دانہ پانی — قسط نمبر ۱

سال بھر کی موتیا صحن میں چلنا سیکھ رہی تھی اور گامو اور اللہ وسائی بیٹھے اسے دیکھتے ہوئے جیسے اس پر قربان جارہے تھے۔
”دیکھ کیسے چلتی ہے میری موتیا اللہ وسائی! جیسے ہوا میں چل رہی ہو۔” گامو نے کہا تھا اور پھر اپنی بات پر خود ہی ہنس پڑا۔
”تونے بال دیکھے ہیں اس کے گامو! ریشم ہے ریشم، نہ تیرے بال ایسے ہیں نہ میرے۔ یہ کہاں سے لے آئی یہ بال۔”
اللہ وسائی نے چارپائی کو پکڑ کر اس کے پاس آنے کی کوشش کرتی موتیا کو دیکھ کر کہا تھا، وہ اب اس کے بالوں میں اُنگلیاں پھیر رہی تھی۔
”تو رنگ روپ دیکھ ، نین نقش دیکھ، میری تو سات پشتوں میں کوئی ایسا نہیں ہے اللہ وسائی۔”
گامو ہر روز کی طرح آج بھی بیٹی کو دیکھتا اس کے قصیدے پڑھ رہا تھا۔
”نہ کہا کر ایسے گامو! نہ گنا کر میری موتیا کے نین نقش، نظر لگتی ہے۔”
اللہ وسائی نے یک دم موتیا کو اُٹھا کر گود میں لیتے ہوئے اوڑھنی ڈال کر جیسے اسے گامو کی نظروں سے بھی چھپانے کی کوشش کی تھی۔
”ٹھیک کہہ رہی ہے تو، تو روک دیا کر مجھے۔” گامو نے فوراً ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔ وہ اب اوڑھنی سے نکلنے کے لئے مچلتی ہوئی موتیا کو دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔
”میں کیا کروں، مجھے خود بھی خیال نہیں رہتا۔” اللہ وسائی نے ہنستے ہوئے موتیا کو ایک بار پھر آزاد کرتے ہوئے کہا۔
”تجھے پتا ہے گامو! میرا دل کیا کرتا ہے؟” اس نے چارپائی سے اُترتی موتیا کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”کیا؟” گامو نے جواباً پوچھا۔
”میں موتیا کو پڑھاؤں، لکھاؤں ۔” گامو نے حیرانی سے بیوی کو دیکھا۔
”پڑھاؤں لکھاؤں؟”
”ہاں! جیسے تاجور بی بی کو پڑھایا ہے پیر صاحب نے ۔ میں سوچتی ہوں اسے وہ ڈاکٹرنی نہ بنادیں جو کبھی کبھی گاؤں کی ڈسپنسری میں آتی ہے۔ ”
اللہ وسائی کے خوابوں پر کوئی قید ہی نہیں تھی۔
”ہاں! ڈاکٹرنی بن جائے تو اچھا ہے پر تیرے میرے پاس اتنے پیسے کہاں ہیں؟”
گامو نے سرکھجاتے ہوئے بیوی کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔
”تو جمع کرلیتے ہیں نا، ابھی تو بڑا وقت پڑا ہے اس کے بڑے ہونے میں۔ تب تک جوڑلیں گے اتنا پیسہ۔” اللہ وسائی نے فوراً سے پیشتر کہا تھا۔
”ہاں! پر پتا نہیں برادری والے کیا کہتے ہیں۔ گاؤں میں رواج کہاں ہے لڑکیوں کو پڑھانے کا۔” گامو کو خیال آیا تھا۔
”رواج تو بنانے پڑتے ہیں گامو، ہم ڈالیں گے رواج، موتیا پڑھ لکھ کے ڈاکٹر بن گئی تو گاؤں کا ہی فائدہ ہے۔”
گامو اس کی بات پر سرہلانے لگا تھا۔
”ٹھیک کہتی ہے تو!”
”میں سوچتی ہوں بھٹی لگا لوں، چار پیسے وہاں سے بھی آجائیں گے۔”
اللہ وسائی اب ان کاموں کے بارے میں سوچنا شروع ہوئی تھی جو کرکے وہ اپنی کمائی بڑھا سکتی تھی۔
”اتنے سال تجھے بھٹی لگانے نہیں دی اب لگانے دوں ۔” گامو ملول ہوا۔
”تو کیا ہوا؟ اولاد کے لئے تو بڑاکچھ کرتا ہے انسان یہ تو پھر بھٹی ہے۔”
اللہ وسائی نے ہنس کر کہا تھا۔ اس کی زبان میں تتلاہٹ تھی، سوچ میں کوئی تتلاہٹ نہیں تھی۔ وہ موتیا کو زمین پر نہیں آسمان پر دیکھنا چاہتی تھی۔
…٭…

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

”ہے نا بابا جان خوب صورت میرا مراد!” ننھا مراد پیر ابراہیم کے بستر میں سورہا تھا اور پیر ابراہیم اس پر آیات پڑھ پڑھ کر پھونک رہے تھے جب تاجور نے ان سے کہا تھا۔ وہ رہنے کے لئے اپنے باپ کے گھر آئی تھی۔
”ماشاء اللہ! اللہ نظرِ بد سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔” پیر ابراہیم نے مسکراتے ہوئے تاجور کو دیکھ کر کہا تھا۔
”بس۔ آپ دعا کریں، میرے بھی سات بیٹے ہوں جیسے میرے سات بھائی ہیں۔”
تاجور نے باپ سے اصرار کیا تھا۔
”اللہ عطا کرنے والا ہے۔ اس کے خزانے میں کیا کمی ہے۔” پیر ابراہیم نے جواباً کہاتھا۔
”بابا جان! ویسے واقعی نصیبوں والی ہوں میں۔ پہلے ہی سال اللہ نے بیٹا دے دیا اور اس سال فصل بھی چار گنا ہوئی ہے، خوش بختی لائی ہوں میں حویلی کے لئے۔” پیر ابراہیم نے بیٹی کا پرُ تفاخر انداز دیکھا اور بڑی سنجیدگی سے کہنے لگے:
”بار بار اپنی خوش قسمتی کو نہیں دہراتے تاجور! سارے انسان قسمت اور نصیب لے کر آتے ہیں بس ہمارے اعمال ہوتے ہیں جو ہمارے آگے آتے ہیں یا پھر آزمائشیں۔ اور اللہ تعالیٰ آزمائشوں سے سب کو محفوظ رکھے۔” وہ کہتے ہوئے تسبیح کرنے لگے تھے۔
تاجور کو ان کی باتیں اچھی نہیں لگی تھیں۔
”بابا جان! میں وہ کہہ رہی ہوں جو جھوک جیون میں سب کی زبان پر ہے۔ جب سے میں وہاں گئی ہوں جھوک جیون کے کھیت لہلہانے لگے ہیں، بارشیں ہونے لگی ہیں۔ ورنہ آپ کو تو پتا ہے ابّا جی کیسے ہر سال پریشان ہوکر آیا کرتے تھے بارش کی دعا کروانے۔ ”
تاجور نے جیسے باپ کو یاد دلانے کی کوشش کی تھی۔
”اللہ نے برکت ڈال دی، رحمت بھیج دی جھوک جیون میں۔ وہ صرف تمہاری وجہ سے تھوڑی ہوگا۔ پتا نہیں کتنے نیک لوگ ہوں گے وہاں دُعائیں اور عبادتیں کرنے والے ۔ پتا نہیں کس کی دعا لگی ہوگی۔ کس کی قبول ہوئی ہوگی۔” تاجور اس بار خفا ہوگئی تھی۔
”ایک تو ابّا جان آپ ہمیشہ مجھے ہی ٹوکتے ہیں۔ ”
پیر ابراہیم ہنس پڑے اور کہا:
”اچھا یہ ساری باتیں چھوڑو، یحییٰ کا رشتہ طے کردیا ہے میں نے۔”
انہوں نے بات بدلی تھی اور تاجور کو جیسے کرنٹ لگا تھا۔ وہ اس کا بڑا بھائی تھا۔
”بھائی جان کا رشتہ؟ اور مجھ سے پوچھا تک نہیں۔ میں نے لڑکی دیکھنے جانا تھا۔ میں پسند کرتی پھر ہاں کرتے آپ۔”
پیر ابراہیم اس کی بات پر سنجیدہ ہوگئے تھے۔
”یہ رواج نہیں ڈالنا میں نے اپنے خاندان میں کہ لڑکیاں دیکھ دیکھ کر پسند یا نا پسند کریں۔ خاندان اچھا ہے بس تو اچھی رہے گی ہمارے گھر آکر بھی۔” پیر ابراہیم نے جیسے بات ختم کی تھی۔
”بابا جان! رنگ روپ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ بھائی جان اتنے خوب صورت، اونچے لمبے ہیں اور آپ بغیر دیکھے کوئی بھی لڑکی لے آئیں گے اُن کے لئے۔ ”
تاجور کو باپ کی بات بالکل پسند نہیں آئی تھی اور پیر ابراہیم اس کی بات پر یوں ہنسے تھے جیسے وہ انہیں بچوں کی باتیں لگی تھیں۔
”تاجور! تو نے کہاں سے سیکھ لی ہیں یہ ساری باتیں؟ ماں تیری ولی تھی اور باپ تیرا لوگوں کی خدمت کرنے والا اللہ کا بندہ۔ تیرا نخرہ کس پر چلا گیا ہے؟” انہوں نے ہنستے ہوئے تاجور سے کہا تھا۔
تاجور نے جیسے مزید برا ماناتھا۔
”ٹھیک ہے بابا جان! آپ کریں جہاں بھی کررہے ہیں بھائی جان کا رشتہ، تاجور کو نہ پوچھیں۔ پر جب تاجور اپنے بیٹے کا رشتہ کرے گی نا تو چھان پھٹک کر دیکھ بھال کر کرے گی۔ ایسے ہی نیکیاں اچھائی دیکھ کر نہیں کر دے گی۔” اس نے جیسے باپ کو سُنایا تھا۔
”کیا پتا مراد کے دل کو کیا بھا جائے پھر تو اس کے دل کا کیا کرے گی؟”
پیر ابراہیم نے عجیب سے انداز میں کہتے ہوئے پہلے مراد کو اور پھرتاجور کو ہنس کر دیکھا۔
”ماں کے دل سے بڑھ کر کوئی دل نہیں ہوگا اس کے لئے بابا جان۔” تاجور نے جیسے بات ہی ختم کردی تھی۔ مراد اب ہلتے جلتے ہوئے جمائیاں لینے لگا تھا۔
پیر ابراہیم بیٹی کو دیکھتے رہے۔
…٭…
وہ گاؤں کے سکول میں موتیا کا پہلا دن تھا اور گامو اور اللہ وسائی اسے خود چھوڑنے آئے تھے۔ وہ اس سرکاری سکول میں لڑکوں کے ساتھ جانے والی پہلی لڑکی تھی اور اسکول کے پہلے ہی دن اس کا سامنا مراد سے ہوا تھا جو چوہدری شجاع اور اپنے ملازموں کے ساتھ اسکول آیا تھا ۔ اس کا بیگ ایک ملازم نے پکڑ ا ہوا تھا اس کے پانی کی بوتل دوسرے نے اور تیسرے نے اس کی کرسی اور میز جوتاجور نے شہر سے منگوائی تھی کیونکہ گاؤں کے اسکول میں ٹاٹ تھے۔
تاجور اور شجاع نہ چاہتے ہوئے بھی مراد کو گاؤں کے اسکول بھیجنے پر مجبور تھے کیونکہ وہاں وہ ایک ہی اسکول تھا اور آس پاس کے دیہات میں جو اسکول تھے، اُن کا حال بھی ویسا ہی تھا۔ وہ اسے شہر کے کسی بورڈنگ اسکول میں داخل کروانے کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ مراد کے بعد تاجور کے ہاں ابھی تک کوئی اور اولاد نہیں ہوئی تھی۔
”ارے گامو! تو کہاں جارہا ہے؟”
شجاع نے گامو اور اللہ وسائی کو موتیا کے ساتھ اسکول جاتے دیکھ کر جیسے کچھ حیران ہوکر پوچھا تھا۔
”چوہدری صاحب! موتیا کو بھی اسکول داخل کروادیا ہے۔ پڑھائیں گے اسے۔” گامو نے کہا تھا۔
چوہدری شجاع نے مسکراتے ہوئے بے حد حیرانی سے موتیا کو دیکھا اور جیسے دل ہی دل میں چشمِ بددور کہا۔ وہ بچی گامو اور اللہ وسائی کے پاس کھڑی کسی ہیرے کی طرح دمک رہی تھی۔
”چلو یہ تو بڑا اچھا ہے، گاؤں میں بھی لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج آئے۔”
چوہدری شجاع نے کہا اور مراد کو اٹھائے ہوئے ملازم کے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گیا تھا۔
پر مراد کی آنکھیں ملازم کی گود میں بھی بس موتیا پر ٹک گئی تھیں جو اس کے عقب میں اپنے ماں باپ کے ساتھ آرہی تھی۔
بچپن معصوم ہوتا ہے اسی لئے مومن ہوتا ہے اور حسن پرست بھی۔ ننھا مراد اس لمحے میں موتیا کے ساتھ دوستی کرنے کے لئے کچھ بھی کرسکتا تھا، اسے وہ ایسی ہی پیاری لگ گئی تھی۔
”میں نے اُس کے ساتھ بیٹھنا ہے۔ ”
اُس نے اندر کلاس میں ضد کی تھی موتیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو ٹاٹ کے ایک سرے پر سب لڑکوں سے الگ بیٹھی ہوئی تھی اور مراد کی کرسی اور میز ماسٹر کی کرسی اور میز کے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ چوہدری شجاع نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر وہ نہیں مانا تھا، اس کو موتیا کے ساتھ ہی بیٹھنا تھا اور وہ بالآخر موتیا کے پاس ٹاٹ پر بیٹھ گیا تھا۔ جتنا چہرہ مراد کا کھلا تھا اُس سے زیادہ چمک موتیا کے چہرے پر آئی تھی۔
”دوستی؟ ”
ایک انگلی کو کنڈے کی طرح کرتے ہوئے موتیا کی طرف بڑھاتے ہوئے مراد نے اس سے پوچھا تھا۔ موتیا نے اپنی انگلی کا کنڈا اس کی انگلی میں ڈالتے ہوئے سرہلا دیا تھا۔ مراد نے اپنی بوتل کو موتیا کے منہ کے ساتھ لگا دی تھی۔ موتیا نے جھجکتے ہوئے پہلی بار حویلی کا وہ پانی پیا تھا جو اس کا باپ گامو ہی وہاں پہنچا کر آتا تھا۔
وہاں کھڑے گامو، اللہ وسائی ، چوہدری شجاع اور اُس کے ملازم ہونٹوں پر مسکراہٹیں لئے ہوئے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ وہ بچوں کی دُنیا تھی اور اس میں بس باغ ہی باغ ہوتے ہیں۔
ماسٹر صاحب نے پڑھانا شروع کیا تھا۔
پڑھو الف سے اللہ
جو سب کا ہے
الف سے اللہ
جو سب کا ہے
موتیا اور مراد بھی ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے پہلا سبق پڑھ رہے تھے۔ موتیا مراد کو پہلے ہی دن زمین پر لے آئی تھی۔
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

الف — قسط نمبر ۱۲ (آخری قسط)

Read Next

عام سی عورت — مریم جہانگیر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!