چائے والا — ایم رضوان ملغانی

دِن بھر کی تھکن اور مشقت نے اس کے پورے وجود کو ڈھانپا ہوا تھا۔ اسے ہلکا ہلکا بخار بھی تھا، اس کے باوجود بھی اس نے آج ناغہ نہیں کیا تھا۔ وہ سارا دن چائے بناتا اور پیالیاں بھرتا رہتا۔ ابھی تھوڑی دیر قبل ہی وہ فارغ ہوا تھا اور بادامی رنگ کی پیوند لگی، جگہ جگہ سے جلی ہوئی، میلی سی چادر پہنے سکڑا ہوا بیٹھا تھا۔ سردی کی شدت اتنی تھی کہ اس کے دانت بج رہے تھے اور مالک اتنا سخت تھا کہ جب وہ دیکھتا کہ گاہک کم آرہے ہیں تو انگیٹھی کی آگ بجھوا دیا کرتا۔ مری کا مال روڈ تھا اور دسمبر کی سردی اپنے جوبن پر تھی۔
مالک نے ہوٹل میں نیا نیا اکیس انچ کاٹی وی لگوایا تھا، ساتھ ہی ڈش بھی… ہر اتوار کو ایک چینل پر پرانی پاکستانی فلم لگا کرتی جس کا مالک کو بڑی بے صبری سے انتظار رہتا۔ اتوار آتا تو مالک کے تو وارے نیارے ہو جاتے، لیکن اس کی شامت آجاتی… عام، دنوں میں بھی اگر کوئی اچھا شو چلتا تو مالک دیکھنے بیٹھ جاتا اور ساتھ ہی اسے بھی بٹھائے رکھتا، یہ جاننے کے باوجود بھی کہ اس کی ان چیزوں میں کوئی دل چسپی نہیں۔ سامنے والی دیوار پر لگی گھڑی نے ابھی ابھی گیارہ بجائے تھے لیکن اس کے منہ پر بارہ بج رہے تھے… ٹی وی کی آواز خطر ناک حد تک تیز تھی اور سلطان راہی کے بڑھکیں پورے ہوٹل میں گونج رہی تھیں۔
”مالک! فلم ختم ہونے میں کتنا دیر ہے؟ مجھے گھر جانا ہے۔” اس نے سہمی ہوئی کپکپاتی آواز نکالی، جو اتنے شور میں مالک کے کانوں تک نہ پہنچ پائی۔ اس نے دوسری بار یہی جملہ دہرایا تو مالک نے سن لیا اور کُن اکھیوں سے اسے گھورا۔ وہ اس گھوری سے مزید سکڑ کر بیٹھ گیا۔ دوسری جانب ٹی وی پر صائمہ ناچ ناچ کر کھڑی فصلیں تباہ کررہی تھی… اور مالک ”اوتیری خیر” کرتے کرتے نہ تھکتا تھا۔
اس نے اپنا سر دیوار سے ٹکا لیا اور آنکھیں موند لیں۔ اس کی آج کی رات پھر برباد ہوگئی تھی۔
٭…٭…٭





فلم پورے بارہ بجے ختم ہوئی تھی۔ ہوٹل کا سامان سمیٹتے اور ہوٹل کے باہر پڑی کرسیاں اور میزیں اندر منتقل کرتے کرتے اسے ساڑھے بارہ ہوگئے تھے۔ مالک نے شٹر نیچے گرایا اور اس نے دل ہی دل میں شکر کا کلمہ پڑھا۔ مالک اپنی سر مستی میں جھومتا گاتا، فلم کے قصیدے پڑھتا چلا گیا اور اس نے اپنے گھر کی راہ لی تھی۔
ہلکی ہلکی سی دھند نے درختوں اور پہاڑوں کو لپیٹا ہوا تھا۔ ٹھنڈی یخ ہوائیں چل رہی تھیں جو اسے مزید کپکپارہی تھیں۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم بھرتا، اپنے ہاتھ مسلتا ہوا گھر کی طرف چلا جارہا تھا اور ذہنی طور پر خود کو روز پوچھے جانے والے سوالوں کے لیے تیار کررہا تھا۔ سوال اس کا باپ کرتا… لالہ رخ کرتی… اور اس کی ماں کیا کرتی۔ سوالوں کی نوعیت، لہجہ سب کا مختلف ہوا کرتا۔ ابا کے سوالوں میں سختی اور ڈانٹ کا عنصر غالب رہتا، لالہ رخ کے سوالوں میں لاڈ، پیار، معصومیت، شرارت، شوخی سب کچھ جھلکتا تھا اور ماں کے سوالوں میں ڈھیر ساری فکریں، اندیشے اور وسوسے ہوتے۔ وہ ان سوالوں کے جواب آرام سے سبھاؤ کے ساتھ دیا کرتا اور خود اپنے آنسو تکیے کے لیے محفوظ کئے اپنے بستر کی راہ لیتا۔ وہ جاکر لیٹتا تو ہر رات اس کے اپنے سوال اس کے ذہن میں گونجتے رہتے ایک طلاطم بپا کئے رکھتے اس کے اندر۔ لیکن وہ یہ سوال کبھی اپنوں سے نہیں پوچھ پایا تھا۔ اس نے اپنے سوال اپنے اندر دبا لئے تھے، لیکن باقیوں کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتا۔ وہ ایمل خان تھا اور ایمل خان نے کبھی ہار نہیں مانی تھی۔
٭…٭…٭
رنگوں، رعنائیوں، روشنیوں اور خوب صورتیوں سے سجی رات اپنے عروج پر تھی۔ ایک طرف ریمپ پر واک کرتے ماڈلز جلوے بکھیر رہے تھے تو دوسری جانب شو سے محظوظ ہونے والوں کا جوش دیدنی تھا۔ آگے کی قطاروں میں بیٹھے ہوئے فوٹو گرافرز کے کیمروں کے فلش ماڈلز کے ملبوسات کو اور نمایاں کررہا تھا۔ پیچھے بیٹھے لوگ ستائش بھری نگاہوں سے ماڈلز اور ان کے آؤٹ فٹس کو دیکھ رہے تھے۔ ہر لب سے “wow” کی صدا ہی گونج رہی تھی۔ روحیل وحید نے اپنی جھلک دکھلائی اور حاضرینِ محفل کے دلوں کی دھڑکنیں تھمنے لگیں۔تالیوں، سیٹیوں اور چیخوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی دیتی تھی۔ وہ مسحور کرکے رکھ دینے والے انداز میں خوب صورت سی مخملیں شیروانی پہنے ہوئے ریمپ پر چلتا ہوا آرہا تھا۔ دادوتحسین کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ ایسے میں وہاں حاضرینِ محفل میں موجود واحد لڑکی نیہا تھی جس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے تھے اور وہ اٹھ کر چلی گئی تھی۔
٭…٭…٭
”نیہا آخر تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے اتنی سی بات کو لے کر تم اتنی Hyper کیسے ہوسکتی ہو۔” وہ میک اپ روم میں تھی اور وہ بھی اس کے پیچھے وہیں آیا تھا اور آتے ہی اس نے چیخنا شروع کردیا۔
”میں تمہارے کسی سوال کی جواب دہ نہیں ہوں اور بہتر ہو گا کہ تم یہ سوال مجھ سے پوچھنے کے بجائے خود سے پوچھو۔” نیہا نے اپنا کیمرہ اٹھاتے ہوئے عجیب سے انداز میں کہتے ہوئے وہاں سے جانے لگی تو روحیل نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
”خود سے پوچھا ہے۔ کئی بار پوچھا ہے اور جب جب پوچھا ہے تمہاری اتنی سطحی سوچ پر سوائے ہنسی کے اور کچھ نہیں آیا” وہ وحشت زدہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
”مرد ہوتا ہی بے وفا ہے۔” وہ اپنا بازو چھڑاتے ہوئے بولی۔
”عورت ہوتی ہی بے وقوف ہے۔” وہ اس کے بازو کے گرد اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولا۔
”میں نے کہا مجھے جانے دو، میں تم سے مزید بحث نہیں کرنا چاہتی۔” وہ چلا کر بولی تھی۔
”اور تم میرے ساتھ بحث کر بھی نہیں سکتیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہاری سوچ بھی Typical middle class لڑکیوں جیسی ہوگی۔” اس دفعہ وہ قدرے آرام سے بولا تھا۔
”رونا تو اسی بات کا ہے تم سارے مرد عورت کو مڈل کلاس یا اپرکلاس کے طعنے دیتے دیتے زندگی گزار دیتے ہو۔ لیکن کبھی عورت کے دل کو نہیں پرکھتے۔” وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اور روحیل وحید نے سگریٹ سلگا لیا۔
٭…٭…٭




صبح کا سورج طلوع ہوا تو ہر طرف چاندنی سی پھیل گئی تھی… اُجالا ہی اجالا۔ لالہ رخ کتنی دیر سے ایمل خان کے پاس کھڑی اسے جگا رہی تھی لیکن وہ ٹس سے مس بھی نہیں ہوا تھا۔
”اٹھ جاؤ لالا دیر ہورہی ہے آج کام پر نہیں جانا کیا۔” آخر لالہ رخ زچ ہوکر بولی۔
”صبر کرو ابھی بابا کو جاکے بتاتی ہوں وہ تمہارا کام تمام کرے گا۔”
لالہ رخ کا اتنا ہی کہنا تھا کہ ایمل خان فوراً سے پیش تر کمبل پھینک کر اٹھ بیٹھا اور آنکھیں ملتے ہوئے بولا:
”تم نے بھی اچھا دھمکی دینا سیکھا ہوا ہے ہم کو ڈرانے کے لیے۔”
”یہ ہوئی نا بات۔ اب جلدی سے منہ ہاتھ دھو لو پھر ناشتہ کرنا۔” لالہ رخ پیار سے اس کا ناک پکڑ کر بولی۔
”اُٹھ گیا تمہارا لاڈلا بھائی؟ جلدی کیوں نہیں اٹھتا تم، کام پہ جائے گا یا نہیں؟” ابھی وہ وہاں سے جانے کو تھی کہ اس کا باپ اکبر خان آکر طنزیہ انداز میں بولا۔
”جائے گا! بابا جائے گا کیوں نہیں، وہ رات مالک نے دیر سے چھوڑا ناں اس لیے دیر تک سوتا رہا آج لالا۔” لالہ رخ بھائی کی طرف داری کرتے ہوئے بولی۔
”سارے بہانے ہیں اس کے، چلا گیا ہوگا اپنے آوارہ دوستوں کے پاس ہوٹل سے۔” اکبر خان اونچی آواز میں بولا۔
”نہیں بابا! ہم کو رات بخار تھا اور مالک فلم دیکھتا رہا، بارہ بجے اٹھا اس لیے ہم بھی رات گھر دیر سے آیا۔” ایمل خان آہستہ سے بوالا۔
”اچھا اچھا بس بس زیادہ صفائی دینے کا ضرورت نہیں ہم کو، جلدی سے اٹھو ناشتہ کرو اور ہوٹل جاؤ، تمہارا مالک کا فون آیا تھا، پوچھ رہا تھا کہ ابھی تک ایمل خان کیوں نہیں آیا۔” اکبر خان یہ کہتا ہوا چلا گیا۔ ایمل خان جلدی سے اٹھا اور منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کرنے بیٹھ گیا۔
٭…٭…٭
رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے وہ ابھی تک سو رہی تھی اور بہت گہری نیند میں تھی کہ سائیڈ ٹیبل پر پڑا اس کا موبائل بجنے لگا۔ وہ کسل مندی سے آنکھیں رگڑتے ہوئے موبائل کو اٹھانے لگی تھی کہ موبائل سکرین پر جگمگاتے نام اور نمبر کو دیکھ کر اسے شاک لگا کیوں کہ وہ بالکل توقع نہیں کررہی تھی کہ رات کو ہونے والی گفتگو کے بعد بھی روحیل اسے کال کرے گا۔ اس نے کال کاٹ دی اور پھر سے سوگئی۔ کچھ ہی دیر بعد موبائل پھر بجنا شروع ہوگیا تھا۔ اب کی بار اس نے موبائل اٹھا کر سوئچ آف کردیا تھا۔
٭…٭…٭
پلوشے کی لش پش دیکھنے لائق تھی۔ حسین بھی تو بہت تھی وہ، خوب صورت گول چہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، گھنی گھنی پلکیں کہ پلک جھپکتے چینی گڑیا کا گمان ہوتا… ہر وقت بنی سنوری رہتی… گہرے رنگ کے کپڑے پہنتی اور گہرے رنگ کی سرخی سے ہونٹوں کو گلابی تو ضرور کرتی۔ ابھی دو دن پہلے کی تو بات ہے خانم جان نے خوب دل لگا کر اس کے لیے پشتو فراک تیار کیا تھا۔ اور اس سدا کی بے صبری سے صبر نہ ہوا، آج ٹرنک سے فراک نکالا اور لگی اپنا بناؤ سنگھار کرنے۔ پشتو گیت گائے جاتی اور چہرے کی کھلی کھلی گلاب جیسی رنگت مزید گلابی ہوئے جاتی۔ ابھی سر پر دوپٹہ نکانے کو تھی کہ اماں آگئی۔ اُدھر مورے نے کمرے میں قدم رکھا، ادھر اس نے دوپٹہ پرے پھینک دیا۔




Loading

Read Previous

درخت اور آدمی — محمد جمیل اختر

Read Next

پہلی محبت آخری بازی — شیما قاضی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!