Tag: Harf Kahani

  • چکلے – ساحر لدھیانوی

    چکلے

    ساحر لدھیانوی

     

     



    یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے
    یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
    کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ پر پیچ گلیاں یہ بے خواب بازار
    یہ گمنام راہی یہ سکوں کی جھنکار
    یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    تعفن سے پر نیم روشن یہ گلیاں
    یہ مسلی ہوئی ادھ کھلی زرد کلیاں
    یہ بکتی ہوئی کھوکھلی رنگ رلیاں
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    وہ اجلے دریچوں میں پائل کی چھن چھن
    تنفس کی الجھن پہ طبلے کی دھن دھن
    یہ بے روح کمروں میں کھانسی کی ٹھن ٹھن
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ گونجے ہوئے قہقہے راستوں پر
    یہ چاروں طرف بھیڑ سی کھڑکیوں پر
    یہ آوازے کھنچتے ہوئے آنچلوں پر
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں کے چھینٹے
    یہ بیباک نظریں یہ گستاخ فقرے
    یہ ڈھلکے بدن اور یہ مدقوق چہرے
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہ بھوکی نگاہیں حسینوں کی جانب
    یہ بڑھتے ہوئے ہاتھ سینوں کی جانب
    لپکتے ہوئے پاؤں زینوں کی جانب
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    یہاں پیر بھی آ چکے ہیں جواں بھی
    تنو مند بیٹے بھی ابا میاں بھی
    یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں بھی
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
    یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
    پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
    بلاؤ خدایان دیں کو بلاؤ
    یہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ
    ثناخوان تقدیس مشرق کو لاؤ
    ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں

    ساحر لدھیانوی



  • پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

    پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر



    پورا دکھ اور آدھا چاند
    ہجر کی شب اور ایسا چاند

    دن میں وحشت بہل گئی
    رات ہوئی اور نکلا چاند

    کس مقتل سے گزرا ہوگا
    اتنا سہما سہما چاند

    یادوں کی آباد گلی میں
    گھوم رہا ہے تنہا چاند

    میری کروٹ پر جاگ اٹھے
    نیند کا کتنا کچا چاند

    میرے منہ کو کس حیرت سے
    دیکھ رہا ہے بھولا چاند

    اتنے گھنے بادل کے پیچھے
    کتنا تنہا ہوگا چاند

    آنسو روکے نور نہائے
    دل دریا تن صحرا چاند

    اتنے روشن چہرے پر بھی
    سورج کا ہے سایا چاند

    جب پانی میں چہرہ دیکھا
    تو نے کس کو سوچا چاند

    برگد کی اک شاخ ہٹا کر
    جانے کس کو جھانکا چاند

    بادل کے ریشم جھولے میں
    بھور سمے تک سویا چاند

    رات کے شانے پر سر رکھے
    دیکھ رہا ہے سپنا چاند

    سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
    شبنم تھی یا ننھا چاند

    ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا
    اس کی صورت ہجر کا چاند

    صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
    اپنے عشق میں سچا چاند

    رات کے شاید ایک بجے ہیں
    سوتا ہوگا میرا چاند