الف — قسط نمبر ۱۰

طہٰ باہر سے قلبِ مومن کو ساتھ لے گیا تو۔۔۔ وہ لے کر چلا گیا تو وہ کیا کرے گی۔ وہ یک دم روتی ہوئی حواس باختہ قلبِ مومن کا نام پکارتی باہر دوڑی تھی اور باہر برآمدے میں نکلتے ہی وہ رُک گئی تھی۔
قلبِ مومن برآمدے کی سیڑھیوں پر اُس کی طرف پشت کئے بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کے پاس بہت سارے لفافے تھے جو سیڑھیوں پر اُس کے برابر رکھے ہوئے تھے اور وہ ایک لفافے میں سے کچھ نکال نکال کر کھا رہا تھا۔ ماں کی آواز پر اُس نے پلٹ کر دیکھا تھا۔ پھر بڑی خوشی کے ساتھ اُس نے اپنی گود میں رکھے سفید گلابوں کا ایک چھوٹا بکے اُس کی طرف بڑھایا۔
”ممی بابا یہ ساری چیزیں لائے ہیں ڈھیر ساری۔۔۔ اور یہ پھول آپ کے لئے۔” حسنِ جہاں پتھر کا بُت بن گئی تھی۔ طہٰ آج سب دوسرے شہر کام کے لئے گیا تھا اور شاید اُسے کام مل گیا تھا۔
”بابا کہاں چلے گئے ہیں؟”مومن نے اب اُس سے پوچھا تھا۔ وہ اُسی طرح ننگے پاؤں سیڑھیوں سے اُتر کر باہر سڑک پر گئی تھی۔ وہ راستہ دور تک سنسان تھا۔ جانے والا جاچکا تھا۔
”جب جب مجھے تم پر پیار آئے گا میں تمہارے لئے سفید گلاب لایا کروں گا۔” طہٰ نے ایک بار اُس سے کہا تھا اور وہ آج بھی کام ملنے پراُس کے لئے چیزوں کے ڈھیر کے ساتھ سفید گلاب لایا تھا۔
پیار کا سب سے بڑا مسئلہ خود پیار ہے۔۔۔زبان سے کچھ کہتا ہے۔ دل میں کچھ رکھتا ہے ، چاہتا کچھ ہے ، کرتا کچھ ہے۔
وہاں کھڑے سفید گلاب پکڑے حسنِ جہاں روتی چلی گئی تھی۔ ان سارے لفظوں کے ملال میں جو وہ کہہ بیٹھی تھی۔ اُن تصویروں کے ملال میں جو وہ دے بیٹھی تھی۔۔۔ لیکن اُسے یقین تھا وہ پلٹے گا۔۔۔ آئے گا۔۔۔ وہ طہٰ عبدالعلی اُس کے بغیر جی نہیں سکتا تھا۔ وہ ٹھیک سوچتی تھی۔ وہ اُس کے بغیر جیا ہی نہیں تھا۔ جیتا تو پلٹ آتا۔
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

وہ اُس کے ساتھ لپٹ کر رو رہی تھی۔ یوں جیسے طہٰ کی موت کے بعد پہلی بار رو رہی ہو۔ سلطان اُسے ساتھ لگائے ساکت بیٹھا تھا۔ اُس کے پاس جیسے اُسے تسلی اور دلاسہ دینے کے لئے بھی لفظ نہیں تھے۔
”روک لیتیں ۔۔۔ نہ جانے دیتیں اُسے۔” اُس نے بڑی دیر بعد اُس سے کہا تھا۔
”دل نے کہا تھا، روک لو۔۔۔انا نے کہا جانے دو۔۔۔ انا دل کے سامنے آجائے تو دل کا ہر رشتہ ختم کرکے دم لیتی ہے۔۔۔دل سے کہتی ہے میں اکیلی جیتی ہوں تم بھی جی لو۔” وہ روتی ہنستی کہتی جارہی تھی۔ یوں جیسے خود کو کوسنا چاہتی ہو۔ ملامت کرنا چاہتی ہو۔یوں جیسے کوئی دوسرا یہ کام کرکے اُس کی مشکل آسان کردے۔ یہ کام کوئی بھی کرلیتا پر سلطان نہیں کرسکتا تھا۔
”ایک بار پھر عروج آئے گا آپ پر حسنِ جہاں جی۔۔۔ سلطان لائے گا دوبارہ اُس عروج کو۔” سلطان نے جیسے اُس کو تسلی دی تھی۔
گرتی ہوئی عمارت کو اپنے کندھے سے سہارا دے کر اور سہارا دیتے ہوئے اُسے احساس ہوا تھا وہ ریت کی دیوار تھی۔۔۔ ڈھے چکی تھی اپنے اندر ہی۔۔۔ سلطان پھر بھی اُسے ڈھے جانے نہ دینے پر تلا ہوا تھا۔
٭…٭…٭
”شکل دیکھی ہے تو نے اُس کی۔۔۔کون دے گا اس کو کام؟ ”
حسنِ جہاں کی ماں ممتاز بیگم نے بے حد ملامتی انداز میں حسنِ جہاں کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے سلطان سے کہاتھا۔ سلطان حسنِ جہاں کو اُس کے پاس لئے بیٹھا تھا۔ کام کی تلاش شروع کردینے کے لئے۔
”ٹھیک ہوجائے گا سب کچھ آپا ممتاز۔۔۔ ابھی میک اپ نہیں کیا نا تو اس لئے ایسا ہے جب میک اپ ہوگا تو پھر دیکھنا حسنِ جہاں کو۔” سلطان نے بُت بنی حسنِ جہاں پر جیسے پردہ ڈالتے ہوئے ممتاز سے کہا تھا۔
”میرے کلیجے پر ہاتھ پڑتا ہے جب اسے دیکھتی ہوں۔ ارے کس طرح جان ماری تھی تجھ پر دن رات کہ تو ہیروئن بنے گی راج کرے گی اور تو ماں کو بڑھاپے میں دھوکہ دے گئی۔ تجھے تو میری آہ لگی ہے حسنِ جہاں۔” ممتاز نے سینے پر دو ہتڑ مارتے ہوئے دونوں ہاتھ اُٹھا کر حسنِ جہاں کو کوسا تھا۔ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ گردن جھکائے بیٹھی رہی تھی۔
”اب معاف بھی کردیں نا آپا ممتاز۔ ” سلطان نے حسنِ جہاں کی حمایت کی تھی۔
”چل بکواس بند کر۔۔۔ بڑا آیا اس کا حمایتی سنپولیا۔۔۔ جانتی نہیں تجھے کیا؟” آپا ممتاز نے اُسے بھی جھڑک دیا تھا۔
”چھے ہٹ فلمیں دی ہیں نوریہ نے تیرے جانے کے بعد۔۔۔ پروڈیوسر ز یوں سر پر اٹھا کر پھرتے ہیں اُس کی ماں زیبا کو اور ممتاز۔۔۔ ممتاز کو کوئی پانی تک نہیں پوچھتا اب۔” ممتاز کا غم الگ تھا۔
”اب آگئی ہے ناحسنِ جہاں۔۔۔ اب نوریہ کا راج ختم۔۔۔ آپ دیکھنا آپا ممتاز ۔۔۔ یہی پروڈیوسر آپ کو جھک جھک کر سلام کریں گے۔”سلطان نے جیسے اُسے سبز باغ دکھانے کی کوشش کی تھی۔
”لاکھوں کا قرضہ چڑھا ہوا ہے۔ گھر گروی ہے ۔ پلاٹ بک گئے ۔ اکاؤنٹ خالی ہے۔ زیور کپڑا کچھ نہیں۔۔۔ تیرے بھائیوں کا کوئی کاروبار نہیں۔۔۔ بہنیں بے کار بیٹھی ہیں۔۔۔ تو جو نو سال یہاں نہیں رہی نا تو ہمیں اُجاڑ گئی۔
دیکھو تیری ماں کے ہاتھوں میں یہاں یہاں تک سونے کی چوڑیاں ہوتی تھیں اور اب ایک چھلا بھی نہیں۔۔۔ دیکھو ۔۔۔ دیکھو۔” ممتا زنے اپنی خالی کلائی اُس کے سامنے کرتے ہوئے اُسے مزید کوسنے دیئے تھے۔
”میں نے سونابنایا تھا تجھے۔۔۔نو سالوں نے تجھے مٹی کردیا۔۔۔ مٹی۔۔۔ جوانی گئی۔۔۔ وقت گیا۔۔۔حسن گیا۔۔۔ رہا کیا۔۔۔ بول کیا دکھا کر جیتے گی اب دُنیا کا دل۔۔۔؟” ممتاز کا غصہ ختم ہی نہیں ہورہا تھا۔ سلطان ایک بار پھر بیچ میں کودا تھا۔
”نہ آپا۔۔۔نہ ۔۔۔ اب بس۔۔۔ ہیرا تو ہیرا ہی ہوتا ہے۔۔۔ ہیرے کو دیمک نہیں لگتی۔”
”ہیرے میں لکیر آجائے نا تو ہیرا ٹکوں میں بھی نہیں بکتا۔۔۔ جب تک پتھر رہتا ہے۔۔۔ انمول۔۔۔ جس دن دل بن گیا۔۔۔بے مول۔” وہ کہتے ہوئے حسنِ جہاں کودھتکارتے ہوئے گئی تھی۔
”میں نے تمہیں کہا تھا سلطان۔۔۔ میرا زمانہ گزر گیا مجھے اب دوبارہ نہ گھسیٹو اس سب میں۔” حسنِ جہاں نے ممتاز کے جانے کے بعد پہلی بار سر اُٹھا کر اُس سے کہا تھا۔
”کام نہیں کریں گی تو قلبِ مومن کو کیسے پالیں گی۔۔۔؟کیا کرکے پالیں گی؟”
سلطان نے جیسے اُسے یاد دلایا۔ حسنِ جہاں کی آنکھیں جلنے بجھنے لگی تھیں یوں جیسے اُس کو قلبِ مومن یاد ہی نہ رہا تھا۔
”ہاں کام تو کرنا پڑے گا۔۔۔ ورنہ قلبِ مومن کو کیسے پالوں گی میں۔” وہ بڑبڑانے لگی تھی۔ اُس کی سانسوں کی تسبیح کے ہر دانے پر اب جیسے صرف قلبِ مومن ہی کا نام لکھا ہوا تھا۔
٭…٭…٭
”ارے حسنِ جہاں۔۔۔آج تو معجزوں کا دن ہے۔ کہاں تھیں تم؟”
محمود بھائی ممتاز اور سلطان کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتی ہوئی حسنِ جہاں کو دیکھ کر بے اختیار اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ انڈسٹری کا ایک بڑا پروڈیوسر تھا۔ حسنِ جہاں کو فلم انڈسٹری میں متعارف کروانے والا اور اداکاراؤں کو ستارے بنادینے والا۔
”بس وہ جوانی کی غلطیاں۔۔۔ اب آگئی ہے واپس۔۔۔میں نے کہا شاہ صاحب اپنی نئی فلم لانچ کرنے والے ہیں۔آؤ سلام کرکے آتے ہیں۔” ممتاز بیگم نے بڑے خوشامدی انداز میں اُسے محمود بھائی سے ملواتے ہوئے کہا تھا۔
”بڑا ہی اچھا کیا ممتاز تم نے اسے لے آئی۔”
محمود صوفے پر بیٹھی حسنِ جہاں کو بغور دیکھ رہا تھا۔ جس کا چہرہ میک اپ سے سجا ہوا تھا۔ وہ ایک بھڑکیلی ساڑھی میں ملبوس تھی۔ اور صوفہ پر بیٹھی ہوئی تھی۔
”آپ سے معافی بھی تو مانگنی تھی شاہ صاحب آپ کی فلم چھوڑ کر بھاگی تھی۔” ممتاز نے اُسی طرح خوشامدی آواز میں کہا۔
”اب پرانی بات ہوگئی ہے وہ۔۔۔ میں نے معاف کردیا ہے اُسے۔” محمود بھائی نے ہاتھ اُٹھا کر ٹالنے والے انداز میں کہا تھا۔
”ایسے کیسے معافی ہوتی ہے جی۔۔۔ چل اُٹھ پیروں کو ہاتھ لگا کر معافی مانگو شاہ جی کے۔” ممتاز نے ہتک آمیز انداز میں حسنِ جہاں سے کہا تھا۔ حسنِ جہاں میکانیکی انداز میں اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
”نہ۔۔۔ نہ ۔۔۔اِس کی ضرورت نہیں۔۔۔ اپنی ہیروئن کو پیروں میں نہیں بٹھا سکتا میں چاہے وہ کتنی ہی پرانی نہ ہوگئی ہو۔” محمود بھائی نے حسنِ جہاں کو وہیں روک کر دوبارہ بٹھا دیا تھا۔
”تو نہ رکھیں نا پرانا۔۔۔ نیا کردیں ایک بار پھر۔۔۔ دیکھیں آج بھی وہی حسنِ جہاں ہے۔” ممتاز بیگم نے بے حد خوشامدی انداز میں ہنستے ہوئے کسی شوپیس کی طرح حسنِ جہاں کو پیش کیا تھا۔
”وہ نہیں ہے ممتاز۔۔۔ نو سال گزار کر آئی ہے ۔۔۔چہرے پر پکا پن آگیا ہے۔ یہ کیمرہ بڑا کُتّا ہوتا ہے۔ آنکھ سے پہلے اس پکے پن کو ڈھونڈھ لیتا ہے اور دکھا بھی دیتا ہے۔” محمود بھائی نے سگار پیتے ہوئے حسنِ جہاں پر نظریں جمائے بڑے بے رحمانہ انداز میں کہا تھا۔
سلطان اور ممتاز مضطرب ہوئے تھے۔
”نہیں نہیں وہ آج میری بیس خراب ہوگئی ہے اس لئے لگ رہا ہے ورنہ سکن تو ویسے ہی فریش ہے۔ آنکھیں، ناک، ہونٹ۔۔۔ سب ویسے ہی قاتل۔” سلطان جیسے ہمیشہ کی طرح حسنِ جہاں کی مدد کو دوڑا تھا۔
”اور فگر بھی ویسے کا ویسا۔۔۔ 16کی نہیں لگتی تو 18سے بڑی بھی نہیں لگتی۔ جب ناچنے کھڑی ہوگی تو کشتوں کے پشتے لگادے گی۔” اس بار ممتاز بیگم نے قصیدے پڑھے تھے حسنِ جہاں کے۔
”اچھا تو ذرا ڈانس کرکے تو دکھا تو حسنِ جہاں۔۔۔ میں بھی دیکھوں۔۔۔کتنے جھٹکے باقی ہیں تجھ میں۔” محمود نے یک دم حسنِ جہاں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا۔ وہ اُس کا چہرہ یوں دیکھنے لگی تھی جیسے اُس نے کوئی عجیب بات کہی تھی۔
”اُٹھ جا حسنِ جہاں۔” ممتاز نے اُسے بیٹھے دیکھ کر فوراً تحکمانہ انداز میں کہا تھا۔ وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ پاؤں سے ہیلز اُتارتے ہوئے وہ کمرے کے وسط میں پڑے Rugپر جاکر کھڑی ہوگئی تھی۔ محمود بھائی نے اپنی میز کے پاس پڑا ایک ٹیپ ریکارڈ آن کردیا تھا۔ کیمرہ میوزک سے گونجنے لگا تھا۔
حسنِ جہاں نے اپنے بازو پھیلائے اور بازو پھیلاتے ہی اُسے طہٰ یاد آیا۔۔۔ وہ نو سال پہلے سٹیج پر اُس کا رقص کرتا ہوا وجود۔۔۔وہ موسیقی ۔۔۔ وہ حسنِ جہاں کا بے اختیار ہونا۔۔۔ وہ پتہ نہیں کہاں سے دوبارہ چلا آیا تھا۔ اپنے بازو پھیلائے۔۔۔ دائرے میں رقص کرتا ہوا۔
”تم رومی کے مصرعے کی طرح خوبصورت ہو۔ گہری۔۔۔ جیسے روشن چاندنی رات۔۔۔ جیسے ٹھنڈا نیلا شفاف سمندر۔۔۔جیسے سیپ میں بند پانی کا قطرہ جیسے چنار کے درختوں کو چھوتی ہوا۔۔۔
رومی کہتا ہے میں تمہارے دل کے اندر وہاں رقص کروں گا جہاں تمہارے علاوہ کوئی نہیں دیکھ سکے گا۔”
اُس کے کانوں میں طہٰ کی آواز گیت کے بولوں کی طرح گونجنے لگی تھی۔ بازو پھیلا وہ ناچنے لگی تھی ویسے ہی جیسے وہ ناچتا تھا۔
”میں نے تمہیں اپنے دل کے اندر نہیں اپنی روح کے اندر موجود پایا۔۔۔ رقص کرتے ہوئے۔۔۔ مجھے حیران کرتے۔۔۔مدہوش کرتے ہوئے۔۔۔ تمہیں وہاں سے نکالوں گا تو مرجاؤں گا۔۔۔”
اُس کی آوا ز اب کسی symphonyکی طرح گونجنے لگی تھی اور وہ اُس کی لے پر جھوم رہی تھی گھوم رہی تھی ناچ رہی تھی ہاتھ اٹھائے۔۔۔ بازو پھیلائے۔۔۔ وہی رقص جو طہٰ کرتا تھا۔۔۔وہی درویشوں کا رقص۔۔۔ ایک بازو ہوا میں بلند ایک زمین کی طرف۔۔۔
سلطان گنگ تھا ممتاز اور محمود چپ۔۔۔ پھر خاموشی کو محمود نے توڑا تھا۔ ٹیپ ریکارڈ بند کرکے۔۔۔حسنِ جہاں ٹیپ ریکارڈ ر بند کرنے پر بھی نہیں رُکی تھی وہ اسی طرح دائرے میں گھوم رہی تھی۔
”میری ہیروئن نوریہ آگئی ہے۔ مجھے اُس سے اگلی فلم کی بات چیت کرنی ہے۔ ممتاز تم حسنِ جہاں کا علاج کرواؤ۔” محمود نے ممتاز نے محمود بھائی کو دیکھا تھا۔
”علاج؟”
”ذہنی۔” ممتاز نے ہولا کر سینے پرہاتھ رکھا۔
”پاگل نہیں ہے یہ شاہ صاحب تو بہ کریں۔”
”اللہ نہ کرے کہ ہو مگر ہوجائے گی۔۔۔ یہ جو پیار محبت کے چکر ہوتے ہیں نا یہ تباہی مار دیتے ہیں۔ ہر ایکٹر ایکٹرس کی ۔ ”
وہ کہتے ہوئے اُٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔ ممتاز نے بے حد طیش کے عالم میں پاؤں میں پہنا ہوا جوتا اُتار کر زور سے ناچتی ہوئی حسنِ جہاں کو مارا۔
”کرلیا راج تو نے حسنِ جہاں۔ ہوگیا سب ختم۔۔۔اب تو ریڑھی لگالے۔” وہ تقریباًچیخ کر کہتے ہوئے گئی تھی۔
حسنِ جہاں نے جیسے کچھ بھی نہیں سنا تھا۔ وہ اُسی طرح گھوم رہی تھی۔ سلطان صوفہ سے اُٹھ کر اُس کے پاس گیا۔ اُس نے حسنِ جہاں کا ہاتھ پکڑ کر جیسے اُسے ناچنے سے روکا۔ اُس نے رُکتے ہی بے اختیار کہا۔
”طہٰ۔” سلطان کا دل کسی نے مٹھی میں مسلا۔
”نہیں وہ مرگیا ۔ میں سلطان ہوں۔” اُس نے جیسے حسنِ جہاں کو ہوش میں لانے کی کوشش کی تھی۔ وہ روتے ہوئے ہنسی۔
”میں بھی۔۔۔ حسنِ جہاں بھی۔” وہ دوبارہ ناچنے لگی تھی۔
لاؤنج میں خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ سلطان ا ب چپ تھا۔ اُس کے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اس طرح بیٹھا ہوا تھا جیسے آج بھی ماضی میں کہیں جاکر حسنِ جہاں کو دیکھ رہا ہو۔ مومنہ اس کے سامنے گنگ بیٹھی تھی۔ یوں جیسے اُس کے پاس کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا۔
”پھر…؟” اُس نے بمشکل بہت دیر بعد سلطان سے پوچھا۔
”پھر بس۔۔۔ مر گئی وہ ۔۔۔ خودکشی کرلی اُس نے۔”
وہ کہتے ہوئے بمشکل صوفے سے اٹھا تھا۔ یوں جیسے اُس کے پاس اب اور کچھ بتانے کے لئے رہا ہی نہیں تھا۔ مومنہ بھی اُسی طرح بیٹھی تھی یوں جیسے اُس کے پاس بھی سارے سوال ختم ہوگئے تھے۔
”یہ میں نہیں تھا مومنہ جس نے گھر توڑا تھاحسنِ جہاں کا۔ یہ قلبِ مومن تھا جو دیوار بنا تھا اپنے ماں باپ کے بیچ میں۔”
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

الف — قسط نمبر ۰۹

Read Next

باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۸ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!