Tag: hum tv

  • الف — قسط نمبر ۰۶

    الف — قسط نمبر ۰۶

    میری پیاری حسنِ جہاںجی!
    آپ کا خط ملا اور دل کٹ گیا۔ وہ بے وفا نکلا نا، میں نے پہلے ہی کہا تھا آپ سے طہٰ عبدالعلی پر بھروسا نہ کریں۔ سلطان کی محبت کے سوا کسی پر بھروسا نہ کریں۔ مگر آپ نے ہمیشہ طہٰ کے نام کی تسبیح کی۔ سلطان کو آزمایا ہی نہیں۔ میں آپ کا خط پڑھ کر روتا رہا ہوں۔ پرندہ ہوتا تو اڑ کر آجاتا آپ کے پاس، لیکن انسان ہوں اور انسانوں کو جانے میں لمحہ لگتا ہے، آنے میں وقت لگتا ہے۔ پھر بھی سلطان آئے گا آپ کے پاس، بس چند مہینوں یا ہفتوں کا انتظار کر لیں، اپنے آپ کے اور قلبِ مومن کے ٹکٹوں کے لیے پیسے جمع کر لوں تو آتا ہوں آپ کے پاس۔
    پر میرے آنے تک طہٰ کے جانے کا غم نہ کریں، نہ اس کے لیے آنسو بہائیں، اپنی دنیا میں واپس آجائیں۔ فلم انڈسٹری آج بھی آپ کو ڈھونڈ رہی ہے۔ لوگ آج بھی آپ کو یاد کرتے ہیں، سینما کی اسکرین پر آج بھی کوئی اداکارہ حسنِ جہاں کی طرح دلوں پر راج نہیں کرتی۔ طہٰ عبدالعلی نے قدر نہیں کی آپ کی، آپ نے اس کے لیے اپنی ”سلطنت” چھوڑ دی تھی۔ اس نے پروا نہیں کی تو آپ کب تک پروا کرتی رہیں گی اس کی۔
    جانتا ہوں، دل سے کسی کو بھلانا آسان ہوتا ہے، مٹانا نہیں لیکن میں آپ سے کہتا ہوں آپ نہ اس کو بھولیں نہ اس کو مٹائیں، بس اپنی دنیا میں لوٹ آئیں۔
    حسنِ جہاں جی! یہ جو ہم جیسے ہوتے ہیں نا یہ ہمیشہ مٹی کے ہی رہتے ہیں۔ ہمیشہ جسم ہی عروج دیتا ہے ہمیں اور یہی زوال۔ ہم روح اور روحانیت کے لیے بنے ہی نہیں ہوتے۔ اس راستے پر چلنے والے اور ہوتے ہیں۔ ان کا خمیر بھی اور جگہ سے اٹھا ہوتا ہے، میں اور آپ زیادہ سے زیادہ نیک ہو سکتے ہیں، اپنی اولادوں کا نام قلبِ مومن اور مومنہ رکھ سکتے ہیں مگر بس اتنا ہی۔ اس سے آگے جائیں تو پر جلنے لگتے ہیں ہمارے اور تپش سہہ نہیں پاتے ہم۔
    آپ کو روکا تھا میں نے بہت۔۔۔ اسی لیے روکا تھا کیوں کہ وہاں آگے آپ کے ہاتھ کچھ نہیں آنا تھا اور جس دنیا میں آپ تھیں وہاں آپ کا سکہ چلتا تھا۔ آپ نے سلطان کی بات نہیں سنی۔
    سکہ بدل گیا ہے اب آپ کے جانے کے بعد یہاں کا۔۔۔ پر کوئی بات نہیں۔۔۔ آپ چاہیں تو پھر آپ کا راج ہو گا یہاں اور میں سلطان آپ کے ساتھ ہوں۔ اچھے اور برے سارے دنوں میں آپ کے ساتھ سایہ بن کر چلوں گا کیوں کہ آپ سے پیار کرتا ہوں۔و ہی پاگلوں والا پیار جو آپ طہٰ سے کرتی ہے۔۔۔ نہ آپ بدلیں گی نہ میں بدلوں گا۔
    خط لکھ رہا ہوں تو دل کھول کر رکھ دیا ہے آپ کے سامنے، ورنہ اتنے سالوں میں ہر بار آپ سے بات کرتے ہوئے کبھی آپ نظریں چراتی تھیں کبھی میں۔۔۔ میں جانتا ہوں سلطان کو آپ بھی بھول نہیں سکتیں۔ طہٰ کے بعد اگر کوئی یاد آتا ہو گا تو سلطان ہی یاد آتا ہو گا آپ کو۔
    میری خوش فہمی دیکھیں، کیا لکھ رہا ہوں آپ کو۔ نہ اپنی شکل دیکھ رہا ہوں۔ نہ اپنی اوقات۔۔۔ لیکن پیار کا کیا کریں حسن جہاں جی، یہ میرے جیسوں کو بھی اوقات سے باہر کر دیتا ہے۔ سلطان ہی سمجھنے لگ گیا ہوں اپنے آپ کو۔۔۔ آپ نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر۔۔۔ بیچ راستے میں مجھے چھوڑ کر اتنے سالوں میں سلطان آسمان سے زمین پر آگیا مگر نہیں بدلا تو اس کے دل میں آپ کا مقام۔ آپ آج بھی سلطان کے دل کے تخت پر وہیں بیٹھی ہیں، جہاں اس نے پہلی بار آپ کو بٹھایا تھا اور یہ مقام سلطان کبھی کسی کو نہیں دے گا۔ طہٰ اور سلطان میں بس یہی فرق رہے گا ہمیشہ۔ ۔۔وہ آپ کو چھوڑ سکتا ہے، سلطان نہیں۔
    آپ کا سلطان۔
    ٭…٭…٭

    ”تم جا رہے ہو؟” قلبِ مومن صبح سویرے اپنا سامان پیک کر رہا تھا جب عبدالعلی اس کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر اندر آئے تھے اور اسے سامان پیک کرتے دیکھ کر ان کا دل کسی دیے کی طرح بجھا تھا۔
    ”جانے کے لیے ہی آیا تھا دادا۔” قلبِ مومن ان کی طرف متوجہ ہوئے بغیر کھلے بیگ میں اپنی چیزیں ڈالتا رہا۔
    ”ناراض ہو کر جا رہے ہو؟” انہوں نے چند لمحوں کے بعد اس سے کہا۔ قلب مومن ٹھٹکا اور اس نے سیدھا کھڑے ہوتے ہوئے ان سے کہا۔
    ”ناراض کس بات پر ہوں گا؟” وہ سنجیدہ تھا۔ عبدالعلی نے اس کا چہرہ دیکھا۔
    ”کل رات تمہارے اور میرے درمیان۔” انہوں نے کچھ کہنا چاہا، قلب مومن نے بات کاٹ دی۔
    ”کل رات آپ کے اور میرے درمیان ایسا کچھ نہیں ہوا جس پر میں آپ سے خفا ہوتا، چیلنج تھا جو آپ نے دیا اور میں نے چیلنج قبول کر لیا، اس سب میں خفگی والی بات کہاں سے آگئی؟”
    وہ کہہ کر دوبارہ جھک کر اپنے بیگ کی زپ بند کرنے لگا تھا۔ عبدالعلی کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ اس کی بات کے جواب میں کیا کہیں، کچھ دیر کھڑے وہ جیسے کوئی الفاظ ڈھونڈتے رہے پھر انہوں نے کہا۔
    ”قلب مومن میں تم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں۔ تمہارا دل کبھی بھی دکھانا نہیں چاہتا میں اور مجھے لگا شاید پچھلی رات میں تمہارا دل دکھا بیٹھا ہوں۔”
    انہوں نے بالآخر وہ الفاظ ڈھونڈ لیے تھے جو وہ اس سے کہنا چاہتے تھے۔ قلبِ مومن نے اپنی پیکنگ ختم کر لی تھی۔ اپنے بیگز کو ایک طرف اوپر نیچے رکھتے ہوئے اس نے بے حد اطمینان سے عبدالعلی کی بات سنی، اس کے انداز میں ایک عجیب سردمہری تھی۔ لاتعلقی کا ایک عجیب سا عالم تھا۔
    ”آپ کا پتا ہے دادا! آپ مجھے کیوں کمتر سمجھتے ہیں؟” اس کے جملے نے عبدالعلی کو بچھو بن کر کاٹا تھا۔
    ”آپ مجھے اس لیے کمتر سمجھتے ہیں کیوں کہ میں حسنِ جہاں کی اولاد ہوں جس کے پاس حسن اور جسم کے استعمال کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں۔ آپ اسی لیے ان سے بابا کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ایک ڈانسر تھیں۔”
    قلب مومن کی آنکھوں اور چہرے پر جیسے ”میں سب جانتا ہوں” لکھا تھا۔ عبدالعلی نے تڑپ کر اسے روکا تھا۔
    ”حسنِ جہاں سے شادی سے روکنے کی وجہ نہ اس کا اداکارہ ہونا تھا، نہ رقاصہ ہونا۔ تمہیں کس نے بتایا کہ میں تمہیں اس لیے کمتر سمجھتا ہوں اور کس نے کہہ دیا کہ حسنِ جہاں کے پاس حسن اور جسم کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں؟” عبدالعلی کے انداز میں اب عجیب سی برہمی تھی۔
    ”اس کے پاس نیک روح تھی۔ جو تم نے کھو دی۔”
    قلب مومن ان کے جملے پر ہنس پڑا۔ ”حسنِ جہاں کے پاس تھی۔ میں نے کھو دی۔” اس نے ان کا جملہ استہزائیہ میں دہرایا تھا۔
    ”آپ کے نزدیک نیک روح صرف ان کے پاس ہوتی ہے جو یہ کام چھوڑ دیتے ہیں یا پھر ان کے پاس جو آپ کی طرح خطاطی کرتے رہتے ہیں۔ دادا spirituality کسی کی میراث نہیں ہے۔” وہ ایک بار پھر ان سے الجھ پڑا تھا۔ پتا نہیں کہاں چوٹ پڑی تھی مومن کو۔
    ”بے شک نہیں ہے۔ مگر اللہ کی عطا ہے اور اللہ اسے صرف اس کی قدر جاننے والوں کو عطا کرتا ہے۔”
    قلبِ مومن انہیں دیکھتا رہا، ایک لاوا تھا جو ان کے اس جملے پر اس کے اندر سے پھٹ پڑنا چاہتا تھا۔ اس نے عبدالعلی سے نظریں چرا لیں۔ وہ اس بوڑھے شخص کا اتنا احترام کرتا تھا کہ وہ لاوا ان پر الٹانا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اس لاوے کی وجہ نہیں تھے اور جسے وہ ”نیک روح” کہہ رہے تھے، قلبِ مومن اسے کبھی ”جسم” کے علاوہ کچھ ماننے پر تیار ہی نہیں تھا چاہنے کے باوجود بھی۔
    ”میں چلتا ہوں۔ رکوں گا تو اور بحث ہو گی ہماری۔” وہ آگے بڑھا اور اس نے دادا کو گلے لگایا۔
    ”جب تم یوں گلے لگاتے ہو تو طہٰ یاد آتا ہے مجھے۔”
    وہ عبدالعلی کی آواز پر جیسے ٹھٹھک گیا تھا، پھر الگ ہوتے ہوئے ہنسا۔
    ”جانتا ہوں میں۔ بابا ہی کے لیے اداس ہوتے ہیں آپ۔ میرے لیے کہاں ہوتے ہوں گے۔”
    اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور جیسے وہ عبدالعلی کا جواب سنے بغیر تیزی سے باہر نکل گیا تھا۔ عبدالعلی کو رنج ہونا چاہیے تھا۔ وہ رنجیدہ ہونے کے بجائے مسکرائے تھے۔ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔ برف کی طرح سرد نظر آتا تھا، مگر آگ کی طرح گرم تھا، سمندر کی طرح گہرا تھا مگر ریگستان کے سراب کی طرح اشتباہ نظر کا شکار کرتا تھا۔ قلبِ مومن تھا، مگر مومن بننے کے راستے سے پرے۔
    ٭…٭…٭
    ”وہ جو لوکیشنز کہی تھیں آپ نے، سب ہی مارک کر لی ہیں اور سب پر ہی کام ہو گیا ہے۔” داوؑد اور ٹینا اسے استنبول میں گزارے پچھلے کچھ دنوں میں کیے جانے والے کام کے بارے میں اپ ڈیٹ دے رہے تھے اور قلبِ مومن اس ہوٹل کے لاؤنج میں پڑے ایک صوفہ پر بیٹھا ان کی باتیں سنتے ہوئے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
    ”استنبول کی نائٹ لائف کی عکاسی کرنے کے لیے نائٹ کلبز کی بھی ریکی کر لی ہے ہم نے۔” اب ٹینا اپنے لیپ ٹاپ پر اسے ان جگہوں کی تصویریں دکھانے لگی تھی جو وہ اپنی فلم کی شوٹنگ کے لیے منتخب کر چکے تھے۔ قلبِ مومن آج ہی عبدالعلی کے پاس سے واپس استنبول آیا تھا اور اس وقت داؤد اور ٹینا کے ساتھ اس کی پہلی ملاقات تھی۔
    ”ڈیٹس فائنل کر کے کل سے ای میلز کا کام ختم کر لیں گے، شوٹنگ کوآرڈینیشن کے لیے۔ پوسٹ پروڈکشن کا کام بھی یہاں ایک اسٹوڈیو کے ساتھ۔”
    قلب مومن نے داؤد کو پہلی بار ٹوکا۔
    ”میں اس فلم کی شوٹنگ کچھ عرصہ کے لیے postpone کر رہا ہوں۔”
    اس نے اعلان کرنے والے انداز میں کہا تھا۔ ٹینا اور داؤد بیک وقت چونکے تھے اور انہوں نے کچھ بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھا، قلبِ مومن مذاق یقینا نہیں کر رہا تھا۔
    ”میں اس فلم سے ایک اور فلم بنانا چاہتا ہوں کیوں کہ میرے پاس ایک بے حد یونیک آئیڈیا ہے۔”
    قلب مومن کے اگلے جملے پر ٹینا بے حد ایکسائیٹڈ ہوئی تھی۔
    ”ایک سال میں دو فلمز۔Fantastic!میں تو پہلے ہی کہہ چکی تھی کہ سال میں ایک کے بجائے دو فلمز کرنی چاہئیں آپ کو۔ جب انویسٹرز، انویسٹ کرنے کو تیار ہیں۔ برانڈنگ اورproduct placement کے لیے تیار ہیں تو پھر بے وقوفی ہی ہے بس ایک ہی فلم کرتے جانا۔ کیاsubject ہے دوسری فلم کا؟”
    ٹینا جوش و خروش میں بات کرتے کرتے ابsubject کے بارے میں دریافت کرنے لگی۔ داؤد اس ساری گفتگو کے دوران خاموش ہی رہا تھا۔
    قلبِ مومن نے میز پر پڑے گلاس سے پانی کا ایک گھونٹ بھرا اور کہا ”Spirituality”
    ٹینا چپ ہو گئی۔ داؤد کو پہلے ہی لگی ہوئی تھی۔ مگر وہ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔
    ”کیا کہتے ہیں اسے اُردو میں؟”
    قلب مومن نے جیسے کچھ الجھ کر یاد کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ ایک لمحہ کے لیے بھول گیا تھا، داؤد نے کچھ کہنے کے بجائے لیپ ٹاپ پر گوگل پر اس لفظ کا اُردو ترجمہ ڈھونڈا اور پھر کہا ”روحانیت۔”
    ”بس اسی کے بارے میں فلم بنانی ہے مجھے۔” قلبِ مومن نے بے ساختہ کہا۔
    ”یہ جس کے نام کا مطلب ابھی گوگل سے ڈھونڈا ہے؟” ٹینا نے بے یقینی سے قلبِ مومن سے پوچھا۔ اس نے جواباً اثبات میں سرہلایا۔
    ”مگر اس میں دکھائیں گے کیا؟” ٹینا نے بے ساختہ کہا اور اس بار تینوں کو بیک وقت چُپ لگی تھی۔
    خاموشی کے ایک لمبے وقفے کے بعد قلب مومن نے جیسے اپنی خجالت مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
    ”سوچو۔” وہ کہتے ہوئے اٹھ کر گیا۔
    ”باس! یہ میرا آئیڈیا نہیں تھا۔” داؤد نے جیسے کراہتے ہوئے اسے پکارا تھا، مگر وہ تب تک کافی دور جا چکا تھا۔
    ٭…٭…٭

  • الف — قسط نمبر ۰۵

    الف — قسط نمبر ۰۵

    میرے پیارے اللہ!
    آج میں نے بابا کو پھر خواب میں ستارہ بنتے دیکھا۔ جیسے ترکی میں دیکھا تھا۔ تب میں نے انہیں ستارہ بنتے دیکھا تھا پھر وہ آگ کا گولہ بن گئے اور پھر وہ بہت دور چلے گئے۔ آج پھر میں نے انہیں دور جاتے دیکھا اور میری آنکھ کھل گئی۔ بابا کہیں بھی نہیں تھے۔ میں بہت اداس ہوں۔ بہت زیادہ۔
    میں نے آپ کو اپنے بارے میں نہیں بتایا۔ پہلے اپنے بارے میں بتانا چاہیے تھا۔ میرا نام قلبِ مومن ہے۔ آپ کو یاد ہے، کئی مہینے پہلے میں آپ کو خط لکھا کرتا تھا۔ تب میں ترکی میں رہتا تھا، اب پاکستان میں رہتا ہوں۔
    آپ نے میرے خطوں کے جواب میرے دادا کو بھیجے تھے مگر دادا نے وہ مجھے نہیں دیے۔ آپ کو میں یاد آگیا نا؟ مجھے پتا تھا میں آپ کو یاد آجاؤں گا کیوں کہ ممی کہتی ہیں، آپ کبھی کوئی چیز بھول ہی نہیں سکتے، خاص طور پر ان کو جو آپ سے پیار کرتے ہوں اور میں تو آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔ دیکھیں میں نے آپ کے لیےhearts بھی بنائے ہیں اور ہمیشہ کی طرح اس خط پر پھول اور ستارے بھی بنائے ہیں رنگین پینسلوں سے۔
    آپ سوچتے ہوں گے اگر میں آپ سے اتنا پیار کرتا ہوں تو پھر آپ کو اتنے مہینوں سے خط کیوں نہیں لکھ رہا۔ میں آپ کو بھولا نہیں ہوں، بس پاکستان آگیا ہوں لیکن آپ سے روز باتیں کرتا ہوں، رات کو بستر پر لیٹ کر سونے سے پہلے۔ جب سپارہ پڑھتا ہوں تب بھی آپ کو یاد کرتا ہوں اور جب نماز پڑھتا ہوں تب بھی۔ نمازیں ساری نہیں پڑھتا اور روز بھی نہیں پڑھتا لیکن سیکھ رہا ہوں، آپ ناراض مت ہونا۔ مجھے پتا ہے آپ ناراض نہیں ہوں گے کیوں کہ میں بچہ ہوں اور آپ بچوںسے بہت پیار کرتے ہیں۔
    ہم اب بہت بڑے گھر میں رہتے ہیں لیکن میں یہاں خوش نہیں ہوں۔۔۔ مجھے اپنا اسکول یاد آتا ہے ، اپنے دوست بھی۔۔۔ اور وہ جنگل بھی جہاں میں آپ کے لیے خط چھوڑ کر آتا تھا۔ میں نے یہاں بھی ایک جگہ ڈھونڈ لی ہے جہاں میں آپ کے لیے خط چھوڑ سکتا ہوں۔
    میرے پیارے اللہ! میرا دل پاکستان میں نہیں لگتا۔۔۔ یہاں اب ہمارے پاس وہ سب کچھ ہے جو میں آپ سے مانگتا تھا۔ بڑا سا گھر، گاڑی اور وہ ساری چیزیں جو میں آپ سے مانگتا تھا، وہ ممی مجھے بازار سے لے دیتی ہیں۔ سب کچھ مل گیا ہے مجھے لیکن ممی کھو گئی ہیں۔۔۔ یہ میری والی ممی نہیں ہیں۔ وہ الگ کمرے میں رہتی ہیں اور میں الگ کمرے میں۔۔۔ اور کبھی کبھی وہ کئی کئی دن گھر بھی نہیں آتیں۔ مجھے لگتا ہے، انہیں اب میری اور بابا کی پروا نہیں ہے۔ وہ اب بابا کو مِس نہیں کرتیں۔ ان کے لیے پہلے کی طرح روتی بھی نہیں ہیں۔ اب بہت اچھے اور مہنگے کپڑے پہنتی ہیں۔ زیور بھی، میک اپ بھی اور وہ بہت ہنستی ہیں۔ بہت بہت زیادہ۔ کبھی کبھی وہ اتنا ہنستی ہیں کہ مجھے ان پر غصہ آتا ہے۔
    مجھے ان کے بارے میں بہت ساری خراب باتوں کا بھی پتا چل گیا ہے لیکن وہ میری ممی ہیں اس لیے میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔ اس کے لیے سوری۔
    مجھے اب بابا بہت یاد آتے ہیں اور دادا بھی۔
    میرے پیارے اللہ! کیا آپ مجھے ان دونوں کے پاس ترکی نہیں بھیج سکتے؟ میرا دل ممی کے پاس نہیں لگتا۔۔۔ وہ مجھے ایک چڑیل لگتی ہیں۔ مجھے پتا ہے مجھے ممی کو یہ نہیں کہنا چاہیے لیکن مجھے ان پر غصہ آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے انہوں نے میرے بابا کو جان بوجھ کر ناراض کیا ہے۔ اگر وہ ترکی میں رہتیں تو بابا مل جاتے۔ میں خود ڈھونڈ لیتا ان کو۔۔۔ مجھے ہر کھو جانے والی چیز کو ڈھونڈنا آتا ہے۔
    میرے پیارے اللہ! میں نے آپ سے کہا تھا، آپ میری ممی اور بابا کی صلح کروا دیں اور ہم سب اکٹھے رہیں لیکن آپ نے مجھے جو جواب بھیجا تھا، وہ دادا نے مجھے نہیں دیا اور اب دادا بھی کہیں گم ہو گئے ہیں۔
    میں بہت اداس ہوں یہاں پاکستان میں۔ آپ کو خط اس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ میرے لیے کچھ کریں۔
    کیا آپ میرے پَر اُگا سکتے ہیں تاکہ میں اڑ کر ترکی چلا جاوؑں اور ممی مجھے ڈھونڈتی رہ جائیں؟ مجھے پتا ہے آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ کب مجھے اپنے بابا اور دادا سے ملوائیں گے؟ جلدی ملوا دیں۔۔۔ میں بڑا ہو گیا تو وہ مجھے نہیں پہچانیں گے۔ اب میں سونے لگا ہوں۔ آپ بھی سو جائیں۔
    آپ کا قلبِ مومن
    ٭…٭…٭

    بستر پر لیٹے رات کے اِس پچھلے پہر اس کاجسم کچھ دیر جھٹکے کھاتا رہا تھا یوں جیسے وہ نیند میں کسی چیز سے ڈر رہا تھا اور پھر یک دم اُس کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ وہ کانپ رہا تھا۔ کمرے میں نائٹ بلب کی روشنی تھی اور بہت دور سے کسی میوزک کی آواز آرہی تھی۔ کچھ عورتوں اور مردوں کے قہقہوں کی بھی۔
    قلبِ مومن بستر سے نکل آیا۔ اس نے کمرے کی لائٹ آن کر لی تھی۔ باہر سے آنے والی موسیقی اور ان قہقہوں کی آوازوں کا اب وہ عادی ہو چکا تھا۔ وہ ان کی وجہ سے نہیں جاگا تھا اور نہ ہی وہ آوازیں کبھی اس کی نیند کو روک سکتی تھیں۔
    وہ بہت بڑا اور آرام دہ کمرہ تھا جس میں وہ اس وقت موجود تھا۔ وہاں بہترین فرنیچر تھا اور کوئی بھی بچہ اس کمرے میں رہ کر خوش ہوتا۔ اپنے بستر سے اٹھ کر وہ کمرے میں دیوار کے ساتھ پڑی ایک اسٹڈی ٹیبل پر جا بیٹھا۔ دراز کھول کر اس نے ایک رائٹنگ پیڈ نکالا اور پھر لیمپ آن کر لیا۔ کاغذ پر وہ کچھ لکھنے لگا تھا۔ وہی سب کچھ جو وہ رات کے اس پہر اس طرح خواب میں ڈر جانے پر لکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نام ایک اور خط۔۔۔ وہ خط شاید اس کی روح میں کہیں بہت پہلے لکھے گئے تھے جو اب اس پر اتر رہے تھے۔ قلبِ مومن کو ہر بات پر صرف اللہ یاد آتا تھا۔۔۔ خوش ہونے پر بھی، خفا ہونے پر بھی، کوئی چیز مل جانے پر بھی اور کچھ کھو دینے پر بھی، کسی چیز کی طلب ہونے پر اور کسی چیز کو پا نہ سکنے پر بھی۔
    اس کا خاندان کئی نسلوں سے اللہ کے ناموں کی خطاطی کرتا آیا تھا، پر قلبِ مومن کو خطاطی نہیں کرنا تھی، خط لکھنے تھے۔۔۔ اللہ کے ناموں اور اس کی آیات کی خوبصورتی نہیں بیان کرنا تھی۔ اس سے باتیں کرنا تھیں اور باتوں کا وہ سلسلہ ترکی سے پاکستان آکر رک گیا تھا۔ کئی مہینے رکا رہا تھا اور پھر دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔ وہ تنہا رہ گیا تھا اور اداس بھی اور ناخوش بھی اور ناراض بھی اور اس کے پاس اللہ کو لکھنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ پہلے اس کے خطوں میں شکوے اور شکایتیں نہیں ہوتی تھیں صرف ضرورتیں ہوتی تھیں۔ اب ضرورتیں پوری ہو گئی تھیں تو ان کی جگہ شکووں اور شکایتوں نے لے لی تھی۔ مگر مومن کو اللہ سے کوئی شکوہ نہیں تھا۔ اس کے سارے شکوے حسنِ جہاں سے تھے۔ اس کی ممی سے۔
    ٭…٭…٭
    وہ بڑی احتیاط سے گھر کے مین دروازے سے عقبی لان میں نکلا تھا۔ وہاں ایک درخت پر اس نے وہ لیٹر باکس کچھ ہفتوں پہلے ہی اس طرح رات کو لٹکایا تھا تاکہ کسی کو اس کے بارے میں پتا نہ چل سکے۔ عقبی لان کی باڑھ کے پار سوئمنگ پول کے گرد اس وقت وہ پارٹی جاری تھی جس کا شور اس کے کمرے تک آرہا تھا اور باہر لان میں وہ شور بہت بڑھ گیا تھا۔
    قلبِ مومن کو اس باڑھ کے سامنے سے گزر کر لان کے آخر میں آم کے اس درخت تک جانا تھا جس پر اس نے وہ لیٹرباکس لٹکایا ہوا تھا۔ اس قد آدم باڑھ کے سامنے سے گزرتے ہوئے مومن نے باڑھ کے درمیان جگہ جگہ چھوٹے بڑے سوراخوں سے پول کے اردگرد موجود مردوں اور عورتوں کو شراب کے گلاس پکڑے، جھومتے دیکھا وہ وہاں رکا نہیں۔
    آم کے درخت کے نیچے اندھیرا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا لفافہ اپنے دانتوں میں دبا لیا اور درخت پر چڑھنے لگا۔ اسے اس پر چڑھنے کی اچھی خاصی پریکٹس ہو گئی تھی۔ وہ چند ہی منٹوں میں درخت کی ایک اونچی والی شاخ پر تھا اور اس شاخ پر بیٹھ کر اس نے سوئمنگ پول کے دوسری جانب دیکھا۔ وہاں بہت سارے مرد اور عورتیں جھوم رہی تھیں لیکن ناچنے والی عورت صرف ایک تھی اور وہ حسنِ جہاں تھی۔ تیز بے ہنگم موسیقی کے ساتھ ناچتے ہوئے وہ مومن کو بہت بری لگی اور اس نے اس سے نظریں چرائیں اوراپنے سر پر موجود ایک دوسری شاخ کے ساتھ بندھے لیٹر باکس میں اپنے منہ میں دبا لفافہ نکال کر ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ اس کا پاوؑں یک دم سلپ ہوا۔ اس نے شاخ پکڑ کر سنبھلنے کی کوشش کی۔ وہ ناکام ہوا اور پھر خوف کے عالم میں اس نے اپنے آپ کو اس اوپر کی شاخ سے نیچے گرتے پایا۔ اس نے بے اختیار ایک چیخ ماری تھی۔ زمین پر گرتے ہوئے اس نے ہوا میں اڑتے اس لفافے کو دیکھا جو ایک لمحہ کے لیے باہر گیٹ پر لگی روشنیوں میں آسمان سے نیچے گرتا نظر آیا تھا اور پھر قلبِ مومن کو ہوش نہیں رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    اس کی آنکھ جب دوبارہ کھلی تو وہ اپنے بستر میں تھا اور اس کا بازو ایک پلاسٹر میں لپٹا ہوا تھا۔ درد کی ایک لہر اس کے بازو میں اٹھی تھی مگر اس سے زیادہ گہری وہ شرمندگی تھی جو اسے حسنِ جہاں کو اپنے اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھے ان خطوں کو پڑھتے دیکھ کر ہوئی تھی۔
    ”آپ نے میرے لیٹرز کیوں پڑھے؟ یہ آپ کے لیے نہیں تھے۔” وہ بے اختیار ماں پر خفا ہوا تھا اور اس کی آواز پر کرسی پر بیٹھی حسنِ جہاں نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی ایسا تاثر تھا جس نے قلبِ مومن کے غصے اور خفگی کو پل بھر میں غائب کیا تھا۔
    ”تم دادا کے پاس جانا چاہتے ہو؟” وہ کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آکر بیٹھ گئی تھی۔
    ”نہیں۔ میں بابا کے پاس جانا چاہتا ہوں۔” اس نے لیٹے لیٹے ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔
    وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔ ”تم ان کے پاس نہیں جا سکتے۔”
    ”وہ تو آسکتے ہیں۔” قلبِ مومن نے بے ساختہ کہا تھا۔
    ”وہ بھی نہیں آسکتے۔” اسے گمان ہوا اس نے حسنِ جہاں کی آنکھوں میں پانی دیکھا تھا۔ پانی ہی ہو سکتا تھا آنسو تو نہیں ہو سکتے تھے۔
    ”کیوں نہیں آسکتے؟” وہ بے چین ہوا۔
    ”اس لیے نہیں آسکتے کیوں کہ آپ سے ایک غلطی ہوئی ہے اور وہ آپ کو معاف نہیں کر سکتے۔” مومن کو جیسے کئی بار دہرائی بات یاد آئی۔
    حسن جہاں نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”تمہارے بابا اللہ کے پاس چلے گئے ہیں۔”
    ”مجھے پتا ہے اسی لیے میں نے اللہ کو لیٹرز لکھے ہیں۔” قلبِ مومن نے بھی اسی اطمینان سے کہا تھا۔
    وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اس نے مومن کا وہ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا جو پلاسٹر میں جکڑا ہوا نہیں تھا۔
    ”تم بابا کو ستارہ بنتے دیکھتے تھے نا؟ تمہارے بابا واقعی ستارہ بن گئے ہیں۔ آنہیں سکتے وہ اب ہمارے پاس۔” قلبِ مومن نے اس کی آواز بڑی دقت سے سنی تھی۔ وہ بہت مدھم آواز میں بول رہی تھی یوں جیسے وہ یہ سب کہنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ دہرانا بھی نہیں چاہتی تھی۔
    ”ہم بھی نہیں جا سکتے؟” قلبِ مومن الجھا۔
    ”تم نہیں۔ شاید میں چلی جاوؑں۔” اس نے ماں کو کہتے سنا، وہ یک دم خوف کے عالم میں اٹھ کر ماں سے لپٹا تھا۔ حسنِ جہاں سے نفرت کرنے کے باوجود ناراض اور خفا ہونے کے باوجود۔
    ”میں آپ کو کبھی جانے نہیں دوں گا۔” وہ حسنِ جہاں سے لپٹ کر کہتا جا رہا تھا۔
    ”تم دادا کے پاس چلے جاؤ مومن۔” وہ اس سے کہہ رہی تھی۔ مومن اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا مگر اندازہ کر سکتا تھا۔ وہ اس بار آنسو بہا رہی تھی، پانی نہیں۔
    ”نہیں، میں دادا کے پاس نہیں جاؤں گا، آپ کے ساتھ رہوں گا۔” اس نے ماں سے وعدہ کیا تھا یا شاید اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”کوئی جواب آیا؟”
    ”نہیں۔”
    ”میں نے پہلے ہی کہا تھا۔”
    ”تم کو یقین ہے وہ خط اللہ کو مل گئے ہوں گے؟”
    ”ہاں مل تو گئے ہوں گے اللہ کو سب مل جاتا ہے۔”
    ”کتنے خط بھیجے ہیں تم نے اللہ کو؟”
    ‘تیس۔”
    ”یہ تو بہت سارے ہیں۔”
    ”اللہ کو جواب تو دینا چاہیے۔”
    ”ہاں ٹیچر کہتے ہیں، اللہ سب کی سنتا ہے اور سب کو جواب بھی دیتا ہے۔” مومن نے اس بار بے حد یقین سے کہا تھا۔ وہ اس دن اسکول کے گراوؑنڈ میں اپنے دو قریبی دوستوں کے ساتھ بیٹھا اپنا یہ راز شیئر کر رہا تھا جو وہ عام طور پر نہیں کرتا تھا اور وہ دونوں بچے بے حد پرجوش اور متاثر ہوئے تھے ان خطوں کے بارے میں بات کر رہے تھے جو مومن نے اللہ کو بھیجے تھے۔
    ”تم لوگ کسی کو بتانا مت۔” ان سے بات کرتے کرتے مومن کو ہر بار کی طرح انہیں خبردار کرنا یاد تھا۔ دونوں نے بیک وقت نفی میں سرہلا کر اس سے راز نہ کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔
    ”مومن اگر اللہ نے کبھی بھی جواب نہ دیا تو؟” ان دونوں بچوں میں سے ایک بچی ردا نے اس سے پوچھا تھا۔
    ”وہ ضرور دیں گے۔” مومن نے بے حد یقین اور اعتماد سے کہا تھا۔
    ”ہاں مومن! لیکن اگر جواب نہ آیا تو؟” اس بار دوسرے بچے بلال نے بھی جیسے اس بچی کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔
    ”پھر میں اللہ سے خفا ہو جاوؑں گا۔” مومن نے یک دم اپنا پلاسٹر میں لپٹا بازو گود میں رکھتے ہئے کہا۔
    ”اور خفا ہو کر پھر تم کیا کرو گے؟” ردا کو پھر تجسس ہوا۔ قلبِ مومن ان کے لیے پراسرار چیز تھا۔
    ”میں دوبارہ اللہ کو کبھی خط نہیں لکھوں گا۔” اس نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔دونوں بچوں کو جیسے تسلی نہیں ہوئی۔
    ”بس؟” ردا نے دوبارہ پوچھا۔
    ”ہاں اور میں نماز بھی نہیں پڑھوں گا۔ دعا بھی نہیں کروں گا۔” مومن نے جیسے مزید بتایا۔
    ”بس؟” ان بچوں کی جیسے ابھی بھی تسلی نہیں ہو پا رہی تھی۔
    ”اور ہمیشہ جھوٹ بولوں گا اور برے کام کروں گا۔” مومن نے اس بار پہلے سے بھی زیادہ سنجیدگی سے کہا۔
    ردا اور بلال نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ردا نے بڑی ہمدردی سے اپنے لنچ باکس میں سے لنچ کھاتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”میں دعا کروں گی، تمہارے لیٹر کا جواب ضرور ملے۔”
    ردا نہ بھی کہتی تو بھی مومن کو یقین تھا، اسے اللہ تعالیٰ خط کا جواب ضرور دیں گے۔ وہ دیر کر سکتے ہیں ،لیکن اسے نظرانداز نہیں کرسکتے تھے۔
    ٭…٭…٭

  • الف — قسط نمبر ۰۴

    الف — قسط نمبر ۰۴

    میری پیاری بیٹی حسنِ جہاں!
    السلام علیکم
    تمہاراحال پوچھنا چاہتا ہوں۔ پوچھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔ تمہارا حال تو جانتا ہوں میں اور میں ہی تو وجہ بنا ہوں تمہیں اس حال میں لانے کی۔ تمہیں کیا لکھوں۔ میری بیٹی کیا لکھوں؟
    بہت ساری باتیں ہیں جو تم سے کہنا چاہتا ہوں لیکن لفظ، لفظ اس کاغذ پر وہ لکھنے سے قاصر ہیں جو میرے دل میں ہے۔ لیکن تمہارا دوبارہ سامنا کرنے سے تمہارے نام یہ خط لکھنا آسان ہے میرے لیے۔
    تم سے کیا کہوں؟ کہ میں شرمندہ ہوں یا یہ اعتراف کروں کہ تم سے کہ میں گناہ گار ہوں کہ حسنِ جہاں تمہارا وہ گھاوؑ بھر جائے جو میرے ہاتھوں لگا اور تم مجھے معاف کر سکو۔
    میں نے اپنی ساری زندگی کینوس اور کاغذ پر صرف اللہ کی بڑائی اور صناعی بیان کرتے گزاری ہے۔ روشنائی اور رنگوں سے خطاطی کرتے عمربسر کی ہے، مگر یہ سمجھ نہیں پایا کہ اللہ کی بڑائی بیان کرتے کرتے غرور کا وہ کون سا لمحہ تھا جس میں میں خود کو بھی ”بڑا” مان بیٹھا تھا۔ نیک، متقی، پرہیزگار۔ گناہ نہ کر سکنے والا۔ یاد نہیں حسنِ جہاں! میں مومن سے کافر کس وقت ہوا تھا لیکن کبھی نہ کبھی کچھ تو ایسا کر بیٹھا تھا میں کہ ٹھوکر کھائی تو اللہ نے سنبھال نہیں، گرنے دیا۔ اور میں گرتا ہی چلا گیا۔
    اور اب جب یہ خط لکھنے بیٹھا ہوں تو یہ کاغذ آئینہ بن کر مجھے میرا وہ عکس دکھا رہے ہیں جن سے میں نظریں نہیں ملا سکتا۔
    اس عمر میں اکلوتی جوان اولاد کو کھو دینے کے بعد میری ز ندگی کا وہ محور گم ہو گیا ہے جس کے گرد میری زندگی گھومتی تھی۔ اب کچھ بھی یاد نہیں رہتا مجھے۔ نہ کھانا نہ پینا نہ سونا جاگنا، نہ ہی دنیا کی کوئی اور چیز، طہٰ سب کچھ لے گیا ہے میرا۔ بس میرا وجود چھوڑ گیا ہے اپنے اس پچھتاوے کے ساتھ جو ہر وقت میرا گلا گھونٹتا رہتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا، اب اس پچھتاوے کا کروں کیا اور اس وجود کا مصروف کیا رہ گیا ہے۔
    وہ خطاطی جو کئی نسلوں سے خون کی طرح ہماری رگوں میں بہتی آئی تھی، طہٰ کے جانے کے بعد سوکھنے لگی ہے۔ اب میری اگلی نسلوں میں کوئی اللہ کی کبریائی اور بڑائی بیان کرنے والا نہیں آئے گا۔ یہ میری سزا ہے۔ میرے غرور کی۔ میں اس کی شکایت کسی سے نہیں کر سکتا۔
    طہٰ مٹی ہو گیا۔ میں مٹی بھی نہیں ہو سکتا۔ اس دنیا سے جانے کی باری میری تھی۔ مہلت اس کو نہیں ملی۔ اس عمر میں جو غم میرے حصے میں آیا ہے، وہ جھیلا نہیں جا رہا۔ یہ جو گھر ہے ،جس میں میں رہتا ہوں، یہاں کی ہر شے، ہر دیوار کے ساتھ اس کی یادیں لپٹی ہیں۔ میں ہر روز صبح اس کی یادوں کو درختوں کی بڑھی ہوئی شاخوں کی طرح کاٹ کر باہر پھینک آتا ہوں۔ وہ رات تک پھر سے اُگ آتی ہیں، پرانی یادوں کی رہ جانے والی جڑوں میں سے۔ میں یہ فصل کاٹتے کاٹتے تھکنے لگا ہوں۔ گھر طہٰ سے خالی ہو گیا اس کی یادوں سے خالی ہونے کو تیار نہیں۔
    وہ تمہارے ساتھ چلا گیا تھا تو اس گھر میں اس کی یادیں اس طرح نہیں اُگتی تھیں۔ میری نفرت اور غصہ ہر اُگنے والی یاد کو کھا جاتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب میرے اندر کچھ بھی نہیں رہا۔ فخر، غرور، آن، غصہ سب ختم ہو گیا۔ اگر کچھ بچا ہے تو روشنی کی وہ کرن جو قلبِ مومن کے نام سے تمہارے گھر کو روشن کیے ہوئے ہے۔ میں ہر وقت اس کے بارے میں سوچتا ہوں جب اپنے اندر ،باہر ہر طرف اندھیرا ہو جاتا ہے تو اُس کے چہرے کی روشنی مجھے راستہ دکھانے لگتی ہے۔ کیا اسے اپنا یہ بوڑھا دادا یاد آتا ہے؟ مگر میں اسے کیوں یاد آوؑں گا؟ میں نے اُس کو دیا ہی کیا ہے؟ اسے پہلی بار دیکھا تو مجھے لگا طہٰ کا بچپن لوٹ آیا، وہ بچپن میں قلبِ مومن جیسا ہی تھا۔ ویسا ہی معصوم چہرہ، ویسی ہی میٹھی آواز، ویسے ہی سوال اورویسی ہی شرارتیں۔ پر قلبِ مومن تو شرارتیں نہیں کرتا۔ وہ تو بس طہٰ کیا کرتا تھا، قلبِ مومن تو بس سوال کرتا ہے اور ان سوالوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ اس کا مجرم ہوں میں۔ میں نے اُس سے شرارتیں چھین کر یہ سوال تھما دیے۔ میں نے بڑا ظلم کیا۔
    میری بیٹی حسنِ جہاں۔ تم مجھے معاف کر دو۔ دل سے معاف کر دو۔ قلبِ مومن کو میرا بہت پیار دینا۔ اُس سے کہنا وہ اللہ کو ایک خط اپنے دادا کے لیے بھی لکھے۔ اللہ سے کہے۔ اُس کے دادا کا ہنر اُسے واپس کر دے۔ قلبِ مومن کا ہر خط اللہ کو پہنچ جاتا ہے، وہ تمہارا بیٹا ہے نا اس لیے۔
    والسلام
    قلبِ مومن کا دادا
    ٭…٭…٭

    قلبِ مومن نے اسٹریچر پر لیٹی حسنِ جہاں کو دیکھا جسے پیرامیڈکس گھر سے باہر کھڑی ایمبولینس کی طرف لے جا رہے تھے اور پھر اُس نے اپنے دادا کو دیکھا جو بہتے آنسوؤں کے ساتھ اُس اسٹریچر کے پیچھے آرہا تھا۔ قلبِ مومن اور اُن کی نظریں ملی تھیں اور قلبِ مومن کے چہرے کا خوف جیسے عبدالعلی کی آنکھوں میں جھلکا تھا۔ مومن سائیکل سے گرنے کے بعد اپنی چوٹوں کو بھول گیا تھا اور اپنی اُس سائیکل کو بھی جو رستے میں گری پڑی تھی۔ وہ بس ایمبولینس کی طرف بھاگا تھا اور دادا نے اُسے روک لیا تھا۔
    ”ممی کو کیا ہوا؟ میری ممی کو کیا ہوا؟” عجیب خوف کے عالم میں اُس نے عبدالعلی سے پوچھا تھا۔
    ”دعا کرو کچھ نہ ہو۔” عبدالعلی نے اُسے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا تھا۔
    ایمبولینس اب دور جا رہی تھی اور قلبِ مومن کو عبدالعلی کی ٹانگوں سے لپٹ کر جیسے عجیب سکون کا احساس ہوا تھا وہ کسی چڑیا کے بچے کی طرح کانپ رہا تھا۔ عبدالعلی نے اُسے گود میں اٹھا لیا۔ وہاں کھڑے آس پاس کے گھروں میں رہنے والے لوگ اب وہاں سے آہستہ آہستہ جانے لگے تھے۔ دادا کی گود میں چڑھے قلبِ مومن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ ان لوگوں کی آنکھوں میں اس کے لیے ترس کیوں تھا۔ وہ اس عمر میں بھی اُس احساس کو پہچان سکتا تھا۔
    ”ممی کے پاس جانا ہے۔” اُسے ایک دم ماں کی یاد دوبارہ آئی تھی اور تب ہی اس نے عبدالعلی کی آنکھوں سے مسلسل بہتے ہوئے آنسو بھی دیکھے تھے۔ وہ شاید اُس کی ممی کے لیے رو رہے تھے۔ قلبِ مومن نے خود ہی سوچ لیا تھا، اُن آنسوؤں نے قلبِ مومن کے دل کو جیسے کچھ اور نرم کیا تھا عبدالعلی کے لیے۔
    آئی سی یو میں حسنِ جہاں بے ہوش پڑی ہوئی تھی اور عبدالعلی کے ساتھ قلبِ مومن بھی اُسے شیشے سے دیکھ کر بُری طرح بے چین ہوا تھا۔
    ”ممی کو کیا ہوا ہے دادا؟” اس نے عبدالعلی کو ہاتھ کو بے تابی سے ہلایا تھا۔ اپنی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے عبدالعلی نے اُس سے کہا۔
    ”وہ بیمار ہو گئی ہیں۔” اُسے بتاتے ہوئے ان کی آواز بھر آئی۔
    قلبِ مومن نے اس بار ان آنسوؤں پر غور کیا۔ ”آپ کیوں رو رہے ہیں؟” اس بار وہ جیسے پوچھے بغیر نہیں رہ سکا۔
    ”مجھ سے ایک گناہ ہو گیا ہے مومن۔” عبدالعلی کا جیسے حوصلہ جواب دے گیا۔
    مومن کو یک دم یاد آیا، اُس کی ماں نے بھی تو کسی گناہ کی بات کی تھی جس کو اُس کے باپ نے معاف نہیں کیا تھا اور اب دادا بھی کسی گناہ کی بات کر رہے تھے۔
    ”ممی نے کہا تھا، اُن سے بھی کوئی گناہ ہوا تھا۔” اس نے بے اختیار عبدالعلی سے کہا۔
    ”نہیں تمہاری ممی نے کوئی گناہ نہیں کیا مومن۔ یہ میرے گناہ کی سزا ہے۔” وہ بلک بلک کر رونے لگے تھے۔
    قلب مومن کو اُس لمحے عبدالعلی پر بہت زیادہ ترس آیا۔ اس کا دل چاہا، وہ انہیں اپنے ساتھ لگا کر تھپکے جیسے وہ اُسے تھپکتے تھے۔
    ”اللہ تعالیٰ کیا ہم سب کو سزا دیتے ہیں؟ مجھے اُن سے بہت ڈر لگتا ہے دادا۔” عبدالعلی کا ہاتھ دوبارہ تھامتے ہوئے قلبِ مومن نے جیسے اپنا خوف اُن کی جھولی میں ڈالا۔
    ”اللہ سزا نہیں دیتا۔ ہم سب دیتے ہیں۔” انہوں نے جیسے اس ننھے بچے کے دل سے اُس خوف کو مٹانے کی کوشش کی۔
    ”کیا اللہ تعالیٰ ہم سے سزا دینے کو کہتے ہیں؟”
    ”مومن! مجھ سے وہ سوال مت پوچھو جس کا جواب میرے پاس نہیں۔” اس نے عبدالعلی کو ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے دیکھا تھا۔ آئی سی یو کے شیشے سے اُس نے بستر پر آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی حسنِ جہاں کو دیکھا۔ قلبِ مومن کو اُس وقت احساس ہوا اُسے صرف حسنِ جہاں کی ضرورت تھی بابا کی نہیں وہ اُن کے بغیر رہنا سیکھ چکا تھا۔ وہ حسنِ جہاں کے بغیر رہنا سیکھنا نہیں چاہتا تھا۔
    اگلے دو دن وہ دادا کے ساتھ ہاسپٹل جاتا رہا اور پھر اُس نے بالآخر حسنِ جہاں کو آنکھیں کھولتے دیکھ لیا تھا۔ لیکن یہ وہ آنکھیں نہیں تھیں جنہیں وہ ہمیشہ سے دیکھتا آیا تھا۔ یہ آنکھیں خالی تھیں، اُن میں کچھ بھی نہیں تھا۔
    اُس آٹھ سال کے بچے نے وہ تبدیلی محسوس کی تھی اور بڑی شدت سے کی تھی۔ کچھ ہوا تھا اُس کی ماں کو مگر کیا ہوا تھا۔ یہ وہ جان نہیں پا رہا تھا۔
    ”ممی! آپ ٹھیک ہو گئیں میں نے اتنی دعائیں کی تھیں۔” اُس نے حسنِ جہاں سے لپٹ کر جیسے اُس میں وہی گرمی، وہی تمازت ڈھونڈنے کی کوشش کی جو ہمیشہ سے وہ اُس کی آغوش میں محسوس کرتا تھا۔ حسنِ جہاں نے اُسے لپٹا لیا تھا۔ قلبِ مومن نے اُسے کہتے سنا۔
    ”میں نے بھی بڑی دعائیں کی تھیں۔ میری تو کوئی دعا قبول نہیں ہوئی۔”
    قلبِ مومن نے حسنِ جہاں کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی مگر عبدالعلی کی آواز نے اُسے اپنی طرف متوجہ کر لیا، اُس نے انہیں ہاتھ جوڑتے۔ حسنِ جہاں سے کہتے سنا۔
    ”آپ کو معاف کر دوں گی۔ اپنے آپ کو کیسے کروں گی؟” وہ کیا پہیلی تھی جو عبدالعلی اور حسنِ جہاں کی گفتگو میں پنہاں تھی۔ وہ کیا گناہ تھا جو انہیں سزا دے کر گیا تھا اور وہ کیا شے تھی جس سے وہ محروم ہوئے تھے۔ قلبِ مومن سمجھ نہیں پایا۔ سمجھ میں آئی تھی تو صرف ایک بات۔ وہ دونوں اب اُس کے باپ کی بات نہیں کرتے تھے اور اُس کو پہلے کی طرح ڈھونڈ بھی نہیں رہے تھے مگر قلبِ مومن اب حسنِ جہاں سے کوئی ایسی بات نہیں پوچھنا چاہتا تھا جو اُس کی ماں کو رلاتی اور پتا نہیں کیوں اُسے لگتا تھا، وہ یہ سوال کرے گا تو اُس کی ماں روئے گی۔
    اللہ کو ایک اور خط لکھنا ضروری ہو گیا تھا کیوں کہ قلبِ مومن کو کوئی جواب اپنی دنیا اور اپنے رشتوں سے نہیں مل رہا تھا۔
    ”جب غلطیاں ہو جاتی ہیں تو وہ کیا وہ کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتیں اور جب گناہ ہو جائیں تو کیا ہمیشہ اُن کی سزا ملتی ہے۔ کیا اللہ معاف نہیں کر سکتا؟”
    قلبِ مومن کو اب اللہ تعالیٰ سے یہی سوال کرنے تھے کیوں کہ وہ اپنے گھر میں دو لوگوں کو تکلیف میں دیکھ رہا تھا اور وہ اُس تکلیف کی جڑ کو کھوجنا چاہتا تھا۔
    جنگل میں تنے پر دھرا اس کا لیٹر باکس غائب تھا۔ قلبِ مومن کو چند لمحے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا۔وہ شاید کسی غلط جگہ پر آگیا تھا راستہ بھول کر۔ آخر وہ اتنے دنوں کے بعد آیا تھا اُس جنگل میں۔ مگر قلبِ مومن کبھی راستہ نہیں بھولتا تھا۔ صدمے کی کیفیت میں وہ اُس درخت کے گرے ہوئے تنے کے ساتھ ساتھ آس اپس بہت سارے دوسرے گرے ہوئے درختوں پر بھی چڑھ چڑھ کر اپنے لیٹرباکس کو ڈھونڈتا رہا۔ اُسے اپنے لیٹر باکس کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ملا تھا۔ بے حد مایوسی کے عالم میں وہ اُس دن واپس گھر آیا تھا اور اپنے کمرے میں جاتے ہی وہ جامد ہو گیا تھا۔ وہ لیٹرباکس ایک بیگ میں پڑا تھا۔ بیگ کی کھلی زپ سے آدھا اندر اور آدھا باہر۔ قلبِ مومن بے یقینی کی کیفیت میں اُس لیٹرباکس کو دیکھتا رہا۔ ممی کو کیسے پتا تھا کہ اُس نے وہ لیٹرباکس وہاں اُس جنگل میں اُس درخت پر رکھا تھا اور وہ اس کے اندر خط ڈالتا تھا۔ کیا انہیں یہ بھی پتا تھا کہ…
    اُسے مزید سوچنے کا موقع نہیں ملا۔ وہ حسنِ جہاں کی آواز تھی جس نے اُسے چونکایا تھا۔
    ”مومن! ہم پاکستان جا رہے ہیں۔”وہ بے اختیار پلٹا تھا۔ حسن جہاں کمرے کے دروازے میں کھڑی تھی۔
    ”کیوں؟” وہ حیران ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا اُس کی ماں کا تعلق پاکستان سے تھا مگر اُس کا تو نہیں تھا۔
    ”رہنے کے لیے۔ اب ہم یہاں نہیں رہیں گے۔ پاکستان میں رہیں گے۔”
    مدھم آواز میں جو اُس نے حسنِ جہاں کی زبان سے سنا اس نے مومن کو دہلا دیا تھا۔ اُس کی ماں اسے وہاں سے کیوں کسی اور جگہ لے جانا چاہتی تھی، یہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ وہ مزید سوال کرنا چاہتا تھا مگر وہ چلی گئی تھی۔ وہ جب سے ہاسپٹل سے آئی تھی، اس سے بہت کم بات کرتی تھی۔ اگر کسی سے بات کرتی تھی تو وہ دادا تھے مگر وہ ساری باتیں سرگوشیوں اور آنسوؤں کی زبان میں ہوتیں اور قلبِ مومن اُن دونوں چیزوں سے بے زار ہو گیا تھا۔ اُس پہیلی سے بھی اس کھیل سے بھی۔
    ٭…٭…٭

  • الف — قسط نمبر ۰۳

    الف — قسط نمبر ۰۳

    میرے پیارے اللہ!
    آپ کیسے ہیں؟
    میرا نام قلبِ مومن ہے۔ میری عمر آٹھ سال ہے اور میں اپنی ممی کے ساتھ رہتا ہوں۔
    آپ مجھے جانتے ہیں نا ؟کیوں کہ آپ نے مجھے پیدا کیا۔ لیکن میں پھر بھی آپ کو اپنی ایک تصویر بھیج رہا ہوں تاکہ میں آپ کو یاد آجائوں۔
    آپ نے اتنے بہت سارے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ ہوسکتا ہے آپ مجھے بھول گئے ہوں حالانکہ ممی کہتی ہیں۔ ہم تو اللہ کو بھول سکتے ہیں، لیکن اللہ ہمیں کبھی نہیں بھولتا۔
    آپ کو بہت سارے لوگ خط لکھتے ہوں گے۔ میں سوچتا ہوں آپ اتنے سارے خط کیسے پڑھتے ہوں گے۔۔ پر ممی کہتی ہیں آپ اپنا ہر خط پڑھتے ہیں۔۔ وہ بھی خود۔۔۔
    مجھے یہ نہیں پتا کہ آپ کہاں رہتے ہیں لیکن ممی کہتی ہیں آپ وہاں رہتے ہیں جہاں کوئی نہیں رہتا۔۔آسمان پر۔۔ میں تو آسمان تک نہیں جا سکتا لیکن آپ کو خط یہاں سے بھیج رہا ہوں کیونکہ آپ تو اپنی ڈاک ہر جگہ سے لے لیتے ہیں۔۔ یہ بھی مجھے ممی نے ہی بتایا۔
    میرا خط جلدی سے پڑھ لیں اور پھر مجھے خط کا جواب ھیجیں۔ مجھے آپ سے ایک کام ہے۔۔ اور یہ کام کوئی اور نہیں کرسکتا۔ آپ میرے خط کا جواب بھیجیں گے تو پھر اگلے خط میں آپ کو وہ کام بتائوںگا۔
    میں نے خط پرurgent بھی لکھا ہے تاکہ آپ خط جلدی سے پڑھ لیں لیکن ممی کہتی ہیں، ہر کام صبر سے کرنا چاہیے کیونکہ صبر کرنا نیکی ہے، میں بھی صبر سے آپ کے خط کا انتظار کروں گا، تاکہ ایک نیکی بھی کرلوں کیونکہ ممی نے مجھے بتایا ہے، آپ کو نیکیاں اچھی لگتی ہیں، مجھے بھی اچھی لگتی ہیں۔
    میرے پاس ایک ڈائری ہے جس میں، میں ہر روز اپنی ہر نیکی لکھتا ہوں۔۔۔ اور اُسی ڈائری میں اپنے گناہ بھی لکھتا ہوں۔
    ممی کہتی ہیں۔ اس طرح کرنے سے مجھے یاد رہے گا کہ میں ہر روز اچھے کام زیادہ کرتا ہوں کہ بُرے کام۔
    میں روز رات کو اپنی ڈائری چیک کرتا ہوں اور اگر بُرے کام زیادہ کیے ہوں تو پریشان ہوتا ہوں۔
    ممی کہتی ہیں اگر میں توبہ کرلیا کروں تو میرے بُرے کام اور گناہ غائب ہو جائیں گے۔
    میں ہر روز ایسا ہی کرتا ہوں۔ توبہ کرکے سوتا ہوں تو صبح میری ڈائری خالی ہوتی ہے۔ ممی کہتی ہیں وہ آپ کے کہنے پر ربر سے میرے سارے گناہ مٹا دیتی ہیں۔
    Thank you for that.
    آپ بہت اچھے ہیں۔ اب آپ تھک گئے ہوں گے۔ میں بھی تھک گیا ہوں۔ آپ آرام کریں، میں بھی سونے جارہاہوں۔
    آپ کا قلبِ مومن!
    ٭…٭…٭

    دروازے کے باہر جو شخص کھڑا تھا، اُسے مومن نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اگر کبھی دیکھا بھی تھا تو اپنے باپ کی دکھائی ہوئی کسی تصویر میں اُس کا چہرہ اور اس کے سر داڑھی کے بال ایک جیسے سفید تھے۔ بہت ہلکی داڑھی، بہت گھنے سر کے بال اور بڑھاپے میں بھی ہیرے کی کنی جیسی چمکتی خوب صورت شہد رنگ آنکھیں جو قلبِ مومن پر جمی تھیں۔ کسی مقناطیس کی طرح۔
    ”قلبِ مومن؟” قلبِ مومن نے اُس دراز قد بوڑھے آدمی کی زبان سے اپنا نام سُنا، ایک اشتیاق بھرے لہجے میں۔۔۔ لیکن اُس نے جواب دینے کے بجائے اُس بوڑھے آدمی کے عقب میں اپنے باپ کے وجود کو کھوجنے کی کوشش کی۔
    وہاں کوئی نہیں تھا۔ صرف وہی بوڑھا شخص تھا اور اُس کا ایک بیگ۔ قلبِ مومن نے بے اختیار پلٹ کر اپنی ماں کو دیکھا۔ اُس کے چہرے پر آنکھوں میں اُسے وہی مایوسی نظر آئی جو اُس کے اپنے چہرے اور آنکھوں میں تھی۔
    ”مومن! تمہارے دادا۔۔” اُس نے ماں کو بالآخر کچھ بولتے سُنا۔
    وہ اب اُس کا ہاتھ پکڑے اُس شخص کی طرف بڑھا رہی تھی۔ مومن نے سر اُٹھا کر ماں کو دیکھا پھر سامنے کھڑے اُس شخص کو جو اب پنجوں کے بل اُس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔ اُس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے، اُسے دیکھتے ہوئے۔
    ”میرے بابا کہاں ہیں؟” اُس نے اُس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھا تھا۔
    ”وہ میرے پاس نہیں ہے۔” مومن کے سوال کا جواب اُس نے مومن کو نہیں دیا۔ اُس کے عقب میں کھڑی حسنِ جہاں کودیا تھا۔
    ”وہ میرے پاس کبھی نہیں آیا۔۔” اُس نے اس بار وہ جملہ قلبِ مومن کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ قلبِ مومن کو لگا اُس کے پیچھے کھڑی حسنِ جہاں پیچھے ہٹی ہے، بے اختیار گردن موڑ کر اُس نے ماں کو دیکھا۔ وہ واقعی اب اُس کے پیچھے نہیں تھی۔ وہ دروازے کی چوکھٹ سے پشت لگائے کھڑی تھی، یوں جیسے اپنے آپ کو سہارا دے رہی ہو۔ مومن نے پلٹ کر اُس بوڑھے شخص کی آنکھوں میں بھر آنے والے پانی کو حیرت سے دیکھا۔ وہ کیوں رو رہا تھا اُسے خود سے لپٹا کر۔۔۔ کیوں۔۔۔
    اُس کے سینے سے لگے، اُس کی آنکھوں سے گرتے آنسوئوں کی نمی کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے بھی مومن کو بے تاب کرنے والا واحد خیال اور احساس ماں کا تھا۔ عبدالعلی سے ملنے والا پہلا لمس اُس نے ”محسوس” ہی نہیں کیا تھا۔
    ”ڈیڑھ سال ہونے والا ہے اُسے مجھے اور مومن کو چھوڑ کر گئے ۔۔۔آپ کہتے ہیں، وہ آپ کے پاس نہیں آیا۔۔۔ پھر وہ کہاں گیا؟”
    اُس نے عبدالعلی کے ساتھ اندر کمرے میں آنے کے بعد حسنِ جہاں کے منہ سے یہ پہلا جملہ سُنا۔ اُس نے یہ جملہ عبدالعلی سے کہا تھا پھر اچانک اُسے مومن کا خیال آیا اور اُس نے مومن کو وہاں سے جانے کے لیے کہا۔
    ”مومن! تم اپنے کمرے میں جائو۔” اس نے ماں کی تحکمانہ آواز سُنی اور ایک لفظ کہے بغیر وہ وہاں سے اندر کمرے میں آگیا، مگر دروازے کی جھری کو بند کیے بغیر وہ اُس کمرے میں جھانکتا رہا۔ جہاں عبدالعلی اور حسنِ جہاں کھڑے تھے۔ وہ دونوں اس وقت اُسے ایک راز کی طرح لگ رہے تھے۔۔۔ ایک معمہ۔۔۔ جسے وہ حل کرکے اپنے باپ تک پہنچنا چاہتا تھا مگر ہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے چُپ تھے۔
    ”آپ بیٹھیں۔” اُس نے حسنِ جہاں کو کہتے سُنا اور عبدالعلی کو ایک کُرسی پر بیٹھتے دیکھا، وہ دیواروں پر لگی طہٰ کی بنائی ہوئی خطاطی دیکھ رہا تھا۔
    ”آپ کہتے ہیں، وہ آپ کے پاس نہیں آیا پھر وہ کہاں گیا؟” اُس نے بالآخر حسنِ جہاں کو بولتے دیکھا۔ وہ آگے آئی اور عبدالعلی کے قدموں میں بیٹھ گئی تھی۔ اُس نے عبدالعلی کے پائوں کو چھو کر روتے ہوئے کہا۔
    ”اب بس۔۔۔ جو بھی سزا ہے۔۔ کاٹ لی میں نے۔۔اُس سے کہیں، معاف کر دے مجھے۔۔”
    دروازے کی جھری سے اندر جھانکتے قلبِ مومن کا وجود پتے کی طرح لرزنے لگا۔ اُسے ماں کا کسی کے سامنے جُھکنا اچھا نہیں لگا، کسی کے سامنے بھی۔
    عبدالعلی بے اختیار اپنی جگہ سے اُٹھے تھے۔ انہوں نے حسنِ جہاں کے سر پر ہاتھ رکھا پھر روتی ہوئی حسنِ جہاں کو بازوئوں سے پکڑ کر اُٹھایا۔
    ”تم میرا یقین کرو بیٹا، وہ میرے پاس نہیں آیا۔۔۔ ڈیڑھ سال وہ میرے پاس رہتا اور میں اُسے تم دونوں کے بغیر رہنا دیتا۔۔۔ میں بے رحم نہیں ہوں۔۔۔ اتنا تو نہیں ہوں۔۔۔” اُس نے عبدالعلی کو عجیب بے چارگی کے عالم میں کہتے سُنا۔
    ”پھر کہاں گیا ہے وہ۔۔۔؟ میرے پاس نہیں۔۔۔ آپ کے پاس نہیں تو کہاں ہے وہ۔۔۔” حسنِ جہاں اب عجیب ہذیانی انداز میں کہہ رہی تھی۔
    قلبِ مومن نے دروازے کی جھری کو بند کردیا۔ اُس سے اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھا نہیں جارہا تھا۔ وہ اتنے دن نہیں روئی اور آج رو رہی تھی تو۔۔۔ آخری جملہ جو اُس نے عبدالعلی کو کہتے سُنا تھا وہ ایک ہی تھا۔
    ”میں اس کو ڈھونڈوں گا۔۔۔ شاید وہ قونیہ چلا گیا ہو۔۔۔ اپنے درویش ساتھیوں کے پاس۔” یہ وہ آخری جملہ تھا جو مومن نے اُن دونوں کی گفتگو کا سُنا تھا۔ وہ اُس وقت بے حد رنجیدہ تھا۔ بے حد ناراض، بہت اُداس۔۔۔۔ اور وہ کسی بھی کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔ اُسے بس رونا آرہا تھا بالکل اُسی طرح جیسے اُس نے حسنِ جہاں کو روتے دیکھا تھا۔۔۔۔ ہچکیوں کے ساتھ۔

  • الف — قسط نمبر ۰۲

    الف — قسط نمبر ۰۲

    پیارے بابا!
    میں جانتا ہوں، اس خط کے لفافے پر میرا نام دیکھ کر آپ چونکے ہوں گے پھر بہت دیر تک آپ نے اس لفافے کو کھولا نہیں ہو گا۔ میرا نام دیکھتے رہے ہوں گے اور آپ کو سب کچھ یاد آتا رہا ہو گا۔ جو میں آپ سے کہہ کر گیا تھا اور جس پر میں آپ سے نادم ہوں۔ آپ نے سوچا ہو گا، خط کھولے بغیر لفافے کو پھاڑکر پھینک دیں مگر یہ آپ سے ہو نہیں سکے گا کیوں کہ میں آپ کا اکلوتا بیٹا ہوں۔ طہٰ عبدالعلی۔ جسے آپ نے میری ماں کے جانے کے بعد چڑیا کے بچے کی طرح تن تنہا پالا اور جس کے لیے آپ نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ لفافہ پھاڑ کر پھینک دیتے تو بھی دوبارہ ٹوکری سے نکال کر کاغذ کے ٹکڑوں کو جوڑ لیتے۔ دل تو ہے نہیں یہ کہ ٹوٹ کر نہ جڑتا۔
    کیا لکھوں آپ کے نام اس خط میں؟ اپنی شرم ساری، اپنی ندامت یا اپنی بے بسی۔ بابا !آپ کو چھوڑ کر گیا تھا پر آپ سے کٹ کر رہا نہیں جا رہا۔ آپ یاد آتے رہتے ہیں، زیادہ نہیں بس ہر سانس کے ساتھ۔
    آپ کا دل دکھایا ہے پر میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ کیا کرتا؟ آپ کو چھوڑ کر کم از کم زندہ تو رہ رہا ہوں۔ حسنِ جہاں کو چھوڑ دیتا تو یہ بھی نہ کر پاتا۔ خط پڑھ رہے ہوں گے تو حسنِ جہاں کے نام پر آپ کے ماتھے پر بل آیا ہو گا۔ میں جانتا ہوں، آپ اب بھی اس کے لیے اپنا دل بڑا نہیں کر پائے ہوں گے۔ میں نے زندگی میں پہلی بار آپ کو کسی سے نفرت کرتے دیکھا ہے اور وہ بھی اس سے جس سے محبت ہے۔ مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا بابا! آپ نفرت نام کی کسی شے سے واقف بھی ہیں۔
    آپ تو اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ کی کائنات سے۔ اس کائنات میں ایک حسنِ جہاں بھی ہے جسے اللہ نے دنیا میں پیدا کر کے اس کو میرے دل میں رکھ دیا ہے۔ وہ ویسی ہی ”روح” رکھتی ہے جیسی آپ اور میں، ویسا ہی دل جیسا آپ اور میں۔ پھر بابا! آپ مجھے حسنِ جہاں سے محبت کرنے کے لئے معاف کیوں نہیں کر سکتے۔
    میرے بس میں ہوتا اسے پیار نہ کرتا تو میں کبھی نہ کرتا۔ میرے بس میں ہوتا اس سے ترک تعلق کرنا تو میں کب کا کر چکا ہوتا۔ پر میرے بس میں کچھ بھی نہیں۔ اسے دل سے نہیں نکال پاتا اور آپ کو دماغ سے۔ میں آج کل دل اور دماغ کی اس جنگ میں صرف ایک بے کار وجود بن کر رہ گیا ہوں۔

    آپ کی بددعائیں لگ رہی ہیں مجھے۔ میں جانتا ہوں، یہ پڑھتے ہوئے آپ بے قرار ہوئے ہوں گے کیوں کہ آپ تو مجھے بددعا دے ہی نہیں سکتے نا لیکن آپ کا دل دکھایا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے، اللہ ناراض نہ ہوا ہو مجھ سے۔
    اب اللہ کا نام نہیں لکھ پاتا میں۔ لکھتا بھی ہوں تو وہ نام میری روح سے نہیں بس ہاتھوں سے لکھا جاتا ہے۔ لوگ میرے ہاتھ سے بنی خطاطی کو اب نہیں دیکھتے، دنگ ہونا تو دور کی بات ہے اور خریدنا تو اس سے بھی دور کی بات۔
    میں جانتا ہوں، آپ کہیں گے۔ دل میں حسنِ جہاں بسا کر اللہ کا نام لکھو گے تو یہی ہو گا۔ شاید شرک کر بیٹھا ہوں مگر توبہ کی توفیق بھی نہیں ہو پا رہی۔ طہٰ عبدالعلی بڑی تکلیف میں ہے آج کل۔ اللہ کو پکارتا ہوں تو وہ نہیں سنتا۔ آپ کو پکار رہاہوں کیوں کہ اللہ آپ کی ہمیشہ سنتا ہے۔ اس سے کہیں طہٰ کو معاف کر دے۔ طہٰ کے دل سے حسن جہاں مٹا دے، وہاں اپنا ٹھکانا بنائے۔ طہٰ کے ہاتھوں اور روح کو اس قابل رہنے دے کہ وہ اللہ کے نام لکھے تو لوگوں کے دلوں کو موم کر دے۔ اللہ کی کبریائی کے خوف سے۔ منور کرے اللہ کی محبت کے نور سے۔ پر یہ تب ہی ہو گا جب آپ طہٰ کو معاف کریں گے۔ بابا مجھے معاف کر دیں۔
    آپ کا نافرمان بیٹا
    طہٰ عبدالعلی
    ٭…٭…٭
    قلبِ مومن نے بے یقینی کے عالم میں اپنی ماں کے ہاتھوں سے وہ لفافہ لیا۔ اس پر اس کا نام لکھا تھا بے حد خوبصورت رسم الخط میں۔
    ”اللہ تعالیٰ کی ہینڈرائٹنگ کتنی خوب صورت ہے۔”
    اس نے اس لفافے پر نظر ڈالتے ہوئے ایک لمحہ کے لیے سوچا۔ پھر سر اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا جس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ اس نے لفافہ لیتے ہوئے نوٹس کی تھی۔ وہ سرتاپا لرز رہی تھی۔ اپنی مسکراہٹ کو ہونٹوں میں اور آنسووؑں کو آنکھوں میں چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا یا شنگرفی یا گلابی۔ پتا نہیں وہ کون سا رنگ تھا۔ کلر بیلٹ کے سارے رنگوں سے زبانی واقف ہونے کے باوجود مومن بوجھ نہیں سکا مگر کم از کم وہ زرد رنگت نہیں تھی۔ وہ زرد رنگت جو وہ اپنے باپ کے جانے کے بعد اپنی ماں کے چہرے پر دیکھنے کا عادی ہو گیا تھا۔
    وہ ایک خوب صورت سرخ گلاب کی طرح کھل اٹھی تھی یا شاید جی اٹھی تھی۔ وہ ماں کو مبہوت دیکھتا رہا۔
    ”تم خط نہیں پڑھوگے؟” اس کی ماں نے جیسے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں، مگر اسے کھولا کس نے؟” اس نے یک دم لفافہ پلٹا اور اس کا اٹھا ہوا فلیپ دیکھا۔
    ”میں نے۔” کچھ مجرمانہ سے انداز میں اس کی ماں نے کہا۔ وہ راز جو اس کے اور اللہ کے درمیان تھا وہ اس کی ماں بھی جان گئی تھی اور یہ بات اس وقت مومن کو اچھی نہیں لگی تھی۔ وہ چپ چاپ خط لیے اندر آگیا۔
    میرے پیارے قلبِ مومن!
    تمہارے سارے خط اللہ تک پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے پڑھ بھی لیے ہیں۔ وہ تمہیں خود ان سب کا جواب بھیجنا چاہتے تھے لیکن پھر انہوں نے سوچا، وہ تمہارا جواب میرے ذریعے تم تک پہنچا دیں۔ میں 15تاریخ کو آرہا ہوں۔ تمہاری سب باتوں کا جواب لے کر۔
    تمہارا دادا
    عبدالعلی
    ٭…٭…٭
    جس بے قراری اور بے چینی سے اس نے لفافہ کھول کر خط پڑھنا شروع کیا تھا۔ اسی بے قراری کے ساتھ ہی اس نے خط ختم بھی کیا۔ بے حد مایوسی کے ساتھ۔
    ”تو یہ خط اللہ تعالیٰ نے لکھ کر نہیں بھیجا۔” اس نے عجیب مایوسی سے سوچا۔
    ”پردادا یہاں کیوں آرہے ہیں؟”
    اس کے ذہن میں اگلا سوال ابھرا۔ مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ دادا کو یہ کیسے پتا چلا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو خط بھیجا تھا اور دادا کو کیوں اس کے خطوں کا جواب دینے کے لیے اللہ نے چنا۔ کیا وہ بھی اللہ کے پاس رہتے ہیں۔
    سوالات کا ایک انبار تھا جس نے اس کے ذہن کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔
    ”مومن۔” وہ اپنی ماں کی آواز پر بے اختیار پلٹا۔ وہ پتا نہیں کب اس کے پیچھے کمرے میں آگئی۔
    ”اللہ تعالیٰ نے خود خط کیوں نہیں لکھا مجھے؟” اس نے ماں کو دیکھتے ہی بے ساختہ کہا۔
    ”خود نہیں لکھتے وہ، ان کے پاس بہت سارے لوگ ہوتے ہیں کام کرنے کے لیے۔ انہوں نے کسی کو کہہ دیا ہو گا یہ کام کرنے کے لیے۔” اس کی ماں نے اس کے ہاتھ میں پکڑا خط اس کے ہاتھ سے لے کر اسے بڑی احتیاط سے تہہ کر کے لفافے میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”انہوں نے دادا سے کہا ہے۔” مومن کو لگا جیسے اس کی ماں نے خط دھیان سے نہیں پڑھا تھا۔
    ”ہاں، میں جانتی ہوں۔” مدھم آواز اسے سنائی دی۔ اس کی ماں اب خط کو اس کی اسٹڈی ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس پر ایک پیپر ویٹ رکھ دی تھی۔
    ایک لمحہ مومن کو خیال آیا، وہ ماں کو بتا دے کہ اس نے خط میں اپنے باپ کو بھیجنے کا کہا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے ہی وہ جھجکا اور پھر اس نے ماں سے کہہ دیا۔
    ”لیکن میں نے تو بابا کو بلایا تھا، دادا کو تو نہیں بلایا تھا۔” اس کے شکوے کا جواب اس کی ماں نے ایک پراسرار مسکراہٹ سے دیا مگر اس مسکراہٹ کے ساتھ اس کی آنکھوں میں بہت سارے قمقے سے روشن ہوئے تھے۔
    ”وہ بھی تو آرہے ہیں۔”
    وہ ساکت ہوا پھر خوشی سے بے قابو۔
    ”آپ کو کیسے پتا چلا؟” مومن بے اختیار چلایا تھا۔
    جواب میں ایک اور مسکراہٹ آئی اور پھر ایک ہنسی۔ اس نے باپ کے جانے کے بعد آج پہلی بار ماں کو کھلکھلا کر ہنستے دیکھا تھا۔ سرخ ہوتے، چمکتے چہرے کے ساتھ۔ مومن کو یقین آگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ واقعی اس کے بابا کو بھیج رہے تھے اور وہ بھی اس کے دادا کے ساتھ جن سے وہ کبھی نہیں ملا۔ مگر اس سے بھی زیادہ ناقابل یقین بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے سارے خط مل گئے اور انہوں نے اس کے خط پڑھ بھی لیے۔
    اس کی ماں کمرے سے جا چکی تھی اور مومن وہیں کھڑا تھا۔ اپنے دل کی دھڑکنوں کو گنتا۔ وہ کل اسکول میں سب کو بتا سکتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جو خط لکھتا تھا، وہ اللہ کو مل گئے تھے اور اسے ان کا جواب بھی ملنے والا تھا مگر اس سے پہلے اسے ایک کام کرنا تھا۔
    ٭…٭…٭

  • الف — قسط نمبر ۰۱

    الف — قسط نمبر ۰۱

    انتساب

    خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ)اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے(پڑی)روشنی ہی روشنی(ہورہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی را ہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے تو لوگوں کے(سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔
    سورة النور آیت نمبر ٣٥
    ——————————————————————————————————————————————————————————-
    پیش لفظ

    بچپن میں اردو کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ ایک بچہ اللہ کے نام خط لکھتا ہے جو پوسٹ آفس والوں کو ملتے ہیں تو پوسٹ آفس والے اُس غریب اور یتیم بچے کو اللہ کی طرف سے خط اور پیسے بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔ وہ کہانی ہمیشہ مجھے یاد رہی کیونکہ اللہ سے میرے سوال اور جواب بھی آپ سب کی طرح ہمیشہ چلتے رہتے ہیں اور بہت دفعہ اللہ کو خط لکھنے کو دل چاہتا ہے۔۔۔
    یہ بتانے کے لئے کہ مجھے اس سے بہت محبت ہے۔۔۔۔۔ویسی محبت اور کسی سے نہیں۔۔۔تو الف اسی محبت سے میری اسی دائمی محبت کے نام۔۔۔
    عمیرہ احمد

  • میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

    میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

    ’’سیدھی مانگ نکالو ، سیدھا میاں ملے گا۔‘‘
    میرے گھنگھریالے بالوں میں چنبیلی کے تیل کی چمپی کرتے ہوئے میری معصوم سی ماں کی معصومانہ التجا ہوتی ۔ پلنگ پر بیٹھی میری ماں مجھے اپنے دونوں پاؤں سے جکڑ کر فرش میں بٹھا لیتیں۔ نہ چوں کرنے کی اجازت ہوتی اور نہ چاں اور سیدھی سادھی، بھولی بھالی ، نادان نادیہ سی میں سر جھکائے ’’آہ، اوہ اور آؤچ‘‘ کو حلق سے باہر نکلنے نہ دیتی۔ چنبیلی کے تیل کی چبھتی ہوئی تیز خوشبو جسے میں بدبو گردانتی تھی اس پر ناک سکیڑنے پر بھی ایک چپت پڑتی اور’’چھچھوندر‘‘سننے کو ملتا اور وہ میری ناک کے اوپر کنگھے کا آخری دندانہ رکھتیں اور پیشانی کے بیچوں بیچ کنگھا گھسیٹتی پیچ در پیچ، خم در خم زلفوں میں سے کنگھے کو کھینچتے کھانچتے ، کھوپڑی پر رگڑ ڈالتی بلکہ کھرچتی ہوئی گردن کی گدی تک پہنچ کہ دم لیتیں اور ایسے حساب کتاب سے آدھی زلفوں کو دائیں اور آدھی کو بائیں جانب کر لیتیں کہ مجال ہوتا کہ ایک بھی لٹ آوارہ گردی کی مرتکب ہو۔
    ’’جانے کِس پر گئے ہیں تمہارے بال؟ ایسے جیسے الجھا اون کا گولا۔‘‘
    وہ تیل سے چپڑے بالوں کو مزید کھینچ تان کے سیدھا کر لیتیں اور نیلے، لال ربن کو چٹیا میں لپیٹتی چھپکلی کی دم کے مانند بالوں کی نوک تک کس دیتیں اور پھر اسے بل دے کر دونوں کانوں کے اوپر ایک پھول سا بنا دیتیں اور ساتھ ہی ایک پیار بھری چپت رسید کرتے ہوئے کہتیں:
    ’’اللہ سیدھا سا شہزادہ دُلہا دے۔‘‘
    اور لفظ ’’دُلہا‘‘ پر میں دوپٹے کا کونا دانتوں تلے دبا لیتی اور آنکھیں بند کیے تصورات میں خود کوطلسماتی دنیا میں پاتی اور ریپنزل سی ٹاور کی کھڑکی میں خود کو کھڑا پاتی اور شہزادہ میرے تیل سے چپڑی چٹیا تھامے نیچے کھڑا نظر آتا اور پھر اچانک میرے اسپرنگ نما گھنگھریالے بال اوپر کے جانب آجاتے اور شہزادہ اس پر مزے سے گول جھولتا اوپر میرے پاس۔ ’’ہائے‘‘ میں ہنس پڑتی، لیکن امی کو توجیسے ستھرے ،کھینچ کے سیدھے ہوئے بالوں کی چٹیا کو دیکھ کر سکوں ہوتا کیوں کہ ستھرے بال جیسے کہ ستھرے مستقبل کے ضامن ہوں۔ اگرچہ کہ آرام سے کبھی نہ چٹیا بنی میری مگر غلطی سے ایک لٹ بھی رہ جاتی اور اسپرنگ کے مانند جھولنے لگتی، تو امی مستقبل کے اندیشوں میں غوطے کھانے لگتیں۔ ان کا خیال تھا کہ:
    اس زلف کے پھندے سے نکلنا نہیں ممکن
    ہاں مانگ کوئی راہ نکالے تو نکالے
    اور ہائے رے ہائے ایسی راہ نکالی کہ بس

    میری امی کی زندگی کے مقاصد میں سے ایک مقصد تھا میرے زلفوں کو سیدھا کرنا۔ کنگھا ہاتھ کیا لگتا کہ میں پکڑ میں آجاتی میرے بالوں سے جنگ شروع ہوجاتی۔
    ’’ہائے امی میں ایسی ہی بھلی۔‘‘اب وہ کیا سمجھتیں کہ ۔۔۔ یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر ٭ اپنی مکی لگائے جاتا ہے ۔
    بچپن گزرا اور وقت کے ساتھ میں چلی چھٹک کے دامن ان کے دستِ ناتواں سے۔
    اور میرے گیسو امی کے ہاتھوں سے پھسلے تو بالکل ہی آوارہ ہوئے۔
    ’’اری بیٹی کیا کورا سر اور کورے بال لیے گھوم رہی ہو۔ تیل ڈالو بالوں میں، بنا تیل کے صورت سے ہی ابلا سبلا لگتی ہو۔‘‘ میں اِٹھلاتی اور انہیں کا جملہ انہیں پر ٹکا دیتی۔
    ’’چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل، سبحان تیری قدرت، سبحان تیرے کھیل‘‘ اور وہ معصومیت سے کہتیں:
    ’’کیا بادام کے تیل کی مالش کردوں؟‘‘ اور میں کھلکھلاتی پھر اِدھر پھر ادھر اڑنچھو ہو جاتی۔ اب اماں بے چاری کیا جانیں روکھے ، پھولے، بکھرے بال فیشن ہیں۔
    ہماری اماں سدا کی سیدھی اور معصوم۔ شاید پرانے وقتوں کی عورتیں ایسی ہی ہوتی ہوں گی لکیر کی فقیر سی لیکن نہیں! پھر کٹنی کسے کہتے تھے؟ ارے بھئی میری بلا سے۔ ہاں تو میری امی کے لیے بال بنانا انتہائی اہم کام تھا جسے وہ بڑی فرصت اور فراغت اور محبت سے سر انجام دیتی تھیں۔ سکون و اطمینان سے تیل، کنگھی، سرمہ اور آئینہ لے کے بیٹھتیں اور ساتھ گنگناہٹ جاری رہتی اور وہ بھی رخصتی کے گیت گیتوں کی اور لازماً آنسو آنکھوں کے کونے بھگو دیتے۔ کنگھی چوٹی ہی ان کے لیے بال بنانا تھا اور یہی ان کا سنگار تھا۔ سیدھی مانگ، سیدھے سمٹے بال اور سیدھی چٹیا اور آخر میں اس پر گھر کے موتیے کے پھولوں کو دھاگے میں پرو کر لڑیاں بناتیں اور چوٹی میں لپیٹ لیتیں اور ساتھ گنگناتی ’’جومیں ہوتی راجا بیلا چنبیلیا ، مہک رہتی راجا تورے بنگلے پر۔‘‘اور میں مبہوت سی بیٹھی انہیں دیکھتی رہتی اورکبھی چھیڑ بھی دیتی:
    ’’کس کے بنگلے پر نظر ہے؟‘‘ اور وہ مسکرادیتیں۔ میں اکثر سوچتی اور ایک دن پوچھ ہی بیٹھی آخر منہ پھٹ جو ٹھہری یعنی گز بھر لمبی زبان جو تھی۔
    ’’امی آپ کی تو ہمیشہ سے مانگ ستھری سیدھی رہی، سجے سنورے بال تو پھر سیدھا میاں کیوں نہ ملا؟‘‘
    بس جناب چپت تو چپت تین حرف بھی سن لیے۔
    ’’زبان چلتی ہے قینچی سی تمہاری تالو سے زبان کو لگا۔ اپنے باپ کے لیے ایسا بول؟‘‘
    پھر خود ہی ذرا روہانسی سی ہوکر بولیں:
    ’’کیا پتاکس کج رو سے بچ گئی۔‘‘
    فوراً موضوع پلٹ کر کہنے لگیں:
    ’’اپنی خیر منا یوں سر جھاڑ منہ پھاڑ نہ بنی رہا کرو۔‘‘
    لیکن میں ٹھہری چکنا گھڑا سوچا سیدھی مانگ پر ایسے غصے والے جلالی شوہر سے تو میری ٹیڑھی مانگ ہی بھلی اور زلفِ پرخم کو دل کھول کہ خوب آوارہ کیا۔ چوٹی سے ربن نکال پھینکا، دو چوٹیاں بنیں ایک، پھر چٹیا کھلی تو پونی بنی، پونی کھلی تو شانوں تک چڑھ آئی اور پھر لیڈی ڈیانا کٹ اور زندگی ہوئی ڈن ڈنا ڈن ڈن اور امی بے چاری کئی وسوسوں کے فشار میں میری لٹوریوں سے الجھتی ہی رہ گئیں۔
    ’’کیا جٹا دھاری فقیرنی بنی گھومتی ہو، تیل ڈالو، سیدھی مانگ نکالو سیدھا میاں ملے گا۔‘‘
    اور میں آڑے ٹیڑھے مانگ کے ساتھ لچھے دار گیسوں کو دائیں بائیں جھلاتی گنگناتی ’’لوگ کہیں موہے باوری، میرے الجھے لمبے بال۔‘‘ امی کی نظروں سے اِدھر ادھر ہوجاتی اور وہ بے چاری بڑبڑاتی رہ جاتیں۔
    ’’مل گیا نہ لچھے دار تو نہ کہنا۔ ہنہ۔ تری مرضی ہے اگر یونہی تو لے یونہی سہی بنا لو دل کھول کر مجھے نکو۔‘‘
    جانے کیوں ایسا لگنے لگا مجھے دیکھتے ہی امی کو ڈھولک کی تھاپ، گیندے کے پھول،سہرا، ابٹن، رت جگے اور گلگلے کی کڑاہی نظر آنے لگتی ہے اور مکھ پر رمال دھرے۔ ’’امی جان سلام‘‘ کہتے دُلہا میاں نظر آنے لگتے ہیں۔
    اور پھر امی نے میری ضد بازیوں کے آگے یہ بولنا بھی چھوڑ دیا اور یوں یہ خیال بھی عین غین ہوا۔
    وقت کے ساتھ ساتھ درمیان کی سیدھی مانگ کبھی دائیں جانب جھکی تو کبھی بائیں جانب کھسکی، کبھی ننھی سی مانگ ہوئی تو کبھی سرے سے ہی غائب ہوئی اور پھر ’’زگ زیگ مانگ‘‘ فیشن میں آگئی۔ میں اور فیشن سے ایک قدم بھی پیچھے نہ نہ اللہ نہ کرے۔
    اسکول تھا یا کالج یا پھر یونیورسٹی میری زلفوں کے بل مذاق کے نشانے پر رہتے، خوب لطیفے بنتے، ٹھٹھے لگتے۔
    ’’بالوں کا گچھا‘‘، بھیڑ کی دم، برتن دھونے کا جونا، ’’جھاڑ جھنکار‘‘ الغرض جتنے منہ اتنے نام۔ کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرے ایسے آڑے ٹیڑھے بال ہوتے تو خودکشی ہی کرلیتی۔
    اور میں نے جل کر ترکی بہ ترکی جواب دیا:
    ’’شکر ہے تمہاری بچت ہوئی۔‘‘
    میں لڑکیوں کے سانپوں سے چمک دار، چکنے سیدھے بالوں کو دیکھتی رہ جاتی، نظر پھسل پھسل جاتی اور بہ ظاہر میں خوب اترا اترا کے اپنے اسپرنگ نما بالوں سے کھیلتی اب اپنی چھاچھ کو کون کھٹی کہتا ہے بھئی لیکن بال زلفوں کے میرے سب سے کجی رکھنے لگے۔ وقت گزرتا رہا اور اچانک یہ پیچ دار زلف فیشن میں آگئے۔
    ’’ہائے اللہ تم کتنی خوش قسمت ہو کہ تمہیں ’’کرل‘‘ نہیں کروانے پڑتے!‘‘
    اور میں اچانک سے اڑی اڑی طاق پر جا بیٹھی۔ اب تھوڑا سا اترانا تو بنتا تھا نا اور پھر میری سہیلیاں کالج ختم ہونے پر یادگار کے طور پر میرے بالوں کی لٹ مانگنے لگیں۔ خیر وقت آگے بڑھتا گیا۔ زلف کبھی الجھی، کبھی سلجھی، کبھی چٹیا، کبھی پونی، کبھی شانے پر لہرائی تو کبھی کمر کو چھو آئی۔ پر رہی وہی سرکش، وہی برہم وہی پیچ کہ اوپر پیچ چڑھا۔ خیال ہی رہا کہ
    مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن
    ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم
    ٭…٭…٭
    اور وہ وقت بھی آگیا جس کا انتظار میری ماں کو میری پیدائش کے دن سے تھا ’’ایک شہزادہ آئے گا سفید گھوڑے پہ میری شہزادی کو لینے۔‘‘
    مجھے آج تک وہ جملہ نہیں بھولتا اپنے بھائی کا جب وہ ایک تصویر لیے میرے پاس آیا۔
    ’’سچ کہوں آپی بہت سیدھے ہیں دُلہا بھائی آگے وہ کیا کہہ رہا تھا مجھے سنائی نہیں دیا بس اپنی کھوپڑی کے بیچوں بیچ کھجلی سی ہونے لگی۔ یعنی باقی زندگی اللہ میاں کی گائے کے ساتھ یعنی ’’گائے؟‘‘
    ڈھولک کی تھاپ تھی، سہاگ کے گیت تھے، سہرا تھا اور جدائی تھی اور میرا خوف۔
    ’’کہیں ایسا نہ مل جائے، کہیں ویسا نہ مل جائے۔‘‘
    میرے سیدھے میاں، میری امی کو خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے کے چہیتے داماد ٹھہرے۔
    درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی اور دو پاٹوں میں الگ ہوئے گیسو نہ اب شرقی رہے نہ غربی۔ ایک جوڑے میں سمٹ گیا زلف کا بل۔ اب کس کو فکر کاکلِ پرخم کی کہ اب کاکلِ گیتی سنوارنا تھا۔ وہ زلف کے بل میں یوں الجھے کہ کبھی نہ سلجھے۔
    ’’ھ‘‘ میں ملا۔ ’’الف‘‘اور زیست ہوئی ھا ھا ھا۔
    پچیس سال پرخم راستوں پر ایک دوسرے کے ساتھ گزار دیے
    یہاں تک آ گئے آگے خدا کا نام ہے ساقی

    ٭…٭…٭

  • بوڑھے آدمی کا خواب — محمد جمیل اختر

    بوڑھے آدمی کا خواب — محمد جمیل اختر

    بوڑھے صادق حسین کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی آئی تھی۔ اِس سے پہلے کہ میں آپ کو اِس تبدیلی کے بارے میں کچھ بتائوں، اِس سے پہلے صادق حسین کی سابقہ زندگی کے بارے میں بتانا ہوگا، ورنہ یہ افسانہ جھول کا شکار ہوجائے گا اور میں ایسا ہرگزنہیں چاہتا۔
    یہبتاتا چلوں کہ صادق حسین کو ریٹائر ہوئے دوسال ہوگئے ہیں۔ بیوی پانچ سال پہلے فوت ہوگئی اور دونوں بچے اپنی گوری بیویوں کے ساتھ کینیڈا مقیم ہیں اوروہ آخری بارپانچ سال پہلے آئے تھے۔ اب کبھی کبھاراُن کا فون آجاتا ہے اور صادق حسین کی زندگی دوٹیلی فونز کے درمیانی وقفے میں معلق رہتی ہے۔
    صادق حسین ریٹائر ہوئے تو پھر بھی ایک آدھ دن چھوڑ کر دفتر چلے جاتے۔ پرانے دوستوں سے ملاقات ہوجاتی اور ان کا دل بہل جاتا۔ پھر رفتہ رفتہ انہیں محسوس ہوا کہ دفترکے لوگ اب ان سے تنگ آتے جارہے ہیں، جیسے وہ دفتر جاکراُن کے کام میں مخل ہوتے ہیں تو انہوں نے دفترجانا چھوڑدیا۔ گھر کا زیادہ تر کام پرانی ملازمہ نسرین کردیتی تھی۔ صادق صاحب صبح اُٹھتے ، ناشتا کرتے، اخبار پڑھتے اور یوں ہی ٹی وی پر چینل بدلتے رہتے ایک آدھ چکر گلی کا لگا کر آجاتے اور پھر سہ پہر تک بستر پر کروٹیں بدلتے رہتے ۔ سہ پہر کو وہ گھر سے تھوڑی دور واقع پارک میں جاتے۔ وہ واک بہت کم کرتے تھے، بس ایک بنچ پر بیٹھ کر بچوںکو کھیلتے ہوئے اور باغ میں اُڑتے پرندوں کو دیکھتے ۔

    وہ اکثر سوچتے کہ کا ش وہ بھی بچے ہوتے اور بچوں کے ساتھ کھیلتے یا پھر پرندہ ہوتے اور ایک قطار میں اُڑا کرتے، لیکن وہ تو ایک تنہا اُداس بوڑھے تھے کہ جس سے سارا دن کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ انہوں نے اپنی تنہائی کم کرنے کا یہ حل نکالا کہ اب وہ ہرشے سے باتیں کرنے لگے۔ مثلاً گھر کی دیواروں سے، برتنوں سے، کتابوں سے ،ٹی وی سے۔ غرض یہ کہ گھر کی ہر چیز سے باتیں کرنے لگے۔
    اُن کے ڈرائنگ روم کی دیوار میں دراڑ پڑتی جارہی تھی۔ وہ روز اس دیوار سے باتیں کرتے، اور اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہتے:
    ’’پریشان نہیں ہونا! ٹوٹناہرگز نہیں۔ اِس دفعہ پنشن ملتے ہی میں مستری کو لائوں گا۔ تم بس خود کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔‘‘
    اگر کبھی چائے کا کپ گندا پڑا رہ جاتا تو خود ہی بڑبڑاتے:
    ’’افوہ! آج نسرین نے تمہیں دھویا نہیں۔ کتنے میلے ہوگئے ہو، آئو میں تمہیں کچن میں چھوڑ آئوں،کل نسرین کو آتے ساتھ ہی کہوں گا کہ سب سے پہلے وہ تمہیں دھوئے۔‘‘ زندگی یونہی گزر رہی تھی کہ ایک دن بوڑھے صادق حسین کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی آئی۔
    وہ ایسی ہی ایک اُداس شام کو اُسی پرانے بنچ پر بیٹھے تھے، جب ان کے ساتھ والے بنچ پر ایک تیس پینتیس سالہ ایک اُداس سی خاتون آکر بیٹھ گئی۔ صادق حسین کو اُن آنکھوں کو دیکھ کریوں لگا جیسے وہ اُداس آنکھیں اِن کی اپنی ہوں۔جیسے وہ خود کو دیکھ رہے ہوں کیوں کہ روز انہیں ایسی آنکھیں شیشے میں دکھائی دیتی تھیں۔
    ’’معلوم نہیں یہ خاتون کون ہیں اور یہ اتنی اداس کیوں ہیں۔ مجھے ضرور اِن سے پوچھنا چاہیے، لیکن نہیں۔‘‘ اور انہوں نے کچھ نہیں پوچھا۔ اُس ساری رات خواب میں وہ آنکھیں اُن کے سامنے آنسو بہاتی رہیں۔ وہ بار بار پریشان ہوکرجاگ جاتے کہ آخر یہ خواب کیا ہے اور وہ خاتون کون ہیں؟ اگلے دن وہ سہ پہر سے پہلے ہی پارک پہنچ گئے اور بے چینی سے اس خاتون کا انتظار کرنے لگے۔ وہ خاتون شام سے ذرا پہلے آئیں اور ان کے ساتھ ہی بنچ پر بیٹھ گئیں۔ صادق صاحب اس دن بھی یہی سوچتے رہے کہ آخر وہ کس طرح ان سے پوچھیں کہ وہ اتنی اُداس کیوں ہیں؟ لیکن اس دن بھی وہ ہمت نہ کرپائے۔
    ایک ہفتہ یونہی گزر گیا۔ اس دوران صادق صاحب نے درودیوار سے کوئی بات نہ کی۔ وہ انہیں حیرت سے تکتے کہ بوڑھے کو معلوم نہیں کیا ہوگیا ہے جواب ان سے بات تک نہیں کرتا۔ اس خاتون سے بات کرنے کی غرض سے کئی دنوں بعد انہوں نے تازہ شیو بنائی لیکن وہ اُس خاتون سے کچھ بھی نہ پوچھ سکے، مگر ہر رات خواب میں وہ اُسے دیکھتے۔ اُسے حوصلہ دیتے اور وہ خاتون صادق صاحب کو حوصلہ دیتیں۔
    صادق صاحب شعوری لحاظ سے عُمر کے بہت پختہ حصے میں تھے کہ جب زندگی انسان سے سب کچھ لے جاتی ہے اور انسان کے پاس سوائے تجربے کے کچھ نہیں رہتا۔ اُن کے پاس تجربہ تھا، شعور تھا۔ وہ جب اپنے اندر اِس تبدیلی کو دیکھتے تو اِس نتیجے پر پہنچتے کہ اُن کی اُس خاتون کے لیے انسیت ویسی ہی ہے جیسے شیشم کے اس درخت کی جو اسکول سے گھر جاتے ہوئے ان کے راستے میں آتا تھا۔تپتی دوپہر میں شیشم کے اس درخت کے نیچے انہیں عجیب سی انسیت محسوس ہوتی۔ اگرچہ اس درخت کے نیچے ان کا قیام بہت مختصر لیکن فرحت بخش ہوتا۔وہ اُس پیڑ کو گائوں تک ساتھ تو نہیں لے جاسکتے تھے ، مگر اُس تپتی دوپہر میں جو سایہ اُس پیڑ سے ملتا، وہ انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا تھا۔
    صادق حسین صاحب بھی اُس اداس آنکھوں والی خاتون کو گھر لے کر نہیں جانا چاہتے تھے۔ وہ اُسے حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تو صرف اس کا دکھ بانٹنا چاہتے تھے، اپنی تنہائی کا ساتھی چاہتے تھے۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ ایک ہفتے بعد اُس خاتون نے پارک میں آنا چھوڑ دیا۔
    اِدھر صادق صاحب کا یہ حال کہ بے چارے دوپہر کو ہی بنچ پر آکر بیٹھ جاتے ، یہ سوچتے ہوئے کہ آج تو ضرور بات کروں گا، لیکن جب وہ خاتون لگاتار کئی دن تک وہاں نہ آئیں تو صادق صاحب بے حد پریشان ہوئے۔ شاید وہ خاتون پارک کا راستہ بھول گئیں تھیں۔ اب وہ خود کو دن رات کوستے کہ آخر انہوںنے اس خاتون سے اس کی پریشانی کی وجہ کیوں نہ پوچھی، شاید وہ ان کے کچھ کام آسکتے۔ وہ اپنی اِس کم ہمتی پر خود کو بہت برا بھلا کہتے۔ ایک ہفتے میں ہی ان کی شیو دوبارہ بڑھ گئی۔ درودیوار سے باتیں پھر سے معمول پر آنے لگیں۔ اب بھی وہ خاتون ان کے خواب میں آتیں اور رو رو کر کہتیں:
    ’’صادق صاحب! خدارا مجھے بچایئے، خدارا میری مدد کیجیے۔‘‘ اور صادق صاحب ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھتے اور سوچتے کاش کہ وہ اُس خاتون سے اُس کے بارے پوچھ ہی لیتے۔
    یہ خاتون کو غائب ہونے کے دس دن بعد کا واقعہ ہے۔ ایک شام صادق صاحب اپنے اُسی بنچ پر بیٹھے تھے کہ انہیں دور سے وہی خاتون آتی دکھائی دی۔ صادق صاحب کو پہلے تولگا کہ شاید اب وہ دن میں بھی خواب دیکھنے لگے ہیں، لیکن وہ خاتون اِدھر ہی چلتی آرہی تھیں۔ صادق صاحب نے چشمہ اتار کر صاف کیا، پھر لگایا اور تقریباً دوڑتے ہوئے اُس کی جانب بڑھے، لیکن قریب جاکر معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور خاتون ہیں۔ اُس موقع پر انہیں اور تو کوئی بات نہ سوجھی کہا:
    ’’میں معذرت چاہتا ہوں، میری ایک عزیزہ گُم گئی ہیں۔ کیا آپ نے انہیں دیکھا ہے؟ یہی کوئی پینتیس سال عمر ہوگی۔ سیاہ دوپٹا اوڑھ رکھا تھا، رنگ گندمی اور آنکھیں بالکل میری آنکھوں جیسی تھیں۔‘‘خاتون قدرے گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی:’’ نہیں انکل میں نے نہیں دیکھا۔‘‘
    ’’اوہ! اچھا شکریہ، میں تلاش کرتا ہوں، یہیں کہیں ہوں گی۔‘‘
    یہ پہلی بار تھا کہ انہوں نے اُس اُداس آنکھوں والی خاتون کے بارے میں کسی سے پوچھا تھا۔ اُس کے بعد یہ اُن کا معمول بن گیا۔ وہ روزانہ گیٹ نمبر ۲ سے پارک میں داخل ہوتے، لوگوں سے اُس خاتون کی نشانیاں بتا کر پوچھتے کہ شاید کسی نے انہیں کہیں دیکھا ہو۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ یہ بوڑھااُن سے کیا سوال کرے گا، تو وہ نظریں چرا کرتیزی سے گزر جاتے ۔ کئی لوگ بوڑھے صادق حسین کی آواز سنی ان سنی کردیتے۔ پارک میں آنے والے کچھ نوجوانوں کے ہاتھ یہ شغل آ گیا۔ وہ صادق حسین صاحب کے پاس آتے اورکہتے:
    ’’انکل! کیا آپ اُس خاتون کو ڈھونڈ رہے ہیں جنہوں نے سیاہ دوپٹا اوڑھ رکھا ہے۔ عمر پینتیس سال ہے اور اُن کی آنکھیں بالکل آپ کی آنکھوں جیسی ہیں؟ ‘‘اور وہ امید کے دیے آنکھوں میں جلائے جھٹ سے کہتے:
    ’’ہاں ہاں! بالکل، وہ میری عزیزہ ہیں۔ کیا تم نے کہیں دیکھی ہیں؟‘‘
    ’’جی بالکل! وہ گیٹ نمبر ایک پر آپ ہی کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔‘‘اور صادق حسین تیزی سے گیٹ نمبر ایک کی طرف جاتے اور پیچھے لڑکے تالیاں بجاتے اور قہقہے لگاتے۔ اگلے دن کوئی اور لڑکا یہی کہہ رہا ہوتا تھا اور صادق حسین صاحب ہر بار یقین کرلیتے۔
    صادق صاحب کی شیو اب بہت بڑھ چکی ہے۔ ڈرائنگ روم کی دیوار کی دراڑ بھی مزید پھیل گئی ہے۔ وہ دیوار حیرت سے بوڑھے کو دیکھتی ہے جو اب اُس سے بات نہیں کرتا۔ وہ اب ایک ایسی خاتون کو ڈھونڈتا ہے جو شاید کبھی تھی ہی نہیں۔

    ٭…٭…٭

  • پارٹنر — بلال شیخ

    پارٹنر — بلال شیخ

    رات کے دو بج رہے تھے۔ ہر طرف سناٹا چھایاہوا تھا۔ عارف سڑک کے کنارے پیدل چل رہا تھا، پوری دنیا سے بے خبر اور تنہا ۔ وہ ہر چیز کی امید کھو بیٹھا تھا۔ گھر میں سارے پریشان تھے۔ بیمار ماں کتنی دیر سے اس کی راہ تک رہی تھی اور دو بہنیں جن کی شادی کی فکر عارف کو ستاتی رہتی تھی، وہ بھی ہاتھ اٹھائے دعائیں کر رہی تھیں مگر عارف ہر چیز سے واقف ہو کر بھی ناواقف تھا۔
    عارف وہ بدقسمت شخص تھا جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار تھا اور مقروض بھی۔ نوکری اسے ملتی نہیں تھی اور کاروبار میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا ۔ بال بکھرے ہوئے، کپڑے گندے، بھوک سے بے حالمگر کھانا وہ چاہتا نہیں تھا ۔ بہنوں کی شادی نہیں ہوتی تھی اور اگر کہیں رشتہ طے ہوتا تو کسی وجہ سے وہ بھی ٹوٹ جاتا۔ ماں بیمار تھی، اس کی دوائیوں کے خرچے الگ تھے۔ وہ اپنے آپ کو دنیا کا بدقسمت شخص سمجھتا تھا ۔
    اس گہری رات کی تاریکی میں کچھ لمحے پہلے اس نے ہمت کی اور تیز رفتار گاڑی کے سامنے آکر جان دینا چاہی مگر کسی اجنبی نے دھکا دے کر اس کی جان بچا لی اور عارف کو ’’پاگل‘‘ کہتا ہوا آگے نکل گیا ۔ معلوم نہیں وہ کتنا پیدل چل چکا تھا، اس کو اندازہ بھی نہ ہوا ۔ موت اس کو گلے لگانے کو تیار نہ تھی اور زندگی سے اس نے منہ پھیر لیا تھا مگر سڑک کنارے چلتے جب اس کو کوئی خیال تنگ کرتا تو اس کے آنسو نکل آتے اور وہ عینک اتار کر آنسو صاف کرنے لگ جاتا۔
    چل چل کر جب اس کی ٹانگیں جواب دے گئیں اور ہمت مکمل طور پر ختم ہو چکی تو اس نے بیٹھنے کے لیے جگہ تلاش کرنا چاہی۔ وہ کہاں تھا اسے کچھ معلوم نہ تھا۔ سڑک کنارے ایک بس سٹاپ آیا توعارف ادھر ہی بیٹھ گیا۔ یہ جگہ بیٹھنے کے لیے مناسب تھی ۔ پاس ہی ایک شخص چادر لیے لیٹا ہوا تھا۔ سٹریٹ لائٹس جل رہی تھیں۔ عارف ادھر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس نے دور دور تک نظر دوڑائی مگر اسے کوئی نظر نہ آیا تھا۔ آج سے پہلے اس پر کبھی اتنی نا امیدی نہیں چھائی تھی ۔ بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گیا۔

    کچھ ہی لمحے گزرے ہوں گے کہ قریبی مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے ساتھ ہی جو شخص لیٹا ہوا تھا وہ بھی حرکت کرنے لگا ۔ اس شخص نے منہ سے چادر ہٹائی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ وہ نحیف سا بابا تھا۔ سفید داڑھی اور آنکھوں میں عجیب سی چمک رکھتا تھا۔ بابا جی نے جیب سے ٹوپی نکال کر سر پر پہنی اور اذان کی طرف متوجہ ہو گیا۔ جب اذان ختم ہو ئی تو اس نے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لیے اور دعا مانگنے لگ گیا۔ یہ سب ماجرا عارف بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور اندر ہی اندر اس کو عجیب سی کیفیت محسوس ہو رہی تھی ۔ بابا جی کے چہرے پر انتہا کا سکون تھا جو کہ اس وقت عارف کے پاس موجود نہیں تھا۔
    بزرگ نے جب دعا مانگ لی تو عارف کو دیکھنے لگے۔ عارف نے جب باباجی کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کو عجیب سا سکون مل رہا تھا۔ باباجی نے عارف کو دیکھ کر کہا :
    ’’السلام علیکم میاں! خیر تو ہے اس وقت ادھر کیا کر رہے ہو؟‘‘باباجی کہتے ہوئے اپنی چادر سمیٹنے لگ گے۔
    ’’آپ بھی تو اس وقت ادھر ہیں۔‘‘ عارف نے باباجی کا سوال ان کو واپس کر دیا ۔ باباجی عارف کی بات سُن کر مُسکرا دیے۔
    ’’مگر میاں میرا ادھر ہونا اور تمہارا ادھر ہونا مختلف معنی رکھتا ہے۔‘‘ باباجی مُسکراتے ہوئے بالکل ایسے بیٹھ گئے جیسے وہ عارف سے باتیں کرنا چاہتے ہوں اور جب عارف بھی باباجی کو دیکھتا تو اس کا دل بھی بات کرنے کو کرتا تھا۔
    ’’شکل سے تو اچھے گھر کے لگتے ہو، اتنے پریشان کیوں بیٹھے ہو؟ کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ باباجی عارف کے قریب ہو گئے۔ انہوں نے عارف کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
    ’’میں خود ایک مسئلہ ہوں، میری ذات ایک مسئلہ ہے۔ شاید میں پیدا ہی مسائل کے لیے کیا گیا ہوں۔‘‘ عارف کی آنکھوں سے پھر آنسو ٹپکنے لگے۔
    ’’نہ بیٹا! پریشان کیوں ہوتے ہو؟ جس نے مسئلے بنائے ہیں ضرور اس نے مسئلوں کا حل بھی بنایا ہو گا اور اوپر والا تو اتنا رحیم ہے کہ وہ کسی کو اس کی ہمت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ بیٹے کسی مسئلے کا حل ناامیدی اور پریشانی ہوتا ہے؟ مجھے بتائو تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ شاید کوئی حل نکل آئے۔‘‘باباجی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تو اس کا دل چاہا کہ سب کچھ کھول کر باباجی کے سامنے رکھ دے۔
    ’’میں ایک ناکام شخص ہوں باباجی! ایک بد قسمت شخص ہوں، سونے کو ہاتھ لگاتا ہوں وہ مٹی بن جاتا ہے ۔ گھر کے خرچے، ماں کی بیماری، بہنوں کے رشتے، کئی کاروبار کیے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اُلٹا ادھار سر پر چڑھ گیا۔ کئی جگہوں پر نوکری کی درخواستیں دیں مگر کہیں منظور نہیں ہوئی۔ آپ بتائیں میں کیا کروں؟‘‘ عارف نے کہتے ہوئے عینک اتار دی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ باباجی ساری باتیں خاموشی سے سن رہے تھے۔
    ’’ہاں تو نوکری کرنی ہے تو اللہ کی کرو اور اگر کاروبار کرنا ہے تب بھی اللہ کے ساتھ کرو۔ ہم لوگوں کا یہی تو مسئلہ ہوتا ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہم اس سے نہیں مانگتے۔ ہم دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور بدلے میں لوگ وہی دیتے ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے۔ پریشانی، تنگی، فتنہ،دغا اور ایسی کئی بیماریاں۔ مگر جو اللہ سے مانگتا ہے بدلے میں اللہ اس کی جھولی بھر دیتا ہے۔ برکتوں سے، رحمتوں سے، سکون سے۔ جو کرنا ہے یا جو مانگنا ہے اللہ سے مانگو، اس کے ساتھ کرو۔‘‘ باباجی کہہ رہے تھے اور عارف سُن رہا تھا۔ اس کو سکون محسوس ہو رہا تھا۔ وہ خاموشی سے باباجی کو دیکھ رہا تھا اور اپنے اندر تبدیلی کی ایک لہر محسوس کر رہا تھا۔
    ’’مگر باباجی !شاید مجھے اللہ کے ساتھ کاروبار کرنے کا طریقہ نہیں آتا ۔‘‘ عارف نے عینک پہن لی۔ اس کے اندر تجسس پیدا ہونے لگ گیا ۔ وہ باباجی کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
    ’’دیکھو بیٹا! جب تم اللہ کے ساتھ کاروبار شروع کرو گے اور اس کے حصے کا مال اس کی راہ میں خرچ کرو گے تو ناکامی کا خوف ختم ہو جائے گا اور تم کام یابی کی طرف نکل پڑو گے۔ تم اس کو اپنے کاروبار کا حصہ دار بنا لو، جس کو انگریزی میں کہتے ہے نا ’’پارٹنر‘‘ہاں پارٹنر بنالو۔ تم دیکھنا وہ تم پر کیسے رحمتوں کی بارش کرتا ہے۔ بھوکوں کی بھوک مٹائوگے وہ تمہاری بھوک مٹائے گا۔ لوگوں کے مسئلے حل کرو، تمہارا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ میری بات کو اپنے ذہن میں بٹھا لو ان شاء اللہ وہ کسی کو مایوس نہیں کرتا۔ گھر میں تمہاری ماں تمہارا انتظار کررہی ہے ۔ماں خدا کی بہت بڑی نعمت ہے، اس کی قدرکرو۔‘‘ باباجی کہتے ہوئے اٹھے اور عارف کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
    ’’چلو اٹھو! نماز کا وقت ہو رہا ہے، نماز پڑھ لو اور چڑھتے سورج کے ساتھ نئی زندگی کی شروعات کرو۔‘‘ باباجی کی باتیں عارف کی روح میں اتر رہی تھیں۔ اس کا جسم ایک دم ڈھیلا ہو گیا۔ باباجی مڑے اور مسجد کی طرف چل دیے، عارف ان کو جاتا دیکھ رہا تھا۔ باباجی کافی دور نکل گئے تھے، کچھ لمحے ادھر بیٹھنے کے بعد عارف اٹھا اور گھر کی طرف تیز قدموں کے ساتھ چل دیا۔
    اس بات کو دس سال گزر چکے تھے۔ عارف کی شادی ہو چکی ہے اور اس کی بہنوں کی بھی۔ جو عارف دس سال پہلے تھا آج وہ عارف نہیں رہا تھا۔ آج عارف مُلک کا ایک نام ور شخص بن چکا۔ مُلک کے کئی شہروں میں اس کے دستر خوان چلتے تھے جہاں کئی غریب لوگ مفت کھانا کھاتے اور کئی فلاحی ادارے عارف فنڈز کے نام سے چل رہے ہیں ۔ جو پارٹنرشپ عارف نے پانچ سال پہلے شروع کی تھی وہ کام یاب ہو چکی تھی۔ آج اس کے اپنے مسئلے نہ ہونے کے باوجود مسئلوں میں گھرا رہتا تھا ۔ کسی کو علاج کی ضرورت یا کسی مقروض کو پیسوں کی آج اس نے لوگوں کے مسئلوں کو اپنا مسئلہ بنا لیا تھا، اس لیے شاید اس کے سارے مسائل حل ہو گئے اور کام یابیاں اس کے قدم چوم رہی تھیں۔

    ٭…٭…٭

  • بلا عنوان — نظیر فاطمہ

    بلا عنوان — نظیر فاطمہ

    بیگم مہرین اپنے سٹنگ روم کے قالین پر بیٹھی ہوئی تھیں ۔ ان کے سامنے مختلف ڈیزائنرز کی exclusive rangeکے دس سوٹ رکھے ہوئے تھے۔ انھیں یہ سوٹ سلوانے کے لیے اپنے درزی کو دینے جانا تھا۔اتنے سارے خوب صورت اور سٹائلش سوٹ سامنے ہونے کے باوجود ان کا دل خوش نہیں تھا۔ اس کی وجہ مشہور برانڈ کا وہ جوڑا تھا جو پچھلے ہفتے وہ آئوٹ لیٹ پر دیکھ کر آئی تھیں ۔اس وقت کسی وجہ سے بیگم مہرین وہ جوڑا نہ خرید سکیں۔ دو دن بعد جب وہ جوڑا لینے متعلقہ آئوٹ لیٹ پر گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ تو بِک چکا ہے ۔ یہ برانڈ ڈیزائن محدود پیمانے پر بناتا تھا ۔ ایک دفعہ جو ڈیزائن ختم ہو جاتا پھر دوبارہ وہ نہیں بنایا جاتا۔
    بیگم مہرین کو وہ جوڑااتنا پسند آیا کہ وہ اپنے شہر میں اس برانڈ کے ہر آئوٹ لیٹ سے معلوم کرنے گئیں مگر وہ کہیں پر دستیاب نہیں تھا ۔ وہ جوڑا ان کے دل کو اتنا بھایاتھا کہ اس کا نہ ملنا کچھ اس طرح پھانس بن کر ان کے دل میں چبھا کہ سامنے رکھے پچاس ساٹھ ہزار کے جوڑے بھی ان کو کوئی خوشی نہیں دے پائے۔ یہ سب بھی اُنھوں نے اپنی پسند سے خریدے تھے اور ہر ایک کی قیمت پانچ سے دس ہزار کے درمیان تھی۔وہ ابھی تک اسی ایک کے غم میں مبتلا تھیں۔ حالاں کہ کل ان کے شوہر مظہر نے اس بات پر ان کی اچھی خاصی کلاس لی تھی۔
    ہوا یوں کہ مظہر صاحب دفتر سے آئے تو بیگم مہرین اُداس اور دل گرفتہ سی بیٹھی تھیں۔
    ’’ کیا ہوا؟‘‘ اُنہوں نے اپنا کوٹ ہینگر میں لٹکایا۔
    ’’ کچھ نہیں۔ آپ فریش ہو کر چینج کر لیں میں چائے لگواتی ہوں۔‘‘ وہ اُٹھ کر کچن کی جانب چلی آئیں جہاں ان کی ملازمہ چائے اور دیگر لوازمات کی تیاری میں مصروف تھی۔
    ’’ثریا ! دس منٹ تک چائے باہر لان میں لگادینا۔‘‘اُنہوں نے اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ کر بائیں کندھے پر ڈالا۔
    ’’ جی بیگم صاحبہ!‘‘ثریا مؤدبانہ لہجے میں بولی۔
    موسم بہت خوش گوار تھا ۔ اسی لیے اُنہوں نے چائے لان میں پینے کو ترجیح دی تھی ۔ڈیفنس میں چار کنال پر بنا ان کا یہ خوب صورت گھر دور سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتا تھا۔گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی یوں لگتا جیسے انسان کسی پرستان میں آگیا ہو۔گیٹ کے ساتھ دائیں جانب دور تک وسیع و عریض لان میں امپورٹڈ گھاس کا سبز فرش بچھا ہوا تھا جس پر رکھی ہوئی سفید لان ٹیبل اور چیئرز آنکھوں کو بہت بھلی لگتی تھیں۔ لان کے ایک طرف خوب صورت پھولوں کی باڑیں تھیں اور دوسری طرف لاتعداد گملے جن میں اُگے ہوئے رنگ بہ رنگے پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ سامنے وسیع و عریض کار پورچ تھا ۔ لائونج سے اُوپر جاتی سیڑھیاں کسی حسینہ کی بل کھاتی کمر کی طرح دکھتی تھیں۔لائونج سے لے کر کچن تک پورے گھر میں ہر چیز میں نفاست اور امارت کا عکس نظر آتا تھا۔

    ’’اب بتائیے بیگم صاحبہ!آپ کو کیا ٹینشن ہے؟‘‘ مظہر صاحب نے لان چیئر پر آرام دہ انداز میں بیٹھ کر چائے کا کپ پکڑ لیا۔
    مہرین بیگم منہ بسور کر خاموش رہیں۔ مظہر صاحب نے ان کی طرف غور سے دیکھا ۔ انہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ان کی بیٹیاں او لیول اور اے لیول کی اسٹوڈنٹس ہیں۔ وہ آج بھی اتنی ہی سمارٹ اور خوب صورت تھیں جتنی شادی کے وقت تھیں۔ بلکہ اب ان کی خوب صورتی میں مزید کشش اور ایک وقار سا پیدا ہو گیا تھا جو مظہر صاحب کو یک ٹک انہیں دیکھنے پر مجبور کر دیتا تھا۔
    ’’بتائیے نا!‘‘ مظہر صاحب سے ان کی اُداسی برداشت نہیں ہو پا رہی تھی۔
    ’’ مظہر ! مجھے میرا پسندیدہ جوڑا کہیں سے نہیں مل رہا۔‘‘ مہرین نے منہ بنا کر کہا۔
    ’’چھوڑو مہرین! کوئی دوسرا سوٹ لے لو۔ ‘‘ مظہر صاحب نے بے پروائی سے کہا۔
    ’’لیے ہیں پورے دس سوٹ، مگر وہ سوٹ نہیں ملا تو لگ رہا ہے میرے پاس پہننے کو کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔
    بسا اوقات ان کے اس شوق سے مظہر صاحب چڑ جاتے تھے ۔ روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی اور نہ ہی مظہر صاحب نے کبھی ان کی شاپنگ وغیرہ کے حوالے سے ٹوکا تھا ۔ ان کو نت نئے لباس سلوانے کا شوق تھا ۔ وہ ان کا یہ شوق خوشی خوشی پورا کرتے مگر جب مہرین کسی برانڈ کے کسی خاص ڈیزائن کے پیچھے پاگلوں کی طرح پڑ جاتیں تو وہ چڑ جاتے۔ کوئی مشہور برانڈ ایسا نہیں تھا جس کے کپڑے ان کے پاس نہ ہوں مگر ان کا یہ شوق جیسے ان کا نشہ بننے لگا تھا ۔ اب بھی دس سوٹ خریدنے کے باوجود ان کی تسلی نہ ہو سکنے کے بارے میں سن کر مظہر صاحب کا سارا موڈ غارت ہو گیا ۔
    ’’چھوڑ وبھی مہرین ! کیا ہے؟‘‘ مظہر صاحب نے خود پر کنٹرول کر کے کہا۔
    ’’ کیسے چھوڑ دوں؟میری راتوں کی نیند اُڑی ہوئی ہے اور آپ… ویسے میں سوچ رہی ہوں کہ مجھے یہ سوٹ کہیں سے’’ بلیک‘‘ میں مل جائے بھلے سے قیمت ڈبل ہو ۔‘‘ مہرین نے مظہر کو دیکھا۔
    ’’مہرین پلیز! خود کو کنٹرول کرو۔ تمہارا یہ شوق تمہارا جنون بنتا جارہا ہے ۔ جب کوئی چیز انسان کا جنون بن جائے تو پھر وہ انسان کو اپنے بس میں کر کے اسے خیرو شر کی تمیز بھلا دیتا ہے۔ تم بھی کہیں اپنے اس جنون کے ہاتھوں کوئی نقصان نہ اُٹھا لینا۔‘‘ مظہر صاحب نے اپنے لہجے کو حتی الامکان پر سکون رکھنے کی کوشش کی تھی مگر پھر بھی اس سے ہلکی سی ناراضی جھلک گئی۔ مہرین کو ان کا انداز بُرا لگا ۔
    ’’ مظہر ! بس کیا کریں۔ کبھی کبھی آپ جاہل مردوں کی طرح باتیں کرنے لگتے ہیں جن سے اپنی بیوی کی خوشی برداشت نہیں ہوتی۔‘‘اُنھوں نے زور سے کپ میز پر پٹخا اور ٹک ٹک کرتی اندر چلی گئیں۔مظہر صاحب سر جھٹک کر چائے پینے لگے۔
    اگلے روز مہرین بیگم نے سارے کپڑے دو تین بڑے شاپنگ بیگز میں ڈال کر پکڑے اور اپنے کمرے سے باہر نکل آئیں۔
    ’’ ثریا! میں ذرا ٹیلر تک جارہی ہوں ۔ صاحب آئیں تو انہیں چائے سرو کر دینا۔‘‘ وہ جلدی جلدی ہدایات دے کر پلٹ گئیں۔
    ماسٹر صاحب! یہ دس سوٹ ہیں ۔ ناپ وغیرہ بالکل ٹھیک رکھیے گا ۔ ہر سوٹ کے ساتھ ڈیزائن والا پوسٹر ہے اسی کے مطابق بنائیے گا۔‘‘ مہرین بیگم نے کپڑوں والے بیگز کائونٹر پر رکھ کر ٹیلر کو ہدایات دیں۔
    ’’ٹھیک ہے میڈم۔‘‘ ٹیلر نے کپڑے اُٹھا کر ریک میں رکھے۔
    ’’ اچھا اللہ حافظ۔‘‘مہرین دکان کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئیں۔ٹیلر نے کسی دوسری گاہک کے کپڑے کٹنگ کے لیے نکال کر کٹنگ کائونٹر پر رکھے۔ کچھ یاد آنے پرمہرین بیگم دکان کے دروازے سے واپس پلٹیں ۔
    ’’ماسٹر صاحب! وہ بلیو والا سوٹ…‘‘ کائونٹر کے قریب آکر اُنہوں نے ٹیلر کو مخاطب کیا مگر ان کی آدھی بات منہ میں ہی رہ گئی۔ ٹیلر ہاتھ میں وہی ڈیزائنر سوٹ پکڑے کھڑا تھا جس کی تلاش میں وہ بھٹک رہی تھیں۔
    ’’ یہ کس کا سوٹ ہے؟‘‘ اُنھوں نے سوٹ کی طرف اشارہ کیا۔وہ بہت عرصے سے یہاں سے کپڑے سلوا رہی تھیں۔ مالک سے لے کر دکان کا گارڈ تک اسے اچھی طرح جانتے تھے اور بہت عزت سے پیش آتے تھے۔
    ’’ پچھلے ہفتے ایک خاتون دے کر گئی ہے۔پہلی دفعہ آئی ہے ۔ ابھی یہی سوٹ دیا ہے کہ پہلے ٹرائی کرے گی پھر اور کپڑے سلنے دے گی۔‘‘ ٹیلر نے تفصیل سے جواب دیا۔ مہرین بیگم کا ذہن تیزی سے کام کرنے لگا ۔ انہیں اپنی منزل بہت قریب نظر آرہی تھی۔
    ’’ماسٹر صاحب ! آپ میرا ایک کام کریں گے ؟‘‘ مہرین نے ٹیلر سے خوشامدانہ انداز میں کہا۔
    ’’ بتائیے میڈم۔‘‘
    ’’آپ …آپ یہ سوٹ میرے ناپ پر سی دیں۔‘‘مہرین کی بات پر ٹیلر نے انھیں یوں دیکھا جیسے ان کا دماغ چل گیا ہو۔
    ’’ کیا مطلب؟‘‘
    ’’مجھے یہ سوٹ بہت پسند ہے ۔ ہر جگہ ڈھونڈا مگر کہیں نہیں ملا۔‘‘ وہ لجاجت سے بولیں۔
    ’’مگر میں ان بی بی کو کیا جواب دوں گا؟‘‘وہ ہچکچایا۔
    ’’ دیکھو کپڑے خراب بھی تو ہو جاتے ہیں نا…تم انہیں کہہ دینا کہ غلطی سے کسی اور کے ناپ پر سل گئے ۔‘‘ اُنھوں نے راہ دکھائی۔
    ’’ مگر میں ان کا نقصان کیسے پورا کروں گا ؟ میں اس دکان پر دہاڑی پر کام کرتا ہوں ۔ میں اس قیمتی سوٹ کی قیمت کہاں سے بھروں گا؟‘‘ ٹیلر نے انھیں ڈھکے چھپے انداز میں انکار کیا۔
    ’’ آپ گھبرائیے نہیں ماسٹر صاحب! اس سوٹ کی قیمت سات ہزار روپے ہے ۔ یہ لیجیے اس کی قیمت جو آپ اُس خاتون کو واپس کریں گے اور یہ پانچ ہزار روپے آپ اپنی محنت کے رکھ لیں۔‘‘ مہرین بیگم نے بیگ کھول کر بارہ ہزار روپے کائونٹر پر رکھ دیے۔ٹیلر نے چور نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھا، کوئی بھی ان دونوں کی طرف متوجہ نہیں تھا۔اُس نے وہ روپے اٹھا کر گویا مہرین بیگم کا کام کرنے کی حامی بھر لی۔مہرین کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
    ’’شکریہ ماسٹر صاحب!‘‘
    ’’وہ تو ٹھیک ہے میڈم! مگر آپ ایک سوٹ کے لیے اتنے پیسے…‘‘ وہ آدھی بات کہہ کر خاموش ہو گیا۔
    ’’آپ آم کھائیں ماسٹر صاحب ! پیڑ نہ گنیں۔ آپ نے سنا نہیں کہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔‘‘مہرین کا لہجہ بہت ہی خوش گوار ہو گیا تھاجیسے سوٹ کی صورت میں ہفت ِ اقلیم کی دولت ان کے ہاتھ لگ گئی ہو۔ٹیلر سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا اور مہرین بیگم مطمئن سی دکان سے باہر نکل گئیں۔
    ٭…٭…٭