Tag: سلسلہ وار ناول

  • کی میکر ۔ الف نگر

    کی میکر ۔ الف نگر

    کی میکر

    حنا نرجس

    اوہ! چابی تو کمرے میں ہی رہ گئی۔ اب کیا ہوگا؟ پڑھیے ایک سبق آموز کہانی۔

    ”واہ ممّا! آپ کے ہاتھوں میں تو جادو ہے۔ آہا! کتنی خوب صورت لگ رہی ہے میری فراک ہے نا!” حرا نے واپس رکھتے ہوئے اپنی ماں کے ہاتھ چوم لیے۔

    یہ عالیہ کی مہارت تھی کہ اپنے جالی دار گلابی دوپٹے پر سفید اور گلابی لیس لگا کر حرا کا اتنا پیارا فراک سی ڈالا تھا۔ پہلی نظر میں کسی مہنگے برانڈ کے تیار کردہ فراک کا گمان ہوتا تھا۔ دونوں ماں بیٹی ابھی فراک دیکھ رہی تھیں کہ بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ بابا آ گئے تھے۔ حرا نے بہ مشکل ان کے کھانا کھانے تک انتظار کیا پھر وہی سوال کر دیا جس کے لیے وہ بابا کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔

    ”بابا! آپ مجھے پانچ سو روپے دے رہے ہیں نا؟”

    ”اوہ! ابھی نہیں بیٹا! اصل میں…” وہ کچھ کہتے کہتے رک گئے۔

    ”بابا! آپ کو پتا ہے! صبح آخری تاریخ ہے۔ کل ہر صورت پیسے جمع کروانے ہیں، ورنہ میرا نام ٹرپ پر جانے والے بچوں میں شامل نہیں ہو گا۔” حرا نے قدرے اُداس لہجے میں کہا۔

    ”میں کوشش تو کر رہا ہوں بیٹا! امید ہے ایک دو دن تک… بلکہ ٹیچر سے کہو کہ وہ تمہارا نام ٹرپ پر جانے والے بچوں میں شامل کر لیں۔ ہم سوموار تک پیسے جمع کروا دیں گے۔”

    ”سوری بابا! وہ ایسے نہیں مانیں گے۔ آپ مجھے صبح پیسے ضرور دے دیں۔ ممّا تو میرا فراک سی چکی ہیں اور گلابی جوتے میرے پاس پہلے ہی موجود تھے۔ ویسے بھی اب میں سب دوستوں کو بتا چکی ہوں۔ پلیز آپ…” یہ کہتے کہتے اُس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

    ”بیٹا! تم اللہ سے دعا کرو۔ وہ ضرور کوئی سبیل پیدا کر دے گا۔” بابا نے حرا کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔

    ”میں ضرور دعا کروں گی بابا!” حرا یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

    اپنے بستر پر آنکھیں موندے لیٹا کامل علی خود بھی دعا کر رہا تھا۔ وہ چابی بنانے کا ماہر یعنی ”کی میکر” تھا۔ خود تعلیم حاصل نہ کر سکا لیکن اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اُس نے حرا کو اپنی مالی حیثیت سے قدرے اونچے انگلش میڈیم اسکول میں داخل کروایا تھا۔ وہ تیسری جماعت کی طالبہ تھی۔ حرا بے جا ضد کرنے والی بچی نہیں تھی۔ وہ گھر کے حالات کو سمجھتے ہوئے اکثر اپنی خواہشات پر قابو پا لیا کرتی لیکن دو ہفتے قبل جب ٹیچر نے بچوں کے لیے ایک روزہ ٹرپ کا اعلان کیا تو حرا کا دل اُچھلنے لگا تھا۔

    ٭…٭…٭

    صارم اپنے ٹیوٹر سر طارق کو دروازے تک خدا حافظ کہہ کر اپنے کمرے کی جانب آیا۔ اس نے دروازے کا ہینڈل گھمایا: ”اوہ! چابی تو کمرے کے اندر ہی تھی اور دروازہ غلطی سے لاک ہوگیا۔ اب کیا ہوگا؟” صارم پریشان ہوگیا۔

    ”امی! امی! میرے کمرے کی چابی اندر ہی تھی لیکن دروازہ لاک ہو گیا؟ ابو کب آئیں گے؟” صارم امی کے کمرے کی طرف بھاگا۔

    ”تمہارے ابو کچھ دیر تک آجائیں گے لیکن تالا کھلوانے کے لیے تو کی میکر کو ہی بلوانا پڑے گا۔”

    ”اوہو! یہ سب آج ہی ہونا تھا۔ کل میرا ریاضی کا پیپر ہے۔ کیا کروں میں اب؟”

    ”کتابیں تو تمہارے ہاتھ میں ہیں۔ ایک رات کے لیے تم میرے کمرے میں سو جاؤ۔”

    ”لیکن میرا کیلکولیٹر اور یونیفارم بھی تو اندر ہی ہے۔” صارم نے روہانسے لہجے میں کہا۔

    ابو ذرا تاخیر سے گھر آئے تو صارم نے انہیں اپنی پریشانی سے آگاہ کیا۔ ”اوہ! اب تو کوئی ”کی میکر” بھی نہیں ملے گا۔ مارکیٹ بند ہوچکی ہے۔” صارم کے ابو نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا پھر انہوں نے صارم کو سونے کے لیے بھیج دیا۔

    ٭…٭…٭

    صبح صارم اور اُس کے ابو نمازِ فجر ادا کر کے راحیل صاحب کے گھر چلے آئے راحیل صاحب نے خوش دلی سے اُن کا استقبال کیا۔ صارم کے ابو نے اپنا مسئلہ بیان کیا:

    ”راحیل بھائی! مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک بار آپ کے چھوٹے بچے نے خود کو کمرے میں لاک کر لیا تھا اور پھر آپ کو تالا کھلوانے کے لیے کی میکر کو بلوانا پڑا تھا۔ کیا مجھے بتا سکتے ہیں وہ کی میکر کہاں ملے گا؟”

    "ہاں، کیوں نہیں بھئی! میں آپ کو اُس کا رابطہ نمبر دیتا ہوں۔” راحیل صاحب نے کی میکر کا نمبر انہیں دے دیا۔

    اِدھر کامل علی مسجد سے نماز پڑھ کر نکلا ہی تھا کہ اُس کے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔ دوسری جانب اسے کوئی اپنا مسئلہ بتا رہا تھا۔ ”جی! جی میں حاضر ہوتا ہوں جناب!” کامل نے یہ کہہ کر فون بند کردیا پھر گھر آکر اپنے اوزار لیے باہر نکل گیا۔ اِدھر حرا کی ممّا اسے اسکول کے لیے جگا رہی تھیں۔

    کامل اپنے کام میں ماہر تھا۔ چند منٹ میں ہی اُس نے صارم کے کمرے کا لاک کھول دیا۔ یہ دیکھ کر صارم کی جان میں جان آگئی۔ ابو نے ”کی میکر” کا شکریہ ادا کیا اور بتائی گئی اُجرت سے کچھ زیادہ رقم دیتے ہوئے کہا:

    ”آپ نے صبح سویرے میری مشکل حل کردی۔ آپ کا بہت شکریہ۔”

    ٭…٭…٭

    بابا گھر پہنچے تو حرا بے دِلی سے اسکول کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ چہرے پر افسردگی کے آثار واضح تھے۔ کامل کو اُس کی روٹھی شکل پر بہت پیار آیا۔ اُس نے آگے بڑھ کر حرا کے ماتھے پر پیار کیا اور اُسے پانچ سو روپے تھما دیے۔ یہ دیکھ کر حرا تو حیران ہی رہ گئی۔

    ”بابا! کیا یہ اصلی ہیں؟” حرا کے اِس سوال پر بابا مسکرا دیے۔

    ”بیٹا! تم نے دعا کی تھی نا! بس اللہ نے آپ کی دعا قبول کر لی اور صبح سویرے مجھے ایک کام دے دیا۔ ایک بچے کا کمرہ لاک ہو گیا تھا، وہ کھولنا تھا۔ اور پتا ہے کیا؟ وہ بچہ بہت پریشان تھا۔ مجھے یقین ہے کہ اُس نے بھی تمہاری طرح دعا کی ہو گی اور دُعا نے چابی کا کام کیا۔ اللہ نے دونوں کا مسئلہ حل کر دیا۔”

    حرا کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا۔ وہ بے اختیار پکار اٹھی: ”تھینک یو اچھے اللہ میاں! اور بابا جانی! آپ کا بھی بہت شکریہ۔”

    ٭…٭…٭

    آرٹ بریف

    ایک سادہ سے گھر کا منظر جہاں بارہ سالہ حرا کی 40 سالہ ماں اُس کو گلابی رنگ کا فراک دکھا رہی ہے۔ قریب ہی 44 سالہ کامل صاحب گھنی مونچھیں ہلکی ڈاڑھی والے۔ کچھ پریشان سے کھڑے ہیں۔

    ایک عالی شان گھر کا منظر۔ جہاں پندرہ سالہ صارم اپنے کمرے کے باہر پریشان کھڑا ہے اور اپنی امی کو کچھ بتا رہا ہے۔ ساتھ اس کی 38 سالہ مما حیرانی سے کمرے کا لاک دیکھ رہی ہیں۔

    ٭…٭…٭

  • عید مِلن پارٹی ۔ الف نگر

    عید مِلن پارٹی ۔ الف نگر

    عید مِلن پارٹی

    ساجدہ غلام محمد

    اتنے غباروں کا کیا کریں گے صاحب؟ وہ آدمی حیران تھا۔ پڑھیے عید کے حوالے سے خاص کہانی!

    ”کیا ہوا؟ کیا آج پھر کوئی نہیں آیا کھیلنے؟” امی نے عماد کا اُداس چہرہ دیکھ کر پوچھا۔

    ”جی امی! پتا نہیں یہاں بچے گرائونڈ میں جا کر کیوں نہیں کھیلتے۔ امی! ہم اس کالونی میں کیوں آگئے ہیں؟پرانی جگہ اچھی تھی، وہاں میرے دوست تھے اور ہم روز مل کر کھیلتے تھے۔” عماد کے لہجے میں افسردگی تھی۔

    ”بیٹا! آپ کے ابو جی کو یہاں جاب مل گئی اس لیے ہم یہاں آگئے۔ آؤ میں آپ کے ساتھ کھیلتی ہوں۔” امی نے اسے بہلانا چاہا۔

    ”امی جی! کیا میری عید بھی ایسے ہی گزرے گی؟ اکتاہٹ والی!” عماد زیادہ ہی اُداس تھا۔ امی اُس کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔

    ”اکتاہٹ کیوں؟ میرے پاس ایک ترکیب ہے، کیوں نہ ہم عید پر آپ کے تمام کلاس فیلوز کی دعوت کریں؟”

    ”دعوت؟ میرے کلاس فیلوز کی؟” عماد نے حیرت سے امی کی جانب دیکھا۔

    ”جی ہاں! آپ کے تین کلاس فیلوز اسی گلی میں رہتے ہیں نا! ہم مل کران سب کے لیے کارڈز بناتے ہیں،دعوتی کارڈز! آپ کل اسکول میں انہیں دے دینا اور کہنا کہ کسی کاغذ پر اپنی ایک نمکین اور ایک میٹھی ڈش کے نام بھی لکھ دیں۔” امی نے عماد کو تفصیل بتائی تو وہ خوش ہوگیا۔

    ٭…٭…٭

    ”میں اپنے گھر میں آپ تینوں کی عید پارٹی کر رہا ہوں۔ آپ لوگ ضرور آنا۔” اگلے دن عماد نے اپنے ہاتھ سے بنے خوب صورت کارڈز دوستوں کو دیے تو حیرت اور خوشی سے سبھی کی آنکھیں پھیل گئیں۔

    ”بہت خوب صورت کارڈز ہیں۔ تمہاری ڈرائنگ تو بہت ہی پیاری ہے۔” صائم نے ستائشی لہجے میں کہا تو عماد مسکرا دیا۔

    ”میں تو ضرورآئوں گا۔ آنٹی کیا کیا بنائیں گی؟” کھانے کے شوقین حسن نے شرارت سے پوچھا تو عماد فوراً بولا: ”ارے ہاں! یاد آیا۔ آپ سب مجھے اپنے پسندیدہ کھانوں کے نام تو بتائیں ذرا! پھر امی مینو بنائیں گی۔ سرپرائز مینو ہوگا ان شاء اللہ!” اس نے لہجے کو پراسرار بناتے ہوئے آنکھیں گھمائیں تو صائم، حنان اور حسن اس بات پر ہنس دیے۔

    ٭…٭…٭

    ”عید مبارک!”

    ”عید مبارک!” 

    عید کی نماز کے بعد عماد اور اُس کے ابو جی ڈرائنگ روم کو رنگ بہ رنگ غباروں سے سجانے لگے۔

    ”ارے واہ! آپ دونوں نے مل کر کمرے کو بہت پیارا سجایا ہے۔” کچھ دیر بعد امی کمر ے میں آئیں تو بے اختیار کہہ اٹھیں۔

    ”آج ہمارے بیٹے کی عید پارٹی جو ہے۔ پہلی بار اِس کے دوست آرہے ہیں۔” ابو جی نے ایک دیوار پرٹیپ سے غبارہ چپکاتے ہوئے کہا تو عماد مسکرا دیا۔

    دوپہر کو حنان، حسن اور صائم اس کے گھر آگئے۔

    اسی وقت عماد کی امی ٹھنڈا ٹھنڈا ، مزے دار دودھ سوڈا لے آئیں۔

    ”پہلے کھیلنا ہے یا کھانا ہے؟” انہوں نے ٹرے میز پر رکھتے ہوئے پوچھا۔

    ”پہلے کھانا ہے!میں نے تو صبح سے بس سویاں کھائی ہیں۔ سوچا تھا عماد کے گھرجا کر دعوت کھاؤں گا۔” حسن نے جواب دیا تو سبھی ہنس پڑے ۔ کچھ ہی دیر میں کھانے کی میزسب کی پسندیدہ ڈشوں سے سجی ہوئی تھی۔

    ”تھینک یو آنٹی! یہ بہت مزے کا ہے۔” حنان نے پیزے کا پہلا لقمہ لیتے ہوئے کہا۔

    ”واؤ، برگرز!” حسن کی پسندیدہ ڈش بھی میز پر موجود تھی۔

    ”بھئی میں نے فرائیڈ چکن لکھا تھا۔” صائم نے میز پر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا۔

    ”وہ بھی ملے گا بچو! پہلے یہ چیزیں تو کھاؤ نا! امی نے محبت سے کہا تو صائم نے جھینپ کر ایک برگر اپنی پلیٹ میں رکھ لیا۔ سب نے خوب ہلّا گلّا کرتے، ہنستے ہنساتے کھانا کھایا۔ کھانے کے دوران عماد کے ابو نے لطیفوں کا مقابلہ کروایا۔ سب نے مزے مزے کے لطیفے سنائے۔ حنان نے کچھ مشہور لوگوں کی پیروڈی کی تو سب نے خوب لطف اٹھایا۔ کھانے سے فارغ ہو کر وہ قالین پر بیٹھ گئے۔ اب ایک نیا کھیل شروع ہونے والا تھا۔

    ”بچو! یہ ایک ڈبّا ہے۔ جیسے ہی میں ہلکا سا میوزک چلاؤں تو آپ نے یہ ڈبّا ایک دوسرے کی طرف بڑھانا ہے۔ جس بچے پر میوزک بند ہو گا، وہ ڈبّے کا ریپر اتارے گا اور اندر سے نکلنے والی چیز اس کی ہوگی۔” امی نے ہدایات دیں تو سبھی پُرجوش ہو کر بیٹھ گئے۔

    ”یہ تو pass the parcelگیم ہے۔ ہم کزنز مل کر خوب کھیلتے ہیں۔” حسن نے ڈبّا صائم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ اچانک میوزک بند ہوا، تب صائم کی باری تھی۔ اُس نے ریپنگ پیپر اتارا۔

    ”اوہ! اس کے اندر تو پین ہے۔” صائم نے منہ بناتے ہوئے پین کھولا تو اچانک پٹاخے کی آواز آئی اور چاروں بچے اچھل پڑے۔ یہ پٹاخے والا کھلونا پین تھا۔ سب بچے ہنسنے لگے۔ پین کے ساتھ ایک چاکلیٹ بھی تھی۔ صائم نے فوراََ ریپر اتارا۔

    دوبارہ میوزک شروع ہوا، توبچوں نے ایک بار پھر ڈبّا ایک دوسرے کی طرف بڑھانا شروع کر دیا۔ اس بار ڈبّا عماد کے ہاتھ میں آیا تو اس نے ریپر اتارا۔ اندر ایک پرچی تھی جس پر لکھا تھا:

    ”ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر پورے کمرے کا چکر لگائیں۔” عماد نے ایک ٹانگ پر اچھلتے کودتے کمرے کا چکر لگایا تو بچوں کے قہقہے چھوٹ گئے۔ انعام میں اسے بھی چاکلیٹ ملی۔ حسن کے حصے میں کوئی مشہور ملی نغمہ گانا تھا اور حنان نے خوانچہ فروش بننا تھا۔ سبھی بچے اس کھیل سے خوب لطف اندوز ہوئے۔

    ”چلو اب باہر صحن میں کھیلتے ہیں۔” ابو جی نے کہا تو سب فوراََ باہر کی طرف لپکے۔ وہاں ابو جی نے پہلے سے پلاسٹک کے کچھ چمچ اور آلو رکھے ہوئے تھے۔

    ”آلو چمچ ریس!!” بچوں نے فوراََ اندازہ لگا لیا تھا۔ کچھ ہی دیر میں چاروں دوست اپنے اپنے منہ میں چمچ دبائے، ایک آلو کو اس چمچ پر رکھ کر ریس لگا رہے تھے۔ ریس کے آغاز ہی میں صائم کے چمچ سے آلو گر گیا جب کہ حنان کے چمچ والا آلو عین اس وقت گرا جب وہ جیتنے والی لائن کے پاس تھا۔

    ”میں جیت گیا! میں جیت گیا!” حسن ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں آلو لہراتا ہوا خوشی سے اچھلنے لگا۔

    ”ارے! آج عید کا دن ہے، آج کوئی جیت ہار نہیں ہے۔ آج تو بس خوشیاں ہی خوشیاں ہیں۔” امی جی نے سب بچوں کو چپس کا ایک ایک پیکٹ پکڑاتے ہوئے کہا تو شکریہ کہہ کر سب مسکرا دیے۔

    ”جی ہاں آنٹی! ہمیں بہت مزا آرہا ہے۔” صائم نے چپس منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔

    ”بس اب جلدی جلدی چپس ختم کرو پھر ہم پٹّھو گرم کھیلیں گے۔” ابو جی بولے۔ واقعی کچھ دیر بعد پورا گھر پٹّھو گرم پٹّھو گرم کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ اتنی دیر میں عماد کی امی باہر صحن میں ہی ایک ٹرے میں گرما گرم فرائیڈ چکن لے آئیں۔

    ”یاہو!” صائم نے بے اختیار نعرہ لگایا۔ چکن فرائیڈ کھاتے ہوئے سب بچوں نے اپنے پسندیدہ کارٹون دیکھے، ساتھ ساتھ وہ ہنسی مذاق بھی کیے جارہے تھے۔

    ”اور اب میری پسندیدہ آئس کریم کی باری ہے نا؟” عماد نے امی سے پوچھا تو وہ ہنس پڑیں۔

    ”جی ہاں! آج عید ہے اس لیے مزے کرو۔”

    کرکٹ، میوزیکل چیئرز اور دوسرے کھیل کھیلتے اندازہ ہی نہ ہوا کہ کب مغرب کا وقت قریب آپہنچا۔ اچانک ہی گلی میں ایک غبارے والے کے باجے کی آواز آئی۔

    ”امی جان! آج تو عید کا دن ہے، آج بھی یہ آدمی غبارے بیچ رہا ہے؟” عماد کے لہجے میں تعجب تھا۔

    ”بیٹا! ان غریبوں کو ہر روز کام کرنا پڑتا ہے، تبھی ان کے پاس پیسے آتے ہیں اور کھانا پکتا ہے۔” عماد کے ابو جی نے جواب دیا۔ صائم نے گیٹ کھول کر باہر جھانکا۔ غبار وں والا آدمی قریب آچکا تھا۔

    ”بات سنو!” اس نے سب دوستوں کو بلایا پھر چاروں میں کھسر پھسر شروع ہو گئی۔ عماد کی امی نے حیرت سے عماد کے ابو کی جانب دیکھا لیکن انہوں نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

    ”انکل! ہم اپنی عید ی سے کچھ حصہ اِس آدمی کو دینا چاہتے ہیں۔” حنان نے جھجکتے ہوئے عماد کے ابو جی سے کہا تو وہ بے اختیار مسکرا دیے۔

    ”ماشاء اللہ! یہ تو بہت پیاری سوچ ہے بچو! ماشاء اللہ! عید ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ غریبوں کا بھی احساس کیا جائے اور اپنی خوشیوں میں انہیں بھی شریک کیا جائے۔” ابو نے خوشی بھرے لہجے میں بچوں کی جانب دیکھ کر کہا۔ جیسے ہی غباروں والا آدمی قریب آیا، ابو نے اُسے پیسے دے کر سارے غبارے خرید لیے۔

    ”اتنے غباروں کا کیا کریں گے صاحب؟” اس آدمی کی آنکھوں میں خوشی نظر آرہی تھی۔

    ”کسی کو تحفے میں دینے ہیں۔” ابو جی نے مسکرا کر کہا اور پھر سارے غبارے اسی کو واپس پکڑا دئے۔

    ”یہ لو! ہماری طرف سے عید کا تحفہ!اب تم چاہو تو انہیں بیچ دو، چاہو تو اپنے گھر لے جاؤ، تمہارے بچے کھیل لیں گے۔” ابو جی نے کہا تو وہ آدمی حیرت سے اِن کی جانب دیکھنے لگا۔

    ”ارے حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان بچوں نے اپنی عیدی کے پیسوں سے یہ غبارے خریدے اور بطور تحفہ تمہیں لوٹا دیے۔ اتنے سارے غباروں کا ہم کیا کریں گے۔” ابو نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ سب کو دعائیں دیتا خوشی خوشی اپنی راہ چل دیا۔ جاتے ہوئے امی نے اس کے لیے کھانے پینے کا کچھ سامان بھی لفافے میں ڈال دیا تھا۔ حنان، صائم، حسن اور عماد بہت خوش تھے۔ ابھی وہ گیٹ بند کرنے ہی لگے تھے کہ حسن کے ابو کی گاڑی سامنے آ کر رکی۔

    ”چلیں عبداللہ صاحب! اپنی گاڑی نکالیں ۔ آؤ بھئی بچو! بیٹھو گاڑی میں! ہم سب مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد واٹر پارک جا رہے ہیں۔” یہ سن کر تمام بچے خوشی سے اچھل پڑے۔ عماد کے ابو مسکراتے ہوئے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئے۔

    واٹر پارک میں پانی کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتے ہوئے سبھی بچے بہت خوش تھے۔

    ”انکل! آج سے پہلے کبھی ہماری عید اتنی اچھی نہیں گزری، بہت مزا آرہا ہے۔”

    ”بیٹا جی! عید تو اپنوں کے سنگ ہنس کھیل کر، مل بیٹھ کر اور دوسروں کی مدد کرکے گزارنے کا نام ہے۔”

    ”جی! یہی تو اصل خوشیاں ہیں۔” سب بچوں نے ایک ساتھ کہا پھر وہ واپسی کی تیاری کرنے لگے۔

    ٭…٭…٭

  • حقیقی دوستی ۔ الف نگر

    حقیقی دوستی ۔ الف نگر

    حقیقی دوستی

    ارم عبدالرزاق

    خرگوش جج نے ایسا فیصلہ سنایا کہ بکری حیران ہی رہ گئی۔ ایک سبق آموز کہانی۔

    پیارے بچو! کسی علاقے میں ایک ہرا بھرا جنگل تھا۔ جہاں تمام جانور اتفاق سے رہتے تھے۔ سب مل جل کر کھاتے پیتے اور کوئی جھگڑا نہ کرتے۔ جنگل کے جانوروں نے اپنے لیے ایک عدالت بھی قائم کررکھی تھی تاکہ اگر کسی کا کوئی جھگڑا ہو تو اس عدالت سے فیصلہ کروایا جاسکے۔ عدالت کا جج ایک بوڑھا خرگوش تھا۔

    خرگوش کافی سمجھ دار تھا۔ اُس نے جانوروں کے لیے جنگل میں گھاس کے الگ الگ حصے مقرر کررکھے تھے تاکہ ہر جانور اپنے حصے سے گھاس کھائے۔ اسی طرح گوشت کھانے والے جانوروں کے علاقے بھی تقسیم کردیے تھے۔

    اسی جنگل میں ایک بکری اور ایک ہرنی بھی رہتی تھیں۔ دونوں میں گہری دوستی تھی۔ ہرنی بہت شریف جب کہ بکری کچھ شرارتی تھی۔ وہ کبھی کبھار شرارت سے دوسرے جانوروں کا حصہ بھی ہڑپ کرجاتی۔ ہرنی اسے سمجھاتی مگر بکری باز نہ آتی۔

    ایک دن بکری نے بھینس کے حصے میں جاکر گھاس چرنا شروع کردی۔ بھینس نے دیکھا تو غصے سے آگ بگولہ ہوگئی: ”ارے بکری بی! یہ میرا علاقہ ہے یہاں تمہیں گھاس چرنے کی اجازت نہیں ہے۔” بھینس نے بکری کو گھورتے ہوئے کہا لیکن بکری پر اثر نہ ہوا۔

    ”اری بھینس بہن! بس تھوڑی دیر ہی تو کھاؤں گی۔” یہ کہہ کر بکری دوبارہ چرنے لگی۔ بھینس روتی پیٹتی خرگوش کی عدالت میں جاپہنچی۔

    ”حضور! مجھے انصاف دلائیں۔ بکری نے میرے حصے کی گھاس کھائی ہے۔” بھینس نے عدالت میں جاکر شکایت لگائی تو خرگوش نے کوئل کے ذریعے بکری کو طلب کرلیا۔ اب بکری سر جھکائے بوڑھے خرگوش کے سامنے کھڑی تھی۔ پھر کچھ دیر بعد اُس نے زبان کھولی: ”حضور! میں نے بھینس کے حصے کی گھاس نہیں کھائی۔” بکری کی بات پر سب جانور حیران رہ گئے۔ چناں چہ خرگوش نے گواہی کے لیے ہرنی کو طلب کرلیا۔ بکری خوش ہوگئی۔ اسے یقین تھا کہ ہرنی اس کی دوست ہے اس لیے وہ میرے ہی حق میں گواہی دے گی لیکن یہ اس کی خوش فہمی تھی۔

    ہرنی نے خرگوش جج کے سامنے بیان دیا: ”حضور! بکری نے بھینس کی گھاس کھائی ہے، میں نے خود دیکھا تھا۔” اپنی دوست ہرنی کے اس بیان پر بکری حیران رہ گئی۔ اُسے رہ رہ کر ہرنی پر غصہ آرہا تھا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ چناں چہ خرگوش نے بکری کو سزا سنائی کہ ایک ہفتے تک بکری والا گھاس کا حصہ بھی بھینس کے قبضے میں رہے گا اور بکری بھوکی رہے گی۔ یہ سنتے ہی بکری کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔

    بوڑھے خرگوش نے دو کتوں کو حکم دیا کہ باری باری وہ بکری کی نگرانی کریں تاکہ وہ اپنے اور بھینس والے حصے میں گھاس کھانے نہ جاسکے۔

    اِس فیصلے کے بعد بوجھل قدموں سے بکری عدالت سے باہر آئی۔ اسے شدید بھوک لگ رہی تھی مگر اب وہ کچھ کھا نہیں سکتی تھی۔ یوں ہی بھوک پیاس میں پورا ایک دن گزر گیا۔ غصے میں آکر بکری نے ہرنی سے دوستی بھی ختم کرلی تھی۔ جب دوسرے دن کا آغاز ہوا تو بھوک کی وجہ سے بکری سے چلا نہیں جارہا تھا۔ دوپہر تک اُس کی حالت بہت خراب ہوگئی۔ وہ بے ہوش ہونے کو تھی کہ دور سے اُسے ہرنی آتی دکھائی دی۔ غصے سے بکری نے ہرنی کو دیکھا لیکن ہرنی مسکرا رہی تھی۔

    ”پیاری بہن بکری! کیسی ہو؟” ہرنی نے قریب آکر کہا مگر بکری نے منہ دوسری طرف پھر لیا۔

    ”بکری بہن! تمہیں معلوم ہے کہ قصور تمہارا ہی تھا۔ میں تمہیں سمجھاتی رہی لیکن تم نے بات نہ مانی۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تمہاری دوست نہیں ہوں بلکہ میں تمہاری خیر خواہی چاہتی تھی کیوں کہ بِلاوجہ کسی کا حق مارنا ظلم ہے۔” ہرنی نے کہا لیکن بکری پھر بھی دوسری طرف منہ کیے خاموش رہی۔ ہرنی دوبارہ بولی: ”مجھے معلوم تھا کہ جھوٹی گواہی دینا اچھی بات نہیں۔ اِس لیے میں نے وہاں سچ بولا۔ پیاری بہن! میں تمہیں بھوکا نہیں دیکھنا چاہتی۔ یہ دیکھو! تمہارے لیے کیا لائی ہوں۔” یہ کہہ کر ہرنی نے گھاس والی گٹھڑی اس کی طرف اچھال دی پھر خود وہاں سے چلی گئی۔

    بکری بھوک سے نڈھال تھی۔ اُس نے تازہ اور ہری بھری گھاس دیکھی تو فوراً اِس پر ٹوٹ پڑی۔ گھاس چرتے ہوئے وہ سوچنے لگی کہ ہرنی بی نے ٹھیک ہی کہا ہے۔ قصور تو میرا اپنا تھا لیکن ہرنی نے اپنا حق ادا کیا پھر اپنے حصے سے میرے لیے چارہ بھی لائی۔ حقیقی دوستی تو یہی ہے۔ یہ سوچ کر بکری نے گھاس ختم کی اور معافی مانگنے ہرنی کی طرف چل پڑی۔

    ٭…٭…٭

  • چل میرے بادل! ۔ الف نگر

    چل میرے بادل! ۔ الف نگر

    الف لیلٰہ مقابلے میں دوسری انعام یافتہ کہانی

    چل میرے بادل!

    سارہ قیوم

    ایک تھا بادل، نرم نرم جیسے روئی کا کوئی گالا! اُس میں اتنا پانی بھرا ہواتھا کہ بے چارے سے چلا نہ جاتا تھا۔ وہ چپ چاپ آنکھیں موندے آسمان میں کھڑا تھا۔ ہوا اِس لہرا تے ہوئے بادل کے پاس سے گزری تو بادل کی چیخ نکل گئی۔

    ”اُف!!! مجھے نہ چھیڑو۔ مجھ میں اتنی بارش ہے کہ جسم درد کررہا ہے۔” بادل نے کراہ کر کہا۔

    ”ارے تم اپنی بارش کہیں برسا دو۔” ہوا کو بادل پر بڑا ترس آیا۔ 

    ”کیسے برسائوں؟ دیکھو نیچے سمندر ہے۔ میں یہاں بارش برسائوں گا تو سمندر غصے سے پھر میرے اندر ڈھیر سارا پانی بھر دے گا۔” بادل اُداس ہو کر بولا۔  آخر ہوا کو ایک ترکیب سوجھی۔ وہ بولی:

    بادل بھائی! ”میں تمہیں سہارا دے کر لیے چلتی ہوں جہاں بارش کی ضرورت ہوئی تم وہاں برسنا۔ ہمت ِ بادل، مددِ ہوا۔” ہوا نے بادل سے کہا۔ ”ارے نہیں بلکہ یوں کہو: ہمت مرداں، مددِ خدا۔” بادل نے کہا تو ہوا مسکرا دی۔ آخربادل نے ہوا کی بات مان لی اور دونوں آہستہ آہستہ چلنا شروع ہوئے۔ چلتے چلتے وہ ایک ہرے بھر ے میدان کے اُوپر جاپہنچے۔

    ”کیا یہاں برس جائوں؟” بادل نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔

    ”یہاں نہیں ذرا نیچے تو دیکھو۔” ہوا بولی۔

    بادل نے نیچے نظر ڈالی تو دیکھا کہ میدان میں میلہ لگا ہوا ہے۔ لوگ رنگ برنگ کپڑے پہنے خوشی خوشی سیر سپاٹا کررہے ہیں۔ کھانے پینے کے اسٹال لگے ہوئے ہیں۔ کہیں کھیل تماشے ہو رہے ہیں تو کہیں کرتب دکھائے جا رہے ہیں۔ ایک طرف بچے جھولا جھول رہے ہیں۔

    ہوا نے کہا: ”اگر تم نے یہاں بارش برسا دی تو سارا میلہ برباد ہو جائے گا۔ لوگوں کی خوشیوں پر پانی پِھر جائے گا۔”

    ”اچھا! تو پھر چلو آگے چلیں۔” بادل نے ٹھنڈی سانس بھری۔ کچھ دیر بعد دونوں دوسرے شہر کے اوپر پہنچے۔ ”بس بھئی اب اور نہیں چلا جاتا۔ مجھے یہیں برس جانا چاہیے۔” بادل نے تھک کر کہا۔

    ”ذرا نیچے تو دیکھو۔” ہوا نے کہا۔ بادل نے دیکھا کہ ایک شہر ہے جہاں بہت سی سڑکیں اور عمارتیں بن رہی ہیں اور جگہ جگہ زمین کُھدی ہوئی ہے۔ بادل سوچ میں پڑ گیا۔ ”میں یہاں نہیں برسوں گا۔” ”ورنہ گڑھوں میں پانی بھر جائے گا اور کیچڑ سے لوگ پھسل کر گریں گے۔” اُس نے فیصلہ کیا۔

    ہوا یہ سُن کر بہت خوش ہوئی اور دوبارہ بادل کو سہارا دے کر آگے لے گئی۔ تھوڑی دیر بعد دونوں ایک گائوں کے اوپر پہنچے۔ بادل نے دیکھا کہ گاؤں میں کھیت سوکھے پڑے ہیں۔ ندی میں پانی ختم ہوچکا ہے۔ لوگ اور جانور پیاسے ہیں۔ جب بادل کا سایہ گائوں پر پڑا تو بچے، مرد اور عورتیں سب گھروںسے نکل آئے۔ وہ سب سر اُٹھا کر بادل کی طرف دیکھنے اور بارش کی دعائیں کرنے لگے۔

    ”آہا! یہاں میری ضرورت ہے۔” بادل خوش ہوا تو ہوا بھی مُسکرا کر بولی:

    ”چل میرے بادل… بسم اللہ!”

    ہوا کا اشارہ پاکر بادل نے پانی کا پہلا قطرہ ٹپکایا پھر دوسرا اور تیسرا… یوں دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ لوگ خوشی سے جُھومنے لگے۔ پودے بارش میں نہا گئے۔ ندی پانی سے بھر گئی۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے چلنے لگے۔ درخت جھوم اُٹھے اور پتے تالیاں بجانے لگے۔ ہر طرف خوشیاں بکھر گئیں۔ بادل ہلکا پھلکا ہو کر اِدھر اُدھر اُڑتے ہوئے ہوا کے ساتھ کھیلنے لگا۔

    ”اب تم سمجھے میرے پیارے بادل! دنیا کی سب سے بڑی خوشی دوسروں کے کام آنے میں ہے۔” ہوا نے اُسے اچھالتے ہوئے کہا تو بادل نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔

    ٭…٭…٭

  • عقل مند چڑیا ۔ الف نگر

    عقل مند چڑیا

    شبینہ گل

    پرندے یہاں آکر بسیرا کرنے لگے تو تم بھوکے مروگے۔ پڑھیے ایک خوب صورت کہانی!

    جامن کا وہ سرسبز درخت بہت گھنا اور اونچا تھا۔ اِس کی جڑ میں سفید خرگوش نے اپنا گھر بنا رکھا تھا۔درخت کے پہلے ہی تنے میںایک گلہری نے سوراخ کرکے رہنے کے لیے ایک کھوہ سی بنالی تھی۔ اِس سے اوپر ایک موٹی شاخ پر میاں مٹھو اور سب سے اوپر آخری شاخ پر کوے نے اپنا گھونسلہ بنا رکھا تھا۔ یہ چاروں دوست آپس میں مل جل کر رہتے اور دُکھ سُکھ میں ایک دوسرے کے کام آتے۔ وہ میٹھی جامنوں سے اپنا پیٹ بھرتے پھر کہیں گھومنے نکل جاتے اور شام گئے واپس آتے۔

    ایک دن وہ سب سیر کو جانے لگے تو اچانک کوے کی طبیعت خراب ہوگئی۔ شاید اُسے بخار تھا۔ اُس کی حالت دیکھ کر گلہری کہنے لگی :

    ”کوے بھائی! تم آج گھر پر ہی آرام کرو۔ ہم تمہارے لیے گرم سُوپ لے آئیں گے۔” یہ بات سن کر کوا اپنے گھونسلے میں چلا گیا جب کہ گلہری، خرگوش اور طوطا مل کر سیر کو نکل گئے۔

    کچھ دیر تو کوا گھونسلے میں آرام کرتا رہا جب ذرا دل گھبرایا تو درخت کی نچلی شاخوں پر آبیٹھا۔ اچانک اُس کی نگاہ زمین پر گئی جہاں ایک زخمی چڑیا کراہ رہی تھی۔ کوا اُسے دیکھ کرنیچے اتر آیا۔

    ”کہاں سے آئی ہو بی چڑیا ؟” کوے نے پوچھا تو زخمی چڑیا نے اپنا حال بتانا شروع کیا:

    ”بھائی کوے! کچھ شرارتی بچوں نے مجھے پتھر مار کر زخمی کردیا ہے۔ میں بہت تکلیف میں ہوں، یہ جامن کا درخت مجھے اچھالگا تومیں نے اب یہیں رہنے کا ارادہ کیا ہے۔” چڑیا کی بات سن کر کوا غصہ میں آگیا ۔

    ”نہیں چڑیا بی! یہاں تمہیں کوئی نہیں رہنے دے گا۔” کوا بے چاری چڑیا کو ڈانٹنے لگا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر چڑیا نے یہیں رہنے کا فیصلہ کرلیا تو جامن تیزی سے ختم ہوجائیں گے۔ چڑیا نے بہت منت کی لیکن کوے نے ایک نہ سنی بے چاری چڑیا مشکل سے خود کو گھسیٹ کر وہاں سے جانے لگی لیکن اگلے ہی قدم پر اوندھے منہ گرگئی۔اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

    اچانک دور سے اُسے طوطا، گلہری اور خرگوش آتے دکھائی دیے۔ آج وہ وقت سے پہلے ہی لوٹ آئے تھے۔ انہوں نے زخمی چڑیا اور کوے کو دیکھا پھر ساری کہانی معلوم کرنے کے بعد تینوں نے کوے کو دیکھا۔ آخر طوطا بولا: ”کوے بھائی! یہ درخت تو ہمیں اللہ نے دیا ہے۔ ہم اس پر کسی کو گھر بنانے سے کیسے روک سکتے ہیں؟”

    کوا غصّے سے بولا: ”اگر دوسرے پرندے یہاں بسیرا کرنے لگے تو تم لوگ بھوکے مرو گے۔”

    ”رزق دینے والی اللہ کی ذات ہے۔” گلہری نے کہا تو خرگوش نے بھی اپنا فیصلہ سُنا دیا:

    ”آج سے چڑیا ہماری دوست ہے، جب تک یہ اُڑ نہیں سکتی، میرے گھر میں رہے گی۔ 

    کوے کو یہ بات پسند نہ آئی مگر وہ خاموش رہا۔ اِدھر طوطے، چڑیا اور خرگوش نے مل کر چڑیا کی مرہم پٹی کی تو اگلے دن تک چڑیا اچھی بھلی ہوگئی لیکن ابھی اُسے آرام کی ضرورت تھی۔

    ”بی چڑیا! ابھی تمہیں مزید سکون کی ضرورت ہے۔ تم اسی درخت پر آرام کرو، ہم تمہارے لیے کچھ کھانے کو لے آئیں گے۔” گلہری نے چڑیا سے کہا۔ اس کے بعد کوے سمیت وہ سب چڑیا کو درخت پر چھوڑ کر سیر کو نکل گئے۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ درخت کی اوپر والی شاخ سے کوے کے بچوں کی چیخنے کی آواز آئی: ”کائیں، کائیں، کائیں” وہ مسلسل چیخ رہے تھے۔ چڑیا اُڑتی ہوئی بچوں کے پاس پہنچی تو حیران رہ گئی۔ گھونسلے کے قریب ایک کالا سانپ کوے کے بچوں گھور رہا تھا۔ چڑیا یہ دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ چاہتی تو اُڑ کر کہیں چلی جاتی اور اپنی جان بچا لیتی مگر کوے کے بچے بہت چھوٹے تھے۔ وہ ابھی اُڑنا بھی نہیں جانتے تھے اور چڑیا انہیں سانپ کا لقمہ بنتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔

    آخر چڑیا کو ایک ترکیب سُوجھی۔ اُس نے کانٹوں بھری ایک ٹہنی اُٹھائی سانپ کی دُم پر چبھو دی۔ ایک دم سانپ تکلیف سے دہرا ہوگیا اور اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے درخت سے نیچے جاگرا۔ چڑیا نے جلدی سے کوے کے بچوں کو درخت کی ٹہنیوں میں چھپا دیا۔

    اِدھر جب کوا، خرگوش، طوطا اور گلہری واپس آئے تو انہوں نے سہمی ہوئی چڑیا کو کوے کے گھونسلے کے پاس بیٹھے دیکھا۔ کوے نے اپنے بچوں کو کانٹے دار ٹہنیوں اور پتوں میں چھپا دیکھ کر شور مچا دیا۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:

    ”دیکھ لیا چڑیا سے ہمدردی کا انجام؟ یہ میرے بچوں کی جان لینے کی کوشش کررہی تھی۔ اگر میں وقت پر نہ پہنچ جاتا تو آج میرے بچے مرچکے ہوتے۔”

    چڑیا بے چاری آنکھوں میں آنسو بھر لائی۔ طوطا اور گلہری بھی پریشان ہوگئے۔ اچانک کوے کے بچوں نے بولنا شروع کیا:

    ”چڑیا بی! چڑیا بی! آپ ہمیں چھوڑ کر مت جائیں۔ ہم آپ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔” کوا یہ سن کر بہت حیران ہوا۔ تب بچوں نے تمام ماجرا سُنایا تو سب خوف زدہ ہوگئے۔ کوا تو بہت زیادہ شرمندہ ہوا اور چڑیا سے معافی مانگنے لگا۔ چڑیا بولی:

    ”کوے بھائی! اس وقت یہ سوچنا ضروری ہے کہ ہم سانپ سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں؟”

    ”ہم کمزور ہیں، بھلا اس کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں؟” گلہری نے کہا۔

    ”ویسے بھی یہ درخت بہت اچھا ٹھکانہ ہے۔ معلوم نہیں پھر ایسا درخت ملے نہ ملے۔” خرگوش نے کہا تو کوے نے اُس کی تائید کی۔ چڑیا بالکل خاموش تھی۔ خرگوش نے پوچھا:

    ”چڑیا بہن! کیا تم ہمارے ساتھ نہیں جاؤ گی؟” یہ سُن کر کوا پرُجوش ہوکر بولا: ”ہاں نا! آج سے ہم سب دوست ہیں، سب مل کر رہیں گے۔”

    چڑیا بی کہنے لگی: ”میں یہ سوچ رہی تھی کہ اگر کوئی ہمارے گھر پر قبضہ کرے تو گھر چھوڑنے کے بجائے ہمیں دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔” سب حیران ہوکر چڑیا کی بات سُننے لگے۔ آخر گلہری بولی: ”بھلا ہم کیسے سانپ کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟”

    چڑیا نے کہا: ”جب میں اکیلی اُسے مار کر بھگا سکتی ہوں تو ہم سب مل کر اُس کا مقابلہ کیوں نہیں کرسکتے؟” چڑیا کی بات وہ سب سانپ سے بچاؤ کی ترکیب سوچنے لگے۔ آخرکار چڑیا ہی کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔

    اگلے دن پانچوں دوست قریبی جھاڑیوں میں چھپ گئے۔ اُن کی توقع کے عین مطابق آج پھر سانپ درخت کی طرف آنکلا تھا۔ اُسے دیکھ کر سب کے دل تیزی سے دھڑکنے لگے۔ سانپ چوں کہ کافی لمبا تھا اس لیے ابھی وہ درخت کے نچلے تنے تک ہی پہنچا تھا کہ خرگوش نے ایک لمبی جست لگا کر اُس کی دُم پر کاٹ لیا۔ تکلیف کی شدت سے سانپ بلبلا اُٹھا اور دُم کو اِدھر اُدھر پٹختا ہوا تیزی سے اوپر چڑھنے لگا۔ اِسی وقت طوطا، چڑیا اور کوا آگے بڑھے اور سانپ کو اپنی تیز چونچوں سے ٹھونگنے لگے۔ تکلیف اور غصے سے سانپ کا منہ کھل گیا۔ یہ دیکھتے ہی گلہری نے اُس کے منہ میں باریک کانٹے دار ٹہنیاں گھسا دیں جو اُس کے حلق میں پھنس گئیں۔ جیسے ہی سانپ کوے کے گھونسلے کے قریب پہنچا تو اسی وقت کوے نے پتوں والی ٹہنیاں اس کی آنکھوں پر ڈال دیں۔

    سانپ اب اندھوں کی طرح اِدھر اُدھر ٹکریں مارنے لگا۔ وہ برُی طرح زخمی ہوچکا تھا۔ اِدھر طوطا، کوا اور چڑیا مسلسل اُسے ٹھونگیں مار رہے تھے۔ آخر کار وہ درخت سے نیچے گر گیا۔ یہ دیکھتے ہی خرگوش اور گلہری تیزی سے اُس پر حملہ آور ہوئے اور اُس وقت تک اپنی چونچوں سے اُسے ٹھونگیں مارتے رہے جب تک اُس کا دم نہ نکل گیا۔ سانپ کے مرنے کے بعد وہ سب بے یقینی کی کیفیت میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ جب انہیں یقین ہوگیا کہ وہ اپنے طاقت ور دشمن سے نجات حاصل کرچکے ہیں تو خوشی خوشی ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگے۔ کوے نے چڑیا کو شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:

    ”بہن چڑیا! میں غلطی پر تھا، آج تمہاری ذہانت، ہمت اور عقل مندی نے ہم سب کو بچا لیا۔”

    چڑیا مسکراتے ہوئے بولی: ”میں اکیلی تو شاید کچھ بھی نہیں کرسکتی، یہ ہم سب کے اتفاق اور اتحاد سے ممکن ہوا ہے۔” اِس کے بعد سب نے مل کر جامن کے درخت پر چڑیا کا گھر بنایا اور یوں پانچوں دوست مل جل کر رہنے لگے۔

    ٭…٭…٭

  • روشنی کا دِیا ۔ الف نگر

    روشنی کا دِیا ۔ الف نگر

    روشنی کا دِیا

    فوزیہ خلیل

    انہیں جھیل کے پاس روشنیاں دکھائی دیں تو وہ حیران رہ گئیں۔ وہ روشنیاں کیا تھیں؟ پڑھیے اس کہانی میں۔

    آج جماعت ہفتم کی طالبات مِس حریم کے ساتھ پِکنک منانے آئی ہوئی تھیں۔ یہ ایک تفریحی مقام تھا۔ موسم بھی بہت سُہانا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ طالبات بہت خوش تھیں۔ شام سے پہلے سب کو واپس جانا تھا۔

    اچانک کالی گھٹا چھائی اور اندھیرا سا پھیل گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا آسمان کالے بادلوں سے بھر گیا۔ اتنے میں لڑکیوں کو دُور جھیل کے پاس چھوٹی چھوٹی روشنیاں دِکھائی دِیں۔

    ”ارے وہ کیا؟” فارعہ نے حیرت سے پوچھا۔

    ”بیٹی! وہ جُگنو ہیں۔” مِس حریم نے جواب دیا۔

    ”مِس! کیا ہم اِنہیں پکڑ سکتے ہیں؟” مریم نے پوچھا۔

    ”جی بالکل! ہم انہیں پکڑ سکتے ہیں۔”

    ”مِس! اِن سے روشنی کیسے نکلتی ہے؟” آمنہ نے سوال کیا۔

    ”بیٹی! جُگنو سانس لینے کے نظام سے روشنی پیدا کرتے ہیں۔ جب وہ سانس لیتے ہیں تو سانس کی نالی کے ذریعے ہوا اُن کے اندر پائے جانے والے کیمیائی مادہ کو چُھوتی ہے۔ ہوا لگتے ہی یہ مادہ روشنی کی صُورت میں چمک اُٹھتا ہے۔” مس حریم نے بچوں کو بتایا۔

    ”مِس! جُگنو خوراک کیا کھاتے ہیں؟” مُسفرہ نے سوال کیا۔

    ”بیٹی! اُن کی خوراک گونگھوں اور چھوٹے کیڑوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ اپنے شکار کو کھاتے نہیں بلکہ پی جاتے ہیں۔ اِن کے منہ پر انٹینا نما دو اعضا ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ شکار کے جسم میں ایک لیس دار مادہ داخل کرتے ہیں۔ یہ مادّہ فوراً کیڑے مکوڑوں کو مائع میں تبدیل کردیتا ہے اور وہ اس مائع کو پی لیتے ہیں۔” طالبات یہ سب باتیں سُن کر حیران ہورہی تھیں۔ کچھ طالبات تو جُگنو کو پکڑنے کی کوشش کررہی تھیں۔

    ”مِس! جُگنو انڈے دیتے ہیں نا!” ہاجرہ نے پوچھا۔

    ”ہاں بیٹی! یہ انڈے دیتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ تاریکی میں ان کے انڈے چمکتے بھی ہیں۔” مِس مریم نے ذرا توقف کیا اور بات دوبارہ شروع کی۔

    ”بچو! پرُانے زمانے میں لوگ راتوں کو سفر کے دوران جُگنو کی روشنی سے مدد لیتے تھے۔ کچھ لوگ بید کی ٹوکریوں میں بہت سے جُگنو بند کرلیتے اور دورانِ سفر اُنہیں ساتھ رکھتے تھے۔ کچھ لوگ سفر کے دوران اُن کو ننھے مُنّے چراغ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ جب وہ کسی جنگل میں سفر کرتے تو جُگنوپکڑ کر دھاگے کی مدد سے اپنے ہاتھ یا پاؤں سے باندھ لیتے اور بہ آسانی سفر طے کرلیتے۔” مِس حریم نے تفصیل سے بتایا۔

    ”جی مس! ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے بھی اپنی ایک نظم میں جگنو کی اس خصوصیت کا ذکر کیا ہے۔” رافعہ نے بتایا۔

    ”مِس! میں بھی جگنو کے متعلق کچھ بتانا چاہتی ہوں۔” سارہ نے اجازت لے کر بات شروع کی۔ ”مِس! میں نے سنا کہ لڑکیاں جُگنوؤں کو باندھ کر اپنے بالوں میں سجا لیتی ہیں۔ رات کے وقت یہ بالوں میں ہیروں کی طرح چمکتے ہیں۔”

    ”مس! میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایک عام جُگنو آدھے انچ سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا لیکن جنوبی امریکا میں ایسے جُگنو بھی پائے جاتے ہیں جو دو انچ تک لمبے ہوتے ہیں۔” عافیہ نے بتایا۔

    ”جی مِس! میں نے بھی ایسے جُگنوؤں کے بارے میں پڑھا تھا۔ اِن دو انچ لمبے جُگنوؤں کے جسم سے بیک وقت سُرخ اور ہری روشنیاں نکلتی ہیں۔ سُرخ روشنی سر کی جانب سے اور ہری روشنی دُم کے نیچے سے پیدا ہوتی ہے۔” ارفعنے بتایا۔

    مس حریم بچیوں سے معلومات سن کر بہت خوش ہورہی تھیں۔

    ”مِس! جگنو دن کے وقت کہاں رہتے ہیں؟” اب کی بار عاتکہ نے سوال کیا۔

    ”بیٹی! یہ دن بھر چُھپے رہتے ہیں۔ عام طور پر پتوں، گیلی گھاس اور فصلوں میں… باغ اور سبزے میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ویسے ان کو جھیلوں اور دریاؤں وغیرہ کے نزدیک رہنا زیادہ پسند ہے۔” مس حریم نے بتایا۔

    ”مِس! جُگنو کی ٹانگیں چھوٹی اور تعداد میں چھے ہوتی ہیں نا؟” رومیصا نے پوچھا۔

    ”اگر ایسا ہے تو پھر یہ درختوں پر بھی چڑھ جاتے ہوں گے۔” خدیجہ نے کہا۔

    ”بالکل رمیصا اور خدیجہ! اِن کی چھے ٹانگیں ہوتی ہیں اور یہ درختوں پر چڑھنے کی صلاحیت پر رکھتے ہیں لیکن یہ اُڑتے ہوئے اپنے لیس دار مادّہ کی مدد سے دیواریا درخت کی سطح پر چپک جاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ اُوپر چڑھتے ہیں۔” مس حریم نے انہیں بتایا۔

    ”اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیے۔ اُس نے کیسے کیسے جانور اور کیڑے مکوڑے پیدا کیے ہیں۔” ودیعہ بولی تو مس حریم مسکرا دیں۔

    اب بادل سرخ ہورہے تھے پھر اچانک بارش شروع ہوگئی تھی۔ اتنے میں انہیں بس آتی دکھائی دی۔ مس حریم کے حکم پر تمام طالبات بھاگ کر اُس میں سوار ہوگئیں۔ وہ سوچ رہی تھی آج کی پکنک بہت شان دار رہی۔

    ٭…٭…٭

  • میرے پاس وقت نہیں! ۔ الف نگر

    میرے پاس وقت نہیں! ۔ الف نگر

    الف نگر کے مقابلہ ”الف لیلیٰ” میں پہلی انعام یافتہ کہانی

    میرے پاس وقت نہیں!

    اِنشا علی

    خزاں کا موسم شروع ہوا تو اس کے ساتھ ہی سِمی گلہری بہت زیادہ مصروف ہوگئی۔ درختوں کے پتے اب پیلے اور بُھورے ہوکر تیزی سے گرنا شروع ہوگئے تھے۔ سمی سارا دن خوب شور مچاتی، درختوں اور جھاڑیوں میں بھاگتی، دوڑتی اپنا کھانا تلاش کرتی رہتی تھی۔ خزاں کا موسم شروع ہوتے ہی وہ سوچنے لگی کہ مجھے اپنے لیے ڈھیر سارا کھانا محفوظ کر لینا چاہیے۔ تاکہ سردیوں میں کام آسکے۔ اس سے پہلے بھی وہ خشک پھل اور بیج اکٹھے کرکے درخت کے نیچے دبا دیتی تھی۔ یہ خیال آتے ہی اُس نے بیج اور پھل اکٹھے کرنا شروع کردیے۔ اب وہ اتنی مصروف ہوگئی تھی کہ اُس کے پاس اپنے دوستوں سے ملنے کا بھی وقت نہیں تھا۔

    ”السلامُ علیکم سِمی! تم کیسی ہو؟” ایک دن مِلی چوہیا نے صبح آکر اس کا حا ل پوچھا۔

    ”میں ٹھیک ہوں۔” سِمی نے جواب دیا۔

    ”سِمی! میں آج کل سردیوں کے لیے اپنا نرم اور گرم بستر بنا رہی ہوں۔” مِلی نے کہا۔

    سِمی کہنے لگی: ”اچھا! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔”

    مِلی بولی: ”یہ ایک بڑا ہی آرام دِہ، نرم اور گرم بستر ہے۔ میرا خیال ہے کہ اِس سے پہلے میں نے کبھی اتنا اچھا بستر نہیں بنایا۔ سِمی! کیا تم اِسے دیکھنا پسند کرو گی؟”

    ”میرے پاس وقت نہیں ہے۔ میں جلدی میں ہوں۔” سِمی نے بے رُخی سے کہا اور تیزی سے درخت پر چڑھ گئی۔

    ”اوہو!” بے چاری مِلی نے مایوسی سے سرہلایا اور چلی گئی۔

    دوپہر کے وقت سِمی کا دوست ہُد ہُد اس کے درخت پر آبیٹھا اور تنے پر تیزی سے چونچ مارنے لگا۔ کھٹ کھٹ کی آواز سن کر سِمی گھر سے نِکلی تو ہُد ہُد اُسے دیکھ کر خوشی سے بولا: ”سِمی! جانتی ہو میں درختوں کے تنوں میں سوراخ بناتا ہوں ۔ آج میں نے ایک بہت بڑا سوراخ بنایا ہے۔ کیا تم میرے ساتھ چلو گی اُسے دیکھنے؟”

    سِمی نے ناگواری سے کہا: ”بالکل نہیں! میرے پاس وقت نہیںہے، میں جلدی میں ہوں۔”

    ”او ہو!” ہُد ہُد نے مایوسی سے کہا اور چپ چاپ اُڑ گیا۔

    اگلے دِن سِمی کا دوست رابن خرگوش اُس سے ملنے آیا۔

    اُس نے مُسکراتے ہوئے سِمی سے کہا: ”میری دوست! تم جانتی ہو کہ میں زمین میں سوراخ کرکے گھر بناتا ہوں مگر اِس بار تو کمال ہوگیا۔ میں نے اتنی تیزی سے زمین میں سوراخ بنایا ہے کہ جنگل کا کوئی جانور میرا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ آؤ اور مجھے کام کرتے ہوئے دیکھو۔”

    ”نہیں، میرے پاس وقت نہیںہے۔ میں بہت جلدی میں ہوں۔” سِمی گلہری چیخ کر بولی۔

    ”اوہو! بھئی چیخو مَت۔” رابن خرگوش نے اُداس لہجے میں کہا اور اُچھلتا ہوا واپس چلا گیا۔

    سِمی گلہری اب بڑبڑانے لگی: ”کسی کو نظر کیوں نہیں آتا کہ میں بہت مصروف ہوں۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔” یہ کہہ کر وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔

    صبح سے شام تک سِمی گلہری پھل اور بیج اکٹھے کرکے اُنہیں زمین میں دفن کرتی رہتی۔ جب اندھیرا چھاجاتا تو وہ اپنے درخت میں بنے ہوئے گھر میں گُھس کر مزے سے سو جاتی۔

    خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ایک دِن جنگل میں تیز ہوا چلنے لگی جو آہستہ آہستہ آندھی کی شکل اختیار کرگئی۔ درختوں کی شاخیں ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں۔ سِمی اپنے گھر بیٹھی سخت خوف زدہ تھی۔ اچانک اُسے محسوس ہوا کہ درخت جس میں اس کا گھر تھا، وہ نیچے گِر رہا ہے۔ کچھ دیر بعد واقعی دھڑام کی آواز آئی اور درخت سِمی سِمیت زمین پر آگرا۔

    جب طوفان تھما تو سِمی نے آہستہ آہستہ اپنا منہ سوراخ سے باہر نکالا۔ اس کے سر پر سخت چوٹ آئی تھی اور اس کا سارا گھر بھی برباد ہوچُکا تھا۔

    ”مدد… مدد” سِمی چیخ چیخ کر پُکارنے لگی۔ مِلی چوہیا وہاں سے گزر رہی تھی۔ وہ سِمی کی آواز سُن کر تیزی سے آئی اور پوچھا: ”کیا ہوا سِمی؟” پھر مِلی نے سِمی کو ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا۔

    سِمی بہت زیادہ پریشان تھی۔ مِلی نے کہا: ”اَرے دوست! پریشان کیوں ہوتی ہو۔ میرے ساتھ آؤ، تم میرا نرم گرم بستر لے لینا۔ میرا گھر جھاڑی کے نیچے زمین میں ہے۔ وہاں طوفان کا بھی کوئی خطرہ نہیں۔ آئودیکھو! میرے پاس بہت جگہ ہے۔”

    ”شکریہ دوست!” سِمی نے کہا اور مِلی کے ساتھ چلنے لگی۔

    اگلی صبح سِمی اور مِلی دونوں گرے ہوئے درخت کے پاس چلی آئیں تاکہ نقصان کا اندازہ ہوسکے۔

    سِمی روتے ہوئے بولی: ”ہائے اللہ! کتنا خوب صورت درخت تھا۔ میں دوبارہ اتنا خوب صورت گھر کیسے بناؤں گی؟”

    ”پریشان مَت ہو میری دوست! میں نے ایک درخت کے تنے میں بہت بڑا سوراخ بنایا ہے۔ میرے خیال میں وہ تمہارے رہنے کے لیے بہترین ہوگا۔ آؤ دیکھو!” قریب ہی سے ہُد ہُد بولا۔

    ”بہت شُکریہ دوست!” سِمی نے کہا اور ہد ہد کے ساتھ چلنے لگی۔

    جب سِمی نے سوراخ کو اندر باہر سے خوب اچھی طرح دیکھ لیا تو بولی: ”ہد ہد میرے دوست! تم ٹھیک کہتے ہو، یہ تو میرے پہلے گھر سے بھی زیادہ آرام دہ ہے لیکن میں اپنے جمع کیے ہوئے پھل اور بیج یہاں کیسے لاسکتی ہوں؟ میں نے بڑی محنت سے اُنہیں جمع کرکے زمین میں دبایا تھا۔ میری ساری محنت ضائع ہوگئی ہے۔”

    ”کوئی مسئلہ نہیں دوست! میں زمین کھود سکتا ہوں اور ہم سب مِل کر تمہارے سارے پھل اور بیج یہاں لے آئیں گے۔ میں زمین میں ایک نیا اسٹور بنانے میں بھی تمہاری مدد کروں گا۔” یہ آواز رابن خرگوش کی تھی۔ اس کے بعد سب دوست مل کر سِمی کی خوراک زمین سے نکالنے لگے۔

    جب سارا کام مکمل ہوگیا تو سِمی نے اپنے دوستوں کو اپنے گھرانے کی دعوت دی۔ تاکہ وہ اُن سب کا شکریہ ادا کرسکے۔

    مِلی، رابن اور ہد ہد یہ سُن کر ایک ساتھ بولے:

    ”ہمیں افسوس ہے سمی! ہمارے پاس وقت نہیں ہے، ہم جلدی میں ہیں۔” سِمی انتہائی شرمندگی سے بولی۔ ”میں جانتی ہوں کہ میں غلطی پر تھی۔ مجھے دوستوں کے لیے وقت ضرور نکالنا چاہیے تھا۔” یہ سن کر تینوں دوستوں نے ہنسنا شروع کردیا۔

    ”ارے سِمی پریشان مَت ہو، ہم جلدی میں نہیں ہیں اور دوستوں کے لیے ہمارے پاس بہت وقت ہے۔” تینوں نے یک زبان ہوکر کہا اور کھلکھلا کر ہنس دیے۔

    ٭…٭…٭

  • گُلِ مہر اور مونی ۔ الف نگر

    گُلِ مہر اور مونی ۔ الف نگر

    گُلِ مہر اور مونی

    سودہ عنبر

    گُلِ مہر سبزی کی ٹوکری سے رونے کی آواز سُن کر حیران رہ گئی۔ ایک مزے دار کہانی!

    گُلِ مہر چُنی مُنی آنکھوں اور سنہری بالوں والی ایک چھوٹی بچی تھی۔ اُس کا بھائی مونی اتنا شرارتی تھا کہ اکثر لوگ اس کی شکایت کرنے گھر تک آجاتے۔ ایک روز کچن میں پانی پیتے ہوئے گُلِ مہر نے سِسکیوں کی آواز سُنی۔ پہلے تو وہ سمجھ نہ سکی کہ کون رو رہا ہے مگر جب اُس نے غور سے دیکھا تو حیران رہ گئی۔ سامنے میز پر پڑی ٹوکری میں سبزیاں رو رہی تھیں۔ گُلِ مہر بہت پریشان ہوئی۔ اُس نے تروتازہ اور خوش رنگ گاجر، بینگن، شلجم اور پیاز سے رونے کی وجہ پوچھی۔ چُلبلی ہری مرچ چٹاخ پٹاخ بولی: ”گُلِ مہر بیٹا! جب ہم تمہارے گھر آتے ہیں تو تمہارا بھائی ناک بُھوں چڑھاتا ہے اور کہتا ہے کہ بینگن، شلجم، پیاز، ادرک، کریلے، ٹینڈے سب گندے ہیں۔ اِن کو پھینکو۔ گُلِ مہر نے یہ سن کر چُلبلی ہری مرچ کو دِلاسا دیا۔ اتنے میں لال گُلال گاجر بولی: ”مجھے تو سب ہی پسند کرتے ہیں۔ تمہارا بھائی گھر آتے ہی میرا پوچھتا ہے۔ میں تو یہاں خوش ہوں اور آلو چچا بھی مگر ہمارے دوسرے دوستوں کی اِس گھر میں کوئی قدر نہیں ہے۔ اب تو دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سبزی منڈی لوٹ چلیں۔”

    آلو چچا سمجھ دار تھے۔ کہنے لگے: ”عزیز دوستو! کیوں نہ ہم گُلِ مہر کے بھائی کو یہاں بلوا لیں اور اِس مسئلے کو حل کریں۔ وہ ابھی نا سمجھ ہے اور اُسے معلوم نہیں کہ اللہ میاں نے کوئی چیز بے فائدہ نہیں بنائی۔ اگر پیاز نہ ہوتی تو کھانوں میں لذّت نہ ہوتی۔ لذیذ چاول نہ پکتے اور نہ ہی خستہ کباب بنتے۔ اِسی طرح ادرک کی اپنی اہمیت ہے۔ یہ ناصرف سالن میں استعمال ہوتی ہے بلکہ چائے میں بھی اِس کی چائے بیماری کو بھگاتی ہے۔ ہر طرح سے یہ ہمارے لیے مفید اور ضروری ہے۔ بینگن کا بُھرتا! واہ کیا بات ہے۔ اس کا سالن بھی مزے دار ہوتا ہے۔” لیموں خوش دلی سے بولا: ”اگر مجھے مسالہ بھرے بیگن کے سالن پر چھڑک کر گرم گرم چپاتیوں کے ساتھ کھایا جائے تو چٹخارے دار چیز بنتی ہے۔”

    مونی قریب کھڑا یہ باتیں سن رہا تھا اور اپنے کیے پر شرمندہ تھا۔ اُسے پتا چل گیا کہ کسی کا دل دُکھانا بہت بُری بات ہے اور غرور تو اللہ کو بالکل بھی پسند نہیں ہے۔ اُس نے فوراً ساری سبزیوں سے معافی مانگی۔ چُلبلی ہری مرچ سمیت تمام سبزیوں نے سچے دل سے مونی کو معاف کردیا۔ گُلِ مہر کہنے لگی: ”مونی بھیا! تم نے سُنا ہوگا: نہیں ہے چیز نکّمی کوئی زمانے میں۔”

    ”گُل آپی! وہ کیسے؟”

    مونی نے پوچھا۔ ”مونی بھائی! وہ ایسے کہ ہمیں اِن چیزوں کے فائدے معلوم ہوں نہ ہوں مگر اللہ میاں نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی۔ سبزیاں تو ہمارے جسم میں طاقت پیدا کرتی ہیں۔ سرطان جیسے مُوذی مرض سے بچاتی ہیں۔ ہمارے جسم میں خون پیدا کرتی ہیں۔ ہمیں صحت مند رکھتی ہیں۔” گُلِ مہر کی بات سن کر مونی جھٹ سے اپنی امّی کے پاس پہنچا اور مزے دار سبزیوں کا سالن بنانے کی فرمائش کرنے لگا۔ گُلِ مہر یہ دیکھ کر مُسکرا دی۔

    ٭…٭…٭

  • حضرت لقمان حکیم علیہ السلام   ۔ قرآن کہانی

    حضرت لقمان حکیم علیہ السلام ۔ قرآن کہانی


    حضرت لقمان حکیم علیہ السلام

    عمیرہ علیم

    اسلامی دعوت و تبلیغ کو روکنے کے لیے مشرکینِ مکہ ظلم و ستم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے۔ لیکن رسالتِ محمدیۖ کا سورج پوری تاب ناکی سے طلوع ہوچکا تھا۔ آپۖ کے جواں مرد،خوددار، روشن ضمیر اور حوصلہ مند صحابہ کرام آپۖ کے ساتھ کھڑے ہر گھناؤنے وار کو صبر سے برداشت کررہے تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحرو جادوگر پکارا گیا۔ نَضْربن حارث، ارحم الراحمین کی عظیم الشان کتاب کا مقابلہ کرنے کے لیے رستم و اسفند کے قصے اور شاہانِ عجم کی داستانیں لاکر قِصّہ گوئی کی محفلیں منعقد کرواتا ہے۔ تو کبھی گانے والی لونڈیاں خریدلاتا ہے اور جب کوئی اللہ کی طرف راغب ہوتا تو ایک لونڈی اس پر مسلّط کردی جاتی ہے تاکہ غافل انسان اللہ تعالیٰ اور حضرت محمدۖ کی باتوں میں کھو کر اپنی حقیقت کی شناخت نہ کرلیں۔
    توحید و رسالت کی گونج اہلِ عرب نے پہلی مرتبہ نہ سُنی تھی بلکہ حضرت محمدۖ سے پہلے بھی جن لوگوں کو علم و حکمت اور عقل و دانش عطا فرمائی گئی، وہ بھی اس بات کی تقلید کرتے تھے جو محمدۖ فرماتے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورئہ لقمان میں لقمان حکیم کی حکمت و دانائی کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ محمدۖ دیارِ عرب کو کچھ نیا یا انوکھا پیغام نہیں پہنچا رہے بلکہ اس ملک میں اللہ کا بھیجا ہوا بندہ لقمان حکیم گزر چکا ہے۔ جن کی حکمت بھری باتیں بہ طورِ ضرب الامثال بیان کی جاتی ہیں۔
    ”حکمت” اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جو صالحین اور پسندیدہ ہستیوں کو عنایت ہوئی۔ حکمت کے لفظی معنی ہیں ”عقل مندی، ذہانت، شعور، دانائی، فہم و فراست۔” اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفاتِ حمیدہ میں ایک اَلْحَکِیمْ بڑی حکمت والا، دانا اور بینا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ”حکمت والی کتاب” کہا ہے، جو محسنین کے لیے نہ صرف رہبری اور حکمت کا ذریعہ ہے بلکہ اس میں شعور، دانائی اور حکمت کے بیش بہا خزانے ہیں، جو چاہے سمیٹ لے۔
    حکمت و معرفت دو ایسے مقام ہیں جہاں بغیر کسی نبی کے پیغام کے انسان رحمتِ خداوندی کی بہ دولت ہی پہنچ سکتا ہے اور رحمت کا یہ اَبر حضرت لقمان پر ایسا کھل کر برسا کہ ربِ کعبہ نے سورئہ لقمان آپ کے نام سے اُتاری اور آپ کا مرتبہ اور زیادہ بڑھا دیا۔
    اہلِ عرب کے کچھ پڑھے لکھے لوگوں کے پاس صحیفۂ لقمان موجود تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ مدینہ کا ایک شخص حج کرنے کے لیے مکہ آیا۔ اس کا نام سوید بن صامت تھا۔ ایسے موقعوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مختلف علاقوں سے آئے ہوئے حاجیوں کے پاس دعوتِ تبلیغ کے لیے جاتے۔ آپۖ بیان فرما رہے تھے تو سوید بن صامت بولا جو آپۖ فرما رہے ہیں اُس سے ملتی جلتی ایک چیز میرے پاس بھی ہے، تو اُس نے مجلّۂ لقمان آپۖ کو سُنایا۔ حضرت محمدۖ نے فرمایا: میرے پاس اس کلام سے بہتر کلام موجود ہے۔ پھر نبی پاکۖ نے قرآن مجید کی تلاوت فرمائی تو وہ کہہ اُٹھا:
    بے شک یہ کلام بہترین ہے۔ سوید بن صامت اپنی بہادری اور عمدہ شعر گوئی کی بناء پر ”کامل” کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ آپۖ سے ملاقات کے بعد وہ مدینہ واپس ہوا اور جنگِ بُعاث میں مارا گیا۔ قبیلے والوں کا خیال تھا کہ اس نے آپۖ سے ملاقات کے بعد اسلام قبول کرلیا تھا۔
    حضرت لقمان ایک حبشی غلام تھے۔ وہ نوبہ کے رہائشی تھے۔ نوبہ کا علاقہ مصر کے جنوب اور سوڈان کے شمال میں واقع ہے۔ آپ پیشے کے اعتبار سے بڑھئی تھے۔ حضرت جابر کے فرمان کے مطابق ”آپ پستہ قد اونچی ناک والے، موٹے ہونٹ والے نوبی تھے۔”
    ابو داؤد بیان کرتے ہیں:
    ”حضرت لقمان کسی بڑے گھرانے کے امیر اور بہت زیادہ کنبے والے نہ تھے۔ ہاں ان میں بہت سی بھلی عادتیں تھی۔ وہ خوش اخلاق، خاموش، غوروفکر کرنے والے اور گہری نظر والے، دن کو نہ سونے والے تھے۔ لوگوں کے سامنے تھوکتے نہ تھے۔ نہ پاخانہ پیشاب اور نہ غسل کرتے تھے۔ لغو کاموں سے دور رہتے تھے، ہنستے نہ تھے، جو کلام کرتے تھے وہ حکمت سے خالی نہ ہوتا تھا۔ جس وقت ان کی اولاد فوت ہوئی، یہ بالکل نہیں روئے۔ وہ بادشاہوں اور امیروں کے پاس اس لیے جاتے تھے کہ غوروفکر اور عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ اسی وجہ سے انہیں بزرگی ملی۔”
    سعید بن مسیب نے ایک مرتبہ ایک سیاہ حبشی غلام کو نصیحت فرمائی کہ اپنی رنگت کو حقیر نہ جان۔ تین لوگ جو تمام لوگوں سے اچھے تھے وہ تینوں سیاہ رنگ کے حامل تھے۔ حضورۖ کے غلام حضرت بلال، فاروقِ اعظم کے غلام حضرت مہجع اور حضرت لقمان حکیم جو نوبی تھے۔
    اکثر علماء اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت لقمان نبی نہ تھے بلکہ ولی اور اللہ کے نیک بندے تھے۔ اس لیے وحی کا سلسلہ بھی نہ تھا۔ غلامی، نبوت کی ضد ہے کیوں کہ انبیاء کرام عالی مرتبہ خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ جب کہ آپ کے متعلق ایک عجیب و غریب روایت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لقمان کو اختیار دیا کہ حکمت و نبوت میں سے جس کو چاہیں قبول کرلیں، آپ علیہ السلام نے حکمت کو پسند فرمایا۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ نے نبوت اختیار نہیں فرمائی تو آپ نے فرمایا:
    ”اگر رب تعالیٰ مجھے نبوت عطا فرماتے تو ہوسکتا تھا میں نبھا جاتا۔ لیکن جب اختیار ملا تو میں نے حکمت کو چُنا۔ میں ڈر گیا کہ اگر میں نے نبوت اختیار کی تو شاید میں اُس کو پورا نہ کر پاؤں۔” (واللہ اعلم)
    ایک مرتبہ حضرت لقمان مجلس میں وعظ فرما رہے تھے۔ ایک چرواہا آپ کو دیکھتا ہے تو حیرت زدہ ہوجاتا ہے۔ کہتا ہے: ”کیا تو وہی نہیں جو میرے ساتھ بکریاں چراتا تھا؟” ”آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وہاں میں وہی ہوں۔”
    چرواہا کہتا ہے تو نے یہ مرتبہ کیسے حاصل کیا؟” آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”سچ بولنے پر اور بے کار کلام نہ کرنے پر۔”
    اللہ سبحان و تعالیٰ نے حضرت لقمان کو نعمتِ حکمت (اسلام کا فہم) کی خوش خبری سُناتے ہوئے سورئہ لقمان میں فرمایا کہ ”اللہ کا شکر ہے۔” بلکہ انسان کو عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ جن بھی نعمتوں سے نوازا گیا ہے وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہے۔ ذہنی پاکیزگی اختیار کرنا، ذہن کو پراگندہ سوچوں سے بچانا، معبودِ کبریائی کا احسان مند ہونا، کفرانِ نعمت سے بچنا اور انسان کا چھوٹے سے چھوٹا عمل اللہ تبارک و تعالیٰ کی تعلیمات کا مکمل عکاس ہونا ہی درحقیقت شکر گزاری ہے۔ انسان اگر شکر گزار ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے، رب کی ہستی بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
    ”جو کوئی شکر کرے تو اُس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے اور جو کوئی کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بے نیاز اور آپ ہی آپ محمود ہے۔”
    سبحان اللہ! یہ شان، یہ بے نیازی اس حقیقی معبود کو جچتی ہے۔ کائنات کی ہر چیز، ہر ذرّہ اس کی حمد و ثناء بیان کررہا ہے۔ لیکن اگر کوئی نافرمان ہے تو وہ ہیں جن وانس۔
    اولاد وہ نعمتِ خداوندی ہے جو انسان کو دنیا بھر کی تمام نعمتوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ انسان سب سے بہترین چیز اپنی اولاد کو ہی دیتا ہے۔ کیوں کہ والدین اور اولاد کا رشتہ بہت خالص ہے۔ حضرت لقمان کا ذکرِ خیر قرآن مجید میں ایک ناصح کے طور پر آیا ہے اور جو وعظ و نصیحت آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے کوکی، وہ سب سے بہترین تحفہ تھا اور ممکن ہے کہ آپ نے یہ نصیحتیں اپنے بیٹے کو وصال سے پہلے کی ہوں۔
    حضرت لقمان علیہ السلام نے جو پہلی نصیحت اپنے بیٹے کو کی وہ ہے،
    ”بیٹا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔”
    اللہ رَبُّ العزت خالق ہے اور باقی سب مخلوق۔ خالق کی شان ہے کہ اس کی بڑائی بیان کی جائے۔ اس کی تخلیق کی ہوئی چیزوں کو اس کے مَدِّ مقابل لاکر ان کی پرستش کرنا انسانی پستی کا شاخسانہ ہے۔ یہ اکبر الکبائر ہے اور بڑی نا انصافی ہے۔ رب تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔
    کسی شخص نے اللہ کے رسولۖ سے پوچھا: عند اللہ بڑے سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپۖ نے فرمایا:
    ”تم کسی کو اللہ کی مثل و مانند گردانوں حالاں کہ تم کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔”
    اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جس دین حنیف کی پیروی کا حکم اپنے بندوں کو دیتا ہے اس کے مطابق بندئہ خدا کا قول، فعل، ارادہ، نیت، سجدہ، تسبیح و تکبر، خاکساری، توکل، انابتِ تقویٰ، نذرونیاز، توبہ، استغفار ذاتِ الٰہی کے علاوہ کسی اور کے لیے ہونا اس کو دشمنِ خدا کی صف میں شامل کرتا ہے۔ کیا کوئی بندہ یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ رب العالمین، احکم الحاکمین اور اعلم العالمین نے جو رزق اس کو دیا ہے وہ اس میں اپنے ملازم کو شریک گردانے؟ تو اللہ کی خالص الوہیبت میں کسی کو شریک کرنا زیب نہیں دیتا۔ سورئہ روم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایک مثال خود تمہاری ہی ذات سے بیان فرمائی کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے کوئی بھی تمہارا شریک ہے؟”

  • حضرت مریم علیہ السلام ۔ قرآن کہانی

    حضرت مریم علیہ السلام

    عمیرا علیم

    حضرت مریمؑ وہ پاکیزہ اور راست باز ہستی ہیں جن کا تذکرہ قرآن مجید میں کیا گیا ہے اور جن کی پاکیزگی کی گواہی قرآن خود دیتا ہے۔ آپؑ اللہ کے محبوب رسول حضرت عیسیٰؑ کی والدہ ماجدہ ہیں۔ آپ کے نام پر قرآن مجید میں ایک پوری سورت اتاری گئی اور قرآن آپ کی پیدائش، پرورش، کفالت اور آپ کے ہاں حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کے واقعات کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ اللہ تبارک تعالیٰ کی محبوب بندی کے بارے میں کوئی الہام نہ رکھیں۔
    حضرت مریمؑ ، حضرت داؤدؑ کی نسل سے تعلق رکھتی ہیں آپ کے والد محترم اس دور میں بنی اسرائیل کے امام نماز تھے اور آپ کی والدہ محترمہ بھی عابدہ و زاہدہ خاتون تھیں۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر حضرت ذکریاؑ کو مبعوث فرمایا تھا۔ حضرت ذکریاؑ کی بیوی اور حضرت مریمؑ آپس میں بہنیں تھیں کچھ لوگوں کے خیال میں حضرت ذکریاؑ کی بیوی حضرت مریمؑ کی خالہ تھیں۔ آپ کی والدہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ آپ کی والدہ رب تعالیٰ کے حضورت گڑگڑاتی تھیں کہ رب کریم نیک اور صالح اولاد سے نواز اور انہوں نے نذرمانی کہ اگر ان کے ہاں اولاد متولد ہوئی تو وہ اس کو بیت المقدس کے لیے وقف کر دیں گی۔ ان کی دعا مقبول ہوئی اور انہوں نے حضرت مریمؑ کو جنم دیا تو وہ پریشان ہو جاتی ہیں اور فرماتی ہیں: ’’اے اللہ! میں نے تو جنم دیا ایک لڑکی کو۔‘‘ پھر فرماتی ہیں: ’’اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر) سے۔‘‘
    حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ جب بھی کوئی آدمی پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو چھوتا ہے اور شیطان کے چھونے کی وجہ سے وہ چیختا چلاتا ہے ماسوائے مریم اور ان کے صاحبزادے کے۔ پھر حضرت ابوہریرہؓ یہ آیت پڑھا کرتے۔ جس کا ترجمہ یوں ہے
    ترجمہ: میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے بچا کر تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
    (آل عمران۔۳۶)
    امام احمد روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ فرماتے ہیں: ’’نسلِ آدم کے ہر بچے کو شیطان اپنی انگلی سے مس کرتا ہے سوائے مریمؑ بنت عمران اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰؑ کے۔‘‘
    جیسا کہ سورۂ آل عمران میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔
    ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے چن لیا آدمؑ اور نوحؑ اور ابراہیمؑ کے گھرانے کو اور عمران کے گھرانے کو سارے جہاں والوں پر ایک نسل ہے بعض ان میں سے بعض کی اولاد ہیں اور اللہ سب کچھ سننے والا ہے۔ جب عرض کیا عمران کی بیوی نے اے میرے رب! میں نذر مانتی ہوں تیرے لیے جو میرے شکم میں ہے (سب کاموں سے) آزاد ہو کے، سو قبول فرما لے (یہ نذرانہ) مجھ سے پھر جب اس نے جنا اسے بولی: اے اللہ! اس نے جنم دیا ایک لڑکی کو اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس نے جنا، اور نہیں تھا لڑکا (جس کا وہ سوال کرتی تھی) مانند اس لڑکی کے اور (ماں نے کہا) میں نے نام رکھا اس کا مریم اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر)سے۔‘‘ (آیات: ۳۶۔۳۳)۔
    حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کے والد کا نام ’’عمران‘‘ تھا۔ جس کو بائیبل میں ’’عمرام‘‘ لکھا گیا۔ سورۂ آل عمران کی آیات میں جن عمران کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کے والد محترم نہیں ہیں کیوں کہ حضرت مریم کا دور اور حضرت موسیٰؑ کے دور کے بعد کا ہے۔ اس طرح عمران کی بیوی یا عورت سے مراد ہے کہ حضرت مریم کی والدہ اس قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ سورۂ مریم میں ’’یآخت ہارون‘‘ یعنی (اے ہارون کی بہن) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ یہ فہم رکھتے ہیں کہ حضرت مریمؑ ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کی بہن تھیں۔ یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ اس بارے میں امام احمد فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمؐ نے مجھے نجران بھیجا، وہاں کے لوگ مجھ سے کہنے لگے یہ جو آپ پڑھتے ہیں۔ ’’یااخت ہارون‘‘ جب کہ حضرت موسیٰؑ تو اتنا عرصہ حضرت عیسیٰؑ سے پہلے ہیں اس کے بارے میں تیری کیا رائے ہے؟ حضرت مغیرہ ان کے اعتراض پر چپ رہے اور جواب نہ دے پائے اور انہوں نے آکر نبیؐ کے سامنے یہ ماجرا عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’آپ نے انہیں یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ انبیاء اور ان صالحین کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔‘‘
    مفسرین کے مطابق ان الفاظ کے دومعنی ہو سکتے ہیں ایک ظاہری ہو سکتا ہے کہ حضرت مریمؑ کا کوئی ہارون نامی بھائی ہو اور دوسرے عربی محاورے میں ’’اختِ ہارون‘‘ کے معنی ہوں گے۔ ’’ہارون کے خاندان کی لڑکی۔‘‘ یہ عربی زبان کا ایک مشہور طرزِ بیان ہے۔
    بنی اسرائیل نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو ملک کے انتظامی امور چلانے کیلئے حضرت یعقوبؑ کی اولاد کے بارے قبائل میں تو تمام طرح کے نظم و نسق کو تقسیم کیا گیا جبکہ تیرہواں قبیلہ جو کہ لاوی بن یعقوب کا گھرانا تھا وہ مذہبی خدمات کیلئے مخصوص رہا۔ بیت المقدس میں بخود جلانے اور پاک چیزوں کی تقدیس کا کام جس خاندان کے سپرد تھا وہ دراصل حضرت ہارونؑ کا خاندان تھا۔ دوسرے نبی لاوی بیت المقدس کے اندر نہیں جا سکتے تھے اور صرف کوٹھڑیوں اور صحنوں تک ہی کام کرتے تھے اور بنی ہارون کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ بنی ہارون کے چوبیس خاندان تھے جو اپنی اپنی باری پر بیت المقدس کی خدمت پر مقرر تھے۔ ان میں سے ایک ابیاہ کا خاندان تھا۔ جس کی سرداری اللہ کے بنی حضرت ذکریاؑ کے سپرد تھی۔ جس دن آپ کے خاندان کی باری ہوتی آپؑ خدا کے حضور بخود جلانے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔
    حضرت مریمؑ کی پیدائش ہو جاتی ہے اور مدتِ رضاعت ختم ہوتی ہے تو آپؑ کی والدہ محترمہ آپ کو مقدس لے جاتی ہیں۔ تاکہ مجاوروں کے سپرد کریں اور اپنی منت پوری کریں۔ مجاور جھگڑنے لگتے ہیں ہر کوئی یہ چاہ رکھتا ہے کہ حضرت مریمؑ کی کفالت اس کے سپرد کی جائے۔ حضرت ذکریاؑ کا دورِ نبوت ہے طے پاتا ہے کہ قرعہ اندازی کی جائے اور جس کا نام قرعہ کے ذریعے نکلے وہ اصلی حقدار ہو۔ مجاوروں نے اپنے اپنے قلم ایک مخصوص جگہ رکھ دیئے اور ایک بچے سے کہا گیا کہ وہ ان میں سے ایک قلم اٹھا لائے۔ رب کریم کی قدرت سے وہ بچہ جو قلم لایا وہ حضرت ذکریاؑ کا نکلتا ہے۔ تمام مجاور ماننے سے انکاری ہو جاتے ہیں اور دوبارہ قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ تمام مجاور اپنا اپنا قلم نہر میں پھینکتے ہیں اور خیال کرتے ہیں جس کا قلم بہاؤ کے خلاف بہے گا وہی کفالت کا حقدار ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی شان سے حضرت ذکریاؑ کا قلم مخالف سمت بہہ نکلا اور باقی پانی کے ساتھ چلے۔ اب کی بار پھر مجاور ماننے سے انکاری ہیں۔ تیسری مرتبہ قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور طے پاتا ہے کہ جس کا قلم پانی کے بہاؤ کے ساتھ چلا وہی ہی غالب ہے۔ قلم پھینکے جاتے ہیں تو سب کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بار پھر حضرت ذکریاؑ ہی غالب آجاتے ہیں کیوں کہ ان کا قلم پانی کے بہاؤ کے ساتھ چلنے لگتا ہے۔ اس طرح مجاور ہار گئے اور مصلحتِ خداوندی سے شرعاً اور حقیقتاً آپؑ ہی اصل حقدار تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی والدہ کی محبت اور قربت سے دور نہ کرنا چاہتا تھا دوسرا حضرت ذکریاؑ کی بیوی، حضرت مریمؑ کی بہن تھیں۔
    اس قرعہ اندازی کا مقصد بھی یہ تھا کہ ان کی والدہ نے آپ کو اللہ تبارک تعالیٰ کی نذر کر دیا تھا اور آپؑ چونکہ لڑکی تھیں اس لیے آپ کی سرپرستی ایک نازُک مرحلہ تھا۔
    سورۂ آل عمران میں رب تعالیٰ حضرت مریمؑ کی کفالت کے واقعہ کو اس طرح بیان فرماتے ہیں: ’’یہ غیب کی خبروں میں ہیں، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب پھینک رہے تھے وہ (مجاور) اپنی قلمیں (یہ فیصلہ کرنے کیلئے کہ) کون ان میں سے سرپرستی کرے مریم کی اور نہ تھے آپ ان کے پاس جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔‘‘ (آیت: ۴۴)
    حضرت مریمؑ بیت المقدس رہائش پذیر ہو گئیں۔ آپ کے لیے ایک کمرہ مخصوص کر دیا گیا۔ جہاں حضرت ذکریاؑ کے علاوہ اور کوئی نہیں جا سکتا تھا۔ آپؑ دن رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتیں۔ جب بھی حضرت ذکریاؑ آپ کے پاس آئے تو حیران ہوتے کیوں کہ آپؑ کے پاس بے موسمی پھل موجود ہوتے۔ گرمیوں کے پھل سردیوں کے موسم میں اور سردیوں کے پھل گرمیوں کے موسم میں آپؑ کے حجرے میں موجود ہوتے۔ حضرت ذکریاؑ کی حیرت بجا تھی تبھی حضرت مریمؑ سے پوچھتے کہ یہ پھل کدھر سے آتے ہیں؟ کون دے جاتا ہے؟ حضرت مریم سکون سے فرماتیں: ’’اللہ کے پاس سے‘‘ تبھی حضرت ذکریاؑ نے اللہ تبارک تعالیٰ سے وارث کے لیے دعا فرمائی۔ آپ کی بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود معجزۂ خداوندی سے آپ کے ہاں حضرت یحییٰؑ کی ولادت ہوئی۔
    حضرت مریمؑ کی عظمت و فضیلت کو رب کریم نے بار بار قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے اور اپنی مومنہ بندی کی پاکیزگی اور برأت کا اعلان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے پسندیدہ لوگوں میں شمار کرتے ہیں۔ جیسا کہ سورۂ آل عمران میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ 
    ’’اور جب کہا فرشتوں نے اے مریم! بے شک اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے تمہیں اور خوب پاک کر دیا ہے تمہیں اور پسند کیا ہے تجھے سارے جہان کی عورتوں سے۔ اے مریم! خلوص سے عبادت کرتی رہ اپنے رب کی اور سجدہ کر اور رکوع کر رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔‘‘ (آیات: ۴۳۔۴۲) پھر آگے سورۂ المائدہ میں ارشاد فرمایا: ’’نہیں ہیں مسیح ابنِ مریم مگر ایک رسول گزر چکے ہیں اس سے پہلے بھی کئی رسول اور ان کی ماں بڑی راست باز تھیں۔‘‘ (آیت: ۷۵)
    حضرت ابو موسیٰ الاشعریؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے فرمایا: ’’مردوں میں کئی کامل ہو گزرے ہیں مگر عورتوں میں کوئی کامل نہیں ہوئی سوائے فرعون کی بیوی آسیہ اور عمران کی بیٹی مریم کے۔ اور عائشہ کو عورتوں پر ایسے فضیلت ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر۔‘‘
    حضرت عبداللہ بن جعفر نے حضرت علیؓ ابن ابی طالب سے روایت کی ہے کہ حضور نبی کریمؐ نے فرمایا اپنے دور کی بہترین خاتون مریم حضرت مریمؑ بڑے مقام کی حامل خاتون تھیں۔ آپ کی اہمیت کے بارے میں روایت ہے کہ حضور نبی کریمؐ ایک مرتبہ حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ آپؓ بیمار تھیں اور اسی بیماری میں آپؓ کا انتقال بھی ہوا۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا: ’’اے خدیجہ! تجھے تکلیف میں دیکھ کر مجھے سخت تکلیف ہو رہی ہے لیکن کبھی کبھی اللہ تعالیٰ تکلیف میں بڑی بھلائی رکھ دیتا ہے۔ کیا تو نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیرے ساتھ مریم بنتِ عمران، کلثم حضرت موسیٰؑ کی بہن اور فرعون کی بیوی آسیہ کے ساتھ میرا رشتہ ازواج منعقد کر دیا ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہؐ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ ایسا کر دیا ہے؟
    آپؐ نے ارشاد فرمایا:ہاں۔ حضرت خدیجہؓ نے (مبارکباد دیتے ہوئے) 
    عرض کیا: آپؐ کے اور ان کے درمیان اتحاد و اتفاق رہے اور اولاد نصیب ہو۔‘‘
    حضرت مریمؑ کی والدہ ان کو اپنی نذر کو پورا کرنے کیلئے بیت المقدس میں عبادت کیلئے بٹھا دیتی ہیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ ان کی حفاظت و کفالت کیلئے حضرت ذکریاؑ کو ان کا نگہبان مقرر فرما دیتے ہیں۔ آپؑ بیت المقدس کے جس محراب میں معتکف ہوئیں وہ مقدس کے شرقی حصے میں واقع تھی۔ اس پر معتکفین ہوئیں وہ مقدس کے شرقی حصے میں واقع تھی۔ اس پر معتکفین کے طریقہ کار کے مطابق پردہ لٹکا ہوا ہوتا اس طرح آپؑ نے خود کو دیکھنے والوں کی نگاہوں سے محفوظ فرما لیا۔ سورۂ مریم میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی کو حضرت مریمؑ کا قصہ سناتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اور اے نبیؐ! اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جب کہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی اور پردہ ڈال کر ان سے چھپ بیٹھی تھی۔‘‘ (آیت: ۱۷۔۱۶)
    حضرت مریمؑ جس مقصد کیلئے چنی گئی تھیں وہ ابھی باقی تھا۔ آپؑ دن رات رب العالمین کی عبادت و ریاضت میں مشغول رہتی تھیں۔ حتیٰ کہ آپ کی عبادت ضرب المثل بن گئی۔ پھر وہ وقت آتا ہے کہ حضرت جبرائیلؑ آپ کے پاس تشریف لاتے ہیں۔ آپؑ ایک غیرمرد کو اپنے حجرے میں دیکھ کر پریشان ہو جاتی ہیں۔ حضرت جبرائیل انسانی شکل میں تشریف لاتے ہیں۔ حضرت مریمؑ آپ کو دیکھ کر بول اٹھتی ہیں: ’’اگر تو کوئی خداترس آدمی ہے تو میں تجھ سے خدائے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔‘‘ وہ آپ کو تسلی دیتے ہیں اور پیغامِ الٰہی سے باخبر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’میں تو تیرے رب کا فرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔‘‘ حضرت مریمؑ کی حالت دیدنی ہے۔ ایک غیرمحرم شخص ان کے پاس موجود ہے وہ خداوند تعالیٰ کا پیغام لایا ہے اور ان کی اولاد کی خوشخبری سنا رہا ہے آپؑ حیرت و پریشانی کے ملے جلے جذبات سے فرماتی ہیں: ’’میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا جب کہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں کوئی بدکار عورت نہیں۔‘‘ حضرت جبرائیلؑ فرماتے ہیں: ’’ایسا ہی ہو گا تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم ایسا اس لیے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کیلئے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے۔‘‘
    سورۂ تحریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے: ’’اور (دوسری مثال) مریم بنتِ عمران کی ہے جس نے اپنے گوہر عصمت کو محفوظ رکھا تو ہم نے پھونک دی اس کے اندر اپنی طرف سے روح۔‘‘ (آیت: ۱۲)