میں لکھاری ہوں — اعتزاز سلیم وصلی

”سنو سنوسب لوگ سن لو۔میں لکھاری ہوں،لکھاری ہوں میں۔میرے قلم کی کاٹ نے دنیا کو ادھیڑ دیا تھا۔میرے الفاظ کے جادو نے کئی لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑلیا تھا۔ہاں میں ہی وہ لکھاری ہوں جس کی لکھی گئی تحریروں کو تم لوگ پڑھتے ہو ۔سنو لوگوں! میں لکھاری ہوں۔ میں جب چاہوں اپنے الفاظ سے کسی کو رلا سکتا ہوں کسی کے لبوں کی ہنسی بن سکتا ہوں۔کیوں کہ میں لکھاری ہوں۔”
٭…٭…٭
صدیق احمد قریشی نے کتابوں کی دکان یہ سوچ کربنائی تھی کہ شوق بھی پورا ہو جائے گا اور بچوں کی روزی روٹی بھی چلتی رہے گی مگر رفتہ رفتہ جب ٹیکنالوجی نے عروج پایا تو انہیں محسوس ہوا ،ان کا یہ فیصلہ نہ صرف غلط تھا بلکہ شوق کو پورا کرنے کی خواہش نے ان کے بچوں کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔ویسے بھی اب کہاں ملتے تھے پرانے شاعر لوگ،افسانہ نگاراور انہیں پڑھنے والے قاری جو ایک عام سے چائے خانے میں بیٹھ کر چائے کا کپ لبوں سے لگاتے اور لکھاریوں پر گفتگو کرتے۔ کوئی منٹو کے قلم کا عاشق ہوتا تو کوئی مشتاق احمد یوسفی کی کسی کتاب کا اقتباس اٹھا کر لوگوں کو ہنسا رہا ہوتا تھا۔کوئی سنجیدگی سے کسی نئے لکھاری کی تحریر میں سے غلطیاں نکال رہا ہوتا تھا تو کوئی اپنی تحریر کی تعریف۔اب تو ہے سوشل میڈیا کا دور جہاں ہر قسم کی گفتگو کی آزادی ہے۔پرانے زمانے میں عاشق لوگ بھی اردو کی شاعری استعمال کرکے محبوبہ کو خط لکھتے تھے اور اب نئے زمانے کے عاشق ہیں جو فیس بک اور واٹس ایپ پر ”اینجل سارہ ،سویٹی ڈول”سے عشق فرماکر خود کو ماڈرن دور کا رانجھا سمجھتے ہیں۔ان کے عشق کی سچائی میں تب خلل پڑتا ہے جب اینجل سارہ میں سے چاچا بشیر نکلتا ہے۔قصہ مختصر بدلتے حالات نے صدیق احمد قریشی کے مالی حالات بھی بدل دیے۔تین دن میں ایک ناول بکتا وہ بھی اتنی سی قیمت پر کہ دکان دار دو وقت کی چائے کے ساتھ بسکٹ کھاسکے۔صدیق صاحب بھی عقل مند تھے اور اس تبدیلی کو بھانپ گئے اس لیے گھر میں ایک دن تینوں بچوں کو کھیلنے بھیج دیا اور خود بیگم صاحبہ کے گوڈے پکڑ کر بیٹھ گئے۔
”صدیق یہ کوئی وقت ہے؟”نسرین نے شرما کر اردگرد دیکھا۔
”میں تم سے ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔”ان کا جملہ سن کر نسرین سمجھ گئی کہ شرمانا بیکار گیا ہے۔ اس لیے دوپٹے کا پلو جو کچھ دیر پہلے انہوں نے صائمہ کی طرح پکڑ رکھا تھا،اچانک چھوڑ دیا اور صدیق صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
”مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔” انہوں نے چہرے کے تاثرات مسکینوں جیسے کر لیے۔
”وہ تو آپ جانتے ہیں میرے پاس بھی نہیں ،کوئی نئی بات کریں۔” نسرین آئی ایم ایف تھی نہ صدیق صاحب پاکستان۔اس لیے صدیق صاحب نے جواب کا برا منائے بغیر اپنی بات مکمل کی۔
”دکان کے حالات ہمارے ملک جیسے ہی ہیں کسی وقت بھی قرضہ مانگنا پڑ سکتا ہے۔ میں چاہتاہوں میں کوئی ایک لاکھ روپیہ مزید خرچ کر کے اسے اسکول ،کالجز کی کتابوں کا بک ڈپو بنا دوں ۔یہ ناولز وغیرہ آج کل کوئی نہیں پڑھتا۔نہ کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے۔”
”مگر اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟”

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

”تمہارا زیور…”ان کے الفاظ نے بچھو کی طرح کاٹ لیا تھا نسرین بیگم کو۔اس نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر ناچنا شروع کردیا۔
”نہ نہ نہ،ہرگز نہیں،قطرہ وی نہیں ،سوچی وی نہ۔” صدیق صاحب نے دونوں کندھے تھام کر اسے روکا اور دنیا جہان کی مسکینیت اپنے لہجے میں سمو کر بولے:
”آٹھ سال کا ارباز،چھے سال کا شہباز اور صرف پانچ سال کی گلناز۔ ان بچوں کا کیا ہو گا۔کیا یہ بھوکے مر جائیں گے؟ ہرگز نہیں نسرین، ہرگز نہیں۔” اچانک ان کی آواز بدلی اور وہ بالکل شاہ رخ خان کے انداز میں بولے۔
”ابھی ان کا باپ زندہ ہے، ابھی صدیق احمد قریشی زندہ ہے۔میں اپنا گردہ بیچ دوں گا ۔اس سے کام نہ چلا تو دل اور معدہ بھی نکلوا دوں گا مگر اپنے بچوں کو بھوکا نہیں مرنے دوں گا۔”
”میری طرف سے اجازت ہے یہ سب کرنے کی۔”اس کے اطمینان میں کوئی فرق نہ پڑا۔
”سوچ لو نسرین، سوچ لو۔ زیور بہت مل جائیں گے پر شوہر ایک ہی ہوں۔”
”سب کے ایک ہی ہوتے ہیں میں کوئی انگلش فلموں کی ہیروئین ہوں جو تین چار رکھوں گی۔” نسرین جذباتی بلیک میلنگ میں آتی دکھائی نہیں دی۔
”ٹھیک ہے نہ مانو تم،میرے جاننے والے ہیں ان کی لڑکی کو کچھ دن پہلے طلاق ہوئی ہے۔ میں اس سے دوسری شادی کر لوں گا۔ گھر دے رہے ہیں اور گاڑی بھی۔” اس آخری حملے سے سومنات کا مندر فتح ہو گیا۔نسرین کی آنکھ میں آنسو آگئے۔
”آپ میرے ساتھ ایسا کریں گے شہباز کے ابا؟”
”میں ضرور ایسا کروں گا گلناز کی ماں۔” صدیق صاحب کے جاننے والوں میں جو سب سے امیر ترین تھے ان کے پاس نیا ہونڈا موٹرسائیکل تھا۔ گاڑی دینا وہ بھی جہیز میں ،کسی کے بس کی بات نہ تھی پر بچوں کے مستقبل کے لیے اتنے جھوٹ پر انہوں نے خدا سے دل ہی دل میں معافی مانگی۔کچھ دیر پرانے محلے کی شمیم آرا بننے کے بعد آخر نسرین نے زیور دے دیا۔اگلے مرحلے میں اس زیور کی کامیاب فروخت کے بعد صدیق صاحب نے پرانی دکان بیچی اور ہائی اسکول کے سامنے نئی دکان پر نیا بورڈ لگوا لیا”قریشی بک ڈپو۔”
پرانی دکان سے منٹو صاحب،تارڑ صاحب ،شفیق الرحمن صاحب ،نسیم حجازی اور کئی نئے پرانے لکھاری اٹھ کر گھر میں آگئے۔ ان طرح طرح کی کتابوں کا مطالعہ صدیق صاحب خود کرتے اور جب بچے بڑے ہوئے تو ان کو بھی پڑھنے کو دے دیں۔ارباز کو تو خیر نئے موبائل اور نئی فیشن کی شرٹس کے علاوہ کسی خاص چیز میں دل چسپی نہ تھی، البتہ شہباز نے یہ کتابیں پڑھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ نتیجہ وہی نکلا جو صحبت کے اثر کا نکلتا ہے۔ کتابوں کی صحبت نے اسے اپنا بنا لیا۔ شہباز میٹرک میں پہنچا مگر اس کا مطالعہ کسی بھی طرح ایم اے کے طالب علم سے کم نہ تھا۔اردو زبان پراس کو عبورحاصل ہو گیا۔انہی دنوں اس نے اپنی پہلی تحریر صدیق صاحب کو لکھ کر دکھائی۔ یہ ایک معاشرتی موضوع پر لکھی گئی کہانی تھی جو چند کرداروں کے گرد گھومتی تھی۔پختہ انداز اور الفاظ دیکھ کر صدیق صاحب نے جوتی اتاری جس کا پہلا ڈرون حملہ شہباز نے جھک کر بچایا اور دوسراحملہ کرنے کے بجائے صدیق صاحب نے فرمایا۔
”نالائق کسی بڑے لکھاری کی تحریر کو اپنی کاپی پر لکھ کر مجھے ایسے دکھا رہا ہے جیسے خود لکھی ہو”
”یہ میں نے ہی لکھی ہے ابا۔”وہ رونے کے قریب تھا۔
”پکی بات ہے؟”
”آپ کے سر کی قسم۔” شہباز نے قسم کی شکل میں ثبوت حاضر کیا۔صدیق صاحب چند منٹ اسے دیکھتے رہے اورپھر گلے لگا کر بولے:
”میرا شہزادہ بیٹا تو لکھاریوں سے بھی بڑھ کر لکھتا ہے۔”شہباز کو جیسے محنت کا پھل مل گیا ہو، مگر ابھی کامیابی کے میدان اور بھی تھے۔صدیق صاحب نے وہ کہانی ایک سنڈے میگزین میں بھیج دی۔ان کے ایڈیٹر نے پڑھی اور ڈھیر ساری تعریفوں کا معاوضہ دے کر پہلی فرصت میں شائع کردی۔اب یہ سلسلہ چل نکلا۔شہباز کا قلم ایف اے کے بعد عروج پر پہنچااور اس عروج کا زوال نہ آتا اگر وہ حادثہ نہ ہوتا۔
٭…٭…٭
کہتے ہیں حادثے کی پرورش وقت برسوں کرتا ہے، مگر وہ حادثہ سمندری طوفان کی طرح ان کے ساحلوں سے ٹکرایا تھا۔ارباز نے میٹرک میں تین بار فیل ہونے کے بعد آوارہ گردی کو اپنایا اورمحلے کے مختلف گھروں سے اکثر شکایتیں آنے لگیں۔ باپ نے پکڑ کر اپنے ساتھ دکان پر بٹھایا مگر اربازکی حرکتوں سے تنگ آ کر خود بھگا دیا۔گلناز آٹھویں اور شہباز ایف اے کے بعد بی اے میں داخلے کا سوچ رہاتھا۔انہی دنوں صدیق صاحب کی دکان پر ایک عجیب شکل کا شخص آنے لگا۔پہلے دود ن تو انہوں نے اس فرنچ کٹ ڈاڑھی اور کھڑے بالوں والے انسان نما شخص پر کوئی توجہ نہیں دی مگر جب وہ باقاعدگی سے آنے لگا تو ان کے ماتھے نے ٹھنکنا ضروری سمجھا۔وہ کچھ خریدتا نہ فروخت کرتا بس دکان کے سامنے پڑی کرسی پر ایسے جم کر بیٹھتا جیسے وہ سادہ اکثریت سے کامیاب ہوکر اس علاقے کا وزیر اعظم بنا ہو۔اس دن بھی سردیوں کی آمد کی نوید سناتی ٹھنڈی ہوا اور نرم دھوپ میں وہ شخص آرام سے بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا جب صدیق صاحب اس کے قریب آئے اور پوچھا۔
”جناب آپ روز یہاں آتے ہیں سب خیریت؟”اس نے سر اٹھا کر صدیق صاحب کو گھورا۔
”میرے یہاں بیٹھنے سے آپ کو بل آتا ہے؟”
”نہیں ،پرجس کرسی پر آپ تشریف فرما ہیں یہ میری دکان کی ہے اورجس دکان کے سامنے آپ جم کر بیٹھے ہیں دراصل یہی میری دکان ہے۔”انہوں نے اس نامعقول شکل کے شخص کی بدتمیزی بڑی مشکل سے برداشت کی تھی۔
”یہ دکان میرے باپ کی ہے بابے اور تو نے چالاکی سے ہتھیا لی تھی۔”صدیق صاحب دنگ رہ گئے۔ یہ دکان انہوں نے ایک جاننے والے کے توسط سے خریدی تھی اور قیمت ادا کی تھی۔
”یہ رہے کاغذات۔”اس نے جیب سے نکال کر کاغذات لہرائے۔
”جا بھائی جا، کام کرو اپنا۔ میں نے پیسوں سے یہ دکان خریدی ہے۔ یہ جعلی کاغذات کسی اور کو دکھانا۔”صدیق صاحب واپس اپنی دکان میں آگئے۔ وہ شخص چپ چاپ وہاں سے چلا گیا۔ کچھ دن بعد یہ ہنگامہ دوبارہ شروع ہوا جب اسی شخص جس کا نام جہانگیر معلوم ہواتھا،نے اپنی دکان کی واپسی کی درخواست دائرکردی۔حالات خطرناک صورت اختیار کر جاتے مگر صدیق صاحب حق پر تھے۔پہلی پیشی میں ہی کیس کا فیصلہ ہو گیا۔جہانگیر صاف جھوٹا تھا وہ صرف ڈرا دھمکا کر ان سے پیسے بٹورنے چاہتا تھا، مگر ناکام رہا ۔کیس کے فیصلے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد جب آسمان پر کالی گھٹا چھائی ہوئی تھی۔ صدیق صاحب کی دکان میں اک شخص کی آمد ہوئی۔ چہرے پر نقاب چڑھائے اس شخص کو دیکھ کر صدیق صاحب کی چھٹی حس نے خطرے کا الارم بجا دیا۔انہوں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ سامنے والے نے کپڑوں میں سے پستول نکالا اور ان کے دل میں گولی اتار دی۔یہ پہلی گولی ہی ان کے دل کے ٹکڑے کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ وہ شخص فرار ہو گیا۔گولی کی آواز نے اردگرد کے دکانداروں کو متوجہ کیا۔صدیق صاحب کی کہانی ان کے پہنچنے سے پہلے ختم ہو چکی تھی۔
٭…٭…٭
”صدیق قریشی کو کسی نے گولی ماردی۔”
”اوہ! افسوس ہوا۔ نیک شخص تھے پتا نہیں کس ظالم نے یہ ظلم کا پہاڑ توڑا ہے غریبوں پر۔”کہنے والے نے کہہ دیا۔سننے والے نے سن لیا مگر ظلم کو محسوس وہی کر سکتے ہیں جن پر ظلم کیا گیا ہو۔ نسرین اور بچوں پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ روزی روٹی کمانے والا گھرانے کا واحد فرد قتل ہو گیا تھا۔نسرین کی آنکھیں رو رو کر سوج گئیں۔ شہباز باپ کے غم میں نڈھال تھا۔ارباز پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹ رہا تھا۔پولیس کو یقین تھا کہ یہ جہانگیر کاکارنامہ ہے مگر ان کے پہنچنے سے پہلے جہانگیرفرار ہو گیا۔اس کی تلاش میں جگہ جگہ چھاپے پڑ رہے تھے مگر وہ کہیں نہ ملا۔
قصہ مختصر۔ وقت نے حادثے پر مٹی ڈالنا شروع کردی۔صدیق صاحب کی قبر کے پھول خشک ہونے لگے اور ارباز،شہباز تعلیم چھوڑ کرغم روزگار کی فکر میں لگ گئے۔ ارباز نے دکان سنبھال لی۔شہباز چار پانچ ماہ سنبھل نہ سکا۔ دکان پر اسے باپ کی یاد آتی تھی۔ حساس دل نوجوان تھا۔ چپ چاپ گھر میں رہتا۔ ماں نے اسے اور گلناز کو بہ مشکل سنبھالا۔ شہباز کو قلم کاغذ پکڑائے اور اسے پرانے شوق کی طرف لوٹنے کا کہا۔ ڈیڑھ سال بعد گھر کی روٹین واپس لوٹ آئی۔ ارباز دکان پر بیٹھتا، کمائی کرتا۔ شہباز کہانیاں لکھتا اور مختلف رسائل اور میگزین میں بھیجتا رہتا۔ اکثر شائع بھی ہو جاتیں۔ اسے اتنا معاوضہ مل جاتا کہ وہ گلناز کی فرمائش پر کبھی اسے کپڑے یا جوتے لے دیتا۔ رفتہ رفتہ اس کا نام بنتا جارہا تھا۔ اسی دوران ماں نے گھر کی رونق واپس لانے کے لیے ارباز کی شادی کاشور ڈالا اور دو ماہ بعد مہوش گھر کی بہو بن کر ایک کمرے میں شفٹ ہو گئی۔ نسرین اور گلناز الگ کمرے میں سوتی تھیں جبکہ شہباز کا کمرا الگ تھا۔ گھر میں ایک فرد کا اضافہ ہوا تو کمانے والے بیٹے کی کمائی بھی تقسیم ہونے لگی۔ ایسے میں شہباز کو اپنی ذمہ داری کا احساس بڑھ گیا۔ ماں اور بہن کے لیے وہ کچھ کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنے قلم کی رفتار میں اضافہ کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پیسے کی دھن نے اس کی کہانیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ جاب کی تلاش میں نکلتا۔ سارا دن گھوم پھرکر کوئی ایسی نوکری تلاش کرنے کی کوشش کرتا جس میں نوکری کے ساتھ اپنی تحریروں کے لیے بھی وقت نکال سکتا۔ جب کوئی نوکری نہ ملی تو اس نے اپنا ایک ناول جو طویل تھا اور کافی دنوں سے نامکمل تھا، مکمل کیا اور ایک ڈائجسٹ میں بھیج دیا۔ دو ماہ بعد انہوں نے قسط وار یہ ناول شائع کرنا شروع کردیا۔معاوضہ بہتر ملا تو اسے اطمینان حاصل ہوا۔اس دن بھی وہ اپنے کمرے میں ایک ناول پڑھنے میں مصروف تھا جب گلناز آئی اور بولی۔
”بھائی، امی بلارہی ہیں۔” وہ اس کے ساتھ ماں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔نسرین کے کمرے میں ارباز اورمہوش دونوں موجود تھے۔اسے دیکھ کر ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
”دیکھ لو شہباز، یہ ارباز کیا کہہ رہا ہے؟”وہ تڑپ کر ماں کی طرف بڑھا۔
”کیا ہوا امی؟” اربازاور مہوش خاموش اوربیزار بیٹھے تھے۔ وہ ماں کو چپ کروانے لگ گیا۔ اسی دوران ارباز بولا۔
”شہباز میں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ میں الگ ہونا چاہتا ہوں۔ میں شادی شدہ ہوں اور یہ میرا حق ہے۔ ”وہ اس کی بات سن کر ساکت رہ گیا۔ اس نے زخمی نظروں سے ارباز کی طرف دیکھا۔ وہ نظریں چرا گیا۔
”پر ابھی گلناز کی شادی نہیں ہوئی۔ شہباز کنوارہ ہے اور تم واحد کمانے والے ہو اس گھر میں۔” نسرین نے اونچی آواز میں کہا۔
”آپ سب میری ذمہ داری نہیں۔ میں اپنی بیوی کو مشکل سے پال سکتا ہوں۔ کل کو ہمارے بچے ہوں گے تو کیاکروں گا میں؟شہباز کا کام ہے محنت کرنا اور کر کے کھائے۔” نسرین پوچھنا چاہتی تھی کہ جس دکان میں وہ بیٹھا ہے وہ کس کی محنت اور پیسے سے بنا ہے، مگر پوچھ نہ سکی۔شہباز کچھ دیر خاموش رہا اور آخر تھکے ہوئے لہجے میں بولا:
”ٹھیک ہے دکان میں سے ہمارا حصہ الگ کر دیں اور آپ الگ ہو جائیں۔” ارباز نے اسے گھورا۔
”دکان میں سے حصہ کوئی نہیں تم لوگوں کا۔میں نے اپنی محنت سے بنائی ہے۔ ابا نے تو سارا کاروبار ڈبو دیا تھا۔ اب کچھ بہتر ہوا ہے گھر میں الگ لے رہا ہوں یہ گھر تم لوگوں کا ہوا۔ مجھے میرے حصے کی قیمت دے دیں یا میں کسی کرائے دار کو اپنا کمرا دے دیتا ہوں۔” اس نے تو جیسے بات ہی ختم کردی۔ مہوش کے چہرے کی مسکراہٹ ارباز کے منہ میں بولتی زبان کی ساری کہانی بتا رہی تھی۔دونوں اٹھ کر چلے گئے۔شہباز سر پکڑکر بیٹھ گیا۔ارباز کا خون اتنی جلد سفید ہو جائے گا یہ کسی نے سوچا نہیں تھا۔
ارباز نے کوئی وقت نہ لیا۔ صرف ایک ہفتے بعد وہ اور مہوش الگ گھر میں شفٹ ہو گئے۔ دو کمروں کا یہ مکان مہنگا تھا مگر صدیق صاحب کا کاروبار اتنا نفع دے رہا تھا کہ ارباز یہ خرید سکتا تھا۔مسئلہ نسرین اور شہباز کو بنا جو سگے بیٹے اور بھائی کے خلاف عدالت نہیں جانا چاہتے تھے۔ پیسے کہیں سے نہ ملے تو گلناز کے لیے بنایا گیا زیور اور سامان بیچ کر انہوں نے ارباز کا حصہ پورا کیا۔ اب یہ گھر ان کا تھا مگر اس کا خرچ کیسے چلانا ہے یہ شہباز کو معلوم نہ تھا۔ ساری رات وہ بیٹھ کر لکھتا رہتا اور مہینے کے آخر میں اتنا معاوضہ ملتا کہ تینوں پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتے۔ دو سال گزر گئے۔ عید چھوٹی ہوتی یا بڑی گلناز کے علاوہ کسی کا سوٹ نہ سلتا۔شہباز کی قمیص جگہ جگہ سے پھٹی ہوتی۔ نسرین کی بوڑھی ہڈیوں میں بھی دم ختم ہونے لگا۔ اس نے یکدم ایک فیصلہ کیا۔شہباز کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا۔
”یہ مکان تین کمروں کا ہے۔ ہماری ضرورت سے زیادہ ہے، تم اسے بیچ دو اور گلناز کی شادی کردیتے ہیں۔” مشورہ معقول اور قابل قبول تھا۔ قسط وار چلنے والا ناول کتابی شکل میں مارکیٹ میں آیا تو شہباز کے ہاتھ کچھ پیسے آگئے۔ اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ کرکے اس نے گاہک تلاش کیا۔ مکان بیچا اورایک فلیٹ خرید لیا۔ یہ شہر کے نزدیک ایک بلڈنگ میں تھا۔ بچ جانے والے پیسوں سے گلناز کے لیے مناسب جہیز بنایا اور صدیق صاحب کے ایک پرانے دوست کے بیٹے سے اس کی شادی کردی۔ رشتہ کافی دن پہلے طے ہوا تھا۔ اچھی مڈل کلاس فیملی تھی۔ لڑکا سرکاری ملازم تھا۔ گلناز کا فرض ادا ہو گیا۔ ماں بیٹا سکون سے رہنے لگے۔ شہباز کے قلم میں روانی بحال ہوئی۔ انہی دنوں اسے ایک لڑکی کے خطوط ملنے شروع ہوگئے۔ تعریفی خط۔
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

سرعیاں — افسانہ نگار: چیتین القان (مترجم: مسعود اختر شیخ)

Read Next

نارسا — فاطمہ رضوی

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!