عکس — قسط نمبر ۴

”احمق تم کو نہیں پکڑنا چاہیے تھی ڈسک اگر یہ زیادہ زور سے آ رہی تھی تو۔” ایبک نے اسے ڈانٹا۔ وہ اکثر ٹینس سکھاتے ہوئے بھی اس کو ڈانٹ دیتا تھا۔ چڑیا خاموش ہو گئی۔ وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بہت دیر تک دباتا رہا تھا پھونکیں مار مار کر… یہ اس کی فرسٹ ایڈ تھی۔ اور اس انجری کے بعد ایبک نے فریزبی پھینکنے کے اسٹائل کو تبدیل کیا تھا اور اس کی رفتار کو بھی کم کر دیا تھا۔ جب وہ شطرنج یا فریزبی نہ کھیلتے تو پھر وہ سارا دن بے مقصد ان وسیع و عریض لانز میں پھرتے، تتلیاں اور کیڑے مکوڑے اکٹھے کرتے رہتے۔ تتلیاں چڑیا پکڑا کرتی تھی اور کیڑے مکوڑوں کیcollection بتانے کا آئیڈیا ایبک کا تھا۔ جیم، اچار اورsyrup کی خالی بوتلوں میں وہ بڑی بے جگری سے لان کی کیاریوں میں مٹی اور پودوں پر رینگتے کیڑے اکٹھے کرتا پھرتا۔ یہ جیسے اس کے نزدیک چڑیا کو متاثر کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ تھا اور چڑیا متاثر ہوئی تھی۔ دل میں اسے گھن بھی آتی تھی جب ایبک گندے مندے کیڑے مکوڑے کئی بار خالی ہاتھ سے ہی پکڑ لیتا لیکن پھر وہ مسکراتے ہوئے ایبک کو سراہتی تھی۔ اور کبھی وہ لان میں پھولوں اور پتوں کی کلیکشن بناتے پھرتے اور مالیوں سے ان کے نام پوچھ پوچھ کر لکھتے رہتے اور جب وہ عجیب و غریب کلیکشن نہ کر رہے ہوتے تو پھر وہ عمارت کے عقب میں سرونٹ کوارٹرز کے قریب لگے ہوئے مختلف پھلدار درختوں پر چڑھے جامن، کیریاں اور کھٹے انگور، شہتوت اتار ا تار کر املی اور نمک مرچ کے ساتھ کھاتے یا پھر غلیلوں سے ان اونچے لمبے درختوں پر بیٹھے پرندوں کا شکار کرنے کی کوشش کرتے رہتے۔ وہ چڑیا کی زندگی کا سب سے بہترین موسم گرما تھا ۔ ایسے دن جب وہ واپس کوارٹرمیں آنا ہی نہیں چاہتی تھی اورکچھ یہی حال ایبک کا بھی تھا۔ ایچی سن میں پڑھنے والا وہ کلچرڈ اور گرومڈ بچہ جو اس گھر میں ہر وقت نک سک سے درست رہنے والے حلیے میں آیا تھا جو فورک اور نائف کے بغیر کھانا نہیں کھا سکتا تھا اور جو ٹینس، سوئمنگ اور فریزبی کھیلتا تھا۔ اب لان میں چھپن چھپائی کھیلتا پھرتا تھا۔ چوبیس گھنٹے پاؤں پر موجود موزے اب لان کے مختلف حصوں سے دریافت ہوتے تھے۔ اس کی جیبوں میں اب کیریاں اور کچے انگور بھرے ہوتے تھے اور وہ اس تمام موج مستی میں ساتویں آسمان پر تھا، ماں کی چیخم پکار بھی اب اس پر اثرانداز نہیں ہوتی تھی۔ اس کی ماں کو پتا تھا کہ وہ چڑیا کے ساتھ کھیلتا تھا لیکن وہ جب بھی اسے ڈھونڈنے آتی، چڑیا کا نام و نشان بھی اسے کہیں نہیں ملتا تھا۔ وہ بالکل اکیلا لان میں کہیں نہ کہیں کچھ کرتا پایا جاتا اور وہ اس بات کو کسی طرح ماننے پر تیار نہیں ہوتا کہ وہاں آس پاس کہیں چڑیا تھی۔ چڑیا جیسے ایبک کا well kept سیکرٹ تھی۔
اس کی ممی اسے ڈانٹتے کھینچتے وہاں سے لے جاتیں اور وہ چند منٹوں کے بعد پھر لان میں موجود ہوتا۔
……٭……




شیر دل نے فون انگیج کیا۔ پھر کال ڈس کنیکٹ کرنے کے بعد دوبارہ عکس کو کال کی۔ اس بار پہلی بیل پر کال ریسیو کی گئی تھی۔
”السلام علیکم۔” شیر دل کے پورے وجود سے کوئی چیز گزری تھی۔ اس عورت کی آواز سن کر وہ چند لمحوں کے لیے اس کیفیت کا شکار ضرور ہوتا تھا۔
”کب آئی ہو پاکستان؟” رسمی علیک سلیک کے بعد اس نے عکس سے پوچھا۔
22” کو۔” مختصر جواب ملا تھا اسیsoothing آواز اور بے حد شستہ لب و لہجے میں۔ چند لمحوں کے بعد شیر دل کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اس سے مزید کیا پوچھے۔ یہ نہیں تھا کہ اس کے پاس سوال نہیں تھے لیکن ان سوالوں کے جواب ان دونوں کے لیے بڑے تکلیف دہ ہوتے تھے۔ ان کے درمیان جب بھی کبھی بات ہوتی تھی بڑے ہلکے پھلکے موڈ میں ہوتی تھی۔ آج پہلا موقع تھا جب گفتگو کو شروع کرنا ہی دونوں کے لیے مشکل ہو رہا تھا شاید اس لیے کہ ان دونوں کی زندگی میں اس وقت کوئی دوسرا آ چکا تھا۔
”شہربانو کیسی ہے؟” اس نے عکس کو کہتے سنا۔ شیر دل کو لگا وہ شاید ساتھ کوئی کام بھی کر رہی ہے۔
”شبی ٹھیک ہے، تم کیا کر رہی ہو؟”
”کچھ پیکنگ وغیرہ کر رہی ہوں اور بیٹی کا کیا حال ہے تمہاری؟” وہ دوسری طرف بڑےcasual انداز میں بول رہی تھی۔ ساتھ کچھ کھڑ کھڑاہٹ کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔
”مثال بالکل ٹھیک ہے۔” شیر دل نے کہا۔
”میرے ہمسائے میں آ رہی ہو تم؟” شیر دل کا اشارہ پوسٹنگ کی طرف تھا، عکس دوسری طرف سے مدھم آواز میں ہنسی تھی۔
”میری تو ویسے خواہش تھی تمہاری خالی سیٹ پر آتی۔” اس نے عکس کو کہتے سنا۔
”ارے… اچھا… یہاں آنا چاہتی ہو تم؟” شیر دل نے چونک کر کہا۔
”تمہیں کوئی اعتراض ہے؟” شیر دل کو محسوس ہوا وہ بہت خوشگوار موڈ میں تھی۔
”مجھے کیا اعتراض ہو گا… ابھی آ جاؤ۔” شیر دل نے بے ساختہ کہا۔ وہ پھر ہنسی۔اس بار شیر دل چپ نہیں رہ سکا تھا۔
”تم نے کچھ زیادہ ہنسنا شروع نہیں کر دیا؟”
”تمہیں کوئی مسئلہ ہے اس سے؟” جواب اسی انداز میں ملا تھا۔
”یار پوچھ رہا ہوں۔” شیر دل نے کچھ مدافعانہ انداز میں کہا۔
”تم ہمیشہ الٹے سوال ہی پوچھا کرو مجھ سے۔”
”خیر ہر سوال تو الٹا نہیں کیا میں نے… کچھ سیدھے بھی تھے۔” شیر دل نے بے ساختہ کہا۔
”ان سیدھے سوالوں کے بھی جواب الٹے تھے۔”
”تم نے تو سیدھے سیدھے ہی دیے۔” وہ اس بار کھلکھلا کر ہنسی تھی۔دونوں دوسرے کی بات کے context کو سمجھ گئے تھے۔ شیر دل بھی ہنس دیا۔
”کسی مدد وغیرہ کی ضرورت ہے؟” اس نے عکس سے کہا۔
”نو تھینکس۔” شیر دل کواسی جواب کی توقع تھی۔ وہ خوشی سے مر جاتا اگر وہ کسی کام کے لیے کہہ دیتی۔ وہ اب اس سے امریکا میں اس کےstay کے حوالے سے بات کرنے لگا تھا۔ عجیب بات تھی لیکن وہ جب بھی ایک دوسرے سے بات کرنا شروع ہوتے کرتے ہی چلے جاتے، انہیں خود پر بند باندھنا مشکل ہو جاتا تھا۔ پتا نہیں کیا، کیا تھا جو انہیں ایک دوسرے سے شیئر کرنا یاد آ جاتا تھا اور یہ اکیڈمی کے دنوں سے تھا۔ وہargument کرنا بھی شروع کرتے تو وہ بھی لمبا ہوتاجاتا تھا اور اتنا لمبا ہوتا کہ اس کا اختتام کسی اور ڈسکشن پر ہوتا۔ اب بھی یہی ہوا تھا۔ شیر دل اب اس کو اپنے ڈویژن کے حوالے سے انفارمیشن دے رہا تھا۔ دو سال پاکستان سے باہر رہنے کے باوجود وہ illinformed نہیں تھی اور پاکستان میں آئے ایک ہفتہ ہونے کے باوجود اسے اس ڈسٹرکٹ کے بارے میں تمام بنیادی معلومات تھیں جہاں اس کی پوسٹنگ ہوئی تھی۔ شیر دل سے وہ بس اپنے نوٹس tally کر رہی تھی۔
Oh… “السلام علیکم۔” با ت کرتے کرتے شیر دل نے اسے کسی سے کہتے سنا تھا پھر اس نے کسی مرد کی آواز سنی جو بڑے بے تکلفی سے عکس سے بات کر رہا تھا۔
”اچھا شیر دل… تم سے دوبارہ بات ہو گی… مجھے لنچ پر جانا ہے… خدا حافظ۔” اس نے شیر دل کے ساتھ بات کرتے کرتے یک دم بہت عجلت کے عالم میں فون بند کیا تھا۔ وہ سیل فون ہاتھ میں لیے بیٹھا رہ گیا تھا۔ چند لمحے اسی طرح بیٹھے رہنے کے بعد اس نے جیسے کچھ بے چینی اور خفگی کے عالم میں عکس کو ایک textکیا تھا۔ چند منٹوں میں اس textکا جواب آ گیا تھا۔
”Shut up۔” شیر دل کا رنگ ہمیشہ کی طرح سرخ ہوا تھا۔ اس کے سیل فون میں عکس کی طرف سے پچھلے تمام سالوں میں آنے والے٣١ ١ Shut upکے میسجز محفوظ تھے۔ اور شیر دل ان ١٣١ میسجز کو تاریخ پڑھے بغیر بھی پہلی Shut upکال سے موجود ہ تک کی ہسٹری، سیاق و سباق، تاریخ اور لوکیشن بتا سکتا تھا۔ زندگی میں شیر دل نے عکس کے علاوہ کسی اور سے یہ لفظ نہ سنا تھا اور نہ وہ برداشت کر سکتاتھا۔ زندگی میں عکس صرف ایک شخص سے Rude ہوتی تھی۔ صرف ایک شخص تھا جس کو وہ دھڑلے سےShut upکال دیتی تھی اور وہ شیر دل تھا۔ شیر دل نے اس 132ویں شٹ اپ کو کالSave میں Msg folderکیا اور پھر اس نے سرخ چہرے اور بے حد خفگی کے عالم میں لان سے اٹھتے ہوئے عکس کوایک طویلText کیا۔
……٭……




Loading

Read Previous

عکس — قسط نمبر ۳

Read Next

عکس — قسط نمبر ۵

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!