Tag: bareeze

  • عکس — قسط نمبر ۵

    اس اسٹینڈنگ مرر میں اپنے عکس پر پہلی نظر ڈالتے ہی اس نے اپنی یادداشت کے سارے خانوں کو جسم سے اترے ہوئے لباس کی جیبوں کی طرح کھنگالنا اور جھاڑنا شروع کردیا تھا۔ کتنے سال بعد اس نے اس مرر کو دیکھا تھا اور اس مرر میں کیا کیا دیکھا تھا۔




    آئینہ اتنے سالوں کے بعد آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ کم آب و تاب کے ساتھ لیکن اسی وقار کے ساتھ جس کے ساتھ اس نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔گھر کا ایکسٹیرئر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ آئینہ جیسے کسی شہزادی کا رومال تھا جسے وہ پھاڑ کر پھٹنے اور غائب ہونے سے پہلے شہزادے کی رہنمائی کے لیے باہر چھوڑ گئی تھی۔ واحد سراغ … ہر ہر بھید تک لے جانے اور اسے پانے والا۔ چند لمحوں کے لیے اس آئینے کو دیکھتے ہوئے اسے یوں لگا تھا جیسے وہ بھی تب ہی وہاں سے ہٹے گا۔ غائب ہوگا جب حضرت سلیمان کے عصا کی طرح اسے بھی کھڑے کھڑے دیمک لگ جائے گی، پھر ایک دن وہ برادے کے ایک ڈھیر اور آئینے سے شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر وہاں سے ہٹادیا جاتا۔ پتا نہیں وہاں کھڑا وہ کس کس کا عکس دیکھتا اور دکھاتا رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں نظر آتی عمارت کے بیرونی حصے کے عکس کو دیکھنے لگی۔ انگلیوں کی پوروں پر اس نے جیسے وہ سال گنے تھے جب وہ آخری بار اس گھر سے گئی تھی۔ وہ گھر جو اس کی زندگی کا خوب صورت ترین اور سیاہ ترین باب تھا۔ وہ گھر جس سے زیادہ محبت اور نفرت اسے کبھی کسی جگہ سے نہیں ہوئی تھی لیکن وہ گھر جو وہاں آکر بسنے والے انسانوں کے تمام احساسات سے بے نیاز آج بھی اسی تمکنت سے وہاں کھڑا تھا۔
    اور پھر آئینے میں اپنے اور اس گھر کے عکس کے درمیان اس نے یک دم کسی کو نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ بے اختیار مسکرائی۔ اس نے زندگی میں اس مرد کے علاوہ صرف ایک مرد کو …وہ آگے کچھ سوچ نہیں پائی، وہ اب اس کے عقب میں کھڑا اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھے اس کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
    ”You look lovely ”وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    ”Thank you for flattering me”اس نے جواباً کہا۔ وہ اس کے عکس پر نظر جمائے ہوئے بے اختیار مسکرایا۔ گہری، گرم جوش، بہت کچھ یاد دلادینے والی آنکھیں… بے حد باریک ہونٹوں پر آنے اور کھیلنے والی بے ساختہ اور خمدار مسکراہٹ… اور یہ مسکراہٹ کیا کیا طوفان نہیں اٹھادیتی تھی۔ کون کون سی قیامت تھی جو بپا نہیں کردیتی تھی۔
    ”You are more than welcome” اس نے ذرا ساہنس کر اس کی بات پر جیسے کسی ندامت کا اظہار کیے بغیر دھڑلے سے کہا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں پہلی بار اس گھر میں کب آئی تھی؟” اس نے آئینے میں اس کے عکس کے عقب میں موجود عمارت پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ وہ اب بھی اس کے کندھے پر اسی طرح دونوں ہاتھ جمائے ،ٹکائے کھڑا تھا۔وہ اس کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کررہی تھی، نرم ،سہارا دیتا ہوا دباؤ۔ چند لمحوں کے لیے جیسے اس کا دل اس سے لپٹ جانے کو چاہا تھا۔
    ”جب…” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہیں نکل سکی۔ آنسوؤں کے ایک ریلے نے اس کی قوت گویائی اور بینائی دونوں کو بیک وقت مفلوج کیا تھا۔ یادیں تھیں… درد کے آبلے تھے جو گرم پانی کے چشموں کی سطح پر ابھرنے والے بلبلوں کی طرح پھٹنے لگے تھے۔ کندھوں پر ٹکے وہ دونوں ہاتھ سرعت سے بازوؤں پر آئے پھر انہوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ حصار جس نے زندگی میں کبھی اس کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا، وہ حصار جواس کے لیے ایک عطا تھا کسی کا تحفہ۔ اس کے بازوؤں کے حصار میں روتے ہوئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کون سے کانٹے پہلے نکال کر اس کو دکھائے… وہ جو پاؤں میں تھے یا وہ جو دل میں تھے۔ سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ جو یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کو دوبارہ بھلانے کے لیے وہ کیا کرے گی۔
    اس گھر کے برآمدے میں لگا وہ آئینہ، شہزادی تک پہنچانے والا واحد سراغ، اب جیسے شہزادے کو اس کے پاس لے آیا تھا، پہاڑ کی اس کھوہ میں جہاں ایک شہزادی کو کئی سال پہلے گہری نیند سلادیاگیا تھا۔
    ……٭……




    شیر دل نے اس کو کاریڈور میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے دیکھ لیا تھا۔ وہ کمشنر آفس کے میٹنگ روم کے داخلی دروازے پر کھڑی اپنے عملے کے کسی رکن کو ہدایت دینے میں مصروف تھی۔
    چیف کمشنر کے ساتھ ڈویژن کے تمام ڈی سیز کی دس بجے ہونے والی میٹنگ کا انتظام اس کی ذمے داری تھی۔ شیر دل کے ہونٹوں پر بے ساختہ ایک مسکراہٹ رینگی تھی اور ایسا کیوں تھا وہ کبھی سمجھ نہیں پایاتھا۔
    عکس مراد علی کو اپنے سامنے پاکر اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی یا پھر غصہ آتا تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ بے تاثر رہ پایا ہو… خوشی کا وہ حال ہوتا تھا کہ وہ بہت دن تک اس کے ٹرانس سے باہر نہیں نکل پاتا تھا… اور غصہ سمندر کی ایک شوریدہ لہر کی طرح آکر گزر جاتا تھا۔
    ایمرلڈگرین لانگ شرٹ میں سیاہ چوڑی دار پاجامے اور دوپٹے میں کندھوں سے کافی نیچے تک جاتے اسٹیپس میں کٹے ہوئے گھنے سیاہ بالوں کو وہ اب بھی بات کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں جھٹک رہی تھی۔ وہ اس کو کئی سالوں بعد دیکھ رہا تھا لیکن شیر دل کو کم از کم دور سے اس میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس نے اپنے سامنے کھڑے شخص کے ساتھ بات کرتے کرتے اپنا رخ موڑا تھا اور تب اس نے بھی شیر دل کو دیکھ لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل نے اس کو بھی بات کرتے کرتے ٹھٹکتے دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر بھی ایک مسکراہٹ آئی تھی۔ نظروں اور مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعد اس نے عملے کے اس فرد کو کچھ آخری ہدایات دیں۔ شیر دل کے اس کے قریب پہنچتے پہنچتے اس کا عملہ وہاں سے رخصت ہوچکا تھا۔ اس کے بالمقابل جا کر کھڑے ہوتے ہوئے شیر دل کا دل بے اختیار مچلا تھا کہ وہ اپنے عقب میں آنے والے اپنے اسٹاف کو وہاں سے رخصت کردے… کم سے کم چند لمحوں کے لیے۔ عکس کو دیکھ کراس کے دل میں ہر قسم کی احمقانہ اور بچگانہ خواہشات پیدا ہوتی رہتی تھیں اور یہ ہمیشہ سے تھا۔ ہاں پہلے کبھی اس نے اپنی ان تمام خواہشات کو احمقانہ اور بچگانہ کا لیبل نہیں لگا یا تھا، اب لگانے لگا تھا۔ یہ کام وہ نہ کرتا تو وہ کرتی جو اس سے تین فٹ کے فاصلے پر اس کے سامنے کھڑی اپنی سیاہ، چمکدار، شفاف، گہری آنکھوں اور بے حدجان لیوا مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”ہیلو!اس کے خیر مقدمی کلمات کے آغاز سے پہلے ہی شیر دل نے کہا تھا۔
    ”سر آپ کیسے ہیں؟
    ”I am good آپ کیسی ہیں میم؟”
    ”I am fine too، آپ کا سفر ٹھیک رہا؟”
    ”جی، چیف آچکے ہیں؟”
    ”وہ بس راستے میں ہیں، دس منٹ میں پہنچ جائیں گے۔” کمشنر آفس میں کھڑے ادھر سے ادھر جاتے ہوئے انتظامی عملے کے بیچ میں وہ ایک دوسرے سے یہی کہہ سکتے تھے جو کہہ رہے تھے… فارمل انداز اور کلمات۔ صرف ان کی مسکراہٹ اور آنکھیں تھیں جو ایک دوسرے کو وہ پہنچارہی تھیں جو ان کے احساسات تھے۔ صرف چند منٹ وہ وہاں کھڑا رہا تھا پھر میٹنگ روم میں چلا گیا تھا، اس کے پاس سے نہ ہلنے کی خواہش کے باوجود…
    میٹنگ ٹھیک وقت پر شروع ہوئی تھی۔ شیر دل کمشنر کے بائیں جانب میز کی پہلی کرسی پر تھا اور وہ اس کے بالمقابل کمشنر کے داہنی جانب پہلی سیٹ پر براجمان تھی۔ اور اس سیٹنگ ارینجمنٹ سے شیر دل کو کم از کم یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے لیے ٹیبل کے سرے پر بیٹھے ہوئے کمشنر اور میٹنگ پر توجہ مرکوز رکھنا آج کافی مشکل ثابت ہونے والا تھا اور ایسا ہی ہوا تھا… وہ بار بار بھٹک رہا تھا، اسے دیکھتے اور سنتے ہوئے۔ وہ اب بھی اسی طرح بات کررہی تھی جس طرح ہمیشہ کرتی تھی۔ نپا تلا انداز، تول کر بولنے کی عادت، بے حد ٹھہراؤ والا دھیما، ملائم لہجہ اور بے حد شستہ اور مدلل گفتگو۔




  • عکس — قسط نمبر ۴

    اس نے اسٹینڈنگ مرر میں اپنے آپ کو دیکھا، اپنے خوبصورت بالوں کو دیکھا، اپنے بے حد نازک گولائی میں پھولے ہوئے پنک فراک کو ذرا گھوم کر دیکھا پھر اس نے بے حد فخریہ انداز میں چند قدم پیچھے کھڑی چڑیا کو دیکھا جو بے حد ستائشی نظروں سے اس ساڑھے تین سالہ باربی ڈول کو دیکھ رہی تھی۔یہ وہ نام تھا جس سے وہ اس کو پکارتی تھی اور یہی وہ نام تھا جو اس نے پہلی بار اسے دیکھتے ہی دے دیا تھا۔ اس کے تمام ساتھی بونوں کو بھی باربی ڈول سے اتنا ہی عشق تھا جتنا چڑیا کو اور وہ بھی اس کو پہلی بار دیکھتے ہی اس پر اسی طرح فریفتہ ہوئے تھے جس طرح چڑیا کو دیکھ کر ہوئی تھی۔
    ”میں اچھی لگ رہی ہوں؟” اب باربی ڈول چڑیا سے پوچھ رہی تھی۔




    ”بہت، بہت، بہت، بہت اچھی اور پیاری۔” چڑیا نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اس کی خوبصور تی اور ستائش کی جیسے پیمائش پیش کی۔ باربی ڈول کا رنگ سرخ ہوا، اس نے ناک کو ہلکا سا دائیں طرف سکیڑ کر اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر جیسے اپنی خوشی اور مسکراہٹ کو ایک ساتھ چھپانے کی کوشش کی۔
    ”میں تمہاری پونی کر دوں؟” چڑیا نے باربی ڈول کے بکھرے ہوئے سیاہ ریشمی بالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے پوچھا۔ باربی ڈول سر ہلاتی فوراً پونی بنوانے پر تیار ہو گئی تھی۔ چڑیا نے اپنے بالوں سے ربڑ بینڈ اتارا اور آئینے کے سامنے باربی ڈول کے عقب میں جا کر بڑے انہماک سے اس کی پونی بنانے لگی۔ ان دونوں کے اس تعلق کا آغاز باربی ڈول کے اس کے اسکول میں ایڈمیشن کے ساتھ ہوا تھا۔
    چڑیا کلاس مانیٹر تھی اور وہ اس دن اپنی کلاس سے کسی کام سے باہر نکلی تھی جب اس نے مانیٹسوری کے لنچ بریک کے دوران پلے ایریا کے سامنے سے گزرتے ہوئے باربی ڈول کو وہاں لنچ باکس ہاتھ میں پکڑے see saw پر جھولتے دو بچوں کے پاس کھڑے دیکھا۔ چند لمحوں کے لیے چڑیا کو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔ وہ باربی ڈول جس کے بالوں کو چھونے اور جس کے ساتھ بات کرنے اور کھیلنے کی خواہش میں وہ کئی بار ڈی سی ہاؤس میں لان کے اس حصے میں منع کرنے کے باوجود جاتی رہتی تھی جہاں وہ اپنی ماں اور کبھی کبھار باپ کے ساتھ بھی شام کو کھیلنے کے لیے نکلتی تھی۔ باربی ڈول کے قریب جا کر اس سے کچھ کہنے کی ہمت اسے کبھی نہیں ہوئی تھی لیکن دور سے بہت باران دونوں کے درمیان خاموش نظروں اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ وہ اس گھر کے مستقل رہائشی دو واحد بچے تھے۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں تجسس کا شکار نہ ہوتے اور ایک دوسرے کو مستقل طور پر اگنور کر پاتے۔ چڑیا فرینڈلی تھی، باربی ڈول نہیں تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی طرح بہت مہذب اور سلجھی ہوئی ہونے کے باوجود بے حد ریزورڈ تھی۔ پتا نہیں یہ طبعاً تھا یا اس کے ماں باپ نے اسے بھی کچھ ہدایات دی تھیں۔ چڑیا سوچتی رہتی تھی لیکن کچھ اندازہ نہیں کر سکی تھی اور اب وہی باربی ڈول اس سے چند گز کے فاصلے پر کھڑی تھی۔ چڑیا کے لیے کیسے یہ ممکن تھا کہ وہ اسے اگنور کر کے گزر جاتی۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ شاید باربی ڈول کو بھی اپنے ہی اسکول میں دیکھ کر خوشی سے چھلانگیں لگاتی۔
    ”ہیلو۔” وہ ایکسائٹمنٹ کے باوجود کچھ ڈرتی جھجکتی باربی ڈول کے پاس پہنچ گئی تھی اور ہیلو کا چھوٹا سا لفظ کہنے کے لیے اسے پتا نہیں کتنی ہمت کرنی پڑی تھی۔ باربی ڈول نے چونک کر گردن گھما کر اسے دیکھا اور پھر اس نے بھی اسی برق رفتاری سے چڑیا کا چہرہ پہچانا تھا جس طرح چڑیا نے اس کا… وہ چڑیا کو فراموش کر بھی کیسے سکتی تھی۔ وہ گھر میں اس کے لیے دلچسپ چیزوں میں سے ایک تھی۔ لان میں کھیلتے اچانک کسی پھولدار جھاڑی یا پودے کی شاخ کے درمیان سے جھانکتا ہوا پرتجسس آنکھوں والا ایک معصوم چہرہ، کبھی راہداری کی کھڑکیوں میں یک دم نمودار ہونے والی وہ روشن شرارتی آنکھیں جو باربی ڈول کے ساتھ اس کی ماں یا باپ کو دیکھ کر اسی طرح جھپاکے سے غائب ہو جاتی تھیں۔ بہت دفعہ پودوں سے جھانکتی چڑیا کو دیکھ کر وہ ٹھٹکی تھی… اپنے کھلونوں کے ساتھ لان میں کھیلتے یا سائیکل چلاتے ہوئے اور شروع شروع میں وہ اپنی ممی کو چڑیا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی لیکن وہ اس کوشش میں ہمیشہ ناکام رہی۔ وہ جب تک اپنی ممی کو اس پودے یا جھاڑی کی طرف متوجہ کر پاتی جہاں اس نے چڑیا کو دیکھا تھا چڑیا وہاں سے غائب ہو چکی ہوتی۔
    ”ممی وہاں ایک Girl ہے۔” اس نے پہلی بار چڑیا کو دیکھنے پر فٹ بال کو کک لگاتے لگاتے رک کر اپنی ماں کو اشارے سے بتایا تھا لیکن جب تک وہ اس پودے کی ان شاخوں کو دوبارہ فوکس کر پاتی جن میں سے اسے چڑیا کا چہرہ نظر آیا تھا، چڑیا غائب ہو چکی تھی۔ اس کی ماں نے چند لمحوں کے لیے چونک کر اس پودے کو دیکھا پھر پوچھا۔
    ”کہاں؟”




    ”وہاں… پر وہ اب نہیں ہے۔” وہ اب فٹ بال کھیلنا بھول گئی تھی۔
    ”ہاں وہی بچی ہو گی جو اس دن ملنے آئی تھی… وہی بچی تھی کیا؟” اس کی ممی نے کسی خاص حیرت اور تعجب کے اظہار کے بغیر کہا۔ ”وہ جو ہمارے کک کے ساتھ آئی تھی۔” باربی ڈول نے ماں کے سوال پر اتنا غور نہیں کیا تھا نہ ہی اس نے اس بچی کے خدوخال کو ذہن میں لانے کی کوشش کی جسے اس نے کک کے ساتھ ملاقات میں دیکھا تھا۔ اسے زیادہ تجسس اس بات پر تھا کہ وہ اس پودے کے پیچھے سے اچانک کیسے غائب ہو گئی تھی اور کہاں غائب ہو گئی تھی۔ یہ چڑیا سے اس کے تعارف کا آغاز تھا اور پھر جیسے یہ ایک معمول ہو گیا تھا۔ اس نے کئی بار چڑیا کو پودوں کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھا تھا۔ شروع شروع میں وہ ایکسائٹڈ ہو کر اپنی ممی کو بتانے کی کوشش کرتی تھی لیکن آہستہ آہستہ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کی ایسی ہر کوشش کے دوران چڑیا غائب ہو جاتی تھی اور اس کی ممی کو بھی لان کی جھاڑیوں اور پودوں میں چھپی ہوئی کسی بچی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر اس نے اپنا یہ معمول بہت جلد بدل لیا تھا اب وہ لان میں کھیلنے کے لیے داخل ہوتے ہی دور تک پھیلے ہوئے پودوں اور جھاڑیوں میں چڑیا کی تلاش شروع کر دیتی تھی اور اکثر بڑی آسانی سے اسے ڈھونڈ لیتی تھی پھر وہ اپنی ماں کو کچھ بھی کہے بغیر اس طرح کھیل میں مصروف رہتی اور وقتاً فوقتاً کھیل سے دھیان ہٹا کر چڑیا کو بھی دیکھتی رہتی۔
    چڑیا نے اب پہلے کی طرح غائب ہونا بند کر دیا تھا۔ خاموش نظروں کا تبادلہ آہستہ آہستہ مسکراہٹوں کے تبادلے میں بدلنے لگا تھا۔ اگر کچھ نہیں ٹوٹا تھا تو ان دونوں کے بیچ خاموشی نہیں ٹوٹی تھی۔ ڈی سی کی بیوی لان میں کرسی پر بیٹھی یا تو کوئی کتاب پڑھتی رہتی یا پھر پینٹنگ کرتی رہتی اوروہ لان میں سائیکل چلاتے یا فٹ بال کھیلتے ہوئے دور پودوں میں چھپی چڑیا کو دیکھ کر مسکراتی رہتی۔ کبھی کبھار وہ سائیکل چلاتے چلاتے جان بوجھ کر چڑیا کے بہت قریب سے ہو کر گزرتی اور کبھی وہ کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر پودے کے قریب بال پھینک دیتی جہاں چڑیا چھپی ہوتی، یہ جیسے چڑیا کو کھیل کی دعوت دینے کی ایک غیر ارادی کوشش تھی جسے چڑیا نے کبھی قبول نہیں کیا تھا، وہ یہ جرأت کر ہی نہیں سکتی تھی کہ لان میں صاحب یا ان کی بیوی کی موجودگی میں وہ باہر نکل آتی۔ خیر دین نے اسے سختی سے منع کیا تھا، وہ ایک بچگانہ تجسس کی وجہ سے وہاں آ تو جاتی تھی لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے کبھی اس کے نانا کو ڈانٹ پڑے۔ اس نے بہت بار مختلف آفیسرز کے ہاتھوں اپنے نانا کو ڈانٹ کھاتے دیکھا تھا اور یہ اسے کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا اگرچہ خیر دین ہر بار ایسے کسی موقع پر ا سکی موجودگی پر بعد میں اسے بٹھا کر اپنے صاحب کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
    ”دیکھو چڑیا جب غلطی ہوتی ہے تو ڈانٹ پڑتی ہے اور نہ ہر ڈانٹنے والا برا ہوتا ہے نہ ہی ہر ڈانٹ۔”
    ”پر نانا… آپ کی زیادہ غلطی تو نہیں تھی۔” وہ اپنا نانا کا دفاع کرتی۔
    ”تھوڑی تھی پر تھی تو سہی نا… اب اگر صاحب غلطی پر کسی کو بھی نہ ڈانٹا کرے تو ہر ایک کام خراب کرنا شروع کر دے گا۔” چڑیا خیر دین کی بات پر سر ہلا دیتی لیکن اس کے باوجود خیر دین جانتا تھا کہ وہ خیر دین کو پڑنے والی کسی ڈانٹ پر بہت ناخوش ہوتی تھی۔
    ”ہیلو۔” باربی ڈول نے جواباً مسکرا کر کہا تھا۔ اسکول میں پہلے دن وہ پہلا شناسا چہرہ تھا جو اسے نظر آیا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ چڑیا سے لپٹ ہی جاتی۔
    ”تم یہاں اسٹڈی کے لیے آئی ہو؟” چڑیا اس کے ہیلو پر مسکرائی تھی، باربی ڈول نے سر ہلایا۔
    ”ممی پاپا کے ساتھ آئی ہو؟” باربی ڈول کا سر ایک بار پھر ہلا لیکن ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آئے تھے۔ اسے یک دم یاد آ گیا تھا کہ اس کے ممی پاپا اسے صبح وہاں چھوڑ گئے تھے اور وہ وہاں اکیلی تھی۔ چڑیا اس کے آنسو دیکھ کر جیسے تڑپ اٹھی تھی۔
    ”رونا نہیں باربی ڈول۔ اچھے بچے تو نہیں روتے نا۔” اس نے آگے بڑھ کر باربی ڈول کے گالوں پر لڑھکتے آنسو پہلے اپنے ہاتھوں سے پونچھے پھر اپنے فراک کی جیب سے رومال نکال کر اس سے باربی ڈول کا چہرہ صاف کیا۔




  • پچیس ہزار – حمیرا نوشین

    ڈھولک کی تھاپ اس کے دِل کی دھڑکنوں کی رفتار میں اضافے کا باعث بن رہی تھی، مسکراہٹ پورے استحقاق سے اس کے لبوں کی مکین بن گئی۔ خوش آئند خیالوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ فرینڈز اور کزنز ”حسنین” کا نام لیکر اسے گدگدا رہی تھیں، آج مہندی کی رسم تھی اور کل بارات آنی تھی۔ آج اس گھر میں وہ ناکتخدا اپنی آخری رات بسر کر رہی تھی۔صبح وہ ملیحہ افتخار سے ملیحہ حسنین کے نام سے پہچانی جائے گی۔ حسنین کا نام اس کے دل میں ہلچل مچانے لگا۔ غیرخاندان میں شادی کا خوف بھی آنکھوں میں ہلکورے لے رہا تھا مگر دوسرے ہی پل اسے جھٹک کر سہانے خواب اس کی پلکوں پر بسیرا کرنے لگے اور وہ ان خوبصورت وادیوں کی سیر کرنے لگی۔
    ٭…٭…٭





    ”پچیس ہزار سے ایک روپیہ کم نہیں ہوگا۔”
    ”یہ لو پچیس اور یہ ہزار روپیہ تھامو آپکے پچیس ہزارکا مطالبہ مان لیا گیا ہے۔” دولہا کے بھائی نے نوٹ آگے بڑھائے۔
    ”ارے واہ! ہمیں کیا بے وقوف سمجھا ہوا ہے؟ ہزار ہزار کے پچیس نوٹ ہمارے خوبصورت ہاتھوں میں تھمائیے۔” دلہن کی کزن اترائی۔
    ”میڈم رہتی پاکستان میں ہیں اور دودھ کی قیمت ڈالرز میں وصول کررہی ہیں۔” دوست دودھ کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا۔
    ”دلہن بھی تو اتنی قیمتی لے جارہے ہیں۔ تو ذرا دودھ پلائی بھی شایانِ شان ہونی چاہئے۔”
    ”یہ لیں پانچ ہزار پکڑیں اور عیش کریں” دولہا کے بہنوئی نے ہرے ہرے پانچ نوٹ لہرائے۔
    ”پانچ ہزار واپس اپنی جیب میں ڈالیں، پندرہ سالیوں میں یہ نوٹ اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات ہوگی۔”
    ”اونٹ نہیں خوبصورت اونٹنی کے منہ میں زیرہ۔” منچلے دوست نے فقرہ کسا۔ ”باتیں نہ بنائیے، نوٹ نکالیے” خوبصورت حنائی ہتھیلی سامنے ہوئی۔
    ”یہ لو ایک اور نوٹ کا اضافہ کردیا آپ کے حسین اور نازک ہاتھ دیکھ کر” وہ رومانٹک ہوا۔
    ”ان خوبصورت ہاتھوں کی قیمت آپ دے ہی نہیں سکتے۔”
    ”ارے آپ ہمارے ہاتھوں میں تھمائیں تو سہی ہم بدلے میں دل و جان آپ پر فدا کردیں گے۔” بے باک دوست نے ہاتھ ہی پکڑ لیا۔
    ”فی الحال تو ہمارا مطالبہ پورا کر دیجئے، دل و جان لینے کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔” وہ ہاتھ کھینچ کر دل ربائی سے مسکرائی۔
    لوگوں کا اشتیاق بڑھنے لگا۔ اس نوک جھونک کا مزہ لینے اسٹیج پر سب ہی چڑھ آئے۔ مووی والا لڑکیوں کے تھوڑا اور قریب ہوکر مووی بنانے لگا۔ لڑکے لڑکیوں کا باہم اختلاط کوئی اور ہی رنگ بکھیرنے لگا۔ لڑکیوں کے چہرے پرُ شوق نگاہوں کی تپش سے دہکے جارہے تھے اور لڑکوں کے دل قابو میں ہی نہیں رہے تھے۔ اچھے خاصے شریف گھرانوں کی لڑکیاں بن سنور کر دوپٹوں سے بے نیاز دولہا کے دوستوں اور رشتہ داروں کے سامنے کھڑی ان کے ایمان متزلزل کررہی تھیں۔ نوجوان تو ایک طرف جوان بچوں کے باپ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔
    ”بھئی جلدی کرو دیر ہورہی ہے۔” دولہا کی ماں کی کہیں سے آواز ابھری۔
    ”آنٹی جان آپ کے کنجوس بیٹے جیب ہی ڈھیلی نہیں کررہے، ہم تو کب کا چھوڑ دیتے انہیں۔”
    ”ارے بھئی فارغ کرو ان کو دے دلا کر” لہجے میں ناگواری جھلکنے لگی۔
    ”ہاں تو ہم نے کون سا ان کو پلو سے باندھ رکھا ہے؟ پیسے دے کر گھر کو سدھاریں۔” دوسری طرف سے جوابی حملہ ہوا۔
    ”لو بھئی نہ تمہاری نہ ہماری، یہ دس ہزار پکڑو۔” بہنوئی دولہا کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگا۔
    ”نہ… نہ… نہ اتنا سستا نہیں چھوڑیں گے۔ دولہا بھائی، کماؤ بیوی دے رہے ہیں۔ پچیس ہزار مہنگا سودا نہیں ہے۔ ایک تنخواہ میں ہی حساب پورا ہو جائے گا۔” سالی نخرے سے بولی۔
    ”کمائے گی تو کیا ہمیں کھلائے گی؟ اپنے ہی اوپر خرچ کرے گی ۔”دولہا کی بہنوں کے لہجے اکھڑنے لگے۔
    ”تیور نہ دکھائیں پچیس ہزار کے نوٹ دکھائیں۔”





    ”کیا زندگی میں کبھی پیسے ہی نہیں دیکھے؟”
    ”ہم نے تو بہت دیکھے ہیں لگتا ہے آپ کنگلے خالی جیبیں لے کر آگئے۔ دلہن لینے آئے تھے تو کچھ نوٹوں کو بھی ساتھ لے آتے۔” سیر کو سوا سیر مل رہا تھا۔
    ”کیوں؟ کیا بیٹی بیچنی ہے تم لوگوں نے؟” اچانک دولہا کی ماں کے تیور بدل گئے۔
    ”ارے ہمیں کیا پتا تھا کہ یہ بیٹی کی بولی لگائیں گے۔ اتنی سستی بیٹی بیچیں گے۔ صفدر نکال پچاس ہزار روپے، ہم ڈبل میں خرید لیں گے۔”
    بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔
    دولہا دلہن کے بھائی اور والدین کے درمیان اسی بات پر تلخ کلامی بڑھنے لگی۔ لڑکیاں سٹیج سے نیچے اتر آئیں۔
    ”ایک رسم پر ہی تو بچیوں نے کچھ پیسے کیا مانگ لئے آپ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔” والد جوش میں آگئے۔
    ”ہاں تو رسم کو رسم ہی رہنے دیں کمائی کا ذریعہ تو نہ بنائیں۔” دولہا کے والد کا بھی تابڑ توڑ جواب آیا۔ لڑکی کے باپ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”اپنی کماؤ بچی کو اپنے پاس ہی رکھیں۔ ارے ابھی سے ان لوگوں کا یہ حال ہے کل کو میرے بچے کو لوٹ کے کھا جائیں گے یہ تو۔” ماں کو مستقبل کی فکر ستانے لگی۔
    ”ہمیں بھی اپنی بہن بھاری نہیں ہے، آپ جیسے کنگلوں کے حوالے کرنے سے تو بہتر ہے کہ اس کو ساری عمر گھر پر بٹھائے رکھیں۔” بھائی غصے سے بپھرنے لگے۔
    ”ہاں تو بٹھاؤ شوق سے اپنے گھر، چل حسنین دے طلاق۔” خوشیوں کی فضا مکدر ہوگئی۔
    اس صورتِ حال پر دولہا دم سادھے کھڑا تھا۔
    ”تو پھر دیر کس بات کی ہے؟ فارغ کرو ہماری بچی کو، رشتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اس کے لیے’۔’ پھوپھا نے بھی حصہ ڈالا، پرانی رنجش کا بدلہ لینے کا یہ صحیح موقع تھا۔
    ”ہاں… ہاں ایسے فقٹوں میں رشتہ داری ہمیں قبول نہیں۔” دو تین اور بیچ میں کود پڑے۔
    ”میں کہتا ہوں اس قصے کو ابھی نمٹا دے۔” باپ بیٹے کی خاموشی سے جھنجھلایا۔
    مگر… ابا!
    ”میں کہہ رہا ہوں جلدی سے تین الفاظ کہہ دے۔ نہیں تو ساری عمر معاف نہیں کروں گا۔”
    اب… با… وہ…
    ”دے طلاق” باپ دھاڑا۔
    ”اماں میں کیسے…؟” وہ مخمصے میں پڑ گیا۔
    ”جیسے قبول ہے کے لفظ ادا کئے تھے، اسی طرح بھرے مجمع میں ان کی بیٹی کو تین الفاظ کہہ کر فارغ کر ورنہ دودھ نہیں بخشوں گی تجھے۔”
    سب کو سانپ سونگھ گیا۔
    اور دولہا نے تین قبیح الفاظ کہہ کر فرماں برداری کا ثبوت دے دیا۔
    بارات خالی واپس چلی گئی۔ بیٹی کی ماں غش کھا کر گر پڑی۔ باپ کے کندھے جھک گئے۔
    بھائی منہ چھپا کر کمروں میں جادبکے۔
    لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے اور اندر کمرے میں سجی سنوری دلہن چند گھنٹوں میں ہی باپ کی دہلیز پر بیاہتا سے مطلقہ ہوگئی۔ محض ایک رسم کے ہاتھوں، خوابوں کا محل چکنا چور ہوگیا۔ لبوں پر مسکراہٹ کی جگہ اداسی نے قبضہ جمالیا۔
    سرخ ہتھیلی خون بن کر رلانے لگی، اس کی خوشیوں کو معاشرے کی ایک رسم نے نگل لیا تھا۔

    ٭…٭…٭