الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۳

الف لیلہ دو ہزار اٹھارہ داستان

سارہ قیوم 

قسط نمبر۳ 

(رات:۳)

بھاگنا حسن بدر الدین کا ماموں کے گھر سے اور ڈرنا جادو کے شیطانی چرخوں سے۔ 

تیسری شب کو بادشاہ شہریار اپنی دُلہن شہرزاد کے پاس آیا اور فرمایا کہ اب اس قصے کا باقی حصہ سناؤ کہ حسن بدرالدین کا کیا حشر ہوا۔ شہرزاد آداب بجا لائی اور بولی، شہریار تاجدار کا حکم دل و جان سے منظور ہے، نافرمانی سے طبیعت نفور ہے۔ یہ کہہ کر کہانی یوں سنائی۔
حسن بدرالدین کو ہوش آیا تو دیکھا کہ برآمدے میں تخت پر پڑا ہے اور نانی جان آنکھوں میں آنسو لیے ہتھیلیاں سہلاتی ہے اور مارے محبت کے صدقے واری جاتی ہے۔ زلیخا پاس کھڑی اس کی نبض گنتی ہے اور پریشان دکھائی دیتی ہے۔ حسن کو آنکھیں کھولتا دیکھ کر نانی بولی:’’میں صدقے، میں قربان میرے بچے تجھے کیا ہوگیا ہے؟‘‘ اس شفقت و محبت کو دیکھ کر حسن کا دل بھر آیا، آنکھوں میں آنسو بھر کر بولا: ’’خدارا مجھے بتائیے میں کون ہوں؟‘‘
نانی بولی:’’تو حسن بدرالدین ہے میرے بچے، میرا نواسہ، میری مرحومہ بیٹی کا جگر گوشہ، یہ تیرے ماموں کا گھر ہے، تجھے کیا ہوگیا ہے میرے لال؟ یہ کیسی باتیں کررہا ہے؟‘‘
حسن چکرا کر بولا:’’اگر میں حسن ہوں، تو میں کہاں گیا؟ اور اگر میں، میں ہوں تو حسن کہاں گیا؟‘‘
نانی صدمے سے چلائی:’’ہائے نظر لگ گئی میرے بچے کو، دماغ اُلٹ گیا۔‘‘
زلیخا تشویش سے بولی:’’کھانا کھایا تھا تم نے رات کا؟ پیٹ میں درد تو نہیں؟‘‘
اتنے میں وہ بے ادب ماما دوبارہ آئی، آتے ہی چلائی’’سب ڈرامے ہیں تاکہ بل جمع کروانے نہ جانا پڑے۔ اپنے باپ کی طرح نکما ہے یہ بھی۔‘‘
حسن کو طیش آیا، غصے سے ڈانٹا: ’’چپ بے ادب گستاخ ورنہ کھڑے کھڑے نوکری سے نکال دوں گا۔ ماما ہوتے ہوئے یہ بے ادبی؟ابھی سر اڑاؤں گا، ملکِ عدم کو پہنچاؤں گا۔‘‘ یہ سن کر ماما پہلے لال ہوئی، پھر پیلی، پھر نیلی ہوگئی، پاؤں سے چپل اتاری اور حسن پر جھپٹ پڑی۔ ’’ٹھہر تجھے میں بتاتی ہوں، حرام خور جس کا کھاتا ہے اس پر بھونکتا ہے؟‘‘
نانی ڈر کر چلائی، زلیخا نے بڑھ کر ماما کا ہاتھ پکڑااور بہ منت التجا کی:’’چھوڑیں ماما یہ اپنے آپ میں نہیں، اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’کیا ہوا ہے طبیعت کو؟‘‘ ماما بگڑ کر چلائی۔’’شوگر ہوگئی ہے؟ کینسر ہوگیا ہے؟‘‘
اب نانی بھی بگڑ گئی۔’’اللہ نہ کرے، تیری نظر لگی ہے میرے بچے کو۔ ابھی پانی دم کرکے دوں گی تو بھلا چنگا ہو جائے گا۔‘‘
زلیخا بولی:’’ میں بی پی چیک کرلیتی ہوں۔ لگتا ہے لو ہوگیا ہے۔‘‘
ماما نے تیکھی چتون سے کہا:’’رہنے دے تو اپنی ڈاکٹری، ایسی ہی لائق ہوتی تو ڈاکٹری داخلے کے امتحان میں فیل نہ ہوتی۔‘‘
زلیخا روہانسی ہوگئی:’’میں فیل نہیں ہوئی تھی، صرف تین نمبر کم تھے میرٹ سے۔‘‘
ماما نے منہ بنایا ’’ہاں پر ڈاکٹر تو نہیں بن سکی نا۔ ایک تو تو موٹی، دوسرے کالی۔ سوچا تھا ڈاکٹر بن جائے گی تو اچھا رشتہ مل جائے گا، اب تجھے کون پوچھے گا؟ ہائے میرے نصیب، ایک ہی بیٹی وہ بھی پھوپھی پہ چلی گئی۔‘‘

Loading

Read Previous

الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲

Read Next

سوئ بار

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!