الف — قسط نمبر ۱۰

”یہ ہے تمہارا معاوضہ اور یہ ہے کانٹریکٹ۔۔۔ سائن کردو ابھی۔”
داؤد صبح سویرے مومنہ کے گھر پہنچا تھا۔ وہ کچھ دیر پہلے ناشتہ سے فارغ ہوکر اب ایک TVانٹرویو کے لئے جانے کے لئے تیار ہوکر لاؤنج میں نکلی تھی جب اُس نے داؤد کو اُن پینٹنگز کے ساتھ لاؤنج میں موجود پایا تھا۔ وہ اُس کے انتظار میں بیٹھا ثریا کے ساتھ گپ شپ کرنے کے بعد اب ناشتہ کررہا تھا۔
”میں کہیں بھاگ نہیں جاؤں گی۔۔۔ اتنی کیا بے اعتباری ہے۔” مومنہ نے اُن پینٹنگز کی طرف جاتے ہوئے کہا جو دیوار کے ساتھ اکھٹتے ہی زمین پر ٹکا کر رکھی ہوئی تھیں۔
”تم سٹار ہو اب مومنہ اور سٹارز کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔” داؤد نے پراٹھے کا آخری لقمہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔ مومنہ کو اُس کی بات پر ہنسی آگئی تھی۔
”میں سٹار ہوں اب اور سٹار کسی پر اعتبار کرتا بھی نہیں۔ میری مینیجر کانٹریکٹ دیکھے گی پھر سائن کرکے بھیجوں گی۔” اُس نے اُسی ٹون میں داؤد کو جواب دیا تھا۔
”نہیں یار ایسا مت کرو۔۔۔کتنے دن لگاؤگی ۔” داؤد بے اختیار کراہا تھا۔
”چند گھنٹے۔۔۔ تم جاؤ۔۔۔ بھجوا دیتی ہوں کچھ دیر میں کانٹریکٹ۔” اس بار مومنہ نے دوستانہ انداز میں اُس سے کہا۔ اس سے پہلے کہ داؤد کچھ اور کہتا۔ ملازم ایک بے حد خوبصورت بکے لے کر اندر داخل ہوا تھا۔
”چلو پھر میں چلتا ہوں۔ تھوڑی دیر میں بھیجتاہوں کسی کو اور سکرپٹ کا بقیہ حصہ یہاں رکھ کے جارہا ہوں۔ دیکھ لینا اُسے۔” داؤد کھڑا ہوتے ہوئے ملازم کے پاس سے گزرتے گزرتے رُکا اور اُس نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔
”بکے پر بکے آرہے ہیں مومنہ سلطان کے لئے اب یہ کون خوش نصیب ہے۔” اُس نے کہتے ہوئے بکے پر لگا کارڈ دیکھا اور پھر جیسے اُس نے چونک کر مومنہ سے کہا۔
”اوہ ۔۔۔ شاید فیصل نے بھیجا ہے۔ نام اُسی کا لگتا ہے۔ اقصیٰ سے کل بات ہوئی تھی اُس کی۔ تم سے بات کرنے اور ملنے کا کہہ رہا تھا۔” وہ ایک ہی سانس میں رُکے بغیر کہتا چلا گیا تھا۔ دل کی وہ دھڑکن جو اُس کے نام پر ایک لمحہ کے لئے رُکتی تھی آج نہیں رُکی تھی۔
اُس نام نے اُس کے وجود کے اندر کوئی گھنٹیاں نہیں بجائی تھیں۔ اُس نے چپ چاپ داؤد کی بات سنی تھی۔ وہ کہہ کر باہر چلا گیا تھا۔
”وہاں رکھ دو۔”
مومنہ نے اُس کے جانے کے بعد ملازم سے بکے پکڑنے کی بجائے لاؤنج کے ایک کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ اُس نے جب بھی اُسے کبھی پھول بھیجے تھے بہت خاصarrangement بھیجے تھے۔ بس آج یہ ہوا تھا کہ مومنہ سلطان کے لاؤنج میں امپورٹڈ پھولوں اور سپیشلarrangements کا اتنا ڈھیر لگا ہوا تھا کہ اُن کے درمیان اُس کے بھیجے ہوئے پھول ”عام” لگ رہے تھے۔ ایک نظر اُن پھولوں پر ڈالنے کے بعد اُنہیں چھوئے بغیر وہ پلٹ کر دوبارہ اُس پہلی پینٹنگ کو دیکھنے لگی تھی۔
اھدنا الصراط المستقیم
مومنہ سلطان نے اُس پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ اُس نے کبھی خواب میں بھی عبدالعلی کی پینٹنگز اپنے گھر سجانے کا نہیں سوچا تھا۔ اُن کا شمار دُنیا کے بہترین محقق خطاطوں میں ہوتا تھا۔ مومنہ نے اُن کے بارے میں جو بھی تھوڑا بہت جانا تھا وہ یا تو ماسٹر ابراہیم سے جانا تھا یا اُن کتابوں اور آرٹیکلز سے جو اُس نے خطاطی کے بارے میں پڑھی تھیں اور جن میں عبدالعلی کا نام سرفہرست تھا۔

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
وہ آج بھی اُن کی خطاطی کو گھر میں سجانے کے لئے لائی تھی، بچانے کے لئے لائی تھی۔ اُس کو یقین تھا قلبِ مومن اُس اثاثے کو کسی کو بھی بیچ دیتا کسی کو بھی۔ اُس کے لاؤنج میں بیٹھے اُس نے خالق علی کی ساری باتیں سنی تھیں۔
خطاطی کے وہ سات نمونے کس محبت سے عبدالعلی نے قلبِ مومن کے لئے بنائے تھے۔ اُس نے یہ بھی سنا تھا اور خالق علی نے اُنہیں حاصل کرنے کے لئے کتنی خواہش کی تھی۔ اُس نے بھی سن لیا تھا اور وہ مومنہ سلطان اب خطاطی کے اُن سات نمونوں کو نہ تو خواہش نہ لگن سے لے کر آئی تھی وہ اُنہیں اپنے نصیب سے لے آئی تھی۔ اور اب اپنے گھر پر اُن Paintingsکو دیکھتے ہوئے وہ جیسے اس اتفاق کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
اُس کے سیل فون پر آنے والی کال نے جیسے اُس کی سوچوں کے تسلسل کو توڑا تھا۔ وہ نمبر جانا پہچانا نہیں تھا۔ مومنہ نے کال ریسیو کرلی تھی۔ اُس کے فون پر آنے والے اکثر نمبر جانے پہچانے نہیں ہوتے تھے۔
”مومنہ سلطان میں سمجھا تھاتم فون نہیں اُٹھاؤگی Unknown نمبر دیکھ کر۔” دوسری طرف فیصل تھا۔۔۔بے حد ہشاش بشاش چہکتا ہوا۔ اُسے لمحہ بھی نہیں لگا تھا اُس کی آواز پہچاننے میں اور شاید اُسے بھی اتنا ہی وقت لگا تھا اُس کی ہیلو سے اُس کی شناخت تک۔
”کیسے ہیں آپ؟” اُس نے اُس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے پوچھا۔
”تم نے پہچان لیا مجھے؟” فیصل کی آواز میں کچھ اور خوشی چھلکی۔
”داؤد نے بتایا تھا آپ کال کریں گے۔” مومنہ نے اُسی لہجے میں کسی جذباتیت کے بغیر کہا۔ یادوں پر اُس نے بند باندھ دیا تھا اور بند باندھنے میں کوئی مومنہ سلطان سے بہتر نہیں تھا۔
”خوش فہمی نہیں پالنے دیتی تم اب بھی۔” فیصل نے اُسی انداز میں کہا۔
”آنٹی کیسی ہیں؟” اُس نے ایک بار پھر اُس کی بات کا جواب دینے کی بجائے موضوع بدل دیا تھا۔
”آج کل ہمارے گھر میں ہر وقت تمہارا ذکر ہوتا رہتا ہے۔ میری بیوی پاگل ہے تمہارے پیچھے اور مجھ سے کہہ رہی ہے کہ تمہیں ڈنر پر انوائیٹ کروں اور ممی۔۔۔ وہ تو مومنہ ہر ایک کو تمہارے بارے میں بتاتی رہتی ہیں۔”
You have made all of us so proud.””
وہ کہتا جارہا تھا۔ وہ سنتی جارہی تھی۔ وہ اب لوگوں کے جملوں کو جملے ہی سمجھتی تھی جذبے نہیں۔۔۔ سچ بھی نہیں ۔ تعریف اُسے کھوکھلی لگتی تھی۔ تنقید بے معنی۔
”مجھے ہمیشہ پتہ تھا مومنہ تم کوئی بڑا کام کروگی اگر ایکٹنگ میں آئی ہو تو مگر اتنا بڑا کام کروگی یہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔” وہ اب بھی اُسی جذباتی انداز میں بولتا چلا جارہا تھا۔ مومنہ نے کلائی میں بندھی گھڑی پر وقت دیکھا۔ اُس کے پاس اگلی جگہ پہنچنے کے لئے پندرہ منٹ تھے۔
”بہت شکریہ فیصل آپ اپنی فیملی کا شکریہ ادا کردیں میری طرف سے۔۔۔ان شاء اللہ جب ممکن ہوا تو ضرور ملاقات ہوجائے گی۔” اُس کی بات بے حد نرم لہجے میں بیچ میں کاٹتے ہوئے اُس نے کہا تھا۔
”اتنی فارمل کیسے ہوگئی تم مومنہ۔” فیصل کو اُس کی غیر جذباتیت ہضم نہیں ہوئی تھی۔
”Formality اچھی چیز ہے۔ بہت سارے لحاظ اور بھرم رہنے دیتی ہے۔” اُس کا لہجہ اب بھی بے حد ہموار تھا۔
”میں ہرٹ ہورہا ہوں مومنہ۔ تمہارااور میرا تعلق کیا تھا دہرانے کی ضرورت ہے کیا؟”
”آپ کا اور میرا تعلق ماضی تھا اور زندگی بڑی مصروف ہوگئی ہے۔ ماضی کے بارے میں سوچنے بھی نہیں دیتی۔ آپ بھی نہ سوچیں۔hurt ہونے سے بچیں گے۔Pay my regard to your wife ۔۔۔ خد ا حافظ۔”
اُس نے کہہ کر فون بند کردیا تھا۔ اُسے زندگی میں کسی مرد کا ساتھی بننے کی خواہش تھی تفریح بننے کی نہیں۔
٭…٭…٭
”اتنے دنوں سے چکر لگا رہا ہوں اُس مارکیٹ کا کسی کو پتہ نہیں ہے ماسٹر ابراہیم کا۔ تم نے غلط پتہ دیا ہے مجھے شکور۔”
شکور نے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا تھا اور مومن اُس کو دیکھتے ہی اُس پر برس پڑا تھا۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے ہر روز اُس مارکیٹ میں ماسٹر ابراہیم کو ڈھونڈنے جارہا تھا جس علاقے کا پتہ شکور نے اُسے دیا تھا مگر اُسے کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ اُس مارکیٹ میں سینکڑوں دُکانیں تھیں اور ماسٹر ابراہیم کے مکمل تعارف کے بغیر صرف نام لے کر کسی علاقے میں اُسے ڈھونڈنا بھوسے کے ڈھیر میں سے سوئی ڈھونڈنے کے مترادف تھا۔
”قسم سے مومن بھائی یہی پتہ تھا۔ میں نے تو کریم کی appسے چیک کرکے پتہ لکھوایا تھا آپ کو۔ اسی پتہ پر جاتے تھے دادا جی۔مجھ پہ بھروسہ نہیں تو بے شک کریم والوں سے پوچھ لیں۔ اُن پر تو بھروسہ ہے نا آپ کو۔” شکور نے اپنا فون جیب سے نکالتے ہوئے اُس کے پیچھے آتے ہوئے بے حد دُکھی دل کے ساتھ اُسے کہا تھا۔
مومن اُس کے ساتھ بحث کرنے کی بجائے لاؤنج میں آگیا تھا اور لاؤنج میں آتے ہی جیسے اُسے کرنٹ لگا تھا۔ وہاں دیوار پر اھدنا الصراط والی خطاطی غائب تھی اور وہ چھے پینٹنگز بھی جو وہ صبح وہیں لاؤنج کی میز پر چھوڑ کر گیا تھا۔
”یہ پینٹنگز کہاں گئیں؟” اُس نے کچھ ہڑبڑائے انداز میں شکور سے پوچھا۔
”وہ تو داؤد بھائی لے گئے صبح صبح آکر۔ آپ کے نکلتے ہی ۔ جھاڑ پونچھ کردی تھیں میں نے۔” اُس نے ساتھ ہی اگلا جملہ فخریہ انداز میں کہا۔
مومن حلق کے بل چلایا تھا۔
”تم نے مجھ سے پوچھے بغیر اُسے کیسے لے جانے دیں وہ۔” شکور کے ہاتھوں کے طوطے اُڑگئے تھے۔ آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے اُس نے کہا۔
”کل آپ کے سامنے ہی تو کہہ کر گئے تھے ہو کہ آج آکر لے جائیں گے۔”
”وہ کل تھا۔۔۔ یہ آج ہے۔” قلبِ مومن نے غضب ناک انداز میں جیب سے فون نکال کر اُس سے کہا تھا۔
”پر آپ تو آج بھی مجھے منع کرکے نہیں گئے تھے۔” شکور کے جواب میں logicتھی اور اُس نے مومن کو لاجواب کردیا تھا۔
”تم واقعی الّو کے پٹّھے ہو۔” مومن نے جواباً اُس سے کہا تھا۔فون پر اب وہ داؤد کو کال کررہا تھا۔
”شکور کام نہ کرے تو الّو کا پٹّھا کام کرے تو الّو کا پٹّھا۔۔۔ شکور جائے تو کہاں جائے۔” شکور بڑبڑاتے ہوئے لاؤنج سے نکل گیا تھا۔ وہاں کھڑ ا رہنا اس وقت اپنی رسوائی کا سامان خود کرنا تھا۔
داؤد نے پہلی ہی کال پر فون اُٹھالیا تھا۔
”مومن بھائی میں آپ کو ہی کال کرنے والاتھا۔ سارے انتظامات ہوگئے ہیں۔” داؤد نے اُس کی آواز سنتے ہی اُسے چہکتے ہوئے اطلاع دی تھی۔
”کس چیز کے؟” مومن ایک لمحہ کے لئے اُلجھا۔
”پریس کانفرنس کے۔”
”کس پریس کانفرنس کے؟”
”آپ کو اناؤنسمنٹ کرنی تھی مومنہ سلطان کی الف کی فلم کا حصہ بننے پر۔” داؤد نے اُسے یاد دلایا۔
”تم نے پینٹنگز مومنہ کو دے دیں؟” مومن نے اُس کی بات کا جواب دینے کی بجائے اُس سے پوچھا تھا۔
”جی مومن بھائی اور اُس نے کانٹریکٹ بھی سائن کرکے بھیج دیا ہے۔” داؤد نے اُسے خوشی سے اطلاع دی۔ مومن ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
”داؤد مجھے میری پینٹنگز واپس چاہیے۔ میں نہیں بیچ سکتا اُنہیں کسی کو بھی۔ کانٹریکٹ کینسل کردو مومنہ کے ساتھ۔” داؤد ہکا بکا رہ گیا۔
”مومن بھائی میں نے تو نیوز بھی بریک کردی ہے۔ سارا میڈیا آرہا ہے ہماری پریس کانفرنس کی کوریج کے لئے مومنہ کی وجہ سے۔ آپ TVآن کرکے دیکھیں نیوز میں چل رہا ہے Ticker۔۔۔ مومنہ سلطان کی پہلی پاکستانی فلم الف کا اور ساتھ میں آپ کا نام بھی چل رہا ہے۔ اب سب کچھ ختم کریں گے تو بڑی بدنامی ہوگی۔ ابھی فلم ہونے دیں۔ میں بعد میں لے دوں گا آپ کو مومنہ سے وہ پینٹنگز۔ وہ بڑی اچھی لڑکی ہے۔” داؤد نے تقریباً منتیں کرتے ہوئے کہا تھا۔ اُس کی واقعی جان پر بن آئی تھی۔
”تم لے کر دوگے مجھے وہ پینٹنگز۔” مومن چند لمحے جھنجھلایا پھر نرم پڑتے ہوئے اُس نے بے بسی سے داؤد سے کہا۔
”وعدہ مومن بھائی۔۔۔ وعدہ۔”داؤد نے فوراً سے پہلے حامی بھرلی۔
٭…٭…٭
پریس کانفرنس میں نیو ز چینلز کے نمائندوں اور جرنلسٹس کا ایک جَم غفیر تھا۔ جو قلبِ مومن نے دیکھا تھا اور عجیب حیرت بھری خوشی کے ساتھ اُس نے داؤد سے پوچھاتھا۔
”اتنے لوگ کیسے اکٹھے کرلئے تم نے؟”
”اکٹھے کرنے ہی نہیں پڑے مومن بھائی اس بار تو۔۔۔ مومنہ سلطان کا نام سن کر آرہے ہیںیہ۔۔۔ ابھی بھی کالز آرہی ہیں پتہ نہیں کس کس جگہ سے کوریج کے لئے۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے چائے کا سامان اور سیٹیں دونوں کم پڑجائیں گی۔”
وہ فون پر آنے والی ایک کال سنتے ہوئے بے حد فکر مندی سے کہتا ہوا سٹوڈیو میں اُس کونے کی طرف بھاگتا گیا تھا جہاں قدرے خاموشی تھی اور قلبِ مومن کے چہرے سے ایک رنگ سا آکر گزرا تھا۔ وہ ہجوم کبھی اُس کے لئے اکٹھا ہوتا تھا آج اُس کے لئے اکٹھا ہورہا تھا جسے اُس نے کبھی چیونٹی جانا تھا۔ آسان نہیں تھا۔ اپنا تاج کسی دوسرے کے سر پر دیکھنا۔
سٹوڈیو کا ہال رپورٹرز، فوٹو گرافرز اور پریس کانفرنس کے انتظامات دیکھنے والی ٹیم کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ تیز روشنیوں میں بھی ہر فو ٹو گرافر اور کیمرہ مین اپنا اپنا کیمرہ سنبھالے بہترین سے بہترین کوریج اور شاٹ کے لئے اُس سٹوڈیو کے مختلف حصوں پر قبضہ کئے ہوئے تھے اور ان سب کے درمیان مختلف برانڈز کے مینیجرز کہیں کھڑے کہیں بیٹھے ایک دوسرے سے خوش گپیوں میں مصروف تھے اور یہ بھی وہی لوگ تھے جو اُس کی پچھلی پریس کانفرنس میں الف میں اپنی عدم دلچسپی ظاہر کرچکے تھے۔ مومنہ سلطان کا نام اُن سب کو وہاں کھینچ لایا تھا۔ قلبِ مومن احساس کمتری کے ایک اور درجے سے آج آگاہ ہورہا تھا اور یہ وہ احساس کمتری تھا جس نے اُس کی خود اعتمادی پر کاری ضرب لگائی تھی۔
مومنہ سلطان بالکل ٹھیک وقت پر سٹوڈیو میں داؤد اور ٹینا کی ہمراہی میں داخل ہوئی تھی اور سٹوڈیو میں ایک عجیب سی ہڑبونگ مچ گئی تھی۔ قلبِ مومن اُسے ریسیو کرنے کے لئے دروازے تک جانا چاہتا تھا۔ وہ نہیں جاسکافوٹو گرافرز اور جرنلسٹس نے سٹوڈیو کے دروازے پر ہی اُسے گھیر لیا تھا۔ فلیش لائٹس کے جھماکوں اور اپنی نام کی پکار میں مومنہ سلطان بمشکل سٹیج تک پہنچی تھی اور وہاں پہلی بار اُس کا اور قلبِ مومن کا آمنا سامنا ہوا۔
قلبِ مومن نے سٹیج پر لمبی میز کے پیچھے رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھے ہوئے اُٹھ کر اُس کو ریسیو کیا۔ دونوں کی نظریں لمحہ بھر کے لئے ملی تھیں پھر اُسی رفتار سے چرالی گئیں تھیں۔ وہ اُس کے برابر کی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی اور اُس کے اتنے قریب بیٹھنے پر قلبِ مومن بھی فلیش لائٹس کے ان جھماکوں کا شکار ہونے لگا تھا جن کا فوکس وہ نہیں تھا۔ سٹیج کے سامنے کھڑا میڈیا کچھ دیر تک صرف فوٹو گرافی کرتا رہا اور اُس کے برابر بیٹھی مومنہ سلطان بے حد تحمل سے مسکراتے ہوئے وہ فوٹو گرافی کرواتی رہی تھی۔ ایک سیاہ شلوار قمیض میں وہ اپنے بال جوڑے کی شکل میں باندھے ہوئے تھی۔ کلائی کی گھڑی اور کانوں میں آج پہنے سیاہ موتیوں کے سٹڈز اُس کی واحد accessoriesتھیں۔ وہ اس حلیے میں بھی اُس پورے سٹوڈیو کا محور تھی اور وہ جیسے اس بات سے باخبر تھی۔
”یہاں آنے کے لئے آپ سب کا بہت شکریہ۔” سٹیج پر اُس میز کے پیچھے موجود افراد کے سیٹیں سنبھالتے ہی قلبِ مومن نے مزید انتظار کے بغیر مختصر خیر مقدمی کلمات کے ساتھ ہی گفتگو کا آغاز کردیا تھا اور سٹوڈیو میں بالا آخر خاموشی ہونا شروع ہوئی۔
”ہمارے لئے یہ بڑی خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ آج مومنہ سلطان الف کا حصہ بن رہی ہیں اور اس فلم میں مرکزی کردار ادا کررہی ہیں۔” قلبِ مومن ایک لمحہ کے لئے رُکا۔ اُس کا ذہن تقریباً بلینک ہوگیا تھا۔
مومنہ سلطان کے لئے مزید وہ کیا کہتا اُس کے ذہن میں کچھ نہیں آرہا تھا جو آرہا تھا وہ کہنے کے لئے وہ تیار نہیں تھا۔ وہ مومنہ سلطان کے لئے تعریفوں کے پل نہیں باندھ سکتا تھا اور کچھ اور اس موقع پر کہا ہی نہیں جاسکتا تھا۔
”اس فلم کے حوالے سے میں آپ لوگوں سے بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں اور کہوں گا بھی کیونکہ اس فلم سے زیادہ اہم اس وقت میرے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور کبھی بھی کچھ بھی نہیں رہا۔”
وہ جب دوبارہ بولنا شروع ہوا تو مومنہ سلطان کے بارے میں مزید کچھ کہے بغیر اُس نے فلم کے بارے میں بے حد جذباتی انداز میں بات شروع کردی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہہ پاتا۔ ایک نیوز رپورٹر نے اُٹھ کر اُسے ٹوکتے ہوئے کہا تھا۔
”قلبِ مومن صاحب آپ کی فلم کے بارے میں سب ہی پتہ ہے ہمیں۔ آج آپ ہمیں مومنہ سلطان سے بات کرنے دیں تاکہ ہم اُن سے پوچھیں کہ وہ اس فلم کے بارے میں کیا سوچتی ہیں اور کیوں کام کررہی ہیں جب انڈسٹری کی کوئی ہیروئن اس فلم میں کام کرنے پر تیار نہیں ہے۔”

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

الف — قسط نمبر ۰۹

Read Next

باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۸ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!