Tag: bol entertainment

  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۹

    ”مبارک ہو’ بیٹا ہوا ہے۔” ڈاکٹر نے منصور علی کو اطلاع دی۔ منصور علی یک دم کھل اٹھے۔
    ”اور رخشی … وہ کیسی ہے؟”
    ”وہ بھی بالکل ٹھیک ہیں’ آپ ابھی تھوڑی دیر میں ان سے مل سکتے ہیں۔”
    لیڈی ڈاکٹر کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔ منصور علی یک دم جیسے آسمان پر جا پہنچے تھے۔ وہ اب دو بیٹوں کے باپ تھے۔ روشان کے اکلوتا ہونے کی وجہ سے وہ اس کے سامنے جس طرح گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے تھے’ وہ مجبوری اب یک دم ختم ہو گئی تھی۔ منصور علی کو اس میں کوئی شبہ نہیں رہا تھا کہ رخشی ان کے اور ان کے گھر کے لیے بے حد خوش قسمت ثابت ہوئی تھی۔ وہ جب سے ان کی زندگی میں شامل ہوئی تھی’ سب کچھ بدل گیا تھا’ ہر بازی ان ہی کے ہاتھ آ رہی تھی۔
    ”کون کہتا ہے’ دوسری شادی انسان کو راس نہیں آتی۔ ” کچھ دیر بعد رخشی کے پاس بیٹھے اپنے بیٹے کو گود میں لیے منصور علی نے سوچا تھا۔
    رخشی فخریہ نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ منیزہ کی گری ہوئی سلطنت کا آخری ستون بھی ہلا کر گرانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ اس نے منصور علی کی واحد کمزوری کو بھی ختم کر دیا تھا۔ روشان اور روشان کے ذریعے کوئی دوسرا اب منصور علی کو استعمال نہیں کر سکتا تھا۔
    ”تم مجھے بتاؤ’ تمہیں کیا تحفہ چاہیے؟” منصور علی نے رخشی کو بڑی محبت سے مخاطب کیا۔ ”میں چاہتا ہوں تمہیں اپنے بیٹے کے بدلے میں اتنی قیمتی نہیں تو اس سے کچھ کم قیمتی چیز تو دوں۔”
    ”تحفہ تو میں ضرور لوں گی۔” رخشی نے اطمینان سے کہا۔ ”آپ نے خود کہہ دیا’ اچھا کیا۔ نہ بھی کہتے ‘ تب بھی میں خود آپ سے اپنا تحفہ مانگ لیتی۔”
    ”بھئی! اس لیے تو میں نے یہ موقع نہیں آنے دیا کہ تمہیں خود تحفہ یاد دلانا پڑے۔ آج تک کبھی ایسا ہوا ہے کہ تمہیں مجھ سے مانگ کر تحفہ لینا پڑا ہو۔ ہمیشہ میں ہی تم سے کہتا ہوں۔” منصور علی نے کہا۔




    ”اپنے لیے کیوں نہیں’ صرف بیٹے کے لیے کیوں۔ میں تو دونوں کو منہ مانگا تحفہ دینے کو تیار ہوں۔” منصور علی نے اعتراض کیا۔
    ”نہیں’ آپ میرے بیٹے کو میری مرضی کا تحفہ دے دیں گے تو میرے لیے آپ کی بات ماننا ہی ایک تحفہ ہو گا۔” رخشی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”خیر یہ’ تو نہیں ہو سکتا کہ میں تمہیں بیٹے کی پیدائش پر کچھ بھی نہ دوں مگر ٹھیک ہے۔ پہلے تم بتاؤ’ تمہیں بیٹے کے لیے کیا چاہیے۔” منصور علی جواباً مسکرائے۔
    ”میری ہمت نہیں ہو رہی۔” رخشی یک دم کہتے کہتے ہچکچائی۔
    ”ارے یہ کیا بات ہوئی’ بولو بھئی! کیا چاہیے تمہیں اپنے بیٹے کے لیے۔”
    ”آپ نہ مانے تو؟”
    ”کیوں نہیں مانوں گا’ آج تک کبھی تمہاری مرضی کا تحفہ دینے سے انکار کیا ہے۔ تم نے جس چیز پر ہاتھ رکھا’ میں نے خرید دی بلکہ جس چیز کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا’ میں وہ چیز بھی لے آیا تو پھر اب کیا ہو گیا۔”
    ”تحفے کی مالیت زیادہ ہے’ اس لیے کہہ رہی ہوں۔”
    ”تحفے کی مالیت کو چھوڑو’ تم صرف نام لو پھر اگر میں وہ چیز تمہارے بیٹے کو نہ دوں تو پھر کہنا۔”
    ”سوچ لیں۔”
    ”منصور علی کو سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ منہ سے تب ہی کوئی بات نکالتا ہے جب وہ اس پر پہلے ہی سوچ چکا ہو۔” منصور علی نے بے حد اطمینان اور لاپروائی کے انداز میں کہا۔ ”تم صرف بتاؤ کہ تمہیں اپنے بیٹے کے لیے کیا چاہیے۔”
    رخشی نے ایک نظر مسکراتے ہوئے منصور علی پر ڈالی پھر ان کی گود میں موجود اپنے بیٹے کو دیکھا اور پھر ایک اطمینان بھرا سانس لے کر اس نے کہا۔
    ”میری خواہش ہے کہ آپ اپنی پرانی فیکٹری میرے بیٹے کے نام کر دیں۔”
    منصور علی کے چہرے سے پلک جھپکتے میں مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ ”پرانی فیکٹری؟”
    ”کیوں’ مشکل میں ڈال دیا؟” رخشی عجیب سے انداز میں مسکرائی۔
    ”نہیں ‘ اتنی چھوٹی موٹی فرمائشوں سے میں مشکل میں نہیں پڑا کرتا۔” منصور علی نے جیسے اپنے حواس پر قابو پایا۔”تم سے وعدہ کیا ہے’ اس لیے پورا تو کرنا ہے۔” انہوں نے گود میں لیے ہوئے بیٹے کو چوما۔ ”تم چاہتی ہو یہ فیکٹری میں اس کے نام کردوں’ ٹھیک ہے’ میں کر دیتا ہوں۔ اب تم خوش ہو؟” منصور علی نے مسکراتے ہوئے رخشی سے پوچھا۔
    رخشی کا چہرہ یک دم کھل اٹھا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ منصور علی اتنی آسانی سے اس کی بات مان جائیں گے۔
    ”خوش …؟ آپ کو اندازہ نہیں ہے’ میں بہت خوش ہوں۔” اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
    ”اچھا پھر یہ بتاؤ کہ تمہیں تحفے میں کیا چاہیے؟”
    ”آپ نے اتنا بڑا تحفہ میرے کہنے پر میرے بیٹے کو دیا ہے کہ مجھے اب اور کسی تحفے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔” رخشی نے کہا۔
    ”مگر میری خواہش ہے کہ تم مجھ سے اپنے لیے کچھ مانگو۔” منصور علی نے اصرار کیا۔
    ”نہیں’ میری اب اور کوئی فرمائش نہیں ہے’ مجھے پہلے ہی بہت کچھ مل چکا ہے۔ آپ جیسا شوہر… گھر … بیٹا … سب کچھ … بس اور کچھ نہیں چاہیے مجھے۔” رخشی نے ایک بار پھر انکار کیا۔
    ”اس کا مطلب ہے کہ مجھے اپنی مرضی سے تمہیں کچھ دینا پڑے گا۔” منصور علی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ٭٭٭
    ”منصور چچا سے زیادہ خود غرض انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا۔” اسامہ فون پر کہہ رہا تھا۔ ”مجھے حیرت ہے کہ مجھے آج تک یہ احساس کیوں نہیں ہوا کہ وہ اتنے خود غرض انسان ہیں۔ یہ سب کچھ صرف رخشی کی وجہ سے نہیں ہو رہا’ وہ خود ہی ایک اچھے انسان نہیں ہیں۔ رخشی نے تو صرف ان کے اندر کی چھپی ہوئی کمینگی کو ہم سب کے سامنے لا رکھا ہے۔”
    فون کا ریسیور تھامے صبغہ چپ چاپ اسامہ کو اپنے دل کی بھڑاس نکالتے سن رہی تھی۔ وہ بے حد غصے اور طیش میں تھا۔ منصور سے ملاقات کے فوراً بعد اس نے کئی بار فون کر کے صبغہ سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر رخشی کی ہدایت کے مطابق ملازم فون پر اسامہ کی آواز سنتے ہی صبغہ کے گھر نہ ہونے کا کہتے رہے۔ منصور علی کے رخشی کے پاس ہاسپٹل چلے جانے کے بعد صبغہ نے اسامہ کو فون کیا’ وہ گھر پر ہی تھا اور اب وہ اسے کچھ گھنٹے پہلے منصور علی کے ساتھ آفس میں ہونے والی گفتگو بتاتے ہوئے پیچ و تاب کھا رہا تھا۔
    ”اور تم … تم مجھے یہ بتا رہی ہو کہ انہوں نے تمہیں وکیل سے مل کر خلع کے کاغذات پر سائن کرنے کے لئے کہا ہے۔ آخر تم نے ان کے منہ سے یہ سن کیسے لیا۔ تمہیں چاہیے تھا’ تم انہیں کھری کھری سناتیں۔ آخر وہ اپنے آپ کو سمجھنے کیا لگے ہیں۔ دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ خوف نہیں آتا انہیں؟ خوف نہیں آتا تو کم از کم کچھ شرم ہی کر لیں۔ اپنی بیٹیوں کو طلاق دلوا رہے ہیں’ صرف اپنا گھر بسانے کے لیے۔ خاندان والے جو کچھ ان کے بارے میں کہہ رہے ہیں’ ان کو سننا چاہیے تاکہ انہیں پتا چلے کہ دولت سارے عیب نہیں ڈھانپ لیتی۔ لوگ سامنے بات نہ کر سکیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیچھے بھی خاموش رہتے ہیں۔”
    اسامہ یہ جاننے کے باوجود کہ صبغہ اس معاملے میں پوری طرح بے بس ہے’ بولتا جا رہا تھا۔
    ”جب تمہارے والد بزرگوار مجھ سے گفتگو فرما رہے تھے تو میرا دل چاہا تھا۔ میں دو جھانپڑ رسید کروں ان کے اور ان کی طبیعت صاف کر دوں مگر مجھے صرف اپنے رشتے کا لحاظ تھا جو ان کو بالکل نہیں تھا … مگر یہ جس طرح کی حرکتیں فرما رہے ہیں’ یہ بہت جلد پٹیں گے … مجھ سے نہیں تو کسی اور سے سہی۔ ” اسامہ نے ہر لحاظ اور احترام بالائے طاق رکھ دیا تھا۔
    ”تم کیوں چپ ہو’ بولو کچھ۔ ” اسامہ کو اچانک خیال آیا کہ وہ بہت دیر سے خاموش ہے۔
    ”میں کیا بولوں’ کہنے کے لیے باقی کیا رہ گیا ہے۔” صبغہ نے پھیکے لہجہ میں کہا۔
    ”میں تمہیں صاف صاف بتا رہا ہوں’ تم کسی قسم کے کسی کاغذ پر سائن نہیں کرو گی۔ میں منصور چچا کو بتا چکا ہوں کہ وہ مجھ سے طلاق کی توقع نہ رکھیں اور وہ مجھے تو کسی طرح پریشرائز نہیں کر سکتے اور اب ان کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ تمہیں مجبور کریں اور تم … تم کسی کاغذ پر سائن نہیں کرو گی۔ انہیں بتا دو کہ کسی بھی قیمتی پر مجھ سے خلع نہیں لو گی’ سنا تم نے۔” اسامہ نے سختی سے کہا۔
    ”اور اگر پاپا نے مجھے گھر سے نکال دیا تو … ؟ مجھے’ روشان’ زارا اور رابعہ کو؟”
    ”تو کیا ہو گا’ کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اسامہ نے کہا۔ ”تم میرے پاس آ سکتی ہو’ میری بیوی ہو تم۔”
    ”اور روشان ‘ رابعہ اور زارا۔ وہ کہاں جائیں گے۔”
    ”وہ تمہاری ممی کے پاس جا سکتے ہیں۔”
    ”میری ممی انہیں کہاں رکھیں گی’ کوئی گھر ہے ان کا؟ وہ خود صفدر انکل کے پاس رہ رہی ہیں اور جس طرح رہ رہی ہیں’ صرف میں جانتی ہوں۔”
    ”روشان’ رابعہ اور زارا تمہاری ذمہ داری نہیں ہیں۔ وہ تمہارے والدین کی ذمہ داری ہیں۔ تمہیں صرف اپنے اور میرے بارے میں سوچنا چاہیے’ اپنی اور میری زندگی کے بارے میں۔” اسامہ نے کہا۔
    ”مجھے ان کے بارے میں بھی سوچنا ہے’ میں ان کو فٹ پاتھ پر نہیں لا سکتی۔ آپ پاپا کو جانتے ہیں’ ان کے نزدیک ہماری کتنی اہمیت ہے’ یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ پاپا تو ہم سب لوگوں کو گھر سے نکالنے میں چند منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔”
    ”تو اس کا مطلب ہے کہ تم طلاق کے بارے میں سوچ رہی ہو۔” اسامہ نے بے یقینی سے کہا۔
    ”نہیں’ میں طلاق کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہوں۔ میں تو آپ کو اپنے خدشات بتا رہی ہوں۔ میرے آگے کنواں ہے اور پیچھے کھائی۔ میں تو کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہی ہوں۔” صبغہ نے اسامہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۸

    ”آپ کو وہاں نہیں جاناچاہیے تھا ممی!” امبر نے تھکے ہوئے اندازمیں کہا۔
    ”آپ کو یہ سب کچھ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ سب کچھ کرنے سے کیا حاصل ہوا۔ صرف بے عزتی۔” منیزہ اس کی بات پر بھڑک اٹھیں۔
    ”بے عزتی۔ بے عزتی تو میں اس کی کرکے آئی ہوں اور ایسی کرکے آئی ہوں کہ وہ ساری عمر یاد رکھے گی۔”
    ”وہ سب کچھ پاپا کو بتا دے گی۔” امبر نے اپنے خدشے کا اظہار کیا۔
    ”میں منصور سے ڈرتی نہیں ہوں۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ وہ منصور کو سب کچھ بتا دیتی ہے۔ اچھا ہے وہ منصور کو سب کچھ بتائے۔ سب کچھ۔ تاکہ اسے پتا چلے کہ اب میں اس کے ساتھ کیا کرنے والی ہوں۔ منیزہ بولتی جارہی تھیں۔
    ”اسے پتہ چلنا چاہیے کہ میں اب اسے چین سے جینے نہیں دوں گی۔ نہ اس کو۔ نہ اس کی اس بیوی کو۔”
    منیزہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی واپس آئی تھیں اور اب وہ امبر کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ امبر نے رخشی کے گھر جانے سے پہلے بھی منیزہ کو بہت روکنے کی کوشش کی تھی، مگر منیزہ نے اس کی ایک نہیں سنی اور اب اس کی واپسی پر بھی وہ منیزہ کی اس حرکت پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی تھی۔ جبکہ منیزہ حسبِ معمول اسے جھڑکنے میں مصروف تھیں کہ یہ سب کچھ اس کی وجہ سے ہوا تھا۔
    ”میں ابھی کچھ دیر میں شکیل بھائی کے پاس جاؤں گی سب کچھ بتا دوں گی انہیں، پھر دیکھنا تم وہ کرتے کیا ہیں تمہارے باپ کے ساتھ۔” منیزہ نے اپنے بھائی کا نام لیتے ہوئے کہا۔
    اور تب ہی منیزہ نے منصور علی کی گاڑی کی آواز سنی۔ امبر اور اس کے درمیان نظروں کا تبادلہ ہوا منیزہ کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔
    ”دیکھا کیسے دوڑا چلا آیا ہے اپنی اس چڑیل کی تکلیف پر۔ ورنہ اس وقت گھر آنے کے لیے پہلے کبھی اس کے پاس وقت ہی نہیں رہا۔”
    ”امبر نے منیزہ کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا اس کے چہرے پر تشویش تھی۔ وہ ماں اور باپ کے درمیان ایک اور جھگڑے کی توقع کر رہی تھی۔ کیونکہ منیزہ جھگڑے کے موڈ میں تھیں اور منصور علی کا اس وقت اس طرح بے وقت آنا ظاہر کر رہا تھا کہ رخشی نے انہیں اس معاملے کی اطلاع دے دی ہوگی۔ اس نے منیزہ اور منصور علی کے درمیان زندگی میں پہلے کبھی جھگڑے ہوتے نہیں دیکھے تھے اور اب جب اچانک اس کے سامنے جھگڑے ہونے لگے تھے تو وہ شدید قسم کے ڈپریشن کا شکار ہو رہی تھی اور یہ جھگڑے اب جو نوعیت اختیار کر گئے تھے۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ بہت جلد نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو جائے گی۔
    منیزہ کی بات کے جواب میں امبر نے کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف دھڑکتے دل کے ساتھ منصور علی کے اندر آنے کا انتظار کرتی رہی، اور چند لمحوں میں منصور علی کالاؤنج میں نمودار ہونے والا چہرہ اس کی بدترین خدشات کی تصدیق کر رہا تھا۔ ان کے چہرے اور آنکھوں میں غصے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔
    امبر کو توقع تھی کہ وہ آتے ہی چیخنے چلانے لگیں گے مگر ایسا نہیں ہوا تھا وہ اندر آکر صوفے پر بیٹھی ہوئی منیزہ کے بالمقابل کھڑے ہو گئے اور انہوں نے درشت لہجے میں امبر سے کہا۔
    ”یہاں سے دفع ہو جاؤ۔” امبر حیرانی سے ان کا چہرہ دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ منصور نے اسی سانس میں منیزہ سے کہا۔
    ”تم اپنا سامان پیک کرو اور یہاں سے نکل جاؤ۔ ابھی اور اسی وقت۔” امبر وہاں سے جاتے جاتے رک گئی۔
    ”یہ میرا گھر ہے۔ کوئی مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتا۔ سمجھے تم۔”
    منیزہ نے بلند آواز میں کہا۔
    ”تمہارا گھر؟ کیسا گھر؟ کہاں سے لائی تھیں یہ گھر؟ باپ نے دیا تھا؟ بھائیوں نے دیا تھا؟ کس نے دیا تھا؟” منصور علی یک دم چلانے لگے۔
    ”یہ میرا گھر ہے۔ صرف میرا۔ اور میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ تم ابھی اور اسی وقت اس گھر سے نکل جاؤ؟”
    ”میں یہاں سے نکل جاؤں، تاکہ تم اس عورت کو یہاں لا کر عیش کرو۔” منیزہ نے بھی اسی طرح چلاتے ہوئے کہا۔
    ”وہ عورت میری بیوی ہے۔”
    ”میں بیوی ہوں تمہاری۔”




    ”بیوی تھیں اب نہیں ہو۔ میرا وکیل طلاق کے کاغذات تیار کر رہا ہے اور میں تمہیں زبانی طور پر ابھی اور اسی وقت تین بار طلاق دیتا ہوں۔ اب یہاں سے چلی جاؤ۔” منیزہ کا رنگ یک دم سفید ہو گیا جبکہ امبر بے یقینی کے عالم میں مصنور علی کا چہرہ دیکھنے لگی۔
    ”سنا نہیں تم نے۔ میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے۔ یہاں سے چلی جاؤ۔’ منصور علی ایک بار پھر بلند آواز میں چلائے۔
    ”تم۔ تم۔ اس طرح مجھے طلاق کیسے دے سکتے ہو؟” منیزہ کی آواز اور انداز دونوں میں لڑکھڑاہٹ تھی۔
    ”کیوں نہیں دے سکتا۔ دے چکا ہوں تمہیں میں طلاق۔”
    ”میں۔ میں اس گھر سے نہیں جاؤں گی۔ کبھی نہیں جاؤں گی۔” منیزہ یک دم ہذیانی انداز میں چلانے لگیں۔
    ”یہ میرا گھر ہے۔ میرا گھر ہے یہ۔ تمہارے کہنے پر نہیں جاؤں گی میں یہا ںسے۔”
    اس بار منصور علی نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے منیزہ کو بازو سے پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے انہیں وہاں سے لے جانے لگے۔ امبر یک دم جیسے ہوش میں آگئی۔ منیزہ مزاحمت کر رہی تھیں۔
    ”پاپا۔ پاپا۔ ممی کو چھوڑ دیں۔ مت نکالیں انہیں گھر سے۔ آپ پاگل ہوگئے ہیں۔” امبر بھاگتی ہوئی ان دونوں کے پیچھے آگئی۔
    ”ہاں پاگل ہو گیا ہوں۔” منصور بلند آواز میں دھاڑے۔
    ”پاگل کر دیا ہے تم لوگوں نے مجھے۔” وہ اسے مسلسل باہر کی طرف گھسیٹتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
    ”اس پاگل پن سے ہی تو چھٹکارا چاہتا ہوں۔”
    ”یہ گھر ہمارا ہے۔ آپ میری ممی کو یہاں سے نہیں نکال سکتے۔ رخشی کیلیے آپ ہمارے ساتھ یہ سب کر رہے ہیں۔” امبر نے منیزہ کے بازو کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں میں اس کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہوں، کیونکہ وہ میری واحد بیوی ہے۔ تم لوگوں سے میرا ہر رشتہ ختم ہو چکا ہے۔ تمہیں اس عورت سے ہمدردی ہو رہی ہے تو تم بھی اس عورت کے ساتھ یہاں سے نکل جاؤ اور دوبارہ مجھے اپنی شکل دکھانے کی کوشش مت کرنا۔ چلی جاؤ تم بھی اس عورت کے ساتھ۔”
    منصور اب اس پر بھی دھاڑ رہے تھے وہ منیزہ کو کھینچتے ہوئے لاؤنج سے باہر پورچ میں لے آئے تھے۔ دن کے اجالے میں گھر کے اندر او رباہر کام کرنے والے ملازمین گم صم یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ منیزہ اب بھی خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر ان کی مزاحمت اب پہلے کی نسبت زیادہ بے سود ہو رہی تھی۔ امبر روتے ہوئے مسلسل منیزہ کے بازو کو منصور علی سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر منصور علی کے سامنے اس کی یہ کوشش بھی ناکام ثابت ہو رہی تھی۔
    ”پلیز۔ پاپا۔ پلیز۔ اس طرح تماشا مت بنائیں ہمارا۔” پلیز وہ روتے ہوئے منصور کی منت سماجت کرنے لگی۔
    ”تماشا۔ یہ عورت دوسروں کا تماشا بنانے کا فن جانتی ہے تو اسے بھی تو اس تماشے کا ایک حصہ بننا چاہیے یہ کیوں گئی تھی رخشی کے گھر؟ کیوں گئی تھی وہاں؟”
    منصور علی اس بات کی پرواہ کیے بغیر چلا رہے تھے کہ اب ان کی آواز باہر کام کرنے والے ملازمین تک بھی پہنچ رہی تھی۔
    ”کیوں بے عزتی کی اس نے اس کی؟ کیوں گالیاں بکیں اس نے اسے؟”
    ”پاپا! آپ انہیں معاف کر دیں، ان سے غلطی ہو گئی، وہ دوبارہ وہاں نہیں جائیں گی۔ وہ دوبارہ کبھی ایسا کچھ نہیں کریں گی۔” امبر اب بری طرح رو رہی تھی۔
    ”آپ کو ہم سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ ممی کو اور ہمیں رہنے دیں، اس گھر میں… اس طرح باہر نہ نکالیں۔”
    ”میں ہزار بار جاؤں گی اس عورت کے گھر… بار بار اس کی اسی طرح بے عزتی کروں گی… تم کیسے روک لو گے مجھے… اس گھر سے نکال دو گے، تب بھی وہاں جاؤں گی۔”
    منیزہ چلائیں۔ منصور نے پوری قوت سے ان کے چہرے پر تھپڑ مارا۔
    ”تم وہاں جاؤ گی تو میں تمہیں قتل کروا دوں گا۔”
    ”ساری عمر تمہاری جیل میں گزر جائے گی۔”
    ”گزر جائے مگر تم سے تو جان چھوٹ جائے گی میری۔”
    ”پاپا پلیز… پلیز… یہ مت کریں۔” امبر نے روتے ہوئے مداخلت کی۔
    ”تم اندر چلی جاؤ، میں تمہیں یہاں سے نہیں نکال رہا مگر اس عورت کو میں نہیں رکھوں گا۔”
    ”میں ممی کو نہیں چھوڑ سکتی۔ میں انہیں نہیں چھوڑ سکتی۔”
    ”پھر جاؤ ماں کے ساتھ، دھکے کھاؤ، چوکیدار گیٹ کھولو۔” منصور نے زہر آلود انداز میں اس سے کہتے ہوئے چوکیدار سے کہا۔
    چوکیدار جو گھبراہٹ کے عالم میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اس نے قدرے ہڑبڑاتے ہوئے گیٹ کو کھول دیا۔
    امبر نے منیزہ کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کی۔ منصور نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ وہ گیٹ کے درمیان میں کھڑا تھا۔
    ”میری بات سنو امبر! اس گیٹ کو پار کرکے اس عورت کے ساتھ جاؤ گی تو دوبارہ یہ گیٹ تمہارے لیے بھی نہیں کھلے گا، کبھی نہیں۔ اس عورت کو رہنے دو، تم واپس اندر چلی جاؤ۔” منصور علی نے بے حد سرد اور تنبیہی انداز میں امبر سے کہا۔
    ”اندر کیا ہے؟” امبر نے روتے ہوئے گیٹ کے اندرونی جانب اپنے گھر کی طرف اشارہ کیا۔
    ”کچھ رہ گیا ہے اندر؟ میرا تو باپ تک نہیں ہو گا وہاں پھر کیا کرنا ہے مجھے وہاں رہ کر۔ آپ کو اس گیٹ کو کھولنے کے بارے میں کبھی سوچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی… میں اب مرکر بھی یہاں نہیں آؤں گی۔” اس نے اپنے بازو کو چھڑاتے ہوئے کہا۔
    ”سب کچھ ختم کر دیا آپ نے… سب کچھ… سب کچھ مٹی کرکے رکھ دیا آپ نے… اور میں نے اس مٹی میں آپ کے ساتھ جڑنے والا ہر رشتہ دفنا دیا۔ بہت چھوٹے آدمی تھے آپ…” وہ اب الٹے قدموں گیٹ کو کراس کر رہی تھی۔
    ”بہت چھوٹے آدمی…”
    ”گیٹ بند کردو۔” منصور علی بلند آواز میں چلائے اور پلٹ کر اندر جانے لگے۔
    ”کھلا رہنے دیں اسے۔” چوکیدار تیز رفتاری سے گیٹ کو بند کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ امبر اسی طرح پیچھے جاتی ہوئی پھر چلائی۔
    ”کھلا رہنے دیں اسے… میں اندر نہیں آؤں گی… ممی اندر نہیں آئیں گی… کوئی نہیں آئے گا آپ کے گھر بھی… کوئی نہیں۔” وہ اب جیسے پاگلوں کی طرح چلا رہی تھی۔
    ”سنا آپ نے… سنا آپ نے؟… آپ سن لیں… کان کھول کر سن لیں… امبر کی شکل اب دوبارہ نہیں دیکھیں گے آپ! مر کربھی نہیں۔”
    منیزہ گیٹ کے سامنے اسی جگہ پر بیٹھی رو رہی تھیں۔ انہوں نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ گیٹ اب بند ہو رہا تھا، بہت دور تیز تیز قدموں کے ساتھ منصور علی اندر جارہے تھے۔ بند ہوتے ہوئے گیٹ سے منیزہ نے برستی آنکھوں کے ساتھ اس شخص کی پشت کو دیکھا تھا۔ وہ شخص چند لمحے پہلے اس کا پورا جہاں تھا۔ بند ہوتے ہوئے گیٹ نے زمین پر پہلی بار کسی کے آسمان اور جہاں کو نظروں سے اوجھل کر دیا تھا۔
    صبغہ پانچ دن کے لیے اپنے کالج کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ مری ٹرپ پر گئی ہوئی تھی۔ وہ منصور اور منیزہ کے درمیان ہونے والی چپقلش اور تلخ کلامی سے واقف تھی اور وہ اس پر فکر مند بھی تھی مگر اس نے کبھی یہ تصور نہیں کیا تھا کہ منصور دوسری شادی جیسا قدم اٹھا سکتے تھے اور وہ بھی رخشی جیسی لڑکی سے۔
    وہ اسی دن ٹرپ سے رات کو واپس آئی جس دن منصور نے منیزہ کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیا تھا۔ اس نے سہ پہر کے قریب منصور علی کو واپسی کے سفر کے دوران ایک دوست کے موبائل سے فون کیا۔ منصور کا لہجہ اور انداز اسے خلاف معمول بہت ترش اور اکھڑا ہوا لگا، وہ کچھ حیران ہوئی۔
    ”پاپا… میں صبغہ بول رہی ہوں۔” اس نے ایک بار پھر اپنا نام دہرایا۔ ایک لمحے کے لیے اسے اندیشہ ہوا کہ شاید منصور نے اس کی آواز پہچانی نہیں، اس لیے وہ اس سے اتنی تلخی سے بول رہے ہیں۔
    ”جانتا ہوں کہ تم صبغہ بول رہی ہو۔” منصور کے لہجے میں اب ترشی کے ساتھ ساتھ جھنجھلاہٹ بھی تھی۔
    ”میں نے آپ کو بتانا تھا، ہم نو بجے کالج پہنچ رہے ہیں۔ آپ گاڑی بھجوا دیں گے یا پھر میں اپنی فرینڈ کے ساتھ آجاؤں۔ وہ مجھے آفر کر رہی ہے کہ اس کا ڈرائیور مجھے ڈراپ کر دے گا۔” صبغہ نے منصور کے لہجے پر قدرے محتاط ہوتے ہوئے اپنی فرینڈ کی آفر دہرائی۔
    ”فرینڈ سے کہنا وہی تمہیں اپنی گاڑی پر ڈراپ کر دے گی۔” منصور نے کسی سلام دعا کے بغیر روکھے انداز میں کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔
    صبغہ بے یقینی کے عالم میں اپنے موبائل کو دیکھتی رہی۔ منصور علی کبھی اس طرح بات نہیں کرتے تھے جس طرح انہوں نے اب کی تھی۔ پچھلے کچھ ماہ میں اگرچہ منیزہ سے ان کے جھگڑے ہوتے رہے تھے اور وہ بچوں کو بھی نظر انداز کرتے رہے تھے مگر اس کے باوجود وہ ان سے کبھی اس طرح پیش نہیں آئے تھے جس طرح اب… صبغہ کو بہت عجیب سا احساس ہوا۔
    ”ہو سکتا ہے پاپا کسی وجہ سے پریشان ہوں یا پھر مصروف ہوں اور میں نے انہیں اچانک فون کرکے پریشان کر دیا ہو، اس لیے وہ اس طرح بات کر رہے ہوں۔” اس نے اپنے آپ کو تسلی دینے کی کوشش کی۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۷

    وہ دونوں آواری میں بیٹھے ہوئے تھے، رخشی سلور گرے سلک کی ساڑھی باندھے ہوئے تھی، اس کے کھلے بال جسم کی حرکت کے ساتھ اس کے سیلو لیس بلاؤز سے نظر آنے والے بازوؤں پر گرتے تو وہ کبھی ہاتھ کبھی سر اور گردن کے جھٹکے سے انہیں پیچھے پھینک دیتی۔
    منصور علی اس پر سے نظریں نہیں ہٹا پارہے تھے۔ وہ دونوں سارا دن آفس میں ساتھ ہوتے تھے۔ منصور علی سارا دن اسے دیکھتے رہتے، اس سے باتیں کرتے رہتے، اس کے باوجود وہ جب بھی رات کو اس کے ساتھ ڈنر کے لیے کہیں جاتے، رخشی انہیں اسی طرح مسمرائز کر دیا کرتی تھی۔
    منصور علی کے لیے ہر بار اسے بنا سنورا دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ وہ کل زیادہ اچھی لگ رہی تھی یا آج… وہ ہر بار پہلے سے زیادہ پُرکشش اور حسین لگتی تھی اور منصور علی خود کو ہر بار پہلے سے زیادہ مجبور او ربے بس پاتے تھے۔ انہیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا تھا کہ رخشی دنیا کی سب سے حسین لڑکی ہے۔
    ”آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کو مجھ سے کوئی خاص بات کرنی ہے۔” رخشی نے اپنے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے منصور علی کو یاد دلایا۔
    وہ دونوں ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہاں آکر بیٹھے تھے اور منصور علی نے دوپہر میں ڈنر کا پروگرام طے کرتے ہوئے کہا تھا۔
    ”آج مجھے تم سے ایک خاص بات کرنی ہے۔”
    رخشی تب ان کے آفس میں بیٹھی تھی۔ اس نے منصور علی کے چہرے کو غور سے دیکھا اور مسکرا دی۔
    ”ایسی بھی کیا خاص بات ہے؟”
    ”ہے کوئی خاص بات… میں چاہتا ہوں، تم آج بہت اچھی طرح تیار ہو، میرے ساتھ ڈنر پر باہر جانے کے لیے۔”
    رخشی ان کی بات پر کھکھلا کر ہنس پڑی۔” میں آپ کے ساتھ جانے کے لیے ہر بار ہی خاص طور پر تیار ہوتی ہوں۔ میرے لیے آپ کے ساتھ ڈنر پر جانا کوئی عام واقعہ نہیں ہوتا۔”




    ”میں چاہتا ہوں آج تم ساڑھی پہنو… تم پر ساڑھی بہت اچھی لگتی ہے۔” منصور علی نے ایک اور فرمائش کی۔
    ”مجھے بھی ساڑھی بہت اچھی لگتی ہے۔ مگر وہ خاص بات کیا ہے آپ یہاں نہیں بتا سکتے۔ مجھے تو بہت تجسس ہو رہا ہے۔” رخشی نے بڑے انداز سے کہا۔
    ”نہیں، وہ خاص بات میں یہاں نہیں بتا سکتا۔ یہ جگہ ایسی باتوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔” منصور نے بھی اسی انداز میں کہا۔
    ”تو ٹھیک ہے پھر ڈنر کا انتظار کرنا پڑے گا۔”
    اور اب وہ منصور علی کو وہ گفتگو یاد دلا رہی تھی۔
    ”دراصل میں تم سے بات کرنے کے لیے مناسب الفاظ تلاش کر رہا ہوں، میں بہت دنوں سے تم سے ایک بات کہنا چاہتا تھا مگر ہر بار میری ہمت جواب دے جاتی تھی۔ آج بہر حال میں نے یہ طے کر لیا کہ جو بھی ہو مجھے آج تم سے یہ بات کہہ دینا ہے۔” منصور علی بڑی سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، جب کہ رخشی بے نیازی سے مشروب پینے میں مصروف تھی۔
    ”رخشی میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
    منصور علی کا خیال تھا کہ رخشی یک دم حیران ہو جائے گی۔ نروس ہو گی، کہے گی میں ایسی بات کی توقع ہی نہیں کر رہی تھی۔ بے یقینی سے انہیں دیکھے گی… لیکن ان کی کوئی توقع پوری نہیں ہوئی۔ رخشی کے چہرے پر حیرت آئی نہ بے یقینی… شاک نظر آیا نہ اس کا رنگ بدلا… نہ اس کے ہونٹ کپکپائے۔
    اس نے ان کی بات ان کے چہرے پر نظریں جما کر سنی اور پھر ٹیبل سے مشروب کا گلاس دوبارہ اٹھاتے ہوئے بڑے اطمینان سے کہا۔ ”کیوں…؟”
    منصور علی اس سوال کی توقع نہیں کر رہے تھے اور شاید اس ردِّ عمل کی بھی۔
    ”کیوں…؟ کے بارے میں تو میں کچھ نہیں بتا سکتا۔ صرف یہ جانتا ہوں کہ مجھے تم سے محبت ہے اور میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” منصور علی نے کہا۔ رخشی نے مشروب کا ایک اور گھونٹ لیا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے گلاس کو نیچے رکھ دیا۔
    ”میں جانتی ہوں آپ کومجھ سے محبت ہے اور یقینا آپ کو بھی پتا ہو گا کہ مجھے بھی آپ سے محبت ہے۔ مگر شادی…” وہ رک گئی۔
    ”تم نے بات ادھوری کیوں چھوڑ دی؟”
    منصور علی کچھ بے چین ہوئے۔
    ”میں نے آپ کے ساتھ شادی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔” رخشی نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔
    ”کیوں؟” منصور علی کو جسے شاک لگا۔
    ”کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ کو کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔”
    ”کیسی تکلیف؟”
    ”آپ کے گھر والے؟” رخشی نے ایک بار پھر بات ادھوری چھوڑ دی۔
    ”رخشی! میرے گھر والے میرا مسئلہ ہیں۔ تمہیں ان سے کسی قسم کا خدشہ نہیں ہونا چاہیے۔” منصور علی نے فوراً کہا۔
    ”مجھے ان سے اپنے بارے میں کوئی خدشہ نہیں ہے، میں آپ کے بارے میں پریشان ہوں میں نہیں چاہتی آپ کسی پریشانی کا شکار ہوں۔”
    ”تم فکرمند مت ہو، میں اس صورتِ حال کو ہینڈل کر لوں گا۔ میں اس سارے معاملے پر غور کر چکا ہوں اور پھر فوری طور پر تو اس شادی کے بارے میں میرے اور تمہارے علاوہ کسی اور کو پتا نہیں چلے گا۔ تم اسی طرح آفس آتی رہو گی۔” منصور علی نے کہا۔
    ”میں خفیہ شادی پر یقین نہیں رکھتی۔” رخشی نے بہت سنجیدگی سے کہا۔ ”نہ ہی میرے گھر والے مجھے ایسی کوئی شادی کرنے دیں گے۔” منصور علی کی جان جیسے حلق میں اٹک گئی۔ رخشی نے اپنی بات جاری رکھی۔
    ”پھر شادی سے کیا فرق پڑتا ہے۔ مجھے آپ سے محبت ہے اور میں آپ کے ساتھ شادی کے بغیر بھی بہت اچھی زندگی گزار رہی ہوں۔ پھر ضروری تو نہیں کہ اس تعلق کو کسی رشتے کا نام دیا جائے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ سے محبت کرکے میں نے ایک غلطی کی ہے اور شاید اس سے بھی بڑی غلطی یہ زندگی، جو آپ کے ساتھ گزاری ہے مگر میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔” رخشی کے چہرے پر اب اداسی نظر آرہی تھی۔ منصور علی کی بے چینی میں اضافہ ہونے لگا۔
    ”میں بہت پہلے ہی یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ آپ مجھ سے شادی نہیں کر سکیں گے۔ اعلانیہ شادی… اور میں نے اس حقیقت کے ساتھ بھی کمپرومائز کر لیا تھا۔ ہم دونوں اس طرح بھی اچھی زندگی گزار سکتے ہیں، کم از کم اس وقت تک، جب تک میرے گھر والے میری شادی کہیں اور نہیں کر دیتے۔” منصور علی بے یقینی سے اسے دیکھنے لگے۔
    ‘تم… تم… کسی دوسرے سے شادی کس طرح کر لو گی۔ میرے ساتھ اس طرح کی زندگی گزارتے رہنے کے بعد۔” منصور علی کہے بغیر نہیں رہ سکے۔
    ”آپ بھی تو ایک کامیاب شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں اس سب کے باوجود…” منصور علی جواباً کچھ نہیں بول سکے، کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد انہوں نے کہا۔
    ”میری شادی شدہ زندگی کامیاب نہیں ہے۔ تم اچھی طرح جانتی ہو…”
    ”کامیاب ہو یا نہ ہو، شادی شدہ زندگی تو ہے نا… آپ کا ایک گھر ہے… بچے ہیں… مستقبل ہے… آپ ہر طرح سے محفوظ ہیں، حالانکہ آپ ایک مرد ہیں۔ میں تو پھر ایک لڑکی ہوں۔ جسے ہر قدم پر تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ میری بھی خواہش ہے کہ میرا ایک گھر ہو… بچے ہوں… شوہر ہو… میرا مستقبل محفوظ ہو…”
    ”مگر تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔”
    ”اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے میں شادی کے بعد بھی آپ ہی سے محبت کرتی رہوں، مگر میں صرف محبت کے نام پر تو زندگی نہیں گزار سکتی۔” رخشی نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    منصور علی کے کانوں میں جیسے گھنٹیاں بجنے لگیں۔ وہ وہی باتیں کر رہی تھی جن کا ذکر ہارون کمال نے کیا تھا۔ وہ ایک بار پھر ہارون کمال کی ذہانت اور دور اندیشی کے قائل ہو گئے۔ ہارون کمال نے رخشی کے بارے میں جو کہا تھا ٹھیک کہا تھا۔
    ”میں اسی لیے تو تم سے شادی کرناچاہتا ہوں۔ تمہیں وہی تحفظ دینے کے لیے۔” منصور علی نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے کہا۔
    ”خفیہ شادی… جسے آپ کسی وقت بھی ختم کر سکتے ہیں۔”
    ”میں کیوں ختم کروں گا اس شادی کو… میں تم سے محبت کرتا ہوں رخشی!”
    ”آپ ٹھیک کہتے ہیں میں جانتی ہوں آپ کومجھ سے محبت ہے لیکن اس کے باوجود میں خفیہ شادی کرنا نہیں چاہتی، اس سب کو اسی طرح چلنے دیں۔” رخشی نے قطعیت سے کہا۔
    ”رخشی! میں وقتی طور پر خفیہ شادی کر رہا ہوں، وقت آنے پر میں اس کے بارے میں سب کو بتاد دوں گا۔” منصور علی نے پینترا بدلا۔
    ”آپ نے اپنی بیوی اور فیملی کے ردِّ عمل کے بارے میں سوچا ہے؟ اگر انہوںنے آپ کو مجھے طلاق دینے پر مجبور کیا تو…؟” رخشی اب بھی سنجیدہ تھی۔
    ”ایسا نہیں ہوگا… ایسا کبھی بھی نہیں ہو گا۔ میں تمہیں کسی بھی صورت میں طلاق نہیں دوںگا۔” منصور علی نے حتمی لہجے میں کہا۔
    ”آپ ان کے ردِّ عمل کا سامنا کس طرح کریں گے۔ ان کے پریشر کو کیسے ہینڈل کریں گے۔ خاص طور پر امبر کو… آپ اس سے بہت محبت کرتے ہیں اور وہ میری اور آپ کی شادی کو کبھی برداشت نہیں کرے گی۔”
    ”میں اس سے بہت محبت کرتا ہو مگر میں اس کو اپنے اور تمہارے درمیان آنے نہیں دوں گا۔ میں تم سے زیادہ اس سے محبت تو نہیں کرتا۔” رخشی کے چہرے پر بے اختیار ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
    ”آپ نے آج تک اس کی کسی بات کو نہیں ٹالا… اس کی کوئی بات رد نہیں کی۔ اس بات کو کیسے رد کر سکیں گے۔” اس نے اپنی مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے کہا۔
    ”پہلے کی بات اور تھی۔ تب میری زندگی میں تم نہیں آئی تھیں۔ اب کی بات اور ہے۔ اگر میں نے کبھی اس کی کوئی بات رد نہیں کی تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اس کی کوئی بات رد کروں گا بھی نہیں۔” منصور علی نے کہا۔
    رخشی کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، منصور علی نے اچانک ایک انگوٹھی نکال کر میز پر رخشی کے سامنے رکھ دی۔ رخشی کی نظریں اس انگوٹھی پر جم گئیں۔ اس کی آنکھوں میں پسندیدگی تھی، کچھ دیر تک انگوٹھی کو دیکھتے رہنے کے بعد اس نے انگوٹھی اٹھانے کی بجائے اپنا ہاتھ منصور علی کی طرف بڑھا دیا۔ منصور علی کے چہرے پر چمک آگئی۔ رخشی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے منصور علی نے دوسرے ہاتھ سے انگوٹھی رخشی کی انگلی میں پہنا دی۔
    ٭٭٭




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۶

    ”تمہارے گھر میں نے کل بھی پیغام بھیجا تھا مگر تم کل آئے ہی نہیں۔” عبدالکریم پینٹر نے سامنے کھڑے اس چودہ پندرہ سالہ سرخ و سفید خوبصورت دبلے پتلے لڑکے سے کہا جس کی مسیں ابھی بھیگ رہی تھیں۔
    ”کل میں کچھ مصروف تھا۔ آپ کا پیغام ملا تھا مگر اس وقت میں گھر پر نہیں تھا۔ اس لیے نہیں آ سکا۔” لڑکے نے بڑے مؤدب انداز میں کہا۔
    ”چلو خیر’ کوئی بات نہیں … میں نے اس لیے کل پیغام دے دیا تھا کہ کچھ ارجنٹ کام آن پڑا تھا۔ تم کل آ جاتے تو کام کچھ جلدی ہو جاتا۔” عبدالکریم نے پینٹ کے ڈبے کو کھولتے ہوئے کہا۔
    ”میں آپ کا ارجنٹ کام سب سے پہلے کر دوں گا۔ آپ کو وقت سے پہلے کام مل جائے گا۔” لڑکے نے اطمینان دلایا۔
    ”ہاں وہ تو مجھے پتا ہے … کام تو تم فوراً کر دو گے۔ مگر میں تو تمہاری سہولت کے لیے ہی کہہ رہا تھا۔ جلد کام پر پہنچ جاتا تو تمہیں ہی آسانی ہوتی۔ اتنی افراتفری میں کام نہ کرنا پڑتا۔”
    وہ لڑکا جواب میں کچھ کہنے کے بجائے دکان کے اندر داخل ہو گیا۔
    ”اس الماری میں دیکھو۔ چارٹ اور کتابیں پڑی ہوئی ہیں۔” عبدالکریم نے اسے اندر جاتے دیکھ کر پیچھے سے آواز لگائی۔ وہ لڑکا سیدھا اس الماری کی طرف چلا گیا۔ الماری میں کچھ چارٹ اور کتابیں پڑی ہوئی تھیں۔ اس نے ان کتابوں کے نشان زدہ صفحات کو کھول کر دیکھا۔ کچھ دیر وہ انہیں دیکھتا رہا پھر عبدالکریم کی طرف آ گیا۔
    ”یہی صفحات ہیں؟” اس نے باری باری عبدالکریم کو وہ کتابیں کھول کر دکھائیں۔
    ”ہاں یہی ہیں … ویسے میں نے ایک کاغذ پر ان صفحات اور ان چیزوں کے نام بھی لکھ دیے ہیں جنہیں تمہیں چارٹ پر اتارنا ہے … تم ایک دفعہ اس کاغذ کو بھی پڑھ لو اور دیکھ لو کہ یہ وہی صفحات ہیں۔” عبدالکریم اسے ایک کاغذ تھماتے ہوئے کہا۔
    لڑکے نے کاغذ پر نظریں دوڑائیں۔




    ”یہی سارے صفحات ہیں۔” اس نے کاغذ کو جیب میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”یہ پرسوں چاہیے۔” عبدالکریم نے بتایا۔
    ”میں کوشش کروں گا کہ کل ہی آپ کو بنا کر دے دوں۔” لڑکے نے ایک شاپر میں ان کتابوں کو ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”کل دے دو تو اور اچھا ہے۔” عبدالکریم نے کہا۔
    ”مجھے مار کر دے دیں۔” لڑکے کو اچانک خیال آیا۔
    ”دیکھ’ لو وہاں سامنے پڑے ہیں۔” عبدالکریم نے اپنی جگہ سے ہلے بغیر کہا۔
    وہ لڑکا بڑے مانوس انداز میں الماری کے اس حصے کی طرف بڑھ گیا جہاں بہت سے مارکرز اور مختلف قسم کے رنگ اور برش پڑے ہوئے تھے۔ اس نے باری باری دو تین مارکرز کو ایک کاغذ پر چلا کر چیک کیا اور پھر انہیں بھی اس شاپر میں ڈال لیا جس میں اس نے ان کتابوں اور چارٹس کو ڈالا تھا۔
    ”پھر میں جاؤں؟” لڑکے نے باہر نکلتے ہوئے پوچھا۔
    ”ہاں تم جاؤ …” عبدالکریم نے اس سے کہا۔ مگر پھر آواز دے کر اسے روک لیا۔
    ”میں سوچ رہا ہوں کہ تم سے اب بینر لکھوانا بھی شروع کر دوں… بہت کام آ رہا ہے آج کل میرے پاس اور میں وقت پر کر ہی نہیں پا رہا۔” عبدالکریم نے ایک ڈبے میں تارپین کا تیل انڈیلتے ہوئے کہا۔ ”تم نے سوچا ہے کبھی بینر لکھنے کا؟”
    ”نہیں سوچا تو کبھی نہیں … مگر میں نے اس طرح کے رنگ کبھی استعمال نہیں کیے جو بینر پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے کہ میں اچھا بینر لکھ سکوں گا یا اسے خراب کر دوں گا۔” لڑکے نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
    ”اس بارے میں تم فکر مند نہ ہو … میں ہوں نا۔ تمہیں سب سکھا دوں گا … دو چار بینر لکھو گے تو خود ہی ہاتھ صاف ہو جائے گا۔ اور پھر بینر کے تو پیسے بھی زیادہ ملیں گے۔ چارٹ کے تو کچھ بھی نہیں ملتے۔ چھٹی کے دو چار دن میرے پاس آ جاؤ … میں تمہیں ساری بنیادی باتیں سکھا دوں گا … تم ماشاء اللہ ویسے بھی ہر کام بڑی جلدی سیکھتے ہو۔”
    عبدالکریم نے اس کی تعریف کی’ لڑکے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
    ”ٹھیک ہے۔ میں امی سے بات کر کے آپ کو بتاؤں گا…” اس نے عبدالکریم سے سے کہا۔ وہ دکان سے نکل کر اپنی اس سائیکل کے پاس جا کھڑا ہوا جسے مختلف رنگوں کے نقش و نگار سے پینٹ کیا گیا تھا یقینا یہ اس لڑکے کا اپنا ہی کمال تھا۔ وہ سائیکل کے ہینڈل پر شاپر لٹکا رہا تھا جب عبدالکریم نے ایک بار پھر اسے پیچھے سے آواز دی۔
    ”اپنے بھائی کو ذرا میرے پاس بھجوانا۔” لڑکے نے مڑ کر عبدالکریم کو دیکھا۔
    ”اچھا’ میں گھر جا کر انہیں بتا دوں گا۔ وہ شام کو ذرا دیر سے آتے ہیں۔ آپ دکان پر ہی ہوں گے؟”
    ”ہاں سات بجے تک تو میں دکان پر ہی رہوں گا… اگر سات بجے تک وہ آ سکے تو ٹھیک ہے’ ورنہ پھر اس سے کہنا کہ کل مجھ سے مل لے۔” عبدالکریم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ جی اچھا۔ میں کہہ دوں گا۔ لڑکے نے بڑی فرمانبرداری کے ساتھ کہا اور سائیکل پر سوار ہو گیا۔
    عبدالکریم لاشعوری طور پر اسے دور جاتے دیکھتا رہا۔ اس کی نظروں میں اس لڑکے کے لیے ستائش تھی۔
    ٭٭٭
    ”مجھے یاد ہے بھئی … میں نہیں بتاؤں گا کسی کو بھی۔” منصور علی نے خوشگوار لہجے میں کہا۔ ”ویسے اگر تمہاری ممی کو پتا چل بھی جائے تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ وہ خاصی اچھی خاتون ہیں۔”
    ”ہاں۔ مجھے پتا ہے وہ بہت اچھی خاتون ہیں … اور آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ وہ رخشی کو پسند نہیں کرتیں۔” امبر نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے انہیں یاد دلایا۔
    ”آج کوئی خاص بات ہے۔ باپ بیٹی باہر سے ہی اکٹھے آ رہے ہیں۔” منیزہ نے ان دونوں پر نظر ڈالتے ہوئے کچھ تجسس کے عالم میں کہا۔
    ”روشان کہاں ہے؟” منصور علی نے منیزہ کی بات کے جواب میں الٹا سوال کر دیا۔
    ”اپنے ایک دوست کی طرف گیا ہے۔”
    ”اس وقت؟” منصور علی نے قدرے تشویش سے گھڑی پر نظر ڈالی۔
    ”سہیل آیا تھا لینے … ان دونوں کو کسی تیسرے دوست کی طرف جانا تھا … منیزہ نے روشان کے دوست کا نام لیتے ہوئے کہا۔
    ”پھر بھی تمہیں روک ٹوک کرنی چاہیے۔ اسے … شام کے وقت اس کا باہر نکلنا مناسب نہیں ہے۔ ابھی وہ اتنا بڑا نہیں ہوا۔” منصور علی نے اسی انداز میں کہا۔
    ”بڑا نہیں ہوا … مگر بڑا ہو تو رہا ہے۔ اب اس عمر میں بچوں کو باندھ کر رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ میں تو کہتی رہتی ہوں اسے … مگر آپ کو پتا ہے وہ کتنا ضدی ہے۔ امبر کی طرح آپ نے اسے بھی سر چڑھایا ہوا ہے پھر وہ میری بات کیوں سنے گا۔” منیزہ نے کہا۔
    امبر نے ان کی بات پر گردن کو ایک جھٹکا دیا۔ ”بس ممی کو پتا نہیں کیوں ہر بات میں میرا ریفرنس دینا ضروری ہوتا ہے … بات کسی کی بھی ہو رہی ہو … ممی فوراً مجھ پر پہنچ جائیں گی۔ اور پاپا اگر روشان باہر چلا بھی جاتا ہے تو کیا برائی ہے … سہیل اس کا اتنا اچھا دوست ہے اور پھر اب روشان اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے جتنا آپ اس کو سمجھتے ہیں … اچھا ہے کچھ باہر نکلے گا تو اس میں کانفیڈنس آئے گا۔
    ”آپ اس معاملے میں زیادہ ہی محتاط ہو رہے ہیں۔
    پہلے تو آپ کے پاس یہ لاجک تھی کہ اپنا ملک نہیں ہے۔ پتا نہیں کیسے لوگ ہوں اس کے فرینڈز کے گھر والے … اگر کچھ نقصان پہنچ گیا تو … ۔ مگر اب تو آپ اپنے ملک میں ہیں’ اس کے سارے فرینڈز اور ان کے گھر والوں کو جانتے ہیں۔ پھر آپ اتنا پریشان کیوں ہوتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ اس کے دوست بھی تو اسی کی عمر کے ہیں مگر وہ کتنی آزادی سے ادھر اُدھر گھومتے پھرتے ہیں اور روشان وہ بے چارہ ہر وقت مجھ سے شکایت ہی کرتا رہتا ہے۔” امبر نے اس کی حمایت کرتے ہوئے ایک لمبی تقریر کر ڈالی۔
    ”ایک اسے باپ کی سپورٹ … دوسرے تمہارے جیسی بہن کی … پھر میری وہ کہاں سننے والا ہے … میں نے اسی لیے اس کے معاملات میں دخل دینا چھوڑ دیا ہے۔” اس سے پہلے کہ امبر کی بات کے جواب میں منصور کچھ کہتے… منیزہ بول اٹھیں۔ ”پھر آپ کہتے رہتے ہیں کہ میں اسے سمجھاؤں۔ اس پر چیک رکھوں…”
    ”اچھا اب تم روشان کے قصے کو رہنے دو۔ بچہ ہے’ وہ مجھے صرف اس لیے کچھ فکر ہوئی ہے … ورنہ ایسی کوئی برائی نہیں ہے اس میں۔”
    منصور علی نے فوراً اپنا بیان بدلتے ہوئے کہا۔ ”اب تم ایسا کرو کہ مجھے چائے پلاؤ۔”
    ”چائے تو ابھی آ جاتی ہے۔ میں نے ملازمہ سے کہہ دیا تھا آپ کی گاڑی کا ہارن سن کر … وہ ابھی لا رہی ہو گی۔” منیزہ نے ایک بار پھر ٹی وی کا والیم بلند کرتے ہوئے منصور سے کہا۔ امبر اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔
    ”بیٹا بیٹھو … تم میرے ساتھ چائے ہی پی لو۔” منصور علی نے بڑی محبت سے اسے دیکھا۔
    ”نہیں پاپا! کام ہے … پہلے بھی میںنے اتنا انتظار کیا آپ کا۔” اس نے جاتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
    ٭٭٭
    منصور علی سے بات کرنے کے بعد امبر نے رخشی کو کال کی۔ ”رخشی! میں نے پاپا سے بات کر لی ہے۔”
    ”پھر … وہ کیا کہہ رہے ہیں؟”
    ”وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کوئی نہ کوئی انتظام کر دیں گے۔ مگر چند دن لگ جائیں گے۔”
    ”مجھے اندازہ ہے’ مکان ڈھونڈنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔” رخشی نے سنجیدگی سے سے کہا۔
    ”بس ٹھیک ہے مجھے ویسے ہی خیال آ رہا تھا کہ شاید تم جلدی شفٹ ہونا چاہو۔” امبر نے کچھ مطمئن ہوتے ہوئے کہا۔
    ”اب مجھے یہ بتاؤ کہ تم کالج کب سے آ رہی ہو؟” امبر نے اس سے پوچھا۔
    ”امبر! میں اپنی اسٹڈیز چھوڑنے کا سوچ رہی ہوں۔” دوسری طرف سے رخشی کی بات پر وہ کچھ چونک گئی۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۵

    پارٹی اپنے پورے عروج پر تھی… بلال وحیدی کی ہر پارٹی کی طرح یہ پارٹی بھی اپنی مثال آپ تھی… پورے شہر کی کریم وہاں پر تھی… بلال وحیدی شہر میں اپنی پارٹیز کی وجہ سے ہی جانا جاتا تھا… یہ پارٹیز ایلیٹ کلاس کو جہاں سوشلائز کرنے کا موقع دیتی تھیں وہاں بزنس کمیونٹی اپنی بہت سی ڈیلز بھی ان پارٹیز کے توسط سے کرتی تھی۔
    عید کے فوراً بعد ہونے والی اس پارٹی میں زیادہ تر فیمیلیز کو مدعو کیا گیا تھا اور اس بار بلال وحیدی نے گیسٹ لسٹ میں کچھ تبدیلی کی تھی ورنہ عام طور پر اس کی پارٹیز میں کپلز ہی بلوائے جاتے تھے اس پارٹی میں روایت کے برعکس فیمیلز کو مدعو کیا گیا تھا او ریہ بلال وحیدی کی تیسری پارٹی تھی جس میں منصور علی شرکت کر رہے تھے۔ اس سے پہلے وہ پارٹیز میں اکیلے ہی شرکت کر چکے تھے۔ لیٹ نائٹ پارٹیز میں منیزہ اکثر شرکت نہیں کرتی تھیں حالانکہ وہ خاصی سوشل تھیں مگر ان پارٹیز میں وہ اپنے آپ کو Odd one out محسوس کرتی تھی… کیونکہ وہاں آنے والی تمام عورتیں بہت زیادہ پڑھی لکھی ہوتی تھیں… اور یہ صرف تعلیم یا وہاں بولی جانے والی نان اسٹاپ انگلش نہیں تھی جس سے وہ نروس ہوتی تھیں بلکہ اپنے حلیے سے بھی ہوتی تھیں… وہاں آنے والی زیادہ تر عورتیں، ‘گلاس فگر’ رکھتی تھیں اور زیادہ تر مغربی لبا س میں ملبوس ہوتی تھیں جبکہ خود منیزہ خاصا بے ڈول قسم کا جسم رکھتی تھی اور ان کے زیادہ تر ملبوسات شلوار قمیض یا Occasional ساڑھی کی شکل میں ہوتی اور وہاں جانے کے بعد انہیں اپنے بے تحاشا بڑھے ہوئے وزن کا خاصی شدت سے احساس ہوتا… ان کے برعکس منصور علی نے اپنے آپ کو بالکل فٹ رکھا ہوا تھا… وہ ہفتے میں تین بار گالف کھیلنے جاتے تھے اور بعض دفعہ سوئمنگ بھی کرتے۔
    منیزہ اپنے وزن کو کم کرنے کی کوشش کے لیے اپنی روٹین تو خیر کیا تبدیل کرتیں البتہ انہوں نے ایسی پارٹیز میں جانا تقریباً ختم ہی کر دیا… یہی وجہ تھی کہ اب منصور علی ایسی پارٹیز میں اکیلے ہی جایا کرتے گھے مگر اس پارٹی میں وہ نہ صرف منیزہ کو بلکہ امبر، صبغہ اور روشان کو بھی لائے تھے اور وہ سب وہاں کے ماحول سے خاصے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
    ”منصور صاحب ادھر آئیے آپ کو کسی سے ملوانا ہے۔”




    بلال وحیدی مستقل ادھر سے ادھر پھرتے ہوئے اپنے مختلف مہمانوں کو آپس میں ملوا رہے تھے اور اسی سلسلے میں وہ منصور کے پاس بھی آئے تھے۔ منصور ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے… وہ انہیں کچھ فاصلے پر کھڑے مشروبات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک گروپ کے پاس لے آئے۔
    ”ان سے ملیے یہ منصور علی ہیں… چیمبر آف کامرس کے نئے ممبر بنے ہیں… پاکستان آئے تو انہیں کچھ ہی عرصہ ہوا ہے مگر یہاں ان کی فیکٹری کافی سالوں سے ہے اور شہر کی چند بڑی فیکٹریز میں سے ایک ہے۔ آپ لوگوں نے نام تو سنا ہی ہو گا۔” بلال وحیدی نے منصور علی کی فیکٹری کا نام لیتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں نام تو سنا ہے لیکن چیمبر میں کسی نے نام نہیں سنا ہو گا… مگر میرا تو خیال ہے کہ وہ فیکٹری مسعود علی صاحب کی ہے ان سے تو ایک دوبار ملاقات بھی ہوئی ہے میری۔” گروپ میں کھڑے ایک شخص نے منصور علی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
    ”مسعود علی… منصور علی کے بڑے بھائی ہیں۔ فیکٹری تو ان ہی کی ہے مگر چونکہ یہ بیرون ملک تھے تو مسعود علی ہی فیکٹری کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔ اب یہ واپس آگئے ہی تو فیکٹری کا انتظام بھی انہوں نے خود سنبھال لیا ہے۔” بلال وحیدی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
    ”تو مسعود علی صاحب نے فیکٹری چھوڑ دی؟” اسی شخص نے کچھ تجسس آمیز انداز میں کہا۔
    ”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ بھی وہیں ہیں، میں بھی وہیں ہوں، ان کے بھی کچھ شیئرز ہیں فیکٹری میں…” اس بار منصور نے خود بتایا۔
    ”آپ بیرون ملک کیا کرتے تھے؟”
    ”کرنسی کی ایکسچینج کا کام تھا میرا۔” منصور علی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”اور یہ ہارون کمال ہیں… ان سے ملوانے کے لیے لے کر آیا ہوں میں آپ اس دن پوچھ رہے تھے۔”
    اس بار بلال وحیدی نے ایک اور آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو ٹراؤزرز کی ایک جیب میں ایک ہاتھ ڈالے دوسرے میں مشروب کا گلاس پکڑے بڑی لاپروائی اور بے نیازی کے ساتھ مسکراتے ہوئے منصور علی اور وہاں موجود باقی تمام لوگوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سن رہا تھا۔ بلال وحیدی کے تعارف کروانے پر اس نے ٹراؤزرز کی جیب سے اپنا بایاں ہاتھ باہر نکال کر گلاس اس میں منتقل کیا اور دوسرا ہاتھ منصور علی کی طرف بڑھا دیا۔ جسے منصور علی نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ تھاما۔
    ”اچھا تو یہ ہارون کمال ہیں… میں نے خاصا شہرہ سنا ہے شہر میں آپ کا… چیمبر میں بھی خاصی باتیں ہوتی ہیں آپ کی…” منصور علی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”آپ کے بارے میں بھی خاصا کچھ سنا ہے میں نے بلال وحیدی سے۔” ہارون کمال نے جواباً مسکراتے ہوئے ان سے کہا۔
    ”بلال وحیدی کو عادت ہے ہر ایک کے بارے میں کچھ نہ کچھ سناتے رہنے کی۔”
    وہاں موجود ایک اور شخص نے قدرے بلند آواز میں کہا… جس پر ایک ہلکا سا فہمائشی قہقہہ لگا بلال وحیدی کا اپنا قہقہہ سب سے اونچا تھا۔
    ”منصور علی اس بار چیمبر کے الیکشن میں کھڑے ہو رہے ہیں سیکریٹری کے لیے…” بلال وحید نے منصور علی کے بارے میں جیسے انکشاف کیا۔
    ”اور یقینا آپ کے گروپ کی طرف سے ہی کھڑے ہو رہے ہوں گے۔” ہارون کمال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”ظاہر ہے دوسرے گروپ والے اتنے فراخ دل کہاں ہیں کہ اس طرح کے مواقع دیتے پھریں، نئے لوگوں کو۔ یہ ہمارا گروپ ہی ہے جس کا موٹو ہے… "Lets back up the new blood” بلال وحیدی نے بڑے فخریہ انداز میں کہا۔
    ”اور آپ کا ہر نیا امیدوار 45 سے کم کا نہیں ہوتا… کیا مذاق ہے۔” اس بار ایک اور شخص نے تبصرہ کیا ایک اور فہمائشی قہقہہ لگا۔
    ”دوسرا گروپ تو 60 سے کم کے کسی امیدوار کو دیکھتا ہی نہیں ہے، ہم تو پھر بھی 45 کے لوگ میدان میں اتار رہے ہیں… 45 اور 60 کا فرق دیکھیں اظہار صاحب…! اور ہمیں ووٹ دیں۔” بلال وحیدی نے خوشگوار انداز میں اس شخص سے کہا۔
    ”آپ کو یہ بات کہنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے تھا کہ میں خود 65 سال کا ہوں۔” اظہار سعید نے اسی برجستگی سے کہا… ایک اور قہقہ لگا۔
    ”بہرحال اس بار میں بلال وحیدی کے گروپ کو ہی ووٹ دوں گا۔ اتنی پارٹیز اٹینڈ کرنے کے بعد یہ مجھ پر فرض ہو گیا ہے۔ کیوں بلال وحیدی صاحب؟” اظہار سعید نے مسکراتے ہوئے بلال وحیدی سے کہا۔
    ”خیر پارٹیز میں تو آپ کو تب بھی انوائیٹ کرتا رہا ہوں’ جب آپ ”دوسروں” کے … ووٹر تھے۔ پارٹیز کو بیچ میں نہ ہی لائیں تو بہتر ہے۔ یہ تو صرف میل ملاپ کے لیے ہوتی ہیں۔” بلال وحیدی نے اظہار سعید کی بات کے جواب میں کہا۔
    ”اس بار تو آپ کفر توڑ ہی دیں اظہار صاحب! پارٹیرز کی بات کیے بغیر ہی ووٹ دے دیں’ ورنہ دوسرے دھڑے والے مجھ پر اور الزمات لگانے لگیں گے۔” بلال وحیدی نے معنی خیز انداز میں کہا۔
    ”آپ نے اس بار امیدوار ہی ایسے کھڑے کر دیے ہیں کہ مجھے انکار کرنا ہی مشکل ہو گیا ہے’ سارا ینگ بلڈ لے آئے ہو بلال وحیدی! میرے جیسے بھی دو چار لوگوں کو آزمانا تھا۔” اظہار سعید نے کہا۔
    ”اگلی بار اظہار صاحب …! اگلی بار … آپ جیسوں کو نہیں آپ کو ہی آزماؤں گا۔ آپ پہلے ووٹر تو بنیں پھر امیدوار بھی بنا لیں گے۔” ایک اور فہمائشی قہقہہ لگا۔
    ”بات سے بات نکالنا تو کوئی بلال وحیدی سے سیکھے۔” اظہار سعید نے قدرے محظوظ ہوتے ہوئے بلال وحیدی کے جملے کے جواب میں کہا۔
    ہارون کمال بڑی دلچسپی سے وہاں ہونے والی گفتگو سن رہا تھا اور گفتگو سننے کے ساتھ وہ ادھر اُدھر اچٹتی نظریں بھی دوڑا رہا تھا۔ شائستہ اس سے کچھ فاصلے پر چند مردوں اور عورتوں کے ایک گروپ کے ساتھ کھڑی باتوں میں مصروف تھی۔ ہارون کمال نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر یک دم وہ ہاتھ میں پکڑا مشروب کا گلاس ہونٹوں تک لے جاتے جاتے رک گیا۔ ایک ستائشی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر ابھری تھی۔ اس کی توجہ مکمل طور پر ان لوگوں سے ہٹ گئی تھی جن کے ساتھ وہ کھڑا تھا۔
    اس کی توجہ کا مرکز بننے والی لڑکی سفید سلیویس لباس میں ملبوس تھی’ اس کے لباس پر سفید موتیوں کا کام تھا اور اسی طرح کے موتیوں کی ایک مالا گلے میں پہنے ہوئے تھی۔ کانوں میں لٹکنے والے آویزے بھی ایسے ہی ایک ایک موتی پر مشتمل تھے۔ کندھوں سے قدرے نیچے تک لٹکنے والے گھنے سلکی بالوں کو وہ بار بار گردن کے ایک جھٹکے کے ساتھ پرے کر رہی تھی۔ اس کی سفید رنگت اور سفید لباس اس حد تک مماثلت رکھتے تھے کہ ہارون کمال کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو رہا تھا کہ اس کا لباس کہاں ختم ہو رہا تھا اور اس کی جلد کہاں سے شروع ہو رہی تھی۔ وہ چند لڑکیوں کے ساتھ مشروب کا گلاس ہاتھ میں لیے کھڑی تھی۔ اور کچھ دیر بعد وہ کسی بات پر ہنسی تھی۔
    ہارون کمال نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔ بہت عرصے کے بعد اس نے اس طرح کا حسن دیکھا تھا۔ شائستہ کے بعد پہلی بار … وہ لڑکی اس سلیولیس لباس میں دوپٹے کے بغیر تھی اور اس کا وجود کسی خوبصوت مجسمے کی طرح لگ رہا تھا’ ایک نظر اردگرد دوڑانے پر ہارون کمال کو احساس ہو گیا تھا کہ وہ اس پر نظریں جمانے والا واحد آدمی نہیں تھا۔ آس پاس کھڑے اور بھی بہت سے مرد اور عوتیں اسی کو دیکھنے میں مصروف تھے۔ اور ان تمام نظروں میں ستائش اور مرعوبیت تھی۔
    ہارون کمال بے اختیار اس کے پاس جانا چاہتا تھا۔ جو دور سے اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی’ وہ قریب سے کیا قیامت ڈھاتی ہو گی۔ مگر اس کے قریب جانے کے لیے اس کے پاس کیا جواز تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے گلاس میں موجود مشروب کے چند اور گھونٹ لیے۔
    ”آپ کی کیا رائے ہے کمال صاحب؟” بلال وحیدی نے اچانک اسے مخاطب کیا۔
    ہارون کمال یک دم گڑ بڑا گیا۔ ااس کی نظر اس لڑکی پر سے ہٹ گئی۔ وہ سمجھ نہیں پایا’ بلال وحیدی نے کس چیز کے بار یمیں اس کی رائے مانگی ہے۔
    ”سوری’ میں آپ کی بات نہیں سن سکا۔” ہارون کمال نے معذرت کی۔ ”آپ کس چیز کے بارے میں میری رائے پوچھ رہے ہیں؟” اس نے بلال وحیدی سے کہا۔
    ”میں امتنان …” بلاول وحیدی کا جملہ امتنان صدیقی نے کاٹ دیا۔
    ان دونوں کے درمیان نوک جھونک ہونے لگی۔ ہارون کمال نے چند منٹوں کے بعد گردن موڑ کر ایک بار پھر اس طرف دیکھا جہاں وہ لڑکی موجود تھی۔ وہ اب وہاں نہیں تھی۔
    ٭٭٭
    کھانا سرو کیا جا چکا تھا’ سائیڈ میں لگی ہوئی ایک ٹیبل سے پلیٹ اٹھانے کے لیے وہ آگے بڑھی’ اس سے پہلے کہ وہ پلیٹ اٹھاتی ایک مردانہ ہاتھ نے پلیٹ اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دی۔ اس لڑکی نے کچھ ناپسندیدگی سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑے اس آدمی کو دیکھا جو اپنے ہاتھ میں پکڑی دو پلیٹوں میں سے ایک اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔
    ”چالیس پینتالیس سال کا وہ دراز قد شخص غیر معمولی طورپر دلکش تھا اس نے سنجیدگی سے ایک ناقدانہ نظر اس پر ڈالی اور پھر اس کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے میز پر موجود پلیٹوں میں سے ایک پلیٹ اٹھالی۔ اس آدمی کے چہرے پر کچھ دیر پہلے موجود مسکراہٹ یک دم غائب ہو گئی’ قدرے خفیف ہو کر اس نے پلیٹ واپس ٹیبل پر رکھ دی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتی۔ اس آدمی نے اسے مخاطب کیا۔
    ”شاید آپ کو میرا پلیٹ دینا اچھا نہیں لگا؟” اس نے کہا۔
    اس لڑکی نے آگے بڑھایا ہوا قدم پیچھے کر لیا۔
    ”یقینا مجھے آپ کا پلیٹ دینا اچھا نہیں لگا۔ ”اس نے مستحکم آواز میں اسی کے انداز میں جواب دیا۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۲

    ”برقع کے کچھ فائدے ہیں یہ مجھے آج پتا چلا ہے۔” وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا شوخی سے کہہ رہا تھا۔
    ”مگر اس کے نقصانات بہرحال زیادہ ہیں یہ حسن کو چھپا دیتا ہے اور دنیا میں حسن ہی تو دکھانے والی چیز ہے۔”
    اس نے اب راوی کے کنارے گاڑی روک لی۔
    ”اور تم صرف حسن نہیں سراپا حسن ہو۔” اب وہ اس کی طرف گردن موڑے کہہ رہا تھا۔
    شائستہ ونڈ اسکرین سے باہر دیکھتی رہی۔ اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ہارون کمال سے نظریں ملا سکتی۔
    ”تو بات گاڑی سے باہر چلتے پھرتے ہوگی؟ یا پھر…” اس نے پہلی بار ہارون کی بات کاٹی۔
    ”نہیں یہیں بات کر لیتے ہیں۔” برقع اوڑھنے کے باوجود شائستہ کو خوف تھا کہ گاڑی سے باہر نکلنے پر کوئی نہ کوئی اسے دیکھ لے گا اور پہچان لے گا اور وہ اسی شناخت سے خوفزدہ تھی۔
    ”ٹھیک ہے یہیں بات کر لیتے ہیں… سب سے پہلے تو چہرے سے یہ نقاب ہٹا دو، کیونکہ میں چہرے پر نقاب کے ساتھ بات نہیں کروں گا۔” ہارون نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”لیکن اگر کسی نے دیکھ لیا تو میرے لیے بہت مشکل ہو جائے گی۔”
    ”میں تمہیں راوی کے کنارے شہر سے تقریباً باہر لے آیا ہوں… یہاں تمہیں کون دیکھ سکتا ہے اور اگر کوئی دیکھ بھی لیتا ہے تو میں سب کچھ ہینڈل کرلوں گا۔”
    ہارون نے متاثر ہوئے بغیر کہا۔ شائستہ کچھ دیر سوچتی رہی پھر اس نے آہستہ آہستہ چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ ہارون کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
    ”تم نے میری رنگ نہیں پہنی؟” اس نے بات شروع کرتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں… مجھے چھپا کر رکھنا پڑی کیونکہ سب کو اس واقعہ کا پتا چل گیا تھا اور امی اور بابا بہت ناراض تھے۔” سر جھکائے شائستہ نے جواب دیا۔
    ”ْیوں؟” ہارون نے بڑے تیکھے انداز میں پوچھا۔
    ”انہوں نے اپنی بے عزتی محسوس کی۔”




    ”جس کا بدلہ انہوں نے میرے والدین کو بے عزت کرکے لیا۔”
    ”میں اس کے لیے معذرت…” ہارون نے شائستہ کی بات کاٹ دی۔
    ”میں نے تمہیں یہاں کسی معذرت کے لیے نہیں بلوایا۔ تمہارا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔”
    شائستہ نے اس کی بات پر سکون کا سانس لیا۔
    ”تمہارے گھر والے بہت عجیب ہیں شائستہ…! غاروں میں رہنے والے لوگ ہوتے تھے نا اس طرح کی Breed ہے تمہارے گھر میں… پتہ نہیں کون سی صدی میں جیتے ہیں انکل۔”
    اس کے لہجے میں تمسخر اور تحقیر تھی اور شائستہ کو یہ دونوں چیزیں بری نہیں لگیں۔
    ”تمہارا دم نہیں گھٹتا اس گھر میں؟” اس نے شائستہ سے پوچھا۔
    وہ خاموش رہی۔ ”تم جیسی لڑکی کو اس گھر میں نہیں ہونا چاہیے۔”
    شائستہ کو لگا جیسے ہارون کو اس پر ترس آرہا ہو۔
    ”اور میں نے اسی لیے تمہیں اس گھر سے نکال لانے کی کوشش کی… مگر تمہارے ماں باپ… ڈوبنے والا شخص اپنے ساتھ ڈوبنے والے کو کبھی بچنے نہیں دیتا… وہ چاہتا ہے وہ بھی اسی کی طرح پانی میں غوطے کھاتا رہے اور انکل بھی یہی چاہتے ہیں وہ خود جس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں ویسی ہی زندگی وہ اپنی اولاد پر بھی تھوپ دینا چاہتے ہیں بلکہ تھوپ چکے ہیں… اب بس تم رہ گئی ہو اور وہ تمہیں بھی چھوڑنا نہیں چاہتے۔”
    شائستہ کو بے اختیار خود پر ترس آیا۔
    ”تم خود سوچو۔ کون سا باپ ہوگا جو میرے جیسے بندے کے پرپوزل کو اس طرح اپنی بیٹی کے لیے رد کر دے گا۔ کس چیز کی کمی ہے مجھ میں؟ کیا میں خوبصورت نہیں؟ دولت مند نہیں؟ تعلیم یافتہ نہیں؟ ان کے پہلے دونوں دامادوں سے بہتر نہیں؟ پھر بھی وہ اس پرپوزل کو ٹھکرا رہے ہیں… صرف اپنی ضد کی خاطر… میرے باپ سے ان کے اختلافات ہوسکتے ہیں، مگر مجھ سے ان کا کیا اختلاف ہے۔ یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے… وہ انا کے مارے ہوئے ہیں یا حسد کے… یا پھر دونوں کے یہ میں نہیں جانتا لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وہ تمہاری زندگی برباد کر دیں گے۔ انہیں تمہاری پسند، ناپسند سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔”
    وہ مسلسل بولتا جا رہا تھا اور شائستہ اسی خاموشی سے سن رہی تھی۔ اس نے ایک بار بھی اسے روکنے یا اس کے کسی تبصرے پر اعتراض نہیں کیا۔ اس وقت اسے ہارون کی باتوں میں سچ اور صرف سچ نظر آرہا تھا۔
    ”جس شخص کو اپنی اولاد سے محبت ہو۔ وہ اپنی اولاد کی زندگی کے سارے فیصلے خود کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ کیا انہوں نے تم سے پوچھا کہ تمہاری میرے بارے میں کیا رائے ہے؟ تم کیا چاہتی ہو؟ نہیں انہوں نے نہیں پوچھا ہو گا۔ انہوں نے اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ہوگی، یہ سوال تو وہ شخص اپنی بیٹی سے پوچھتا جس شخص کو اپنی بیٹی کی خوشیاں عزیز ہوتیں مگر انکل اکبر جیسا شخص جسے اپنی ناک کے علاوہ دنیا میں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ وہ ایسی باتوں کی پروا کیوں کریں۔ مجھے حیرت تم پر ہے شائستہ! تم میں تو اتنی جرأت ہونی چاہیے تھی کہ تم انکل اکبر کے سامنے آکر اپنی پسند کا اظہار کر دیتیں… انہیں بتاتیں کہ تمہیں یہ پرپوزل قبول ہے اور تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
    ”یہ سب کرنا بہت مشکل ہے۔” شائستہ نے پہلی بار اس گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں مشکل ہے؟” اس نے تنک کر کہا۔
    ”ہمارے گھر میں لڑکیوں کو اتنی آزادی نہیں ہے کہ وہ اپنی پسند یا ناپسند بتاتی پھریں یا کسی ایسے پروپوزل کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں جسے ماں باپ رد کرچکے ہوں۔”
    ”یعنی تم بھی خاموشی سے وہاں شادی کرلو گی جہاں تمہارے والدین چاہیں گے چاہے وہ شخص تمہیں پسند ہو یا نہ ہو؟”
    وہ خاموش رہی۔ ہارون نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا۔
    ”میں نہیں جانتی۔” شائستہ نے بے بسی سے کہا۔
    ”اپنی زندگی کے بارے میں تم نہیں جانتیں تو پھر کون جانتا ہے انکل اکبر؟” وہ ایک بابر پھر ہنسا۔
    ”ویسے میرے پرپوزل کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟”
    وہ چپ رہی۔
    ”ایک بار پھر خاموشی… وہی خاموشی… اور میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ میں خاموشی کو ہمیشہ اقرار سمجھتا ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہیں میرے پرپوزل پر کوئی اعتراض نہیں ہے؟’
    وہ پھر خاموش رہی، ہارون نے ایک گہری سانس لی۔
    ”تو پھر تم اپنے والدین سے بات کیوں نہیں کرتیں۔ انہیں بتاؤ کہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
    ”یہ یہ نہیں کرسکتی۔ یہ ممکن نہیں ہے۔”
    ”کیوں ممکن نہیں ہے؟ تم کوئی گائے بھینس تو نہیں ہو، جس کی کوئی رائے ہی نہ ہو یا پھر میں یہ سمجھوں کہ تمہیں مجھ سے محبت ہی نہیں ہے اور میں کسی خوش فہمی کا شکار ہوں۔”
    ”ایسا نہیں ہے… لیکن آپ سمجھتے کیوں نہیں میں مجبور ہوں۔” شائستہ نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا۔
    ”مجھے نفرت ہے ان لڑکیوں سے جو محبت کسی سے کرتی ہیں اور شادی کسی سے۔ یا انسان محبت نہ کرے یا پھر شادی بھی اسی بندے سے کرے جس سے اسے محبت ہو اور بکواس کرتا ہے وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ وہ مجبور ہے اگر کوئی محبت کرتے ہوئے مجبور نہیں ہے تو شادی کرتے ہوئے کیسے ہو سکتا ہے۔ مجھے تم سے محبت ہے اور میں کسی دوسری جگہ شادی نہیں کروں گا، دنیا کی کوئی طاقت کسی دوسری لڑکی کو میری بیوی نہیں بنا سکتی۔ حتیٰ کہ کوئی بڑی سے بڑی مجبوری بھی… اور تم… تم یہاں میرے سامنے بیٹھ کر محبت کا اقرار کر رہی ہو اور ساتھ یہ کہہ رہی ہو کہ تم مجھ سے شادی نہیں کر سکتیں کیونکہ تم مجبور ہو… ویری فنی۔”
    ”عورت میں اتنی جرأت ہونی چاہیے کہ وہ جس مرد سے محبت کا اقرار کرے اسی کی بیوی بنے یا پھر کبھی شادی نہ کرے۔ کم از کم اپنی مجبوریوں کے رونے کبھی نہ روئے۔” شائستہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ بہت سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ کچھ دیر پہلے کی شوخی اور شگفتگی کا نام و نشان بھی نہیں تھا اس کے چہرے پر۔
    ”میرے لیے وہ کام بہت مشکل ہے جو آپ چاہتے ہیں۔” شائستہ نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔
    ”تمہارا اس طرح یہاں آنا بھی بہت مشکل تھا تم نے یہ مشکل کام کیا تو وہ بھی کرسکتی ہو۔” ہارون اس کے لہجے کی بے بسی سے متاثر نہیں ہوا۔
    ”بابا انکل کمال کو پسند نہیں کرتے اور وہ کبھی بھی آپ کا پرپوزل قبول نہیں کریں گے۔”
    ”میرے باپ کو کیوں ناپسند کرتے ہیں وہ۔ کیا صرف اس لیے کہ میرا باپ ان سے زیادہ ترقی کر گیا ہے۔ زندگی کے ہر میدان میں میرے باپ نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔” وہ خاموش رہی۔ ”بہرحال وہ میرے باپ کو پسند کرتے ہیں یا نہیں یا میں انہیں اچھا لگتا ہوں یا نہیں لیکن مجھے شادی تم ہی سے کرنی ہے۔ مجھ میں اتنی غیرت ضرور ہے کہ جس سے میں محبت کروں اسے کسی دوسرے کی بیوی نہ بننے دوں۔ تمہارے نام کے ساتھ کسی دوسرے شخص کا نام میں نہیں لگنے دوں گا۔ اس لیے تم گھر میں اپنے علاوہ اپنے ماں باپ سے میرے بارے میں بات کرو اور میں اپنے ماں باپ کو ایک بار پھر تمہارے گھر بھیجوں گا۔” اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔ شائستہ صرف اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔
    ٭٭٭




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱

    آسمان وہ عروج ہے جس کو پانے کی خواہش ہمیں ہمیشہ بے تاب رکھتی ہے۔ ہم سب کبھی نہ کبھی تھوڑا سا آسماں ضرور تلاش کرتے ہیں۔ اس تلاش میں بہت سے لوگ بہت کچھ کھو دیتے ہیں اور بعض دفعہ اس تلاش میں ہم اپنے پیروں کے نیچے موجود زمین کو ٹھوکر مار دیتے ہیں۔ پھر جب آسمان تک پہنچ نہیں پاتے تو واپس زمین پر آنے کی کوشش کرتے ہیں تب بعض دفعہ زمین ہمیں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں دیتی۔
    اس ناول کے سارے کردار بھی آپ کو اسی تلاش میں سرگرداں نظر آئیں گے۔ یہ تلاش انہیں کہاں لے جاتی ہے، اس کا فیصلہ ان کرداروں کو نہیں آپ کو کرنا ہے۔ ہم لوگ ناول پڑھتے ہوئے اپنے آپ کو ہمیشہ ہیرو، ہیروئن یا اچھے کرداروں میں پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقی زندگی میں بعض دفعہ ہم ساری زندگی منفی کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔
    ”تھوڑا سا آسماں” کو پڑھتے ہوئے اپنے آپ کو مثبت کے بجائے منفی کرداروں میں تلاش کرنے کی کوشش کیجئے گا۔ میرا دعویٰ ہے، ہم میں سے ہر ایک اس ناول میں کسی نہ کسی کردار میں اپنی جھلک ضرور دیکھ لے گا۔ پھر جب آپ اس ناول میں خود کو پہچان لیں اور جس کردار میں خود کو پائیں، وہ منفی ہو تو آنکھیں بند مت کریں۔
    اس ناول کے کرداروں کے اعمال اور زندگی کو آپ نہیں بدل سکتے۔ وہ صرف میرے ہاتھ میں ہے۔
    حقیقی زندگی میں اپنے اعمال اور کردار کو آپ بدل سکتے ہیں۔ وہ صرف آپ کے ہاتھ میں ہے۔
    تو کیا آپ دنیا کا سب سے مشکل کام کریں گے؟ زندگی میں اپنی برائیوں اور اس سے ہونے والی دوسروں کی زندگی کی تباہی کو ختم کرنا چاہیں گے؟
    اس ناول کو مکمل پڑھنے کے بعد ایک بار پھر ان چند سطروں کو پڑھ کر خود سے پوچھئے کیا آپ نے دنیا کا سب سے مشکل کام کیا؟
    آئیں خود کو تلاش کریں۔
    عمیرہ احمد




  • امربیل — قسط نمبر ۱۳

    امربیل — قسط نمبر ۱۳

    آرمی مانیٹرنگ کمیٹی… اب یہ کیا بکواس ہے؟” عمر جہانگیر نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل کو میز پر تقریباً پٹختے ہوئے کہا۔
    فوجی حکومت کو اقتدار سنبھالے چند ہفتے ہو گئے تھے اور آرمی مانیٹرنگ کمیٹیوں کا شوروغوغا ہر جگہ سنائی دے رہا تھا پولیس کے اعلیٰ حکام کے اندر ان مجوزہ کمیٹیز کے خلاف بہت زیادہ غصہ اور احتجاج پایا جاتا تھا مگر کھلے عام اس پر کوئی بھی تنقید کرنے سے خوفزدہ تھا۔ ہر ایک جانتا تھا ایسی کسی تجویز کی مخالفت کم سے کم ٹرانسفر اور زیادہ سے زیادہ معطلی کی موجب بن جائے گی اس لیے ہر ایک آرمی مانیٹرنگ کمیٹیز کو ناپسند کرنے کے باوجود ان کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کر رہا تھا۔
    فوجی حکومت کا خیال تھا کہ آرمی کو براہ راست سویلین معاملات میں ملوث کرنے سے وہ اس کرپشن پر قابو پا لے گی جو پورے نظام کی جڑیں کھوکھلی کر رہی تھی اور ایک بار اس نظام کی خرابی رک جاتی تو شاید لوگوں کا اعتماد بھی بحال ہو جاتا مگر دوسرے بہت سے محکموں کی طرح پولیس کو بھی ان کمیٹیز کے قیام پر اعتراض تھا۔ اگرچہ وہ ان کمیٹیز کے خلاف بات کرتے ہوئے اپنے اختیارات میں کمی اور اپنے معاملات میں مداخلت کا حوالہ دے رہے تھے مگر جو حقیقی خدشات ان کے ذہنوں میں تھے وہ کرپشن کی ان لمبی کڑیوں والی زنجیر کو بچانا تھا جس کے منظر عام پر آنے سے بہت سے نامی گرامی لوگوں کے لیے بھی اپنی عزت بچا لینا بہت مشکل ہو جاتا جو آفیسرز ہاتھ کی صفائی دکھانے میں ماہر تھے انہیں یہ خوف تھا کہ ان کا پچھلا کرپشن کا کوئی معاملہ پکڑا نہ بھی گیا تب بھی آئندہ کے لیے کرپشن کے دروازے بند ہو جائیں گے اور یہ ان کے اور ان کے خاندانوں کے لیے 440 وولٹ کے شاک کی طرح تھا۔
    دوسری طرف آرمی مانیٹرنگ کمیٹیز کے ذریعے پہلی بار فوج کو انتظامیہ کے ان اختیارات اور معاملات میں دخل اندازی کا موقع مل رہا تھا۔ جہاں وہ پہلے خاصی بے بس رہی تھی۔ فصل کاٹنے اور بدلے چکانے کا موسم آ چکا تھا، وہ انتظامیہ جو پہلے فوج کو گھاس نہیں ڈالتی تھی، اب ان کی زیر نگرانی کام کرنے پر مجبور تھی اور ان کی چپقلش شروع ہو چکی تھی۔
    عمر جہانگیر بھی پولیس سروس کے دوسرے تمام آفیسر کی طرح ان کمیٹیز کو ناپسند کرنے اور ان پر تنقید کرنے والوں میں پیش پیش تھا۔




    اس دن بھی صوبائی دارالحکومت میں پولیس آفیسرز کا ایک اجلاس ہو رہا تھا جس میں آرمی اور حکومت کے لتے لیے جا رہے تھے۔ ایک دن پہلے صوبائی گورنر ان ہی پولیس آفیسرز سے اپنے خطاب کے دوران پولیس کی ناقص کارکردگی اور کرپشن پر انہیں کھری کھری سنا چکے تھے۔ انہوں نے اپنی پینتالیس منٹ کی فی البدیہی تقریر میں ایک بار بھی پولیس کو کسی کام کے لیے نہیں سراہا تھا اور اس چیز نے ان آفیسرز کے غصے کو کچھ اور ہوا دی تھی۔
    ”گورنر چوبیس گھنٹے لاء اینڈ آرڈر کی بات کرتے رہتے ہیں۔ انہیں پتا ہے لاء اینڈ آرڈر ہوتا کیا ہے؟”
    اس روز آفیسرز میں سے ایک نے گورنر کی تقریر پر بات کرتے ہوئے کہا۔
    ”ان کا تعلق آرمی سے ہے، رات کو سوئے صبح انہیں پتا چلا کہ وہ گورنر بن گئے ہیں اور پھر انہیں اچانک یاد آگیا کہ صوبہ میں ایک پولیس فورس بھی ہے جسے برا بھلا کہیں گے تو اگلے دن اخبار کے پہلے صفحے پر ہیڈ لائن بن جائے گی۔ لوگوں میں گورنر کی نیک نامی بڑھے گی۔ اپنے نمبر بنانے کے علاوہ اور کر کیا رہے ہیں وہ۔” ایک اور پولیس آفیسر نے تبصرہ کیا۔
    ” ان کا کام صرف ایک ہے باری باری اخبار نویسوں اور کالم نویسوں کو اپنے ساتھ مختلف علاقوں کے ذاتی دوروں پر لے جانا اور پھر واپسی پر ان کالم نویسوں کے تعریفوں سے بھرپور کالم پڑھنا۔ لوگ سمجھتے ہوں گے کیا گورنر پایا ہے، خلفاء راشدین کا زمانہ لوٹ آیا ہے کہ گورنر ہر وقت گشت پر رہنے لگا ہے۔ انہیں یہ پتا نہیں ہے کہ گورنر بھی ایک سیاست دان کی طرح کنویسنگ کر رہا ہے، اپنے لیے نہیں اپنے اوپر کے باسز کے لیے۔”
    ایک فہمائشی قہقہہ لگایا گیا شاید عمر وہاں واحد تھا جو سنجیدہ رہا تھا۔
    ”ان کا خیال ہے اس طرح چوبیس گھنٹے ہمارے سر پر سوار رہ کر وہ ہمیں نکیل ڈال دیں گے۔ ہمیں اپنے اشاروں پر چلا لیں گے۔” ایک اور تند مزاج آفیسر نے کہا۔ ”اور یہ جو نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے کہ ان کمیٹیز کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے۔ آخر کیوں مکمل تعاون کیا جائے۔ سول سروس میں ہم اس لیے آئے تھے کہ ہم بالآخر ان کیپٹن اور میجر کے رینک کے آفیسرز کو اپنے تعاون کی یقین دہانیاں کرواتے پھریں۔” عمر ایک بار پھر بولا۔
    ”پہلے ہی فیلڈ میں ان سروس آرمی آفیسر کو ڈیپوٹیشن پر بھجوا رہے ہیں، جو پہلے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ انہیں دھڑا دھڑ کانٹریکٹس کے ذریعے ہر جگہ لا بٹھایا ہے۔ آرمی والوں کو سول سروس میں لیا جا رہا ہے۔ پھر بھی کبھی انہیں چین نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں جو تھوڑی بہت پاورز دوسرے محکموں کے لوگوں کے پاس رہ گئی ہیں، انہیں بھی چھین لیا جائے۔
    ایک اور آفیسر نے کہا۔
    ”نہیں یہ کام وہ نہیں کریں گے ۔ براہ راست ہماری سیٹوں پر آکر نہیں بیٹھیں گے۔ یہ تو گالیاں کھانے والی جگہ ہے یہاں آکر وہ عوام سے گالیاں کیوں کھائیں، وہ بس ہمیں اپنی مٹھی میں رکھنا چاہتے ہیں، عوام بھی خوش کہ بھئی بڑی محنت کر رہی ہے آرمی، پولیس کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے۔” اس بار عمر نے کہا ”اور اوپر سے ہمارا محکمہ منہ اٹھائے سوچے سمجھے بغیر دھڑا دھڑ نوٹیفکیشنز اور سرکلرز جاری کر رہا ہے۔ فرمانبرداری اور تابعداری کے لیے سبق پڑھا رہا ہے ہمیں۔” عمر کو اپنے محکمے کے افسران بالا پر اعتراض ہوا۔
    ”ان کی مجبوری ہے وہ کیا کریں، اگر یہ نہ کریں تو…کون حکومت سے مخاصمت مول لینا چاہے گا اور وہ بھی اپنی جاب اور اپنے کیریئر کو داؤ پر لگا کر، سب سے بہتر طریقہ اپنی جان بچانے کا یہی ہے کہ سر جھکاؤ اوپر والوں کی ہاں میں ہاں ملاؤ اور اپنی جان بچاؤ مائٹ ازرائٹ اور اس وقت یہ مائٹ کس کے پاس ہے سب ہی جانتے ہیں۔”
    ایک قدرے جونیئر افسر نے کہا۔
    ”اور یہ مقابلہ کرتے ہیں ہمارے ساتھ اور نصیحتوں کے ٹوکرے لے کر آ جاتے ہیں۔ جتنا کام پولیس کا ایک سپاہی کرتا ہے اتنا فوج کے ایک جوان کو کرنا پڑے تو انہیں پتا چلے بارہ، بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی دینے کے بعد بھی انہیں ملتا کیا ہے نہ بیوی بچوں کو کوئی سہولتیں ہوتی ہیں نہ خود اسے اور جو عام لوگوں کی بے عزتی برداشت کرنی پڑتی ہے وہ الگ اور یہ جنہیں بچوں کی تعلیم سے لے کر ان کے علاج تک کی سہولتیں دستیاب ہوتی ہیں اور گھر کے راشن تک پر رعایت ملتی ہے ، یہ ہر قدم پر اپنا اور ان کا مقابلہ کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ذرا اسی چار پانچ ہزار میں ان تمام سہولتوں کے بغیر دھکے کھاتے ہوئے عوام کی خدمت کریں تو پھر میں مانوں کہ ہاں بھئی بڑا جذبہ اور ڈسپلن ہے ان میں…واقعی حب الوطنی پائی جاتی ہے۔”
    ایک اور آفیسر نے تنفر بھرے انداز میں کہا۔
    ”بہرحال یہ بات طے ہے کہ کم از کم میں اپنے کاموں میں انہیں مداخلت کے لیے کھلی چھٹی نہیں دو ں گا مجھے انہیں سر پر نہیں چڑھانا۔” عمر نے جیسے حتمی انداز میں کہا۔
    ”اب اس کی وجہ سے سروس ریکارڈ خراب ہوتا ہے تو ہو جائے۔ گلے میں رسی باندھ کر کم از کم میں کسی کے سامنے میں میں میں نہیں کر سکتا۔ اگر یہی کام کرنا ہوتا تو پھر اس سروس میں آنے کے بجائے کہیں اور بیٹھا ہوتا۔”
    عمر نے جیسے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔ وہاں بیٹھے ہوئے دوسرے کسی آفیسر نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا تھا مگر ان کے چہروں کے تاثرات واضح طور پر یہ بتا رہے تھے کہ وہ سب ہی آئندہ آنے والے دنوں میں تقریباً اسی قسم کی حکمت عملی اپنانے والے تھے جو عمر نے اپنانے کا اعلان کیا تھا۔
    ٭٭٭
    ”میرا نام میجر لطیف ہے میرے اور میری ٹیم کے بارے میں آپ کے پاس نوٹیفکیشن اور تفصیلات تو پہلے ہی پہنچ گئی ہوں گی۔”
    عمر جہانگیر خاموشی سے بے تاثر چہرے کے ساتھ میز کے دوسری طرف بیٹھے ہوئے خاکی یونیفارم میں ملبوس اپنی ہی عمر کے اس میجر پر نظریں جمائے بیٹھا رہا جو بڑے میکانکی انداز میں چند فائلز سامنے ٹیبل پر رکھے پچھلے پانچ منٹ سے مسلسل بول رہا تھا وہ کچھ دیر پہلے دو دوسرے فوجیوں کے ساتھ اس کے آفس پہنچا تھا اور خاکی یونیفارم میں ملبوس ان تین افراد کے وہاں پہنچنے پر اس کے عملے میں جو ہڑبونگ مچی تھی اس نے عمر جہانگیر کی ناگواری میں اضافہ کر دیا تھا۔
    وہ تینوں آج پہلی بار وہاں آئے تھے اور اگرچہ وہاں آنے سے پہلے عمر جہانگیر کو ان کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا اور اس نے اپنے ماتحت عملے کو بھی آرمی مانیٹرنگ ٹیم کی آمد کے بارے میں بتا دیا تھا اور یقیناً اس کا عملہ بہت محتاط ہو گیا تھا۔ انہوں نے اپنا ریکارڈ وغیرہ بھی درست کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس کے باوجود ان تینوں کے وہاں آنے پر عمر جہانگیر نے ان کی حواس باختگی دیکھ لی تھی۔ وہ لاشعوری طور پر خوفزدہ تھے۔
    اب وہ میجر اس کے آفس میں اس کے سامنے بیٹھا اسے آئندہ آنے والے دنوں میں اپنے لائحہ عمل کے بارے میں مطلع کر رہا تھا، وہ یقیناً خاصا ہوم ورک کرکے آیا تھا اور عمر کے لیے یہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں تھی۔ ان لوگوں کا انٹیلی جنس کا نظام اتنا فعال اور موثر تھا کہ چند گھنٹوں کے اندر وہ اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کر سکتے تھے اسی لیے وہ تقریباً اس کے زیر اہتمام آنے والے ہر پولیس سٹیشن کے بارے میں بنیادی معلومات رکھنے کے علاوہ ان کی کارکردگی کے بارے میں بھی خاصا علم رکھتا تھا۔
    اپنے لب و لہجے سے وہ کوئی بہت زیادہ دوستانہ مزاج کا حامل نہیں لگتا تھا اور یہ شاید آرمی میں ہونے کی وجہ سے تھا یا پھر اس ذمہ داری کی وجہ سے جو اسے سونپی گئی تھی وہ کسی لگی لپٹی کے بغیر بات کر رہا تھا اور عمر جہانگیر کے چہرے پر وقتاً فوقتاً اس کے تبصروں پر ابھرنے والے ناگواری کے تاثرات کو مکمل طور پر نظر انداز کیے ہوئے تھا۔
    خاصے لوازمات کے ساتھ سرو کی جانے والی اس چائے نے بھی اس کے اس انداز میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی جو عمر جہانگیر کے ماتحت عملے نے خاصی عاجزی اور مستعدی کے ساتھ انہیں سروکی تھی۔ اپنے سامنے پڑی فائلز کو باری باری کھولے وہ تنبیہی انداز میں عمر جہانگیر کو اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں کے ساتھ ان چیزوں سے آگاہ کرتا گیا جو اسے آئندہ آنے والے دنوں میں انجام دینی تھیں۔ عمر جہانگیر چائے پیتے ہوئے کسی قسم کے تبصرے کے بغیر بڑی خاموشی سے اس کی گفتگو سنتا گیا۔ جب اس لمبی چوڑی گفتگو کا اختتام ہوا تو عمر جہانگیر نے بڑے دوستانہ انداز میں اپنی بات کا آغاز کیا(وہ پہلی ہی ملاقات میں اختلافات کا آغاز نہیں کرنا چاہتا تھا)
    ”آپ لوگوں کو میری طرف سے پورا تعاون حاصل رہے گا نہ صرف میری طرف سے بلکہ میرے عملے کی طرف سے بھی اور آپ کے اس نگرانی کے کام سے مجھے خاصی مدد ملے گی بلکہ خاصی آسانی ہو جائے گی کہ مجھے اپنے عملے کی کارکردگی کا پتا چلتا رہے گا اور میں ان کی خامیوں سے آگاہ ہوتا رہوں گا۔”
    عمر نے بڑے اطمینان سے کہتے ہوئے سامنے بیٹھے میجر کے چہرے پر نظر دوڑائی جو اس کے آخری چند جملوں پر اپنی کرسی پر پہلو بدل کر رہ گیا تھا۔
    ”اور۔۔۔” اس سے پہلے کہ عمر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کچھ اور کہتا، اس میجر نے اس کی بات کاٹ دی۔
    ”کچھ تھوڑی سی غلط فہمی ہے جو ہونی تو نہیں چاہیے تھی کیونکہ میں نے آپ کو خاصی لمبی بریفنگ دی ہے مگر پھر بھی آپ کو ہو گئی ہے۔ ہم آپ سمیت آپ کے عملے کو مانیٹر کرنے آئے ہیں، آپ کو assist (معاونت) کرنے نہیں۔”




  • امربیل — قسط نمبر ۱۲

    امربیل — قسط نمبر ۱۲

    عمر نے مقابلے کے امتحان میں کامیابی کے بعد اگلے دو سال لاہور اور اسلام آباد میں گزارے تھے۔ وہ نانو کے گھر نہیں رہا تھا مگر وہ مستقل علیزہ سے ملتا اور اسے فون کرتا رہتا تھا۔ کبھی ایسا کوئی دن نہیں گزرتا تھا جب وہ علیزہ کو فون نہ کرتا ہو۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنے پورے دن کی روداد سناتے۔ عمر اسے وقتاً فوقتاً اپنے مشوروں سے نوارتا رہتا تھا، اور وہ آنکھیں بند کرکے ان پر عمل کرتی۔
    عمر پر اس کا انحصار ہر معاملے میں بڑھ گیا تھا اور ایسا کرنے میں بڑا ہاتھ عمر ہی کا تھا۔ شاید وہ ہر معاملے میں اس کی اس طرح مدد نہ کرتا تو وہ ہر معاملے میں اسے انوالو کرنا چھوڑ دیتی۔
    انہیں دو سالوں کے دوران معاذ حیدر کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد نانو میں یک دم بہت ساری تبدیلیاں آگئیں۔ ان کی سوشل سرگرمیاں بہت محدود ہو گئیں اور علیزہ پر ان کی توجہ بہت بڑھ گئی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اب اکیلی ہو چکی تھیں اور ان کے لاشعور میں یہ احساس تھا کہ کچھ عرصہ کے بعد علیزہ کی شادی کی صورت میں وہ مکمل طور پر تنہا ہو جائیں گی۔شایداسی وجہ سے انہوں نے علیزہ پر بہت سی پابندیاں ختم کر دیں تھیں۔ وہ اب اسے کسی بات پر مجبور نہیں کرتی تھیں۔
    عمران دنوں اپنی پہلی بیرون ملک پوسٹنگ پر امریکہ جا چکا تھا۔ ان کے درمیان رابطہ بھی ابھی قائم تھا مگر فون کالز کے تسلسل میں کمی ہو چکی تھی۔ نانو کے ساتھ زندگی میں پہلی بار اس کی بے تکلفی اور دوستی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ یہ اسی دوستی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اے لیولز کے دوران اس کے لئے پرپوزلز کی تلاش ترک کر دی تھی۔ ثمینہ اور سکندر کے اصرار اور دباؤ کے باوجود انہوں نے اس معاملے میں وہی کیا تھا جو علیزہ نے چاہا تھا۔ اس میں بڑا ہاتھ عمر کا بھی تھا جو مسلسل نانو کی برین واشنگ کرتا رہتا تھا۔




    نانو کے لاشعور میں شاید کہیں یہ بات بھی تھی کہ عمر اپنی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے یہ خواہش رکھتا ہے کہ علیزہ کی ابھی کہیں شادی نہ ہو اور کچھ عرصہ کے بعد جب وہ مکمل طور پر اسٹیبلش ہو جائے گا تو تب وہ خود اس سے شادی کرنا چاہے گا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ جو اس کی تعلیم مکمل کروانے پر اتنا اصرار کر رہا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی پسندیدگی ہے۔
    عمر کی امریکہ پوسٹنگ ہونے کے بعد بھی نانو کے ذہن سے یہ خیال محو نہیں ہوا کیونکہ عمر کا ابھی بھی ان کے اور علیزہ کے ساتھ رابطہ تھا۔ اگرچہ یہ رابطہ پہلے کی طرح مستقل نوعیت کا تھا مگر پھر بھی ابھی اس رابطے نے رسمی نوعیت اختیار نہیں کی تھی۔
    وہ اب بھی علیزہ کے بارے میں فکر مند رہتا تھا اور اس کے بارے میں اکثر نانو سے گفتگو کرتا رہتا۔ اہم مواقع پر بھی وہ کبھی علیزہ کو کال کرنا نہ بھولتا۔
    لیکن پھر آہستہ آہستہ علیزہ اور نانو کے لئے کی جانے والی فون کالز میں کمی آنے لگی۔ وہ اپنی جاب سے مطمئن نہیں تھا… کیوں مطمئن نہیں تھا یہ بات اس نے کبھی تفصیل سے بتانے کی کوشش نہیں کی تھی، مگر وہ جب بھی فون پر نانو یا علیزہ سے بات کرتا… وہ تلخ ہو جاتا… اس کے لہجے میں رچ جانے والی اس تلخی کی وجہ کیا تھی… جہانگیر معاذ… پا پھر ہر چیز سے بہت جلد اکتا جانے کی اس کی اپنی عادت… یا پھر جہانگیر معاذ کے دباؤ پر کئے جانے والے مسلسل غیر قانونی کام۔
    ”پاپا مجھے ربر اسٹیمپ کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ مجھے بعض دفعہ محسوس ہوتا ہے کہ میں کوئی بھی کام اپنی مرضی سے کبھی کر ہی نہیں سکتا۔ ہر چیز میں پاپا کی انوالومنٹ بہت ضروری ہے۔”
    وہ فون پر علیزہ اور نانو سے شکایت کرتا۔
    ”وہ کہیں گے دن تو مجھے دن کہنا ہے… وہ کہیں گے رات تو مجھے رات کہنا ہے… مجھے اگر یہ اندازہ ہو جاتا کہ پاپا میری پرسنل اور پروفیشنل لائف میں اس قدر مداخلت کریں گے تو میں کبھی اس پروفیشن میں نہ آتا… میں نارتھ پول پر بیٹھنے کو ترجیح دیتا… واشنگٹن میں کام کرنے کی نسبت۔۔۔” وہ بولتا رہتا۔
    ”تمہیں اگر جہانگیر کی اپنے کام میں مداخلت ناپسند ہے تو تم اسے صاف کہہ دو… پہلے بھی تو تم اس سے دو ٹوک بات کرلیتے تھے۔” نانو اسے مشورہ دیتیں اور وہ آگے سے خاموش ہو جاتا۔
    ”ایک پاپا کو مداخلت کرنے سے منع کر دوں تو اور کتنوں کو روکوں… جس سسٹم کا میں حصہ بن گیا ہوں وہاں کھڑے ہو کوئی تقریریں تو کر سکتا ہے تبدیلی نہیں لا سکتا… غلط کام کرنے سے بچنے کے لئے میں اپنے آفس ٹیبل کے نیچے چھپ سکتا ہوں نہ فائل پر سائن کرنے سے انکار کر سکتا ہوں… جو چیز مجھ تک پہنچتی ہے اور اسے کسی نے غلط نہیں سمجھا تو اسے میں غلط سمجھنے والا کون ہوتا ہوں… بہترین بیورو کریٹ وہ ہوتا ہے جو آنکھیں، کان اور منہ بند رکھے۔ جو سسٹم کا Cog بن کر رہے Maker بننے کی کوشش نہ کرے۔” وہ استہزائیہ انداز میں ہنستے ہوئے کہتا۔
    نانو کو تب ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ احساس ہوتا گیا کہ علیزہ میں عمر کی دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ یا پھر سرے سے ہی ختم ہو گئی ہے۔ پھر وہ بھی جان گئیں کہ جہانگیر، عمر کی شادی ایک بڑے اور نامور سیاسی گھرانے میں کرنا چاہ رہا تھا۔ اگرچہ عمر اس پر تیار نہیں تھا، مگر تب پہلی بار انہیں یہ اندازہ ہو گیا کہ علیزہ کے ساتھ عمر کی شادی ممکن نہیں ہے۔ جلد یا بدیر جہانگیر، عمر کو اس گھرانے میں شادی پر تیار کر ہی لے گا۔ جہانگیر معاذ کے دباؤ کے سامنے ٹھہرنا عمر کے لئے بہت مشکل تھا اور اگر وہ کسی طرح جہانگیر کے دباؤ میں نہ آتے ہوئے اس شادی سے انکار کر بھی دیتا تب بھی اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ وہ علیزہ میں گزشتہ دلچسپی کی وجہ سے شادی کی خواہش کرتا۔
    علیزہ کی عمر میں دلچسپی حد سے زیادہ بڑھ چکی تھی مگر اس کے باوجود نانو یہ بات اچھی طرح جانتی تھیں کہ وہ عمر کو پسند کرتی ہے اور خود علیزہ کو بھی احساس تھا کہ نانو اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں۔
    نانو کا خیال تھا، عمر کے واپس آنے کے امکان بہت کم ہیں… اور وقت گزرنے کے ساتھ جوں جوں وہ میچور ہو گی… وہ یقیناً عمر کو اپنے ذہن سے نکال دے گی، خاص طور پر اس صورت میں جب ان دونوں کے درمیان ہونے والا رابطہ کم سے کم ہوتا جارہا تھا۔
    ان دونوں کے درمیان رابطہ تقریباً ختم ہو گیا تھا… اور وہ وقت گزرنے کے ساتھ نانو کی توقعات کے مطابق میچور بھی ہو گئی تھی۔ مگر نانو کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا تھا کہ وہ عمر کو اپنے ذہن سے نکال دے گی… عمر کے لئے اس کی پسندیدگی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی تھی اور رہی سہی کسر پانچ سال بعد اس کی یک دم واپسی نے پوری کر دی تھی۔
    عمر کی شخصیت میں یقیناً بہت زیادہ تبدیلیاں آچکی تھیں اور یہ ذہنی اور جذباتی تبدیلیاں اس کی پوری شخصیت کا احاطہ کئے ہوئے تھیں… مگر علیزہ ایک بار پھر کسی مقناطیس کی طرح اس کی طرف کھنچ رہی تھی… اور نانو کو اس بات کا خدشہ تھا عمر پاکستان میں رہتا تو کسی نہ کسی طرح وہ دونوں رابطے میں رہتے… اور ا سکے بعد کیا ہو گا۔ وہ اچھی طرح اندازہ کر سکتی تھیں۔
    ***




  • امربیل — قسط نمبر ۱۱

    امربیل — قسط نمبر ۱۱

    علیزہ کچھ دیر بستر میں لیٹی رہی۔ دروازے کے باہر اب بالکل بھی آواز نہیں تھی’ پھر اسے دور ایک گاڑی کے اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
    ”کیا عمر واقعی جوڈتھ کو لے کر جا رہا ہے؟” وہ ششدر تھی۔
    تیزی سے اٹھ کر اس نے دروازہ کھولااور لاؤنج میں آئی۔ وہاں نانو کے علاوہ اب واقعی کوئی نہیں تھا۔
    ”نانو! عمر کہاں گیا؟” اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”وہ جوڈتھ کے ساتھ چلا گیا۔” نانو نے اخبار کا صفحہ پلٹتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں…؟” وہ تقریباً چلائی’ نانو نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ ”تم خود ہی تو یہ چاہتی تھی۔”
    ”میں کب یہ چاہتی تھی؟” وہ مایوسی سے ان کے پاس صوفہ پر بیٹھ گئی۔
    ”تم نے عمر سے یہ نہیں کہا کہ تمہیں جوڈتھ کا آنا برا لگا ہے؟”
    ”نہیں میں نے ایسا تو کچھ بھی نہیں کہا۔”
    ”عمر نے خو دمجھ سے یہی کہا تھا کہ تمہیں جوڈتھ کا آنا اچھا نہیں لگا۔”
    علیزہ کی شرمندگی میں اضافہ ہوا۔ ”نہیں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔”
    ”اگر ایسی بات نہیں تھی تو پھر یہاں بیٹھنا چاہئے تھا۔ جوڈتھ اور عمر کو کمپنی دینی چاہئے تھی۔”




    ”نانو! مجھے نیند آرہی تھی بس’ میں اس لئے… مگر آپ نے عمر کو روکا کیوں نہیں… آپ کو روکنا چاہئے تھا۔” وہ اب روہانسی ہو رہی تھی۔
    ”میں نے روکا تھا مگر جب اس نے تمہاری ناپسندیدگی کا بتایا تو پھر میں کچھ نہیں کہہ سکی۔”
    علیزہ کچھ بھی کہے بغیر صوفے پر لیٹ گئی اوراس نے نانو کی گود میں چہرہ چھپا لیا۔ اس کی اداسی اور شرمندگی یک دم بہت بڑھ گئی تھی نانو نے اخبار رکھ دیا۔
    ”وہ شام کو دوبارہ آئے گا۔ تم اس سے ایکسیکیوز کر لینا۔ اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔” نانو نے اس کا سر تھپکتے ہوئے کہا۔
    علیزہ نے بے اختیار سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔ ”وہ واپس اسپین نہیں گیا؟”
    ”نہیں بھئی’ اسپین کیسے جا سکتا ہے، وہ تو دوبارہ فلائٹ وغیرہ دیکھ کر سیٹ بک کروائے گا۔ تب ہی جا سکے گا۔ ابھی تو ڈرائیور اسے اور جوڈتھ کو کسی ہوٹل چھوڑنے گیا ہے۔”
    علیزہ نے اطمینان کا سانس لیا۔ ”وہ آئے گا تو میں اس سے ایکسکیوز کر لوں گی۔ اور پھر اس سے کہوں گی کہ وہ جوڈتھ کو یہاں لے آئے۔ ٹھیک ہے نانو؟” علیزہ نے نانو سے اپنی بات پر رائے لی۔
    ”ہاں ٹھیک ہے تمہارے بار ے میں بہت فکر مند ہو رہا تھا، کہہ رہا تھا کہ تم بہت کمزور ہو گئی ہو۔ میں تمہیں کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاؤں… میں نے اس سے کہا ایساآپریشن کی وجہ سے ہے۔ پھر یہ جو تمہیں بخار ہو جاتا ہے۔ تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہئے۔” نانو اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔ مگر علیزہ کا دھیان کہیں اور اٹکا ہوا تھا۔
    ”نانو! آپ کو جوڈتھ کیسی لگی ہے؟” اس نے کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد نانو سے پوچھا۔
    ”جوڈتھ؟ بہت اچھی ہے وہ … تم کیوں پوچھ رہی ہو؟”
    ”بس ایسے ہی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ پچھلے دس سال سے عمر کی فرینڈ ہے مگر عمر نے پہلے کبھی اس کا ذکر ہی نہیں کیا۔”
    نانو نے لاپروائی سے کندھے اچکا دیئے۔ ”ہاں اس نے پہلے کبھی ذکر نہیں کیا مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہر بات تو وہ نہیں بتا سکتا، ویسے بھی وہ کس کس کے بارے میں بتائے۔ اس کے دوست بہت زیادہ ہیں۔”
    ”مگر اس کو جوڈتھ کے بارے میں بتانا چاہئے تھا، باقی فرینڈز کا بھی تو نام لیتا رہتا ہے۔” علیزہ نے اصرار کیا۔
    ”وہ آئے گا تو اس سے پوچھ لینا کہ اس نے جوڈتھ کا ذکر کیوں نہیں کیا۔” نانو نے بات کا موضوع بدلنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔
    ”آپ کو پتا ہے وہ جوڈتھ کو ساتھ لے کر اسپین گیا ہوا تھا؟”
    ”ہاں۔۔۔” نانو نے ایک لفظی جواب دیا۔ علیزہ خاموشی سے ان کا چہرہ دیکھتی رہی۔
    ”اس نے فون پر یہ بھی نہیں بتایا۔ بس یہی کہا کہ وہ کچھ فرینڈز کے ساتھ اسپین میں ہے۔ اس کو بتانا چاہئے تھا نا؟” علیزہ نے ایک بار پھر ان کی حمایت چاہی۔ ” میں کہہ رہی ہوں ناکہ وہ آئے گا تو تم اس سے یہ سب کچھ پوچھ لینا۔ تم مجھے یہ بتاؤ کہ چکن کارن سوپ بنواؤں تمہارے لئے۔” نانو نے ایک بار پھر بات کا موضوع بدل دیا۔
    ”پتا نہیں… جو مرضی کریں۔” علیزہ نے ان کی بات میں دلچسپی نہیں لی۔
    ”ٹھیک ہے۔ بنوا لیتی ہوں مگر تم پی ضرور لینا۔ یہ نہ ہو کہ پرسوں کی طرح پھر رکھ چھوڑو۔”
    علیزہ نے کچھ نہیں کہا وہ ایک بار پھر کسی سوچ میں مصروف تھی۔
    ”نانو! جوڈتھ عمر کی بیسٹ فرینڈ ہے۔ ہے نا…؟” نانو نے ایک گہرا سانس لیا۔
    ”تم کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہو، دونوں کے بارے میں۔ فرض کرو اگر وہ اس کی بیسٹ فرینڈ ہے تو بھی کیا فرق پڑتا ہے۔” نانو نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرم آواز میں اس سے کہا۔
    ”مجھے لگتا ہے ، وہ مجھ سے زیادہ اس کی دوست ہے۔” اس کی بہت ہلکی آواز میں کہا گیا جملہ ان تک پہنچ گیا۔
    ”وہ دس سال سے اس کے ساتھ ہے… دونوں اسکول میں اکٹھے رہے بعد میں ایک ہی یونیورسٹی میں گئے۔ پھر ہم عمر بھی ہیں۔ ظاہر ہے عمر کی اس کے ساتھ زیادہ اچھی اور بہتر انڈر اسٹینڈنگ ہے۔”
    ان کی وضاحت علیزہ کو بری لگی۔”میرے ساتھ اس کی Affiliationیا انڈر اسٹینڈنگ نہیں ہے؟”
    ”تمہارے ساتھ اس کا تعلق اور طرح کا ہے۔ تم اس کی کزن ہو۔ ظاہر ہے تمہیں وہ اس طرح سے ٹریٹ کرتا ہے۔”
    ”مگر وہ مجھے بھی اپنا دوست کہتا ہے۔ اس نے کہا تھا میں اس کی بیسٹ فرینڈ ہوں۔” علیزہ نے بے تابی سے کہا۔
    ”تمہاری اور اس کی دوستی کو ابھی بہت تھوڑا وقت ہوا ہے۔”
    ”اس کا مطلب ہے کہ وہ میری پروا نہیں کرتا؟” اس نے برق رفتاری سے نتیجہ اخذکیا۔
    ”میں نے یہ کب کہا؟ پروا کرتا ہے تو تمہارے لئے اسپین سے واپس آگیا ہے۔ مگر جوڈتھ کے ساتھ اس کی دوستی زیادہ گہری ہے، اور شاید دوستی نہیں ہے۔”
    ”دوستی نہیں ہے۔ تو پھر کیا ہے؟” علیزہ نے کچھ الجھتے ہوئے پوچھا۔
    ”میرا خیال ہے وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ہو سکتا ہے بہت جلد شادی کر لیں۔” نانو نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    علیزہ کچھ اور کہہ نہیں سکی۔
    ٭٭٭
    عمر شام کو وہاں آیا تھ امگر اس بار وہ اکیلا تھا جوڈتھ اس کے ساتھ نہیں تھی۔ علیزہ پہلے ہی لاؤنج میں بیٹھی اس کی منتظر تھی۔ اس نے علیزہ کو دیکھتے ہی بڑی شگفتگی سے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھ لو علیزہ ! اب میں بالکل اکیلا ہوں۔ میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔” علیزہ خاموش رہی۔
    وہ علیزہ کے پاس صوفہ پر آکر بیٹھ گیا اور اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک بیگ اس کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
    ”میں تمہارے لئے کچھ چیزیں لایا ہوں، دیکھ لو۔”
    وہ اب کرسٹی کو اس کی گود سے لے رہا تھا، علیزہ نے بیگ کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا۔
    ”میں نے آپ سے یہ تو نہیں کہا تھا کہ آپ چلے جائیں۔” اس کی بات کے جواب میں اس نے سنجیدگی سے کہا۔ عمر نے کرسٹی کو اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے اسے دیکھا اور اطمینان سے کہا۔
    ”ہاں کہا تو نہیں تھا مگر تمہیں جوڈتھ کا آنا اچھا نہیں لگا تھا” وہ اب کرسٹی کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔
    ”نہیں ایسا نہیں تھا۔” علیزہ نے جھوٹ بولا۔
    عمر اسے دیکھ کر مسکرایا اور ایک بار پھر کرسٹی کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ وہ اس کے جواب کا انتظار کر تی رہی لیکن جب اس نے کچھ نہیں کہا تو علیزہ نے ایک بار پھر اسے متوجہ کیا۔
    ”میں نے آپ سے کچھ کہا ہے؟”
    "Aleeza! your face has a tell-tale quality.” (علیزہ تمہارا چہرہ سب کہانی کہہ دیتا ہے) وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    ”یہ سب کچھ بتا دیتا ہے، تمہاری پسندیدگی ناپسندیدگی، تم کچھ بھی چھپا نہیں سکتیں۔ تمہاری رائے تمہارے احساسات، سب کچھ تمہارے چہرے پر آجاتے ہیں۔ میں کیا کوئی بھی تمہارا چہرہ پڑھ سکتا ہے، جیسے اس وقت تمہارا چہرہ کہہ رہا ہے کہ تم جھوٹ بول رہی ہو۔ جہاں تک میری صبح کی ریڈنگ کی بات ہے تو وہ بھی غلط نہیں تھی۔ صرف میں نے ہی نہیں جوڈتھ نے بھی یہی محسوس کیا تھا، کہ تم اس کے آنے پر خوش نہیں ہو۔ اس لئے پھر ہم نے یہی طے کیا کہ ہوٹل چلے جائیں۔”
    کرسٹی اب عمر کی شرٹ کے ساتھ اپنا سر رگڑ رہی تھی۔ علیزہ یک دم ناراض ہو گئی۔
    ”جوڈتھ نے آپ سے میرے بارے میں کوئی غلط بات کہی ہو گی۔ وہ جان بوجھ کر چاہتی ہے کہ آپ میرے بارے میں برا سوچیں۔”
    ”اس نے مجھ سے تمہارے بارے میں کوئی بری بات نہیں کی اور نہ ہی وہ یہ چاہتی ہے کہ میں تمہارے بارے میں برا سوچوں۔ اس نے تمہارے بارے میں مجھ سے کہا تھا۔”
    "Aleeza is a pretty girl, I liked her.”
    علیزہ چند لمحوں تک کچھ بھی نہیں کہہ پائی۔ ”لیکن انہوں نے آپ سے یہ کیوں کہا کہ مجھے ان کا آنا اچھا نہیں لگا۔ وہ آپ تو یہ کہتی ہیں کہ وہ مجھے پسند کرتی ہیں، مگر میرے بارے میں کہتی ہیں کہ میں انہیں پسند نہیں کرتی۔”
    ”She is very crafty” (وہ بہت چالاک ہے)
    عمر نے اسے دیکھا، اس بار واضح طور پر اس کے چہرے پر ناپسندیدگی تھی۔
    ”جوڈی میری دوست ہے اور میں یہ کبھی پسند نہیں کروں گا کہ کوئی میرے دوستوں کے بارے میں فضول تبصرہ کرے۔”
    علیزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا پھر وہ روہانسی ہو گئی، اس نے ایک جھٹکے سے کرسٹی کو عمر کی گود سے کھینچ لیا۔ عمر نے چند لمحوں کے اندر اس کی آنکھوں کو موٹے موٹے آنسوؤں سے بھرتے دیکھا
    اور پھر وہ پاؤں پٹختے ہوئے کچھ کہے بغیر لاؤنج سے چلی گئی۔ عمر اس کے پیچھے نہیں آیا۔ وہ خاموشی سے لاؤنج کی کھڑکیوں سے اسے لان میں جاتا دیکھتا رہا۔
    وہ آدھا گھنٹہ لان میں بیٹھ کر روتی رہی پھر ملازم اسے چائے کے لئے بلانے آیا۔
    ”مجھے نہیں پینی۔۔۔” اس نے صاف انکار کر دیا۔
    وہ جانتی تھی ملازم اندر جا کر اس کا جواب ایسے ہی پہنچا دے گا اور اسے توقع تھی کہ عمر یا نانومیں سے کوئی خود اسے لینے آئے گا یا پھر ملازم کو دوبارہ بھیجا جائے گا۔ ایسا نہیں ہوا، ملازم دوبارہ آیا نہ ہی عمر یا نانو میں سے کوئی اسے بلانے آیا وہ اور دل گرفتہ ہوئی۔ اس کے آنسو آہستہ آہستہ خود ہی تھم گئے۔
    شام کچھ اور ڈھلی اور لان میں تاریکی اترنے لگی، مگر وہ وہیں بیٹھی رہی۔ بالآخر اس نے عمر کو پورٹیکو میں نکلتے دیکھا وہ بے اختیار خوش ہوئی اس کا خیال تھا کہ وہ اسے منانے کے لئے آیا تھا۔ مگر ایسا نہیں تھا عمر لان کی طرف دیکھے بغیر پورٹیکو میں کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ علیزہ کو جیسے کرنٹ لگا۔
    ”کیا وہ واپس جا رہا ہے، مگر اس نے تو رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔”
    وہ بے چین ہو گئی…اسے توقع تھی کہ وہ رات کے کھانے تک رکے گا مگر… کرسٹی لان میں پھر رہی تھی، عمر کو لاؤنج سے باہر نکلتے دیکھ کر وہ بھاگتی ہوئی اس کی طرف گئی۔ عمر نے گاڑی کے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا جب وہ اس کے قریب پہنچ گئی اور اس کی ٹانگوں سے اپنا جسم رگڑنے لگی۔ علیزہ نے عمر کو رکتے دیکھا اس نے جھک کر کرسٹی کو گود میں اٹھا لیا پھر علیزہ نے اسے پلٹتے دیکھا۔ وہ اب لان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر علیزہ نے اسے اپنی جانب آتے دیکھا۔ اس کے قریب آنے پر علیزہ نے اپنی ناراضی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوچھا۔