Tag: alif nagar

  • بگلے کی ٹانگ – انشاء علی

    بگلے کی ٹانگ – انشاء علی

    بگلے کی ٹانگ
    انشاء علی

    ایک دفعہ ایک نواب صاحب شکار کے لیے گئے۔ ان کا خانساماں جمال بھی ساتھ تھا۔
    نواب صاحب نے بہت سارے بگلے شکار کیے اور اپنے خانساماں جمال کو پکانے کے لیے دے دیئے۔ جمال بہت چالاک تھا۔ اس نے تمام بگلوں کو آگ پر بُھون لیا۔ اس کی عمدہ خوش بو سے جمال کا جی للچایا تو اُس نے ہر بُھنے ہوئے بگلے کی ایک ایک ٹانگ خود کھالی۔
    جب نواب صاحب نے یہ دیکھا تو انہیں بہت غصہ آیا۔ انہوں نے جمال سے پوچھا تو وہ بولا: ”جناب! میں نے کچھ نہیں کھایا۔ بگلوں کی تو ٹانگ ایک ہی ہوتی ہے۔”
    نواب صاحب اس بات پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے جمال سے کہا کہ ”ہم صبح جھیل پر چلیں گے۔ وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔”
    اگلے دن دونوں جھیل پر گئے تو وہاں تمام بگلے ایک ٹانگ پر کھڑے تھے۔
    جمال بول اٹھا: ”دیکھیں صاحب! میں نہ کہتا تھا کہ بگلوں کی ایک ہی ٹانگ ہوتی ہے۔”
    نواب صاحب پہلے تو حیران ہوئے مگر پھر انہیں ایک ترکیب سوجھی۔ انہوں نے تالی بجائی اور تمام بگلوں نے اپنی اوپر اٹھائی ہوئی ٹانگ زمین پر رکھ دی۔
    یہ دیکھ کر نواب صاحب نے غصے سے جمال کو گُھورا تو وہ چِلّا اٹھا: ”یہ زیادتی ہے صاحب! کل جب آپ بگلوں کی دعوت اڑانے لگے تھے تب تو آپ نے تالی نہیں بجائی تھی۔ ورنہ تب بھی بگلے اپنی دوسری ٹانگ نکال لیتے۔” چالاک خانساماں کا یہ جواب سن کر نواب صاحب کی ہنسی چھوٹ گئی اور انہوں نے اُسے معاف کردیا۔

    ٭…٭…٭

  • بدی کے بدلے نیکی

    بدی کے بدلے نیکی

    بدی کے بدلے نیکی
    ہما جاوید

    کسی گائوں میں ایک محنتی اور شریف چیونٹارہتا تھا۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔ کبھی اپنے بِل کی مرمت کررہا ہے تو کبھی منہ میں اناج کادانہ اٹھائے چلاآرہا ہے۔ وہ کاہلی کو گناہ سمجھتا اور ہرکام بڑی محنت سے کرتا تھا۔ کسی کام سے باہر نکلتا توراہ چلتے دوستوں سے بے مقصد بات چیت نہ کرتا، وہ جانتا تھا کہ عقل مند زیادہ نہیں بولتے۔ راستے میں اگر کوئی جان پہچان والا مل بھی جاتا تو چیونٹا دور ہی سے سلام دعا لے کر آگے روانہ ہوجاتا تھا ۔
    اس چیونٹے کے بل کے قریب ہی گندے پانی کاایک جوہڑتھا۔جہاںشریر اور آوارہ بچے گھنٹوں اس گندے پانی میں نہاتے رہتے۔ ان بچوں کے ساتھ بہت سی بھینسیں بھی سارا دن پانی میں بیٹھی رہتی تھیں۔ چیونٹا بڑا پریشان تھاکیوں کہ بھینسیںوہاںسارا دن پھرتی رہتی تھیں۔ چیونٹے کو خطرہ تھا کہ کہیں اُس کا کوئی بچہ اِن کے پاؤں تلے کچلا نہ جائے۔ اب وہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتا تھا۔ اگر کبھی کسی ضروری کام سے باہر جاتا بھی تو اپنے بیوی بچوں کو سختی سے کہہ جاتا کہ وہ باہر نہ نکلیں۔
    ایک دن چیونٹا بہت تھکاہوا تھا۔ وہ دوپہرکاکھانا کھا کر کچھ دیر آرام کرنے لگا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک کسی نے اسے جھنجھوڑدیا۔ وہ چونک کر اٹھا اور دیکھا کہ اس کی بیوی اس کے سر پر کھڑی ہے۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ چیونٹے نے جب اس کی طرف دیکھا تووہ بولی: ”آپ مزے سے سو رہے ہیں اور گھر میں پانی بھرا جارہاہے۔ ”
    ”ہیں …؟کیا کہاپانی …؟” کہاں سے آرہا ہے؟ چیونٹاگھبرا کر بولااور پھر وہ باہر کی طرف بھاگا۔ وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بِل کے بالکل قریب جوہڑ میں ایک بھینس بیٹھی بار بار اپنی دم پانی پرمار رہی ہے جس سے چھینٹے اُڑ اُڑ کر چیونٹے کے بل میں داخل ہورہے ہیں۔ چیونٹے نے یہ منظر دیکھا تو پریشان ہوگیا۔ اِس طرح تو ہماری خوراک کا ذخیرہ برباد ہوجائے گااور جاڑوں کے موسم میں ہم بھوکے مرجائیں گے۔ چیونٹے نے یہ سوچاپھر دوڑ کر بھینس کے قریب ایک پتھر پر چڑھ کر بولا:
    ”بی بھینس! میری ایک بات سنوگی؟”
    ”کیا ہے بھئی؟” بی بھینس نے اکڑکرجواب دیا۔
    ”دیکھو بہن! میں ایک غریب اور کمزور ساچیونٹا ہوں۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم جانتی ہو کہ ہم اپنی بِل میں برے وقت کے لیے پہلے ہی سے خوراک ذخیرہ کرلیتے ہیں۔”
    ”تو پھر میں کیا کروں؟” بھینس روکھے پن سے بولی۔
    ”اچھی بہن !تم بار بار اپنی دم پانی میں مارہی ہو۔ اس سے میرے گھر میں پانی داخل ہورہاہے اور ہمیں خوراک کاذخیرہ تباہ ہونے کااندیشہ ہے۔ خدا کے لیے میرے بچوں پر ترس کھائو ۔ میں زندگی بھر تمہارا احسان مندرہوں گا۔” وہ بھینس بڑی بد اخلاق تھی۔ اُس پرچیونٹے کی اِن باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ آنکھیں نکال کر بولی:
    ”چل بھاگ یہاں سے… میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔ جب تک چاہوں دُم ہلاتی رہوں تُو مجھ پر حکم چلانے والا کون ہوتا ہے؟ نکل جا ورنہ کچل کررکھ دوں گی۔” چیونٹے نے یہ سنا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔ وہ سمجھ گیاکہ اس ظالم بھینس سے مزید کچھ کہنا بے کار ہوگا۔ چناںچہ وہ سرجھکا کرلوٹ آیا۔ گھر میں بہت زیادہ پانی بھر نے کے باعث خوراک کا سارا ذخیرہ تباہ ہوچکا تھا ۔ چیونٹے کے بچے خوف سے چیخیں ماررہے تھے۔ اس نے بڑی مشکل سے بچوں کوپانی سے نکالا اور باہر لے آیا پھر ایک حسرت بھری نظر اپنے گھر پر ڈال کر کسی انجانی منزل کی طرف چل دیا۔
    اب اس کے پاس کھانے کو خوراک تھی اور نہ سرچھپانے کو ٹھکانا۔ وہ سخت پریشان تھا ۔چلتے چلتے وہ ایک ٹیلے کے پیچھے جانکلا۔ اس جگہ چیونٹے کے بہت سے دوست رہتے تھے۔ انہیں جب سارا حال معلوم ہوا تو سب نے چیونٹے سے کہا:” پیارے بھائی!آپ ہمارے محسن ہیں۔ہر برے وقت میں آپ نے ہماری مدد کی ہے۔ اب قدرت نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ان احسانوں کا بدلہ اتار سکیں۔”
    یہ کہہ کر بہت سے چیونٹے مل کر ایک مکان کی تعمیر میں لگ گئے۔ وہی کام جو چیونٹاا کیلا کئی دنوں میں مکمل کرتا اب گھنٹے بھر میں ہوگیا تھا۔ ان سب نے چیونٹے کے لیے بڑاسا مکان بنادیا۔ مکان کے بعد غذا کامسئلہ حل کرنے کے لیے سب چیونٹے اپنے گھروں سے تھوڑاتھوڑا اناج لے آئے ۔اب غلے کا ایک بڑا ڈھیربن گیاتھا۔ اس طرح چیونٹے کے پاس ایک آرام دہ گھر اور ڈھیر ساراغلہ جمع ہوچکاتھا۔ اس نے اپنے سب دوستوںکا شکریہ ادا کیا۔
    ایک دن چیونٹا کسی کام سے جوہڑ کی طرف جارہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہی بھینس ندی کے باہر کھڑی رورہی تھی اور بار بار اپنے سرکو جھٹک رہی تھی جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔ چیونٹے نے اس کو تکلیف میں دیکھا تو اسے بھینس پربڑا ترس آیا۔ وہ آگے بڑھا اور بھینس سے خیریت دریافت کی۔ بھینس سخت شرمندہ تھی۔ وہ روتے ہوئے بولی: ”بھائی چیونٹے مجھے معاف کردو۔ میں نے تم پر ظلم کیا تھا۔ اب اس کی سز ا بھگت رہی ہوں۔ ”چیونٹا بے چینی سے بولا :”مگر تمہیں کیا تکلیف ہے؟”
    ”میں صبح بھوسا کھارہی تھی کہ ایک چھوٹا سا تنکا اڑ کر میری آنکھ میں چلاگیا۔ تب سے میری آنکھ میں تکلیف ہے۔ مجھے کسی پل چین نہیں آرہا۔ تنکا کسی بھی طرح نکل نہیں رہا۔” بھینس نے بتایا ۔
    ”میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں۔ تم اپنا سرزمین پر رکھو۔” چیونٹا نے کہا۔
    بھینس نے جھٹ اپنا سرزمین پر رکھ دیا۔ اب چیونٹا اس پر چڑھ گیااور آنکھ کے قریب جاکر تھوڑی دیر میں وہ تنکا باہر نکال لایا ۔ تنکا نکلنے سے بھینس کو بے حد سکون ملااور اس کی آنکھوں میںندامت کے آنسو اُمڈ آئے ۔اس نے شکریہ ادا کیااوربولی:”چیونٹے میاں! میں نے تم پر ظلم کیا لیکن اس کے باوجود تم نے مجھ پر احسان کیا، آخر کیوں؟”
    چیونٹا بولا: ”سنو بہن اگر تمہاری بدی کرنے پر میںبھی بدی سے جواب دیتا تو تم میں اور مجھ میں کیا فرق رہ جاتا ۔اس طرح تو دنیا سے نیکی ہی مٹ جائے ۔ویسے بھی اگر تمہیں اُس خوشی کا احساس ہو جائے جو بھلائی کر کے ملتی ہے تو تمہارے سوال کا جواب تمہیں خود مل جائے گا۔” یہ سن کر بھینس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا پھر اس نے وعدہ کیا کہ اب وہ کسی کو تنگ نہیں کرے گی اور سب کے ساتھ نیکی سے پیش آئے گی۔

  • آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    ” شکر ہے بھئی نکل آئے دکان سے۔ آج تو لگ رہا تھا کہ دم ہی گھٹ جائے گا۔ توبہ کتنا رش تھا۔”فائزہ نے اپنے ڈھیروں شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے شازیہ سے کہا۔ ”ویسے تو ہر لان کی لانچنگ پہ یہی حال ہوتا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ بھی بہت ہی آگیا ہے۔” شازیہ نے ہنس کر کہا: ” ہمیں بھی تو چین نہیں کہ تھوڑا صبرہی کر لیں۔ جس دن لان کی لانچنگ ہو بس اسی دن لینا ہے نیا سٹاک۔۔کہیں ختم ہی نہ ہو جائے” فائزہ نے ناک سکوڑتے ہوئے شازیہ کی بات کاٹی، ” ہاں بھئی بعد میں لینے کا کیا مزا جب ہر نتھو خیرے کے پاس پہنچ جائے وہ ڈیزائن ۔ تب تک تو میں ایک بار پہن کے پھینک بھی چکی ہوتی ہوں۔” دونوں اسی طرح باتیں کرتی گاڑی کے قریب پہنچ گئیں۔





    گاڑی میں بیٹھ کے فائزہ نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا: ” سب کچھ بہت اچھا مل گیا لیکن میرا سب سے فیورٹ آرٹیکل نہیں ملا ۔”
    شازیہ نے پوچھا: ”کون سا؟ ١٢۔ بی؟وہ تو سنا ہے کہ آیا ہی نہیں مارکیٹ میں گولی مارو اس کو۔ باقی شاپنگ انجوائے کرو۔”
    فائزہ کے شوہر عاصم کا شمار شہر کے معروف کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔ گھر میں دولت کی ریل پیل تھی اور فائزہ اس دولت کا بے دریغ استعمال کرتی۔ ڈیزائنر لان ہو یا برانڈڈ جوتے،ہر نیا ڈیزائن اس کی وارڈروب میں ہوتا۔ شہر کی ہر بڑی kitty پارٹی کی وہ ممبر تھی جہاں وہ اپنی دولت اور فیشن کی خوب نمائش کرتی۔ تمام بیگمات اس سے متاثر رہتیں اور اس کا بڑا زعم تھا فائزہ کو۔ اگر نہیں دبتی تھی کوئی تو وہ تھی بیگم شائستہ صدیقی۔ سیٹھ منور صدیقی کی تیسری اور چہیتی بیوی۔ فائزہ اور شائستہ کی بہت لگتی تھی اور دونوں ہر پارٹی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں رہتیں۔
    شام کی چائے پہ فائزہ عاصم کو اپنی شاپنگ کا احوال سنا رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب کی بات سُن کر فائزہ کا منہ غصے سے سُرخ ہو گیا اور پھر اس نے فون رکھ دیا۔ شوہر کے استفسار پہ بتایا کہ دکان دار نے جو آرٹیکل اُسے یہ کہہ کر نہیں دیا تھا کہ وہ لانچ ہی نہیں ہوا ، وہی آرٹیکل شائستہ سلنے بھی دی آئی ہے۔ یہ بات شازیہ اور شائستہ کے مشترکہ ٹیلر سے اُسے پتا چلی۔ فائزہ کا موڈ سخت آف ہو گیا۔ ” بڑا ہی گھٹیا آدمی ہے یہ کریم فیبرکس کا منیجر۔ کمیشن مجھ سے لیتا ہے اور نئے ڈیزائن اس شائستہ کو دیتا ہے۔ اب وہ پارٹی میں پہن کے خوب اِترائے گی۔ ”
    عاصم جھلا کے بولا:” ارے بھئی تو تم بھی لے آؤ وہی سوٹ اور تم بھی پہن لو۔۔”
    فائزہ فورا بات کاٹ کے بولی: ” لو خواہ مخواہ ۔۔ میں کیوں پہنوں اس جیسا سوٹ؟” ۔عاصم بے زار ہو کے اٹھ گیا اور بولا:”تم عورتوں کے مسائل میری تو سمجھ سے باہر ہیں خیر میں نکل رہا ہوں۔ رات کو دیر سے آؤں گا۔ ” یہ کہہ کر عاصم نکل گیا۔
    اگلے دن فائزہ کا شازیہ کے ساتھ لنچ پہ جانے کا پلان تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے اس مہینہ کی kitty پارٹی کا ذکر نکل آیا۔ شازیہ بولی:”ارے بھئی اس بار کی kitty پارٹی تو شائستہ کی ہے نا۔مسز آفندی بتا رہی تھیں کہ اسی کے گھر ہے پارٹی۔”
    شائستہ کا نام سنتے ہی فائزہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔ وہ جل کر بولی:” ہاں اسی پہ پہنے گی وہ جوڑا۔ کل وہ منیجرلے کے آیا تھا ، وہی آرٹیکل١٢۔ بی۔بڑی صفا ئیاں دے رہا تھا کہ اس نے نہیں دیا شائستہ کو وہ جوڑا اور یہ بھی کہ بڑی مشکل سے وہ ارینج کر کے لایا ہے خاص میرے لئے۔ ورنہ سارا سٹاک ڈیزائنر نے ایکسپورٹ کر دیا ہے۔ میں نے تو خوب سنائیں اور واپس کر دیا سوٹ۔ ”





    فائزہ بڑی نخوت سے ناک منہ چڑھا کے بولی:”خواہ مخوا ہ کی کارروائی ہنہ !! ”شازیہ کھانا کھاتے کھاتے رک گئی اور بولی :” ارے بیوقوف نہ بنو اور واپس منگوا ؤو ہ سوٹ۔ یہی تو شان دار موقع ملا ہے تمہیں ، شائستہ کو نیچا دکھانے کا!” فائزہ نے تذبذب سے پوچھا: ”کیا مطلب کیسا موقع؟ اس کے جیسا سوٹ پہننے میں تو میری انسلٹ ہے، اس کی نہیں۔ ”
    شازیہ نے مسکراتے ہوئے کہا :” یہی تو تم سمجھی نہیں۔ ارے یار وہ منیجر ٹھیک کہہ رہا تھا۔ یہ والے آرٹیکل کا سارا سٹاک واقعی ایکسپورٹ ہو گیا ہے۔میں نے خود پتا کیا ہے مارکیٹ سے۔۔ یا تو تم خوش قسمت ہو، جس کے لئے منیجر نے ارینج کروادیا یا پھر شائستہ نے کوئی رابطہ استعمال کرتے ہوئے ڈائریکٹ ڈیزائنر سے لیا ہے یا ہو سکتا ہے کچھ دکان دار بلیک کر کے بیچ رہے ہوں لیکن مارکیٹ میں بہرحال یہ دستیاب نہیں ، یہ بات توپکی ہے۔ اب تم وہی سوٹ لے کے سلوا ؤ اور میں یہ بات اپنے ٹیلر کے ذریعہ شائستہ کو پہنچا دوں گی اورپھر دیکھنا وہ کبھی بھی اس پارٹی میں وہ سوٹ نہیں پہنے گی بلکہ تمہارے پہننے کے بعد تو کسی اور پارٹی میں بھی نہیں پہن سکے گی اور اس کی ساری پھرتیاں بے کار جائیں گی۔ ”
    فائزہ سوچ میں پڑ گئی۔ بات کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آرہی تھی۔وہ سوچتے ہوئے بولی:” لیکن اگر شائستہ نے پھر بھی وہ سوٹ پہن لیا تو ہم دونوں ہی۔۔۔” یہ سوچ آتے ہی اس کا منہ بن گیا،”نہیں بھئی میں نہیں پہننے والی وہ۔۔” شازیہ اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے اس کی بات کاٹ کے بولی:” ارے پاگل پھر تو اور مزہ آئے گا۔ یاد نہیں چائنا ٹاؤن والے لنچ میں جب وہ تمہارے جیسا برانڈڈ بیگ لے آئی تھی اور پھر بھری محفل میں طنز کر رہی تھی کہ میں تو دوبئی شاپنگ فیسٹول سے لائی ہوں یہ بیگ۔ لوگ تو آن لائن کاپی منگوا کے یہی شو کرتے ہیں جیسے اوریجنل ہو۔۔”
    وہ بات یاد آتے ہی فائزہ کا منہ پھر سُرخ ہو گیا۔”تو بس پھر یہی موقع ہے اس کو نیچا دکھانے کا” ۔ شازیہ کی بات مکمل ہوتے ہی فائزہ کریم فیبرکس کے منیجر کو فون ملانے لگی۔
    شائستہ نے پارٹی کا انتظام شہر کی سب سے مشہور ایونٹ مینجمنٹ ٹیم سے کروایا تھا۔ اعلیٰ پائے کی کیٹرنگ کروائی تھی ۔ فائزہ اپنا پسندیدہ جوڑا پہنے گاڑی سے اُتری۔ دوسری گاڑی سے شازیہ کو اُترتا دیکھ کر بجائے سیدھا اندر جانے کے اُس کی طرف بڑھی۔ شازیہ نے فائزہ پہ ایک توصیفی نگاہ ڈالی اور پھر وہ دونوں اکٹھی گھر کے لان کی طرف بڑھیں جہاں پارٹی کا انتظام تھا۔ دوسری مہمان خواتین سے ملتے ملاتے فائزہ کی نظر بیگم شائستہ صدیقی پر پڑی تو فخر اور سرور کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔۔ جب اس نے بیگم شائستہ کو اپنے جیسے لباس کی بجائے کوئی اور لباس پہنے دیکھا۔ یہ گویا شکست کا ایک خاموش اعلان تھا۔ فائزہ نے ایک فاتحانہ نظر سے شازیہ کی طرف دیکھا جس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے اس فتح پہ گویا مبارکباد دی۔ اتنی دیر میں شائستہ دونوں کے قریب آ گئی۔ فتح کے نشے میں چور فائزہ اس سے معمول سے کہیں زیادہ تپاک سے ملی۔ دل ہی دل میں وہ سوچنے لگی کہ کیسے آج اپنے ڈریس کا بار بار ذکر چھیڑے۔ شائستہ نے دونوں کو بٹھایا اور کہا : ” بہت دیر سے آئی ہیں آپ دونوں۔ اتنی دیر لگا دی تیاری میں؟” فائزہ نے فخر سے اپنے لباس کی مصنوعی شکنیں دور کرتے ہوئے کہا:” بس مسز صدیقی آپ کو توپتا ہے مجھے ہر کام پرفیکشن سے کرنے کی عادت ہے ، پھر وہ چاہے کسی پارٹی کی تیاری ہو یا اپنی، میں کوالٹی پہ کمپرومائز نہیں کرتی۔ ”
    ”جی جی بالکل، اچھا باتیں تو ہوتی رہیں گی میں آپ کے لئے جوس منگواتی ہوں۔” شائستہ نے پاس کھڑے ویٹر کو کچھ اشارہ کیا اور معنی خیز مسکراہٹ لئے فائزہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اچانک کہیں سے شائستہ کے گھر کی ملازمہ ہاتھ میں جوس کی ٹرے لئے برآمد ہوئی اور فائزہ کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔ شائستہ نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ فائزہ سے کہا:” کیا ہوا مسز عاصم۔ جوس لیجئے نا” اور فائزہ کے چہرے پہ ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا کیوںکہ سامنے کھڑی ملازمہ نے وہی سوٹ پہن رکھا تھا جو فائزہ نے پہنا ہوا تھا۔ اس کا پسندیدہ ترین آرٹیکل۔ ١٢ بی۔




  • پچیس ہزار – حمیرا نوشین

    ڈھولک کی تھاپ اس کے دِل کی دھڑکنوں کی رفتار میں اضافے کا باعث بن رہی تھی، مسکراہٹ پورے استحقاق سے اس کے لبوں کی مکین بن گئی۔ خوش آئند خیالوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ فرینڈز اور کزنز ”حسنین” کا نام لیکر اسے گدگدا رہی تھیں، آج مہندی کی رسم تھی اور کل بارات آنی تھی۔ آج اس گھر میں وہ ناکتخدا اپنی آخری رات بسر کر رہی تھی۔صبح وہ ملیحہ افتخار سے ملیحہ حسنین کے نام سے پہچانی جائے گی۔ حسنین کا نام اس کے دل میں ہلچل مچانے لگا۔ غیرخاندان میں شادی کا خوف بھی آنکھوں میں ہلکورے لے رہا تھا مگر دوسرے ہی پل اسے جھٹک کر سہانے خواب اس کی پلکوں پر بسیرا کرنے لگے اور وہ ان خوبصورت وادیوں کی سیر کرنے لگی۔
    ٭…٭…٭





    ”پچیس ہزار سے ایک روپیہ کم نہیں ہوگا۔”
    ”یہ لو پچیس اور یہ ہزار روپیہ تھامو آپکے پچیس ہزارکا مطالبہ مان لیا گیا ہے۔” دولہا کے بھائی نے نوٹ آگے بڑھائے۔
    ”ارے واہ! ہمیں کیا بے وقوف سمجھا ہوا ہے؟ ہزار ہزار کے پچیس نوٹ ہمارے خوبصورت ہاتھوں میں تھمائیے۔” دلہن کی کزن اترائی۔
    ”میڈم رہتی پاکستان میں ہیں اور دودھ کی قیمت ڈالرز میں وصول کررہی ہیں۔” دوست دودھ کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا۔
    ”دلہن بھی تو اتنی قیمتی لے جارہے ہیں۔ تو ذرا دودھ پلائی بھی شایانِ شان ہونی چاہئے۔”
    ”یہ لیں پانچ ہزار پکڑیں اور عیش کریں” دولہا کے بہنوئی نے ہرے ہرے پانچ نوٹ لہرائے۔
    ”پانچ ہزار واپس اپنی جیب میں ڈالیں، پندرہ سالیوں میں یہ نوٹ اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات ہوگی۔”
    ”اونٹ نہیں خوبصورت اونٹنی کے منہ میں زیرہ۔” منچلے دوست نے فقرہ کسا۔ ”باتیں نہ بنائیے، نوٹ نکالیے” خوبصورت حنائی ہتھیلی سامنے ہوئی۔
    ”یہ لو ایک اور نوٹ کا اضافہ کردیا آپ کے حسین اور نازک ہاتھ دیکھ کر” وہ رومانٹک ہوا۔
    ”ان خوبصورت ہاتھوں کی قیمت آپ دے ہی نہیں سکتے۔”
    ”ارے آپ ہمارے ہاتھوں میں تھمائیں تو سہی ہم بدلے میں دل و جان آپ پر فدا کردیں گے۔” بے باک دوست نے ہاتھ ہی پکڑ لیا۔
    ”فی الحال تو ہمارا مطالبہ پورا کر دیجئے، دل و جان لینے کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔” وہ ہاتھ کھینچ کر دل ربائی سے مسکرائی۔
    لوگوں کا اشتیاق بڑھنے لگا۔ اس نوک جھونک کا مزہ لینے اسٹیج پر سب ہی چڑھ آئے۔ مووی والا لڑکیوں کے تھوڑا اور قریب ہوکر مووی بنانے لگا۔ لڑکے لڑکیوں کا باہم اختلاط کوئی اور ہی رنگ بکھیرنے لگا۔ لڑکیوں کے چہرے پرُ شوق نگاہوں کی تپش سے دہکے جارہے تھے اور لڑکوں کے دل قابو میں ہی نہیں رہے تھے۔ اچھے خاصے شریف گھرانوں کی لڑکیاں بن سنور کر دوپٹوں سے بے نیاز دولہا کے دوستوں اور رشتہ داروں کے سامنے کھڑی ان کے ایمان متزلزل کررہی تھیں۔ نوجوان تو ایک طرف جوان بچوں کے باپ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔
    ”بھئی جلدی کرو دیر ہورہی ہے۔” دولہا کی ماں کی کہیں سے آواز ابھری۔
    ”آنٹی جان آپ کے کنجوس بیٹے جیب ہی ڈھیلی نہیں کررہے، ہم تو کب کا چھوڑ دیتے انہیں۔”
    ”ارے بھئی فارغ کرو ان کو دے دلا کر” لہجے میں ناگواری جھلکنے لگی۔
    ”ہاں تو ہم نے کون سا ان کو پلو سے باندھ رکھا ہے؟ پیسے دے کر گھر کو سدھاریں۔” دوسری طرف سے جوابی حملہ ہوا۔
    ”لو بھئی نہ تمہاری نہ ہماری، یہ دس ہزار پکڑو۔” بہنوئی دولہا کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگا۔
    ”نہ… نہ… نہ اتنا سستا نہیں چھوڑیں گے۔ دولہا بھائی، کماؤ بیوی دے رہے ہیں۔ پچیس ہزار مہنگا سودا نہیں ہے۔ ایک تنخواہ میں ہی حساب پورا ہو جائے گا۔” سالی نخرے سے بولی۔
    ”کمائے گی تو کیا ہمیں کھلائے گی؟ اپنے ہی اوپر خرچ کرے گی ۔”دولہا کی بہنوں کے لہجے اکھڑنے لگے۔
    ”تیور نہ دکھائیں پچیس ہزار کے نوٹ دکھائیں۔”





    ”کیا زندگی میں کبھی پیسے ہی نہیں دیکھے؟”
    ”ہم نے تو بہت دیکھے ہیں لگتا ہے آپ کنگلے خالی جیبیں لے کر آگئے۔ دلہن لینے آئے تھے تو کچھ نوٹوں کو بھی ساتھ لے آتے۔” سیر کو سوا سیر مل رہا تھا۔
    ”کیوں؟ کیا بیٹی بیچنی ہے تم لوگوں نے؟” اچانک دولہا کی ماں کے تیور بدل گئے۔
    ”ارے ہمیں کیا پتا تھا کہ یہ بیٹی کی بولی لگائیں گے۔ اتنی سستی بیٹی بیچیں گے۔ صفدر نکال پچاس ہزار روپے، ہم ڈبل میں خرید لیں گے۔”
    بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔
    دولہا دلہن کے بھائی اور والدین کے درمیان اسی بات پر تلخ کلامی بڑھنے لگی۔ لڑکیاں سٹیج سے نیچے اتر آئیں۔
    ”ایک رسم پر ہی تو بچیوں نے کچھ پیسے کیا مانگ لئے آپ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔” والد جوش میں آگئے۔
    ”ہاں تو رسم کو رسم ہی رہنے دیں کمائی کا ذریعہ تو نہ بنائیں۔” دولہا کے والد کا بھی تابڑ توڑ جواب آیا۔ لڑکی کے باپ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”اپنی کماؤ بچی کو اپنے پاس ہی رکھیں۔ ارے ابھی سے ان لوگوں کا یہ حال ہے کل کو میرے بچے کو لوٹ کے کھا جائیں گے یہ تو۔” ماں کو مستقبل کی فکر ستانے لگی۔
    ”ہمیں بھی اپنی بہن بھاری نہیں ہے، آپ جیسے کنگلوں کے حوالے کرنے سے تو بہتر ہے کہ اس کو ساری عمر گھر پر بٹھائے رکھیں۔” بھائی غصے سے بپھرنے لگے۔
    ”ہاں تو بٹھاؤ شوق سے اپنے گھر، چل حسنین دے طلاق۔” خوشیوں کی فضا مکدر ہوگئی۔
    اس صورتِ حال پر دولہا دم سادھے کھڑا تھا۔
    ”تو پھر دیر کس بات کی ہے؟ فارغ کرو ہماری بچی کو، رشتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اس کے لیے’۔’ پھوپھا نے بھی حصہ ڈالا، پرانی رنجش کا بدلہ لینے کا یہ صحیح موقع تھا۔
    ”ہاں… ہاں ایسے فقٹوں میں رشتہ داری ہمیں قبول نہیں۔” دو تین اور بیچ میں کود پڑے۔
    ”میں کہتا ہوں اس قصے کو ابھی نمٹا دے۔” باپ بیٹے کی خاموشی سے جھنجھلایا۔
    مگر… ابا!
    ”میں کہہ رہا ہوں جلدی سے تین الفاظ کہہ دے۔ نہیں تو ساری عمر معاف نہیں کروں گا۔”
    اب… با… وہ…
    ”دے طلاق” باپ دھاڑا۔
    ”اماں میں کیسے…؟” وہ مخمصے میں پڑ گیا۔
    ”جیسے قبول ہے کے لفظ ادا کئے تھے، اسی طرح بھرے مجمع میں ان کی بیٹی کو تین الفاظ کہہ کر فارغ کر ورنہ دودھ نہیں بخشوں گی تجھے۔”
    سب کو سانپ سونگھ گیا۔
    اور دولہا نے تین قبیح الفاظ کہہ کر فرماں برداری کا ثبوت دے دیا۔
    بارات خالی واپس چلی گئی۔ بیٹی کی ماں غش کھا کر گر پڑی۔ باپ کے کندھے جھک گئے۔
    بھائی منہ چھپا کر کمروں میں جادبکے۔
    لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے اور اندر کمرے میں سجی سنوری دلہن چند گھنٹوں میں ہی باپ کی دہلیز پر بیاہتا سے مطلقہ ہوگئی۔ محض ایک رسم کے ہاتھوں، خوابوں کا محل چکنا چور ہوگیا۔ لبوں پر مسکراہٹ کی جگہ اداسی نے قبضہ جمالیا۔
    سرخ ہتھیلی خون بن کر رلانے لگی، اس کی خوشیوں کو معاشرے کی ایک رسم نے نگل لیا تھا۔

    ٭…٭…٭




  • اگلا سفر – مریم مرتضیٰ

    آج وہ بابا جی ساتھ والے گھر میں آئے ہیں۔وہ دو ماہ پہلے سامنے والے گھر میں آئے تھے اور ان آنٹی کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئے تھے،آنٹی بہت روئی تھیں چلائی تھیں مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی تھی۔ انہوں نے کہا تھا اس کا دانہ پانی یہاں سے اٹھ چکا ہے۔اس دن بین ڈالے گئے تھے،سر پیٹے گئے تھے،ہمارے گھر میں سوگ کا سماں تھا ۔میں نے تو دو دن تک کھانا نہیںکھایا تھا ۔
    میںجب سامنے والے گھر میں گئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا۔
    ” آپ انہیں کہاں لے کر جا رہے ہیں۔؟”
    ” اگلے سفرپر۔۔اس کا اگلا سفر میرے ساتھ ہے۔” انہوںنے کہا۔وہ بہت خوف ناک تھے۔میرے تو الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے۔
    ”کیا ہر کسی کا اگلا سفر ہے؟” میں نے پوچھا۔
    ”ہاں۔۔” ان کی ہاں میں کتنی گہرائی اور سچائی تھی۔
    ” کیا آپ سب کو لے جائیںگے؟” میں نے بے ساختہ پوچھا۔
    ” ہاں! مگر وقت پر۔۔۔” وہ اسی یقینی انداز میں بولے۔
    ” ہر کسی کا وقت مقرر ہے؟” میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور کپکپی سے میرا بدن لرز اٹھا۔
    ”ہاں!”
    ”کیا میرا بھی وقت مقرر ہے؟” میں نے توقف کے بعد پوچھا۔
    ”ہاں!”
    میرا وجود ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔





    ” آپ کوئی مشورہ دے دیں۔” میرے حلق سے الفاظ رک رک کر نکلے تھے۔
    ” میرے ساتھ تمہیں بھی ہر صورت جانا ہو گا مگر اپنے وقت پر۔۔وہ وقت تم کبھی بدل نہیں سکتی ہو۔ لیکن اگر راحت حاصل کرنا چاہتی ہو میرے ساتھ چل کر تو ساتھ اپنے وہ لانا جو تمہارا زیور ہے۔” انہوں نے کہا اور چلے گئے۔
    مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں کئی دنوں تک خوف میں مبتلا رہی۔ کئی کئی گھنٹے تنہائی میں بیٹھ کر زیور اکٹھے کرنے لگی۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ وقت بدل گیا اور میرا زیورات سے دل اٹھ گیا۔ میں جینے لگی پھر سے اسی طرح عیش و عشرت میں، امنگوں ترنگوں میں مجھے خیال ہی نہ رہا تھا۔ پھر ایک دن میں اکیلی بیٹھی تھی تو سب کہنے لگے چپ ہو جاؤ بابا جی کسی کو لینے آگئے ہیں کیوں کہ مسجد سے بار بار آوازیں آرہی تھیں کہ بابا جی فلاں آدمی کو لینے آئے ہیں۔ کچھ دیر مجھ پر بھی کپکپی طاری ہوئی اور میں پھر سے کا م میں مصروف ہو گئی۔ مجھے خیال ہی نہ رہا انہوں نے مجھے بھی لے جانا ہے۔ میں نے سوچا ہی نہیں۔ دنیا کی خواہشات کی دلدل میں دھنستی ہی چلی جا تی رہی ،نفس کی غلامی سے مجھے چین ملنے لگا تھا، اس نے مجھے اپنا کتا بنا لیا تھا۔ میں نفس کے پاؤں دن رات چاٹتی رہی۔ انسان جتنا امیر ہو گا اتنا ہی زیادہ گرا ہوا اور نفس کا غلام ہو گا۔میں بھی وہی کرتی رہی جو نفس کہتا رہا۔وہ کہتا چلو میں چل پڑتی، وہ کہتا رکو میں رک جاتی،وہ کہتا بیٹھو میں بیٹھ جاتی حتیٰ کہ میں کھانا بھی نفس کی مرضی سے کھاتی نہیں تو بھوکی رہتی۔
    خوابوں اورخواہشوں کے دور میں بابا جی کا خیال کبھی بھول کر بھی نہیںآیا کیوں کہ خواہش کے مطابق شے مل رہی ہو پھر ڈراؤنی چیزوں کو کیا سوچنا؟ چاہے وہ حقیقی کیوں نہ ہوں۔
    آج صبح سویرے جب میں سو رہی تھی تو مجھے رونے پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں بھاگی بھاگی باہر نکلی، جانے کیا ہو گیا تھا؟ پوچھنے پر پتا چلا ساتھ والے گھر وہی بابا جی آئے ہیں،ان کی جوان بیٹی کو لے جا رہے ہیں۔ گھر والے منتیں ترلے کرتے رہ گئے کہ ابھی اس کی عمر کیا ہے مگر بابا جی نے کہا کہ وقت طے ہو تو عمریں نہیں دیکھی جاتیں۔ بابا جی اسے لے گئے، معلوم نہیں وہ اپنے ساتھ زیور لے کر گئی بھی یا نہیں؟
    زیورات نہ ہوئے اس کے پاس تو بابا جی اسے بہت اذیت میں رکھیں گے۔شام ہوگئی، وہ چلی گئی، رونے کی آوازیں آہستہ آہستہ دھیمی ہو گئی ہیں۔ یہ آوازیں کیوں دھیمی پڑ گئی ہیں؟ چند دنوں بعد یہ آوازیں قہقہوں میں بدل جائیں گی۔ اسے بھول جائیں گے سب۔ وہ سامنے والے گھر میں جب بابا جی آئے تھے تو وہاں لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے، سروں میں مٹی ڈال رہے تھے۔ مگر اب ہنسی ہے، قہقہے ہیں خوشیاں ہیں ۔ جسے جانا تھا وہ چلا گیا اب اسے کون یاد رکھتا ہے۔بے وفائی کہوں یا فطرت کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ خوف طاری ہو رہا ہے، ایسے لگ رہا ہے کہ وہ آ رہے ہیں، مجھے ان کی چاپ سنائی دے رہی ہے،آواز بھی آنے لگی ہے۔میرے پاس زیورات بھی نہیں ہیں میں تو خالی ہاتھ ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا کیا ہو گا؟ وہ آرہے ہیں۔ میری جب ان سے ملاقات ہو ئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا کون سے زیورات پاس ہوں، تو انہوں نے کہا تھا۔
    ”اطاعتِ اللہ و رسول۔”

    ٭…٭…٭




  • دیارِ خلیل – فرحین خالد

    عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں مگر ان کو ”گھر ” بنانے کے لیے مزید قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔گھر کے مکینوں کی اطراف میں کھنچی ان کی محافظ کہیے یا رکاوٹ، ایک دیوار بھی حائل رہتی ہے جس کو مزّین اور آراستہ تو خوب کیا جاتا ہے مگر اس کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاتا ۔آیئے آج ایک ایسی ہی دیوار سے اس کی بپتا سنتے ہیں۔





    مجھ سے ملئے …میں، دیارِ خلیل میں کھڑی ایک ساکت دیوار ہوں جو خود کو اس گھر کا اہم جز سمجھتی ہے ۔میں ہوں تو پتھر جیسی مگر دل میرا ، آپ ہی کی طرح نرم ہے۔ یہ بات سن کے آپ کو حیرت ہوئی ؟ کیوں..؟ جب آپ یہ مانتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، جب آپ یہ مانتے ہیں کہ روز جزا ہر ہر پتھر گواہی دے گا تو یہ ماننے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ میرا ایک دل بھی ہے جو اپنے مکینوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہاں ، مجھے ان سے سچی محبت ہے ۔ جب یہاں حزن بسیرا کرتا ہے تو میرا گریہ نہیں رکتا اور جب یہاں شادیانے بجتے ہیں تو میں ان کے قہقہوں کی گونج ہوتی ہوں۔میں جب تک اپنے مکینوں کو نہیں اپناتی ان کی اجنبیت دور نہیں ہوتی ۔
    پچھلے دنوں جب مجھ پہ روغن ہوا تو یہ اندازہ ہوا کہ میرا پھر سے سودا ہوگیا ہے… سوچتی ہوں کہ یہ کیسے سپنوں کے بیوپاری ہیں کہ جب اتنے چاؤ سے میری ایک ایک اینٹ میں خلوص و وفا کا گارا لگا کر مجھے بلندکرتے ہیں تو آخر مجھے بیچ کیوں جاتے ہیں ؟ میں، اپنے خمیر میں گندھی خصلتوں سے مجبور… اپنے ہر ایک باسی سے پیماں نبھاتی ہوں۔بہرحال آج میں خوش ہوں کہ میری ویرانی دور ہو رہی ہے ۔





    صبح سے چہل پہل تھی۔میں اپنی مقابل دیوار پہ بنتے ہیولے دیکھ رہی تھی۔ کچھ اندیشے تھے ، جو بڑھ رہے تھے کچھ آرزوئیں تھیںجو زور پکڑ رہیں تھیںکیوںکہ مزدور قطار در قطار سامان اٹھائے اندر چلے آ رہے تھے۔مجھے بھی اپنے مکینوں کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا کہ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے ؟ اللہ کرے کہ بچوں والے ہوں، مجھے ننھے بچوں کی گونجتی کلکاریاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ پہیے جیسی گول گول چیز بھی ہوا میں لہرائی ہے۔ضرور گھر کے کسی بزرگ کی سائیکل ہوگی جو صبح ہی صبح پارک لے کر جائیں گے اور واپسی میں سودا لیتے ہوئے گھر آئیں گے ۔آوازیں تو آ رہی ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہا کس زبان میں بول رہے ہیں۔مجھے ایک لمحے کے لیے فکر ہوئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی مگر دوسرے ہی لمحے میںنے تہیہ کر لیا کہ کوئی بات نہیں میں سیکھ لوں گی اسی ٹی وی لاؤنج میں تو بیٹھیں گے سارا دن یہ لوگ۔
    اب سائے ڈھل گئے تھے اور آوازیں بھی مدھم ہو گئیں تھیں۔ مجھے ابھی تک کسی کی جھلک نہیں دکھائی دی تھی۔ اچانک گھٹنوں گھٹنوں رینگتا ہوا ایک بچہ دکھائی دیا۔میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ خدا نے میری سن لی ہے ۔میری ممتا اس بچے کو اپنی نگاہ میں بھرنے کی مشتاق تھی۔ اچانک ایک سایہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں نمودار ہوا اور اس نے آواز لگائی ….
    ” بیبو ..بیبو..ارے وہاں کہاں چلی گئیں ؟”
    میںنے سوچا، بڑے فلمی لوگ ہیں!کیسا نام رکھا ہے منے بچے کا؟ مگر جیسے ہی روشنی کا جھماکا ہوا میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اتنے دن ہو گئے تھے اندھیرے میں رہتے ہوئے۔ غور کیا تو نگاہوں پہ یقین نہیں آیا۔ زمین پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی سفید ریشمی بالوں والے بچے کو سہلا رہی تھیں۔ مجھے پانچ دن لگ گئے یہ یقین کرنے میں کہ یہ کوئی بچہ نہیں ایک پالتو بلی ہے، جو بڑی بی کی بے حد لاڈلی ہے۔ اگر وہ میاؤں میاؤں کی آواز نہ نکالتی تو میری ساتھی دیواریں مجھے اندھا کہہ کے ٹال دیتیں ۔
    یہ تین لوگوں کی ایک چھوٹی سی فیملی ہے۔ سونیا گھر کی بہو ہے ،سمیر اس گھر کا واحد مرد اور تابع دار بیٹا ہے ، ایک بیوہ بوڑھی ماں اور ان کی ایرانی نسل کی خوبصورت بلی… بیبو۔ ممی جی اور سمیر کی تو اس میں جان اٹکی رہتی ہے۔ اس کی ایک ایک ادا کو محبت سے دیکھتے ہیں اور ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ اسے جب بھی موقع ملتا، سونیا اور سمیر کے بیچ میں آ کے پسر جاتی ۔سونیا کی تو جان ہی جل جاتی تھی ۔ جتنا وہ بیبو سے الرجک تھی اتنا ہی بیبو اس کی التفات کی منتظر رہتی۔ در اصل سونیا گھر میں جانور رکھنے کی قائل نہیں تھی اور دوسرے اس کو سمیر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ مقابلہ منظور نہیں تھا، گویا ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ روز کا ایک ہی ٹنٹا تھا ، بیبو چیزیں لڑھکاتی ، گند مچاتی ، صبح صبح شور کر کے ان کو جگاتی ، فرنیچر خراب کرتی، ہر چیز میں مخل ہوتی مگر سمیر کو سب ”کیوٹ ”لگتا اور ممی جی ، وہ تو ا س کی ہر ہر ادا کو دس دس بار دہراتے نہ تھکتیں۔ سونیا پیج و تاب کھا کے رہ جاتی۔ میں یہ سلسلہ بہ غور دیکھ رہی تھی اور ان ماں بیٹے کے اس لگاؤ کی وجہ سمجھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا جو ان کا دل لبھاتا یا دھیان بٹاتا … مگر سونیا کو کون سمجھاتا اس کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ گھر آباد ہونے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے ۔





    سونیا نے بارہا اور برملا سمیر سے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا مگر وہ ماں کی طرف دیکھتا تو مجبور ہو جاتا کیوںکہ ان کو اپنی بلی سے ایک لمحے کی دوری گوارا نہ تھی ۔دراصل وہ ان کی بارہ سالہ پرانی رفیقہ تھی، جس نے ان کی زندگی میں موجود خلا کو پُر کیا تھا اور اب وہ اس کی اتنی عادی تھیں کہ اس کو اپنا جزو لاینفک سمجھتی تھیں۔سمیر مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ماں کو خوش کرتا تو بیوی ناراض ، بیوی کو خوش کرنے کا مطلب تھا کہ ماں کی دل آزاری ۔ بادی النظر میں رب کی رضا بھی مطلوب تھی۔کرتا تو کیا کرتا ۔میں دیکھ رہی تھی کہ وہ خاموش طبیعت تھا سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ رہا ہوتا تھا ۔
    سونیا بری نہیں تھی۔مشیتِ ایزدی کے آگے مجبور تھی۔ ساس سے شکایت نہیں تھی ، بس ان کے شوق سے تھی ۔بیبو بھی تو نت نئے بہانے ڈھونڈتی تھی اس کو زچ کرنے کے ۔ایک روز جب سونیا نے اپنے کرسٹل کا سامان الماری میں لگانا شرو ع کیا تو میں نے خود دیکھا کہ بیبو صاحبہ آ کے اسی ڈبے میں براجمان ہو گئیں…سونیا کو صفائی اور سجاوٹ کا خبط تھا۔ ایک ہاتھ میں کپڑا اور دوسرے ہاتھ میں کرسٹل اٹھائے وہ جیسے ہی کچھ اور نکالنے جھکی تو بیبونے اندر سے باہر کی جانب چھلانگ لگا دی، اس اچانک حرکت سے سونیا کا توازن بگڑ گیا اور وہ دھڑام سے گر گئی … میرے منہ سے بھی چیخ نکل گئی ۔ آواز سن کے سمیر آیا تو سونیا کا پارہ اور چڑھ گیا اس نے کہا: ”تم کب اس عذاب سے میری جان چھڑاؤ گے! دیکھو ، کتنا نقصان کردیا اس نے میرا”سمیر نے کرسٹل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کہا ”کوئی بات نہیں اور آ جائے گا۔” سونیا کو اس کا اطمینان کو دیکھ کر آگ لگ گئی اس نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے چار سال ہو گئے ہیں اس بلی کو برداشت کرتے ہوئے اور اب اُسے کسی قیمت پہ بیبو کی حکمرانی منظور نہیں۔ اس بلی کی وجہ سے سونیا کو الرجی رہنے لگی تھی جو سخت تکلیف کا باعث تھی۔ جواب میں سمیر نے بس اتنا ہی کہا: ”ممی کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔” اس نے پیار سے بیبو کو گود میں بھرا اور باہر لے گیا۔سونیا نے اپنے گرد بکھرے کرسٹل کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا ۔مجھے پتا تھا ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں وہ اپنا دل اور مان دیکھ رہی تھی، جو سمیر نے نہیں رکھا تھا ۔میں سوچ رہ رہی تھی کہ کیا جانور کو انسان پر فوقیت دینا درست ہے ؟ میں تو بس وہی جانتی تھی جس کا مجھے ادراک تھا ۔ باہر کی دنیا جانے کس طرح ایسی گتھی سلجھاتی ہوگی ..؟





    بانو آپا کئی دن سے بیٹے کی گہری خاموشی اور سونیا کا اس سے الگ تھلگ رہنا دیکھ رہیں تھیں ۔ سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے رکھائی سے جواب دیا جس سے ان کا قلق بڑھ گیا۔ بیبو نے جب انہیں اُداس بیٹھا دیکھا تو پاس پڑی بال سے خوب کھیل کھیل کر دکھایا اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبی رہیں۔ ان کی آنکھوں سے جو مو تی جھڑ رہے تھے وہ اپنے دوپٹے میں سمیٹتی رہیں۔ بیبو بھی آزردہ سی ہو کے پیروں میں بیٹھ گئی ۔
    شام جب سمیر گھر آیا تو نہ بانو آپا تھیں نہ بیبو۔اس نے سونیا سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ وہ دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور مجھے اچھا لگ رہا تھا، جب وہ کبھی کبھی ایک ساتھ کسی بات پہ ہنس دیتے ۔جونہی گھنٹی بجی مجھے لگا آ گئے کوئی مہمان کباب میں ہڈی بننے ، کم ہی ہوتا تھا جب وہ دونوں اتنے پرسکون دکھائی دیتے تھے مگر اندر آنے والی کوئی اور نہیں بانو آپا تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں دو خوبصورت طائرِ محبت کی جوڑی تھی ۔ پوچھنے پہ چہک چہک کے بتانے لگیں کہ وہ اسلم بھائی کو بیبو دے آئیں ہیں، جو ان دنوں بالکل اکیلے تھے اور بدلے میں دو پنچھی لائی ہوں دیکھو تو… سمیر اور سونیا دونوں پنجرے پہ جھکے ہوئے ان کا چہچہانا اور پُھدکنا دیکھ رہے تھے ۔سونیا نے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھیں گی ان کے تو سوچ کے بولیں مشیل اور اوباما ۔ تینوں نے ایک ساتھ فلک شگاف قہقہہ لگایا اور میں بھی یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑی … ہنستے ہنستے بانو آپا کی آنکھیں چھلک پڑیں تو بہ مشکل میرے رُکے آنسو بھی رواں ہوگئے مگر آج میں نے ایک نئی بات سیکھی تھی کہ بڑا پن کیا ہوتا ہے۔بانو آپا نے گھر کی خوشیوں کی خاطر اپنی چاہت قربان کی تھی۔ گھر والوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ایسی ہی ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر وہ خوشیوں کا گہوارہ بنتا ہے ۔ خدا کرے کہ یہ گھر اور خوشیاں ان کو راس آ جائیں۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 8

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    ”لاہور لاہور ہے”
    باب8

    ہم مقررہ وقت پر استنبول سے جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ میری سیٹ ایک محرب خاتون کے ساتھ تھی جس کا نام نادیہ تھا۔ وہ سعودی عرب سے اپنے گروپ کے ساتھ سیرو تفریح کی غرض سے ترکی آئی تھی مگر کسی وجہ سے اسے جلد ہی ترکی سے سعودی عرب جانا پڑا تھا۔ وہ درمیانی عمر کی سوبر، خوش اخلاق اور بہادر خاتون تھی۔ اسے زیادہ انگلش نہیں آتی تھی۔ ہم دونوں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے اشاروں کی زبان میں بھی بات کرنی پڑی۔ میری پچھلی سیٹ پر عقیلہ آنٹی اور انکل سعید شمسی بیٹھے تھے۔ وہ اردو انگریزی ، عربی اور اشاروں کی زبان میں ہونے والی اس مکس گفتگو کو سنتے ہوئے حیران ہو رہے تھے کئی گھنٹوں کا سفر تھا، ہمسفر خاتون سے بات کرنا بھی ضروری تھا ورنہ سفر بھلا کیسے کٹتا۔ جہاز نے ٹیک آف کیا تو میں ذرا خوفزدہ ہوگئی۔ نادیہ نے مجھے تسلی دی اور کچھ جملے بولے جن کامطلب تھا کہ مسلمان کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے، اور کسی چیز سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔





    مجھے کچھ تسلی ملی۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔ نادیہ نے مجھے اپنے خاندان والوں کی تصاویر موبائل میں دکھائیں۔ وہ ترکی میں جن سیاحتی مقامات پر گئی تھی۔ ان کی تصاویر بھی دکھاتی رہی۔
    اس نے ہمیں ایک تسبیح تحفے میں دی ۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ عرب بے حد دریا دل اور سخی ہوتے ہیں۔
    ائیر ہوسٹس کھانے کی ٹرالی چلاتے ہوئے سب کو کھانا سرو کررہی تھی۔
    ہم نے رغبت سے کھانا کھایا۔
    کہ ہم کافی دیر سے سفر میں تھے۔
    اس تھوڑے سے عرصے میں نادیہ سے میری بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے موبائل نمبرز بھی لئے اور وعدہ کیا کہ اپنے گھر جاکر فون پر رابطہ کریں گے۔ دوستی عجب رشتہ ہے، بعض دفعہ آپ سالوں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں مگر دوست نہیں بن پاتے اور بعض دفعہ کسی سے دوستی ہونے میں چند لمحے ہی لگتے ہیں۔
    دوستی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں۔
    نادیہ پاکستان کو بہت پسند کرتی تھی اور پاکستانیوں سے مل کر خوش ہوتی تھی۔ بالآخر جہاز جدہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوا۔ ہم جہاز سے اترے۔ رن وے بہت وسیع تھا۔ ہم بس میں سوار ہوکر ائیرپورٹ کی عمارت تک پہنچے۔ ائیرپورٹ کا سعودی سٹاف بے حد بارعب تھا۔ وہ لوگ بلند آواز میں بارعب انداز میں انگریزی بولتے اور مسافر ذرا گھبرا جاتے اور مؤدب ہوجاتے۔ ہم ائیرپورٹ کی وسیع عمارت میں چلتے رہے، کہیں کوریڈور ، کہیں سیڑھیاں ، کہیں لفٹ ، ہم سے ہینڈ کیری سنبھالا نا جارہا تھا۔ مختلف جگہوں پر چیکنگ کرواتے رہے۔ سامان اٹھانے کے معاملے میں یوں بھی ہم اناڑی تھے۔
    اسمارا ہماری مدد کو آئی اور کئی بار ہمارا ہینڈ کیری اٹھا کر چیکنگ والی مشین میں رکھا۔ ہمیں ائیرپورٹ پر کوئی ناکوئی رحمدل اور ہمدرد انسان مل ہی جاتا تھا۔ جو خوشی خوشی سامان اٹھانے میں ہماری مدد کرتا۔ کئی بار سوچا کیا ضرورت تھی اس سوٹ کیس کو ساتھ رکھنے کی اچھا ہوتا دوسرے سامان کے ساتھ بھیج دیتے مگر خیر اب کیا ہوسکتا تھا۔ ہم نے اس تعاون کے لئے اسمارا کا شکریہ ادا کیا۔
    ”اسمارا! تمہارا بہت شکریہ،ورنہ ائیرپورٹ پر کوئی کسی کے لئے رکتا نہیں ہے اور کسی کا سامان اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ہینڈ کیری اتنا بھاری ہے کہ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا۔ اب اسے ساتھ لانابھی ضروری تھا۔”
    ہم نے ممنونیت سے کہا۔
    کو”ئی بات نہیں ۔اتنا تو ہم ایک دوسرے کے لئے کر ہی سکتے ہیں”وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
    ”ترکی کے سفر میں ہم ساتھ رہے مگر ہمیں آج تمہاری خوبیوں اور اچھائیوں کا اندازہ ہوا ہے نیک اور رحمدل لڑکی خو ش رہو۔”
    ہم نے دلی جذبات کا اظہار کیا۔
    وہ ہنس دی۔
    جن لوگوں نے عمر ے کے لئے جانا تھا ۔ وہ عمرہ کرنے چلے گئے۔ ہم وسیع و عریض ہال میں آگئے۔ جہاں بہت رش تھا۔ مسافر کرسیوں پر بیٹھے تھے اور اپنی فلائٹ کا انتظار کررہے تھے صد شکر کہ ہمیں بیٹھنے کے لئے کرسیاں مل گئیں۔ رات کا وقت تھا۔ میں نے ساتھ والی کرسی پر ہینڈ کیری رکھ دیا اور اسے تکیہ بنالیا اور دو کرسیوں پر لیٹ گئی۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلیا جائے۔
    اسمارا سے کہا کہ وہ بھی سوجائے۔
    ”نیند آئے گی تو سوجائوں گی۔”
    وہ اطمینان سے بولی۔
    جدہ سے لاہو رکی ہماری فلائٹ صبح تھی۔ رات ہم نے ائیرپورٹ پر ہی گزارنی تھی۔ ساری رات کرسی پر بیٹھ کر بھلا کیا کرتے، سوچاکچھ دیر آرام کرلیتے ہیں۔ ہم صبح کے انقرہ سے نکلے ہوئے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد شام کوہم استنبول پہنچے تھے۔ پھر ائیرپورٹ پر بورڈنگ اور چیکنگ میں مصروف ہوگئے۔
    وسیع و عریض ائیرپورٹ پر چلتے رہے۔ پھر کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد استنبول سے جدہ آئے۔ تھکاوٹ ہوگئی تھی۔ صبح سے سفر میں تھے، اب رات ہوگئی تھی۔ ایک نظر اِدھر اُدھر دیکھا۔ مختلف سمتوں میں ہمارے گروپ ممبرز کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔





    اسمارا ہماری ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ”تمہاری دوست رمشہ اپنی والدہ یاسمین مشتاق اور بھائی طلحہ کے ساتھ عمرہ کرنے چلی گئی ہے۔ تم اب میرے ساتھ ہی رہنا۔ پردیس میں ہم وطن بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں۔”
    میں نے اسمارا سے کہا۔
    ”جی ہاں۔ ہمارا سفر بہت اچھا گزرا۔ ہمسفر اچھے دوست بن جایا کرتے ہیں۔ اس سفر سے پہلے ہم لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے مگر اس سفر نے ہمیں محبت اپنائیت اور دوستی کے رشتے میں باندھ دیا۔ یوں تو میں BDSکی پڑھائی میں بہت مصروف رہتی ہوں۔ چھٹیوں میں ہی سیرو تفریح کے پروگرام بنتے ہیں۔ ہماری پڑھائی کی روٹین اتنی ٹف ہے کہ ہم لوگ چھٹیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ رمشہ ترکی جارہی تھی تومیں بھی اس کے ساتھ آگئی۔”
    اسمارا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔
    رات کے اس پہر بھی ائیرپورٹ کے ہال میں گہما گہمی تھی۔ دکانیں کھلی تھیں اور اسٹاف کے لوگ چاک و چوبند تھے۔ پھر میں کچھ دیر کے لئے سوگئی۔
    نیند آئی ہو اور انسان تھکا ہوا ہو تو وہ ائیرپورٹ کی کرسیوں پر بھی سوسکتا ہے۔
    صبح سویرے میری آنکھ کھلی۔ اسمارا کرسی پر سو رہی تھی۔
    میں گروپ کے باقی لوگوں کو دیکھنے کے لئے Prayer Room میں چلی آئی وہاں میری ملاقات زینب اور شہلا سے ہوئی۔ ان کے ساتھ میں نے ناشتا کیا۔ہماری فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا۔ کچھ ڈالرز پرس میں پڑے ہوئے تھے۔ سوچا کہ اب واپس جا ہی رہے ہیں تو بچے ہوئے پیسے خرچ کرلیتے ہیں ہم نے چائے اور بن خریدے اور Prayer Room میں بیٹھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا۔ بہت سے لوگ ابھی سو رہے تھے۔ پھر میں رنگ برنگی چیزوں سے سجی ڈیوٹی فری شاپ میں چلی آئی جو صرف نام کی ہی ڈیوٹی فری شاپ تھی، قیمتیں اتنی زیادہ اور بے حد مہنگی چیزیں تھیں۔
    میں نے وہاں سے کچھ شاپنگ کی اور بچوں کے لئے چاکلیٹس خریدیں اور کچھ دیر یونہی مختلف چیزیں دیکھتی رہی سوچا اس طرح وقت گزر جائے گا۔
    میں واپس آئی تو دیکھا کہ اسمارا اٹھ چکی تھی اور کرسی پر بیٹھی کافی پی رہی تھی۔
    ”اٹھ گئی ہوا ناشتا کرلو۔ وہاں سامنے سے ناشتے کے آئٹمز مل رہے ہیں۔”
    میں نے کہا۔
    ”بس میں نے کافی لے لی ہے۔ جہاز میں ناشتا کرلوں گی۔ فلائٹ میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔”
    رات میں کس ٹائم سوگئی تھی پتا ہی نہیں چلا۔ نیند آئی ہو تو انسان کرسی پر بیٹھے بیٹھے بھی سوسکتا ہے۔”
    اس نے کافی پیتے ہوئے کہا۔
    سوئے ہوئے لوگ اٹھ گئے تھے۔ کچھ ناشتے والے کائونٹر پر کھڑے تھے، کچھ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف جارہے تھے۔ ماحول میں ہلچل سی مچ گئی۔
    ہم ائیرپورٹ پر دیگر مسافروں سے بھی بات چیت کرتے رہے۔ بہت سے لوگ عمرہ کرنے انڈیا سے آتے تھے۔ انڈیا سے آئے لوگ ہمیں بہت سادہ سے لگے۔ سادہ لباس، سادہ انداز اور سادہ سامان، ان کے اردو بولنے کا انداز اور لہجہ مختلف تھا۔ کچھ لوگ Morrocco سے بھی آئے ہوئے تھے۔
    کچھ دیر بعد ہماری فلائٹ کی انائونسمنٹ ہوئی تو ہم لوگ قطار میں کھڑے ہوگئے۔
    اور قطار کی صورت میں ہی ہم باہر نکلے اور جدہ سے لاہور جانے والے جہاز پر سوار ہوگئے۔
    میرے ساتھ ایک خاتون اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔
    ان کے شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے، وہ ان سے ملنے کے لئے آئی تھیں اور اب اپنی بچی کے ساتھ واپس پاکستان جارہی تھیں۔ روزگار کی خاطر پردیس میں رہنے والے پاکستانیوں کی بھی اک الگ داستان تھی۔ سفر میں اس خاتون کے ساتھ ہم گفتگو کرتے رہے۔
    جہاز میں زیادہ تر عمرہ زائرین تھے جو عمرہ کرنے کے بعد پاکستان جارہے تھے اور بے حد خوش تھے۔ ہم بھی بے چینی سے لاہور آنے کا انتظار کررہے تھے۔ جہاز کے ائیرہوسٹس تھوڑی بہت اردو بھی سیکھ گئے تھے ، بلکہ انہیں تو پنجابی بھی آتی تھی۔ انگریزی نا سمجھنے والے لوگوں سے پنجابی میں پوچھ لیتے کہ مرغی چاہیے یا مچھلی چاہیے۔
    ہم نے جہاز میں کھانا کھایا۔ جوس پیے، اور سعودی ائیر لائنز کی سروس سے خوب متاثر ہوئے۔ تھکن کے باوجود ہم خوش تھے کہ اپنے شہر لاہور جارہے ہیں۔ ذہن میں ترکی کی خوبصورت یادیں تھیں اور دل میں اطمینان تھا۔ لاہور سے ہماری محبت مثالی تھی۔
    بلکہ مجھے لاہور شہر سے عشق تھا اور یہ محبت مجھے اپنی والدہ سے ورثے میں ملی تھی۔
    جب ابو فوج سے ریٹائر ہوئے تو انہیں ایک سال کے لئے ٹیکسلا کینٹ میں گھر ملا تھا مگر ابو نے سامان سمیٹ لیا اور لاہور آنے کی تیاری کرنے لگے۔ لوگوں نے روکا بھی کہ آپ ایک سال کے لئے اس گھر میں رہ سکتے ہیں۔ اتنی جلدی لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے، ابو بولے کہ کیا کرنا ہے یہاں رہ کر، برسوں نوکری کی وجہ سے ہم مختلف شہروں میں رہے ہیں۔ اب لاہور سیٹل ہونا چاہتے ہیں۔ پھر ابو وہاں رُکے نہیں، سامان پیک کروا لیا اور ایم ای ایس کا سامان انہیں ہینڈ اوور کردیا، جس کی رسید آج بھی ابو کے بریف کیس میں پڑی ہے۔ وہ چیزیں سنبھالنے والے آدمی تھے۔ ان کے بریف کیس میں برسوں پرانے کاغذات ، رسیدیں ، خطوط ۔ حتیٰ کہ دو روپے اور پانچ روپے کے پرانے نوٹ بھی سنبھال کررکھے ہوتے تھے۔ پھر ہم لاہور آگئے۔ امی ابو خوش تھے۔ میں شادی کے بعد راولپنڈی آگئی۔ میاںکے تبادلے کی وجہ سے میں مختلف شہروں میں رہی مگر ہر شہر میں لاہور کی رونقیں ڈھونڈتی رہی۔ ہر شہر مجھے پرایا لگتا۔ میاں کو پنڈی سے انس تھا وہ وہیں خوش رہتے۔ میں پنڈی اور اسلام آباد کے سنجیدہ لوگوں میں لاہوریوں کی خوش مزاجی تلاش کرتی۔ اس جستجو نے مجھے تھکادیا۔ کسی نئے شہر میں نئے دوست اور نیا حلقہ ٔ احباباب بنانا مشکل ہوتا ہے جب آپ کو لوگوں کے رویوں اور عادات کے متعلق بھی زیادہ علم نہ ہو۔





  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  |  باب 7

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 7

    تحریر:مدیحہ شاہد

    استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)”

    انقرہ کی روشنیاں
    باب7

    صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک جھیل پررکے جس کا نام salt lake Tuz Golu تھا۔ کہاجاتا ہے کہ وہ نمک کی جھیل تھی جس کے کنارے نمک سے بھرے ہوتے تھے۔ یہ جھیل قدرت کا شاہکار ہے۔ ہم بس سے اتر کر جھیل کنارے چلے آئے۔ جھیل کے پانی پر سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔ ہم نے کچھ وقت گزارا۔ یہ ترکی کی دوسری بڑی جھیل ہے۔ جھیل کا نظارہ بہت خوبصورت تھا۔ دور تلک پانی ہی پانی نظر آتا۔
    جھیل کے کنارے پر ذرا فاصلے پر اس جھیل کا نام Tuz Golu جعلی حروف میں لکھا ہوا تھا جس کے پاس بیٹھ کر لوگ تصویریں بنوا رہے تھے۔ جھیل کے کنارے پر چلنا دشوار تھا مگر لوگ جوش وخروش کے عالم میں دشواری کے باوجود چلتے جارہے تھے۔
    کچھ دیر جھیل پر رکنے کے بعد ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا اور انقرہ کے لئے روانہ ہوئے۔
    انقرہ ترکی کا دارالحکومت ہے اور ایک ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ اس شہر کا پرانا نام انگورہ تھا مگر 1923ء میں اسے ترکی کا دارالحکومت بناکر انقرہ کا نام دیا گیا۔ یہ استنبول کے بعد ترکی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔
    انقرہ انگوار کی کاشت اور دیسی شہد کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ انقرہ ترک دفاع اور ایروسپیس کمپنیوں کامرکز بھی ہے۔ ترکی کے دیگر علاقوں سے یہاں طلبہ و طالبات کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھی آتے ہیں۔ انقرہ کی سب سے بڑی مسجد کا نام کوکاٹیپی مسجد ہے۔ جسے عثمانی طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس شہر میں احمد حمدی ایسقی مسجد بھی موجود ہے۔ جو عثمانی حکومت میں تعمیر کی گئی تھی۔
    ینی مسجد بھی یہاں واقع ہے جسے سولہویں صدی میں معمار سنان نے تعمیر کیا تھا۔
    ابقدس انقرہ کی سب سے قدیم مسجد ہے اس میں اخروٹ کا ایک نقشہ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ مسجد 574ء عیسویں میں تعمیر کی گئی تھی۔ ایک پہاڑی پر انقرہ قلعہ بھی واقع ہے۔ انقرہ میں بہت سی تاریخی عمارات موجود ہیں۔
    انقرہ سرسبز شہر ہے اس لئے اسے گرین سٹی بھی کہاجاتا ہے۔ انقرہ میں بہت سے بازار موجود ہیں اور بہت سارے میوزیم بھی ہیں۔
    ترکی کی نیشنل پولیس اکیڈمی بھی اسی شہر میں واقع ہے۔
    ہم راستے میں ایک جگہ لنچ کے لئے رکے پھر انقرہ پہنچتے پہنچتے ہمیں سہ پہر ہوگئی۔ ہم میوزیم اور بازار میں سے کسی ایک جگہ پر ہی جاسکتے تھے۔
    سرخان نے سب سے مشورہ لینا چاہا۔
    ”آپ لوگ بازار جانا پسند کریں گے یا میوزیم؟”
    اس نے اعلانیہ انداز میں پوچھا۔
    ”بازار، بازار……..”
    سب نے یک زبان ہوکر جوش و خروش کے عالم میں باآواز جواب دیا۔
    ”پھر بازار۔۔۔”
    سرخان عاجز آگیا۔
    ”اور کتنی شاپنگ کریں گے آپ لوگ؟ سامان کا بھی خیال رکھیں، سامان زیادہ ہوگیا تو لے جانے میں مشکل ہوگی، ایئرپورٹ پر لوگ اعتراض کریں گے۔”
    سرخان نے نامحانہ انداز میں کہا۔
    ”ہم پھر بھی بازار ہی جائیں گے۔ بازار صرف شاپنگ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ رونقیں، دکانیں اور ریسٹورنٹ دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بازاروں میں رش رہتا ہے، لوگ بازار جاتے ہیں اور کچھ نہیں تو یونہی بازار کی گلیوں میں شغل لگاتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں۔ اکثر نوجوان تویونہی بازار کے قریب تھڑوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔ ہمارے ہاں بازار جانا ایک ہابی اور ایکٹیویٹی ہے۔”
    لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی۔
    سرخان کو سب کی بات مانتے ہی بنی۔
    ہم ہوٹل پہنچے جس کا نام Best Wester’n hotel Zoooتھا۔ انٹرنس پر شیشے کا بڑا سا دروازہ نصب تھا۔ ہمارا کمرہ تیسری منزل پر واقع تھا۔ ہم نے کمرے میں سامان رکھا ۔ کمرہ خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو نیچے سڑکیں اور گلیاں نظر آئیں۔ سامنے دکانیں بھی تھیں۔ حسب ِ عادت ہم نے تھوڑی سی کھڑکی کھول دی کہ تازہ ہوا آتی رہے۔ ابھی تک ہم Ceterally heatedماحول کے عادی نہ ہوئے تھے۔
    کمرے میں سامان رکھ کر ہم بازار جانے کے لئے ہوٹل کی لابی میں چلے آئے ، پھر سوچا کہ وائی فائی بھی connectکروا لیں ہم منیجر کے پاس چلے آئے جو باری باری لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکررہا تھا۔
    ”پانچ منٹ انتظار کرلیں، سیکورٹی کی وجہ سے ہر فلور کا پاس ورڈ مختلف ہے اور یہاں انٹرنیٹ connectکرنے کا طریقہ بھی مختلف ہے۔ تسلی رکھیے میں آپ سب لوگوں کے موبائل پر وائی فائی connectکردوں گا۔ بس تھوڑا سا انتظار کرلیں۔”
    کائونٹر پر کھڑے سوٹڈ بوٹڈ منیجر نے پروفیشنل انداز میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ وہ انگلش سمجھتا اور بولتا تھا۔
    وہ سفید رنگت اور بھورے بالوں والا دبلا پتلا خوش اخلاق نوجوان تھا۔ جو اردو ناسمجھتے ہوئے بھی اشتیاق بھرے انداز میں پاکستانیوں کو اردومیں بات کرتے ہوئے بغور دیکھ رہا تھا اور ان کے تاثرات دیکھ کر ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی کررہا تھا۔
    وہ ایک ذہین شخص تھا۔ اسے معلوم ہوگا کیا ہم لوگوں کو انٹرنیٹ connect کرنے کی اور پھر بازار جانے کی جلدی ہے۔
    ”ہم چلتے ہیں یہ لوگ بعد میں آجائیں گے۔”
    ساجدہ نے میرا بازو تھام کر کہا۔
    انہیں انقرہ دیکھنے کی جلدی تھی اور اب وہ ہوٹل میں رکھنے کو تیار نہ تھیں۔”
    ”چلیں آپ لوگ جائیں، ہم بھی پیچھے سے آرہے ہیں۔”یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
    ”منیجر نے یہ گفتگو سنتے ہوئے ہمیں انگریزی میں بازار کا راستہ اور محل و قوع سمجھانے کی کوشش کی اور کاغذ کی چِٹ پر احتیاطاً بازار کا نام بھی لکھ دیا۔
    اس نے وہ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا ہماری طرف بڑھایا جس پر Hilmi street لکھا ہوا تھا، ہم نے اس کی ذہانت پر عش عش کرتے ہوئے وہ چٹ لی اور ہوٹل کے دروازے سے باہر نکل آئے۔
    راستے میں ہم وہ کاغذ کا ٹکڑا راہ گیروں کو دکھاتے ہوئے کہ اس بازار کا راستہ بتادیں اور یوں ہم مختلف سڑکوں پر چلتے ہوئے بالآخر ہلمی اسٹریٹ کے بازار پہنچ گئے۔
    انقرہ ایک ماڈرن شہر ہے، یہاں سڑک کے کنارے سٹی منزلوں والے اپارٹمنٹس تھے جن کے سامنے پھولوں کے گملے رکھے تھے۔ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہ ترکی کا اہما ور ترقی یافتہ شہر ہے۔ یہاں جدید طرز تعمیر والی عمارتیں اور اپارٹمنٹس واقع ہیں۔ یہاں کی رونقیں میں گہما گہمی ہے۔ یہاں کا طرزِ زندگی ترکی کے باقی شہروں سے مختلف ہے۔
    سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھا۔ جابجا اونچی عمارتیں نظر آتیں۔ سڑکیں کشادہ اور پررونق تھیں۔ ٹریفک کا شور ماحول پر حاوی تھا۔
    ہلمی اسٹریٹ کا بازار پررونق اور وہاں کا مشہور بازار تھا۔ سڑک کے اطراف جدید طرز کی دکانیں تھیں۔ زیادہ تر دکانیں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی تھیں۔ موتی ستاروں والے کامدانی سفید رنگ کے لمبے گھیر دار فراک دکانوں میں سجے ہوئے تھے۔
    ہم نے ایک منی ایکسچینج سے کرنسی تبدیل کروائی اور کچھ دیر کے لئے سڑک کے کنارے رکھی میز کرسیوں کے قریب چلے آئے۔
    وہاں زمین پر
    لکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہے۔
    ہم لوگ کافی دیر سے پیدل چل رہے تھے اس لئے کچھ دیر کے لئے کرسی پر بیٹھ گئے۔ قریب ہی ایک درخت بھی تھا۔ عقب میں ترکی کے روایتی عروسی ملبوسات کی دکانیں تھیں۔ شادی پر دلہنوں کے پہننے والے سفید رنگ کے خوبصورت سے فراک سجے ہوئے تھے۔ کچھ فاصلے پر کپڑوں کی دکان بھی تھی۔
    یہ انقرہ تھا۔ ترکی کا دارالحکومت جس کے بارے میں ہم بچپن سے سکول کی درسی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے، انقرہ اسلام آباد سے ملتا جلتا تھا۔ انقرہ کی اس پررونق سڑک کے کنارے بیٹھ کر گاڑیوں کو دوڑتے اور لوگوں کو اپنی دھن میں مگن چلتے پھرتے دیکھ کر ہم سوچ رہے تھے کہ بھلا ہم نے کب سوچا تھا کہ ایک دن انقرہ میں سڑک کنارے بیٹھے ہوں گے۔ ہم حیران اور خوش تھے۔ مقدر انسان کوکب کہاں لے آتا ہے، اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔
    کچھ دیر بعد ہم وہاں سے اٹھے اور بازار کی گلیوں میں چلے آئے۔
    راستے میں ہمیں مختلف جگہوں پر ہمارے گروپ کے لوگ ملتے رہے، کوئی کسی دکان سے نکلتا ہوا دکھائی دیا تو کوئی سامنے سے آتا نظر آیا، کسی کونے سے اردو بولنے کی آواز آتی تو کہیں سے پنجابی کے جملے سنائی دیتے۔
    ان دن انقرہ کے مصروف بازار میں ہر جگہ پاکستانی دکھائی دے رہے تھے۔ اردو اور پنجابی میں بولے گئے جملوں کی آوازیں ہر سمت گونج رہی تھیں۔ اس دن وہاں پاکستانیوں کا ہی راج تھا۔
    ہم نے وہاں سے شاپنگ کی اور بچوں کے کپڑے خریدے۔ بازار میں مختلف گلیاں تھیں جہاں مختلف اشیاء کی دکانیں تھیں۔
    ساجدہ ایک کونے میں کچھ سوچتے ہوئے کھڑی تھیں۔ جیسے کوئی فیصلہ نا کر پارہی ہوں۔ ہم نے اس کا سبب دریافت کیا۔
    ”کیا ہوا؟ لوگ شاپنگ میں مصروف ہیں اور آپ یہاں کھڑی کیا سوچ رہی ہیں؟”
    انہوں نے سنجیدگی سے ہماری طرف دیکھا۔
    ”سوچ رہی ہوں کیا خریدوں! میرے بچے جوان ہیں، صرف مخصوص برانڈز کے کپڑے پہنتے ہیں، اور ہر چیز اپنی پسند سے چنتے ہیں ، سمجھ نہیں آرہی ان کے لئے کیا لوں؟”
    وہ سوچتے ہوئے بولیں اور پھر دھیرے سے چلتے ہوئے مردانہ کپڑوں کی اک دکان پر چلی گئیں۔ میں بھی میک اپ سے سجی اک دکان پر چلی آئی جہاں سیل لگی تھی۔ ریک پر میک اپ کا سامان سجا تھا۔ہم نے وہاں سے میک اپ کا سامان خریدااور ہم مختلف رنگوں کی نیل پالش دیکھ رہے تھے کہ وہاں یسریٰ چلی آئی۔
    ”آپ یہاں ہیں؟ واہ بڑی شاپنگ ہورہی ہے؟”
    وہ خوشدلی سے بولی۔
    ”سیل لگی ہے، شاپنگ کر لو میک اپ کی بہت اچھی ورائٹی ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔
    ”کتنی شاپنگ کرنی ہے۔ واقعی یہ دکان تو بہت اچھی ہے۔ بڑی ورائٹی ہے یہاں تو۔”
    اس نے ستائشی انداز میں کہا۔
    دکاندار خاتون یہ گفتگو سنتے ہوئے مختلف چیزیں دکھانے لگی۔ یہاں دکانیں خواتین بھی چلاتی تھیں۔ اور کسی خاتون کا دکان پر بیٹھنا اک نارمل سی بات تھی۔ یہاں بہت سی خواتین اس پروفیشن سے منسلک تھیں۔
    ”یسریٰ تم یہاں ہو۔”
    اچانک رضیہ پھپھو کی آواز آئی۔
    ”تم کہاں چلی گئی تھی، میں نے ہر جگہ دیکھ لیا، مجھے بتا کر تو آتی، میں پریشان ہوگئی تھی، اجنبی دیس ہے۔”
    رضیہ آنٹی نے پریشانی سے کہا۔
    ”میں کچھ دیر کے لئے یہاں چلی آئی، سوچا قریب ہی دکان ہے، میک اپ دیکھ رہی تھی۔”
    اس نے تاویل پیش کی۔
    ”یہ کون ہیں؟”

    دکاندار خاتون نے پوچھا۔
    ”یہ میری پھپھو ہیں۔”
    یسریٰ نے جواباً کہا۔
    دکاندار خاتون حیرت سے دیکھتے ہوئے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
    یسریٰ اور پھپھو دکان سے چلی گئیں۔
    میں شاپنگ کرنے کے بعد باہر آئی۔
    اور کچھ دور چلنے کے بعد مجھے سڑک کے کنارے ایک جیولری شاپ نظر آئی، میں شاپ میں چلی آئی جہاں رفعت آنٹی بھی موجود تھیں۔
    کائونٹر پر سفید بالوں والا بوڑھا شخص بیٹھا تھا، وہ ایک بارعب دکاندار تھا۔
    ”آپ کے پاس سلطان نائٹ کی انگوٹھی ہے؟ اس پتھر کا رنگ بدلتا رہتاہے۔”
    ہم نے مدعا بیان کیا۔
    ”جی ہاں، یہ دیکھیں ، سلطان نائٹ انگوٹھیوں کے بہت سے ڈیزائن ہیں، کون سی انگوٹھی آپ پسند کریں گے؟”
    دکاندار نے ہمیں بہت سی انگوٹھیاں دکھائیں۔ ہم دلچسپی سے مختلف انگوٹھیاں دیکھنے لگے۔
    میں نے اور رفعت نے انگوٹھی خریدی۔
    ”شکرہے کہ ہمیں یہ انگوٹھی مل گئی ہمیں اس کی ہی تلاش تھی۔”
    ہم نے خوشی خوشی وہ انگوٹھی انگلی میں پہن لی اور دکان میں جلتی لائٹوں کی روشنی میں پتھر کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔
    سلطان نائٹ ایک قیمتی پتھر کا نام ہے۔ جو ترکی کے پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ اس پتھر کا رنگ روشنی کے ساتھ بدلتا ہے۔ یہ ترکی کا مشہور پتھر ہے اور ترکی آنے والے لوگ اس پتھر کی انگوٹھی ذوق و شوق سے خریدتے ہیں۔
    ہم یہ شاپنگ کرکے اس دکان سے باہر نکلے۔
    ایک دکان سے یسریٰ نے خوبصورت سا بیگ خریدا۔ اسی دکان میں زاہدہ فاروق اور ان کا بیٹا حیدر بھی چلے آئے۔ زاہدہ نے بھی بیگ خریدنا تھا۔ بہت سے لوگوں کا سامان خریداری کے باعث بڑھ گیا تھا۔ اس لئے انہیں مزید ایک بیگ کی ضرورت تھی۔
    ”کیا آپ بتائیں گی کہ یہ بیگ کتنے کا ہے؟”
    حیدر نے یسریٰ کا بیگ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    یسریٰ نے بیگ کی قیمت بتادی۔
    پھر وہ اپنی والدہ کی جانب مڑا۔
    ”امی، ایسا بیگ لے لیں، اچھا بھی ہے اور قیمت بھی مناسب ہے۔”

  • بہاولپور کی کہانی | نواب صاحب

    بہاولپور کی کہانی | نواب صاحب

    بہاولپور کی کہانی
    نواب صاحب
    زاہدہ عروج تاج

    زاہدہ عروج تاج صاحبہ ساہیوال میں پیدا ہوئیں اور آج کل بہاولپور مقیم ہیں۔ ایف اے تک روایتی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مختلف شارٹ کورسز کیے، پھر جی ایچ کیو اسلام آباد میں دفاعی تربیت کے ساتھ دیگر کورسز میں حصہ لیا۔ 1993ء سے لکھنے کا آغاز کیا۔ مختلف رسائل میں بڑوں کے لیے افسانے اور نظمیں لکھیں۔ طویل وقفے کے بعد 2004ء میں بچوں کے لیے لکھنا شروع کیا۔ سینکڑوں کہانیاں لکھ چکی ہیں۔ الدعوة اکیڈمی شعبہ بچوں کا ادب سے پاکستان کی بہترین کہانی کار کا ایوارڈ بھی اپنے نام کرچکی ہیں۔

    اس حقیقی کہانی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا، لیکن جس ریاست کی یہ کہانی ہے وہاں کے لوگ آج بھی مزے لے لے کر سناتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں ایک ریاست، جس کا نام تھا بہاول پور!
    نہایت خوش حال ریاست تھی۔ یہاں کے نواب صاحب بڑے جی دار تھے۔ وہ اپنی رعایا کا خوب خیال رکھتے۔ ان کے غم اور خوشیوں میں شریک ہوتے۔ لوگوں کی فلاح اور بہبودکے لیے ہمہ وقت تیار رہتے۔ تعلیم اور صحت کے بہتر معیار کے لیے اقدامات ان کی بہترین ترجیح تھی۔ اسی زمانے کی بات ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک ا زاد اور خود مختار اسلامی مملکت کی آواز بلند ہوئی اور پھر یہ آواز ہر سو پھیل گئی۔
    نواب صاحب کے ملکہ برطانیہ سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ایک دفعہ وہ انگلستان کی سیر کے لیے گئے۔انگلستان اس وقت بھی امیر اور ترقی یافتہ ملک تھا۔ ایک دن وہ لندن میں بون سٹریٹ پر عام شہریوں کی طرح گھوم پھر رہے تھے کہ ا ن کا گزر گاڑیوں کے ایک شو روم کے سامنے سے ہوا۔ وہ مشہور زمانہ رولز رائس گاڑیوں کا شو روم تھا۔ رولز رائس اس وقت کی سب سے مشہور اور مہنگی گاڑی تھی۔ نواب صاحب کی نظر شوروم میں موجود چمچماتی گاڑیوں پر پڑی۔ وہ اندر جانے لگے تو دروازے پر موجود گارڈ نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی۔ نواب صاحب کے اصرار پر اس نے بہ غور اُن کا حلیہ دیکھا۔ مطلب یہ تھا کہ ایک عام سے انسان کا رولز رائس کے شو روم میں کیا کام؟ بہرحال نواب صاحب کے اعتما دسے گھورنے پر وہ دروازے سے ہٹ گیا اور وہ اندر چلے گئے۔ انہوں نے گاڑیاں دیکھیں اور ایک گاڑی کا ماڈل انہیں بہت پسند آیا۔ انہوں نے سیلز مین سے اس کی قیمت پوچھی۔ وہ رولز رائس کا نیا اور جدید ماڈل تھا جو کہ سب سے مہنگا تھا۔
    ”اس گاڑ ی کی کیا قیمت ہے؟” نواب صاحب نے پوچھا، مگر سیلز مین نے انہیں ایک عام ایشیائی آدمی سمجھ کر طنزیہ نظروں سے دیکھا اور کہا: ”تم یہ گاڑی نہیں خرید سکتے کیوں کہ تمہاری حیثیت نہیں ۔” اُس کا جواب سن کر نواب صا حب طیش میں آگئے۔
    ”میری حیثیت کیا ہے، اس بات سے تمہیں غرض نہیں ہونی چاہیے۔” انہوں نے ملازم کو غصے سے کہا۔ جواب میں ملازم بولا تو کچھ نہیں، مگراس نے عجیب سا منہ بنا کر ہونٹ سکیڑتے ہوئے کندھے اُچکائے۔ نواب صاحب کو کمپنی ملازمین کے رویّے پر پہلے ہی غصہ تھا۔ اب تو وہ اوربھی سیخ پا ہو گئے اور دل ہی دل میںکمپنی کو مزہ چکھانے کا ارادہ لیے ہوٹل واپس آگئے۔ نوابی خون ساری رات کھولتا رہا اور وہ کمپنی کو مزہ چکھانے کا سوچتے اور ٹہلتے رہے۔ آخرکار اُن کے ہونٹوں پر ایک پُراسرار مسکراہٹ اُبھری اور وہ سونے کے ارادے سے بیڈ روم کی جانب بڑھ گئے۔
    اگلے روز نواب صاحب پورے شاہی پروٹوکول اور ملازمین کی فوج کے ساتھ شوروم پہنچے ۔ اس وقت شو روم میں چھے رولز رائس گاڑیاں موجود تھیں ۔نواب صاحب نے چھے کی چھے گاڑیاں خرید لیں۔ قیمت ادا کرنے کے لیے انہوں نے اپنا پاؤں میز پر رکھا اور جوتے میں سے ایک ہیرا نکال کر کمپنی کے نمائندے کو دیا۔ وہ ہیرا ان سب گاڑیوں کی قیمت سے بھی زیادہ مہنگا تھا۔ ایک روز پہلے آنے والے گاہک کو وہ معمولی ایشیائی سمجھے تھے اور آج وہ جس شان سے آیا تھا یہ دیکھ کر کمپنی کے ملازمین ہکا بکا رہ گئے اور ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔
    سب گاڑیاں لمحوں میں خرید لینے اور رقم کی ادائیگی کے انوکھے انداز پر سب حیران تھے ۔ نواب صاحب گاڑیاں خرید کر واپس آگئے ۔گو اپنی حیثیت تو انہوں نے جوتے کے ایک ہیرے سے ہی باور کروا دی تھی، مگر آپ سوچ رہے ہوں گے اس سے کمپنی کو کیا مزہ چکھایا گیا؟ کمپنی کو تو فائدہ ہو گیا۔ اب سنیے! اپنی نوعیت کا یہ دل چسپ اور انوکھا انتقام تھا جس میں بچوں جیسی معصومیت بھی ہے۔
    تو ہو اکچھ یوں کہ نواب صاحب نے گاڑیاں فوری طور پر اپنی ریاست بہاولپور بھجوائیں اور انہیں میونسپل کمیٹی کے حوالے کر دیا۔
    کمیٹی کے عہدیداروں کو حکم دیا کہ ان گاڑیوں سے شہر کی صفائی اور کوڑا کچرا اُٹھانے کا کام لیا جائے۔ ہدایت کے مطابق عہدیداروں نے گاڑیوں کے آگے بڑے بڑے جھاڑو باندھے اور صفائی کا کام شروع کردیا۔

    بہت جلد یہ خبر پوری دنیا میں پھیل گئی کہ دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے ایک نئے ملک پاکستان میں رولز رائس گاڑیاں کوڑا اٹھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس خبر کے ساتھ ہی رولز رائس گاڑی کی مارکیٹ ڈاؤن ہونے لگی۔ اب ایسی مہنگی گاڑی کون خریدنا پسند کرے اور کون اس میں بیٹھنا چاہے گا جو کچرا گاڑی کے طور پر استعمال کی جاتی ہو بلکہ ہوا یہ کہ اب رولز رائس گاڑی کا نام سنتے ہی لوگ مذاق اُڑانا شروع کر دیتے۔ جو لوگ پہلے ہی سے رولز رائس گاڑی استعما ل کر رہے تھے وہ بھی حیران و پریشان ہوکر وقتی طور پرگاڑی کا استعمال ترک کر بیٹھے کیوں کہ جدھر سے گاڑی گزرتی لوگ اشارے کر کے وہی انوکھی خبر دہراتے اور قہقہے لگاتے۔
    اس سے گاڑی کی اہمیت کم ہوئی، تو کمپنی مالک کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ فوراً کمپنی کا ایک وفد نواب صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے باضابطہ تحریری معافی مانگی اور درخواست کی کہ گاڑیوں سے یہ گندا کام لینا بند کر دیا جائے تو آپ کی نوازش ہو گی کیوں کہ آپ کے اس اقدام سے کمپنی کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔ پھر پرانی گاڑیاں لے کر انہیں چھے نئی گاڑیاں تحفے میں دیں۔
    نواب صاحب نے ان کی معذرت قبول کرتے ہوئے میونسپلٹی والوں کو حکم دیا کہ گاڑیوں کو اس کام سے ہٹا لیا جائے ۔ اس کے ساتھ انہوں نے کمپنی کے مالک کو اپنے ان اقدام کی وجہ بھی بتائی۔ نواب صاحب نے ان نئی ملنے والی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی قائد اعظم محمد علی جناح کو تحفے میں دی۔ آپ کو بتاتے چلیں ان نواب صاحب کا نام ”نواب محمد خان عباسی ”تھا ۔آج بھی بہاولپور اور چولستان میں نواب صاحب کا یہ قصہ زبانِ زد عام ہے اور لو گ اس قصے کو دہراتے ہوئے مسکرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

  • چج دوآب کی لوک کہانی | مور پنکھ

    چج دوآب کی لوک کہانی | مور پنکھ

    چج دوآب کی لوک کہانی
    مور پنکھ
    محمد ندیم اختر

    بچوں کے ادیبوں پر تحقیقی میگزین ”سہ ماہی ادبِ اطفال” کے منتظم اور مدیر جناب ندیم اختر لیہ میں پیدا ہوئے۔ دورانِ تعلیم بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے کا آغاز کیا، گزشتہ 22 سال سے ادب سے وابستہ ہیں، مختلف رسائل میں قلمی جوہر دکھائے، نمایاں خوبی یہ کہ بچوں کے ادب کی ترویج و اشاعت میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ الف نگر کے لیے یہ ان کی پہلی کاوش ہے۔

    کہتے ہیں چج دو آب میں مور پنکھ نام کا ایک بچہ رہتا تھا۔ وہ بہترین بانسری بجاتا تھا۔ اس کی بانسری سن کر لوگ سر دھنتے رہ جاتے۔ مور پنکھ اکثر اپنے ماں باپ سے چج دو آب (دریائے جہلم اور چناب کا درمیانی علاقہ) کے رہن سہن کے بارے میں پوچھتا، اس کے اماں باوا بتاتے کہ پتر تُو یہ جس سوکھے دریا کو دیکھ رہا ہے، اصل میں یہ دریائے چناب ہے، جو کبھی روانی سے بہتا تھا۔
    وہ سامنے والے درختوں کے نیچے کشتیوں کا پتن (کشتی کھڑی کرنے کی جگہ) ہوتا تھا جہاں سے ہم سب بستی والے کشتی میں بیٹھ کر دریا پار کرتے تھے۔ اس دریا میں بہار کے موسم میں مور پنکھ آیا کرتے تھے، بہت خوب صورت پرندہ تھا۔ اب تو نجانے کہاں گئے وہ ”مور پنکھ” کبھی دیکھے ہی نہیں۔
    ”بابا! یہاں مور پنکھ اب کیوں نہیں آتے؟” ایک دن ننھے مور پنکھ نے اپنے باوا سے پوچھا۔
    ”پتر! مور پنکھ پانی کی سرزمین پر اترتے ہیں، وہ یہاں دریا پر آتے تھے لیکن جب دریا خشک ہو گیا تو وہ بھی آنا بند ہوگئے۔ شہر کے لوگ جو انہیں دیکھنے آتے تھے انہوں نے بھی آنا بند کر دیا۔ ملتان کے نواب یا مظفرگڑھ کے بڑے زمیندار اور ان کے بچے اپنی بگھیوں پر کشتیوں کے پتن تک آتے، ملاح انہیں کشتیوں پر اس کنارے لاتے اور اُن کی مہمان نوازی کرتے۔ وہ سارا سارا دن یہاں رہتے، اُن کے لیے مچھلی پکتی تھی۔
    جب انہوں نے دیکھا کہ دریا میں اب اتنا پانی نہیں آتا اور نہ ہی ”مور پنکھ” آتے ہیں تو شہر کے لوگوں نے ہماری اِس بستی میں آنا چھوڑ دیا۔” باوا حشمت نے اُسے مکمل تفصیل بتائی۔
    ”چلو خیر ہے ابّا! مور پنکھ نہیں آتے تو کیا ہوا؟ میں بھی مور پنکھ ہی ہوں نا!”
    وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
    ”پتر !تمہارے دادا حضور بخش نے بڑی محنت سے ایک کشتی بنائی تھی، جب اُن کے بازوئوں میں طاقت تو کشتی کا چپو میرے حوالے کر دیا گیا۔ میں ان شہروالوں کو پتن سے یہاں لاتا تھا ، مجھے سب لوگ جانتے تھے اور مور پنکھ پرندے بھی مجھ سے مانوس تھے کیوں کہ میں راتوں کو پانی میں اتر کر ان کے لیے ”دیے”جلایاکرتا تھا ، وہ دریا سے مچھلی پکڑتے اور پانی میں تیرتے تھے پھر ایک دن ایک انگریز افسر آیا تھا، اُسے کہتے سنا کہ یہ پرندہ کہیں دور برف کی وادی سائبریا سے اُڑان بھرتا ہے اور سردیاں نکل جانے پر دوبارہ چلا جاتا ہے۔”
    ”ابّا! کیا دریا اب خشک ہی رہے گا؟” مور پنکھ کچھ پریشان ہوگیا تھا۔
    ”ربّ کرے یہ دوبارہ آباد ہو پھر مور پنکھ بھی لوٹ آئیں گے اور یہاں کی وہ پہلے والی رونق بھی۔” باواحشمت نے ایک آہ بھر کر کہا۔
    ”ابّا! آپ نے میرا نام مور پنکھ کیوں رکھا؟” اس کے ننھے دماغ نے سوال کیا۔
    ”پتر! جب دیکھا کہ اب مور پنکھ یہاں کبھی نہیں آئیں گے تو ہم مایوس ہوگئے اور پھر اِس دوران تم پیدا ہوئے تو اس پرندے کی یاد میں ہم نے تمہارا نام ”مور پنکھ” رکھ دیا۔” ابّا نے پیار سے بتایا۔
    مور پنکھ سر ہلاتا، بانسری بجاتا، اپنی بکریوں کو دریا کنارے چراگاہ پر لے گیا۔ ساتھ وہ اپنے باوا کی باتوں کو یاد کرتا ۔ ایک دن وہ اپنے باوا کے ساتھ ”مولتان” (ملتان کا پرانانام) گیا۔ وہ لوگ بوہڑ گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو راستے میں اسے تصویروں والی ایک کتاب ملی جو پھٹی ہوئی تھی ۔ اس نے جھٹ سے اٹھا لی۔
    گھر آکر اس نے کتاب دیکھی تو حیران رہ گیا۔ اس میں دریا، کشتی اور کنارے پر پھول دار باغیچے تھے جہاں بہت سے لوگ گھومتے نظر آئے۔ تصویر میں لگ رہا تھا کہ لوگ کشتی میں بیٹھنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے اگلے صفحے پر لوگوں سے بھری کشتی دریا کے وسط میں تھی اور ملّاح چپو چلا رہا تھا۔
    مور پنکھ کو یہ تصویریں بہت خوب صورت لگیں۔ اس نے کتاب کا اگلا ورق دیکھا تو وہاں دریا کنارے ایک کچی دکان نظر آئی جہاں مچھلیوں کا ڈھیر پڑا تھا۔ اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ کتنے دن ہو گئے اس نے مچھلی نہیں کھائی تھی۔ ابھی انہی خیالوں میں گم تھا کہ اس کے ہاتھ سے کسی نے کتاب پکڑ لی۔ وہ اس کی امّاں تھی۔
    ”پتر مور پنکھ! یہ کیا ہے ؟” اماں کتاب دیکھنے لگی۔
    ”اماں! کتنی خوب صورت تصویریں ہیں، کیا ہمارا دریائے چناب ایسا ہی خوب صورت ہوتا تھا؟” مور پنکھ نے اماں سے پوچھا۔
    ”ہاں پتر! جس طرح ان تصویروں میں دریا کے اندر پانی ہے، ایسے ہی ہمارے ”دریا بادشاہ” میں پانی ہوتا تھا اور اس کے کنارے سر سبز گھاس کی چادر ہوا کرتی تھی۔ تیرے باوا کی کشتی اس گھاس والے کنارے کے ساتھ آ کر کھڑی ہوتی تھی۔” امّاں نے بڑی حسرت سے تصویریں دیکھ کر اسے بتایا۔
    ”اماں! اگر میں اس کنارے پر درخت لگا لوں اور بازار سے مچھلی لا کر یہاں فروخت کروں، ساتھ ساتھ پھولوں والی کیاریاں بھی بنا لوں تو کیا لوگ دوبارہ یہاں آئیں گے؟” مور پنکھ نے معصومیت سے پوچھا۔

    ”ہاں، کیوں نہیں پتر!” امّاں مسکرا دی۔
    ”تو پھر آپ باوا سے بات کریں نا!” مور پنکھ نے اماں سے درخواست کی۔
    ”ٹھیک ہے، شام کو ہم تمہارے باوا سے بات کریں گے۔” امی نے مور پنکھ سے وعدہ کیا۔ پھر شام کے وقت وہ سب صحن میں بیٹھے تھے۔ مور پنکھ کی اماں بولی:
    ”مور پنکھ کے باوا! میں نے ایک منصوبہ سوچا ہے۔”
    ”بھلا وہ کیا منصوبہ ہے؟” باوا نے پوچھا۔
    ”گھر میں جو اتنی بکریاں ہیں، ان میں سے اگر تین بکریاں بیچ دی جائیں تو ہمیں مور پنکھ کی خواہش پوری کرنے کے لیے پیسے مل سکتے ہیں۔” اماں نے مکمل تفصیل سے منصوبہ بتایا۔
    ”ہاں یہ ہو سکتا ہے، میں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں کہ ان بکریوں سے ہم اپنے مور پنکھ کی خوشی خرید سکتے ہیں۔” باوا نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
    ”اور ہاں! وہ اللہ وسایا کی زمین ہے نا! جو آدھی دریا برد ہو چکی ہے۔ اس سے بات کرتا ہوں، اگر وہ مان گیا تو ہم وہاں مچھلی کا کام شر وع کریں گے۔ ہم آنے والے بدھ کو قریبی قصبے میں لگنے والی مویشی منڈی میں اپنی بکریاں بیچ دیں گے۔ شہر میں ایک مچھلی فروش میرا واقف ہے۔ اس سے بات کروں گا کہ وہ فارم کی مچھلی ہمیں فراہم کر سکے۔ یوں لوگ دریا کی سیر کرنے آئیں گے البتہ انہیں پیارا پرندہ ”مو ر پنکھ ”نظر نہیں آئے گا۔” باوا کی آوا ز میں غم تھا۔
    ”میں ہوں نا مور پنکھ بابا!” مور پنکھ نے ہنس کر کہاتو سب مسکرا دیے۔
    …٭…
    اس دن مور پنکھ بہت خوش تھا کہ اب وہ دریا کنارے درخت لگائے گا۔ کنارے پر کھڑی اپنے باوا کی کشتی کو نیا رنگ کرے گا۔ کیاریاں بنا کر گھاس لگائے گا، پھر مور پنکھ اور اس کے باوا نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام شروع کر دیا۔ جب انہوں نے دریا کنارے درخت لگائے، کشتی کو رنگ کیا اور کیاریوں میں گھا س لگائی تو ان کی بستی کے ساتھ ساتھ قریبی بستیوں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ باوا حشمت دریا کنارے مچھلی پکانے کا کام شروع کررہا ہے پھر واقعی دو ہفتے کی مسلسل محنت کے بعد وہ شہر سے مچھلی لانے کے قابل ہو گئے۔
    …٭…
    صبح انہوں نے شہر جاناتھا مگر رات کو آسمان پر گہر ے بادل چھاگئے۔ یوں لگتا تھا کہ ساون اب کھل کے برسے گا۔ ساری رات بادل گرجتے رہے۔ صبح ہوتے ہی بادلوں نے برسنا شروع کیا۔ مسلسل کئی گھنٹے تک بارش ہوتی رہی۔ اماں اور باوا حشمت دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچے گھر کے صحن کی ایک دیوار بھی گر گئی۔ آسمان پر ابھی بھی بادل تھے۔ یہ مون سون کا آغاز تھا۔ انہیں خبر تھی کہ مون سون میں برسات تو ہوتی ہے لیکن جتنی بارش اس دن ہوئی، پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ کھیتوں میں گھٹنوں تک پانی کھڑا ہو گیا۔ بستی کے سارے لوگ اپنے گھر وں میں دبکے رہے۔ مور پنکھ اور اس کے باوا اسی وجہ سے بازار نہ جاسکے۔
    اگلے دن دریا چناب میں اونچے درجے کا سیلاب آگیا، علاقے میں سرکار کا نمائندہ اعلان کررہا تھا کہ اس بار خطرہ زیادہ ہے، سب لوگ محفوظ جگہوں پر منتقل ہوجائیں۔ یہ خبر سنتے ہی پوری بستی کی طرح مور پنکھ اور اس کے اماں باوا نے بھی پوٹلی میں کچھ کپڑے باندھے اور اپنی بکریاں لے کر بستی والوں کے ساتھ کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
    وہ آدھی رات کا وقت تھا جب سیلابی ریلا ان کی بستی تک پہنچا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی دریا سے نکل کر بستی میں داخل ہوگیا۔ صبح تک پانی کی سطح چھے فٹ تک پہنچ چکی تھی۔ بستی سے باہر ایک اونچے ٹیلے تک پانی کی چادر تھی اور ٹیلے کے ساتھ جو گھر نشیبی سطح پر تھے، پانی ان کی چھتوں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ اس طرح دریائے چناب میں سیلاب کا سلسلہ ایک ہفتہ تک جاری رہا۔ اس دوران مور پنکھ اور اس کے گھر والے قریبی قصبے میں چلے گئے جہاں انہیں تین وقت کا کھانا دیا جاتا تھا۔ کوئی ایک ماہ بعد جب علاقے میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے گھروں کی جانب لوٹے۔
    جب وہ اپنی بستی میں پہنچے تو ان کے گھر کی جگہ مٹی کا ڈھیر پڑا تھا۔ باقی بستی کی طرح ان کا گھر بھی پانی کے کسی ریلے میں بہہ گیا تھا۔ گھر کا سامان بھی اجڑ گیا تھا۔ جو بکریاں وہ اپنے ساتھ لے گئے تھے، وہ دورانِ سیلاب وبا پھیلنے سے مر گئی تھیں۔ گھر کی جگہ مٹی کا ڈھیر دیکھ کر اماں اور باوا دونوں دہاڑیں مار کر رونے لگے۔ ان کو روتا دیکھ کر مور پنکھ سے بھی نہ رہا گیا۔ انہیں چپ کرانے والا کوئی نہ تھا۔ مور پنکھ اپنی اماں کی گو د میں چھوٹے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔
    ”اماں اب کیا کریں گے؟” اس نے پوچھا۔

    ”پتر! چپ کر، ہم دریا ئی لوگ ہیں، ہماری قسمت میں یہی سب کچھ ہے اگر ”دریا بادشاہ” خشک ہو جائے تو ہم برباد ہوتے ہیں اور اگر اس میں پانی آ جائے تو بھی ہم ہی مارے جاتے ہیں۔” اماں نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا۔
    داستان سنانے والے کہتے ہیں کہ اس رات مور پنکھ اور اس کے امّاں باوا اپنے گھر کے ملبے پر چٹائی بچھا کر سوئے۔ آدھی رات کو کہیں سے بانسری کی آوا ز آئی، رات کے اس پہر بانسری کی آواز میں ایک خاص درد تھا۔
    پھر صبح لوگوں نے دیکھا کہ وہ تینوں مٹی کے ڈھیر پر مردہ پائے گئے ۔ آج تک یہ معما حل نہ ہوسکا کہ آدھی رات تک بانسری بجانے والا مور پنکھ اوراس کے گھر والے کیسے موت کے منہ میں چلے گئے؟
    کچھ لوگوں نے کہا کہ رات کوئی سانپ انہیں ڈس گیا، کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ! البتہ مور پنکھ کی بانسری اتنی سریلی تھی کہ پوری بستی کو جاتے جاتے درد دے گئی ۔ ان کی موت کی خبر دوسری بستیوں تک بھی جا پہنچی، یوں آہستہ آہستہ اس بستی کو ”مور پنکھ والی بستی ”کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔
    آج بھی اگر آپ دریائے چنا ب کے اس کنارے پر بستی دوآنہ بہادر کے راستے بستی مکو جمال سے گزریں تو چاچا خیرو کا بیٹا اپنے باپ اور دادا سے سنی سنائی ”مور پنکھ” بستی کی یہ کہانی دہراتا ہے۔ اس کی آواز میں جو درد ہے ، وہ شاید وہیں جاکر سننے والا ہی محسوس کرسکے۔
    ٭…٭…٭