اُف یہ گرمی — فہمیدہ غوری

یہ اک گمبھیر موضوع ہے یعنی موسم گرما، تو لکھنے کے لیے بھی کافی سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ موسم گرما جو اپنے ساتھ بہت سارے مسائل، بیماریاں اور ٹینشن بھی ساتھ لاتا ہے، ویسے آج کل موسم گرما صرف غریبوں کے لیے ہے۔ گھر میں آئے تو لائٹ نہیں، باہر گئے تو لو کے تھپیڑے پڑتے ہیںاور رات کو مچھر نغمے الگ سناتے ہیں ۔ہائے بے چارہ غریب اور موسمِ گرما۔ اک دوجے کے لیے ہی بنے ہیں۔
امیر کے لیے تو موسم گرما بھی موسم سرما جیسا ہی ہے۔ ہر طرف ٹھنڈی ہوائیں۔ گاڑی، گھر، آفس، فیکٹری اور بینک میں ہر طرف سے نسیمِ سحر کے پُر لطف جھونکے ہی آتے ہیں۔ تو مطلب یہ کہ موسم گرما پر بس غریبوں کا حق ہے کہ اُنہیں ہی تو جھیلنا ہے یہ موسم۔ اس موسمِ گرما سے ہمیں موسمی پھل بھی یاد آتے ہیں جن میں سرِفہرست ہے گرما، میٹھا میٹھا رسیلا پھل۔ ایک خریدو پورا خاندان رج کے کھائے اور تو اور اس پھل پر تو مہنگائی کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔
آم کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں مگر گرما کی قیمتیں اتنی گرم نہیں۔ اس پھل کا ایک بھائی بند بھی ہے۔ ذائقے میں تو یہ بھی گرما جیسا ہی ہے پر یہ سردا کیوں کہلاتا ہے اس پر ابھی تحقیق باقی ہے۔ تو کہنے کا مطلب ہے کہ گرمی بھی ایک نعمت ہے جس میں ہمیں طرح طرح کے پھل کھانے کو ملتے ہیں جس میں صبر کا پھل بھی شامل ہے جو پاکستانی عوام ”فرسٹ جون” کو کھاتی ہے۔ سمجھے؟ نہیں سمجھے؟ جی بجٹ آنے کہ بعد ہم صبر کا پھل ہی تو کھاتے ہیں۔ اس سال گاڑیاں سستی ہوئی ہیں۔ اب کیا آپ ٹنڈے کی جگہ نسان یا ہونڈا ڈالیں گے ہانڈی میں؟ یا کریلے کے بجائے کرولا قیمہ بنائیں گے؟ خیر قیمے کا تو سوچیے بھی مت۔ ہاں چھٹانک بھر لے کر اس کا چھڑکاؤ کر سکتے ہیں آپ سالن اور گوشت کے بھرپور مزے لے سکتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں ایک اور بھی مشورہ ہے کہ گوشت کا عرق اگرمارکیٹ میں لایا جائے تو غریبوں کا کتنا بھلا ہو جائے گا۔ ہے نا زبردست آئیڈیا؟

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ہاں یاد آیا، موبائل بھی تو سستے ہوئے ہیں نا۔ بڑی مہربانی وزیرِ خزانہ صاحب، خدا آپ کا خزانہ بھرا رکھے۔ آپ نے موبائل سستے کر کے بگڑی قوم کو مزید بگڑنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ساری ساری رات موبائل پر لگے رہنے والی قوم اب آپ کو دعائیں ہی دے گی۔ نا انہیں پانامہ کا ہنگامہ یاد ہوگا نہ لنڈن کے فلیٹ، نہ فرانس کے محل نہ دہشت گردی میں ڈوبا ملک، نہ مہنگائی اور نہ ہی لوڈشیڈنگ کا عذاب۔ یاد ہوں گے تو انڈین سونگ، مووی اور ڈرامے۔ بہت اچھا کیا آپ نے (شالا و سدا روے تیرا ویڑا وزیر جی)
آج ہماری ماسی بہت خوش تھی اور خوشی میں کچھ گنگنارہی تھی۔ ہم نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگی ہاں باجی آج میں بہت خوش ہوں۔ آپ کو تو پتا ہے نہ میرا کاکا بہت چھوٹا ہے اور میں اسے اکیلا چھوڑ کر آتی ہوں۔ میری ساس بہت غصہ کرتی ہے اسے سنبھالنے میں۔ پر اب وہ غصہ نہیں کرے گی۔
” وہ کیوں؟” ہم نے تجسس سے پوچھا۔
”ارے باجی آپ کو نہیں پتا بجٹ آگیا ہے۔”
”ہاں وہ تو آگیا ہے مگر اس میں تم کیوں اتنی خوش ہورہی ہو؟”
”باجی جی! اس بار بجٹ میں ڈائپر بھی سستے ہوئے ہیں نا، تو میں اس لیے خوش ہوں کہ میری ساس کو کاکا سنبھالنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔”وہ چہکتی ہوئی بولتی رہی اور ہم اس کی خوشی میں خوش ہوتے رہے۔
موسمِ گرما میں حکومت نے ایک اور قدم اُٹھایا ہے اور وہ ہے میک اپ پر ٹیکس لگانے کا۔ ہمیں تو خیر اتنا فرق نہیں پڑے گا۔ ہم تو اپنی اماں کی تبت کریم اور ہاشمی کاجل میں ہی خوش ہیں لیکن جو عورتیں صبح سے شام اور شام سے رات میک اپ کرتی ہیں سجنے سنورنے میں ان کا کیا ہوگا وہ بے چاریاں تو رل گئیں نا۔ اب شام کو سیّاں جی آئیں گے تو گھر میں کرینہ کی جگہ ثمینہ اور کترینہ کی بجائے کوئی زرینہ نظر آئے گی تو کیا حال ہوگا ان کا ذرا سوچیے۔
آج کل سیاسی موسم بھی اچھا خاصا گرم ہے۔ ہر جگہ ہی گرما گرمی ہے۔ ٹی وی کھولو تو لگتا ہے کل ہی دھڑن تختہ ہونے والا ہے۔ بے چارے خان صاحب بھی ایسی کڑکتی دوپہر میں جلسے اور جلسیاں کر کر کے ہلکان ہورہے ہیں۔
وزیرِاعظم صاحب بھی میدان عمل میں ہیں۔ گرمی کی پروا کیے بغیر کبھی چوں چوں کی ملیاں تو کبھی تربیلا پہنچے ہوئے ہیں۔ گورے گورے مکھ پر بہتے پسینے کی پروا کیے بغیر جوش و جنوں سے ہر آفت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ آفرین ہے ویسے آپ کی ہمت کو، اتنے بڑے آپریشن کے بعد بھی اتنا اسٹیمنا آپ کا ہے۔ ہو سکتا ہے ماشااللہ۔
اب تو رمضان بھی موسم گرما میں آرہا ہے۔ اللہ سب کے روزے عبادتیں قبول فرمائے، جو تپتی گرمی میں گرین لائن پر پتھر کوٹ رہے ہیں، ان کے بھی اورجو اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر دعائیں مانگ رہے ہیںان کے بھی آمین۔
ویسے دیکھنے میں آیا ہے کہ رمضان میں ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے خاص کر بیسن اور تیل کی، اسی لیے ہمارے تاجر حضرات نے ہماری آسانی کے لیے انتڑیوں سے تیل نکالنے کا آسان طریقہ دریافت کیا ہے۔ ارے ارے! آپ غلط سمجھے، یہ ہماری آپ کی انتڑیوں سے نہیں بلکہ گائے بھینسوں کی انتڑ یوں سے تیل نکالنے کا نیا فارمولا ہے۔ ویسے ہم نے تو سنا ہے لوگ گٹر کی چکنائی سے بھی تیل بنارہے ہیں۔ بس جی کیا کہیں اب ان کو بھی تو بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے چاہے اس میں کوئی ہاسپٹل پہنچے یا پھر… آگے آپ خود سمجھ جائیے۔
گرمی میں بیماریاں بھی بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور بہت سے وبائی امراض بھی پھوٹ پڑتے ہیں جیسے کہ ملیریا ۔ ویسے ہم یہاں آپ کی معلومات میں اضافہ کرتے چلیں کہ ملیریا کی بھی کئی قسمیں وجود میں آچکی ہیں۔ جیسا کہ ڈینگی، چکن گونیا وغیرہ وغیرہ۔ کچھ وبائی امراض جسمانی اور کچھ ذہنی بھی ہوتے ہیں اور گرمی میں پھوٹ پھوٹ کر نکلتے ہیں۔ حاجی صاحب روزے سے نماز ادا کر کے دکان جاتے ہیں۔ زرِقلیل کو زرِکثیر میں بدل کر سب فرائض ادا کر کے سکونِ قلب و نظر سے سرفراز ہوتے ہیں کہ اس ماہِ مقدس میں یہی تو غریبوں کا بھلا ہے نا۔ منافع خوری آج کل کوئی برائی نہیں بلکہ کاروبار کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ مرچوں میں اینٹیں پیس کر ملانا تو کاروباری ٹوٹکا ہے۔ بھائی قیامت میں ان کے ٹوٹے ہوچکے ہوں گے، ابھی تو شیخ صاحب عیش کر لیں۔
آٹے میں بھوسی اور چاول میں کنکر ملانے والے حاجی صاحب ہر جمعہ سعودی حکومت کے مہمانِ خاص ہوتے ہیں۔ واہ واہ کیا قسمت پائی ہے حاجی صاحب نے قربان جائیں۔ یہ غریب ننگ دھڑنگ سوکھی ماری قوم تو ہے ہی اس قابل اسے کیا خالص چیزیں ہضم ہوں گی۔ اس کا ہاضمہ تو عادی ہے سکرین کے انجکشن لگے پھل کھانے کا، فضلہ ملے پانی سے اگی سبزیوں اور سڑے ہوئے اناج کی روٹی کھانے کا۔ یہ سب کھا کر بھی زندہ ہے تو اسے ایسے ہی جینے دو۔ خالص غذا کھا کر ہاسپٹل پہنچ گئی تو بے چاری غریب قوم یہ بار کیسے اٹھائے گی؟
اب آتے ہیں گرمی سے بچائو کے طریقوں کی طرف۔ یہ طریقے تو ہماری حکومت کے پاس بھی ہیں۔ اب دیکھیں نا بجلی ہوگی تو پنکھے چلیں گے، پانی ہوگا تو برف جمے گی، کچرا اٹھے گا تو صفائی ہوگی، کارخانے فیکٹریاں چلیں گی تو روزگار ملے گا، تو حکومت نے اس جھنجھٹ ہی سے اس قوم کو آزاد کر دیا ہے۔ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ پاکستانی قوم بھی لگتا ہے اب بے حس ہوگئی ہے۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف جو ایک ٹائر جلا کر چند سوکھے تن احتجاج کرتے نظر آتے تھے، اب تو وہ بھی نہیں ہیں۔
آج کل تو ٹی وی پر بھی بہت گرما گرمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ایک صاحب نے تو پوری قوم کو اپنی باتوں سے نہال نہال کردیا ہے۔ اب شایدیہ قوم جاگ جائے۔ ٹاک شوز میں گرمی اور روزے سے بے حال حضرات فصاحت و بلاغت کے ایسے ایسے دریا بہارہے ہیں کہ کبھی کبھی تو لگتا ہے کے کسی کچی آبادی کے پس ماندہ محلے کی دو پھپے کٹنیاں لڑ رہی ہیں۔ وہ، وہ سنہری الفاظ سننے کو ملتے ہیں جو لکھنے کیا سوچنے کے بھی قابل نہیں ہیں۔
اب آپ کو گرمی سے بچنے کا ایک نادر ٹوٹکا بتاتی ہوں جو بہت آزمودہ ہے اسے آزما کر آپ گرمی کیا سردی میں بھی دماغی اور ذہنی وبا اور ہر طرح کے امراض سے محفوظ رہیں گے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کے گھر میں ٹی وی یا ایل سی ڈی ہے نا تو اس میں ایک بٹن ہوتا ہے آف کا اسے دبائیں اور ہر طرح کی ٹینشن اور بیماریوں سے نجات پائیں۔ یقین کریں اس ٹوٹکے پر عمل کر کے معمولی بیماریاں تو آپ کے پاس پھٹکیں گی بھی نہیںبلکہ ذیابیطس اور بلند فشارِخون سے بھی جان چھوٹ جائے گی ان شااللہ۔

٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۴ — آخری قسط)

Read Next

آخری آدمی — انتظار حسین

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!