Tag: alif nagar

  • نگار خانہ — مصباح علی سید

    نگار خانہ — مصباح علی سید

    شام اداس اور ویران تھی۔ ٹھنڈا پڑتا سورج نارنجی تھال سے جھانکتا تھا۔ جیسے جیسے نیچے ہوا کے پھیکے جھونکوں میں تیرتے پنچھی اپنے اپنے آخری دانے دنکے چونچوں میں دبائے آگے بڑھ رہے تھے، وہ مٹھی میں باجرہ چاول لیے چھت پر آئی تھی۔ ڈوبتے سورج کے بعد آجانے والی سیاہی غم کو مزید بڑھانے لگی۔ اس نے دانے پھینک کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے کہ پرندوں کی بے ہنگم شور نے اس کا وجد توڑ دیا۔ اس نے خفیف سی گردن گھما کر دیکھا، نگاہوں میں تحیر آبسا تھا۔
    سب لوگ چھوٹے سے صحن میں بیٹھے تھے۔ ابا کچھ دیر پہلے ہی دکان سے آئے تھے۔ جیسے ہی ان کی آمد ہوتی، وہ سارے گھر میں وی آئی پی بن جاتے۔ باجی بھاگ کر پانی کا بھرا گلاس لے آتیں، ٹیپو بوٹوں کی طرف بڑھتا چپل پیش کرتا، آپا گرم گرم روٹیاں اتارنی شروع کر دیتیں اور اماں سب کو ہدایات دیتی کہ ابا کے روبرو بیٹھ جائیں۔ اب بھی ان کے برابر بیٹھی ہاتھ والے پنکھے کو گول گول گھماتی انہیں سارے دن کی روداد سناتے ہوا جھل رہی تھیں۔ ابا نے قمیص اتارتے ہوئے اپنے مخصوص بے زار لہجے میں کہا:
    ”تیرے ہاتھوں میں اگر دم نہیں تو ادھر دے۔”





    انہوں نے نہ صرف پنکھے کی جانب ہاتھ بڑھایا بلکہ تقریباً چھین ہی لیا۔ اماں ”ایہہ” کہتی رہ گئیں۔ اب پنکھے کی ڈنڈی ابا کے ہاتھوں میں گھوم رہی تھی پھر اسی سے پشت کھجاتے کہنے لگے:
    ”جانے کب آئے گی کم بخت۔”
    ”ہائے مر گئے یہ واپڈا والے… ستیاناس ہو اُن کا۔”ابا کی تائید میں صحن کے بیچوں بیچ لگے جنگلے سے نیچے والی منزل کے بڑے میاں نے دہائی دی۔ نچلی منزل کا بند گھر، کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ اور پھر شدید حبس، غصے کے ساتھ گالیاں بھی بنتی تھیں۔
    ابا ان کی بے قراری پر کُھل کر مُسکرا بھی نہ سکے کہ اپنے سٹور سے دھڑ دھڑ قیامت خیز کھڑاک کی آواز آئی تھی اور ساتھ آپا کی دل خراش چیخیں ابھریں:
    ”ہائے میں مرگئی۔”
    ”اسے کیا ہوا…؟ہائے! اسے کیا ہوا؟” اماں سینہ تھامے سٹور کی جانب بڑھیں جہاں بھوت نما آپا چلاتی ہوئی برآمد ہوئیں۔ کچھ دیر پہلے اچھی بھلی آپا کو روٹیاں اتارتے دیکھا گیا تھا۔ ابا کے سامنے ٹرے رکھ کر سٹور سے ان کا بستر ڈھونڈنے گئیں تھیں۔ چادر کا کونا ہاتھ لگا مگر پوری طرح قابو میں نہ آیا تھا، زور لگایا پیٹی پر رکھے بستر کے ساتھ کوئی بھاری سی چیز ان پر آن گری۔
    درد اپنی جگہ، اس سوغات کی خوشبو و رنگینی اپنی جگہ۔ دراصل ٹیپو حد سے زیادہ چٹورا ہو گیا تھا۔ جو چیز دیکھی پیٹ کے دوزخ میں منتقل کرلی۔ اماں نے چُھپ کر اچار ڈال مرتبان اونچی پیٹی پر بستروں کے پیچھے خاصا چھپا کر رکھا تھا۔ چادر کھینچنے سے وہ بھی بدلحاظ بنا آپا سے گلے ملنے آگیا۔ پھر کیا تھا، تیل کی تل چھٹ میں رنگ برنگے مصالحہ جات، آم، آملے اور پھلیوں نے آپا کے وجود پر عجیب وغریب نقش و نگار بنا دیئے۔ عجائب خانے میں رکھتے تو ایک مہینے کا راشن نکل آتا۔ ہاتھ لگانے سے بھی کراہت آرہی تھی۔ اماں کو پہلے اچار کے ضائع ہونے کا قلق ٹھہرا، دو چار اس کے گھونسے جڑے پھر ہنسی آگئی۔ ابا بھاگ کر لالٹین اٹھا لائے، بچی پہچانی تب ساری بات سمجھ میں آئی اور ٹیپو اندھیرے میں ہی اچار کی پھانکیں اٹھا کر بھا گ گیا۔
    ”ستیاناس ہو جائے، اس کلموہی حکومت کا، زندگی سے سارا سکھ چین ہی چھین لیا، جب دیکھو بتی بند، کبھی سالن میں نمک کی جگہ چینی ڈل جاتی ہے تو کبھی چائے میں پتی کی جگہ کلونجی، کہاں تک اپنے دیدوں کی روشنی سے کام لیں؟” اماں کو بے انتہا غصہ آیا۔ سارا اچار بھی تو بدبخت لوڈشیڈنگ کی نذر ہو گیا تھا جیسے ہی اچار کی یاد آئی آپا کی کمر پر جھانپڑ جڑا۔





    ”منحوس! دِکھ نہیں رہا تھا چادر کہیں پھنسی ہوئی ہے، مرتبان نہیں اسے چھوڑ رہا تو تو ہی چھوڑ دیتی۔ اب دفع ہو، جاکر نہا بدن سے تیل کا کیچڑ اتار…”
    ”اوئے ہوئے مِس!…کیسے نہائو گی۔ پانی ختم ہے اور بتی آنے والی نہیں۔”ٹیپو انگوٹھے دکھاتا ناچ رہا تھا۔
    ”ہائے میرے ربّا…” یقین مانو اب آپا کو تیل میں مرچ ہلدی کا احساس ہوا تھا پھر تو سارے بدن میں بھوری چیونٹیاں بھر گئیں۔
    ”میرے اللہ!” اس کی نگاہ آسمان نامی چھوٹے سے نیلے ٹکڑے پر جا ٹھہری۔
    ”قیامت والے دن اس حکومت کو بخشنا نہیں، جس طرح مجھے مرچیں کاٹ رہی ہیں ، انہیں سانپ بچھو ڈسیں۔”
    یہ اس گھر کی ہی نہیں بلکہ چھوٹے سے پیچ دار گلیوں والے علاقے کے دیوار سے دیوار جڑے ہر گھر کی کہانی تھی۔ ڈھونڈتے کچھ ملتا کچھ، پکاتے کچھ پک کچھ جاتا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نئی نئی لوڈشیڈنگ شروع ہوئی تھی۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہونے پر بتی جانے لگی۔ لوگ بلبلاتے شور مچاتے، ہڑتالیں، توڑ پھوڑ، ایک دن حکومت نے چھوٹا سا بیان زخم پر برف کی طرح رکھا۔
    ”چند سالوں کے لیے ملک مسائل میں گھرا ہے، تسلی رکھیں پانچ سالوں بعد ہمارے پیارے وطن میں لوڈشیڈنگ کا تصور بھی نہیں رہے گا۔”
    لوجی خوب کہی، پہلے واپڈا اوقات پر پھر اوقات سے باہر ہی ہو گیا۔ لوڈشیڈنگ کا تصور دفعتاً نہیں بچا تھا۔ غالباً لوگ اندھیروں کے عادی ہو گئے تھے۔ اگر کوئی وقت پوچھ لیتا صبح سوا نو سے رات سوا نو تک کی کہانی انگلیوں پر سنا دیتے۔
    ”سوا نو بجے آئے گی، پھر سوا دس بجے جائے گی، پھر سوا گیارہ، سوا بارہ…” آپا نے تو مہارت دکھائی۔ کلاک کے ہندسے ہٹا کر بتی آئی، بتی گئی کا کلاک بنا لیا۔ نئی طرز کا ڈیکوریشن پِیس، پڑوسی پوچھ پوچھ جاتے کہاں سے خریدا ہے۔ حکومت کی پانچ سالہ برف کی نظر کسی کا جمع جتھا، کمیٹیاں، کل پونجی، یو پی ایس کی نظر ہو گئے۔ پھر یہ دیکھا دیکھی ڈینگی کی وبا سے بھی تیز پھیلے۔ پانچ سال گزرے۔ واپڈا اوقات سے کیا سرحدوں سے باہر ہو گیا۔ بتی آئی گئی کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ کبھی آرہی ہے تو بے تحاشہ اور کبھی نہیں ہے تو بھلے ساکٹ میں انگلیاں دے لو یا دروازے کے باہر گزرتی تاروں پر پینگیں ڈال لو اور کبھی حسینہ کی طرح پلکیں جھپک جھپک کر چیزیں ساڑ دیتی اور پھر پورے کنبے میں دھینگا مشتی شروع تو کبھی ڈھیٹ بنی سارا دن آوارہ مٹرگشت کرتی۔ میٹرگھما کر اماں ابا کی اتنی لڑائی کرواتی آدھے برتن تو یوں ہی ٹوٹ گئے تھے۔ ”بل کون بھرے۔”
    کچھ دن پہلے کی بات ہے اماں چوکی پر بیٹھی ساگ کی گندلیں صاف کر رہی تھیں کہ یک لخت اپنی اسرافیل کی پھونک جیسی چنگھاڑ نکالی۔
    ”او ٹیپو! اس منحوس فریج کو بند کر دے، آج پاگلوں کی طرح بتی آرہی ہے کہیں چیزوں کو ٹھنڈ نہ لگ جائے۔ پھر تیرا باپ آکر مجھے ٹھنڈا کرے گا۔” نیچے والی منزل کے مائی بابے نے سنا تو قہقہوں سے پیٹ میں بل پڑ گئے۔
    ”اماں!” ٹیپو چھوٹی سی انگلی ٹھوڑی پر جمائے سامنے آکھڑا ہوا۔
    ”آج لائٹ اب تک کیوں آرہی ہے؟” اس نے فریج کی تار کھینچ کر بڑی معصومیت سے پوچھا تھا۔ اماں بدک گئیں۔
    ”آج وہ بدبخت ٹی وی پر بیٹھے گا، اس کی آواز سننے اور تصویر دیکھنے کے لیے دے رہے ہیں۔”
    ”اماں!آج ایگزیکٹو ہمارے ٹی وی پر بیٹھنے آئے گا…” ٹیپو کی مارے حسرت کے آواز پھٹ گئی۔ آواز میں دنیا بھر کا درد اس لیے تھا کہ اگر ایسا ہو تو مخمنی سا ٹی وی کئی حصوں میں بکھر جائے گا اور ابا دوسرا ٹی وی تو قیامت تک نہ لے کر دیں گے۔
    ”ہاں! آکر بیٹھے تو سہی، ڈویاں مار مار سر نہ پھاڑ دوں اس کا… خود تو اے سی لائٹوں والے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی پر آتے ہیں، ایک ہم بے چارے… ہک ہا”
    اماں صد افسوس کرتیں اپنی سبزی اُٹھا کچن کی جانب بڑھیں جہاں ایک اور آفت ان سے لپٹنے کو تیار تھی۔ چند سالوں میں بہ مشکل خود کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عادی بنایا۔ کچھ دن احتجاج کیا، کھمبے گرائے، تاریں توڑیں، گالیاں بکیں اور پھر بھول بھال گئے۔ عادت بنا لی تھی تو نیا عذاب وارد کر دیا گیا۔ یخ بستہ موسم اوپر سے چولہے ٹھنڈے۔ جب جلائو ”سوں” سائرن بجاتی کان پھاڑ آوازیں جیسے بہت سی ایمبولینیس اکٹھے ہی گزرنا چاہ رہی ہوں۔ کتنی دیا سلائیاں تو اسی جانچ میں ختم ہوئیں کہ اب آئی کہ تب آئی۔ پر ناجی چولہے سے تو کچھ نہ نکلا البتہ اماں کے وزن سے بھی بھاری مغلظات ان کے منہ سے ابلیں۔ حکومت کی آنے جانے والی دس دس نسلوں کو کوسا۔
    پچھلے ہفتے کی بات تھی۔ ابا کو بخار چڑھا تھا، ان کے لیے نرم غذا کے طور پر دلیہ بنانا تھا۔ اماں نے سارا دن تھاپی مار مار ٹھنڈے پانی میں کپڑے دھوئے، جسم اکڑ گیا اور ٹھنڈ چڑھ گئی تو آپا سے ابلے انڈے اور چائے کے پیالے کی فرمائش کی۔ اکتاہٹ بھری آپا نے اپنے ناگوار منہ کو مزید بے زاریت سے سجایا۔ مرے قدموں سے جا کر چولہا جلایا، جو حسبِ عادت رانجھا بنا سارنگی بجا رہا تھا۔ آپا دھر سے چلائیں۔ ”اماں گیس نہیں آرہی۔”





    ”چولہے کو اٹھا، باہر پھینک دے منحوس کو، خواہ مخوا رش بڑھا رکھا ہے۔” اماں نے بلبلا کر کہا آپا تو اس مزاح کو انجوائے کرتی کمرے میں چلی گئیں، اپنی کہانی جو پوری کرنی تھی۔ البتہ ٹیپو سمجھا شاید چولہا پھینکنے سے گیس آجائے گی۔ آپا کی حکم عدولی پر تلخ نگاہ سے انہیں گھورا اور تیزی سے کچن کی جانب بڑھا، والوسے پائپ کھینچ، چولہا اٹھا کر گلی کی کھڑکی کی جانب بڑھنے لگا، صحن میں لگے سیاہ جنگلے میں پائوں پھنسا اور نچلی منزل والے بڑے میاں کے آدھے خالی سر پر برنر کی آہنی ٹھیکری جا گری۔ لو بتائو کوئی پوچھے اس عمر میں کیا تُک بنتی ہے صحن کے بیچ و بیچ جنگلے کے نیچے بیٹھ کر گنگناتے ہوئے اپنے جھالر نما بالوں پر خضاب لگانے کی؟ مانا بتی نہیں تھی پر کبھی تو آتی۔ کون سا ابھی بارات چڑھ رہی تھی۔ مگر نابھئی، پھڑوالیا اپنا طبلے جیسا ماتھا، حالاں کہ اچھی طرح پتا ہے پچھلے ہفتے کروشیابنتی بڑی اماں کے اوپر غلطی سے باجی سے چائے چھلک گئی تھی اور اماں کے پائوں سڑ گئے تھے۔ تب تو بڑے میاں گردن گرائے بیگم پر خوب ہنسے تھے مگر آج اف! کچھ نہ پوچھو۔ بابا جی نے جو قیامت خیز ہوٹر بجائے، چیخ و پکار، گالی گلوچ، چولہا تو وہاں ہی دھرا رہ گیا اور دونوں گھروں کے تمام افراد آپس میں خوب گتھم گتھا ہوئے۔ بڑے میاں کی بہویں نکل آئیں، پوتا پوتی اماں کی ٹانگوں پر چوہوں کی طرح دندیاں ماریں، کسی کے بال کسی کے ہاتھ۔ بڑے میاں کا خضاب اور خون ایک ہو کر چہرہ بہت ہول ناک لگ رہا تھا۔ ایسے میں بخار میں پھنکتے ابا گھر داخل میں ہوئے ان کا جی چاہا سب مل کر مجھے ہی مارو شاید بخار سے ٹوٹتے بدن کو کچھ افاقہ ہو۔ دوا تو پہنچ سے دور تھی۔ کچھ محلے کے لوگ بیچ میں پڑے، صلح صفائی ہوئی تب سب نے مل کر واپڈا پلس گیس کا غائبانہ جنازہ اٹھایا۔ ایسے جنازے دھکا کالونی میں روز اٹھتے تھے۔ نام پر حیرت ہو رہی ہو گی۔ بھئی یہ کالونی ایک مشہور سیاسی لیڈر نے اپنے سیاسی عزائم پورے کرنے کے لیے ناجائز تجاوزات پر غریبوں کے لیے آباد کی تھی اور فی الوقت رہائش پذیر اپنی قسمت کے دھکوں سے اسے چلا رہے تھے۔ خیر…
    جب شروع شروع گیس جانے لگی تو لگا شاید کہیں نئی پائپ لائن بچھ رہی ہے پھر خیال گزرا بلوچیوں کے ڈیرے پر لڑائی ہو گئی ہو گی ایک دوسرے کا سرپھاڑنے کے بجائے راکٹ مار کہ گیس کا کنواں پھاڑ دیا ہوگا۔ لیکن جب تواتر یہی مصیبت نازل رہی تو سب عورتیں اکٹھی ہوئیں اور تھانے دار کی طرح تنی بیلن، چمٹے، ڈویاں اٹھا پہنچ گئیں چوک پر، بے چارے بھوکے پیٹ یا سوکھے پاپے کھا کر رزق کی تلاش میں سکول اور دفاتر کو نکلے پسماندگان کا رستہ روک لیا۔ ٹریفک جام… کیا ان خواتین نے خاندانوں میں آگ لگائی ہو گی جو اس وقت سڑک پر لگائی۔ ایک بے چارہ سردی سے ٹھٹھرا مسافر لمحے کے لیے ہاتھ سینکنے کھڑا ہو گیا۔ بوڑھی سی اماں نے ہاتھ لمبا کر کے اس کے بازو پر ڈوئی ماری۔
    ”اوہ منحوس! تیرے سینکنے کو نہیں دہکائی، اس کا دھواں حکمرانوں کے دیدوں میں چبھانے کے لیے لگائی۔” اتنا ہنگامہ برپا ہوا۔ میڈیا اکٹھا ہو گیا، حکومت کے خلاف نعرے بازی، گالیاں، بددعائیں۔ جلتے پتوں کی خبر حکومت تک بھی پہنچی۔ انہیں بھی ٹھنڈی برف کا گولہ مرہم کی طرح تھما دیا۔
    ”حکومت اقدام کر رہی ہے، جلد حل نکلے گا۔”
    اور حل نکل بھی آیا۔ گھروں میں گھنٹہ بھر کے لیے گیس آنے لگی۔ وہی خواتین جو آٹھ آٹھ بجے تک چارپائیوں پر کھٹمل کی طرح اینٹھی بیٹھی رہتیں۔ پھرکی کی طرح گھوم کر اٹھتیں، نشئیوں کی طرح جھومتی جھامتی ٹم ٹم جلتے چولہے پر ہانڈیاں پکانے لگیں۔ ساری کالونی کے چولہے یک لخت جل اٹھے۔ گیس ٹم ٹم سے ٹماٹم ہو گئی۔ کسی کی ہانڈی پکی، کسی کی کچی، باہر نکل نکل اک دوجے کے دروازے بجا بجا کر اپنا چولہا ہلکا کرنے کی استدعا، پھر حکم اور پھر وہی دھینگا مشتی۔ مفت میں پوری دنیا ہالی وڈ کی ریہرسل سے مستفید ہوئی بلکہ کچھ من چلوں کے دل کی مراد پوری ہو گئی۔ جب حسینہ دروازہ بجاتے آتی تو اک محبت نامہ ہاتھ میں تھما دیتے۔ کوئی بڑھا ہاتھ جھٹک دیتی اور کوئی رقعہ پلوسے باندھے مٹکتی اپنے گھر کی طرف۔ پرسوں آپا گئیں تھیں۔ مٹھی میں رقعہ لے آئیں دس بار پڑھا۔ حکومت کی پالیسی کو دعائیں دیں رابطے کہ کا ذریعہ بنایا۔ آج صُبح دروازہ بجا، سامنے والا رشید انتظار میں تھا۔ دروازہ کھولتے ہی نازُک ہاتھ تھامنا چاہا اور چنگھاڑ نکلی۔ غالباً آج اماں گئیں تھیں۔ اس کی حرکت پر ہاتھ میں پکڑا گرم چمٹا دے مارا۔
    ”منحوس مارے میں تو چولہا ہلکا کرنے کا کہنے آئی تھی، تو آوارگی پر اتر آیا…”
    پھر کیا بتائیں کتنوں کی ایسی حرکتوں پر کیسی کیسی ٹھکائی ہونا۔ روز کا معمول بن گیا۔





    عوام بھی کہاں تک احتجاج کرتی؟ حکومت تو بھیجے میں میخیں ٹھونکے نشے میں چور تھی۔ مفاہمت پسند عوام نے متبادل ڈھونڈ لیا۔ پہلے سے کم خرچے مزید گھٹائے اور کسی نے چھوٹے سلنڈر، تو کسی نے تیل کے چولہے رکھ لیے۔ اماں تیل کے چولہے سے خوف زدہ تھیں۔ پچھلی گلی کی جوان لڑکی مری تھی۔ انہوں نے ابا سے سلنڈر کی فرمائش کی۔ وہ لے بھی آئے اور رات کو اپنی چارپائی کے نیچے رکھ کر سوتے کہ کہیں گھر کی گیس سمجھ کر راتوں کو عیاشی شروع نہ ہو جائے۔ دن میں اس دوکلو گیس پر اماں پہرہ بٹھا دیتیں۔ آپا جیسے ہی سلنڈر کی طرف بڑھتیں، اماں اپنی پاٹ دار آواز میں دھاڑتیں، ساتھ ہی بونس میں اڑتی ہوئی جوتی بھی آتی۔
    ”اے منحوس ماری! بلینک (بلیک) میں بھروائی ہے پانچ سو کی… اب آنے بہانے اڑا نہ دئیو…” خیر جیسے تیسے بچے پراٹھے کھا کر سکول جانے لگے۔ گیس بجلی کا نہ ہونا معمولات میں شامل ہو گیا اور ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جو اپنے مسائل حل کرنے کے بہ جائے پہلے معمولات بناتے ہیں پھر اُن سے لطف اندوز ہونے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ پٹرول، سی این جی کم ہونے کا رونا پڑا، کچھ دن جلسے جلوس نکالے لیکن پھر عقل پر ماتم کیا۔ لوبھلا یہ تو حکومت نے بلامعاوضہ تفریحی سیشن کا بندوبست کیا ہے۔ غالباً جو مزہ لائنیں دیکھنے کا ہے وہ کہیں بھی نہیں، خاص کر اگر اس میں بارات کھڑی ہو۔
    ارے واہ! کہاوت تو اب صحیح مانوں میں پوری ہوئی تھی۔ پہلے لوگ جوتیاں گھسا کر دلہن لاتے تھے اب ٹائر رگڑوا کر اور بسا اوقات یہی ٹائر کچھ آگے پیچھے کرنے کے چکر میں بندے کچکچاتے دروازے کھول باہر نکل آتے، یقین مانو کیا مجنوں چاک گریباں لیلیٰ کے شہر پہنچا تھا جو دلہا حاضرِ خدمت دلہن ہوتا۔ باراتیوں کے ہیئراسٹائل الگ بدل جاتے۔ جب ایسی صورتِ حال پانی کے فلٹراسٹیشن پر ہونے لگی۔ خالی کینوں والے بھرے کین والے پر ٹوٹ پڑتے اور بھرے کین والا طیش میں آکر اپنا بھاری بھرکم کین سامنے والے کو مارتا۔ پانی سے توخیر ہاتھ دھوتا سو دھوتا سامنے والا دانتوں سے بھی دھل جاتا۔ باقی حاضرین کو ہنسی کے دورے پڑتے۔ پیٹ کے اکثر امراض تو ایسے مجمع کو دیکھ کر ہی ٹھیک ہو جاتے۔ ابا کا بھی جب پیٹ خراب ہوتا یا بجلی کے انتظار میں فارغ بیٹھے بیٹھے تنگ پڑ جاتے تو اپنی پیکو فیشن ڈھک سائیکل اٹھا کر کبھی سی این جی اسٹیشن تو کبھی پانی کے سرکاری فلٹر کا رخ کرتے ۔ مفت کا اسٹیج شو خاصا دل بہلا دیتا، بغیر دوا کے بندہ ٹھیک۔ بھئی اتنی شان دار پرفارمنس اور سلطان راہی، مصطفی قریشی اور شان کی نہ رہی تھی جتنا ٹیلنٹ اس ”نیوجنریشن” میں تھا۔




  • سال ۲۰۴۰ کی سیر —- فریحہ واحد

    ہوا میں تازگی قدرے کم تھی، اب تک لوگ شاید اِس سوکھی ہوا کے عادی ہوچکے تھے ۔سورج نے بھی اپنی فوج میں چند ہزار مزید شعاعیں بھر تی کی تھیں جو کہ خاصی ماہر معلوم ہو تی تھیں۔۔۔ مگر انسانوں سے بھلا اس کا کیسا مقابلہ؟ اور وہ بھی امیر انسانوں سے ۔۔۔ جب کہ سال دو ہزار چالیس میں ان کھر چ کر رکھ دینے والی شعا عوں کو اپنا شکار اب بھی میسر تھا۔ پاس کھڑی آسمان کو چھوتی ان گنت عمارتوں سے مقابلہ نہ کر پانے والے تعداد میں بہت ہی کم سائے دار درخت ، ننھے ننھے پیارے پیارے پھول پتے ، زبان سے محتاج بے زبان جانور اور۔۔ اور غریب۔
    آج عیلی کے دسویں گریڈ کا آخری امتحان تھا ۔ تیاری میں مگن عیلی نے دو راتیں بِنا سوئے ایک پراجیکٹ بنا یا تھا۔ مگر وہ اب بھی پوری طرح مطمئن نہ تھی اور آرکیٹیکچرل ڈسپلے گلاس نامی ٹیکنالوجی کا بہ خوبی استعمال کرتے ہوئے شیشے کی بنی دیواروں پر تیزی سے انگلیاں گُھماتے ہوئے آج کے امتحان کے لئے تیار کی گئی اپنی پریزنٹیشن کا اعادہ کر نے کے ساتھ ہی اپنی پرو فائل پر ایک نظر گھمانے لگی تھی گو یا کوئی ٹچ اسکرین مو بائل ہو۔ اعادہ اور ملا حظہ کر لینے کے بعد اسے کچھ بھوک سی محسوس ہونے لگی تھی۔ اس نے زمین میں لگی ایک ٹائل پر اپنے انگوٹھے کو ایک مخصو ص طریقے سے پھیرا اور وہ ٹائل بنا کسی ہدایت کے اس کے مطابق چلنے لگی تھی اور اسے باورچی خانے لے آئی جہاں اس نے پاس کھڑے نو کر احمد کو انڈا بنا نے کا حکم دیا اور وہیں پر کھڑے ہوکر کچن کی دیوار پر تیزی سے انگلی پھیر کر اپنی پروفائل اور اپنے دوستوں کے کارنامے ملاحظہ کرنے لگی تھی۔





    احمد نے ماربل کے سلیب پر ایک مخصوص جگہ پر انگلی سے دائرہ بنایا اور اس پر انڈا توڑ کر ڈال دیا۔ اس دائرے سے نکلتی دکھائی نہ دینے والی تپش سے وہ انڈا چند سیکنڈ میں تیار ہو گیا اور وہ تپش اپنے آپ بند ہو گئی۔ اس نے وہ انڈا ایک پلیٹ میں ڈال کر سر ونگ ٹرالی پر رکھا اور اس پر بنے ایک بٹن کو دبا دیا جہاں لکھا تھا "عیلی کا کمرہ” اور وہ ٹرالی عیلی کے کمرے کی طرف روانہ ہو گئی اور اس کے پیچھے عیلی بھی اپنی ٹائل سمیت اپنے کمرے میں جا پہنچی۔ اس نے چُھری کانٹے سے آدھا انڈا مکمل کیا ہی تھا کہ اتنے میں کمرے میں لگا الارم انگریزی میں کچھ ہدایت دینے لگا۔
    ”عیلی یو ہیو جسٹ ٹین منٹس لیفٹ، ٹو ارائیو دا اسکول” (عیلی تمہارے پاس صرف بیس منٹ بچے ہیں اسکول پہنچنے کے لیے) عیلی کو یہ سنتے ہی اپنے چہرے کی فکر ہونے لگی اور اس نے بناوقت منٹ ضائع کئے گلا س کی بنی دیوار پر ایک بار پھر انگلی گھمائی اور مرر موڈ ایکٹیویٹ کر دیا اور وہ دیوار اب آر پار دکھانے کی بہ جا ئے صرف اس کا چہرہ دکھا رہی تھی۔ ہر بار اپنے دودھیائی چہرے، لمبے گھنے سیدھے اور سنہری بالوں کو دیکھ کر اس کا خون دو کلو اور بڑھ جاتا۔ وہ خود کو سنو وائٹ یا سلیپنگ بیوٹی نہ سمجھتی بلکہ اسے تو خود میں مشہور ہالی ووڈ گلو کارہ ٹیلر فسیٹا کا عکس دکھائی دیتا تھا جو کہ اپنے زمانے کی شہرت یافتہ گلو کارہ ٹیلر سوئفٹ سے خا صی متا ثر تھی۔ مگر یہ خیال بھی اسے زیادہ دیر خو ش نہ رکھ سکا کیوں کہ اس کے دماغ میں فوراً ہی گھر کے نوکر، احمد کی بیٹی رِمی کی شکل آئی تھی جس کی چہرے سے زیادہ اس کی آنکھیں حسین تھیں اور وہ بھی بنا کسی خرچے یا علاج کے۔۔۔ مگر سب سے بڑی اور دل دہلا دینے والی بات تو تب سامنے آئی جب اس نے دو ہزار سترہ کی ایک اور پر کشش اور کڑوڑوں فالوؤرز رکھنے والی ہالی وڈ اداکارہ کو دیکھا جس کے نین نقش اسے ہو بہ ہو رِمی سے ملتے جلتے معلوم ہوئے۔ تب سے اب تک رِمی ، عیلی کی آنکھوں کی پتلیوں اور دل کی کنجیوں میں جگہ تو دور اس کے سوشل ورک کے دائرے میں بھی جگہ نہ بنا سکی، جہاں وہ ضرورت مندوں پر اپنے ابا حضور کا پیسہ لٹانے کے باعث ڈھیروں شہرت کے ہار کما چکی تھی۔ روزِحشر کا تو معلوم نہیں۔۔۔ ہاں مگر سو شل میڈیا ضرور اسے جنتی قرار دے چکی تھی۔ مگر عیلی نے وقت کا لحاظ کرتے ہوئے فوراً ہی سب خیالا ت جھٹکے اور اپنی آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکوں پر ایک ڈنڈی نما چیز پھیری اور وہ گہری سیاہی جیسے کہیں غائب ہو گئی۔





    حسینہ گھر کے اندر کھڑی چیئر لفٹ کے ڈبے نما گاڑی کی طرف چل دی مگر اِن نئی گاڑیوں سے عیلی سے زیادہ اسی کی امی بڑی خو ش تھیں کیوں کہ سال دو ہزار پچیس کی گا ڑیوں کو چلانے کے لئے وہ انگوٹھے کے استعمال پر مجبور تھیں اس کی بھی وجہ در حقیقت یہ تھی کہ ایک بار انہوں نے گاڑی کی سیٹنگ کچھ یوں کر رکھی تھی۔ کہ جب تک وہ شیشہ ان کے ہنستے ہوئے چہرے کا دیدار نہ کر لیتا وہ نہ کھلتا مگر ایک بار وہ کچھ اِس طرح تیار ہوئی کہ سائنس دانوں کی سب سے اعلیٰ تخلیق اس گاڑی کے اندر موجود مائیکرو روبورٹس نے بھی انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اس حادثے کے نتیجے میں وہ انگو ٹھے کو ہی غنیمت جانتیں، مگر اب ان کی یہ مشکل بھی دو ہزار چالیس نے حل کر دی تھی۔
    عیلی اپنی گاڑی کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔ اس گا ڑی نے جیسے عیلی کے آتے ہی اس کی خوشبو سونگھ لی یا شاید اسے دیکھا یا محسوس کیا تھا کہ اس کے آتے ہی اس نے اپنے سلائیڈنگ ڈو ر کھول دیے تھے۔ سلائیڈنگ ڈور کُھلتے ہی وہ گاڑی کے اندر جا بیٹھی۔ سلائیڈنگ ڈور بند ہوا اور اسکرین پر پانچ جملے نمودار ہوئے:
    1۔ ڈرائیو ٹو اسکول (اسکول چلو)
    2۔ ڈرائیو ٹو ہوم (گھر لے چلو)
    3۔ ڈرائیو ٹو ہائیپر اسٹار (ہائیپر اسٹار لے چلو)
    4۔ ڈرائیو ٹو ہیمیز ہاؤس (ہیمی کے گھر چلو)
    5۔ آئی ول ڈرائیو ، وانٹ ٹو گو سم ویئر ایلس (میں خود چلاؤں گی، کہیں اور جانا ہے)
    اس نے پہلے آپشن پر انگلی سے پریس کیا اور وہ بلٹ پروف گاڑی چل پڑی ۔ گاڑی کے چلتے ہی اسے پھر سے بھوک محسوس ہو نے لگی تھی۔ اس نے گاڑی کے ڈیسک بورڈ کی جگہ سکرین پر کچھ انگلیاں پھیریں اور نہ جانے ایسا کیا جادو کیا کہ اس گاڑی کی چھت سے ایک چھوٹے سے ہوائی جہاز کی طرح کا ٹکڑا نکل کر اُڑنے لگا تھا اور شاید اس کے کھانے کا انتظام بھی اب اس ننھے ہوائی جہاز کے ذمہ تھا۔ اپنے پسندیدہ کھانے کی طرف سے اب وہ بالکل بے فکر تھی کہ اب وہ جانتی تھی کہ اس کے حکم کے مطابق اس کا کھانا اسکول میں پہنچا دیا جائے گا۔ اسکول پہنچتے ہی گاڑی کا دروازہ کُھل گیا اور اس نے اُترتے ہی گا ڑی کے نیچے لگے ایک بٹن کو دبادیا۔ اس بٹن کے دباتے ہی گاڑی کا ایک پہیہ باہر آیا اور اس میں سے ایک اور پہیہ نکل آیا جس کے دونوں طرف ایک ایک پلیٹ لگی تھی۔ عیلی نے دونوں پلیٹس پر اپنا ایک ایک پاؤں رکھا اور وہ پہیہ عیلی کے مطا بق چلنے لگا اور اسکول کے دروازے کے عین قریب لا کھڑا ہوا۔ اسکول کے باہر لگے گلاس کے دروازوں نے خاموشی سے چند سیکنڈ کے اندر عیلی کی چیکنگ کی اور عیلی کے اندر جانے تک اپنی بانہیں کھولے کھڑا رہا اور اس کے اندر جاتے ہی دوبارہ بند ہوگیا۔ اِس ائیر کنڈیشنڈ اسکول میں پڑھنے والے بچوں نے کبھی سورج کی شعاعوں کا سامنا نہ کیا تھا مگر۔۔۔ مگر ان بچوں نے بھی کیا قسمت پائی تھی کہ اِن تپتی لکیروں سے بھی زیادہ بے چین کردینے والی چیزیں ان سے منہ چڑھ کر باتیں کرتی تھیں جس میں سرِفہرست تعلیمی میدان میں بر پا وہ مقابلہ تھا جس میں ہر طالبِ علم ایک جنگ جو کے مانند تھا۔ اب وہ بے چارے کرتے بھی تو کیا کرتے؟ دن بھر ایسے کام کی تلا ش میں رہتے کہ جس سے سو شل میڈیا کی رونقیں بڑھائی جا سکیں اور پھر ایسی ایسی تصویریں اورمواد جمع کرتے جو ان کے ہر جاننے والوں کو ہلا کر رکھ دیتا۔ آج بھی اِس جدید دور میں رشتے داروں اور جاننے والوں سے چاہے سال ہا سال ملا جا تا یا نہیں لیکن ایک تعلق تو ان کے درمیان تقریباً ایک صدی سے چلا آرہا تھا۔ وہ تعلق تھا جلانے اور جلنے کا تعلق۔۔۔ اور اِس تعلق میں اتنی طاقت اور گہرا ئی تھی کہ اپنے ہر عمل سے پہلے، ان کو اور ان کی پسندو نا پسند کا خاصا خیال رکھا جاتا، اور اب یہی ان کی تسکینِ روح کا ذریعہ تھا۔ اب اِس مصروف ترین دن میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کر لینے کے بعد وہ سب ہی سپہ سالار نو جوان اپنے بزرگوں کی روایت کو اِس جدید دور میں بھی فروغ دیتے ہوئے رات رات بھر جاگ کر گریڈز کی جنگ میں اپنے جھنڈے گاڑنے کو جُٹ جاتے اور ہر ممکنہ کوشش کرتے ہوئے کتے بلّیوں سی زندگی گزار رہے تھے۔۔۔ نہ کھا نے کی کچھ خبر تھی نہ سونے کی۔۔ مگر اِن سب میں اس ظالم اسکول مینجمنٹ کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ دراصل ترقی یافتہ تعلیمی اداروں کی نئی پالیسی کے تحت اب طالب علموں کے امتحانی نتائج اور ان کے بنائے گئے پراجیکٹس ان کی پروفائلز پر بھی متعارف کروائے جاتے اور ہزاروں نظریں اپنے نشتر لئے اِس گھڑی کی منتظر رہتیں۔۔۔ کب کس کو یہ نشتر نشتر کھانا پڑے۔ مگر یہ وہی زندگی تھی، جو ان کے نزدیک ان کی شان کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی۔ مگر اِس دور کے لو گوں کی ہر ایک حرکت اِس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھی کہ اب بھی ایک ایجاد باقی ہے۔۔۔ ہاں باقی ہے جو سائنس دانوں کے لئے اب بھی ایک للکار تھی اور شا ید وہ اِس میں کبھی کام یاب ہو بھی نہ سکے۔۔۔ اور وہ ایجاد تھی ایک ایسے آلے کی جو اس جدید دور کے لوگو ں کے رویے اور ذہنیت کو بد ل سکے جو اب بھی ہو بہ ہو ایک تیس سال پرانے معمولی انسان سی ہی تھی۔۔۔۔ خیر اِس من پسند زندگی کے لئے اس گھر کا ہر چھوٹا بڑا، دل ہی دل میں عیلی کے مرحوم دادا کو ہی داد دیتا پھرتا تھا۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے بال بچوں کے لئے کمانے میں گزار دی اور ماشااللہ اتنا کمایا کہ آج بھی سیف اللہ شریف کے لئے پیسہ ہاتھ کے میل سے زیادہ نہ تھا ۔یہی وجہ تھی کہ عیلی جیسی عام شکل وصورت کی لڑکی بھی اب کسی مومی گڑیا سے کم نہ لگتی تھی ۔۔۔ اور بھلا کس چیز کو ان نوٹوں نے نہ بدلا تھا؟ عیلی کی سانولی رنگت اور سوکھے گھنگھریالے بالوں سے لے کر چہرے پر بار بار اُگ آنے والی مونچھوں تک سب ہی مسائل تو اس کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی حل کر دیے گئے تھے۔۔۔ ایسے دادا دعائوں اور داد کے مستحق نہ ہوتے تواور کیا ہوتے؟۔۔۔ دراصل معاملہ بھی کچھ یوں تھا کہ سیف اللہ شریف کے مرحوم والد اور عیلی کے محنتی دادا اپنے زمانے کے ایک نام ور سیاست دان رہ چکے تھے۔۔۔ پھر پیسا تو قدرتی چیز تھا۔




  • اللہ کی مرضی — احسان راجہ

    یہ شاید 1988ء کے آس پاس کی بات ہے، یاد نہیں کیوں میں ان دنوں گائوں گیا ہوا تھا۔ باہر زمینوں میں ہریالی تھی، یعنی برسات کے بعد کے دن تھے۔ بارانی علاقوں میں سبزہ ساون کے بعد ہی نظر آتا ہے۔ عصر کے بعد کا وقت تھا اور بیٹھک میں، میں اکیلا ہی تھا۔ اس وقت ہمارا گھر گائوں کے شروع میں ہی تھا۔
    ”السلام و علیکم۔” دروازے پر اچانک نمودار ہونے والے پردیسی نوجوان نے سلام کیا۔
    میں نے اسے اندر آنے کو کہا مگر اس نے ”جلدی” کی معذرت کرلی اور گائوں کے چوکی دار کا پتا پوچھا۔ مجھے علم تھا کہ وہ آج تحصیل آفس گیا ہوا ہے۔ نووارد کو جب میں نے یہ بتایا تو وہ اندر آگیا اور بولا: ”میں نے دراصل سپاہی شیر محمد ولد بہادر خان کے گھر جانا ہے۔”
    میرا ماتھا ٹھنکا۔ گائوں کے بیش تر نوجوان فوج میں ملازم تھے۔ یہ آنے والا جوان بھی بہ ظاہر ڈیل ڈول، خاص کر اپنے بالوں کے سٹائل سے فوجی ہی لگ رہا تھا۔
    ”خیریت تو ہے؟ اس کے بیٹھتے ہی میں نے پوچھ لیا۔





    ”وہ جی دراصل شیر محمد سیاچن میں ایک چھوٹی سی لڑائی میں شہید ہوگیا۔ میرا نام شادی خان ہے۔ میں سٹیشن ہیڈکوارٹر سے یہی اطلاع دینے آیا ہوں۔” اس نے اپنے یہاں آنے کی وجہ تفصیلاً بیان کردی۔
    یہ وہ دور تھا جب موبائل تو کیا لینڈ لائنبھی اتنے عام نہیں ہوئے تھے اور ٹیلی گرام کی بروقت ترسیل دور دراز دیہاتوں کے لیے ایک مشکل بلکہ ناممکن عمل تھا۔ شیر محمد کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ میں بجھے دل کے ساتھ اسے لے کر اُدھر چل پڑا۔
    شیر محمد گائوں کا ہردل عزیز نوجوان تھا۔ خوب صورت، لمبا تڑنگا، شوخ طبیعت، مگر حد درجہ ہم درد اور ملنسار۔ مڈل پاس کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد علاقائی روایت کے مطابق فوج میں چلا گیا تھا۔ اس دوران وہ گائوں کی طرف سے کبڈی بھی کھیلتا رہا تھا اور ارد گرد کے قصبوں میں شیرو کے نام سے کافی مشہور بھی ہوگیا تھا۔ میں نے جب کبڈی کا ذکر کیا تو شادی خان چونکا۔
    ”پھر تو میں نے اسے کبڈی کھیلتے دیکھا ہوا ہے۔ میں خود اسی علاقے کے فلاں گائوں کا رہنے والا ہوں۔ آرمی والوں نے اسی تعلق کی وجہ سے یہ ڈیوٹی میرے ذمہ لگائی ہے۔” شیر محمد کی شادی دو سال قبل اپنی پھوپھی کی بیٹی نسیم سے ہوئی تھی اور اس کا شیر خوار بیٹا بھی تھا۔
    ہم شیر محمد کے گھر پہنچ چکے تھے۔ وہی دیہاتی طرز کا گھر، پیچھے ایک لائن میں تین چار کمرے، سب کمروں کے سامنے ایک لمبا سا برآمدہ اور آگے بڑا کھلا صحن، چار دیواری زیادہ اونچی نہ ہونے کی وجہ سے گھر کا پورا منظر ہمارے سامنے تھا۔ کمرے مشرق کی طرف ہونے کی بنا پر سایہ برآمدہ سے باہر بھی کافی پھیل چکا تھا۔ شیرو کی بھابھی تندوری میں لکڑیاں جلا رہی تھی، اس کی ماں تخت پوش پر بیٹھی شاید نماز یا تسبیح پڑھ رہی تھی۔ اس کا بھائی اور والد مویشیوں کو باندھتے پھر رہے تھے۔ لگ رہا تھا کہ ابھی ابھی انہیں چرا کر لائے ہیں۔ نسیم ایک چارپائی پر سمٹ کر بیٹھی تھی۔ جیسے بیٹے کو دودھ پلا رہی ہو۔ شیرو کی دونوں چھوٹی بہنیں، جوکہ اتنی چھوٹی بھی نہیں تھیں،۔ دوسری چارپائی پر بیٹھی شیرو کی بھتیجی کے ساتھ کھیل رہی تھیں اور قہقہے لگا رہی تھیں۔ ہمیں دیوار کے پاس کھڑا دیکھ کر گھر کا کتا بھونکتا ہوا ہم پر لپکا۔ شاید وہ شادی کو بری خبر سنانے سے منع کررہا تھا۔ ہماری ہمت بھی نہیں بن رہی تھی کہ کون کس طرح اس ہنستے کھیلتے اور پرسکون ماحول میں ایسی اندوہ ناک خبر سنائے۔ کتے کے اچانک بھونکنے پر شیر محمد کا معصوم بیٹا نیند سے جاگ کر زور زور سے رونا شروع ہوگیا تھا۔ ہوسکتا ہے پریوں نے چپکے سے اس کے کانوں میں کوئی منحوس سرگوشی کردی ہو۔ سارا گھر ہماری طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ چناں چہ میں نے ہمت کرکے شیرو کے بڑے بھائی احمد کو آواز دے ہی دی۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے جواب دیا۔
    ”بھائی اندر آجائو۔”





    اس دوران ہم ذرا پیچھے ہٹ کر اوٹ میں چلے گئے تھے۔ میرا خیال تھا کہ ایک بوڑھے باپ کو یہ الم ناک خبر نہ سنائی جائے۔ جوان بیٹے کی موت کی خبر چہ جائے کہ وہ ایک عظیم موت تھی، شہادت کی موت۔ مگر پھر بھی ایک بیٹے کی موت تھی۔ لمحہ بھر وقفہ کے بعد ہم نے احمد کے بہ جائے اس کے والد کو دروازے سے نکلتے دیکھا۔
    ”اُف خدایا یہ کیا ہوگیا۔ اب کیا ہوگا۔” ہم ایک دوسرے کو دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ ہمارے قریب آگئے۔
    ”کی گل اے پتر اندر کیوں نئیں آئے؟”
    ہم خاموشی سے زمین کو گھور رہے تھے۔ ہماری خاموشی ہمیں مشکوک بنا رہی تھی۔ جہاں دیدہ بزرگ نے تھوڑا سا توقف کیا اور ہمیں غور سے دیکھتا رہا۔ پھر شادی خاں کو کندھوں سے پکڑ کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پرُاعتماد آواز میں بولا:
    ”اوئے تو میرے پتر شیرے دی کوئی خبر لے کے تے نئیں آیا؟”
    ان کی اس بات پر ہم دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
    شادی خان بولا:
    ”ہاں جی چاچا جی تہاڈا شیر محمد شہید ہوگیا اے۔”آخر کار شادی خان نے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بوڑھے باپ کو اس کے جوان بیٹے کی شہادت کی خبر سنا ہی دی۔
    میں نے دیکھا کہ خاموش بند کس طرح ٹوٹتا ہے اور پھر بے کراں پانی کس طرح بہ نکلتا ہے۔ ان کا چہرہ آسمان کی طرف تھا۔ ہاتھ اوپر اُٹھے ہوئے تھے اوروہ زمین پر اکڑوں بیٹھتے جارہے تھے۔ جو الفاظ میں سن پا رہا تھا وہ شاید یہی تھے۔
    ”اچھا میرے پُتر! اچھا میرے اللہ! اللہ دی مرضی۔”
    ابھی تک گلی میں ہم تینوں ہی تھے۔ مگر چچا کی یہ حالت دیکھ کر دو نوجوان پڑوسی بھی آگئے تھے۔
    ”کی ہویا چاچا… کیا ہوا چاچا” پاس آکر وہ دونوں نوجوان بولے۔
    میرے منہ سے صرف اتنا ہی نکل سکا۔
    ‘شیرا شہید ہوگیا ہے۔”





    ہم شیرے کے والد کو سہارا دے کر دروازے کی طرف لانے لگے تو محسوس ہوا کہ وہ باہمت بزرگ اپنے زور پر خود چل رہا ہے۔ پڑوسی لڑکے بھاگ کر اندر احمد کے پاس گئے اور اسے صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ مگر کیا شان تھی جبر اور حوصلہ کی بھاگ کر آیا اور اپنے والد سے لپٹ گیا۔
    ”اباجی صبر… ابا جی صبر۔” اور آگے سے بوڑھا والد کہہ رہا تھا: ”اوئے شیر محمدا۔ اے تے میری واری سی، تو کیویں لے لئی۔”
    یہ الفاظ جب صحن میں گونجے تو پھر کیا باقی تھا جو کسی سے پوشیدہ رہتا؟۔ سب کچھ آشکار ہوگیا۔ نسیم اوڑھنی لپیٹ کر روتے بچے کو لیے کمرے کے اندر چلی گئی تھی۔ احمد کی بیوی تندوری میں پانی انڈیل کر وہاں ساکت بت بنی کھڑی تھی۔ کتا بھی کچھ محسوس کر چکا تھا کیوں کہ دور کونے میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔ شیرے کی ماں شیرنی کی طرح لپک کر شادی خان کو اُچک کر چارپائی پر لے جاچکی تھی۔ وہ پوری تفصیل جاننا چاہتی تھی۔ شیرے کی بہنیں سہمی سہمی اُسی چارپائی کے پائیوں پر جھکی گفت گو کی طرف متوجہ تھیں۔ مگر شادی خان کے پاس نہ کچھ تھا نہ ہی بتا سکا۔ تھوڑی دیر کے بعد مسجد سے اعلان ہورہا تھا کہ راجا بہادر خان کا بیٹا سپاہی شیر محمد سیاچین میں شہید ہوگیا ہے۔ جنازے کا اعلان کل میت آنے کے بعد کیا جائے گا۔
    بس پھر کیا تھا، آناً فاناً پورا گائوں ان کے گھر موجود تھا۔ رونے کی چیخ و پکار میں عورتوں کے بین مزید اضافہ کررہی تھی۔ لوگوں کے گھروں سے چارپائیاں آرہی تھیں۔ پڑوسیوں نے سارے ڈھور ڈنگر اپنے یہاں منگوا لیے تھے اور جگہ کو چار پائیوں کے لیے صاف کردیا تھا۔ قریبی رشتہ داروں کی طرف سے کھانا بھی آگیا تھا۔ مگر دکھی دلوں میں کہاں کچھ کھانے کی تمنا تھی۔
    رات ہوچکی تھی۔ گھر والوں کا دماغ تو تقریباً مائوف تھا۔ رشتہ داروں اور دوست احباب کو اطلاع بھجوائی جارہی تھی۔ نوجوان گھوڑوں، سائیکلوں اور موٹرسائیکلوں پر بے لوث یہ ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ کسی نے خود سے سوزوکی پک اپ نسیم کے میکے والوں کو لانے کے لیے ان کے گائوں بھجوا دی تھی۔ نسیم خود گُم صُم بچے کو بانہوں میں بھینچے برآمدے کے ستون سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی تھی۔
    رات کافی بیت چکی تھی۔ رش بھی تھم گیا تھا۔ مگر پھر بھی کافی مرد و زن اندر اور باہر موجود تھے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ذہن کے مطابق شہادت کے بارے قیاس آرائیاں کررہا تھا۔ مگر سب کی متفقہ رائے تھی کہ گولی سینے پر کھائی ہوگی اور کئی دشمنوں کو مار کر شہید ہوا ہوگا۔ کوئی زندگی کے قصے سنا رہا تھا، تو کوئی کبڈی کے کارنامے۔ ماں اس کی لائی ہوئی چیزوں کو سینے سے لگا کر رو رہی تھی تو بھائی اپنے اکیلے رہ جانے کے احساس سے پر آنسو بہا رہا تھا۔ والد بہادر خان بتا رہا تھا کہ ایک ہفتہ بعد تو اُن کی یونٹ نے سیاچین سے واپس آجانا تھا۔ تب اس کو ایک مہینہ کی چھٹی مل جانی تھی۔ ابھی یہ یادگار یادیں بانٹی ہی جارہی تھیں کہ باہر سے خواتیں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ شاید نسیم کے گھر والے آ گئے تھے پھر سے کہرام مچ گیا۔ ہر عورت شیر محمد کی والدہ اور بیوی سے گلے لگ کر رو رہی تھی اور اپنے جذبات سے مغلوب ایسے دل خراش بین کررہی تھی کہ اپنے تو اپنے، غیر بھی سسکیوں کے ساتھ رونے پر مجبور تھے۔ مگر کیا مجال کہ نسیم کی آنکھوں سے ایک قطرہ بھی ٹپکا ہو۔ وہ پتھر کی مورتی کی طرح بے حس و بے جان بیٹھی رہی۔ کون سویا تھا رات کو مگر، جس نے بھی صبح دیکھا نسیم اسی جگہ بیٹھی پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ خلائوں میں گھور رہی تھی۔
    شیر محمد کے گھر والوں کے لیے تو زندگی تھم چکی تھی مگر قدرت کے شب و روز رواں دواں تھے۔ جوں جوں سورج بلند ہورہا تھا۔ لوگوں کا رش پھر سے بڑھتا جارہا تھا۔
    ”بھائی بہادر اللہ دی مرضی” یہ وہ ڈائیلاگ تھا جو مردوں میں بہ کثرت استعمال ہورہا تھا اور عورتوں میں بھی شیر محمد کی والدہ ہر کسی کو جواب میں کہہ رہی تھیں۔ ”بس جی اللہ دی مرضی”۔ ماحول انتہائی سوگوار تھا۔ نسیم کو غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ اتنی دیر سے بھوکی پیاسی تھی، یہ حالت تو ہونی ہی تھی۔
    ”نسیم بیٹے کچھ کھا پی لو۔ اپنے لیے نہ سہی اس ننھی سی جان کے لیے ہی سہی۔”




  • انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

    انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

    نہ جانے اس سے پہلے کا موسم کیسا تھا۔ کسی بہار کسی خزاں کا کچھ پتہ نہیں تھا آگاہی کو صرف کچھ نقوش چھوڑے تھے۔ نقوش بھی کہیں پر صاف اور واضح تھے تو کہیں پر زمانے کے گردوغبار سے گردآلود اور دھندلا چکے تھے۔ جس سے وہاں کے موسم کے مزاج سے واقف ہونے ، صورت حا ل کا اندازہ لگانے اور اُس کو صحیح طرح سمجھنے میں اور بھی دقت پیش آرہی تھی۔ جو تھوڑے بہت صاف نقوش تھے وہ بھی حل طلب تھے۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ اک ویران سٹرک پر پڑا تھا جس کی چاروں جانب حد نظر تک ویرانی تھی۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے چند قطریں تھے جس سے اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور ڈروخوف کے آثار صاف ظاہرہورہے تھے ۔ پسینہ ہاتھ سے پونچھ لیا اور چاروں جانب نظر دوڑائی مگر عقل کے پردے پر کچھ عیاں نہ ہوا کہ ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے جہاں کوئی اپنا نہ ہو، جہاں موسم بھی اجنبی ہو، فضاء میں اپنائیت کا مادہ ناپید ہو، ہر ڈگر ہر راستے میں انجانا پن ہو۔ اُس گمنام منظر کے پیش کردہ عکس کے باوجود بھی وہ ہمت نہ ہارا۔اٹھ کھڑا ہوا اور سامنے سنسان راستے پر چل پڑا۔ راستہ کچھ بے معنی سا معلوم ہور ہاتھا لیکن کوئی مقصد تھا، کوئی منزل تھی جو نظروں سے اوجھل تھی مگر اسے کھوجنے کی جستجو اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔





    ابھی اس نے منزل کو پانے چند قدم اٹھائے ہی تھے کہ راستے کے عین بیچ و بیچ چند چھوٹے چھوٹے پتھر نظر آئے جس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن پھر بھی جان بوجھ کر دل چسپی لی۔ کچھ دیر وہ پتھروں کو دیکھتا رہا۔ فیصلہ کرنے کا اختیار اس کو اپنے اوقات سے پھلانگنے پر اُکسا رہا تھا۔ اس نے پتھروں میں سے دو کو اٹھایا جنہیں وہ اٹھانا چاہتا تھا اور باقی سڑک پر پڑے پتھروں کو لات ما ر کر سامنے سے ہٹا دیا۔ ہاتھ میں لئے دو پتھروں سے من کو بہلانے لگا۔ وہ پتھروں کو ایک ہاتھ سے اُچھال کر دوسرے میں اور دوسرے سے اچھال کر پہلے والے ہاتھ میں کیچ کر نے لگا۔ اسے پتھروں سے کھیلنے میں مزہ آرہاتھا۔ جی بھر آنے پر نظر انداز کردیا۔ پھر دونوں پتھروں کو اُس بھانت سے پکڑا جس سے یوں ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ دونوں کو تول کر ایک دوسرے سے موازنہ کر رہاتھا۔ سیدھے ہاتھ والا پتھر دوسرے کی نسبت وزنی تھا جسے رکھ کر دوسرے کو پھینک دیا۔ ماحول سے اثرانداز ہونے کی وجہ سے زورزور سے ہنسنے لگااور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر بولا:
    "پاگل ہوں۔۔۔۔! پاگل ہوں میں، سنو میں پاگل ہوں میں۔”
    خودپرستی اور فطرت سے مجبور ہوکر اس پتھر کو بھی پھینکنے کا ارادہ کر لیا جس کو اس نے باقی سارے پتھروں پر فو قیت دی تھی جو اس کو بھا ری، جاذب نظر اور سفر طے کرنے کے دوران جی بہلانے کے لیے اچھا لگا تھا۔ اس نے وہ پتھر بھی پھینک دیا اور رُکے قدم پھر سے منز ل کی کھوج میں اٹھے۔
    طویل سفر کے بعد جب تھک گیا تو ایک طرف بیٹھ گیا، تھکا ہارا جسم اور کھویا دماغ دونوں ساتھ نہیں دے پارہے تھے۔ ادھراُدھر دیکھ رہا تھا کہ شاید کوئی ہو جو اسے راستہ دکھائے، کوئی ایسا جو اسے منزل تک پہنچائے۔ وہاں بیٹھے تھوڑی دیر گزری ہی تھی کہ اس کے ذہین میں اک خیال آیا۔ وہ اچانک زمین پر یوں بیٹھ گیا جیسے بچے کھیلنے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ بھی اس طرح سے کھیلنے لگا، اسی طرح تصویریں بنانے اور مٹانے لگا، اُلٹی پلُٹی لکیریں کھینچنے لگا جس طر ح بچپن میں ہوتا ہے۔ وہاں وہ ایسے مگن ہوگیا کہ بھول ہی گیا کہ وہ مسافر ہے۔ اس انجان راہ پر جی لگانا اسے منزل کو پالینے کی آس سے محروم کرسکتا ہے۔ یہاں کے عارضی لطف اسے من کی آواز سے روشناس کرانے نہیں دے گی۔ ایسا لگنے لگا کہ وہ سب کچھ فراموش کر چکا ہے۔ راستے میں حائل مشکلات کے چنگل میں وہ بری طرح پھنس گیا ہے۔ وقتی طور پر تھوڑی بہت خوشی بھی اس کے چہرے پر نمایاں ہو چکی تھی۔ جس کو وہ کل کائنات سمجھ بیٹھا تھا۔ یوں نادانوں کی طرح کھیلنا اس کے لیے وقت کے ضیاع سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا۔ جہاں وہ خو د کو جس ماحول سے واقف کروانے کی کوشش کر رہا تھا سب اس کی نادانی اور کم فہمی تھی کیوں کہ وہ اس کے کردار کے بالکل منافی تھا مگر جب اند ر کی دستک سنائی دینے لگی اور عقل پر چمک پڑی تو کھیلتے کھیلتے اچانک اٹھ گیا اور کھیلنے پر پشیمانی ظاہر کی۔





    "چاروں طر ف ویرانی ہے خاموشی ہے خوف ہے ۔ ناجانے کہاں ہے میری منزل؟ کہاں جارہا ہوں میں؟ اور کتنا ڈھونڈوں گا اپنی اس نامعلوم منزل کو۔ کب تک گم نامی کے اس وسیع وعریض سمندر میں یوں بے بسی سے خود کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مارتا رہوں گا جس کا ہر قطرہ اپنے اند ر گم نامی اور حیرت کا ایک الگ جہاں سمائے ہوئے ہے۔ ہر پل ہر لمحے نئے امتحانا ت سے واسطہ پڑتا ہے۔”
    ناجانے اس طرح کے اور کتنے سوالات اس کے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ اس نے لمبی آہ بھری اور پاس ہی چٹان کے ساتھ آنکھیں بند کر کے ٹیک لگا لی۔ ٹیک لگاتے ہی اس کے دماغ میں امید کی ایک کر ن چمکی، شاید اس کی آنکھوں کو ئی امید بھر آئی تھی۔ اس نے آنکھیں کھول کر اوپر چٹان کی بلندی کو دیکھا تو اوپر چڑھنے کی تمناّپیدا ہوئی جو ازل سے ہی فطرتوں کا لا حاصل ٹکڑا رہا ہے۔ ہمیشہ سے جو خواہشوں کی مترجم بن چکی ہے۔ وہ بلا کسی تا خیر کے اوپر جانا چاہتا تھا کیوں کہ اونچائی اور وہاں کی فضا اسے اپنی جانب راغب کر رہی تھی جسے وہ ہر حال میں پانا چاہتا تھا۔ اٹھ کھڑا ہو ا اور جلدی اوپر چڑھنے لگا۔ چڑھتے وقت اس نے صحیح غلط، غرض کسی راستے کی کوئی پرواہ نہ کی اور بالآخر اوپرپہنچ کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فضا میں لہرانے لگا۔
    "کوئی ہے۔ ارے کوئی ہے جو میری مد دکر ے؟” مجھے یہاں اس مشکل سے نکالے۔ "اپنے ہم ذات اور ہم اثر سے مد د اس کے کوئی خاص کام نہ آئی۔
    "کوئی میر ی آواز سن رہا ہے؟”
    وہ نظریں دوڑاتا رہا۔ چیختا رہا کوئی نہیں تھا اس کی پکار سننے والا۔ اند ر کی امید کا چراغ بجھنے کو تھا کرنیں تاریکی کا روپ دھار رہی تھی لیکن اس نے بجھنے نہیں دیا اور ایک بار پھر کوشش کی۔
    "کوئی ہے۔ کوئی تو آئے میر ی مد د کو ۔ آپ لوگ میر ی آواز کیوں نہیں سن رہے ہیں۔”
    اس بار کی ناکامی نے ساری امیدیں توڑ دی سب ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ آس کے آئینے میں دراڑیں آنے لگی جس نے کوشش کی شکل کو بھی بدنما کر دیا۔
    "میں بھی کتنا بے وقو ف ہوں۔ مد د کے لیے چیخ رہا ہوں وہ بھی ویرانے میں جہاں کسی کا نام ونشان تک نہیں۔ اگر ہوتو میر ی مدد کو کیوں کر آئنگے کہ خود ان پر بھی یہی بیتِ رہی ہوگی۔ بے کا ر رہا سب۔۔۔۔! سب بے کار۔”
    اسے یوں بے جا اپنے ہم ذات سے مد د طلب کر نے کا احساس ہونے لگا تھا جو بالکل بے معنی اور بے ثمر ثابت ہورہاتھا ۔ وہ اترنے کی نیت سے مڑنے ہی والاتھا کہ کہیں سے اسے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو دور ایک چھوٹا سا کمر ہ تھا جس کے سامنے اور اردگرد مختلف رنگوں کے کپڑے بندھے نظر آرہے تھے ۔ یہ دیکھ کر اس کا مایوس چہرہ یوں کھل اٹھا جیسے بنجر زمین پر بارش کی بوندیں آگری ہواور تپش کا زور ختم ہوچکا ہو۔




  • آدھا سورج —- امایہ خان

    آدھا سورج —- امایہ خان

    تنگ گلی کے دونوں کناروں پر بنے فٹ پاتھ انہی لوگوں کے قبضے میں تھے۔ جن کی صورت بھک منگوں جیسی اور حرکتیں پاگل دیوانوں جیسی تھیں۔ دیواروں سے ٹیک لگائے، آنکھیں بند کیے چند جلالی پیر بھی تھے جنہیں ہر گزرتے شخص کے قدموں کی آہٹ پر ”حق اللہ” کا نعرہ لگانا یاد آجاتا۔ غیر متوجہ زائرین کے گزرجانے کے بعد وہ اپنی کمر کے پیچھے چھپے ہاتھ کو باہر لاتے اور سیاہ ہونٹوں کے کنارے پر باقی ماندہ چرس کا سگریٹ اڑس لیا جاتا۔
    مزار کے سامنے لوگوں کی کثیر تعداد دیکھ کر وہ بہت پہلے ہی گاڑی سے اترگئی تھی۔ یہاں تک چل کر آتے آتے اسے رستے کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکا اور شاید غلطی سے وہ اس پچھلی سڑک پر آگئی تھی۔ جہاں ڈیرہ ڈالے تمام افراد کا کھانا پینا چڑھاوے چڑھانے والوں کی ذمہ داری تھا۔ منت مانگنے، اتارنے آئے اکثر لوگ صاحب مزار کے پاس پہنچنے سے قبل ان فقیروں کے منہ سے اپنے لیے دعائے خیر سننے کے عوض جیبیں خالی کردیتے۔ ان کے نزدیک یہ بھی اللہ والے تھے جو اپنا گھر بار چھوڑے یہاں صاحب مزار کے عشق میں چُور محض لوگوں کی بھلائی کی خاطر رل رہے تھے۔ گندگی اور غلاظت کی بو اور تیز اگربتیوں کی مہک آپس میں دست و گریبان تھیں…. کبھی ایک حاوی ہوجاتی تو کبھی دوسری…. فضا ایسی تھی جیسے کثیف دھوئیں کے غبار گلاب کی خوشبو میں لپیٹ دیے گئے ہوں۔ وہ سیاہ بڑی سی چادر اوڑھے تیز قدموں سے چلنے کی کوشش کرتی ہوئی مزار کے اندر پہنچنا چاہتی تھی۔ مگر چلنے کا رستہ کہاں تھا… ہر دو قدم پر اسے ٹھہرجانا پڑتا۔ جب تک نکلنے کی راہ ملتی وہ ان فقیروں کو حسرت سے دیکھتی جو بہ ظاہر دنیا کے جھمیلوں سے آزاد مست زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے۔ پھر آگے بڑھتے وہ اپنی چادر درست کرتی چلنے لگتی۔ اسے یوں چادر میں چھپنے کا کوئی شوق نہیں تھا یہ تو مجبوری تھی، بیلا نے کہا تھا اپنے معمول کے حلیہ میں اسے مزار میں داخل ہونے کی اجازت ہر گز نہ ملے گی مجبوراً اسی کا شلوار قمیص پہننا پڑا جو اس کے ناپ سے کافی بڑا تھا۔ جھبلا نما قمیص اور جھول والی شلوار… اوپر سے نہایت میلا اور بدبودار اس کی ماں کی ہدایت پر ہر دم گھر کو چمکانے میں مصروف اس ملازمہ کا پسینے میں شرابور وجود شاید اس قابل نہیں تھا کہ اس پر توجہ دی جاتی یا کم از کم اتنا ریلیف تو دیا جاتا کہ وہ خود بھی اسی طرح صاف ستھری رہے جیسا گھر کی رکھتی ہے۔ اس کا دل اور دماغ اتنے well trained تھے کہ بنا سوچے سمجھے ہر مسئلہ کی جڑ اس کی ماں ہی قرارپاتی اور نہیں تو کیا؟ میں جو بے چین روح کی طرح پورے شہر میں …. جی ماری پھرتی ہوں…. سکون کی تلاش میں ….. اس میں قصور کس کا ہے؟





    اس کا دھیان حال میں تب واپس آیا جب وہ مزار کے احاطے میں داخل ہوکر سیڑھیوں کے سامنے پہنچ گیا سو ڈیڑھ سو سیڑھیاں چڑھ کر عقیدت مند صاحب مزار سے اپنی مرادیں مانگنے جارہے تھے۔ وہ بھی ان میں شامل ہوگئی۔
    ”وہ دیکھو اس پر حاضری آئی ہے” اپنے ساتھ چلتی دو عورتوں میں سے ایک کو نہایت جوش سے کہتے اور سامنے دیکھا، کچھ بھی سمجھ نہ آیا جائے۔ وہ کس طرف متوجہ ہوئی تھیں جو تیزی سے آخری چار سیڑھی پھلانگتی مزار سے پہلے والے کمرے کے دروازے پر جا کھڑی ہوئیں اور ایڑیاں اچک اچک کر سروں کے اوپر سے اندر جھانکنے کی کوشش کرنے لگیں۔ ابھی اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا تھا اور نہ ہی کوئی باہر جاسکتا تھا سب جہاں کے تہاں ٹھہرگئے تھے۔ اس چوکھٹ پر جہاں رنگ بہ رنگ موتیوں کی جھالر کچھ تازے کچھ باسی پھولوں کی لڑیاں جابجا لٹک رہی تھیں۔ کھلے صحن کے ایک طرف دیوار پر جالی خانوں میں کبوتر بیٹھے تھے اور کچھ کابکیں خالی تھیں۔ اس نے بھرپور نظر چاروں اطراف دوڑائی، دیوار کے کونے سے…. جہاں چپلیں سنبھال کے بیٹھا شخص لوگوں کو نمبروالی تختیاں پکڑارہا تھا۔ چند پھول فروش تھالیوں میں پھولوں کی پتیاں لیے بیٹھے تھے نیچے گلی میں بھی تو ایسی کئی دکانیں تھیں اس نے، پھولوں کی بھی اور چادروں کی بھی چادریں جن پر اللہ اور رسول کے صفاتی نام خوشنما رنگوں سے چھپے جھلمل ستاروں، ابرق اور افشاں سے سجے تھے ایک قطار میں آخر تک چلتے اس نے ہر شوخ رنگ کپڑے پر لکھے کلمات پڑھ ڈالے تھے یہ چادریں قبر پر چڑھائی جاتی ہیں یا انہیں شانوں پر اوڑھا جاتا ہے اسے دونوں باتوں کا علم نہیں تھا۔ کسی بھی مزار پر آنے کا یہ پہلا تجربہ تھا جب سے سنا تھا درگاہوں پر سکون ملتا ہے۔ مرادیں پوری ہوتی ہیں، اس نے یہ در بھی کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور آج صاحب قبر کی کرامت کا امتحان لینے پہنچ گئی تھی۔
    یہاں آکر دیکھا تو بھانت بھانت کے لوگ نظر آئے۔ نیاز دینے والوں کا رش، لنگر کھانے والوں کو ہجوم، مانگنے والے فقیر، ناچتے ملنگ، دھمال ڈالتے مرید، نرینگے پھونکنے والے، سارنگی بجانے اور گانے والے جانے کون سا کلام پڑھ رہے تھے وہ سمجھ ہی نہ پائی۔ عجب میلہ سا لگا تھا، یہ ماحول یہ شور کچھ عجیب ہی تھا جیسے کسی نئی دنیا میں آگئی تھی وہ۔ مزار میں داخل ہونے سے پہلے وہ اس شخص کے پاس سے گزری جو تہ شدہ بوری پر آلتی پالتی مارے بیٹھا ایک جوڑی جوتے کی حفاظت کے عوض چار روپے وصول کرتا اپنی ٹوپی میں ڈال رہا تھا جسے اسے الٹا زمین پر رکھا ہوا تھا۔ ایک لمبی ڈوری کا آخری سرا مسلسل اس کے ہاتھ میں تھا جس میں نمبر والی تختیاں پروکر ڈالی ہوئی تھیں پیسے لے کر وہ ایک تختی جوتے میں ڈالتا اور دوسری زائر کو پکڑادیتا۔ مگر اسے تو جوتے اتارنے ہی نہیں تھے وہ پہلے ہی سے ننگے پائوں تھی۔ یونہی مزار کے اندر داخل ہوگئی وہاں موجود بھیڑ انہی جیسے لوگوں پر مشتمل تھی جنہیں وہ باہر چھوڑ آئی تھی۔ اس نے سامنے قبر کی طرف دیکھاجس کے گرد سب دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے، چند ایک غموں سے چور قبر کے سرے پکڑ کر زمین پر بیٹھے رورہے تھے۔ گڑگڑانے اور گھگیانے سے اسے کوئی دل چسپی نہیں تھی وہ کھڑے ہوئوں کے نزدیک چلی آئی باری باری وہ ہر ایک کے قریب چند سیکنڈرز کے لیے پنجوں کے بل اچک کر ان کی دعا کے الفاظ سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتی پھر آگے بڑھ جاتی۔ بآواز بلند دعا مانگنے والوں کی مہربانی سے اس کا آدھا وقت یوں ضائع ہونے سے بچ گیا۔
    یہاں بھی فضا میں اگر بتیوں کے ساتھ وہی بو شامل تھی جو خوش گوار تو ہر گز نہیں تھی مگر دماغ کی نسوں میں گھسی چلتی رہی تھی…. معلوم نہیں کیا تھا؟…. پر کچھ اثر تھا ضرور…. جو اسے پیچھے رہ جانے والی دنیا کے ہر خیال سے دامن چھڑالینے میں مدد دے رہا تھا۔ اپنا وجود یک دم بھاری سا محسوس ہونے لگا تو وہ زمین پر ہی دیوار سے ٹیک لگائے چند زائرین کے درمیان جگہ بنا کر بیٹھ گئی۔
    اس نے پہلے بائیں طرف دیکھا سیاہ چمڑی اور سفید جاٹوں والا، گردن میں رنگ بہ رنگے موتیوں کی ان گنت مالائیں ہزار دانوں کی تسبیح ہاتھ میں لپیٹ کر منہ ہی منہ میں جانے کیا بدبداتا وہ ٹوٹے ناخنوں سے بدرنگ چوغے میں لپٹے بدبودار وجود پر خارش کرتے کرتے اس کی جانب متوجہ ہوا۔ اس کے چہرے پر جابجا سلوٹیں تھیں اور ماتھے پر گہری لکیریں مگر آنکھوں میں شعلوں میں لپک تھی۔ جب کہ اس کی دائیں جانب ایک عورت بیٹھی تھی دھواں دھواں منظر میں تحلیل ہوتی۔
    عام حالات میں شاید وہ ایسے لوگوں کو دور سے دیکھتے ہی بھاگ کھڑی ہوتی پریوں نزدیک آنے کی ہمت ہر گز نہ کرنا مگر اس کی زندگی میں تو عام حالات بھی تھے ہی نہیں… سب کچھ خاص تھا ہمیشہ سے…. بے حد خاص۔ سفید جاٹوں والے بابا نے اپنے ہاتھ سے اس کے ہاتھ میں جانے کیا دیا…. اس نے بھی ساتھ بیٹھی عورت کی دیکھا دیکھی ایک کش لگایا…. بیہوش و خرد آہستگی سے ہاتھ چھڑا کر بھیڑ میں گم ہوگئے۔ ہر کش کے ساتھ منظر دھواں دھواں ہو رہی اور بس ”وہ” یاد آتے تھے پر کیف لمحے…. بے خودی کا عالم….!
    کاش زندگی اسی جنت میں بسر ہو…. ہمیشہ ہمیشہ کے لیے…. اس نے آنکھیں بند کریں اور اندھیروں میں ڈوبتی چلی گئی۔
    ******





    ثروت کافی کے گھونٹ بھرتے ہوئے اخبار کی شہ سرخیوں پر نظر دوڑارہی تھی۔ صبح کا یہ مختصر سا وقت اس کی فراغت کا ہوا کرتا تھا ورنہ باقی دن تو یوں دوڑتے بھاگتے گزرجاتا تھا کہ سانس لینے کی بھی فہرست نہیں ملتی تھی۔ اسی لیے وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ ان اوقات میں وہ اطمینان سے بیٹھ کر اپنی کافی انجوائے کرسکے۔
    ہمیشہ کی طرح اعجاز جلدی میں تھا، اسے پھر دیر ہوگئی تھی۔ صبح بیٹی کو اسکول چھوڑ کر واپس آنے کے بعد اس کے پاس اپنے کپڑے استری کرنے اور تیار ہونے کے لیے کافی کم وقت ملا کرتا۔ پہلے پہل اس نے ثروت سے کپڑے استری کرنے کے لیے کہا تو جواباً لمبی تقدیر سننے کو ملی تھی اس کے بعد یہ گستاخی کم از کم اس نے نہیں دہرائی تھی۔ بہ قول ثروت کے رانا نواز علی کی اکلوتی بیٹی ان کاموں کے لیے پیدا نہیں کی گئی۔ یہ نوکروں کے کام ہیں، اعجاز نے مان لیا مگر کپڑے ہمیشہ خود استری کیے۔ اسے بیلا کے ہاتھ سے کی گئی استری شدہ کپڑے پسند نہیں تھے۔ کہیں نہ کہیں شکن رہ جایا کرتی تھی جسے وہ دوبارہ استری کرکے پہنا کرتا اور پھر نہایت غیر محسوس طریقے سے ان دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو سمجھ لیا۔ اعجاز کو معلوم ہوگیا کسی بھی کام پر اعتراض کرنے سے بہتر ہے اسے خود کرلیا جائے اور ثروت…. اس کے لیے یہی کافی تھا کہ اعجاز نے اسے سمجھ لیا ہے۔
    عام دنوں میں اعجاز ہاتھ میں جوتے پکڑے ڈائننگ ٹیبل تک آتا تھا۔ انہیں وہاں پھینک کر کرسی پر بیٹھ کے ناشتہ زہر مار کرتے ہوئے وہ پائوں جوتوں میں ڈال کر جلد سے جلد گھر سے روانہ ہونے کی کوشش کرتا تھا، مگر آج ایسا نہیں ہوا تھا کیونکہ گزرا کل بہت خاص دن تھا جسے ثروت کی بے حسی نے برباد کردیا تھا۔ رات کو ان کے جھگڑے کے بعد مسئلہ مزید گھمبیر ہوگیا تھا۔ اعجاز کا موڈ ابھی تک خراب تھا شاید اسی لیے ثروت کو یوں اطمینان سے کافی پیتا دیکھ کر وہ مزید جھنجھلاگیا تھا ”ناشتہ تیار نہیں ہوا ابھی تک….؟”
    ثروت نے بنا اس کی طرف دیکھے جواب دیا، ”بیلا بنا کر لارہی ہے….”
    اعجاز نے بڑی جدوجہد سے اپنے پیر بند تسموں والے جوتوں میں گھسیٹتے ہوئے کہا،
    ”جلدی کروادو مجھے دیر ہورہی ہے۔”
    ثروت کو یوں بار بار ڈسٹرب کیا جانا کھولا گیا، اس نے اخبار میز پر پٹختے ہوئے اور سے بیلا کو آواز دی، hurry up بیلا…. فوراً بریک فاسٹ لائو ٹیبل پر….” ”یوں جاہلوں کی طرح چلانے کے بجائے تم خود اٹھ کر میرا ناشتہ لے آئو تو بہتر ہوگا…” اعجاز نے ثروت کو تنگ کرنے کے لیے کہا اور کامیاب رہا۔ ثروت نے جل کر جواب دیا ”میں تمہاری نوکر نہیں ہوں…. بیلا ہے ‘وہ’ پکارہی ہے تو لا بھی دے گی….”
    اعجاز پھر بھی باز نہیں آیا اس نے پکا ارادہ کرلیا تھا جس طرح ثروت نے کل کا پورا دن اور رات برباد کی تھی وہ بھی آج کا دن خراب ضرور کرے گا۔
    ”بیلا میری بیوی نہیں ہے…. تم ہو…. میرا خیال رکھنا تمہارا فرض ہے….” ثروت سلگ اٹھی، ”اور مجھے پریشان کرنا تمہارا…. سکون سے نیوز پیپر بھی نہیں پڑھ سکتی…. تم جج بن کر فیصلے صادر کرتے رہا کرو…. اور میں حکم بجا لاتی رہوں۔” ہر وقت تمہارے ذہن پر اپنا کام سوا رہتا ہے…. آج جج کہہ دیا ہے کل ملزم کہہ دوگی… واہ کیا بات ہے وکیل صاحبہ کی….” اعجاز جان بوجھ کر اسے تنگ کررہا تھا۔
    ”اپنا طنز اپنے پاس رکھو سمجھے…”، ثروت کے جواب نے اسے سمجھادیا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہا ہے۔ ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے اس نے ثروت کے آگے پڑا اخبار اٹھاتے ہوئے بیلا کے لائے ناشتے کی جگہ بنائی۔ ثروت نے ایک نظر ناشتے کی طرف دیکھا اور زیر لب مسکرادی۔ اب جلنے کلسنے کی باری اعجاز کی تھی جس کا موڈ آف ہوچکا تھا۔
    ”یہ کیا بنایا ہے؟” اس نے جلا ہوا ٹوسٹ اٹھا کر غصے سے پوچھا تو بیلا گڑبڑاگئی، ”وہ …. صاحب آپ کو دیر ہورہی تھی تو میں نے آنچ تیز کردی… تھوڑا جل گیا…. آپ ٹھہریں… میں دوسرا لادیتی ہوں….” تیزی سے واپس جاے لگی، مگر اعجاز اسے فوراً روک دیا اور کہا،” رہنے دو میں پہلے ہی لیٹ ہوچکا ہوں…. یہ اسپیشل ناشتہ اپنی میڈم کو، کھلادینا،” پلیٹ کو ثروت کے سامنے پٹختے ہوئے اعجاز اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
    ثروت نے بلاتاخیر پلیٹ کو واپس دھکیل دیا، اس کا دل جلانے کی غرض سے مسکراتا ہوا اعجاز سیٹی بجاتا رخصت ہوگیا۔ بیلا خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی پھر ثروت کی جانب مڑی، تو وہ بھی پیر پٹختی اپنے کمرے میں جاتی نظر آئی…. بیلا نے ایک سرد آہ بھر کر ناشتے کی چیزیں واپس سمیٹتے ہوئے سوچا، ”بڑے ناشکرے لوگ ہیں… اللہ نے ساری نعمتیں دیں پھر بھی جب دیکھو…. لڑتے ہی رہتے ہیں۔”
    ******





    وہ لڑکی piercing کروانے کے دوران غش کھاگئی جونہی اس کی گردن ایک طرف ڈھلکی بون بھی ڈھیلا ہوکر کرسی کی پشت سے ٹک گیا جواد ہڑبڑا کر آدھی اڑی بالی کو یونہی چھوڑ کر اس کی جانب لپکا۔ چلو میں تھوڑا پانی لے کر اس لڑکی کے چہرے چھڑکا مگر پوری طرح بے ہوش ہوچکی تھی۔ چند منٹ پہلے جب وہ لڑکی اس کی دکان کے اندر آئی تھی تو اس کی آمد کا مقصد جان کر اسے شک ہوا تھا کہ وہ لڑکی شاید مذاق کررہی ہے۔ ہاں اس کے پاس عورتیں اپنے کان ناک چھدوانے آیا کرتی تھیں اور آئی بروز کے پاس ایک دور کی piercing بھی کرچکا تھا وہ۔ مگر اس لڑکی کو ناف پر بالی چھدوانی تھی۔ ٹی شرٹ جینز میں ملبوس وہ پر اعتماد لڑکی بہ مشکل پندرہ سال کی ہوگی جو بلا خوف شاپنگ پلازہ کی آخری کونے والی چاندی کے زیورات والی دکان میں یہ کام کروانے پہنچ گئی تھی، اور وہ تن تنہا اس وقت بارہ بج رہے تھے۔ پلازہ میں ایک ایک کرکے تمام دکانیں کھلتی جارہی تھیں۔ مگر گاہکوں کا رش نہیں تھا۔ جواد نے اس کے اصرار پر بالآخر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے شوکیس کے نیچے سے سپرٹ کی بوتل اور روئی کا ٹکڑا نکال لیا۔ اس دوران وہ لڑکی اس چھوٹی سی کرسی پر براجمان ہوگئی اور اپنی ٹی شرٹ کو تھوڑا اوپر سِرکا لیا۔ جواد کے لیے یہ اپنی طرز کا انوکھا تجربہ تھا جب ایک نوجوان لڑکی اس سے یہ کام کرواتے ہوئے بالکل بھی شرم محسوس نہیں کررہی تھی۔ جب کہ وہ خود ایک لڑکا ہونے کے باوجود جھجک رہا تھا۔ بڑی ہمت کرکے اس نے خود کو اس کام کے لیے آمادہ کیا اور اب وہ لڑکی بے ہوش ہوچکی تھی تو جواد اس لمحے کو کوس رہا تھا جب اس نے ہمت کا ارادہ کیا تھا۔ اسے فوراً کسی کو بلانا چاہیے ورنہ خود سے کوئی آگیا تو جانے کیا سمجھے۔ ابھی اس نے سامنے والی دکان پر موجود سلیم بھائی کو آواز دینے کے لیے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے اسی وقت دو خواتین باہر شوکیس میں سجے چاندی کے سیٹ کی قیمت پوچھتی ہوئی اندر داخل ہو گئیں۔ جیسے ہی ان کی نگاہ اس بے ہوش لڑکی پر پڑی وہ ٹھٹھک کروہیں رک گئیں جواد کے تو اوسان خطا ہو گئے، بہ مشکل تھوک نگلتے ہوئے اپنی وضاحت پیش کرتا وہ تقریباً ہلاک ہونے لگا، ”وہ … یہ بالی چھدواتے ہوئے درد سے بے ہوش ہوگئیں شاید…. میں کسی کو مدد کے لیے بلانے ہی والا تھا۔”
    ہر چند کہ وہ سچ بول رہا تھا پر اس کا انداز ان عورتوں کی نظر میں اسے مشکوک بناگیا تھا۔ شاید انہوں نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا تھا۔ دونوں برقع پوش خواتین میں سے ایک تو اس لڑکی کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی جو ذرا بڑی عمر کی خاتون تھیں وہ جواد کے سر ہوگئی ”تم نے کیا کیا ہے اس لڑکی کے ساتھ؟”
    ”باجی…. آپ یقین کریں میں تو صرف اپنا کام کررہا تھا…. یہ بے ہوش ہوگئی…. میں نے پانی بھی ڈالا مگر….”
    وہ عورتیں اس کے گال زور زور سے تھپتھپانے لگیں: ”یہ مرتو نہیں گئی؟ یا اللہ! پانی دو گلاس میں…”، جواد نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ کم عمر عورت نے گلاس لے کر ہاتھ میں پانی بھر بھر کر چہرے پر ڈالا، آوازیں دیں اس کے باوجود وہ ہوش میں نہیں آئی، ”اس کے ساتھ کوئی نہیں تھا کیا؟…. اتنی سی بچی کو کوئی اکیلے اس کام کے لیے کیوں بھیجے گا…. ؟”بڑی اماں جی مسلسل جواد پر ہی شک کررہی تھیں۔ ”تم کہہ رہے ہو یہ بالی چھدواتے ہوئے درد سے بے ہوش ہوئی پر اس کے کانوں میں تو کوئی بالی نظر نہیں آرہی… کہاں ہے بالی…؟” انہوں نے دونوں کانوں کی بالی چیک کی۔ ”جی، وہ…. یہاں piercing کی ہے میں نے….” جواد نے اس کی ٹی شرٹ کی طرف اشارہ کیا۔
    ”کہاں…” وہ کچھ بھی نہ سمجھیں تب جواد کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کے لیے انہیں تفصیل بتانا پڑی۔ بس مصیبت ہوگئی، دونوں عورتیں توبہ توبہ کہتی اپنے کلے پیٹنے لگیں۔ کم عمر عورت نے کسی خیال کے تحت پیروں کے پاس گرا اسکا بینڈ بیگ اٹھاکر شوکیس پر رکھا اور کھول لیا تھوڑی سی تلاش بسیار کے بعد الم غلم سامان سے بھرے بیگ میں سے بالآخر موبائل برآمد ہوگیا۔ اس نے کالز لسٹ کھول کر نام پڑھنا شروع کیے انتہائی بیش قیمت لیٹسٹ ماڈل کا سیل فون…. اس نے ایک بار پھر غور سے اس لڑکی کی طرف دیکھا، ”ہونہہ آج کل ماں باپ بس اولاد کو ڈھیروں آسائشیں خرید کر دینا ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں… کچھ ہوش ہی نہیں بچے کیا کرتے پھررہے ہیں…” Mom کے نیچے درج نمبر کو پریس کرتے ہی کال خود بہ خود ڈائل ہونے لگی۔ ”بیل جارہی ہے۔” اس نے گردن موڑ کر اماں جی کو بتایا جو اس لڑکی کے پرس میں تاکا جھانکی کررہی تھی، چار پانچ بیلوں کے بعد دوسری طرف سے فون ریسیو کرلیا۔
    اس خاتون کو تمام تفصیلات سے آگاہ کرکے چند مزید باتوں کے بعد کے بعد کال ڈس کنیکٹ کردی، اماں جی نے اپنی بہو کے کندھے پر ہاتھ رکھا: ”کیا کہا اس کی ماں نے….؟ کیا آرہی ہے اسے لینے کے لیے؟”
    ”نہیں!… کہہ رہی تھی ڈرائیور باہر پارکنگ لاٹ میں ہوگا۔ اسے فون پر دکان کا نام اور نمبر وغیرہ بتاکر یہاں بھیجتا ہے وہی لے کر جائے گا اسے….”
    انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ اس لڑکی کا ڈرائیور جلد ہی وہاں پہنچ گیا۔ پہلے اس نے باہر سے شاپ کا نام اور نمبر بورڈ پر پڑھ کر زیر لب دہرایا پھر اندر داخل ہوکر اپنی بے ہوش ”چھوٹی میم صاحبہ” کی طرف دیکھا۔ حیرانی کی بات یہی تھی اسے ایسی حالت میں دیکھنے کے باوجود ڈرائیور کے چہرے پر بالکل بھی حیرانی نہیں تھی۔ ڈرائیور نے کوئی سوال پوچھے بغیر اپنی مالکن کا ہینڈ بیگ ایک کندھے پر ڈالا پھر جھک کر اس کا بازو اپنے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے سہارا دے کر اسے کرسی سے اٹھالیا اور یونہی ساتھ لگائے ہوا دکان سے باہر نکل آیا۔ دونوں عورتیں بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر نکل آئیں۔ انہیں کیا خریدنا تھا وہ کس کے لیے بازار آئی تھیں؟ فی الحال یہ سب کچھ غیر اہم ہوگیا تھا۔ وہ ڈرائیور سے بات کیے بغیر آپس میں کھسر پھسر کرتی اس کے ساتھ گاڑی تک پہنچ گئیں۔ ”باجی میری مدد کریںگی؟ آپ چھوٹی میم صاحب کو پکڑلیں یا گاڑی کا لاک کھول دیں۔” اماں جی نے آگے بڑھ کر لڑکی کو ایک جانب سے سہارا دیا تو ڈرائیور نے جیب سے گاڑی کی چابی نکالی بہو نے ڈرائیور کے ہاتھ سے چابی لے کر ہنڈا سٹی کا دروازہ کھول دیا۔ اس لڑکی کو پچھلی سیٹ پر لٹانے میں انہیں دونوں عورتوں نے مدد کی۔ ڈرائیور ان کابے حد شکر گزار تھا، اچھے طریقے سے شکریہ ادا کرتا گاڑی میں جا بیٹھا اور چند منٹ بعد ہی وہاں سے روانہ ہوگیا۔ بہ ظاہر وہ لڑکی محفوظ ہوگئی تھی ڈرائیور انہیں بتاگیا تھا کہ سیدھا ہسپتال جائے گا جہاں اس کی ماں آکر اسے سنبھال لے گی۔ ان دونوں کا اس لڑکی سے کوئی رشتہ نہیں تھا اس کے باوجود وہ اس کے لیے نہایت فکر مند تھیں۔ اگر ڈرائیور نے اس کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کرنے کی کوشش کی تو کون بچائے گا اسے؟ آخر کو وہ بھی غیر مرد ہے اور جوان بھی۔ ”چلیں امی گھر چلیں۔” بہو نے اماں جی کو مخاطب کیا جو ابھی تک اس جاتی گاڑی کو دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے مُڑ کر اپنی بہو سے کہا: ”ضرور یہ لڑکی نشہ کرتی ہے۔”
    ******





    شام کو اعجاز گھر کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوا ثروت اسے لائونج میں صوفے پر بیٹھی کسی شخص سے بات کرتی نظر آئی۔ اس نے اعجاز کی آمد محسوس کرنے کے باوجود اپنی گفت گو جاری رکھی، ”کیا نام ہے تمہارا….؟”
    ”جی دلاور…. میں بیرسٹر شفیق صاحب کے گھر آیا ہوں۔”
    ”ہاں مجھے بتایا تھا انہوں نے… چلو ٹھیک ہے تم صبح سات بجے آنا…. تمہاری نوکری پکی…” ”شکریہ میڈم…” دلاور ممنونیت سے کہتا جیسے ہی مڑا اسے اعجاز نظر آیا:” السلامُ علیکم صاحب….”، اعجاز نے خفیف اشارے سے اس کے سلام کا جواب دیا اور دلاور کے جاتے ہی ثروت سے پوچھا: ”کون تھا یہ؟”
    ”میں نے حسن سے بات کی تھی ڈرائیور کے لیے… اس نے اپنے جاننے والوں کے پاس سے بھجوادیا اسے” ”اور تم نے اسے کام پر رکھ لیا…؟” اعجاز کا دماغ گھوم گیا۔
    ”ہاں تو… ہمیں ضرورت تھی ایک ڈرائیور کی… عماریہ کے اسکول پک اینڈ ڈراپ میں مسئلہ نہیں ہوگا….” ثروت نے بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور اسی انداز پر اعجاز کو غصہ آگیا ”میں نے صرف ایک بار تم سے عماریہ کو پک کرنے کے لیے کہا اور تم نے ڈرائیور بلالیا… کوئی ضروت نہیں ہے… میں ہر گز اجازت نہیں دوںگا کہ میری بیٹی ایک غیر آدمی کے ساتھ آئے جائے۔”
    ”اور میں بھی ہر گز اجازت نہیں دوںگی کہ تم عماریہ کو اسکول سے لاتے لے جاتے اسے میرے خلاف بھڑکاتے رہو…” ثروت بھی بھری بیٹھی تھی آج دوپہر میں اعجاز نے میٹنگ کی وجہ سے ثروت کو عماریہ کے اسکول جاکر اسے پک کرنے کے لیے کہا تھا، وہ بھی عین وقت پر، آفس سے نکلتے وہاں پہنچتے ثروت کو کافی وقت لگ گیا اور تب اسکول خالی ہوچکا تھا۔
    گاڑی میں بیٹھ کر عماریہ ماں سے سیدھے مُنہ بات نہیں کررہی تھی جب ثروت نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کے پاپا نے ہی دیر میں اطلاع دی اور اس کا اتنا قصور نہیں۔ اس وضاحت کو اس نے قبول نہیں کیا تھا، اس کے خیال میں ثروت اپنے کام میں اس قدر مگن رہی کہ اسے اعجاز کی کال ریسیو کرنے کی فرصت نہیں ملی تھی بالکل اسی طرح جس طرح دو دن پہلے وہ عماریہ کی برتھ ڈے بھول گئی تھی، آج عماریہ کو بھی بھول گئی تھی۔
    اپنی بیٹی کی بدگمانی دیکھ کر ثروت کو شاک لگا تھا۔ ہاں یہ بات درست تھی کہ اس دن وہ مصروفیت کے سبب اعجاز کی کال ریسیو نہیں کررہی تھی لیکن اگر وہ واقعی چاہتا تھا کہ بیٹی کے سالگرہ میں اسے شامل کرے تو ایک دن پہلے اسے بتا تو سکتا تھا۔ وہ بھول گئی تھی تو یاد کروادیتا مگر اس نے ایسا کرنے کے بجائے بیٹی کی نظروں میں ماں کو ویمپ میں بناکر جس طرح پیش کیا وہ ثروت کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اور اس بات کا حساب وہ اعجاز سے بے باک نہ کرتی یہ ممکن نہیں تھا۔
    ”تم اتنے شاطر انسان ہو…. میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی… تم نے گھر میں پارٹی رکھی عماریہ کے سب دوستوں کو بلالیا لیکن مجھے بتایا تک نہیں….”
    ”کیوں؟ تمہیں اپنی اکلوتی بیٹی کا برتھ ڈے یاد نہیں تھا۔ تم پیدا کرکے اسے بھول گئی ہو اسے…” اعجاز کے ترکش میں بھی تیروں کی کمی نہیں تھی۔
    ثروت پل بھر کے لیے لاجواب ہوئی، پھر جیسے اسے اعجاز کا مسئلہ سمجھ آگیا: ”دراصل تم مجھ سے جیلس ہو… اس لیے خوامخواہscene createکرتے رہتے ہو….”
    اعجاز کو اس کی سوچ پر افسوس ہوا،” تم ماں ہوکر بیٹی کی ضروریات کو اتنا سرسری لیتی ہو؟ کیا تمہیں نظر نہیں آتا وہ دن بہ دن تم سے دور ہوتی جارہی ہے؟”
    ”تم تم ہر وقت اسے میرے خلاف بھڑکاتے رہوگے، poison کرتے رہوگے تو یہی ہوگا،”
    اعجاز نے جواباً اسے چیلنج کیا،” اگر تمہیں لگتا ہے یہ میری باتوں کا اثر ہے تو جائو…. غلط ثابت کردو مجھے…. اپنا کام چھوڑو گھر پر بیٹھو… اسے ٹائم دو… تاکہ اسے یقین آجائے کہ تم اس سے واقعی محبت کرتی ہو،”
    ”تمہاری نظرمیں تو ہر مسئلے کا حل بس یہی ہے کہ میں کام چھوڑ کر گھر بیٹھ جائوں۔” ”بالکل… ہمارے مسئلے ہی تمہارے کام کی وجہ سے ہیں۔”
    ”دراصل تم یہ برداشت نہیں کرپارہے کہ میں تم سے زیادہ کامیاب ہوں۔”
    ”میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تم نہایت غیر ذمہ دار عورت ہو…. اور ایک بہت بری ماں…”. ثروت جاہل عورتوں کی طرح ہاتھ نچاتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔
    ”تم بہت اچھے باپ ہونا….. آئندہ مجھ سے مت کہنا اسے pick کرنے کے لیے…. ”اس کے پیچھے آتے ہوئے اعجاز دھاڑا ”نہیں کہوںگا…. عماریہ میری بیٹی ہے… اور میں اس کے لیے وہ سب کچھ کروںگا جو تم نہیں کرسکتیں… میری طرف سے جہنم میں جائو… ”ثروت نے کمرے کا دروازہ اس کے منہ پر بند کرتے ہوئے کہا، "You too go to hell!””
    *******




  • آدھا آدھا ملے تو ہوئے پوری دنیا —- نظیر فاطمہ

    اس بڑے سے شہری اور دیہاتی امتزاج سے بنے گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ سفیدے کے لمبے لمبے درخت ایک قطار سے کھڑے تھے۔ایک درخت کے تنے میں فاختہ کا گھونسلہ تھا۔ فاختہ کے بچے گھونسلے سے سر نکال نکال کر باہر دیکھ رہے تھے ۔سفیدے کے درختوں کے پتے ہلکی ہوا کے سنگ جھوم رہے تھے۔ آسمان کے شمالی کناروں پر اودے اور ہلکے سرمئی رنگ کے بادل اُڑتے پھر رہے تھے ۔ ڈوبتے سورج کی پیشانی سے پھوٹتی کرنیں ان درختوں میں سے چھن چھن کر عجیب دل کش منظر پیدا کر رہی تھیں۔ لان میں کھلے پھولوں کی رنگین ادائیں اپنی جلوہ طرازیاں دکھا رہی تھیں ۔ ایسا دلکش منظر کے دیکھنے والا کھو سا جائے مگر یہ منظر اسی گھر کے ٹیرس پر بیٹھے مقدم چوہدری کی ذرہ برابر توجہ اپنی طرف نہیں کھینچ سکا تھا۔ وہ اُ داس سا خود میں گم سا بیٹھا تھا ۔ یہ الگ بات تھی کہ اس پر یہ اُداسی ذرا سوٹ نہیں کر رہی تھی ۔
    مقدم چوہدری ۔۔مراد چوہدری کا اکلوتا سپوت۔۔۔۔دو مائوں(ایک پیدا کرنے۔۔۔ دوسری پالنے والی) کا لاڈلا بیٹا ۔۔۔ایک بہن کا پیارا بھائی ۔۔ ۔ دادا، دادی کی جان ،اتنے رشتوں کے ہوتے ہوئے بے چارا اُداس اور پریشان بیٹھا تھا ۔وجہ تھی اس کی شادی خانہ آبادی ۔شادی جس کا ذکر خوشی لاتا ہے مگر مقدم چوہدری کے لیے اس کی شادی ایسا درد ِ سر بنی ہوئی تھی جس کا علاج کسی ڈسپرین سے بھی ممکن نہیں تھا۔بیٹے کی شادی کرنی ہو تو ہمارے ہاں ایک ماں کے نخرے سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے ، اس کی تو پھر دو دو مائیں تھیں۔یہیں سے اس کی شامت شروع ہوئی تھی کہ اس کی شادی کے لیے اس کی مائوں کے نخرے آپس میں ٹکرا کر اس کی راہ کی رکائوٹ بن گئے تھے حالاں کہ ساری زندگی اس کی مائیں سوتنیں ہونے کے باوجود شیر و شکر رہی تھیں۔مشکل یہ تھی کہ مقدم چوہدری چاہ کر بھی اپنی کسی ایک ماں کا دل بھی نہیں توڑ سکتا تھا کہ دونوں اس سے برابر کی محبت کرتی تھیں، واری صدقے جاتی تھیں ۔مقدم چوہدری کی پریشانی کو سمجھنے کے لیے آپ کو تھوڑا پیچھے ماضی میں جھانکنا پڑے گا ۔تو آئیے چلیے پھر ۔۔۔۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





    مراد چوہدری وسیع زمینوں کے مالک تھے۔ انہیں چار بہنوں کے اکلوتے بھائی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ پڑھے لکھے تھے مگر رہن سہن اور مزاج خالص چوہدرانہ تھے۔ ان کی پہلی شادی ان کی پھوپھوزاد نگین سے ہوئی تھی۔وہ دل میں اپنی ایک کالج فیلو کے لیے پسندیدگی، نہیں ۔۔نہیں۔۔ قدرے محبت کے جذبات رکھتے تھے اور اس کو دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں یہ شعر پڑھتے تھے۔
    کتھے جے میرا وس ہووئے
    تیری ماں میری سس ہو وئے
    اب دل کی ہر خواہش پوری تو نہیں ہو تی ۔ یہی مراد چوہدری کے ساتھ بھی ہوا کہ اپنے ابا کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اوران کے دل کی دل میں ہی دب کر رہ گئی ۔
    ”جب تک ”پھوپھیوں ” کی ”بیٹیاں” سلامت رہیں گی ”ماموئوں ” کے ”بیٹوں ” کو یونہی اپنے جذبات پر فاتحہ پڑھنا پڑے گی۔” چوہدری مراد یہی سوچ کر راضی بہ رضا ہو گئے۔ نافرمانی کا انجام جو جانتے تھے۔ گھر بدری اور جائیداد سے عاق ہونا۔۔اب وہ اتنے بھی مریض ِ عشق نہ تھے کہ دل کی خواہش پوری کر کے اپنی” دنیا ”خراب کر لیتے اور ان کی اس کلاس فیلو کو ان کے ارادوں کی بھنک تک نہیں تھی تو پھر وہ کس بل بوتے پر آگ میں کود جاتے ۔ویسے بھی آگ کے دریا میں ڈوب کر جانا ہر عاشق کے بس کی بات نہیںہے۔
    مراد چوہدری کی والدہ اپنی بھانجی کو بہو بنانا چاہتی تھیں مگر شوہر کے آگے ان کی بھی ایک نہ چلی اور نگین عرف نگو ان کے گھر کی بہو قرار دے دی گئی۔نگو اکلوتی تھی۔ باپ اس کے بچپن میں چل بسا تھا۔ اماں نے ساری عمر محنتیں کر کے اسے پالا پوسا تھا۔ ساری شادی کے دوران مراد چوہدری کے ابا خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتے رہے ، اماں منہ پھلائے رہیں اور بہنوں نے بھائی کی شادی کے خوب خوب ارمان نکالے۔مہندی کی رات بھنگڑے اور لُڈیاں ڈالتی رہیں۔ناچ ناچ کر تھک گئیں تو ڈھولک سنبھال لی ۔ساری رات ڈھولک بجا کر گانے گا تی رہیں۔
    ”میں اُڈی ُڈی جاواں ہوا دے نال۔۔۔۔۔۔”
    ”میں اُڈی ُڈی جاواں ہوا دے نال۔۔۔۔۔۔”
    یہ گانا مراد چوہدری کی سب سے بڑی بہن شہناز بی بی گا رہی تھی جو صحت مندی کے آخری مقام پر تھی۔ پورے چھے من کی ۔۔۔نہ رتی اِدھر نہ رتی اُدھر۔ اُوپر سے اتنے کام والا جوڑا کہ جس کا دوپٹہ ہی سیروں کے حساب سے وزنی تھا ۔ اس کے بعد جو زیورات اُس نے پہن بلکہ لاد رکھے تھے ، ان کاوزن بھی کلو دو کلو تو ضرور ہی تھا۔ ایسے میں اول تو اُڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بالفرض محال ایسا ہو بھی گیا تو ہوا بے چاری پریشانی سے سر پٹختی رہے گی کہ اس پر یہ کیا افتاد آن پڑی ہے۔
    اماں جل جل کر سنتی رہیں اور سُن سُن کر جلتی رہیں۔
    ”نی چُپ کر جاو ، اب اور جا کر سو جائو۔ تمہاری بے سری آوازوں نے سر میں درد کر دیا ہے۔” آخر بھنی ہوئی آواز میں بولیں۔
    ”ہن میں بتائوں گی نگو کو ۔۔۔۔ساس کس چیز کا نام ہوتاہے۔” شادی کے روز ہی ان کی والدہ نے اپنی بیٹیوں کے سامنے اپنے ارادوں کا ذکر کر دیا۔ کیا کرتیں برداشت جو نہیں ہو رہا تھا۔





    ” بس کر دے اماں! نگو بہت اچھی لڑکی ہے ،تیری بڑی خدمت کرے گی۔ تو ایسے اس سے بیر نہ باندھ۔۔۔حمیرا کا بھی تجھے پتا ہی ہے کتنی لڑاکا اور کٹنی قسم کی لڑکی ہے ۔۔۔چاہے تیری بھانجی ہے مگر ایک بات لکھ لو وہ بیاہ کر آجاتی تو سب سے پہلے تجھے ہی دیوار سے لگاتی۔” ان کی بڑی بیٹی نے بڑے عادلانہ انداز میں صورتِ حال کا تجزیہ کیا ۔
    نگو بہت ہنسوڑ اور قدرے لاپروا سی لڑکی تھی۔ بڑی سے بڑی بات کو چٹکیوں میں اُڑا دینے والی۔ گھر میں یوں گُھل مل گئی جیسے سالوں سے یہاں رہ رہی ہو۔ گھر میں ہر وقت اس کے ہنسنے بولنے کی آواز آتی رہتی ۔وہ جانتی تھی کہ وہ ساس کو پسند نہیں ہے لہٰذا اس نے ساس کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔ وہ موقع ڈھونڈتی رہ جاتیں اور نگومکھن میں سے بال کی طرح نکل جاتی ۔
    ” ہے ای میسنی ۔۔۔چلاک(چالاک)ماں کی چلاک دھی۔” ایسے ہر موقع پر مراد کی اماں ہر دفعہ کلس کر رہ جاتیں۔
    اگر کبھی وہ خوا مخواہ اس کے سر ہو جاتیں تو وہ ہنس کر ٹال دیتی۔ کھُل کر وہ نگین کی مخالفت نہیں کر سکتی تھیں کہ مراد کے ابا کا خوف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نگو کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ وقت دھیرے دھیرے گزرنے لگا۔ مراد اور نگین کی شادی کو دو سال گزر گئے مگر ان کا آنگن سونا رہا تو مراد کی اماں کو جیسے ایک موقع ہاتھ لگ گیا۔ پہلے ڈیرھ سال تک تو وہ دبی دبی زبان میں مراد کو احساس دلاتی رہیں مگر جب دو سال گزر گئے تو وہ علی الاعلان بچہ نہ ہونے کا واویلا کرنے لگیں۔اب بھی نگو اماں ابا کوچائے دینے آئی تھی جب اماں نے طنز کیا۔
    ” تیری یہ خدمتیں ہمارے کسی کام کی نہیں ہیں اگر ہمارا آنگن یونہی سونا رہا تو کیا فائدہ تیرا ۔” نگوکے چہرے کا رنگ پل میں اُڑا تھا مگر اس نے فوراً خود کو سنبھال لیا۔
    ” فکر نہ کرمامی! اللہ کرم کرے گا۔” وہ مُسکر ا کر بس اتنا کہہ سکی ۔ ان کی بات جو دل میں تیر بن کرگھس گئی تھی۔
    ”جا پتر تو جا کے مراد کو دیکھ ۔” ابا نے اماں کو گھور کر دیکھا اور نگو کو جانے کا اشارہ کیا۔
    ” تو کیا اس کے پیچھے پڑی رہتی ہے؟ کچھ خدا کا خوف کیا کر ۔جب اللہ کی مرضی ہو گی اولاد بھی ہو جائے گی۔” ابا نے اماں کو سمجھایا، جو ناک سکوڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگی تھیں۔
    ” میں اب اور انتظار نہیں کر سکتی۔بس آپ مراد سے کہیں اسے شہر لے جا کر ڈاکٹر کو دکھائے۔” اماں نے چائے کا گھونٹ حلق میں اُتار کر کہا۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    چند روز بعد چوہدری مراد شہر گیا تو نگو کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ دونوں کے ٹیسٹ ہوئے اور جو رپورٹ آئی اس نے نگوکے پیروں کے نیچے سے حقیقتاً زمین کھینچ لی۔ رپورٹس کے مطابق وہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم تھی۔
    گھر واپس آکر نگوکمرے میں بند ہو گئی۔مراد چوہدری ڈھیلے سے انداز میں اماں ابا کے پاس ٹک گیا۔
    ” کیا بنا پتر! تم لوگ گئے تھے ڈاکٹر کے پاس۔” ابا نے اس کی اُتری شکل دیکھ کر کہا۔
    مراد چوہدری نے ٹھنڈی آہ بھر کر ساری بات بیان کرنا شروع کی۔ جسے سُن کر ابا کا دل ڈوبنے لگا اور اماں کے دل میں سکون کی ٹھنڈی لہریں اُٹھنے لگیں اور کیوں نا اُٹھتیں ”نقص” کون سا ان کے بیٹے میں تھا۔
    ” ہوں! اب میں اس نگو کی ایسی کی تیسی کروں گی۔ اپنے بیٹے کو دوسری شادی کروائوں گی اور وہ بھی اپنی بھانجی حمیرا سے۔” ابا مراد چوہدری کی دل جوئی کرنے لگے اور اماں دل ہی دل میں منصوبہ بندی کرنے لگیں۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





    پورا ایک ہفتہ نگو نے کمرے میں بندہو کر اپنے بانجھ پن کا سوگ منایا ۔جو کمی اللہ کی طرف سے ہو اُسے پورا نہیں کیا جاسکتا ، اُس پر بس صبر کیا جا سکتا ہے اور نگو نے اس کمی کو قبول کر کے صبر کر لیا ۔ایک ہفتے بعد دوپہر کو کمرے سے نکلی تو سب قیلولہ کررہے تھے۔ وہ بر آمدے میں سے گزر کر صحن میں لگے نلکے کی طرف جانے لگی توابا کے کمرے سے اماںکی آواز آئی جو اپنی بہن (حمیرا کی ماں)کے ساتھ محو گفتگوتھیں۔ دونوں کو شاید اس کے کمرے سے نکلنے کی ذرا اُمید نہیں تھی جو آواز کا والیوم کم کرنے کی زحمت نہیں کی گئی تھی۔
    ” بس بشیراں! اب تو تیاری رکھ دو مہینے کے اندر میں نے مراد کا ویاہ اپنی حمیرا سے کروا دینا ہے۔ بڑی اُڈی اُڈی پھرتی تھی نا یہ نگو کی بچّی ۔ اب منہ کے بل گری ہے تو اب مت ٹھکانے آئی ہے اور کچھ ابھی آئے گی جب میں اپنی حمیرا کو اپنی (بہو) نو بنا کر لائوں گی۔” اماں کی زبان سے اُگلتا زہر نگو کے کانوں کے رستے دل میں جا اُترا۔
    نگو واپس کمرے میں گئی ۔بہت کچھ سوچا، حقیقت کی عینک لگا کر حالات کا جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچی کہ خوشیاں حاصل کرنے کے لیے زندگی کی تلخیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑتاہے ۔سو اس نے مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور ایک ایسا فیصلہ کر گئی، جس نے اس کے دل کو خاردار جھاڑیوں پر گھسیٹ دیا مگر وہ تکلیف سہ گئی۔ اب اُسے اپنے اس فیصلے کو منو ا کر اس پر عمل کروانا تھا۔ اماں نے اس کے ساتھ بیر رکھا تھا تو اب وہ بھی اماں کو اس کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔حمیرا کے آنے کا مطلب تھا نگو کا گھر بدر ہونا اور ایسا نگو مر کر بھی نہیں چاہتی تھی ۔ اُسے اسی گھر میں مراد چوہدری کے ساتھ رہنا تھا اور حمیرا آجاتی تو ایسا ہونا ناممکن ہو جاتا۔ وہ بے چینی سے ابا کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔
    رات کو کھانے سے فارغ ہو کر وہ ابا، اماں کے پاس جاپہنچی۔ مراد چوہدری پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ ابا اتنے دنوں بعد اس کو سب کے درمیان دیکھ کر قدرے مطمئن ہوئے۔وہ مراد چوہدری کواس کا خیال رکھنے کی تاکید کرتے رہتے تھے کیوں کہ وہ بے چاری اتنے بڑے صدمے سے گزر رہی تھی۔ مراد چوہدری نے اس کی مقدور بھر دل جوئی کی تھی۔ وہ صرف اس کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش ہی کر سکتا تھا، اس کو ختم کو نہیں کر سکتا تھا سو اس نے یہی کیا اپنی محبت اور خلوص سے پوری کوشش کی تھی کہ نگو کی یہ تکلیف کم ہو جائے ۔سوائے اماں کے سب نے اس کی ہمت بندھائی تھی ، اس سے ہمدردی کی تھی مگراماںنے ان سات دنوں میں جب بھی اس کے کمرے میں جھانکا، اس کی طرف طنز کا نوکیلا بھالا ہی پھینکا تھا۔ابانے کئی دفعہ خوفِ خدا یاد دلایا کہ ہم بھی بیٹیوں والے ہیں ایسے نہ کر تسلی نہیں دے سکتی تو دل بھی نہ دکھا ۔ مگر نا جی مامی باز نہ آئی۔ ویسے بھی جس تن لاگے، وہی جانے اور فی الحال اُن کے تن پر نہیں لگی تھی تو وہ کیوں پروا کرتیں۔
    ”آپتر، اِدھربیٹھ میرے پاس ”ابانے اپنی ٹانگیں سمیٹ کر اپنی چارپائی پر اس کے لیے جگہ بنائی۔”نگو آرام سے ٹک گئی۔اس کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی اوردل ڈوب ڈوب کر اُبھر رہا تھا ۔





    ” ماموں ! میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔” نگو اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی۔
    ” اگر تو یہ سوچ رہی ہے کہ تو کوئی بچہ گود لے لے گی تو ایک بات یاد رکھنا ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ ہمیں کسی ایرے غیرے کی اولاد کو نہیں پالنا۔۔۔ اپنے پتر کی اولاد گودیوں میں کھلانی ہے۔” اماںنے اس کی بات مکمل بھی نہ ہونے دی۔ اُن کے خیال میں نگو اس سے زیادہ اور کیا فیصلہ کر سکتی تھی۔ابا نے اماں کو جھڑک کر خاموش کروایا۔
    ”ہاں تو بول پتر کیا کہنا چاہتی ہے۔”ابا نے دلار سے کہا۔
    ”ماموں ! میں چاہتی ہوں ۔ ہم مراد کی دوسری شادی کروا دیں۔” نگو کی بات نے ابا، اماں اور مراد چوہدری کو ایک لمحے کے لیے گنگ کر دیا۔سب سے پہلے اماں ہوش میں آئیں۔
    ” وہ تو نہ بھی کہتی تو میں نے کر ہی دینی تھی حمیرا سے۔”اماں کی بات پر ابا نے گھور کر انہیں دیکھا اور نگو ہلکا سا مسکرا دی جیسے کہہ رہی ہو، ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی ، پہلے سن تو لیں۔
    ”ماموں! میں چاہتی ہوں کہ مراد چوہدری کی شادی ہم کسی مطلقہ یا بیوہ سے کروا دیں۔ اس کی کون سی یہ پہلی شادی ہے، جو ہم کسی کنواری لڑکی کے ارمانوں کا خون کریں۔ حمیرا جیسی ”اچھی” لڑکی کو اس کے جوڑ کا کوئی اچھا اور کنوارا لڑکا مل جائے گا تو پھر ہم اپنی غرض کے لیے اس کے جذبات کو کیوں قربان کریں۔” نگو نے بڑی صفائی سے اماںکے ارمانوں کا خون کر دیا ۔
    ” تجھ سے کسی نے پوچھا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔”اماں بلبلا اُٹھیں۔
    ” تو چپ کر مراد کی ماں، نگو بالکل صحیح کہہ رہی ہے۔” ابا، اماں اور نگو سنجیدہ مسئلے پر گفتگو کر رہے تھے اور مراد چوہدری خیالوں میں دوسری شادی کی تیاریاں کرنے لگے ۔اس کے باوجود کہ و ہ نگو کو صدق ِ دل سے اپنا چکے تھے اور اس کو کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے، دوسری شادی کی بات نے ان کے دل میں پھول کھلانے شروع کر دیے تھے۔ہوش تو تب آیا جب ابا جی نے اُسے مخاطب کیا۔
    ” تو بتا مراد ، تو کیا چاہتا ہے۔” ابا نے مراد چوہدری سے پوچھا تو وہ شرما کر رہ گیا۔
    ” جیسے آپ کی اور نگو کی مرضی۔”مراد چوہدری کی بات سن کر نگو کے ہونٹوں پر زخمی سے مسکراہٹ آئی ۔ ابھی تو وہ یہ سب کہہ رہا ہے لیکن کچھ عرصہ گزر جاتا تو بھلے دوسروں کے پریشر میں آکر مراد چودھری کو دوسری شادی کرنا ہی تھی تو پھر نگو یہ کام خود اپنے ہاتھوں سے کیوں نہ انجام دے دیتی۔کیوں رو دھو کر ، واویلا کر کے لوگوں کو تماشا دیکھنے کا موقع دیتی۔
    ”رشتے بنانا آسان لیکن انہیں نبھانا بہت مشکل ہوتاہے میری دھی۔ رشتے نبھانے واسطے ایثار، صبر، قربانی اور وفا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے بہت کم لوگ خود کو رشتے نبھانے کی مشقت میں ڈالتے ہیں۔ تم بھی خود کو مٹا کر رشتوں کو بچانے کی کوشش کرنے لگی ہو ۔ پر میں نہیں چاہتا کہ تم رشتوں کو نبھانے کے لیے اپنی جان کو کسی مصیبت یا مشقت میں میں ڈالو ۔ اس لیے اچھی طرح سوچ سمجھ لو۔ شوہر کو بانٹنا کوئی سوکھا کم نہیں ہوندا۔”ابا نے نگو کے سر پر ہاتھ رکھا تو نگو نے ان کا ہاتھ تھام کر چوم لیا۔
    ” ماموں، پورا کھو دینے سے بہتر ہے کہ بندہ آدھا کسی کے ساتھ بانٹ لے، بدلے میںاپنی جھولی بھی خالی نہیں رہتی اور کسی اور کا بھلا بھی ہو جاتا ہے۔” نگو نے آنسو ئوں بھری آنکھوں سے ابا کو دیکھا۔
    ” ٹھیک ہے پھر کچھ کرتے ہیں۔ابھی تم لوگ جائو۔” ابانے نگو اور مراد چوہدری کو جانے کا اشارہ کیا۔نگو نے یہ فیصلہ بھلے اماں کی ضد میںکیا تھا مگر نیت اس کی نیک ہی تھی ۔ نگو چاہتی تھی کہ کوئی ایسی لڑکی مل جائے جس کے ساتھ وہ اپنا شوہر بانٹ لے اور وہ لڑکی اس کے ساتھ اپنی اولاد ۔ وہ رب بادشاہ جو اُوپر بیٹھا ہے وہ نیتوں کا پھل ہی دیتا ہے ۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




  • در و دیوار —– سید ممتاز علی بخاری

    کہتے ہیں دیوار اور دروازے کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ دیوار نہ ہو تو پھر دروازہ بھلا کس کام کا؟ جس طرح دیوار دیدار میں رکاوٹ کا دوسرا نام ہے اسی طرح دروازہ دیدار کے لیے ایک پُل کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ سنا ہے دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں لیکن آج تک ہمیں اُن کے کان نظر نہیں آئے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ اُن کانوں کی شکل و صورت کیسی ہے؟ ان کا سائز کیا ہے؟ ان کی طاقت کتنی ہے؟ہماری تحریر میں جا بجا آپ کو لفظ گیٹ(Gate) نظر آئے گا ۔ دراصل معزز دروازوں کو انگریزی زبان میں گیٹ کہتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چھت کے سوا گھر نہیں ہو سکتا لیکن چُپ شاہ کے نزدیک دیواروں کے بغیر گھر نہیں ہو سکتا۔ عورتوں کو چار دیواری کا درس دینے والے اکثر حضرات اپنی راہ میں ایک دیوار بھی برداشت نہیں کر تے۔ دیوار کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا وہاں سے راستہ نہیں بنا سکتا۔ صرف چور اور ڈاکو اپنی مرضی سے جہاں سے چاہتے ہیں راستہ بنا لیتے ہیں چاہے وہاں دیوار ہو یا بیمار۔ یار لوگ تو دار کو بڑا دروازہ کہتے ہیں بلکہ بل گیٹس کو بھی ”گیٹ” (دروازہ) ہی سمجھتے ہیں ہمارے نزدیک بھی وہ دروازہ ہی ہے بے پناہ دولت کا۔
    خیر آج ہم نے سوچا کہ آپ حضرات کو مختلف قسم کی دیواروں اور دروازوں کی اقسام سے متعارف کروائیںتا کہ سند رہے اور بہ وقتِ ضرورت کا م آئے۔





    ١۔کالج کے دَر و دیوار
    یہ دیواریں بڑی خوش قسمت ہوتی ہیں ۔ ان پر آئے دن نت نئے سیاسی گروہ اپنی تشہیرکے لیے چاکنگ کرتے ہیں پھر اُن پر پینٹ یا رنگ پھرجاتا ہے ۔ اگلے روز ایک نئی عبارت یوں جگمگا رہی ہوتی ہے جیسے اُسی کے لیے ہی یہ دیوار بنائی گئی ہو۔ بعض اوقات اوپر تلے تحریر کی گئی چاکنگ بارش وغیرہ سے دھل کر کچھ یوں بن جاتی ہے کہ لکھنے اور پڑھنے والے دونوں حیران رہ جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے کچھ اسی طرح کی وال چاکنگ دیکھی جس میں لکھا تھا کہ 25 ستمبر کو ملک کے مشہور و معروف حکیم صاحب میں کرکٹ کا ایک نمائشی میوزیم ہے جس میں تھیڑ کے بڑے فنکار بھی شامل ہوں گے۔ قربانی کی کھالیں ہمیں دے کر ٹکٹ بک کروائیں ورنہ حکومت ذمہ دار نہ ہو گی۔ حکیم صاحب کے جسم میں کرکٹ گراؤنڈ ، کرکٹ میں تھیٹر کے فنکاروں کا کھیل، اور کرکٹ کا میوزیم بڑے عجیب و غریب انکشافات تھے لیکن سب سے انوکھا انکشاف یہ تھا کہ قربانی کی کھالوں کا ایک نیا مصرف بھی سامنے آگیا تھا۔جب ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ بارش اور بادو باراں نے نصف درجن اشتہاروں کا بھرتہ بنایا ہوا ہے۔
    عموماً کالج کے گیٹوں کو بھی زنانہ اور مردانہ کالج کے حوالے سے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بوائز کالج کے گیٹ عموماً ویران ہوتے ہیں جب گرلز کالج کے گیٹوںپر زیرِ تعلیم طالبات کے علاوہ بے شمار لڑکے بھی نظر آتے ہیں۔ بعض تو لڑکیوں کے خونی رشتہ دار ہوتے ہیں اور بعض جنونی رشتہ دار بننے کے لیے کوشاں ۔۔۔! ہم تو یونیورسٹی کے دَر و دیوار کو بھی اسی فہرست میں رکھا کرتے ہیں۔ البتہ مخلوط تعلیم دلانے والے اداروں کے گیٹ بہت پُر رونق بنے رہتے ہیں ہمیشہ۔ یوں تو قوم کے مستقبل کے یہ ضامن روز انہ وقت مقررہ پر اپنے فرائض سر انجام دینے کے لیے موجود ہوتے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی آتا ہے جب گرلز اور بوائز کالجوں کے گیٹ ایک سا منظر پیش کرتے ہیں اور وہ دن ہوتا ہے اتوار کا ۔ اکثر اوقات کالجز کے یہ دروازے اور دیواریں سیاسی تنظیموں کے درمیان تنازع کا باعث بنتے ہیں۔ کہیں جھنڈے لگانے یا اکھیڑنے پہ جھگڑا ، کہیں چاکنگ کرنے مٹانے کی لڑائی تو کہیں کسی سیاسی تنظیم کی ہڑتال پر گیٹ کے کھلے رہنے یا بند رہنے پر چپقلش۔۔۔۔!
    ٢۔ کوچۂ محبوب کے دَر و دیوار
    ایک مشہور قول ہے کہ محبوب کی گلی کا کُتا بھی عشاق کو محبوب ہی ہوتا ہے کیوںکہ اس کا اُن کے محبوب کی گلی سے ایک تعلق ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے محبو ب کے گھر کے دَر و دیوار تو خصوصی اہمیت کے حامل ہوئے ۔ یار لوگ تو محبوب کے گھر کی دہلیز کو اتنا متبرک سمجھتے ہیں کہ کئی ایک تو فٹ پاتھ پر بیٹھ کر اس سمت سجدوں کی اجازت مانگتے پھرتے ہیں۔ محبوب کے آشیانے کی دیواروں کی لمس کی حس بہت ہی طاقت ور ہوتی ہے۔ اس لیے عموماً عاشق اُن سے لپٹ لپٹ کر روتے ہیں۔ اگر عشق کی آگ دونوں طرف برابر لگی ہو تو پھر عاشق محبوب کے دَر و دیوار کو ایک ہینظر دیکھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک دیوار اور دروازے میں فرق اتنا ہوتا ہے کہ دروازے پر سکیورٹی گارڈ یا گھر کے کسی نگران کی نظر ہوتی ہے جب کہ دیواروں کو کوئی نہیں دیکھتا۔ اسی لیے وہ دروازوں کی بہ جائے دیواریں پھلانگنا آسان سمجھتے ہیں کیوںکہ یہ راستہ آسان بھی ہوتا ہے اور محفوظ بھی۔
    اگر آپ ہماری اردو شاعری کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ محبوب کے دروازے پر ایک نا دیدہ رکاوٹ لگی ہوتی ہے ۔اس رکاوٹ کوعبور کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا ۔ اکثر جوشیلے مگر بزدل عاشق جو آسمان سے تارے توڑ کر لانے کے دعوے دار ہوتے ہیں ان سے اتنا نہیں ہو سکتا کہ وہ ان نادیدہ جالوں کو توڑ پائیں جو محبوب کے گھر کی دہلیز پر لگے ہوتے ہیں۔
    کچھ حضرات تو محبوبہ کے بھائیوں کو بھی دیوار سے تشبیہ دیتے ہیں لیکن ان دیواروں کو پھلانگنا بہت مشکل ہوتا ہے اور اکثر عاشق یہیں سے واپس ہو لیتے ہیں ۔ ڈر کر یا مار کھا کر ۔۔۔۔۔۔!





    ٣۔ ٹھیکے والے دَر و دیوار
    یہ دروازے اور دیواریں ٹھیکے داروں نے بنائی ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض دیواریں تو آدھی بنی ہوتی ہیں اور بعض کی تعمیر تک مکمل ہو چکی ہوتی ہے لیکن یہ بنتی ہی ٹوٹنے کے لیے ہوتی ہیں۔ عموماً ٹھیکے دار حضرات پیسے تو پورے سامان (میٹریل )کے لے لیتے ہیں لیکن استعمال کرتے وقت ڈنڈی بلکہ ڈنڈا مارتے ہیں اور بقیہ سامان(میٹریل )کے پیسے اپنی جیب میں ڈال دیتے ہیں تاکہ مرنے کے بعد دوزخ میں ایک عظیم الشان محل کی تعمیر کی جا سکے ۔
    اسی لیے ٹھیکے والی دیواریں ایسی ہوتی ہیں کہ ذرا کسی نے ٹیک لگائی اور یہ دھڑام سے نیچے۔ ان دیواروں پر اگر غلطی سے کوئی کوا آ کر بیٹھ جائے تو یہ اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ ہم نے ایک بار مشہور مفکر چُپ شاہ سے پوچھا کہ یہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹا گون کی عمارتیں جہازوں کے ٹکرانے سے کیسے گریں؟ تو انہوں نے انکشافی انداز میں ہمیں بتایا کہ جہاز تو جہاز اگر کوئی اڑتا مچھر بھی ان عمارتوں سے ٹکرا جاتا تو بھی ان عمارتوں نے زمین بوس ہو جانا تھا۔ ہم نے وجہ پوچھی تو بتانے لگے کہ دراصل یہ عمارتیں ٹھیکے پر تعمیر کی گئی تھیں۔ ٹھیکے پر تعمیر ہونے والی عمارتوں کے اندر ایک اور کجی رہ جاتی ہیں اور وہ یہ کہ ہوا کے دباؤسے ایسی عمارتوں کی دیواریں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں۔
    چُپ شاہ کے نزدیک پیسا ٹاور کا ٹیڑھا ہونا اس کی ٹھیکے پر کی گئی تعمیر کی پہچان ہے۔ ہم ساری ٹیڑھی دیواروں کو ٹھیکے داروں کی غلطی نہیں قرار دے سکتے کیوںکہ کئی دیواریں اتنی نیک ہوتی ہیں کہ وہ رکوع و سجود کے لیے کعبے کی سمت جھک جاتی ہیں اور ہم لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ شاید ٹھیکے دار نے دیوار کی تعمیر میں کوئی ڈنڈی ماری ہوئی ہے۔ کچھ یہی حال ٹھیکے پر بنائے دروازوں کا ہے۔کبھی زنگ آلود لوہے کو پینٹ(رنگ و روغن) کرکے فروخت کیا جاتا ہے تو کبھی اس پرانی لکڑی کو جسے اندر سے کیڑوں نے کھا لیا ہو ، رنگ و روغن کرکے منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ ایسے دروازے اکثر موت کے ہر کارے کے ساتھ مل کر اپنے مالک سے دغا کر جاتے ہیں اور انسان کو زمین کی پستیوںسے بلند آسمان کی وسعتوں میں پہنچا دیتے ہیں ۔ ان دروازوں سے توسوچ کے دروازے زیاد مضبوط ہوتے ہیں۔

    ٤۔ وی آئی پی دَر و دیوار
    یہ دَر و دیوار اپنی اہمیت کے حوالے سے سب سے منفرد اور ممتاز ہوتے ہیں۔ ملک کے اندر پائی جانے والی اعلیٰ مقتدر شخصیات اور اہم اداروں کے ارد گرد اسی قسم کے دروازے اور دیواریں ہوتی ہیں۔ یہ دیواریں تمام دیواروں سے اونچی ہوتی ہیں اور دروازے ہوشیار اور حسّاس۔ دیواروں نے خار دار تاروں والا لباس پہنا ہوتا ہے۔ عام دیواروں کے بر عکس ان دیواروں کے کان نہیں ہوتے البتہ آنکھیں ہوتی ہیں اور ان گنت تعداد میں جن کے اندر عقاب کی نظروں سے زیادہ پُھرتی ہوتی ہے ۔ وی آئی پی دروازے بھی دوسرے دروازوں سے کچھ الگ ہی شان رکھتے ہیں۔ وہاں بے شمار سیکیورٹی گارڈز ان کی حفاظت پرمامور ہوتے ہیں اور یہ دروازے باز بان ہوتے ہیں۔ یہ بول کر بتا سکتے ہیں کہ آنے والا انسان کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے ۔ دلہن کی خاموشی اقرار کی علامت سمجھی جاتی ہے جب کہ ان دروازوں کی خاموشی انسان کے پر امن اور سادہ ہونے کی ضامن سمجھی جاتی ہے ۔ اگر ان دروازوں میں سے کوئی ایسا ویسا آدمی گزر جائے تو یہ چیخ چیخ کر آسمان بادلوں سمیت اپنے سر پر اٹھا لیتے ہیں اور نتیجتاً پورا ماحول سنگینوں کی زد میں آ جاتا ہے اور اگر بات کچھ زیادہ شدید ہو تو پستولوں کی گھن گرج کے ساتھ گولیوں کی بوندا باندی بھی شروع ہو جاتی ہے ۔ یہ دروازے عام دروازوں سے کافی مہنگے ہوتے ہیں۔ ایسے در و دیوار VIPsکو عام لوگوں کی پہنچ اور رسائی سے دور رکھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے دواؤں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جاتا ہے اور رکھا جاناچاہیے۔





    ٥۔ تاریخی دَر و دیوار
    جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ان دَر و دیوار کی اہمیت مسلمہ ہے چاہے غیر مسلموں کے دیس ہی میں کیوں نہ ہوں۔ پہلے تذکرہ کرتے ہیں دیواروں کا تو صاحبو! دیوارِ برلن اور دیوار عراق (جو امریکا نے2003ء میں عراق پر قبضے کے بعد بنائی تھی ) بہت مشہور ہیں۔ ان دیواروں کا یہی کام ہے کہ وہ بنی نوع انسان میں تفریق پیدا کر سکیں اور ان کے درمیان نفرت کے بیج بو سکیں لیکن ایک ایسی تاریخی دیوار بھی ہے، جو بنی نوع انسان کی حفاظت کے لیے تعمیر ہوئی وہ ہے دیوارِ چین۔۔۔! تا تاریوں کے حملوں سے بچنے کے لیے یہ دیوار بنانے والوں کے علم میں بھی نہیں تھا کہ لوگ چاند سے جا کر اس دیوار کو تکتے رہیں گے۔ ایک دیوار ان دنوں انڈیا بھی لائن آف کنٹرول پر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
    کہتے ہیں کہ ایک تاریخی دیوار سکندر نے بھی بنائی تھی جس میں یا جوج ماجوج کو قید کر دیا تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ ہمارے سیاستدان کیسے اس دیوار کو پھلانگ آئے۔ باقی قوم ابھی قیامت کی منتظر ہے۔ دروازوں یعنی گیٹوں کے حوالے سے ہمیں پچھلے زمانوں میں کچھ روایات ملتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ہر شہر پناہ کا ایک بلکہ کئی گیٹ ہوتے تھے۔ لیکن آج کل کے دور میں صرف چند ہی شہروں کے دروازوں کا تذکرہ سننے کو ملتا ہے۔ جیسے لاہور میں لوہاری گیٹ ، بھاٹی گیٹ ، موچی گیٹ وغیرہ موجود ہیں۔ یہ سارے گیٹ انگریزوں سے بھی پہلے کے بنے ہوئے ہیں اور مغلیہ سلطنت کی یادگار ہیں۔
    ٦۔ عام دَر و دیوار
    اس قسم کے در و دیوار آپ کو ہر طرف نظر آئیں گے ۔ یہ دیواریں اتنی ہی کمزور ہوتی ہیں جتنے ان کے مکین غریب ہوتے ہیں ۔ یہ گھر کی حفاظت کی خاطر تعمیر کی جاتی ہیں لیکن چور حضرات ان سے مک مکا کرنے کے بعد ان کو پھلانگ کر گھر والوں کو ان کے سرمائے سے محروم کر دیتے ہیں۔ پھر لوگ پولیس کو رپورٹ تک نہیں کروا سکتے ۔ اس لیے کہ چوروں نے اتنی رقم چھوڑی ہی نہیں ہوتی کہ مظلوم بے چارہ پولیس والوں کو تحفے میں دے سکے اور تحفے کے بغیر تو ہمارے ہاں پولیس والے صرف ”کمال” کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ہماری پولیس اور جاپانی ایک ہی فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔ صرف ایک چھوٹا سا فرق ایسا ہے جو ہماری پولیس کی عظمت کی مثال پیش کرتا ہے ۔ وہ یہ کہ جاپانی حضرات تحفے لینے اور دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور ہماری پولیس صرف تحفے لینے کی مشتاق ہے ۔
    کچھ اسی قسم کی دیواریں اور گیٹ سڑکوں کے بھی ہوتے ہیں۔ سڑک کی دیواریں مفرور مجرم جیسی ہوتی ہیں تبھی تو ان کو لوہے کی سلاخوں سے باندھا ہوتا ہے یا پھر سٹیل یا ایلومینیم کی تاروں سے۔۔۔! چُپ شاہ کا کہنا ہے کہ شاید دروازوں کی اہمیت یہیں تک محدود رہتی لیکن بھلا ہو امریکا کے صدر نکسن کا جس نے واٹر گیٹ سکینڈل کا حصہ بن کر گیٹوں کو ایک نئی زندگی دی۔ اسی طرح دروازے حسین حقانی اور منصور اعجاز کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے میمو گیٹ سکینڈل تخلیق کیا اور اکیسویں صدی میں بھی دروازوں کا بول بالا کیا۔

    ٭٭٭٭




  • شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    شاہین –  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

    ”میرے گھر میں ایک پرانا برگد ہے جس پر چڑیلیں رہتی ہیں جو ہمیں بہت تنگ کرتی ہیں۔ کیا ٹیم شاہین مجھے برگد کی ان چڑیلوں سے چھٹکارا دلواسکتی ہے؟”
    شیر دل نے کاغذ پر انگلش میں لکھی ہوئی اُس تحریر کو باآواز بلند پڑھا تھا اور نایاب اور احد یک دم بہت ہی پرجوش نظر آنے لگے تھے۔
    ”یہ ہوا نا کیس… بس یہ ہی تفتیش کریں گے ہم سب سے پہلے۔” نایاب نے سکول کی ڈیسک پر ہاتھ مار کر جیسے حتمی فیصلہ کردیا۔
    ”کیس ہے کس کا؟” احد نے شیر دل سے پوچھا۔
    ”یوحنّا جوزف کلاس فائیو۔” شیر دل نے اُس کاغذ کے نیچے لکھا نام پڑھتے ہوئے کہا جو ٹیم شاہین کے لاکر میں کسی نے ڈالا تھا۔






    وہ تینوں آج وہ لاکر کھول کر اُس میں موجود وہ سارے خطوط پڑھ رہے تھے جو سکول کے مختلف بچوں نے ٹیم شاہین سے رابطے کے لئے اپنے مسئلے کے ساتھ بھیجے تھے، اور پچھلے آدھے گھنٹے میں کوئی ایک کیس ایسا نہیں تھا جو اُن کے دل کو لگتا۔ وہ عجیب عجیب مسائل تھے جو بچوں نے کیس بناکر اُنہیں بھیج دیئے تھے۔ کسی کو اپنی وہ والی بلّی کی تلاش کروانا تھی جو تین سال پہلے غائب ہوگئی تھی اور کسی کو اپنے گھر کے چوہوں سے نجات چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے موزوں سے بدبو کا مسئلہ حل کروانا تھا اور کسی کو کھجلی کی شکایت پر اُن سے رہنمائی چاہیے تھی۔ کسی کو اپنے چھوٹے بہن بھائی کو پٹوانا تھا اور کسی کو اپنے بڑے بہن بھائی کو اغوا کروانا تھا۔ وہ تینوں مسئلے پڑھ پڑھ کر تپ رہے تھے۔ وہ ٹیم شاہین تھے اُس سکول کی پہلی ”جاسوس تنظیم” اور وہ انہیں احمقانہ کیس لکھ لکھ کر بھیج رہے تھے۔ اُن تینوں کا موڈ بے حد خراب ہوگیا تھا ،تب ہی اُن کے ہاتھوں یوحنّا جوزف کا وہ کیس آیا تھا اور یک دم وہ تینوں جیسے کھل اُٹھے تھے۔
    یہ شیر دل شیرازی تھا جسے جاسوسی ناولز پڑھنے اور فلمیں دیکھنے کا جنون تھا اور اس ہی جنون نے اُسے یہ یقین دلادیا تھا کہ وہ خود بھی جاسوس بن سکتا تھا۔ وہ اخباروں اور ٹی وی پر مختلف جرائم کی خبریں سنتا اور پھر انٹرنیٹ پر تب تک اُن کیسز کو فالو اپ کرتا رہتا جب تک وہ حل نہ ہوجاتے اور مجرم پکڑا نہ جاتا۔ اکثر اوقات شیر دل کے جو اندازے مجرم کے بارے میں ہوتے تھے وہ صحیح ثابت ہوتے تھے اور ایسا ہونے پر وہ خوشی سے بے قابو ہوجاتا۔ احد اُس کا بہترین دوست تھا اور نایاب اُس کے چچا کی بیٹی اور وہ دونوں اُس کے کلاس فیلوز بھی تھے اور شیر دل کے اس جنون سے واقف بھی لیکن شیردل کے ذہن میں جب ایک جاسوسی تنظیم بنانے کا خیال آیا تھا تو اُس نے اُن دونوں کو بھی مکمل طور پر بے خبر رکھا تھا۔ وہ اُس وقت تک شرلاک ہومز سے متاثر تھا مگر شرلاک ہومز کی طرح ایک بھی ساتھی رکھنے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا خیال تھا وہ سب خود کرسکتا تھا۔
    شاہین کا نام اُس نے اپنی دادی سے علامہ اقبال کے اشعار میں شاہین کا ذکر سن سن کر سوچا تھا۔ اُسے وہ پرندہ ، اُس کی پرواز اور اس سے منسلک شاعر مشرق کا ”فلسفۂ خودی” پسند تھا۔ شاہین بھی اکیلا اونچی پرواز کرتا اپنے ہدف پر جھپٹتا تھا اور شیر دل شیرازی بھی اُس ہی کی طرح تنہا اُس تنظیم کو چلانا چاہتا تھا جس کا اس وقت وہ بانی تھا۔
    گھر بیٹھے اُس نے خود ہی ایک دن شاہین کے اغراض و مقاصد لکھ لئے تھے۔ وہ تنظیم کیا کیا کرسکتی تھی اور کیسز حل کرنے کے لئے جو معاوضہ شاہین لیتی شیردل نے اُس کا بھی تعین کرلیا تھا۔ ایک ویب سائٹ بناکر اُس نے شاہین کے لوگو کے ساتھ یہ ساری معلومات وہاں پر چڑھادیں اور اپنا ای میل ایڈریس اور سکول میں ایک لاکر نمبر ایک pamphletپر ڈیزائن کرکے اُس نے سکول کے نوٹس بورڈ پر لگا دیا۔ ایک گھنٹہ میں ہی شاہین کا لفظ پورے سکول میں گردش کرنے لگا تھا اور نوٹس بورڈ کے نیچے بچوں کا ہجوم اکٹھا ہونے لگا تھا۔
    ”ہم سکول کے بچوں کے کیسز حل کرنے والی پاکستان کی سب سے بڑی جاسوسی تنظیم ہیں جس کی شاخیں عنقریب پاکستان بھر کے سکولوں میں کھولی جانے والی ہیں اور اس سکول میں شاہین کا ہیڈ کوارٹر کھولا جارہا ہے۔ ہمارے پاس جدید ترین جاسوسی کے آلات ہیں اور ٹیکنالوجی پر مہارت رکھنے کی وجہ سے ہم آپ کا کوئی بھی مسئلہ منٹوں میں حل کرسکتے ہیں۔
    شاہین آپ کی زندگی کو مسائل سے پاک وہ پرواز دے گی جس کے آپ اہل ہیں تو آئیں آج ہی اپنی ہر پریشانی اور مسئلے کے حل کے لئے ہم سے رابطہ قائم کریں۔” شیر دل جانتا تھا اُس نے اپنی تنظیم کا تعارف کرواتے ہوئے تھوڑی نہیں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا لیکن جھوٹ نہ بولنے پر یقین رکھنے کے باوجود اُس کا خیال تھا پروموشن کے لئے تھوڑا بہت مبالغہ ضروری تھا اور ویسے بھی وہ جو اُس pamphletمیں لکھ رہا تھا وہ ایک دن سب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔





    ”سنو، یہ شاہین ٹیم تم نے بنائی ہے نا؟” نایاب نے سکول میں اُس pamphlet کو پڑھتے ہی شیر دل سے پوچھا تھا۔ شیر دل نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ”میں صرف اس آرگنائزیشن کا فوکل پرسن ہوں اور کچھ نہیں۔”
    ”جھوٹ مت بولو ، ویب سائٹ تم نے بنائی ہے۔” شیر دل بھونچکا رہ گیا۔
    ”تمہیں کیسے پتہ؟”
    ”گھر میں Networking ہے سارے کمپیوٹرز کی، تم رات کو بیٹھے یہ بنارہے تھے اور میں بھی دیکھ رہی تھی۔ ” نایاب نے بڑے اطمینان سے اُسے بتایا اور شیر دل دانت پیس کر رہ گیا تھا۔ نایاب اگر پروگرامر نہ ہوتی تو پھر ہیکر ہوتی، وہ کسی بھی کمپیوٹر کا پاس ورڈ بدل سکتی تھی۔ کسی بھی سسٹم اور سافٹ ویئر تک رسائی کر سکتی تھی۔ انٹر نیٹ پر موجود کسی بھی ویب سائٹ کے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کرنا اُس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ شیر دل کو پچھتاوا ہوا کہ اُس نے اس ویب سائٹ پر کام کرتے ہوئے Networking ختم کیوں نہیں کی۔
    ”اوکے! لیکن اب اپنا منہ بند رکھنا۔” شیر دل نے اعتراف کرنے کے ساتھ ہی اُسے دھمکایا۔
    ”صرف ایک صورت میں۔”نایاب نے فوراً کہا۔
    ”کیا ؟”
    ”اگر تم مجھے بھی اس میں شامل کرو۔ اپنے سیکنڈان کمانڈ کے طور پر۔” شیر دل ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے اُسے دیکھتا رہا۔ اُس کے پلان آف ایکشن میں کوئی دوسرا ممبردور دور تک نہیں تھا مگر پھرمجبوراً اُس نے نایاب کو اپنا نائب بنانے کی حامی بھرلی۔
    ”ایسا کیا ہے جو تم شاہین کے لئے کرسکتی ہو؟” شیر دل نے اُس سے پوچھا ۔
    نایاب نے اطمینان سے کہا:
    ”بہت کچھ! اس کی ویب سائٹ اور ٹیکنالوجی سے متعلق سارے کام کرسکتی ہوں جو تم بھی کرسکتے ہو لیکن تم ان میں میرا مقابلہ نہیں کرسکتے۔” وہ دھڑلے سے کہہ رہی تھی۔ شیر دل نے اُس کو ٹوکا نہیں۔ وہ سچ کہہ رہی تھی۔
    ”میں Archer ہوں تو کسی بھی مشن میں تمہیں میرے نشانے کی ضرورت پڑے گی اور میں جو ڈو کی بہترین کھلاڑی ہوں ۔ جتنا تمہیں جاسوسی کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے اُتنا ہی مجھے بھی ہے۔” وہ بتاتی جارہی تھی اور شیر دل سرکھجاتا سنتا جارہا تھا۔ وہ دونوں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ نایاب اپنے بڑے بھائی تیمور اور ماں باپ کے ساتھ اوپر والے فلور پر رہتی تھی۔ اُس کا بھائی میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا اور والد ایڈیشنل سیکشن جج۔
    شیر دل نیچے والی منزل پر اپنے ماں، باپ، دادی اور چھوٹی بہن خدیجہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اُس کا باپ ایک بینکر تھا اور ماں ایک بیکر۔
    ”اوکے! ٹھیک ہے مگر یہ سب راز رہے گا۔ کسی اور کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔” شیر دل نے اُس سے کہا تھا اور اس سے پہلے کہ نایاب کوئی جواب دیتی شیردل کو عقب سے اچانک احد کی آواز آئی۔
    ”تم اب مجھ سے بھی سب کچھ چھپایا کروگے؟” نایاب اور شیر دل جیسے کرنٹ کھا کر پلٹے تھے اور اُن کے عقب میں احد کمر پر دونوں ہاتھ رکھے بے حد غصّے سے کھڑا تھا۔
    احد شیر دل کا بہترین اور بچپن کا دوست تھا۔ اُس کی ماں ایک سول سرونٹ تھی اور باپ کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ شیردل کی ہی کالونی میں رہتا تھا۔
    ”اوہ! تم چھپ کر ہماری باتیں سنتے ہو۔” شیر دل نے اُسے ٹالنے کے لئے ناراض ہوکر کہا تھا۔
    ”میں کیوں چھپ کر سنوں گا میں تو ویسے ہی سب سُن سکتا ہوں۔ میرے کان اتنے باریک ہیں اور میں شاہین کا تیسرا ممبر ہوں۔” شیردل نے بے چارگی سے اُسے دیکھا اور کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اُس سے پہلے ہی احد نے اُسے پچکارتے ہوئے کہا۔
    ”دیکھو تمہیں پتہ ہے میں کک باکسنگ میں کیا کیا کرسکتا ہوں اور غلیل سے میرا نشانہ نایاب کے تیروں سے بھی زیادہ اچھا ہے اور میں دُنیا کا سب سے بہترین map reader اور سیکیورٹی کیمروں کا ماہر ہوں۔ دُنیا کا ہر کیمرہ ہینڈل کرسکتا ہوں اور میرے پاس کتنے خفیہ کیمرے ہیں وہ بھی پتہ ہے تم لوگوں کو اور…”
    وہ ایک سانس میں بولتا چلا گیا اور اس سے پہلے کہ بولتا ہی چلا جاتا، شیردل نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا:
    ”اچھا اچھا! بس کلاس شروع ہونے والی ہے۔”
    ”تو پھر میں بھی آج سے ٹیم شاہین ہوں؟” احد نے اطمینان اسے اُس سے پوچھا اور شیردل نے جھنجھلا کر اُسے دیکھتے ہوئے کہا:
    ”میرے پاس کوئی چوائس ہے انکار کی؟”
    احد اور نایاب نے بے اختیار کیا۔ ”No۔”
    شیردل نے کندھے اُچکاتے ہوئے جیسے ہتھیار ڈالے۔ شاہین دو دنوں میں ون مین شو سے ٹیم بن گئی تھی۔






    …٭…

  • محبت نام ہے جس کا —– محمد حارث بشیر

    اُداس موسم کی ایک سرد شام ،اُس خزاں گزیدہ شجرکا وجوداپنی پیشانی پر کئی داستانیں رقم کیے کھڑا تھا ۔موسم ِ ِبرگ ریز کا شاخسانہ تھا کہ ایک ایک کرکے زرد پتے زندگی کے پل بِتانے کے بعد شجر سے بچھڑتے جارہے تھے ۔وہ سیدھا سادا،تھکا ہارا شخص آنسوؤں بھرا چہرہ صاف کرتے ہوئے فریاد کناں تھا۔
    ”مولوی جی !کچھ کریں اُس کا ، وہ پاگل ہوگیا ہے… مجنوں بن گیا ہے …کہتا ہے محبت ہوگئی ہے …اب آپ ہی بتائیں ،میں اس عمر میں کیا کروں … کہاں جاؤں ؟ وہ تو میری کچھ سنتاہی نہیں جی…”اُدھیڑ عمر حکمت علی گاؤں کے مولوی کے پاس اپنی قسمت کا رونا رو رہا تھا ۔
    وہ سب اس وقت مسجد کے کچے صحن میں برگد تلے بیٹھے تھے۔ گارے مٹی سے بنی چھوٹی مگر صاف ستھری اور خوبصورت مسجد پنڈسروہا کے سر پر تاج کی طرح سجی تھی۔ گاؤں ڈھلان میں تھا اور مسجد بلندی پر… یہاں سے اُٹھتی اذان کی آواز سارے گاؤں میں گونجتی۔مسجد کا صحن گھاس کی تہ سے ڈھکا ہوا اور اس کے تین اطراف پھول دار پودوں کی بھرمار تھی، جو اس وقت زرد موسم کی لپیٹ میں تھے ۔چوتھا حصہ مسجد کی طرف تھا جسے خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ عقبی حصہ تھا۔یہیں بیٹھ کر مولوی صاحب گاؤں کے بچوں کو درس دیتے۔ آج درس کے بعد حکمت علی بڑے مہذب انداز میں بیٹھااپنی بپتا مولوی صاحب کو سنارہا تھا ۔
    ”حکمت علی!تُو پریشان کیوں ہوگیا بھئی …محبت تو ایک میٹھااحساس ہے ۔” انہوں نے اس کا درد سمجھنے کے بجائے جیسے جان بوجھ کر نمک پاشی کی ہو … حکمت علی سلگ کر رہ گیا۔
    ” نہیں حضور …محبت بھلاکیسے چنگی چیز ہوسکتی ہے۔یہ تو روگ ہے جی روگ …پاگل کر دیتی ہے بندے کو… میرے پترکو نہیں دیکھا آپ نے …؟اچھا بھلا تو تھا پہلے …”
    ”دیکھ حکمت! محبت بندے کو سونا بنا دیتی ہے پھر روگ بھی راگ بن جاتا ہے ۔”
    ”پر وہ تو جی مٹی ہوگیا ہے ۔”حکمت علی نے مولوی صاحب کی طرف خالی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ بولتا جا رہا تھا ۔”دیکھیں جی ! نہ تو اُسے اپنی فکر ہے، نہ ہم بڈھے ماں پیو کا خیال ہے ۔ ” حکمت علی واقعی مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں غرق تھا ۔عمر کے اس حصے میں جب والدین اپنی اولاد سے بہت ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں کہ وہ ان کے دُکھ درد کا سہارا بنے گی … مگر یہاں تومعاملہ الٹ ہوچکا تھا۔ جوان بیٹا ! محبت کا روگ پال بیٹھا تھا ۔ اولاد کے یوں بگڑنے پر اگر ایک نحیف وجود اورکمزور اعتقاد والا شخص یاسیت کا شکار تھا تویہ عجیب بات نہ تھی ۔
    ”حکمت سائیں ! میری بات لکھ لے ، تیرا پُترجب اس مٹی سے نکلے گا، تودیکھنا سونا بن کر چمکے گا۔” یہ بات سن کر وہ خاموش ہوگیا،پھر کچھ توقف کے بعد خود ہی اس نے یہ خاموشی ختم کی ۔
    ”کہتا ہے جی کہ میں اُس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا …اور یہ بھی کہ وہ میری روح کے اندر تک اُتر چکی ہے… استغفراللہ!” حکمت علی کانوں کو ہاتھ لگانے لگا ۔مولوی صاحب زیر لب دھیما سا مسکرا دیے تھے۔
    ”آہ …محبت بھی انسان سے کیا کچھ اگلوالیتی ہے ۔” انہوں نے سوچااور ایک پھر دوبارہ لب کھولے :” تو حکمت علی! تُو رشتہ کروا دے نا اس کا…”
    ”میںگیا تھا جی ان کے گھر …پر وہ ذات کے سیّد ہیں ،انہوں نے ہم کمیوں کے ہاں کب رشتہ کرنا ہے جی …دروازے ہی سے واپس بھیج دیاتھا۔”
    ”دیکھ میاں حکمت !اگر تو اُس کی محبت سچی اور پاک ہے ،پھر دیکھنا وہ ضرور کامیاب ہوگا اور ایسا کامیاب کہ لوگ رشک کریں گے اس پر…ایسے کامیاب لوگ کمیاب ہی ہوتے ہیں ۔”
    حکمت علی شاید ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔وہ بس اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ”جی جی ” کی گردان کیے جا رہا تھا۔
    ”تُو اپنے پتر کو میرے پاس بھیج …میں بات کرتا ہوں اُس سے ۔”مولوی صاحب نے کہا۔
    ”بھلا ہوجی آپ کا …اللہ لمبی حیاتی کرے آپ کی۔”وہ اُن کا ہاتھ چومتا ،آنکھوں کو لگاتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا اور مولوی صاحب اپنے موٹے منکوں والی تسبیح پھیرتے ہوئے اللہ ھو کا ورد کرنے لگے۔
    ٭…٭…٭





    اس کی پیدائش پر گھر والوں نے اس کا نام ”یوسف” رکھا تھا ۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور نام جچتا ہی نہ تھا ۔وہ تھا ہی اتنا خوبصورت…گورا، چٹا، گول مٹول سا ، بڑی آنکھوں ، سنہری بالوں والا یوسف …جسے دیکھنے کے لیے سارا گاؤںہی امڈ آیا تھا ۔یوسف ”حکمت علی ” اور ” فاطمہ ” کی پہلی اولاد تھی۔ شادی کے تیرہ سال بعد ان کی دعاؤں کی قبولیت پر قدرت کی طرف سے یہ ایک تحفہ تھا۔ سارا گاؤں ان دو صابر لوگوں کے گھر میں چاند کی آمد پر خوشی سے نہال تھا ۔ وہ چاند ہی تھا جو غریب کے آنگن میں اسے اپنے نور سے منور کرنے کے لیے اتر آیا تھا۔ مسکراتا تو اس کی آنکھیں روشن دیے کے مانند چمکنے لگتیں۔
    یوسف کا باپ حکمت علی پیشے کے اعتبار سے کسان تھا۔ سارا دن مٹی میں رزق تلاش کرتے گزر جاتا۔وہ اکثر مٹی میں مٹی ہی ہوجاتا ، زمین کی نگہداشت کرتا اور اس سے سونا اگاتا تھا ۔ پھر اس سونے کو تانبے کے داموں بیچ کر اپنا گزارا کرتا۔ اسے کبھی زیادہ کی طلب رہی نہ کم کا غم… رزق تو باری تعالیٰ نے انسان کا پہلے ہی سے لکھ رکھا ہے ۔
    حکمت علی پندرہ سال کا تھا جب اس کے والدین اس دنیا میں اُسے تنہا چھوڑ کر منوں مٹی تلے جا سو ئے، اس کی زندگی میں واحد رنگینی اس کے والدین تھے۔ ان کے بعد تو زندگی گویاکسی طاق میں رکھے بجھے ہوئے چراغ مانند ہوگئی تھی، جس کے ارد گرد اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔
    اس کی زندگی کا چوبیسواں سال تھا جب فاطمہ شریک حیات بن کر اس کی تاریک دنیا کو روشن کرنے کے لیے اس کی زندگی کا حصہ بنی۔ وہ نیک سیرت لڑکی، صابر، وفادار اور بہترین ساتھی ثابت ہوئی۔ فاطمہ کا اس کی زندگی میں آنا ایک خوش گوار تبدیلی تھی ۔ اس کے نزدیک وہ ایک قیمتی ہیرے کی طرح تھی کہ جسے کھو دینے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
    وہ کئی بار فاطمہ سے اپنی بے لوث محبت کا اظہار کر چکا تھا۔جو دوسری بڑی نعمت اسے ملی ،وہ یوسف کی صورت میں تھی ۔ اس کی اولاد ، اس کے وجود کا حصہ، دونوں کا سب سے قیمتی سرمایہ … ایک طویل ، صبر آزما عرصے کے بعد ملنے والی نعمت…!
    ٭…٭…٭
    بادلوں کی گرج ،بجلی کی چمک ، بارش کی آمدکا مژدہ سنا رہی تھی۔ وہ بچہ اپنے جیسے دوسرے بچوں کو گلیوں میں دوڑلگاتے، گرد اڑاتے اور کاغذ کی کشتیاں بناتے ،بارش کا انتظار کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا ۔بارش کا پہلا قطرہ اس کے دائیں گال کو تر کر گیا۔
    ” بارش آئی …بارش آئی۔ ” کا ایک شور بلند ہوا۔ بچے اب کافی پُر جوش نظر آنے لگے تھے ۔ وہیں کھڑے کھڑے اس نے خود کو بارش میں بھیگ جانے دیا ۔ آنکھیں موندے وہ اس احساس میں اتنا محو تھا کہ اس نے غور ہی نہیں کیا کہ کب اس کے قدموں تلے زمین کسی جھیل کی طرح پانی سے بھرنے لگی تھی ۔ ایک کاغذ کی کشتی اس کے پاؤں سے ٹکرا کر پانی میں ڈوب گئی ۔ بچے اسے خود میں مگن دیکھ کر اس کے گرد اکھٹے ہوچکے تھے ۔ اس کے کپڑے کیچڑ سے داغ دار تھے ، اناری گال مٹی ہوگئے تھے ۔ادھر بچوں کے قہقہے فضا میں بلند ہوئے تو وہ ناراض ہونے کے بجائے نادم ہوا تھا ۔ چیخنے کے بہ جائے خاموش رہا تھا ۔ وہاں موجود ہر بچہ یہ جانتا تھا کہ وہ کچھ نہیں بولے گا ۔ وہ یوسف کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ معصوم تھا ، کم گو ، شریف ، اس کی اپنی ہی دنیا تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ ان کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتاتھا۔ بس ان بچوں سے وہ یہ بات کہنے کی ہمت نہیںرکھتا تھا ۔ یہ فاطمہ اور حکمت علی دونوں کی خواہش تھی ۔ وہ اسے ایک بڑا کامیاب آدمی بنانا چاہتے تھے ۔جوان کے لیے فخر کا باعث بنتا… وہ خوبصورت تھا اتنا کہ اسے جو بھی دیکھتا ،پھر اسی کے گن گانے لگتا ۔ وہ بلا کا ذہین بھی تھا، ایسا کہ فاطمہ اور حکمت علی کو اپنے خواب پورے ہونے کایقین ہوچلا تھا ۔ وہ پڑھائی میں جتنا اچھا تھا ، بات کرنے میں اتنا ہی نالائق…نہ تو وہ لاڈ پیار کا بگڑا تھا اور نہ ہی ضد کا قائل … یوں کہہ لیں کہ وہ بچپن ہی سے ” اللہ لوک” تھا ۔
    یہ ننھا منا ” اللہ لوک” شکایتیں کرنے کا عادی نہ تھا،لیکن ایک دن تنگ آکر باپ کے پاس پہلی بار شکایت لے کر گیا تھا ۔ اسے اپنے ہم جماعتوں سے شکوہ تھا، وہ اسے اصل نام کے بجائے ”سائیں” کہہ کرپکارتے تھے ۔ یہ نام اسے بالکل پسند نہیں تھا لیکن لفظ ”سائیں ” کی بازگشت اتنی زیادہ پھیلی کہ لوگ ” یوسف ” کو بھولنے لگے تھے ۔
    ”دیکھ پتر! ایسا کہنے سے کچھ نہیں ہوتا …نام تو تیرا یوسف ہی ہے نا … بس تو دل لگا کر پڑھا کر … دیکھنا کل کو جب تُو بڑا آدمی بنے گا ،تویہی لوگ تجھے ” یوسف صاحب” کہیں گے۔”
    ” لیکن مجھے اچھا نہیں لگتا… وہ سب میرا مذاق اڑاتے ہیں ۔” اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے ۔
    ”بہادر بچے ایسے نہیں روتے … رونے سے آج تک کوئی مسئلہ حل ہوا بھلا…؟”
    ”تو پھر میں کیا کروں …؟” بلا کی معصومیت اس کے چہرے پر عود آئی ۔
    ” کچھ بھی نہیں … تُو بس اللہ سے دعا کیا کر کہ وہ ان کے دل میں تیرے لیے محبت ڈال دے۔ ” یہ ایک گرُتھا جو ایک باپ اپنے بچے کو سکھا رہا تھا ۔ صبر کرنے کا ، اللہ سے رجوع کرنے کا۔
    ”تو کیا پھر وہ مجھے ایسے نہیں کہیں گے ؟”
    ”جب اللہ چاہے گا ان کے دل پھیر دے گا ۔”
    ” اور اگر اللہ نے ایسا نہ کیا تو …؟”
    ” جو لوگ اللہ کی مرضی مانتے ہیں ۔ ا للہ ان کی ضرور سنتا ہے ۔ جلد یا بدیر ، مگر ضرور سنتا ہے ۔ بس صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔سمجھ گیا ناپُتر…؟”حکمت علی ایسے گویا تھا جیسے اس کے سامنے سات سال کا بچہ نہیں کوئی ہم عمر ہو … یوسف اب خاموش ہو گیا تھا۔ ایسا خاموش کہ پھر اس نے کبھی اس بات کی شکایت ہی نہ کی۔ ” سائیں ”کی بازگشت تھمی اور نہ یوسف کا صبر ٹوٹا۔
    ٭…٭…٭





    وہ اکیلی تھی ، بالکل اکیلی …اس وقت اس پرایسی کیفیت طاری تھی کہ آدمی اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگتا ہے ۔وہ اندھیرے میں چیزوں کو ٹٹولتی ہوئی اپنا راستہ تلاش کر رہی تھی، مگر اندھیرا تھا کہ ہر بار اسے ٹھوکر کھانے پر مجبور کررہا تھا۔ کچھ تگ ودو کے بعد وہ اگلے کمرے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ۔
    وہا ں روشنی کی ایک باریک سی کرن تھی جو اندھیرے سے لڑتی اپنا وجود کھو رہی تھی ۔ اسے اپنی زندگی بھی اس کمرے کی طرح لگ رہی تھی، خالی ،تاریک اور روشنی کی ایک کرن ” امید ” کا آسرالیے ناامیدی کا مقابلہ کرتی ہوئی ۔ اس کا رُخ کونے میں پڑے ایک صندوق کی طرف تھا ۔ آہستگی سے چلتے ہوئے وہ اس کے سامنے بیٹھ گئی ۔
    کتنی ہی دیر اس کشمکش میں گزری کہ آیا وہ صندوق کھولے یا دل کے بنددریچوں کی طرح اسے بھی بند ہی رہنے دے ۔آخر ہمت کر کے اس نے اسے کھول دیا ۔ کپڑوں کا انبار تھا اور اس کے نیچے کی سطح پر کاغذ کا ایک ٹکڑا … لرزتے ہاتھوں اس نے وہ کاغذ اٹھالیا ،لیکن اسے کھول کر پڑھنے کی ہمت اس کے اندر آج بھی نہیں تھی، بالکل اسی طرح جیسے نو سال پہلے نہیں تھی ۔وجہ تو خیر وہ آج تک نہ جان پائی تھی۔
    نو سال پہلے اس نے صرف ایک سطر پڑھی اور آج بھی صرف وہی ایک سطر … کیسے کیسے خدشات اس کے ذہن میں ا بھرے تھے ۔ اسے زندگی میں سب سے زیادہ ڈر بددعا سے لگا تھا اور پہلی سطر ہی اتنی خوفناک تھی کہ وہ اُسے مزید پڑھنے کی ہمت نہ کرسکی تھی۔ ۔
    ”جب وقت تیرا ڈھل جائے گا ۔”
    آنسوؤں کا ریلا اس کی آنکھوں سے رواں ہوا ۔اس نے وہ کاغذ دوبارہ تہ کر کے رکھ دیا ۔ ایک سطر پڑھی تھی تو آٹھ سال بعد تباہ و برباد ہو کر آئی تھی ۔ آگے پڑھتی تونجانے کیا ہوتا۔
    ٭…٭…٭
    پنڈ سروہا کے مولوی جی کا رُخ مسجد کی طرف تھا جہاں ایک لاچار باپ اپنے دیوانے ، عاشق بیٹے کو لیے ان کی راہ تک رہا تھا ۔ مولوی صاحب چہرے پر مسکان سجائے پاس سے گزرنے والوں کو سلام کا جواب دے رہے تھے ۔ یہ دلفریب مسکان جو چند لمحوں بعد ان کے چہرے سے زرد موسم میں سبزپتوں کی طرح غائب ہوئی تھی ۔ پاؤں برف ہوئے تھے اور آنکھیں پتھر… ان کے سامنے ایک’مجنوں’ بیٹھا ہواتھا ۔ اٹھارہ انیس سال کا دیوانہ… دنیا جہاں سے بے خبر …زمانے بھر سے لا تعلق …میلے کپڑوں اور بکھرے بالوں میں وہ بے تاثر چہرہ لیے آسمان کو تکنے لگا۔
    مولوی صاحب! میکانی انداز میں قدم اٹھاتے ، تسبیح کے دانوں پر بندش ڈالتے اس کی طرف بڑھے۔ دونوں کی نظریں چار ہوئیں ۔ عاشق کے ہلتے ہوئے ہونٹ تھمے اور اُن کے قدم … ماحول پر ایک سکوت چھاگیا تھا ۔ پھر ایک دم خاموشی رخصت ہوئی ۔
    ”اے بالک !پتا ہے تجھے کہ تُوکیا کر رہا ہے؟” بارعب آواز میں پوچھا گیا ۔ پاگل استہزائیہ انداز میں ہنسا ۔
    ” اُسے دیکھنے آیا ہوں … اُدھر آسمان پر اس کی صورت نظر آتی ہے مجھے … مگر زمین پر وہ دکھائی نہیں دیتی … ایسا کیوں ہوتا ہے؟آپ کو تو معلوم ہوگا۔” جواب کے ساتھ ہی سوال آیا تھا۔ درد میں لپٹا ہوا، حاصل کرنے کی لاحاصل جستجوجیسا۔
    ”تیر ایوں گلیوں میں بیٹھنا اسے بدنام کرے گا ۔”
    ”کیسے؟میراعشق توخاموش ہے ۔ سمندر جیسا… اس کا نام تک نہیں لیا میں نے…”
    ”تُو فانی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔چھوڑ دے یہ تمنا۔” تنبیہ کی گئی تھی، مگر منت کے انداز میں … اندیشوں کے انبار میں …”
    ” فانی تو میں ہوں … چاہت توفانی نہیں ہے … وہ تو ابدی ہے … ہمیشہ رہے گی۔”
    مولوی صاحب کی تنبیہ واقعی بے اثر رہی تھی۔
    ”اس سب سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔” اس بار انداز غصیلا تھا اورآواز کرخت۔
    ”تمنا بھی نہیں…” غصے کو بھاپ کی طرح اڑاتے وہ مسکرایا۔
    دو نظریات تھے اوردو ہی دماغ …کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا ۔پھرایک دم ماحول پر گہرا سکوت چھا گیا ۔
    ٭…٭…٭





    ” حکمت علی! تُو چلا جا …پتر کو میرے پاس رہنے دے …میں بات کرتاہوں ،تُوتھوڑی دیر بعد آنا ۔”مولوی جی نے حکم جاری کیا تو حکمت علی ذرا سا فکر مند ہوگیا ، مگر مولوی جی پر اعتمادکی بدولت اپنے روایتی انداز میں ”جی جی” کہتا وہاں سے اُٹھ گیا ۔
    مولوی صاحب اور اس عاشق کے درمیان کچھ دیر خاموشی کا غلبہ رہا ۔ انہوں نے اس کے چہرے پر آئے سر کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے پرے ہٹاکر اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی ۔ وہ چند لمحے دیکھ پائے اور اس کی آنکھوں میں چھپا جذبہ جان گئے۔آنکھوں میں خالی پن تھا، فقدان تھا،پاک، بے ریا محبت کی چمک کا فقدان، وہاں حقیقی محبت اور چاہت کی وہ چمک مولوی جی کو دکھائی نہیں دی تھی۔
    ” تُو جانتا ہے محبت کیا ہے؟” خاموشی ٹوٹی تھی ، لڑکے کی آنکھوں میں حیرت ابھری ۔وہ تڑپ اُٹھا۔پہلی بار اس نے لب کھولے تھے ۔
    محبت بڑی خو ب صورت بلا ہے
    درندوں میں شفقت اسی کی عطا ہے
    ” کیا ہے محبت…؟” سوال دہرایا گیا ۔
    ” کسی کو بے پناہ چاہنا… اتنا کہ ہر جگہ وہی نظر آئے ۔ اپنی ذات کو آدمی بھول جائے۔”
    ” تجھے کتنی محبت ہے اُس سے ؟” ایک اور سوال اس کے سامنے تھا ۔
    ” بہت … اتنی کہ وہ نہ ملی تو مرجاؤں گا ۔”اس کے لبوں پر ایک درد بھری مسکراہٹ عود آئی ۔ ”لیکن …لیکن یہ کیسی محبت ہے ،جو انسان کو زندہ بھی نہیں رہنے دیتی ۔اس سے جینے کا حق ہی چھین لیتی ہے ۔” مولوی صاحب کی آواز میںجلال تھا ۔
    ” محبوب پاس نہ ہو تو انسان زندہ کیسے رہ سکتا ہے ؟ اس سے دوری کا احساس ہر پل موت کی طرف دھکیلتا ہے ۔” اس نے احتجاج کیا تھا ۔
    ” رہ سکتا ہے زندہ … بالکل رہ سکتا ہے، لیکن شاید تم یہ بات نہ سمجھو ۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں صرف دل لگی ہے، جسے تُو نادانی میں محبت کا نام دے رہا ہے۔”
    ”آپ غلط کہہ رہے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ، میں اسے بے پناہ چاہتاہوں ۔ وہ نہ ملی تو میرے جینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔” وہ ایک دم تڑپ اُٹھا تھا مولوی صاحب کی بات اس کے جسم پر تیزاب کی طرح لگی اوروہ پہلے ہی جلے دل کا مالک تھا ۔
    ” چاہت کی انتہاموت نہیں، زندگی ہے ۔ محبوب جب دل میں بس جاتا ہے، تو زندہ رکھتا ہے ، مارتا نہیں۔”
    ” لیکن میں تو پَل پَل مرتا ہوں اس کے بغیر …” اس نے کمزور آواز میں کہا۔
    ” یہ ابتداہے، اگر تُوسمجھے تو… محبت تو یہ ہے کہ آدمی خود کو محبوب کے رنگ میں رنگ لے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھے ۔ اسے بے لوث چاہے ۔ ایسا کہ اس میں نہ کوئی غرض ہو ، نہ ریا ۔ اس کی تصویرکو دل میں ایسے بسائے کہ کوئی اور تمنا دل میں باقی نہ ہو ۔اس کی چاہت تمھارے وجود کے ساتھ ایسے لپٹی رہے کہ وہ تمہیں زندہ رکھے ۔ تمہارے وجود کو امر کرے ۔ انسان محبوب کی عزت مقدم رکھے، تو وہ محبت ہے ۔ تمہاری طرح نہیں کہ وہ اسے بدنام کرے ۔” اب وہ ٹرانس کی کیفیت میں تھا۔
    آخری جملے نے لڑکے کو احتجاج کرنے مجبور کیا ۔
    ” میں نے ایسا کبھی نہیں چاہا… کبھی بھی نہیں ، میں تو اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتا ہوں۔ اسے بدنام کیسے کر سکتا ہوں ؟”
    ”تُو…تُو پھر اپنی محبت کی تشہیر کیوں کرتا ہے؟اسے دل میں بسا کر کیوں نہیں رکھتا کہ وہ تجھے مضبوط بنائے۔ ” مولوی جی اسے ٹریک پر لانا چاہ رہے تھے ۔
    ”محبت تو انسان کو کمزور کردیتی ہے ، بے بس کر دیتی ہے ۔ محبوب کی تصویر چاہے دل میں بسی ہو، مگر من یہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آنکھوں کے سامنے رہے ۔ہر وقت ، ہر پل ۔”
    ”محبت انسان کو کمزور نہیں کرتی اگر ایسا ہوتا، تو کبھی پہاڑ سے دودھ کی نہر نہ نکل پاتی۔ کچے گھڑے کے سہارے کبھی دریا نہ پار کیے جاتے ۔”ان کی بات پر وہ خاموش رہا ۔ موقف اب بھی وہی تھا، مگرالفاظ جیسے ختم ہوگئے تھے ۔ بالآخر طویل خاموشی کے بعد وہ ایک تاویل ڈھونڈ لایا۔
    ”مجنوں بھی تو لیلیٰ کی خاطر گلیوں کی خاک چھانتا تھا ۔ اسے تو اس کی گلی کے حقیر جانور سے بھی پیار تھا ۔” وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ۔
    ”بالکل … اس نے خود کو محبوب کے لیے وقف کر دیا تھا، اتنا کہ پھر اس حقیر جانور سے بھی اسے محبت ہوگئی تھی ۔ وہ سچی محبت تھی جو امر ہوئی دیکھو !وہ سچی محبت کی رہتی دنیا کے لیے مثال بن گئی اور مثال وہی چیز بنتی ہے جوبے غرض اور سچے جذبوں میں گُندھی ہو۔”
    ”میری محبت میں بھی کوئی غرض نہیں ہے ۔ سچی اور حقیقی چاہت ہے میری۔ میں سچ بولتا ہوں۔ میرا جذبۂ عشق سچا ہے ۔” وہ بے تاب تھا ، مضطرب بھی ۔
    ” تُو جھوٹ بولتا ہے ۔ تیری محبت میں اگر غرض نہیں ہے، تو اس کے نہ ملنے پر مرنے کی باتیں کیوں کرتا ہے ۔ یہ کیوں نہیں کہتا ہے کہ اگر وہ نہ بھی ملی تو تیرے جینے کے لیے اس کی محبت ہی کافی ہے ۔” مولوی صاحب کی باتوں میں وزن تھا ۔لڑکا بے بس ہوچکا تھا ۔
    ”مولوی جی !آپ جو کہہ رہے ہیں وہ ناممکن ہے ۔ اگر وہ نہ ملی تو میری محبت تو ادھوری رہ جائے گی نا۔”
    ”بس یہی تو غرض ہے ۔ تُو اس کے جسم کا متلاشی ہے ۔ تُونے کبھی اس کی روح کو کھوجنے کی تمنا ہی نہیں کی ۔ وہ محبت کبھی امر نہیںہوتی جو فانی چیز کی متلاشی ہو ۔”
    ”میں سمجھا نہیں ۔”کمزور لہجہ اور مریل سی آوازمولوی جی کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
    ” یہ وقت دیکھ رہا ہے تُو…؟اذان ِمغرب ہونے کو ہے ۔دن اور رات کے ملنے کا وقت … یہ تھوڑی دیر کے لیے آتا ہے بس…پھر رات غالب آتی ہے۔ ملن کی گھڑی مختصر ہی ہوتی ہے۔ عشق مجازی بھی ایسا ہی ہے ۔ملن ہوتا ہے، تو مگر تھوڑی دیر کے لیے … پھر اندھیرا غالب آجاتا ہے ۔۔ تُوایسی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے جو ہاتھوں سے ریت کے مانندپھسل جاتی ہے ۔ امر ہونا چاہتا ہے نا تُو …؟ ” انہوں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اثبات میں سر ہلانے لگا ۔
    ”تو پھر اس محبت کو دل میں یوں بسا کہ یہ تیرے دل کو روشن کردے ۔ تجھے شاد اور آباد رکھے ۔ تُو اسے سیڑھی بنا کر عشق حقیقی کی لذت بھی چکھ کر دیکھ لے۔پھر دیکھ رب سوہنا کرم کرے گا ۔”
    مغرب کی اذان کا وقت ہوگیا تھا ۔ گفتگو کا سلسلہ رک گیا ۔ مولوی جی نہیں جانتے تھے کہ اس لڑکے پر کتنا اثر ہوا ہے، مگر ان کے بس میں صرف یہی تھا ۔
    ٭…٭…٭




  • بڑی آنٹی —– زرین جوشیل

    بڑی آنٹی —– زرین جوشیل

    شگفتہ نازایک نرم ونازک احساس ، جس نے 1950ء میں تقسیمِ ہند کے بعد دہلی سے لاہور منتقل ہوئے ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا ۔ یوں تو رشید میاں کے ہاں سات بچیوں کی ولادت ہوئی جن میں سے تین توبچپن ہی میں اللہ کو پیاری ہو گئیں ۔ شاید بیٹا نہ ہونے کے غم نے رشید میاں کو ساری زندگی اپنی زوجہ ، بیگم سیدہ سے دور رکھا ۔پہلوٹھی کی اولاد ہونے کے ناطے شگفتہ ناز نے اپنے والدین کے رشتے میں کشیدگی کو بھانپ لیا تھا۔ وہ شروع ہی سے انتہائی مدّبر اور خاموش طبعتھی ۔ رشید میاں کی اردو بازار میں کتابوں ایک بڑی کی دکان تھی، جس پر وہ اپنے چھوٹے بھائی سید نور کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔نور صاحب کم عمری کے باعث تھوڑی چلبلی طبیعت کے مالک تھے جب کہ رشید میاں تو مُسکرانا بھی شاید گناہ سمجھتے تھے۔ بچے ابھی زیادہ بڑے نہیں ہوئے تھے کہ اُن کی امی جان کو ٹی بی جیسا جان لیوا مرض لاحق ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا ، ساری ذمے داری شگفتہ ناز کے کمزور کاندھوں پر آپڑی۔ اسکول کے بعد گھر کا کام، امی کی تیمارداری ، بہنوں کی دیکھ بھال، یہ سب کچھ فریضہ اوّل بن گیا تھا، لیکن دن بھر کی تگ ودو کے بعد جب شگفتہ بی بی اپنی دادی کے پاس بیٹھ کر تقسیمِ ہندسے پہلے کے وا قعات اور ہندوستان میں مقیم اپنے رشتہ داروں کے قصے سنتیں ، تو اُن کی ساری تھکن مٹ جاتی ۔ وہ ان کہانیوں میں یوں کھو جاتیں، گویا وہ خود بھی اُن کا حصہ ہو۔ اُردو ادب پر اُنہیں باقی بہنوں کی نسبت خاصا کافی عبور حاصل ہوگیا تھا۔ جب بھی کسی بہن کو لغت کا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا وہ سیدھا بڑی باجی سے رجوع کرتی۔ بڑی باجی کہلوانا پسند جو تھا اُسے۔ بھئی بڑے ہونے کے لیے کچھ رعب اور آداب بھی ملحوظِ خاطر رکھنے چاہئیں کہ نہیں؟ شاید یہی وجہ تھی جو تمام بہنیں اُس کی بے پناہ عزت کرتی تھیں یا پھر اُس کے رعب ودبدبے کی وجہ سے اُس سے دل کی بات کرنے سے بھی کترایا کرتی تھیں۔
    رشید میاں دکان بند کرنے کے بعد اپنا زیادہ تر وقت دوست و احباب کی محفلوں میں گزارنا پسند کرتے تھے ۔ کبھی دعوتِ عام کسی کے ہاں ہوتی تو کبھی اپنے یہاں ۔ دستر خوان طرح طرح کے کھانوں سے بھرا رہتا تھا ۔ دادی کے منع کرنے پر اکثر کہا کرتے ۔ امی جان! یہ دستر خوان او ر میری جیب کبھی خالی نہیں رہیں گے۔ دادی جان استغفار پڑھ کر بات آئی گئی کردیتی تھیں،لیکن وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ کون جانے کب کس کی خوشیوں کو نظربد لگ جائے۔ اس خاندان پر سب سے پہلا صدمہ تب گزرا، جب سید نور صاحب کے کسی دوست نے اُنہیں ثریا نامی بیوہ خاتون اور تین عدد بچوں کی ماں سے، انسانی ہمدردی کے ناطے متعارف کروایا۔ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ نہ جانے کب بے جوڑ محبت میں تبدیل ہوگیا یہ کوئی نہیں جانتا، لیکن اجازت نہ ملنے پر نور صاحب نے ایک فلمی ہیرو کی طرح بغاوت کی راہ اپنائی اور ثریا سے خفیہ نکاح کر ڈالا۔
    نو بیاہتا جوڑا جب اپنے بڑوں کی دعائیں لینے گھر پہنچا، تو دادی جان نے نا صرف منہ پھیرا بلکہ ثریا پر تعویذ گنڈوں کے الزامات لگاکر اُن کا بیٹا پھنسانے کے جرم میں دھکے دے کر گھر سے نکال دیا لیکن ثریا بی کہاں دودھ کی دھلی تھی۔ اُس نے بھی دادی جان سے بدلہ لینے کی ٹھان لی اور اپنے شوہرکولے کر یہ جا وہ جا ۔ اب تو دادی جان کو بھی اک پل چین نہ رہا ہر وقت ثریا بی کو کوسنے اور بد دعائیں دینا تو جیسے ااُن کا مقصد ِ حیات بن گیا تھا۔ چاروں بچیوں کوچچا جان سے بے انتہا اُلفت تھی اور کیوں نہ ہوتی وہ بھی اِن پر جان چھڑِکتے تھے اور اپنے بھائی بھابی کی بھی بے انتہا عزت کرتے تھے۔زندگی کہاں کسی کے چلے جانے سے رکتی ہے ۔وقت گزرتا گیا والدین کی ناچاقی اور دادی کی باتیں سن سن کر شگفتہ ناز ایک عام سی شکل و صورت ، سانولی رنگت، درمیانے قد اور دبلی پتلی جسامت والی جوان لڑکی میں تبدیل ہوگئیں ۔ لیکن منجھلی بہن شہناز تھی تو قد میں ذرا کم، لیکن صاف رنگت گداز جسم اور تیکھے نین نقش کے باعث کافی دل کش نظر آنے لگی۔ شمع اور بلقیس ابھی چھوٹے ہونے کے ناتے ان خصوصیات سے مبرّا تھیں۔ اسی دوران دادی جان کے دور دراز کے کوئی یتیم مسکین رشتہ دار بنّے میاں اُن کے یہاں پڑھنے کی غرض سے رک گئے۔ آگے پیچھے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اس لیے دادی نے بھی ترس کھا کر اوپر کی برساتی میں اُنہیں رہنے کی جگہ دے ڈالی۔ بننے میاں کے آنے سے ایک رونق سی لگ گئی۔ دن ہو یا رات اس گھر سے قہقہوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ دیکھنے میں بھی بنّے میاں کسی مزاحیہ کردار سے کم نہ تھے اوپر سے اُن کی شرارتیں ۔ خدا کی پناہ جیسے یہ شخص خوشیاں بانٹنے ہی دنیا میں آیا ہو۔بچیوں کے ساتھ لڈو، تاش ،کیرم کھیلنا ، کبھی بھوت کا لبادہ اوڑھ کر پڑوسی کو ڈرا دینا ۔کوئی ایک تماشا ہو تو بتائیں ۔ بچیاں بھی چچا چچا کرتے نہ تھکتی تھیں۔ اُن کے لیے شاید وہ بچھڑے ہوئے چچا نور جیسے تھے، لیکن کسی کے دل کا بھید کون جانتا ہے؟ ایک دن بنّے میاں نے دادی جان سے شگفتہ ناز سے شادی کی خواہش ظاہر کر ڈالی بس وہ چچا بنّے کا آخری دن تھا اُس گھر میں۔ دادی نے پہلے تو خوب کھری کھری سنائیں اور پھر گھر سے رفع دفع ہونے کا حکم صادر کر ڈالا ۔ بنّے چچا دل کے ارمان آنسوو ٔں میں بہائے گھر خالی کر گئے،کوئی یہ نہ جان سکا کہ چچا پر آخر بیتی کیا؟





    جب امی جان نے دادی سے انکار کی وجہ دریافت کی، تو اُنہوں نے جھٹ سے چچا کے والی وارث نہ ہونے کا بہانہ کرکے بات ختم کردی۔ امی جان بھی چپ ہوگئیں ۔
    شگفتہ ناز شروع سے کافی سمجھ دار تھیں۔ اُن کے لیے اپنی امی کی آنکھ کا اشارہ ہی با ت سمجھنے کے لیے کافی تھا۔ ابھی کچھ ہی دن گزرے کہ امی جان کے کزن لطیف بھائی، جن کی انارکلی بازار میں مٹھائی کی مشہور دکان ہوا کرتی تھی ، ان کی امی نے دادی جان کو اپنے بڑے بیٹے کے واسطے شگفتہ ناز کے رشتہ کا پیغام بھیجوایا۔ بس یہ سننے کی دیر تھی کہِ دادی آگ بگولا ہوکرکہنے لگیں۔
    ”ارے بھیا!میں نہ بیاہوں اُن حلوایوں کے گھر اپنی پوتی کو ، بھلا بتاؤ کتنی بدبو آتی ہے اُن کے باپ کی دھوتی سے ، ملگجے سے کپڑے پہنے رکھتا ہے ہر وقت، ارے بیٹا چاہے جتنا بھی پڑھ لکھ جائے رہیں گے وہی کارخانہ د ار”۔
    شگفتہ بی بی اکثر اُردو رومانی ناولوں کو چاند کی روشنی میں بیٹھ کر پڑھا کرتی تھیں شاید اُن کا افسانوی ہیرو بھی کوئی ایسا ہی قابل شخص تھاکیوں کہ یہی ایک واحد رشتہ تھا جس کے آنے پر اُن کے دل میں کچھ اُمنگ جاگی تھی،لیکن دادی کے صاف انکار پر اُن کا دل ایسا ٹوٹا کہ آیندہ کبھی کسی رشتے کے آنے پر اُنہیں خوش نہ دیکھا گیا۔
    چاروں بہنوں میں سال سال ہی کا فرق تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی گویا وہ ایک دوسرے کے حالات سے بہت حد تک باخبر تھیں۔ دوسری طرف ثریا بانو نے اپنے شوہر کی نافرمانی کرتے ہوئے ، اپنی ذلت کا بدلہ لینے کے لیے رشید میاں پر دکان اور مکان کے بٹوارے کا کیس دائر کردیا۔ کورٹ کچہری کرتے کرتے حالات اتنے بدلے کہ دونوں دکانیں بک گئیں اور یہ سب کرا ئے کے مکان میں آگئے۔
    آخرکار ثریا بانو کا تیر نشانے پر لگا اور اُس نے ہنستا مسکراتا گھر تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایک رات امی جان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ وہ اکثر دادی یا مولوی صاحب کا دم شدہ پانی پیا کرتی تھیں۔ جب دوا بے اثر ہونے لگی، تو اُن کے کہنے پر چھوٹی شمع اور بلقیس نے وہی دم کیا ہو ا پانی ماں کو لا دیا۔ بس چند قطرے حلق میں جاتے ہی آنکھیں ایک سمت ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگیں اور جسم بے سُدھ ہوگیا۔ سنتے تھے کہ امی جان پر کوئی جن عاشق تھا، وہ اُنہیں زندگی کی تمام تکلیفوں سے نجات دلا کر اپنی دنیا میں لے گیا۔ ہاں یہی ایک خواب تھا ، جو رشید میاں نے اپنی بچیوں کو شایددلاسا دینے کے لیے سنایا تھا کہ ایک رات میں نے خواب کی حالت میں تمہاری ماں کو لال جوڑے میں ملبوس بہت خوش اور صحت مند پایا۔ چاروں معصوم بچیوں نے بھی یقین کرلیا۔
    دن گزرتے رہے۔ گھر میں یا تو ڈیڈی تھے یا دادی، جی بالکل ! شروع ہی سے رشید میاں کو بچیاں ڈیڈی کہہ کر ہی مخاطب کیا کرتی تھیں ۔ وقت جوں جوں گزر رہا تھا ، بچیوں میں خود کو ڈھکنے کا شعور بھی اُجاگر ہورہا تھا۔ خاص طور پر شگفتہ بی بی تو شرم و حیا کا ایسا پیکر تھیں کہ رات سوتے وقت بھی ، مجال ہے جو اُن کا دوپٹہ سر سے سرک جائے ۔ دوسری طرف ثریا نے ماضی کی تلخیاں بھلا کر دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہا او ر بن ماں کی بچیوں سے پیار جتانے کی غرض سے اپنے بچوں کو ان کے گھر چھوڑنا شروع کردیا۔بیٹے کی محبت کے ہاتھوں مجبور دادی نے بھی ثریا کی معافی منظور کرلی۔ ویسے بھی دادی کو کچھ کم دکھائی دینے لگا تھا وہ یہ بھی نہ جان سکیں کہ دشمن تاک لگائے بیٹھا ہے۔
    میل جول اور پیار پروان چڑھتا رہا ،یوں ایک دن یہ تمام بچے پکنک منانے کی غرض سے شالامار باغ گئے، جہاں خاص طور سے چچی جان یعنی ثریا بانو نے بچوں کے لیے بریانی بنا کر بھیجی تھی۔ خدا کی پناہ بریانی کھاتے کھاتے سب کے کھانے میںبال نکلنا شروع ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام بچوں کے بیچ ایسی لڑائی ہوئی کہ اینٹ کتے کا ویر۔ بس اگلے ہی دن شگفتہ ناز کو تیز بخار چڑھا اور اُنہوں نے بستر سنبھال لیا ۔ میٹرک کا امتحان سر پر کھڑا تھا ،تپتے بخار میں چھوٹی بہنوں شمع اور بلقیس نے پکڑ پکڑ کر بڑی باجی کو پرچے دلوائے ،بڑی مشکل ہی سے سیکنڈ ڈویژن تک ہی بات بن پائی ۔ جس پر رشید میاں نے کہا کہ میں اتنے کم نمبروں سے پاس ہونے پر کالج میں داخلہ لے کر نہیں دے سکتا ۔ پڑھائی بند کر کے گھر بیٹھو اور یوں چاروں بچیوں کی آگے پڑھنے کی خواہش ادھوری رہ گئی۔ شگفتہ بی بی کا بخار ٹائیفائیڈ میں تبدیل ہوچکا تھا اور نظر بھی کافی حد تک گر گئی۔ ایک دن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ دادی جان بھی چل بسیں ، بس پھر کیا تھا شگفتہ ناز ہی اب پورے گھر کی بڑی باجی بن کر رہ گئیں ۔گھر والوں کے علاوہ محلے دار رشتہ دار، عزیز و اقارب سب اُنہیں بڑی باجی کے نام سے پکارنے لگے ۔ شمع اور بلقیس بھی جوان ہونے لگی تھیں ۔رشید میاں اب دوسروں کے کتب خانوں میں پارٹ ٹائم نوکری کرتے تھے اس لیے حالات کافی تنگی کا شکار ہونے لگے بھائی کوئی تھا نہیں جو بڑھاپے کا سہارا بنتا ،بس یوں سمجھیئے کہ صورتِ حال کافی گھمبیرتھی۔ کبھی کوئی خالہ چھٹیوں میں باقی بہنوں کو اپنے ساتھ ملتان لے جاتی ،تو کبھی کوئی پھوپھی اپنے ساتھ کراچی گھمانے۔ سیرسپاٹا تو صرف ایک بہانہ تھا اصل مقصد تو اپنے اپنے گھروں میں مفت کام کروانا۔ رشید میاں سیدھے سادھے انسان تھے ، جو رشتہ داروں نے جھوٹ سچ لگایا ، مان لیا اور بچیوں کی کیا مجال کہ وہ بڑوں کے آگے چوں بھی کرجائیں۔
    کہتے ہیں کہ بڑی بہن ماں کی جگہ ہوتی ہے، یہی سوچ شایدشگفتہ ناز کے ذہن میں بھی پروان چڑھ رہی تھی ۔ اپنی بیماری سے اُٹھتے ہی اُنہوں نے کسی دوا بنانے والی کمپنی میں نوکری کرلی۔ گھر میں کچھ پیسے آنے شروع ہوئے تو بڑی باجی کی عزت و عافیت بے پناہ بڑھ گئی اور ساتھ ہی ساتھ ایک کالے موٹے چشمے نے اُن کی آنکھوں پر بیٹھ کر اُن کے رعب و دبدبے میں بھی اضافہ کردیا۔ اب جو بھی رشتہ بڑی باجی کے لیے آتا وہ منجھلی شہناز کو پسند کر جاتا ،لیکن وہ بھی رشتہ سے صاف انکار کردیتی۔عمر بڑھتی جارہی تھی اور رشتے بھاگے جارہے تھے ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں پھوپھی جان ، شہناز کو اپنے ہمراہ کراچی لے گئیں۔تین مہینے بعد، پھوپھا جان نے رشید صاحب کو شہناز کے نکاح کی اطلاع فون پر دی، تو سنا ہے کہ رشیدمیاں دیواروں سے ٹکریں مار مار کر رو ئے ۔گھر میں جیسے کوئی مر گیا ہو۔ ظاہر ہے ایک شریف آدمی کے لیے یہ مرنے ہی کا مقام ہے جس کی جوان بیٹی نے اُس کی مرضی کے بغیر شادی کرلی ہو۔ میاں صاحب نے صاف صاف کہہ دیا کہ شہناز سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے، میری آج سے صرف تین ہی بیٹیاں ہیں۔
    اب شگفتہ بی بی کی سنو، اِس صدمے کا اُن پر ایسا اثر ہوا کہ اُنہوں نے چھوٹی بہنوں پر کڑی نظر رکھنی شروع کردی۔ اُن کا باہر آنا جانا روک دیا گیا ۔ سہیلی سے ملنے کے لیے بھی ایک مقررہ وقت دیا جاتا تھا۔ میٹرک کا امتحان پاس کرتے ہی ، امی جان کے دوردراز کے عزیز وں کی طرف سے ، عباد میاں کا رشتہ ، شمع کے لیے بڑی چاہت سے مانگا گیا۔





    عباد میاں تھے تو اُس دور کے بڑے گورے چٹے ، قد آور، میٹرک پاس اور نو بہنوں کے اکلوتے بھائی۔ ان کے ابا پوسٹ آفس میں ملازم ہوا کرتے تھے اِسی بنیاد پر عباد میاں کو بھی وہیں ملازمتمل گئی تھی۔ لڑکا برسرِ روزگار، دیکھا بھالا خاندان اور کیا چاہیے تھا؟ بڑی باجی نے کچھ بچت کی کچھ اُدھار پکڑا اور شمع کو گھر سے خوشی خوشی رخصت کر دیا گیا۔
    اب رہ گئی تو صرف بلقیس ، جو تمام بہنوں میں سب سے خوبصورت تھی ، یوں کہ جیسے آسمان سے کوئی حور اُتری ہو لمبا قد، گوری رنگت، نیلی آنکھیں ، سنہرے بال ، لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ ایک ہندوستانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ ہلکی سی سرخی ہی لگاتی تو کسی لندن کی گوری میم سے کم نہ دکھتی۔ بڑی باجی نے سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لگے ہاتھ اپنے ہی رشتہ داروں کے ہاں ایک نہایت شریف خاندان میں ، بلقیس کی بھی منگنی کردی۔ ابھی اس منگنی کو کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ کراچی سے شہناز اور پرویز میاں ، میرا مطلب ہے کہ ان کے سرتاج کی لاہور واپسی کی اطلاع دی گئی ۔ شگفتہ ناز بہن کی محبت میں اپنے ڈیڈی اور بلقیس کو ساتھ لیے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچ گئیں ۔ سامنے سے سات ماہ کی حاملہ شہناز بی بی ، اپنے سامان اور میاں کے ساتھ چلی آئیں اور آتے ہی اپنے ڈیڈی کے قدموں میں گر گئیں ۔ بھلا آدمی کیا کرتا ؟ باپ نے بیٹی اور داماد کو گلے لگا لیا ۔ چوں کہ پرویز میاں دادی کی ایک سہیلی کے بیٹے تھے ، جو کراچی سے لاہور امتحانات کی غرض سے اکثر رشید میاں کے یہاں رک جایا کرتے تھے۔ یوں وہ ان کے لیے اجنبی نہ تھے۔آخرکار ان سب نے کفایت شعاری کی غرض سے ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھے ، خوش گوار زندگی جینے کا فیصلہ کیا ۔ شاید شگفتہ ناز کو اپنے والد صاحب کی عمر کے احساس کے ساتھ پنجاب کے حالات کا بھی بہ خوبی علم تھا کہ اس معاشرے میں اکیلی عورت کا رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ سو باجی نے بھی پرویز بھائی کو نا اُمید نہیں کیا اور اندرونِ شہر ایک ایسا گھر لیا گیا جس کا کرایہ بڑی باجی اور پرویز میاں میں برابر تقسیم ہونے لگا۔
    اب سنیے ذرا ، پرویز میاں کی ،شروع کے دنوں میں تو شہناز پر جان نچھاور کرتے تھے، لیکن جیسے ہی تین بچوں کی قطار لگی ، تو جناب کے تیور ہی بدل گئے ۔ ہر وقت گھر میں بچوں پر سختی ، میاں بیوی کے جھگڑے ، چیخ پکار اپنے رشتہ داروں کو کراچی سے بلا کر گھر والوں سے ان کی سیوا کروانا۔ یہ باتیں شگفتہ ناز کو کافی حد تک ناگوار گزرنے لگیں ۔ لیکن ہاں ایک بات تو پرویز میاں کی بھی ماننی پڑے گی کہ تھے تو وہ شگفتہ ناز سے عمر میں کچھ بڑے، لیکن ان کی کیا مجال جو بڑی باجی کے سامنے چوں بھی کرجائیں۔ بلاشبہ اُن کا چیخنا چلانا صرف اپنے خاندان تک ہی محدود ہوتا، تاکہ گھر کا اکلوتا مرد سربراہ ہونے کی حیثیت سے کچھ تو دہشت قائم رکھی جاسکے۔ بڑی باجی جب بھی ان میاں بیوی کے جھگڑے کے بعد اپنے ڈیڈی کو لے کر الگ گھر میں رہنے کا مطالبہ کرتیں ، تو فوری طور پر ان سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیا کرتے تھے ۔ باجی بھی معاف کرکے سوچتیں کہ نجانے یہ کھٹکھٹا کب تک چلے گا ؟ ابھی حالات کچھ کارسازگار نہ ہوئے کہ تیسرے نمبر کی شمع کو سسرال والے ان کے یہاں یہ کہہ کر چھوڑ گئے کہ بھیا!علاج کرواؤ اپنی بہن کا، اس پر آسیب ہے۔ چلو جی ، بہن کا خرچہ بھی آن پڑا ، لیکن بڑی باجی نے اُف تک نہ کی اور بہن کے دردِ شقیقہ کے ہر طرح کے حکیمی اور روحانی علاج کروا ڈالے ۔ دو تین مہینے کی مسلسل تگ ودو سے جب شمع بھلی چنگی ہوئی، سسرال والے لینے آگئے ۔
    اب شگفتہ کی زندگی ذرا پٹڑی پر آرہی تھی۔ ملازمت کے دوران ، زاہدہ نامی بیوہ خاتون سے دوستی ہوئی جو ایک عدد جوان بیٹے کی ماں بھی تھی ۔ رازونیاز بانٹے گئے اور زاہدہ بیگم ان کے گھریلو حالات سے باخبر رہنے لگیں ۔ انہی دنوں بلقیس کے منگیتر کو پولیس بے بنیاد غلط فہمی کے باعث ، گرفتار کرکے لے گئی اور اس بے چارے کو پوری رات تھانے میں گزارنی پڑی ۔ معافی تلافی سے بات آئی گئی ہوگئی ، لیکن جی کہاں، پرویز میاں کو تو جیسے موقع مل گیا بڑی باجی کو کچوکے دینے کا۔ اکثر بلند آواز کہہ دیا کرتے کہ ”جاؤ جاؤ ، بلقیس کا نکاح جیل میں ہی پڑھوانا جاکر۔” اُف! بڑی باجی کو بہت غصہ آتا کہ کیا ہمارے ایسے برے دن آگئے ہیں ،جو پرویز میاں کے فضول طعنے بھی سنیں۔ شگفتہ ناز نے جذبات میں اکر منگنی ہی توڑ ڈالی۔ بلقیس تو ویسے ہی شہناز اور پرویز میاں کے بچوں کو پالتے پوستے تھک چکی تھی۔ بڑی باجی کے اس فیصلے سے بلقیس پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ نہ جانے اس قید سے وہ کب آزاد ہوگی؟ شاید خدا نے بلقیس کی پکار سُن لی اور اگلے ہی دن ایک درمیانے قدکاٹھ ، گندمی رنگ اور غلافی آنکھوں والا لڑکا ان کے یہاں پرویز صاحب کا دوست بن کر آیا۔بعد میں پتا چلا وہ ان کے آفس میں ہی کام کرتا ہے اور کسی اچھی اور سلجھی لڑکی سے بیاہ کرنا چاہتا ہے۔ اب لگے پرویز میاں، کلیم کے لیے لڑکی ڈھونڈنے، جھٹ سے بلقیس کا خیال آیا اور بڑی باجی اور ڈیڈی کے سامنے رشتہ ڈال دیا۔





    ڈیڈی جی کا تو گھر میں اب عمل دخل کچھ خاص نہیں رہ گیا تھا ۔ سوچنا سمجھنا تو بہنوں کو تھا۔ لو جی چار گواہوں کی موجودگیمیں نکاح ہوا اور سادگی سے ایسے رخصتی کی گئی جیسے بیوا اور رنڈوے کی شادی ہو، یوں بلقیس بھی اپنے گھر کی ہوئی۔ شادی کے سال بعد ہی بلقیس بیگم نے ایک بیٹی کو جنم دیا جب کہ شمع کے یہاں بھی ، شہناز کی طرح تین بچوں کی ولادت ہوچکی تھی ۔ اب تمام بہنوں نے تہیہ کیا کہ کیوں نہ اب اپنی بڑی بہن کا گھر بسایا جائے اور ہر ایک نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق شگفتہ ناز کے لیے رشتہ کی مہم شروع کر ڈالی۔ چوں کہ پرویز اور کلیم میاں دونوں ہی سرکاری ملازم تھے ، تاہم وہ بھی بڑی باجی کے لیے نت نئے رشتوں سے اپنی اپنی بیویوں کو آگاہ کرتے رہتے ، لیکن شگفتہ ناز ان کے بتائے ہوئے رشتوں پر کبھی آمادہ نہ ہوتیں ۔ بھئی ان کی اپنی بہنوں کو کون سا ایسا سکھ مل گیا تھا شادی کرکے جو شگفتہ ناز کو بھی مل جاتا۔
    ایک دن اچانک شہناز نے شمع اور بلقیس کو فون پر بڑی باجی کی بات پکی ہونے کی اطلاع دی اور کہا کہ اس ہفتے ہم نے شگفتہ ناز کے نکاح کا پروگرام رکھا ہے تو ذرا سج دھج کر آنا ۔ دونوں بہنوں کو بڑا تعجب ہوا کہ اچانک سے بڑی باجی رشتہ کے لیے راضی کیسے ہو گئیں ؟بہرحال عین نکاح کے موقع پر جب دُلہا میاں کا چہرہ مبارک سامنے آیا ، تو وہ ساٹھ سالہ رنڈوا بڈھا نکلا ۔ سنا ہے بی بی زاہدہ نے شگفتہ ناز کو بہلا پھسلا کر اس رشتے کے لیے آمادہ کیا تھا ، کہ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اب کم عمر لڑکا تو ملنے سے رہا، جس پر پرویز میاں اور اُن کی بیگم نے بھی چھان بین کرکے اچھی طرح تسلی کرلی تھی یا یوں کہیے کہ وہ دونوں بھی بڑی باجی کے فریضے سے جلد از جلد سبک دوش ہونا چاہتے تھے۔ اس لیے شگفتہ ناز کو بغیر تصویر دکھائے پوری تسلی دیتے رہے، لیکن بلقیس اور شمع کو دُلہا میاں کی عمر من ہی من کھٹکے جائے کہ ہماری باجی کی تو پسند ہی وحید مراد جیسا، ہردل عزیز چاکلیٹی ہیرو ہے وہ کیسے اس بے ڈھنگے سے رشتے کے لیے ہاں کرسکتی ہیں۔ نکاح ہونے تک زاہدہ بی بی نے بہنوں کو دلہن کے کمرے میں جانے سے روکے رکھا کہ کہیں اس کا اپنا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔
    فوری رخصتی کے اعلان پر ، جب شگفتہ ناز دُلہا میاں کا چہرہ دیکھا ،تو بے ساختہ خوف سے رو رو کر برا حال کرلیا ،لیکن نکاح ہوچکا تھا مگر، رخصتی تو ہونی ہی تھی۔وہ کسی بھی صورت اس بڈھے کے ساتھ جانا نہیں چاہتی تھیں تاہم اپنے ڈیڈی کی عزت بچانے کے لیے اُنہوں نے گھر سے جانا ہی بہتر سمجھا۔
    اگلے ہی دن جب بہنیں، دل بھاری کرکے بڑے میاں کی طرف ناشتا لے کر پہنچیں ، تو شگفتہ ناز کو اسی حالت میں بیٹھے پایا ،جیسے رات سیج پر چھوڑ کر گئے تھے ۔ معلوم ہوا کہ دُلہا میاں نے تو ساری رات وظائف پڑھنے میں گزار دی اور دلہن کے پاس بھی نہ پھٹکے۔ اب تو شگفتہ ناز نے ٹھان لی تھی کہ اس موئے بڈھے کے ساتھ نہیں رہنا ۔ واپس گھر جاکر بہنوں نے خلع کا نوٹس بھجوا دیا کہ یہ شادی دھوکے کی بنیاد پر ہوئی اور شگفتہ ناز کو تو کیا کسی کو بھی دُلہا کی اصلی عمر کا معلوم نہ تھا۔بڑی تگ و دو کے بعد چھوٹے بہنویوں نے مل کر شگفتہ ناز کی اس بڑے میاں سے جان چھڑائی۔
    بس پھر کیا تھا، شگفتہ ناز کا دل تو جیسے شادی کے نام سے ہی اُچاٹ ہوگیا، اگر کوئی بھول کر بھی ان کے سامنے کسی رشتے کا ذکر کردیتا، تووہ خود کو کمرے میں بند کرکے رونا شروع کردیتیں ۔وقت گزرتا رہا اور اپنی مایوس کن داستان شگفتہ ناز کے چہرے پر ، گہری لکیروں کی صورت چھوڑتاچلا گیا۔ دوسری اور آخری ملازمت انہیں گلبرگ کی نامی گرامی بوتیک میں ملی۔ ان کی زندگی کا محور صرف اپنا کام اورا سٹاف کے لوگ تھے۔مالکن ایک اچھی عورت تھی جوشگفتہ کے لیے ہمدردی کے جذبات بھی رکھنے لگی تھی ۔ سنیاروں کے خاندان سے تعلق ہونے کی بنا پر شگفتہ ناز کو سونے اور ہیرے جواہرات کا علم تھا اس لیے مالکن نے ترقی کے طور پر انہیں جیولری سیکشن کا انچارج بنا ڈالا۔
    ڈیڈی کی بھی کافی عمر ہوگئی تھی ،لیکن شگفتہ ناز کا فریضہ ابھی تک ان کے کندھوں پر تھا۔ کلیم میاںخاصے ہوشیار اور رنگین مزاج شخص تھے اکثر عورتوں کی محفل میں بیٹھ کر ، اپنی سریلی آواز سے اپنا گرویدہ بنانے کا فن خوب جانتے تھے۔ صرف دو یا تین سال ہی بیچاری بلقیس نے سکون کے گزارے ہوں گے، کہ بھائی صاحب کو کسی نے فلم بناکر بہ طور ہیرو آنے کا جھانسا دے ڈالا۔ تبھی کلیم میاں نے بڑی باجی اور ڈیڈی کو اپنے گھر رکھنے کااصرار شروع کردیا۔ بھئی فلمی لوگ رات دیر شوٹنگ میں جو مصروف رہتے ہیں۔ نہ دن کا پتا نہ ہی رات کی خبر، تو پیچھے سے کوئی تو گھر اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ہونا چاہیے یا نہیں۔ چل پڑیں بیچاری بڑی باجی دوسری بہن کے گھر کی نگہبان بن کر۔
    ہر عورت کو اپنے شوہر سے وقت درکار ہوتا ہے، لیکن کلیم میاں نے آنکھیں ماتھے پر رکھ کر صاف لفظوں میں اپنی بیگم سے کہہ دیا تھا کہ میں صرف تمہیں پیسہ دے سکتا ہوں، لیکن وقت نہیں، یوں جب بھی بلقیس کو اپنے شوہر کی بے وفائی پر غصہ آتا، بیچاری شگفتہ ناز کی شامت آتی کہ” باجی تم نے میری شادی اس جیسے فلمی اور آوارہ آدمی سے کیوں کروائی؟ بے چاری بڑی باجی خاموشی سے ساری باتیں سنتی رہتیں۔
    اب تو سب بہن بہنویوں نے یہی وتیرہ بنالیا تھا کہ کسی کو بھی اگر کیئر ٹیکر کی ضرورت ہوتی ، تو بس حکم صادر ہوجاتا کہ بڑی باجی سے کہو کہ وہ اپنے کام سے سیدھا ہماری طرف آجائیں۔دنیا کا یہی دستور ہے ، دبنے والے کو اور دبائے جاؤ، لیکن ہاں ایک بات تو ماننی پڑے گی۔ تینوں بہنویوں کے دلوں میںبڑی باجی کے لیے عزت میں بہ تدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا اور اپنے بچوں کو بھی شروع سے انہیں بڑی آنٹی کہنے کی عادت ڈلوادی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شگفتہ ناز ، بڑی باجی سے بڑی آنٹی تو بن گئیں، بس ایک شادی ہی تھی جونہ ہوسکی۔





    بلقیس کے سسرال والے ذرا دیہاتی قسم کے لوگ تھے۔ جونہی کلیم میاں کے گھر میں ان کا عمل دخل شروع ہوا ، شگفتہناز کو خود پر زندگی تنگ محسوس ہوتی نظر آئی۔کبھی کلیم میاں کی چھوٹی بہن ان کے بارے میں اوٹ پٹانگ بکواس کرتی، تو کبھی بچوں کے ساتھ مل کر بیمار نانا کی نقل اتارتی رہتی۔ جیسے ہی یہ تمام حرکات و سکنات شگفتہ ناز کو معیوب لگنا شروع ہوئیں انہوں نے اپنے باپ کی عزت بچانے کی خاطر بہنوں کے در پر رہنے کے بہ جائے اپنا الگ مکان لینے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹیوں کے پیسے جوڑ جوڑ انہوں نے شہناز اور پرویز میاں کے علاقے ہیمیں ، ایک چھوٹے سے گھر کے دو کمرے کرائے پر لے لیے تاکہ دونوں باپ بیٹی، بہنوں کی سسرالیوں کے طعنوں سے دور عزت و سکون کے ساتھ باقی زندگی گزار سکیں۔
    اب شمع بیگم کی سنیے، نو نندوں کا ساتھ اور پانچ بچوں کو جنم دے کر بے چاری ہڈیوں کا پنجر بن گئی۔ آئے دن بے چاری کے دردِ شقیقہ کا مسئلہ ناسور بنتا گیا اور الزام آیا بڑی باجی پر کہ ہمیں بیمار لڑکی تھما دی۔ ارے ان جاہلوں کو کون بتائے کہ کسی انسان کو تم اچھا کھانے پینے کو نہ دو ، اوپر سے ،کام لو جانوروں کی طرح تووہ بے چارہ تو گیا نا اپنی جان سے۔ نہیں جی !بس جیسے ہی شمع بی کا دوپٹا بندھا سر پر، شگفتہ ناز کو آفس فون کیا جاتا کہ آو ٔ اور سنبھالو اپنی بہن کو۔
    خیر یہ تو ہر ہفتہ کی خواری تھی۔ انہی دنوں فلمسٹار وحید مراد کا انتقال ہوگیا۔ سنا ہے یہ دوسری مرتبہ شگفتہ ناز کسی غیر کے لیے بے انتہا روئی تھی، پہلی مرتبہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے مرنے پر بھی خوب روئی تھیں۔ نہ جانے کیسے کوئی کسی اجنبی کے لیے اتنا رو سکتا ہے؟ یہی تو بات ہے نا، جو انسان خود میں دردچھپائے ہو ، وہی کسی دوسرے کا غم بھی سمجھ سکتا ہے۔ اس پھیکی بے رنگ زندگی میں ایک خوش گوار احساس ، کلثوم کی شکل میں بڑی آنٹی اور ان کی بہنوں کی زندگی میں آیا۔ کلثوم بھی انہی کی بوتیک پر کام کرنے والی سیلز گرلز میں سے ایک تھی ، لیکن اپنی خوبصورتی اور چالاکی کو کیش کرواکر ، کچھ ہی عرصہ میں اپنی بوتیک کھول بیٹھی ۔ اس بیچاری نے سیدھی سادھی بڑی آنٹی میں ، ایک اچھی سہیلی ہونے کے ناطے ، زمانے کے حساب سے کچھ تبدیلیاں لانے کی بھی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔
    بہنوں کے حالات بہتر ہوئے تو ان کے پاس گاڑیاں آگئیں، پرصبح سویرے ایک لمبی سی چادر اوڑھے ، آنکھوں پر عینک لگائے خاموشی سے چھے نمبر وین پر لبرٹی کے اسٹاپ پر اُترنا اور وہاں سے پیدل چل کر بوتیک جانا ،بڑی آنٹی کا معمول بن چکا تھا ۔ بس اتنا ہی آسرا کافی تھا کہ جس بہن کے درپر ہوتیں، گاڑی میں بس اسٹاپ تک رسائی ممکن ہو جاتی۔اسی معمول کو دیکھتے دیکھتے بہنوں کے بچے بھی جوان ہوتے گئے اور یہ کھٹکھٹا اسی رفتار سے آگے گھسٹتا چلا گیا۔
    ایک دن کلیم میاں نے باجی کو فون پر بلقیس کی بیماری کی اطلاع دی ۔
    ” ہائے ہائے!تین بچوں کی ماں کو ایسا کیا ہوگیا جو کلیم میاں نے فوری طور پر گھر جانے کا حکم دے ڈالا؟” یہ سوچتے ہی بڑی آنٹی نے کام چھوڑ اپنی بہن کے گھر کا رُخ کیا۔ ماجرا یہ نکلا کہ بلقیس کو اچانک بیٹھے بیٹھے گٹھیا کا مرض لاحق ہو گیاتھا۔ خدا کی پنا ہ !وہ تو اٹھنے جوگی بھی نہ ہے ، اپنا گھر کیسے سنبھالے گی؟یہ خیال آتے ہی ، انہوں نے شہناز بی بی کو اپنے ڈیڈی کا نگہبان مقرر کیا اور بلقیس کے گھراس کی اور اس کے بچوں کی خدمت کے لیے رہنے لگی۔سچ بات تو یہ تھی کہ لاہور کے تمام مہنگے ترین ڈاکٹروں اور حکیموں نے بلقیس کے علاج میں کوئی کسر نہ چھوڑی ، لیکن آرام ہے کہ آتا ہی نہیں ۔اوپر سے بلقیس بیگم تھی بھی کچھ لڑاکا اور وہمی طبیعت کی مالک۔ وہ اسی بات پر اَڑ گئی کہ ہو نہ ہو کلیم کے گھر والوں نے ہی ان پر کوئی کالا علم کروا دیا ہے ، جو توڑ نہ ہونے تک قائم رہے گا۔ اب بھلا بتاو ٔ بیچاری بڑی آنٹی ، بہنوئی کی مانے تو پھنسے اور بہن کی مانے تو بُری بنے۔ سیاست اور چالاکی سے مبرّا یہ ہستی جائے تو کہاں ؟ بہنوئی کے کہنے پر بلقیس کو کبھی ڈاکٹر کے یہاں تو کبھی کسی بزرگ کی درگاہ پر۔ آخرکار مسلسل چھے سات مہینوں کی تگ و دو سے بیماری دور ہو تو گئی ، لیکن بلقیس کے مطابق اسے شفا کسی نیک پیر صاحب کے مزار پر حاصل ہوئی، جب کہ کلیم میاں کا ماننا تھا کہ پیسہ پانی کی طرح جو بہایا تھا علاج پر ، آرام تو یقینی آنا تھا۔ خیر!جان چھٹی تو لاکھوں پائے ، بڑی بہن کا ناطقہ بند کرکے اب دونوں میاں بیوی ساری زندگی چور پولیس کھیلتے رہو۔
    شادی تو بہنوں سے کروائی نہ گئی لیکن خدمتیں خوب کروا ڈالیں ۔ دیکھنے والے تو یہی کہہ دیا کرتے ”کہ دیکھو بیچاری اکیلی ہے ۔ نہ شوہرہے ، نہ بچے، بس ایک واحد ڈیڈی ہیں نجانے کب اُن کا بھی بلاوا آجائے۔ بیچاری شگفتہ تو اکیلی رہ جائے گی۔ ”لیکن کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ شادی کرنا ہی نہیں چاہتی اور کرتی بھی کیوں…؟ طرح طرح کے بہنویوں کے گھر گرہستی چلانے کی قابلیت کو دیکھ شاید اُن کا شادی نہ کرنے کا فیصلہ یک دم پختہ اور اَٹل ہوچکا تھا۔ اکثر کہہ دیا کرتیں ” شوہر حقیقت میں ایک دوغلا کردار ہے، جو صرف ایک مخصوص ضرورت کے تحت ، اپنی عورت کو ساتویں آسمان پر چڑھا دیتا ہے اور ضرورت پوری ہوجانے پر ایسے گراتا ہے کہ وہ بیچاری زمین کے بجائے کھائی میں گرتی ہے۔ اس لیے میں تو باز آئی ایسی شادی سے۔”