1. Home
  2. افسانچہ

Category: افسانچہ

افسانچہ
پتھر، پارس، ہیرا

پتھر، پارس، ہیرا

پتھر، پارس، ہیرا شبینہ گل ”میں ایک پتھر ہوں۔ لڑھکتا ہوا پتھر۔ان چاہا، بے مول، لایعنی، بے مقصد۔ ٹھوکروں کی زد میں رہنا اور لڑھکتے لڑھکتے عمر تمام کر دینا جس کا مقدر، خود کو…

افسانچہ
چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

چشمہ انعم سجیل ”امیّ! مجھے فہد سے شادی نہیں کرنی، آپ پلیز تائی جان کو منع کر دیں ۔“ ”لیکن آخر کیا بُرائی ہے اُس میں؟ پڑھا لکھا ہے، اچھی نوکری ہے اور سب سے…

افسانچہ
ترجیح – صبا سید– افسانچہ

ترجیح – صبا سید– افسانچہ

ترجیح صبا سید ”باجی! تھوڑی مدد کر دےں۔ بچے کو بکھار (بخار) ہے دوائی کے پیسے نہیں۔“ ”جاﺅ بھئی معاف۔۔۔۔۔“ میرے جملے کے اختتام سے پہلے ہی سمیعہ نے جھٹ پچاس کا نوٹ اسے پکڑا…

افسانچہ
دھوکہ اور اعتراف – ماہ وش طالب ۔ افسانچہ

دھوکہ اور اعتراف – ماہ وش طالب ۔ افسانچہ

دھوکہ اور اعتراف ماہ وش طالب ”آج میں تمہارے سامنے وہ اعتراف کرنے آیا ہوں جس نے برسوں تمہاری زندگی کو جہنم بنائے رکھا، کہ اس رات نیلم کے کہنے پر میں نے اماں سے…

افسانچہ
تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

تنہا چاند – حریم الیاس – افسانچہ

تنہا چاند حریم الیاس > وہ “بہو مٹیریل” تھی ہی نہیں شاید….. نہ ہی کوئی ایسی حسین کہ کسی ماں کو اپنے جگرگوشے کے لیے پہلی نظرمیں پسند آتی اوربہنوں کی ہر دل عزیز بھابھی…

افسانچہ
قلم کار کی شہزادی   ۔ افسانچہ

قلم کار کی شہزادی ۔ افسانچہ

قلم کار کی شہزادی ایم اے ایقان ”برف سے ڈھکے اُس بلند پہاڑ کی دوسری جانب دوسرے لوگوں کا دیس ہے۔ وہاں ایک شہزادی رہتی ہے جو اپنے شہزادے کا انتظار کرتی ہے۔ اُس کا…

افسانچہ
کفن میں پاکٹ  ۔ افسانچہ

کفن میں پاکٹ ۔ افسانچہ

کفن میں پاکٹ فاطمہ شیخ ”کیا صاحب؟ ایک جیکٹ کم قیمت میں خریدنے کے لیے آپ نے سارا دن ہمارا ٹانگ تڑوایا۔“ گل خان اپنے مخصوص پختون انداز میں بولا۔ ”کچھ تو خوفِ خدا کرو…

افسانچہ
لاڈلا ۔ افسانچہ

لاڈلا ۔ افسانچہ

لاڈلا انعم سجیل وہ ہمیشہ سے ہی ماں کا لاڈلا تھا، اکلوتا جو تھا۔ چھوٹا تھا تو جب بھی اسے چوٹ لگتی، بھاگتا ہوا ماں کے پاس آتا۔ کبھی میز سے ٹھوکر لگی اور پاﺅں…

افسانچہ
بھیڑ چال – انعم سجیل

بھیڑ چال – انعم سجیل

بھیڑ چال انعم سجیل ”ہم برتھ ڈے کا گرینڈ فنکشن رکھ لیتے ہیں،سب کو بُلا لیں گے۔“ زینب کی پہلی سال گرہ آئی تو بیگم نے کہا۔ ”ارے یہ سال گرہ وغیرہ سب فضولیات ہیں۔“…

افسانچہ
بن مانگے ۔ گل رانا

بن مانگے ۔ گل رانا

بن مانگے گل رانا “نی ماں اٹھ آج فیر جانا نی” رانی نے چڑھتے سورج کی دھوپ سے خود کو بچاتی اپنی ماں کو آواز دی۔ “جا تو چلی جا.. آج تاپ چڑھ گیا نی…

error: Content is protected !!