Tag: Harf Kahani

  • مارو گولی — سارہ قیوم

    اس نے برآمدے میں نکل کر اپنے پیچھے دروازہ بند کیا اور سر اٹھا کر روشن آسمان کو دیکھا۔ جاتی بہار کے چمک دار دن کی چھب ایسی تھی جیسے سونے میں جڑا کندن۔ اس نے اس چمچماتے آسمان سے نظریں چرا کر رخ موڑا اور دروازہ لاک کرنے کے لئے چابی نکالی۔ دروازے کے پاس پڑے گملے پر اس کی نظر اٹک گئی۔
    گلاب کے پودے میں چند سرخ کلیاں کھل رہی تھیں۔ مالی شاید تھوڑی دیر پہلے ہی پانی لگا کر گیا تھا۔ پتے دھل کر زمرد بن چکے تھے اور کلیاں لعل۔ چابی اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ گہرا سانس لے کر اس نے جھک کر چابی اٹھائی اور دروازہ لاک کیا اور پھر خود کو گیٹ پر کھڑا پایا۔ اس نے حیرت سے اس لمبے ڈرائیو وے کو مڑ کر دیکھا جسے عبور کرکے وہ گیٹ تک آپہنچی تھی اور اسے احساس بھی نہ ہوا تھا۔ سر جھٹک کر اس نے اپنے خیالوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی اور گیٹ کھولا۔ سڑک کے اس پار گل موہر کا درخت سچے موتیوں کے پھولوں سے لدا کھڑا تھا۔ گویا کسی ہرے زرتار آنچل کے کنارے سے مولسری کی نالیاں جھانک رہی ہوں۔ اس نے خالی خالی نظروں سے پر رونق سڑک کو دیکھا، چند گھر چھوڑ کر ایک عمارت بن رہی تھی اور اس کے سامنے بجری اور سیمنٹ کا ڈھیر پڑا تھا۔ چند مزدور اس ڈھیر سے اپنے تسلے بھر بھر کر اندر لے جارہے تھے۔ اس نے گردن موڑ کر دوسری طرف دیکھا۔ ساتھ والے گھر پر عید میلادالنبیۖ کے لیے بتیاں لگائی جارہی تھیں۔ چند لڑکے ننھے ننھے قمقموں کی تاریں گولائی میں گھر کی چھت سے لٹکا رہے تھے۔ گھر کا ماتھا اس طرح سج رہا تھا جیسے وہ دلہن ہو اور جھومر اس کا سر ڈھانپ رہا ہو۔
    ”دیر ہورہی ہے، امی انتظار کررہی ہوں گی۔” اس نے باآوازِ بلند خود کو یاد دلایا۔ صبح ہی تو اس نے راحت کو فون کرکے کہا تھا:
    ”امی میں گیارہ بجے تک آئوں گی۔ میرا زیور نکال کر رکھیے گا۔”
    وہ اپنے زیور لینے جارہی تھی۔ حیا، وفاداری اور محبت کا جو زیور وہ اپنے تن من پر سجائے رکھتی تھی، اس کے شوہر کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے اسے وہ زیور لانے کا حکم دیا تھا جسے بیچ کر پیسے آسکتے ہیں۔ وہ اپنی پسند کا زیور سینے سے لگائے، اپنے شوہر کی پسند کا زیور لینے جارہی تھی۔
    ٭…٭…٭





    پچھلی شام ظہیر جس وقت آیا تھا، اس وقت وہ احمد کو پڑھا رہی تھی۔ اس وقت ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں جن میں کورنگی کے علاقے میں ڈکیتی کی واردات کی فوٹیج دکھائی جارہی تھی۔
    نیوز کاسٹر چلا چلا کر کہہ رہی تھی:
    ”نامعلوم افراد نے راہ گیر سے نقدی اور موبائل چھین کر گولی مار دی۔”
    اس نے جھرجھری لے کر ریموٹ اٹھایا اور آواز آہستہ کردی۔ احمد بھی کام چھوڑ کر محویت سے ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اس نے نرمی سے اس کا چہرہ اپنی طرف گھمایا۔
    ”ادھر دھیان دو بیٹا، کل quiz ہے آپ کا۔ یہ لفظ پڑھو کیا ہے؟ speelingکرو اس کے۔”
    ”ماما ڈاکو نے اس کو گولی مار دی؟” احمد نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا۔
    ”ہاں بیٹا!” اس نے والیم مزید کم کرتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں؟” احمد نے سوال کیا۔
    ابھی وہ اس کیوں کا جواب سوچ ہی رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور ظہیر اندر داخل ہوا۔ سعدیہ نے مسکرا کر سلام کیا۔ ظہیر نے جواب دے کر بریف کیس میز پر رکھا اور ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے سعدیہ کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا۔
    ”کیا ہورہا ہے پارٹنر؟” اس نے احمد کے بال بکھیرتے ہوئے پوچھا۔
    ”پڑھائی!” سعدیہ نے مسکرا کر احمد کو دیکھا۔
    اسے ظہیر کے سوالوں کے یک لفظی جواب دینے کی عادت تھی کیوں کہ وہ ساری بات میں سے بہ مشکل ایک دو الفاظ ہی سنتا تھا۔ اب بھی وہ سعدیہ کا جواب سنے بغیر ریموٹ اٹھا چکا تھا۔ والیم اونچا کرتے ہوئے وہ ٹی وی دیکھنے لگا جہاں اب بھی راہ گیر کو گولی مارنے کا واویلا جاری تھا۔ ظہیر کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں:
    ”کیا حالات ہوگئے ہیں جہاں دیکھو ڈکیتی، جب دیکھو قتل، گولی تو ایسے مارتے ہیں جیسے یہ کوئی بات ہی نہیں۔”
    احمد پھر یک ٹک ٹی وی دیکھنیلگا تھا۔ سعدیہ نے ایک مرتبہ پھر اس کا چہرہ گھما کر کتاب کی طرف کیا اور بات بدل دی۔
    ”چائے لائوں آپ کے لیے؟” اس نے ظہیر سے پوچھا۔
    ”ہاں ذرا strongسی۔” اس نے بے دھیانی میں جواب دیا۔
    سعدیہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ ساس کی غیرموجودگی میں اسے کچن میں کام کرنے کا بہت مزہ آتا تھا۔ اب تو ویسے بھی دونوں ساس سسر عمرے پر گئے ہوئے تھے لمبی چھٹی تھی سعدیہ کی۔ ہر روز یومِ آزادی تھا۔
    وہ اپنے خیالوں میں گم مسکراتے ہوئے چائے کا پانی رکھ کر پتی کا ڈبا نکالنے لگی۔ اسی وقت ظہیر بڑی بے فکری سے آستینیں چڑھاتا ہوا اس کے برابر آکھڑا ہوا۔ سعدیہ نے حیران ہوکر اسے دیکھا، کچن میں تو وہ کبھی نہیں آتا تھا۔
    ”زیور کہاں پڑا ہے تمہارا؟” ظہیر نے پانی میں جھانکتے ہوئے بڑے عامیانہ انداز میں پوچھا۔سعدیہ کو ایک مرتبہ پھر حیرت ہوئی۔
    ”آپ جانتے تو ہیں امی کی طرف پڑا ہے، سیف لاکر میں۔” اس نے ظہیر کو یاد دلایا۔
    ”او ہاں! زیور لے آئو تم کل جاکر۔” اس نے بڑے آرام سے کہا۔ سعدیہ ایک بار پھر مسکرا دی۔
    ”ٹھیک ہے۔ کوئی شادی ہے کیا؟” اس نے پوچھا۔
    ”نہیں شادی نہیںہے، بیچنا ہے زیور۔ مجھے ضرورت ہے پیسوں کی۔” کھولتے پانی میں پتی ڈالتے سعدیہ کے ہاتھ جہاں تھے، وہیںتھم گئے۔
    ”بیچا ہے؟ آپ میرا زیور بیچیں گے؟” اس نے بے یقینی سے کہا۔
    ”ہاں! تو؟ اتنے زیور کا کرنا کیا ہے تم نے؟اس وقت ضرورت ہے مجھے ،ایسے وقت کے لیے ہی ہوتا ہے زیور۔”ظہیر نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔
    ”آپ اپنی طرف کا زیور تو پہلے ہی بیچ چکے ہیں۔” اس نے پتی ڈالتے ہوئے پھیکی سی ہنسی سے کہا۔
    ”ہاں تو میری چیز تھی میں نے بیچ دی۔” اسے ظہیر کے لہجے میں وہ جھلاہٹ نظر آئی جو برہمی کا پیش خیمہ تھی۔ وہ برہمی جو اشتعال کا ہر اول دستہ تھی، وہ اشتعال جس سے سعدیہ کی جان نکلتی تھی۔ اس نے ہمت مجتمع کرکے کہا:
    ”لیکن میں اپنا زیور نہیں بیچوں گی۔ میرے ماں باپ کی نشانی ہے وہ۔”
    سعدیہ کے دل نے اسے ٹھیک وارننگ دی تھی۔ ظہیر نے درشتی سے سعدیہ کا بازو پکڑ کر اسے جھٹکے سے اپنی طرف موڑا۔ سعدیہ کے ہاتھ سے پتی کا ڈبا گرتے گرتے بچا۔ اپنے آپ کو کھولتے پانی کے برتن سے بچاتے سعدیہ کی نظر احمد پر پڑی جو لائونج کے کھلے دروازے سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت، خوف، تجسس سب کچھ تھا۔ سعدیہ نے ظہیر کی آنکھوں میں دیکھا، وہاں اسے شعلے بھڑکتے نظر آئے۔
    ”تو پھر تم بھی جائو گی اپنی ماں کے پاس۔” اس نے سعدیہ کے بازو کو جھٹکا دے کر کہا۔
    ”مجھے نہیں چاہیے ایسی بیوی جو آڑے وقت میرے کام ہی نہ آئے۔” غصے سے اس کے نقوش بگڑ رہے تھے۔ سعدیہ ڈر کر اپنے آپ میں سمٹ گئی۔
    ”کل صبح جا کر زیور لے کر آئو ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔” ظہیر نے اس کے بازو کو ایک مرتبہ پھر جھٹکا دیا اور اسے وہیں کھڑا چھوڑ کر چلا گیا۔ طلاق کا لفظ سعدیہ کو گولی کی طرح لگا۔ کتنی مرتبہ سن چکی تھی وہ یہ لفظ، یہ جملہ ”طلاق دے دوں گا۔” ہر مرتبہ اسے یوں لگتا جیسے اس کے دل میں کسی نے نئے سرے سے چھری گھونپ دی ہے۔ ہر مرتبہ اس لفظ کو سننے کی ذلت اسے اذیت کی نئی کھائی میں پھینک دیتی تھی۔ وہاں کھڑے کھڑے سعدیہ کو وہ تمام مواقع یاد آنے لگے جب اسے طلاق کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس نے ان یادوں سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی مگر وہ کسی بلا کی طرح اسے چمٹ گئیں۔
    اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا ابھی صرف ایک ہفتہ ہی گزرا تھا ان کی رخصتی کو۔ اس کا دل ابھی تک ماں کے گھر میں اٹکا تھا۔ اس روز امی نے انہیں رات کے کھانے پر بلایا تھا اور دبی زبان سے اسے رات رکنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ وہ بھی رکنا چاہتی تھی۔ اس نے ظہیر سے کہا، وہ خاموش ہوگیا۔ وہ تو کم عمر تھی، ظہیر کے موڈ کو نہ پہچان سکی مگر امی سمجھ گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے اسے رات رکنے کا نہ کہا۔ وہ بھی اپنی دھن میں مگن خوش خوش امی کے گھر سے واپس۔
    ”کتنا دل تھا میرا آج امی کے گھر رکنے کا۔” اس نے چوڑیاں اتارتے ہوئے کہا:
    ”آپ نے رکنے ہی نہیں دیا۔”
    ظہیر قدم بڑھا کر اس کے پیچھے آکھڑا ہوا۔ سعدیہ نے سر اٹھا کر مسکراتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں اسے دیکھا۔ اس کے تاثرات دیکھ کر اس کی مسکراہٹ منجمد ہوگئی۔
    ”اتنا ہی شوق ہے ماں کے گھر رہنے کا تو پھر جائو، وہیں رہو… یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟”
    ”میں نے یہ تو نہیں کہا۔” سعدیہ نے اٹکتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں نہیں! کہہ دو بے شک۔” ظہیر نے طنز سے کہا۔
    ”میں اور میرا گھر پسند نہیں، ماں بہن سے بہت پیار ہے تو بے شک چھوڑ دو مجھے۔ طلاق لے لو اور چلی جائو۔”





    اس لفظ کو سننے کی تکلیف سعدیہ اب بھی محسوس کرسکتی تھی۔ وہ تیزی سے ظہیر کی طرف پلٹی۔
    ”آپ طلاق دے سکتے ہیں مجھے؟” اس نے کانپتی آواز میں بے یقینی سے پوچھا۔
    ”ہاں! مجھے کوئی پرابلم نہیں یہ تمہاری چوائس ہے۔” ظہیر نے سرد لہجے میں کہا۔ سعدیہ روتے ہوئے ظہیر سے لپٹ گئی۔
    ”نہیں مجھے طلاق نہیں چاہیے۔ میں پیار کرتی ہوں آپ سے۔ مجھے کبھی طلاق مت دینا۔” اس نے روتے ہوئے کہا۔
    اور اس التجا کے ساتھ اس نے اپنی دکھتی رگ ظہیر کے ہاتھ میں دے دی۔ اس کے بعد اسے کتنی مرتبہ طلاق کی دھمکی سننا پڑی، اب تو وہ گنتی بھی بھول گئی تھی۔ مگر یادیں تھیں کہ اسے وہ تکلیف بھولنے کا موقع نہیں دیتی تھیں۔
    اسے وہ دن یاد آیا جب اس کی شادی کے تین مہینے بعد ظہیر کی ماموں زاد بہن کی شادی آئی۔ سعدیہ نے اپنے جہیز کا سب سے خوب صورت سوٹ نکالا، اپنے سارے کپڑوں میں سے یہ اس کا پسندیدہ سوٹ تھا۔ اس نے بیسیوں چکر لگائے کام والے درزی کے پاس، پھر کہیں جا کر اس کی مرضی کا سوٹ بنا۔ قریبی شادی تھی اس لیے اس نے بڑے چائو سے یہ سوٹ اور میچنگ جیولری نکالی۔ اسی وقت اس کی نند فریحہ کسی کام سے اس کے کمرے میں آئی۔
    ”ہائے! کتنا خوب صورت ڈریس ہے بھابھی” اس نے فدا ہوکر کہا۔
    ”ہے نا؟ میں نے خود ڈیزائن کیا ہے۔” سعدیہ خوش ہوگئی۔
    ”میرا تو مسئلہ حل ہوگیا بھابھی۔ اتنے دنوں سے اس فکر میں تھی کہ فرسٹ کزن کی شادی میں میرے کپڑے سب سے اچھیہونے چاہئیں۔ اب یہ پہنوں گی… دے دیں گی نا آپ؟” فریحہ نے خوشی سے پوچھا۔ سعدیہ کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔ اس نے مدد طلب نگاہوں سے بستر پر نیم دراز ظہیر کو دیکھا۔
    ”ہاں ہاںچ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟تم رکھ لو یہ ڈریس فریحہ بلکہ سعدیہ اس کے ساتھ کی جیولری بھی دے دو فریحہ کو۔” ظہیر نے فراخ دلی سے کہا۔فریحہ خوشی سے کھل اٹھی۔ اس نے سعدیہ کے ہاتھ سے ڈریس لے لیا۔
    ”تھینک یو بھائی، جیولری ابھی آکر لے لوں گی، امی کو سوٹ دکھا آئوں۔”
    فریحہ دروازہ کھول کر نکل گئی۔ سعدیہ دھواں دھواں چہرے کے ساتھ وہیں کھڑی رہ گئی۔
    ”تم نے منہ کیوں بنا لیا؟ اتنا چھوٹا دل ہے تمہارا؟ ایک سوٹ کے پیچھے موڈ دکھا رہی ہو؟” ظہیر نے ناگواری سے کہا۔سعدیہ نے مسکرانے کی کوشش کی:
    ”نہیں تو، کوئی بات نہیں۔”ظہیر نے سر ہلایا اور سختی سے کہا:
    ” میرے لیے ماں باپ اور بہن بھائی ہر چیز سے بڑھ کر ہیں۔ تمہیں اگر یہ معمولی چیزیں ان سے زیادہ عزیز ہیں تو اس گھر میں تمہاری کوئی جگہ نہیں۔ طلاق لو اور چلی جائو واپس۔”
    یہ ان ٹھوکروں کی ابتدا تھی جو اس سفر میں قدم قدم پر سعدیہ کی منتظر تھیں۔ ان ٹھوکروں میں اس کی ساس نے بھی بہ قدر توفیق حصہ ڈالا تھا۔
    ”دو گھنٹے بیٹھی رہی رضیہ خالہ،تمہاری بیوی نے اپنے کمرے سے قدم تک نہیں نکالا۔” سعدیہ کے کانوں میں اپنی ساس کی آواز گونجی۔ ظہیر کے دفتر سے آتے ہی وہ عدالت لگا کر کھڑی ہو جاتی تھیں۔
    ظہیر نے غصے میں سعدیہ کو خشمگیں نظروں سے گھورا۔ سعدیہ سہم گئی۔ بڑی بری عادت تھی اس کی ذرا سی بات پر سہم جاتی تھی۔ ذرا سی دھمکی سے ڈر جاتی تھی۔ اس نے معذرت خواہانہ انداز میں اپنی صفائی پیش کی۔
    ”امی مجھے تو پتا نہیں تھا کہ وہ آئی ہوئی ہیں، مجھے کسی نے نہیں بتایا۔”اس نے ڈرے ڈرے لہجے میں کہا۔
    ”ہاں تو یہ تمہارا فرض نہیں کہ گھر میں آئے گئے کا خیال رکھو؟ تمہیں دعوت نامے بھیجے جائیں کہ مہارانی آئو، مہمانوں کو اپنی زیارت کرائو؟” اس کی ساس نے ڈپٹ کر کہا۔سعدیہ نے لجاجت سے کہا:
    ”امی آپ مجھے بتا دیتیں تو…”اس کی بات پوری نہ ہوسکی، اس کی ساس نے تیوریاں چڑھا کر کہا:
    ”لو!… اب یہ میرا قصورہے، دیکھ رہے ہو ظہیر اپنی بیوی کا رویہ؟ یہ کرتی ہے یہ ہمارے ساتھ۔”
    سعدیہ روہانسی ہوگئی
    ”میں نے تو…”
    ”معافی مانگو امی سے!”ظہیر نے غصے سے اس کی بات کاٹ دی۔
    سعدیہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی، پھر کم زور سے لہجے میں بولی:
    ”ظہیر میں اوپر اپنے کمرے میں تھی، مجھے مہمانوں کے آنے کا پتا نہیں چلا، مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں۔”
    ”معافی مانگو۔” ظہیر نے دھاڑ کر کہا،سعدیہ کی روح فنا ہوگئی۔
    ”سوری… سوری امی۔” اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا لیکن ظہیر کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ اس نے چیخ کر کہا:
    ”آئندہ شکایت نہ ملے مجھے ورنہ طلاق لے کر گھر جائو گی۔”
    کتنی عجیب بات تھی، اسے حکم دیا جاتا تھا کہ اس گھر کو اپنا گھر سمجھ کر رہے اور پھر بات بات پر اسے گھر بھیجنے کی دھمکی دی جاتی تھی۔
    اس کے میکے یا دوستوں کی طرف سے کوئی بلاوا آتا تو ایک ہی جملہ سننے کو ملتا:
    ”جائو! واپس نہ آنا۔”
    آہستہ آہستہ اس نے ہر جگہ جانا چھوڑ دیا۔ پھر طعنہ ملنے لگا تم آلسی ہو، باہر کی لڑکیاں تو بڑی طرح دار ہیں۔ تمہیں طلاق دے دوں گا، ان میں سے کوئی گھر لے آئوں گا۔” اس کا دل چاہا کہ پوچھے:
    ”گھر لا کر ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کرو گے؟” لیکن برا ہو اس ڈر کا جو اسے قدرت نے بے حساب عطا کیا تھا۔ وہ ڈرتی تھی، وہ ڈراتا تھا۔
    ”گرم کھانا کھانے کی عادت ہے مجھے۔ بندہ سارے دن کا تھکا ہاراگھر آئے اور ٹھنڈا کھانا کھائے؟” وہ طیش میں آکر کہتا۔
    ایک دن اس کے انتظار میں اس کی آنکھ لگ گئی۔ ان دنوں ویسے بھی اس کا آٹھواں مہینہ تھا، وہ خود اپنے آپ سے بے زار تھی۔ کھانا ٹھنڈا ہوگیا، وہ بھوکی ہی سو گئی۔
    ”کھانا گرم کھانے کی عادت ہے مجھے۔” ظہیر نے آکر اسے اٹھایا اور غصے سے اسے تنبیہہ کی۔
    ”سوری! میری آنکھ لگ گئی تھی۔” وہ سوتے سے اٹھتی ہوئی مجرمانہ انداز میں بولی۔
    ”سارا دن کرتی کیا ہو تم؟کیا فائدہ ایسی بیوی کا جو مجھے تازہ روٹی تک نہ دے سکے؟ ایسی بیوی کو تو گھر بھیج دینا چاہیے۔” ظہیر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
    ”پلیز ظہیر! چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتنا غصے میں نہ آیا کریں۔” اس نے تھکن سے چور التجائیہ انداز میں کہا۔




  • خواب لے لو خواب — سائرہ اقبال

    کمرے میں گھُپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ وہ کھڑکیاں دروازے سب بند کئے ایک کونے میں سمٹی بال بکھیرے بیٹھی تھی ۔ اس کے کانوں میں ایک ہی صدا گونج رہی تھی،
    ”خواب لے لو ۔۔ خواب” وہ کبھی کانوں پہ ہاتھ رکھتی تو کبھی اُٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کرتی مگر باہر کچھ نظر نہ آتا کیوں کہ کھڑکی کو کالے کپڑے سے ڈھک دیا گیا تھا۔ کپڑا ہٹانے کی گنجائش تھی نہ باہر جھانکنے کی۔ دیوانوں کی طرح کمرے میں ادھر سے اُدھر گھُومتی رہتی، کبھی جھٹ سے پیچھے مُڑ کر دیکھتی۔ اُسے کوئی بھاری بھرکم ہاتھ اپنی جانب آتا ہوا دکھائی دیتا۔ وہ اس ہاتھ سے بچ کر کبھی پلنگ کے نیچے چھُپتی تو کبھی صوفے کے پیچھے۔
    ”خواب لے لو ۔۔ خواب۔۔” اس کے کانوں میں مُسلسل ایک ہی صدا گونجتی تھی ۔
    ”یہ۔۔۔ یہ کتنے کے ہیں ؟؟” ایک اور صدا اس کے کانوں میں گونجی۔
    ”سو روپے۔” وہ ہنسنے لگی ، قہقہے لگانے لگی۔
    ”بس! سو روپے ۔۔ اتنے سستے خواب ۔۔ لے لو۔۔ لے لو۔۔ تُم بھی لے لو” اب وہ ہنس رہی تھی اور خوشی سے جھُوم رہی تھی۔





    پھر یک دم خاموش ہو گئی۔
    ”اتنے سستے خواب ۔۔۔اتنے سستے؟”’یہ پری وش کدھر ہے ؟؟ ‘ پری وش کی خالا اُسے سارے گھر میں ڈھونڈ رہی تھیں ۔
    ”ہو گی اپنی کال کوٹھری میں۔ کچھ سمجھ نہیں آتی اس لڑکی کی ،اٹھارویں سال میں لگی ہے اور مجال ہے کسی چیز میں دل چسپی لے ۔دماغ خراب ہے اُس کا۔” پری وش کی ماں نے چیختے ہوئے کہا ۔
    ”اچھا بس کرو آپا، میں ذرا اس کا دوپٹہ لینے آئی ہوں ۔ زارا کا سکول میں فنکشن ہے، اس کا نیلا دوپٹہ چاہئے ۔ ‘ خالا سیڑھیاں چڑھتی اپنے آنے کی وجہ بتانے لگیں۔
    ‘لے لو بہن! اس کے کس کام کا؟ کوئی نیا جوڑا پہنتی ہے نہ کوئی سجنا سنورناہے اس کا۔ اس کی عمر میں لڑکیاں تو کیا کیا جتن نہیں کرتیں! اس کو تو بس ایک ہی چیز کا پتا ہے، لے دے کہ ایک ہی سوال پوچھتی ہے۔ ”کتنے کے ہیں؟؟”
    اتنے میں پری وش کمرے سے باہر نکلی۔
    ”’یہ لو۔۔ آگئی آواز۔” پری وش کی ماں کپڑے دھو رہی تھی اور ساتھ ساتھ اس کی تقریر الگ جاری تھی۔
    ”ارے پگلی، کیا کتنے کا ہے؟” پری وش کی خالا اس کے گال سہلاتے ہوئے اس کے کمرے میں داخل ہو گئیں۔
    ”خواب۔۔!” پری وش کی ماں نے کپڑے تار پر پھیلاتے ہوئے تنک کرکہا۔
    پری وش کی خالا الماری سے دوپٹہ نکال کر باہر آ گئیں۔
    ”خوابوں کی بھی کوئی قیمت ہوتی ہے بھلا ؟ پگلی خواب تو انمول ہوتے ہیں۔” خالا نے جواب دیا اور باہر چلی گئیں۔
    ”پری بٹیا یہ کل شام میں دے جائوں گی ۔ ‘ خالا نے دروازے پہ کھڑے ہو کر کہا۔ پری گُم صُم پریشاں صحن میں آکر پلنگ پر بیٹھ گئی۔
    ”کُھل گئی آنکھ مہارانی کی؟” ماں نے پوچھا۔
    ”سوئی کب تھی؟” پری وش نے منہ پر پانی کی چھینٹے مارتے ہوئے کہا۔ وہ ایک دم پھر سے ڈر گئی۔ اُسے وہ ہاتھ اپنے کاندھے پر دکھائی دیا۔
    ”ناشتہ بنا کر رکھا ہے کر لینا، میں بازار سے سبزی لے آئوں۔” پری وش کی ماں نے چادر اوڑھتے ہوئے کہا۔
    ”اور ہاں! دروازہ بند کر لینا۔” اُس نے مُڑ کر تاکید کی ۔
    ”یہاں ہے ہی کیا۔۔۔خواب تو ہیں بس۔۔۔؟’ اُس نے منہ بناتے ہوئے کچھ کہنا چاہا۔
    ”اکیلی عورت کھُلی تجوری کی طرح ہوتی ہے۔” ماں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔
    ”اور بچی؟؟” اس نے سوال کیا ۔
    ”اچھا دروازہ بند کر۔۔” ماں نے تنگ آ کر کہا۔
    ٭…٭…٭





    وہ کبھی دائیں کبھی بائیں کروٹیں بدل رہی تھی ۔چہرہ پسینے سے شرابور تھا۔ وہ ایک دم اُٹھی اور صوفے کے پیچھے جا بیٹھی۔ وہ بھاری سا مردانہ ہاتھ بھی اس کا پیچھا کرتا یک دم کہیں غائب ہو گیا ۔ وہ ہانپ رہی تھی ۔ رات کا آخری پہر تھا ۔ پانی پینے کی غرض سے وہ نیچے کچن میں گئی۔
    کولر سے پانی گلاس میں اُنڈیلتے ہوئے اس نے گہری خاموشی کو پریشان کر دیا ۔ گلاس میں پانی گرنے کی آواز ایسی تھی جیسے سارے خواب ایک کوزے میں گِر رہے ہوں اور وہ ایک ننھی بچی کی طرح ان خوابوں کو تتلیاں سمجھ کر جمع کر رہی ہو۔ پانی کا گلاس بھر جاتا ہے، گلاس بھر گیا اور پانی نیچے گرنے لگا۔ پانی بہنے کی آواز ایسے معلوم ہوتی ہے جیسے سارے خواب بہ رہے ہوں ۔ ایک دریا سے سمندر کی جانب سفر طے کر رہے ہوں اور اپنی منزل سے آشنا نہ ہوں ۔ پانی بہتا جا رہا تھا، گویا اس کے خواب بہتے جا رہے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ اس سارے واقعے سے لُطف اندوز ہونے لگی ۔ وہ مُسکرا رہی تھی اور ہلکا ہلکا گُنگنا رہی تھی ۔ ”خوا ب لے لو خواب ۔۔۔”
    پانی کے بہنے کی آواز کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی سُریلی آواز بھی اس میں شامل کی اور گنگناتی رہی ”خواب لے لو ۔۔ خواب۔”
    اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا، ”خواب۔۔” خوابوں کا کوزہ گر گیا ، چکنا چُور ہو گیا۔ گلاس ٹوٹنے سے ایک شور فضا میں بلند ہوا۔ چھن کی سی آواز ، ایک ہلکی سی چھنکار ۔ وہ بوجھل آنکھوں سے کرچیوں کی طرف دیکھنے لگی ۔ خواب تو بکھر چُکے تھے وہ اب بکنے کے قابل نہیں رہے تھے۔
    ”خوب لے لو خواب۔۔” وہ چِلا رہی تھی۔
    پری وش کی ماں فوراً اُٹھ کر باہر آئی ۔ بڑی بہن بھی آنکھیں ملتی ہوئی وہاں آ نکلی ۔
    ”یہ کیا مذاق ہے پری وش؟ رات کے اس پہر بھی تُمہیں سکون نہیں؟” اس کی بہن نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
    پری وش سہمی سی ایک کونے میں لگ کے کھڑی رہی۔
    ”میں تو ۔۔ پانی پینے۔۔” اُس نے کچھ کہنا چاہا۔
    ”امی کیا تماشے ہیں اِس کے۔۔ سمجھائیں خود ہی اسے کچھ۔۔” علینا نے چڑ کر کہا اور واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    ”آجائو۔۔ آج میرے کمرے میں سو جائو۔۔” امی نے پری وش کو نرم لہجے میں کہا۔
    ”نہیں! میں اُوپر ہی ٹھیک ہوں ۔ مجھے کہیں اور نیند نہیں آتی۔” پری وش یہ کہتے ہوئے واپس اوپر چلی گئی۔
    کمرے میں جاتے ہی وہ صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی، پھر ہنسنے لگی۔
    ”نیند تو کہیں بھی نہیں آتی ، بس تُم سے باتیں کرنی ہوتی ہیں ۔اب تُمہیں میں نے اپنا دوست بنا لیا ہے اب نہیں ڈروں گی۔” وہ انجانے میں خود کی جانب بڑھنے والے ہاتھ سے باتیں کرنے لگی۔
    ”اور بتائو؟ تُم بھی خواب بیچتے ہو؟ کون کون خریدتا ہے؟ مجھ سے تو کوئی بھی نہیں لیتا ۔ اب میں کروں بھی کیا ان خوابوں کا ۔ میرے تو کسی کام کے بھی نہیں ۔ خواب بُن بُن کے تھکتی رہی اور کسی نے پل میں خواب توڑ دئے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔” وہ اب اس ہاتھ سے باتیں کررہی تھی۔
    وہ باتیں کرتے کرتے کھڑکی کی جانب بڑھی ۔ وہی کھڑکی جو اُس نے خود کالے پردوں سے ڈھک رکھی تھی ۔ آج جی چاہا تو اس کو ہٹانے کی کوشش کی۔ کیوں کہ اب اُس ہاتھ سے اُس نے دوستی کر لی تھی۔ اُس نے جیسے ہی پردے سے باہر جھانکنے کی کوشش کی، سامنے گلی میں کسی گھر کے کچن پر اس کی نظر پڑی۔ صاف کچھ نہ تھا، بس ایک سایہ تھا۔۔۔ ایک نہیں دو۔۔ نہیں ایک آدمی اور ایک کوئی بچہ شاید۔۔۔ ہاں یہ بچہ ہی ہے۔۔ لیکن بچے اور جوان کی کُشتی کا کیا مقصد؟ وہ بھی اس وقت۔۔ اس کے کانوں میں پھر آواز گونجنے لگی۔ ”خواب لے لو۔۔ خواب۔۔۔” کہیں کوئی خواب بِک رہے ہیں۔۔۔ کہیں نہیں۔۔ یہیں۔۔ سامنے والے گھر میں ۔۔۔ ”یہ والے کتنے کے ہیں۔۔۔؟ بس سو روپے۔۔” وہ پھر سے ہنسنے لگی۔
    ٭…٭…٭





    وہ وہیں زمین پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی بیٹھی سو گئی ۔ صبح جب دروازہ کُھلنے پر روشنی اس کے چہرے پر پڑی تو اس کی آنکھ کُھلی ۔
    ”پری۔۔۔ آپ اُٹھی نہیں؟ وقت دیکھئے۔” پری کے خالو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولے۔
    ”جی جی۔۔” پری کے کانوں میں آواز پھر سے گُونجی، ”خواب لے لو۔۔۔ خواب۔۔۔”
    وہ آنکھیں ملتی ہوئی اُٹھی اور بھاگتی بھاگتی نیچے چلی گئی ۔ علینا آفس کے لئے تیار ہو رہی تھی اور دودھ کا گلاس ہاتھ میں تھامے کھڑی تھی۔ وہ گلاس ہونٹوں سے لگانے ہی لگی کہ پری وش بھاگتی ہوئی کچن میں آئی اور علینا سے ٹکرا گئی۔ گلاس دھڑام سے نیچے گرا ، کچھ چھینٹے کپڑوں پر پڑیں اور باقی زمین پر گِر گیا۔ گلاس ٹوٹنے کی آواز نے پھر سے پری وش کو خوابوں کے چکنا چُور ہونے کا احساس دِلایا ۔ اِس سے پہلے کہ کوئی اور آواز اس کی سماع خراشی کا باعث بنتی ، علینا نے چِلانا شروع کر دیا ۔
    ”مجھے پہلے ہی دیر ہو رہی ہے، اور پھر اِس نے میرے کپڑے بھی خراب کر دیئے۔ کوئی ڈھنگ کا کام نہیں تُمہارے پاس؟ تُم۔۔ تُم آ خر چاہتی کیا ہو؟” علینا اپنی ہی دُھن میں چیخے چلے جا رہی تھی۔ پری وش ہر چیز سے بے پروا، ایسے جیسے کچھ سُنا ہو نہ دیکھا ہو ، ماں کے پاس گئی اور کہا: ”کیا خالو آئے تھے؟”
    ”نہیں بیٹا، تُم خالو کی خوشی میں بھاگتی بھاگتی آئی ہو۔ میری پاگل بیٹی۔۔” ماں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں آئے؟ مجھے آواز آئی تھی۔” پری وش نے زور دے کر کہا۔
    ‘خالو اگلے مہینے آئیں گے، کل ہی زبیدہ نے بتایا ۔ بڑی خوش تھی، کیوں نہ ہو۔۔ پورے چھے سال بعد آ رہا ہے اس کا شوہر۔” ماں نے توے پر پراٹھا ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں یاد ہے ، ابا کا چالیسواں تھا، جس دِن ان کی فلائٹ تھی۔” پری وش نے گلاس کو ٹیبل پر گُھماتے ہوئے کہا۔
    ”بڑا روئی تھی زارا، باپ کے جانے پر۔” ماں نے کچھ یاد کرتے ہوئے کہا۔
    ”زارا کیوں روئی؟ رونا تو مجھے چاہئے تھا۔” اس نے کہا اور شیشے کے مٹکے میںموجود مچھلیوں کو گھُورنے لگی ۔
    ”ناشتہ کرو گی؟” ماں نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
    ”نہیں ، ٹھہر کے کروں گی۔’ ‘ پری وش نے مچھلیوں کو اُس طرح گھورتے ہوئے کہا۔
    ٭…٭…٭
    وہ صحن میں موجود ماربل کے ڈبوں میں چھلانگیں لگانے لگی ۔ مٹی کی ایک ٹھیکر ڈبے میں پھینکتی اور پھر ایک ٹانگ کے سہارے اُچھلنے لگتی ۔پھر گنتی گنتی۔۔ ”ایک، دو، تین۔۔۔”
    ایک دم اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔
    ”یہ لو۔۔ ایک سو روپے ۔۔ایک ۔۔ دو ۔۔ تین ۔۔ !!! کسی سے کچھ نہ کہنا۔۔۔ خاموش۔۔۔”
    وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی ۔ دوپہر کا کھانا تیار تھا۔ ماں نے آواز دی:
    ”پری۔۔ پری ۔۔ کہاں رہ گئی ہو؟ کھانا کھا لو بیٹا۔۔”
    اتنے میں خالا گھر میں داخل ہوئیں۔
    دروازے کے سامنے سے پردہ ہٹاتے ہوئی بولیں: ”ارے بھئی السلام و علیکم۔۔ کیسے ہو سب؟”
    ‘آئو آئو۔۔ اللہ کا کرم ہے۔’ ماں نے انہیں دیکھ کر خوشی سے کہا۔




  • ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

    ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

    ادھیڑ عمراجوکے لئے ستار ہوٹل اندھیرے میں جلتا ایک ایسا دیا تھا جس کی پھوٹتی روشنی میں وہ اپنے جینے کے راستے تلاش کیا کرتا تھا۔
    دن بھر رکشہ ریڑھی کھینچنے کے بعد شام کو اپنی سانسوں کی اجرت گننے وہ بلاناغہ ہوٹل پر پہنچ جاتا۔
    سانولی رنگت اور درمیانے قد کا دبلاپتلا اجو اپنی بذلہ سنجی اور دل چسپ حرکتوں کی وجہ سے ہوٹل کے مردہ ماحول میںسانسیں بانٹ کر اسے متحرک کر دیتا۔
    وہ اپنے سر کے گرد ہمیشہ نیلاچیک دار مفلر لپیٹے رکھتا جس میں کبھی کبھارسرخ گلاب بھی اُڑسا نظر آجاتا۔
    اپنی سانسوں میں چرس کی ملاوٹ کرنے والے اجو کے منہ سے ایسی پھلجھڑیاں پھوٹتیں کہ ہر بندہ بشر ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جاتا۔
    لوگ اس کے مخصوص مزاحیہ انداز میں اس سے فلموں کے ڈائیلاگ اور گھٹی گھٹی آواز میں گانے سُنتے، حکومت اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے کبھی خلاف اورکبھی حق میں نعرے لگواتے۔
    وہ ایکٹنگ میں خاصا ماہر واقع ہوا تھا۔ جب کبھی وہ مختلف فلمی اداکاروں کی نقل اتارتا تو ہر طرف قہقہوں کی بوچھار ہوجاتی اور اکثر اپنے منہ سے ساز بجا کر اپنے بے سروپا ناچ سے لوگوں کو دل چسپ تفریح مہیا کرتا۔
    معاوضہ کے طور پر چائے کے ساتھ ساتھ اسے تھوڑی بہت نقدی بھی مل جایا کرتی، جس سے اس کے نشے پانی کاسامان ہو جاتا۔ اجّو صحیح معنوں میں ستارہوٹل کی دھڑکن تھا۔
    شام کا اندھیرا پھیلتے ہی ستار ہوٹل جاگ اُٹھتا اور لوگ دنیا کے بکھیڑوں سے فرار ہو کر وہاں پناہ لینے آ جاتے ۔ جہاں وہ گھنٹوں باتوں اور موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے رہتے۔





    فضا میں گرم چائے سے اُڑتی بھاپ اور سگریٹ کے تیرتے مرغولوں کے ساتھ ساتھ ہر طرف تمباکو کی سڑاند بھی رچی بسی ہوتی۔
    ہوٹل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اب وہ ایک دکان سے پھیل کر دونوں اطراف کی چار پانچ دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ غرض ستار ہوٹل ماں کی طرح تھا، جو دن بھر کے تھکے ماندے افراد کو اپنے پہلو میں بٹھا کر ان کی تھکن اپنے اندر اتار لیتا۔
    مگر حقیقت یہ تھی کہ اس جاگتے ماحول کو دھڑکنیں اجّو ہی عطا کرتا ۔وہ اپنی انوکھی گپ شپ اور منفرد حرکتوں کی بدولت ہر خاص و عام میں اتنا مقبول ہو چکا تھا کہ لوگ اسے شغل مستی کے لئے شادی بیاہ کی محفلوں میں بھی بڑے اہتمام سے بلایا کرتے ،جہاں اجو کے دلچسپ چٹکلوں اور حرکتوں سے محفلیں رنگین ہوجاتی تھیں۔
    اجو کی سب کے ساتھ اچھی خاصی واقفیت ہو گئی تھی اور وہ ہر کسی کے بارے میں تھوڑا بہت ضرور جانتا تھا مگر خود اس کے بارے میں کسی کو بھی صحیح طور سے معلوم نہ تھا کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اس کی ذات، اس کا مذہب اور اس کی پہچان کیا ہے؟ جب کبھی اجّوسے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر آنکھیں اوپر کو چڑھالیتا، ماتھے پر بل لے آتا اور گردن ٹیڑھی کر کے اپنے مخصوص انداز میں کہتا: ”اوئے بیوقوفا! تجھے اتنا بھی نہیں معلوم کہ اجّو کہاں سے آیا ہے؟ اللہ سے پوچھ، وہ تجھے بتائے گا کہ اجّو جنت سے آیا ہے۔”
    یہ بات کر کے اجّو خو د ہی ایک بُلند قہقہہ لگاتااور لوگوں کے ہونٹو ںپر ہنسی کی بے شمار تتلیاں رقص کرنے لگتیں۔ اس کی ایسی ہی بے ربط باتوں کی وجہ سے کچھ لوگ اسے نیم پاگل تصور کرتے تھے۔ مگر اکثر وہ بڑی منطقی باتیں کر کے سب کو حیران کر دیا کرتا۔
    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار کسی نے مذاق میں اسے پاگل کہہ دیا تھا۔ اجّو کے دل میں یہ بات کسی تیر کی طرح ایسی جا گڑی کہ وہ اس آدمی کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اورایک جھٹکے سے اس کی جیب سے پین نکال کر اپنی ہتھیلی پر ایک ٹیڑھی میڑھی سی شکل بنائی۔
    ”یہ کیا ہے؟” اجّو نے ہتھیلی اس آدمی کے سامنے کرتے ہوئے بہت جذباتی انداز میں پوچھا۔غصّے کی شدت سے اس کے ہونٹوں سے جھاگ نکل آیا تھا۔
    ”آدمی ہے۔” اس شخص نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”مانتے ہو نا کہ یہ آدمی ہے؟” اجّونے اس پر نظریں جماتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
    ” ہاں مانتا ہوں۔”وہ آدمی بہ دستور مسکراتے ہوئے بولا ۔
    ”اوئے بیوقوفا! جوانسان آدمی کی شکل بنا لے، وہ پاگل کیسے ہو سکتا ہے؟”





    اجّونے طنزیہ کہا اورایک بُلند آواز سا قہقہہ لگا دیا۔وہ آدمی بھی کھسیانا ہو کر ہنسنے لگا۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ آس پاس کے لوگ بھی اس کی بے ساختگی اور سادگی پر کھلکھلا اُٹھے۔
    کبھی کبھی وہ ہوٹل پر کام کرنے والے لڑکوں کا ہاتھ بھی بٹا دیتا اور اکثر لوگوں کی میز وں پر چائے اور پانی کا جگ بھی پہنچادیا کرتا۔ اپنی ان ہی با توں کی وجہ سے اجّو لوگوں کے دلوں پر راج کرتا تھا۔
    مجھے اُس سے اتنا اُنس ہو گیا تھا کہ اسے دیکھنے میں ہوٹل پر ضرور حاضری دیتا۔
    ان ہی دنوں میرے ایک دوست کے بیٹے کی شادی طے پا گئی۔ سب دوستوں کی شدید خواہش تھی کہ شادی میں اجو کو ضرور بلایا جائے اور جب میں نے اسے دعوت دی تو وہ ہنستے ہوئے بولا:
    ”بابو صیب…یہ تو اچھا ہوا کہ آپ نے مجھے بلا لیا اگر آپ نہ بلاتے تو میں یہ شادی ہی رکوا دیتا۔”
    میں اس کی بات سُن کر ہنس پڑا۔ وہ مجھے ہمیشہ بابو صیب ہی کہا کرتا۔ شادی شروع ہوتے ہی اجو ہوٹل سے سیدھا میرے دوست کے ہاں آ جاتا ، جہاں سب لوگ اس کے شدت سے منتظر ہوتے۔
    وہ ہمیشہ قہقہوں کا طوفان اپنے ساتھ لے کر آتا ۔پوری پوری رات شغل مستی میں گزرجاتی۔ مختلف گانوں اورڈھول کی تھاپ پر اجومزے مزے کے ڈانس کرتا، مزاحیہ گانے سناتا، چائے کے دور چلتے، لطیفہ گوئی ہوتی ، پھبتیاں کسی جاتیں ۔ غرض وہ خوب ہلڑ مچائے رکھتا۔ بچے، بوڑھے، جوان سب کے اندر اجو زندگی بھر دیتا۔
    مہندی کی رسم جاری تھی اور اجو ڈھول کی تھاپ پرتھرک رہا تھا، دوسرے لڑکے بالے بھی اس کا پورا پورا ساتھ نبھا رہے تھے بلکہ ایک مقابلے کا ماحول بن گیا تھا۔
    جوں جوں ڈھول کی تھاپ میں شدت آتی جا رہی تھی، اجو کے ڈانس میں بھی تیزی آتی جارہی تھی۔
    تمام لوگ گھیرا ڈالے مسکراتے ہوئے اس کے ڈانس کو دیکھ رہے تھے ، جو پسینے میں ڈوبا نئے نئے انداز میں ٹھمکے لگا رہا تھا کہ اس دوران کسی نے پٹاخے پھوڑدیے۔
    پتا نہیں کیسے داخلی دروازے پر لٹکتے سجاوٹ کے رنگ برنگے بھڑکیلے پردوں پر اچانک چنگاریاں جا پڑیں۔ پلک جھپکتے میں آگ بھڑک اٹھی اور پردے دھڑ دھڑ جلنے لگے۔
    ”آگ لگ گئی ….آگ لگ گئی….” کا واویلا مچ گیا اورچیخ و پکار شروع ہو گئی۔ڈھول بجنا بند ہو گئے اور تھرکتے جسم یک لخت ساکت ہو گئے۔
    آگ… آگ… کی آوازوں نے ماحول میں سراسیمگی بھر دی اور چہروں پر پریشانی کی آگ جل اٹھی۔
    جلتے پردوں اور آگ کی بڑی بڑی لپٹیں دیکھ کراچانک اجو کی حالت غیر ہو گئی اور وہ تھر تھر کانپنے لگا۔
    ”آگ بجھائو….جلدی کرو یار….خدا کے لئے جلدی سے اس آگ کو بجھائو…”





    وہ زور زور سے چلانے لگا ۔ میں اجو کی بوکھلائی ہوئی حالت پر ششدر رہ گیا۔
    شکر ہے کہ کسی نقصان کے بغیرجلد ہی آگ پر قابو پا لیا گیامگر اجو ایک دم سے بجھ گیا اور ساری مستیاں اس کے اندر یوں سو گئیں جیسے آگ پردوں کو نہیں، اس کے اندر کہیں لگی ہو۔
    ہنگاموں سے فارغ ہونے کے بعد جب وہ رات گئے سونے کے لئے لیٹا تو اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔میری نظریں اسی پر ہی لگی تھیں۔
    وہ کافی دیر تک جاگتا اور بار بار کروٹیں بدلتا رہا۔اسے جب نیند نہ آئی تو وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔ اس کی بے چینی نے مجھے بھی بے چین کر دیا اور تھوڑی دیر بعد میں بھی اٹھ کر اس کے پیچھے چلا گیا۔وہ ایک بند دکان کے تھڑے پر سر جھکائے چپ چاپ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اور چرس کی بُو دوردور تک پھیلی ہوئی تھی۔
    ”کیا بات ہے اجو! کوئی مسئلہ ہے کیا؟” میں نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔ وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا۔
    ”بابو صیب… کیا آپ کو پتا ہے کہ یہ آگ انسان سے کتنی نفرت کرتی ہے ۔”
    وہ سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے بولا مگر میرے جواب دینے سے پہلے وہ دوبارہ گویا ہوا:
    ”بابو صیب…جلتی ہوئی چیزوں میں دراصل انسان کی خوشیاں جل رہی ہوتی ہیںاور بکھری ہوئی راکھ، راکھ نہیں انسان کی خوشیاں ہوتی ہیں۔”
    میں اس کے منہ سے اتنی گہری اور سنجیدہ باتیں سُن کر حیران رہ گیا۔
    ”یہ کیسی باتیں کر رہے ہو اجو؟” میں نے اس کے اداس چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”بابو صیب…آپ نے آگ میں صرف چیزیں جلتی دیکھی ہوں گی مگر میں نے خواہشوں کو زندہ جلتے دیکھا ہے۔
    لوگوں نے آج تک روح نہیں دیکھی ہو گی مگر میں نے روح کو جھلستے دیکھا ہے۔” اس نے دکھی لہجے میں کہااور سگریٹ کا ایک لمبا کش لینے کے بعد اسے تھڑے پر مسل کر دور پھینک دیا۔




  • نگار خانہ — مصباح علی سید

    نگار خانہ — مصباح علی سید

    شام اداس اور ویران تھی۔ ٹھنڈا پڑتا سورج نارنجی تھال سے جھانکتا تھا۔ جیسے جیسے نیچے ہوا کے پھیکے جھونکوں میں تیرتے پنچھی اپنے اپنے آخری دانے دنکے چونچوں میں دبائے آگے بڑھ رہے تھے، وہ مٹھی میں باجرہ چاول لیے چھت پر آئی تھی۔ ڈوبتے سورج کے بعد آجانے والی سیاہی غم کو مزید بڑھانے لگی۔ اس نے دانے پھینک کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ پرندوں کی بے ہنگم شور نے اس کا وجد توڑ دیا۔ اس نے خفیف سی گردن گھما کر دیکھا، نگاہوں میں تحیر آبسا تھا۔
    سب لوگ چھوٹے سے صحن میں بیٹھے تھے۔ ابا کچھ دیر پہلے ہی دکان سے آئے تھے۔ جیسے ہی ان کی آمد ہوتی، وہ سارے گھر میں وی آئی پی بن جاتے۔ باجی بھاگ کر پانی کا بھرا گلاس لے آتیں، ٹیپو بوٹوں کی طرف بڑھتا چپل پیش کرتا، آپا گرم گرم روٹیاں اتارنی شروع کر دیتیں اور اماں سب کو ہدایات دیتی کہ ابا کے روبرو بیٹھ جائیں۔ اب بھی ان کے برابر بیٹھی ہاتھ والے پنکھے کو گول گول گھماتی انہیں سارے دن کی روداد سناتے ہوا جھل رہی تھیں۔ ابا نے قمیص اتارتے ہوئے اپنے مخصوص بے زار لہجے میں کہا:
    ”تیرے ہاتھوں میں اگر دم نہیں تو ادھر دے۔”





    انہوں نے نہ صرف پنکھے کی جانب ہاتھ بڑھایا بلکہ تقریباً چھین ہی لیا۔ اماں ”ایہہ” کہتی رہ گئیں۔ اب پنکھے کی ڈنڈی ابا کے ہاتھوں میں گھوم رہی تھی پھر اسی سے پشت کھجاتے کہنے لگے:
    ”جانے کب آئے گی کم بخت۔”
    ”ہائے مر گئے یہ واپڈا والے… ستیاناس ہو اُن کا۔”ابا کی تائید میں صحن کے بیچوں بیچ لگے جنگلے سے نیچے والی منزل کے بڑے میاں نے دہائی دی۔ نچلی منزل کا بند گھر، کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ اور پھر شدید حبس، غصے کے ساتھ گالیاں بھی بنتی تھیں۔
    ابا ان کی بے قراری پر کُھل کر مُسکرا بھی نہ سکے کہ اپنے سٹور سے دھڑ دھڑ قیامت خیز کھڑاک کی آواز آئی تھی اور ساتھ آپا کی دل خراش چیخیں ابھریں:
    ”ہائے میں مرگئی۔”
    ”اسے کیا ہوا…؟ہائے! اسے کیا ہوا؟” اماں سینہ تھامے سٹور کی جانب بڑھیں جہاں بھوت نما آپا چلاتی ہوئی برآمد ہوئیں۔ کچھ دیر پہلے اچھی بھلی آپا کو روٹیاں اتارتے دیکھا گیا تھا۔ ابا کے سامنے ٹرے رکھ کر سٹور سے ان کا بستر ڈھونڈنے گئیں تھیں۔ چادر کا کونا ہاتھ لگا مگر پوری طرح قابو میں نہ آیا تھا، زور لگایا پیٹی پر رکھے بستر کے ساتھ کوئی بھاری سی چیز ان پر آن گری۔
    درد اپنی جگہ، اس سوغات کی خوشبو و رنگینی اپنی جگہ۔ دراصل ٹیپو حد سے زیادہ چٹورا ہو گیا تھا۔ جو چیز دیکھی پیٹ کے دوزخ میں منتقل کرلی۔ اماں نے چُھپ کر اچار ڈال مرتبان اونچی پیٹی پر بستروں کے پیچھے خاصا چھپا کر رکھا تھا۔ چادر کھینچنے سے وہ بھی بدلحاظ بنا آپا سے گلے ملنے آگیا۔ پھر کیا تھا، تیل کی تل چھٹ میں رنگ برنگے مصالحہ جات، آم، آملے اور پھلیوں نے آپا کے وجود پر عجیب وغریب نقش و نگار بنا دیئے۔ عجائب خانے میں رکھتے تو ایک مہینے کا راشن نکل آتا۔ ہاتھ لگانے سے بھی کراہت آرہی تھی۔ اماں کو پہلے اچار کے ضائع ہونے کا قلق ٹھہرا، دو چار اس کے گھونسے جڑے پھر ہنسی آگئی۔ ابا بھاگ کر لالٹین اٹھا لائے، بچی پہچانی تب ساری بات سمجھ میں آئی اور ٹیپو اندھیرے میں ہی اچار کی پھانکیں اٹھا کر بھا گ گیا۔
    ”ستیاناس ہو جائے، اس کلموہی حکومت کا، زندگی سے سارا سکھ چین ہی چھین لیا، جب دیکھو بتی بند، کبھی سالن میں نمک کی جگہ چینی ڈل جاتی ہے تو کبھی چائے میں پتی کی جگہ کلونجی، کہاں تک اپنے دیدوں کی روشنی سے کام لیں؟” اماں کو بے انتہا غصہ آیا۔ سارا اچار بھی تو بدبخت لوڈشیڈنگ کی نذر ہو گیا تھا جیسے ہی اچار کی یاد آئی آپا کی کمر پر جھانپڑ جڑا۔





    ”منحوس! دِکھ نہیں رہا تھا چادر کہیں پھنسی ہوئی ہے، مرتبان نہیں اسے چھوڑ رہا تو تو ہی چھوڑ دیتی۔ اب دفع ہو، جاکر نہا بدن سے تیل کا کیچڑ اتار…”
    ”اوئے ہوئے مِس!…کیسے نہائو گی۔ پانی ختم ہے اور بتی آنے والی نہیں۔”ٹیپو انگوٹھے دکھاتا ناچ رہا تھا۔
    ”ہائے میرے ربّا…” یقین مانو اب آپا کو تیل میں مرچ ہلدی کا احساس ہوا تھا پھر تو سارے بدن میں بھوری چیونٹیاں بھر گئیں۔
    ”میرے اللہ!” اس کی نگاہ آسمان نامی چھوٹے سے نیلے ٹکڑے پر جا ٹھہری۔
    ”قیامت والے دن اس حکومت کو بخشنا نہیں، جس طرح مجھے مرچیں کاٹ رہی ہیں ، انہیں سانپ بچھو ڈسیں۔”
    یہ اس گھر کی ہی نہیں بلکہ چھوٹے سے پیچ دار گلیوں والے علاقے کے دیوار سے دیوار جڑے ہر گھر کی کہانی تھی۔ ڈھونڈتے کچھ ملتا کچھ، پکاتے کچھ پک کچھ جاتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نئی نئی لوڈشیڈنگ شروع ہوئی تھی۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہونے پر بتی جانے لگی۔ لوگ بلبلاتے شور مچاتے، ہڑتالیں، توڑ پھوڑ، ایک دن حکومت نے چھوٹا سا بیان زخم پر برف کی طرح رکھا۔
    ”چند سالوں کے لیے ملک مسائل میں گھرا ہے، تسلی رکھیں پانچ سالوں بعد ہمارے پیارے وطن میں لوڈشیڈنگ کا تصور بھی نہیں رہے گا۔”
    لوجی خوب کہی، پہلے واپڈا اوقات پر پھر اوقات سے باہر ہی ہو گیا۔ لوڈشیڈنگ کا تصور دفعتاً نہیں بچا تھا۔ غالباً لوگ اندھیروں کے عادی ہو گئے تھے۔ اگر کوئی وقت پوچھ لیتا صبح سوا نو سے رات سوا نو تک کی کہانی انگلیوں پر سنا دیتے۔
    ”سوا نو بجے آئے گی، پھر سوا دس بجے جائے گی، پھر سوا گیارہ، سوا بارہ…” آپا نے تو مہارت دکھائی۔ کلاک کے ہندسے ہٹا کر بتی آئی، بتی گئی کا کلاک بنا لیا۔ نئی طرز کا ڈیکوریشن پِیس، پڑوسی پوچھ پوچھ جاتے کہاں سے خریدا ہے۔ حکومت کی پانچ سالہ برف کی نظر کسی کا جمع جتھا، کمیٹیاں، کل پونجی، یو پی ایس کی نظر ہو گئے۔ پھر یہ دیکھا دیکھی ڈینگی کی وبا سے بھی تیز پھیلے۔ پانچ سال گزرے۔ واپڈا اوقات سے کیا سرحدوں سے باہر ہو گیا۔ بتی آئی گئی کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ کبھی آرہی ہے تو بے تحاشہ اور کبھی نہیں ہے تو بھلے ساکٹ میں انگلیاں دے لو یا دروازے کے باہر گزرتی تاروں پر پینگیں ڈال لو اور کبھی حسینہ کی طرح پلکیں جھپک جھپک کر چیزیں ساڑ دیتی اور پھر پورے کنبے میں دھینگا مشتی شروع تو کبھی ڈھیٹ بنی سارا دن آوارہ مٹرگشت کرتی۔ میٹرگھما کر اماں ابا کی اتنی لڑائی کرواتی آدھے برتن تو یوں ہی ٹوٹ گئے تھے۔ ”بل کون بھرے۔”
    کچھ دن پہلے کی بات ہے اماں چوکی پر بیٹھی ساگ کی گندلیں صاف کر رہی تھیں کہ یک لخت اپنی اسرافیل کی پھونک جیسی چنگھاڑ نکالی۔
    ”او ٹیپو! اس منحوس فریج کو بند کر دے، آج پاگلوں کی طرح بتی آرہی ہے کہیں چیزوں کو ٹھنڈ نہ لگ جائے۔ پھر تیرا باپ آکر مجھے ٹھنڈا کرے گا۔” نیچے والی منزل کے مائی بابے نے سنا تو قہقہوں سے پیٹ میں بل پڑ گئے۔
    ”اماں!” ٹیپو چھوٹی سی انگلی ٹھوڑی پر جمائے سامنے آکھڑا ہوا۔
    ”آج لائٹ اب تک کیوں آرہی ہے؟” اس نے فریج کی تار کھینچ کر بڑی معصومیت سے پوچھا تھا۔ اماں بدک گئیں۔
    ”آج وہ بدبخت ٹی وی پر بیٹھے گا، اس کی آواز سننے اور تصویر دیکھنے کے لیے دے رہے ہیں۔”
    ”اماں!آج ایگزیکٹو ہمارے ٹی وی پر بیٹھنے آئے گا…” ٹیپو کی مارے حسرت کے آواز پھٹ گئی۔ آواز میں دنیا بھر کا درد اس لیے تھا کہ اگر ایسا ہو تو مخمنی سا ٹی وی کئی حصوں میں بکھر جائے گا اور ابا دوسرا ٹی وی تو قیامت تک نہ لے کر دیں گے۔
    ”ہاں! آکر بیٹھے تو سہی، ڈویاں مار مار سر نہ پھاڑ دوں اس کا… خود تو اے سی لائٹوں والے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی پر آتے ہیں، ایک ہم بے چارے… ہک ہا”
    اماں صد افسوس کرتیں اپنی سبزی اُٹھا کچن کی جانب بڑھیں جہاں ایک اور آفت ان سے لپٹنے کو تیار تھی۔ چند سالوں میں بہ مشکل خود کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عادی بنایا۔ کچھ دن احتجاج کیا، کھمبے گرائے، تاریں توڑیں، گالیاں بکیں اور پھر بھول بھال گئے۔ عادت بنا لی تھی تو نیا عذاب وارد کر دیا گیا۔ یخ بستہ موسم اوپر سے چولہے ٹھنڈے۔ جب جلائو ”سوں” سائرن بجاتی کان پھاڑ آوازیں جیسے بہت سی ایمبولینیس اکٹھے ہی گزرنا چاہ رہی ہوں۔ کتنی دیا سلائیاں تو اسی جانچ میں ختم ہوئیں کہ اب آئی کہ تب آئی۔ پر ناجی چولہے سے تو کچھ نہ نکلا البتہ اماں کے وزن سے بھی بھاری مغلظات ان کے منہ سے ابلیں۔ حکومت کی آنے جانے والی دس دس نسلوں کو کوسا۔
    پچھلے ہفتے کی بات تھی۔ ابا کو بخار چڑھا تھا، ان کے لیے نرم غذا کے طور پر دلیہ بنانا تھا۔ اماں نے سارا دن تھاپی مار مار ٹھنڈے پانی میں کپڑے دھوئے، جسم اکڑ گیا اور ٹھنڈ چڑھ گئی تو آپا سے ابلے انڈے اور چائے کے پیالے کی فرمائش کی۔ اکتاہٹ بھری آپا نے اپنے ناگوار منہ کو مزید بے زاریت سے سجایا۔ مرے قدموں سے جا کر چولہا جلایا، جو حسبِ عادت رانجھا بنا سارنگی بجا رہا تھا۔ آپا دھر سے چلائیں۔ ”اماں گیس نہیں آرہی۔”





    ”چولہے کو اٹھا، باہر پھینک دے منحوس کو، خواہ مخوا رش بڑھا رکھا ہے۔” اماں نے بلبلا کر کہا آپا تو اس مزاح کو انجوائے کرتی کمرے میں چلی گئیں، اپنی کہانی جو پوری کرنی تھی۔ البتہ ٹیپو سمجھا شاید چولہا پھینکنے سے گیس آجائے گی۔ آپا کی حکم عدولی پر تلخ نگاہ سے انہیں گھورا اور تیزی سے کچن کی جانب بڑھا، والوسے پائپ کھینچ، چولہا اٹھا کر گلی کی کھڑکی کی جانب بڑھنے لگا، صحن میں لگے سیاہ جنگلے میں پائوں پھنسا اور نچلی منزل والے بڑے میاں کے آدھے خالی سر پر برنر کی آہنی ٹھیکری جا گری۔ لو بتائو کوئی پوچھے اس عمر میں کیا تُک بنتی ہے صحن کے بیچ و بیچ جنگلے کے نیچے بیٹھ کر گنگناتے ہوئے اپنے جھالر نما بالوں پر خضاب لگانے کی؟ مانا بتی نہیں تھی پر کبھی تو آتی۔ کون سا ابھی بارات چڑھ رہی تھی۔ مگر نابھئی، پھڑوالیا اپنا طبلے جیسا ماتھا، حالاں کہ اچھی طرح پتا ہے پچھلے ہفتے کروشیابنتی بڑی اماں کے اوپر غلطی سے باجی سے چائے چھلک گئی تھی اور اماں کے پائوں سڑ گئے تھے۔ تب تو بڑے میاں گردن گرائے بیگم پر خوب ہنسے تھے مگر آج اف! کچھ نہ پوچھو۔ بابا جی نے جو قیامت خیز ہوٹر بجائے، چیخ و پکار، گالی گلوچ، چولہا تو وہاں ہی دھرا رہ گیا اور دونوں گھروں کے تمام افراد آپس میں خوب گتھم گتھا ہوئے۔ بڑے میاں کی بہویں نکل آئیں، پوتا پوتی اماں کی ٹانگوں پر چوہوں کی طرح دندیاں ماریں، کسی کے بال کسی کے ہاتھ۔ بڑے میاں کا خضاب اور خون ایک ہو کر چہرہ بہت ہول ناک لگ رہا تھا۔ ایسے میں بخار میں پھنکتے ابا گھر داخل میں ہوئے ان کا جی چاہا سب مل کر مجھے ہی مارو شاید بخار سے ٹوٹتے بدن کو کچھ افاقہ ہو۔ دوا تو پہنچ سے دور تھی۔ کچھ محلے کے لوگ بیچ میں پڑے، صلح صفائی ہوئی تب سب نے مل کر واپڈا پلس گیس کا غائبانہ جنازہ اٹھایا۔ ایسے جنازے دھکا کالونی میں روز اٹھتے تھے۔ نام پر حیرت ہو رہی ہو گی۔ بھئی یہ کالونی ایک مشہور سیاسی لیڈر نے اپنے سیاسی عزائم پورے کرنے کے لیے ناجائز تجاوزات پر غریبوں کے لیے آباد کی تھی اور فی الوقت رہائش پذیر اپنی قسمت کے دھکوں سے اسے چلا رہے تھے۔ خیر…
    جب شروع شروع گیس جانے لگی تو لگا شاید کہیں نئی پائپ لائن بچھ رہی ہے پھر خیال گزرا بلوچیوں کے ڈیرے پر لڑائی ہو گئی ہو گی ایک دوسرے کا سرپھاڑنے کے بجائے راکٹ مار کہ گیس کا کنواں پھاڑ دیا ہوگا۔ لیکن جب تواتر یہی مصیبت نازل رہی تو سب عورتیں اکٹھی ہوئیں اور تھانے دار کی طرح تنی بیلن، چمٹے، ڈویاں اٹھا پہنچ گئیں چوک پر، بے چارے بھوکے پیٹ یا سوکھے پاپے کھا کر رزق کی تلاش میں سکول اور دفاتر کو نکلے پسماندگان کا رستہ روک لیا۔ ٹریفک جام… کیا ان خواتین نے خاندانوں میں آگ لگائی ہو گی جو اس وقت سڑک پر لگائی۔ ایک بے چارہ سردی سے ٹھٹھرا مسافر لمحے کے لیے ہاتھ سینکنے کھڑا ہو گیا۔ بوڑھی سی اماں نے ہاتھ لمبا کر کے اس کے بازو پر ڈوئی ماری۔
    ”اوہ منحوس! تیرے سینکنے کو نہیں دہکائی، اس کا دھواں حکمرانوں کے دیدوں میں چبھانے کے لیے لگائی۔” اتنا ہنگامہ برپا ہوا۔ میڈیا اکٹھا ہو گیا، حکومت کے خلاف نعرے بازی، گالیاں، بددعائیں۔ جلتے پتوں کی خبر حکومت تک بھی پہنچی۔ انہیں بھی ٹھنڈی برف کا گولہ مرہم کی طرح تھما دیا۔
    ”حکومت اقدام کر رہی ہے، جلد حل نکلے گا۔”
    اور حل نکل بھی آیا۔ گھروں میں گھنٹہ بھر کے لیے گیس آنے لگی۔ وہی خواتین جو آٹھ آٹھ بجے تک چارپائیوں پر کھٹمل کی طرح اینٹھی بیٹھی رہتیں۔ پھرکی کی طرح گھوم کر اٹھتیں، نشئیوں کی طرح جھومتی جھامتی ٹم ٹم جلتے چولہے پر ہانڈیاں پکانے لگیں۔ ساری کالونی کے چولہے یک لخت جل اٹھے۔ گیس ٹم ٹم سے ٹماٹم ہو گئی۔ کسی کی ہانڈی پکی، کسی کی کچی، باہر نکل نکل اک دوجے کے دروازے بجا بجا کر اپنا چولہا ہلکا کرنے کی استدعا، پھر حکم اور پھر وہی دھینگا مشتی۔ مفت میں پوری دنیا ہالی وڈ کی ریہرسل سے مستفید ہوئی بلکہ کچھ من چلوں کے دل کی مراد پوری ہو گئی۔ جب حسینہ دروازہ بجاتے آتی تو اک محبت نامہ ہاتھ میں تھما دیتے۔ کوئی بڑھا ہاتھ جھٹک دیتی اور کوئی رقعہ پلوسے باندھے مٹکتی اپنے گھر کی طرف۔ پرسوں آپا گئیں تھیں۔ مٹھی میں رقعہ لے آئیں دس بار پڑھا۔ حکومت کی پالیسی کو دعائیں دیں رابطے کہ کا ذریعہ بنایا۔ آج صُبح دروازہ بجا، سامنے والا رشید انتظار میں تھا۔ دروازہ کھولتے ہی نازُک ہاتھ تھامنا چاہا اور چنگھاڑ نکلی۔ غالباً آج اماں گئیں تھیں۔ اس کی حرکت پر ہاتھ میں پکڑا گرم چمٹا دے مارا۔
    ”منحوس مارے میں تو چولہا ہلکا کرنے کا کہنے آئی تھی، تو آوارگی پر اتر آیا…”
    پھر کیا بتائیں کتنوں کی ایسی حرکتوں پر کیسی کیسی ٹھکائی ہونا۔ روز کا معمول بن گیا۔





    عوام بھی کہاں تک احتجاج کرتی؟ حکومت تو بھیجے میں میخیں ٹھونکے نشے میں چور تھی۔ مفاہمت پسند عوام نے متبادل ڈھونڈ لیا۔ پہلے سے کم خرچے مزید گھٹائے اور کسی نے چھوٹے سلنڈر، تو کسی نے تیل کے چولہے رکھ لیے۔ اماں تیل کے چولہے سے خوف زدہ تھیں۔ پچھلی گلی کی جوان لڑکی مری تھی۔ انہوں نے ابا سے سلنڈر کی فرمائش کی۔ وہ لے بھی آئے اور رات کو اپنی چارپائی کے نیچے رکھ کر سوتے کہ کہیں گھر کی گیس سمجھ کر راتوں کو عیاشی شروع نہ ہو جائے۔ دن میں اس دوکلو گیس پر اماں پہرہ بٹھا دیتیں۔ آپا جیسے ہی سلنڈر کی طرف بڑھتیں، اماں اپنی پاٹ دار آواز میں دھاڑتیں، ساتھ ہی بونس میں اڑتی ہوئی جوتی بھی آتی۔
    ”اے منحوس ماری! بلینک (بلیک) میں بھروائی ہے پانچ سو کی… اب آنے بہانے اڑا نہ دئیو…” خیر جیسے تیسے بچے پراٹھے کھا کر سکول جانے لگے۔ گیس بجلی کا نہ ہونا معمولات میں شامل ہو گیا اور ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنے مسائل حل کرنے کے بہ جائے پہلے معمولات بناتے ہیں پھر اُن سے لطف اندوز ہونے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ پٹرول، سی این جی کم ہونے کا رونا پڑا، کچھ دن جلسے جلوس نکالے لیکن پھر عقل پر ماتم کیا۔ لوبھلا یہ تو حکومت نے بلامعاوضہ تفریحی سیشن کا بندوبست کیا ہے۔ غالباً جو مزہ لائنیں دیکھنے کا ہے وہ کہیں بھی نہیں، خاص کر اگر اس میں بارات کھڑی ہو۔
    ارے واہ! کہاوت تو اب صحیح مانوں میں پوری ہوئی تھی۔ پہلے لوگ جوتیاں گھسا کر دلہن لاتے تھے اب ٹائر رگڑوا کر اور بسا اوقات یہی ٹائر کچھ آگے پیچھے کرنے کے چکر میں بندے کچکچاتے دروازے کھول باہر نکل آتے، یقین مانو کیا مجنوں چاک گریباں لیلیٰ کے شہر پہنچا تھا جو دلہا حاضرِ خدمت دلہن ہوتا۔ باراتیوں کے ہیئراسٹائل الگ بدل جاتے۔ جب ایسی صورتِ حال پانی کے فلٹراسٹیشن پر ہونے لگی۔ خالی کینوں والے بھرے کین والے پر ٹوٹ پڑتے اور بھرے کین والا طیش میں آکر اپنا بھاری بھرکم کین سامنے والے کو مارتا۔ پانی سے توخیر ہاتھ دھوتا سو دھوتا سامنے والا دانتوں سے بھی دھل جاتا۔ باقی حاضرین کو ہنسی کے دورے پڑتے۔ پیٹ کے اکثر امراض تو ایسے مجمع کو دیکھ کر ہی ٹھیک ہو جاتے۔ ابا کا بھی جب پیٹ خراب ہوتا یا بجلی کے انتظار میں فارغ بیٹھے بیٹھے تنگ پڑ جاتے تو اپنی پیکو فیشن ڈھک سائیکل اٹھا کر کبھی سی این جی اسٹیشن تو کبھی پانی کے سرکاری فلٹر کا رخ کرتے ۔ مفت کا اسٹیج شو خاصا دل بہلا دیتا، بغیر دوا کے بندہ ٹھیک۔ بھئی اتنی شان دار پرفارمنس اور سلطان راہی، مصطفی قریشی اور شان کی نہ رہی تھی جتنا ٹیلنٹ اس ”نیوجنریشن” میں تھا۔




  • اللہ کی مرضی — احسان راجہ

    یہ شاید 1988ء کے آس پاس کی بات ہے، یاد نہیں کیوں میں ان دنوں گائوں گیا ہوا تھا۔ باہر زمینوں میں ہریالی تھی، یعنی برسات کے بعد کے دن تھے۔ بارانی علاقوں میں سبزہ ساون کے بعد ہی نظر آتا ہے۔ عصر کے بعد کا وقت تھا اور بیٹھک میں، میں اکیلا ہی تھا۔ اس وقت ہمارا گھر گائوں کے شروع میں ہی تھا۔
    ”السلام و علیکم۔” دروازے پر اچانک نمودار ہونے والے پردیسی نوجوان نے سلام کیا۔
    میں نے اسے اندر آنے کو کہا مگر اس نے ”جلدی” کی معذرت کرلی اور گائوں کے چوکی دار کا پتا پوچھا۔ مجھے علم تھا کہ وہ آج تحصیل آفس گیا ہوا ہے۔ نووارد کو جب میں نے یہ بتایا تو وہ اندر آگیا اور بولا: ”میں نے دراصل سپاہی شیر محمد ولد بہادر خان کے گھر جانا ہے۔”
    میرا ماتھا ٹھنکا۔ گائوں کے بیش تر نوجوان فوج میں ملازم تھے۔ یہ آنے والا جوان بھی بہ ظاہر ڈیل ڈول، خاص کر اپنے بالوں کے سٹائل سے فوجی ہی لگ رہا تھا۔
    ”خیریت تو ہے؟ اس کے بیٹھتے ہی میں نے پوچھ لیا۔





    ”وہ جی دراصل شیر محمد سیاچن میں ایک چھوٹی سی لڑائی میں شہید ہوگیا۔ میرا نام شادی خان ہے۔ میں سٹیشن ہیڈکوارٹر سے یہی اطلاع دینے آیا ہوں۔” اس نے اپنے یہاں آنے کی وجہ تفصیلاً بیان کردی۔
    یہ وہ دور تھا جب موبائل تو کیا لینڈ لائنبھی اتنے عام نہیں ہوئے تھے اور ٹیلی گرام کی بروقت ترسیل دور دراز دیہاتوں کے لیے ایک مشکل بلکہ ناممکن عمل تھا۔ شیر محمد کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ میں بجھے دل کے ساتھ اسے لے کر اُدھر چل پڑا۔
    شیر محمد گائوں کا ہردل عزیز نوجوان تھا۔ خوب صورت، لمبا تڑنگا، شوخ طبیعت، مگر حد درجہ ہم درد اور ملنسار۔ مڈل پاس کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد علاقائی روایت کے مطابق فوج میں چلا گیا تھا۔ اس دوران وہ گائوں کی طرف سے کبڈی بھی کھیلتا رہا تھا اور ارد گرد کے قصبوں میں شیرو کے نام سے کافی مشہور بھی ہوگیا تھا۔ میں نے جب کبڈی کا ذکر کیا تو شادی خان چونکا۔
    ”پھر تو میں نے اسے کبڈی کھیلتے دیکھا ہوا ہے۔ میں خود اسی علاقے کے فلاں گائوں کا رہنے والا ہوں۔ آرمی والوں نے اسی تعلق کی وجہ سے یہ ڈیوٹی میرے ذمہ لگائی ہے۔” شیر محمد کی شادی دو سال قبل اپنی پھوپھی کی بیٹی نسیم سے ہوئی تھی اور اس کا شیر خوار بیٹا بھی تھا۔
    ہم شیر محمد کے گھر پہنچ چکے تھے۔ وہی دیہاتی طرز کا گھر، پیچھے ایک لائن میں تین چار کمرے، سب کمروں کے سامنے ایک لمبا سا برآمدہ اور آگے بڑا کھلا صحن، چار دیواری زیادہ اونچی نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا پورا منظر ہمارے سامنے تھا۔ کمرے مشرق کی طرف ہونے کی بنا پر سایہ برآمدہ سے باہر بھی کافی پھیل چکا تھا۔ شیرو کی بھابھی تندوری میں لکڑیاں جلا رہی تھی، اس کی ماں تخت پوش پر بیٹھی شاید نماز یا تسبیح پڑھ رہی تھی۔ اس کا بھائی اور والد مویشیوں کو باندھتے پھر رہے تھے۔ لگ رہا تھا کہ ابھی ابھی انہیں چرا کر لائے ہیں۔ نسیم ایک چارپائی پر سمٹ کر بیٹھی تھی۔ جیسے بیٹے کو دودھ پلا رہی ہو۔ شیرو کی دونوں چھوٹی بہنیں، جوکہ اتنی چھوٹی بھی نہیں تھیں،۔ دوسری چارپائی پر بیٹھی شیرو کی بھتیجی کے ساتھ کھیل رہی تھیں اور قہقہے لگا رہی تھیں۔ ہمیں دیوار کے پاس کھڑا دیکھ کر گھر کا کتا بھونکتا ہوا ہم پر لپکا۔ شاید وہ شادی کو بری خبر سنانے سے منع کررہا تھا۔ ہماری ہمت بھی نہیں بن رہی تھی کہ کون کس طرح اس ہنستے کھیلتے اور پرسکون ماحول میں ایسی اندوہ ناک خبر سنائے۔ کتے کے اچانک بھونکنے پر شیر محمد کا معصوم بیٹا نیند سے جاگ کر زور زور سے رونا شروع ہوگیا تھا۔ ہوسکتا ہے پریوں نے چپکے سے اس کے کانوں میں کوئی منحوس سرگوشی کردی ہو۔ سارا گھر ہماری طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ چناں چہ میں نے ہمت کرکے شیرو کے بڑے بھائی احمد کو آواز دے ہی دی۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے جواب دیا۔
    ”بھائی اندر آجائو۔”





    اس دوران ہم ذرا پیچھے ہٹ کر اوٹ میں چلے گئے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ایک بوڑھے باپ کو یہ الم ناک خبر نہ سنائی جائے۔ جوان بیٹے کی موت کی خبر چہ جائے کہ وہ ایک عظیم موت تھی، شہادت کی موت۔ مگر پھر بھی ایک بیٹے کی موت تھی۔ لمحہ بھر وقفہ کے بعد ہم نے احمد کے بہ جائے اس کے والد کو دروازے سے نکلتے دیکھا۔
    ”اُف خدایا یہ کیا ہوگیا۔ اب کیا ہوگا۔” ہم ایک دوسرے کو دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ ہمارے قریب آگئے۔
    ”کی گل اے پتر اندر کیوں نئیں آئے؟”
    ہم خاموشی سے زمین کو گھور رہے تھے۔ ہماری خاموشی ہمیں مشکوک بنا رہی تھی۔ جہاں دیدہ بزرگ نے تھوڑا سا توقف کیا اور ہمیں غور سے دیکھتا رہا۔ پھر شادی خاں کو کندھوں سے پکڑ کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پرُاعتماد آواز میں بولا:
    ”اوئے تو میرے پتر شیرے دی کوئی خبر لے کے تے نئیں آیا؟”
    ان کی اس بات پر ہم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
    شادی خان بولا:
    ”ہاں جی چاچا جی تہاڈا شیر محمد شہید ہوگیا اے۔”آخر کار شادی خان نے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بوڑھے باپ کو اس کے جوان بیٹے کی شہادت کی خبر سنا ہی دی۔
    میں نے دیکھا کہ خاموش بند کس طرح ٹوٹتا ہے اور پھر بے کراں پانی کس طرح بہ نکلتا ہے۔ ان کا چہرہ آسمان کی طرف تھا۔ ہاتھ اوپر اُٹھے ہوئے تھے اوروہ زمین پر اکڑوں بیٹھتے جارہے تھے۔ جو الفاظ میں سن پا رہا تھا وہ شاید یہی تھے۔
    ”اچھا میرے پُتر! اچھا میرے اللہ! اللہ دی مرضی۔”
    ابھی تک گلی میں ہم تینوں ہی تھے۔ مگر چچا کی یہ حالت دیکھ کر دو نوجوان پڑوسی بھی آگئے تھے۔
    ”کی ہویا چاچا… کیا ہوا چاچا” پاس آکر وہ دونوں نوجوان بولے۔
    میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل سکا۔
    ‘شیرا شہید ہوگیا ہے۔”





    ہم شیرے کے والد کو سہارا دے کر دروازے کی طرف لانے لگے تو محسوس ہوا کہ وہ باہمت بزرگ اپنے زور پر خود چل رہا ہے۔ پڑوسی لڑکے بھاگ کر اندر احمد کے پاس گئے اور اسے صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ مگر کیا شان تھی جبر اور حوصلہ کی بھاگ کر آیا اور اپنے والد سے لپٹ گیا۔
    ”اباجی صبر… ابا جی صبر۔” اور آگے سے بوڑھا والد کہہ رہا تھا: ”اوئے شیر محمدا۔ اے تے میری واری سی، تو کیویں لے لئی۔”
    یہ الفاظ جب صحن میں گونجے تو پھر کیا باقی تھا جو کسی سے پوشیدہ رہتا؟۔ سب کچھ آشکار ہوگیا۔ نسیم اوڑھنی لپیٹ کر روتے بچے کو لیے کمرے کے اندر چلی گئی تھی۔ احمد کی بیوی تندوری میں پانی انڈیل کر وہاں ساکت بت بنی کھڑی تھی۔ کتا بھی کچھ محسوس کر چکا تھا کیوں کہ دور کونے میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔ شیرے کی ماں شیرنی کی طرح لپک کر شادی خان کو اُچک کر چارپائی پر لے جاچکی تھی۔ وہ پوری تفصیل جاننا چاہتی تھی۔ شیرے کی بہنیں سہمی سہمی اُسی چارپائی کے پائیوں پر جھکی گفت گو کی طرف متوجہ تھیں۔ مگر شادی خان کے پاس نہ کچھ تھا نہ ہی بتا سکا۔ تھوڑی دیر کے بعد مسجد سے اعلان ہورہا تھا کہ راجا بہادر خان کا بیٹا سپاہی شیر محمد سیاچین میں شہید ہوگیا ہے۔ جنازے کا اعلان کل میت آنے کے بعد کیا جائے گا۔
    بس پھر کیا تھا، آناً فاناً پورا گائوں ان کے گھر موجود تھا۔ رونے کی چیخ و پکار میں عورتوں کے بین مزید اضافہ کررہی تھی۔ لوگوں کے گھروں سے چارپائیاں آرہی تھیں۔ پڑوسیوں نے سارے ڈھور ڈنگر اپنے یہاں منگوا لیے تھے اور جگہ کو چار پائیوں کے لیے صاف کردیا تھا۔ قریبی رشتہ داروں کی طرف سے کھانا بھی آگیا تھا۔ مگر دکھی دلوں میں کہاں کچھ کھانے کی تمنا تھی۔
    رات ہوچکی تھی۔ گھر والوں کا دماغ تو تقریباً مائوف تھا۔ رشتہ داروں اور دوست احباب کو اطلاع بھجوائی جارہی تھی۔ نوجوان گھوڑوں، سائیکلوں اور موٹرسائیکلوں پر بے لوث یہ ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ کسی نے خود سے سوزوکی پک اپ نسیم کے میکے والوں کو لانے کے لیے ان کے گائوں بھجوا دی تھی۔ نسیم خود گُم صُم بچے کو بانہوں میں بھینچے برآمدے کے ستون سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی تھی۔
    رات کافی بیت چکی تھی۔ رش بھی تھم گیا تھا۔ مگر پھر بھی کافی مرد و زن اندر اور باہر موجود تھے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ذہن کے مطابق شہادت کے بارے قیاس آرائیاں کررہا تھا۔ مگر سب کی متفقہ رائے تھی کہ گولی سینے پر کھائی ہوگی اور کئی دشمنوں کو مار کر شہید ہوا ہوگا۔ کوئی زندگی کے قصے سنا رہا تھا، تو کوئی کبڈی کے کارنامے۔ ماں اس کی لائی ہوئی چیزوں کو سینے سے لگا کر رو رہی تھی تو بھائی اپنے اکیلے رہ جانے کے احساس سے پر آنسو بہا رہا تھا۔ والد بہادر خان بتا رہا تھا کہ ایک ہفتہ بعد تو اُن کی یونٹ نے سیاچین سے واپس آجانا تھا۔ تب اس کو ایک مہینہ کی چھٹی مل جانی تھی۔ ابھی یہ یادگار یادیں بانٹی ہی جارہی تھیں کہ باہر سے خواتیں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ شاید نسیم کے گھر والے آ گئے تھے پھر سے کہرام مچ گیا۔ ہر عورت شیر محمد کی والدہ اور بیوی سے گلے لگ کر رو رہی تھی اور اپنے جذبات سے مغلوب ایسے دل خراش بین کررہی تھی کہ اپنے تو اپنے، غیر بھی سسکیوں کے ساتھ رونے پر مجبور تھے۔ مگر کیا مجال کہ نسیم کی آنکھوں سے ایک قطرہ بھی ٹپکا ہو۔ وہ پتھر کی مورتی کی طرح بے حس و بے جان بیٹھی رہی۔ کون سویا تھا رات کو مگر، جس نے بھی صبح دیکھا نسیم اسی جگہ بیٹھی پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ خلائوں میں گھور رہی تھی۔
    شیر محمد کے گھر والوں کے لیے تو زندگی تھم چکی تھی مگر قدرت کے شب و روز رواں دواں تھے۔ جوں جوں سورج بلند ہورہا تھا۔ لوگوں کا رش پھر سے بڑھتا جارہا تھا۔
    ”بھائی بہادر اللہ دی مرضی” یہ وہ ڈائیلاگ تھا جو مردوں میں بہ کثرت استعمال ہورہا تھا اور عورتوں میں بھی شیر محمد کی والدہ ہر کسی کو جواب میں کہہ رہی تھیں۔ ”بس جی اللہ دی مرضی”۔ ماحول انتہائی سوگوار تھا۔ نسیم کو غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ اتنی دیر سے بھوکی پیاسی تھی، یہ حالت تو ہونی ہی تھی۔
    ”نسیم بیٹے کچھ کھا پی لو۔ اپنے لیے نہ سہی اس ننھی سی جان کے لیے ہی سہی۔”




  • عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

    عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

    عجیب بات ہے کہ مجھے آیا اچھی نہیں لگتی تھی مگر اس کی بیٹی اچھی لگنے لگی تھی۔
    آمنہ۔۔۔
    آمنہ فرمان ۔۔۔
    آمنہ ۔۔۔عبداللہ
    آمنہ عبداللہ
    میں بھی یہ کیا بچوں جیسی حرکتیں کر رہا ہوں ۔کسی نے دیکھ لیا تو ہنسے گا مجھ پر ۔ چلو لائن لگا دیتا ہوں اس کانام۔ کاٹ دیتا ہوں آخری لائن کو ۔
    کیا کروں چاہ کر بھی میں اس کا نام کاٹ نہیں پا رہا ۔میں بھی ناں ۔۔۔ مجھے لگتا ہے میرا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ ابھی تو مجھے اپنی بہن کو ڈھونڈنا ہے ، اس کے لیے اچھا سا لڑکا تلاش کرنا ہے ، اس کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں ۔ پھر اپنے بارے میں سوچوں گا ۔ابھی تو بہت سے کام باقی ہیں ۔ یہ آمنہ خواہ مخواہ چلی آئی میری زندگی میں ۔ آئندہ نہیں سوچنا اس کے بارے میں ۔
    میں نے دل میں تہیہ کیا۔
    ٭٭٭٭٭
    ”تم ۔۔۔تم ۔۔۔حیثیت کیا ہے تمہاری۔تمہاری اتنی جرات بھی کیسے ہوئی کہ تم ایسی بات کرو۔ تم ایک نوکر ۔۔۔ایک مالی ۔۔ایک دو ٹکے کے ۔۔۔تم ۔”
    وہ آنکھیں بند کرتا تو غصے کے ساتھ چلاتی ہوئی آئمہ جہانگیر اس کے سامنے آجاتی ۔ وہ آنکھیں کھولتا تو اس کو اس کی حدیں جتاتی ہوئی آئمہ جہانگیر سامنے آ کھڑی ہوتی۔
    ”چراغ دین ۔۔اسے بتاؤ کہ ایک نوکر کی حد کیا ہے ۔”
    وہ بہت مضبوط تھا ،لیکن ٹوٹ رہا تھا ۔
    بہت بار اس نے سوچا کہ وہ یہاں سے چلا جائے ، آئمہ جہانگیر کی دنیا میں اس کے لیے کوئی جگہ نہ تھی، اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔مگر جس گلاب کی اس نے آب یاری کی تھی،اسے یونہی چھوڑ کر چلے جانا دشوار ہوا ۔وہ اسے پھول دار دیکھنا چاہتا تھا ، بھلے اس کے کانٹے اسے گھائل کرتے تھے ۔
    شادی کے دن قریب آ رہے تھے ۔عورتوں جیسی چال والا ڈیزا ئنر دلہن اور دلہا کے ملبوسات ، دلہن دلہا کے ماں باپ ،دلہا کی بہن اور دلہن کی سہیلیوں کے ڈریسز کے بارے میں مشورے دینے اور ہدایات لینے چلا آتا، مردوں جیسے حُلیے والی ویڈنگ پلانراپنی ٹیم کے ساتھ گھر کا سروے کرنے چلی آتی۔ برائیڈل شاور کے لیے ہال اور مہندی کے ایونٹ کے لیے لان منتخب کیا تھا اس نے۔
    ”یہ اس طرف اسٹیج بنے گا ۔کچھ پودے کٹوانے پڑیں گے آپ کو ۔” اس نے اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ایک طرف اشارہ کیا ۔ارم جہانگیر نے سر ہلا دیا تھا ۔
    اس نے تڑپ کر اس گلابی گلاب کے پودے کی طرف دیکھا جس کی ٹہنی اس نے اپنے ہاتھوں سے لگائی تھی اور جس میں لگی ہرے رنگ کی ننھی ننھی کلیاں اشارہ دیتی تھیں کہ اب اس پہ پھولوں کی بہار آنے ہی والی ہے ۔
    ٭٭٭٭٭



    ”آپ نے مجھے میری ماں سے ملوایا ۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتی۔” آمنہ فرمان اکثر کہتی تھی اور میں مُسکرا دیتا تھا ۔ میں نے بھلا کیا احسان کیا تھا ۔بس آیا کو اس کی بیٹی سے ملوایا یہ سوچ کر کہ کوئی تو بچھڑا اپنے سے ملے ۔
    جب وہ میری زیادہ احسان مند ہونے لگتی تو میں کہتا ۔
    ”تم نے احسان ہی اتارنا ہے ناں تو دعا کرو کہ میری بہن مجھے مل جائے ۔ ”
    وہ اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگتی ۔ میں بس اسے دیکھ کر رہ جاتا ۔بہت خالص تھی وہ ۔مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ لڑکی میری راہ نہ کھوٹی کر ڈالے۔
    غلط بات تھی ناں کہ میں نے حفصہ کے لیے انکار کیا تھا اور اب آمنہ کی طرف مائل ہونے لگا تھا۔ واقعی سچ کہتے ہیں دل بڑ ا ہی شہ زور ہوتا ہے ۔ دماغ پہ قابو پا لیتا ہے ۔ میں جو دل میں پکا عہد کرتا تھا کہ اب آمنہ کو نہیں سوچنا ، اس کو دیکھتے ہی ہر عہد بھول بیٹھتا ۔ دل اپنی منوا کر چھوڑتا ۔
    ہم نے تھوڑے ہی عرصے میں بہت سی باتیں شیئر کی تھیں ۔ میں اپنی بہن کی باتیں کرتا اور وہ مجھے اپنے گھاؤ دکھاتی ۔
    عجیب بات ہے کہ کسی کے پاس رشتے نہیں ہوتے،تو وہ تنہا ہوتا ہے ، کسی کے پاس بہت سے رشتے ہوتے ہیں پھر بھی وہ تنہا ہوتا ہے ۔ کوئی یتیم مسکین ہوتا ہے کیو ں کہ اس کے ماں باپ نہیں ہوتے اور کوئی ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیم مسکین ہوتا ہے ۔
    میری محرومیاں کسی حد تک مٹنے لگی تھیں ۔ میں یتیم خانے میں رہا اور آمنہ اپنے گھر میں۔ میرے ماں باپ حیات نہ تھے ، اس کے ماں باپ اسی دنیا میں تھے ۔ پھر بھی میں آمنہ سے زیادہ بہتر حالات میں رہا ۔ میں اب اللہ کا شکر ادا کرنے لگا تھا ۔
    ہمارے بیچ کوئی اقرار نہ ہوا تھا ، کوئی وعدے نہ ہوئے تھے ۔ پھر بھی خود کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایک ہی راہ پہ چلتے ہوئے دکھائی دیتے تھے ۔
    میرا ماسٹرز ہو گیا تو ایک نجی بینک میں کیشئر ہوگیا ۔ ہفتہ اور اتوار کے دن میں بیگم شاہ جہاں کے گھر بھی جاتا تھا بچوں کو ریاضی پڑھانے ، ہفتے بھر میں انہیں ریاضی میں جو بھی مسئلہ پیش آیا ہوتا ، میں انہیں سمجھاتا ۔ کبھی کبھی آمنہ بھی آتی تھی آیا سے ملنے ۔ جس دن وہ آتی ، اس دن میں بات بے بات مسکراتا اور شاید باتیں بھی زیادہ کرتا ۔ بیگم شاہ جہاں نے میری چوری پکڑ لی تھی۔ ایک ہفتے بچوں کو پڑھا کر ان میں ٹافیاں بانٹ کر میں بیگم شاہ جہاں کے پاس آبیٹھا ۔ وہ باہر لان میں بیٹھی بانو قدسیہ کی ”راہ رواں ” پڑھ رہی تھیں ۔ان سے باتیں کرتے ہوئے میری نگاہیں ادھر اُدھر بھٹک رہی تھیں ۔
    ”آمنہ نہیں آئی آج ۔ ”
    ان کی نظریں کتاب پر تھیں اور آبزرو مجھے کر رہی تھیں ۔چالاک۔۔۔
    میں شرما گیا تھا ۔ وہ بھی ہنس دی تھیں ۔
    ”کروں پھر آیا سے بات ؟”کتاب کا ورق پلٹتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
    ”نن ۔۔نہیں ابھی نہیں ۔” میں نے فوراً انہیں منع کیا ۔
    ”کیوں ؟” انہوں نے کتاب سے نظر ہٹا کر تیکھی نظر سے مجھے دیکھا ۔
    ”ابھی مجھے اپنی بہن کو تلاش کرنا ہے ، اس کی شادی کرنی ہے ۔ پھر ۔۔۔۔”
    ”تم سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہو ۔ ” انہوں نے افسردہ سے لہجے میں کہا ۔ مجھے ان کی افسردگی اچھی نہیں لگی۔
    ٭٭٭٭٭



    دن گزرتے رہے ،شادی کی تیاریاں ہوتی رہیں ۔وہ ہنستی مسکراتی شاداب چہرہ لیے ہاتھوں میں شاپنگ بیگز لیے اس کے پاس سے گزرتی رہی۔پھر ایک دن جانے کیا ہوا کہ اس گلاب جیسی لڑکی کی چمکتی آنکھوں میں آنسو بھر گئے ، مُسکراتا مطمئن چہرہ یک دم ماتمی لگنے لگا۔اس کے رخساروں کے گلابی گلاب مرجھا گئے اور وہاں زرد گلاب اگ آئے ۔
    ”شادی رک گئی ہے ، بی بی کے سسرال والوں کو پتا چل گیا ہے ۔”ملازموں کے بیچ ہونے والی گفت گو کچھ اس کے کانوں میں بھی پڑی تو وہ دل تھام کر رہ گیا ۔اس رات بھی اس کے سجدے طویل رہے۔
    یہ دو دن بعد کی بات ہے جب آئمہ پچھلی سیڑھیوں پہ بیٹھی تھی۔ اس نے چہرہ گھٹنوں میں چھپا رکھا تھا اور اس کا جسم یوں ہچکولے کھا رہا تھا جیسے وہ رورہی ہو۔
    وہ اپنی حیثیت جانتا تھا پھر بھی خود کو روک نہ پایا اور اس کے قریب چلا آیا۔
    ”سنو۔” اس نے آہٹ پا کر سر اٹھایا تھا ۔اس کی سرخ سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر وہ ٹھہر نہ پایا اور جانے لگا تھا جب آئمہ نے پکارا تھا ۔وہ رک گیا ۔
    ”کیا نام ہے تمہارا۔”
    اس گھر میں مالکوں کے بیچ وہ مالی کے نام سے جانا جاتا تھا ۔آج وہ اس سے اس کا نام پوچھ رہی تھی۔ کچھ دیر کے لیے وہ خود بھی اپنا نام بھول گیا ،پھر یاد آنے پہ بولنا چاہا تو زبان تالو سے جڑی رہ گئی۔
    ”میں نے تمہیں تمہاری حیثیت یاد دلائی تھی ناں ،آج مجھے اپنی حیثیت پتا چل گئی ہے ۔”آنسو پلکوں کی باڑھ پھلانگ کر آئے اور ذرد گلابوں کو آب یار کر گئے۔
    وہ گلابی گلابوں کا کاشت کار تھا ۔ان زرد گلابوں کو دیکھ نہ پایا اور منہ موڑ لیا ۔
    ”مٹی کے اس ذرّے سے بھی زیادہ حقیر اور کم تر ہوں میں ۔” اس نے پاس پڑے گملے سے مٹی کی مٹھی بھری اور اپنے اوپر اُڑا دی۔
    ”اس ۔۔۔اس پودے سے بھی زیادہ بے حیثیت ہوں میں ۔” اس نے گملے سے پودا اکھاڑ ڈالا تھا ۔”اس کی تو جڑیں اس کے ساتھ ہیں ۔اور میری جڑیں ۔۔۔میری جڑیں ۔۔جانے کدھر ہیں۔”
    اس کو اپنا کوئی ہوش نہ تھا۔اس کو ایک ساتھ دو دو چوٹیں لگیں تھیں ۔ شادی کا ختم ہونا تو شاید برداشت ہو جاتا مگر ۔۔۔مگر اپنا بے شناخت ہونا موت تھا ۔ وہ مر رہی تھی۔ اسے اپنی شناخت چاہیے تھی۔ محبت کے بنا رہا جا سکتا ہے مگر شناخت کے بنا۔۔۔ہر گز نہیں ۔
    وہ وہاں رک نہ پایا اور اپنے کمرے میں چلا آیا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔
    اگلے دن وہ گھر سے غائب رہا تھا ۔
    ٭٭٭٭٭



    میں بیگم شاہ جہاں سے ناراض ہو گیا تھا ، بات ہی انہوں نے ایسی کی تھی۔
    مجھے کہیں سے پتا چلا تھا کہ جس شخص نے میری بہن کو گود لیاتھا ، اس نام کا ایک شخص کراچی میں رہتا ہے ۔ میں کراچی چل پڑاتھا ۔ دنیا میں ایک نام کے کئی انسان۔ وہ بھی کوئی اور ہی نکلا تھا ۔ میں نے مایوس ہو کر واپسی کا ارادہ کیا ۔ میں جس ہوٹل میں ٹھہر ا تھا ، وہاں سے بیگ اٹھا کر باہر نکلا ،ابھی راستے میں ہی تھا کہ ایک دھماکہ ہوا اور ہر طرف چیخم چاخ ، آہ وبکامچ گئی ۔ میں ٹیکسی سے نکل کر لوگوں کی طرف بھاگا ۔ ہر طرف بھگڈر مچی ہوئی تھی ۔ کچھ ایسے تھے جو اپنے آپ کو بھول کر زخمیوں کی طرف بھاگے تھے ۔ میں بھی ان کے ساتھ مل کر زخمیوں کو فرسٹ ایڈ پہنچانے کی کوشش کرنے لگا ۔ ایمبولینسز آنے کے بعد زخمیوں کو روانہ کر کے میں بھی اسپتال پہنچا ۔ وہاں خون کی بوتل دی ۔اس دوران میں اپنے موبائل اور بیگ کی طرف سے بالکل غافل تھا ۔بعد میں معلوم چلا کہ میرا بیگ ٹیکسی میں ہی رہ گیا تھا ہاتھ میں پکڑا موبائل جانے کہاں گر گیا تھا۔ اصل میں مجھے اس وقت کسی شے کا ہوش نہ تھا ، دھیان صرف آہ و بکا کرتے زخمیوں کی طرف تھا۔
    اگلے دن میں واپسی کے لیے روانہ ہو گیا ۔ایک دن بعد لاہور پہنچا تو بینک کا ایک کولیگ جو میرے ساتھ ہی فلیٹ میں رہتا تھا ، ا س نے بتایا کہ بیگم شاہ جہاں میری طرف سے بہت پریشان ہیں ۔وہ کل فلیٹ پر آئی تھیں اور اب کل سے مسلسل اسے فون کر کے میرے بارے میں پوچھ رہی ہیں ۔
    ”اوہ۔” مجھے شرمند گی ہوئی ۔ مجھے انہیں کال کر کے اپنی خیریت کی اطلاع دے دینی چاہیے تھی۔ بم بلاسٹ کی خبر سُن کر وہ پریشان ہوئی ہوں گی۔ اس وقت مجھے یہ سوچ کر خوشی بھی ہوئی کہ اگر میں مر جاؤں تو کوئی تو ہے جو روئے گا اور میری تدفین لاوارث ہو کر نہیں ہو گی۔
    میں منہ ہاتھ دھو کر کپڑے تبدیل کر کے بیگم شاہ جہاں سے ملنے آگیا ۔
    ”کہاں ، کہاں تھے تم ؟” جیسے ہی میں کمرے میں پہنچا ،بیگم شاہجہاںاپنی جگہ سے اٹھ کر تیزی کے ساتھ میری طرف بڑھیں ۔
    ”کراچی۔”
    ”کیوں ؟”
    ”بتایا تو تھا کہ تلاش میں ۔۔۔۔”
    ”کس کی تلاش ۔۔۔” بیگم شاہ جہاں میری بات کاٹ کر غصے سے بولیں ۔ ”کس کی تلاش میں اتنے پاگل اتنے دیوانے ہوئے پھرتے ہو تم؟” میں نظریں نیچی کیے کھڑا رہا ۔”کس کی تلاش میں اپنا آپ بھولے بیٹھے ہو تم ۔اس کی ۔۔۔اس کی جو تمہیں پہچانے گی بھی نہیں ۔”
    میں نے تڑپ کربیگم شاہ جہاں کی طرف دیکھا ۔
    ”وہ پہچانے گی مجھے ، بھائی ہوں میں اس کا ۔۔ آپ کو یاد نہیں ، وہ میرے بغیر کچھ کھاتی نہ تھی ، میرے بغیر کھیلتی نہ تھی ، میرے بغیر ۔۔۔۔”
    ”تمہیں کیا لگتا ہے ۔ انیس سال بعد بھی وہ تمہارے بغیر کچھ کھاتی نہ ہوگی ، تمہارے بغیر کھیلتی نہ ہو گی ، تمہارے بغیر جیتی نہ ہوگی۔” پتا نہیں وہ اتنا سفاک کیوں ہو رہی تھیں۔
    ”نہیں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔”
    ”یہ دیوانگی چھوڑ دو عبداللہ ۔ نہیں ہو تم بھائی اس کے ۔ کان کھول کر سن لو نہیں ہو تم بھائی اس کے۔”
    ”آپ نے یہ رشتہ بنایا آپ ہی مکر رہی ہیں ۔” مجھے ان کے انداز پہ دکھ ہو رہا تھا ۔
    ”ہاں ، میں اقرار کرتی ہوں کہ میں نے یہ رشتہ بنایا ،وہ میری سب سے بڑی بیوقوفی تھی۔”
    ”مگر یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے ۔ دولت ہے ۔”
    ”تم سمجھتے کیوں نہیں عبداللہ۔۔۔ اس کی اپنی دنیا ہے ۔”
    ”مگر میری تو دنیا وہی ہے ۔”


  • عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

    عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

    وہ گونگا نہیں تھا۔ گونگے تو ہمہ وقت ”آں آں، غوں غوں ” کر کے اپنے ہاتھوں کو زور زور سے حرکت دے کر دوسرے کو متوجہ کرنے کی ،کچھ کہنے کی ،کچھ بتانے یا پھر کسی کو کچھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ اس نے کبھی ایسی کوئی کوشش نہ کی۔ وہ ہر وقت نظریں جھکائے اپنے کام میں مصروف نظر آتا۔اس کے علاوہ وہ بولتا ہے ارم جہانگیر او رخانساماں بھی اس کے گواہ تھے ۔ارم جہانگیر کو اس نے نوکری کے لیے انٹرویو دیا تھا اور خانساماں اس کے ساتھ کمرہ شئر کرتا تھا ۔
    لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے ہاتھ سے لگی کوئی بھی چیز سرسبز ہو جاتی تھی اگر وہ ریت میں ،پتھر میں کوئی بیج کوئی سوکھی ٹہنی بھی لگا دے تو چند دن میں نئی کونپلیں پھوٹ اٹھتی تھیں ۔دو کنال کی اس کوٹھی کو اس نے گل و گلزار کر دیا تھا ۔دنیا بھر کے مہنگے ترین پودے جو پچھلے مالی کی غفلت کی نظر ہو کر بے دم پڑے تھے ، اس کی توجہ سے دنوں میں جھوم اٹھے۔یوں تو وہ ہر پودے، ہر درخت، ہر پھول اور ہر پتے سے ما ں جیسا سلوک کرتا تھا مگر گلاب اس کی آنکھ کا تارا تھا۔یہ وہ لاڈلا بچہ تھا جو اپنی کسی خاص خصوصیت کی وجہ سے زیادہ لاڈ پا لیتا ہے ۔
    جہانگیر عثمان کی کوٹھی کے چہار اطراف پھیلے لان میں امریکن پرائیڈ ، ریڈ پیس اور سینڈریلا جیسے عام گارڈن روزز سے لے کر دنیا کا مہنگا ترین گلاب جولیٹ روز بھی تھا اور جب سے وہ آیا تھا اس نے گلابی گلابوں کا پورا قطعہ کاشت کر ڈالا تھا ۔ اس دن وہ گلاب کے پودے کی ٹہنی ہی زمین میں لگا رہا تھا جب اسے وہ دکھائی دی تھی۔
    وہ وہی تھی۔۔۔ہاں وہی تھی ۔
    جسے ایک نظر دیکھنے کے لیے وہ دشت دشت کا سیاح ہوا ۔جس کی آواز سننے کے لیے وہ شہر شہرکا مسافر ہوا۔
    وہ اپنی جگہ بت بنا اسے دیکھتا چلا گیا ۔
    سرمئی رنگ کی ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ ٹراؤزر کے ساتھ واک شوز میں وہ شاید صبح کی سیر کا ارادہ رکھتی تھی۔اونچی پونی ٹیل سے بال نکل نکل کر چہرے پہ بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ چیونگم چبا رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی پونی ٹیل ہلکورے لے رہی تھی۔اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اور کانوں میں ائیر فونز۔ دوسرے ہاتھ میںسفید بالوں والے ننھے سے کتے کی چین تھی جو اس سے آگے آگے بھاگ رہا تھا ۔مگر وہ یہ سب نہیں دیکھ رہا تھا ۔وہ تو ۔۔۔وہ تو بس اسے دیکھ رہا تھا ۔
    وہ بے نیازی کے ساتھ چلی آرہی تھی، جب ہی اس کی نظربت بنے شخص پر پڑی، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    صبح کی ڈیوٹی والا چوکیدار اسے دیکھ کر بھاگتا چلا آیا تھا۔
    ”سلام۔” اس نے ہاتھ ماتھے تک لے جا کر بی بی کو سلام کیا ،اس نے ہلکا سا سر ہلا کر جواب دیا۔” آپ آگئیں بی بی۔پڑھائی پوری ہو گئی آپ کی ؟” وہ جوش سے پوچھ رہا تھا ۔اس نے اس سوال کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اور پھر اس شخص کی طرف دیکھا جو اب بھی اسے تک رہا تھا ۔
    ”مالی ہے ۔” چوکیدار نے بی بی کی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر تعارف کروایا ۔
    ”ماما بھی جانے کیسے کیسے لوگ رکھ لیتی ہیں ۔۔۔ ال مینرڈ ۔۔۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی تھی۔
    نگاہ سے اوجھل ہو جانے کے بعد وہ جسے ہو ش میں آیا تھااور اسے سمجھ آئی کہ یہ وہ نہیں جس کو ایک نگاہ نظر دیکھنے، منہ سے ایک لفظ سننے کے لیے اس نے ایک عمر کاٹ دی۔
    یہ وہ نہیںتھی ۔یہ تو آئمہ جہانگیر تھی جہانگیر عثمان کی اکلو تی بیٹی۔
    ٭٭٭٭٭



    سنا ہے کہ ہر گھر میں ایک ماں ہوتی ہے ، ایک باپ ہوتا ہے ، بہن بھائی ہوتے ہیں ۔اکثر گھروں میں دادا ،دادی اور نانا نانی جیسے بزرگ بھی ہوتے ہیں اور کئی گھروں میں چاچا، تایا اور ان کے بیوی بچے بھی ہوتے ہیں ۔پھوپھو ،خالہ اور ماموں کا ذکر بھی سنا تھا ۔ مگر میں نے جس گھر میں آنکھ کھولی وہاں کوئی ماں نہ تھی، جو گود میں لے کر لوریاں سناتی اور پیار سے تھپکتے ہوئے سلاتی۔ویسے تو میں خاصا معصوم بچہ تھا ۔خواہ مخواہ روتا نہیں، ضد نہیں کرتا تھا پھر بھی اگر کبھی نزلہ زکام یا بخار ہوتا یا پھر بھی چوٹ لگ جاتی اور تو میں روتا ،ایک کرخت چہرے والی عورت تھپڑ لگاتی اور میں لوری سنے بنا ہی سو جاتا ۔اس گھر میں کوئی باپ نہ تھا، جو کندھے پہ بٹھا تا ، ننھی ننھی فرمائشیں پوری کرتا ۔جس کی میں انگلی پکڑ کر چلتا۔ یہاں جو مرد تھا وہ لال آنکھوں سے یوں گھورتا کہ میں دس گز دور ہی کھڑا رہ جاتا ۔اس کی انگلی پکڑنا ،اس کے کندھے پہ بیٹھنا یا اس سے کوئی فرمائش کرناکسی جرات مند کا کام ہو سکتا تھا اور میں بھلا ایسا شجاع کہاں ۔
    نانا نانی، دادا دادی جیسے کردار بھی شاید کسی اور سیارے پہ ہوتے ہوں یا شاعروں اورکہانی نگاروں کا تخیل ہوں کیوںکہ میں نے نظموںاور کہانیوں میں تو ان کے بارے میں پڑھا تھا مگر اس گھر میں روئی کے گالوں جیسے بالوں والی ،کہانیاں سناتی کوئی نانی نہ تھی، کھانستا ہوا، لاٹھی ٹیک ٹیک کر چلتا ہوا کوئی دادا نہ تھا ۔مجھے ان تمام نادیدہ رشتوں سے عشق تھا ۔میں سوچتا تھا ،میں بھی کہانیاں لکھوں گا ۔ان کہانیوں میں ایک گھر ہو گا جہاں یہ سب مریخی،مشتری رشتے بستے ہوں گے ۔
    پھر یوں ہوا کہ ایک معجزہ ہوا ۔مجھے چاند، مریخ اور عطارد کی کہانیاں لکھنے کی ضرورت نہ پڑی۔ میں سات سال کا تھا جب وہ میری زندگی میں آئی اور مجھے اس وقت معلوم ہوا کہ کہانی کار اور شاعر کے تصورات کوئی ایسے ماورائی بھی نہیں ہوتے ۔ گھر اور گھر میں بسنے والے تمام رشتے زمینی ہی ہیں ۔
    ٭٭٭٭
    آج پھر ریحانہ پروین اپنے آپ کو بیچ کر آئی تھی۔
    ماں کی بیماری تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔دوائیں تھیں کہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوتی جا رہی تھیں۔ جس گھر میں جھاڑو پوچا کرنے اور کپڑے دھونے جاتی تھی وہ تو مہینے کے مہینے اتنی رقم ہاتھ میں پکڑاتے، جس سے ماں کی ہفتہ بھر کی دوا ہی بہ مشکل آ پاتی۔ پیٹ بھرنے کے لیے مٹی ، بل بھرنے کے لیے اخبار کے کاغذ سے کام نہ چلتا تھا ۔اسے سب بیچنا پڑا تھا ۔پہلے اپنی انگوٹھی ،پھر چوڑی اور اس کے بعد گھر کا باقی سامان۔
    اب جب گھر میں بیچنے کو کچھ اور باقی نہ بچا تھا ایسے میں اسے ایک ہی راہ سجھائی دی کہ اپنا مول لگا لے ۔گہنے ،برتن ،پلنگ اور الماری تو بکنے کے بعد واپس نہ ملے تھے ۔خود توچند گھنٹے بعد ہاتھ میں چھوٹے گوشت ،موسمی پھل اور ماں کی دوا کی تھیلی لیے گھر لوٹ آتی تھی ناں ۔مگر جانے اس دن کیا ہوتا تھا کہ ماں پہ یخنی اثر کرتی نہ ہی دوا۔ بے بسی کی مورت بنی اس کی صورت دیکھتی رہتی۔آنکھوں سے پانی رستا رہتا ۔
    ”آنکھوں والا ڈاکٹر اتوار کو بیٹھے گا تو تیری آنکھیں بھی چیک کرواؤں گی۔”
    کہتے ہوئے آواز بھاری سی ہو جاتی اور نگاہیں فرش پہ ،دیوار پہ اور کبھی چھت پہ رینگنے لگتیں ۔
    جس رات ماں مری ،اس دن تواس کی طبیعت قدرے بہتر تھی ۔ہاں ریحانہ پروین کی اپنی طبیعت خراب تھی۔ماں کے پیر دابتے دابتے اچانک اُلٹی آ گئی تھی پھر نقاہت محسوس ہونے لگی اور رنگ پیلا پڑنے لگا ۔
    اماں نے اس کا چہرہ دیکھا تھا ۔آنکھوں سے پانی زیادہ بہنے لگا تھا ۔اس دفعہ ماں سے پکا وعدہ کیا کہ اتوار کو آنکھوں کا ڈاکٹر بیٹھے گا تو صبح جا کرہی ٹوکن لے گی مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی ۔ماں اسی رات مرگئی۔
    ٭٪٭٪٭٪٭٪٭



    آنگن میں بیٹھے بچے ایک دوسرے کو ٹہوکا دیتے ،سامنے اشارہ کرتے پھر منہ پہ ہاتھ یا کاپی رکھ کر ہنستے ۔کالی شرٹ والے لڑکے کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل گیا تھا، وہ کھڑے ہو کر بھنگڑا ڈالنے لگا تھا ۔یہ انٹرٹینمنٹ شو شاید جاری رہتا اگر سرخ رنگ کے پھول دار لباس والی لڑکی کی لڑائی نیلے رنگ کی فراک والی لڑکی کے ساتھ نہ ہوجاتی۔
    آمنہ فرمان ہنگامے پہ ہڑبڑا کر جاگ اُٹھی۔صورتِ حال کو سمجھنے میں اسے چند سیکنڈ لگے پھر کرسی سے اُٹھ کر دونوں بچیوں کو چھڑوایا، جو غالبً ایک دوسرے کے بال نوچنے کے عالمی مقابلے میں حصہ لے رہی تھیں۔اس نے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ترتیب کے ساتھ چٹائی پہ بٹھایا ۔ دونوں جنگ جو بچیوں کو الگ الگ قطار میں بیٹھنے کا حکم دیتی ہوئی تپائی پہ پڑی کاپیاں چیک کرنے لگی۔
    ”باجی ! میری امی کہتی ہیں کہ تم ندا کے ساتھ نہ بیٹھا کرو ۔” ابھی ایک کاپی بھی چیک نہ ہوئی تھی ،جب عرضی لیے نینا سامنے آ کھڑی ہوئی۔
    ”جاؤ ۔۔۔تم وہاں جا کر اریبہ کے پاس بیٹھ جاؤ ۔” اس نے جمائی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک طرف اشارہ کر کے اس کا مسئلہ حل کیا۔
    ”باجی ! یہ دیکھیں مجھے نبیل نے کیا دیا ہے ۔”
    کالی شرٹ والے بچے کو ٹیسٹ بنا کر دینے لگی توسونیا اُٹھ کر آگئی۔ اس نے رازداری کے ساتھ ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا تھا ۔جسے کھولتے ہی اس کا سر گھوم گیا ۔
    ”آئی لو یو سونیا ۔”
    ”نبیل تم کل اپنی امی کو لے کر آنا ۔”
    اس نے کڑے لہجے میں نبیل کو حکم جاری کیا ۔نبیل کا تو رنگ پیلا ہونا تھا ،سو ہوا ۔اس کا اپنا حال بھی خراب ہوا ۔
    ”سونیا کی ماں کو معلوم ہوا تو وہ تو اٹھا لے گی اسے ٹیوشن سے ۔پانچ سو روپے کا نقصان ۔” حالات بچوں کی حرکتوں پہ کڑھنے کا وقت نہ دیتے تھے۔ اسے اپنی روزی کی فکر ستانے لگی تھی ۔”اور جو بچوں میں سے کسی نے گھر جا کر بتا دیا کہ مس پڑھاتے پڑھاتے سو جاتی ہیں تو ۔۔۔تو اگر کسی نے اپنا بچہ اٹھا لیا ٹیوشن سے تو۔۔۔نہیں ۔” اس کا سر نفی میں ہلا۔ اتنے بڑے بڑے نقصان وہ افورڈ نہ کر سکتی تھی۔ وہ اٹھی اور غسل خانے کے باہر لگے بیسن پر آ کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگی۔
    آٹھ بجے بچے گئے تو وہ اٹھ کر باورچی خانے میں آ گئی۔دال چاول پکانے کے دوران اس نے اسکول سے لائے ہوئے کاپیوں کے ڈھیر کو بھی چیک کرنا تھا ۔آٹے والے کنستر پر رکھے ڈائجسٹ کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اس نے یہ کام بھی نپٹایا ۔دادی کو کھانا اور دوا دی ۔ ان کے سونے کے بعد نماز ادا کی ،صبح کے لیے کپڑے استری کیے اور اپنی کتابیں کھول لیں ۔دو دن بعد بی اے کے امتحانات شروع ہونے والے تھے ۔وہ سونا چاہتی تھی ،بھر پور نیند لینا چاہتی تھی۔صحت اور تازگی کے لیے ضروری تھا مگر وقت اجازت نہ دیتا تھا ۔
    وقت بھر پور نیند کے لیے نکلے یا نہ نکلے ،چچی کے لیے ضرور نکالنا تھا ۔وہ رافعہ کو لیے آ گئی تھیں ۔
    ”اس کو ریاضی مشکل لگتا ہے ۔ایک مشق کروا دو ۔”
    اس نے بارہا چچی سے کہا تھا کہ ٹیوشن والے ٹائم پہ رافعہ کو بھیج دیا کریں ۔ ثنا اس کی ہم جماعت تھی۔ وہ دونوں کو ایک ساتھ پڑھا دیا کرے تا کہ اس کے وقت کی بچت ہو جائے۔مگر چچی کو اس کے وقت سے کیا لینا دینا ۔
    ”اتنے بچوں میں دل گھبراتا ہے رافعہ کا ۔”
    ”ٹیوشن والے نو بچوں میں دل گھبراتا ہے ،کلا س کے تیس بچوں میں تو ہارٹ فیل ہو سکتا ہے پھر اسکول بھی نہیں بھیجنا چاہیے ۔” وہ محض کڑھ کر رہ جاتی تھی، ان کے منہ پہ کہہ نہ سکتی تھی۔ ان کو کچھ کہنے کا مقصد گھر میں کئی دن کا ہنگامہ ۔ویسے چچا اور تایا کو ایک کمرے کے اس گھر میں پڑی بوڑھی ماں اور یتیموں جیسی بھتیجی کا حال احوال پوچھنے کا وقت ملے نہ ملے ،اس موقع پر ضرور مل جاتا تھا ۔ تایا سمجھانے چلے آتے ،چچا طعنہ زنی کرنے چلے آتے ۔
    امتحانات کے دنوں میں یہ بیرونی آمدورفت اور بدمزگی اس کے حق میں نہ تھی اس لیے رافعہ کو ریاضی کی مشق سمجھانے لگی۔اس کے جانے کے بعد اس نے پھر اپنی کتاب کھول لی ۔ اس کا ارادہ تھا کہ دو گھنٹے پڑھنے کے بعد ڈائجسٹ سے قسط وار ناول کی قسط بھی پڑھ لے گی ۔مگر ڈائجسٹ اس کے سرہانے پڑا کا پڑا رہ گیا اور اس کی آنکھیں نیند سے بند ہوتی گئیں ۔
    نیند میں جانے سے پہلے جو آخری خیال تھا ،وہ اس شخص کا تھا جس کا نام عبداللہ تھا ۔
    آج اسے گئے ہوئے تین سو دس دن ہو گئے ۔
    ٭٭٭٭٭

  • چھوٹی سی زندگی

    چھوٹی سی زندگی

    چھوٹی سی زندگی
    امایہ خان
    خود کو پانی کی سطح پر تیرتے دیکھ کر مجھے یقین ہو گیاکہ دنیا کی ساری عورتیں مر چکی ہیں۔
    جانے کتنا وقت گزر چکا ہے ،کتنا اور گزرے گا۔ مجھے بار بار اپنی ماں کا خیال آرہا ہے ،جو ہمیشہ مجھے کمزوراور دبلی پتلی دیکھ کر فکرمند ہوتی تھی۔ آج مجھے دیکھے …اے کاش! وہ آج تو مجھے دیکھ لے…میرا جسم،میرے رخسار کیسے پھولے ہوئے ہیں۔
    آخری بار میری ماں نے مجھے تب دیکھا تھا، جب ابّا اپنے ایک دوست کی شادی میں ہم سب کو لے کر آئے۔میں نے گلابی رنگ کا ریشمی جوڑا پہنا اور امّی سے بہت ضد کرکے ان کے موتیوں والے چھوٹے چھوٹے جھمکے بھی مانگ لئے۔ایک تو جانے کہاں گر گیا…دوسرا ابھی تک موجود ہے پر اس کے بھی کچھ موتی علیحدہ ہو چکے ہیں۔امّی نے دینے سے پہلے کہا بھی تھا:”تم گم کر دوگی’ ‘اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔مجھے کیا پتا تھا میں خود گم ہو جائوں گی ۔
    سارا وقت میںامی، ابا اور میری چھوٹی بہن ہم سب ساتھ ساتھ رہے۔مجھے شادیوں میں لوگوں کی بھیڑ سے بہت خوف آتا تھا۔میں شروع سے بہت ڈرپوک تھی ۔ کبھی اپنی امی سے دور نہیں جاتی تھی۔کسی کی ذرا سی اونچی آوازپر سہم جاتی۔غصّے میں سب کے چہرے بہت خوف ناک ہو جاتے ہیں …بہت بدصورت۔ایسے وقت ہمیشہ میں آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے انہیں سختی سے بند کر لیتی تھی۔



    مگروہ چہرہ میں کبھی نہیں بھول سکتی…اُف…وہ آدمی ابا جیسا تھا…اونچا لمبا…ڈاڑھی والا…پچھلی میزوں پر بیروںسے کھانا لگواتے ہو ئے اس کی نظر مجھ پر پڑی اور پھروہ عجیب انداز میں مسکرایا۔میں جلدی سے امی کی اوٹ میں ہو گئی ۔کچھ دیر بعد میں نے گردن نکال کر اس کی جانب دیکھا ،وہ تب بھی میری ہی جانب دیکھ رہا تھا…نظر ملتے ہی اس نے مجھے پچکار کر قریب آنے کا اشارہ دیا …مگر میں امی کے پاس ہی بیٹھی رہی اور میں نے اُسے نظرانداز کر دیا۔
    کھانا لگاتو امی میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھیں اور میز تک آگئیں۔سب کچھ میری پسند کا تھا ۔امی نے میری پلیٹ بھر کر مجھے پکڑائی اور میں پھر سے اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گئی۔کھانا بہت مزے دار تھا ، ہم سب کو بہت مزا آیا۔میٹھے میں کھیر اور گلاب جامن تھی ۔امّی سب کے لئے کھیر ڈال کر لائیں مگر مجھے گلاب جامن کھانی تھی ۔میں نے امّی سے کہا تو بولیں :”بعد میں ،پہلے کھیر ختم کرو”۔
    میںچپ چاپ کھیر ختم کرنے لگی ۔اتنے میں ابا نے گھڑی دیکھ کر امی کو چلنے کا اشارہ کیا کہ گیارہ بج چکے ہیںبس گھر چلتے ہیں ۔
    امّی ”جی اچھا ”کہہ کر برقع پہننے لگیں اور میں نے للچا کر اس میز کی جانب دیکھا جہاں بڑی پرات میں گلاب جامنیں رکھی تھیں۔امی چلنے کو تیا ر تھیں،ابا تو گیٹ کے پاس پہنچ بھی گئے تھے ۔امی نے میری چھوٹی بہن کا ہاتھ پکڑا اور مجھے آواز دی :”پاکیزہ …چلو گھر چلیں”۔
    میں کرسی سے اُتر کر ان کے پاس آکھڑی ہوئی۔گیٹ کی جانب بڑھتے ہوئے امی ایک رشتے دار خاتون کو الوداع کہنے کے لئے رکیںاور میں تیزی سے بھاگ کر گلاب جامن لینے میز کی طرف چلی گئی۔بس دو لمحے ہی تو درکار تھے مجھے اور میں مٹھائی لے کر واپس آ جاتی ۔
    جیسے ہی میں نے پرات سے گلاب جامن اُٹھائی،اُسی آدمی نے جھٹ سے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔



    وہ پیار سے بولا:”اور مٹھائی کھائو گی گڑیا؟…آئو میرے ساتھ…. میں تمہیں ٹشو پیپر بھی دے دوں تاکہ تمہارے ہاتھ اور کپڑے خراب نہ ہوں ”۔
    میں نے مڑ کرامی کی طرف دیکھا وہ ابھی تک ان خاتون سے باتوں میں مصروف تھیں اور یقینامیری غیر موجودگی سے بے خبر بھی ۔میں خاموشی سے اس آدمی کے ساتھ چل دی ،گلاب جامن سے شیرا ٹپک رہا تھا اور میں اپنے کپڑے خراب ہونے سے بچانا چاہتی تھی ۔پانی کا کولر ہال کی دیوار کے ساتھ رکھا تھا ٹشو پیپر بھی وہیں تھے ،پر وہ آدمی رُکا نہیں ،مجھے لے کر وہ پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا ۔
    میں نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تو اس نے مجھے سختی سے ڈانٹتے ہوئے گود میں اُٹھا لیا۔میں کسمسائی تو اس نے گالی دی ،اس کا چہرہ اس قدر خوف ناک ہو گیا تھاکہ میں نے ڈر کر آنکھیں بند کر لیں اور گلاب جامن میرے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گری ،”میری مٹھائی….”میں نے زمین کی طرف اشارہ کیا اور رونے لگی۔اس وقت اس نے میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا اور بھاگنے لگا۔
    مجھے گود میں اٹھائے وہ ہال کے پچھلے حصے میں جا نکلا ،یہاں اندھیرابھی بہت تھا۔مجھے ٹھیک سے کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا ۔ایک کوٹھڑی کے سامنے رُک کر وہ اس کا دروازہ کھولنے لگا ۔اس کے تھپڑ سے میرے گال جل رہے تھے پر مجھے امی ابا کے پاس جانا تھا :”مجھے چھوڑ دو …. چھوڑو….” میں نے چیخنا چاہا۔ لیکن اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر سختی سے بند کیا اور دھکا دیتے ہوئے کوٹھڑی کے اندر داخل ہو گیا۔یہاں ٹوٹی پھوٹی کرسیوں کے درمیان اس نے مجھے زور سے فرش پر پھینکا اور مڑ کر دروازے کی کنڈی چڑھا دی ۔ میں نے پھر سے رونا شروع کر دیا ”امی …مجھے امّی کے پاس جانا ہے ”میرے پاس آکر میرے منہ کو سختی سے بند کرتے ہوئے اس نے مجھے چت لٹا دیا۔
    ”چپ کر کمینی …بند کر آواز ..ورنہ گلا گھونٹ دوں گا ۔”

    مجھے سانس نہیں آرہا تھا ٹھیک سے ۔۔۔میںچیخنا چاہتی تھی ،”امی ۔۔۔ابا”۔مجھے پکارنا تھا…انہیں تو پتا بھی نہیں تھا کہ میں اس کے پاس ہوں …..یہ آدمی ….جو میرا منہ بند کر کے میرے گھٹنوں پر بیٹھ گیا تھا …مجھے لگا میری ساری ہڈیاں ٹوٹ جا ئیں گی …سخت فرش پر میرا جسم رگڑ کھائے جا رہا تھا ۔ میں نے پہلے کبھی اتنا درد محسوس نہیں کیا تھا۔
    چڑیا گھر میں ایک بندر نے پاپ کارن کھلانے کی کوشش میں میرے ہاتھ پر کاٹا تب بھی نہیں ۔
    اسکول میںکھیلتے ہوئے جھولے سے نیچے گری تب بھی نہیں ……
    مجھے کبھی ایسا درد نہیں ہوا ….میری آواز حلق میں پھنس گئی اور وہ آدمی مسلسل مجھے کھا رہا تھا ….دانتوں سے….. بھنبھوڑ رہا تھا ۔
    مجھے یاد نہیں کب میری آنکھیں بند ہوئیں…. پر جب کھلیں تو دیکھا میری شلوار میرے منہ پر کس کے بندھی تھی …میرے ہاتھ بھی بندھے تھے میرے جالی کے دوپٹے سے ….
    میری آنکھ کیوں کھلی …؟



    کیوں کہ مجھے درد ہورہا تھا،اتنا زیادہ میں کیسے بتائوں ..میری امی بھی نہیں تھیں میرے پاس ۔
    وہ آدمی جانے کہاں چلا گیا …میں ہل بھی نہیں پا رہی تھی ۔پھر میرے پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی ایک شدید لہر اُٹھی اور میری آنکھیں بند ہو گئیں۔
    نہیں معلوم میں کتنی دیر بے ہوش پڑی رہی ۔
    دن نکل آیا تھا پھر بھی اس کوٹھڑی میں روشنی بہت کم تھی ۔میں نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں تو وہ آدمی قریب ہی بیٹھا بے پروا اندازسگریٹ پیتا نظر آیا، میں نظر بچا کرآہستہ آہستہ پیچھے کھسکنے لگی تو اس نے چونک کر میری طرف دیکھا ….جیسے ڈر گیا ہومیںبھاگ نہ جاؤں ۔
    میں بھی ڈر گئی تھی ،وہ جلدی سے اُٹھا اور میری گردن دبوچ لی اور بولا:”تو سب کو بتا دے گی میں نے تیرے ساتھ کیا کیا ہے”۔
    یہ کہتے ہوئے وہ میرا گلا گھونٹنے لگا ۔منہ پہلے ہی سختی سے بندھا تھا ۔میری آنکھیں اُبل کر باہر آگئیں….اور یونہی ….آخری سانس تک..اُس مکروہ انسان کا چہرہ …میری آنکھوں کے سامنے رہا ….نہ امی ، نہ ابا اور نہ ہی چھوٹی بہن جو مجھ سے تین سال چھوٹی تھی ، کوئی نہ تھا اس وقت …ہاں….میں چھے سال کی ہوں…بلکہ تھی۔

  • داستانِ حیات

    داستانِ حیات

    داستانِ حیات
    علی فاروق
    (داستانِ شبِ غم اور قصہ روزِ درد، اُس مظلوم مخلوق کا جسے ”طالبِ علم” کہتے ہیں……)
    اپنی پیدائش کے چند لمحات بعد ہی وہ بے چارہ اس بات کا ماتم کر تانظر آتا ہے کہ وہ عاقبت نااندیشوں کے کس جہان میں پھنس گیا۔ بڑوں کی محفل میں ایک جانب اعلانِ شاہی صادر ہوتا ہے: ”ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے گا”دوسری صدا آتی ہے” انجینئر بنے گا” (انسان بنانے کا کبھی کسی کو خیال ہی نہیں آیا) بس اس کی کم بختی شروع ہو جاتی ہے۔
    والدین کیا جانیں اس لمحے کی بے چارگی! جب گرم کمبل، حسین نیند اور سہانے خواب، اچانک ایک دھاڑ سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں: ”بیٹا! اٹھوسکول نہیں جانا”۔ جتنی گالیاں (اور وہ بھی پنجابی میں) موجدِ تعلیم جدید کو دینے کا اُس وقت دل چاہتا ہے وہ بس وہی جانتا ہے۔ دادی اماں کی کہانی والی پریوں کے ساتھ ابھی بچہ بے چارہ تصوراتی محلات میں گھوم رہا ہوتا ہے، مولوی صاحب کی دھاڑ سن کر ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے۔
    10 کلو وزن والے بچے پر 20کلو کتابیں لاد دی جاتی ہیں (آج تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ اگر گدھے پر کتابوں کا انبار لاد دیا جائے تو وہ ”استاد” ہونے کا دعویٰ کیوں نہیں کرتا… حالاں کہ آج کل ہمارے سیاست دان ایسے اداروں سے بھی ڈگریاں لے لیتے ہیں، جن کا قیام سو سال بعد ہوتا ہے، اور پھر فخریہ طور پر ‘ڈال سے ڈاکٹر’ کہلا کر خوش ہوتے ہیں)… ہائے وہ رِقت انگیز مناظر!! ! جب باپ، بچے کو سکول کے گیٹ سے اندر داخل کرتا بلکہ زبردستی دھکیلتا ہے اور وہ بچہ ایسے بے جان قدم اُٹھاتا مڑ مڑ کر ظالم کو دیکھتا ہے جیسے پھانسی گھاٹ کی جانب جا رہا ہو ۔ اس کی امید کا سہارا hopping best ….. for next time ہی ہوتا ہے۔
    چھٹی کی گھنٹی سنتے ہی جو دِلی سکون اور ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے، گھر آتے ہی ماں جی کے اس اعلان سے سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے: ”تمہارے پاپا نے تمہارے لیے نیا ٹیوٹر مقرر کیا ہے۔ آج سے عصر تا عشا تم گھر میں پڑھائی کیا کرو گے۔”


    ”اگر کبھی ٹی وی پر پسندیدہ کارٹون لگے ہوں تو ریموٹ فوراً سے پیشتر ایسے جھپٹ لیا جاتا ہے، جیسے حکمران عوام سے جینے کا حق چھینتے ہیں اور ساتھ ہی ڈانٹتے ہوئے کہا جاتا ہے: ”چلو اُٹھو!! پڑھو جاکر ، تمہارے امتحان سر پر ہیں”… (پتانہیں یہ امتحان ہی کیوں سر پر ہوتے ہیں؟ کوئی ہیروں سے سجا تاج کیوں نہیں ہوتا…؟؟)
    سارے بڑے (والدین، اساتذہ اور گلی محلوں میں ہوا کے ساتھ اُڑنے والے لفافوں کی طرح بکثرت پائے جانے والے دانشور) فریب کا ایسا لولی پوپ بچے کے منہ میں گھسیڑتے کہ وہ آخر وقت سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ گیم کیا کھیلی گئی۔ ”بیٹا! یہ سکول کے چند سال پڑھ لو، کالج میں تو پھر عیش ہی عیش ہو گا…… محنت کر لو کالج میں ایڈمیشن ہو گیا تو موجیں ہی کرو گے”۔
    پھر کالج یونی ورسٹی کے زمانے میں یہ ہدایت ہوتی کہ اب یہ آخری سٹیج ہے تمہاری سٹڈیز کی، اس کو بھی اچھا ہونا چاہیے، پروفیشنل لائف میں تو مزے ہی مزے ہوں گے……” (ہر دور کے اینڈ پہ ان کے ”عیش” کے وعدے کو تازہ دم کرنے کی بات کی جائے تو …… مٹی پائو جی…… رات گئی، بات گئی!!)
    ایک طالب علم جس دور کے بارے میں سہانے خواب دیکھتاہے۔ اب وہ شروع ہوتا ہے تعلیمی سفر کے اختتام پر اور ”جن گھر والوں کا ہمیشہ کھاتے رہے” ان کو کھلانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے شروع کرنے سے… اب جناب صاحب کے پاس ڈگری ہے…… اعلیٰ تعلیم …… اور اپنے تمام کوائف اٹھا کر مطلوبہ ملازمت ڈھونڈنے کے لیے اتنی جگہوں کے دھکے کھاتا ہے کہ اسے بعض دفعہ وہ چند کاغذات بھی پہاڑ سے زیادہ وزنی محسوس ہوتے ہیں۔
    اس سارے دور میں کھوجتی نگاہیں، ذومعنی اشارے اور مثالی ”حسن سلوک” بعض رشتہ داروں کی جانب سے تحفے میں ملتاہے وہ بھی زبردست ہے……
    ”بیٹاابھی تک جاب ہی نہیں ملی … وہ اسلم صاحب کا بیٹا بھی تو اسی یونی ورسٹی سے پڑھا ہے، وہ کب سے اتنی اچھی پوسٹ پر بیٹھا ہے……” پھر سرگوشی کرتے ہوئے ”رزلٹ تو ٹھیک آیا اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں!” ہاہاہاہا۔
    (بس چچا جان ایک بات بھول گئے کہ اسلم صاحب کے چچا ایک بڑی انڈسٹری کے چیئرمین ہیں)


    ”میں تو شاہ صاحب سے پہلے ہی کہتا تھا کہ کاروبار میں ڈال دو چھوکرے کو، کیا رکھا ہے انگریزی پڑھائیوں میں!!! خوفِ خدا باقیہے نا مخلوق سے شرم …… اپنے ہمسائے کو ہی دیکھ لو، کہاں پہنچ گیا ہے اس کا کاروبار……”ایک ہمسائے کی کا جلتی پر تیل ڈالنے کا کام۔
    ”ہاتھ کا کاری گر ہوتا تو باہر ہی چلا جاتا… (چاہے وہاں جا کر ٹیکسی چلانا پڑتی) …… آپ نے تو ایسے ہی اتنی رقم ضائع کر دی اس پر…” ایک رشتہ دار کی جلی کٹی۔
    پر ان سب سے زیادہ تکلیف دہ موقع وہ ہوتا ہے جب ماں کہتی ہے کہ بیٹا …… فارغ بیٹھے ہو تو ذرا یہ ”مٹر” ہی چھیل دو…… مشین کی سوئی میں ”دھاگا” ڈال دو…… ”جالے” ہی اتار دو …… اور بابا کہتے ہیں بیٹا …… ”کال” نہیں آئی کہیں سے !!!!!خالی کیوں بیٹھے ہو تو کار ہی صاف کر دو۔”
    ان حالات کے بعد اقبال کے شاہین کو زندہ رہنے کے لیے اقبال کے ہی تجویز کردہ نسخے پر عمل کرنا پڑے گا ……… بہ قول شاعر مشرق علامہ اقبال:
    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

  • تو ہی تو کا عالم

    تو ہی تو کا عالم

    پیش لفظ

    ایک محبت….!

    محبت جس نے اپنے لیے ہمیشہ عام چہروں سے لے کر ، بہت خاص چہروں کو چنا ہے۔ ہر بار محبت کا انتخاب لاجواب رہا مگر اس بار محبت نے جس کا انتخاب کیا عام سوچ و نظر میں وہ محبت کے لیے پیدا ہی نہیں ہوا ہے۔

    ایک ایسی ہی محبت کی داستان جو کسی مرد یا عورت کے ملن یا جدائی سے تخلیق نہیں ہوئی بلکہ یہ کہانی ہے محبت کے اُس رنگ کی جسے کسی دور میں معاشرے نے کبھی ہی قبول نہیں کیا۔

    محبت کا امرت کسی ایک رنگ ،کسی ایک نسل یا کسی ایک جنس کے لیے مخصوص نہیں ہے۔

    محبت زرخیز زمین سے پیدا ہونے کے لیے نہیں بنیبلکہ محبت کا وصف یہ ہے کہ وہ بنجر زمین کو بھی زرخیز بنا دیتی ہے۔

    کبھی کبھی محبت اس جنس کے خمیر سے بھی اٹھتی اور سانس لیتی ہے جسے خواجہ سرا سمجھ کر ہمیشہ کمتر سمجھا اور مانا گیا ہے۔

    ایک ایسی ہی کہانی کہ جب کوئی اپنی محروی کے احساس سے لڑتے لڑتے زندگی گزارتے اچانک جس نقطے پر ٹھہرا، وہ محبت کا تھا۔

    ایک عورت کی محبت کو پانے کی تمنا اور خواہش کی راہ میں اس کی محرومی اور کمی اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔ محبت میں صرف جدائی ملتی تو شاید وہ برادشت کر لیتا مگر اُسے حقارت اور تحقیر ملی تو وہ اپنے حواس کھونے لگا۔ وہ جسم کے خام سے رب کی پہچان کر رہا تھا۔ اسی لیے اس سے بد گمان ہو کر اس سے دور ہوتا گیا مگر و ہ یہ نہیں جانتا تھا کہ جسموں کا خام صرف دنیا کے ترازو میں وزنی ہوتا ہے۔

    ایک محبت….

    جو اٹھتی تو جسموں کے خام سے ہے ، مگر جاوداں زندگی اسے عشق کے جام سے ملتی ہے۔

    ایک محبت….

    جو صرف اپنی ذات سے، اُس کی ذات تک لے جا نے کے لیے راستے میں آئی تھی۔

    ہر محبت ایک ایسا نقطہ ہے جو دنیا اور خلا میں رابطہ قائم کردیتا ہے ۔ جب انسان اپنی محبت سے گزر کر اس نقطے کو کراس کرتا ہے، تو اُس کے سامنے میلوں دور دور تک خلا پھیلا ہوتا ہے، نظر اور دل کو چیرتا سناٹا ہوتا ہے۔

    مگر پھر بھی وہ وجود عشق کا جام پیے، مست قدموں سے چلتا ، رقص کرتا ، جگہ جگہ اپنے جنوں کی مہر ثبت کرتا، عشق کی منزلیں طے کرنے لگتا ہے۔ عام نظر کے لیے وہ خلا ہے جہاں کچھ بھی نہیں سوائے خاموشی اور سناٹے کے مگر عشق کے دیوانے جانتے ہیں کہ وہاں قدم قدم پر یار کے جلوے بکھرے ہوئے ہیں۔ اسی لیے کبھی جبین خاک پر سجدہ کرتی اور کبھی پتھر کو چومتی ہے۔

    اور وہ وحدہ لا شریک ہر ذرے میں جلوہ افروز ہوتا ہے۔

    دیکھنے والی نظر اُس کا جلوہ ہر ذرے ذرے میں دیکھتی ہے۔

     جسے دنیا خلا او ر سناٹے کا جہاں یا عالم کہتی ہے۔

     وہ اس کے لیے صرف ”تُو ہی تُو کا عالم“ ہوتا ہے۔

    یہی وہ منزل ہے جس کی طلب اجسام کو نہیں ، روح کو ہوتی ہے۔

    اور روح جسم کے لباس سے پاک اور الگ ہوتی ہے ۔

    پھر چاہے وہ روح کسی مرد کی ہو یا کسی عورت کی یا پھر خواجہ سرا کی….

    مرکزی خیال

    اس نے کُن کہا، تو مٹی سے جسم کا خمیر اٹھا۔

    وہ کُن کہے گا، تو مٹی کو اس کی امانت لوٹا دی جائے گی۔

    مٹی ، مٹی میں مل جائے گی۔

    اس لیے کہ جسم خام ہے۔

    جسم کے لبادے میں روح ایک مقرر وقت کے لیے پھونکی گئی ہے۔

    حکم آئے گا اور روح ا پنے اصل کی طرف لوٹ جائے گی۔

    اس لیے کہ روح خالص ہے۔

    اور اللہ ہر خالص چیز کو پسند کرتا ہے، محبوب رکھتا ہے۔

    ”بے شک اللہ جسموں سے نہیں ، روح سے محبت کرتا ہے۔“

    ٭….٭….٭

    گہری رات کے آخری پہر اماوس کی تاریکی کو چیرتی ، درد کی انتہاﺅں سے گزرتی اور اذیت کے آخری لمحوں میں جب اسے لگا کہ وہ ہمت ہار دے گی۔ اسی وقت اس کے کانوں میں بچے کے رونے کی آواز گونجی ۔اس کے وجود نے ایک اور وجود کو رب کے حکم سے جنم دیا تھا۔ ماں بننے کا احساس اور رتبہ اس کے اندر کھوئی ہوئی توانائی واپس لانے لگا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا مگر اس کے آگے گہری دھند چھائی تھی۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد وہ بہ مشکل بچے کے ہلتے ہاتھ پاﺅں دیکھ سکی اور پھر پرسکون ہو کے گہری نیند سو گئی ۔ وہ دل ہی دل میں مطمئن تھی کہ جب سو کر اٹھے گی تو بچہ اس کے پہلو میں ہوگا۔ نہ جانے کتنی دیر بعد اسے ہوش آیا ۔ اس کے آس پاس خاموشی تھی ۔ اس نے بے چین ہو کر اپنے پہلو پر نظر ڈالی اور اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔وہ خالی تھا۔

    اس نے کہنی کے بل اٹھنے کی کوشش کی مگر کمزوری کی وجہ سے کراہ کر رہ گئی ۔ اسی وقت اماں رحیمہ نے کمرے میں قدم رکھا اور اسے جاگتے دیکھ کر فوراً اس کی طرف بڑھی ۔

    ”بی بی سائیں ! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟“ اماں رحیمہ نے فکرمندی سے اس کے زرد چہرے اور کانپتے ہونٹوں کو دیکھا۔

    ”اماں رحیمہ، میرا بچہ کہاں ہے؟“ اس نے بے تابی سے پوچھا۔ اماں رحیمہ کا چہرہ ایک دم ہی زرد ہوگیا اور اس نے آگے بڑھ کر اس کی نم پیشانی سے پسینا صاف کیا اور دھیرے سے بولی۔

    ”بی بی سائیں! آپ کے ہاں مردہ بچے نے جنم لیا تھا۔ اب تک تو اس کی تدفین بھی ہوچکی ہوگی۔ آپ آرام سے لیٹ جائیں ، اللہ بہت جلد آپ کی دوبارہ گود ہری کرے گا۔میں آپ کے لیے گرم دودھ لاتی ہوں۔“

    ”نہیں…. یہ نہیں ہو سکتا۔“ اس کے چہرے کا رنگ یک دم ہی مزید زرد پڑ گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

    ” اماں رحیمہ، آپ جھوٹ بول رہی ہیں ۔ میرا بچہ مردہ پیدا نہیں ہوا تھا ۔ میں نے خود اس کے رونے کی آواز سنی اور غنودگی میں جانے سے پہلے اس کے ہاتھ پاﺅں بھی ہلتے دیکھے تھے۔آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ وہ مردہ پیدا ہوا تھا؟ یہ جھوٹ کیوں اور کس لیے؟ کہاں ہے میرا بچہ؟ بولیں، نہیںتو میں کسی حد سے بھی گزر جاﺅں گی۔“ وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی۔ اماں رحیمہ نے ایک نظر اس کے غصے سے لال ہوتے چہرے پر ڈالی۔ کمزوری کی وجہ سے اس کی سانس بھی پھول گئی تھی۔

    ”بی بی سائیں! میں اس حویلی کی پرانی ملازمہ ہوں۔ میری ہر سانس بھی آپ لوگوں پر قربان ہے۔ مجھے جو حکم ملا میں نے اسے پورا کیا ہے ۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔آپ آرام کریں۔“

    ”کس نے حکم دیا ہے تمہیں؟“ اس نے سخت لہجے میں پوچھا۔ اماں رحیمہ ایک دم ہی چپ کر گئیں اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتیں۔ کمرے میں کوئی داخل ہوا اور ایک ایک قدم مضبوطی سے جماتا، اس کے سرہانے پہنچ کر بولا۔

    ” میں نے حکم دیا ہے نور بانو!کیا تمہیں ہمارے عمل پر بھی شک ہے؟“ اس کی سُرخ آنکھوں اور گھنی مونچھوں تلے پھڑپھڑاتے لب ، اس کے اندورنی انتشار اور تکلیف کو ظاہر کر رہے تھے ۔ اماں رحیمہ خان زادہ شمشیر کو دیکھ کر مو ¿دب انداز میں سر جھکاتی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔جب کہ نور بانو پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے محبوب شوہر کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ آنے والے اس بچے کا انتظار ان دونوں ہی کو بہت بے صبری سے تھا اور کیوں نہ ہوتا ۔ آنے والا بچہ ان کی نسل در نسل چلی آرہی گدی کا وارث بننا تھا ۔ پھر اب کیسے….؟

    ” میری محبت کو آپ پر کبھی شک نہیں ہو سکتا مگر ایک ماں کا بے چین دل یہ جاننے کے لیے تڑپ رہا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ میرے زندہ بچے کو مردہ قرار دے کر زمانے کی نظروں سے چھپایا جا رہا ہے ۔اتنا تو میں بھی جانتی ہوں کہ آپ لوگوں کا خاندان زمانہ جاہلیت کے لوگوں جیسا ہرگز نہیں ہے کہ جو بیٹیوں کی پیدائش پر انھیں ، شرمندگی اور نفرت سے زندہ دفنا دیں۔پھر ایسا کیا ہے جو میری نظروں سے پو شیدہ ہے ؟“ نور بانو نے بے قراری سے پوچھا۔ خان زادہ شمشیر نے اپنی نم آنکھوں کو سختی سے بند کیا اور کچھ لمحوں کے بعد کھولا، تو نور بانو ان کی آنکھوں میں دیکھتی ، ایک دم ہی خوف زدہ ہوگئی۔

    ” نور بانو! آپ کی تسلی کے لیے صرف اتنا بتا دوں کہ میں چاہتے ہوئے بھی زمانہ جاہلیت کی رسم کو نہیں نبھا سکا کہ ایک جیتے جاگتے وجود کو مٹی کا حصہ بنا دوں مگر میرے میں اتنا حوصلہ اور برداشت بھی نہیں ہے کہ میں اپنے ساتھ کیے قدرت کے اس سنگین مذاق کو تمغے کی طرح اپنے سینے پر سجا کر، اپنی خاندانی گدی کا مذاق بنا لوں۔“

    ”گدی کا وارث نہ سہی مگر بیٹی بھی ہوتی تو وہ میرے دل کے قریب ہوتی مگر نہ جانے قدرت کو ہمارا امتحان لینا مقصود تھا جو ہمیں ”تیسری جنس “(خواجہ سرا ) سے آزمایا گیا ہے۔“ خان زادہ نے کہا، تو نوربانوکی چیخ نکل گئی اور وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی۔

    ”او میرے خدایا۔“نوربانو دکھ کی شدت سے رونے لگی۔

    ” نور بانو !اس بات کو یہاں ہی دفن سمجھو اور بھول جاﺅ کہ ہماری زندگی میں کبھی ایسا کوئی طوفان آیا تھا۔یہ ہم خان زادوں کی عزت اور شان کے خلاف ہے ۔“

    اس نے سختی سے بات ختم کی، روتی بلکتی نور بانو پر ایک نظر ڈالی اور تیزی سے پلٹ کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔ پیچھے نور بانو ایسے بین کر رہی تھی جیسے سچ میں اس نے مردہ بچے کو جنم دیا ہو۔

    شاید مردہ بچہ پیدا ہوتا، تو اُسے اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی اس وقت ہو رہی تھی ۔اسے قدرت کے اس سنگین مذاق اور اپنی خالی گود کا دکھ چیر رہا تھا ۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس کے یہ بہتے آنسو کس کے لیے ہیں ۔ رب کی آزمائش میں پورے نہ اترنے کے لیے یا اپنی ممتا کی کمزوری پر جو ایسے بچے کو اپنانے سے ڈر کر کہیں دور جا چھپی تھی ۔

    ٭….٭….٭



    اس نے بار میں آکر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھتے ہوئے ،وہسکی لانے کا آرڈر دیا ۔ اسے دیکھ کر جولین باقی گاہکوں کو چھوڑتی فوراً اس کی طرف بڑھی۔جولین کے سنہری بالوں کی کئی لٹیں بہت نفاست اور خوبصورتی سے کندھے اور چہر ے کے اطراف میں بکھری ہوئیں تھیں۔اس کا متناسب سراپا اور دلکش ادائیں وہاں موجود بہت سے گاہکوں کواپنی طرف متوجہ کر لیتی تھیں مگر جولین اپنی خوبصورتی کو بہت سوچ سمجھ کر کیش کرواتی تھی ۔

    ”ہیلو!“ جولین نے ٹرے میز پر رکھتے ہوئے دل کش انداز سے کہا ۔ اپنے موبائل پر تیزی سے انگلیاں چلاتے ایڈم نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔ جولین کا خوشبو میں بسا سراپا دیکھ کر ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آگئی۔ اسے خوب صورت چہرے اور اچھی خوشبو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔

    ” آج رات ایک پارٹی میں چلو گی میرے ساتھ ؟“ ایڈم نے گلاس میں جام بھرتے ہوئے مصروف سے انداز میں پوچھا ۔جولین کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ ایڈم کے ساتھ رات گزارنے کا مطلب، ایک لگثرری لائف اسٹائل کو بہت قریب سے دیکھنا اور محسوس کر نا تھا اور اس کے علاوہ ایڈم اپنی دولت خرچ کرنے کے معاملے میں بادشاہ تھا ۔ دونوں ہاتھوں اور بند آنکھوں سے پیسہ اڑانے والا۔ بدلے میں اسے صرف جولین کا ساتھ اور وقت چاہیے ہوتا جس میں زیادہ تر وہ جولین کی مر ضی ا ور پسند ہی سے اسے شاپنگ کرواتا اور پھر اچھے سے ڈنر کے بعد کبھی لیٹ نائٹ اچھی سی مووی دیکھتے یا پھر اسے ایسی ہی کسی پارٹی میں اپنے ساتھ لے جاتا جو صبح تک چلتی تھی اور صبح ہوتے ہی جولین اس خوب صورت خواب سے جاگ کر واپس اپنی درماندہ اور پس ماندہ زندگی میں لوٹ آتی۔ ایڈم کے ساتھ ایک دن گزارنا ، اس کے مہینے بھر کی کمائی کے برابر ہوتا تھا ۔ جولین نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا ۔ ایڈم نے مُسکرا کر اس کی طرف دیکھاجو خوشی سے جھومتی، مُسکراتی واپس پلٹ گئی تھی ۔

    ”کچھ دیر بعد ایڈم کی نئے ماڈل کی چمکتی گاڑی میں وہ بہت اترا کر بیٹھ رہی تھی کہ آج رات کی ملکہ صرف وہ تھی۔“

    ٭….٭….٭

    ”کٹ!“ شہرام نے بے زاری سے کہا تو آڈیشن دیتی لڑکی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اسے اپنی خوبصورتی اور اداﺅں پر پورا پورا یقین تھا مگر اس وقت شہرام کے چہرے کے بگڑے زاویوں نے اس کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی تھی ،جب کہ دوسری طرف شہرام ، اپنے اسسٹنٹ پر برس رہا تھا ۔

    ” مبشر میں نے کہا تھا کہ مجھے قدرتی حسن اور معصومیت سے بھرا چہرہ چاہیے۔ اس طرح کے بناوٹی حسن اور اداﺅں کی ضرورت ہوتی تو اتنے مہینوں سے میں خوار نہ ہو رہا ہوتا۔پتا نہیں تم لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آتی۔“

    شہرام نے بے زار لہجے میں کہا ۔ مبشر نے کن انکھیوں سے اپنے ساتھ کھڑے ، کولیگ احمد کی طرف دیکھا ۔ وہ بھی گہری سانس لیتے ہوئے کندھے اُچکاتا رہ گیا۔ جیسے اس کی سمجھ میں بھی یہ سب نہ آرہا ہو۔

    ” سر! پچھلے چھے مہینوں سے ہم تقریباً پورے ملک میں خوب صورت اور نئے چہروں کا آڈیشن لے چکے ہیںمگر کوئی لڑکی ، آپ کے معیار کے مطابق نہیں مل رہی ۔اس طرح تو یہ پروجیکٹ کبھی مکمل نہیں ہوگا جس کے لیے آپ کب سے تیاریاں کر رہے ہیں۔“

    مبشر نے باقی لوگوں کو بیک اپ کا شارہ کرتے ، شہرام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔جو سر جھکا کر کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ وہ اس کی بات پر چونکا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا۔

    ” اگر مجھے میری پسند کے مطابق چہرہ نہیں ملے گا، تو یہ فلم بھی کبھی مکمل نہیں ہو گی ۔ میں اپنے معیار پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتا۔“ شہرام نے سنجیدگی سے کہا اور کار کی چابیاں اٹھاکر تیز تیز قدم اٹھاتا، آڈیٹوریم سے باہر نکل گیا ۔

    ” کیا ہو ا؟ کیا شہرام سر کو میرا کام پسند نہیں آیا؟“

    اسی لڑکی نے پاس آ کر فکرمندی سے پوچھا ۔ اسے بہت امید تھی کہ اسے شہرام کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل جائے گا اور اگر ایسا ہوجاتا، تو اس کی زندگی بدل جاتی ۔ اس کے لیے شہرت اور ترقی کے دروازے کھل جاتے کیوں کہ شہرام کی بنائی فلمیں اپنے موضوع اور ہدایت کاری کے اعتبار سے عالمی سطح پر بھی ایک واضح مقام رکھتی تھیں۔ پاکستان میں ہونے والے ایوارڈ فنکشن میں زیادہ تر ایوارڈز ، شہرام کی ہدایت کاری میں بننے والے مختلف پروجیکٹ جیسے ٹی وی ڈرامے ، ڈاکومنٹری فلم اور فیچر فلموں ہی کو ملتے تھے۔ملک سے باہر بھی اس کی مارکیٹ بہت اچھی تھی مگر اصل مسئلہ یہ تھا کہ شہرام اپنے کام کے بارے میں بہت جنونی اور ایمان دار تھا ۔ وہ اپنے اسکرپٹ سے لے کر کاسٹنگ تک ہر چیز پر کئی کئی بار غور کرتا اور اپنے معیار سے کم کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کرتا تھا ۔اس کا پروڈکشن ہاﺅس ڈریم انٹرٹینمنٹ کے نام سے چلتا تھا جس میں اس کا پارٹنر پہلے کوئی اور تھا مگر پھر اس کے اچانک چھوڑ کر چلے جانے کی وجہ سے شہرام اس ادارے کو اکیلا ہی چلا رہا تھا ۔اس کے پارٹنر کا قصہ بھی دل چسپ تھا جس کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کرتی رہی تھیں۔ کچھ کہتے تھے کہ اس پروڈکشن ہاﺅس کی بڑھتی مقبولیت اور نام نے ان دونوں کے درمیان پھوٹ ڈلوا دی تھی ۔اس لیے شہرام نے چالاکی سے اپنے پارٹنر کو راستے سے ہٹا دیا اور پھر اس کی گمشدگی کا شور مچا دیا۔ کچھ کے مطابق ان دونوں کے درمیان اصل جھگڑا اور پھوٹ ایک خوبصورت اور طرح دار ہیروئن کی وجہ سے پڑی تھی ۔کچھ یہ بھی کہتے تھے کہ شہرام کا پارٹنر اپنی رضا اور خوشی سے سب کچھ چھوڑ کر گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے ۔ غرض اس سے متعلق بہت سی کہانیاں گردش میں رہیں مگر شہرام نے کسی بھی بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ وہ خاموشی سے اپنے کام پر توجہ دیتا ، کامیابی کی منزلیں طے کر رہا تھا اور یہ بات ہی اس کے مخالفوں کے لیے تکلیف دہ تھی کہ شہرام ایک چٹان کی طرح اپنی جگہ پر کھڑا ہے اور کسی چیز سے ڈرتا یا جھکتا نہیں۔

    وہ جانتا تھا کہ دنیا کی زبان اور باتوں کو روکنے اور ان پر کڑھنے کے بجائے ، اپنا سفر جاری رکھنا ضروری ہوتا ہے کیوں کہ پھر ایک وقت آتا ہے کہ یہ دنیا ہی آپ کی کامیابی اور ترقی دیکھ کر آپ کی پیچھے بھاگتی ہے اور گزرتے وقت نے اس بات کو سچ ثابت کیا تھا ۔ کئی سال پہلے کی ان سب باتوں کو بھلا کر یا نظرانداز کر کے لوگ آج بھی اس کے ساتھ کام کرنے کو منتیں، سفارشیں کرتے اور دعائیں مانگتے تھے مگر روز بہ روز اس کے سخت ہوتے اصولوں اور معیار کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی خواہش ادھوری ہی رہ جاتی۔

    ”شہرام صاحب کو جس چہرے کی تلاش ہے ۔ وہ آپ کا نہیں ہے محترمہ۔ اسی لیے وہ اٹھ کر چلے گئے ہیں۔“

     مبشر نے ایک نظراس کے خفت سے سُرخ ہوتے چہرے پر ڈالی ۔

    ”ہونہہ! میں تو خود ایسے مشکوک کردار والے شخص کے ساتھ کام کرنا پسند نہیں کروں گی جس کے ماضی سے بہت سی کہانیاںجڑی ہوئیں ہیں ۔“ اس نے غصے سے تپتے ہوئے کہا ۔

    مبشر اور احمدجو وہاں سے جانے والے تھے ۔ ایک دم رکے اور پلٹ کر اس کی طرف قدم بڑھائے۔ وہ ماڈل ڈر کر پیچھے ہٹی تب ہی مبشر نے اپنا سر خم کیا اور ایک ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے نرمی سے کہا ۔

    ” ہم اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھیں گے محترمہ !“

     مبشرنے سر اٹھا کر مُسکراتے ہوئے علی کی طرف دیکھا جس کے ہونٹوں پر بھی ہلکی سی مُسکراہٹ تھی ۔

    وہ دونوں وہاں سے چلے گئے اور وہ ماڈل منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی رہ گئی۔

    ٭….٭….٭

    نور بانو نے محبت بھری نظروں سے اپنے جگر گوشے بارہ سالہ احمد کی طرف دیکھا جو ابھی ابھی مدرسے سے واپس آیا تھا ۔ آتے ہی ٹھنڈے پانی کا گلاس رحیمہ بی بی نے اس کے سُرخ ہونٹوں سے لگایا۔ گرمی کی شدت سے اس کا خوب صورت چہرہ تمتمارہا تھا ۔

    ” میں صدقے ! احمد بابا آپ یہاں بیٹھ جائیں ۔ گرمی نے حشر برا کر دیا ہے آپ کا۔“

    رحیمہ بی بی کی پوری کوشش تھی کہ احمد کے تپتے جسم کو ٹھنڈک اور سکون پہنچا سکے ۔احمد قریب ہی ایک مدرسے میں قرآن کی تعلیم حاصل کر رہا تھا ۔

    ”امی جان!“ احمد نے دونوں بازو پھیلائے اور ماں کی گود میں چھپ گیا۔ نور بانو نے محبت سے اس کی روشن پیشانی چومی۔ اس کے گھنے سیاہ بالوں میں انگلیاں پھیرتی وہ ممتا کے دریا میں بہتی بہتی کہیں بہت دور نکل گئی ۔

    ” کیا کوئی اسے بھی اسی نرمی اور محبت سے سینے سے لگاتا ، اپنی گود میں چھپاتا ہو گا؟ کیا اس کے تپتے ، سلگتے جسم کو سمیٹ کر کوئی اسی طرح اپنی محبت اور شفقت کی ٹھنڈی چھاﺅں تلے سلاتا ہو گا؟“

    نوربانو کا حرکت کرتا ہاتھ بے ساختہ رُک سا گیا۔ کسی کے ننھے ہاتھ اور پاﺅں کی حرکت اس کے دل کو کچلنے لگی ۔ اس کی ممتا سیراب ہو کر بھی نہ جانے کیوںپیاسی تھی؟احمد جیسا ذہین اور لائق بیٹا اور مریم اور آمنہ جیسی دو پیاری پیاری بیٹیاں ہونے کے باوجود بھی، اس کے ذہن کے پردے پر ایک دھندلا سا تصور اکثر لہراتا رہتا تھا ۔ اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا ۔سوائے اس کے ننھے ہاتھوں اور پاﺅں کے اور ہاں ایک اور چیز بھی جو اس کے ذہن پر نقش رہ گئی تھی ۔ اس کے دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی کے نیچے بنا چاند کی شکل جیسا ایک نشان!اکثر اس کی پیاسی ممتا اس نشان کو چومنے کے لیے کئی بار بے قرار ہوئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں پھیلا نم ، آنکھ کے پانی سے ملنے کے باوجود بھی اکثر محسوس ہوتا تھا ۔

    نہ جانے کیسی تڑپ اور جلن تھی جو ا حمد، مریم، آمنہ جیسے بچوں پر اپنی محبت، اپنی ممتا لٹانے کے باوجود بھی سیراب نہیں ہوتی تھی۔ نہ جانے کیسی بے چینی تھی جو دعاﺅں اور طویل سجدوں ، صدقہ خیرات ، سے بھی کم نہیں ہوتی تھی ۔

    نور بانو کا دل اکثر ایک خواہش پر مچل کر رہ جاتا کہ کیا خان زادہ شمشیر بھی ایسی ہی آگ یا جلن کا شکار ہیں؟ کیا یہ سب صرف ممتا ہی کا نصیب بنا ہے یا اس آگ میں کچھ حصہ باپ کا بھی ہے؟ مگر یہ پوچھنے اور جاننے کی ہمت وہ آج تک نہیں کر پائی تھی ۔ کچھ باتوں اور چیزوں پر پڑے پردے ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے اپنی ذات پر پڑے ہوں !گمنام سے ، چپ چاپ مگر اپنے ہونے کے یقین کے ساتھ بہت بھاری اورجان لیوا سے۔ ایسے ہی بہت سے سوالوں اور جوابوں کی ایک عدالت کو دل میں سجائے ، وہ لمحوں، سے دنوں ، دنوں سے ہفتوں اور پھر مہینوں سے سالوں کے درمیان چکراتی ،عمر کی کئی منزلیں طے کر گئی۔خان زادہ احمد نے اپنی خاندانی گدی سنبھال لی۔ اس دن اس کے باپ کا سر فخر سے اونچا اور آنکھوں میں آنسو تھے۔ رب نے اسے دنیا کے سامنے سرخرو کردیا مگر وہ خو د اپنے رب کے سامنے شرمندہ اور نادم سا سر جھکائے کھڑا تھا۔

    حیرت تو اس بات کی تھی کہ وہ مہربان ذات اس کے گناہ اور عیب سے واقف ہونے کے باوجود اسے ، اس کی مرضی اور منشا کے مطابق نوازے جا رہی تھی ۔اس نے دنیا طلب کی اسے دنیا ہی ملی۔ مریم اور آمنہ کی شادیاں ، روایتی رسم و رواج کے مطابق ، خاندان کے بہترین گھرانوں میں ہوئیں۔ اب خان زادہ احمد کے سہرے کے پھول کھلنے تھے جس کے لیے نوربانو کی نازک اندام اور خوبصورت بھتیجی عائشہ کو چنا گیا ۔ نور بانو ، پوری چاہ اور لگن سے تیاریوں میں مشغول تھی۔ مریم اور آمنہ بھی ماں کے ساتھ شامل تھیں ۔ سب کچھ کتنا مکمل اور خوبصورت تھا ۔ کسی خواب کی طرح….

    خواب در خواب جینا ہماری چاہ اور اوّلین خواہش ہوتی ہے ۔ ایک خواب کے بعد دوسرے خواب کی چاہ اور طلب ،نفس کے گھوڑے دوڑائے ِ سر پٹ اور اندھا دھند بھاگنے پر مجبور کرتی ہے۔دیکھا جائے تو سارا کھیل ہی اس چاہ اور طلب کا ہے جو خوابوں کے سر سبز میدانوں میں اڑنے اور بسیرا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

    کیا اپنی چاہ اور خواہش کو، اپنے رب کی چاہ اور خواہش پر قربان کرنا، ہی تقویٰ اور پاکیزگی کی معراج نہیں ہے؟

    کیا انسان ہوتے ہوئے ، حسب ونسب ، جاہ وجلال کی تمنا رکھنا غلط ہے؟

    کیا رب کے حکم سے زمین پر پیدا ہونے والاکوئی بھی جاندار وجود ، اُس ذات کی حکمت اور دانائی سے بے نیاز ہو سکتا ہے؟

    اگر ایمان یہ کہتا ہے کہ نہیں کیوں کہ وہ ذات غلطیوں اور خطاﺅں سے پاک ہے ، تو و ہ ایمان کامل ہے ۔

    اور اگر عقیدہ متزلزل ہو کر” اگرمگرشاید“ جیسی بیساکھیوں پر چلتا ہے، تو وہ عقیدہ ہی باطل کہلائے گا۔

    ”پھر اگر انسان اس رب کے فیصلے کو غلط قرار دے کر ، اپنی مرضی چلائے تو اسے ضد کہیں گے یا نافرمانی یا اس ذات کی ناشکری ۔“

    جو بھی کہیں گے ۔

    مگر پھر آزمائش انسان اپنے لیے خود لکھتا اور چنتا ہے۔

     مگر کیا آزمائش بھی کوئی چنتا ہے ؟

    ہاں….!

    ”ہر کمزور ایمان والا اور دنیا کی چاہ میں رب کے صادر کیے فیصلوں کو رد کرنے والا، اپنے لیے آزمائش کی وہ آگ چنتا ہے جو صرف جلاتی ہی نہیں ، بھسم بھی کر دیتی ہے۔“

    رب کے پیارے بندوں پر آئی آزمائش انھیں دہکا کر کندن بنا دیتی ہے ، نایا ب کر دیتی ہے۔

    کہ پھر کوئی چیز انھیں فنا نہیں کر پاتی ۔

     وہ خود ہی اپنی ذات میں فنا ہو کر اپنے رب کی رضا پا لیتے ہیں۔

     مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا۔

    میری خاک جگنو بنا کر اڑا۔

    ٭….٭….٭

    ” کافی دنوں سے تمہارا پرنس چارمنگ نظر نہیں آرہا؟“

    شفٹ ختم ہوتے ہی دونوں نے اپنا ویٹریس کا مخصوص لباس تبدیل کیا اور اپنے اپنے بیگ کندھے پر ڈال کر وہاں سے باہر نکلیں ، تو کرسٹی نے چپ چپ سی جولین سے پوچھا۔ وہ بے زاری سے کندھے اچکا کر رہ گئی، جیسے خود بھی اس سوال کا جواب سو چ سوچ کر تھک گئی ہو۔

    ”ویسے تم لوگوں کا رشتہ کافی گہرا بن چکا ہوگا۔ تمہیں ضرور اسے مجبور کرنا چاہیے کہ وہ تم سے شادی کر لے ۔ پسند تو تمہیں کرتا ہی ہے اسی لیے تو تم پر اس کی خاص نظرِ کرم ہے۔ویسے اگر ایسا ہو جائے تو تمہاری تو قسمت ہی سنور جائے گی۔ دولت سے لے کر اچھی شکل صورت سب کچھ تو ہے اس کے پاس اور….!“

    کرسٹی اپنی ہی دھن میں بولے جا رہی تھی ۔ جب ساتھ چلتی جولین نے اسے ٹوکا۔

    ”اُف اوہو تم بھی کتنی دور تک سوچتی ہو۔ وہ لاکھ مجھ پر مہربان سہی مگر پھر بھی مجھ سے ملنے میں ایک فاصلہ رکھتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں ، اپنے گھر ہونے والی پارٹیز میں مجھے بہ خوشی لے کر جاتا ہے، میری کمر میں ہاتھ ڈال کر، رومانٹک میوزک پر جھومتا ہے ، میری خوبصورتی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے ، میری من پسند شاپنگ ، ڈنر ، سب کرواتا ہے مگر اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ صرف میرے وقت اور خوب صورتی کی قیمت ادا کرتا ہے۔ جیسے میں بازار میں بکنے والی کوئی چیز ہوں۔ جس سے وہ جب دل چاہے ، کھیل سکتا ہے ، اپنا دل بہلا سکتا ہے۔مگر اس سے زیادہ اہمیت اور عزت دینے کو وہ تیار نہیں ہے۔“

    جولین کی خوب صورت ، نیلی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی ۔ کرسٹی نے ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

    ” کیا تم اس سے محبت کرتی ہو؟“ کرسٹی نے پوچھا، تو جولین اس کی طرف دیکھتی رہ گئی ۔

    ”پتا نہیں ! شاید محبت اور ضرورت میںبہت فرق ہے کرسٹی۔ محبت تو مجھے آج بھی جوڈی سے ہے ۔ اس کی بے وفائی اور دھوکا دہی کے باوجود بھی۔ ایڈم میری ضرورت تو ہو سکتا ہے مگر محبت نہیں۔ ایڈم کی بے تحاشا دولت مجھے اپنی غربت سے باہر نکلنے کا ایک راستہ نظر آتا ہے مگر….“ جولین گہری سانس لے کر رہ گئی ۔کرسٹی ساتھ چلتے چلتے تھوڑی اور اس کے قریب ہوئی اور راز داری سے پوچھنے لگی ۔

    ” کیا تم اب بھی جوڈی سے….“ جولین کے لبوں پر خوب صورت سی ہنسی پھیل گئی ۔

    ” ہاں پچھلے ویک اینڈ ہم نے ایک دوسرے کی قربت ہی میں گزارا تھا ۔اس کے فلیٹ پر اور تم جانتی ہو وہ کہہ رہا تھا کہ بہت جلد وہ مجھ سے شادی کر لے گا مگر میں سوچ رہی ہوں کہ اگر شادی کے بعد بھی اس کی یہی حرکتیں رہیں تو؟ پھر اس سے شادی کر کے بھی مجھے غربت بھری زندگی ہی گزارنی پڑے گی مگر یہ بھی ہے کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی اور….“

    جولین ایسے بول رہی تھی جیسے اس کی اندر ادھم مچاتی ، شور کرتی سوچوں کو باہر کا راستہ مل گیا ہو۔ اس کی ایک بات ختم ہونے سے پہلے ہی دوسری شروع ہو جاتی ۔ کرسٹی گہری سانس لے کر رہ گئی ۔ اب جولین کو چپ کروانا تقریباً ناممکن تھا ۔اس لیے اس نے خاموش ہونا ہی بہتر سمجھا اور جولین کے ساتھ فٹ پاتھ پر چلتی ، کن انکھیوں سے آس پاس سے گزرتے ، ہشاش بشاش لوگوں کو دیکھنے لگی کہ خوش چہرے ہوں یا منظر دونوں ہی نظروں کو بہت بھلے لگتے ہیں۔

    ٭….٭….٭

    شہرام کی عمر تیس کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔ وہ ایک بہت ہی ویل آف فیملی سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس کے دو بڑے بھائی اور ایک بہن امریکا میں کئی سالوں سے مقیم ،اپنی اپنی شادی شدہ زندگی ہنسی خوشی گزار رہے تھے ۔ شہرام ان سب میں چھوٹا اور من موجی تھا ۔ والدین کئی سال پہلے وفات پا چکے تھے ۔ شہرام کی تعلیم اور جوانی کا زیادہ تر حصہ امریکا ہی میں گزرا تھا ۔ اس کے دونوں بھائی بھی اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہاں ہی اپنی اپنی مرضی اور پسند سے شادی کرکے خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔ شہرام کے والدین کی بہت خواہش تھی کہ ان کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے ہی زندگی گزاریں ۔

    شہرام کے والد یوسف خان کے آباءواجداد میں سے زیادہ تر آرمی سے وابستہ رہے تھے۔ اپنی فیملی میں تین بھائیوں میں سے یوسف ہی واحد فرد تھے جو آرمی میں نہیں جا سکے جس کا افسوس ان کے والد کو مرتے دم تک رہا ۔ یوسف کے والد جہانگیر نے ۵۶۹۱ ءاور ۱۷۹۱ ءکی جنگیں بہت بہادری اور شجاعتسے لڑیں تھیں ۔ ۱۷۹۱ءکی جنگ میں انہیں دشمنوں کی قید میں بھی رہنا پڑا ۔اسی چیز نے ان کے اندر وطن سے محبت اور جنوں کو بہت بڑھا دیا تھا ۔اپنے تینوں بیٹوں کو فوجی وردی میں اور وطن کی خاطر جان نثار کرتے دیکھنا ان کی شدید خواہش تھی ۔ ان کی یہ خواہش بڑے دونوں بیٹوں نے کارگل اور سیاچن کے محاذ پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے پوری بھی کی تھی ۔ اپنے جوان بیٹوں کی شہادت نے انہیں بڑھاپے میں بھی جوان رکھا تھا ۔ وہ فخر سے اپنے بیٹوں کا ذکر کرتے ۔ان کی ماں بہ ظاہر مضبوط مگر اندر ہی اندر بیٹوں کی جدائی کا غم دل سے لگائے بہت جلد بیمار ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملیں مگر جاتے جاتے وہ اپنی واحد خوشی، اپنے بیٹے کے سہرے کے پھول کھلتے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر گئیں ۔ بڑے دونوں بیٹوں کو شہادت کی اتنی جلدی تھی کہ اُن کے سہرے کے پھولوں کے بجائے ، قبر کے پھول کھلے تھے ۔

    یوسف خان کی بیوی شہلا بہت اچھی اور محبت کرنے والی خاتون تھی ۔اسی لیے بہت جلد ساس سسر کے دل کے قریب پہنچ گئی ۔ یوسف کی ماں کی اچانک وفات نے اسے بھی بہت دھچکا پہنچایا تھا مگر پھر آنگن میں کھلنے والے ننھے ننھے پھولوں نے اپنی خوشبو اور مہکار سے سب کے دلوں کو پھر سے آبا د کر دیا۔ جہانگیر نے اپنے تینوں پوتوں کے لیے یہی سوچا ہوا تھا کہ وہ فوج میں جائیں گے ۔ وہ اکثر بہت دکھبھری نگاہوں سے یوسف کی طرف دیکھتے اور سر جھٹک کر آسمان کی طرف دیکھ کر آہ بھرتے ۔

    ” کیا تھا مولا اگر اسے بھی شہادت کا رتبہ ملتا۔ اس کے سینے پر بھی آرمی کا میڈل چمکتا مگر اس کی بدقسمتی۔“

    یوسف اپنی محنت اور قابلیت سے اپنے بزنس کو دن رات ترقی دیتا کامیابی کی منزلیں طے کر رہا تھا کہ لوگ اس پر رشک کرتے تھے ۔ اپنے بیٹوں کو اس کی فرماں برداری اور محنت کی مثالیں دیتے تھے ۔ وہ اپنے باپ کی نظروں میں کھوٹے سکے کی طرح تھا۔ساری دنیا کو اس پر فخر تھا ،سوائے اس کے باپ کے۔



    ہاں اگر آج وہ فوج میں ہوتا، تو اس کے باپ کا سرفخر سے بلند ہوتا۔شہلا اکثر یوسف کی حالت دیکھ کر ہنس پڑتی تھی جو باپ کے منہ سے تعریف سننے کے لیے کسی بچے کی طرح ضد کرتا اور منتظر رہتا تھامگر کبھی کبھی اسے بہت دکھ بھی ہوتا کہ اس کا محبوب شوہر کتنی چھوٹی سی خواہش دل میں رکھے ، زندگی گزار رہا ہے کہ اسے اپنی کوئی کامیابی، کامیابی نہیں لگتی ۔ وہ اکثر شہلا سے کہتا تھا کہ

    ” کاش گزرا وقت واپس لوٹ آئے اور وہ اپنے باپ کی خواہش پوری کرسکے۔“

    اب یوسف کو اپنی نوجوانی کی اس ضد اور بحث پر بہت غصہ آتا تھا جو وہ اپنے والدین سے فوج میں نہ جانے کی وجہ سے کرتا تھا۔شاید اپنے باپ کی سختی اور ہدایتوں سے چڑ کر اس نے فوج میں نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ کسی طرح اپنے باپ کی دلی خواہش پوری کرسکے۔اسے امید کی ایک کرن ، اپنے بچوں کی صورت میں نظر آتی تھی جو کام وہ خود نہیں کر سکا، اپنے بچوں سے لینا چاہتا تھا مگر اپنی وفات سے کچھ دن پہلے یوسف کے والد جہانگیر نے بہت محبت سے اس کا ماتھا چوما اور کتنی ہی دیر اس کے چہرے کو اپنی نم آنکھوں سے دیکھتے رہے۔

    ”تم جانتے ہو یوسف دنیا میںکچھ رشتے اپنی جان اور زندگی سے بڑھ کر پیارے اور عزیز ہوتے ہیں۔میرا ایسا ہی رشتہ میری مٹی ، میرے وطن سے بن کر میرے خون کی ہر بوند کے ساتھ دوڑتا، گردش کرتا رہا۔ شاید تمہیں ایسا لگتا ہو کہ میں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہو۔ اپنے وجود سے سینچے پودوں سے محبت فطری چیز ہے یوسف۔ ہم چاہ کر بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے ہیں۔ بس تمہارے معاملے میں فرق یہ ہوا کہ فوقیت میں میری ، مٹی کی محبت ،تم سے جیت گئی!“

    ” مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ہے باباجان۔“ یوسف نے اُن کے ہاتھ چوم لیے ۔

    ” جیتے رہو میرے بچے!مگر میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔ زندگی میں کچھ بھی کرو، کتنی بھی کامیابی حاصل کر لو ، اپنی مٹی ، اپنے وطن سے رشتہ بنائے رکھنا اور یہ بات اپنے بچوں کو بھی سکھانا۔ “

    یوسف نے اپنے باپ سے وعدہ کیا کہ وہ اس رشتے کو ہمیشہ بنائے رکھے گا اور اپنی آخری سانس تک اس وعدے پر قائم بھی رہامگر اس کی طرح اس کے بچے بھی آزاد فضاﺅں کے پنچھی بن کر، پردیس میں جا بسے۔یوسف نے اپنی طرف سے کوشش کی کہ وہ سب پاکستان میں سیٹ ہو جائیں مگر ان کے لیے زیادہ کشش اور ترقی کے بہترین مواقع پردیس ہی میں تھے ۔

    قسمت سے اکلوتی بیٹی کی شادی بھی امریکا میں مقیم اس کے قریبی دوست کے بیٹے سے ہوئی۔ شہرام سب سے چھوٹا تھا ۔ یوسف کے بہت قریب بھی ۔اور سب کی امیدوں اور خواہشوں کا واحد مرکز بھی۔مگر گریجویشن کے بعد شہرام نے بھی باہر جانے کی ضد کی تو یوسف کو اس کی ماننی پڑی ۔ شہرام نے اپنے شوق اور دلچسپی سے ایم بی اے کر کے ، فلم اور ہدایتکاری کے کئی کورس کیے اور بہت سے لوگوں کے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر کام بھی کیا۔پھر اس نے سنجیدگی سے اس شعبے میں قدم رکھا۔ پہلے مختلف ڈاکومنٹری فلمیں بنائیں پھر فلم میکینگ کی طرف آگیا۔

    اس دوران یوسف اسے اکثر پاکستان واپس آنے کو کہتا رہتا۔ شہرام کہتا:

    ” پاپاجان! مجھے ابھی بہت سے کام کرنے ہیں۔ تب ہی آپ کا نام روشن کروں گا۔“

    ” مجھے اس بات کی زیادہ خوشی ہو گی کہ تم میرے نام سے زیادہ ، اپنے ملک کا نام روشن کرو۔“

    یوسف اسے دوٹوک کہتا، تو شہرام ہنس پڑتا اور پھر شرارتاً اپنے باپ سے کہتا۔

    ” ویسے پاپاجان کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ آپ کوہم سب سے زیادہ محبت ، اپنے ملک سے ہے۔“

    یوسف بہت اطمینان بھرے اور فخریہ لہجے میں کہتے ۔