وہ اس کے ساتھ رہتا تو وقت کا قطعاً خیال نہ رہتا، گھر فون کرنا بھول گیا۔

گھر والوں کے شکوے بجا۔وہ شرمندہ تھا اصل میں یہاں دن رات کا وقت الگ ہوتا ہے۔

”تھک گیا تھا، شرمندہ ہوں۔”

ابا ہنسا۔”گدھے بس تجھ سے گل ہوگئی تو ہوگئیں ساری فکریں دور۔

تو نہ فکر کر، خیر ہے سب؟”

پھر پلٹ کر جیجی سے کہا۔”میں نہ کہتا تھا کہ سارنگ جاتے ہی بتائے گا۔ وہ تو بس دن رات کا فرق، وہ تو بس یونہی۔ وہ تو بس تھکن اور مصروفیت۔” اور وہ تو بس کے بھروسے پر سات آٹھ ماہ گھنٹیاں بجاتے ہوئے گزرتے گئے۔

سندھیا ہر وقت آسمان کو تکنے لگی۔جیجی صلوٰاتوں میں مگن ہوتیں۔سوہائی کام کاج،سندھو اور کہانیوں کا راج۔ اب وہ بھی شکوہ اور شکایات۔

اور ابا کھیت، فصلیں، نہر، کنارے، کام کاج اور حساب کتاب۔رات کو تھکن اور کھٹارہ ریڈیو، اس کی آوازاور گُنگناتے گیت،مگر بہت کچھ۔

سبھاگی دیور کے کمرے میں آئی تھی، حسن چوکھٹے پر بیٹھا چونکا۔

”بھرجائی آپ؟”

اسے اندازہ نہ ہوا کہ کچھ بُرا ہے یااچھا، مگر جو بھی ہے بہت اہم ہے۔

سبھاگی کے تاثرات کسی اچھی بات کا پتا تو نہ دیتے تھے۔حسن چوکس بیٹھ گیا۔

ادھرسارنگ کے گرد زندگی تنگ ہونے لگی۔جب سوال کا وقت سر اُٹھاتا ہے تو تمام صدیاں پھلانگ لیتا ہے۔

سب کچھ جیسے گڈمڈ، دن رات،لمحے پل،وقت، مہینے صدیاں، سال،سب کچھ گھن چکر۔

گول جھکڑ، سنسناتی ہوائیں،یا جیسے تیز بارش،کڑکتی بجلی یا جیسے آسمانی تلوار۔

سوال بعض اوقات کئی روپ دھارلیتے ہیں۔

جیسے انکشاف۔

”بھرجائی خیر؟” حسن ان کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔

”خیر ہے بھی اور نہیں بھی۔”

وہ موڑھا گھسیٹ کر بیٹھ گئیں۔

”آپ حکم کریں بھرجائی، بھاحاضر ہے۔”

بھرجائی نے بھا کی طرف دیکھا اور پھر کھڑکی سے باہر۔

”ادا حسن!سچ بتائیں، سارنگ اس نکاح سے خوش تھا نا؟”

حسن کوجیسے چپ نے آلیا۔ ”بھرجائی سارنگ نے خود مجھے کہا تھا کہ وہ نکاح کرنا چاہتا ہے۔”

”مگر ایسا کیا ہوا کہ آپ کو سارنگ کی خوشی پوچھنی پڑگئی؟” (کہہ نہ سکا کہ آپ بس سندھیا کی خوشی کی پرواکریں۔)

”ادا حسن اُسے گئے آج سات ماہ ہوگئے۔ پیچھے پلٹ کر تو نہیں دیکھا۔ چلیں اس کی مجبوری ہے مگر بھولے سے کبھی سندھیا سے بات نہ کی، پوچھا تک نہیں۔خط تک نہیں لکھا۔” لہجے میں اُداسی تھی۔

وہ سوچ میں پڑگئے۔

”بھرجائی آپ کو تو ہماری رسم رواج کا پتا ہے کہ منسوب ہونے کے بعد ایک پردہ ہوتا ہے۔ چھو کر اچھو کری بات نہیں کرتے ایک حجاب آجاتا ہے۔”

”آپ نے درست کہا مگر ادا سندھیا اب اس کی منگ نہیں، منکوحہ ہے۔خط لکھ کہ چار لفظ خیر خیریت کے پوچھے گا تو اسے خوشی ملے گی۔”

”یہ تو سچ کہا بھرجائی مگر مجھے لگتا ہے سارنگ نے اس بارے میں نہیں سوچا ہوگا۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ نا خوش ہے یا اس نے سندھیا کو دل سے قبول نہیں کیا۔ بہرحال اگر کل کوئی سارنگ سے کوتاہی ہو بھی جاتی ہے تو آپ فکر نہ کریں۔مجھے سارنگ سے زیادہ سندھیا عزیز ہے۔آپ نہ سمجھیں مولا بخش مرگیا۔مولا بخش مجھے تو چھڈ گیا ہے نا سندھو کی خاطر۔ اب جب تک حسن بخش زندہ ہے، سندھو کے گرد دکھ نہیں بھٹکے گا۔”

سندھو نے دروازے کے باہر کھڑے سب سُن لیا۔ابے کے بعد پہلی بار ابا کا گمان ہوا تھا۔ وہ قدرے مطمئن ہوئی اور محلے کی شادی میں جانے کے لیے سوہائی کے ساتھ تیاری کرنے لگی۔ 

”مگر بھرجائی، میں اسے اس کی بے پروائی کا احساس ضرور دلائوں گا۔آپ دل ٹھنڈا کریں، تسلی رکھیں۔”

سبھاگی سب کچھ اس پہ چھوڑ کر آگئی مگر دل میں ابھی بھی تک چھوٹا سا کانٹا چبھا تھا۔

سندھیا کو سوہائی کے ساتھ تیار ہوتے دیکھ کر دل سے کچھ تو بوجھ ہٹ گیا تھا۔

جیجی نے عشا کی نماز کی راہ لی۔

اور حسن لڑکیوں کے تیار ہونے کا انتظار کررہا تھا کہ وہ تیار ہوں تو بچیوں کو شگن کی چیزیں دے کر، شادی کے گھر چھوڑ آئے۔

سوہائی پراندہ ڈالے گنگناتی رہی۔

سبھاگی نے گھوری ڈالی تو ہنس دی۔

Loading

Read Previous

شریکِ حیات قسط ۵

Read Next

شریکِ حیات قسط ۸

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!