت امن بحال کرنے میں کامیاب ہورہے تھے۔
    ’’تمہیں کیا ہوا ہے؟‘‘ امامہ نے سالار کے چہرے کو پہلی بار غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے اور آنکھیں سرخ اور یوں سوجی ہوئی تھیں… یوں جیسے وہ کئی راتوں سے سویا نہ ہو۔
    ’’کچھ نہیں، بس اتنے دن گھر سے دور رہا تو شاید اس لئے پھر…‘‘
    سالار نے اس سے آنکھیں ملائے بغیر کہا۔ امامہ نے اس کی بات کاٹ دی، اسے یک دم اپنا خواب یاد آگیا تھا۔
    ’’سالار! تمہیں پتا ہے، ابھی میں خواب میں کیا دیکھ رہی تھی؟‘‘ سالار نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ’’کیا؟‘‘
    ’’میں نے خواب میں ایک گھر دیکھا جھیل کنارے… جہاں تم مجھے لے کر جارہے تھے… ایک کشتی میں بٹھا کر۔‘‘
    وہ دم بخود رہ گیا… جو گھر اس نے امریکہ میں اس کے لئے mortgage کیا تھا، وہ سمندر کے ایک جھیل نما ٹکڑے کے کنارے تھا… اس نے ابھی تک امامہ کو اس گھر کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا اس کی اگلی سالگرہ پر… لیکن اب وہ بیٹھے بٹھائے اسے جھیل کنارے ایک گھر کا قصہ سنارہی تھی۔
    ’’جس جھیل کے کنارے وہ گھر تھا وہ جھیل بے پناہ خوب صورت تھی… سفید کنول کے پھولوں سے بھری ہوئی نیلے پانی کی جھیل… جس میں ہر طرف راج ہنس تیر رہے تھے… اور پانی میں رنگ برنگی مچھلیاں…اور کشتی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے خود ہی چل رہی تھی… اور جھیل کے کنارے پھولوں بھری جھاڑیاں تھیں…رنگ رنگ کے پھول سبزے کی طرح پھیلے ہوئے تھے… اور پھول ٹوٹ ٹوٹ کر پانی پر بہتے چلے جارہے تھے۔‘‘
    وہ بول نہیں پارہا تھا۔ جس جھیل کے کنارے اس نے گھر خریدا تھا… وہ بھی کچھ ایسی ہی تھی… اس کے گرد بھی پھول تھے… آبی پرندے اور راج ہنس بھی… اور کنول کے پھول بھی… اور اس جھیل کے کنارے جتنے گھر تھے، ان سب کی کشتیاں بھی اس پانی میں رہتی تھیں۔ بس فرق یہ تھا کہ ان میں سے کوئی لکڑی کی چپو والی کشتی نہیں تھی جیسا نقشہ وہ کھینچ رہی تھی۔
    ایک لمحہ کے لئے اسے محسوس ہوا، امامہ کو شاید اس گھرکا پتا چل گیا تھا… شاید اس نے اس کے لیپ ٹاپ میں اس گھر کی تصویریں دیکھ لی تھیں اور اب وہ جان بوجھ کر اسے چھیڑ نے کی کوشش کررہی تھی، لیکن اگر ایسا بھی تھا تو اس نے کب لیپ ٹاپ دیکھا تھا… پچھلے کئی دنوں میں تو یہ نہیں ہوسکتا تھا کیوں کہ اس کا لیپ ٹاپ اس کے پاس تھا اور اگر یہ اس سے پہلے ہوا تھا تو پھر وہ اس وقت ان حالات میں وہ خواب کیوں سنا رہی تھی۔ وہ الجھا تھا اور بری طرح الجھا تھا۔
    ’’اور گھر کیسا تھا؟‘‘ وہ کریدے بغیر نہیں رہ سکا۔
    ’’شیشے کا۔‘‘ سالار کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔ اس کا mortgage کیا ہوا گھر بھی شیشے ہی کا تھا۔
    ’’لیکن مجھے اس کے اندر کچھ نظر نہیں آیا… وہ شیشے کا تھا لیکن اندر کچھ نظر نہیں آرہا تھا اور میں کشتی سے اتر کر گھر کے اندر جانا چاہتی تھی تو تب ہی میری آنکھ کھل گئی۔‘‘
    وہ بہت مایوس نظر آرہی تھی یوں جیسے اسے بہت افسوس ہورہا تھا۔ سالار پلکیں جھپکے بغیر صرف اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
    ’’لیکن وہ گھر ویسا گھر تھا جیسا میں ہمیشہ بنانا چاہتی تھی جیسا میں اپنے اسکیچز میں اسکیچ کرتی رہتی تھی۔ وہی جھیل… وہی سبزہ… وہ شیشے کا گھر… اور ہر طرف پھول۔‘‘ وہ جیسے ابھی تک کسی خمار میں تھی۔ سالار بھی گنگ تھا۔ اس نے بھی اس گھر کو mortgage کرتے ہوئے وہی ساری چیزیں ڈھونڈی تھیں جو وہ اپنے اسکیچ میں ڈیزائن کرتی رہتی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ امامہ سے کیا کہے… اگر وہ کھیل تھا تو وہ بہترین کھیل رہی تھی اور اگر وہ کھیل نہیں تھا تو اس کے دماغ کی چولیں ہل گئی تھیں۔
    ’’تم نے کبھی زندگی میں کوئی جھیل دیکھی ہے ایسی جیسی میں تمہیں بتارہی ہوں؟‘‘ سوال اچانک آیا تھا اور عجیب و غریب تھا۔
    ’’میں نے؟‘‘ وہ چونکا۔ ’’میں نے؟‘‘ اس نے ذہن پر زور دیا اور پھر ایک جھماکے کے ساتھ اسے یاد آیا تھا کہ اس نے وہ جھیل خواب میں دیکھی تھی… اس رات جب وہ امامہ کو گھر لے کر آیا تھا تو اس نے خواب میں خود کو کسی حسین اور خوب صورت وادی میں امامہ کے انتظار میں پایا تھا اور پھر امامہ آگئی تھی اور پھر اس وادی کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے وہ اسے اس وادی سے ایک جھیل اور کشتی تک لے گیا تھا۔ اس جھیل کا نقشہ ویسا ہی تھا جیسا وہ بتا رہی تھی… پھول، سبزہ، نیلا پانی… راج ہنس… کنول کے پھول… اور لکڑی کی چپو والی صندلی کشتی…
    سالار کے جسم میں کپکپاہٹ ہونے لگی تھی… وہ اگر پزل تھا تو اس کے دو ٹکڑے عجیب انداز میں جڑے تھے۔
    ’’تم نے یہ کیوں پوچھا کہ میں نے خواب میں کبھی کوئی جھیل دیکھی ہے؟‘‘ اس نے سرسراتی آواز میں امامہ سے کہا۔
    ’’تمہیں یاد ہے، حرم پاک کے بارے میں دیکھا جانے والا وہ خواب… جس کا ایک حصہ میں نے دیکھا تھا تو ایک حصہ تم نے بھی دیکھا تھا… اور ایک ہی رات۔‘‘
    وہ اسے عجیب چیزیں یاد دلانے بیٹھ گئی تھی۔
    ’’میں نے سوچا، شاید یہ بھی ویسا ہی کوئی خواب ہو… شاید وہ گھر تم اندر سے دیکھ چکے ہو جو مجھے نظرنہیں آیا۔‘‘
    وہ بچوں جیسے اشتیاق کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی… یوں جیسے وہ کہے گا ہاں… میں اس گھر کو اندر سے دیکھ چکاہوں… سالار کسی بت کی طرح اس کا چہرہ دیکھتا رہا… یقینا اس خواب کے دو ہی حصے تھے… لیکن وہ امامہ سے پچھلے حصے کا گواہ تھا… وہ اس وادی کو دیکھ چکا تھا جہاں وہ جھیل تھی، پر اس جھیل کو اس نے دور سے دیکھاتھا کنارے سے… جسے امامہ نے پار کیا تھا… اور جھیل کے پار جو گھر تھا، اس تک وہ دونوں ہی نہیں پہنچے تھے… اس نے گھر کی جھلک بھی نہیں دیکھی تھی… امامہ نے جھلک دیکھی تھی، پر اندر نہیں جھانک پائی تھی…
    وہ خواب دونوں نے پہلے والے خواب کی طرح ایک رات میں نہیں دیکھا تھا۔ سالار نے وہ رخصتی کی پہلی رات امامہ کو گھر لانے پر… اور امامہ نے تقریباً چھ سال بعد…




  • رعونت — عائشہ احمد

    "میں کہتی ہوں دو اسے طلاق۔۔۔۔!”فاخرہ بیگم کی زناٹے دار آواز ڈرائنگ روم میں گونجی تو یک دم ہر طرف سناٹا چھا گیا۔
    "لیکن امی۔۔۔۔؟” علی نے کچھ کہنا چاہا لیکن فاخرہ بیگم نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔
    "یہ میرا حکم ہے۔ ابھی اور اسی وقت اسے طلاق دو۔‘‘ فاخرہ نے ایک بار پھر گرج دار آواز میں کہا۔
    علی نے بے بسی سے ایشل کی طرف دیکھا، ایشل کے چہرے پر خوف کے سائے نمایاں تھے۔اس کی آنکھوں میںایک التجا ،ایک امید تھی۔پاس کھڑا پانچ سالہ ننھا کامران حیرت کی تصویر بنے یہ سب دیکھ رہا تھا۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔اس نے ایشل کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ علی نے ایک نظر ماں کو دیکھا اور دوسری نظر ایشل کو دیکھا، وہ تذبذب کا شکار تھا۔
    "تمہیں میری بات کی سمجھ نہیں آئی؟ میں نے کہا اسے ابھی اور اسی وقت طلاق دو، ورنہ میںبھول جائوں گی کہ تم میرے بیٹے ہو۔‘‘ دھمکی کام کر گئی، علی نے ایک لمحہ ایشل کی طر ف دیکھا۔
    "ایسا مت کرو علی،میرا نہیں تو اپنے بیٹے کا خیال کرو،اسے تمہاری ضرورت ہے۔‘‘ ایشل نے روتے ہوئے کہا۔ اس نے علی کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیے لیکن علی تو جیسے پتھر کا ہو گیا تھا۔
    "ایشل۔۔! میں تمہیں طلاق دیتاہوں۔۔۔میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔” اور یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا اور فاخرہ نے فاتحانہ انداز میں ایشل کی طرف دیکھا۔ ایشل زمین پر تقریباً گر پڑی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ فاخرہ پائوں پٹختے ہوئے اپنے کمرے کی طرف لوٹ گئی۔
    ٭…٭…٭





    فاخرہ بیگم کا شمار مڈل کلاس گھرانے سے تھا اور ان کے شوہر سرکاری ملازم تھے جن کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہوا تھا۔ علی فاخرہ بیگم کا اکلوتا بیٹا تھا جو ایک کالج میں لیکچرار تھا۔ فاخرہ بیگم اس سے بے انتہا محبت کرتی تھیں۔
    فاخرہ بیگم کا شمار ان عورتوں میں ہوتا تھا جو پیدا ہی حکمرانی کے لیے ہوتی ہیں۔ بھلے وہ شوہر پر حکمرانی ہو، اولاد پر یا پھر گھر پر۔ اپنی انا میں رہنا اور غرور و تکبر کا اظہار کرنا ان کی شخصیت کی پہچان ہوتی ہے۔ فاخرہ بیگم بھی ایسی ہی تھیں۔ ماں باپ کے گھر تھیں تو راج کیا، سسرال آئیں تب بھی اپنی حکمرانی قائم رکھی اور جب اولاد کی شادی کی، تب بھی اپنا رعب و دبدبہ برقرار رکھا۔ آج ان کی ہٹ دھرمی نے ایک ہنستا بستا گھراجاڑ دیا تھا۔ ایشل ان کی اپنی پسند تھی۔ بہت چائو کے ساتھ وہ بہو لائی تھیں لیکن وہ بھی روایتی ماں اور ساس ثابت ہوئیں بیٹے کو کسی اور کا ہوتا دیکھ نہیں سکیں اس لیے شادی کے اگلے دن ہی لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے تھے۔اصل جھگڑا وہاں سے شروع ہوا جب علی نے ہنی مون کے لیے اجازت مانگی۔ اس بات پر انہوں نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔
    "اب تم فضول خرچی بھی کرو گے؟ شادی کیا ہوئی تم تو بیوی کے ہو کر رہ گئے۔” بیگم فاخرہ غصے سے پھنکاریں۔
    "ایسی بات نہیں ہے امی! یہ تو میرا پلان ہے۔” علی گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا۔
    "ہاں! ڈال پردے تُو اس کی باتوں پر۔ اس دن کے لیے تیری شادی کی تھی کہ ماں کو بھول کر بیوی کا ہوجائے؟” فاخرہ بیگم فوراً آنکھوں میں آنسو لے آئیں اور علی ماں کے آنسو دیکھ کر بے چین ہوگیا۔ اس نے ہنی مون کا پلان کینسل کر دیا۔
    ایشل سب جانتی تھی لیکن وہ خاموش رہی۔ اسی دوران ان کا ایک بیٹا ہوا جس کا نام انہوں نے کامران رکھا۔ ایشل کو لگا کہ شاید اس کی ساس کے رویے میں کچھ تبدیلی آجائے گی لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی۔ فاخرہ کا رویہ دن بہ دن برا ہوتا جا رہا تھا۔ ہر روز ایک نیا طوفان ایشل کا منتظر ہوتا تھا۔ علی بھی ماں کے سامنے بھیگی بلی بنا رہتا وہ ایشل کی حمایت میں کچھ نہیں کہتا تھا جس کی وجہ سے فاخرہ بیگم کو مزید شہ ملتی اور وہ ایشل پر اور زیادہ ظلم کرتیں۔ علی بھی گھر کے ماحول کی وجہ سے ایشل سے کھنچا کھنچا رہنے لگا تھا جس کا نتیجہ ان کی طلاق کی صور ت میں نکلا تھا۔ فاخرہ بیگم یہ نہیں جانتی تھیں کہ اس نے محض ایک عورت کا گھر بلکہ حکمِ خداوندی کی صریح نافرمانی کی ہے اور جو اﷲ پاک کے احکامات کی نافرمانی کرتا ہے وہ ناصرف معاشرے کا مجرم ہوتا ہے، بلکہ قیامت کے دن سزاوار بھی ہوگا۔
    ٭…٭…٭
    ٰٓٓایشل گھر پہنچی تو ایک کہرام مچ گیا۔ اس کا بھائی عارف شدید غصے کی حالت میں مرنے مارنے پر تیار ہوگیا۔ایشل کے باپ میاں نثار نے بڑی مشکل سے اسے قابو کیا۔ ایشل مسلسل روئے جا رہی تھی، کامران بھی رو رہا تھا۔ ایشل کی امی سعدیہ اسے چپ کرانے میں مصروف تھیں۔
    "خدا غارت کرے فاخرہ کو! اسے تو خدا کا ذرا خوف نہیں آیا یہ سب کرتے ہوئے۔” سعدیہ بیگم اسے کوستے ہوئے بولیں۔
    "میں نے تو کہا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہیں۔” عارف غصے سے انگلیاں مروڑتے ہوئے بولا۔
    "کیا ہو گا اس سے؟ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ ویسے بھی بیٹی کی بربادی کے بعد میں بیٹے کو کھونا نہیں چاہتا۔ اب یہ سوچو آگے کیا کرنا ہے؟” میاںنثار نے کرب سے کہا۔
    "میں نے بہت منتیں کیں ان کی ،لیکن وہ لوگ نہیں مانے اور علی۔۔ بڑا مان تھا ا س پر مجھے، وہ بھی بت بنا کھڑا رہا۔ وہ ماں کی محبت میں اتنا آگے چلا گیاکہ وہ اﷲ کے احکامات کی حکم عدولی پر مجبور ہو گیا۔‘‘ ایشل روتے ہوئے بولی۔
    "بس کر میری بچی! تو دیکھنا ان سب کا کیا حشر ہوتا ہے۔ ظلم کا بدلہ ایک دن ضرور ملتا ہے۔” سعدیہ بیگم نے روتے ہوئے اسے تسلی دی۔
    "یہاں پرقیامت ٹوٹ پڑی ہے اور آپ لوگ جھوٹی تسلیوں پر زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟” عارف نے غصے سے کہا اور پائوں پٹختا ہوا باہر چلا گیا۔ میاں نثار دکھ سے اسے جاتا دیکھ رہے تھے۔ وہ سمجھ سکتے تھے کہ عارف کے جذبات کیا ہیں؟ کوئی بھی بھائی یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی بہن کا گھر برباد کر دیا جائے۔
    ٭…٭…٭
    ایشل ایک پڑی لکھی اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ اس کے ابو ایک پرائیوٹ فرم میں جاب کرتے تھے جب کہ چھوٹا بھائی ایم بی اے کر رہا ہے۔ ایشل نے خود ایم ایس سی کی تھی۔ اس کا ارادہ جاب کرنے کا تھا لیکن ایم ایس سی مکمل کرتے ہی اس کے لیے علی کا رشتہ آگیا جسے اس کے والدین نے چھان بین کے بعد ہاں کر دی۔ ایشل والدین کی نہایت لاڈلی تھی۔ عارف اگرچہ ایشل سے چھوٹا تھا لیکن وہ ایشل سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس کی چھوٹی سی تکلیف پر بے چین ہو جاتا۔ علی کے ساتھ ایشل کی شادی ایک بھیانک تجربہ تھا۔ جس کا اندازہ ایشل کو وہاں جا کر ہوا اور آج وہ طلاق لے کر واپس اپنے گھر آگئی۔
    ٭…٭…٭
    زندگی اپنے معمول پر واپس آگئی۔ ایشل کے دامن پر لگا طلاق کا داغ رفتہ رفتہ مٹنے لگا تھا۔ اس نے ایک پرائیوٹ سکول میں جاب شروع کردی اور اپنے بیٹے کامران کو بھی اسی سکول میں داخل کروا دیا۔ اسے تسلی تھی کہ اس طرح کامران اس کی نظروں کے سامنے رہے گا۔
    دوسری طرف علی کو تو جیسے چُپ سی لگ گئی تھی۔ایشل کو طلاق دینے کے بعد اس نے خود کو آفس اور اپنے کمرے تک محدود کر لیا تھا۔ فاخرہ بیگم نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح وہ ایشل کو بھلا سکے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ فاخرہ نے اس کا حل سوچا اور علی کی دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے علی سے بات کرنے کا سوچا۔
    صبح کا وقت تھا۔علی آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا ۔جب فاخرہ بیگم اس کے لیے ناشتے کی ٹرے اٹھائے اندر آئی۔ انہوں نے ٹرے ایک طرف رکھی۔علی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ٹائی باندھ رہا تھا۔ انہوں نے بغیر تمہید کے بات شروع کی:
    "کب تک اس منحوس کا سوگ منائو گے؟ فاخرہ نے زہر بھرانشتر اسے مارا۔ علی نے ایک نظر ماں کو دیکھا اور پھر اپنا کام کرنے لگ گیا۔ٹائی باندھی،بال برش کیے اور بیگ اٹھا کر جانے لگا۔
    "میں تم سے مخاطب ہوں ۔ کیا تم میری بات نہیں سُن رہے۔؟” انہوں نے سوالیہ لہجے میں اس سے پوچھا۔
    "مجھے آفس کے لیے دیر ہو رہی ہے۔” علی سپاٹ لہجے میں بولا۔
    "آرام سے ناشتہ کرو۔ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔” ان کا لہجہ تحکمانہ تھا۔
    "مجھے بھوک نہیں ہے اور ویسے بھی مجھے دیر ہو رہی ہے۔ آپ بات کریں میں سن رہا ہوں۔” علی کا چہرہ کسی بھی کسی کے تاثرات یا جذبات سے عاری تھا۔ فاخرہ بیگم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر مخاطب ہوئیں:
    "میں چاہتی ہوں تمہاری دوسری شادی کر دوں۔” فاخرہ نے کہا تو علی کو لگا کہ جیسے اس کے سر پر کسی نے بم پھاڑ دیا ہو۔ اس نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا لیکن منہ سے کچھ نہیں بولا۔ وہ جانتا تھا کہ پہلے وہ اپنی بات مکمل کریں گی پھر اس کی سنیں گی۔
    "میں نے تمہارے لیے ایک لڑکی دیکھی ہے، خوب صورت اور پڑھی لکھی ہے۔” فاخرہ بیگم اس کی خوبیاں گنواتے ہوئے بولیں۔
    "یہ سب خوبیاں تو ایشل میں بھی تھیں۔”علی نے تیز لہجے میں کہا تو فاخرہ بیگم کے چہرے کا رنگ ایک دم سے اُڑ گیا۔
    "میں اب شادی نہیں کروں گا۔” علی نے دو ٹوک لہجے میں کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا، جب کہ فاخرہ دانت پیس کر رہ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    فاخرہ نے آخر کار علی کو دوسری شادی کے لیے راضی کر ہی لیا۔لڑکی کا نام صباحت تھا۔صباحت نہایت تیز طرار لڑکی تھی۔اسے علی کی پہلی شادی اور طلاق کے بارے میں معلوم تھا۔ اس لیے اس نے آتے ہی سب سے پہلے علی کو اپنے کنٹرول میں کیا۔ صباحت بہت خوب صورت تھی، اور باقی رہی سہی کثر اس کی باتوں نے پوری کر دی۔ علی اب بات بات پہ صباحت کی ہاں میں ہاں ملانے لگ گیا تھا۔ ٹھیک ایک مہینے بعد دونوں نے ہنی مون کا پلان بنایا اور مری جانے کا فیصلہ کیا۔ علی نے صرف ماں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ تو فاخرہ بیگم جل کر کوئلہ ہوگئیں۔
    "تم نے مجھ سے پوچھے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کر لیا۔۔۔؟ فاخرہ اس وقت شدید غصے میں تھیں۔
    "امی میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں کہ ہر کام آپ سے پوچھ کروں۔ہم لوگ ایک ہفتے کے لیے مری جا رہے ہیں۔” علی نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
    اگلے دن علی اور صباحت ہنی مون کے لیے مری روانہ ہو گئے اور فاخرہ صرف غصے سے تلملا کر رہ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    علی نے کبھی پلٹ کر بیٹے کی خبر بھی نہیں لی تھی، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسے کبھی بیٹے کی یاد تک نہیں آئی۔ کیا باپ ایسے بھی ہوتے ہیں؟ ایشل اکثر خود سے یہ سوال کرتی تھی، جس کا اس کے پا س کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔
    "ماما اب پاپا کبھی نہیں آئیں گے؟ کامران نے معصومانہ لہجے میں ایشل سے سوال کیا تو وہ تڑپ کر رہ گئی۔
    "نہیں بیٹا! پاپا کچھ مصروف ہیں،جیسے ہی ٹائم ملا آپ سے ملنے آئیں گے۔” ایشل نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔ اس وقت وہ بیڈ روم میں سونے کی تیاری کر رہی تھی۔
    "مجھے پتا ہے ماما! اب وہ کبھی نہیں آئیں گے۔ انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا ہے” کامران نے کہا تو ایشل کا دل کٹ سا گیا۔اس نے پلکوں پر آتے ستارے روک لیے تھے۔وہ بیٹے کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
    "سب ٹھیک ہو جائے گا بیٹا! ایشل نے اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا اور اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۷ (حاصل و محصول)

    نیویارک میں واقع امریکہ کے سب سے بڑے میڈیا ڈسٹرکٹ مڈٹاؤن میں ہٹن کے کولمبس سرکل میں واقع ٹائم وارنر سینٹر کی عمارت کے سامنے کھڑے پیٹرس ایباکا کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے چمک رہی تھیں۔ وہ کچھ دیر میں اس عمارت کے اندر واقع سی این این کے اسٹوڈیوز میں امریکہ کے ممتاز ترین اخباری صحافیوں میں سے ایک اینڈرسن کو وپر سے اس کے پروگرام 360کے سلسلے میں ملاقات کرنے والا تھا۔
    اینڈرسن کووپر دو ہفتے بعد کانگو میں بارانی جنگلات کے حوالے سے ایک پروگرام کرنے جارہا تھا۔ اس نے انگلینڈ اور یورپ کے اخبارات میں پیٹرس ایباکا کے انٹرویوز اور پگمیز کی بقا کے لئے چلائی جانے والی اس کی مہم کے بارے میں بنیادی معلومات لینے کے بعد اپنی ٹیم کے ایک فرد کے ذریعے اس سے رابطہ کیا تھا…
    ایباکا کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اینڈرسن کووپر کی طرف سے ملنے والی اس کال نے اس کی زندگی اور موت کے حوالے سے بھی فیصلہ کردیا تھا… مگر تاخیر بس تھوڑ سی ہوئی تھی اس کی نگرانی کرنے والے لوگوں سے… ایک سراسیمگی اور بدحواسی پھیلی تھی ان لوگوں میں، جنہوں نے یہ طے کرنا تھا کہ اب اچانک سی این این کے منظر میں آجانے کے بعد وہ فوری طور پر ایباکا کیا کریں… تشویش اس بات پر بھی ہوئی تھی کہ اگر ایباکا اور پگمیز کے حوالے سے کووپر نے پروگرام کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا تو چوٹی کے اور کتنے ایسے صحافی تھے جو اس پروجیکٹ کے حوالے سے پروگرام کرنے کی تیاریوں میںتھے…
    ایباکا، جن چھوٹے موٹے نیوز چینلز اور جرنلٹس کو ’’بڑا‘ اور ’’طاقت ور‘‘ سمجھ کر واشنگٹن میں ان کے ساتھ گھنٹوں گزار کر آتا رہا تھا… وہ سب پہلے ہی ایباکا کی نگرانی کرنے والے لوگوں کی فہرست میں شامل تھے… ان سے ایباکا کے حوالے سے پہلے ہی بات کرلی گئی تھی اور انہیں اس پروجیکٹ اور اس ایشو کی کوریج کے حوالے سے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات بھی پہنچائی گئی تھیں کہ امریکی مفادات کے لئے اس پروجیکٹ کے حوالے سے کوئی منفی خبر کی کوریج اور رپورٹ کس قدر نقصان دہ ہوسکتی تھی… اور ان چھوٹے چینلز اور نیوز جرنلٹس کو تابع کرنا آسان تھا۔ سی این این جیسے بڑے ادارے کو بھی امریکن مفادات کو ہر چیز پر بالاتر رکھنا جو سی این این پر جب بھی کسی ایشو کو کتنا بھی امریکی مفادات کو بالا تر رکھنے کی پالیسی کے باوجود اٹھاتے وہ دنیا میں کسی نہ کسی نئے تنازعے کو جنم دے دیتے…




    اور یہاں بھی ایباکا کو مانیٹر کرنے والے لوگوں کو اچانک درپیش آنے والا چیلنج یہی تھا۔ اگر وہ پروگرام کووپر، ایباکا سے پہلے پیش کرنے کا ارادہ نہ کرچکا ہوتا تو سی آئی اے کے لئے کووپر کو اسی آفیشنسی صحافت سے روکنے کا واحد حل یہ تھا کہ ایباکا کو اس تک کسی بھی قیمت پر نہ پہنچنے دیا جاتا لیکن یہاں کووپر… ایباکا سے اس اسٹیج پر رابطہ کررہا تھا جب وہ اور اس کی ٹیم پہلے ہی اس ایشو پر بہت زیادہ کام کرنے کے بعد کانگو روانگی کی تیاریوں میں تھی اور اب اس صورت حال میں کیا جاتا…! یہ تھا وہ چیلنج جس نے فوری طور پر ایباکا اور کووپر کی ملاقات کے حوالے سے سی آئی اے کو پریشان کیا تھا اور اس پریشانی میں اضافہ تب ہوگیا تھا جب ایباکا اس کال کے ملنے کے فوراً بعد ہی واشنگٹن سے نیویارک کے لئے چل پڑا تھا اور جب تک ان کا اگلا لائحہ عمل فائنل ہوسکا ایباکا ٹائم وارنر سینٹر پہنچ چکا تھا۔
    اینڈرسن کووپر کے ساتھ دو گھنٹے کی ایک گرما گرم نشست کے بعد وہ جب سی این این اسٹوڈیوز سے باہر نکلا تھا تو ایباکا کا جوش پہلے سے بھی زیادہ بڑھ چکا تھا۔
    کووپر اس پروجیکٹ کے حوالے سے جن مزید لوگوں سے بات چیت کرنے والا تھا، ان میں سالار سکندر کا نام سرفہرست تھا… سی آئی اے کو اس کا اندازہ تھا… یہ وہ دن تھا جب سالار سکندر سفر کرتے ہوئے رات کو واشنگٹن پہنچ رہا تھا اور اسے اندازہ نہیں تھا کہ بدقسمتی اس سے پہلے اس کے انتظار میں وہاں بیٹھی تھی۔
    ایباکا نے اس عمارت سے نکلنے کے بعد سینٹرل پارک کی طرف جاتے ہوئے بے حد خوشی کے عالم میں سالار کو ٹیکسٹ کیا تھا۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اب سی این این تک رسائی حاصل کرچکا تھا اور کووپر ہی کے حوالے سے اسے واشنگٹن کے سی این این اسٹوڈیوز میں اسی کی ٹیم کے چند اور لوگوں سے بھی ملنے کا موقع مل گیا تھا… اور ایباکا ساتویں آسمان پر تھا۔
    وہ ٹیکسٹ بہت لمبا تھا۔ اس میں اور بھی بہت کچھ تھا… اور پیٹرس کا جوش و خروش وہیں ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے اس بہت لمبے ٹیکسٹ کو کرتے کرتے ای میل کردیا تھا۔ سالار سکندر اس وقت اپنی فلائٹ پر تھا اور کچھ گھنٹوں کے بعد وہ جب واشنگٹن اترا تھا تب تک اس کے رابطوں کے تمام ذرائع زیر نگرانی آچکے تھے۔ پیٹرس ایباکا کی وہ آخری ای میل سالار سکندر کو اس کی موت کے بعد ملی تھی۔ لیکن ان لوگوں کو سالار سکندر کے جہاز اترنے سے بھی کئی گھنٹے پہلے مل گئی تھی جو پیٹرس ایباکا کی زندگی اور موت کے حوالے سے فیصلہ کررہے تھے۔
    بعض اوقات کسی شخص کی زندگی کسی دوسرے کی موت بن جاتی ہے… اور کسی دوسرے کی موت کسی اور کی زندگی… ایباکا کی موت کے فیصلے نے سی آئی اے کی فوری طور پر سالار سکندر کو ماردینے کی حکمت عملی بد لی تھی۔ ورنہ اس سے پہلے سالار سکندر کو بینک کے ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اس کے انکار اور معاملہ حل نہ کرنے کی صورت میں ایک ’’حادثانی موت‘‘ کا سامنا کرنا تھا۔ اینڈرسن کووپر سے ایباکا کی ہونے والی اچانک ملاقات نے سی آئی اے کو یک دم پسپا کردیا تھا۔ وہ ایباکا اور سالار دونوں کو اکٹھا نہیں مار سکتے تھے… شاید مارنے کا سوچ ہی لیتے اگر اتفاقی طور پر وہ دونوں ایک ہی وقت میں امریکہ میں موجود نہ ہوتے اور وہ بھی دو قریبی شہروں میں… وہ ایسا کوئی رسک نہیں لے سکتے تھے کہ کسی تفتیش شروع ہونے کی صورت میں ایباکا اور سالار کی طبعی اموات کے درمیان کوئی اور قدرتی تعلق نکال لیا جاتا۔
    سالار کو فی الحال صرف خوف زدہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور سی آئی اے کو اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے غلط حکمت عملی، غلط آدمی پر لاگو کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
    پیٹرس ایباکا چند گھنٹوں کے بعد بروکلین کے ایک ایسے علاقے کی ایک تنگ و تاریک گلی میں روکا گیا تھا جہاں ایک قریبی عمارت میں ایبا کا کو اپنے ایک دوست سے ملنا تھا۔ سی آئی اے کا خیال تھا ایباکا ان کے لئے حلوہ تھا جسے وہ بہت آرام سے اسے پکڑ کر لے آتے۔ ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایباکا ان دو افراد سے بڑی بے جگری سے لڑا تھا جنہوں نے اچانک اس کے قریب اپنی گاڑی روک کر اسے ریوالور دکھاتے ہوئے اندر بٹھانے کی کوشش کی تھی۔ اس نے ساری زندگی امریکہ کی مہذب دنیا میں مہذب طور طریقوں کے ساتھ گزاری تھی لیکن جنگل اور جنگلی زندگی اس کی سرشت اور جبلت میں تھی، اپنا دفاع کرنا اسے آتا تھا۔
    وہ ان تربیت یافتہ گماشتوں کے قابو میں نہیں آیا تھا… پستہ قامت ہونے کے باوجود وہ سخت جان اور مضبوط تھا۔ وہ پٹتا اور پیٹتا رہا تھا۔
    لڑتے لڑتے ریوالور ایباکا کے ہاتھ میں آگیا تھا اور ایک بار ریوالور ہاتھ میں آنے پر اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، ان دونوں افراد پر گولیاں چلادی تھی۔ گولی ایک کو لگی تھی لیکن دوسرا خود پر ہونے والے فائر سے بہت پہلے اپنا ریوالور نکال کر ایباکا پر دو فائر کرچکا تھا جو اس کے سینے میں لگے تھے۔
    یکے بعد دیگرے ہونے والے ان تین فائرز نے اس سڑک پر چلتے راہ گیر کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا اور ان ہی میں سے کسی نے پولیس کو بھی فون کیا تھا لیکن پولیس کے آنے سے پہلے ہی وہ دونوں ایجنٹ شدید زخمی حالت میں تڑپتے ایباکا کو گاڑی میں ڈال کر فرار ہوگئے تھے۔
    ایباکا کی وہ حالت اس دن سی آئی اے کے لئے دوسرا جھٹکا تھی۔ انہیں ایباکا صحیح سلامت کچھ گھنٹوں کے لئے چاہیے تھا تاکہ اسکے ذریعے ان تمام چیزوں کو بھی نابود کرسکتے جو ایباکا کی موت کی صورت میں کسی اور کے ہاتھ لگ جانے کی صورت میں ان کے لئے کوئی اور پیٹرس ایباکا کھڑا کردیتا۔ سی آئی اے کے لئے فی الحال سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ وہ ایباکا کے دستخط کیسے حاصل کرتے، جن کی انہیں فوری ضرورت تھی تاکہ وہ اس کے وہ لاکرز کھلواسکتے جہاں اس کی اصل دستاویزات تھیں… ان کی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ ان اصلی دستاویزات کو حاصل کرنے کے بعد ایباکا کو ختم کردیتے، مگر سب کچھ اس کے الٹ ہوا تھا۔
    پلان اے اور پلان بی ناکام ہوچکا تھا۔ اب سی آئی اے کو پلان سی سے کام لینا تھا لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایباکا کے پاس ایک پلان ڈی تھا جس کا انہیں کبھی پتا نہیں چل سکا… وہ کانگو میں اپنی ایک گرل فرینڈ کے پاس ایک وصیت چھوڑ کر آیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    سالار جس رات واشنگٹن کے لئے روانہ ہوا تھا اس کے اگلے دن امامہ کی گائنا کولوجسٹ نے اسے فون کیا تھا۔ امامہ کے معائنے کی تاریخ تین دن بعد کی تھی۔ اس کی امریکن ڈاکٹر نے اسے اسی دن ایمرجنسی میں آنے کے لئے کہا، کیوں کہ اسے کسی میڈیکل کیمپ میں شرکت کے لئے اگلے ایک ہفتہ کے لئے گھانا میں رہنا تھا۔ اس کی سیکریٹری نے امامہ سے کہا تھا کہ وہ اپنی تمام اپوائنٹ منٹس ری شیڈول کررہی ہے اور اس نے امامہ کو آج کے دن کا کہا تھا۔ امامہ نے کسی غور و خوض کے بغیر جانے کی ہامی بھرلی تھی۔ وہ اسے ایک معمول کی بات سمجھ رہی تھی اور اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اگر سالار سکندر سی آئی اے کے ہاتھوں بے بس ہورہا تھا تو امامہ تو کوئی شے ہی نہیں تھی۔
    وہ ہمیشہ کی طرح جبریل اور عنایہ کے ساتھ ہیڈی کو بھی اسپتال لے کر گئی تھی۔ وہ کنشاسا کے بہترین اسپتالوں میں سے ایک تھا، کیوں کہ وہاں پر زیادہ تر غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیز اور سفارت کاروں کا علاج ہوتا تھا۔ سالار اس وقت اپنی فلائٹ پر تھا اور امامہ کا خیال تھا وہ جب تک واشنگٹن پہنچتا وہ اس سے بہت پہلے واپس گھر آجاتی، لیکن وہ واپس گھر نہیں آسکی تھی۔
    اس کی ڈاکٹر نے اس کا الٹراساؤنڈ کرنے کے بعد کچھ تشویش کے عالم میں اس سے کہا تھا کہ اسے بچے کی حرکت ابنارمل محسوس ہورہی ہے۔ اس نے اسے بتایا تھا کہ اسے کچھ اور ٹیسٹ کروانے ہوں گے اور ساتھ اسے کچھ انجکشن بھی لینا ہوں گے۔ ڈاکٹر نے اسے فوری طور پر ہاسپٹل میں کچھ گھنٹوں کے لئے یہ کہہ کر ایڈمٹ کیا تھا کہ انہیں اس کو زیر نگرانی رکھنا تھا۔
    اسے ایک کمرے میں شفٹ کیا گیا تھا اور جو انجکشن امامہ کو دیئے گئے تھے وہ درد بڑھانے والے انجکشن تھے۔ امامہ کو گھر سے غائب اور سالار اور اپنی کسی اور فیملی ممبر سے رابطہ منقطع رکھنے کے لئے سی آئی اے کے پاس اس سے بہترین حل نہیں تھا کہ اس کے بچے کی قبل ازوقت پیدائش عمل میں لائی جائے۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۶ (حاصل و محصول)

    کسی اپنے کی موت انسان کو پل بھر میں کس طرح خاک کردیتی ہے یہ کوئی امامہ سے پوچھتا۔
    وسیم اور سعد کی موت نے اسے بتایا تھا کہ مارتی تو موت ہی ہے اور جیسی مار وہ انسان کو دیتی ہے کوئی اور تکلیف نہیں دیتی۔ آب حیات پی کر بھی انسان اپنی موت ہی روک سکتاہے پر ان کو جانے سے کیسے روک سکتا ہے جو جان سے بھی پیارے ہوتے ہیں۔
    وہ اس وقت نیویارک میں تھی۔ اس کے ہاں پہلا بچہ ہونے والا تھا۔ وہ ساتویں آسمان پر تھی کیوں کہ جنت پاؤں کے نیچے آنے والی تھی۔ نعمتیں تھیں کہ گنی ہی نہیں جارہی تھیں۔ تیسرا مہینہ تھا اس کی pregnancyکا، جب ایک رات سالار نے اسے نیند سے جگایا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ اسے نیند سے جگا کر کیا بتانے کی کوشش کررہا تھا اور شاید ایسی ہی کیفیت سالار کی تھی، کیوں کہ اس کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے کن الفاظ میں اتنے بڑے نقصان کی اطلاع دے۔ اس سے پہلے سکندر عثمان اور وہ یہی ڈسکس کرتے رہے تھے کہ امامہ کو اطلاع دینی چاہیے یا اس حالت میں اس سے یہ خبر چھپالینی چاہیے۔
    سکندر عثمان کا خیال تھا امامہ کو یہ خبر ابھی نہیں پہنچانی چاہیے، لیکن سالار کا فیصلہ تھا کہ وہ اس سے اتنی بڑی خبر چھپا کر ساری عمر کے لئے اسے کسی رنج میں مبتلا نہیں کرسکتا۔ وہ وسیم سے فون اور میسج کے ذریعے ویسے بھی رابطے میں تھی، یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اسے ایک آدھ دن میں اس کے بارے میں اطلاع نہ مل جاتی۔
    وہ دونوں قادیانیوں کی ایک عبادت گاہ پر ہونے والی فائرنگ میں درجنوں دوسرے لوگوں کی طرح مارے گئے تھے اور امامہ چند گھنٹے پہلے ایک پاکستانی چینل پر یہ نیوز دیکھ چکی تھی، وہ اس جانی نقصان پر رنجیدہ بھی ہوئی تھی ایک انسان کے طور پر، مگر اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان لوگوں میں اس کے دو اتنے قریبی لوگ بھی شامل تھے۔ اسے شبہ ہوتا بھی کیسے۔ وہ اسلام آباد کی عبادت گاہ نہیں تھی ایک دوسرے شہر کی تھی۔ سعد اور وسیم وہاں کیسے پہنچ سکتے تھے اور وسیم تو بہت کم اپنی عبادت گاہ میں جاتا تھا۔





    وہ اگلے کئی گھنٹے گم صم آنسو بہائے بغیر سالار کے کسی سوال اور بات کا جواب دیئے بغیر ایک بت کی طرح وہیں بستر پر بیٹھی رہی تھی، یوں جیسے انسان نہیں برف کی سل بن گئی تھی۔ اور برف کی سل نہیں جیسے ریت کی دیوار تھی جو ڈھے گئی تھی۔ اسے لگا تھا وہ اب کبھی زندگی میں اپنی انگلی تک نہیں ہلاسکے گی۔ پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکے گی۔ سانس نہیں لے سکے گی۔ جی نہیں سکے گی۔ کوئی ایسے تو نہیں جاتا… ایسے… اس کی حالت دیکھ کر سالار کو شدید پچھتاوا ہوا تھا۔ اس نے سکندر عثمان کی بات نہ مان کر کتنی بڑی غلطی کی تھی، اسے اب سمجھ میں آیا تھا۔ سالار نے اپنے ایک ڈاکٹر کزن کو بلایا تھا گھر پر ہی اسے دیکھنے کے لئے۔
    اس کے بعد کیا ہوا تھا امامہ کو ٹھیک سے یاد نہیں تھا۔ سالار کو لمحہ لمحہ یاد تھا۔ وہ کئی ہفتے اس نے اسے پاگل پن کی سرحد پر جاتے اور وہاں سے پلٹتے دیکھا تھا۔ وہ چپ ہوتی تو کئی کئی دن چپ ہی رہتی، یوں جیسے اس گھر میں موجود ہی نہیں تھی۔ روتی تو گھنٹوں روتی۔ سوتی تو پورا دن اور رات آنکھیں نہیں کھولتی اور جاگتی دو دو دن بستر پر چند لمحوں کے لئے بھی لیٹے بغیر لاؤنج سے بیڈروم اور بیڈ روم سے لاؤنچ کے چکر کاٹتے کاٹتے اپنے پاؤں سجالیتی۔ یہ صرف ایک معجزہ تھا کہ اس ذہنی حالت اور کیفیت میں بھی جبریل کو کچھ نہیں ہوا تھا۔ وہ جیسے یہ فراموش ہی کر بیٹھی تھی کہ اس کے اندر ایک اور زندگی پرورش پارہی تھی۔ ذہن یادوں سے نکل پاتا تو جسم کو محسوس کرتا۔
    اور وحشت جب کچھ کم ہوئی تھی تو اس نے سالار سے پاکستان جانے کا کہا تھا۔ اسے اپنے گھر جانا تھا۔ سالار نے اس سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ وہ کس گھر کو اپنا کہہ رہی تھی۔ اس نے خاموشی سے دو سیٹیں بک کروالی تھی۔
    ’’مجھے اسلام آباد جانا ہے۔‘‘ اس نے سالار کے پوچھنے پر کہا تو سالار نے بحث نہیں کی تھی، اگر اس کے گھر والوں سے ملاقات اس کو نارمل کردیتی تو وہ اس ملاقات کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔
    ہاشم مبین ان کے ہمسائے تھے۔ ان کے گھر میں آنے والی قیامت سے سالار سکندر کا خاندان بے خبر نہیں تھا۔ انہوں نے ہاشم مبین کے گھر جاکر ان سے دوسرے بہت لوگوں کے ساتھ تعزیت کی تھی۔ اس صدمے میں بھی ہاشم مبین نے بے حد سردمہری کے ساتھ ان کی تعزیت قبول کی تھی۔
    سکندر عثمان کوامید نہیں تھی کہ وہ امامہ سے ملیں گے۔ انہوں نے سالار سے اپنے خدشات کا ذکر ضرور کیا تھا، لیکن امامہ کو جس حالت میں انہوں نے دیکھا تھا، وہ سالار کو ایک کوشش کرلینے سے روک نہیں سکے تھے۔
    ہاشم مبین نے نہ صرف فون پر سکندر عثمان سے بات کرنے سے انکار کیا تھا، بلکہ سالار کو ان کے گھر پر گیٹ سے اندر جانے نہیں دیا گیا۔ سکندر عثمان اور وہ دونوں مایوسی کے عالم میں واپس آگئے تھے۔
    سالار اس کے سامنے بے بس تھا، لیکن وہ پہلا موقع تھا جب اس نے امامہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ اس نے امامہ کو اس کے گھر جانے کی کوشش بھی نہیں کرنے دی تھی۔
    ’’تمہیں اگر گھر جانا ہے تو پہلے اپنے باپ سے بات کرو۔ وہ اجازت دیں تو پھر میں تمہارے ساتھ چلوں گا، لیکن میں تمہیں بغیر اجازت کے وہاں گیٹ پر گارڈز کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے لئے نہیں بھیج سکتا۔‘‘
    اس کے رونے اور گڑگڑانے کے باوجود سالار نہیں پگھلا تھا۔ امامہ نے اپنے باپ سے فون پر بات کرکے اجزت لینے کی ہامی بھرلی تھی، مگر اس فون کال نے سب کچھ بدل دیا تھا۔ جو چیز سالار اسے نہیں سمجھا سکا تھا وہ اس فون کال میں ہاشم مبین نے سمجھادی تھی۔
    ’’یہ جو کچھ ہوا ہے تمہاری وجہ سے ہوا۔ تم جن لوگوں کے ساتھ جا بیٹھی ہو ان ہی لوگوں نے جان لی ہے میرے دونوں بیٹوں کی، اور تم اب میرے گھر آنا چاہتی ہو۔ قاتلوں کے ساتھ میرے گھر آنا چاہتی ہو۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں چلاتے اور اسے گالیاں دیتے رہے تھے۔
    ’’تم لوگ۔‘‘ اور ’’ہم لوگ‘‘ فرق کتنا بڑا تھا امامہ کو یاد آگیا تھا۔ آج بھی۔ اس سب کے بعد بھی اس غم کے ساتھ بھی اسے پچھتاوا نہیں تھا کہ اس نے وہ مذہب چھوڑ دیا تھا۔ اسے یاد آیا تھا ایک بار اس کے باپ نے کہا تھا وہ ایک دن گڑگڑاتے ہوئے اس کے پاس آکر معافی مانگے گی، اور وہ آج یہی کرنے جارہی تھی۔ پر کیوں کرنے جارہی تھی؟
    خون کا رشتہ تھا۔ تڑپ تھی۔ وہ کھینچی تھی ان کی طرف۔ اب جب اسے ان سے پہلے کی طرح جان کا خوف نہیں رہا تھا، پر خون کا رشتہ صرف اسی کے لئے کیوں تھا۔ تڑپ تھی تو صرف اس کو کیوں تھی۔ شاید اس لئے کہ اس کے پاس ان لوگوں کے سوا اور کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔ وہ اپنے لوگوں کے پاس تھے۔ اس کے پاس سالار تھا، لیکن وہ خونی رشتہ نہیں تھا محبت کا رشتہ تھا۔ خون جیسی تڑپ پیدا ہونے کے لئے ابھی اس کو کئی سال چاہیے تھے،سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں ماؤف ہونے کے باوجود اسے پہلی بار احساس ہورہا تھا کہ جو غم اسے وہاں کھینچ کر لایا تھا۔ وہ غم اس گھر میں جاکر پچھتاوے میں بدل جاتا۔
    ہاشم مبین کی مزید کوئی بات سننے کے بجائے اس نے فون رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد وہ بلک بلک کر روئی تھی۔ اس گھر میں اور اس دنیا میں اب کا خونی رشتہ کوئی نہیں رہا تھا۔ اس گھر میں صرف وسیم اس کا تھا، اور وسیم جاچکا تھا۔ وہ ایک کھڑکی جو پچھواڑے میں کھلی تھی ٹھنڈی ہوا کے لئے، وہ آندھی کے زور سے بند ہوگئی تھی۔ اب اس کھڑکی کو دوبارہ کبھی نہیں کھلنا تھا۔
    وہ سالار سکندر کے ساتھ واپس نیویارک لوٹ آئی تھی۔ وہ سمجھ رہا تھا وہ نارمل ہورہی تھی، آہستہ آہستہ بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔ کچھ وقت لگنا تھا۔ امامہ بھی ایسا ہی سمجھتی تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہاں موجود تنہائی نے امامہ کے اعصاب کو ایک بار پھر مفلوج کرنا شروع کردیا تھا۔ سالار پی ایچ ڈی کررہا تھا اور ساتھ ایک آرگنائزیشن میں ہفتے میں تین دن کے لئے پارٹ ٹائم کام کرتا تھا۔ وہ صبح پانچ بجے گھر سے نکلتا تھا اور رات کو کہیں آٹھ نو بجے اس کی واپسی ہوتی تھی اور واپسی پر وہ اتنا تھکا ہوا ہوتا تھا کہ ایک دو گھنٹے ٹی وی دیکھ کر کھانا کھا کر وہ دوبارہ سوجاتا تھا۔
    امامہ بارہ چودہ گھنٹے ایک بیڈروم کے آٹھویں منزل کے اس اپارٹمنٹ میں بالکل تنہا ہوتی تھی اور تنہائی کا یہ دورانیہ سالار کے گھر آجانے کے بعد اس کے سوجانے پر اور بڑھ جاتا تھا۔ ایک بیڈروم، ایک لاؤنج اور کچن ایریا کے علاوہ جہاں کچھ بھی نہیں تھا جہاں وہ جاکر کچھ وقت گزارسکتی۔ گھر کا کام بھی بہت مختصر تھا کیوں کہ گھر چھوٹا تھا۔ نیند اسے آتی نہیں تھی اور گھر میں کوئی مشغلہ نہیں تھا، صرف سوچنے کے علاوہ۔
    وسیم اس کے ذہن سے نہیں نکلتا تھا وہ روز اپنے فون میں موجود اس کے اور اپنے میسجز کو جو سینکڑوں کی تعداد میں ہوتے بیٹھ کر پڑھنا شروع کرتی اور پھر گھنٹوں اسی میں گزار دیتی۔ اسے وہ سینکڑوں میسجز اب جیسے زبانی حفظ ہوچکے تھے، لیکن پتا نہیں خود اذیتی کی وہ کون سی سیڑھی تھی جس پر بیٹھی وہ ہر روز ایک ہی کام بھیگی آنکھوں کے ساتھ کرتی رہتی تھی۔
    اپنے وجود کے ناکارہ پن اور زندگی کی بے معنویت امامہ ہاشم نے جیسے اس دور میں محسوس کی تھی، اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ اس کا اپنا وجود اس کے لیے سب سے بڑا بوجھ بن گیا تھا۔ اسے وہ کہاں پھینک آتی اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ بستر پر صبح نیند سے آنکھ کھلتے ہی اسے یہ خیال آتا تھا۔ ایک اور دن۔ پھر وہی روٹین۔ پھر وہی تنہائی۔ وہی ڈپریشن۔ وہ آہستہ آہستہ ڈپریشن کی طرف جانا شروع ہوگئی تھی، اور سالار ایک بار پھر اپنے آپ کو بے حد بے بس محسوس کرنے لگا تھا۔ وہ اس کے لئے کیا کرتا اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا، جس سے وہ پھر پہلے جیسی ہوجاتی۔
    چودہ گھنٹے تک اپنے کاموں اور سفر سے خوار ہونے کے بعد وہ تھکا ہارا گھر آنے پر بھی امامہ کے کہنے پر کہیں بھی چلنے کے لئے تیار رہتا تھا اور کہیں نہیں تو اپارٹمنٹ کے باہر پارک تک، لیکن وہ اس سے کہیں جانے کا کہتی ہی نہیں تھی۔
    وہ صبح سویرے گھر سے اس کے بارے میں سوچتے ہوئے نکلتا اور رات کو جب گھر واپس آنے کے لئے ٹرین میں بیٹھتا تو بھی اس کے بارے میں سوچ رہا ہوتا تھا۔ امامہ کی ذہنی کیفیت نے جیسے اس کے اعصاب شل کرنے شروع کردیئے تھے۔ جبریل کی پیدائش میں ابھی بہت وقت تھا اور وہ اسے اس جہنم سے نکالنا چاہتا تھا جس میں وہ ہر وقت نظر آتی تھی۔
    اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے سے پہلے ہی ایک رات امامہ نے کہا تھا۔
    ’’مجھے پاکستان جانا ہے۔‘‘
    ’’کیوں؟‘‘ سالار کو اپنا سوال خود بے تکا لگا۔
    وہ بہت دیر چپ رہی، یوں جیسے اپنے الفاظ جمع کررہی ہو پھر اس نے جو کہا تھا اس نے سالار کا دماغ بھک سے اڑا دیا تھا۔
    ’’کل میں نے وسیم کو دیکھا… وہاں کچھ کاؤنٹر کے پاس وہ پانی پی رہا تھا… دو دن پہلے بھی میں نے اسے دیکھا تھا، وہ اس کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا۔‘‘ بات کرتے ہوئے اس کی آواز بھرائی اور وہ شاید اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کے لئے رکی تھی۔
    ’’مجھے لگتا ہے میں کچھ عرصہ اور یہاں رہی تو پاگل ہوجاؤں گی۔ یا شاید ہونا شروع ہوچکی ہوں لیکن میں یہ نہیں چاہتی۔‘‘
    اس نے چند لمحوں کے بعد دوبارہ بات کرنی شروع کی تھی۔ وہ اگر واہموں کا شکار ہورہی تھی تو وہ اس بات سے واقف بھی تھی اور اس سے فرار چاہتی تھی تو یہ جیسے ایک مثبت علامت تھی۔
    ’’ٹھیک ہے، ہم واپس چلے جاتے ہیں، مجھے صرف چند ہفتے دے دو سب کچھ وائنڈ اپ کرنے کے لئے۔‘‘
    سالار نے جیسے لمحوں میں فیصلہ کیا تھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے امامہ نے نفی میں سرہلایا۔
    ’’تم پی ایچ ڈی کررہے ہو، تم کیسے میرے ساتھ جاسکتے ہو؟‘‘
    ’’میں پی ایچ ڈی چھوڑ دوں گا… ڈاکٹر کی ڈگری ضروری نہیں ہے… تم اور تمہاری زندگی ضروری ہے۔‘‘
    سالار نے جواباً اس سے کہا، کچھ کہنے کی کوشش میں امامہ کی آواز بھرائی وہ کہہ نہیں پائی۔ اس نے دوبارہ بولنے کی کوشش کی اور اس بار وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔
    ’’نہیں تم ساتھ نہیں آؤگے… یہ کیوں ضروری ہے کہ ساری زندگی تم قربانیاں ہی دیتے رہو میرے لئے… اب پی ایچ ڈی چھوڑو… اپنا کیرئیر چھوڑو… تمہاری زندگی ہے۔ قیمتی ہے تمہارا وقت، تم کیوں اپنی زندگی کے اتنے قیمتی سال میرے لئے ضائع کرو۔‘‘
    سالار نے کچھ کہنے کی کوشش کی، کوئی اور موقع ہوتا تو اس کا یہ اعتراف اس کو خوشی دیتا، لیکن اب اسے تکلیف ہورہی تھی۔ وہ روتے ہوئے اسی طرح کہہ رہی تھی۔
    ’’میں تم سے بہت شرمندہ ہوں، لیکن میں بے بس ہوں میں کوشش کے باوجود بھی اپنے آپ کو نارمل نہیں کر پارہی… اور اب … اب وسیم کو دیکھنے کے بعد تو میں اور بھی… اور بھی۔‘‘ وہ بولتے بولتے رک گئی، صرف اس کے آنسو اور ہچکیاں تھیں جو نہیں تھمی تھیں۔
    ’’سالار، تم بہت اچھے انسان ہو… بہت اچھے ہو تم بہت قابل ہو… تم مجھ سے بہتر عورت ڈیزرو کرتے ہو… میں نہیں۔I am a worthless woman…..I m a nobody تمہیں ایسی عورت ملنی چاہیے جو تمہارے جیسی ہو… تمہیں زندگی میں آگے بڑھنے میں سپورٹ کرے… میری طرح تمہارے پاؤں کی بیڑی نہ بن جائے۔‘‘
    ’’اور یہ سب کچھ تم آج کہہ رہی ہو جب ہم اپنا پہلا بچہ expect کررہے ہیں…؟‘‘
    ’’مجھے لگتا ہے یہ بچہ بھی مرجائے گا۔‘‘ اس نے عجیب بات کہی تھی سالار نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی اس نے ہاتھ چھڑالیا۔
    ’’تم کیوں اس طرح سوچ رہی ہو… اسے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ سالار پتا نہیں کس کو تسلی دینا چاہتا تھا لیکن اس وقت امامہ سے زیادہ اس کی اپنی حالت قابل رحم ہورہی تھی۔




  • بے غیرت — دلشاد نسیم

    بے غیرت — دلشاد نسیم

    پورے گاؤں کو سانپ سونگھ گیا۔ پنچایت کا فیصلہ تھا ہی ایسا… شاید ہی کوئی گھر ہو جس کا چولہا جلا ہو۔ ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا۔ نہ اس شام پیپل کے درختوں کے نیچے حقہ گرم ہوا نہ کسی نے ہیر گائی۔ جمع سب ہوئے لیکن ’’ہک ہا‘‘ کہہ کر ایک دوسرے کو دیکھتے، ہاتھ ملتے رہے اور بس۔
    رخشی کا رو رو کر برا حال تھا۔ زلیخاں اس کو غصے سے گھورتی دانت پہ دانت جما کر کہہ رہی تھی:
    ’’مرن جوگے ایسا نہ ہو تیرا باپ صفیہ کے ساتھ ساتھ تجھے بھی جان سے مروا دے۔‘‘
    ’’تو مروا دے… مجھے کیوں نہیں مرواتا میں بھی تو عبداللہ سے محبت کرتی ہوں۔‘‘ رخشی نے تنک کر جواب دیا۔
    ’’بکواس نہ کر۔‘‘ ماں نے زور دار تھپڑ رخشی کے گال پہ مارا۔ لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں۔
    ’’کیوں؟ میں نبی بخش کی بیٹی ہوں اس لیے مجھے کاری کی سزا نہیں ملے گی؟‘‘
    ’’بے وقوفے تو عبداللہ کی بچپن کی منگ ہے، اس لیے یہ محبت و حبت کا بھوت اتار دے سرسے۔‘‘ ماں نے ماتھا پیٹتے ہوئے کہا۔
    رخشی نے ماں کے غضب کے تیور دیکھے تو نرمی سے بولی:
    ’’اماں تیرے سینے میں تو عورت کا دل ہے ناں! ذرا دل پہ ہاتھ رکھ اور بتا… یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک لڑکی کو کسی پاگل کے پلے باندھ دیا جائے اور وہ احتجاج بھی نہ کرے۔ یہ نہ سوچ وہ پاگل تیرا بیٹا ہے۔ خدا کے لیے آپا کو بچالے اماں…‘‘ اس نے ہاتھ جوڑے مگر ماں نے اس کو قہرآلود نظروں سے دیکھا۔ اس وقت وہ محض عورت نہیں تھیں، زلیخاں نہیں تھیں صرف ایک پاگل بیٹے لاڈلے کی ماں تھیں۔ نبی بخش کی بیوی تھیں۔ زمین دار نبی بخش کی بیوی، جس کی پنچایت کا فیصلہ الٰہی مہر ہوتا تھا۔ کسی نے کبھی اس فیصلے کی حکم عدولی نہیں کی تھی تو زلیخاں کی کیا مجال تھی، گائوں بھر میں پھیلے سناٹے کی چاپ کو زلیخاں اپنی حویلی کی راہ داری میں محسوس کررہی تھیں۔ نوکر اسی طرح اپنے کاموں پر معمور تھے۔ مگر خاموش اور غم زدہ برسوں پرانی ملازمہ ماسی خیراں نے آج کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔
    زلیخاں کو شبہ تھا کہ خیراں نے کھانا کیوں نہیں کھایا۔ اس نے پوچھا تو خیراں نے اپنی جھریوں والی آنکھیں میچیں اور دکھ سے بولیں:
    ’’برسوں حویلی کا نمک کھایاپر دل پتھر نہیں ہوا۔ پتھر ہوتا تو کچھ کھا لیتی…‘‘
    ’’خیراں تم بیمار رہتی ہو… دوا کھانی ہو گی۔‘‘ اماں نے فکرمندی سے کہا۔
    ’’خیراں کی خیر ہے زلیخا بی بی… اسے کیا ہونا ہے۔‘‘ خیراں نے سرد آہ بھر کر کہا۔





    ’’یہ دوا دارو سارے ایویں ہیں، جب مولا نے لے کے جانا ہے تو لے جانا ہے، اس نے کون سی عمر شمر دینی ہے۔ کسی کی موت کا کبھی کوئی حیلہ بن جاتا ہے اور کبھی کوئی وسیلہ بن جاتا ہے۔‘‘ زلیخاں خیراں کی بات سمجھ گئی تھی اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے کہ اس کو ستانے کے لیے ایسا کہہ رہی ہے مگر خیراں عمر کے جس حصے میں تھی اس کو اب یہ فکر نہیں رہی تھی کہ اس کا کاٹ دار باتوں سے کوئی نقصان ہو گا۔ وہ بولے گئی۔
    ’’بہت مہربانی دھیے، ورنہ ہم غریبوں کا کون خیال کرتا ہے۔‘‘
    زلیخاں نے کچھ کہا نہیں، رنگین کرسی جس پر شیشے کا کام ہوا تھا، یہ کرسی ایسی جگہ پر رکھی تھی جہاں حتی الامکان حویلی کو دیکھا جاسکتا تھا۔ زلیخاں ہول ناک خاموشی سے گھبرا کر بولی:
    ’’بہت خاموشی ہے خیراں… لاڈلا سو گیا کیا؟
    ’’جی سو گیا… فرید کہہ رہا تھا آج اس نے بہت تنگ کیا تھا۔ دوائی دی تب سویا تھا۔‘‘ خیراں سپاٹ لہجے میں اسے بتا رہی تھی۔
    زلیخاں کے چہرے پہ دکھ کے نمایاں تاثرات تھے۔ اس نے افسردگی سے کہا:
    ’’سوچا تھا صفیہ آجائے گی تو میری فکر بانٹ لے گی، مگر اس نے تو ایسا چاند چڑھایا کہ بس! مرحوم اللہ بخش بھائی کی روح تڑپ گئی ہو گی…‘‘ خیراں نے سر ہلایا۔ کہا کچھ نہیں۔ زلیخاں بے چین ہوکر اٹھی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی جارہی تھی… جیسے روح پھر رہی ہو۔ نبی بخش ابھی مرنے سے واپس نہیں آیا تھا۔
    لاڈلے کے کمرے کے باہر فرید پہرا دیا کرتا تھا۔ لاڈلے کا کیا بھروسہ کب اُٹھ جائے اور شور مچا دے؟ کب اس کو کچھ کھانے کو دل چاہے اور کب…؟
    فرید نے ایک طرف ہوکر ادب سے سرجھکا کر زلیخا کو راستہ دیا۔ لاڈلا معصومیت کی تصویر بنا آنکھیں بند کیے پڑا تھا۔ چھبیس سال کے نوجوان کا ذہن سات آٹھ سال کے بچے سے زیادہ نہیں تھا۔ وہ کبھی کبھی سوتے میں سسکنے لگتا اور اس کا سارا جسم ہل جاتا۔ زلیخاں کی ممتاز تڑپ اٹھتی۔
    ’’کاش میں تیرے لیے خوشیاں خرید کے لا سکتی میرے لاڈلے۔ کاش اللہ نے مجھے ایسی آزمائش میں نہ ڈالا ہوتا۔ تو بھی عام لڑکوں کی طرح پڑھ لکھ کر پنچایت میں بیٹھتا۔ پھر تو خاص ہو جاتا۔ نبی بخش کا بازو، میری جان! تجھے لاڈلا کوئی نہ کہتا تو حبیب اللہ ہوتا… چودھری حبیب اللہ۔‘‘
    زلیخاں کے آنسو بسکٹی چادر کی تہوں میں ڈوب گئے۔
    صفیہ سے تیرا ہاتھ مانگتی تو چراغاں ہو جاتا، وہ تیری دلہن بن جاتی۔ پورے گائوں میں بتاشے بانٹتی تو… تو…‘‘ زلیخاں کی آواز بھرا گئی۔ اس نے لاڈلے کے بال سنوارے اور اٹھ گئی۔
    ٭…٭…٭
    رات گہری ہوتی جارہی تھی۔ صفیہ نے اپنے پیروں کو دیکھا اور سوچا۔
    ’’جو زنجیر آج میرے پیروں میں بندھی ہے کوئی وقت کے پیروں میں بھی باندھ دے۔ میں اپنے راجے بھائی عبداللہ کے پاس دوچار گھڑیاں اور گذار لوں۔‘‘ صفیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے عبداللہ کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کی اور کہا:
    ’’یہ کبھی نہ سوچنا کہ تُو نے آپا کو مار دیا ہے، بلکہ یہ سوچنا کہ غیرت نے بے غیرتی کو ماردیا۔ میں نے کوئی اچھا کام تھوڑی کیا ہے، روایت توڑی ہے… روایت! چاچے کے پاگل بیٹے سے بچپن کی منگنی توڑ کے ماسٹر جیسے سمجھ دار کے ساتھ بھاگ کر شادی کے خواب دیکھے، یہ تو گناہ ہے… سزا تو ملنی تھی۔‘‘
    عبداللہ خاموش تھا۔ صفیہ کی گود میں سر رکھے وہ کسی اور دنیا میں تھا جب کہ صفیہ کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔ چوبیس سال کی صفیہ اور صرف چوبیس منٹوں کی مہمان کی تھی دنیا میں… موت کے چوبیس منٹ بہت بھاری تھے۔ اسے یہ بھی دکھ تھا کہ اس کے جانے کے بعد اس کے بھائی کا کیا ہو گا۔
    اس لیے تو وہ عبداللہ سے کہہ رہی تھی کہ رخشی سے شادی کر لینا۔ عبداللہ کی آنکھوں سے آنسو نکلا اور محبت کرنے کے جرم میں کاری ہونے والی بہن کی گود میں گر گیا۔
    صفیہ نے محبت سے بوجھل اور موت کے غم سے ٹوٹتی آواز میں کہا تھا:
    ’’رخشی تیرا بہت خیال رکھے گی، کیا ہوا جو وہ لاڈلے کی بہن ہے۔ یہ تو قسمت کی بات ہے عبداللہ کہ میں تیرے سہرے کے گیت نہیں گاسکوں گی۔ تیرا ماتھا چوم کر سدا خوش رہ نہیں کہہ سکوں گی… پر میرے بعد اگر کوئی تجھے چاہتا ہے تو… تو…‘‘ صفیہ کی آواز بھرا گئی اور وہ سانس لے کر بولی:
    ’’وہی تو ہے، وہی جانتی ہے میرے بھائی کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔‘‘ مگر عبداللہ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔
    ’’میں آپا کو کیسے گولی مار سکتا تھا… کیسے؟ اپنی آپا کو اپنے سامنے کیسے تڑپتا دیکھ سکتا تھا۔‘‘
    عبداللہ نے سر اٹھا کر دیکھا آپا کی آنکھیں خشک تھیں۔ اس نے بے ساختہ صفیہ کا ہاتھ چوم لیا۔
    ’’آپا… مجھے معاف کردینا، تیرے ہاتھوں کا لگا پودا ہوں۔ تیرا طفیل… مجھے تو اماں ابا کا چہرہ تک یاد نہیں… تو ہی میرے لیے ماں ہے، تو ہی باپ۔ مگر یہ پنچایت کا فیصلہ ہے، مجھے معاف کردینا۔‘‘ صفیہ کمال ضبط سے مسکرا رہی ہے۔
    ’’آپا مجھے یاد ہے جب بہت چھوٹا سا تھا تو میرے لیے ہینڈ پمپ چلاتی اور میں شرارت سے ہاتھ پر پانی کی دھار دیکھتا رہتا… پانی کا فوارہ بنتا اور میں ہنستا۔ تو نے کبھی نہیں کہا بس کر عبداللہ میرا ہاتھ تھک گیا ہے۔‘‘ وہ اب بھی روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    صفیہ بھی اس ہینڈ پمپ کے فوارے کے چکر میں گم ہوگئی۔ رات کی سیاہی میں جانے کس نقطے میں صفیہ کھو گئی۔ کہنے لگی:
    ’’وہ کبھی تھکتی تو کہتی اور وہ یاد ہے جب میں توے کو چولہے سے اتارتی اور تم چمٹے کو الٹے توے پر لگا کر کہتے دیکھو آپا ستارے بن گئے ہیں۔‘‘ صفیہ نے آنکھیں بند کرلیں اور دکھ سے بولی:
    ’’اب وہ تو سارے ستارے آنسو بن گئے ہیں اور کیسے نہ بنتے جب ہم اصولوں کے خلاف چلیں گے، قانون قدرت کو للکاریں گے تو غضب تو ڈھایا جائے گا ناں۔‘‘
    عبداللہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
    ’’کون سا غضب… کیسا قانون… آپا…؟‘‘
    صفیہ خاموش رہی اور مسکرا دی
    ’’ابھی تو چھوٹا ہے بڑا ہو جائے گا تو تجھے بھی یقین آجائے گا تو نے جو کیا اچھا کیا۔ میرا مرجانا ہی اچھا ہے میری جان اور باتیں کرتے کرتے مگر اس کی سوچوں میں اٹھارہ سال کی صفیہ آگئی جس کو اپنی گڑیا سے بہت پیار تھا، جو اس کے دکھ سکھ کی ساتھی تھی۔ وہ چہرے پہ عشق کا نور اور آنکھوں میں محبوب کی محبت سے جدا ہونے کا دھڑکا گنگنایا کرتی تھی۔
    دل وج شوق ملن دا
    تیرے دی چڑھی
    کنڈے اتے مہر ماں وے میں کدوں دی کھڑی… کھڑی
    وہ گڑیا کو سینے سے لگائے مسلسل ایک ہی لفظ کی گردان کیے جارہی تھی۔
    دل وچ شوق ملن دا
    ہنیری عشق دی چڑھی
    عبداللہ نے شرارت سے آکر گڑیا جھپٹی اور ہنسنے لگا۔
    صفیہ نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے گڑیا لینی چاہی تھی مگر عبداللہ کے لیے وہ بے جان سی گڑیا کے علاوہ کیا تھی بھلا؟ مگر صفیہ کی تو وہ سہیلی تھی۔
    ’’دیکھ اس کو کچھ مت کہنا یہ میری سہیلی ہے۔ میرے دکھ درد کی ساتھی…‘‘ صفیہ چیخ کر بولی۔
    چھوٹا سا عبداللہ رک گیا، پریشان ہوگیا اور آپا سے روہانسی انداز میں پوچھنے لگا۔
    ’’آپا تجھے کیا درد ہے، کبھی تو نے بتایا ہی نہیں۔‘‘ صفیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
    ’’سارے درد بتانے والی تھوڑی ہوتے ہیں۔ جس کو سہے جائو۔ سہے جائو۔ ٹھیک تھوڑی ہوتے ہیں۔‘‘
    عبداللہ کے چہرے پر غضب ناک غصہ تھا۔
    ’’مجھے معلوم ہے…تجھے لاڈلے کی وجہ سے پریشانی رہتی ہوگی۔ دیکھنا میں اس پاگل سے تیری شادی نہیں ہونے دوں گا۔ کبھی بھی نہیں۔‘‘ اس نے انگلی اٹھا کر کہا۔معصوم نے اپنی دانست میں بہت عقل کی بات کی تھی۔
    صفیہ حیران رہ گئی۔ اس نے لاڈلے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ تو عشق کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اسے یاد ہی نہیں یہ روگ بھی تو اس کے جان کو لگا ہوا ہے۔
    ’’آپا میں تیری شادی لاڈلے سے نہیں ہونے دوں گا۔ دیکھنا تو دل چھوٹا نہ کر۔ دفع کر گڑیا کو۔ اس کو دکھ درد کہنے کا کیا فائدہ۔ لاڈلا؟ واقعی بڑی دوراندیشی کی باتیں کر رہا تھا۔ یہ کوئی صلاح تھوڑی دے سکتی ہے۔ دکھ اس سے کہہ جو بتائے… بتائے کہ درد کا علاج کیا ہے۔‘‘صفیہ کا دل بھر گیا۔
    ’’ہائے میرا بھائی اتنا سیانا ہوگیا ہے۔ ‘‘عبداللہ خوش ہوکر چوڑا ہوگیا۔
    صفیہ نے پیار سے عبداللہ کو گلے لگایا اور پاس بٹھا کر کہنے لگی:
    ’’مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں نے درد کہہ دیے تو یہ زیادہ نہ ہو جائیں۔