Tag: afsana

  • دیو اور پری — سارہ عمر

    بہت پرانی بات ہے ایک دیو کا ایک بستی پر سے گزر ہوا۔ اس کی نظر اک گھر کے باغ میں کھڑی خوب صورت لڑکی پر پڑی۔
    لڑکی کیا تھی پری تھی۔ شہزادیوں کی سی آن بان والی۔ دیو نے خوب صورت لڑکی کو پانے کا فیصلہ کر لیا۔ دیو ایک خوبصورت شہزادے کا روپ دھار کر گھوڑے پر سوار اس گھر کے آگے جا پہنچا۔
    دروازے پر دستک دی اور کہا کہ شہزادہ راستہ بھول بیٹھا ہے مسافر ہے کیا پناہ مل سکتی ہے؟
    شہزادی جیسی لڑکی اور اس کے ماں باپ تو اس شہزادے کا رنگ روپ، آن بان اور شان و شوکت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے اسے گھر آنے کی اجازت دے دی۔ وہ ان کے گھر آیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ کچھ ہی عرصے میں لڑکی کے گھر والوں کو سبز باغ دکھا کر اپنی دولت کے قصے سنا کر اور اپنی باتوں میں الجھا کر ایسا ہوش سے بے گانہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی دینے پر راضی ہو گئے۔
    اس لڑکی کا نام پری تھا، لگتی بھی پریوں جیسی تھی۔ وہ تو خود شہزادے پر دل و جان سے گرویدہ ہو گئی لیکن مشرقی شرم و حیا کے باعث بول نہ سکی۔ دل ہی دل میں مستقبل کے خواب سجائے، وہ خاموشی سے اپنے سپنوں کے راجا کے سنگ رخصت ہو گئی۔
    اس کے ماں باپ بہت خوش تھے کہ دور دیس کا راجا صرف ان کی بیٹی کو لینے اتنی دور کا سفر کر کے آیا۔
    دیو شہزادے نے پری کو گھوڑے پر بٹھایا اور گھوڑا ہوا سے باتیں کرتا دوڑتا چلا گیا۔
    پری اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی اچانک اسے لگا گھوڑا سچ میں آسمان سے باتیں کرتا اوپر کی طرف جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ گھوڑا بادلوں میں گم ہوتا گیا۔ دیو کا محل بادلوں کے اوپر تھا۔





    دیو کا محل آگیا تھا۔ دیو جو ابھی شہزادے کے ہی روپ میں تھا اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ ے اپنے محل لے گیا۔ وہ حیران و پریشان تھی کہ یہ کہاں آگئی؟………
    شہزادے نے کہا: ”پری میں زمین پر سیر کرنے گیا تھا جب تم پر نظر پڑی۔ مجھے لگا کہ تمہارے بغیر میری زندگی ادھوری ہے تمہارے آنے سے میرا گھر مکمل ہو گیا۔ اب یہ تمہارا گھر ہے ہمیشہ کے لئے۔”
    پری کچھ گھبرائی اور بولی: ”لیکن میر ے ماں باپ؟ کیا میں ان سے کبھی مل نہ سکوں گی۔”
    ”نہیں نہیں اب ایسا بھی نہیں کچھ سال تو انتظار کرنا پڑے گا نا… کیوںکہ بار بار زمین پر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔”
    پری اب کیا کرتی شادی تو ہو گئی تھی۔ شہزادہ اسے لے کر بادلوں کی سیر کرتا، محل کا ایک ایک گوشہ گھماتا پھراتا رہا۔
    کئی ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ دیو اپنی اصلیت چھپاتے چھپاتے تنگ آگیا تھا۔ دیو نے ایک دن پری سے کہا: ”بہت دن گزر گئے اب تم اپنے گھر کو سنبھالو۔ مثلاً کھانا پکانا صفائی ستھرائی وغیرہ۔ پری پریشان ہوئی اور بولی:” تم مجھے ماسی بنا کر لائے ہو کیا؟”
    دیو شہزادہ بولا: ”نہیں مجھے باورچی کے ہاتھ کے کھانے نہیں پسند۔ تم دل سے میرے لئے پکائو گی تو مجھے اچھا لگے گا۔”
    پری بولی: ”لیکن میرے ماں باپ نے مجھے کھانا بنانا نہیں سِکھایا۔ شادی بھی اتنی جلدی میں ہوئی کہ کچھ سیکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔”
    شہزادہ بولا: ”باورچی سے سیکھ لو آہستہ آہستہ سب آجائے گا۔”
    پری شہزادے کی محبت میں راضی ہو گئی۔ باورچی محل کا ایک ہی ملازم تھا۔ وہ ایک جن تھا مگر اس نے اپنی اصلیت نہیں بتائی۔ وہ ایک عام انسان کے روپ میں تھا۔ باورچی نے اسے بتایا: ”پری بی بی! شہزادے صاحب کا کھانا بنانا آسان بات نہیں۔ دراصل ان کے نخرے بہت زیادہ ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی بات کا برا مان جاتے ہیں۔ شہزادے کی پسندیدہ چیز تیار کرنا جان جوکھم کا کام ہے۔”
    پری کو لگا کہ باورچی خواہ مخواہ اپنی اہمیت جتا رہاہے۔ کچھ شادی کا نشہ تھا اور کچھ اپنے حسن کا غرور جن کا شکار تو شہزادہ ایک ہی وار میں ہو گیا تھا۔ پری دل لگا کر سیکھنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس نے باورچی کے ساتھ مل کر بہت محنت سے کھانا بنایا۔ مصالحے وغیرہ اپنے ہاتھ سے ڈالے تا کہ اس کا شوہر اس کی محنت و محبت کا حترام کرے ۔
    کھانا میز پر لگایا گیا۔ شہزادے نے جیسے ہی کھانا چکھا اس کے غیظ و غضب کی انتہا نہ رہی۔ وہ غصے سے چلایا: ”اتنا نمک اور اتنی مرچ کتنا بد مزہ کھانا بنا کر رکھا ہے میرے آگے۔ ”
    وہ ایک شیر کی طرح دھاڑا اور اسی وقت اس کا شہزادے والا روپ ختم ہوا اور لبادہ اُتر گیا۔ اس کی جگہ ایک دیو نے لی۔ معصوم پری اس صورتِ حال سے گھبرا کر چلاتی ہوئی سیڑھوں سے اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے کمرے میں کنڈی لگا کر بے تحاشا روئی۔ روتے روتے وہ کمرے کی واحد کھڑکی کے پاس آگئی اور باہر دیکھتے ہوئے رونے لگی اور اس کے آنسو قطار در قطار بادلوں پر گرنے لگے۔ ننھے ننھے موتیوں نے پانی کے ڈھیر سارے قطروں کی شکل اختیار کر لی اور بادل بہت زور سے کڑکے اور برش برسنے لگے گئی۔ پری روتی جاتی تھی اور بارش کی جھڑی رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔
    پری کا دل بہت بری طرح ٹوٹا تھا۔ کہاں وہ نازک پری شیشے جیسی کانچ جیسی آبگینے کی طرح اور کہاں وہ ظالم دھاڑتا ہوا دیو۔ اوپر سے اس کے سامنے اس کی بنائی ہوئی چیز کی برائی۔ بھلا گھر میں اس کے ساتھ کبھی ایسا سلوک ہوا تھا۔ اب ماں باپ کی یاد نے اس کا دل اپنی مٹھی میں لے لیا۔ دھیان دیو سے ہٹ کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا تھا۔ اپنے ماں باپ کے پاس۔ ناجانے کس حال میں ہوں گے۔
    موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ کتنے عرصے بعد بارش ہوئی تھی۔ پری کی ماں نے ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا تاکہ بارش کے کچھ قطرے سمیٹ لے۔ لیکن پانی کے یہ قطرے جیسے ہی اس کے ہاتھ پر پڑے۔ اسے لگا یہ قطر ے نہیں پری کے آنسو ہیں۔
    اس کا دل بہت بری طرح بے قرار تھا۔ وہ پریشانی سے پری کے باپ سے بولی: ”کتنے دن ہو گئے پری کی کوئی خیر خبر نہیں۔ کیا تمہارے پاس اس کا پتا تک نہیں؟” پری کا باپ بھی اداس تھا۔ وہ اپنی کم عقلی پر حیران ہوا کہ واقعی مجھے اس کا پتا پوچھنے کی فرصت نہ ملی اور یوں انجان شخص کے ساتھ اپنی پھول سی بیٹی بھیج دی۔ نہ جانے کس حال میں ہو گی۔ دونوں ماں باپ اب پری کے لئے بے چین اور مضطرب سے ہو گئے۔
    پری نے آہستہ آہستہ حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا۔ کیا کرتی شادی جو ہو گئی تھی۔ اس نے کھانا پکانا بھی سیکھ لیا تھا۔ وہ سارا سارا دن محل کی صفائی کرتی، کھانا پکاتی ،برتن دھوتی اور کپڑے دھوتی۔ حالاںکہ دیو چاہتا تو اسے کچھ نہ کرنا پڑتا۔ لیکن وہ چاہتا تھا کہ وہ اتنا تھک جائے کہ اسے اپنے گھر کی یاد نہ ستائے۔ اپنے ماں باپ سے ملنے کی خواہش نہ ہو کیوںکہ اگر وہ زمین پر چلی گئی اور میری اصلیت بتا دی تو بھلا اس کے ماں باپ اسے دوبارہ کب آنے دیں گے۔ اس سوچ نے دیو کو خود غرض بنا دیا۔
    پری کو ہر وقت غم رہتا کہ اس کے ماں باپ نے اس کی شادی جس انسان سے کی وہ کیا نکلا؟ سب پیار، محبت، عزت واحترام کے وعدے ہوا ہو گئے اور بس کچھ ہی مہینوں میں اس کی اہمیت ختم ہو گئی۔
    پری دن رات وہاں سے نکلنے کے منصوبے بناتی۔ لیکن کیسے؟ کیا کرے؟ کھڑکی سے چھلانگ لگا دے؟ بادلوں پر گرے گی تو کہاں جائے گی؟ اسے لگتا کہ دیو اس کو قید میں ڈال کر بھول گیا ہے۔




  • آئینہ اور فضّہ — کومل ذیشان

    آئینہ اور فضّہ — کومل ذیشان

    اسائنمنٹ مکمل کرتے ہوئے اس نے پانچویں، چھٹی بار اضطراب میں سر اٹھا کر سامنے دیکھا، کھڑکی کے شیشے پر رنگ برنگی جلتی بجھتی روشنیوں کا عکس تھا۔ جلتی بجھتی روشنیاں جو اسے لمحہ بہ لمحہ اندھیرے میں دھکیل رہی تھیں، دل ڈوبتا تھا پھر ڈوبتا تھا پھر ابھرتا تھا۔ باہر شدید سردی تھی اندر چلتے ہیٹر کی حدت کے باعث شیشے پر پانی کے قطرے پھسلتے تھے وہ بے ارادہ ہی کتنی دیر ان قطروں کو اوپر سے نیچے پھسلتا دیکھتی رہی ساتھ والے گھر میں شادی تھی ہفتہ پہلے سے ہی ڈھولک شروع ہوگئی تھی اس کے گھر والے بھی مدعو تھے۔ اس وقت سب وہیں گئے ہوئے تھے امی، ابا، آئینہ مگر وہ نہیں گئی تھی، کیسے جاسکتی تھی کل بائیو کیمسٹری کی اتنی اہم اسائنمنٹ جمع کروانی تھی سو گہری سانس لے کر سر دوبارہ جھکایا مگر دھیان کہیں اور تھا اور دل بھی۔ وہاں سے آتی ڈھولک اور گانوں کی آوازیں، قہقہے اور باتیں اس نے سر سامنے پھیلے کاغذوں پر رکھ دیا جن پر لکھے نیلے حروف اس کے آنسوؤں سے پھیلتے چلے گئے۔





    دفعتاً اسے احساس ہوا کمرے میں کسی نے جھانکا ہے وہ تیزی سے چہرہ صاف کرکے واپس مصروف نظر آنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسائنمنٹ بنی نہیں ابھی تک اگلے پل آئینہ اس کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی، نہیں ابھی تو کک… کافی کام رہتا ہے وہ قلم تیزی سے کاغذ پر چلاتے ہوئے بولی تھی۔ آئینہ نے غور سے اس کے جھکے سر اور کاغذ پر پھیلے گیلے حروف کو دیکھا۔ فنکشن ختم نہیں ہوا ابھی اب کی بار اس نے سر اُٹھا کر پوچھا تھا۔ ”نہیں ابھی تو ان کا کافی دیر جاگنے کا پروگرام ہے” آئینہ نے اس کی سوجی ہوئی آنکھوں سے بے اختیار نظریں چرائیں۔ ”تم کہتی ہو تو میں آجاتی ہوں امی، ابا تو آگئے ہیں واپس تمہاری مدد کروا دیتی ہوں۔ نہیں تم وہاں رہو خالہ کو برا لگے گا۔” آئینہ نے بے اختیار گہری سانس لی وہ جانتی تھی کہ وہ اس وقت اکیلے رہنا چاہتی ہے۔ ”چلو تم اسائنمنٹ مکمل کرلو میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں” وہ اس کے سر کو نرمی سے سہلاتے ہوئے بولی تھی۔ کمرے سے باہر جاتے ہوئے اس نے مُڑ کر دوبارہ فضہ کو دیکھا جو واپس اسائنمنٹ پر جُھک گئی تھی اور باہر نکل گئی کسی کے ہاتھوں رد ہونا یقینا ایک تکلیف دہ چیز ہے مگر اس کے ہاتھوں رد ہونا جس سے دل وابستہ ہو اس تکلیف کو ناپنے کا شاید کوئی پیمانہ نہیں بن سکتا، اس توہین کو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے بے حد مشکل۔
    آئینہ نے کپڑے تہ کرتے ہوئے پانچویں چھٹی بار اس کی طرف دیکھا تھا، جو پچھلے آدھے گھنٹے سے بے حس و حرکت ٹیرس میں کھڑی تھی نگاہیں بھی تب سے مسلسل ایک ہی جگہ پر ٹکی تھیں۔ ٹیرس سے خالا کے گھر کا برآمدہ اور لان نظر آتا تھا۔ سرمد کی شادی کو ایک ہفتہ گزر بھی گیا تھا آج کل ان کے گھر خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ بیٹیوں نے ابھی تک میکے میں ہی ڈیرہ ڈال رکھا تھا نئی نویلی بھابھی کے خوب چاؤ چونچلے کیے جارہے تھے۔ دو دن بعد دلہا، دلہن ہنی مون پر جانے والے تھے سو ان کے جانے کے بعد ہی دونوں بیٹیوں نے بھی سسرال سدھارنا تھا۔ ”فضّہ ذرا میری مدد کروا دو صبح سے میں اکیلے ہی لگی ہوئی ہوں” آئینہ نے ہمت کرکے بلآخر اسے پکارا وہ اس کی آواز پر یکدم چونک کر پلٹی۔ مجھے دھیان نہیں رہا پریشانی میں اس کی لکنت بڑھ جایا کرتی تھی۔ آئینہ نے اس کے خوبصورت چہرے پر بکھرے آزردگی کے رنگ کو دیکھا کچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر پھر خاموش ہوگئی۔
    وہ جہاں کھڑی ہوجاتی تھی کسی بیش قیمت ہیرے کی طرح سب میں الگ سے چمکتی ہوئی نظر آتی تھی، یہ خوبصورتی اور انفرادیت صرف اس کی صورت تک محدود نہیں تھی اخلاق، کردار، تعلیم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ بس جس ایک چیز نے اس چمکتے چاند پر گرہن لگایا تھا وہ اس کی پیدائشی کمزوری تھی اس کی زبان کی لکنت سرمد کی شادی طے ہونے سے پہلے تک آئینہ کو اس کے دل میں موجزن اس جذبے کی شدت کا احساس نہیں تھا۔ وہ اندر کہیں اس کی پسندیدگی کو جانتی اور سمجھتی تھی۔ وہ سب اکٹھے پلے بڑھے تھے اور جس طرح ان دونوں کی آپس میں دوستوں والی بے تکلفی تھی، جس طرح سے خواہ وہ پڑھائی کا معاملہ ہو یا کچھ اور وہ اس کی مدد کیا کرتا تھا ہر جھگڑے، ہر گیم میں اس کی طرف داری کیا کرتا تھا وہ بھی یہی اندازہ لگا پائی تھی کہ وہ فضہ کو پسند کرتا ہے۔ امی کو بھی سرمد کے جھکاؤ کے بارے میں اندازہ تھا وہ تو بلکہ خالہ کی طرف سے رشتہ مانگنے کے انتظار میں تھیں۔ ”ہاتھ چلانا بند کیوں کردیئے ہیں۔” فضہ نے اس کو ہلایا تو وہ سوچتے سوچتے ہوش میں آئی تھی۔ اس نے نرمی سے اس کے ہاتھ تھام لیے: ”زندگی میں نافضہ دل ٹوٹتے، جڑتے رہتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ہر ایک کی زندگی میں کبھی نا کبھی ایسا مرحلہ آتا ہے مگر جو اس چھوٹے سے فیز میں اپنی پوری زندگی کو قید کردیتا ہے وہ ایک دن ضرور پچھتاتا ہے۔” اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا فضہ جو اس سے اس بات کی توقع نہیں کررہی تھی اس نے شرمندگی سے سر جُھکا لیا وہ یہ کیسے بھول گئی وہ آئینہ تھی اس کی سگی بہن اس کے کہے اور بن کہے لفظوں کو اس سے بہتر اور کون سمجھ سکتا تھا۔ بچپن سے اب تک اس کو سنبھالنے، اس کو سمجھنے کی ذمہ داری وہی تو اٹھاتی آئی تھی۔ اتنے سال اس نے مجھے غلط فہمی میں مبتلا رکھا اس نے سر اٹھایا تو اب کی بار آنکھوں میں آزردگی اور تکلیف نہیں غصہ تھا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے اسے اندازہ نہ ہو آئینہ کو اس پل اس کی جلتی آنکھوں سے خوف آیا تھا جن کے شعلے بار بار ان میں ابھرنے والے آنسو بُجھا دیتے تھے پھر تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ بھڑکنے لگتیں مجھے یقین نہیں آتا کہ اس نے خالا کے سامنے میرے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے۔ آئینہ اس کی بات پر چونکی تھی یکدم اسے اس کے اتنے شدید ردعمل کا سبب سمجھ میں آیا تھا اس کا دل ٹوٹا تھا اس لیے نہیں کہ سرمد نے اسے رد کیا تھا بلکہ اس کے دل ٹوٹنے کی وجہ وہ سبب تھا جس کی وجہ سے وہ ردکی گئی تھی۔ وہ آئینہ کو بتاتی چلی گئی تھی سارا کچھ امی کی طرح خالہ کو بھی یہی خیال گزرا تھا کہ اس کا انتخاب فضہ ہی ہوگی اسی سلسلے میں انہوں نے اس سے بات کی تھی۔ وہ جو اپنے دھیان میںمگن امی کا پیغام لیے کمرے میں داخل ہونے لگی تھی ان کی بات سن کر اس کے قدم دروازے پر تھمے تھے۔ خالہ کی بات پر اس کی سانس رک گئی تھی وہ دم سادھے سرمد کے جواب کی منتظر تھی وہ جواب میں ہنس پڑا تھا اس کے ہنسنے سے اسے توہین محسوس ہوئی تھی، شدید توہین، ٹانگیں لرزی تھیں۔ ”امی میں اس کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیسی باتیں کرتی ہیں آپ ترس کھا کر میں اس کی مدد کردیتا ہوں یا اس کا دل رکھنے کے لیے بات چیت کرلیتا ہوں انسان ہونے کے ناتے اس سے ہمدردی رکھتا ہوں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اس کو ساری زندگی کے لیے اپنے سر منڈھ لوں۔ مجھے ایسی بیوی چاہئے جس کے ساتھ چلتے جسے لوگوں سے ملواتے میں فخر محسوس کروں جو میرے لیے سکون کا باعث ہو نہ کہ مصیبت بن جائے۔” ماں کو اس کے جواب پر یقین نہیں آیا تھا وہ تو اتنا عرصہ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہی تھیں کہ فضہ کی طرف اس کا جھکاؤ ہے اسی لیے وہ اپنی بہن کو اشاروں کنایوں میں رشتے کا عندیہ بھی دے چکی تھیں۔ ”اس کی ایک بات سننے میں پتا ہے کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔” انہوں نے سرمد کی بات پر تاسف سے اس کی طرف دیکھا پھر ان کی نظر سامنے اٹھی تھی جہاں سفید پڑتے چہرے کے ساتھ فضہ کھڑی تھی وہ دروازے میں کسی مجسمے کی طرح ایستادہ تھی۔





    ”بعض اوقات ہمیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن کا سامنا ہم نہیں کرنا چاہتے، ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو ہماری ذات میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں مگر ایک بات بتاؤں میں تمہیں۔” آئینہ نے اسے دھیرے سے تھام کر بیڈ پر بٹھا دیا اور خود بھی تکیے اور کپڑوں کو آگے دھکیل کر بیٹھ گئی ”لوگ، حالات، دنیا بعض اوقات قابل مذمت ضرور ہوتے ہیں قابل نفرت نہیں، سو دلیلیں ہوتی ہیں ان کے پاس کہ وہ حق پر ہیں سو ان کو ان کے برے رویوں سمیت ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ تم بھول جاؤ اس کو اور اس منظر کو۔” آئینہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ آئینہ کے مطابق مذمت کا بہترین طریقہ یہی تھا معاف کرو دو اور آگے بڑھ جاؤ۔ پتا نہیں فضہ نے اس کی بات کو کتنا سنا اور کتنا مانا تھا مگر اس کے بعد اس نے کبھی ٹیرس میں کھڑے ہوکر ان کے گھر کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ دن بہ بدن مصروف ہوتی چلی گئی اور بدلتی چلی گئی۔ آج کل وہ ایک بڑی نامور فرماسوٹیکل کمپنی کے ساتھ کام کررہی تھی۔ وہاں اس کے کولیگز اس کی ذہانت اور قابلیت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے اور یہاں گھر میں رشتے کے لیے آنے والوں کے ہاتھوں جانے کتنی بار اس نے ذلت کی گہرائیاں دیکھی تھیں، اندھی اندھیری گہرائیاں وہ جیسے سم سم کے بال کی طرح ہوگئی تھی جس کا دل چاہتا آسمان کی طرف اچھال دیتا اور جس کا دل چاہتا زمین پر مار کر لطف اندوز ہوتا۔ سم سم کی بال جو زمین پر جتنی زور سے ٹکراتی ہے آسمان کی طرف بھی اسی زور اور شدت سے اٹھتی ہے۔ اسی مدوجذر میں ڈوبتے ابھرتے اس کی زندگی بھی گزر رہی تھی۔ اب اس سے جو بھی پہلی بار ملتا وہ اس کے بارے میں بہت سنجیدہ، لیے دیئے رہنے والی، کم گو اور اردگرد کی ہر چیز سے بے نیاز کڑوی سی لڑکی کا تاثر لے کر اٹھتا رفتہ رفتہ یہ شکایت اس کے رشتے داروں اور دوستوں کو بھی ہونے لگی اور دوسری طرف آئینہ کے سبھی دیوانے تھے فضہ کے پس منظر میں چلے جانے کے بعد وہ اور نمایاں ہوگئی تھی۔ اب تو یہ صورت حال تھی فضہ جلتا ہوا مشرق تھی تو آئینہ ٹھنڈا ٹھار مغرب کا حساس، مٹھاس سے بھری، زندہ دل فضہ کہیں کھو گئی تھی اور آئینہ اس کھوئی ہوئی فضہ کو واپس لانا چاہتی تھی، جو سورج کی دھوپ اور بارشوں کو پہلے کی طرح محسوس کرے، جسے پھولوں پر منڈلاتی تتلیاں اچھی لگیں، جو ہمسایوں کی بہو پر ظلم ہونے پر تلملائے، بجلی جانے پر حکومت کو کوسے، اپنے جذبوں کا اظہار کرتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو، گھبرائے نہیں تلخی سے ایک لفظ پر بات ختم نہ کردے، اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے والی فضہ، اپنے خوابوں کے پیچھے دوڑنے والی فضہ، اور نچی آواز میں قہقہہ لگانے والی فضہ آئینہ کو وہی فضہ چاہیے تھی یہ والی نہیں جو لوگ اب اسے جانے کن کن القابات سے نوازتے تھے انہی لوگوں کے رویوں نے چھوٹی سی جسمانی کمزوری کے باعث اسے ایسا کردیا تھا بار بار ٹھکرائے جانے کے احساس اور اپنے خوابوں کے مسمار ہوجانے نے اس کی شخصیت کو بدل ڈالا تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے خالہ کل امی کے پاس کافی دیر بیٹھ کر گئی ہیں بہت رو رہی تھی۔ ”آئینہ ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی فضہ جو تکیہ گود میں دھرے بیٹھی تھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کچھ تھا اس کی بات کرنے کے انداز میں جسے آئینہ نے محسوس کیا تھا ”اچھا کیوں رو رہی تھیں خالہ” آئینہ نے سامنے اپنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا اس کے باوجود کہ امی اسے سب کچھ بتا چکی تھیں۔ سرمد نے بغیر کسی کو بتائے نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ میں پیپر میرج کی تھی وہ لڑکی نیشنیلٹی ملنے سے عین پہلے اس سے طلاق لے کر چلی گئی۔ زرقا کے گھر والوں کو پتا نہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ وہاں کیا گل کھلا رہا ہے انہوں نے خالا سے بہت جھگڑا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں یا تو وہ زرقا کو فوراً اپنے پاس بلائے نہیں تو طلاق دے۔ جب کہ اس نے خالہ کو کہا ہے کہ وہ نیشنلٹی حاصل کیے بغیر اس کو ہر گز نہیں بلائے گا میرا تو خیال ہے وہ پھر سے پیپر میرج کے لیے پرتول رہا ہے۔ آئینہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی کتنے عرصے بعد وہ یوں بغیر رکے لگاتار بول رہی تھی۔ تمہیں خوشی ہوئی ہے اس بات سے فضہ کو بولتے بولتے بریک لگا تھا وہ اس جملے کی توقع نہیں کرسکتی تھی وہ بھی آئینہ کے منہ سے وہ ہکّا بکّا اسے دیکھ کررہ گئی۔ ”تمہیں میں ایسی لگتی ہوں۔” ”نہیں تم ایسی نہیں ہو۔” وہ تکیے سے ٹیک لگاتے اپنا جوڑا کھولتے ہوئے نرم لہجے میں بولی تھی اصل میں اتنے سالوں میں مجھے عادت نہیں رہی تمہارے منہ سے کسی کے بھی بارے میں کوئی بات، کوئی رائے، کوئی تبصرہ سنوں اس لیے سوچا اس میں کچھ تو غیر معمولی ہے۔ فضہ نے شرمندگی سے سرجُھکا لیا چہرہ سرخ ہوا تھا کیا پتا میرے نفس کو اس سے کچھ اطمینان ملا ہو اب کی بار لکنت زدہ جملے میں لرزش شامل تھی وہ شرمسار لگ رہی تھی اسے آئینہ نے جیسے اس کے نفس کا چہرہ دکھایا تھا اسے گھن آئی تھی۔ تو تم پھر ایسا کرو کہ اپنے اس نفس کو سزا دو فضہ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، آج واقعی اس کے لیے دل میں موجود ہر جذبے کو نکال باہر کرو محبت، نفرت اور مذمت سب کچھ اس گندے پانی کو بہ جانے دو جو تمہارے اندر تعفن پھیلا رہا ہے فضہ یک ٹک اسے دیکھے گئی تھی۔
    ان دنوں آئینہ کے لیے ڈھڑا ڈھڑ رشتے آرہے تھے ساتھ امی ابا اس کے لیے بھی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ عرصے بعد آئینہ کی شادی طے ہوگئی تھی وہ اس کے لیے بے حد خوش تھی مگر اس کے بچھڑنے کے احساس سے شدید اداس مہندی کے فنکشن پر سب مگن تھے ڈھولک، گانے، مذاق، رنگ برنگے قمقوں میں مُسکراتے کھلکھلاتے چہرے وہ کونے میں موجود ہاتھ کے آخری ٹیبل پر آبیٹھی سب کھانا کھانے میں مصروف تھے وہ آئینہ کو سٹیج پر کھانا کھلا کر ابھی یہاں آکر بیٹھی تھی۔ کھانے کے بعد ساری کزنوں نے آئینہ کا محاصرہ کرلیا تھا وہاں بجتی ڈھولک کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی اس نے زرقا کو دیکھا جو سُرخ لباس زیب تن کیے، ڈھیر سارا سونے کا زیور پہنے، گہرے سرخ رنگ کی لپ اسٹک لگائے مگر چہرے پر گزرے تین سالوں کی خزاں کا عکس اور گرد لیے گود میں منا سا گل گوتھنا ارقم تھا۔




  • چپ — عزہ خالد

    برتنوں کا ڈھیر دھو کر فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    کمرے اور کچن کے بیچ اتنا فاصلہ تو نہ تھا مگر پھر بھی اس کی سانس پھول گئی تھی۔
    سامنے دیوار پر لگے کیلنڈر پر نظر پڑتے ہی اسے کچھ یاد آیا تھا۔ ”بارہ جون…”
    یہ جون کی بارہ تاریخ توکچھ جانی پہچانی لگتی ہے۔ کوئی نہ کوئی خوش گوار یاد تو وابستہ ہو گی اس دن سے…
    کچھ نہ کچھ تو ہے اس دن… مگر کیا…؟؟
    دماغ کے کسی کونے کھدرے سے ایک یاد برآمد ہوئی تھی۔ ایک چھوٹی سی گڑیا… خوب صورت فراک پہنے… بالوں میں رنگ برنگی پنیں لگائے… سامنے میز پر رکھا کیک کاٹ رہی تھی…





    ”ہیپی برتھ ڈے…” کا شور… ہنستے مسکراتے چہرے… (جو جانے کہاں کھو گئے تھے…)
    اوہ… آج تو مرحومہ ہادیہ عبدالباسط کی سالگرہ ہے… جو کبھی بڑے اہتمام سے منائی جاتی تھی۔ دونوں بھائی پورے گھر میں غبارے لگاتے تھے۔
    اب معلوم نہیں وقت بدل گیا تھا یا بھائی…
    کمرے میں داخل ہونے سے بستر پر بیٹھنے تک اس کی نظریں کیلنڈر سے نہ ہٹی تھیں۔
    اس کی عمر کتنی ہے…؟؟
    بہت سوچنے اور دماغ پر زور دینے کے بعد وہ حساب لگا پائی تھی۔
    آج وہ بتیس سال کی ہو گئی ہے۔
    بتیس سال…
    آج اس کے اس دنیا میں بتیس سال پورے ہو گئے ہیں۔
    عمر بتیس سال
    ہاتھ… خالی
    دل… خالی
    دامن … خالی
    جانے اس دنیا میں آنے والوں کو عمر، خوشی غم کس حساب سے تقسیم کیے جاتے …
    کسے کتنے سال جینا ہے…؟
    کس کے حصے میں کتنی خوشیاں ہیں…
    کتنے غم ہیں…
    کتنے گھنٹے مسکرانا ہے…
    کتنے گھنٹے آنسو بہانا ہے…
    کس کے لیے زندگی ”گلزار” ہے اور کس کے لیے زندگی ”بوجھ” ہے۔ کچھ زندگی کے اس سفر پر ہنستے مسکراتے بے فکری سے چلے جا رہے ہیں اور کچھ اسے بوجھ کی طرح گھسیٹے جا رہے ہیں۔
    اور اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اس بوجھ سے آزاد ہو جائیں۔
    وہ ”ہادیہ عبدالباسط” خود کو زندوں میں شمار نہیں کرتی تھی۔
    وہ مر چکی ہے…
    زندہ لوگ ہنستے ہیں مسکراتے ہیں… خوش ہوتے ہیں…
    اسے ہنسے مسکرائے اتنا عرصہ ہو گیا کہ اسے خود بھی یاد نہیں وہ آخری مرتبہ کب ہنسی تھی؟
    زندہ انسانوں کو جب کوئی برا بھلا کہے تو وہ پلٹ کر جواب دیتے ہیں۔ پلٹ کر جواب دینے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو بھی انہیں تکلیف محسوس ہوتی ہے… پر اسے صبح سے شام کوئی کچھ بھی کہے … جتنا چاہے ذلیل کرے … اسے ذرا فرق نہیں پڑتا…
    زندہ انسان خواب دیکھتے ہیں…
    اس کا خوابوں سے کوئی لینا دینا نہیں…
    (ماضی میں رہا ہو تو یاد نہیں…)





    وہ گونگی نہیں پر دو چار دن میں ایک آدھ جملہ ہی بولتی ہے…
    چند گنے چنے جملوں کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں کرتی …
    خواہشیں… وہ کیا بلا ہیں…؟ اسے نہیں معلوم …
    خوشی، غم، خواب، خواہش، دکھ، تکلیف… یہ سب اس کے لیے ایسی زبان کے لفظ ہیں جن کی وہ حروف تہجی سے بھی واقف نہیں… تو وہ کیسے خود کو زندہ لوگوں میں شمار کرے۔
    ماضی میں شاید اس زبان سے شناسائی رہی ہو… تھوڑی بہت جان پہچان رہی ہو… مگر اب… اب تو جیسے یادداشت پر گرد کی موٹی تہ جم گئی ہو…
    آج سے پہلے اسے کبھی اتنا وقت ہی نہ ملا تھا کہ فرصت سے بیٹھ کر ماضی کو یاد کر سکے… اس گرد کی موٹی تہ کو صاف کرے… زندگی کی جمع تفریق کرے… کیا کھویا… کیا پایا… ”پایا” والا خانہ خالی تھا۔
    ”کھوئے” والے خانے میں ایک لمبی فہرست تھی…
    بھائی بھابھی بچوں کے ساتھ کسی عزیز کے ہاں شادی پر گئے تھے۔
    وہ طویل سانس لیتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی تھی۔
    ایک گڑیا تھی گھر بھر کی لاڈلی… بابا کی جان…
    بابا اس کی فرمائشیں پوری کیے جاتے… بھائی لاڈ اٹھاتے نہ تھکتے تھے… اور امی بس اس کی باتوں پر مسکرائے جائیں۔
    پھر وقت بدلا، منظر بدلا، گھر کے باہر ایمبولینس آکر رکی…
    آفس جاتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور وہ ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گئے…
    ان کی زندگی کا دیا بجھ گیا وہ بس یاد کی صورت میں رہ گئے…
    معاشی حالات بگڑے … وقاص بھائی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ جاب بھی شروع کی… وقار بھائی شام کے وقت اکیڈمی میں پڑھانے لگے…
    حالات بہت اچھے تو نہ ہوئے پر گزارا اچھا ہونے لگا۔
    وہ کالج جانے لگی… راستے میں کھڑا آوارہ چھچھورے لڑکوں کا گروپ … اسے دیکھ کر گانے گاتا… جملے کستا…
    گھر آکر امی سے کہا… تو انہوں نے اسے ”چپ” رہنے کو کہا…
    ارادہ تھا کہ بھائیوں کو بتا کر ان کی طبیعت صاف کروائے گی۔ مگر امی نے سختی سے منع کر دیا۔
    ”کوئی ضرورت نہیں ہے… وہ جھگڑ پڑیں گے… بات بڑھ جائے گی… تم بس خاموش رہا کرو… گھر سے کالج اور کالج سے گھر… کسی کی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں…” امی نصیحتیں سن کر وہ بس انہیں دیکھتی رہ جاتی۔
    اس آوارہ گروپ کی ہمت اس کی خاموشی سے مزید بڑھی اور وہ اسے کالج تک چھوڑ کر آنا انہوں نے اپنی ڈیوٹی سمجھ لیا تھا۔
    ادھر اس کا گریجویشن ہوا ادھر ساتھ والے محلے کی خاتون مٹھائی کا ڈبہ لیے رشتہ لے کر پہنچ گئی…
    ”میں اپنے بیٹے اکمل کا رشتہ لے کر آئی ہوں… مین روڈ پر جو ورکشاپ ہے اس میں کام کرتا ہے…”
    فضیلہ بیگم حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھیں جو اپنے نکمے بیٹے کا رشتہ لے کر آئیں اور انہیں پورا یقین تھا کہ ”ہاں” ہو گی تبھی مٹھائی کا ڈبہ ساتھ لے کر آئی تھیں۔
    ”مجھے اکمل نے ہی بھیجا ہے آپ کو آپ کی بیٹی نے بتایا ہو گا…” انہوں نے فضیلہ بیگم کی حیرت دور کرنا چاہی تھی۔
    فضیلہ بیگم نے کچن کی کھڑکی میں کھڑی ہادیہ کودیکھا تھا جسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان چھچھوروں میں سے اکمل تھا کون سا …
    ”بہن میں معافی چاہتی ہوں… آپ کے بیٹے اور میری بیٹی کا کوئی جوڑ نہیں ہے… میری طرف سے انکار…” ابھی فضیلہ بیگم کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ خاتون بول پڑیں۔
    ”یہ بات تو اپنی بیٹی کو سمجھانی تھی نا… کیوں سج دھج کر باہر نکلتی تھی… میرے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسایا… میں تو آنا بھی نہیں چاہ رہی تھی… اکمل کی ضد کی وجہ سے آگئی…” وہ خاتون سو باتیں سنانے کے بعد مٹھائی کا ڈبہ اٹھا ئے واپس چلی گئی۔
    امی کو اپنی جانب عجیب نظروں سے دیکھتا پا کر اس نے انہیں بتایا کہ یہ اس کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔ اس نے ان کی ہدایت کے مطابق کسی کو ایک لفظ نہیں کہا تھا۔
    ”چھوڑو… دفع کرو…”
    ”بھائیوں کو نہ بتانا…” امی کی ہدایت پر وہ صرف حیران ہوئی تھی وہ بھلا انہیں بتاتی بھی کیا…
    امی کے نزدیک ہر مسئلے کا حل ”چپ” تھا۔
    پھر منظر بدلا۔
    دونوں بھائیوں کی شادی ہو گئی… کچھ دن اچھے گزرے پھر بھابھی کے رویے میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔




  • ایک رات کی بات — محمد جمیل اختر

    ایک رات کی بات — محمد جمیل اختر

    انہیں ضرور خاموش ہوجاناچائیے کہ میرے سر میں درد ہے اور میں سونا چاہتاہوں ۔
    آخر یہ خاموش کیوں نہیں ہوتے۔۔۔
    ” میں تو اُس دن سے ہی پریشان ہوں جس دن سے میری تم سے شادی ہوئی ہے ”
    ” ہاں ہاں سارے مسائل کی جڑ تو میں ہی ہوں ، مجھے کون سی خوشی دی تم نے بتاو”
    آخر ان میاں بیوی کا مسئلہ کیا ہے ، کیا انہیں معلوم نہیں کہ رات کے بارہ بج چکے ہیں اور کوئی سونا چاہتاہے ، اگر لڑنا بھی ہے تو باہر سڑک پر جاکر لڑیں اس طرح پڑوسیوں کی نیندیں کیوں حرام کرتے ہیں ۔
    ”مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ تم جیسا شوہر ملے گا تو میں کبھی بھی شادی نہ کرتی ”
    ” کاش یہ بات مجھے بھی معلوم ہوتی”





    میں ایک نیا نیا وکیل ہوں اور ایک پرانے وکیل کے چیمبر میں کام کرتا ہوں ، یہ پرانا وکیل انتہاکا کھڑوس آدمی ہے اُس کے ساتھ سارا دن کام کرنے کے بعد آپ کو نیندکی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ تمام دن کی فضول بکواس بھول کراگلے دن نئی بکواس سنی جائے ، لیکن یہ میاں بیوی مجھے کچھ نہیں بھولنے دیں گے۔۔
    ”میرا بھائی صُبح کام پر جاتا ہے تو میری بھابی کے ہاتھ پر پورے دو سو روپے رکھ کر جاتا ہے کہ دن میں کچھ ضرورت بھی پڑ سکتی ہے اورایک تم ہوکہ بھول کر بھی پیسے نہیں دیتے سارا دن بچے مجھ سے پیسے مانگتے ہیں بتائو کیا جواب دوں میں اِن کوکہ تمہارا باپ ایک روپیہ دے کر نہیں جاتا مجھے۔ شادی سے پہلے تم نے کتنے وعدے کیے تھے کہ میں یہ کروں گا میں وہ کروں گا یاد کرو جب تم لاہور سے ملتان صرف مجھ سے ملنے آئے تھے اُس وقت تم کہتے تھے اخبار میں کام بھی کرتا ہوں اور بزنس بھی شروع کرنے لگا ہوں مجھے کیا پتا تھا کہ یہ اخبار میں ٹکے ٹکے کے کالم لکھنے والے کو کون پیسے دے گا؟”
    ”بس بس اب ایسی بھی بات نہیں کل کو میرا بھی نام بن جائے گا پھر دیکھنا کیسے دن پھرتے ہیں”
    افف یہ کیسے لوگ ہیں اتنا اونچا بولتے ہیں حالاں کہ اس جاڑے کی سرد راتوں میں تو سانس کی آواز بھی سنائی دیتی ہے ، پھر صبح اُس بوڑھے وکیل کی فضول باتیں سُننا پڑیں گی، آج صُبح ہی کی بات سنیں مجھے اُس نے کہا فلاں کیس کی فائل لے آو میں آدھا گھنٹہ سٹور میں وہ فائل تلاش کرتا رہا اور جب میں ڈھونڈھ کے لایا تو صاحب کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں یہ فائل لانے کا کہاہی نہیں تھا، یہ کیس تو کب کا بند ہوچکا ہے میں نے بہت کہا کہ سر آپ نے ابھی آدھا گھنٹہ قبل مجھے سرفراز ملک کے کیس کی فائل لانے کا کہاتھا، تو وہ کہنے لگے کہ اچھا اب میں اتنا بچہ ہوں کہ بندکیسوں کی فائلیں منگواوں ، میں نے تم سے بشیرصاحب کی فائل لانے کا کہا تھا، اور آپ یقین کریں بشیر صاحب کی فائل ان کی میز پرہی پڑی تھی ، میں نے کہاسر وہ تو یہ پڑی ہے آپ کی میز پر ، تو وہ ایک نظر فائل کو دیکھنے کے بعد کہتے ہیں کہ ہاں مجھے معلوم ہے وہ یہاں پڑی ہے اور یہ میں خود ڈھونڈھ کر لایا ہوں ، مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ تم یہ نہیں ڈھونڈھ سکتے ،اب آپ بتائیں ایسے شخص کے ساتھ بھلا کہاں تک بحث کی جاسکتی ہے ، میں تو ایک دن نہ ٹھہروں پر میرے ماموں ان کے دوست ہیں وہ مجھے ان کے پاس چھوڑ گئے ہیں کہتے ہیں کہ یہ اِس شہر کے سب سے مشہور اور قابل وکیل ہیں سوچتا ہوں اگر یہی قابلیت ہے تو اِس شہر میں کوئی قابل وکیل نہیں ہے ۔





    ” تم نے بچوں کے لیے کیا کیاہے، کل کو میری بچی جوان ہوگی تو کیا دو گے جہیز”
    ”خدا کا خوف کرو ابھی وہ تین سال کی ہے اور تمہیں جہیز کی فکر پڑگئی ”
    آخریہ میاں بیوی کب خاموش ہوں گے، مجھے جاکر انہیں سمجھانا چاہیے لیکن وہ کہیں گے میں کون ہوتا ہوں جو ابھی چار دن پہلے یہاں آیا ہے اور ان کی ذاتی زندگی میں دخل دیتا ہے ،
    ” یہ سامان کیوں توڑنے لگے ہو”
    ”بس میری کمائی سے آیا ہے سو میں توڑ رہا ہوں۔۔۔۔”
    چٹاخ، چٹاخ۔۔۔۔برتن ٹوٹنے لگے۔
    ”یہ تو میرے جہیزکی پلیٹیں تھیں، یہ میں تمہیں نہیں توڑنے دوں گی”
    مجھے جانا چاہیئے، ہاں مجھے ضرور جانا چاہیے ۔
    میں نے ہمت کرکے گھنٹی بجائی ۔
    ”اور شور کرو تم اب دیکھو محلے والے بھی آگئے ہیں، میں تو نہیں جاتی خود ہی جاؤ دیکھو کون ہے باہر۔”
    ”جی آپ کون؟”
    ”جی میں آپ کا نیا پڑوسی ہوں ملتان سے آیا ہوں وکیل ہوں آپ کے گھر شور تھا میں نے سوچا خیریت پوچھ لوں”
    ”لو وکیل صاحب بھی آگئے عمارہ بیگم ، آئیے آئیے صاب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ ہم میں کون حق پر ہے”۔
    ”جی میں وکیل ہوں جج نہیں”
    ”کوئی نہیں یار عدالتوں میں چکر لگا لگا کروکیل بھی جج ہی بن جاتے ہیں اور ویسے بھی ہمارا کیس کوئی زیادہ پیچیدہ نہیں میں ایک اخبار میں کام کرتا ہوں آمدن بہت معمولی ہے سو اِسی وجہ سے آئے روز ہمارا جھگڑاہوتا ہے کل بچوں کی فیس دینی ہے اور پیسے نہیں ہیں ۔
    معاف کیجئے کیا آپ ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہیں ویسے پڑوسی ہونے کے ناطے آپ ضرور ہماری مدد کریں گے ”
    ”جی وہ میں تو۔۔۔۔۔”
    ”عمارہ بیگم وکیل صاحب کے لیے چائے بناو”
    ”لیکن وہ میں تو۔”
    ”بیٹھیے بیٹھیے اپنا ہی گھر سمجھیے آپ جیسے اچھے لوگ اب کہاں ملتے ہیں آپ اگر ہماری مدد نہ کرتے توکل سکول والے ہمارے بچوں کانام سکول سے خارج کردیتے سمجھ نہیں آرہا آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں۔”
    ”وہ میں کہہ رہا تھا کہ…”
    ”آپ ضرور کہیں گے کہ پڑوسی ہونے کے ناطے یہ تو آپ کا فرض تھا لیکن آج کل کے دور میں بھلاایساممکن ہے کہ ایک ساتھ پانچ ہزار کا قرض دے دیا جائے”
    ”پانچ ہزار؟؟؟”
    ”جی صرف پانچ ہزار۔”
    ”سچ پوچھیں تو آپ کے ایک ہی کیس کی مار ہیں پانچ ہزار”
    ”مگر میں تو۔”
    ا”چھا تو آپ سمجھ رہے تھے کہ میں بہت زیادہ رقم کا مطالبہ کروں گا نہیں نہیں بھائی ہمیں بھی آپ کی مجبوریوں کا اندازہ ہے آپ بھی ہماری طرح یہاں کرائے کے مکان میں ہی رہتے ہیں۔”




  • چاند مہکتا ہے — غزالہ رشید

    چاند مہکتا ہے — غزالہ رشید

    اسلام آبادکے خوب صورت ائیر پورٹ پر ایک سال بعد بھی ویسی ہی رونق تھی۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا، ہاں البتہ فریال اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، نا صرف حلیے سے بلکہ مزاج سے بھی وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ میچور ہوگئی تھی۔ ہونا تو یہی چاہیے تھاکہ وہ دھا ڑیں مار مار کے رونا شروع کردیتی۔ دل میں درد کی لہر اٹھی تو تھی لیکن اس نے اپنی سائیکا ٹرسٹ دوست ڈاکٹر سبین مرتضیٰ کی بتائی ہوئی ترکیب پہ عمل کرتے ہوئے چند گہری سانسیں لینا شروع کیں اور پھر سے اس خوبصورت ما حول میں جینے کے لیے، خود کو تیا ر کیا۔
    وہ اتنی کم زور تو کبھی نہ تھی کہ اسے یہ وقت کاٹنا اتنا مشکل لگتا۔ امی ابو کی اچانک موت نے اسے زندگی کے رموزو اسرار تو سکھا ہی دیے تھے،لیکن شاید ابھی اس کا کندن بننے کا عمل جاری تھا۔ ”وہ کھلنڈری فری” اب پھر سے فریال سعداحمد تھی۔
    سفر پھر سے شروع تھا، اس وقت کو بھول جانے کے لیے ملازمت بے حد ضروری تھی۔ خود شناسی بھی تو بہت ہی لازم ہے ناں، کب تک شاگردی کرتی؟ استاد بھی تو بننا تھا۔ آنے والوں کے لیے مشعل راہ، زندگی شمع کی صورت تب ہی تو بنتی ہے جب شعلہ بنے اور روشنی پھیلا ئے۔
    شومئی قسمت! نوکری ملی بھی توملگجی شام کی یاد لیے،غروب آفتاب کی طرح، اس سر سبز شہر میں جہاں اس کی زندگی میںخزاں نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔





    کل رات جب اس نے اپنی مسیحا دوست کو الوداع کہتے ہوئے خوش بو کا تحفہ دیتے ہوئے کہا تھا:
    ”دعا کرنا”
    سبین کہ اب دوبارہ تم سے ملوںتو تمہاری دوست پھر سے زندہ ہو۔ زندہ لو گوں کی طرح سانس لینے کا ہنر سیکھ چکی ہو،اس کا اعتبار ،اس کا اعتماد پھر سے بحا ل ہوچکا ہو”
    وہ دوست تھی ناں،اس کے دونوں ہاتھ مضبو طی سے تھامتے ہوئے کہا:
    ”تم ہمیشہ بہادر تھیں،کالج میں بھی اور یونیورسٹی میں بھی ، جب میں تم سے پہلی بار ملی تھی یا د ہے ناں ،صومی کے گھر پہ،اور فیلڈ الگ ہونے کے باوجود میری تم سے دوستی کی وجہ تمہاری چاند جیسی صورت ہی نہیں، خوب صورت دل بھی تھا، اور تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے ابو نہیں ہیں، تو کیا ہوا؟ میرے ابو کو اپنا (بابا سائیں سمجھ لو ناں، اور پھر تم نے یہ سچ کر دکھایا۔ ابھی بھی حسن جاوید کی بے وفائی نے تم کو افسردہ ضرور کردیا ہے، لیکن تنہا نہیں کیا۔ تمہاری خالہ نے تم کو ڈھونڈ ہی لیا ناں،والدین کی جدائی کو تم نے سہا، اس بے درد کی بے وفائی کو سارے شہر سے چھپایا۔ اب بھی اس کی شادی کی خبر کو تم نے سہا۔ ویسے بھی اس سے رشتہ ہی ٹوٹا ہے ناں، یقین کرو رب سائیں کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑتا،میری بھی شادی ابھی تک نہ ہونے کی وجہ شاید یہ ہی تھی کہ تم نے میرے پاس آنا تھا۔ویسے بھی رشتے تو سارے وقتی ہوتے ہیں، سائے کی طرح گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں، خاص طورپہ آزمائش کے وقت میں۔ رشتو ں کو سمجھنا ہے تو مو سموں کو دیکھو، کبھی گرم کبھی سرد۔۔۔۔ ویسے میں تمہاری خالہ جان سے ملنے ضرور آئوں گی،ان کو تو دعوتیں کرنے کا شوق ہے ناں، اور مجھے دعوت کھا نے کا” وہ ہنس دی۔
    ”پلیز پلیز ضرور آنا۔۔۔میرا بھی دل چاہے گاکہ اسلام آباد کی سڑکوں پہ تمہارے ساتھ قدرت کے کرشمے دیکھوں۔ بہت عرصے سے ٹھنڈے کمروں،اور ڈنر ز نے مجھ سے موسموں کا حسن، ان کو انجوائے کرنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔ میں بھی جی لوں گی ان دنوں” فری پھر اداس ہونے لگی۔
    ”اب تم اس انداز کو سوچو بھی ناں،یہ جاب تمہاری مرضی کی ہے،تم یقینا اسے انجوائے کروگی یارا اس نے الوداع ہوتے ہوئے بہت پیار سے اسے کہا تھا۔”
    ٭…٭…٭
    ”مولا! تو ہی کا میابی اور کامرانی عطا کرنے والا ہے۔” اس نے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگاتے ہوئے پھر سے خود کو اسلام آباد کی خو ب صورت اورطویل شاہراہوںکی طرف متوجہ کرتے ہوئے دعا کی۔
    ”شکر ہے آنیا جی نے اپنے ڈرائیور خان جی کو بھیج دیا۔” اس نے تیزی سے گزرتی اس پاک سر زمین کی شادابی کو دیکھتے ہوئے قدرت کی صناعی کو سراہا، اور پھر امانت علی خان کی آواز بھی اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔
    ”ابو کو بھی یہ قو می نغمہ اور یہ آوازکتنی پسند تھی۔”
    ”اے وطن پاک وطن۔۔۔پاک وطن
    اے میرے پیارے وطن”
    وہ اکثر سنتے اور اسے بھی خاص طور پہ سناتے۔
    ”اف! یہ ماضی، خواب کیوں نہیں بن جاتا؟ ہمارے اندر ہر لمحہ سانس کیوں لینے لگتا ہے؟” اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے سوچا۔
    گاڑی اب F.6/4 سے گزررہی تھی جہاں اس نے حسن جاوید کے ساتھ زندگی کے صرف دو سال ہی تو گزارے تھے، جو شاید اس کی زندگی پر نہ چاہتے ہوئے بھی حاوی ہوگئے تھے۔اور شاید روگ بھی بنتے جارہے تھے۔اس روڈ کی ایک شام کا ایک ایک لمحہ اسے یاد آنے لگا تھا۔
    وہ تو اس کے رنگ میں رنگ گئی تھی، اسے تو صرف اب یہ یاد تھا کہ اسے ابو کی وجہ سے فیض احمد فیض بہت پسند تھے اور حسن جاوید کو بھی، لیکن اس نے ٹینا ثانی کے بعد پہلی بار مونا احمد کو فیض کو گاتے سنا تو وہ مبہوت ہوکے رہ گئی تھی۔ اس نے جانا ہی نہیں کہ یہ کیفیت اس پہ گزری لیکن واردات کہیں اور بھی ہوگئی تھی۔ واپسی میں بھی اس نے ڈھونڈ کے ،موبائل پہ پھر سے سرچ کرکے مونا احمد کو لگایا۔ وہ دونوں سارے راستے پھر اسی کو سنتے رہے، اس کی آواز اور فیض کا کلام روح کو ایسے آسودہ کررہا تھا کہ گھر آکے اس رات دونوں نے ایک دوسرے سے بات بھی نہ کی،ایسی سرشاری رہی۔۔۔۔
    ستم سکھلائے گا رسمِ وفا ایسے نہیں ہو تا
    صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا
    جہاں دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
    یہاں پیمانِ تسلیم ورضا ایسے نہیں ہوتا
    ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوںتو ہوتا ہے
    مگر ہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا
    مونا کی آواز کب فری کے دل میں اتری اور کب وہ ماہ نور ،حسن جاوید کے دل میں براجمان ہوئی ،وہ جان ہی نہ سکی۔ اس کو توآئینہ ہر بار یہ ہی پیغام دیتا کہ تم پری ہو، اور اس کے دل پہ حکومت کرنے ہی تو اس دنیا میں آئی ہو۔ کیوں کہ حسن جاوید نے ہی تو اس سے کہاتھا: تمہارا M.B.Aکا آخری سمسٹر ،جو ہماری شادی کی وجہ سے رہ گیا ہے اسے مکمل کرلو،پھر ہم اپنا بزنس جلد ہی شروع کریںگے۔”
    ٭…٭…٭
    وہ ماضی کا سفر کرتے ہوئے ”سعد ولا” کے آہنی گیٹ کے سامنے تھی۔ آنیاجی جو اس کی سگی خالہ تھیں اور اس کی اس حرکت پہ شدید ناراض بھی تھیں کہ اس نے اپنی عدت کا وقت ان کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی دوست کے گھر گزارا۔ وہ اپنے بینک بیلنس پہ عیش کرنے والے حسن کو اب کوئی بھی رعایت دینے کو تیار نہ تھی۔
    ڈاکٹرنے اس کے اسلام آباد آنے سے پہلے انہیں بھی اس کی ذہنی کیفیت بتا کر راضی کرلیا تھا۔
    ”وہ تمہارا گھر ہے ، تم سکون محسوس کروگی ،ان کی گود میں سر رکھ کے تمہاری تنہائی کم ہوگی ،وہ خود بھی تو ذیادہ تر اکیلی ہی رہتی ہیں۔” اس کے کانوں میں اپنی دوست کے الفاظ گونجے۔
    مسز تنویر احمداس کی سگی خالہ جو بے حد خوب صورت اور پریکٹیکل خا تون تھیں۔ وہ نہیں جانتی تھیںکہ حسن جاوید مہارت سے جھوٹ بولنے کا عادی ہے۔ اس کے لیے رشتوں میں جڑے رہنے کی اہمیت ہی نہیں کیوں کہ وہ خود ایک broken family کا بچہ تھا، اب بھلا اس عمر میں وہ اپنے ساتھ ساتھ آنیا جی کو بھی ان خبروں میںکیو ں لاتی، وہ جان چکی تھی کہ اب واپسی کے سارے راستے بند تھے۔
    وہ ایک سال تک ان سے دور رہی اور اس کی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ ان سے سب حالات شیئرکرتی۔ معصومیت کی ہی بنا پہ تو، زندگی اس کے ساتھ یہ کھیل اتنی بے دردی سے کھیل گئی تھی۔ وہ ان کو کیا بتاتی کہ وہ جس حسن جاوید کو جانتی تھیں، اس کو ڈیڈی کی جائیداد نے کچھ اور ہی رنگوں میں رنگ دیا تھا۔ ایسے رنگ جس نے اسے تمام اخلاق اور اقدار سے عاری کردیا تھا۔ بے وفائی اس کی فطرت میں ہی ہوگی ورنہ ایسے ہی تو نہیں کوئی لمحوں میں فیصلہ کرتا۔ اولاد کی کمی نے تو اسے احساس تنہائی دیا ہی تھا، لیکن جس درد نے اس کے وجود کو ریزہ ریزہ کردیاتھا۔ اُسے سمیٹنا بھی تو تھا۔ خود کو جوڑنا بھی تو تھا۔ توڑنے والے کو بھلا کب یہ احساس تھاکہ کچھ رشتے کانچ سے بھی ذیادہ نازک ہوتے ہیں۔
    گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوئی آج پہلی مرتبہ وہ خود اسے ریسیو کرنے گیٹ تک آئیں۔ اسے بے اختیار وہ شام بھی یاد آگئی جب اس نے ڈنر سے واپسی پر اپنی عادت کے مطابق کچھ تحریر کیا، اسے کیا خبرتھی کہ وہ رات ان دونوں کے درمیان جدائی کا لمحہ بھی ساتھ لائی تھی، دسمبر کی شام۔ اس روز بہت دھند تھی۔
    ”تم دونوں اس گھر میں کبھی بھی اور کسی بھی وقت آ سکتے ہو۔ آپی اب اس دنیا میں نہیں ہیںتو کیا ہوا میرا گھر تمہارے لیے میکہ ہی ہے۔ میں تو ویسے بھی دوستوں کی محفلیں سجاتی رہتی ہوں۔ ماں جیسی شفقت تو شاید نہ دے سکوں، لیکن میرا دل ہر وقت تمہارا منتظررہے گا۔ یہ بات ہمیشہ یادرکھنا۔” ان کی آواز میں نمی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • اچھے بچے

    اچھے بچے

    آئیں مل کر سارے بچے
    کام کریں اب اچھے اچھے

    مل جل کر تم رہنا سیکھو
    بن جاؤ تم سچے بچے

    لڑنا اچھی بات نہیں ہے
    لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے

    کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
    بن جاؤ گے اچھے بچے

  • آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

    ہم اسکول سے ہولیں
    بات ادب کی بولیں

    کرلی ہم نے بہت ہے مستی
    ملے گی اس سے شہرت سستی

    ہوگی ورنہ پھر رسوائی
    جو کام نہ کسی کے آئی

    چلو اب ہی محنت کرلیں
    اور قسمت کو بدل لیں

    جو وقت بچا ہم پائیں
    تو مُلک کو خوب چلائیں

    سب کو پیچھے چھوڑیں ہم
    آگے آگے دوڑیں ہم

    آؤ کتابیں کھولیں
    آؤ کتابیں کھولیں

  • حماقتیں — اُمِّ طیفور

    ”دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    تیرا کرم ہویا، ہویا پیارے صدقے…”
    چھوٹے سے صحن میں ایف۔ ایم سی نکلتی نورجہاں کی سریلی آواز پھیلتی جا رہی تھی۔ سارا صحن دُھلا دُھلایا سا چمک اور مہک رہا تھا… مہکنے کی وجہ تو یہ تھی کہ صحن میں بلبل نانی کی من پسند چنبیلی کے عطر کی شیشی ٹوٹ کے چور چور ہوئی تھی اور اُس کی خوشبو صحن دُھلنے کے باوجود سارے میں پھیلی تھی۔ بلبل نانی اس صدمے سے چور چور دل لئے… موچنا ہاتھ میں تھامے اپنی باریک تر بھنوئوں کے زائد بال اُکھاڑ رہی تھیں… چند سیکنڈ بعد عطر کے غم میں منہ سے سسکی سی خارج ہوتی تھی۔
    صحن کے نکڑ پر لگے امرود کے پیڑ کے نیچے بید کی کرسی پر پیر پسارے بابرا نے چور نظروں سے نانی کے جارحانہ انداز کو دیکھا تھا، جن کا موچنا بڑی تیزی سے بھنوئوں کی باریکی میں اضافہ کر رہا تھا۔ ”بس کر دیں بلبل نانی … اسی تیزی سے اگر بال اکھاڑتی گئیں تو ساری بھوں اُڑ جائے گی اور آپ آٹے کے پیڑے جیسی لگنے لگیں گی…”
    ”میں کہتی ہوں چپ کر جا بابرا… میرے منہ نہ لگ … میرے صلّو میاں کی نشانی تھا یہ عطر… جو تیری بے پرواہی کی نذر ہو گیا … ہائے میرے مرحوم شوہر کا تحفہ ویڑے میں بکھر گیا…”





    بلبل نانی نے ایک اور سسکی لی، ساتھ ہی غصے کے مارے اکٹھے دو بال اکھیڑ ڈالے، بھؤں بے چاری عین درمیان سے اُڑ گئی۔ بلبل نانی نے بے یقینی سے دستی آئینے میں دیکھا… اور اب کے اُن کا رنگ اُڑ گیا… بابرا کے زور دار قہقہے نے اُنھیں یقین دلایا کہ بیڑہ پوری طرح غرق ہو گیا ہے۔ ”دیکھا…! میں نے کہا تھا ناں کہ ہاتھ ہولا رکھیں… بن گئی ناں موٹر وے … ہاہاہا!”
    ”رک ذرا کم بخت!” بلبل نانی چار پائی کے نیچے سے جوتی تلاشتی ہوئی بولیں۔
    ”آپ کی چپل میں نے پہنی ہوئی ہے…”
    ”تینوں اللہ پچھے گا بابرا…! آج کے دن دو صدمے لگا دیئے تو نے مجھے…”
    ”لو بھلا…! یہ موٹر وے بنانے میں میرا کیا ہاتھ… مشینری آپ کی اپنی تھی بلبل نانی…”
    بابرا ہنستے ہوئے قریب آئی اور بہ غور جائزہ لیتے ہوئے بولی ۔
    ”ویسے بچا ہوا کیا ہے ابھی… چار دنوں میں یہ چار بال اُگ آئیں گے، لائیں گری کا تیل رگڑ دوں…”
    ”اپنے سر میں ڈال جدھر ناس پھرا ہوا ہے… بالوں کا! تجھے دیکھ کر تو مجھے جمعرات والا فقیر بابا یاد آجاتا ہے، جس کی میل سے گجی (گندھی) یہ موٹی موٹی لٹیں ہوتی تھیں… مرن جو گا… ایسا دکھتا تھا جیسے سر پر سُنڈیوں کی کنالی اُلٹا دی ہو۔”
    ”آخ تھو …!” بابرا نے کراہیت سے مصنوعی اُبکائی لی… ”حد ہو گئی بلبل نانی، یہ میں نے ہئیر اسٹائل بنایا ہوا ہے… کرل ہیں یہ کرل…”
    ”ایڈا منہ مٹکا کے نہ بول … کڑل پٹے جائے گا… اور اب جا ذرا اس موئے گانے کی آواز اونچی تو کر … حق ہاہ! میری بڑی یادیں جڑی ہیں اس گیت کے ساتھ …”
    بلبل نانی گائو تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر نیم دراز ہوتے ہوئے بولیں آنکھوں میں پرانی یادوں کی ایک خماری سی تیر گئی۔
    ”یقینا نانا بھی اُس یاد کا لازمی حصہ ہوں گے… ہیں ناں!”
    ”ہائے ہائے! کی یاد کرا دِتا ظالمے! میں اُن کو دیکھ کر بڑے بانکپن سے یہ گانا گنگنایا کرتی تھی اور وہ بالکل کسی مغرور ہیرو کی طرح اینٹھتے چلے جاتے تھے… اکڑ ہی ختم نہیں ہوتی تھی اُن کی… میں اٹھلا کر ہاتھ تھامتی اور وہ جھٹک کر بولتے… جانسن…! جب بھی پہ لاڈ آتا تو مجھے یہی بولا کرتے تھے… جانسن!…”
    ”پھوپھوپھو…!” ہنسی کسی پھوار کی صورت بابرا کے منہ سے برآمد ہوئی تھی… بلبل نانی نے خشمگیں نظروں سے دیکھا، سارا ٹیمپو بیڑہ غرق کر دیا تھا۔
    ”بلبل نانی! جانسن نہیں ”نان سینس” کہتے تھے وہ نان سینس!” بابرا پھر ہنسنے لگی تھی اور بلبل نانی کا چہرہ خفت سے انار ہوا جاتا تھا۔ اُس وقت بھلے نہ سہی مگر اب تو اُنہیں بہ خوبی ”نان سینس” کا مطلب آتا تھا۔
    ”بکواس بند کرتی ہے یا تیری گچی مروڑوں… شرم نہیں آتی ہم دونوں کے سین میں کودتے…”
    ”کیہڑا سین نانی… میں کدھر سے آگئی آپ کے سین میں… ہوتی تو تب ہی جانسن کی تشریح نہ کر دیتی… اچھا چلیں چھوڑیں… مجھے یاد آیا کہ کل ماما کا فون آیا تھا، پیسے بھجوائے ہیں اُنہوں نے گرمیوں کی شاپنگ کے … کل میں بتول کے ساتھ شاہ عالمی جائوں گی… آپ نے کچھ منگوانا ہوا تو بتا دینا”۔ بابرا بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے بے نیازی سے بولی۔
    ”ماں صدقے…! میرا بچہ میرے واسطے تین، چار ذرا کھلتے رنگوں والے پرنٹ پکڑ لینا… جو مجھ پر جچیں…”
    بلبل نانی ململ کے دوپٹے کو دائیں ہاتھ سے بائیں شانے پر سیٹ کرتے ہوئے بولیں۔
    ”اللہ کو مانیں نانی…! مجھے بھلا پتا نہیں کہ آپ کھلتے کن رنگوں کو کہتی ہیں… یہ کھٹے مالٹے جیسے رنگ اور تیکھے جامنی، بیگنی شیڈ آپ کو پسند آتے ہیں اور میں کم از کم ایسے پرنٹ اور رنگ خرید کر دکان داروں کے آگے بستی نہیں کروا سکتی…”
    ”گرقی (غرقی) پھرے تیری بستی کو… میری پسند کا مذاق اُڑاتی ہے … پھول جھاڑو کے منہ والی نہ ہووے تے…”
    بلبل نانی کا تنفس تیز ہوا تھا… نتھنے پھولنے پچکنے لگے ۔
    ”اب تو ہرگز ہرگز نہیں لائوں گی میں ایسے چھچھورے رنگ… بس ہلکے ہلکے، میٹھے میٹھے رنگوں والے پرنٹ لائوں گی… آپ کی عمر کے مطابق…”
    بابرا نے بلبل نانی کی چپلیں اُتار کر اُن کی چار پائی کے آگے دھریں اور کھڑے ہو کر فیصلہ سنایا۔
    ”ہاں… ہاں! کفن اوڑھا دے مجھے … ابھی سے بڑھاپا متھے مارلوں… کوئی ایسی بڈھی نہیں ہو گئی میں … بڈھی ہو گئی تیری ماں، بڈھی ہو گئی تیری دادی … بڈھی ہو گی تیری …”





    ”نانی…!” بابرا نے فقرہ مکمل کرنے کے ساتھ ہی اندرکمرے کی جانب دوڑ لگا دی تھی۔ بلبل نانی کی چپل لگنے سے پہلے ہی وہ گم ہو چکی تھی… مگر چپل اُڑتی ہوئی سر بکھیرتے جدید طرز کے ایف ایم ریڈیو کو جا لگی… وہ بے چارہ تاب نہ لاتے ہوئے پھڑک کر اسٹول سے گرا تھا… تیسرا صدمہ!…
    بلبل نانی سکتے کی کیفیت میں اُسے تکے جار ہی تھیں، جس کے اندرونی نظام میں خدا جانے کیا خرابی آئی کہ وہ اوّل فول بکنے لگا تھا۔
    نورجہاں کا گانا اور کسی دوسرے اسٹیشن پر چلنے والا پھکڑ جگتوں سے مزین اسٹیج شو مدغم ہو گیا… اور اب جو آواز میں اُبھر رہی تھیں وہ بلبل نانی کے کلیجے کے پار ہوئی جاتی تھیں۔
    ”دل دار صدق… کھوتے دا پتر…”
    لکھ وار صدقے …… اے آنڈے میں دِتے سی…”
    تیرا کرم ہویا،… … بساں (بس) وچ سرمہ ویچن والیا…”
    ”ہویا پیار صدقے … لکھ دی لعنت…!”
    بلبل نانی کی دوسری چپل لہراتی ہوئی آئی اور ریڈیو کا ٹینٹوا دبا گئی۔
    نانی طیش سے پیروں پر ڈالا کھیس سر تک اوڑھ کر لیٹ گئیں اور زیر لب بڑبڑائیں…… ”لکھ دی لعنت”۔
    ٭٭٭٭
    دن کے گیارہ بجے تھے… صبح کی لائٹ گئی ہوئی تھی… بلبل نانی اکتائی ہوئی صحن کے وسط میں بچھی چار پائی پر بیٹھی مٹر چھیل رہی تھیں۔ بابرا ابھی ابھی آدھے مٹر پھانک کر اور پھر کمر پر بلبل نانی کی زور دار چپیڑ کھا کر تیار ہونے کے لئے اندر چلی گئی تھی۔ اُسے اور بتول کو آج شاہ عالمی جانا تھا… دیر بھی ہو سکتی تھی لہٰذا کافی کام نبٹا بیٹھی تھی… بلبل نانی کوفت کے عالم میں بھی دھیمے سروں میں گنگنا رہی تھیں۔
    ”لے آئی پھر کہاں پہ … قسمت ہمیں کہاں سے …”
    ”یہ تو وہی جگہ ہے… گزرے تھے…”
    بلبل نانی ابھی پوری طرح گزر بھی نہ پائی تھیں کہ دھاڑ کی آواز سے داخلی دروازے کو دیوار سے مارتی بتول فاطمہ ڈیوڑھی سے گزرتی صحن میں داخل ہوئی تھیں۔ تیز رنگوں والے کھچڑی پرنٹ اور ویسا ہی دوپٹہ اوڑھے … آنکھوں پر ٹھیلے سے لئے سستے بڑے شیشوں والے گاگلز چڑھائے … پیروں میں سلور تلے والی کولہا پوری چپل پہنے… بتول فاطمہ بازار جانے کے لئے مکمل تیاری کے ساتھ پہنچ چکی تھی۔ طوطے کا رنگ کا پرس بھی ہاتھ میں جھول رہا تھا۔
    ”ہیلو گرینڈما …… کیسی ہوئنگ آپ……”
    بتول نے بلبل نانی کے قریب جا کر چٹ سے اُن کا گال چوما اور بڑے اسٹائل سے حال پوچھا۔ بلبل نانی بتول پر بڑی فریفتہ تھیں … وہ ہو بہو اُنھیں اپنی جوانی لگا کرتی تھی… حالاں کہ بابرا بھی ہوبہو اُنہی پہ پڑی تھی مگر بتول نے تو چھچھورپن کا ریکارڈ قائم کر رکھا تھا۔
    ”ماں صدقے … ! کیسی ہے بتولاں… بابرا تو اندر تیار ہو رہی ہے…”
    ”اُف…! گرینڈما میرا نیم بتول فاطمہ ہوئنگ… پلیز! ڈونٹ رانگ سیئنگ…!”
    ”ذرا بندے دے پتربن کر بولیا کر … اور بتولاں تیری ماں تجھے سب سے زیادہ کہتی ہے… پہلے اُسے منع کر … ویسے کر کیا رہی تھی ثریا…”
    بلبل نانی نے چھلے ہوئے مٹر کے دانے سمیٹتے بتول کے ہاتھوں پر دھپ لگاتے ہوئے پوچھا۔
    ”ساگ پکائنگ اور پھر کلی (اکیلی) ہی کھائنگ… میں تو شاہ علمی سے ہی چاٹ اور برگر کھا کر آئینگ…”
    بتول نے چٹخارہ بھرا تو بے اختیار بلبل نانی کے منہ میں پانی آگیا… اتنے میں بابرا کاندھے پر بیگ لٹکائے… نک سک سے درست چلی آئی۔ دونوں سہیلیاں یوں گلے ملیں جیسے مدتوں بعد سامنا ہوا ہو… حالاںکہ چوبیس گھنٹوں میں چودہ گھنٹے تو دونوں درمیانی دیوار پر چڑھی رہتی تھیں… ساتھ والا گھر بتول کا ہی تو تھا۔
    ”ماں کو کہتی ہوئی جا کہ بلبل نانی کہہ رہی ہیں کہ ساگ پکا کر تھوڑا مجھے بھی بھیجیں… اب میں کیا اکیلی جان کچن میں کھپتی پھروں…”بلبل نانی نے دونوں کا معانقہ لمبا ہوتا دیکھا تو بیچ میں اپنا مدعا بیان کر کے اُن کا دھیان بٹایا۔
    ”اوکے گرینڈما… ابھی آسکنگ… مگر ابھی ٹائم لگینگ… ابھی وہ گھوٹنگ… پھر تڑکا لگائنگ… پھر… ”
    ”اے بتول کی بچی…!” بیچ میں ہی بابرا نے کوفت زدہ ہوتے ہوئے ٹوکا…
    ”اگر تو نے یہ ”آئینگ” اور ”جائینگ” دکان داروں کے سامنے کیا نا… تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا… بستی (بے عزتی) کرا کر رکھ دیتی ہو… اگلوں کو بھی پتا لگ جاتا ہے کہ چوبرجی کی ”کھڈوں” سے نکل کر آئی ہیں۔”





    ”اُف…! بابراہ یو آر جسٹ کر پکنگ…! تمہیں کیا بتا کہ کتنا اچھا امپریشن پڑنگ… یہی محسوس منٹ ہوئینگ کہ لڑکیاں پڑھی لکھی اور وڈے گھروں کی ہوئینگ…!”
    بتول نے اِٹھلا کر بابرا کو تسلی دی… بلبل نانی نے اپنی ادھوری بھؤں اُچکا کر دونوں کو دیکھا اور ہنستے ہوئے بولیں۔
    ”کتھے دیاں پڑھی لکھی کڑیاں… بی۔ اے تو کیا مرا نہیں جا رہا دونوں سے… دوسرا سال ہے لڑھکتے ہوئے… اَج کل کے مُنڈے تو ایم۔ اے سے کم کوئی کڑی تکتے بھی نہیں … اس سال بھی اٹک گئیں تو ہو گئے پڑھے لکھے منڈوں سے ویاہ…”
    ”ہوجائیں گے بلبل نانی … ہو جائیں گے… جس طرح آپ کا ہو گیا تھا نانا کے ساتھ… آپ نے تو آٹھویں جماعت میں ہی قسم کھا لی تھی کہ نویں کہ منہ نہیں دیکھنا … پھر بھی نانا کو آپ بھاگئیں… ایسے ہی ہمارا بھی دائو چل جائے گا…” بابرا نے سینڈل کا اسٹریپ ٹائٹ کرتے ہوئے بلبل نانی کو تفصیل سے اُن کا ماضی یاد کروایا… پیچھے کھڑی بتول دانت نکو سے جارہی تھی۔
    ”بابرا… مرن جو گئے تیری زبان تو بالکل اپنی دادی پر پڑی ہے… ذرا عقل بھی لے لیتے تھوڑی سی … یا وہ کالج میں بیچ کھائی ہے…” بلبل نانی کھسیانی سی ہوئی بابرا کے لئے لیتی ہوئی بولیں۔ بابرا فوراً ان کے قریب آئی اور گلے میں بازو ڈالتے ہوئے بولی: ”ہائے نہیں بلبل نانی… ایسا کیسے ہو سکتا ہے… مجھے تو بس آپ اچھی لگتی ہیں… پھر عقل کیسے کسی اور کی اچھی لگتی…” بلبل نانی جو اُس کے لاڈ پر موم ہو گئیں تھیں… آخری فقرہ سمجھ میں آتے ہی رکھ کر اس کی کمر پر دو تھپڑ دھرے۔
    ”پراں مر…! تیری عقل مجھ پر پڑی ہوتی تو اب تک بیاہ کر اگلے گھر دفع بھی ہو گئی ہوتی… جا اب اگر زیادہ بکواس کیتی تو بٹھالوں گی گھر… سارے پرنٹ پھر تیری شکل پہ ہی اُتر آئیں گے… سمجھی!” بابرا خاموشی سے کمر سہلاتی بتول کو آنکھ سے ڈیوڑھی کی طرف اشارہ کرتی کھڑی ہو گئی مبادا بلبل نانی سچ میں روک نہ لیں۔ ”اے بتول!… اپنی اماں کو کہتی کہ تم لوگوں کے ساتھ ہی چلی جاتی… اکیلی جائو گی دونوں تو فکر رہے گی مجھے…” بلبل نانی کے لہجے میں تشویش تھی… دونوں سہیلیوںکی نظریں ٹکرائیں… تبھی بتول آگے بڑھی اور بولی…
    ”وہ … گرینڈما! آپ فکر ناٹ… ہمارے ساتھ ببلو جائینگ، وہ مرد بچہ ہوئینگ…”
    ”وہ تیرا چھے سال کا بھتیجا… او پاٹی( پھٹی) نیکر تے وگندی نک والا… مرد”… شاباش اے!”
    بلبل نانی نے استہزائیہ انداز میں ہونٹ پھیلا کر بتول کو گھورا …
    بتول برا مناتے ہوئے بولی: ”میرا بھتیجا بڑا ہوشیار ہوئینگ… گرینڈما!”
    ”آہو…! جتنا زمین کے اُتے ہوئینگ، اُتنا ہی زمین کے تھلے بھی ہوئینگ…” یہ بابرا تھی… جس نے بتول کے انداز میں ہی نانی کو تسلی دی تھی اور پھر خود ہی ہنس پڑی تھی۔
    ”ذرا چھیتی واپسی کرنا… موبیل (موبائل) بند نہ کرنا… تے بابرا میری پسند کے چار ودھیا جوڑے پھڑ کے لے آئیں… ورنہ جوتُو اپنے لئے لائے گی نا… میں وہی لے لوں گی… سمجھی!”
    بلبل نانی نے بابرا کو دھمکی دینی ضروری سمجھی تھی ورنہ بابرا کا ارادہ واقعی اس دفعہ نانی کے لئے سوبر رنگ لانے کا تھا۔ مگر بلبل نانی سے کچھ بعید نہیں تھا… وہ سچ میں اُس کے کپڑے جھپٹ لیتیں… اس لئے عافیت اسی میں تھی کہ نانی کے من پسند رنگوں کے پرنٹ لا کر اُن کے حوالے کرتی…! مزید بحث میں پڑنے کی بجائے بابرا نے بتول کا ہاتھ تھاما اور داخلی دروازے کا رُخ کیا۔
    ٭٭٭٭




  • تھکن — سمیرا غزل

    تھکن — سمیرا غزل

    انسان کتنا نادان ہے….کیسے کیسے رواج ،ظالم سماج، بصیرت سے محروم، حقیقت سے انجان حقیقت، جو نہیں ہے سے ہونے تک کی گواہ ہے، جس تک پہنچنے میں انسان کی آنکھوں کے آگے ڈھٹائی کی تنی ہوئی چربی رکاوٹ بنی رہتی ہے” وہ کہہ رہی تھی اور میں سن رہی تھی۔
    ”کیا تمہیں ریت کی پیاس کا اندازہ ہے سبین؟” اس نے خلا میں گھورتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں ہے! کبھی نہیں بجھتی۔” میں نے کہا۔
    ”تم نے کبھی کسی صحرا سے گزرتے ہوئے اس کی پیاس بجھانے کی کوشش کی؟”
    ”نہیں!”میں نے نفی میں سر ہلایا۔
    "مگر میں نے کی ہے اور تم جانو یہ دنیا کا سب سے زیادہ تھکا دینے والا اور مشکل ترین کام ہے” وہ اسی طرح خلا میں تکتے ہوئے بات کرتے جارہی تھی۔
    ”تم نے یہ کوشش کیوں کی؟” میں نے عام سے لہجے میں پوچھا۔
    "تاکہ خود کو سیراب کر سکوں”
    ”ناکام کیوں ہوگئیں؟”





    "کیو ںکہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی، اپنا آپ جھلس جاتا ہے، مگر ہوس باقی رہتی ہے، یہ سب سے تھکادینے والا کام ہے۔” اس کی آنکھوں میں ننھے ننھے تارے چمکنے لگے۔
    نیا واقعہ کیا ہے؟ میں نے افسردہ ہوکے سر جھکا لیا اور پوچھا۔
    "رواج، وہ رواج جس کی بھوک مٹاتے مٹاتے ہم ادھ موئے ہوجاتے ہیں” اس کی زبان میں لرزش تھی۔
    ”کون سا رواج” میں نے تعجب سے پوچھا؟
    ”وہ رواج جس کی ادائی پہ نہیں ہونے پہ دکھ ہوتا ہے۔ ”کچھ بتا تو……” میں نے زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”کال ریکارڈنگ ملی ہے۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ ارے بابا کس کی؟ میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا۔
    ”ان کی جو رواجوں کے پابند ہیں…”
    ”کون؟” میں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔
    وہی جنہوں نے کہا کہ ہم نے آج تک کوئی حق ادا نہیں کیا۔” وہ مجھے اپنی مبہم باتوں میں الجھا رہی تھی اور میں گتھی کو سلجھانے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔
    "وہی جن کا موبائل میری بیٹی نے گیم کھیلنے کے لیے مانگا تھا اور پھر معلوم نہیں کیسے وہ ریکارڈنگ چل گئی” وہ بڑبڑائی..
    کون ن ن ن سسی ریکارڈنگ؟؟” میں حیرانی سے چلائی۔
    "وہ جو شاید ان کے پاس غلطی سے ریکارڈ ہوگئی تھی۔”
    ”کچھ بتاؤ گی بھی فائزہ؟ یا یونہی پہیلیاںبُجھاتی رہو گی؟” میں چیخ پڑی۔
    "جس میں میری نند نے دوسری نند سے میری شکایت کی اور بتایا کہ میں اتنی بری اس لیے ہوں کہ میرا میکا بھی ایسا ہے۔” وہ پھر لمبے وقفے پر چلی گئی۔
    ”افففففف تو وجہ کیا تھی یہ سب کہنے کی؟”
    "انہیں عید کی دعوت کے فوراً بعد ان کی امی یعنی میری ساس کی عدت پوری ہونے کی خوشی میں دعوت چاہیے تھی اور ان کا یہ قدیم رواج مجھے قطعاً یاد نہیں رہا”
    ”اف توبہ کیا جہالت ہے فائزہ؟” غصہ سے میری رگیں تن گئیں۔
    ”میں نے تمہیں کہا تھا نہ سبین کہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی اور جس کا پیٹ ہی صحرا بن جائے تو ان کے غم بھی پیٹ کی ہی سوچتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے اس کی پلکوں پہ صدیوں کا بوجھ اور لہجے میں گہری تھکن تھی۔

    ٭…٭…٭




  • صدیاں — سائرہ اقبال

    صدیاں — سائرہ اقبال

    صدیاں بیتی تھیں یا لمحے کیا معلوم ؟ لمحوں کی خبر تو وہ رکھتے ہیں جن کے پاس کھونے کو بھی بہت ہو ، پانے کو بھی بہت ۔ آپا کے پاس کیا تھا ؟ ظاہری طور پہ توکچھ نہیں ۔ جب سے آنکھ کھولی ہے، آپا کو یہیں پایا ہے اِسی کھڑکی میں۔ بس جمعرات کو بچوں میں ٹافیاں تقسیم کرتے دیکھا اور پھر اِسی کھڑکی میں کھڑے۔ کبھی جی کیا تو پاس پڑی کُرسی پر بیٹھ گئیں ۔ اکثر اکیڈمی سے آ کر بی آپا کے پاس بیٹھنے کی کوشش، کبھی اماں بیٹھنے نہ دیتیں تو کبھی آپا ہی زیادہ بات نہ کرتیں۔ ایک دم حسبِ عادت آپا کے پاس گئی انہیں کھڑکی سے ہٹا کر پلنگ کی طرف لے گئی اور کہنے لگی:
    ”آپا۔۔! کیا ہر وقت وہاں کھڑی رہتی ہیں؟ یہاں بیٹھئے ۔ ”
    ”آپا اپنے مخصوص انداز میں کہتیں، ‘پرے ہٹو۔ تُم کیا جانو ان احساسات کو؟”
    ”آپا آپ کیوں مُجھے ابھی تک بچہ ہی سمجھتی ہیں؟ جب میں یہاں آئی تھی نا تب تھی چار برس کی۔ اب تو پُورے اٹھارہ برس کی ہوں بلکہ دیکھنے میں آپ جتنی ہی لگتی ہوں۔”
    ”میرے جیسی نہ بن جانا۔” آپا نے جلے کٹے لہجے میں کہا۔
    ”ضوفی ۔۔ ضوفی ۔۔’ ‘ اماں نے آواز دی۔
    ”لو جی آ گئی اماں کی آواز ۔” ضوفشاں نے کہا۔





    ”آبیٹا! پہنچتے ہی گُھس گئی بدروح کے پاس۔ روٹیاں ڈال لے، نعمان ، نوید اور وارث آنے والے ہوں گے۔ بس دس بارہ ہی ڈالنی ہیں۔”
    حاجرہ اور سمیرا کو بھی بھوک لگ گئی ہو گی اور بہو بیگم کی بھی دو ڈال دیجئیو۔” اماں نے آواز لگائی۔
    ‘آئی اماں۔ ‘ ضوفشاں نے کہا۔
    ضوفشاں کمرے سے باہر نکلی۔’ ‘بس دو منٹ میں ڈال دوں گی۔”
    ”ہاں میری شیر بیٹی۔” اماں نے کہا۔
    ”اماں بچوں کے لئے بھی ڈالنی ہیں روٹیاں؟” ضوفشاں نے باورچی خانے سے آواز لگائی۔
    ‘نہیں روٹیاں بنا کر ان کے لئے چاول اُبال لینا۔”
    ”حاجرہ کی بیٹی ٹھیک نہیں۔ پھر وہ کھائے گی تو نوید کے بچے بھی مانگیں گے ۔ بھئی میں تو برابری کرتی سب کے ساتھ تو سب بچوں کے لئے چاول ہی اُبال دو۔” اماں نے کچھ خود کلامی کی تو کچھ ضوفشاں کو اعلان کیا۔
    ”اچھا اماں۔’ ‘ ضوفشاں نے جواب دیا۔
    نوید کھانا کھانے لگا تو بولا: ”بھئی سلاد آج پھر کسی نے نہیں کاٹا ۔ سلاد کے بغیر کہاں کھانا اندر جاتا ہے۔”
    ”چاول اُبالنے لگ گئی تھی بھائی۔ ابھی کاٹ دیتی ہوں۔” ضوفشاں نے کہا۔
    ”جیب میں ٹکا ایک نہیں اور نخرے دیکھو۔’ ‘ حاجرہ بڑبڑائی۔
    ”دو دو میرے میاں کو طعنے ، بے روزگار ہے ناں ۔ تبھی اپنی پسند کا اظہار بھی نہیں کر سکتا۔” صائمہ بھابھی نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”سلاد کاٹ دو ضوفی ۔” اماں نے آواز دی۔
    ”ابھی لائی اماں۔” ضوفی نے جواباً کہا۔
    ”تو بھابھی اُٹھ کے کاٹ لے نا۔ یہاں کیوں ہر کوئی مُفت کی روٹیاں توڑنے میں لگا ہے۔” حاجرہ نے اپنی بیٹی کے منہ میں چاول ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اماں سلاد نہیں ہے۔” ضوفی نے باورچی خانے سے آواز دی۔
    ”یہی زبان ہے جس نے تُمہیں گھر بٹھایا ہے۔’ ‘ بھابھی نے نوالہ توڑتے ہوئے کہا۔
    ”جو بھی ہے ، جیسی بھی ہوں ، مُفت کا نہیں کھا رہی ۔ محنت کرتی ہوں اور خود کماتی ہوں ۔ کسی پہ بوجھ نہیں ہوں۔ تُم تو گھر بسا کے چار بچوں میاں سمیت سب پہ بوجھ ہو۔” حاجرہ نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ضوفشاں آئو تُم بھی کھائو ۔’ ‘ سمیرا نے آواز دیتے ہوئے کہا ۔
    ”میں بس آپا کو کھانا دے آئوں پھر کھاتی ہوں۔”
    ”اماں! نحوست کب تک کھڑکی کے سرہانے کھڑی رہے گی؟ مفت کی عادت پڑ گئی ہے ۔ اچھی بھلی نوکری کو لات مار دی۔” نوید نے کہا۔
    ”ہاں ہاں! کمائو بھائی جو نظر آ رہا تھا ۔ نیت کے کھوٹے لوگ۔” صائمہ بھابھی نے کہا ۔
    جب بھی وہ نیت کے کھوٹے لوگ کہتی، نائلہ ان کی طرف حیرانی سے دیکھتی پھر بھابھی چِڑ کے کہتیں:
    ”اے ہے ۔۔ تو کیا گھور رہی ہے مجھے ۔ کام کر جو کر رہی ہے ۔ ”
    اماں خاموشی سے سُنتی رہتیں۔ایک دِن حاجرہ نے طیش میں آ کر کہہ ہی دیا:
    ”اس وقت تو بڑا نئی نویلی دُلہن کے آنچل میں منہ چھپائے اماں اور بہنوں کو چھوڑ گئے تھے ۔ یہ وہی ہے جس کے آسرے پر چھوڑ گئے تھے۔”
    بھابھی طیش میں آتی اور چلاتی:
    ”ہائے ہائے بد زبان ، اسی زبان نے تو گھر بٹھایا ہے تجھے۔۔ورنہ۔ آج تیرا بھی گھر بس رہا ہوتا۔”
    ”تُم نہ ان کے منہ لگو صائمہ ، یہ ہے ہی بد لحاظ ، بد تمیز ، نہ چھوٹے کی تمیز نہ بڑے کی ۔” نوید کہتا۔
    اماں بین کرنے لگتیں۔
    ”میری تو قسمت ہی خراب ہے ۔گھر والا اچھا نکلا نہ اولاد ۔ جوانی میں ہی مجھے بیوہ کر کے اس کنواری رانی کے ساتھ نکل گیا۔”
    سمیرا باتوں میں ہمیشہ ہی ایک نیا چٹکلا چھوڑتی۔
    ”اماں سُنا ہے ابا اس رانی کے ساتھ فیصل آباد میں ہیں آج کل۔ ابا کی کوئی اولاد نہیں رانی سے۔ یہ بھی سُننے میں آیا ہے کہ وہ کہتی ہے میری سوتن نے کالا جادو کرایا ہے۔”
    ”پچھلی بار تو نے بتایا تھا کہ ابا کی بیٹی جوان ہے اور بیٹا، یہ اپنے ٹنکو جیسا ہے ۔ آج کہہ رہی ہے رانی بانجھ ہے ۔” حاجرہ کہتی ۔
    ”یہ لو۔۔ کھاتی ماں کا ہے ، اوڑھتی پہنتی ماں کا ہے۔ اتنی فکر ہے ابا کی تو جائو، ساتھ ہی چلے جائو۔” اماں چلاتی رہ جاتیں۔
    ضوفشاں کھانے کے برتن اُٹھاتی ، کچن سمیٹتی ۔ نوید ، وارث اور نعمان پھر سے آوارہ گردی کے لئے نکل جاتے ۔ بس ایک یہی کام تھا جو وہ دِل لگا کر اور پابندی سے کیا کرتے تھے ۔ ضوفی اپنے کام سے فارغ ہو کر آپا کے کمرے میں چلی جاتی مگر آپا بتیاں بُجھا کر سو جایا کرتی تھی ، وہ جانتی تھی کہ وہ سوتی نہیں ہے ۔ وہ تو بس آنکھیں موندتی ہے ، دِن میں وہی آنکھیں ڈھیروں خیال و خواب سجائے باہر جھانکتی تھیں مگر پھر بھی وہ آنکھیں خالی ہی ہوتی تھیں ۔ اور رات میں سارے خواب سارے خیال ایک گٹھری میں باندھ کر اپنے سرہانے رکھ لیتیں ۔ پھر وہ آنکھیں اتنی بھری ہوئی ہوتیں کہ خالی کرنے کو جگہ نہ ملتی تھی ۔آپا کاغذ قلم اُٹھائے ، دِل ہلکا کرنے لگتی۔
    ”زندگی کے پہلے دس برس چِک چِک بَک بَک میں گُزر گئے ۔ پندرہ برس کی ہوئی تو فکرِ معاش
    لاحق ہو گیا بہت موذی بیماری ہے ۔ لاحق ہو جائے تو دم کے ساتھ ہی نکلتی ہے۔ اچھوت ہے،
    کوئی آسرا دینے آتا ہے نہ بوجھ ہلکا کرنے ۔ نوکری ملی تو بھی جذبے والی ۔ بڑے ہسپتال میں
    نرس لگ گئی ۔ اٹھارہ سے بیس برس تو خوب گزرے اور پھر ۔۔۔۔ ‘ ‘
    ایک دِن چھُپ کر ، ابھی یہی تک پڑھا تھا کہ آپا آگئیں ۔ میں صفائی کرنے لگی ۔اس دِن کے بعد وہ ڈائری نظر نہ آئی ۔ رات کو اماں کو چائے دینے گئی تو سوچا آپا کے بارے میں پوچھوں ۔ ابھی کچھ پوچھنا چاہا ہی تھا کہ اماں نے تنخواہ کا حساب مانگ لیا ۔
    ”اماں اِس بار کالج کی فیس دینی پڑ گئی۔” اماں بگڑ اُٹھیں، ظاہری بات ہے گھر کا خرچ کم پڑ گیا تھا ۔ اماں نے حاجرہ سے پیسے مانگے تو حاجرہ کہنے لگی:
    ”میں یہاں کسی کے لئے نہیں کماتی۔ اپنے اور اپنے بچے کے لئے کماتی ہوں۔”
    ”ہاں ہاں مُجھے بے روزگاری کے طعنے دیا کرو۔ یہی نوید تھا جو سب کی جان ہوا کرتا تھا اور اب کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ ہیں ہی سب پیسے کے پُجاری ۔” نوید بھائی تو جیسے بگڑ پڑے۔
    ”ہاں بہن کس کی ہے آخر حسد تو کرے گی ۔ بھلا میرامیاں کیوں کسی کا بُرا چاہے گا۔” پھر بھابھی کی دھماکے دار آواز آتی۔
    بھابھی کا بھائی چہل قدمی کے بہانے باہر چلا جاتا ۔ وارث چھت پر کھڑا لڑکیاں تاکتا رہتا۔ نعمان ویسے تو گُونگا بہرا تھا مگر آنکھوں کے اشارے خوب جانتا تھا ۔ ہر گزرتی لڑکی کو دیکھ کر بالوں میں کنگھی کرتا اور مُسکراتا ۔ لڑکیاں کہتی گزرتیں:
    ”دیکھو جھلا ڈورا بھی ہے اور گونگا بھی پھر بھی حرکتوں سے باز نہیں آتا۔” وہ خوش ہوتا کہ لڑکیاں دیکھ رہی ہیں۔