Tag: bol entertainment

  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۷

    ”یہ کس نے بھیجے ہیں؟” زینی نے اس بے نام پیلے گلابوں کے گلدستے پر نظر ڈالتے ہوئے مڑکر سلطان سے پوچھا۔
    آج تک اسے کسی نے پیلے گلاب نہیں بھیجے تھے۔ اسے ہمیشہ سرخ گلاب ہی ملتے تھے۔ خون کی طرح سرخ گلاب یہ شاید کوئی نہیں جانتا تھا کہ زینی کو صرف پیلے گلاب پسند تھے اس کو کبھی بھی گلاب کا سرخ پھول اچھا نہیں لگا تھا اور اب اس کے گھر پر بھجوائے جانے والے پھولوں میں سرخ گلابوں کی بھر مار ہوتی تھی زینی ایک نظر بھی ان میں سے کسی بکے پر نہیں ڈالتی تھی۔ صرف یہ ایک بکے تھا جس پر اس کی نہ صرف نظر ٹکی ہوئی تھی بلکہ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھا لیا تھا۔
    ”پتا نہیں، ساتھ یہ لفافہ آیا تھا۔”
    سلطان نے ایک بند لفافہ اس کی طرف بڑھایا زینی نے پھول رکھتے ہوئے بے حد دلچسپی سے اس لفافے کو کھولا۔ اندر ایک چھوٹے سے کارڈ پر صرف دو لفظ لکھے تھے۔
    ”For Zaini”
    ایک لمحہ کے لئے زینی کا ہاتھ کپکپایا۔ یہ زینی کو پھول بھیجنے والا کون تھا؟ کون تھا جو نہ صرف اس کا نام جانتا تھا، بلکہ اس کی پسند سے بھی واقف تھا۔ ذہن کی اسکرین پر ابھرنے والا چہرہ ایک ہی تھا، شیراز کا چہرہ مگر وہ ہینڈ رائٹنگ شیراز کی ہینڈ رائٹنگ نہیں تھی۔
    وہ چند لمحے خالی خالی نظروں سے اس کارڈ کو دیکھتی رہی۔ پھر اس نے کارڈ کو دوبارہ لفافے کے اندر رکھ دیا اور اسے ایک طرف پھینک دیا۔ وہ خوش فہمیوں کے جال سے آزاد ہو چکی تھی۔
    اپنے جوتے اتار کر وہ صوفے پر بیٹھ کر سگریٹ پینے لگی۔ سلطان اسے اخبارات میں آنے والے ریویوز پڑھ کر سنا رہا تھا جو اس کی فلم کے متعلق تھے۔ زینی بے حد سنجیدگی سے ان ریویوز کو سنتی رہی۔ اسے کسی تنقید یا تعریف میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن سلطان کو تھی وہ باقاعدگی سے اس کے بارے میں کسی بھی اخبار میں آنے والی ہر خبر ہر تبصرے کو اس تک پہنچاتا۔
    اور زینی کا رد عمل اسے حیران کرتا یہ فلم انڈسٹری کی پہلی ہیروئن تھی جسے اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ لوگ اور اخبار والے اس کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے۔
    زینی کے ساتھ گزرنے والا ہر دن اسے زینی کے کسی نئے رخ سے آشنا کرتا تھا وہ اس کے گھر کے افراد سے واقف تھا۔ ان کی زندگیوں کے بارے میں جانتا تھا مگر جس ایک لڑکی کے ساتھ وہ دن رات گزار رہا تھا وہ کسی بھید کی طرح تھی اس کے لئے، فلم انڈسٹری میں وہ کیوں آئی تھی؟ یہ سلطان جانتا تھا۔
    پیسہ کمانے کے لئے۔




    مگر وہ پیسہ کس لیے کما رہی تھی۔ یہ سلطان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اس نے زینی کو کبھی اپنے پیسے اپنے زیورات اپنی قیمتی چیزوں کو کسی لاکر کسی تالے میں رکھتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ باہر پڑی ہوتیں۔ ڈریسنگ ٹیبل پر، بیڈ کی درازوں میں۔ بیڈ کی سائیڈ ٹیبلز پر، لیکن باہر… سامنے دعوت عام دیتے ہوئے… سلطان اس کے زیورات اور پیسے کو سنبھالتے سنبھالتے تنگ آجاتا۔ لیکن ہر روز اس کا کسی نہ کسی سیٹ کا کچھ نہ کچھ گم ہوتا رہتا۔ اور یہ صرف اور صرف زینی کی لاپروائی کی وجہ سے ہوتا تھا۔ لیکن سلطان کو حیرت ہوتی تھی کبھی کسی رقم، کسی زیور، کسی قیمتی چیز کے گم ہونے پر اس نے زینی کو پریشان نہیں دیکھا تھا، مجال تھی کہ اس کے ماتھے پر ایک سلوٹ تک آجاتی، یوں لگتا جیسے اسے پروا ہی نہیں تھی اس کی کیا چیز کھو رہی ہے۔
    ”جب پیسے کو حفاظت سے نہیں رکھنا تو اسے حاصل کرنے کے لئے ہلکان کیوں ہو رہی ہیں پری جی؟”
    سلطان نے اس دن جھنجھلا کر اس کے ایک سیٹ پر شوٹنگ کے دوران کہا تھا زینی کا پرس گم ہو گیا تھا اور اس میں صبح ہی سلطان نے بینک سے ایک چیک کیش کروا کر پچاس ہزار رکھے تھے۔
    ”پیسے کی ضرورت ہے مجھے، اس سے محبت نہیں۔” وہ زینی کے جواب پر بول نہیں سکا تھا۔
    ”اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی چیزیں کھوتا پھرے؟” سلطان نے کچھ دیر کے بعد خفگی سے کہا۔
    ”جو کھویا ہے میں نے، وہ اگر گنوا دوں تمہیں تو ان کے سامنے یہ ساری چیزیں کچھ لگیں ہی نا۔”
    اس نے ہنس کر سلطان سے کہا تھا۔
    سلطان کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اس سے کیا کہے۔ وہ سننے اور سمجھنے والی شے نہیں تھی۔ وہ پری زاد تھی۔ اور وہ، وہ کرتی تھی جو اس کے دل میں آتا تھا۔
    پہلی فلم کی کامیابی کے بعد اس کے سامنے آفرز کے انبار لگ گئے تھے اور زینی نے وہی کیا تھا جو اس صورت حال میں کوئی بھی ایکٹریس کرتی اس نے 25 فلمیں سائن کر لی تھیں۔ فلم انڈسٹری کے ہر بڑے چھوٹے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کی فلم اس نے سائن کی تھی۔
    تبریز پاشا اس پر بڑا جزبز ہوا تھا۔ وہ اگلے پانچ سالوں تک زینی کو صرف اپنی فلموں میں کام کرتے دیکھنا چاہتا تھا اور وہ بار بار زینی کو یہ بات جتانا نہیں بھولتا تھا کہ زینی کو فلم انڈسٹری میں اس کی فلم کی وجہ سے کامیابی ملی تھی۔ اس پر سب سے زیادہ ”حق” اس کا تھا۔ مگر وہ بہر حال زینی پر پہرے نہیں لگا سکتا تھا۔
    اس نے فلم انڈسٹری کی ہر ہیروئن کو ایک ہٹ فلم کے بعد ایگریمنٹ توڑتے پایا تھا اور و ہ جانتا تھا کہ زینی بھی یہی کرے گی، کامیابی سیلاب کی مانند ہوتی ہے اس کے سامنے بند باندھنے والا احمق ہوتا ہے اور تبریز پاشا بہر حال احمق نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا اسے ٹھوکر مارنے کے لئے زینی کو کوئی اور زینہ مل جائے اور وہ جانتا تھا کہ اس وقت انڈسٹری کا ہر پروڈیوسر زینی کے لئے سیڑھی کا پائیدان بننے کا خواہش مند تھا۔
    اور زینی کے اس طرح دھڑا دھڑ فلمیں سائن کرنے پر جزبز ہونے والا وہ اکیلا نہیں تھا۔ سلطان نے بھی زینی کو بے حد روکنے کی کوشش کی تھی۔
    اس چھوٹی فلم انڈسٹری میں سال میں دو چار فلموں سے زیادہ فلموں کے ہٹ ہونے کا امکان کم تھا اور پچیس فلموں میں سے بیس فلموں کے فلاپ ہونے کا مطلب ایک نئی ہیروئن کے لئے کیا تھا۔ یہ سلطان جانتا تھا زینی نہیں۔ لیکن زینی اس معاملے میں اس کی بات سننے پر تیار نہیں تھی۔ مجبوراً سلطان نے اسے ان فلموں کو سائن کرنے دیا مگر زینی کو ڈیٹس دینے کے سلسلے میں اس نے بے حد ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان میں سے بہت سے پروڈیوسرز کو دوسرے اور تیسرے سال کی ڈیٹس دیں۔
    ان میں سے کچھ پرانے پروڈیوسرز نے اس پر کچھ ہنگامہ ضرور کیا۔ مگر نئے پروڈیوسر جو صرف ایک فلم کے پروڈیوسر کے طور پر اپنا نام اور ہیروئن کے ساتھ تصویر دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ تھوڑی سی چوں چرا کے بعد ان ڈیٹس پر رضا مند ہو گئے تھے۔
    پہلے سال میں پری زاد کی صرف دس فلمیں سیٹ پر تھیں اور ان میں سے کسی فلم میں سفیر اس کے ساتھ نہیں تھا۔ پہلے سفیر لوگوں کو پری زاد کو اپنے ساتھ کاسٹ کرنے سے منع کرتا تھا۔ اب یہ کام پری زاد نے کیا تھا۔ اس نے ہر پروڈیوسر سے ہیرو کا نام تبدیل کروا کر فلم سائن کی تھی۔ اور سلطان اس پر بھی خوش نہیں تھا۔
    سفیر کے علاوہ باقی سارے ہیرو سیکنڈ لیڈ سمجھے جاتے تھے اور سیکنڈ لیڈ ایکٹرز کے ساتھ ہیروئن کے طور پر فلم کرنا سلطان کے نزدیک پروفیشنل خود کشی تھی اور سلطان خائف تھا کہ جیسے ہی اس کی ابتدائی کچھ فلمیں فلاپ ہوئیں پروڈیوسر نام کے پرندے اس کی دیواروں سے غائب ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس وقت اس کو سفیر کے ساتھ فلم کی ضرورت پڑتی اور سلطان جانتا تھا کہ سفیر جیسا منتقم مزاج آدمی اس وقت پری زاد کے ساتھ کبھی فلم نہ کرتا۔
    پری زاد اس وقت گرتی ہوئی دیوار ہوتی اور سفیر گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دینے کی شہرت نہیں رکھتا تھا۔ خاص طور پر اس صورت حال میں جب ہر پروڈیوسر سفیر کو یہ بتاتا کہ وہ اسے فلم سے اس لیے کٹ کر رہا تھا کہ پری زاد اس کے ساتھ اس کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتی۔ سفیر یہ سب کچھ بھولنے والا نہیں تھا اور سفیر ہی کیا اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہ سب کچھ نہیں بھولتا۔ مگر پری زاد کو سفیر سے کتنی چڑ تھی۔ یہ سلطان کو پتہ نہیں تھا اس کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے کیرئیر کی دو بڑی غلطیاں ایک ہی وقت میں کر رہی تھی اور ایک ہی وقت میں دو غلطیاں بہت تھیں، سلطان کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ”بہت” زینی کے لئے ”بہت” نہیں تھیں۔
    ”میں انور حبیب کی ڈائریکشن میں کام نہیں کروں گی۔ تم صبح اخبار میں میرا بیان لگوا دو۔”
    وہ اس وقت گاڑی میں تبریز پاشا کے گھر ہونے والی ایک فلمی پارٹی سے واپس آرہے تھے جب راستے میں زینی نے سلطان کے سر پر بے حد آرام سے ایک اور بم پھوڑا۔
    ****




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۴

    سر جھکائے اس نے فرش پر نظر آنے والے پیروں کو باری باری دیکھنا شروع کیا۔ نکاح خواں، ایجاب وقبول کی عبارت سے پہلے کے چند جملے ادا کر رہا تھا۔ اس کے اندر جیسے لاوا ابل پڑنے کو تیار تھا۔ وہ سارے ان لوگوں کے پاؤں تھے جو اس کے وجود کو سیڑھی بنا کر اوپر جانا چاہتے تھے۔ اس کا باپ، ماں، بہنیں۔ چند لمحوں کے لیے اسے لگا وہ سارے پیر اس کے جسم کے اوپر سے گزر رہے تھے۔ ہاتھیوں کے کسی جھنڈ کی طرح اسے روندتے رگیدتے ہوئے، چند لمحوں کے لیے اسے واقعی اپنا وجود بے حد کچلا اور مسلا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے جیسے گہرا سانس لے کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
    آخر وہ کیوں ان لوگوں کے لیے سیڑھی بنے، انہیں اپنے اوپر سے گزرنے دے؟ اس نے سوچا۔ لیکن وہ کر کیا سکتی تھی۔ اس کے ہاتھ کٹے ہوئے تھے۔
    پھر اسے یک دم کسی کا خیال آیا۔ خوف کی ایک لہر سی اس کے جسم کے اندر سے گزری۔
    ”تم نے اگر ہاں کی تو میں خود کو گالی مار لوں گا۔ تمہارے گھر سے تمہاری بارات جائے گی تو میرے گھر سے میرا جنازہ۔”
    اس کے کانوں میں اس کی دھمکی گونجی، اسے یقین تھا، وہ جو کہتا تھا کر گزرتا تھا۔ وہ یہ بھی جانتی تھی۔ وہ اس وقت ریوالور لے کر وہیں کہیں آس پاس ہو گا۔ وہ ”ہاں” کہتی، نکاح خواں باہر جا کر اعلان کرتا اور اس کے بعد…
    میک اپ سے لپے پُتے چہرے پر بھی اسے پسینے کے قطرے نمودار ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اسے باہر بیٹھے اپنے سے بائیس سال بڑے بوڑھے بے حد معمولی صورت کے اس ”امیر آدمی” سے شدید نفرت محسوس ہوئی۔ جوشادی کے نام پر اس کا ”سودا” کرنے آیا تھا۔ اسے اتنی ہی نفرت اس کمرے میں موجود اپنے ”خونی رشتوں” سے ہوئی جن کی مرضی اور خوشی سے وہ سودا طے پایا تھا۔
    ساری دنیا میں صرف ایک ہی شخص تھا جو اس سے محبت کرتا تھا اور وہ شخص اس شادی کی صورت میں آ پنی جان دینے کو تیار تھا۔ اسے وہ سارے وعدے یاد آئے جو وہ چار سال سے ایک دوسرے کے ساتھ کر رہے تھے۔ سارے منصوبے، سارے خواب۔ اور اب نئی بھیانک تعبیر ان کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تھی۔ کہ وہ اسے بھی ایک خواب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک ڈراؤنا خواب۔
    مووی کیمرے کی تیز روشنی جیسے اس کے چہرے کو جلا رہی تھی۔ کمرہ اس وقت لوگوں سے بری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس کے چچا،ماموں، چچیاں، ممانیاں، محلے کی چند دوسری عورتیں ہر ایک وہاں جیسے کوئی تماشا دیکھنے کے لیے کھڑا تھا یا کم از کم وہ جس ذہنی حالت میں تھی اس کو ایسا ہی لگ رہاتھا۔
    نکاح خواں اب بالآخر اس سے وہ سوال کررہا تھا جس کے جواب کی تیاری وہ پچھلے ایک ہفتہ سے کر رہی تھی، کمرے میں یک دم خاموشی چھا گئی تھی۔
    ٭٭٭





    ”آج بہت جلدی گھر آگئیں… کالج تو اتنی جلدی بند نہیں ہوتا۔” ربیعہ نے دروازہ کھولتے ہوئے زینی سے کہا۔
    ”ہاں، بس آگئی۔” اس نے بے حد مبہم جواب دیا اور پھر اندر کمرے کی طرف جانے کے بجائے صحن میں بچھی چار پائی کی طرف آگئی۔
    ”سونے لگی ہو؟” ربیعہ نے اسے چار پائی پر لیٹتے ہوئے دیکھ کر حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” زینی نے اس بار بھی اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ پھر چار پائی پر چت لیٹ گئی۔ ربیعہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں اس کو دیکھتی رہی۔ زینی چار پائی پر چت لیٹی دیوار پر چڑھی انگور کی بیل کو دیکھ رہی تھی۔
    ”کیا سوچ رہی ہو؟” ربیعہ اس کے پاس آگئی۔
    ”کچھ نہیں۔” اس نے ربیعہ کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔
    ”رمشہ سے ملیں؟” ربیعہ اس کے پاس چار پائی پر بیٹھ گئی۔
    ”ہاں!” وہ بد ستور انگور کی بیل کو دیکھتے ہوئے ربیعہ کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔
    ”تمہاری اتنی لمبی غیر حاضری سے تو بہت پریشان ہوئی ہو گی وہ۔”
    ”نہیں۔ وہ خود بھی چھٹی پر تھی۔ اسلام آباد گئی ہوئی تھی ایک ہفتہ پہلے دوبارہ کالج جوائن کیا ہے اس نے ویسے بھی اب تو فارغ کرنے والے ہیں ایک دو دن میں۔ ساری کلاسز نہیں ہو رہی ہیں اب۔”
    ”اس کو پتا ہے تمہارے اور شیراز کے بارے میں؟” ربیعہ نے کچھ تامل کے بعد اس سے پوچھا۔
    ”پورے کالج کو پتا ہے میری منگنی ٹوٹنے کے بارے میں۔ محلے کی جو لڑکیاں کالج پڑھتی ہیں، انہوں نے سب کچھ بتایا ہوا ہے وہاں۔ رمشہ کو بھی کسی نے بتا دیا تھا۔”
    ”کیا بتا دیا تھا؟”
    ”یہی کہ میرے منگیتر نے مجھے رنگے ہاتھوں کسی لڑکے کے ساتھ گلی میں پکڑا ہے۔”
    ربیعہ کا دل کٹا۔ اس نے ایسی لاتعلقی سے کہا تھا جیسے وہ اپنے بارے میں نہیں کسی دوسرے کے بارے میں بات کر رہی ہو۔
    ”کسی کو یقین نہیں آیا ہو گا کالج میں ان سب باتوں پر اور رمشہ کو تو بالکل بھی نہیں۔ میں جانتی ہوں سب وہاں تمہیں کتنا پسند کرتے ہیں اور چار سال سے دیکھ رہے ہیں سب تمہیں وہاں، اس بکواس پر تو کسی نے یقین ہی نہیں کیا ہو گا۔”
    ربیعہ کے لہجے میں بے حد اعتماد تھا۔ زینی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اسی طرح خاموشی سے انگور کی بیل کی کو دیکھتی رہی جس پر صحن سے ایک چڑیا اڑ کر جا بیٹھی تھی۔ شاید اسے وہاں کوئی کیڑا نظر آیا تھا اور اب وہ پتوں میں اس کیڑے کو تلاش کرنے کے لئے چونچیں مارنے میں مصروف تھی۔ ربیعہ کچھ دیر اس کے جواب کی منتظر رہی۔ لیکن جب اس نے کچھ نہیں کہا تو ربیعہ نے جیسے قدرے بے صبری کے ساتھ اس سے دوبارہ پوچھا۔
    ”کیا کہا سب نے؟”
    ”کچھ نہیں۔” اس نے اسی لاتعلقی سے کہا۔
    ربیعہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ ”کچھ بھی نہیں؟ کسی نے کچھ بھی نہیں کہا؟”
    زینی کبھی پریشان کالج چلی جاتی تھی تو سو لوگ اس کو تسلیاں دیتے پھرتے تھے۔ وہ بھی جو اس کو جانتے تک نہیں ہوتے تھے اور وہ گھر آکر بڑے فخریہ انداز میں ربیعہ کو یہ سب بتاتی تھی اور اب اس کی منگنی ٹوٹ گئی تھی اور کسی نے کچھ نہیں کہا۔ یہ ناقابل یقین تھا۔ ان چار سالوں کے دوران پورے کالج کو زینی کی صرف منگنی کے بارے میں ہی نہیں یہ تک پتا تھا کہ اس کا منگیتر بے حد قابل ہے اور سول سروس کے امتحان میں بیٹھنے سے لے کر اسے کوالیفائی کرنے تک سب کچھ کالج میں پہنچتا رہا تھا۔ ان ساری معلومات کو پہنچانے میں زینی کا نہیں محلے کی لڑکیوں کا ہاتھ تھا جو زینی کے کالج میں ہی اس کی جونیئر یا سینئر تھیں… اس کی منگنی کا کالج کی لڑکیوں کو پتا نہ ہوتا تو بہت سے رشتے زینی کے لیے کالج سے ہی آتے۔ لڑکیاں اس کے حسن پر کچھ اسی طرح فریفتہ تھیں وہاں۔
    ”زبان سے تو مجھ سے کسی نے کچھ نہیں کہا… نظروں سے بہت کچھ کہا۔” زینی ابھی بھی اس چڑیا کو دیکھ رہی تھی ”لڑکیاں مجھے دیکھ کر سرگوشیوں میں باتیں کرتی رہیں، کچھ ہنستی رہیں، کچھ گھورتی رہیں یوں جیسے منگنی ٹوٹنے کے بعد میرے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔”
    وہ اب بھی اس طرح بات کر رہی تھی جیسے کسی اور کی بات کر رہی ہو۔ ربیعہ کو دھچکا لگا۔
    ”رمشہ نے توکچھ کہا ہو گا تم سے؟” ربیعہ نے جیسے کسی آس میں پوچھا۔
    ”ہاں… وہ پریشان تھی۔ لڑکیاں میری عدم موجودگی میں اس سے آکر اس لڑکے کے بارے میں پوچھتی رہیں، جس کے ساتھ شیراز نے مجھے پکڑا تھا۔ ان میں سے کچھ رمشہ کو کالج کے گیٹ پر کھڑے ہونے والے کچھ لڑکوں کے نام اور حلیے بتاتی رہیں جو میرے لیے وہاں کھڑے ہوتے تھے۔ ان کا خیال تھا میں ان ہی میں سے کسی لڑکے کے ساتھ انوالوڈ تھی۔
    کسی گاڑی والے امیر لڑکے کے ساتھ اس کے پیسے کے لئے، کیونکہ سب کو پتا ہے کہ میں غریب ہوں، غربت کی وجہ سے میں لالچ میں آگئی تھی۔”
    چڑیا کو ابھی تک وہ کیڑا نہیں ملا تھا وہ ایک پتے سے دوسرے پر پھدک رہی تھی۔ اس کی ہر حرکت کے ساتھ زینب کی نظریں اس کا تعاقب کر رہی تھیں۔
    ”بس سب نے یہی کہا، کسی نے کچھ اور نہیں کہا؟” ربیعہ کو جیسے شاک لگا۔
    ”نہیں۔ اور بھی بہت کچھ پوچھتی رہی تھیں لڑکیاں… یہ کہ شیراز نے مجھے اس لڑکے کے ساتھ کس حالت میں پکڑا تھا؟ کیا اس نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ یا ہم کوئی اور قابل اعتراض حرکت کر رہے تھے گلی میں؟ کچھ لڑکیوں نے رمشہ کو بتایا کہ شیراز نے مجھے گلی میں نہیں پکڑا، کسی لڑکے کے ساتھ اس کی گاڑی میں پکڑا تھا۔ کچھ نے رمشہ سے کہا کہ شیراز نے دراصل مجھے کسی لڑکے کے ساتھ کالج کے پاس کسی چھوٹے ہوٹل کے کمرے میں پکڑا تھا۔ وہ ہوٹل کا نام جاننا چاہتی تھیں۔ کچھ نے کہا کہ شیراز کو اکیڈمی میں اس لڑکے نے اپنے ساتھ میرے کچھ بلو پرنٹس بھیجے تھے۔ جن کو صرف شیراز نے نہیں وہاں پوری اکیڈمی نے دیکھا اور شیراز کی بے حد رسوائی ہوئی۔ کچھ نے رمشہ کو قسم کھا کر بتایا کہ انہوں نے خود کئی بار مجھے کالج کے باہر مختلف لڑکوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر جاتے دیکھا تھا بعض نے بتایا کہ میں گیٹ پر کسی لڑکے کو دیکھ کر مسکراتی تھی اور اشارے کرتی تھی۔”
    ربیعہ کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ اس کا جسم کانپنے لگا تھا۔ وہ پچھتا رہی تھی۔ اس نے کیوں صبح اسے کالج جانے سے نہیں روکا تھا۔
    ”اللہ ان لوگوں کو، ان بہتان لگانے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔” ربیعہ کو بے اختیار رونا آگیا۔
    ”اللہ سب کا رب ہے۔ وہ سب کو معاف کر دیتا ہے۔” زینی کے لہجے کی سرد مہری نے ربیعہ کو اور رلایا۔
    زینی ابھی بھی چڑیا کو دیکھ رہی تھی۔ ربیعہ نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ زینی کو دیکھا۔ وہ چارپائی کے سرہانے والی لکڑی کے فریم پر سر ٹکائے لیٹی ہوئی تھی۔ صحن میں اترتی دھوپ اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی اور اس دھوپ نے اس کے رنگ کو سنہری مائل سرخ کر دیا تھا۔ اس کے گلے اور کانوں میں کچھ نہیں تھا۔ البتہ بالوں کی بہت سی چھوٹی بڑی لٹیں اس کی گردن، پیشانی اور چہرے کے اطراف چپکی ہوئی تھیں۔ کالج کے سفید یونیفارم کی شرٹ کے کالر پر بھی اس کے بالوں کی چند چھوٹی چھوٹی لٹیں چپکی ہوئی تھیں۔ ربیعہ نے سفید رنگ کسی پر زینی سے زیادہ سجتا نہیں دیکھا تھا۔ لیکن پھر سوال یہ تھا کہ اس پر کیا نہیں سجتا تھا۔ اس کی بے حد تیکھی ناک کے اطراف میں پسینے کے بہت سے چھوٹے چھوٹے قطرے نمودار ہو رہے تھے۔ وہ قطرے اس کے ماتھے، پیشانی اور گردن پر بھی نمودار ہو رہے تھے۔ چار پائی پر اس حالت میں لیٹی وہ ربیعہ کو کوئی مومی مجسمہ لگی تھی جسے دھوپ آہستہ آہستہ پگھلا رہی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس سے نظر ہٹانا مشکل تھا۔ وہ فنا ”ہو جانے” والا حسن تھا اور وہ فنا ”کر دینے والا” حسن تھا۔
    اس کی خوب صورتی دیکھ کر ربیعہ کو اور رونا آیا مگر زینی ارد گرد سے بے خبر اس بیل پر اسی چڑیا کو دیکھنے میں محو تھی۔ آخر اسے رزق کیوں نہیں مل رہا تھا؟




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۳

    زندگی کے آخری لمحوں میں اس نے ایک بار پھر اپنی موت کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی، وہ ناکام رہی۔ وہ اس کے پیروں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھ سکی تھی۔ فرش پر چلتے پھرتے اس کے پیر۔ وہ وارڈ روب کی طرف جا رہا تھا۔ بلند آواز میں کچھ کہتے ہوئے۔ کیا کہہ رہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اس کے ذہن نے ایک دم الفاظ کا مفہوم سمجھنا چھوڑ دیا تھا۔ ہر آواز اس کے لیے شور بن گئی تھی۔ ایک بے معنی، بے ہنگم، بے مقصد شور۔
    وہ فرش پر اس کے پیروں کے قریب وارڈ روب میں موجود کپڑوں کو گرتے دیکھ رہی تھی۔ وہ اب بھی کچھ کہہ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنے بیڈ سائیڈ ٹیبل کی دراز کی طرف اسے جاتے دیکھا۔ وہ کمرے میں ہر طرف کسی چیز کو تلاش کر رہا تھا۔ زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ جانتی تھی کہ اسے کس شے کی تلاش تھی۔ پیسے کی اور اس تلاش میں شاید اسے یہ احساس بھی نہیں رہا تھا کہ کچھ دیر پہلے اس نے جسے بری طرح زدو کوب کیا تھا۔ وہ مر رہی تھی یا مرنے والی تھی۔ ورنہ آخر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ اسے مرنے دیتا۔ آخر وہ اس کا شوہر تھا۔ آخر وہ اس سے محبت کرتا تھا۔ شوہر؟ محبت؟ محبت؟ شوہر؟
    اس کا ذہن اب جیسے کسی شے کو، کسی لفظ کو کوئی مفہوم دینے میں ناکام ہو رہا تھا۔ اوندھے منہ فرش پر گری وہ بے حد کوشش کے باوجود بھی کراہ نہیں پا رہی تھی۔ بے حد کوشش کے باوجود بھی اپنے وجود کو حرکت دینے میں ناکام ہو رہی تھی۔ صرف اس کا سانس تھا جو ابھی چل رہا تھا۔ کیوں چل رہا تھا؟ کیا رہ گیا تھا؟
    موت اس کے کمرے کے فرش پر ابھی بھی ادھر سے ادھر چل رہی تھی۔ اس نے بے یقینی سے ایک آخری بار جیسے سوچنے کی کوشش کی تو کیا اتنے سالوں سے وہ اپنی موت سے محبت میں مبتلا تھی؟ وہ اتنے سالوں سے کیا وہ اپنے موت کے ساتھ ایک ہی گھر میں، ایک ہی کمرے میں ،ایک ہی بستر پر رہتی آرہی تھی؟
    زرّی کو آخری سانس لینے تک یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اس شخص کے ہاتھوں مر رہی تھی جو اس کی زندگی تھا۔
    ٭٭٭





    اس نے بے یقینی سے سامنے بیٹھے وکیل کو دیکھا۔ پھر اپنے کپکپاتے ہاتھوں کو مٹھیوں کی صورت میں بھینچ لیا۔ا سے شرمندگی ہو رہی تھی۔ وکیل اس کی حالت دیکھ کر کیا سمجھ رہا ہو گا۔
    وہ کچھ سمجھ رہا تھا یا نہیں۔ بہر حال اس وقت اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔ یہ صرف ٹیبل کے دوسری طرف بیٹھے سر سے پاؤں تک بری طرح لرزتے کانپتے اس تیس سالہ نوجوان کے لیے شاک تھا مگر خود اس وکیل کے پچیس سالہ کیرئیر میں یہ سب کچھ بہت بار ہو چکا تھا۔
    ”دوبارہ پڑھ کر سنا سکتے ہیں؟”
    اس نے اپنی زبان اور جسم کی لرزش پرقابو پاتے ہوئے کہا۔ وکیل اسے دیکھ کر مسکرایا۔ پھر بے حد میکانکی انداز میں ایک بار پھر وہی سب کچھ دہرانے لگا۔
    اس نے پلکیں جھپکائے بغیر، دم سادھے پوری توجہ سے ان دس لائنز کو سنا۔ وہ تسلی کرنا چاہتا تھا کہ اسے سننے میں کچھ غلطی تو نہیں ہوئی۔ پچھلے ہفتے بھی اسی جگہ اس وکیل کے آفس میں بیٹھے اس کو اس نے پانچ بار سنا تھا۔ اگر وکیل کے ساتھ اس کی اپائنمنٹ ختم نہ ہو جاتی تو شاید وہ اس وکیل کو پانچ بار اور وہی کاغذ اور وہی چند لائنیں پڑھنے کے لیے کہتا۔
    اس نے پورا ویک اینڈ ڈھنگ سے کچھ کھائے پیئے بغیر گزار دیا تھا۔ جمعہ کو اس کی وکیل سے ملاقات ہوئی تھی۔ آج پیر تھا۔ اس نے زندگی میں ہمیشہ ویک اینڈ کے آنے کا انتظار کیا تھا۔ کبھی اس طرح اس کے گزرنے کا نہیں جمعے اور ہفتے کی رات کو وہ سو نہیں سکا۔ اس کی نیند یکدم پتا نہیں کہاں غائب ہو گئی تھی۔ اور اتوار کی رات کو وہ نیند میں کوئی بے حد برا خواب دیکھ کر ایک بار پھر جاگ گیا تھا۔ پھر باقی کی رات اس نے بستر میں بیٹھے کھڑکی کو گھورنے یا کمرے کے چکر لگاتے گزار دی۔
    پیر کی صبح وہ اس لاء فرم کے کھلنے سے بھی پہلے جا کر وہاں بیٹھ گیا تھا جس کے ساتھ وہ وکیل منسلک تھا۔
    اس کی اپوائنٹ منٹ ساڑھے گیارہ بجے تھی۔ وہ تب تک سخت سردی میں پارکنگ لاٹ میں بیٹھا رہا۔ یوں جیسے اسے ڈر ہو کہ وہ وہاں سے ہٹا تو یہ سب کچھ کسی خواب کی طرح غائب ہو جائے گا۔
    اور اب وہ دس منٹ سے وہاں بیٹھا ہوا تھا۔
    ”آپ اور کافی لیں گے؟” وکیل نے جیسے اس کاغذ کو ایک بار پھر پڑھنے سے بچنے کے لیے کہا۔
    ”ہاں۔” اس نے اپنے سامنے پڑے خالی ڈسپوزبل کپ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    وکیل نے خود اٹھنے کے بجائے انٹر کام کا ریسیور اٹھا کر اپنی سیکرٹری کو اندر بلایا۔ وہ کمرے کے ایک کونے میں ہی پڑے کافی میکر سے کافی کے دو کپ ان دونوں کے سامنے رکھ گئی۔ وکیل نے ایک سائیڈ ٹیبل پر پڑا کو کونٹ کو کیز کا چھوٹا سا جار اٹھا کر اس کا ڈھکن کھولتے ہوئے اس نوجوان کے آگے کیا۔ اس نے ایک دفعہ اپنے دائیں ہاتھ کو پوری قوت سے کھولنے اور دوبارہ بھینچنے کے بعد جار میں ہاتھ ڈال کر ایک کوکی نکال لی۔ وکیل نے خود بھی ایک کوکی نکالتے ہوئے جار کو دوبارہ بند کر کے اسی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
    سامنے بیٹھے نوجوان نے کوکی کا آدھے سے زیادہ حصہ دانتوں سے کاٹ کر کافی کا ایک گھونٹ لیا اور ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے وکیل سے کہا۔
    ”آپ اس کاغذ کو ایک بارپھر پڑھیں۔” وکیل کا دل چاہا، وہ اب اپنا سر پیٹ لے۔
    ٭٭٭
    ”یہ کیا ہے؟” شیراز نے حیرانی سے اس قیمتی پرفیوم کودیکھا جو زینب اس کی طرف بڑھا رہی تھی۔
    وہ اگلے دن اکیڈمی جانے والا تھا اور اس دن اسے لے کر باہر کھانا کھلانے آیا تھا۔ کوئی دوسری بیٹی ہوتی تو ضیا اسے کبھی اس طرح منگیتر کے ساتھ باہر جانے نہ دیتے مگر یہ زینی تھی اور اس کی ضد پر انہوں نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ وہ زندگی میں پہلی بار شیراز کے ساتھ اکیلی کہیں باہر جا رہی تھی۔
    ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے بعد وہ اسے ایک پارک میں لے آیا تھا۔ پارک کی بینچ پر بیٹھے باتیں کرتے ہوئے زینب نے اپنے بیگ سے وہ پرفیوم نکال کر شیراز کے ہاتھ میں تھمایا تھا۔
    ”آپ کے لیے ہے یہ۔” زینب نے مسکراتے ہوئے شیراز سے کہا۔ ”آپ کو بہت پسند تھا نا۔”
    وہ چار چھ ماہ پہلے کسی دوست کے گھر سے وہ پرفیوم لگا کر زینب کے گھر آیا تھا۔
    ”ارے! میں کہاں اس طرح کے مہنگے پرفیوم خرید سکتا ہوں۔ یہ تو ایک دوست کے گھر گیا تھا وہیں استعمال کر لیا۔”
    اس نے تب زینب کے پوچھنے پر بتایا تھا۔ وہ شرٹ اس نے اگلے چند ہفتے دوبارہ نہیں پہنی بلکہ اسے اپنی دوسری شرٹس کے ساتھ رکھ دیا جن میں سے اسی پرفیوم کی مہک آنے لگی تھی اور وہ اگلے کئی دن ان دوسری شرٹس کو استعمال کرتا رہا۔ زینب کو اس نے ہنسی ہنسی میں یہ بات بتائی تھی۔
    ”کتنے کا ہو گا یہ پرفیوم؟” زینب نے تب بے حد سنجیدگی سے اس سے پوچھا۔
    ”دو ڈھائی ہزار کا۔” شیراز نے بتایا پھر اس نے ایک ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہا تھا۔ ”یہ کوئی شرٹ، رومال اور گھڑی نہیں ہے زینب بی بی! جو تم مجھے فوراً لا دو گی۔”
    وہ جانتا تھا۔ زینی اس سے اس پرفیوم کی قیمت کیوں پوچھ رہی تھی۔ زینب نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ دو ڈھائی ہزار واقعی معمولی رقم نہیں تھی۔
    اور اب اتنے ماہ کے بعد ہیوگو باس شیراز کے ہاتھوں میں تھا۔
    ”لیکن اتنے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟” شیراز اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔
    ”یہ مت پوچھیں۔” زینب نے بے اختیار کہا۔
    ”پھر بھی۔۔۔۔” شیراز نے اصرار کیا۔
    ”میں نے کہا نا۔ یہ مت پوچھیں۔” وہ اسے یہ نہیں بتانا چاہتی تھی کہ اس نے پچھلے کئی ماہ سے اپنے لئے کپڑوں کا ایک جوڑا بھی نہیں بنوایا تھا۔ وہ ضیا سے جیب خرچ کے طور پر ملنے والے روپے تک جمع کرتی رہی تھی۔ اپنے چھوٹے موٹے اخراجات اور کالج آنے جانے کا کرایہ وہ ٹیوشن سے نکال لیتی تھی اور اتنے ماہ میں بہت کم ایسا ہوا تھا کہ اس نے کالج میں کینٹین سے کچھ کھایا تھا۔ اگر شیراز ان مہینوں میں وقتاً فوقتاً اس سے ادھار رقم نہ لیتا رہا ہوتا تو زینب بہت پہلے اسے وہ پرفیوم خرید کر دے دیتی۔
    شیراز اب پیکنگ کھول کر قدرے جوش کے عالم میں وہ پرفیوم لگا رہا تھا۔ زینی اس کے چہرے پر پھیلی خوشی کو دیکھ رہی تھی۔ اسے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے تھا کہ وہ خوش تھا۔ اس کے دیے گئے کسی تحفے نے اسے مسرور کیا تھا۔
    ”تم بہت عجیب ہو زینی!” اس نے پرفیوم دوبارہ ڈبے میں رکھتے ہوئے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا۔
    ”کیوں عجیب کیوں ہوں؟” زینی نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”محبت میں اس طرح تو مرد کرتے ہیں کہ عورت کی زبان پر کسی چیز کا مطالبہ آئے اور وہ سرد ھڑ کی بازی لگا کر اس کو پورا کر دیں۔ ایسی عورتیں نہیں د یکھیں جو یہ کرتی ہوں۔” شیراز اس بار بے حد سنجیدگی کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
    ”محبت میں یہ کہاں لکھا ہے ۔ کون کس کے لیے کیا کرے گا اور کس کو کس کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ بس یہ دل کی بات ہے۔ میں وہ کرتی ہوں جو میرا دل مجھ سے کہتا ہے اور آپ کو اس خوشی کا اندازہ تک نہیں ہو سکتا جو مجھے ہوتی ہے جب میں آپ کے لیے کچھ کرتی ہوں۔ آپ کے لیے، نہیں کرنا تو پھر اور کس کے لیے کرنا ہے۔”
    شیراز کے ہاتھ سے پرفیوم لے کر اس نے بڑے قرینے اور سلیقے کے ساتھ پیک کیا۔ شیراز نے اسے قدرے بے ڈھنگے انداز میں پیک کیا تھا۔
    ”میں تمہارے لیے بہت کچھ کروں گا زینی! بہت کچھ تم… تم میرے گھر میں ملکہ کی طرح رہو گی۔”
    شیراز نے یک دم اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ اسے واقعی اس وقت زینی پر بے حد پیار آرہا تھا۔
    ”گھر میں ملکہ بنا کر چاہے نہ رکھیں مگر دل میں کنیز بن کر ضرور رہنے دیں۔”زینی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”ضرور کنیز بنا کر رکھتا اگر تم اتنی خوبصورت نہ ہوتیں۔” وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا۔ ”لیکن اب اتنی خوب صورت لڑکی کو کوئی کنیز تھوڑی بناتا ہے۔”
    ”میں بہت اداس ہو جاؤں گی آپ کے بغیر۔” زینی نے یک دم اداس ہوتے ہوئے کہا۔ اسے یاد آگیا تھا کہ وہ اگلے دن اکیڈمی جا رہا تھا۔
    ”اداس ہونے والی کیا بات ہے۔ میں دو ہفتے میں ایک بار تو آہی جایا کروں گا۔” شیراز نے اسے تسلی دی۔




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۲

    شوکت زماں اسے پچھلے پندرہ منٹ سے گالیاں دے رہا تھا۔ پہلے پنجابی پھر اردو، اب انگریزی میں۔ وہ کچن میں مصروف تھا۔ لیکن شوکت زماں کی آواز اس تک بخوبی پہنچ رہی تھی۔ شوکت زماں کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا۔ وہ ٹرے میں سوپ کے پیالے رکھنے لگا۔ لاؤنج عبور کر کے کمرے کے کھلے دروازے سے اندر آیا تو وہ اسے فرینچ میں گالیاں دینا شروع کر چکا تھا۔ اس کا مطلب تھا۔ وہ اب جلد ہی چپ ہونے والا تھا۔ اس کی فرنیچ اچھی تھی نہ اس میں اس کی گالیوں کا ذخیرہ الفاظ۔
    شوکت زماں اب خاموش ہو کر ہانپ رہا تھا یا ہانپنے کی وجہ سے خاموش ہو گیا تھا۔ اس نے ٹرے صوفے کے پاس پڑی سینٹر ٹیبل پر رکھی اور اس میں سے پہلا پیالہ اٹھا کر بیڈ پر اس کے پاس لے آیا۔
    ”تو آخر جاتا کیوں نہیں یہاں سے؟ کتے کی طرح میرے گھر کیوں پڑا ہوا ہے تو کیا سمجھتا ہے میں تجھے کچھ دوں گا؟ ایک پینی تک نہیں ملے گی تجھے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تیرے دل میں کتنا لالچ ہے۔”
    گالیوں کے بعد وہ اسی طرح کی گفتگو کرتا تھا۔ اس نے حسب معمول پہلا پیالہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ شوکت زماں نے ہمیشہ کی طرح پہلا پیالہ اٹھا کر پوری قوت سے فرش پر پھینکا۔ وہ مطمئن ہو کر واپس سینٹر ٹیبل کی طرف مڑ گیا۔
    ”وصیت لکھوا دی ہے میں نے وکیل کو ہر چیز خیرات میں بانٹ دی ہے میں نے، یہ گھر، میرے گیس اسٹیشن، سپراسٹور، بینک اکاؤنٹ سب کچھ، اس گھر کا فرنیچر تک میں نے اولڈ ہوم کو دے دیا ہے۔ اس کتیا، اس کے بچوں اور تیرے لیے ایک تنکا تک نہیں چھوڑا میں نے تم سب کو بھی تو پتا چلے شوکت زماں کیا چیز ہے کیا کر سکتا ہے۔”
    دوسرا پیالہ اٹھاتے ہوئے اس نے شوکت زماں کو اردو میں کہتے سنا اس نے پچھلے جملے پنجابی میں کہے تھے۔




    وہ دوسرا پیالہ لے کر اس کے سامنے آگیا۔ اس بار پیالہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کے بجائے اس نے اس پیالے کو کھڑے کھڑے شوکت زماں کی طرف بڑھایا۔ شوکت زماں نے پیالہ اس کے ہاتھوں سے لے کر پوری قوت سے سوپ اس کے سینے پر اچھال دیا اور پیالہ ایک بار پھر فرش پر پھینک دیا۔ وہ چھنا کے سے ٹوٹا۔ اس نے اپنے سوپ میں لتھڑے کپڑوں پر ایک نظر ڈالی اور مطمئن ہو کر ایک بار پھر سینٹر ٹیبل کی طرف بڑھا۔
    ”میں تم سب کو برباد کر کے رکھ دوں گا۔ پولیس کو اطلاع کروں گا تمہارے بارے میں جھوٹے مقدمے بنواؤں گا تمہارے خلاف۔ تجھے ڈی پورٹ کروا دوں گا۔ اس ملک سے یا پھر ساری عمر جیل میں گزرے گی تمہاری، تمہارا خاندان ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے گا، بھیک مانگتے پھریں گے سڑکوں پر۔ تجھے ابھی پتا نہیں شوکت زماں کیا کر سکتا ہے۔”
    شوکت زماں اب انگلش میں حلق کے بل چلا رہا تھا۔ وہ تیسرا پیالہ اٹھا کر اس کے پاس چلا آیا، شوکت زماں نے کبھی اسے فرینچ میں نہیں دھمکایا تھا۔ وہ اسے جانتا تھا اسے فرینچ نہیں آتی، وہ فرینچ میں اسے صرف گالیاں دیتا تھا کیونکہ وہاں اپنے چار سالہ قیام کے دوران فرینچ کے جو چند لفظ اس نے سیکھے تھے۔ وہ گالیاں ہی تھیں اور وہ بھی شوکت زمان کی مدد سے۔
    وہ تیسرا پیالہ لے کر اس بار شوکت زماں کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔ شوکت زماں نے پوری طاقت سے اس کے چہرے پر تھوکا۔ اس نے دائیں بازو کی شرٹ سے اسے صاف کیا، شوکت زماں نے پوری قوت سے اس کے دائیں گال پر تھپڑ مارا۔ پھر بائیں ہاتھ سے تھپڑا مارا۔ اس نے شوکت زماں کو روکنے کی کوشش کرنے کے بجائے سوپ کے پیالے کو پوری قوت سے پکڑے رکھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔ سوپ گر جائے پھر شوکت زماں کیا پیتا۔
    پہلا تھپڑ، دوسرا، تیسرا، چوتھا دو دائیں گال پر دو بائیں گال پر پھر داہنے کندھے پر دائیں ہاتھ کا بھر پور مکا پھر بائیں کندھے پر بائیں ہاتھ کا مکا اور اب اس کے سر کے بالوں کی باری تھی۔ شوکت زماں اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے اس کے بال کھینچ رہا تھا اور وہ سوپ کے پیالے کو سنبھالے اس Sequence کو دل میں دہرا رہا تھا جس میں شوکت زماں اس کی پٹائی کر رہا تھا۔
    شوکت زماں اب قدرے بے دم ہو کر ہانپ رہا تھا۔ اس نے اطمینان کے ساتھ سوپ کے پیالے سے پہلا چمچہ بھر کر شوکت زماں کے منہ کی طرف بڑھایا۔ شوکت زماں نے منہ کھول کر سوپ پی لیا۔ اس نے دوسرا چمچہ بڑھایا۔ اس نے وہ بھی پی لیا۔ اب اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ رہے تھے۔ وہ جانتا تھا اب شوکت زماں آگے کیا کرنے والا تھا۔ اس نے تیسرا چمچہ اس کے ہونٹوں کی طرف بڑھایا اس نے پیا آنسو اب اس کے گالوں پر بہنے لگے تھے اس نے چوتھا چمچہ بھی پیا وہ اب سسکیاں لینے لگا تھا پانچواں، چھٹا، ساتواں، آٹھواں، نواں چمچہ، دسواں چمچہ اس سوپ کے پیالے کا آخری چمچہ تھا۔
    اور شوکت زماں نے اب بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاؤں پکڑ لیے تھے۔ وہ بلند آواز میں زار وقطار رو رہا تھا۔
    ”دیکھ لے میری بات مان لے تجھے اللہ کا واسطہ… تجھے تیری ماں کا واسطہ مجھ پر ترس کھا… رحم کر… دیکھ لے تو جو کہے گا میں کروں گا بس مجھ پر ترس کھا۔”
    شوکت زماں اب اس کی ٹانگوں سے چپکا گڑگڑاتا ہوا اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے بے حد رحم بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
    اس نے اپنی ساری زندگی میں شوکت زماں سے زیادہ ”شریف، رحم دل، بااخلاق، بامروت، اعلا ظرف، مہذب، شائستہ اور غنی” انسان نہیں دیکھا تھا۔
    ایک گہرا سانس لے کر اس نے شوکت زماں کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔ شوکت زماں یک دم رونا بھول گیا۔ شاک کے عالم میں کچھ دیر وہ بے حس و حرکت اس کے قدموں میں بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اس کے پیروں سے ہاٹھ ہٹا لیے۔ مزید ایک لفظ بھی کہے بغیر وہ وہیں اس کے قدموں میں کمرے کے فرش پر کسی نوزائیدہ بچے کی طرح گھٹنے اپنے سینے تک سکیڑے کروٹ کے بل یوں فرش پر ڈھے گیا جیسے وہ مر گیا ہو۔
    تھوڑی دیر بعد اس نے بیڈ پہ کھڑے ہو کر شوکت زماں کو پھلانگا۔ ابھی اسے کمرے کا فرش صاف کرنا تھا۔ اپنے کپڑے تبدیل کرنے تھے اور رات کے کھانے کے لیے سوپ کے تین پیالے تیار کرنے تھے۔
    *****
    کرم علی نے زندگی کا پہلا سفر سترہ سال کی عمر میں ایک جعلی شناختی کارڈ اور جعلی پاسپورٹ پر مچھلیاں پکڑنے والے ایک ٹرالر پر کیا تھا۔ وہ اسی کی دہائی کے پہلے چند سالوں میں غیر قانونی طور پر کویت پہنچنے والے پہلے تین لوگوں میں سب سے بڑا تھا۔ اس کے ساتھ دوسرے لڑکوں کی عمریں پندہ سولہ سال تھیں۔ وہ ان تینوں لڑکوں میں سب سے زیادہ صحت مند بھی تھا۔ ان میں سے ایک کو جذام دوسرے کو ٹی بی جبکہ کرم علی کو صرف برص تھا۔ اس کی کمر اور پیٹ پر سفید دھبے تھے۔ لیکن کرم علی جانتا تھا کچھ عرصہ میں وہ پورے جسم پر پھیل جائیں گے۔ اور اس کے بعد کسی عرب ملک کا سفر کرنا اور وہاں پر کام حاصل کرنا بے حد دشوار ہوتا۔ عرب برص کے مریضوں سے نفرت کرتے تھے اور 80کی دہائی میں ایشیائی ممالک میں برص کا مرض بے حد عام تھا۔
    وہ اس ٹرالر پر موجود واحد ”لیگل” بندہ تھا۔ باقی کے دونوں لڑکوں کے پاس شناختی کارڈ اور پاسپورٹ نہیں تھے۔ وہ یا یہ جعلی کاغذات تیار کروا سکتے تھے یا کویت کے اس غیر قانونی سفر کے لیے ٹرالر والے کو پیسے دے سکتے تھے۔
    ان دونوں لڑکوں کی طرح کرم نے بھی ٹرالر والے کو پانچ ہزار روپے دیے تھے۔ اس میں سے پندرہ سو روپے اس نے پچھلے چار سال میں صبح کے وقت اسکول جانے سے پہلے اخبار بیچ کر، سہ پہر کو پھلوں کی ریڑھی لگا کر، شام کو سگنلز پر پھولوں کے گجرے بیچ کر اور رات کو لفافے جوڑ کر جمع کیے تھے۔ ان پندرہ سو میں کچھ رقم سردیوں میں کوئلہ بیچنے، عیدوں پر غبارے بیچنے، چودہ اگست پر جھنڈیاں، جھنڈے بیچنے اور شب برات پر آتش بازی کا سامان بیچنے سے بھی حاصل ہوئی تھی۔ جمع ہونے والی یہ رقم بہت زیادہ ہوتی اگر کرم تیرہ سال کی عمر سے اپنا گھر خود نہ چلا رہا ہوتا۔ اس کے گھر میں ماں باپ سمیت آٹھ افراد تھے اور بدقسمتی سے وہ ماں باپ اور بہن بھائیوں سب سے ”بڑا” تھا۔ اس کے ماں باپ ذمہ داریوں کو اٹھانے کے اعتبار سے اس سے بعد میں آتے تھے۔
    کرم علی کا باپ جہاں داد سال کے بارہ مہینے میں بارہ مختلف کام کرتا تھا اور کسی ایک کام سے بھی اسے اتنی آمدنی نہیں ہوتی تھی جسے وہ ”پان سگریٹ” کی اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے کے بعد گھر میں دیتا اور گھر کے اخراجات پورے ہوتے۔
    شادی کے چودہ سالوں میں صرف شادی کا پہلا سال تھا جب جہاں داد باقاعدگی سے اپنی بیوی کو خرچا دیتا رہا اس کے بعد کرم علی پیدا ہو گیا اور جہاں داد بیٹے کی پیدائش کے بعد شادی کے دوسرے ہی سال جیسے ہر ذمہ داری سے آزاد ہو گیا۔ گھر میں اب اگلی نسل آگئی تھی یعنی دوسرا مرد۔
    اگلے تین سال اخراجات کی ذمہ داری جہاں داد کا باپ اٹھاتا رہا۔ کیونکہ جہاں داد کی بیوی اس کی بھتیجی تھی اور اسی کے اصرار پر اس کے بھائی نے اپنی بیٹی کی شادی جہاں داد کو بے حد ناپسند کرنے کے باوجود بھی کر دی تھی۔ ان دو سالوں میں جہاں داد کے ہاں دو بیٹیوں کا اضافہ ہوا اور اس کا دل بیوی اور گھر سے مزید اچاٹ ہو گیا۔ اس کے کسی بھائی کے ہاں دو بیٹیاں نہیں تھیں اگر کسی کی دوسری بیٹی ہوئی تھی تو پیدائش کے کچھ عرصہ کے بعد مر گئی اور اب اس کے ہاں دو بیٹیاں ہو گئی تھیں۔ وہ جتنا دکھی ہوتا کم تھا۔ کرم علی پر اب دو بہنوں کی ذمہ داری بھی آگئی تھی۔ کیونکہ جہاں داد کے خاندان میں بہنوں کو ہمیشہ بڑا بھائی ہی بیاہتا تھا۔
    اگلے چار سال گھر کے اخراجات جہاں داد کے باپ کی موت کے بعد اس کے بڑے دونوں بھائیوں نے اٹھائے تھے کیونکہ وہ سب ایک ہی گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ کھانا پینا بھی مشترکہ تھا اور جہاں داد کو لعنت ملامت کرنے کے باوجود اس کے بھائی اس کی بیوی اور بچوں کو ہر ماہ تھوڑی بہت رقم دیتے رہے۔ کرم علی کو اسی زمانے میں اس کے تایا کے بچوں کے ساتھ ایک سرکاری اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔
    پاکستان میں ٹیلی ویژن کی نشریات کا آغا ز ہو چکا تھا۔ جہاں داد کے ایک بڑے بھائی کے کمرے میں بھی ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی آگیا تھا جس نے گھر کی دوسری عورتوں اوربچوں کی طرح جہاں داد کی بیوی کو بھی خواب دکھانے شروع کر دیے تھے۔ پینٹ کوٹ میں ملبوس سگار پیتا، فرفرانگریزی بولتا لمبی گاڑی سے اترنے والا اور ایک بڑے سے گھر میں رہنے والا اونچا لمبا خوب صورت، پڑھا لکھا مرد۔




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۱

    من و سلویٰ کا بنیادی موضوع رزق حلال ہے۔ بنی اسرائیل پر نازل کی جانے والی نعمتوں میں سے ایک من و سلویٰ تھی۔ من ایک میٹھی دانے دار شے تھی جو آسمان سے رات کو شبنم کی طرح گر کر جم جاتی۔ سلویٰ ایک بٹیر تھا جو کثیر تعداد میں ان کے علاقے میں آتا اور وہ اسے پکڑ کر کھاتے۔ بنی اسرائیل چالیس سال تک جلا وطنی کے دور میں یہ آسمانی رزق کھاتے رہے پھر اس رزق پر اعتراض کرتے ہوئے حضرت موسیٰ سے ”زمینی رزق” کا مطالبہ کرنے لگے۔ وہ اس ”پاکیزہ سادہ کھانے” کے بجائے انواع و اقسام کے کھانے چاہتے تھے۔
    مجھے من و سلویٰ کے بارے میں پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ بنی اسرائیل کے ”من و سلویٰ” اور ہمارے ”رزق حلال” میں بہت مماثلت ہے۔ وہ ”پاکیزہ سادہ کھانا” تھا۔ یہ ”پاکیزہ سادہ رزق” ہے۔ دونوں کا حصول بے حد آسان ہے مگر بنی اسرائیل کے لیے من و سلویٰ پر انحصار کرنا اور ہمارے لیے رزق حلال پر جینا مشکل ہے۔ وہ بنی اسرائیل کی سوچ تھی، یہ ہماری سوچ ہے۔ وہ من و سلویٰ سے ”ناخوش” تھے اور اس کا ”مذاق” اڑاتے تھے۔ ناشکری کرتے تھے۔ ہم کو رزق حلال ”پسند” نہیں ہے اور ہم اس پر ”اعتراض” کرتے ہیں۔ انہیں زمین سے اگنے والا انواع و اقسام کا رزق چاہیے تھا۔ ہمیں شارٹ کٹ سے کم وقت میں بہت زیادہ پیسہ چاہیے۔
    بنی اسرائیل کی قوم کہتی تھی کہ موسی کا رب ”کنجوس” ہے جس کے پاس ان کے لیے من و سلویٰ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہم آج یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہمارا خدا” ہمیں رزق حلال کے علاوہ کچھ نہ دے کر ”تنگ” کر رہا ہے۔ بنی اسرائیل اپنی اس سوچ اور ناشکری کی وجہ سے مغضوب ہوئی اور ہم…
    یقینا ہم مغضوب ہونا نہیں چاہتے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ من و سلویٰ کے معاملے میں نظر آنے والی یہ مماثلت افسوس ناک ہے، شرم ناک ہے یا ہولناک، اس کا فیصلہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر کر سکتے ہیں۔
    اور آخر میں بس ایک بات…
    من و سلویٰ کوئی اسلامی کہانی نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی اسلامک اسکالرلی فکشن ہے۔ ایک ایشو کے بارے میں میری ذاتی رائے ہے جو بالکل غلط بھی ہو سکتی ہے۔ میرا علم ناقص ہے، میری عقل محدود اور مجھے ان دونوں پر کوئی گمان نہیں مگر میری نیت میں کوئی خرابی نہیں اور میں اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں۔
    تو ”من و سلویٰ” حاضر ہے۔

    عمیرہ احمد




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۵ (آخری قسط)

    ”یہ قتل منصور علی نے کیا ہے۔ ”ہارون کمال نے جیسے کمرے میں بم پھوڑا تھا۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنے وکیل سے بات کر کے فارغ ہوا تھا اور اس گفتگو کے دوران ہی برق رفتاری سے اس نے اپنے بچاؤ کا پلان تیار کر لیا تھا واحد چیز جس کا اسے خوف تھا وہ اسد کا روِعمل تھا۔ مگر وہ اسد کے رد عمل کی خاطر اپنی جان داؤ پر نہیں لگا سکتا تھا وکیل سے گفتگو سے دوران ہی وہ یہ اچھی طرح جان چکا تھا کہ وہ بری طرح پھنس چکا ہے۔ اس کے خلاف بہت سارے ثبوے اکٹھے ہو چکے تھے اور اگرتحقیق شروع ہو جاتی تو پھندا اس کے گلے میں پوری طرح فٹ آتا اس لیے اس نے امبر سے اپنے تعلقات کو ظاہر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
    فون کا ریسیور نیچے رکھتے ہی اس نے اے ایس پی سے کہا۔
    ”یہ قتل منصور علی نے کیا ہے اوروہ مجھے اس میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
    اسد کے ساتھ ساتھ اے ایس پی بھی اس کی بات پر چونکا۔
    ”آپ کا مطلب ہے، امبر کو اس کے اپنے باپ نے قتل کیا ہے مگر سوال پیداہوتا ہے کہ کس لیے؟کوئی باپ صرف اپنے بزنس پارٹنر کو پھنسانے کے لیے تو اپنی بیٹی کا قتل نہیں کر سکتا ۔”اے ایس پی نے اس کی بات کو جیسے پوری طرح رد کرتے ہوئے کہا۔
    ”میں اور امبر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ ”ہارون کمال نے کمرے میں اسد کی موجودگی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے جی کڑا کر کے کہا”اور کچھ عرصہ تک ہم دونوں شادی کرلیتے ۔ منصور کو تب تک اس ساری صورت حال کا پتہ نہیں تھا۔”
    ”اسد پتھر کے مجسمے کی طرح ہارون کمال کودیکھ رہا تھا۔
    ”امبر منصور کے ساتھ نہیں رہتی تھی۔ وہ منصور کی سابقہ بیوی کے ساتھ رہتی تھی۔ پھر ایک دن وہ مجھ سے شادی کرنے کے لیے گھر چھوڑ کر میرے پاس آگئی ۔میں نے وقتی طور پر اسے اپنے فلیٹ میں رکھا مگر اسی رات اچانک منصوربھی وہاں آگیا۔ امبر کو وہاں میرے ساتھ دیکھ کر وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ میںکچھ پریشانی اور شرمندگی کے عالم میں وہاں سے چلا گیا۔جب میں واپس آیا تو منصور اور امبر دونوں وہاں نہیں تھے۔ میں سمجھا کہ شاید منصور امبر کولے گیا ہے ۔ مگر اس کے اگلے دن منصورنے ہر جگہ یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس کی بیٹی میرے ساتھ شادی کر چکی ہے۔ ”




    اس سے پہلے کہ ہارون کچھ اور کہتا، اسد ایک جھٹکے سے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا۔ اے ایس پی نے اسد کے بگڑے ہوئے تیوروں اور اس کے اٹھ کر جانے کے انداز کو غور سے دیکھا ۔ ہارون نے ایک بار پھر بات شروع کر دی۔”
    ”میں نے منصور کی ان ہی باتوں کی وجہ سے بزنس ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس نے امبر کو قتل کر دیا ہے۔ میں نے اس رات واقعی ایک بیگ خریدا تھا۔ کیونکہ میں اور امبر اگلے ایک دو دنوں میں دبئی چلے جاتے ۔ امبر کو بیگ کی ضرورت تھی۔ مگر میں یہ نہیں جانتا تھا کہ منصور علی اتنا گھناؤنا قدم اٹھالے گا۔”
    ہارون کمال کی کہانی بالکل پرفیکٹ تھی، اس میں کہیں جھول نہیں تھا۔ اے ایس پی بری طرح الجھا کہانی میں ایک نیا موڑ آگیا تھا۔ وہ ہارون کمال کو قاتل سمجھ کر وہاں آیا تھا مگر ۔
    ”اور یہ فلیٹ کہاں ہے؟”اے ایس پی نے اپنے ہاتھ میں پکڑے کاغذات پر کچھ نوٹ کرتے ہوئے کہا۔ ہارون نے ایڈریس لکھوادیا۔
    ”یہ آخری بار تھی جب آپ نے امبر کو دیکھا؟”اس نے پوچھا۔
    ”ہاں۔”
    ”تاریخ بتاسکتے ہیں ؟”ہارون نے تاریخ بتائی۔ اے ایس پی نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں’پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس لڑکی کی ڈیتھ ان ہی دنوں میں ہوئی ہے۔میں اب منصورعلی سے ملوں گا مگراس سے پہلے اس فلیٹ کو دیکھوں گا۔ میں فی الحال آپ کو گرفتار نہیں کر رہا۔آپ بیرون ملک جانے کی کوشش مت کیجئے گا۔میں منصور علی سے ملنے کے بعد آپ کو بتاؤں گا کہ آپ پر شبہ برقرار ہے یا پھر ہم منصور علی کو گرفتار کررہے ہیں۔”
    اے ایس پی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
    ”میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ آپ کو یہ سب کچھ صاف صاف بتادیا ہے تہ آئندہ بھی کچھ نہیں چھپاؤں گا۔ امبر کی موت کا مجھے بھی بہت افسوس ہے۔”
    اس سے پہلے کہ ہارون کچھ اور کہتا، اے ایس پی نے اس کی بات کاٹ دی۔
    ”میں اسی وقت اس فلیٹ پر جانا چاہتا ہوں ۔”
    ”مگر اس وقت تو میرا وکیل یہاں پہنچنے والا ہو گا۔”
    ”آپ وکیل سے ملیں ، مجھے کسی اور کے ساتھ وہاں بھجوا دیں یا پھر آپ مجھے صرف ایڈریس بتا دیں ۔”اے ایس پی نے کہا۔
    ”میں آپ کو اپنے پی اے کے ساتھ وہاں بھجوادیتا ہوں ۔”ہارون نے فون اٹھا کر اپنے پی اے کو اندر بلایا اور پھر اسے ہدایات دیتے ہوئے اے ایس پی کے ساتھ رخصت کیا۔
    اے ایس پی کے جاتے ہی وکیل وہاں پہنچ گیا تھا۔ اگلا ایک گھنٹہ ہارون نے وکیل کے ساتھ گزارا اور اسی میٹنگ کے دوران اس نے شائستہ کی کال اٹینڈ کی تھی۔ اور شائستہ کے منہ سے نایاب کی کورٹ میرج کا سن کر اس کے پاؤں کے نیچے سے محاورتاً نہیںحقیقتاََ زمین نکل گئی تھی۔ وہ ابھی پہلے شاک سے باہر نہیں نکلا تھا کہ ایک اور مصیبت اس کے سر پر آن پڑی تھی۔
    وکیل کے ساتھ میٹنگ ادھوری چھوڑ کر وہ گھر کی طرف روانہ ہوا۔ مگر پورا رستہ وہ بے حد اپ سیٹ رہا تھا۔
    گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر نایاب کی گاڑی پر پڑی تھی۔ اس کا مطلب تھا نایاب بھی اس وقت گھر پر ہی تھی ہارون نے سوچنے کی کوشش کی کہ وہ آخر کس کے ساتھ کورٹ میرج جیسا بڑا قدم اٹھا سکتی ہے۔ اس کی اتنی دوستی کسی لڑکے کے ساتھ نہیں تھی سوائے…ثمر کے اور بہر حال وہ اتنی بے و قوف نہیں تھی کہ ان سارے حالات میں ثمر کے ساتھ اپنے ماں باپ کو بتائے بغیر کورٹ میرج کر لیتی اور پھر اچانک ہارون کو احساس ہواکہ اگر اسے کسی کے ساتھ چھپ کر شادی کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے تو وہ ثمر ہی ہو سکتا ہے کیونکہ وہی ایک شخص تھا جس کے ساتھ کبھی بھی کسی بھی حالات میں ہارون اور شائستہ شادی کے لیے تیار نہ ہوتے ۔ ہارون کا بلڈ پریشر کچھ اور ہائی ہو چکا تھا۔ اس کا بس چلتا تو ثمر کو مار ڈالتا ۔ مگر اس وقت تو اسے اپنی بیٹی سے بات کرنا تھی۔
    لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اس کے سارے اند زوں اور بد ترین خدشات کی تصدیق ہو گئی تھی۔ نایاب اور ثمر ایک صوفہ پر بیٹھے ہوئے تھے اور شائستہ ایک دوسرے صوفے پر بیٹھی بے حد غصہ کے عالم میں ان سے کچھ کہہ رہی تھی۔
    نایاب نے ہارون کو لاؤنج میں داخل ہوتے دیکھ لیا تھا اور یقیناََ اس کے تاثرات سے اسے اندازہ بھی ہوگیا تھا۔ کہ اس کا باپ بے حد خراب موڈ میں ہے۔
    شائستہ ہارون کو دیکھتے ہی اٹھ کر کھڑی ہو گئی ، یہی کام نایاب اور ثمر نے کیا تھا۔ ثمر یک دم ہی بے حد نروس ہو گیا تھا۔
    شائستہ کو ہارون کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں پڑی ۔
    ”اس لڑکے سے شادی کی ہے تم نے ؟” ہارون نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہی دھاڑتے ہوئے نایاب کو مخاطب کیا ۔ ثمر کے برعکس وہ نروس نہیں تھا اگر تھی بھی تو وہ ظاہر نہیں کر رہی تھی۔
    ”ہاں !اس نے بڑے اعتماد سے ہارون کو جواب دیا۔ ہارون نے اس اعتماد کا جواب انگلش میں ثمر کو کچھ گالیوں سے دیا۔
    ”پلیز پاپا ! مائنڈ یو ر لینگویج ۔”نایاب نے بے حد ناراضی سے کہا۔ ”آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ آپ میرے شوہر سے بات کر رہے ہیں ۔”
    ”تمہارا شوہر مائی فٹ ! میں اس دو ٹکے کے لڑکے کواپنا داماد بنا لوں جس سے بہترمیرے ملازم ہیں جس کا نہ کوئی آگے ہے نہ پیچھے ۔ پتہ نہیں یہ کس کی ناجائز اولاد ہے جسے تم پکڑ کر ہارون کمال کا دامادبنانے چلی ہو۔ ”ہارون کمال نے یہ کہتے ہوئے شائستہ کو نہیں دیکھا جس کی آنکھیں اس وقت ہارون کو دیکھتے ہوئے آگ برسا رہی تھیں ۔ ثمر کا چہرہ ہارون کے جملوں پر سرخ ہو گیا تھا۔ اگر چہ اسے ا سی قسم کے استقبال کی امید تھی۔ اس کے باوجود اسے لگا کہ اس نے یہاں آکر بہت بڑی غلطی کی ہے۔
    ”مجھے ثمر کے خاندان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔میرے لیے صرف وہ اہم ہے۔ ”نایاب نے ہارون کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
    ”اس لڑکے نے تمہیں ٹریپ کیا ہے۔ تمہیں سیڑھی بنا کر ہارون کمال کی دولت حاصل کرنا چاہتا ہے۔”ہارون نے ثمر کی طرف انگلی اٹھاکر نایاب سے کہا۔
    ”مجھے آپ کی دولت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں گھر داماد بننے نہیں آیا ہوں ۔ میں نایاب کو یہا ں سے اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤں گا۔ ”
    ثمر نے پہلی دفعہ ساری گفتگو میں مداخلت کی …اور اس کا پہلا جملہ ہی ہارون کے صبر کا پیمانہ لبریز کرنے کے لیے کافی تھا۔ وہ غصے میں لپکتے ہوئے ثمرکی طرف گیا اور اسے گر یبان سے پکڑ لیا۔ اس سے پہلے کہ ثمر کچھ کرتا، ہارون نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا۔ اور پھر دوسرا تھپڑ، نایاب چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے ہارون کو روکنے کی کوشش کی مگر ہارون غصہ میں آگ بگولہ ہو رہا تھا۔ ؟ثمر کی ناک سے خون نکلنے لگا تھا۔ وہ اب اپنے چہرے کو ڈھانپ رہا تھا مگر ہارون پوری قوت سے اپنے بوٹوں کے ساتھ اس کی ٹانگوں پر ٹھوکریںمار رہا تھا۔
    شائستہ بے حس وحرکت لاؤنج میں کھڑی تھی ۔ وہ یہ سب کچھ نہیں چاہتی تھی مگر اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ یہ سب کچھ کیسے بند کرے ۔ نایاب ہارون اور ثمر کے بیچ میں آنے کی کوشش کر رہی تھی اور اس میں ناکام ہونے پر وہ بری طرح رونے لگی ۔ ثمر اپنے آپ کو بچانے میں ناکام ہو رہا تھا۔ اسے ہارون کمال کا لحاظ نہ ہوتا تو شاید وہ بھی جواباََ ہارون کمال پر اب تک ہاتھ اٹھا چکا ہوتا۔
    شہیر نے یہ سارا منظر لاؤنج کی ریلنگ کے کنارے کھڑے ہو کر دیکھا تھا۔ وہ چند لمحے پہلے ہی نیچے ہونے والا شور سن کر اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا اور باہر نکلتے ہی نیچے لاؤنج میں ثمر کو ہارون کے ہاتھوں پٹتے دیکھ کر وہ ایک لمحہ کے لیے شاکڈ رہ گیا تھا۔ اس نے پہلی نظرمیں ثمر کو پہچانا نہیں مگر اگلے ہی لمحے وہ پاگلوں کی طرح بھاگتے ہوئے دیوانہ وار سیڑھیاں اترتے نیچے پہنچا’اور پوری قوت سے ہارون کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ثمر کے سامنے آگیا۔ ہارون نے سرخ آنکھوںکے ساتھ اسے دیکھا۔
    ”سامنے سے ہٹو ۔”اس نے بلند آواز میں چیختے ہوئے شہیر سے کہا۔
    ”میں نہیں ہٹو ں گا ۔ آپ میرے بھائی کو اس طرح نہیں مار سکتے۔ ”
    ”شہیر !تم یہاں سے جاؤ، یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔ ”شائستہ نے ہارون کی بات کو نظر انداز کر….کے چند قدم آگے آتے ہوئے شہیر سے کہا۔
    ”نہیں میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ آپ لوگوں کی ہمت کیسے ہوئی کہ آپ لوگ ثمر کو اس طرح ماریں۔”
    شہیر اب اشتعال میں تھا۔
    ”ثمر کو جرأت کیسے ہوئی کہ یہ نایاب کیساتھ شادی کر لے۔”شائستہ نے ترکی بہ ترکی کہا۔
    شہیر کو جھٹکا لگا”نایاب سے شادی ؟”اس نے پلٹ کر ثمر کو دیکھا۔
    ”I can explain۔”ثمر نے مدھم آواز میں اپنی ناک سے نکلتا خون صاف کرتے ہوئے کہا۔ شہیر کا دل چاہا تھا، وہ ایک ہاتھ خود بھی اسے جڑ دے ۔ وہ واقعی اُلو کا پٹھا تھا۔
    ”اس سے کہو، یہ ابھی اور اسی وقت نایاب کو تحریری طور پر طلاق دے ۔ ”شائستہ نے کہا۔ ”اور دوبارہ کبھی نایاب سے ملنے کی کوشش نہ کرے ۔”
    ”میں کبھی مر کے بھی ثمر سے طلاق نہیں لوں گی۔سن لیا آپ لوگوں نے۔”نایاب بے اختیار ہو کر چلائی۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۴

    منصور علی، ہارون کمال کے سامنے بیٹھا اسے گھور رہا تھا۔ ہارون ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنے وکیل کے ساتھ فیکٹری کے آفس میں داخل ہوا تھا۔ منصور پچھلے آدھ گھنٹے سے اپنے وکیل کے ساتھ وہاں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا اور اب جب وہ آ کر اطمینان کے ساتھ اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا تو منصور کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ہارون کا گریبان پکڑ لے۔
    وہ اس وقت واقعی ڈھٹائی اور بے شرمی کی سب سے اونچی سطح پر تھا۔ جہاں پر وہ صرف ایک ایسا مرد تھا جس کی چہیتی بیوی ایک ”سازش” کے تحت اس سے جدا کر دی گئی تھی۔ جس کا بزنس’ اس کا پارٹنر اس کی اپنی بیٹی کے کہنے پر اسے تباہ کرنے پر مل گیا تھا۔ اس کے دل میں ہارون کمال کو اپنی کم عمر بیٹی کے شوہر کے طور پر دیکھ کر کوئی غصہ’ کوئی نفرت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ اگر یہ دونوں جذبات پیدا ہو بھی رہے تھے تو امبر کے خلاف … جو اسے تباہ کرنے پر تل گئی تھی۔ اور ہارون اسے امبر کے ہاتھ ایک ہتھیار کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔
    ”ہارون کمال صاحب نے …” ہارون کمال کے وکیل نے اپنی نشست سنبھالتے ہی رسمی علیک سلیک کے بعد کہنا شروع کیا’ مگر منصور نے اس کی بات کاٹ دی۔
    ”میں ہارون سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔” منصور نے درشتی سے کہا۔
    ”تم مجھے اکیلا سمجھو۔” ہارون نے اپنے وکیل کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کہا۔ منصور کو اس کا اطمینان کانٹے کی طرح چبھا۔
    ”میں ان دونوں وکیلوں کے ساتھ کوئی ذاتی معاملہ ڈسکس کرنا نہیں چاہتا۔ میں اپنی اور تمہاری عزت اچھالنا نہیں چاہتا۔” منصور نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
    ”یہ اچھی بات ہے۔ ” ہارون نے سرہلایا اور پُرسکون انداز میں کہا۔
    ”میرے اور تمہارے درمیان ویسے بھی کوئی ذاتی معاملات نہیں ہیں’ صرف کاروباری معاملات ہی ہیں اور میں انہیں بھی ختم کر دینا چاہتا ہوں اور میں نہیں سمجھتا کہ کاروباری معاملات ختم کر دینے سے تمہاری یا میری عزت کو خطرہ ہو گا۔”
    منصور نے اپنے اور اس کے وکیل پر ایک نظر ڈالی اور پھر جیسے کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے کہا۔
    ”ٹھیک ہے اگر تمہیں اپنی عزت کی پروا نہیں ہے تو پھر مجھے بھی نہیں ہونا چاہیے۔ میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم یہ سب کس کے اشارے پر کر رہے ہو۔”
    ”کس کے اشارے پر کر رہا ہوں؟” ہارون نے اسی انداز میں پوچھا۔




    ”امبر کے اشارے پر۔” منصور نے جیسے بم اس کے سر پر پھوڑا۔ ہارون کا جسم ایک لمحہ کے لیے تن گیا۔
    ”کون امبر؟” اس نے صرف ایک ساعت کا توقف کر کے کہا۔ کمرے میں بیٹھے دونوں وکیلوں کے چہروں پر حیرت کے تاثرات در آئے۔
    ”تمہاری دوسری بیوی۔”منصور نے زہریلے انداز میں کہا۔
    ”تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ ” ہارون نے کہا۔
    ”میری صرف ایک ہی بیوی ہے اور اس کا نام شائستہ ہے۔” ہارون نے کاٹ کھانے والے انداز میں کہا۔
    ”تم نے دوسری شادی کر لی ہے’ تو تم سمجھ رہے ہو پوری دنیا تمہارے نقش قدم پر چلنے لگی”۔ ”وہ لڑکی آج باپ کو تباہ کر رہی ہے’ کل تمہیں بھی تباہ کر دے گی ہارون!۔” منصور نے جیسے ہارون کی بات نہیں سنی تھی۔ ”تم اگر یہ سمجھ رہے ہو کہ اس نے تمہاری محبت میں گرفتار ہو کر تم سے شادی کی ہے تو یہ تمہاری بھول ہے۔ وہ مجھے تباہ کرنے کے لیے تمہاری بیوی بنی ہے۔”
    ”تم کیا بکواس کر رہے ہو؟” ہارون نے بلند آواز میں اس کی بات کاٹی۔
    میں نے کسی امبر کے ساتھ نہیں شادی نہیں کی ہے۔ یہ سب تمہارا اور تمہاری بیٹی کا ذاتی مسئلہ ہے۔ میں اگر تمہارے ساتھ پارٹنرشپ ختم کر رہا ہوں تو میرے پاس اس کے لیے بہت ٹھوس اور ذاتی وجوہات ہیں ۔”
    ”تم مجھے دھوکا نہیں دے سکتے ہارون !مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ”منصور نے تیزی سے کہا۔ ”میں نے خود تمہارے فلیٹ پر اس کے کپڑے اور اس کی چیزیں دیکھی ہیں ، میںجانتا ہوں وہ وہیں رہ رہی ہے، میں نے اس وقت ان چیزوں کو نہیںپہچانا تھا،مگر اب میںجان گیا ہوں کہ وہ چیزیں مجھے کیوں مانوس لگ رہی تھیں ۔ میں جانتا ہوں تم نے امبر سے شادی کر لی ہے اور وہ وہیں رہ رہی ہے۔”
    ہارون کمال چند لمحوں کے لیے کچھ نہیں بول سکا۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر ، بالکل ساکت منصور کودیکھ رہا تھا، جو اسی انداز میں سرخ چہرے کے ساتھ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے تھا۔ دونوں وکیل ہکا بکا ان دونوں کو دیکھ رہے تھے، وہ کم از کم اس سب کی توقع کر کے وہاں نہیں آئے تھے۔
    ”تم سے بات کرنا بیکار ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ ہم آمنے سامنے بیٹھ کر ان معاملات کو حل کر لیںگے، مگر میرا خیال ہے کہ اب میرا وکیل ہی تم سے رابطہ رکھے تو بہتر رہے گا۔ ”ہارون کمال یک دم اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ منصور بھی اسی برق رفتاری سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔
    ”تم اس طرح مجھ سے بات کیے بغیر نہیں جاسکتے۔”
    ”تم مجھے کیسے روک سکتے ہو؟”ہارون دو بدو بولا ۔
    ”اس فیکٹری میں میرا روپیہ اور محنت لگی ہے تم اس طرح مجھے اس سے بے دخل نہیں کر سکتے۔”
    ”ٹھیک ہے نہیں کرتا پھر تم خرید لو اسے …میرے شیئرز بھی لے لو ۔”ہارون نے اسی انداز میں کہا ۔ ”اور مجھے پوری ادائیگی کر دو۔”
    ”تم جانتے ہو میں فوری طور پر یہ بھی نہیں کر سکتا۔” ”میرے لیے اتنی رقم کوئی معنی نہیں رکھتی۔”ہارون نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
    ”ہارون ایک دفعہ پھر سوچو…تم امبر کی باتوں …”منصور نے اپنی آواز کو کچھ دھیما کرتے ہوئے کہا۔ مگر ہارون نے اسے بات مکمل کرنے نہیں دی۔
    ”شٹ اپ….اب امبر کا نام میرے سامنے مت لینا…تم اپنا ذہنی توازن کھوچکے ہو، اس لیے خوامخواہ اپنی بیٹی کو میرے گلے ڈال رہے ہو۔اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ اس طرح تم فیکٹری حاصل کر لو گے تو یہ تمہاری بھول ہے۔”ہارون نے تیز آوازمیں کہا اور پھر مزید کچھ کہے بغیر دروازہ کھول کر باہر چلا گیا۔ منصور ہونٹ کاٹتے ہوئے بند دروازے کو دیکھتا رہا۔
    ٭٭٭
    صبغہ نے ہاتھ میں پکڑا کا رڈٹیبل کے دوسری طرف بیٹھے نوجوان آدمی کی طرف بڑھا دیا۔ وہ اس وقت ایک سے وکیل کے چیمبر میںبیٹھی ہوئی تھی۔
    ”مجھے شہیر ثوبان نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ ”صبغہ نے اس شخص سے کہا۔ جس پر اس نے کارڈ پر سرسری سی نظر ڈالی،پھر اسے اپنی ٹیبل پر رکھتے ہوئے صبغہ سے پوچھا۔
    ”آپ کیا لیں گی ؟چائے یا سوفْٹ ڈرنک ؟”
    ”نہیں کچھ نہیں ۔”صبغہ نے جواباََ مسکرانے کی کوشش کی۔ وہاں کوئی آئینہ نہ ہونے کے باوجود اسے یقین تھا کہ وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوئی ہے ۔اس آدمی نے میز کے نیچے کسی بٹن کو دبایا تھا، ایک دوسرا شخص اندر داخل ہوا۔
    ”دو سو فٹ ڈرنک لے آؤ۔”
    اس نے آنے والے شخص سے کہا، یہ جیسے صبغہ کے انکار کا ردعمل تھا۔ جب اندر آنیوالا شخص دوبارہ باہر نکل گیا تو اس نے بات شروع کی۔
    ”دیکھیں ، میں کوئی قانونی کاروائی کرنا نہیں چاہتی ہوں، میں اس کے علاوہ اورکچھ نہیں چاہتی ۔”اس نے اپنے پہلے ہی جملے پر سامنے بیٹھے ہوئے شخص کے ماتھے پر چند لکیروں کو نمودار ہوتے دیکھا ۔صبغہ نے اس کے تاثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
    ”میں صرف اپنی بہن سے رابطہ کرنا چاہتی ہوں ۔اس کی خیریت جاننا چاہتی ہوں ، میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتی۔”اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی اس نے ٹیبل پر پڑا کارڈا ٹھا کر اس پر پھر سے ایک نظر ڈالی اور صبغہ سے کہا۔
    ”آپ کو شہیر ثوبان سمیع نے ہی بھیجاہے؟”وہ اس کا سوال نہیں سمجھ سکی ۔ کچھ دیر ہو نق نظروں سے اسے دیکھنے کے بعداس نے پوچھا۔
    ”ہاں …کیوں؟”
    ”کچھ نہیں …مجھے لگتا ہے کوئی کنفیوژن ہے۔”وہ آدمی جیسے بڑبڑایا۔
    ”خیر آپ کیا بتا رہی تھیں ؟”اس نے پوچھا اور اپنے سامنے میز پر ایک رائٹنگ پیڈ کھول کر پین ہاتھ میں لے لیا۔
    ”لیکن ٹھہریں ، پہلے آپ مجھے اپنی بہن کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔کیونکہ شہیر نے مجھ سے ایسے کسی معاملے کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔ اس نے بس یہ کہا تھا کہ آپ کو جاب کو ضرورت ہے اور میرے پاس ایک ریسپشنسٹ کی ویکینسی تھی۔ ْ”
    صبغہ بے اختیار شرمندہ ہوئی، اس کا جی چاہا وہ پلک جھپکتے وہاں سے غائب ہوجائے ۔توشہیر نے وہ کارڈ صرف جاب کے حوالے سے دیا تھا۔ اسے یاد آیا، اس کے ساتھ اس روز ہونے والی ملاقات میں اس نے کہا تھا کہ وہ جاب کے سلسلے میںاس کی مدد کرے گااور یقینا اس نے اتنے دنوں میں یہی کیا تھا اور وہ…اسے یقین نہیں آیاکہ وہ زندگی میں اتنی بڑی حماقت کر سکتی تھی۔ مگر وہ کر چکی تھی۔
    مزید ایک لفظ کہے بغیر اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
    ”کیا ہوا؟”اس نے حیرانی سے کہا۔
    ”کچھ نہیں ، مجھے کچھ غلط فہمی ہو گئی تھی۔ ”صبغہ نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
    ”آپ پلیز بیٹھے ۔”وہ ایک لمحے میں اس کی شرمندگی بھانپ گیا۔
    ”ٹھیک ہے، شہیر نے آپ کی جاب کے لیے کہا تھا مگر میں اس معاملے میں بھی آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔”




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۳

    دروازے پر لگی گھنٹی کو دوبار بجایا گیا تھا۔ فاطمہ کچن میں مصروف تھی۔ گھر میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا وہ چاول دھو رہی تھی۔ چاول دھوتے دھوتے وہ برتن رکھ کر ہاتھ پونچھتے ہوئے جب تک دروازے کے پاس آئی۔ دروازے پر لگی گھنٹی ایک بار پھر بجنے لگی تھی۔ شہیر اور ثمر دونوں اس طرح اس وقت گھنٹی بجا کر نہیں آتے تھے اور محلے میں سے جب بھی کوئی آتا، وہ عام طور پر دروازہ ہی بجایا کرتا تھا۔
    ”کون؟” فاطمہ نے اندر سے ہی پوچھا۔ دروازے کے دوسری طرف کچھ کھسر پھسر ہوئی فاطمہ کو اندازہ ہو گیا کہ وہاں دو افراد موجود تھے۔
    ”فاطمہ! دروازہ کھولو۔” کسی نسوانی آواز نے اس سے کہا۔
    فاطمہ نے دروازہ کھول دیا۔ زمین جیسے یک دم اس کے پیروں کے نیچے سے نکل گئی تھی۔ اسے دروازے پر کھڑے لوگوں کو پہچاننے میں وقت نہیں ہوئی تھی مگر بعض دفعہ پہچاننا اذیت ناک ہوتا ہے۔ اس وقت بھی ہو رہا تھا۔ اسے لگا اس کا گھر یک دم کسی بھونچال کی زد میں آگیا تھا۔
    ٭٭٭
    ”شہیر بھائی؟”نایاب نے قدرے حیرانی سے ثمر سے کہا۔
    ”ہاں شہیر بھائی۔”ثمر نے اثبات میں سر ہلایا۔
    ”مگر میری ممی شہیر بھائی سے کب ملیں ؟”نایاب کو حیرت ہو رہی تھی۔
    یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ شائستہ ‘شہیر سے مل کر اس طرح باتیں کرتیں وہ تو خود اسے ثمر سے ملنے سے سے منع کر رہی تھیں ۔ پھر شہیر کو اس طرح کے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔
    ”ایک بار نہیں تمہاری ممی کئی بار شہیر بھائی سے ملی ہیں۔”
    ثمر نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا شائستہ کا انکشاف نایاب کے لیے بھی انکشاف ہی تھا ۔ اور نایاب کے چہرے کے تاثرات دیکھنے پر اسے یہ اندازہ ہو گیاتھا کہ وہ صرف انکشاف نہیں تھا۔وہ نایاب کے لیے شاک بھی تھا۔
    ”مگر ممی تمہارے بھائی سے کیوں ملیں گی وہ تو مجھے …”نایاب بے اختیار کہتے کہتے رک گئی۔
    ”مجھے کیا ؟”ثمر نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔




    ”مجھے بالکل یقین نہیں ہے اس بات کا کہ ممی تمہارے بھائی سے ملتی رہی ہیں۔”نایاب نے اس کے سوال کا جواب گول کرتے ہوئے کہا۔ ممی کا آخر تمہارے بھائی سے تعلق کیا ہے۔ وہ تو تب تک انہیں جانتی بھی نہیں تھیں جب تک میں نے انہیں تم لوگوں سے نہیں ملوایا۔ اور ممی نے کبھی گھر میں تمہارے بھائی کا ذکر نہیں کیا۔”
    ”مگر شہیر بھائی ہر بار تمہاری ممی سے ملنے کے بعد گھر میں اس ملاقات کا احوال بتاتے تھے ۔ اس لئے میں کم از کم یہ نہیں مان سکتا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہوں گے۔ ”
    ثمر نے نایاب کی بات کاٹ کر کہا ۔ اسے نایاب کے لہجے سے اندازہ ہو رہا تھا۔ کہ وہ اگلے کسی جملے میں شہیر کو جھوٹا ہی کہتی۔ وہ اسی طرح بے دھڑک کوئی بات کرنے والی تھی اور ثمر اس کے منہ سے شہیر کے بارے میں اس طرح کی بات نہیں سن سکتا تھا۔
    چند لہحے تک دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے رہے۔ اگر پچھلادن ثمر کے لیے بدترین تھا تو آج کا دن نایاب کے لیے مگرنایاب کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ صرف ابتدا تھی۔بد ترین انکشافات ابھی باقی تھے۔
    ”اگر ممی تمہارے بھائی سے ملتی رہی تھیں تو تم نے پہلے مجھے کیوں نہیں بتایا؟”نایاب کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی۔
    ”بتایا تو انہوں نے بھی تمہیں نہیں ہے۔ ”ثمر نے کہا۔
    ”تم اپنی بات کرو۔”نایاب نے کچھ ناراضی سے کہا۔
    ”میں نے ضروری نہیں سمجھا ۔ آخر کیا کہتا تم سے؟ثمر نے کندھے اچکائے۔
    ”شہیر بھائی ان ملاقاتوں کو اتفاقیہ سمجھتے رہے تھے اور میں بھی یہی سمجھتا رہا۔ ”
    ”تو ہو سکتا ہے وہ ملاقاتیں اتفاقیہ ہی ہوں ۔”نایاب کو یک دم کچھ حوصلہ ہوا۔
    ”اتفاقیہ ملاقاتوں کے نتیجے میں کوئی کسی کی پروموشن کرواتا ہے نہ پے بڑھواتا ہے۔”
    ”ممی نے کس کی پروموشن…”نایاب نے بات ادھوری چھوڑی پلک جھپکتے میں اس کی سمجھ میں آگیا تھا۔ کہ ثمر کس کی بات کر رہا ہے۔
    ”ہاں ‘تمہاری ممی نے شہیر بھائی کے باس سے کہہ کر انکی پروموشن کروائی ہے۔ ”
    نایاب کی ٹانگیں یک دم کانپنے لگیں ۔ وہ اپنے باپ اور ماں دونوں کے نت نئے افیئرز سے واقف تھی۔ اس نے باپ کی طرح ماں کو بھی اپنے سے بہت کم عمر لڑکوں کے ساتھ وقت گزاری کرتے دیکھا تھا مگر وہ سب لڑکے ان کی اپنی کلاس کے ہی ہوتے تھے۔ شائستہ انہیں ہارون کی طرح دوستی کا نام دیتی تھی اور نایاب اور اسد نہ چاہتے ہوئے بھی ان لوگوں سے ہیلو ہائے کر لیتے تھے۔
    نایاب کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ شائستہ ا س کے دوست کے بھائی کے ساتھ اس طرح انوالو ہوگی اور خود اسے اس کے ساتھ میل جول رکھنے سے منع کرے گی۔
    ”تمہیں اگر اب بھی یقین نہیں آرہا تو تم اپنی ممی سے پوچھ لو۔”ثمر اس کی دلی کیفیات سے بے خبر کہتا رہا تھا۔
    ”تمہاری ممی نے شہیر بھائی سے کہا کہ وہ ان سے اس لیے بار بار مل رہی ہیں کیونکہ انہیں دیکھ کر انہیں اپنا گمشدہ بیٹا یاد آرہا ہے۔”
    نایاب نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں ۔ اسے شائستہ سے گھن آئی تھی۔ وہ شہیر کو پھانسنے کے لیے کس سطح پر گر گئی تھی۔
    ”انہوں نے شہیر بھائی کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو ۔آج تک ڈھونڈ رہی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ کبھی نہ کبھی وہ انہیں دیکھ کر انہیں پالیں گی۔ اب تم کہہ رہی ہو کہ تمہیں ایسے کسی بھائی کا پتہ نہیں ۔”ثمر نے الجھے ہوئے اندازمیںکہا ۔”پھر سچ جھوٹ کا فیصلہ کس طرح ہو تم خود طے کر سکتی ہو کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ۔ تمہاری ممی شہیر بھائی سے اس طرح کے سوالات کر رہی تھیں جیسے انہیں شک ہو کہ وہ ہمارا بھائی نہیں ان کا بیٹا ہے اورمیری امی ہی وہ خاتون ہیں جو انہیں اغوا کر کے لے گئی ہوں۔”
    ”ثمر!جہاں تک میں جانتی ہوں اسد بھائی کے علاوہ میرا اور کوئی بھائی نہیں ہے۔”نایاب نے لرزتی ہوئی آواز میں اس کی بات کاٹ دی۔
    ”اور اگر ایسا کبھی کچھ ہوا بھی تھا تو میں اس کے بارے میں نہیں جانتی ۔ ممی نے کبھی ہم لوگوں سے ایسی بات نہیں کی اور ممی نے کیا پاپا نے بھی کبھی ا یسا کچھ نہیں کہا۔ ”نایاب بے حد پریشان نظر آرہی تھی۔
    ”اور اگراس طرح کی کوئی بات تھی اور وہ تمہارے بھائی سے مل رہی تھیں تو انہیں مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی۔ وہ تو مجھے تم سے ملنے سے منع کرتی رہی ہیں۔اس بار نایاب نے یہ بات نہیں چھپائی تھی۔
    ”تم لوگوں کی فیملی بیک گراؤنڈ کے بارے میں وہ مجھ سے بھی شروع میں پوچھتی رہی تھی مگر میں یہی سمجھتی رہی کہ وہ ایسا صرف احتیاطاً کر رہی ہیں کیونکہ میری تم سے دوستی ہوگئی تھی۔ اس لیے مجھے کبھی یہ شبہ نہیں ہو اکہ وہ یہ چھان بین شہیر بھائی کے حوالے سے کر رہی ہیں…میرے لیے یہ ساری باتیں ناقابل یقین ہیں۔”نایاب نے بے بسی سے کہا۔
    ”تمہاری جگہ کوئی اور مجھ سے یہ سب کچھ کہتا تو میں سمجھتی کہ وہ بکواس کر رہا ہے۔ میری ممی پر الزام لگا رہا ہے۔گمشدہ بھائی…تم خود سوچو کیا یہ قابل یقین بات ہے؟”
    ”نہیں…لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور ان کو ایسے کسی حادثے کا سامنا نہیں کرناپڑا تو پھر شہیر بھائی سے ملاقاتوں کا مقصد کیا ہے اور اس طرح کی عنایات اور پھر اس طرح کی باتیں …میں کیا کہوں اس سب کو ؟”
    ”میں ممی سے بات کروں گی۔” نایاب نے پرسوچ اندازمیں کہا۔
    ”تمہیں پتا ہے مجھے یوں لگتا ہے میری فیس کی ادائیگی بھی تمہاری ممی نے کی ہے ۔”ثمر نے یک دم جیسے کوئی خیال آنے پر کہا۔
    نایاب کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
    اور صرف اتنا ہی نہیں ‘تمہیں پتہ ہے ثانی کے لیے کسی نے کچھ رقم آئی بی اے کے اخراجات کے لیے بھجوائی ہے…مجھے لگتا ہے یہ عنایت بھی تمہاری ممی ہی کی ہے کیونکہ جس آدمی کا نام ا س خط پر لکھا تھا اسے ہم نہیں جانتے۔ اس کا پتہ بھی غلط ہے اور کوئی کیوں یک دم ہمیں لاکھوں روپے دینا شروع کر دے گا۔ ”ثمر کہہ رہا تھا۔ اور نایاب ہکا بکا اس کی باتیں سن رہی تھی۔
    ”یہ سب کچھ تب سے ہونا شروع ہوا ہے جب سے تمہاری ممی نے شہیر بھائی سے ملنا شروع کیا ہے۔ ”
    ثمر بات کرتے ہوئے جیسے کڑی سے کڑی ملا رہا تھا۔ نایاب کا دل چاہا ۔ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے ۔ آخر شائستہ کس حوالے سے ان لوگوں پر لاکھوں لٹا رہی تھی۔ کیا صرف شہیر کے چکر میں یا پھر وہ واقعی اسے اپنا بیٹا سمجھ رہی تھی۔ یہ کیا مذاق تھا؟ اس عمر میں پہلی بار ایک گمشدہ بیٹے کی کہانی سامنے آئی تھی۔ اور نایاب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ اس بات پر ہنسے یاروئے۔
    ٭٭٭
    شائستہ ڈائنگ روم سے اٹھ کر تیار ہونے کے لیے اپنے بیڈ روم میں آئی مگر اس کا ذہن مسلسل ہارون اور منصور کے بارے میں سوچ ر ہا تھا۔ آخر دونوں کے درمیان کیا ہو رہا تھا۔ اس نے فوری طور پر ان کی مشترکہ فیکٹری جانے کا فیصلہ کیا۔ اسے یقین تھا کہ اگر ان کے درمیان بزنس کے حوالے سے کوئی اختلافات ہیں تو وہ فیکٹری جا کر بہت آسانی سے ان اختلافات کا سرا ڈھونڈ سکتی تھی۔ وہ یک دم منصور سے ایک ملاقات کی ضرورت محسوس کرنے لگی تھی۔
    تیار ہوتے ہوئے اچانک اسے رات والی انگوٹھی یاد آئی۔وہ رات کو اسے غور سے نہیں دیکھ سکی تھی۔ وہ اس کی مالیت کا اندازہ لگانا چاہتی تھی۔ بالوںمیں برش کرتے کرتے وہ اپنے بیڈ کی طرف چلی آئی۔ برش کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس نے دراز کو پور اکھولا اور اندر موجود چیزوں کو ادھر ادھر کرتے ہوئے انگوٹھی تلاش کرنے لگی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا اس نے رات کو ہارون سے جھگڑے کے دوران انگوٹھی کو دراز کے اندر ہی پھینکا تھا۔ مگر اس وقت چیزوں کو ادھر ادھر کرنے پر بھی اسے وہ انگوٹھی کہیں نظر نہیں آئی تھی ۔ کچھ الجھتے ہوئے اس نے دراز کو باہر کھنیچ لیا اور اس میں موجود چیزوں کوبیڈ پر الٹ دیا ۔ دراز میں اتنی چیزیں نہیں تھیں کہ اسے ان میں کسی چھوٹی سی چیز کو ڈھونڈ نے میں زیادہ وقت لگتا اور خاص طور پر اب جب سب کچھ اس کے سامنے بکھر اہوا تھا۔ وہ ایک نظر میں بھی دیکھ سکتی تھی کہ ان چیزوں کے درمیان اس انگوٹھی کا نام و نشان بھی کہیں نہیں ہے۔




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۲

    منصور علی کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ وہ بلاشبہ رخشی تھی۔ چوبیس پچیس سال کے اس لمبے تڑنگے نوجوان کے ساتھ بلاشبہ وہ وہی تھی۔ وہ دونوں پی سی کی لابی میں کھلنڈرے اور بے فکرے انداز میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے باتیں کرتے اور قہقہے لگاتے ہوئے ونڈو شاپنگ کر رہے تھے۔ منصور کو اپنا خون کھولتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے رخشی کو اس سے پہلے کبھی کسی مرد کے ساتھ اتنی بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔
    وہ اس وقت عام طور پر اپنے آفس میں ہوتا تھا۔ یہ صرف ایک اتفاق تھا کہ آج وہ اپنے کسی کلائنٹ سے ملنے پی سی آیا تھا اور ملاقات کے بعد لابی سے گزرتے ہوئے رخشی اس کی نظروں میں آ گئی۔ کچھ دیر کے لیے تو وہ یہ یقین ہی نہیں کر پایا کہ وہ واقعی رخشی کو ہی وہاں دیکھ رہا ہے۔ اسے اس وقت گھر پر اس کے بیٹے کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ وہ اکیلی ہوتی تو وہ اس کے پاس چلا جاتا مگر سارا مسئلہ اس کے ساتھ وہاں موجود دوسرے لڑکے کا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل چاہا کہ وہ ہر لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے سیدھا رخشی کے پاس جائے اور اس کا بازو پکڑ کر کھینچتے ہوئے اسے وہاں سے لے جائے۔ مگر پھر اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور رخشی کو کال کرنے لگا۔ موبائل کی بیل بہت دیر تک بجتی رہی۔ رخشی اسی طرح اپنے ساتھی لڑکے کے ساتھ گپیں لگاتی رہی۔ پھر شاید اس کے ساتھی لڑکے نے ہی اس کے پرس میں بجتے فون کی طرف اس کی توجہ مبذول کروائی تھی۔
    منصور نے رخشی کو چونکتے اور اپنے پرس سے موبائل نکال کر اس پر موجود نمبر دیکھتے اور پھر موبائل کو آف ہوتے سنا۔ اس نے بے اختیار دانت کچکچائے۔ رخشی نے موبائل کو مسکراتے ہوئے دوبارہ پرس میں ڈالا اور ساتھی لڑکے سے کچھ کہتے ہوئے اگلے شو کیس کی طرف بڑھ گئی۔
    منصور نے موبائل اپنی جیب میں رکھ لیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس وقت کیا کرے۔ اپنا سر پھوڑے یا رخشی کا۔
    رخشی اب اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس کا تعاقب کرے مگر وہ جانتا تھا کہ ایسی صورت میں جلد یا بدیر وہ خود پر کنٹرول کھو دے گا۔
    خود پر جبر کرتے ہوئے وہ بالآخر وہاں سے چلا آیا۔ اس نے بہتر یہی سمجھا تھا کہ وہ رخشی کے گھر آنے پر ہی اس سے بات کرے۔
    اس دوپہر منصور علی نے بے شمار سگریٹ پھونک ڈالے تھے۔ وہ رخشی کے انتظار میں بیڈروم سے لاؤنج اور لاؤنج سے پورچ تک کے چکر کاٹتا رہا۔ سگریٹ کے ہرکش کے ساتھ وہ رخشی کے ساتھ گزارے ہوئے تمام لمحات یاد کرتا رہا۔ ماضی فلم کی طرح اس کے سامنے بار بار آتا اور جاتا رہا۔ اپنی آنکھوں سے رخشی کو ایک اور مرد کے ساتھ دیکھنے کے باوجود اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ رخشی اس کے ساتھ بے وفائی کر سکتی ہے۔ اسے دھوکا دے سکتی ہے۔ ان کی شادی کو دس بیس سال تو نہیں ہوئے تھے کہ رخشی اتنی جلدی اس سے اکتا جاتی اور پھر اس نے رخشی کے لیے بہت سی قربانیاں دی تھیں اپنی بیوی بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔ کیا رخشی کو یہ یاد نہیں رہا تھا؟ وہ بار بار چکر لگاتا خود سے پوچھتا رہا۔




    ”مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ مجھے کوئی غلط فہمی ہوئی ہو، رخشی کا اس لڑکے کے ساتھ ایسا کوئی تعلق نہ ہو۔” منصور کبھی ایک انتہا پر پہنچا کبھی دوسری پر۔ کبھی اسے رخشی ہر طرح سے مجرم نظر آتی اور کبھی وہ اس پر شک کرنے پر خود کو ملامت کرنے لگتا۔
    رخشی تقریباً روز ہی شاپنگ کے لیے باہر جایا کرتی تھی اور کئی بار باہر ہوتے ہوئے وہ منصور کا فون اٹینڈ نہیں کرتی تھی۔ منصور کو کبھی اس پر شک نہیں ہوا تھا۔ شک کی کوئی وجہ ہی نہیں تھی۔ چھوٹے موٹے اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود وہ ابھی بھی اس کی چہیتی بیوی تھی اور اس کے خیال میں وہ اس کی وفادار بھی تھی۔ اور اب ایک دم اسے تصویر کا دوسرا رخ نظر آنے لگا تھا اور زندگی میں پہلی بار ہی اس نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت کی تھی۔
    رخشی اس کے گھر پہنچنے کے تقریباً تین گھنٹے کے بعد آئی تھی اور منصور کو پہلے سے گھر پر پا کر وہ ذرا نہیں چونکی۔
    ”آپ آج اس وقت گھر پر کیسے؟” اس نے منصور کو باہر پورچ میں گاڑی سے اترتے ہی دیکھ لیا تھا جو اس کی گاڑی کی آواز سن کر باہر آیا تھا۔
    منصور نے جواب دینے کے بجائے اس کا بازو پکڑا اور اسے تقریباً کھینچتے ہوئے اندر لے گیا۔ رخشی کے اوسان خطا ہو گئے۔
    ”کیا ہوا ہے آپ کو؟ کیا کر رہے ہیں؟” اس نے خود کو چھڑانے کے لیے مزاحمت کی تھی مگر وہ کامیاب نہیں ہوئی۔ منصور کچھ کہے بغیر اسے کھینچتا ہوا بیڈ روم میں لے گیا۔ بیڈروم کا دروازہ بند ہوتے ہی رخشی نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو منصور کی گرفت سے چھڑوایا۔
    ”کیا بدتمیزی ہے یہ؟” اس نے جھنجلاتے ہوئے کہا۔ ”گھر کے نوکر…”
    منصور نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔ ”کہاں سے آ رہی ہو تم؟”
    رخشی کو اس کا سوال سمجھنے میں صرف ایک لمحہ لگا تھا۔ وہ جان گئی کہ منصور نے اسے باہر کسی کے ساتھ دیکھ لیا تھا اور پھر اسے خود پر قابو پانے میں چند سیکنڈ ہی لگے تھے۔
    ”شاپنگ کے لیے گئی تھی۔”
    ”کہاں؟”
    ”پی سی۔”
    ”کس کے ساتھ؟”
    ”اپنے کزن کے ساتھ۔” رخشی نے اطمینان سے کہا۔ منصور بے اختیار سٹپٹایا۔
    ”کزن…؟” کون سا کزن؟ میں تمہارے کسی کزن سے واقف نہیں۔”
    ”آپ میری فیملی کے کتنے لوگوں سے ملے ہیں کہ میرے ہر کزن سے واقف ہوتے؟”
    رخشی نے دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔
    ”کزن کے ساتھ اتنی بے تکلفی؟”
    ”آپ کے خاندان میں نہیں ہوتی ہوگی، میرے خاندان میں ہوتی ہے۔”
    منصور چند لمحہ پرُسوچ انداز میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
    ”آپ نے مجھے پی سی میں دیکھ لیا تھا تو اسی وقت میرے پاس آتے، میں آپ کو بھی اس سے ملواتی۔ اس طرح گھر میں آ کر تماشا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔”
    منصور کی خاموشی سے اسے یک دم شہہ ملی تھی۔ منصور اب بھی چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا۔
    ”میں نے اگر آپ سے اپنی مرضی سے شادی کی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ مجھ پر شک کریں۔” میں کہیں بھی، کسی بھی وقت، کسی سے بھی مل سکتی ہوں کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ آپ…”
    منصور نے یک دم اس کی بات کاٹی۔
    ”کیا نام ہے تمہارے اس کزن کا؟” رخشی کے ذہن میں فوری طور پرکچھ نہیں آیا۔ ایک لحظہ کی خاموشی کے بعد وہ بولی۔
    ”آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟”
    ”وجہ بتا دوں گا پہلے تم نام بتاؤ۔”
    ”خرم!”
    ”تم نے کہا کزن ہے۔ کس رشتے سے، چچا کا بیٹا ہے یا ماموں کا؟” منصور سرد مہری سے پوچھنے لگا۔
    ”وہ…” رخشی جواب دیتے ہوئے لڑکھڑائی۔ ”سیکنڈ کزن ہے۔”
    ”کیا کرتا ہے؟”
    ”بزنس۔” رخشی جھوٹ پر جھوٹ بول رہی تھی۔
    ”کس چیز کا بزنس؟”
    ”یہ تو میں نے اس سے نہیں پوچھا۔”
    ”کہاں رہتا ہے؟”
    ”آپ اتنی لمبی تفتیش کیوں کر رہے ہیں؟” اس بار وہ بے اختیار جھنجلائی۔ ”کیا آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے؟”
    ”میں تم سے پوچھ رہا ہوں کہ وہ کہاں رہتا ہے؟” منصور کا لہجہ اس بار پہلے سے زیادہ سخت تھا۔
    رخشی نے ایک علاقے کا نام بتا دیا۔ منصور نے مزید کوئی سوال کرنے کے بجائے اپنا موبائل نکالا اور اس پر ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔ رخشی قدرے بے چینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
    منصور رسمی سلام دعا کے بعد پوچھ رہا تھا۔
    ”رخشی کا کوئی کزن ہے خرم؟” رخشی ایک لمحے میں جان گئی کہ منصور کس سے بات کر رہا تھا۔ دوسری طرف صاعقہ تھی پہلی بار صحیح معنوں میں اسے پیروں کے نیچے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کی باتوں کی تصدیق کے لیے وہ صاعقہ کو فون کر دے گا۔
    ”ہاں خیریت ہے۔ بس آپ یہ بتائیں کہ اس کا کوئی کزن خرم ہے۔ اور اگر ہے تو وہ کہاں رہتا ہے؟”
    منصور کی نظریں فون پر بات کرتے ہوئے رخشی کے چہرے پر تھیں اور اس نے رخشی کا رنگ اڑتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ دوسری طرف سے صاعقہ کچھ کہہ رہی تھی۔ منصور نے اس کی بات سنی رخشی نے اس کی آنکھوں میں دیکھ لیا تھا کہ اسے دوسری طرف سے کیا جواب ملا ہوگا۔ صاعقہ کی بات سنتے سنتے اس نے اچانک فون بند کر دیا۔
    ”تمہاری ماں بہت چالاک ہے۔ تمہاری طرح اسے یہ تو یاد آ گیا ہے کہ تمہارا خرم نامی کوئی کزن ہے مگر یہ یاد نہیں آیا کہ وہ کہاں رہتا ہے؟” وہ آگ بگولہ ہوتے ہوئے بولا۔ ”اور اگر میں اس سے یہ پوچھ لیتا کہ وہ کس رشتے سے تمہارا کزن ہے تو مجھے یقین ہے۔ اس کا جواب تمہارے جواب سے مختلف ہوتا اور اگر میں اسے اس کا حلیہ بتانے کا کہتا تو پھر تو شاید وہ بول ہی نہ پاتی۔”
    اس نے ایک لمحہ کے لیے توقف کیا۔ ”اب تم اس کا صحیح تعارف مجھ سے کرواؤ گی یا پھر…”
    اس بار اس نے دانستہ طور پر اپنا جملہ چھوڑ دیا۔
    ”آپ کیا سمجھ رہے ہیں اس کا مجھ سے کیا رشتہ ہے؟” رخشی نے منصور کو دیکھا۔
    ”یہاں بات میری سمجھ کی نہیں ہو رہی تمہارے رشتے کی ہو رہی ہے۔” منصور حلق کے بل چلایا۔ ”کون ہے وہ تمہارا؟”
    ”دوست…” رخشی نے بے اختیار کہا۔ منصور کو یقین نہیں آیا۔
    ”بوائے فرینڈ؟” رخشی خاموشی سے منصور علی کو دیکھتی رہی۔ جو اسی انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔
    ”بوائے فرینڈ ہے وہ تمہارا؟” منصورعلی دھیرے سے بڑبڑایا۔
    ٭٭٭




  • تھوڑا سا آسمان — قسط نمبر ۱۰

    گھر میں کسی کو بھی ثمر کے کمرشل کی شوٹنگ کا پتہ نہیں تھا۔ صرف ثانیہ اس بارے میں جانتی تھی اور ثمر نے بہت منتوں کے بعد اس سے وعدہ لیا تھا کہ وہ شہیر یا فاطمہ کو اس بارے میں کچھ نہیں بتائے گی۔
    ثمر کے ہیئر اسٹائل میں ہونے والی تبدیلی کو شہیر نے بہت دلچسپی سے دیکھا تھا اور اس کی تعریف بھی کی تھی مگر اسے بھی یہ شک نہیں ہوا تھا کہ وہ ہیئر اسٹائل کسی آنے والے کمرشل کا نتیجہ بھی ہو سکتا تھا۔
    وہ کمرشل کی ریہرسلز اور شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے جتنا پُرجوش تھا’ بعد میں اتنا ہی خاموش ہو گیا تھا۔ ثانی کو چند دن اس کے رویے پر حیرت ہوئی تھی کہ اس نے ہمیشہ کی طرح اس کے کان کھانے کی کوشش کیوں نہیں کی’ کمرشل کے بارے میں بتابتا کے ‘ مگر پھر اس نے اسے نظر انداز کر دیا۔ لیکن وہ زیادہ دن اسے نظر انداز نہیں کر سکی تھی۔
    وہ کمرشل کی شوٹنگ کا پہلا دن تھا۔ ثمر شام کے قریب واپس آیا تھا اور ہمیشہ کی طرح سب کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد صحن کے تخت پر جا بیٹھا۔
    رات کافی گزر گئی’ جب کمرے کے اند کام کرتے کرتے ثانی کو اچانک ثمر کا خیال آیا۔ فاطمہ تب تک سو چکی تھی اور دوسرے کمرے میں شہیر بھی سو چکا تھا۔ کمرے کی صحن میں کھلنے والی کھڑکی سے اسے تخت پر لیٹا ہوا ثمر نظر آیا۔ اپنی کتاب بند کر کے وہ باہر نکل آئی۔
    ثمر اپنے دونوں بازو سر کے نیچے رکھے تخت پر سیدھا لیٹا آسمان کو دیکھنے میں مصروف تھا۔ ثانی اس کے پاس آ کر تخت پر بیٹھ گئی۔ ثمر اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ ثانی نے سر اٹھا کر سیاہ آسمان اور اس میں نظر آنے والے ستاروں کو دیکھا پھر ثمر کو دیکھا۔
    ”سارے تارے گن لیے؟” اس نے پوچھا۔
    ”ہاں۔” اس نے اسی طرح آسمان پر نظریں جمائے کہا۔
    ”کتنے ہیں؟”
    ”میری گنتی ختم ہو گئی ہے۔” ثمر نے اسی انداز میں کہا۔
    ”تب تو صرف سو ہی گن سکے ہو گے تم۔” ثانی نے پھر سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔
    ”نہیں۔”
    ”پھر؟”
    ”ایک سو ایک ہیں۔” اس نے اسی سنجیدگی سے کہا۔ ثانی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
    ”تو پھر اب سوجاؤ۔”
    ”سو جاؤں گا۔” وہ اسی سنجیدگی سے بولا۔
    ”تم نے مجھے اپنی شوٹنگ کے بارے میں نہیں بتایا؟” ثانی نے پوچھا۔




    وہ خاموشی سے آسمان کو دیکھتا رہا۔ ثانی کو اس کا انداز خلاف عادت لگا۔
    ”کیا بات ہے۔” اس نے قدرے تشویش کے عالم میں ثمر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    ”کچھ نہیں۔” اس نے مدھم آواز میں جواب دیا۔
    ”شوٹنگ ٹھیک نہیں ہوئی؟”
    ”نہیں۔ شوٹنگ ٹھیک ہوئی ہے۔”
    ”پھر کیا ہوا ہے؟”
    ”کچھ نہیں۔”
    ”تو پھر اس طرح چپ کیوں ہو؟”
    ”چپ کب ہوں’ باتیں تو کر رہاہوں۔”
    ”مگر عجیب سی باتیں کر رہے ہو۔”
    ”تم تو ہمیشہ ہی کہتی ہو کہ میری باتیں عجیب ہیں۔”
    وہ چند لمحے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کرنے لگی۔
    ”تم پریشان ہو؟”
    اس بار ثمر نے نظریں آسمان سے ہٹا کر اسے دیکھا۔ ”پریشان کیوں ہوں گا؟” اس نے جواباً سوال کیا۔
    ”یہ تو تم مجھے بتاؤ۔”
    وہ یک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ثانی کو اب کوئی شبہ نہیں رہا تھا کہ وہ پریشان تھا۔ اس کے برابر تخت پر بیٹھا وہ انگلی کے ناخن سے اپنے انگوٹھے کے ناخن کو کھرچنے لگا۔
    ”کیا بات ہے ثومی! ” ثانی نے بڑی نرمی کے ساتھ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    ”میں آج کل بہت عجیب عجیب باتیں سوچتا رہتا ہوں۔” اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”کیسی باتیں؟” اس نے ثمر کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
    ”بہت ساری باتیں۔”
    ”مثلاً؟” وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
    ”میرے جیسے فیملی بیک گراؤنڈ کے ساتھ شوبز میں آگے جانا بہت مشکل کام ہے۔” اس نے بہت مدھم آواز میں کہا۔ ثانی نے بمشکل اس کی آواز سنی۔
    ”لوگ بہت سے سوال کرتے ہیں۔ میرے پاس جواب ہی نہیں ہوتا۔” وہ پھر رکا۔ ”یہاں کانٹیکٹس کی ضرورت ہے۔ سورسز کا استعمال آنا چاہیے۔ میرے پاس تو دونوں ہی نہیں ہیں اور فیملی بیک گراؤنڈ تو …” وہ چپ ہو گیا۔ ثانی نے اس کی رنجیدگی کو محسوس کیا۔
    ”میں اسی لیے تم کو منع کرتی تھی کہ شوبز میں آنے کا خیال اپنے دل سے نکال دو۔” ثانی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ”یہ ہمارے جیسے لوگوں کی فیلڈ نہیں ہے۔ اس کمرشل کو بھی چھوڑ دو۔”
    ”نہیں۔” اس نے دو ٹوک انداز میں سرہلایا۔ ”میں نہیں چھوڑوں گا۔ مجھے جو کچھ کرنا ہے’ اسی فیلڈ میں کرنا ہے۔ یہ نہیں کر سکوں گا تو کچھ بھی نہیں کروں گا۔”
    ”تو پھر یہ سب کچھ کیوں سوچ رہے ہو۔ یہ سب کچھ تو ایسے ہی رہے گا۔ بیک گراؤنڈ بھی’ ہمارا اسٹیٹس بھی اور لوگوں کے سوال بھی۔” ثانی نے کندھے اچکائے۔
    ”میں ان سب چیزوں سے ڈرتا نہیں ہوں’ صرف تکلیف ہوتی ہے مجھے۔”
    ثمر نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”کیا ان بیساکھیوں کے بغیر میں کچھ نہیں ہوں۔ میرا ٹیلنٹ کچھ بھی نہیں ہے؟۔” اس نے جیسے احتجاج کیا۔
    ”ٹیلنٹ کو آج کے دور میں پروں کی ضرورت ہوتی ہے یا پیروں کی اور یہ دونوں چیزیں اسے ہم جیسے لوگ نہیں دے سکتے۔” ابھی تو تم نے چند دن ایک کمرشل کے لیے گزارے ہیں اور تم یہ سب کچھ سوچ رہے ہو۔ آگے تو اس سے زیادہ تکلیف وہ رستہ ہے۔”
    ”جو بھی ہے’ چلنا تو مجھے اسی رستہ پر ہے۔ میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا میرا ٹیلنٹ واقعی کچھ نہیں ہے۔”
    ”اور کتنے دن ہیں اس کمرشل کی شوٹنگ میں؟”
    ”چار۔”
    ”اس کے بعد تم اپنی اسٹڈیز پر توجہ دو۔ ایگزامز قریب آ رہے ہیں۔” ثانی نے ایک بار پھر اس کے کندھے کو تھپتھپایا۔
    ”تمہیں پتا ہے’ وہ مجھے کتنے پیسے دے رہے ہیں۔” ثمر کو جیسے یک دم یاد آیا۔
    ”مجھے کیسے پتا ہو سکتا ہے ۔ تم نے کب بتایا ہے۔” ثانی نے کہا۔
    ”بیس ہزار۔”
    ثانی بے یقینی سے کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ ”بیس ہزار … واقعی ؟”
    ”ہاں’ واقعی دے رہے ہیں۔” ثمر نے اسے یقین دلایا۔
    ”تم کیا کرو گے اتنے پیسوں کا؟” ثانی پر جوش ہوئی۔
    ”تمہیں دے دوں گا۔” ثمر نے شرارت سے کہا۔
    ”خیر مجھے تو کبھی نہیں دو گے۔ امی کو دے دینا۔” اسے فوراً فاطمہ کا خیال آیا۔
    ”تاکہ وہ فوراً جوتوں سے میری تواضع کریں۔” ثمر نے بُرا مانا۔ ”پوچھیں گی نہیں کہ یہ روپے کہاں سے آئے ہیں۔”
    ”تم کہہ دینا کہ پرائز بانڈ نکلا ہے۔”