Tag: afsana

  • سال ۲۰۴۰ کی سیر —- فریحہ واحد

    ہوا میں تازگی قدرے کم تھی، اب تک لوگ شاید اِس سوکھی ہوا کے عادی ہوچکے تھے ۔سورج نے بھی اپنی فوج میں چند ہزار مزید شعاعیں بھر تی کی تھیں جو کہ خاصی ماہر معلوم ہو تی تھیں۔۔۔ مگر انسانوں سے بھلا اس کا کیسا مقابلہ؟ اور وہ بھی امیر انسانوں سے ۔۔۔ جب کہ سال دو ہزار چالیس میں ان کھر چ کر رکھ دینے والی شعا عوں کو اپنا شکار اب بھی میسر تھا۔ پاس کھڑی آسمان کو چھوتی ان گنت عمارتوں سے مقابلہ نہ کر پانے والے تعداد میں بہت ہی کم سائے دار درخت ، ننھے ننھے پیارے پیارے پھول پتے ، زبان سے محتاج بے زبان جانور اور۔۔ اور غریب۔
    آج عیلی کے دسویں گریڈ کا آخری امتحان تھا ۔ تیاری میں مگن عیلی نے دو راتیں بِنا سوئے ایک پراجیکٹ بنا یا تھا۔ مگر وہ اب بھی پوری طرح مطمئن نہ تھی اور آرکیٹیکچرل ڈسپلے گلاس نامی ٹیکنالوجی کا بہ خوبی استعمال کرتے ہوئے شیشے کی بنی دیواروں پر تیزی سے انگلیاں گُھماتے ہوئے آج کے امتحان کے لئے تیار کی گئی اپنی پریزنٹیشن کا اعادہ کر نے کے ساتھ ہی اپنی پرو فائل پر ایک نظر گھمانے لگی تھی گو یا کوئی ٹچ اسکرین مو بائل ہو۔ اعادہ اور ملا حظہ کر لینے کے بعد اسے کچھ بھوک سی محسوس ہونے لگی تھی۔ اس نے زمین میں لگی ایک ٹائل پر اپنے انگوٹھے کو ایک مخصو ص طریقے سے پھیرا اور وہ ٹائل بنا کسی ہدایت کے اس کے مطابق چلنے لگی تھی اور اسے باورچی خانے لے آئی جہاں اس نے پاس کھڑے نو کر احمد کو انڈا بنا نے کا حکم دیا اور وہیں پر کھڑے ہوکر کچن کی دیوار پر تیزی سے انگلی پھیر کر اپنی پروفائل اور اپنے دوستوں کے کارنامے ملاحظہ کرنے لگی تھی۔





    احمد نے ماربل کے سلیب پر ایک مخصوص جگہ پر انگلی سے دائرہ بنایا اور اس پر انڈا توڑ کر ڈال دیا۔ اس دائرے سے نکلتی دکھائی نہ دینے والی تپش سے وہ انڈا چند سیکنڈ میں تیار ہو گیا اور وہ تپش اپنے آپ بند ہو گئی۔ اس نے وہ انڈا ایک پلیٹ میں ڈال کر سر ونگ ٹرالی پر رکھا اور اس پر بنے ایک بٹن کو دبا دیا جہاں لکھا تھا "عیلی کا کمرہ” اور وہ ٹرالی عیلی کے کمرے کی طرف روانہ ہو گئی اور اس کے پیچھے عیلی بھی اپنی ٹائل سمیت اپنے کمرے میں جا پہنچی۔ اس نے چُھری کانٹے سے آدھا انڈا مکمل کیا ہی تھا کہ اتنے میں کمرے میں لگا الارم انگریزی میں کچھ ہدایت دینے لگا۔
    ”عیلی یو ہیو جسٹ ٹین منٹس لیفٹ، ٹو ارائیو دا اسکول” (عیلی تمہارے پاس صرف بیس منٹ بچے ہیں اسکول پہنچنے کے لیے) عیلی کو یہ سنتے ہی اپنے چہرے کی فکر ہونے لگی اور اس نے بناوقت منٹ ضائع کئے گلا س کی بنی دیوار پر ایک بار پھر انگلی گھمائی اور مرر موڈ ایکٹیویٹ کر دیا اور وہ دیوار اب آر پار دکھانے کی بہ جا ئے صرف اس کا چہرہ دکھا رہی تھی۔ ہر بار اپنے دودھیائی چہرے، لمبے گھنے سیدھے اور سنہری بالوں کو دیکھ کر اس کا خون دو کلو اور بڑھ جاتا۔ وہ خود کو سنو وائٹ یا سلیپنگ بیوٹی نہ سمجھتی بلکہ اسے تو خود میں مشہور ہالی ووڈ گلو کارہ ٹیلر فسیٹا کا عکس دکھائی دیتا تھا جو کہ اپنے زمانے کی شہرت یافتہ گلو کارہ ٹیلر سوئفٹ سے خا صی متا ثر تھی۔ مگر یہ خیال بھی اسے زیادہ دیر خو ش نہ رکھ سکا کیوں کہ اس کے دماغ میں فوراً ہی گھر کے نوکر، احمد کی بیٹی رِمی کی شکل آئی تھی جس کی چہرے سے زیادہ اس کی آنکھیں حسین تھیں اور وہ بھی بنا کسی خرچے یا علاج کے۔۔۔ مگر سب سے بڑی اور دل دہلا دینے والی بات تو تب سامنے آئی جب اس نے دو ہزار سترہ کی ایک اور پر کشش اور کڑوڑوں فالوؤرز رکھنے والی ہالی وڈ اداکارہ کو دیکھا جس کے نین نقش اسے ہو بہ ہو رِمی سے ملتے جلتے معلوم ہوئے۔ تب سے اب تک رِمی ، عیلی کی آنکھوں کی پتلیوں اور دل کی کنجیوں میں جگہ تو دور اس کے سوشل ورک کے دائرے میں بھی جگہ نہ بنا سکی، جہاں وہ ضرورت مندوں پر اپنے ابا حضور کا پیسہ لٹانے کے باعث ڈھیروں شہرت کے ہار کما چکی تھی۔ روزِحشر کا تو معلوم نہیں۔۔۔ ہاں مگر سو شل میڈیا ضرور اسے جنتی قرار دے چکی تھی۔ مگر عیلی نے وقت کا لحاظ کرتے ہوئے فوراً ہی سب خیالا ت جھٹکے اور اپنی آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکوں پر ایک ڈنڈی نما چیز پھیری اور وہ گہری سیاہی جیسے کہیں غائب ہو گئی۔





    حسینہ گھر کے اندر کھڑی چیئر لفٹ کے ڈبے نما گاڑی کی طرف چل دی مگر اِن نئی گاڑیوں سے عیلی سے زیادہ اسی کی امی بڑی خو ش تھیں کیوں کہ سال دو ہزار پچیس کی گا ڑیوں کو چلانے کے لئے وہ انگوٹھے کے استعمال پر مجبور تھیں اس کی بھی وجہ در حقیقت یہ تھی کہ ایک بار انہوں نے گاڑی کی سیٹنگ کچھ یوں کر رکھی تھی۔ کہ جب تک وہ شیشہ ان کے ہنستے ہوئے چہرے کا دیدار نہ کر لیتا وہ نہ کھلتا مگر ایک بار وہ کچھ اِس طرح تیار ہوئی کہ سائنس دانوں کی سب سے اعلیٰ تخلیق اس گاڑی کے اندر موجود مائیکرو روبورٹس نے بھی انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اس حادثے کے نتیجے میں وہ انگو ٹھے کو ہی غنیمت جانتیں، مگر اب ان کی یہ مشکل بھی دو ہزار چالیس نے حل کر دی تھی۔
    عیلی اپنی گاڑی کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔ اس گا ڑی نے جیسے عیلی کے آتے ہی اس کی خوشبو سونگھ لی یا شاید اسے دیکھا یا محسوس کیا تھا کہ اس کے آتے ہی اس نے اپنے سلائیڈنگ ڈو ر کھول دیے تھے۔ سلائیڈنگ ڈور کُھلتے ہی وہ گاڑی کے اندر جا بیٹھی۔ سلائیڈنگ ڈور بند ہوا اور اسکرین پر پانچ جملے نمودار ہوئے:
    1۔ ڈرائیو ٹو اسکول (اسکول چلو)
    2۔ ڈرائیو ٹو ہوم (گھر لے چلو)
    3۔ ڈرائیو ٹو ہائیپر اسٹار (ہائیپر اسٹار لے چلو)
    4۔ ڈرائیو ٹو ہیمیز ہاؤس (ہیمی کے گھر چلو)
    5۔ آئی ول ڈرائیو ، وانٹ ٹو گو سم ویئر ایلس (میں خود چلاؤں گی، کہیں اور جانا ہے)
    اس نے پہلے آپشن پر انگلی سے پریس کیا اور وہ بلٹ پروف گاڑی چل پڑی ۔ گاڑی کے چلتے ہی اسے پھر سے بھوک محسوس ہو نے لگی تھی۔ اس نے گاڑی کے ڈیسک بورڈ کی جگہ سکرین پر کچھ انگلیاں پھیریں اور نہ جانے ایسا کیا جادو کیا کہ اس گاڑی کی چھت سے ایک چھوٹے سے ہوائی جہاز کی طرح کا ٹکڑا نکل کر اُڑنے لگا تھا اور شاید اس کے کھانے کا انتظام بھی اب اس ننھے ہوائی جہاز کے ذمہ تھا۔ اپنے پسندیدہ کھانے کی طرف سے اب وہ بالکل بے فکر تھی کہ اب وہ جانتی تھی کہ اس کے حکم کے مطابق اس کا کھانا اسکول میں پہنچا دیا جائے گا۔ اسکول پہنچتے ہی گاڑی کا دروازہ کُھل گیا اور اس نے اُترتے ہی گا ڑی کے نیچے لگے ایک بٹن کو دبادیا۔ اس بٹن کے دباتے ہی گاڑی کا ایک پہیہ باہر آیا اور اس میں سے ایک اور پہیہ نکل آیا جس کے دونوں طرف ایک ایک پلیٹ لگی تھی۔ عیلی نے دونوں پلیٹس پر اپنا ایک ایک پاؤں رکھا اور وہ پہیہ عیلی کے مطا بق چلنے لگا اور اسکول کے دروازے کے عین قریب لا کھڑا ہوا۔ اسکول کے باہر لگے گلاس کے دروازوں نے خاموشی سے چند سیکنڈ کے اندر عیلی کی چیکنگ کی اور عیلی کے اندر جانے تک اپنی بانہیں کھولے کھڑا رہا اور اس کے اندر جاتے ہی دوبارہ بند ہوگیا۔ اِس ائیر کنڈیشنڈ اسکول میں پڑھنے والے بچوں نے کبھی سورج کی شعاعوں کا سامنا نہ کیا تھا مگر۔۔۔ مگر ان بچوں نے بھی کیا قسمت پائی تھی کہ اِن تپتی لکیروں سے بھی زیادہ بے چین کردینے والی چیزیں ان سے منہ چڑھ کر باتیں کرتی تھیں جس میں سرِفہرست تعلیمی میدان میں بر پا وہ مقابلہ تھا جس میں ہر طالبِ علم ایک جنگ جو کے مانند تھا۔ اب وہ بے چارے کرتے بھی تو کیا کرتے؟ دن بھر ایسے کام کی تلا ش میں رہتے کہ جس سے سو شل میڈیا کی رونقیں بڑھائی جا سکیں اور پھر ایسی ایسی تصویریں اورمواد جمع کرتے جو ان کے ہر جاننے والوں کو ہلا کر رکھ دیتا۔ آج بھی اِس جدید دور میں رشتے داروں اور جاننے والوں سے چاہے سال ہا سال ملا جا تا یا نہیں لیکن ایک تعلق تو ان کے درمیان تقریباً ایک صدی سے چلا آرہا تھا۔ وہ تعلق تھا جلانے اور جلنے کا تعلق۔۔۔ اور اِس تعلق میں اتنی طاقت اور گہرا ئی تھی کہ اپنے ہر عمل سے پہلے، ان کو اور ان کی پسندو نا پسند کا خاصا خیال رکھا جاتا، اور اب یہی ان کی تسکینِ روح کا ذریعہ تھا۔ اب اِس مصروف ترین دن میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کر لینے کے بعد وہ سب ہی سپہ سالار نو جوان اپنے بزرگوں کی روایت کو اِس جدید دور میں بھی فروغ دیتے ہوئے رات رات بھر جاگ کر گریڈز کی جنگ میں اپنے جھنڈے گاڑنے کو جُٹ جاتے اور ہر ممکنہ کوشش کرتے ہوئے کتے بلّیوں سی زندگی گزار رہے تھے۔۔۔ نہ کھا نے کی کچھ خبر تھی نہ سونے کی۔۔ مگر اِن سب میں اس ظالم اسکول مینجمنٹ کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ دراصل ترقی یافتہ تعلیمی اداروں کی نئی پالیسی کے تحت اب طالب علموں کے امتحانی نتائج اور ان کے بنائے گئے پراجیکٹس ان کی پروفائلز پر بھی متعارف کروائے جاتے اور ہزاروں نظریں اپنے نشتر لئے اِس گھڑی کی منتظر رہتیں۔۔۔ کب کس کو یہ نشتر نشتر کھانا پڑے۔ مگر یہ وہی زندگی تھی، جو ان کے نزدیک ان کی شان کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی۔ مگر اِس دور کے لو گوں کی ہر ایک حرکت اِس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھی کہ اب بھی ایک ایجاد باقی ہے۔۔۔ ہاں باقی ہے جو سائنس دانوں کے لئے اب بھی ایک للکار تھی اور شا ید وہ اِس میں کبھی کام یاب ہو بھی نہ سکے۔۔۔ اور وہ ایجاد تھی ایک ایسے آلے کی جو اس جدید دور کے لوگو ں کے رویے اور ذہنیت کو بد ل سکے جو اب بھی ہو بہ ہو ایک تیس سال پرانے معمولی انسان سی ہی تھی۔۔۔۔ خیر اِس من پسند زندگی کے لئے اس گھر کا ہر چھوٹا بڑا، دل ہی دل میں عیلی کے مرحوم دادا کو ہی داد دیتا پھرتا تھا۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے بال بچوں کے لئے کمانے میں گزار دی اور ماشااللہ اتنا کمایا کہ آج بھی سیف اللہ شریف کے لئے پیسہ ہاتھ کے میل سے زیادہ نہ تھا ۔یہی وجہ تھی کہ عیلی جیسی عام شکل وصورت کی لڑکی بھی اب کسی مومی گڑیا سے کم نہ لگتی تھی ۔۔۔ اور بھلا کس چیز کو ان نوٹوں نے نہ بدلا تھا؟ عیلی کی سانولی رنگت اور سوکھے گھنگھریالے بالوں سے لے کر چہرے پر بار بار اُگ آنے والی مونچھوں تک سب ہی مسائل تو اس کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی حل کر دیے گئے تھے۔۔۔ ایسے دادا دعائوں اور داد کے مستحق نہ ہوتے تواور کیا ہوتے؟۔۔۔ دراصل معاملہ بھی کچھ یوں تھا کہ سیف اللہ شریف کے مرحوم والد اور عیلی کے محنتی دادا اپنے زمانے کے ایک نام ور سیاست دان رہ چکے تھے۔۔۔ پھر پیسا تو قدرتی چیز تھا۔




  • بیلا کا ساون — عطیہ خالد

    چھم چھم بادل برس رہا ہے۔ ٹین کی چھتوں پر ساز بُنتا، کہیں درختوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا، پھولوں کے رنگ نکھارتا، دورکہیں پربتوں پر چنگھاڑتا، آج تو چھاجوں چھاج مینہ برس رہا ہے۔مینہ جو دھرتی میں زندگی کے دیئے جلاتا ہے۔ کلیوں اور پھولوں پھلوں میں رس بھرتا ہے۔ یکساں برستا یہ پانی سب پر ایک طرح برستا کیوں نہیں؟ راجنوتے میں گرمی خوب پڑتی ہے اورپھر ساون بھی خوب برستا ہے۔ کالی کالی گھٹاؤں کے سنگ جھوم جھوم کے… بیلا کو اور اس کے راجنوتے کے موروں کو تو ساون بہت پسندہے۔ وہ پنکھ پھیلائے ناچتے ہیں چھتوں پر، اور آنگن میں بیلا اپنی سکھیوں کے سنگ لہراتی ہے۔اس کے کھیتوں اور آموں کے باغ کی خوشی کا تو کیا ہی کہنے… آم میٹھے ہو جاتے ہیں اور رسیلے…ایسے میں برکھا کے گیت آپ بیلا کے من سے پھوٹ پڑتے ہیں۔
    اس کی سب سکّھیاں دھانی چنریاں اوڑھے بارش میںنہاتی ہیں۔ موراں، نیلم، دیپا اور ارملا سب ہی اس کے آنگن میں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ اس کا بابا ان کے لئے دو دو جھولے ڈال دیتا ہے… وہ جھولے جھولتی ہیں اور بھوری اماں میٹھے گلگلے اور پوڑے تل تل کر ان کو دیتی جاتی ہے۔بابا آم بالٹی میں بھر کر ان کے پاس رکھ دیتا ہے…بارش ان کو ٹھنڈا کر دیتی ہے تو وہ سب مل کر آم چوستی اور گاتی ہیں۔
    بجلی چمکے
    بدرا گرجے
    رِم جھم پڑے پھوار
    کہ ساون آئیو رے
    کہ ساون آئیو رے…





    اب کے برس اس ساون کے بعد بیلا کا بیاہ ہو جائے گا۔ٹھاکر کی حویلی میں چلی جائے گی وہ وداع ہو کر… سُنا ہے بہت بڑی حویلی ہے، بھانیانا گاؤں کے بڑے زمین دار ہیں وہ لوگ۔ بابا کے زمین دارے سے بھی بڑا زمین دارا ہے ان کا۔ وہاں بھی امبر برستا ہو گا۔سرمئی،اودی اور کالی گھٹاؤں کا روپ دھارے، چنگھاڑتا ہوا، چھاجوںچھاج۔مائی نے بڑی بڑی پائلیں گھڑوائیں ہیں ڈھیر سارے گھنگرؤں والی۔وہ پہنا کروں گی برکھا والے دن اور بسنتی اور دھانی چوڑیاں۔ سکھیاں نہیں ہوں گی تو کیا ہوا، ٹھاکر جو ہوگا میرے سنگ۔۔۔ دھیرے سے مُسکائی پھر آنکھیں موند کر ہنس پڑی بیلا۔ٹھاکر کا نام ہی مانو گدگدی کرتا ہو اسے۔برکھا اور ٹھا کر کے خیال نے گلال مل دیا تھا اس کے گالوں پر۔جانے کب تک وہ ٹھاکر کے خیالوں میں بھیگی ہی رہتی مگر موروں کی می آؤں… می آؤں نے اسے جگا دیا۔لہراتی ہوئی باہر آئی تو دیکھا کہ موٹی موٹی بوندیں پڑنے لگی تھیں۔اس نے باہر نکل کر ارملا کو آواز دی ۔کچھ ہی دیر بعد میں سب سکھیاں جمع ہو گئیں اور لگیں اسے چھیڑنے۔
    ”سنا ہے بڑا گھبُرو جوان ہے ٹھاکر!” نیلم اسے کہنی مارتے ہوئے بولی۔
    ”تو؟” اٹھلا کر ابرو کے اشارے سے بیلا نے پوچھا،جیسے کہتی ہو میں کیا کسی سے کم ہوں اور اپنی چُنر کو اٹِھلا کر پیچھے پھینکا۔
    ”سنتے ہیں ہمارے راجنوتے میں کوئی بھی تو نہیں ٹھاکر جیسا!” نیلم نے بیلاکو گدگدایا۔
    ”بابا بھی بتا رہا تھا مائی کو اور بھوری اماں کو۔” بیلا جیسے اٹھلائی۔
    ”صرف وہی لگا اس کومیرے جوڑ کا تبھی تو اتّی دور بھیج رہاہے مجھے۔” بیلا بھی کب ہار ماننے والی تھی؟
    اگلے ساون میں تو تو ٹھا کر کے ساتھ رہے گی ناں!” موراں کھلکھلاکر بولی۔
    کون جانے اس کے سسرال میں برکھا میں گلگلے پکتے ہیں کہ نہیں، سکھیاں گیت گاتی ہیں یا بارش میں نہاتی بھی ہیں یا نہیں…بیلا من ہی من میں سوچ رہی تھی۔
    وہ تو ضرو ربنائے گی پوڑے اور گلگلے۔سوجی کا میووں والا حلوہ تو وہ ضرور سیکھ کر جائے گی بھوری امّاں سے اور جب ٹھاکر کے شہری دوست آئیں گے تب بنایا کرے گی۔بابا نے جب سے بتایا تھا کہ کہ ٹھاکر کا شہر آنا جانا ہے۔اس کے شہری دوست بھی حویلی آتے ہیں تب سے بیلا کی سوچ گھوم گھما کر اس طرف بھی جا نکلتی کہ کیسے وہ اپنے سلیقے کا رعب ڈالے گی۔





    سمے بھی کبھی رُکتا ہے؟ دیکھتے ہی دیکھتے بیاہ کا دن آگیا اور بیلا ٹھاکر کے ساتھ وداع ہو گئی۔ کندن کے کام سے سجا ہرا گھاگھرا،لال کرتی اور لال چنر میں ڈھیروں زیورات سے سجی،ٹھاکر کا ہاتھ پکڑے پکڑے دھیرے دھیرے وہ حویلی کی ڈیوڑھی میں داخل ہوئی۔شہنائی والوں نے سواگت (استقبال) کی دھن چھیڑ دی۔ اس کی ساس نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما اور کتنے ہی تھال اس کے ہاتھ سے چھوا کر آگے دان کے لئے بھیجے، تب وہ دونوں آگئے بڑھے جہاں ٹھاکر کی چاچیاں، مامیاں، موسیاں، بہنیں سبھی ملن کے گیت گا رہی تھیں۔
    رات دیر تک ہنسی ٹھٹھول ہو تا رہا، بیاہ کی رسمیں ہوتی رہیں پھر ٹھا کر کی بہنیں اور بھوجائی اس کو کمرے میں بٹھا گئیں۔
    ”چاند سورج کی جوڑی ہے دونوں کی، اب سویرے ملیں گے۔ بھیجتی ہوں دیور جی کو۔” بھوجائی جاتے ہوئے بولیں۔
    ساری تھکان پر ایک لجا بھرآنند (خوشی) چھا گیا تھا۔ آہٹ پر وہ کچھ اور جُھک کر سمٹ گئی۔ چھپر کھٹ پر بیٹھتے ہوئے ٹھاکر بولا:
    ”سنا ہے راجنوتے کے موروں سے بھی سندر ہے ہماری دلہن، ذرا دیکھیں تو۔ دوسروں کے کہے سنے پر ذرا کم ہی وشواس (بھروسہ) کرتے ہیں ہم۔” ٹھاکر نے اس کا گھونگٹ اٹھایا اور بولا:
    ”غلط! با لکل غلط” وہ رُکا تو جیسے بیلا نے سانس روک کر نظر اٹھائی ایک دم… اور ٹھاکر کے چہرے پر پھیلی مسکان دیکھ کر ایک دم جھینپ گئی۔
    ”ہماری دلہن تو سورگ(جنت) کی اپسراؤں جیسی ہے۔اس سے تو چندرما بھی شرمائے گا۔”
    مہندی رچے ہاتھوں کی باس محسوس کرتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھوں میں جڑاؤ کنگن پہنائے اور بھید بھری بھاری آواز میں بولا:
    ”تم میری کسم ہو،رادھا ہو،شکنتلا ہو۔تمہاری ہر خوشی،ہر کامنا (خواہش)پوری کرنے کا وچن دیتا ہوں تم کو منہ دکھائی میں…پورے کا پورا گگن راج ٹھاکر تمہارا ہو ا…”
    وہ ایسا پھیلا ہوا آکاش تھا جس نے بیلا کو پورے کا پورا ڈھانپ لیا تھا۔ وہ اس کی چھایا میں کھل اٹھی، مہک اٹھی تھی۔ ٹھاکر کا پریم اس کے لئے ہر روز نئے نئے روپ دھارتا۔ وہ پریم دیوانی چہکتی پھرتی۔ ٹھاکر کی بڑی بہنوں کے بیاہ کے بعد سونی پڑی حویلی میں جیسے جان پڑ گئی تھی۔ ہر گذرتے دن بیلا ضرور سوچتی کہ ساون آنے میں کتنے دن رہ گئے ہیں؟
    اس نے اپنی زیور کی الماری میں نچلے خانے میں بسنتی اور دھانی چوڑیاں،چاندی کی چوڑی پائل،گھنگرؤں والی ماتھا پٹی اور گھنگرؤں والا گانی سیٹ بھی رکھ لیا تھا جو ٹھاکر شہر سے لایا تھا۔
    ہر روز زیور بدلتے و قت وہ ان چیزوں کو دیکھ کر مُسکاتی۔ دومہینے گذرے تو ساس نے میٹھے میں ہاتھ لگوا کر سبھی چابیاں اور ذمہ داری اس کو سونپ دی۔اس نے اپنی سوجھ بوجھ سے سب کام سمجھ لیاتھا۔ سبھی رشتہ دار اور گاؤں والے اس کی ساس کو بدھائیاں دیتے کہ اس کو ایسی سوجھوان بہو ملی۔یوں تو بیلا کو ساری ہی حویلی بہت بھائی تھی۔سامنے کے سارے حصے میں میں سفید پتھر لگا ہوا تھا مگر پچھلی طرف کے ستونوں والے بر آمدے اور آنگن میں لال لا ل اینٹوں کا صحن تھا۔تو ت،بکائن اور امرود کے درخت تھے۔یہ حصہ تو اس کے سپنوں جیسا تھا۔اس نے بکائن پر دو جھولے ڈلوالئے تھے۔





    ساس اس کو گھر کے کاموں میں جٹا دیکھ کر بہت خوش ہوتی اور کہتی:
    ”دودھوں نہاؤ،پوتوں پھلو…”ٹھا کر کے سامنے پر شنسا(تعریف) کرتی کہ بہو بہت گن وان ہے۔ ٹھا کر دھیرے سے اس کی طرف جھک کر کہتا:
    ”ان گنت گن تو میں جانتا ہوں…!” وہ آنکھوں میں جھوٹا غصہ لاتی،مند مند مسکاتی۔
    برکھا رت آن کھڑی تھی۔آس پاس کے گاؤں میں تو بارش پڑنے لگی تھی۔چپکے چپکے بیلا نے سبھی تیاریاں کر لی تھیں۔ مہاور منگوا لیا تھا۔ دھانی گھاگھرا اور بسنتی چولی اور چنر کو ٹرنک میں سب سے اوپر رکھ لیا تھا۔جنداں کو گلگلے اور میوؤں والا حلوہ بنانا تو کبھی کا سکھا چکی تھی۔
    سوموار کی صبح ٹھا کر گھر سے نکلا،اور ادھر بیلا کے من میور(مور) نے می آؤں،می آؤں کی تان لگائی مانو بر کھا کی باس پا لی ہو۔جنداں کو سبزی کاٹنے پر لگایا اور شیام کی ماں کو اصلی گھی میں سوجی بھوننے کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔گنگناتے ہوئے جلدی جلدی دھانی گھاگھرا،بسنتی چولی اور چنر پہنی۔ ہاتھ بھر بھر کے بسنتی چوڑیاں، پائل، گانی، جھمکے اور گھنگرؤں والی ماتھا پٹی۔گالوں اور ہونٹوں پر لالی لگاکر آئینے میں اپنی نرالی چھب دیکھتی ہوئی نکل آئی۔
    کالے کالے بادل گھر آئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے موٹی موٹی بوندیں پڑنے لگیں تھیں۔بار بار اناج کی کوٹھری سے رسوئی میں جاتی بات بے بات کھلکھلا کر ہنستی… کہیں دال چکھتی،کہیں گلگلے تلواتی وہ گھوم رہی ہے۔
    اس کی مدھر ہنسی سے ساری حویلی کھلکھلا رہی ہے۔ برکھا کی بوندوں کے ساتھ اس کی پائل،چنر اور گھاگھرے کے گھنگرؤں کا سرگم مدھر تال بن رہا ہے۔
    ٹھا کر جب دیکھے کا تو کیسا خوش ہو گا۔ارد کی مکھنی دال،سیم اور آلو کی بھاجی،بوندی رائتہ اور ساتھ میں سوجی کے حلوے کی سوندھی سوندھی مہک سارے گھر میں چکرا رہی ہے۔
    ”اری اور بہو رانی!” اس کی ساس نے بڑے پریم سے پکارا۔
    ”جنداں کو بول جلدی ہاتھ چلا… دیکھ تو کیسا پانی برس رہا ہے۔ سب کھالوں میں بھر جائے گا یہ پانی۔ایسے ہی کھالے میں پھسل گیا تھا ٹھاکر کا پاؤں…ایسا گرا کہ کولہے کا جوڑ ہل گیا۔ بہتیرا دوا دارو کیا، مگر لنگ رہ ہی گیا ناں،میں تو اس کی آواز سن کے دکھی ہو جاؤں ہوں۔ ”ا س کی ساس کی آواز بھیگی ہوئی تھی۔ اتنے میں ٹھاکر اندر آیا۔ لنگ والا پاؤں پہلے اندر رکھا۔ ایسا گھبرو جوان ہے، یہ لنگ تو کالا ٹیکہ ہے اس کا۔ بیلا نے سوچا ٹھاکر آج جلدی آگیا۔ برسات منانے آیا ہوگا۔ اس کا جیا دھڑ دھڑ کرنے لگا۔ جلدی سے ستو کا گلاس اور پوڑوں او ر گلگلوں کا تھال لے کر آئی تو وہ مائی سے کہہ رہا تھا:
    ”دیکھ مائی! آج میں جلدی آگیا کہ تو چنتا کرے گی۔” بیلا کے مہاور سے منڈے ہاتھوں سے گلاس پکڑ کر مسکرایا اور ہاتھ بڑھا کر پچھلی کھڑکی بند کر دی کہ کہیں اس کی پیاری پر پیچھے سے آتی بو چھاڑ کی کوئی چھینٹ نہ پڑ جائے۔
    بیلا کے شرنگھار(سجاوٹ) کو غور سے دیکھا پھر اس کا ہاتھ پکڑ قریب ہی بٹھا لیا۔
    ”میگھا (بادل) کو تو نجانے کیسا غصّہ ہے جو ایسے برس رہا ہے…مانو سبھی کو بہا کر لے جائے گا…ہر طرف پانی ہی پانی ہے” ۔
    اور سر جھٹک کر باہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا:
    ”بس اب یہیں اندر بیٹھی رہو ہمارے پاس۔کہیں بھیگ کر تاپ نہ چڑھ جائے۔جنداں پروس دے گی رسوئی۔جانے کب دھوپ نکلے گی اور پانی سوکھے گا۔”

    ٭…٭…٭




  • اللہ کی مرضی — احسان راجہ

    یہ شاید 1988ء کے آس پاس کی بات ہے، یاد نہیں کیوں میں ان دنوں گائوں گیا ہوا تھا۔ باہر زمینوں میں ہریالی تھی، یعنی برسات کے بعد کے دن تھے۔ بارانی علاقوں میں سبزہ ساون کے بعد ہی نظر آتا ہے۔ عصر کے بعد کا وقت تھا اور بیٹھک میں، میں اکیلا ہی تھا۔ اس وقت ہمارا گھر گائوں کے شروع میں ہی تھا۔
    ”السلام و علیکم۔” دروازے پر اچانک نمودار ہونے والے پردیسی نوجوان نے سلام کیا۔
    میں نے اسے اندر آنے کو کہا مگر اس نے ”جلدی” کی معذرت کرلی اور گائوں کے چوکی دار کا پتا پوچھا۔ مجھے علم تھا کہ وہ آج تحصیل آفس گیا ہوا ہے۔ نووارد کو جب میں نے یہ بتایا تو وہ اندر آگیا اور بولا: ”میں نے دراصل سپاہی شیر محمد ولد بہادر خان کے گھر جانا ہے۔”
    میرا ماتھا ٹھنکا۔ گائوں کے بیش تر نوجوان فوج میں ملازم تھے۔ یہ آنے والا جوان بھی بہ ظاہر ڈیل ڈول، خاص کر اپنے بالوں کے سٹائل سے فوجی ہی لگ رہا تھا۔
    ”خیریت تو ہے؟ اس کے بیٹھتے ہی میں نے پوچھ لیا۔





    ”وہ جی دراصل شیر محمد سیاچن میں ایک چھوٹی سی لڑائی میں شہید ہوگیا۔ میرا نام شادی خان ہے۔ میں سٹیشن ہیڈکوارٹر سے یہی اطلاع دینے آیا ہوں۔” اس نے اپنے یہاں آنے کی وجہ تفصیلاً بیان کردی۔
    یہ وہ دور تھا جب موبائل تو کیا لینڈ لائنبھی اتنے عام نہیں ہوئے تھے اور ٹیلی گرام کی بروقت ترسیل دور دراز دیہاتوں کے لیے ایک مشکل بلکہ ناممکن عمل تھا۔ شیر محمد کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ میں بجھے دل کے ساتھ اسے لے کر اُدھر چل پڑا۔
    شیر محمد گائوں کا ہردل عزیز نوجوان تھا۔ خوب صورت، لمبا تڑنگا، شوخ طبیعت، مگر حد درجہ ہم درد اور ملنسار۔ مڈل پاس کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد علاقائی روایت کے مطابق فوج میں چلا گیا تھا۔ اس دوران وہ گائوں کی طرف سے کبڈی بھی کھیلتا رہا تھا اور ارد گرد کے قصبوں میں شیرو کے نام سے کافی مشہور بھی ہوگیا تھا۔ میں نے جب کبڈی کا ذکر کیا تو شادی خان چونکا۔
    ”پھر تو میں نے اسے کبڈی کھیلتے دیکھا ہوا ہے۔ میں خود اسی علاقے کے فلاں گائوں کا رہنے والا ہوں۔ آرمی والوں نے اسی تعلق کی وجہ سے یہ ڈیوٹی میرے ذمہ لگائی ہے۔” شیر محمد کی شادی دو سال قبل اپنی پھوپھی کی بیٹی نسیم سے ہوئی تھی اور اس کا شیر خوار بیٹا بھی تھا۔
    ہم شیر محمد کے گھر پہنچ چکے تھے۔ وہی دیہاتی طرز کا گھر، پیچھے ایک لائن میں تین چار کمرے، سب کمروں کے سامنے ایک لمبا سا برآمدہ اور آگے بڑا کھلا صحن، چار دیواری زیادہ اونچی نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا پورا منظر ہمارے سامنے تھا۔ کمرے مشرق کی طرف ہونے کی بنا پر سایہ برآمدہ سے باہر بھی کافی پھیل چکا تھا۔ شیرو کی بھابھی تندوری میں لکڑیاں جلا رہی تھی، اس کی ماں تخت پوش پر بیٹھی شاید نماز یا تسبیح پڑھ رہی تھی۔ اس کا بھائی اور والد مویشیوں کو باندھتے پھر رہے تھے۔ لگ رہا تھا کہ ابھی ابھی انہیں چرا کر لائے ہیں۔ نسیم ایک چارپائی پر سمٹ کر بیٹھی تھی۔ جیسے بیٹے کو دودھ پلا رہی ہو۔ شیرو کی دونوں چھوٹی بہنیں، جوکہ اتنی چھوٹی بھی نہیں تھیں،۔ دوسری چارپائی پر بیٹھی شیرو کی بھتیجی کے ساتھ کھیل رہی تھیں اور قہقہے لگا رہی تھیں۔ ہمیں دیوار کے پاس کھڑا دیکھ کر گھر کا کتا بھونکتا ہوا ہم پر لپکا۔ شاید وہ شادی کو بری خبر سنانے سے منع کررہا تھا۔ ہماری ہمت بھی نہیں بن رہی تھی کہ کون کس طرح اس ہنستے کھیلتے اور پرسکون ماحول میں ایسی اندوہ ناک خبر سنائے۔ کتے کے اچانک بھونکنے پر شیر محمد کا معصوم بیٹا نیند سے جاگ کر زور زور سے رونا شروع ہوگیا تھا۔ ہوسکتا ہے پریوں نے چپکے سے اس کے کانوں میں کوئی منحوس سرگوشی کردی ہو۔ سارا گھر ہماری طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ چناں چہ میں نے ہمت کرکے شیرو کے بڑے بھائی احمد کو آواز دے ہی دی۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے جواب دیا۔
    ”بھائی اندر آجائو۔”





    اس دوران ہم ذرا پیچھے ہٹ کر اوٹ میں چلے گئے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ایک بوڑھے باپ کو یہ الم ناک خبر نہ سنائی جائے۔ جوان بیٹے کی موت کی خبر چہ جائے کہ وہ ایک عظیم موت تھی، شہادت کی موت۔ مگر پھر بھی ایک بیٹے کی موت تھی۔ لمحہ بھر وقفہ کے بعد ہم نے احمد کے بہ جائے اس کے والد کو دروازے سے نکلتے دیکھا۔
    ”اُف خدایا یہ کیا ہوگیا۔ اب کیا ہوگا۔” ہم ایک دوسرے کو دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ ہمارے قریب آگئے۔
    ”کی گل اے پتر اندر کیوں نئیں آئے؟”
    ہم خاموشی سے زمین کو گھور رہے تھے۔ ہماری خاموشی ہمیں مشکوک بنا رہی تھی۔ جہاں دیدہ بزرگ نے تھوڑا سا توقف کیا اور ہمیں غور سے دیکھتا رہا۔ پھر شادی خاں کو کندھوں سے پکڑ کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پرُاعتماد آواز میں بولا:
    ”اوئے تو میرے پتر شیرے دی کوئی خبر لے کے تے نئیں آیا؟”
    ان کی اس بات پر ہم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
    شادی خان بولا:
    ”ہاں جی چاچا جی تہاڈا شیر محمد شہید ہوگیا اے۔”آخر کار شادی خان نے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بوڑھے باپ کو اس کے جوان بیٹے کی شہادت کی خبر سنا ہی دی۔
    میں نے دیکھا کہ خاموش بند کس طرح ٹوٹتا ہے اور پھر بے کراں پانی کس طرح بہ نکلتا ہے۔ ان کا چہرہ آسمان کی طرف تھا۔ ہاتھ اوپر اُٹھے ہوئے تھے اوروہ زمین پر اکڑوں بیٹھتے جارہے تھے۔ جو الفاظ میں سن پا رہا تھا وہ شاید یہی تھے۔
    ”اچھا میرے پُتر! اچھا میرے اللہ! اللہ دی مرضی۔”
    ابھی تک گلی میں ہم تینوں ہی تھے۔ مگر چچا کی یہ حالت دیکھ کر دو نوجوان پڑوسی بھی آگئے تھے۔
    ”کی ہویا چاچا… کیا ہوا چاچا” پاس آکر وہ دونوں نوجوان بولے۔
    میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل سکا۔
    ‘شیرا شہید ہوگیا ہے۔”





    ہم شیرے کے والد کو سہارا دے کر دروازے کی طرف لانے لگے تو محسوس ہوا کہ وہ باہمت بزرگ اپنے زور پر خود چل رہا ہے۔ پڑوسی لڑکے بھاگ کر اندر احمد کے پاس گئے اور اسے صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ مگر کیا شان تھی جبر اور حوصلہ کی بھاگ کر آیا اور اپنے والد سے لپٹ گیا۔
    ”اباجی صبر… ابا جی صبر۔” اور آگے سے بوڑھا والد کہہ رہا تھا: ”اوئے شیر محمدا۔ اے تے میری واری سی، تو کیویں لے لئی۔”
    یہ الفاظ جب صحن میں گونجے تو پھر کیا باقی تھا جو کسی سے پوشیدہ رہتا؟۔ سب کچھ آشکار ہوگیا۔ نسیم اوڑھنی لپیٹ کر روتے بچے کو لیے کمرے کے اندر چلی گئی تھی۔ احمد کی بیوی تندوری میں پانی انڈیل کر وہاں ساکت بت بنی کھڑی تھی۔ کتا بھی کچھ محسوس کر چکا تھا کیوں کہ دور کونے میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔ شیرے کی ماں شیرنی کی طرح لپک کر شادی خان کو اُچک کر چارپائی پر لے جاچکی تھی۔ وہ پوری تفصیل جاننا چاہتی تھی۔ شیرے کی بہنیں سہمی سہمی اُسی چارپائی کے پائیوں پر جھکی گفت گو کی طرف متوجہ تھیں۔ مگر شادی خان کے پاس نہ کچھ تھا نہ ہی بتا سکا۔ تھوڑی دیر کے بعد مسجد سے اعلان ہورہا تھا کہ راجا بہادر خان کا بیٹا سپاہی شیر محمد سیاچین میں شہید ہوگیا ہے۔ جنازے کا اعلان کل میت آنے کے بعد کیا جائے گا۔
    بس پھر کیا تھا، آناً فاناً پورا گائوں ان کے گھر موجود تھا۔ رونے کی چیخ و پکار میں عورتوں کے بین مزید اضافہ کررہی تھی۔ لوگوں کے گھروں سے چارپائیاں آرہی تھیں۔ پڑوسیوں نے سارے ڈھور ڈنگر اپنے یہاں منگوا لیے تھے اور جگہ کو چار پائیوں کے لیے صاف کردیا تھا۔ قریبی رشتہ داروں کی طرف سے کھانا بھی آگیا تھا۔ مگر دکھی دلوں میں کہاں کچھ کھانے کی تمنا تھی۔
    رات ہوچکی تھی۔ گھر والوں کا دماغ تو تقریباً مائوف تھا۔ رشتہ داروں اور دوست احباب کو اطلاع بھجوائی جارہی تھی۔ نوجوان گھوڑوں، سائیکلوں اور موٹرسائیکلوں پر بے لوث یہ ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ کسی نے خود سے سوزوکی پک اپ نسیم کے میکے والوں کو لانے کے لیے ان کے گائوں بھجوا دی تھی۔ نسیم خود گُم صُم بچے کو بانہوں میں بھینچے برآمدے کے ستون سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی تھی۔
    رات کافی بیت چکی تھی۔ رش بھی تھم گیا تھا۔ مگر پھر بھی کافی مرد و زن اندر اور باہر موجود تھے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ذہن کے مطابق شہادت کے بارے قیاس آرائیاں کررہا تھا۔ مگر سب کی متفقہ رائے تھی کہ گولی سینے پر کھائی ہوگی اور کئی دشمنوں کو مار کر شہید ہوا ہوگا۔ کوئی زندگی کے قصے سنا رہا تھا، تو کوئی کبڈی کے کارنامے۔ ماں اس کی لائی ہوئی چیزوں کو سینے سے لگا کر رو رہی تھی تو بھائی اپنے اکیلے رہ جانے کے احساس سے پر آنسو بہا رہا تھا۔ والد بہادر خان بتا رہا تھا کہ ایک ہفتہ بعد تو اُن کی یونٹ نے سیاچین سے واپس آجانا تھا۔ تب اس کو ایک مہینہ کی چھٹی مل جانی تھی۔ ابھی یہ یادگار یادیں بانٹی ہی جارہی تھیں کہ باہر سے خواتیں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ شاید نسیم کے گھر والے آ گئے تھے پھر سے کہرام مچ گیا۔ ہر عورت شیر محمد کی والدہ اور بیوی سے گلے لگ کر رو رہی تھی اور اپنے جذبات سے مغلوب ایسے دل خراش بین کررہی تھی کہ اپنے تو اپنے، غیر بھی سسکیوں کے ساتھ رونے پر مجبور تھے۔ مگر کیا مجال کہ نسیم کی آنکھوں سے ایک قطرہ بھی ٹپکا ہو۔ وہ پتھر کی مورتی کی طرح بے حس و بے جان بیٹھی رہی۔ کون سویا تھا رات کو مگر، جس نے بھی صبح دیکھا نسیم اسی جگہ بیٹھی پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ خلائوں میں گھور رہی تھی۔
    شیر محمد کے گھر والوں کے لیے تو زندگی تھم چکی تھی مگر قدرت کے شب و روز رواں دواں تھے۔ جوں جوں سورج بلند ہورہا تھا۔ لوگوں کا رش پھر سے بڑھتا جارہا تھا۔
    ”بھائی بہادر اللہ دی مرضی” یہ وہ ڈائیلاگ تھا جو مردوں میں بہ کثرت استعمال ہورہا تھا اور عورتوں میں بھی شیر محمد کی والدہ ہر کسی کو جواب میں کہہ رہی تھیں۔ ”بس جی اللہ دی مرضی”۔ ماحول انتہائی سوگوار تھا۔ نسیم کو غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ اتنی دیر سے بھوکی پیاسی تھی، یہ حالت تو ہونی ہی تھی۔
    ”نسیم بیٹے کچھ کھا پی لو۔ اپنے لیے نہ سہی اس ننھی سی جان کے لیے ہی سہی۔”




  • انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

    انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

    نہ جانے اس سے پہلے کا موسم کیسا تھا۔ کسی بہار کسی خزاں کا کچھ پتہ نہیں تھا آگاہی کو صرف کچھ نقوش چھوڑے تھے۔ نقوش بھی کہیں پر صاف اور واضح تھے تو کہیں پر زمانے کے گردوغبار سے گردآلود اور دھندلا چکے تھے۔ جس سے وہاں کے موسم کے مزاج سے واقف ہونے ، صورت حا ل کا اندازہ لگانے اور اُس کو صحیح طرح سمجھنے میں اور بھی دقت پیش آرہی تھی۔ جو تھوڑے بہت صاف نقوش تھے وہ بھی حل طلب تھے۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ اک ویران سٹرک پر پڑا تھا جس کی چاروں جانب حد نظر تک ویرانی تھی۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے چند قطریں تھے جس سے اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور ڈروخوف کے آثار صاف ظاہرہورہے تھے ۔ پسینہ ہاتھ سے پونچھ لیا اور چاروں جانب نظر دوڑائی مگر عقل کے پردے پر کچھ عیاں نہ ہوا کہ ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے جہاں کوئی اپنا نہ ہو، جہاں موسم بھی اجنبی ہو، فضاء میں اپنائیت کا مادہ ناپید ہو، ہر ڈگر ہر راستے میں انجانا پن ہو۔ اُس گمنام منظر کے پیش کردہ عکس کے باوجود بھی وہ ہمت نہ ہارا۔اٹھ کھڑا ہوا اور سامنے سنسان راستے پر چل پڑا۔ راستہ کچھ بے معنی سا معلوم ہور ہاتھا لیکن کوئی مقصد تھا، کوئی منزل تھی جو نظروں سے اوجھل تھی مگر اسے کھوجنے کی جستجو اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔





    ابھی اس نے منزل کو پانے چند قدم اٹھائے ہی تھے کہ راستے کے عین بیچ و بیچ چند چھوٹے چھوٹے پتھر نظر آئے جس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن پھر بھی جان بوجھ کر دل چسپی لی۔ کچھ دیر وہ پتھروں کو دیکھتا رہا۔ فیصلہ کرنے کا اختیار اس کو اپنے اوقات سے پھلانگنے پر اُکسا رہا تھا۔ اس نے پتھروں میں سے دو کو اٹھایا جنہیں وہ اٹھانا چاہتا تھا اور باقی سڑک پر پڑے پتھروں کو لات ما ر کر سامنے سے ہٹا دیا۔ ہاتھ میں لئے دو پتھروں سے من کو بہلانے لگا۔ وہ پتھروں کو ایک ہاتھ سے اُچھال کر دوسرے میں اور دوسرے سے اچھال کر پہلے والے ہاتھ میں کیچ کر نے لگا۔ اسے پتھروں سے کھیلنے میں مزہ آرہاتھا۔ جی بھر آنے پر نظر انداز کردیا۔ پھر دونوں پتھروں کو اُس بھانت سے پکڑا جس سے یوں ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ دونوں کو تول کر ایک دوسرے سے موازنہ کر رہاتھا۔ سیدھے ہاتھ والا پتھر دوسرے کی نسبت وزنی تھا جسے رکھ کر دوسرے کو پھینک دیا۔ ماحول سے اثرانداز ہونے کی وجہ سے زورزور سے ہنسنے لگااور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر بولا:
    "پاگل ہوں۔۔۔۔! پاگل ہوں میں، سنو میں پاگل ہوں میں۔”
    خودپرستی اور فطرت سے مجبور ہوکر اس پتھر کو بھی پھینکنے کا ارادہ کر لیا جس کو اس نے باقی سارے پتھروں پر فو قیت دی تھی جو اس کو بھا ری، جاذب نظر اور سفر طے کرنے کے دوران جی بہلانے کے لیے اچھا لگا تھا۔ اس نے وہ پتھر بھی پھینک دیا اور رُکے قدم پھر سے منز ل کی کھوج میں اٹھے۔
    طویل سفر کے بعد جب تھک گیا تو ایک طرف بیٹھ گیا، تھکا ہارا جسم اور کھویا دماغ دونوں ساتھ نہیں دے پارہے تھے۔ ادھراُدھر دیکھ رہا تھا کہ شاید کوئی ہو جو اسے راستہ دکھائے، کوئی ایسا جو اسے منزل تک پہنچائے۔ وہاں بیٹھے تھوڑی دیر گزری ہی تھی کہ اس کے ذہین میں اک خیال آیا۔ وہ اچانک زمین پر یوں بیٹھ گیا جیسے بچے کھیلنے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ بھی اس طرح سے کھیلنے لگا، اسی طرح تصویریں بنانے اور مٹانے لگا، اُلٹی پلُٹی لکیریں کھینچنے لگا جس طر ح بچپن میں ہوتا ہے۔ وہاں وہ ایسے مگن ہوگیا کہ بھول ہی گیا کہ وہ مسافر ہے۔ اس انجان راہ پر جی لگانا اسے منزل کو پالینے کی آس سے محروم کرسکتا ہے۔ یہاں کے عارضی لطف اسے من کی آواز سے روشناس کرانے نہیں دے گی۔ ایسا لگنے لگا کہ وہ سب کچھ فراموش کر چکا ہے۔ راستے میں حائل مشکلات کے چنگل میں وہ بری طرح پھنس گیا ہے۔ وقتی طور پر تھوڑی بہت خوشی بھی اس کے چہرے پر نمایاں ہو چکی تھی۔ جس کو وہ کل کائنات سمجھ بیٹھا تھا۔ یوں نادانوں کی طرح کھیلنا اس کے لیے وقت کے ضیاع سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا۔ جہاں وہ خو د کو جس ماحول سے واقف کروانے کی کوشش کر رہا تھا سب اس کی نادانی اور کم فہمی تھی کیوں کہ وہ اس کے کردار کے بالکل منافی تھا مگر جب اند ر کی دستک سنائی دینے لگی اور عقل پر چمک پڑی تو کھیلتے کھیلتے اچانک اٹھ گیا اور کھیلنے پر پشیمانی ظاہر کی۔





    "چاروں طر ف ویرانی ہے خاموشی ہے خوف ہے ۔ ناجانے کہاں ہے میری منزل؟ کہاں جارہا ہوں میں؟ اور کتنا ڈھونڈوں گا اپنی اس نامعلوم منزل کو۔ کب تک گم نامی کے اس وسیع وعریض سمندر میں یوں بے بسی سے خود کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا رہوں گا جس کا ہر قطرہ اپنے اند ر گم نامی اور حیرت کا ایک الگ جہاں سمائے ہوئے ہے۔ ہر پل ہر لمحے نئے امتحانا ت سے واسطہ پڑتا ہے۔”
    ناجانے اس طرح کے اور کتنے سوالات اس کے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ اس نے لمبی آہ بھری اور پاس ہی چٹان کے ساتھ آنکھیں بند کر کے ٹیک لگا لی۔ ٹیک لگاتے ہی اس کے دماغ میں امید کی ایک کر ن چمکی، شاید اس کی آنکھوں کو ئی امید بھر آئی تھی۔ اس نے آنکھیں کھول کر اوپر چٹان کی بلندی کو دیکھا تو اوپر چڑھنے کی تمناّپیدا ہوئی جو ازل سے ہی فطرتوں کا لا حاصل ٹکڑا رہا ہے۔ ہمیشہ سے جو خواہشوں کی مترجم بن چکی ہے۔ وہ بلا کسی تا خیر کے اوپر جانا چاہتا تھا کیوں کہ اونچائی اور وہاں کی فضا اسے اپنی جانب راغب کر رہی تھی جسے وہ ہر حال میں پانا چاہتا تھا۔ اٹھ کھڑا ہو ا اور جلدی اوپر چڑھنے لگا۔ چڑھتے وقت اس نے صحیح غلط، غرض کسی راستے کی کوئی پرواہ نہ کی اور بالآخر اوپرپہنچ کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فضا میں لہرانے لگا۔
    "کوئی ہے۔ ارے کوئی ہے جو میری مد دکر ے؟” مجھے یہاں اس مشکل سے نکالے۔ "اپنے ہم ذات اور ہم اثر سے مد د اس کے کوئی خاص کام نہ آئی۔
    "کوئی میر ی آواز سن رہا ہے؟”
    وہ نظریں دوڑاتا رہا۔ چیختا رہا کوئی نہیں تھا اس کی پکار سننے والا۔ اند ر کی امید کا چراغ بجھنے کو تھا کرنیں تاریکی کا روپ دھار رہی تھی لیکن اس نے بجھنے نہیں دیا اور ایک بار پھر کوشش کی۔
    "کوئی ہے۔ کوئی تو آئے میر ی مد د کو ۔ آپ لوگ میر ی آواز کیوں نہیں سن رہے ہیں۔”
    اس بار کی ناکامی نے ساری امیدیں توڑ دی سب ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ آس کے آئینے میں دراڑیں آنے لگی جس نے کوشش کی شکل کو بھی بدنما کر دیا۔
    "میں بھی کتنا بے وقو ف ہوں۔ مد د کے لیے چیخ رہا ہوں وہ بھی ویرانے میں جہاں کسی کا نام ونشان تک نہیں۔ اگر ہوتو میر ی مدد کو کیوں کر آئنگے کہ خود ان پر بھی یہی بیتِ رہی ہوگی۔ بے کا ر رہا سب۔۔۔۔! سب بے کار۔”
    اسے یوں بے جا اپنے ہم ذات سے مد د طلب کر نے کا احساس ہونے لگا تھا جو بالکل بے معنی اور بے ثمر ثابت ہورہاتھا ۔ وہ اترنے کی نیت سے مڑنے ہی والاتھا کہ کہیں سے اسے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور ایک چھوٹا سا کمر ہ تھا جس کے سامنے اور اردگرد مختلف رنگوں کے کپڑے بندھے نظر آرہے تھے ۔ یہ دیکھ کر اس کا مایوس چہرہ یوں کھل اٹھا جیسے بنجر زمین پر بارش کی بوندیں آگری ہواور تپش کا زور ختم ہوچکا ہو۔




  • خربوزہ کہانی — عائشہ تنویر

    آم پھلوں کا بادشاہ ہے اسی لیے سب کا راج دلارا ہے۔ امیر، غریب سب کی آنکھوں کا تارا ہے۔ اسی لئے سخن کے بادشاہ مرزا غالب نے پھلوں کے بادشاہ کے بارے میں کہا تھا کہ آم میں دو خصوصیات ہونی چاہئیں۔ ایک یہ کہ میٹھا ہو، اور دوسرا یہ کہ زیادہ۔ اپنی اسی ہر دل عزیزی کے باعث اس کا مزاج اور ریٹ آسمان سے باتیں کرتا ہے اور اعلیٰ کوالٹی کا آم مغرور حکمرانوں کی طرح اپنے ملک کی عوام سے ملنے کی بجائے زرمبادلہ کے بہانے باقی دنیا کی سیر کو چلا جاتا ہے۔ اور زیادہ تو دور کی بات، عوام تو تھوڑے کی پہنچ سے بھی ایسے دور ہیں جیسے بچوں کی پہنچ سے دوائیں۔ عوام بے چاری محبت سے بے قرار جو جیسا ملے اس پر ہی اکتفا کرتی ہے۔
    لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔ جمہوریت آچکی ہے اور پھلوں میں بھی آم کی آمریت ختم ہو چکی ہے۔ اب وقت ہے آم سے عوام تک کے سفر کاجی ہم بات کر رہے ہیں عوامی پھل خربوزے کی۔ جو آم جیسی چمکتی زرد رنگت تو نہیں رکھتا، لیکن اس کا پھیکا پیلا پن بھی کچھ لوگوں کو بہت بھاتا ہے۔
    آم نے اگر محاوروں میں جگہ بنائی ہے اور ”آم کھائو پیڑ نہ گنو، آم کے آم گٹھلیوں کے دام” سننے میں آتا رہتا ہے تو ہمارا خربوزہ بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ”خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے” اور ”چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر کٹتا خربوزہ ہی ہے” بھی آپ نے سن ہی رکھا ہوگا۔
    خربوزہ غریبوں کا عوامی پھل ہے، اسی لئے دوا بھی کہلاتا ہے اور غذا بھی۔ اپنے عوامی مزاج کی وجہ سے یہ آم کی طرح خوشبو پھیلاتا اپنی آمد کا اعلان کرتا نہیں آتا، اسے چھپ کر بھی کھا لیا جائے تو گھر میں فساد کا سبب نہیں بنتا اور کسی کو پوچھ بھی لیں تو وہ سارا چٹ کرنے کی حسرت نہیں رکھتا ۔





    درحقیقت خربوزہ لڑکیوں کا پسندیدہ پھل ہے۔ نا یہ آم کی طرح جسم کو موٹاپے کی طرف مائل کرتا ہے اور نہ ہی چاند جیسے چہرے پر داغ کی صورت پمپلز پیدا کرتا ہے ۔آم کی طرح یہ مکھیوں کو دعوتِ عام دے کر گھر کی صفائی پر حرف بھی نہیں اٹھاتا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس کے اچار، چٹنی، مربے کی فرمائش کر کے نازک اندام حسینائوں کو امتحان میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
    آم کی طرح خربوزے کی گٹھلی بھی اٹ کر آپ کے کپڑوں پر نہیں گرتی۔ یہ آم کی طرح آپ کا منہ بھی پیلا نہیں کرتا، جس سے آپ کے مہذب ہونے کا بھرم بھی رہ جاتا ہے۔ زندگی اور خربوزے میں یہ قدر مشترک ہے کہ پھیکا بھی نکل آئے تو پھینکے نہیں جا سکتے۔ ہم کہتے ہیں پھینکنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔
    بھئی سکرین کا انجکشن صحیح نہیں لگ پایا تو یہ خربوزے والے کا قصور ہے، اس میں بے چارے خربوزے کی کیا غلطی؟ زندگی میں رنگ بھرنا بھی ہماری محنت کا ہی نتیجہ ہوتا ہے اور خربوزے کو ذائقہ بھی ہم اپنی مرضی سے دے سکتے ہیں۔ چاہے تو چینی ڈال کر کھائیں، چاہے نمک… کوئی سلیقہ مند بی بی تو آپ کو اس کی ترکاری بھی بنا دیں گی۔
    خربوزے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے بیج بھی کھائے جاتے ہیں۔ سو اگر یہ پھیکا نکل بھی آئے تو آپ گھاٹے میں نہیں رہے۔ اگر آپ نے گھر میں بکری یا مرغی پالی ہے تو اس کے کھانے کا انتظام چھلکوں اور بیج سے ہو جائے گا، ورنہ کسی حکیم کو دے دیں تو وہ خشک کر کے دوا میں استعمال کرلیں۔
    ہمارے ایک جاننے والے خربوزے کے رسیا ہیں، خربوزہ اس قدر رغبت سے کھاتے ہیں کہ خربوزہ بھی اپنی قسمت پر رشک کرتا ہے ۔کسی وقت بھی آپ انہیں کہیں وہ خربوزے کے فوائد اور آم کے نقصانات پر تقریر کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ شاید ان کی ذیابیطس ہو جو انہیں آم سے دور ہی رہنے پر مجبور رکھتی ہے۔ کھانے سے پہلے وہ خربوزہ کھاتے ہیں کہ اس سے بھوک کھلتی ہے۔ پھر وہ خربوزہ کھاتے ہیں پیٹ بھرنے کے لئے اور کھانے کے بعد وہ خربوزہ یہ کہہ کر کھاتے ہیں کہ ذرا ہاضمہ ہو جائے۔
    خربوزے میں پانی کی بہت بڑی مقدار شامل ہوتی ہے، سو کھانے کے وقفوں میں جسم میں پانی پورا کرنے کے لیے بھی خربوزہ کھایا جاتا ہے۔
    خربوزے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ ہر مشکل کا ساتھی ہے۔ جب دل چاہے کھا لیں، چاہے تو تکیہ بنا کر سر کے نیچے رکھ لیں ، لمبے سفر میں ساتھ لے جائیں تو کھانے کے جھنجھٹ سے جان چھوٹے اور راہ میں کسی سے جھگڑا ہو جائے تو اٹھا کر سامنے والے کے سر پر مار دیں، مزے کی بات یہ کہ کسی چیک پوسٹ پر یہ ہتھیار روکا بھی نہیں جاتا بلکہ اگر روک بھی لیا جائے تو یہ اپنی نوعیت کا واحد ہتھیار ہے جسے سامنے والے کو پیش کر کے آپ کی جان بھی چھوٹ سکتی ہے، بلکہ الٹا اگلا آپ کا احسان مند بھی ہو جاتا ہے۔
    جب سے ون ڈش کا غلغہ اٹھا ہے، ہماری رائے میں تو شادیوں میں خربوزہ ہی رکھ دینا چاہئے۔ چاہے کوئی پیٹ بھرنے کو کھائے یا چینی ڈال کر میٹھا سمجھ کر، میزبان تو بری الذمہ ہوں۔
    میزبانی سے یاد آیا، جب آپ کسی کے ہاں دعوت پر جائیں تو آپ اسے بہ طور تحفہ بھی لے کر جاسکتے ہیں۔ چوں کہ یہ سائز میں بڑا ہوتا ہے، اس لیے کم تعداد میں آپ کا شاپر بھی بھر جائے گا اور آپ خرچے سے بچ جائیں گے۔
    اسی طرح بڑی بڑی میزیں خربوزوں کے ڈھیر سے بھر کر میزبان کھانے کی کثرت پر بہ آسانی فخر کر سکتے ہیں اور بریانی کی طرح اسے شاپر میں ڈال کر پار کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ سو بے فکر رہیں، آپ کا کھانا کم نہیں پڑے گا ۔
    ہمیں یقین ہے کہ ہماری خربوزہ کہانی سے متاثر ہو کر آپ ایک آدھ خربوزہ تو کھا ہی لیں گے اور ہم نے جو خربوزے کا کھیت لیا ہے وہ نقصان میں نہیں جائے گا۔

    ٭…٭…٭




  • آدھا سورج —- امایہ خان

    آدھا سورج —- امایہ خان

    تنگ گلی کے دونوں کناروں پر بنے فٹ پاتھ انہی لوگوں کے قبضے میں تھے۔ جن کی صورت بھک منگوں جیسی اور حرکتیں پاگل دیوانوں جیسی تھیں۔ دیواروں سے ٹیک لگائے، آنکھیں بند کیے چند جلالی پیر بھی تھے جنہیں ہر گزرتے شخص کے قدموں کی آہٹ پر ”حق اللہ” کا نعرہ لگانا یاد آجاتا۔ غیر متوجہ زائرین کے گزرجانے کے بعد وہ اپنی کمر کے پیچھے چھپے ہاتھ کو باہر لاتے اور سیاہ ہونٹوں کے کنارے پر باقی ماندہ چرس کا سگریٹ اڑس لیا جاتا۔
    مزار کے سامنے لوگوں کی کثیر تعداد دیکھ کر وہ بہت پہلے ہی گاڑی سے اترگئی تھی۔ یہاں تک چل کر آتے آتے اسے رستے کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکا اور شاید غلطی سے وہ اس پچھلی سڑک پر آگئی تھی۔ جہاں ڈیرہ ڈالے تمام افراد کا کھانا پینا چڑھاوے چڑھانے والوں کی ذمہ داری تھا۔ منت مانگنے، اتارنے آئے اکثر لوگ صاحب مزار کے پاس پہنچنے سے قبل ان فقیروں کے منہ سے اپنے لیے دعائے خیر سننے کے عوض جیبیں خالی کردیتے۔ ان کے نزدیک یہ بھی اللہ والے تھے جو اپنا گھر بار چھوڑے یہاں صاحب مزار کے عشق میں چُور محض لوگوں کی بھلائی کی خاطر رل رہے تھے۔ گندگی اور غلاظت کی بو اور تیز اگربتیوں کی مہک آپس میں دست و گریبان تھیں…. کبھی ایک حاوی ہوجاتی تو کبھی دوسری…. فضا ایسی تھی جیسے کثیف دھوئیں کے غبار گلاب کی خوشبو میں لپیٹ دیے گئے ہوں۔ وہ سیاہ بڑی سی چادر اوڑھے تیز قدموں سے چلنے کی کوشش کرتی ہوئی مزار کے اندر پہنچنا چاہتی تھی۔ مگر چلنے کا رستہ کہاں تھا… ہر دو قدم پر اسے ٹھہرجانا پڑتا۔ جب تک نکلنے کی راہ ملتی وہ ان فقیروں کو حسرت سے دیکھتی جو بہ ظاہر دنیا کے جھمیلوں سے آزاد مست زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے۔ پھر آگے بڑھتے وہ اپنی چادر درست کرتی چلنے لگتی۔ اسے یوں چادر میں چھپنے کا کوئی شوق نہیں تھا یہ تو مجبوری تھی، بیلا نے کہا تھا اپنے معمول کے حلیہ میں اسے مزار میں داخل ہونے کی اجازت ہر گز نہ ملے گی مجبوراً اسی کا شلوار قمیص پہننا پڑا جو اس کے ناپ سے کافی بڑا تھا۔ جھبلا نما قمیص اور جھول والی شلوار… اوپر سے نہایت میلا اور بدبودار اس کی ماں کی ہدایت پر ہر دم گھر کو چمکانے میں مصروف اس ملازمہ کا پسینے میں شرابور وجود شاید اس قابل نہیں تھا کہ اس پر توجہ دی جاتی یا کم از کم اتنا ریلیف تو دیا جاتا کہ وہ خود بھی اسی طرح صاف ستھری رہے جیسا گھر کی رکھتی ہے۔ اس کا دل اور دماغ اتنے well trained تھے کہ بنا سوچے سمجھے ہر مسئلہ کی جڑ اس کی ماں ہی قرارپاتی اور نہیں تو کیا؟ میں جو بے چین روح کی طرح پورے شہر میں …. جی ماری پھرتی ہوں…. سکون کی تلاش میں ….. اس میں قصور کس کا ہے؟





    اس کا دھیان حال میں تب واپس آیا جب وہ مزار کے احاطے میں داخل ہوکر سیڑھیوں کے سامنے پہنچ گیا سو ڈیڑھ سو سیڑھیاں چڑھ کر عقیدت مند صاحب مزار سے اپنی مرادیں مانگنے جارہے تھے۔ وہ بھی ان میں شامل ہوگئی۔
    ”وہ دیکھو اس پر حاضری آئی ہے” اپنے ساتھ چلتی دو عورتوں میں سے ایک کو نہایت جوش سے کہتے اور سامنے دیکھا، کچھ بھی سمجھ نہ آیا جائے۔ وہ کس طرف متوجہ ہوئی تھیں جو تیزی سے آخری چار سیڑھی پھلانگتی مزار سے پہلے والے کمرے کے دروازے پر جا کھڑی ہوئیں اور ایڑیاں اچک اچک کر سروں کے اوپر سے اندر جھانکنے کی کوشش کرنے لگیں۔ ابھی اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا تھا اور نہ ہی کوئی باہر جاسکتا تھا سب جہاں کے تہاں ٹھہرگئے تھے۔ اس چوکھٹ پر جہاں رنگ بہ رنگ موتیوں کی جھالر کچھ تازے کچھ باسی پھولوں کی لڑیاں جابجا لٹک رہی تھیں۔ کھلے صحن کے ایک طرف دیوار پر جالی خانوں میں کبوتر بیٹھے تھے اور کچھ کابکیں خالی تھیں۔ اس نے بھرپور نظر چاروں اطراف دوڑائی، دیوار کے کونے سے…. جہاں چپلیں سنبھال کے بیٹھا شخص لوگوں کو نمبروالی تختیاں پکڑارہا تھا۔ چند پھول فروش تھالیوں میں پھولوں کی پتیاں لیے بیٹھے تھے نیچے گلی میں بھی تو ایسی کئی دکانیں تھیں اس نے، پھولوں کی بھی اور چادروں کی بھی چادریں جن پر اللہ اور رسول کے صفاتی نام خوشنما رنگوں سے چھپے جھلمل ستاروں، ابرق اور افشاں سے سجے تھے ایک قطار میں آخر تک چلتے اس نے ہر شوخ رنگ کپڑے پر لکھے کلمات پڑھ ڈالے تھے یہ چادریں قبر پر چڑھائی جاتی ہیں یا انہیں شانوں پر اوڑھا جاتا ہے اسے دونوں باتوں کا علم نہیں تھا۔ کسی بھی مزار پر آنے کا یہ پہلا تجربہ تھا جب سے سنا تھا درگاہوں پر سکون ملتا ہے۔ مرادیں پوری ہوتی ہیں، اس نے یہ در بھی کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور آج صاحب قبر کی کرامت کا امتحان لینے پہنچ گئی تھی۔
    یہاں آکر دیکھا تو بھانت بھانت کے لوگ نظر آئے۔ نیاز دینے والوں کا رش، لنگر کھانے والوں کو ہجوم، مانگنے والے فقیر، ناچتے ملنگ، دھمال ڈالتے مرید، نرینگے پھونکنے والے، سارنگی بجانے اور گانے والے جانے کون سا کلام پڑھ رہے تھے وہ سمجھ ہی نہ پائی۔ عجب میلہ سا لگا تھا، یہ ماحول یہ شور کچھ عجیب ہی تھا جیسے کسی نئی دنیا میں آگئی تھی وہ۔ مزار میں داخل ہونے سے پہلے وہ اس شخص کے پاس سے گزری جو تہ شدہ بوری پر آلتی پالتی مارے بیٹھا ایک جوڑی جوتے کی حفاظت کے عوض چار روپے وصول کرتا اپنی ٹوپی میں ڈال رہا تھا جسے اسے الٹا زمین پر رکھا ہوا تھا۔ ایک لمبی ڈوری کا آخری سرا مسلسل اس کے ہاتھ میں تھا جس میں نمبر والی تختیاں پروکر ڈالی ہوئی تھیں پیسے لے کر وہ ایک تختی جوتے میں ڈالتا اور دوسری زائر کو پکڑادیتا۔ مگر اسے تو جوتے اتارنے ہی نہیں تھے وہ پہلے ہی سے ننگے پائوں تھی۔ یونہی مزار کے اندر داخل ہوگئی وہاں موجود بھیڑ انہی جیسے لوگوں پر مشتمل تھی جنہیں وہ باہر چھوڑ آئی تھی۔ اس نے سامنے قبر کی طرف دیکھاجس کے گرد سب دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے، چند ایک غموں سے چور قبر کے سرے پکڑ کر زمین پر بیٹھے رورہے تھے۔ گڑگڑانے اور گھگیانے سے اسے کوئی دل چسپی نہیں تھی وہ کھڑے ہوئوں کے نزدیک چلی آئی باری باری وہ ہر ایک کے قریب چند سیکنڈرز کے لیے پنجوں کے بل اچک کر ان کی دعا کے الفاظ سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتی پھر آگے بڑھ جاتی۔ بآواز بلند دعا مانگنے والوں کی مہربانی سے اس کا آدھا وقت یوں ضائع ہونے سے بچ گیا۔
    یہاں بھی فضا میں اگر بتیوں کے ساتھ وہی بو شامل تھی جو خوش گوار تو ہر گز نہیں تھی مگر دماغ کی نسوں میں گھسی چلتی رہی تھی…. معلوم نہیں کیا تھا؟…. پر کچھ اثر تھا ضرور…. جو اسے پیچھے رہ جانے والی دنیا کے ہر خیال سے دامن چھڑالینے میں مدد دے رہا تھا۔ اپنا وجود یک دم بھاری سا محسوس ہونے لگا تو وہ زمین پر ہی دیوار سے ٹیک لگائے چند زائرین کے درمیان جگہ بنا کر بیٹھ گئی۔
    اس نے پہلے بائیں طرف دیکھا سیاہ چمڑی اور سفید جاٹوں والا، گردن میں رنگ بہ رنگے موتیوں کی ان گنت مالائیں ہزار دانوں کی تسبیح ہاتھ میں لپیٹ کر منہ ہی منہ میں جانے کیا بدبداتا وہ ٹوٹے ناخنوں سے بدرنگ چوغے میں لپٹے بدبودار وجود پر خارش کرتے کرتے اس کی جانب متوجہ ہوا۔ اس کے چہرے پر جابجا سلوٹیں تھیں اور ماتھے پر گہری لکیریں مگر آنکھوں میں شعلوں میں لپک تھی۔ جب کہ اس کی دائیں جانب ایک عورت بیٹھی تھی دھواں دھواں منظر میں تحلیل ہوتی۔
    عام حالات میں شاید وہ ایسے لوگوں کو دور سے دیکھتے ہی بھاگ کھڑی ہوتی پریوں نزدیک آنے کی ہمت ہر گز نہ کرنا مگر اس کی زندگی میں تو عام حالات بھی تھے ہی نہیں… سب کچھ خاص تھا ہمیشہ سے…. بے حد خاص۔ سفید جاٹوں والے بابا نے اپنے ہاتھ سے اس کے ہاتھ میں جانے کیا دیا…. اس نے بھی ساتھ بیٹھی عورت کی دیکھا دیکھی ایک کش لگایا…. بیہوش و خرد آہستگی سے ہاتھ چھڑا کر بھیڑ میں گم ہوگئے۔ ہر کش کے ساتھ منظر دھواں دھواں ہو رہی اور بس ”وہ” یاد آتے تھے پر کیف لمحے…. بے خودی کا عالم….!
    کاش زندگی اسی جنت میں بسر ہو…. ہمیشہ ہمیشہ کے لیے…. اس نے آنکھیں بند کریں اور اندھیروں میں ڈوبتی چلی گئی۔
    ******





    ثروت کافی کے گھونٹ بھرتے ہوئے اخبار کی شہ سرخیوں پر نظر دوڑارہی تھی۔ صبح کا یہ مختصر سا وقت اس کی فراغت کا ہوا کرتا تھا ورنہ باقی دن تو یوں دوڑتے بھاگتے گزرجاتا تھا کہ سانس لینے کی بھی فہرست نہیں ملتی تھی۔ اسی لیے وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ ان اوقات میں وہ اطمینان سے بیٹھ کر اپنی کافی انجوائے کرسکے۔
    ہمیشہ کی طرح اعجاز جلدی میں تھا، اسے پھر دیر ہوگئی تھی۔ صبح بیٹی کو اسکول چھوڑ کر واپس آنے کے بعد اس کے پاس اپنے کپڑے استری کرنے اور تیار ہونے کے لیے کافی کم وقت ملا کرتا۔ پہلے پہل اس نے ثروت سے کپڑے استری کرنے کے لیے کہا تو جواباً لمبی تقدیر سننے کو ملی تھی اس کے بعد یہ گستاخی کم از کم اس نے نہیں دہرائی تھی۔ بہ قول ثروت کے رانا نواز علی کی اکلوتی بیٹی ان کاموں کے لیے پیدا نہیں کی گئی۔ یہ نوکروں کے کام ہیں، اعجاز نے مان لیا مگر کپڑے ہمیشہ خود استری کیے۔ اسے بیلا کے ہاتھ سے کی گئی استری شدہ کپڑے پسند نہیں تھے۔ کہیں نہ کہیں شکن رہ جایا کرتی تھی جسے وہ دوبارہ استری کرکے پہنا کرتا اور پھر نہایت غیر محسوس طریقے سے ان دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو سمجھ لیا۔ اعجاز کو معلوم ہوگیا کسی بھی کام پر اعتراض کرنے سے بہتر ہے اسے خود کرلیا جائے اور ثروت…. اس کے لیے یہی کافی تھا کہ اعجاز نے اسے سمجھ لیا ہے۔
    عام دنوں میں اعجاز ہاتھ میں جوتے پکڑے ڈائننگ ٹیبل تک آتا تھا۔ انہیں وہاں پھینک کر کرسی پر بیٹھ کے ناشتہ زہر مار کرتے ہوئے وہ پائوں جوتوں میں ڈال کر جلد سے جلد گھر سے روانہ ہونے کی کوشش کرتا تھا، مگر آج ایسا نہیں ہوا تھا کیونکہ گزرا کل بہت خاص دن تھا جسے ثروت کی بے حسی نے برباد کردیا تھا۔ رات کو ان کے جھگڑے کے بعد مسئلہ مزید گھمبیر ہوگیا تھا۔ اعجاز کا موڈ ابھی تک خراب تھا شاید اسی لیے ثروت کو یوں اطمینان سے کافی پیتا دیکھ کر وہ مزید جھنجھلاگیا تھا ”ناشتہ تیار نہیں ہوا ابھی تک….؟”
    ثروت نے بنا اس کی طرف دیکھے جواب دیا، ”بیلا بنا کر لارہی ہے….”
    اعجاز نے بڑی جدوجہد سے اپنے پیر بند تسموں والے جوتوں میں گھسیٹتے ہوئے کہا،
    ”جلدی کروادو مجھے دیر ہورہی ہے۔”
    ثروت کو یوں بار بار ڈسٹرب کیا جانا کھولا گیا، اس نے اخبار میز پر پٹختے ہوئے اور سے بیلا کو آواز دی، hurry up بیلا…. فوراً بریک فاسٹ لائو ٹیبل پر….” ”یوں جاہلوں کی طرح چلانے کے بجائے تم خود اٹھ کر میرا ناشتہ لے آئو تو بہتر ہوگا…” اعجاز نے ثروت کو تنگ کرنے کے لیے کہا اور کامیاب رہا۔ ثروت نے جل کر جواب دیا ”میں تمہاری نوکر نہیں ہوں…. بیلا ہے ‘وہ’ پکارہی ہے تو لا بھی دے گی….”
    اعجاز پھر بھی باز نہیں آیا اس نے پکا ارادہ کرلیا تھا جس طرح ثروت نے کل کا پورا دن اور رات برباد کی تھی وہ بھی آج کا دن خراب ضرور کرے گا۔
    ”بیلا میری بیوی نہیں ہے…. تم ہو…. میرا خیال رکھنا تمہارا فرض ہے….” ثروت سلگ اٹھی، ”اور مجھے پریشان کرنا تمہارا…. سکون سے نیوز پیپر بھی نہیں پڑھ سکتی…. تم جج بن کر فیصلے صادر کرتے رہا کرو…. اور میں حکم بجا لاتی رہوں۔” ہر وقت تمہارے ذہن پر اپنا کام سوا رہتا ہے…. آج جج کہہ دیا ہے کل ملزم کہہ دوگی… واہ کیا بات ہے وکیل صاحبہ کی….” اعجاز جان بوجھ کر اسے تنگ کررہا تھا۔
    ”اپنا طنز اپنے پاس رکھو سمجھے…”، ثروت کے جواب نے اسے سمجھادیا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہا ہے۔ ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے اس نے ثروت کے آگے پڑا اخبار اٹھاتے ہوئے بیلا کے لائے ناشتے کی جگہ بنائی۔ ثروت نے ایک نظر ناشتے کی طرف دیکھا اور زیر لب مسکرادی۔ اب جلنے کلسنے کی باری اعجاز کی تھی جس کا موڈ آف ہوچکا تھا۔
    ”یہ کیا بنایا ہے؟” اس نے جلا ہوا ٹوسٹ اٹھا کر غصے سے پوچھا تو بیلا گڑبڑاگئی، ”وہ …. صاحب آپ کو دیر ہورہی تھی تو میں نے آنچ تیز کردی… تھوڑا جل گیا…. آپ ٹھہریں… میں دوسرا لادیتی ہوں….” تیزی سے واپس جاے لگی، مگر اعجاز اسے فوراً روک دیا اور کہا،” رہنے دو میں پہلے ہی لیٹ ہوچکا ہوں…. یہ اسپیشل ناشتہ اپنی میڈم کو، کھلادینا،” پلیٹ کو ثروت کے سامنے پٹختے ہوئے اعجاز اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
    ثروت نے بلاتاخیر پلیٹ کو واپس دھکیل دیا، اس کا دل جلانے کی غرض سے مسکراتا ہوا اعجاز سیٹی بجاتا رخصت ہوگیا۔ بیلا خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی پھر ثروت کی جانب مڑی، تو وہ بھی پیر پٹختی اپنے کمرے میں جاتی نظر آئی…. بیلا نے ایک سرد آہ بھر کر ناشتے کی چیزیں واپس سمیٹتے ہوئے سوچا، ”بڑے ناشکرے لوگ ہیں… اللہ نے ساری نعمتیں دیں پھر بھی جب دیکھو…. لڑتے ہی رہتے ہیں۔”
    ******





    وہ لڑکی piercing کروانے کے دوران غش کھاگئی جونہی اس کی گردن ایک طرف ڈھلکی بون بھی ڈھیلا ہوکر کرسی کی پشت سے ٹک گیا جواد ہڑبڑا کر آدھی اڑی بالی کو یونہی چھوڑ کر اس کی جانب لپکا۔ چلو میں تھوڑا پانی لے کر اس لڑکی کے چہرے چھڑکا مگر پوری طرح بے ہوش ہوچکی تھی۔ چند منٹ پہلے جب وہ لڑکی اس کی دکان کے اندر آئی تھی تو اس کی آمد کا مقصد جان کر اسے شک ہوا تھا کہ وہ لڑکی شاید مذاق کررہی ہے۔ ہاں اس کے پاس عورتیں اپنے کان ناک چھدوانے آیا کرتی تھیں اور آئی بروز کے پاس ایک دور کی piercing بھی کرچکا تھا وہ۔ مگر اس لڑکی کو ناف پر بالی چھدوانی تھی۔ ٹی شرٹ جینز میں ملبوس وہ پر اعتماد لڑکی بہ مشکل پندرہ سال کی ہوگی جو بلا خوف شاپنگ پلازہ کی آخری کونے والی چاندی کے زیورات والی دکان میں یہ کام کروانے پہنچ گئی تھی، اور وہ تن تنہا اس وقت بارہ بج رہے تھے۔ پلازہ میں ایک ایک کرکے تمام دکانیں کھلتی جارہی تھیں۔ مگر گاہکوں کا رش نہیں تھا۔ جواد نے اس کے اصرار پر بالآخر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے شوکیس کے نیچے سے سپرٹ کی بوتل اور روئی کا ٹکڑا نکال لیا۔ اس دوران وہ لڑکی اس چھوٹی سی کرسی پر براجمان ہوگئی اور اپنی ٹی شرٹ کو تھوڑا اوپر سِرکا لیا۔ جواد کے لیے یہ اپنی طرز کا انوکھا تجربہ تھا جب ایک نوجوان لڑکی اس سے یہ کام کرواتے ہوئے بالکل بھی شرم محسوس نہیں کررہی تھی۔ جب کہ وہ خود ایک لڑکا ہونے کے باوجود جھجک رہا تھا۔ بڑی ہمت کرکے اس نے خود کو اس کام کے لیے آمادہ کیا اور اب وہ لڑکی بے ہوش ہوچکی تھی تو جواد اس لمحے کو کوس رہا تھا جب اس نے ہمت کا ارادہ کیا تھا۔ اسے فوراً کسی کو بلانا چاہیے ورنہ خود سے کوئی آگیا تو جانے کیا سمجھے۔ ابھی اس نے سامنے والی دکان پر موجود سلیم بھائی کو آواز دینے کے لیے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے اسی وقت دو خواتین باہر شوکیس میں سجے چاندی کے سیٹ کی قیمت پوچھتی ہوئی اندر داخل ہو گئیں۔ جیسے ہی ان کی نگاہ اس بے ہوش لڑکی پر پڑی وہ ٹھٹھک کروہیں رک گئیں جواد کے تو اوسان خطا ہو گئے، بہ مشکل تھوک نگلتے ہوئے اپنی وضاحت پیش کرتا وہ تقریباً ہلاک ہونے لگا، ”وہ … یہ بالی چھدواتے ہوئے درد سے بے ہوش ہوگئیں شاید…. میں کسی کو مدد کے لیے بلانے ہی والا تھا۔”
    ہر چند کہ وہ سچ بول رہا تھا پر اس کا انداز ان عورتوں کی نظر میں اسے مشکوک بناگیا تھا۔ شاید انہوں نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا تھا۔ دونوں برقع پوش خواتین میں سے ایک تو اس لڑکی کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی جو ذرا بڑی عمر کی خاتون تھیں وہ جواد کے سر ہوگئی ”تم نے کیا کیا ہے اس لڑکی کے ساتھ؟”
    ”باجی…. آپ یقین کریں میں تو صرف اپنا کام کررہا تھا…. یہ بے ہوش ہوگئی…. میں نے پانی بھی ڈالا مگر….”
    وہ عورتیں اس کے گال زور زور سے تھپتھپانے لگیں: ”یہ مرتو نہیں گئی؟ یا اللہ! پانی دو گلاس میں…”، جواد نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ کم عمر عورت نے گلاس لے کر ہاتھ میں پانی بھر بھر کر چہرے پر ڈالا، آوازیں دیں اس کے باوجود وہ ہوش میں نہیں آئی، ”اس کے ساتھ کوئی نہیں تھا کیا؟…. اتنی سی بچی کو کوئی اکیلے اس کام کے لیے کیوں بھیجے گا…. ؟”بڑی اماں جی مسلسل جواد پر ہی شک کررہی تھیں۔ ”تم کہہ رہے ہو یہ بالی چھدواتے ہوئے درد سے بے ہوش ہوئی پر اس کے کانوں میں تو کوئی بالی نظر نہیں آرہی… کہاں ہے بالی…؟” انہوں نے دونوں کانوں کی بالی چیک کی۔ ”جی، وہ…. یہاں piercing کی ہے میں نے….” جواد نے اس کی ٹی شرٹ کی طرف اشارہ کیا۔
    ”کہاں…” وہ کچھ بھی نہ سمجھیں تب جواد کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کے لیے انہیں تفصیل بتانا پڑی۔ بس مصیبت ہوگئی، دونوں عورتیں توبہ توبہ کہتی اپنے کلے پیٹنے لگیں۔ کم عمر عورت نے کسی خیال کے تحت پیروں کے پاس گرا اسکا بینڈ بیگ اٹھاکر شوکیس پر رکھا اور کھول لیا تھوڑی سی تلاش بسیار کے بعد الم غلم سامان سے بھرے بیگ میں سے بالآخر موبائل برآمد ہوگیا۔ اس نے کالز لسٹ کھول کر نام پڑھنا شروع کیے انتہائی بیش قیمت لیٹسٹ ماڈل کا سیل فون…. اس نے ایک بار پھر غور سے اس لڑکی کی طرف دیکھا، ”ہونہہ آج کل ماں باپ بس اولاد کو ڈھیروں آسائشیں خرید کر دینا ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں… کچھ ہوش ہی نہیں بچے کیا کرتے پھررہے ہیں…” Mom کے نیچے درج نمبر کو پریس کرتے ہی کال خود بہ خود ڈائل ہونے لگی۔ ”بیل جارہی ہے۔” اس نے گردن موڑ کر اماں جی کو بتایا جو اس لڑکی کے پرس میں تاکا جھانکی کررہی تھی، چار پانچ بیلوں کے بعد دوسری طرف سے فون ریسیو کرلیا۔
    اس خاتون کو تمام تفصیلات سے آگاہ کرکے چند مزید باتوں کے بعد کے بعد کال ڈس کنیکٹ کردی، اماں جی نے اپنی بہو کے کندھے پر ہاتھ رکھا: ”کیا کہا اس کی ماں نے….؟ کیا آرہی ہے اسے لینے کے لیے؟”
    ”نہیں!… کہہ رہی تھی ڈرائیور باہر پارکنگ لاٹ میں ہوگا۔ اسے فون پر دکان کا نام اور نمبر وغیرہ بتاکر یہاں بھیجتا ہے وہی لے کر جائے گا اسے….”
    انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ اس لڑکی کا ڈرائیور جلد ہی وہاں پہنچ گیا۔ پہلے اس نے باہر سے شاپ کا نام اور نمبر بورڈ پر پڑھ کر زیر لب دہرایا پھر اندر داخل ہوکر اپنی بے ہوش ”چھوٹی میم صاحبہ” کی طرف دیکھا۔ حیرانی کی بات یہی تھی اسے ایسی حالت میں دیکھنے کے باوجود ڈرائیور کے چہرے پر بالکل بھی حیرانی نہیں تھی۔ ڈرائیور نے کوئی سوال پوچھے بغیر اپنی مالکن کا ہینڈ بیگ ایک کندھے پر ڈالا پھر جھک کر اس کا بازو اپنے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے سہارا دے کر اسے کرسی سے اٹھالیا اور یونہی ساتھ لگائے ہوا دکان سے باہر نکل آیا۔ دونوں عورتیں بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر نکل آئیں۔ انہیں کیا خریدنا تھا وہ کس کے لیے بازار آئی تھیں؟ فی الحال یہ سب کچھ غیر اہم ہوگیا تھا۔ وہ ڈرائیور سے بات کیے بغیر آپس میں کھسر پھسر کرتی اس کے ساتھ گاڑی تک پہنچ گئیں۔ ”باجی میری مدد کریںگی؟ آپ چھوٹی میم صاحب کو پکڑلیں یا گاڑی کا لاک کھول دیں۔” اماں جی نے آگے بڑھ کر لڑکی کو ایک جانب سے سہارا دیا تو ڈرائیور نے جیب سے گاڑی کی چابی نکالی بہو نے ڈرائیور کے ہاتھ سے چابی لے کر ہنڈا سٹی کا دروازہ کھول دیا۔ اس لڑکی کو پچھلی سیٹ پر لٹانے میں انہیں دونوں عورتوں نے مدد کی۔ ڈرائیور ان کابے حد شکر گزار تھا، اچھے طریقے سے شکریہ ادا کرتا گاڑی میں جا بیٹھا اور چند منٹ بعد ہی وہاں سے روانہ ہوگیا۔ بہ ظاہر وہ لڑکی محفوظ ہوگئی تھی ڈرائیور انہیں بتاگیا تھا کہ سیدھا ہسپتال جائے گا جہاں اس کی ماں آکر اسے سنبھال لے گی۔ ان دونوں کا اس لڑکی سے کوئی رشتہ نہیں تھا اس کے باوجود وہ اس کے لیے نہایت فکر مند تھیں۔ اگر ڈرائیور نے اس کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کرنے کی کوشش کی تو کون بچائے گا اسے؟ آخر کو وہ بھی غیر مرد ہے اور جوان بھی۔ ”چلیں امی گھر چلیں۔” بہو نے اماں جی کو مخاطب کیا جو ابھی تک اس جاتی گاڑی کو دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے مُڑ کر اپنی بہو سے کہا: ”ضرور یہ لڑکی نشہ کرتی ہے۔”
    ******





    شام کو اعجاز گھر کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوا ثروت اسے لائونج میں صوفے پر بیٹھی کسی شخص سے بات کرتی نظر آئی۔ اس نے اعجاز کی آمد محسوس کرنے کے باوجود اپنی گفت گو جاری رکھی، ”کیا نام ہے تمہارا….؟”
    ”جی دلاور…. میں بیرسٹر شفیق صاحب کے گھر آیا ہوں۔”
    ”ہاں مجھے بتایا تھا انہوں نے… چلو ٹھیک ہے تم صبح سات بجے آنا…. تمہاری نوکری پکی…” ”شکریہ میڈم…” دلاور ممنونیت سے کہتا جیسے ہی مڑا اسے اعجاز نظر آیا:” السلامُ علیکم صاحب….”، اعجاز نے خفیف اشارے سے اس کے سلام کا جواب دیا اور دلاور کے جاتے ہی ثروت سے پوچھا: ”کون تھا یہ؟”
    ”میں نے حسن سے بات کی تھی ڈرائیور کے لیے… اس نے اپنے جاننے والوں کے پاس سے بھجوادیا اسے” ”اور تم نے اسے کام پر رکھ لیا…؟” اعجاز کا دماغ گھوم گیا۔
    ”ہاں تو… ہمیں ضرورت تھی ایک ڈرائیور کی… عماریہ کے اسکول پک اینڈ ڈراپ میں مسئلہ نہیں ہوگا….” ثروت نے بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور اسی انداز پر اعجاز کو غصہ آگیا ”میں نے صرف ایک بار تم سے عماریہ کو پک کرنے کے لیے کہا اور تم نے ڈرائیور بلالیا… کوئی ضروت نہیں ہے… میں ہر گز اجازت نہیں دوںگا کہ میری بیٹی ایک غیر آدمی کے ساتھ آئے جائے۔”
    ”اور میں بھی ہر گز اجازت نہیں دوںگی کہ تم عماریہ کو اسکول سے لاتے لے جاتے اسے میرے خلاف بھڑکاتے رہو…” ثروت بھی بھری بیٹھی تھی آج دوپہر میں اعجاز نے میٹنگ کی وجہ سے ثروت کو عماریہ کے اسکول جاکر اسے پک کرنے کے لیے کہا تھا، وہ بھی عین وقت پر، آفس سے نکلتے وہاں پہنچتے ثروت کو کافی وقت لگ گیا اور تب اسکول خالی ہوچکا تھا۔
    گاڑی میں بیٹھ کر عماریہ ماں سے سیدھے مُنہ بات نہیں کررہی تھی جب ثروت نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کے پاپا نے ہی دیر میں اطلاع دی اور اس کا اتنا قصور نہیں۔ اس وضاحت کو اس نے قبول نہیں کیا تھا، اس کے خیال میں ثروت اپنے کام میں اس قدر مگن رہی کہ اسے اعجاز کی کال ریسیو کرنے کی فرصت نہیں ملی تھی بالکل اسی طرح جس طرح دو دن پہلے وہ عماریہ کی برتھ ڈے بھول گئی تھی، آج عماریہ کو بھی بھول گئی تھی۔
    اپنی بیٹی کی بدگمانی دیکھ کر ثروت کو شاک لگا تھا۔ ہاں یہ بات درست تھی کہ اس دن وہ مصروفیت کے سبب اعجاز کی کال ریسیو نہیں کررہی تھی لیکن اگر وہ واقعی چاہتا تھا کہ بیٹی کے سالگرہ میں اسے شامل کرے تو ایک دن پہلے اسے بتا تو سکتا تھا۔ وہ بھول گئی تھی تو یاد کروادیتا مگر اس نے ایسا کرنے کے بجائے بیٹی کی نظروں میں ماں کو ویمپ میں بناکر جس طرح پیش کیا وہ ثروت کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اور اس بات کا حساب وہ اعجاز سے بے باک نہ کرتی یہ ممکن نہیں تھا۔
    ”تم اتنے شاطر انسان ہو…. میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی… تم نے گھر میں پارٹی رکھی عماریہ کے سب دوستوں کو بلالیا لیکن مجھے بتایا تک نہیں….”
    ”کیوں؟ تمہیں اپنی اکلوتی بیٹی کا برتھ ڈے یاد نہیں تھا۔ تم پیدا کرکے اسے بھول گئی ہو اسے…” اعجاز کے ترکش میں بھی تیروں کی کمی نہیں تھی۔
    ثروت پل بھر کے لیے لاجواب ہوئی، پھر جیسے اسے اعجاز کا مسئلہ سمجھ آگیا: ”دراصل تم مجھ سے جیلس ہو… اس لیے خوامخواہscene createکرتے رہتے ہو….”
    اعجاز کو اس کی سوچ پر افسوس ہوا،” تم ماں ہوکر بیٹی کی ضروریات کو اتنا سرسری لیتی ہو؟ کیا تمہیں نظر نہیں آتا وہ دن بہ دن تم سے دور ہوتی جارہی ہے؟”
    ”تم تم ہر وقت اسے میرے خلاف بھڑکاتے رہوگے، poison کرتے رہوگے تو یہی ہوگا،”
    اعجاز نے جواباً اسے چیلنج کیا،” اگر تمہیں لگتا ہے یہ میری باتوں کا اثر ہے تو جائو…. غلط ثابت کردو مجھے…. اپنا کام چھوڑو گھر پر بیٹھو… اسے ٹائم دو… تاکہ اسے یقین آجائے کہ تم اس سے واقعی محبت کرتی ہو،”
    ”تمہاری نظرمیں تو ہر مسئلے کا حل بس یہی ہے کہ میں کام چھوڑ کر گھر بیٹھ جائوں۔” ”بالکل… ہمارے مسئلے ہی تمہارے کام کی وجہ سے ہیں۔”
    ”دراصل تم یہ برداشت نہیں کرپارہے کہ میں تم سے زیادہ کامیاب ہوں۔”
    ”میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تم نہایت غیر ذمہ دار عورت ہو…. اور ایک بہت بری ماں…”. ثروت جاہل عورتوں کی طرح ہاتھ نچاتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔
    ”تم بہت اچھے باپ ہونا….. آئندہ مجھ سے مت کہنا اسے pick کرنے کے لیے…. ”اس کے پیچھے آتے ہوئے اعجاز دھاڑا ”نہیں کہوںگا…. عماریہ میری بیٹی ہے… اور میں اس کے لیے وہ سب کچھ کروںگا جو تم نہیں کرسکتیں… میری طرف سے جہنم میں جائو… ”ثروت نے کمرے کا دروازہ اس کے منہ پر بند کرتے ہوئے کہا، "You too go to hell!””
    *******




  • آدھا آدھا ملے تو ہوئے پوری دنیا —- نظیر فاطمہ

    اس بڑے سے شہری اور دیہاتی امتزاج سے بنے گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ سفیدے کے لمبے لمبے درخت ایک قطار سے کھڑے تھے۔ایک درخت کے تنے میں فاختہ کا گھونسلہ تھا۔ فاختہ کے بچے گھونسلے سے سر نکال نکال کر باہر دیکھ رہے تھے ۔سفیدے کے درختوں کے پتے ہلکی ہوا کے سنگ جھوم رہے تھے۔ آسمان کے شمالی کناروں پر اودے اور ہلکے سرمئی رنگ کے بادل اُڑتے پھر رہے تھے ۔ ڈوبتے سورج کی پیشانی سے پھوٹتی کرنیں ان درختوں میں سے چھن چھن کر عجیب دل کش منظر پیدا کر رہی تھیں۔ لان میں کھلے پھولوں کی رنگین ادائیں اپنی جلوہ طرازیاں دکھا رہی تھیں ۔ ایسا دلکش منظر کے دیکھنے والا کھو سا جائے مگر یہ منظر اسی گھر کے ٹیرس پر بیٹھے مقدم چوہدری کی ذرہ برابر توجہ اپنی طرف نہیں کھینچ سکا تھا۔ وہ اُ داس سا خود میں گم سا بیٹھا تھا ۔ یہ الگ بات تھی کہ اس پر یہ اُداسی ذرا سوٹ نہیں کر رہی تھی ۔
    مقدم چوہدری ۔۔مراد چوہدری کا اکلوتا سپوت۔۔۔۔دو مائوں(ایک پیدا کرنے۔۔۔ دوسری پالنے والی) کا لاڈلا بیٹا ۔۔۔ایک بہن کا پیارا بھائی ۔۔ ۔ دادا، دادی کی جان ،اتنے رشتوں کے ہوتے ہوئے بے چارا اُداس اور پریشان بیٹھا تھا ۔وجہ تھی اس کی شادی خانہ آبادی ۔شادی جس کا ذکر خوشی لاتا ہے مگر مقدم چوہدری کے لیے اس کی شادی ایسا درد ِ سر بنی ہوئی تھی جس کا علاج کسی ڈسپرین سے بھی ممکن نہیں تھا۔بیٹے کی شادی کرنی ہو تو ہمارے ہاں ایک ماں کے نخرے سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے ، اس کی تو پھر دو دو مائیں تھیں۔یہیں سے اس کی شامت شروع ہوئی تھی کہ اس کی شادی کے لیے اس کی مائوں کے نخرے آپس میں ٹکرا کر اس کی راہ کی رکائوٹ بن گئے تھے حالاں کہ ساری زندگی اس کی مائیں سوتنیں ہونے کے باوجود شیر و شکر رہی تھیں۔مشکل یہ تھی کہ مقدم چوہدری چاہ کر بھی اپنی کسی ایک ماں کا دل بھی نہیں توڑ سکتا تھا کہ دونوں اس سے برابر کی محبت کرتی تھیں، واری صدقے جاتی تھیں ۔مقدم چوہدری کی پریشانی کو سمجھنے کے لیے آپ کو تھوڑا پیچھے ماضی میں جھانکنا پڑے گا ۔تو آئیے چلیے پھر ۔۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





    مراد چوہدری وسیع زمینوں کے مالک تھے۔ انہیں چار بہنوں کے اکلوتے بھائی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ پڑھے لکھے تھے مگر رہن سہن اور مزاج خالص چوہدرانہ تھے۔ ان کی پہلی شادی ان کی پھوپھوزاد نگین سے ہوئی تھی۔وہ دل میں اپنی ایک کالج فیلو کے لیے پسندیدگی، نہیں ۔۔نہیں۔۔ قدرے محبت کے جذبات رکھتے تھے اور اس کو دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں یہ شعر پڑھتے تھے۔
    کتھے جے میرا وس ہووئے
    تیری ماں میری سس ہو وئے
    اب دل کی ہر خواہش پوری تو نہیں ہو تی ۔ یہی مراد چوہدری کے ساتھ بھی ہوا کہ اپنے ابا کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اوران کے دل کی دل میں ہی دب کر رہ گئی ۔
    ”جب تک ”پھوپھیوں ” کی ”بیٹیاں” سلامت رہیں گی ”ماموئوں ” کے ”بیٹوں ” کو یونہی اپنے جذبات پر فاتحہ پڑھنا پڑے گی۔” چوہدری مراد یہی سوچ کر راضی بہ رضا ہو گئے۔ نافرمانی کا انجام جو جانتے تھے۔ گھر بدری اور جائیداد سے عاق ہونا۔۔اب وہ اتنے بھی مریض ِ عشق نہ تھے کہ دل کی خواہش پوری کر کے اپنی” دنیا ”خراب کر لیتے اور ان کی اس کلاس فیلو کو ان کے ارادوں کی بھنک تک نہیں تھی تو پھر وہ کس بل بوتے پر آگ میں کود جاتے ۔ویسے بھی آگ کے دریا میں ڈوب کر جانا ہر عاشق کے بس کی بات نہیںہے۔
    مراد چوہدری کی والدہ اپنی بھانجی کو بہو بنانا چاہتی تھیں مگر شوہر کے آگے ان کی بھی ایک نہ چلی اور نگین عرف نگو ان کے گھر کی بہو قرار دے دی گئی۔نگو اکلوتی تھی۔ باپ اس کے بچپن میں چل بسا تھا۔ اماں نے ساری عمر محنتیں کر کے اسے پالا پوسا تھا۔ ساری شادی کے دوران مراد چوہدری کے ابا خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتے رہے ، اماں منہ پھلائے رہیں اور بہنوں نے بھائی کی شادی کے خوب خوب ارمان نکالے۔مہندی کی رات بھنگڑے اور لُڈیاں ڈالتی رہیں۔ناچ ناچ کر تھک گئیں تو ڈھولک سنبھال لی ۔ساری رات ڈھولک بجا کر گانے گا تی رہیں۔
    ”میں اُڈی ُڈی جاواں ہوا دے نال۔۔۔۔۔۔”
    ”میں اُڈی ُڈی جاواں ہوا دے نال۔۔۔۔۔۔”
    یہ گانا مراد چوہدری کی سب سے بڑی بہن شہناز بی بی گا رہی تھی جو صحت مندی کے آخری مقام پر تھی۔ پورے چھے من کی ۔۔۔نہ رتی اِدھر نہ رتی اُدھر۔ اُوپر سے اتنے کام والا جوڑا کہ جس کا دوپٹہ ہی سیروں کے حساب سے وزنی تھا ۔ اس کے بعد جو زیورات اُس نے پہن بلکہ لاد رکھے تھے ، ان کاوزن بھی کلو دو کلو تو ضرور ہی تھا۔ ایسے میں اول تو اُڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بالفرض محال ایسا ہو بھی گیا تو ہوا بے چاری پریشانی سے سر پٹختی رہے گی کہ اس پر یہ کیا افتاد آن پڑی ہے۔
    اماں جل جل کر سنتی رہیں اور سُن سُن کر جلتی رہیں۔
    ”نی چُپ کر جاو ، اب اور جا کر سو جائو۔ تمہاری بے سری آوازوں نے سر میں درد کر دیا ہے۔” آخر بھنی ہوئی آواز میں بولیں۔
    ”ہن میں بتائوں گی نگو کو ۔۔۔۔ساس کس چیز کا نام ہوتاہے۔” شادی کے روز ہی ان کی والدہ نے اپنی بیٹیوں کے سامنے اپنے ارادوں کا ذکر کر دیا۔ کیا کرتیں برداشت جو نہیں ہو رہا تھا۔





    ” بس کر دے اماں! نگو بہت اچھی لڑکی ہے ،تیری بڑی خدمت کرے گی۔ تو ایسے اس سے بیر نہ باندھ۔۔۔حمیرا کا بھی تجھے پتا ہی ہے کتنی لڑاکا اور کٹنی قسم کی لڑکی ہے ۔۔۔چاہے تیری بھانجی ہے مگر ایک بات لکھ لو وہ بیاہ کر آجاتی تو سب سے پہلے تجھے ہی دیوار سے لگاتی۔” ان کی بڑی بیٹی نے بڑے عادلانہ انداز میں صورتِ حال کا تجزیہ کیا ۔
    نگو بہت ہنسوڑ اور قدرے لاپروا سی لڑکی تھی۔ بڑی سے بڑی بات کو چٹکیوں میں اُڑا دینے والی۔ گھر میں یوں گُھل مل گئی جیسے سالوں سے یہاں رہ رہی ہو۔ گھر میں ہر وقت اس کے ہنسنے بولنے کی آواز آتی رہتی ۔وہ جانتی تھی کہ وہ ساس کو پسند نہیں ہے لہٰذا اس نے ساس کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔ وہ موقع ڈھونڈتی رہ جاتیں اور نگومکھن میں سے بال کی طرح نکل جاتی ۔
    ” ہے ای میسنی ۔۔۔چلاک(چالاک)ماں کی چلاک دھی۔” ایسے ہر موقع پر مراد کی اماں ہر دفعہ کلس کر رہ جاتیں۔
    اگر کبھی وہ خوا مخواہ اس کے سر ہو جاتیں تو وہ ہنس کر ٹال دیتی۔ کھُل کر وہ نگین کی مخالفت نہیں کر سکتی تھیں کہ مراد کے ابا کا خوف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نگو کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ وقت دھیرے دھیرے گزرنے لگا۔ مراد اور نگین کی شادی کو دو سال گزر گئے مگر ان کا آنگن سونا رہا تو مراد کی اماں کو جیسے ایک موقع ہاتھ لگ گیا۔ پہلے ڈیرھ سال تک تو وہ دبی دبی زبان میں مراد کو احساس دلاتی رہیں مگر جب دو سال گزر گئے تو وہ علی الاعلان بچہ نہ ہونے کا واویلا کرنے لگیں۔اب بھی نگو اماں ابا کوچائے دینے آئی تھی جب اماں نے طنز کیا۔
    ” تیری یہ خدمتیں ہمارے کسی کام کی نہیں ہیں اگر ہمارا آنگن یونہی سونا رہا تو کیا فائدہ تیرا ۔” نگوکے چہرے کا رنگ پل میں اُڑا تھا مگر اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔
    ” فکر نہ کرمامی! اللہ کرم کرے گا۔” وہ مُسکر ا کر بس اتنا کہہ سکی ۔ ان کی بات جو دل میں تیر بن کرگھس گئی تھی۔
    ”جا پتر تو جا کے مراد کو دیکھ ۔” ابا نے اماں کو گھور کر دیکھا اور نگو کو جانے کا اشارہ کیا۔
    ” تو کیا اس کے پیچھے پڑی رہتی ہے؟ کچھ خدا کا خوف کیا کر ۔جب اللہ کی مرضی ہو گی اولاد بھی ہو جائے گی۔” ابا نے اماں کو سمجھایا، جو ناک سکوڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگی تھیں۔
    ” میں اب اور انتظار نہیں کر سکتی۔بس آپ مراد سے کہیں اسے شہر لے جا کر ڈاکٹر کو دکھائے۔” اماں نے چائے کا گھونٹ حلق میں اُتار کر کہا۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    چند روز بعد چوہدری مراد شہر گیا تو نگو کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ دونوں کے ٹیسٹ ہوئے اور جو رپورٹ آئی اس نے نگوکے پیروں کے نیچے سے حقیقتاً زمین کھینچ لی۔ رپورٹس کے مطابق وہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم تھی۔
    گھر واپس آکر نگوکمرے میں بند ہو گئی۔مراد چوہدری ڈھیلے سے انداز میں اماں ابا کے پاس ٹک گیا۔
    ” کیا بنا پتر! تم لوگ گئے تھے ڈاکٹر کے پاس۔” ابا نے اس کی اُتری شکل دیکھ کر کہا۔
    مراد چوہدری نے ٹھنڈی آہ بھر کر ساری بات بیان کرنا شروع کی۔ جسے سُن کر ابا کا دل ڈوبنے لگا اور اماں کے دل میں سکون کی ٹھنڈی لہریں اُٹھنے لگیں اور کیوں نا اُٹھتیں ”نقص” کون سا ان کے بیٹے میں تھا۔
    ” ہوں! اب میں اس نگو کی ایسی کی تیسی کروں گی۔ اپنے بیٹے کو دوسری شادی کروائوں گی اور وہ بھی اپنی بھانجی حمیرا سے۔” ابا مراد چوہدری کی دل جوئی کرنے لگے اور اماں دل ہی دل میں منصوبہ بندی کرنے لگیں۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





    پورا ایک ہفتہ نگو نے کمرے میں بندہو کر اپنے بانجھ پن کا سوگ منایا ۔جو کمی اللہ کی طرف سے ہو اُسے پورا نہیں کیا جاسکتا ، اُس پر بس صبر کیا جا سکتا ہے اور نگو نے اس کمی کو قبول کر کے صبر کر لیا ۔ایک ہفتے بعد دوپہر کو کمرے سے نکلی تو سب قیلولہ کررہے تھے۔ وہ بر آمدے میں سے گزر کر صحن میں لگے نلکے کی طرف جانے لگی توابا کے کمرے سے اماںکی آواز آئی جو اپنی بہن (حمیرا کی ماں)کے ساتھ محو گفتگوتھیں۔ دونوں کو شاید اس کے کمرے سے نکلنے کی ذرا اُمید نہیں تھی جو آواز کا والیوم کم کرنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی۔
    ” بس بشیراں! اب تو تیاری رکھ دو مہینے کے اندر میں نے مراد کا ویاہ اپنی حمیرا سے کروا دینا ہے۔ بڑی اُڈی اُڈی پھرتی تھی نا یہ نگو کی بچّی ۔ اب منہ کے بل گری ہے تو اب مت ٹھکانے آئی ہے اور کچھ ابھی آئے گی جب میں اپنی حمیرا کو اپنی (بہو) نو بنا کر لائوں گی۔” اماں کی زبان سے اُگلتا زہر نگو کے کانوں کے رستے دل میں جا اُترا۔
    نگو واپس کمرے میں گئی ۔بہت کچھ سوچا، حقیقت کی عینک لگا کر حالات کا جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچی کہ خوشیاں حاصل کرنے کے لیے زندگی کی تلخیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑتاہے ۔سو اس نے مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور ایک ایسا فیصلہ کر گئی، جس نے اس کے دل کو خاردار جھاڑیوں پر گھسیٹ دیا مگر وہ تکلیف سہ گئی۔ اب اُسے اپنے اس فیصلے کو منو ا کر اس پر عمل کروانا تھا۔ اماں نے اس کے ساتھ بیر رکھا تھا تو اب وہ بھی اماں کو اس کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔حمیرا کے آنے کا مطلب تھا نگو کا گھر بدر ہونا اور ایسا نگو مر کر بھی نہیں چاہتی تھی ۔ اُسے اسی گھر میں مراد چوہدری کے ساتھ رہنا تھا اور حمیرا آجاتی تو ایسا ہونا ناممکن ہو جاتا۔ وہ بے چینی سے ابا کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔
    رات کو کھانے سے فارغ ہو کر وہ ابا، اماں کے پاس جاپہنچی۔ مراد چوہدری پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ ابا اتنے دنوں بعد اس کو سب کے درمیان دیکھ کر قدرے مطمئن ہوئے۔وہ مراد چوہدری کواس کا خیال رکھنے کی تاکید کرتے رہتے تھے کیوں کہ وہ بے چاری اتنے بڑے صدمے سے گزر رہی تھی۔ مراد چوہدری نے اس کی مقدور بھر دل جوئی کی تھی۔ وہ صرف اس کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش ہی کر سکتا تھا، اس کو ختم کو نہیں کر سکتا تھا سو اس نے یہی کیا اپنی محبت اور خلوص سے پوری کوشش کی تھی کہ نگو کی یہ تکلیف کم ہو جائے ۔سوائے اماں کے سب نے اس کی ہمت بندھائی تھی ، اس سے ہمدردی کی تھی مگراماںنے ان سات دنوں میں جب بھی اس کے کمرے میں جھانکا، اس کی طرف طنز کا نوکیلا بھالا ہی پھینکا تھا۔ابانے کئی دفعہ خوفِ خدا یاد دلایا کہ ہم بھی بیٹیوں والے ہیں ایسے نہ کر تسلی نہیں دے سکتی تو دل بھی نہ دکھا ۔ مگر نا جی مامی باز نہ آئی۔ ویسے بھی جس تن لاگے، وہی جانے اور فی الحال اُن کے تن پر نہیں لگی تھی تو وہ کیوں پروا کرتیں۔
    ”آپتر، اِدھربیٹھ میرے پاس ”ابانے اپنی ٹانگیں سمیٹ کر اپنی چارپائی پر اس کے لیے جگہ بنائی۔”نگو آرام سے ٹک گئی۔اس کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی اوردل ڈوب ڈوب کر اُبھر رہا تھا ۔





    ” ماموں ! میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔” نگو اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی۔
    ” اگر تو یہ سوچ رہی ہے کہ تو کوئی بچہ گود لے لے گی تو ایک بات یاد رکھنا ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ ہمیں کسی ایرے غیرے کی اولاد کو نہیں پالنا۔۔۔ اپنے پتر کی اولاد گودیوں میں کھلانی ہے۔” اماںنے اس کی بات مکمل بھی نہ ہونے دی۔ اُن کے خیال میں نگو اس سے زیادہ اور کیا فیصلہ کر سکتی تھی۔ابا نے اماں کو جھڑک کر خاموش کروایا۔
    ”ہاں تو بول پتر کیا کہنا چاہتی ہے۔”ابا نے دلار سے کہا۔
    ”ماموں ! میں چاہتی ہوں ۔ ہم مراد کی دوسری شادی کروا دیں۔” نگو کی بات نے ابا، اماں اور مراد چوہدری کو ایک لمحے کے لیے گنگ کر دیا۔سب سے پہلے اماں ہوش میں آئیں۔
    ” وہ تو نہ بھی کہتی تو میں نے کر ہی دینی تھی حمیرا سے۔”اماں کی بات پر ابا نے گھور کر انہیں دیکھا اور نگو ہلکا سا مسکرا دی جیسے کہہ رہی ہو، ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی ، پہلے سن تو لیں۔
    ”ماموں! میں چاہتی ہوں کہ مراد چوہدری کی شادی ہم کسی مطلقہ یا بیوہ سے کروا دیں۔ اس کی کون سی یہ پہلی شادی ہے، جو ہم کسی کنواری لڑکی کے ارمانوں کا خون کریں۔ حمیرا جیسی ”اچھی” لڑکی کو اس کے جوڑ کا کوئی اچھا اور کنوارا لڑکا مل جائے گا تو پھر ہم اپنی غرض کے لیے اس کے جذبات کو کیوں قربان کریں۔” نگو نے بڑی صفائی سے اماںکے ارمانوں کا خون کر دیا ۔
    ” تجھ سے کسی نے پوچھا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔”اماں بلبلا اُٹھیں۔
    ” تو چپ کر مراد کی ماں، نگو بالکل صحیح کہہ رہی ہے۔” ابا، اماں اور نگو سنجیدہ مسئلے پر گفتگو کر رہے تھے اور مراد چوہدری خیالوں میں دوسری شادی کی تیاریاں کرنے لگے ۔اس کے باوجود کہ و ہ نگو کو صدق ِ دل سے اپنا چکے تھے اور اس کو کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے، دوسری شادی کی بات نے ان کے دل میں پھول کھلانے شروع کر دیے تھے۔ہوش تو تب آیا جب ابا جی نے اُسے مخاطب کیا۔
    ” تو بتا مراد ، تو کیا چاہتا ہے۔” ابا نے مراد چوہدری سے پوچھا تو وہ شرما کر رہ گیا۔
    ” جیسے آپ کی اور نگو کی مرضی۔”مراد چوہدری کی بات سن کر نگو کے ہونٹوں پر زخمی سے مسکراہٹ آئی ۔ ابھی تو وہ یہ سب کہہ رہا ہے لیکن کچھ عرصہ گزر جاتا تو بھلے دوسروں کے پریشر میں آکر مراد چودھری کو دوسری شادی کرنا ہی تھی تو پھر نگو یہ کام خود اپنے ہاتھوں سے کیوں نہ انجام دے دیتی۔کیوں رو دھو کر ، واویلا کر کے لوگوں کو تماشا دیکھنے کا موقع دیتی۔
    ”رشتے بنانا آسان لیکن انہیں نبھانا بہت مشکل ہوتاہے میری دھی۔ رشتے نبھانے واسطے ایثار، صبر، قربانی اور وفا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے بہت کم لوگ خود کو رشتے نبھانے کی مشقت میں ڈالتے ہیں۔ تم بھی خود کو مٹا کر رشتوں کو بچانے کی کوشش کرنے لگی ہو ۔ پر میں نہیں چاہتا کہ تم رشتوں کو نبھانے کے لیے اپنی جان کو کسی مصیبت یا مشقت میں میں ڈالو ۔ اس لیے اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔ شوہر کو بانٹنا کوئی سوکھا کم نہیں ہوندا۔”ابا نے نگو کے سر پر ہاتھ رکھا تو نگو نے ان کا ہاتھ تھام کر چوم لیا۔
    ” ماموں، پورا کھو دینے سے بہتر ہے کہ بندہ آدھا کسی کے ساتھ بانٹ لے، بدلے میںاپنی جھولی بھی خالی نہیں رہتی اور کسی اور کا بھلا بھی ہو جاتا ہے۔” نگو نے آنسو ئوں بھری آنکھوں سے ابا کو دیکھا۔
    ” ٹھیک ہے پھر کچھ کرتے ہیں۔ابھی تم لوگ جائو۔” ابانے نگو اور مراد چوہدری کو جانے کا اشارہ کیا۔نگو نے یہ فیصلہ بھلے اماں کی ضد میںکیا تھا مگر نیت اس کی نیک ہی تھی ۔ نگو چاہتی تھی کہ کوئی ایسی لڑکی مل جائے جس کے ساتھ وہ اپنا شوہر بانٹ لے اور وہ لڑکی اس کے ساتھ اپنی اولاد ۔ وہ رب بادشاہ جو اُوپر بیٹھا ہے وہ نیتوں کا پھل ہی دیتا ہے ۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




  • اُلو — محسن عتیق

    اُلو — محسن عتیق

    صبح کے لگ بھگ سات بج رہے تھے جب وہ جھولا جسے میں بڑے مزے سے جھول رہا تھا، اچانک سے آنے والے زلزلے سے تھر تھر کانپنے لگا۔ اچانک سے آنے والی اس افتاد سے میں سہم گیا اور کسی چھوٹے بچے کی طرح میں نے جھولے کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔
    ”سات بج گئے ہیں۔” اچانک اک آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
    میں کافی سہما ہوا تھا، لیکن ہمت کر کے آواز کے تعاقب میں سر جو اُٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اک چہرہ پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہا ہے۔لمبے بال،شہد جیسی رنگت والی آنکھیں، وہ لڑکی جو بھی تھی، حسن میں اپنی مثال آپ تھی۔ وہ اس دیس کی لگتی ہی نہیں تھی مانو جیسے کسی اور دیس کی پری رستہ بھٹک کر یہاں آن پہنچی ہو۔
    ”کیسی ہو پری؟؟؟” میں بڑے پیار سے مخاطب ہوا۔
    اب کے ایک پھر زمیں۔ ہلی اور اس شدت سے ہلی کے میرے خوابوں کو چکنا چور کرگئی۔ پری اب نوشابہ بن چکی تھی، میری بیوی۔ وہ مجھے جھنجھوڑ کر اُٹھا رہی تھی۔
    ”اُٹھ جائیں! سوا سات ہونے کو ہیں، آج کالج نہیں جانا کیا؟؟؟” یہ کہتی ہوئی وہ کمرے سے باہر چلی گئی اور کچھ دیر تو میں اسی شش و پنج میں مبتلا رہا کہ وہ خواب تھا یا یہ خواب ہے؟؟؟
    ادھر اُدھر دیکھا تو ساتھ پڑے موبائل پر نظر پڑی۔ بٹن دباتے ہی سکرین پے لکھا آیا ”بیس مسڈ کالز۔” وہ اصل میں میری گہری نیند سے میرے ساتھی ٹیچرز بہت خوف کھاتے ہیں کیوں کہ ہم ایک ہی بس میں ساتھ جاتے ہیں اس لیے میری وجہ سے اُن کی بس چھوٹ جانا گزشتہ دنوں تک اک عام سی بات تھی، لیکن جب سے پرنسپل کی طرف سے ٹائم کی پابندی کرنے کا حکم آیا ہے میرے ساتھی ٹیچرز نے مجھے جگانے کا کام بھی اپنے سر لے لیا ہے۔ اُن سب کو میسج کر کے میں تیاری میں مصروف ہوگیا۔
    ٹھیک سات بج کر چالیس منٹ پر میں تیار تھا بس ناشتے کے لیے میرے پاس صرف پانچ منٹ تھے۔ جیسے تیسے کر کے میں نے ناشتہ ختم کیا اور چائے کے کپ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ٹیبل پر پڑے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی، جس کی سکرین پر ذیشان کا نام جگمگا رہا تھا۔ میں نے موبائل اُٹھا کر ریسیو کا بٹن دبایا ہی تھا کہ سرحد پار سے گولا باری شروع ہو گئی۔
    ”یار عامر آج پھر لیٹ کروانا ہے کیا؟؟؟ ہم باہر کھڑے تمہارا انتظار کررہے ہیں۔ قسم سے رستے میں تمہارا گھر نہ ہوتا تو یوں ہی چھوڑ کر چلے جاتے۔۔۔ جلدی باہر آئو۔۔!”
    سامنے پڑی چائے جس کی رنگت اور الائچی کی آنے والی خوش بو ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ آج غلطی سے ہی سہی، بیگم نے چائے بڑی شان دار بنائی ہے۔ ایسی چائے کو چھوڑ دینا یقینًا ایک تکلیف دہ عمل تھا، لیکن تھوڑی دیر پہلے جو سرحد پار سے گولا باری ہوئی تھی، اُس بڑبڑاہٹ نے مجھے سب کچھ بھلا دیا اور میں تیز تیز قدم اُٹھاتا گھر سے باہر آگیا۔ سامنے وہ دونوں غصے سے منہ پھلائے کھڑے تھے۔ دونوں کا پھولا ہوا منہ اُس غبارے کی مانند لگ رہا تھا جس میں غلطی سے زیادہ گیس بھر دی گئی ہو۔
    ”شکر ہے نواب صاحب تیار ہوگئے۔۔۔!” ساجد بولا۔





    ”ارے کم بختو! تم دونوں کی وجہ سے اپنی بیوی کے ہاتھ کی بنی چاے چھوڑ کر آیا ہوں، ابھی بھی مجھ پر غصہ ہورہے ہو؟؟؟” میں نے گرجتے ہوئے ان دونوں سے کہا۔
    ”پھر تو اچھا کیا کہ نہیں پی!” ذیشان نے طنزیہ کہا اور اُن دونوں کے قہقہے فضا میں گونج اُٹھے۔
    ”کیا مطلب؟؟؟ میں سمجھا نہیں؟؟؟” اُن کا یہ طنز میرے اوپر سے ایک جانے مانے ایتھلیٹ کی طرح چھلانگ مارتا گزر گیا تھا۔
    ”کہہ تو ایسے رہے ہو جیسے ہم نے تو کبھی وہ چائے پی ہی نہیں؟؟؟ اگر اُس چائے کو دو لفظوں میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوں گے ”کالی اور پھیکی۔” ایک بار پھر اُن کے قہقہے ہوا میں گونج اُٹھے۔ وہ مجھے چڑانے کی بھرپور سعی کررہے تھے اور سچ بات تو یہ ہے کہ اُن کی یہ سعی کارگر بھی ثابت ہورہی تھی۔
    ”ارے نہیں! آج کی چائے بہت کمال کی تھی۔۔۔ یقین کرو میں تو خود حیران ہوں۔” میں نے صفائی پیش کرنی چاہی۔
    ”ناممکن۔۔۔! کیوں ساجد بھائی کیا تمہیں یقین آرہا ہے؟؟؟” ذیشان کے استفسار پر ساجد نے نفی میں سر ہلا دیا۔ میری پیش کی گئی صفائی کو ظالموں نے ردی سمجھ کر ٹوکری میں پھینک دیا۔ بس آنے والی تھی اور ہم تیز تیز قدم اُٹھاتے کالونی سے باہر مین سڑک کی طرف بڑھنے لگے۔
    آج بھی وہ دس سال کا بچہ اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھا سوالیہ نظروں سے ہمیں دیکھ رہا تھا۔ محرومی کی ایک وا ضح جھلک اُس کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اُلجھے ہوئے بال، سانولی رنگت اور نیلے رنگ کی پرانی اور بوسیدہ شلوار قمیص پہنے جس پر جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ وہ مفلسی کی ایک جیتی جاگتی مثال بنے بیٹھا تھا۔راہ چلتے لوگ اُس کی حالت پر ترس کھا کر چند سکے اُس کی جانب اُچھال دیتے لیکن ہم آج بھی معمول کی طرح اُسے نظر انداز کیے ساتھ سے گزر گئے۔
    ابھی ہم تھوڑا ہی دور گئے تھے کہ اک عجیب سی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ میرے قدم بڑی تیزی سے سڑک کی جانب بڑھ رہے تھے اور میری سوچوں کے گھوڑے اُس آواز کو ماضی کے صفحات میں تلاش کرنے میں سرگرداں ہوگئے اور جب وہ صفحہ کھلا تو میرے ہوش اُڑ گئے۔ میرے تیزی سے اُٹھتے قدم منجمد ہوگئے اور میری آنکھیں ترچھی ہوتیں اُس سمت جا پہنچیں جہاں سے وہ آواز آئی تھی۔ میری غیر ہوتی حالت کو ساجد اور ذیشان بھی دیکھ چکے تھے۔ غالبًا اُنہوں نے وہ آواز نہیں سنی تھی۔
    ”اُلو!” مجھ سے صرف یہی لفظ ادا ہوا۔
    ”کیا؟؟؟ کہاں؟؟؟” اُن کے ماتھے پر پڑی شکنوں سے اضطراب جھلک رہا تھا۔ میں نے اپنے ہاتھ سے اُس سمت اشارہ کیا جہاں وہ منحوس پرندہ نظریں گاڑے ہمیں ہی دیکھے جارہا تھا۔ وہ دونوں بھی اُسے دیکھ کر بھونچکا رہ گئے۔
    ”ایسا منحوس پرندہ رستے میں آجائے تو لوگ سفر ترک کردیتے ہیں۔ میری مانو تو واپسی کا رستہ پکڑو، زندگی جاب سے زیادہ عزیز ہے۔ کہیں کالج جاتے ہوئے اُسی بس کا ایکسیڈینٹ نہ ہوجائے۔” ذیشان کی اس بات پر میں جو ٹرانس کی سی کیفیت میں تھا ذرا چونکا۔
    ”تینوں نے اکھٹی چھٹی کی تو پرنسپل جان سے مار دے گا۔ لیٹ ہوجانے کی وجہ سے پرنسپل صاحب کے سامنے ویسے بھی شہرت زیادہ اچھی نہیں ہے۔” میری بات سن کر ذیشان سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
    ”لیکن عامر چاہے شرط لگا لو اس منحوس اُلو کی وجہ سے ہمارے ساتھ کچھ برا تو لازمی ہوگا، اب یہ نہیں پتا کہ وہ برا آخر کس قدر برا ہوگا۔” ذیشان فکر مندی سے بولا۔
    ”کیوں نہ کچھ صدقہ کردیں؟؟؟” بات کرتے ساجد کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک در آئی۔
    ”لیکن یہاں اس وقت کون ہے جس پر صدقہ لگتا ہو؟؟؟” ذیشان کے استفسار پر میں بھی ہونقوں کی طرح ساجد کو دیکھنے لگا۔ ہماری حالت اُس وقت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔!





    ”ارے اسی بچے کو کچھ پیسے دے دیتے ہیں کم از کم آج کے دن تو اس منحوس پرندے کی نحوست سے جان چھٹے گی۔” ساجد کی بات پر ہماری نظریں دانستہ طور پر اُس بچے کی طرف اُٹھ گئیں جو کچھ فاصلے پر بیٹھا ہمیں ہی دیکھ رہا تھا۔
    اچانک بس کے ہارن کی آواز نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ بس میں بیٹھا ڈرائیور سمجھ گیا تھا کہ ہم آج پھر لیٹ ہیں لیکن اُسے یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ اُسے دیکھ کر بس کی طرف بھاگنے کی بجاے ہم اُلٹی سمت میں دوڑ پڑیں گے۔ وہ اپنا سر کھجاتے حیرانی سے ہمیں بھاگتے دیکھ رہا تھا۔ ہم ہانپتے ہوئے اُس بچے کے پاس پہنچے، پیسے اُس بچے کو دیئے اور واپسی کی طرف دوڑ لگادی، لیکن اپنے بھاگتے ہوئے قدموں کو ہمیں روکنا پڑا کیوں کہ سامنے سڑک خالی تھی۔ بس جاچکی تھی۔ بوکھلاہٹ میں ہم بس والے کو رکنے کا اشارہ کرنا ہی بھول گئے تھے۔
    اُن کے چہرے پے ایک بار پھر وہ شوخی جھنڈے گاڑے بیٹھی تھی۔ نحوست کے بادل چھٹ چکے تھے۔دل اب قدرے مطمئن تھا۔ سڑک پر پہنچ کر وہ دوسری بس کا انتظار کرنے لگے۔
    دوسرے دن پھر وہ منحوس اُلو اُنہیں گھور رہا تھا۔اُس بچے کو پیسے دے کر وہ پھر سے اُس منحوس پرندے کی نحوست سے آزاد ہوگئے۔لیکن یہ اب روزانہ کا معمول بن گیا تھا۔ روزانہ اُس اُلو کا دیدار ہونے پر اب وہ عاجز آچکے تھے۔اضطراب اُن کے چہروں پر واضح اور نمایاں تھا۔ اُس بچے کو پیسے دینے سے اُن کی تنخواہ میں ایک فیصد کمی بھی واقع نہیں ہونی تھی لیکن وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو بھکاریوں کو شاید انسان ہی نہیں سمجھتے تھے۔
    ٭…٭…٭
    فون کی بیل جارہی تھی، جب دوسری طرف سے ذیشان کی آواز آئی۔
    ”ہیلو عامر صاحب! لگتا ہے میری طرح آپ کے دل کو بھی اُس منحوس اُلو کی وجہ سے چین نہیں آرہا؟؟؟” فون اٹھانے پر ذیشان کی آواز ابھری عامر فکر مندی سے کہہ رہا تھا۔
    ”ہاں یار! کوئی حل نکالو اس مسئلہ کا، میں تو بیوی بچوں والا ہوں کہیں اُس اُلو کی نحوست گھر میں داخل نہ ہوجائے۔” عامر فکر مندی سے کہہ رہا تھا۔
    ”صرف تم ہو؟؟؟ تینوں ہی بیوی بچوں والے ہیں بھائی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ساجد کی کال آئی تھی، اُس نے کالونی کے مالک سے بات کرلی ہے۔ آج ہی اُس منحوس پرندے کو وہاں سے بھگا دیا جاے گا۔” ذیشان کی آواز میں اب قدرے سکون تھا۔
    ”کیا واقعی؟؟؟ ارے یہ تو کمال ہوگیا۔ اس خوش خبری پر تمہارا ماتھا چومنے کو دل کررہا ہے۔” دوسری طرف سے ذیشان کا قہقہہ سنائی دیا۔
    ”ارے بھائی چوم لینا۔۔۔ فی الحال میں فون رکھتا ہوں۔ گھر کی بیل بجے جارہی ہے، ذرا دیکھتا ہوں کون آیا ہے۔خدا حافظ”
    ٭…٭…٭
    اُن کی زندگی جو پچھلے کچھ دنوں سے عجیب موڑ لے رہی تھی، آخر پھر اپنے پرانے رستے پر چلنے لگی۔ اب روزانہ صبح وہ اُس بچے پر تنفر بھری نگاہ ڈالے ساتھ سے گزر جاتے اور وہ بچہ کبھی غرور سے تنی ہوئی اُن گردنوں کو دیکھتا جو پیسے کے دم پر ہر روز ایک محرومی بھرا احساس اُس کے دل میں جگا جاتیں اور پھر اُس کی نظر اُس درخت پر پڑتی جہاں رہنے والا پرندہ اُن لوگوں کے ظلم اور عتاب کا شکار ہوا تھا۔اُس دن کے بعد وہ درخت اُسے ہمیشہ خالی ہی نظر آیا۔
    ٭…٭…٭
    اُفق پر سنہر ی روشنی پھیل رہی تھی۔ عامر گھر سے باہر نکلا تو ذیشان اور ساجد دعا کے لیے ہاتھ اُٹھاتے کھڑے تھے۔ دروازہ کھلنے کی آواز سے وہ ذرا چونکے۔
    ”سیٹھ صاحب! یہ ہماری دعائوں کا اثر ہے ورنہ آپ اور ٹائم پر تیار ہوجائیں؟؟؟ ناممکن!” ذیشان کی اس بات پر میں ہنس پڑا۔
    ہم باتیں کرتے سڑک کی جانب بڑھنے لگے ۔اچانک میری نظر اُس بچے پر پڑی ۔وہ منہ مخالف سمت کیے اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کیے بیٹھا دعا مانگ رہا تھا۔میں نے آہستہ سے ساجد اور ذیشان کو اُس جانب متوجہ کیا۔اُسے دیکھ کر میری طرح اُن کی آنکھوں میں بھی چمک در آیٔ۔
    ”آج دیکھتے ہیں یہ مفلسی کا ڈرامہ کرنے والا خدا سے کیا مانگ رہا ہے۔آج تو اسے رنگے ہاتھوں پکڑیں گے۔” ساجد بولا۔
    ہم چپکے سے قدم اُٹھاتے اُس کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ اُس کی آواز ہم اب بہ خوبی سن سکتے تھے۔
    ”اللہ! آپ میری بات مان لیں۔میں نے رات بھی کھانا نہیں کھایا۔ بہت بھوک لگی ہے۔ آپ اُس اُلو کو واپس بھیج دیں۔ وہ آجائے گا تو مجھے دوبارہ پیسے ملنے لگیں گے۔ آپ پلیز اُس اُلو کو کہیں واپس آجائے۔”
    وہ شوخی جو اُن کے چہروں پر جھنڈے گاڑے بیٹھی تھی، ایک پل میں بوڑھی ہوکر رہ گئی۔ ایک پل میں اُس جھنڈے کے ایک نہیں ہزار ٹکڑے ہوئے تھے۔ وہ ندامت کی ایسی جیل میں قید ہوئے تھے جس نے اُن کی تنی ہوی گردنوں کو جھکا دیا تھا۔ وہ اُس وقت سمجھے تھے کہ منحوس لفظ ہی شاید منحوس ہوتا ہے، ورنہ اُس خدا کی تخلیق کی ہوئی کوئی شے منحوس نہیں ہوتی۔ منحوس تو صرف انسان کی سوچ ہوتی ہے جو کبھی کسی پرندے کو منحوس کہتی ہے کبھی اُس عورت کو جو بانجھ پن کا شکار ہونے کے باوجود روزانہ خدا کے حضور اپنی جھولی بھر جانے کی دعائیں مانگتی ہے۔ وہ تینوں چپ چاپ سر جھکائے کھڑے تھے۔ اُن میں اتنی سکت بھی باقی نہ تھی کہ اُس بچے کی نظروں کا سامنا کرسکیں۔ کتنی بسیں یوں ہی گزر گئیں اور وہ جو کالج جانے کے لیے نکلے تھے وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔

    ٭…٭…٭




  • در و دیوار —– سید ممتاز علی بخاری

    کہتے ہیں دیوار اور دروازے کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ دیوار نہ ہو تو پھر دروازہ بھلا کس کام کا؟ جس طرح دیوار دیدار میں رکاوٹ کا دوسرا نام ہے اسی طرح دروازہ دیدار کے لیے ایک پُل کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ سنا ہے دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں لیکن آج تک ہمیں اُن کے کان نظر نہیں آئے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ اُن کانوں کی شکل و صورت کیسی ہے؟ ان کا سائز کیا ہے؟ ان کی طاقت کتنی ہے؟ہماری تحریر میں جا بجا آپ کو لفظ گیٹ(Gate) نظر آئے گا ۔ دراصل معزز دروازوں کو انگریزی زبان میں گیٹ کہتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چھت کے سوا گھر نہیں ہو سکتا لیکن چُپ شاہ کے نزدیک دیواروں کے بغیر گھر نہیں ہو سکتا۔ عورتوں کو چار دیواری کا درس دینے والے اکثر حضرات اپنی راہ میں ایک دیوار بھی برداشت نہیں کر تے۔ دیوار کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا وہاں سے راستہ نہیں بنا سکتا۔ صرف چور اور ڈاکو اپنی مرضی سے جہاں سے چاہتے ہیں راستہ بنا لیتے ہیں چاہے وہاں دیوار ہو یا بیمار۔ یار لوگ تو دار کو بڑا دروازہ کہتے ہیں بلکہ بل گیٹس کو بھی ”گیٹ” (دروازہ) ہی سمجھتے ہیں ہمارے نزدیک بھی وہ دروازہ ہی ہے بے پناہ دولت کا۔
    خیر آج ہم نے سوچا کہ آپ حضرات کو مختلف قسم کی دیواروں اور دروازوں کی اقسام سے متعارف کروائیںتا کہ سند رہے اور بہ وقتِ ضرورت کا م آئے۔





    ١۔کالج کے دَر و دیوار
    یہ دیواریں بڑی خوش قسمت ہوتی ہیں ۔ ان پر آئے دن نت نئے سیاسی گروہ اپنی تشہیرکے لیے چاکنگ کرتے ہیں پھر اُن پر پینٹ یا رنگ پھرجاتا ہے ۔ اگلے روز ایک نئی عبارت یوں جگمگا رہی ہوتی ہے جیسے اُسی کے لیے ہی یہ دیوار بنائی گئی ہو۔ بعض اوقات اوپر تلے تحریر کی گئی چاکنگ بارش وغیرہ سے دھل کر کچھ یوں بن جاتی ہے کہ لکھنے اور پڑھنے والے دونوں حیران رہ جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے کچھ اسی طرح کی وال چاکنگ دیکھی جس میں لکھا تھا کہ 25 ستمبر کو ملک کے مشہور و معروف حکیم صاحب میں کرکٹ کا ایک نمائشی میوزیم ہے جس میں تھیڑ کے بڑے فنکار بھی شامل ہوں گے۔ قربانی کی کھالیں ہمیں دے کر ٹکٹ بک کروائیں ورنہ حکومت ذمہ دار نہ ہو گی۔ حکیم صاحب کے جسم میں کرکٹ گراؤنڈ ، کرکٹ میں تھیٹر کے فنکاروں کا کھیل، اور کرکٹ کا میوزیم بڑے عجیب و غریب انکشافات تھے لیکن سب سے انوکھا انکشاف یہ تھا کہ قربانی کی کھالوں کا ایک نیا مصرف بھی سامنے آگیا تھا۔جب ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ بارش اور بادو باراں نے نصف درجن اشتہاروں کا بھرتہ بنایا ہوا ہے۔
    عموماً کالج کے گیٹوں کو بھی زنانہ اور مردانہ کالج کے حوالے سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بوائز کالج کے گیٹ عموماً ویران ہوتے ہیں جب گرلز کالج کے گیٹوںپر زیرِ تعلیم طالبات کے علاوہ بے شمار لڑکے بھی نظر آتے ہیں۔ بعض تو لڑکیوں کے خونی رشتہ دار ہوتے ہیں اور بعض جنونی رشتہ دار بننے کے لیے کوشاں ۔۔۔! ہم تو یونیورسٹی کے دَر و دیوار کو بھی اسی فہرست میں رکھا کرتے ہیں۔ البتہ مخلوط تعلیم دلانے والے اداروں کے گیٹ بہت پُر رونق بنے رہتے ہیں ہمیشہ۔ یوں تو قوم کے مستقبل کے یہ ضامن روز انہ وقت مقررہ پر اپنے فرائض سر انجام دینے کے لیے موجود ہوتے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی آتا ہے جب گرلز اور بوائز کالجوں کے گیٹ ایک سا منظر پیش کرتے ہیں اور وہ دن ہوتا ہے اتوار کا ۔ اکثر اوقات کالجز کے یہ دروازے اور دیواریں سیاسی تنظیموں کے درمیان تنازع کا باعث بنتے ہیں۔ کہیں جھنڈے لگانے یا اکھیڑنے پہ جھگڑا ، کہیں چاکنگ کرنے مٹانے کی لڑائی تو کہیں کسی سیاسی تنظیم کی ہڑتال پر گیٹ کے کھلے رہنے یا بند رہنے پر چپقلش۔۔۔۔!
    ٢۔ کوچۂ محبوب کے دَر و دیوار
    ایک مشہور قول ہے کہ محبوب کی گلی کا کُتا بھی عشاق کو محبوب ہی ہوتا ہے کیوںکہ اس کا اُن کے محبوب کی گلی سے ایک تعلق ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے محبو ب کے گھر کے دَر و دیوار تو خصوصی اہمیت کے حامل ہوئے ۔ یار لوگ تو محبوب کے گھر کی دہلیز کو اتنا متبرک سمجھتے ہیں کہ کئی ایک تو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر اس سمت سجدوں کی اجازت مانگتے پھرتے ہیں۔ محبوب کے آشیانے کی دیواروں کی لمس کی حس بہت ہی طاقت ور ہوتی ہے۔ اس لیے عموماً عاشق اُن سے لپٹ لپٹ کر روتے ہیں۔ اگر عشق کی آگ دونوں طرف برابر لگی ہو تو پھر عاشق محبوب کے دَر و دیوار کو ایک ہینظر دیکھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک دیوار اور دروازے میں فرق اتنا ہوتا ہے کہ دروازے پر سکیورٹی گارڈ یا گھر کے کسی نگران کی نظر ہوتی ہے جب کہ دیواروں کو کوئی نہیں دیکھتا۔ اسی لیے وہ دروازوں کی بہ جائے دیواریں پھلانگنا آسان سمجھتے ہیں کیوںکہ یہ راستہ آسان بھی ہوتا ہے اور محفوظ بھی۔
    اگر آپ ہماری اردو شاعری کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ محبوب کے دروازے پر ایک نا دیدہ رکاوٹ لگی ہوتی ہے ۔اس رکاوٹ کوعبور کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا ۔ اکثر جوشیلے مگر بزدل عاشق جو آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے دعوے دار ہوتے ہیں ان سے اتنا نہیں ہو سکتا کہ وہ ان نادیدہ جالوں کو توڑ پائیں جو محبوب کے گھر کی دہلیز پر لگے ہوتے ہیں۔
    کچھ حضرات تو محبوبہ کے بھائیوں کو بھی دیوار سے تشبیہ دیتے ہیں لیکن ان دیواروں کو پھلانگنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اکثر عاشق یہیں سے واپس ہو لیتے ہیں ۔ ڈر کر یا مار کھا کر ۔۔۔۔۔۔!





    ٣۔ ٹھیکے والے دَر و دیوار
    یہ دروازے اور دیواریں ٹھیکے داروں نے بنائی ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض دیواریں تو آدھی بنی ہوتی ہیں اور بعض کی تعمیر تک مکمل ہو چکی ہوتی ہے لیکن یہ بنتی ہی ٹوٹنے کے لیے ہوتی ہیں۔ عموماً ٹھیکے دار حضرات پیسے تو پورے سامان (میٹریل )کے لے لیتے ہیں لیکن استعمال کرتے وقت ڈنڈی بلکہ ڈنڈا مارتے ہیں اور بقیہ سامان(میٹریل )کے پیسے اپنی جیب میں ڈال دیتے ہیں تاکہ مرنے کے بعد دوزخ میں ایک عظیم الشان محل کی تعمیر کی جا سکے ۔
    اسی لیے ٹھیکے والی دیواریں ایسی ہوتی ہیں کہ ذرا کسی نے ٹیک لگائی اور یہ دھڑام سے نیچے۔ ان دیواروں پر اگر غلطی سے کوئی کوا آ کر بیٹھ جائے تو یہ اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ ہم نے ایک بار مشہور مفکر چُپ شاہ سے پوچھا کہ یہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹا گون کی عمارتیں جہازوں کے ٹکرانے سے کیسے گریں؟ تو انہوں نے انکشافی انداز میں ہمیں بتایا کہ جہاز تو جہاز اگر کوئی اڑتا مچھر بھی ان عمارتوں سے ٹکرا جاتا تو بھی ان عمارتوں نے زمین بوس ہو جانا تھا۔ ہم نے وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ دراصل یہ عمارتیں ٹھیکے پر تعمیر کی گئی تھیں۔ ٹھیکے پر تعمیر ہونے والی عمارتوں کے اندر ایک اور کجی رہ جاتی ہیں اور وہ یہ کہ ہوا کے دباؤسے ایسی عمارتوں کی دیواریں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں۔
    چُپ شاہ کے نزدیک پیسا ٹاور کا ٹیڑھا ہونا اس کی ٹھیکے پر کی گئی تعمیر کی پہچان ہے۔ ہم ساری ٹیڑھی دیواروں کو ٹھیکے داروں کی غلطی نہیں قرار دے سکتے کیوںکہ کئی دیواریں اتنی نیک ہوتی ہیں کہ وہ رکوع و سجود کے لیے کعبے کی سمت جھک جاتی ہیں اور ہم لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ شاید ٹھیکے دار نے دیوار کی تعمیر میں کوئی ڈنڈی ماری ہوئی ہے۔ کچھ یہی حال ٹھیکے پر بنائے دروازوں کا ہے۔کبھی زنگ آلود لوہے کو پینٹ(رنگ و روغن) کرکے فروخت کیا جاتا ہے تو کبھی اس پرانی لکڑی کو جسے اندر سے کیڑوں نے کھا لیا ہو ، رنگ و روغن کرکے منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ ایسے دروازے اکثر موت کے ہر کارے کے ساتھ مل کر اپنے مالک سے دغا کر جاتے ہیں اور انسان کو زمین کی پستیوںسے بلند آسمان کی وسعتوں میں پہنچا دیتے ہیں ۔ ان دروازوں سے توسوچ کے دروازے زیاد مضبوط ہوتے ہیں۔

    ٤۔ وی آئی پی دَر و دیوار
    یہ دَر و دیوار اپنی اہمیت کے حوالے سے سب سے منفرد اور ممتاز ہوتے ہیں۔ ملک کے اندر پائی جانے والی اعلیٰ مقتدر شخصیات اور اہم اداروں کے ارد گرد اسی قسم کے دروازے اور دیواریں ہوتی ہیں۔ یہ دیواریں تمام دیواروں سے اونچی ہوتی ہیں اور دروازے ہوشیار اور حسّاس۔ دیواروں نے خار دار تاروں والا لباس پہنا ہوتا ہے۔ عام دیواروں کے بر عکس ان دیواروں کے کان نہیں ہوتے البتہ آنکھیں ہوتی ہیں اور ان گنت تعداد میں جن کے اندر عقاب کی نظروں سے زیادہ پُھرتی ہوتی ہے ۔ وی آئی پی دروازے بھی دوسرے دروازوں سے کچھ الگ ہی شان رکھتے ہیں۔ وہاں بے شمار سیکیورٹی گارڈز ان کی حفاظت پرمامور ہوتے ہیں اور یہ دروازے باز بان ہوتے ہیں۔ یہ بول کر بتا سکتے ہیں کہ آنے والا انسان کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ۔ دلہن کی خاموشی اقرار کی علامت سمجھی جاتی ہے جب کہ ان دروازوں کی خاموشی انسان کے پر امن اور سادہ ہونے کی ضامن سمجھی جاتی ہے ۔ اگر ان دروازوں میں سے کوئی ایسا ویسا آدمی گزر جائے تو یہ چیخ چیخ کر آسمان بادلوں سمیت اپنے سر پر اٹھا لیتے ہیں اور نتیجتاً پورا ماحول سنگینوں کی زد میں آ جاتا ہے اور اگر بات کچھ زیادہ شدید ہو تو پستولوں کی گھن گرج کے ساتھ گولیوں کی بوندا باندی بھی شروع ہو جاتی ہے ۔ یہ دروازے عام دروازوں سے کافی مہنگے ہوتے ہیں۔ ایسے در و دیوار VIPsکو عام لوگوں کی پہنچ اور رسائی سے دور رکھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے دواؤں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے اور رکھا جاناچاہیے۔





    ٥۔ تاریخی دَر و دیوار
    جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ان دَر و دیوار کی اہمیت مسلمہ ہے چاہے غیر مسلموں کے دیس ہی میں کیوں نہ ہوں۔ پہلے تذکرہ کرتے ہیں دیواروں کا تو صاحبو! دیوارِ برلن اور دیوار عراق (جو امریکا نے2003ء میں عراق پر قبضے کے بعد بنائی تھی ) بہت مشہور ہیں۔ ان دیواروں کا یہی کام ہے کہ وہ بنی نوع انسان میں تفریق پیدا کر سکیں اور ان کے درمیان نفرت کے بیج بو سکیں لیکن ایک ایسی تاریخی دیوار بھی ہے، جو بنی نوع انسان کی حفاظت کے لیے تعمیر ہوئی وہ ہے دیوارِ چین۔۔۔! تا تاریوں کے حملوں سے بچنے کے لیے یہ دیوار بنانے والوں کے علم میں بھی نہیں تھا کہ لوگ چاند سے جا کر اس دیوار کو تکتے رہیں گے۔ ایک دیوار ان دنوں انڈیا بھی لائن آف کنٹرول پر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
    کہتے ہیں کہ ایک تاریخی دیوار سکندر نے بھی بنائی تھی جس میں یا جوج ماجوج کو قید کر دیا تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ ہمارے سیاستدان کیسے اس دیوار کو پھلانگ آئے۔ باقی قوم ابھی قیامت کی منتظر ہے۔ دروازوں یعنی گیٹوں کے حوالے سے ہمیں پچھلے زمانوں میں کچھ روایات ملتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ہر شہر پناہ کا ایک بلکہ کئی گیٹ ہوتے تھے۔ لیکن آج کل کے دور میں صرف چند ہی شہروں کے دروازوں کا تذکرہ سننے کو ملتا ہے۔ جیسے لاہور میں لوہاری گیٹ ، بھاٹی گیٹ ، موچی گیٹ وغیرہ موجود ہیں۔ یہ سارے گیٹ انگریزوں سے بھی پہلے کے بنے ہوئے ہیں اور مغلیہ سلطنت کی یادگار ہیں۔
    ٦۔ عام دَر و دیوار
    اس قسم کے در و دیوار آپ کو ہر طرف نظر آئیں گے ۔ یہ دیواریں اتنی ہی کمزور ہوتی ہیں جتنے ان کے مکین غریب ہوتے ہیں ۔ یہ گھر کی حفاظت کی خاطر تعمیر کی جاتی ہیں لیکن چور حضرات ان سے مک مکا کرنے کے بعد ان کو پھلانگ کر گھر والوں کو ان کے سرمائے سے محروم کر دیتے ہیں۔ پھر لوگ پولیس کو رپورٹ تک نہیں کروا سکتے ۔ اس لیے کہ چوروں نے اتنی رقم چھوڑی ہی نہیں ہوتی کہ مظلوم بے چارہ پولیس والوں کو تحفے میں دے سکے اور تحفے کے بغیر تو ہمارے ہاں پولیس والے صرف ”کمال” کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہماری پولیس اور جاپانی ایک ہی فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔ صرف ایک چھوٹا سا فرق ایسا ہے جو ہماری پولیس کی عظمت کی مثال پیش کرتا ہے ۔ وہ یہ کہ جاپانی حضرات تحفے لینے اور دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور ہماری پولیس صرف تحفے لینے کی مشتاق ہے ۔
    کچھ اسی قسم کی دیواریں اور گیٹ سڑکوں کے بھی ہوتے ہیں۔ سڑک کی دیواریں مفرور مجرم جیسی ہوتی ہیں تبھی تو ان کو لوہے کی سلاخوں سے باندھا ہوتا ہے یا پھر سٹیل یا ایلومینیم کی تاروں سے۔۔۔! چُپ شاہ کا کہنا ہے کہ شاید دروازوں کی اہمیت یہیں تک محدود رہتی لیکن بھلا ہو امریکا کے صدر نکسن کا جس نے واٹر گیٹ سکینڈل کا حصہ بن کر گیٹوں کو ایک نئی زندگی دی۔ اسی طرح دروازے حسین حقانی اور منصور اعجاز کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے میمو گیٹ سکینڈل تخلیق کیا اور اکیسویں صدی میں بھی دروازوں کا بول بالا کیا۔

    ٭٭٭٭




  • شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین –  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    ”میرے گھر میں ایک پرانا برگد ہے جس پر چڑیلیں رہتی ہیں جو ہمیں بہت تنگ کرتی ہیں۔ کیا ٹیم شاہین مجھے برگد کی ان چڑیلوں سے چھٹکارا دلواسکتی ہے؟”
    شیر دل نے کاغذ پر انگلش میں لکھی ہوئی اُس تحریر کو باآواز بلند پڑھا تھا اور نایاب اور احد یک دم بہت ہی پرجوش نظر آنے لگے تھے۔
    ”یہ ہوا نا کیس… بس یہ ہی تفتیش کریں گے ہم سب سے پہلے۔” نایاب نے سکول کی ڈیسک پر ہاتھ مار کر جیسے حتمی فیصلہ کردیا۔
    ”کیس ہے کس کا؟” احد نے شیر دل سے پوچھا۔
    ”یوحنّا جوزف کلاس فائیو۔” شیر دل نے اُس کاغذ کے نیچے لکھا نام پڑھتے ہوئے کہا جو ٹیم شاہین کے لاکر میں کسی نے ڈالا تھا۔






    وہ تینوں آج وہ لاکر کھول کر اُس میں موجود وہ سارے خطوط پڑھ رہے تھے جو سکول کے مختلف بچوں نے ٹیم شاہین سے رابطے کے لئے اپنے مسئلے کے ساتھ بھیجے تھے، اور پچھلے آدھے گھنٹے میں کوئی ایک کیس ایسا نہیں تھا جو اُن کے دل کو لگتا۔ وہ عجیب عجیب مسائل تھے جو بچوں نے کیس بناکر اُنہیں بھیج دیئے تھے۔ کسی کو اپنی وہ والی بلّی کی تلاش کروانا تھی جو تین سال پہلے غائب ہوگئی تھی اور کسی کو اپنے گھر کے چوہوں سے نجات چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے موزوں سے بدبو کا مسئلہ حل کروانا تھا اور کسی کو کھجلی کی شکایت پر اُن سے رہنمائی چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے چھوٹے بہن بھائی کو پٹوانا تھا اور کسی کو اپنے بڑے بہن بھائی کو اغوا کروانا تھا۔ وہ تینوں مسئلے پڑھ پڑھ کر تپ رہے تھے۔ وہ ٹیم شاہین تھے اُس سکول کی پہلی ”جاسوس تنظیم” اور وہ انہیں احمقانہ کیس لکھ لکھ کر بھیج رہے تھے۔ اُن تینوں کا موڈ بے حد خراب ہوگیا تھا ،تب ہی اُن کے ہاتھوں یوحنّا جوزف کا وہ کیس آیا تھا اور یک دم وہ تینوں جیسے کھل اُٹھے تھے۔
    یہ شیر دل شیرازی تھا جسے جاسوسی ناولز پڑھنے اور فلمیں دیکھنے کا جنون تھا اور اس ہی جنون نے اُسے یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ خود بھی جاسوس بن سکتا تھا۔ وہ اخباروں اور ٹی وی پر مختلف جرائم کی خبریں سنتا اور پھر انٹرنیٹ پر تب تک اُن کیسز کو فالو اپ کرتا رہتا جب تک وہ حل نہ ہوجاتے اور مجرم پکڑا نہ جاتا۔ اکثر اوقات شیر دل کے جو اندازے مجرم کے بارے میں ہوتے تھے وہ صحیح ثابت ہوتے تھے اور ایسا ہونے پر وہ خوشی سے بے قابو ہوجاتا۔ احد اُس کا بہترین دوست تھا اور نایاب اُس کے چچا کی بیٹی اور وہ دونوں اُس کے کلاس فیلوز بھی تھے اور شیر دل کے اس جنون سے واقف بھی لیکن شیردل کے ذہن میں جب ایک جاسوسی تنظیم بنانے کا خیال آیا تھا تو اُس نے اُن دونوں کو بھی مکمل طور پر بے خبر رکھا تھا۔ وہ اُس وقت تک شرلاک ہومز سے متاثر تھا مگر شرلاک ہومز کی طرح ایک بھی ساتھی رکھنے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا خیال تھا وہ سب خود کرسکتا تھا۔
    شاہین کا نام اُس نے اپنی دادی سے علامہ اقبال کے اشعار میں شاہین کا ذکر سن سن کر سوچا تھا۔ اُسے وہ پرندہ ، اُس کی پرواز اور اس سے منسلک شاعر مشرق کا ”فلسفۂ خودی” پسند تھا۔ شاہین بھی اکیلا اونچی پرواز کرتا اپنے ہدف پر جھپٹتا تھا اور شیر دل شیرازی بھی اُس ہی کی طرح تنہا اُس تنظیم کو چلانا چاہتا تھا جس کا اس وقت وہ بانی تھا۔
    گھر بیٹھے اُس نے خود ہی ایک دن شاہین کے اغراض و مقاصد لکھ لئے تھے۔ وہ تنظیم کیا کیا کرسکتی تھی اور کیسز حل کرنے کے لئے جو معاوضہ شاہین لیتی شیردل نے اُس کا بھی تعین کرلیا تھا۔ ایک ویب سائٹ بناکر اُس نے شاہین کے لوگو کے ساتھ یہ ساری معلومات وہاں پر چڑھادیں اور اپنا ای میل ایڈریس اور سکول میں ایک لاکر نمبر ایک pamphletپر ڈیزائن کرکے اُس نے سکول کے نوٹس بورڈ پر لگا دیا۔ ایک گھنٹہ میں ہی شاہین کا لفظ پورے سکول میں گردش کرنے لگا تھا اور نوٹس بورڈ کے نیچے بچوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تھا۔
    ”ہم سکول کے بچوں کے کیسز حل کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی جاسوسی تنظیم ہیں جس کی شاخیں عنقریب پاکستان بھر کے سکولوں میں کھولی جانے والی ہیں اور اس سکول میں شاہین کا ہیڈ کوارٹر کھولا جارہا ہے۔ ہمارے پاس جدید ترین جاسوسی کے آلات ہیں اور ٹیکنالوجی پر مہارت رکھنے کی وجہ سے ہم آپ کا کوئی بھی مسئلہ منٹوں میں حل کرسکتے ہیں۔
    شاہین آپ کی زندگی کو مسائل سے پاک وہ پرواز دے گی جس کے آپ اہل ہیں تو آئیں آج ہی اپنی ہر پریشانی اور مسئلے کے حل کے لئے ہم سے رابطہ قائم کریں۔” شیر دل جانتا تھا اُس نے اپنی تنظیم کا تعارف کرواتے ہوئے تھوڑی نہیں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا لیکن جھوٹ نہ بولنے پر یقین رکھنے کے باوجود اُس کا خیال تھا پروموشن کے لئے تھوڑا بہت مبالغہ ضروری تھا اور ویسے بھی وہ جو اُس pamphletمیں لکھ رہا تھا وہ ایک دن سب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔





    ”سنو، یہ شاہین ٹیم تم نے بنائی ہے نا؟” نایاب نے سکول میں اُس pamphlet کو پڑھتے ہی شیر دل سے پوچھا تھا۔ شیر دل نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”میں صرف اس آرگنائزیشن کا فوکل پرسن ہوں اور کچھ نہیں۔”
    ”جھوٹ مت بولو ، ویب سائٹ تم نے بنائی ہے۔” شیر دل بھونچکا رہ گیا۔
    ”تمہیں کیسے پتہ؟”
    ”گھر میں Networking ہے سارے کمپیوٹرز کی، تم رات کو بیٹھے یہ بنارہے تھے اور میں بھی دیکھ رہی تھی۔ ” نایاب نے بڑے اطمینان سے اُسے بتایا اور شیر دل دانت پیس کر رہ گیا تھا۔ نایاب اگر پروگرامر نہ ہوتی تو پھر ہیکر ہوتی، وہ کسی بھی کمپیوٹر کا پاس ورڈ بدل سکتی تھی۔ کسی بھی سسٹم اور سافٹ ویئر تک رسائی کر سکتی تھی۔ انٹر نیٹ پر موجود کسی بھی ویب سائٹ کے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کرنا اُس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ شیر دل کو پچھتاوا ہوا کہ اُس نے اس ویب سائٹ پر کام کرتے ہوئے Networking ختم کیوں نہیں کی۔
    ”اوکے! لیکن اب اپنا منہ بند رکھنا۔” شیر دل نے اعتراف کرنے کے ساتھ ہی اُسے دھمکایا۔
    ”صرف ایک صورت میں۔”نایاب نے فوراً کہا۔
    ”کیا ؟”
    ”اگر تم مجھے بھی اس میں شامل کرو۔ اپنے سیکنڈان کمانڈ کے طور پر۔” شیر دل ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اُسے دیکھتا رہا۔ اُس کے پلان آف ایکشن میں کوئی دوسرا ممبردور دور تک نہیں تھا مگر پھرمجبوراً اُس نے نایاب کو اپنا نائب بنانے کی حامی بھرلی۔
    ”ایسا کیا ہے جو تم شاہین کے لئے کرسکتی ہو؟” شیر دل نے اُس سے پوچھا ۔
    نایاب نے اطمینان سے کہا:
    ”بہت کچھ! اس کی ویب سائٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلق سارے کام کرسکتی ہوں جو تم بھی کرسکتے ہو لیکن تم ان میں میرا مقابلہ نہیں کرسکتے۔” وہ دھڑلے سے کہہ رہی تھی۔ شیر دل نے اُس کو ٹوکا نہیں۔ وہ سچ کہہ رہی تھی۔
    ”میں Archer ہوں تو کسی بھی مشن میں تمہیں میرے نشانے کی ضرورت پڑے گی اور میں جو ڈو کی بہترین کھلاڑی ہوں ۔ جتنا تمہیں جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے اُتنا ہی مجھے بھی ہے۔” وہ بتاتی جارہی تھی اور شیر دل سرکھجاتا سنتا جارہا تھا۔ وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ نایاب اپنے بڑے بھائی تیمور اور ماں باپ کے ساتھ اوپر والے فلور پر رہتی تھی۔ اُس کا بھائی میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا اور والد ایڈیشنل سیکشن جج۔
    شیر دل نیچے والی منزل پر اپنے ماں، باپ، دادی اور چھوٹی بہن خدیجہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اُس کا باپ ایک بینکر تھا اور ماں ایک بیکر۔
    ”اوکے! ٹھیک ہے مگر یہ سب راز رہے گا۔ کسی اور کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔” شیر دل نے اُس سے کہا تھا اور اس سے پہلے کہ نایاب کوئی جواب دیتی شیردل کو عقب سے اچانک احد کی آواز آئی۔
    ”تم اب مجھ سے بھی سب کچھ چھپایا کروگے؟” نایاب اور شیر دل جیسے کرنٹ کھا کر پلٹے تھے اور اُن کے عقب میں احد کمر پر دونوں ہاتھ رکھے بے حد غصّے سے کھڑا تھا۔
    احد شیر دل کا بہترین اور بچپن کا دوست تھا۔ اُس کی ماں ایک سول سرونٹ تھی اور باپ کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ شیردل کی ہی کالونی میں رہتا تھا۔
    ”اوہ! تم چھپ کر ہماری باتیں سنتے ہو۔” شیر دل نے اُسے ٹالنے کے لئے ناراض ہوکر کہا تھا۔
    ”میں کیوں چھپ کر سنوں گا میں تو ویسے ہی سب سُن سکتا ہوں۔ میرے کان اتنے باریک ہیں اور میں شاہین کا تیسرا ممبر ہوں۔” شیردل نے بے چارگی سے اُسے دیکھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اُس سے پہلے ہی احد نے اُسے پچکارتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھو تمہیں پتہ ہے میں کک باکسنگ میں کیا کیا کرسکتا ہوں اور غلیل سے میرا نشانہ نایاب کے تیروں سے بھی زیادہ اچھا ہے اور میں دُنیا کا سب سے بہترین map reader اور سیکیورٹی کیمروں کا ماہر ہوں۔ دُنیا کا ہر کیمرہ ہینڈل کرسکتا ہوں اور میرے پاس کتنے خفیہ کیمرے ہیں وہ بھی پتہ ہے تم لوگوں کو اور…”
    وہ ایک سانس میں بولتا چلا گیا اور اس سے پہلے کہ بولتا ہی چلا جاتا، شیردل نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا:
    ”اچھا اچھا! بس کلاس شروع ہونے والی ہے۔”
    ”تو پھر میں بھی آج سے ٹیم شاہین ہوں؟” احد نے اطمینان اسے اُس سے پوچھا اور شیردل نے جھنجھلا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا:
    ”میرے پاس کوئی چوائس ہے انکار کی؟”
    احد اور نایاب نے بے اختیار کیا۔ ”No۔”
    شیردل نے کندھے اُچکاتے ہوئے جیسے ہتھیار ڈالے۔ شاہین دو دنوں میں ون مین شو سے ٹیم بن گئی تھی۔






    …٭…