الف — قسط نمبر ۰۸

”تم بھی حد کرتی ہو مومنہ۔ ایسے دیتے ہیں انٹرویو؟ اس طرح کرواتے ہیں فیملی فیچر؟ وہ بھی ہالی وڈ میں کام کرنے کے بعد۔”
اقصیٰ اس پر ناراض ہو رہی تھی۔ وہ اور مومنہ اپارٹمنٹ دیکھنے آئی ہوئی تھیں جو داؤد نے مومنہ کے لیے ڈھونڈا تھا اور جہاں اسے اگلے دن شفٹ ہونا تھا اور اپارٹمنٹ میں پھرتے ہوئے اقصیٰ کو وہ انٹرویو یاد آگیا تھا جو داؤد کے بھیجے ہوئے کسی نیوز رپورٹر کو مومنہ نے دیا تھا۔
”ایسے نہیں دیتے انٹرویو تو پھر کیسے دیتے ہیں؟” مومنہ نے بڑی لاپروائی سے اس سے کہا تھا۔
”کسی ریسٹورنٹ میں بلواتیں انہیں یا میرے گھر بلاتیں جو presentable ہوتا۔” وہ کچن کی کیبنٹ کھول کھول کر اسے دکھاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”وہ اچھے لوگ تھے۔” اقصیٰ نے اس کی بات مکمل نہیں کرنے دی۔
”تم سمجھتی ہو تمہارے ساتھ کھانا کھا کر نمک حلالی کریں گے وہ۔ ۔۔یہ خبر نہیں لگائیں گے کہ تم slums میں رہتی ہو۔ ٹوٹے ہوئے کرائے کے دو کمروں کے گھر میں، جس کے غسل خانے اور باورچی خانے کی چھتیں ٹین کی ہیں۔”
وہ اسے ڈانٹ رہی تھی۔
”لگا دیں مجھے فرق نہیں پڑتا اپنے اس تعارف سے۔” مومنہ نے لاپروائی سے کہا تھا۔
”نندیتا داس بننے کی ضرورت نہیں ہے فرق پڑتا ہے۔ کتنی محنت کی ہے تم نے اور ہم نے بھی تمہارا کیریئر بنانے کے لیے۔ وہ تو داؤد کے پاس لے کر چلا گیا تمہارے انٹرویو کی فوٹیج اور داؤد نے اسے روک دیا کہ اس طرح کے گھر میں تمہاری تصویر نہ لگائے۔ داؤد فوٹوگرافی کروا کے دے گا اسے۔
اچھا تھا تو مان گیا ورنہ بس کباڑہ ہی کر دیا تھا تم نے۔ اب یہ جگہpresentable ہے یہاں نئے سرے سے فوٹو شوٹ کرواؤں گی تمہاری اور دیکھو آنٹی انکل کو بھی تھوڑا گروم کر کے پھر میڈیا کے سامنے لاوؑ یا فی الحال سامنے لاوؑ ہی مت۔”
اقصیٰ کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنسی۔
”یعنی سب سے جھوٹ بولوں کہ فیملی امریکا میں ہے یا دبئی میں؟”
اقصیٰ نے اس کے ہنسنے کا برا مانا۔
”تو کیا ہوا؟ اس انڈسٹری میں سارے لڑکے لڑکیاں جھوٹ بول رہے ہیں۔ فائدہ ہی ہوتا ہے سب کو۔” اس نے مومنہ کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
”میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتی اپنے بیک گراؤنڈ کے بارے میں۔”
مومنہ نے دوٹوک انداز میں کہا۔

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

”ہم سب جھوٹ بولتے ہیں مومنہ۔entertain کرتے ہیں جھوٹ بول کر۔ سوانگ رچا کر۔ پھر اگر اپنے لباس کا پیوند چھپا لیا تو کیا برا کیا؟ یہ جن لوگوں کو ہمentertainکرتے ہیں نا انہیں بھی ہمارے جھوٹ ہی پسند ہیں۔ ان کو بھی polished،groomed انگلش بولتے ہوئے اسٹارز چاہئیں۔ جن کا حسب نسب ان سے بہتر ہو۔ یہ لیڈر اور ایکٹر دونوں کو اپنے سے بہتر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں میں انہیں اپنا آپ اور اپنے حالات نظر آنے لگیں تو یہ نہ ووٹ دیں گے انہیں نہ داد۔”
اقصیٰ نے بے حد سنجیدگی سے اسے لیکچر دیا تھا۔ مومنہ اسے دیکھ کر مسکراتی رہی پھر اس نے کہا۔
”تم بہت عقل مند ہو گئی ہو اقصیٰ۔”
”میرے پاس عقل ہے تمہارے پاس اچھا نصیب۔ میں نصیحت کروں گی تم راج کرنا۔” اقصیٰ نے جواباً ہنستے ہوئے کہا تھا۔
”بکواس مت کرو۔ میرا نصیب لینا چاہو تو کبھی بھی مانگ لینا۔ ہاتھ جوڑ کے دے دوں گی۔” مومنہ نے جواباً اس سے کہا تھا اور اگلے کمرے میں چلی گئی تھی۔
”تمہیں پتا ہے قلب ِمومن کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔” دوسرے کمرے میں قدم رکھتے ہی اس کے قدموں کو جیسے اقصیٰ کی آواز نے زنجیر کیا۔
”اس کا دماغ ٹھیک کب تھا۔” مومنہ کہتے ہوئے سردمہری سے اندر گئی تھی۔
”لیکن تمہیں کیوں یاد آگیا ہے وہ اچانک؟”
”بس یار! داؤد کی زندگی حرام کر دی ہے اس نے۔۔۔ بڑا پریشان ہے داؤد۔ قلب ِمومن کوئی فلم بنانے بیٹھ گیا ہے روحانیت پر۔”
اقصیٰ نے اس کے پیچھے آتے ہوئے کہا تھا۔ مومنہ نے یک دم پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔
”جس فلم کے لیے تمہارا آڈیشن لیا تھا وہ ویسے کی ویسی پڑی ہے اور یہ دوسری فلم لے کر بیٹھا ہوا ہے۔ سوچو روحانیت پر قلبِ مومن کچھ بنائے گا تو کیا بنائے گا۔” اقصیٰ نے کہا تھا۔
”بنا لے گا اسے سب کچھ بیچنا آتا ہے اس بار روحانیت ہی سہی۔” مومنہ نے دلچسپی لیے بغیر کہا تھا۔
”تمہارے بارے میں داؤد سے پوچھا ہے اس نے ایک دو بار۔ منہ پر جوتا پڑا ہو گا اس کے تمہاری کامیابیاں دیکھ کر۔” اقصیٰ نے جیسے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا۔
”کبھی ملے کہیں تو اسے بتانا ضرور کہ اس نے کیا کیا تھا تمہارے ساتھ اور تم کہاں کھڑی ہو۔”
اقصیٰ نے کہا تھا اور مومنہ اسے بتا نہیں سکی کہ وہ اس کے ساتھ سفر کر کے آئی تھی اور اسے پھر بھی یہ خواہش پیدا نہیں ہوئی تھی کہ وہ اسے اپنی وہ کامیابیاں جتاتی جو خود اس کے لیے پھانس بنی ہوئی تھیں۔
٭…٭…٭
”قلبِ مومن اپنی اگلی کا اسکرپٹ خود لکھ رہے ہیں۔ فلم کا موضوع ہے روحانیت۔”
نیہا اپنے سیل فون پر سوشل میڈیا پر قلب مومن کی اگلی فلم کے حوالے سے پوسٹ ہونے والی ایک خبر کو باآواز بلند پڑھتے ہوئے قہقہہ مار کر ہنستی تھی۔
”اُف، اُف۔ Joke of the year۔ قلب مومن اور روحانیت۔ روحانیت اور قلب مومن۔”
نیہا اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔ کچھ فاصلے پر بیٹھا ضوفی اپنے سیل فون پر کچھ دیکھتے ہوئے نیہا کے جملوں اور حالت سے جیسے اس وقت بالکل غافل نظر آرہا تھا۔
”تم سن رہے ہو نا میں کیا بتا رہی ہوں؟” نیہا کو یک دم اس کی عدم توجہی کا احساس ہوا۔
”ہاں ہاں۔ تم قلبِ مومن کی فلم کی بات کر رہی ہو۔” ضوفی نے اس کی طرف متوجہ ہوئے بغیر جلدی سے کہا۔
”تم کیا دیکھ رہے ہو؟” نیہا کو اس کی فون میں اس قدر انہماک پر کُرید ہوئی۔
”مومنہ سلطان کا نام سنا ہے؟” ضوفی نے یک دم بڑے ایکسائیٹڈ سے انداز میں اس سے کہا۔
”یہ کون ہے؟” نیہا اُلجھی۔
”یار! وہ ہیکڑ کلف کی فلم میں آرہی ہے۔ ہماری ایک ایکٹریس ہے۔۔۔ فلم کا ٹریلر آؤٹ ہوا ہے۔ Rave Reviews مل رہے ہیں اس کی پرفارمنس کو ریلیز سے پہلے ہی۔۔۔ ابھی دو اور فلمیں سائن کی ہیں اُس نے۔”
وہ ایک ہی سانس میں کہتا چلا گیا تھا اور نیہا کو بُرا لگا۔
”تم نے تو پورا بائیو ڈیٹا رٹا ہوا ہے اس کا۔ دوستی ہے اس سے کیا؟” اس نے ضوفی پر طنز کیا تھا۔
”نہیں یار! میں تو جانتا تک نہیں ہوں۔ سوشل میڈیا پر دھوم مچی ہوئی ہے اس کی مگر تمہیں قلبِ مومن کو فالو کرنے سے فرصت ملے تو تم کچھ اور دیکھو۔” اس نے جواباً اسی طرح نیہا کو جواب دیا تھا۔
”پتا نہیں لوگوں کو کس طرح ہالی ووڈ اور بالی ووڈ میں چانس مل جاتے ہیں۔ یہاں تو یہ حال ہے کہ ہمیں پاکستان میں کام نہیں مل رہا۔” ضوفی عجیب حاسدانہ انداز میں بولا تھا۔
”Contacts ہوتے ہیں ایسی لڑکیوں کے۔ وہی استعمال کر کے چانس ملتا ہے انہیں ٹیلنٹ پر نہیں۔ پتا نہیں کیا کیا کرتی ہیں یہ ہالی وڈ اور بالی وڈ پہنچنے کے لیے لیکن تم پریشان کیوں ہوتے ہو ڈارلنگ تمہارا بھی وقت آئے گا۔”
نیہا کہتے ہوئے اس کے پاس سے اٹھ گئی تھی اور ضوفی نے مومنہ سلطان کے فیس بک پروفائل پر ایڈ ریکویسٹ بھیج دی تھی۔
٭…٭…٭
”ساری یادیں اس گھر میں تھیں۔ اس گھر کے ساتھ ہی چلی جائیں گی۔” ثریا نے بے حد اداسی سے گھر کی دیواروں پر نظر ڈالتے ہوئے مومنہ سے کہا تھا۔ وہ اس نئے اپارٹمنٹ میں شفٹ ہو رہے تھے جو اقصیٰ اور داؤد نے ان کے لیے کرائے پر لیا تھا۔ ایک پوش علاقے میں ایک بہت آرام دہ، تمام سہولیات سے مزین اپارٹمنٹ۔
ان کا سامان پیک ہو رہا تھا اور مومنہ، سلطان اور ثریا کے ساتھ چیزوں کو سمیٹتے ہوئے اس کمپنی کے لوگوں کو ہدایات دے رہی تھی جو شفٹنگ کے لیے ان کا سامان برق رفتاری اور مستعدی سے پیک کر رہے تھے۔ سامان تھا ہی کیا ان کے پاس جو سمیٹنے میں وقت لگتا۔ نیا اپارٹمنٹ پہلے ہی فرنشڈ تھا۔ ثریا بھی ہر اس چیز کو ساتھ لے جانے پر تلی ہوئی تھی جو اسے ماضی کی کسی بھی شے کی یاد دلاتی۔
”نئے گھر میں نئی یادیں بنیں گی اماں۔” مومنہ نے اسے ساتھ لگاتے ہوئے بچوں کی طرح تھپکا تھا۔
”نئی یادوں میں جہانگیر تھوڑی ہو گا۔” ثریا نے جیسے آہ بھرتے ہوئے کہا تھا۔
”وہ بہت اچھا گھر ہے اماں۔” مومنہ نے جیسے بات بدلنے کی کوشش کی تھی۔
”ہو گا۔ مگر عادت ہو گئی ہے اس پرانے سیلن زدہ گھر کی۔” ثریا اداس تھی۔ مومنہ اس کی اداسی کی وجہ سمجھ سکتی تھی۔
”میرے بس میں ہوتا تو ہم کبھی یہاں سے نہ جاتے اماں مگر کرائے کا گھر ہے یہ۔” مومنہ نے جیسے انہیں یاد دلایا تھا۔
”وہ تو دنیا کا ہر گھر ہے۔ چھوڑ کر تو ہر گھر جانا پڑتا ہے، چاہے اپنا بھی ہو۔”

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

الف — قسط نمبر ۰۷

Read Next

باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۷ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!