Tag: alif nagar

  • سمو — شاذیہ ستار نایاب

    سمو — شاذیہ ستار نایاب

    ”امی تصویریں دیکھیں لیزا کی؟ کیسی لگیں آپ کو؟” فاخر نے اشتیاق سے پوچھا۔
    ”ہاں! اچھی پیاری لڑکی ہے، مگر ہے کون؟”
    ”امی میری کلاس فیلو ہے۔ اس کے والد کا یہاں سپراسٹور ہے جہاں میں پارٹ ٹائم جاب کرتا ہوں۔” فاخر نے کہا۔
    ”مگر یہ سب تم مجھے کیوں بتا رہے ہو۔” امی نے پوچھا۔
    ”امی میں اسے پسند کرنے لگا ہوں۔ ان فیکٹ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے والدین بھی راضی ہیں اب آپ اور ابو بھی…” فاخر نے بات ادھوری چھوڑی۔
    ”کیا وہ مسلمان ہوگئی ہے؟” امی نے کڑے انداز میں پوچھا۔
    ”ابھی تو نہیں… شاید بعد میں… وہ کہتی ہے کہ پہلے میں اسلام کا مطالعہ کروں گی اور پھر فیصلہ کروں گی۔”فاخر نے جواب دیا۔
    ”وہ لڑکی عیسائی ہے؟ تو کیسے ممکن ہے؟” امی نے پوچھا۔





    ”امی عیسائی اہلِ کتاب ہوتے ہیں ان کے ساتھ نکاح جائز ہے میں نے معلوم کیا ہے۔”
    ”یہ تم کہہ رہے ہو۔” میں حیران ہوئی۔ نگاہوں کے سامنے بے اختیار کچھ عرصہ پہلے کا منظر آگیا۔
    آنگن میں دھیرے دھیرے سرمئی شام اُتر رہی تھی۔ فاخر شاپنگ بیگز سے لدا پھندا سیٹی پہ شوخ سی دھن بجاتا گھر میں داخل ہوا۔
    ”امی… امی! کہاں ہیں آپ۔” فاخر نے آواز دی۔
    ”ادھر ہوں کچن میں۔” میں نے کہا۔
    فاخر کچن میں چلا آیا۔ ایک طرف کالی کلوٹی سمو بیٹھی کھانا کھا رہی تھی اسے دیکھ کر فاخر ہمیشہ کی طرح جھلاّ گیا۔
    ”یہ کیا کررہی ہے یہاں؟” فاخر منہ بناتا ہوا بولا۔
    ”دیکھ نہیں رہے کھانا کھا رہی ہے۔”
    ”آپ باہر آئیں۔” فاخر بولا۔
    میں ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی باہر آئی۔
    ”امی وہ عیسائی ہے آپ اسے کچن میں بٹھا لیتی ہیں۔ اس کے برتن الگ رکھا کریں۔” فاخر نے کہا۔
    ”بیٹا عیسائی اہل کتاب ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے۔” میں نے سمجھایا۔
    ”ہوتا ہوگا، مگر مجھے نہیں پسند۔” فاخر ہٹ دھرمی سے بولا۔
    ”اچھا یہ بتاؤ… مجھے کیوں بلا رہے تھے؟”
    ”آپ کو اپنی شاپنگ دکھانی تھی اور آپ ہیں کہ کالی سمو کی خدمت میں جتی ہیں۔” فاخر نے کہا۔
    ”دکھاؤ کیا لائے ہو۔ گرم کپڑے… جوتے سب لے لیے ہیں نا؟”
    ”کیا نہیں ہونا چاہیے؟” میں نے سوال کیا۔
    ”صرف ڈیڑھ سال کی بات ہے پلک جھپکتے ہی گزر جائیں گے اور آپ کا بیٹا ڈگری لے کر آپ کے پاس۔” فاخر نے چٹکی بجائی۔
    ”یہ ماں کے دل سے پوچھو… پرایا دیس پرائے لوگ… مجھے تو بہت فکر ہورہی ہے۔”
    ”امی آپ کا بیٹا اب بڑا ہوگیا ہے۔ اب تو واٹس ایپ ہے، وائبر ہے، سکائپ ہے، روز آپ کو ویڈیو کال کیا کروں گا۔” فاخر نے تسلی دی۔
    اور آج واٹس ایپ پر اس کی یہ بات سن کر میں چپ چاپ ماضی کے مناظر میں کھو گئی۔
    ”ہیلو… ہیلو… امی آپ خاموش کیوں ہوگئیں۔ بتائیں نا ابو سے آپ بات کر لیں گی نا۔” فاخر نے کہا۔
    ”فاخر تم تو کچن میں بیٹھ کر سمو کو کھانا نہیں کھانے دیتے تھے۔ اسے اپنے برتنوں کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے اور اب… اب ایک عیسائی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو۔”
    ”آپ سمو کو لیزا سے کیوں ملا رہی ہیں۔ لیزا اتنی خوبصورت اتنی امیر لڑکی ہے۔ سمو تو اتنی کالی تھی۔”
    ٭…٭…٭




  • آخری شام — سدرۃ المنتہیٰٖ جیلانی

    آخری شام — سدرۃ المنتہیٰٖ جیلانی

    ”محبت کی کہانی دنیا میں سب جگہ ایک جیسی ہوتی ہے۔”
    یہ پہلا جملہ جو میں نے اُس سے سُن کر اپنے آپ کو دنیا کی خوش قسمت ترین مخلوق سمجھا تھا۔
    کچی بستی کے باسی کو کلاس میں یوں لمبی لمبی تقریریں کرتے ہوئے کئی مرتبہ سنا تھا۔ ہر بار وہ ایک لمبی تقریر کے بعد جب سیٹ پر آکر بیٹھتا تھا تو یہی کہتا کہ تاریخ ہمیشہ ایک جیسی ہے اور یہ لوگ سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے۔
    ”دیکھو زمانہ حال، مستقبل اور ماضی کچھ نہیں ہے۔”
    ”سب کچھ وقت ہوتا ہے۔”
    ”جو ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔”
    اس نے اپنے گروپ کے چند لڑکے لڑکیوں کو قائل کرنا چاہا تھا۔
    ”دنیا کے سارے مسائل ایک جیسے ہوتے ہیں۔تم تاریخ کی کتاب کھول کر دیکھ لو۔حالات، مزاج اور مسائل سب اپنے آپ کو دُہراتے ہیں..یہاں تک کہ انسان بھی…”
    وہ آرٹ کا شاگرد تھا مگر تاریخ، فلسفہ اور سائنس سب میں برابر دلچسپی رکھتا تھا۔
    میری دلچسپی اس میں بڑھتی جارہی تھی ۔
    وہ ہر مرتبہ کوئی گھمبیرسا موضوع اُٹھالیتا تھا۔
    ”ایک بے چارہ انسان دنیا کے سارے مسائل کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر نہیں اٹھاسکتا۔”
    میرا اس سے ملاقات کے بعد یہ پہلا جملہ تھا جو میں نے ہمدردی میں آکر بولا تھا۔
    وہ مسکرایا۔مجھے پتا تھا وہ چپ نہیں رہے گا۔ ایک لمبی تقریر مجھے سمجھانے کے لیے شروع کردے گا اور پھر ناختم ہونے والا سلسلہ۔ مگر ہوا یوں کہ وہ چپ رہا اور مسکراکر گزرگیا۔
    مجھے اندازہ تھا وہ کسی اچھے علمی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوگا۔مگر اگلے ہفتے اپنے گروپ کے ساتھ دریائے سندھ کی سیر کو نکلے تو وہ ہمیں ایک قریبی کچی آبادی میں لے گیا جہاں مین روڈ کے نزدیک جھگیوں کا ایک لمبا اور بے ترتیب سلسلہ تھا۔
    معلوم ہوا کہ یہ اس کا گاؤں ہے۔
    ایک آدمی جھگیوں کے پیچھے کچے مکان کے صحن میں کھٹارا سا ریڈیو سن رہا تھا۔
    ہمیں آتا دیکھ کر وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
    وہ فریاد حسین کا باپ میرل تھا۔
    اس کی ماں میلے ڈوپٹے سے ہاتھ پونچھتی ہوئی آگے بڑھی پھر ہمیں خوش آمدید کہنے لگی۔
    تازہ روٹی اور مکھن اور دریا کی مچھلی سے ظہرانہ خاص ہوگیا۔
    مجھے اس کچی بستی میں رہنے والے غریب لوگوں کے اخلاق، میزبانی اور محبت نے بہت زیادہ متاثر کیا تھا۔
    اس کا وہی ایک جملہ یاد آگیاکہ دنیا میں سب جگہ محبت کی کہانی ایک جیسی ہوتی ہے۔
    دو لوگ آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے احساس کی کمزوریاں دے بیٹھتے ہیں۔
    اور پھر ایک ساتھ چلنے کے کئی خواب ایک ساتھ دیکھتے آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
    اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب فیصلہ بدلنا ہوتا ہے۔ جب سمت متعین ہوتی ہے،تب ایک جگہ سماج اپنی آہنی دیوار بنائے کھڑا ہوجاتا ہے اور دوسری سمت سے بس دھواں نکلتا ہے۔





    ”میں نے تو ہمیشہ تمہاری محبت میں جلنا چاہا ہے فریاد…سماج کی بندشیں میرے ارادے کی سمت کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔”
    ”میں تمہاری محبت میں سب کرگزرنے کو تیار ہوں۔” پہلی بار دریا کے کنارے میں نے اس سے وعدہ کیا تھا۔
    پھر بیاہ سے لے کر وفا تک نبھایا۔ زندگی بہت حسین تھی۔ سارے دکھ اور مسائل ایک طرف رکھ کر جب ہم دریا کے کنارے آ بیٹھتے تو لگتا کہ پانی سارے دُکھ پی گیا ہے۔ سب کچھ صاف اُجلا ،دو انسانوں کی محبت کی طرح…!!
    وقت دھیمی رفتار سے گزرا جارہا تھا۔ حالات پھر سے اپنا چلن چلنے کو تیار کھڑے تھے، جب ایک دن دریا کنارے وہی شام تھی وہی پانی جو سوکھتا جارہا تھا۔ اس کے مزاج کی طرح دور دور رہنے لگا تھا۔
    جیسے وہ کسی سوچ میں کھو جاتا تو گھنٹوں اس کی دریافت کی کوشش میں ہارنے لگتی تو پوچھ بیٹھتی کہ ”آخر تم کیا چاہتے ہو؟”
    اسے بات شروع کرنے کا موقع مل گیا تھا۔
    ”سپی۔”وہ نام ایسے لیتا جیسے اس نام کے احساس کا پورا ذائقہ اس نے چکھ رکھا ہو۔
    ”میں تم سے دور رہوں گا مگر تم سے محبت برقرار رہے گی۔ یہ احساس مجھے اندر تک زندہ رکھے گا۔”
    ”تم ہمیشہ بات کو تگنی کا ناچ نچاتے ہو۔ تمہیں یہ نہیں احساس کہ ایک عورت کو گھر چاہیے، اسے آسرا چاہیے، خالی باتوں اور لفظی محبت سے وہ اپنا دل تو بھرسکتی ہے مگر پیٹ تو خوراک سے ہی بھراجاتا ہے۔
    ”پگلی! یہاں بیٹھ کر میں تمہیں کیا دے سکوں گا…؟ دو وقت کی روٹی..گھر کا کرایہ..بجلی کا بل اور صاف پانی۔”
    اس کی سوئی پھر پانی پر آکر اٹک گئی تھی۔
    ”پانی…ہاں پانی…تمہیں پتا ہے نا سپی! پانی انسانی زندگی کے لیے کتنا ضروری ہوتا ہے
    وہ بھی صاف نکھرا اُجلا، صاف ستھرا زندگی سے بھرپور…
    ”تمہیں کیا پتا کہ پانی کیا ہوتا ہے، پانی نہ ہوتو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔”
    ”اور اگر پانی زیادہ ہو تو؟” میں نے تیکھے لہجے میں اس سے پوچھا۔
    ”زیادہ ہو تو ڈبودیتا ہے۔”
    ”دیکھو! محبت بھی پانی کی طرح ہوتی ہے۔ جب ہوتی ہے تو سیراب رکھتی ہے نہیں ہوتی تو دل کی دھرتی سوکھ کر بنجر ہوجاتی ہے۔”
    محبت پانی ہے…ہاں…پانی…اب محبت کو پانی سے تشبیہہ دی جائے گی۔
    مجھے یاد تھا شادی سے پہلے جب ہم فیصلہ لینے کے لیے ملے تھے تب بھی وہ محبت سے آگے بڑھ کر پانی میں کھوگیا تھا۔
    غلطی میری ہی تھی کہ میں نے ہمیشہ اسے دریا کے کنارے ملنے کی فرمائش کی تھی۔
    مگر ہوا یوں کہ محبت کو اب پانی نگلتا جارہا تھا۔
    محبت اس کے سامنے تھی مگر وہ پانی کی گہرائیوں کو کھوجتے ہوئے سوچتا ہی رہا۔
    وہ ایک لمحے سوچتا اور دوسرے لمحے بول اٹھتا تھا۔
    میں نے سمجھا تھا آج وہ مجھے دیکھ کر میری تعریف کرے گا، کہے گا کہ بہت اچھی لگ رہی ہو۔ شادی کے بعد پانی کے پاس ہماری یہ پہلی ملاقات نہ تھی، کسی قسم کا کوئی خوف نہ تھا۔
    خوشیاں ہمارا مقدر بننے لگتیں تو وہ منہ میں بڑبڑانے لگتا تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے نا، سندھ کو ہمیشہ پانی کا مسئلہ رہا ہے۔”
    ”پانی نہ ملنے کی وجہ سے لوگ مرجاتے ہیں۔”
    ”تمہیں معلوم ہے نا کہ پھر سے ہمارا پانی بند کیا جارہا ہے۔”
    اس کا اشارہ دریائے سندھ کی آدھی سوکھی ریت اڑاتی ہوئی زمین کی طرف تھا۔
    ”تمہیں کیسا لگے گا فریاد! اگر میں اس بہتے پانی میں چھلانگ لگادوں ؟”
    وہ مجھے ایک لمحے کے لیے ایسے دیکھنے لگا جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہو۔
    پھرکہنے لگا:” وہ پانی جو لوگوں کے پیٹ کی پیاس بجھاتا ہے تم موت کی گھاٹ اتر کر اس کا ذائقہ کیوں بدلنا چاہتی ہو؟”
    ”تمہیں پتا بھی ہے موت کڑوی ہوتی ہے۔ سمندروں کا پانی جیسے کھارا ہوتا ہے۔ اب دریاؤں کے اندر موت کا ذائقہ آگیا تو کڑوا نہ ہونے لگ جائے۔” وہ کہے جارہا تھا۔
    ”تمہیں میرے مرنے کا دکھ نہیں ہوگا کیا؟”
    مجھے اس کی بات سن کر صدمہ ہوا تھا۔
    ”میں نے یہ کب کہا…؟” وہ حیران ہوا۔
    ”چلو چلتے ہیں۔”
    میں یادوں کے بھنور میں الجھی ہوئی تھی پھر سر جھٹک کر خیالات کو چلتا کیا اور اسے خط لکھنے بیٹھ گئی۔
    ”فریاد!میں تمہیں بتاؤں دریا پورا بھرگیا ہے۔پانی تر آیا ہے۔سیلاب کے خوف نے لوگوں کی نیندیں اُڑادی ہیں۔لوگ جو کچے میں بیٹھے تھے ان کی جُھگیاں ڈوب گئی ہیں۔ بانس کے لکڑ اور کانے تیررہے ہیں دریا کی سطح پر میل ہی میل ہے۔یہاں کے سارے چھوٹے موٹے سکھ تمہارا دریا بہاکر لے جارہا ہے۔” میں لکھتی رہی۔
    ”کل میں نے مہرو کی پازیب بھی کنارے سے اندر لڑھکتے دیکھی تھی۔
    تمہیں یاد ہے ایک دن تم نے میری پاؤں کی پازیب اتار کر دریا میں پھینک دی تھی۔
    اور پھر میں ہنسی تھی۔





    تب مجھے تمہاری یہ حرکتیں بے ضرر سی لگتی تھیں۔ اب تم باہر ہو … گھر سے دور ہو… نہ جانے کب لوٹو گے۔ میرے دن لمبے ہوگئے تھے جس دن سے تم یہاں سے گئے تھے فریاد سب کچھ ویسا ہے۔ جھگیوں میں رہنے والوں کی حسرتیں…کچے مکان کی چھت بہ جانے کا ڈر…صندوق میں سینت سینت کر بنائے گئے بیٹیوں کے جہیز کے چار جوڑوں کو ماؤں نے دھوپ سنکوانے کے لیے نکالا ہے۔
    لڑکیوں کے چہروں پر وہی حسرت ہے جو کبھی میرے چہرے پر آجاتی تھی۔
    وہ ان جوڑوں کو اسی انتظار کی نظر سے دیکھتے ہوئے انتظار کرتی ہیں اور اب اس انتظار کے ساتھ جوڑے خراب ہوجانے کا ڈر بھی ان کے ساتھ چپکے سے بیٹھ گیا ہے۔ میرا قلم چل رہا تھا۔
    ”فریاد!سب ویسا ہے…گلی میں کھیلتے ہوئے بچے اور ان کی شرارتیں۔
    کل بھی میں نے دیکھا سکینہ کے چار سالہ بیٹے نے گھٹنوں تک آتی قمیص کا دامن اٹھاکر ناک پوچھنا چاہی تو اس کی نیکر پھٹی ہوئی تھی۔ میں نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔
    بچیوں کی اوڑھنیاں اور لڑکوں کی دھوتیاں کم پڑنے لگی ہیں۔
    سندھ میں غربت کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔
    غربت کبھی کسی عزت دار کو بھی عزت والا رہنے نہیں دیتی۔ مگر تمہارا پانی…؟
    بس اسی کا مسئلہ سر فہرست ہے جس کے خوف نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لوگ بستی میں مرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ گھر بدری کا ساز و سامان کہاں سے لائیں گے جن کو نکلنا تھا نکل لیے۔ اب گوٹھ کے وڈیرے نے اپنے بچے شہر بھیج دیئے۔ خود بیٹھا ہے آج نہیں تو کل نکلا۔ دن دیکھ رہا ہے اس کے پاس نکلنے کے لیے بڑی سی موٹرکار ہے۔
    مگر فریاد تمہاری تو دریا کے ساتھ بہت بنتی تھی تم اسے ایک خط لکھو!
    ایک خط لکھو کہ انسانوں کو اپنے اندر مار کر تمہارے اندر جو موت کا زہر بھرجائے گا وہ صدیوں تک رہے گا۔لوگ تم سے خوف کھایا کریں گے۔
    کوئی تمہارے لیے قوت سے بہنے کی دعا نہیں کرے گا تم سوکہوگے تو پھر سے تمہارے پیٹ میں ونجاروں کی جھگیاں آباد ہوں گی۔
    مچھروں کی جالیاں تمہارے چھوٹے سے پیٹ کو چیرتے ہوئے مچھلی کا شکار کریں گی۔
    تم درد سے کرلاؤگے…تو بھی کچھ نہ ہوگا…
    جیسے جیسے انسانیت جھگیوں کچے مکانوں اور بہتی ٹین کی چھتوں تلے تڑپ رہی ہے۔
    اس لیے تم ان پہ رحم کرو اور لپٹنے کا ارادہ چھوڑکر پلٹ جاؤ۔ موج مارکہ ڈراؤ نا۔
    تمہیں تمہارے جیالوں کی قسم جنہوں نے تمہاری خاطر قسمیں کھائیں۔ تم.پر بھروسے کیے۔ تمہاری گہرائی کو چاہا۔اور محبت کو تیرے نام سے تشبیہہ دی ان کی خاطر…بس ایک خط دریا کو لکھو…تم فریاد بس ایک خط…
    ٭…٭…٭
    تمہارا خط ملا جس میں فقط اتنا لکھا ہوا ہے کہ ”پڑوسی ملک اپنا پانی ہم پر چھوڑ رہا ہے۔ یہ سب اسی کا قصور ہے سپی وہ جب چاہیں پانی بند کردیں اور جب چاہیں چڑھادیں یہ کاہے کا انصاف ہوا فریاد…یہ کس قسم کی آزادی ہوئی کہ وہ جب چاہیں ہمیں پانی کی ماردیں۔”
    ”کبھی پانی کبھی جنگ… کبھی ہتھیاروں کی جنگ میں وہ ہم سے نہیں جیت سکتے پانی کی جنگ میں تو جیت جاتے…”
    ”خیر میں دریا میں ایک خط تمہارے نام کا ڈال آئی ہوں اور اسے کہہ آئی ہوں تمہیں فریاد کی محبت کا واسطہ یہیں سے مڑجاؤ۔”
    ”میں نے تمہارے لیے بہت کیا گھروالوں سے لڑی جھگڑی ابا کی نظر سے گری… ماں کی نظر میں بری بنی۔
    بیاہ کرآئی تو مشکل وقت میں دو وقت کو ایک روٹی میں بانٹا…نوالوں کی تعداد گھٹادی…کچی بستی میں رہنے کی عادی بنی..سب پڑوسیوں سے ہنس ہنس کر باتیں کیں..بنائے رکھی۔
    تمہاری چاکری کی۔تم نے کہا باہر جاؤں گا اپنی جان انتظار کی سولی پہ چڑھاکر تمہیں بھیج دیا۔
    ”اب کیا…اب دیکھتی ہوں تمہارا دریا تمہارے لیے کیا کرتا ہے۔”
    پگلی دریا سے امید لگاکر بیٹھی سوچتی رہی، انتظار کرتی رہی۔
    ادھر فریاد کسی اور سے پیار اور محبت کے پیچ لڑاتے ہوئے سرحد پار کرگیا۔
    جہاں لوگوں کی باتوں کا خوف تھا نہ ہی پانی کا۔
    بس تنہائی کو سجانے کی چاہ تھی۔
    سپی کا خط مہرو کی پازیب کی طرح لڑھکتا ہوا کنارے پر تیرتا ہوا کسی لہر میں گھل گیا۔
    کسی نے کھولا، نہ پڑھا۔
    پھر وہ پانی میں ڈوبنے لگا گویا وفا ڈوب رہی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • گلّو اور لومڑ

    گلّو اور لومڑ

    گلّو اور لومڑ
    عبداللہ اذفر

    کسی چراگاہ میں ایک چالاک لومڑ گھوم رہا تھا۔ وہ بہت بھوکا تھا لیکن اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔ اتنے میں وہاں گُلّو آگیا۔ گُلّو ایک چھوٹا اور پیارا سا گھوڑے کا بچہ تھا۔ لومڑ نے سوچا کہ شکار تو بہت اچھا ہے لیکن میں اسے کیسے کھاؤں؟ یہ میرے ہاتھ نہیں آئے گا۔
    کچھ دیر سوچنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اُس نے سوچا کہ گُلّو کو دھوکا دیا جائے۔ یہ سوچ کر لومڑ چلتے چلتے گُلّو کے پاس آیا اور کہنے لگا:
    ”گُلّو بھائی! اِس چراہ گاہ میں کتنے خوب صورت پھول ہیں۔ تمہیں کسی پھول کی خوش بو سونگھنی ہو تو میرے ساتھ چلو؟”
    گُلّو سمجھ گیا کہ لومڑ اُسے دھوکا دے رہا ہے۔ وہ بولا: ”لومڑ بھائی! اِس وقت مجھے پھولوں کی خوش بو اچھی نہیں لگے گی کیوں کہ میرے پاؤں میں کانٹا چُبھا ہوا ہے۔ مجھے تکلیف ہورہی ہے۔ مہربانی کرکے تم یہ کانٹا نکال دو۔”
    لومڑ بہت خوش ہوا۔ وہ سمجھا کہ گُلّو اُس کی باتوں میں آگیا ہے۔ وہ آگے بڑھا اور کہنے لگا: ”میں تمہارے پاؤں سے کانٹا نکال دیتا ہوں۔ تم ابھی ٹھیک ہوجاؤ گے۔” یہ کہہ کر وہ گُلّو کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر کانٹا تلاش کرنے لگا۔
    اچانک گُلّو نے پورے زور سے دولتی لومڑ کے منہ پر دے ماری۔ دولتی لگنے سے لومڑ چکرا کر گِرا۔ اُس کے دانت ہِل گئے اور وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بھاگ گیا۔ جاتے جاتے وہ آئندہ ایسی حرکت کرنے سے توبہ کر چکا تھا۔

  • گھوڑا، ہرن اورشکاری

    گھوڑا، ہرن اورشکاری

    گھوڑا، ہرن اورشکاری
    ضیاء الرحمن

    ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک ہرن اور گھوڑے میں گہری دوستی تھی۔ ایک دن کسی بات پر ان کی لڑائی ہوگئی۔ ہرن بہت پُھرتیلا تھا اس نے خوب اُچھل اُچھل کر گھوڑے کو مارا پیٹا۔
    گھوڑے کو بہت غصّہ آیا۔ اس نے سوچا کہ ہرن سے بدلہ لینا چاہیے۔ اچانک اس کی نظر ایک شکاری پر پڑی جو تیر کمان لیے شکار کی تلاش میں گھوم رہا تھا۔ گھوڑے نے شکاری سے کہا:
    ”دیکھو بھیا! اگر میں تمہیں شکار بتاؤں تو کیا تم اُسے مار سکتے ہو؟”
    ”ہاں کیوں نہیں، یہی تو میرا کام ہے۔” شکاری نے خوش ہوکر کہا۔ گھوڑے نے اسے ہرن کا بتا دیا۔
    شکاری نے کہا: ”میں ہرن کو مار تو سکتا ہوں لیکن وہ بہت چالاک ہے میں اس کا پیچھا کیسے کروں گا؟”
    ”تم میری پیٹھ پر بیٹھ جاؤ میں تمہیں ہرن کے پاس لے جاؤں گا۔” گھوڑے نے کہا۔
    چناں چہ شکاری گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد شکاری بولا: ”گھوڑے میاں! اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میں تمہارے منہ میں لگام ڈال لوں؟”
    ”اِس سے کیا ہوگا؟” گھوڑے نے پوچھا۔
    جہاں مجھے ہرن نظر آئے گا تو میں تمہاری لگام اسی طرف موڑ دوں گا پھر تم اس طرف بھاگنا۔ اس طرح ہم شکار کو قابو کرلیں گے۔”
    گھوڑا راضی ہوگیا اور شکاری نے اسے لگام ڈال دی۔
    کچھ دیر بعد شکاری کو ہرن نظر آیا۔ وہ گھوڑا دوڑا کر ہرن کے قریب پہنچا اور نشانہ لے کر تیر چھوڑ دیا۔ تیر سیدھا ہرن کے سینے پر جالگا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ گھوڑا خوش ہوگیا اور کہنے لگا:
    ”بھائی شکاری! تمہارا شکریہ!”
    شکاری بولا: ”اس میں شکریہ کی کیا بات ہے۔ مجھے شکار ملا اور ساتھ ایک فائدہ اور بھی ہوگیا۔”
    گھوڑے نے پوچھا: ”کیسا فائدہ؟”
    شکاری نے کہا: ”مجھے تمہارے بارے میں زیادہ پتا نہیں تھا مگر اب معلوم ہوا کہ تم بھی بڑے کام کے جانور ہو۔” یہ کہہ کر شکاری نے لگام کھینچی اور گھوڑے کو اپنی بستی میں لے آیا۔ گھوڑا بے چارا حیران، پریشان اور بے بس تھا۔ وہ اپنی بے وقوفی پر افسوس کرتا رہ گیا۔
    ٭…٭…٭

  • غریب لکڑہارا

    غریب لکڑہارا

    غریب لکڑہارا
    احمر بخاطر

    تہران میں حامد نامی ایک بوڑھا لکڑ ہارا اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ ایک دن حامد نے جنگل میں پرُانا اور جُھکا ہوا برگد دیکھا۔ حامد نے اُس پر کلہاڑے کا ایک وار کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں دھواں نکلا اور ایک جن حاضر ہوگیا۔
    ”ہو ہو ہو… ہا ہا ہا… اے انسان! برگد پر میرا گھر ہے، تم اسے کیوں گِرا رہے ہو؟” جن نے غصے سے کہا تو حامد کانپتے ہوئے بولا: ”میں غریب اور بوڑھا ہوں۔ اب زیادہ محنت نہیں کرسکتا اس لیے پرانے درخت کو کاٹ رہا تھا۔” حامد کی بات سن کر جن نے کہا: ”اے بوڑھے انسان! تم فکر نہ کرو۔ میں تمہیں ایک جادوئی چکّی دیتا ہوں۔ جب تمہیں کوئی ضرورت ہوتو کہنا: ”چکّی ری چکّی چل پیس” فوراً چکّی سے آٹا نکلنا شروع ہوجائے گا۔ تم وہ آٹا بازار میں بیچ دینا۔” یہ کہہ کر جن نے لکڑ ہارے کو چکّی دی اور اِس بارے میں کسی کو بھی بتانے سے منع کیا۔
    حامد خوشی خوشی گھر روانہ ہوگیا۔ گھر جاتے ہی اس نے چکّی سے کہا: ”چکّی ری چکّی، چل پیس” اچانک چکّی سے آٹا نکلنا شروع ہوگیا۔ حامد نے آٹے کی بوریاں بھریں اور انہیں بیچنے بازار چلا گیا۔ واپسی پر اس نے کھانے کا سامان، کپڑے، جوتے اور بہت سا پھل خریدا پھر وہ روز ایسا کرنے لگا۔
    اُن کے پڑوس میں ایک مچھیرا رہتا تھا۔ اُس نے حامد کو دن بہ دن امیر ہوتے دیکھا تو حیران رہ گیا۔ جلد ہی مچھیرے نے اپنی چالاکی سے جادوئی چکّی کا راز جان لیا۔
    ایک دن مچھیرے نے حامد سے کہا: ”بھائی جی! ایک دن کے لیے مجھے اپنی چکّی ادھار دے دو۔” حامد نے اُسے چکّی دے دی۔ شام کو مچھیرے نے جادوئی چکّی کی بہ جائے حامد کو دوسری چکّی واپس کی۔ جب حامد کو اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کا احساس ہوا تو اُس نے مچھیرے سے اپنی چکّی کے بارے میں پوچھا۔ مچھیرا صاف مُکر گیا اور کہنے لگا: ”بھائی! تم نے مجھے یہی چکی دی تھی۔”
    حامد بے چارا روتا ہوا جن کے پاس گیا اور ساری بات بتائی۔ جن نے اسے ایک جادوئی ڈنڈا تحفے میں دیا۔ اب حامد جلدی سے گھر آیا۔ اُس نے مچھیرے کو اپنے گھر دعوت پر بلایا۔ جب وہ کھانا کھانے گھر آیا تو حامد کہنے لگا: ”بھائی مچھیرے! تم نے میری جو چکّی چھپائی ہے وہ واپس کردو۔” لیکن مچھیرا اِس بار بھی مُکر گیا۔ حامد نے جادوئی ڈنڈے کو حکم دیا: ”مار ڈنڈے مار۔” بس پھر کیا تھا! ڈنڈے نے زور زور سے مچھیرے کے سر پر ضربیں لگانا شروع کردیں۔ وہ چیخنے چلانے لگا۔ ”ہائے مر گیا… اف مر گیا… میں ابھی چکّی واپس کرتا ہوں۔” یہ کہہ کر مچھیرا اپنے گھر کی طرف بھاگا اور اصلی چکّی لاکر حامد کو واپس کردی۔ اپنی جادوئی چکّی دیکھ کر لکڑ ہارا اور اس کی بیوی خوش ہوگئے۔

    ٭…٭…٭

  • باغی – قسط نمبر ۲ – شاذیہ خان

    آج کافی دن کے بعد فوزیہ عابد کی دکان میں کھڑی چیزیں دیکھ رہی تھی۔اب گاہ بہ گاہ وہ اس کی دکان میں آتی رہتی اور عابد کبھی تحفتاً اسے کوئی نہ کوئی شے دے دیتا۔وہ اپنے ہاتھوں میں کیوٹکس لگا کر چیک کررہی تھی۔ کاؤنٹر کے دوسری جانب عابد بھی کن انکھیوں سے اُسے میگزین کے صفحات پلٹتے دیکھ رہا تھاجس میں ریمپ پر ماڈلز کیٹ واک کرتی نظر آرہی تھیں۔ وہ میگزین کا ایک ایک صفحہ پلٹتی رہی اورپھر اچانک ایک صفحے پر میڈم نور جہاں کی ایک تصویر دیکھ کر رُک گئی۔ اس کی آنکھوں میں بہت سی ننھی ننھی خواہشیں چمکنے لگیں۔عابد اس کی آنکھوں میں چمکتے جگنو دیکھ کر حیران رہ گیا جب فوزیہ نے اس سے کہا۔
    ”ہائے اللہ! میری کتنی بڑی حسرت ہے کہ میں بھی میڈم کی طرح ایک مشہور سنگر بنوں اور ان ماڈلز کی طرح نظر آؤں۔”
    ”تو یہ کیا مشکل ہے ،تو بھی ایساکرسکتی ہے۔” عابد کندھے اُچکاتے ہوئے بولا۔
    ”پر یہاں رہ کر کیسے کرسکتی ہوں؟” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے پوچھا۔
    ”میں کروا سکتا ہوں بلکہ تیری ہر خواہش پوری کرسکتا ہوں۔”عابد نے اسے ایک خواب دکھایا تو اس نے بے ساختہ پوچھا۔
    ”تو قسم کھا کہ تو سچ کہہ رہا ہے؟”اپنی اتنی بڑی خواہش پورا ہونے کا خواب کتنا دلکش تھا۔ بے ساختہ اس نے عابد سے قسم کھانے کا کہا ساتھ ہی ہاتھ بھی پکڑ لیا،وہ جذباتی ہوگئی تھی۔
    ”تیری قسم یہ کون سی مشکل بات ہے۔” عابد نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
    فوزیہ نے ایک دم اُس کا ہاتھ پکڑ تولیا تھا لیکن احساس ہوتے ہی فوراً چھوڑ بھی دیا۔
    ”تو مجھے یہ سارے کپڑے لے کر دے گا؟ سچ کہہ رہا ہے نا، مجھے گانا بھی سکھائے گا اور میں ٹی وی پر بھی آؤں گی۔”کچھ توقف کے بعد اس نے آنکھوں میں جگنو بھر کے پوچھا۔
    ”بالکل سچ، میں تیرے دل کی ہر خواہش پوری کروں گا۔ بس تو ایک بار میرے گھر آجا۔” عابد نے مسکراتے ہوئے اسے یقین دلایا۔
    ”تو پھر بھیج نہ اپنی ماں کو میرے گھر۔”تھوڑا رک کر شرماتے ہوئے بولی۔
    ”اماں سے بات تو کی ہے میں نے،وہ جلد ہی تیرے گھر آتی ہیں مگر دیکھ تو نے مکرنا نہیں۔” عابد نے تھوڑا سوچ کر کہا۔
    ”نہیں مکرتی تیری قسم۔” فوزیہ نے آنکھوں میں خوشی کے ڈھیر سارے دیے بھر کر کہا اور پھر سامنے رکھے میگزین کے صفحات محویت سے دیکھنے لگی۔
    ”دوچار دوسرے میگزین بھی ہیں،لے جا تجھے پسند ہیں نا، بلکہ یہ بھی لے جا۔” عابد نے کاؤنٹر کے نیچے سے میگزین اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
    ”واقعی لے جاؤں؟”فوزیہ نے خوش ہو کر پوچھا۔
    ”لے جا،تجھ سے اچھے ہیں کیا؟” یہ کہتے ہوئے سارے میگزین ایک شاپر میں ڈال کر اسے پکڑا دیے، فوزیہ جلدی سے میگزین دوپٹے کے پلو میں چھپاتی دکان سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ نے سب کے سونے کے بعدچپ چاپ اپنی چارپائی کی چادر کے نیچے چھپائے میگزین نکالے اور نیم درازہو کرفیشن میگزین کے صفحے اُلٹنے لگی۔اچانک ایک خوب صورت کم عمر ماڈل گرل کی تصویر دیکھ کر وہ رک گئی جو بغیر آستینوں کی ایک چھوٹی سی شرٹ پہنے مُسکرا رہی تھی۔ فوزیہ اس تصویر پر انگلیاں پھیرنے لگی اور خود کو اس ماڈل کی جگہ محسوس کررہی تھی کہ اچانک عقب سے اُس کی بہن نازیہ اُس کے سر پر آکھڑی ہوئی۔اس نے آدھے کپڑوں میں ملبوس ماڈل کی تصویر دیکھ کر زور سے چیخ ماری اورمنہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پھٹی پھٹی آنکھوں سے میگزین کو دیکھنے لگی۔
    ”شرم کر فوزیہ!یہ تو کہاں سے لائی ہے؟” فوزیہ نے اُٹھ کر دروازہ بند کیااور منہ پر انگلی رکھ کر نازیہ کو چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
    ”آہستہ بول، ایسا کیا ہے اس میں جو تیری آنکھیں پھیل رہی ہیں؟”فوزیہ نے سرگوشی میں بہن کو ڈانٹا۔
    ”ہائے اللہ!ذرا شرم ہے تجھ کو؟ کیسی کیسی تصویریں دیکھ رہی ہے۔” نازیہ نے آنکھیں پھاڑ کر میگزین کی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
    فوزیہ نے میگزین کے صفحات پلٹتے ہوئے بہن کو دکھائے اور پوچھا۔
    ”اس میں شرم کی کیا بات ہے بھلا؟ دیکھ تو کتنے خوب صورت کپڑے پہنے ہوئے ہیں، تو ان کی کمر دیکھ کیسی پتلی ہے چیتے کی طرح۔”
    ”انہیں شرم نہیں آتی پوری دنیا میں اپنی کمر اور جسم کی نمائش کرتے۔” نازیہ منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔
    ”تو یہ سب باتیں چھوڑ باجی،ان کے جسم دیکھ۔کتنی ورزش کرتی ہیں خوب صورت نظر آنے کے لیے۔ خود کو اور مجھے دیکھ، اتنا خوب صورت ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہے ہمارے پاس۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم خود ڈھل جاتے ہیں، تو اپنی طرف دیکھ کتنی خوب صورت تھی۔ تیرے میاں اور بچوں نے چند سالوں میں خون چوس کے رکھ دیا تیرا۔اپنی عمر سے کئی گنا بڑی نظر آرہی ہے تو۔”
    ”ہاں فوزیہ تو ٹھیک کہہ رہی ہے۔ شادی کے بعد کیا ملا مجھے، گالیاں، ٹھوکریں اور دھتکار۔” یہ کہتے ہوئے نازیہ کی آنکھوں میں نمی بھر آئی۔
    ” تو اپنے لیے سوچ باجی۔ صرف اپنے لیے، اگر تو آج اپنے لیے نہیں سوچے گی تو کوئی تیرے بارے میں نہیں سوچے گا۔”فوزیہ نے اسے حوصلہ دیا۔
    ”مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے فوزیہ؟سب لوگ کتنا برا بھلا کہتے ہیں ایسی ماڈلز کو…”نازیہ نے میگزین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”کہنے دے، ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تجھ پر بھی نہیں پڑے گا۔” فوزیہ کسی زمانہ شناس کی طرح بولتی گئی۔ ”اپنی زندگی جی باجی، اپنی زندگی۔ کوئی کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتا، ہمیں خود کو خوش رکھنا چاہیے۔ اس کمینے پر تیرے رونے یا غم زدہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا، لیکن اگر تو خوش رہے گی، تو وہ جل جل کر مر جائے گا۔”
    ”کہہ تو تو صحیح رہی ہے فوزیہ۔”نازیہ اُس کے فلسفے سے کچھ کچھ قائل ہورہی تھی۔
    فوزیہ پھر اُسے کسی دانش مند کی طرح سمجھانے لگی۔
    ”باجی تو مجھ سے وعدہ کر اپنے آپ پر محنت کرے گی، خود کو سجا سنوار کر رکھے گی،تیرا میاں نہ تیرے قدموں میں آکر گرے، تو میرا نام بدل دینا۔”
    ”توبہ توبہ کیسی باتیں کررہی ہے تو۔” نازیہ نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ”لو اس میں توبہ کی کیا بات ہے۔ میرا میاں ایسا ہوتا تو کب کی چھوڑ کر آجاتی میں۔تو تو خود مار کھاتی ہے شوق ہے تجھے بہت۔جب تک وہ تجھے پھینٹی نہ لگائے، دھکے دے کر گھر سے نہ نکالے تیری روٹی ہضم نہیں ہوتی۔” فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے اسے جھاڑا۔
    ”کیا کروں مجبوری ہے فوزیہ۔” نازیہ منہ لٹکا کر بولی۔
    ”ایسی مجبوری پر لعنت بھیج، چھوڑ دے اُسے۔” فوزیہ نے حقارت سے کہا۔
    ”تو میرے بچوں کا کیا ہوگا؟”نازیہ نے بے بسی سے پوچھا۔
    ”پل جائیں گے بچے بھی، تو بس ایک بار سوچ اپنے لیے۔” فوزیہ نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔
    نازیہ اس کی باتیں سن کر خلامیں گھورنے لگی۔اسے فوزیہ کی باتوں کے بعد خود سے ہمدردی ہونے لگی تھی۔وہ اپنے بارے میں سوچ رہی تھی لیکن یہ صرف سوچ تھی وہ ہمت کہاں سے لاتی جو فوزیہ کے پاس تھی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ کی ماں صحن میں بیٹھی برتن دھو رہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے اُٹھ کر دروازہ کھولاتو سامنے عابد کی ماں کھڑی تھی۔سلام دُعاکے بعد وہ اندر آگئی۔فوزیہ کی ماں نے چارپائی بچھائی تو اس نے تنقیدی نظروں سے گھر کا جائزہ لیا۔ فوزیہ کی ماں نے اسے چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔عابد کی ماں نے اِدھر اُدھر حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بُرا سا منہ بنا کرکہا۔
    ”وہ سامنے والی کاسمیٹکس کی دکان میرے بیٹے عابد کی ہے۔ کچھ مہینے ہوئے دبئی سے آیا ہے، میرا بڑا بیٹا بھی دبئی میں ہی ہوتا ہے۔”
    ”ہاں جی میں جانتی ہوں لیکن…” فوزیہ کی ماں اس کی بات سن کر تذبذب کا شکار ہوگئی۔
    ”یہ میں اس لیے بتا رہی ہوں کہ میرے بیٹے نے مجھے تمہارے گھرتیری بیٹی کے رشتے کے لیے بھیجا ہے۔” فوزیہ کی ماں نے پاس کھڑی منی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھاپھر حیرت سے پوچھا۔
    ”میری بیٹی کے رشتے کے لیے؟ مگر یہ تو ابھی بہت چھوٹی ہے ۔”
    عابد کی ماں نے حیرانی سے مُنی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”اس کا نام فوزیہ ہے؟”
    ”فوزیہ کی تو بات پکی ہوگئی ہے، پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی۔” فوزیہ کی ماں نے حیرت سے کہا۔
    ”لیکن میرا بیٹا چاہتا ہے کہ…” عابد کی ماں نے مزید کچھ کہنے کی کوشش کی مگر فوزیہ کی ماں نے اسے وہیں روک دیا۔
    ”بس بہن تم جانتی ہو زبان دینا کیا ہوتا ہے، زبان دی ہے ہم نے۔ پہلے بات کرتی تو میں خوش نصیبی سمجھتی لیکن اب تو ہم شادی کی تیاریاں کررہے ہیں۔”
    ”تو بہن اس شادی کے لیے پہلے بیٹی کو تو راضی کر لے، وہ میرے بیٹے کو کہہ رہی ہے کہ رشتہ بھیجو۔ اسی کے کہنے پر تو میں اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آئی ہوں۔”عابد کی ماں نے تپے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”کیا کہہ رہی ہو تم، تمہیں شرم نہیں آرہی میری بیٹی کا نام لیتے ہوئے؟” یہ کہتے ہوئے وہ غصے سے کھڑی ہو گئی۔
    ”شرم تو اپنی بیٹی کو دلاؤ جو غیرمردوں پرڈورے ڈالتی پھرتی ہے۔” عابد کی ماں نے الٹا اسے شرم دلائی اور کھڑی ہو گئی،پھر دروازے کی جانب جاتے ہوئے کہا۔ ”کس کس کا منہ توڑو گی، پورا محلہ باتیں بنائے گا ابھی تو…”
    فوزیہ کی ماں نے ہاتھ اُٹھا کرلڑتے ہوئے کہا۔ ”جاجا،دیکھا ہے میں نے۔”
    عابد کی ماں بڑ بڑاتی، بکتی جھکتی دروازے سے باہر نکل گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کی ماں رحیم کے کمرے میں رحیم سے بات کر رہی تھی کہ فوزیہ کے کان میں اپنا نام پڑا تو وہ دروازے پر ہی رک کر دونوں کی باتیں سننے لگی۔
    ”دیکھ رحیم جتنی جلدی ہوسکے بہن کو گھر سے رخصت کردے، اس سے پہلے کہ کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے۔”فوزیہ کی ماں بیٹے سے بہت پریشانی سے کہہ رہی تھی۔
    ”میں بھی یہی کہہ رہا ہوں اماں، آ تو رہے ہیں وہ رسم کرنے، ہم تاریخ طے کردیتے ہیں۔” رحیم نے کہا۔
    فوزیہ کی ماں کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی۔وہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے بولی۔
    ”بس تو کہہ دے ان سے کہ جلد از جلد ڈولی اٹھوا کر لے جائیں، پتا نہیں کہاں کہاں سے رشتے آرہے ہیں اس کے لیے۔” ماں نے کہا۔
    ”میں نے اسما سے بات کی ہے،وہ کہے گی اپنی ماں سے تو فکر نہ کر۔میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ وہ جلد از جلد اپنے گھر رخصت ہو جائے۔” رحیم نے ماں کو تسلی دیتے ہوئے جواب دیا اورکمرے سے نکل گیا۔فوزیہ دروازے کے پیچھے ہوگئی اور بھائی کے جاتے ہی کمرے میں گھس گئی۔
    ”اماں یہ جوتو کررہی ہے،یہ ٹھیک نہیں ہے۔”فوزیہ نے غصے سے لال پیلاہوتے ہوئے ماں سے کہا۔
    ”اور تو جو کررہی ہے وہ ٹھیک ہے؟ کس لفنگے سے تیری دوستی ہے جو اس نے اپنا رشتہ بھیجا ہے۔ تجھے معلوم نہیں کہ تیری بات طے ہوگئی ہے بے شرم۔ جان سے مار دوں گی۔”ماں نے اس کی بات سن کر چوٹی پکڑ کر جھٹکا دیا۔
    فوزیہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا اور بے خوفی سے جواب دیا۔
    ”تو کر لے جو کرنا ہے اماں، میں بھی وہ کروں گی جو چاہوں گی۔ میں اُس لفنگے سے شادی نہیں کروں گی، بتا دیا میں نے۔”
    ”یہ تو اپنے باپ کو بتا جا کر۔”ماں نے جھٹکا دے کر اس کی چوٹی چھوڑتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں ہاں بتا دوں گی، کر لوں گی ابا سے بھی بات، لیکن یہ جو تو بھائی اور بھابی کے ساتھ مل کر سازشیں کررہی ہے ان سے باز آجا۔”فوزیہ نے کہا۔
    ” اری مردود! تجھے یہ سازشیں لگ رہی ہیں۔ تیرا بیڑا غرق ہو۔” ماں غصے سے بولی۔
    ”دیتی رہو بددعائیں۔ اماں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں نے جو کرنا ہے کرکے رہوں گی،روتی رہنا۔ ” فوزیہ منہ بنا کر ماں کو باتیں سنا کرکمرے سے نکل گئی۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ مُنی کا ہاتھ تھامے ایک پگ ڈنڈی سے تیز تیز گزر رہی تھی کہ اچانک ساجد نے اپنا نیا رکشہ اس کے پاس لا کرروکا۔وہ گڑبڑا کرایک دم پیچھے ہٹی ۔ نہ ہٹتی تو رکشے سے ٹکر ضرور ہوجاتی۔ اسے بہت غصہ آیا۔ اس نے ساجد کو دیکھا جو اپنی خبیثانہ مسکراہٹ کے ساتھ فوزیہ کو دیکھ کر سوچ رہا تھا۔ ساجد نے دل ہی دل میں کہاآج دل کی بات کرکے رہوں گا، گھر جاتا ہوں تو لفٹ ہی نہیں کراتی سالی، کمرے میں گھس جاتی ہے۔
    ”نظر نہیں آتا تجھے؟”فوزیہ اُسے دیکھ کرغصے سے بولی ۔
    ”تیرے سوا اب کچھ نظر نہیں آتا فوزیہ۔کبھی ہم سے بھی بات کرلیا کر، گھر میں تو موقع ہی نہیں ملتا۔ تیرا ہونے والا شوہر ہوں، چل کہیں باہر چلتے ہیں۔”
    فوزیہ نے انگلی اُٹھا کر غصے سے گھورتے ہوئے کہا ۔
    ”تیرا دماغ تو ٹھیک ہے، اپنی اوقات میں رہ۔”
    ”کیوں، کیا ہوا میری اوقات تو وہی ہے، لگتا ہے تو اپنی اوقات بھول گئی ہے۔” ساجد نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔
    فوزیہ پہلے تو اس کی بات سن کر کھڑی رہی کہ کیا جواب دے پھر ہاتھ ہلاتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
    ”میں راستے میں بھونکنے والے کتوں کو پتھر نہیں مارتی بولتا رہ۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ”
    ساجد نے یہ سن کررکشے سے چھلانگ لگائی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔وہ تیزی سے پلٹی،ایک نظر اپنے ہاتھ پر اور دوسری اس کے چہرے پر ڈالی اور بپھری ہوئی شیرنی کی طرح زور دار تھپڑ ساجد کے منہ پر دے مارا۔
    ”میں نے صحیح کہا تھا نا تو اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ فوزیہ بتول نام ہے میرا، ایسی ویسی نہ سمجھنا۔ گاؤں میں مٹھائی بانٹ دینے سے یہ نہ سمجھنا کہ میں تیری بیوی بن گئی ہوں اور تو زبردستی کرسکتا ہے۔” یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی اور ساجد ہکا بکا اس کی شکل دیکھتا رہ گیا۔
    اس کا ایک ہاتھ ابھی تک اپنے گال پر تھا۔
    ”دیکھ لوں گا فوزیہ بتول تجھے بھی، ایک بار تو گھر تو آ، ساری اڑیاں نکال دوں گا تیری، بہت ناز ہے نہ تجھے اپنے حسن پر۔تو نے تھپڑ میرے منہ پر نہیں اپنے مستقبل پر مارا ہے یاد رکھنا۔” ساجد بُڑبُڑایا۔
    ٭…٭…٭
    مُنی بھاگی بھاگی کمرے میں آئی اور سوئی ہوئی فوزیہ کو جھنجھوڑنے لگی، پھر گھبرائی ہوئی آواز میں چیخ کربولی۔
    ”باجی اُٹھ جا، باجی اُٹھ جا۔” فوزیہ ہڑ بڑا کر آنکھیں ملتی ہوئی اُٹھ بیٹھی۔
    ”اللہ خیر مُنی کیا ہوگیا؟”
    ”ابھی اماں اور ابا کی باتیں سن کر آئی ہوں۔”منی نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔” باجی! اماں کہہ رہی تھیں کہ اس جمعے کو تیری رسم نہیں بلکہ نکاح ہوگا۔” فوزیہ مُنی کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔اس کے چہرے پر منی کی بات سن کر شدید کرب ابھر آیا اوروہ سوچنے لگی ماں تو بہت پچھتائے گی ،سچی بہت پچھتائے گی۔فوزیہ سے جھگڑا مول لیا ہے تو نے،اپنی بیٹی سے! اب بھگتتی رہنا۔
    ٭…٭…٭
    امام بخش گھر داخل ہوااورہینڈپمپ چلا کر پانی نکالنے لگا،پھرمنہ ہاتھ دھو کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔فوزیہ نے کھانے کی ٹرے چار پائی پر رکھی اور خودبھی ایک کونے پر ٹک گئی۔
    ”تیری ماں کہاں ہے؟”امام بخش نے اپنے سر پر بندھے رومال سے منہ پونچھا اور فوزیہ سے پوچھا۔
    ”وہ چودھری صاحب کی حویلی گئی ہے۔ انہوں نے بلایا تھا، کوئی کام تھا اُن کو۔” فوزیہ نے پانی کاگلاس ٹرے میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔
    امام بخش نے بسم اللہ پڑھ کر نوالہ منہ میں رکھا ۔ فوزیہ نے حوصلہ جمع کرکے باپ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
    ”ابا تجھ سے ایک بات کرنی تھی۔”
    امام بخش جلدی جلدی نوالے منہ میں رکھتے ہوئے بولا۔”ہاں بول؟ آج بڑی بھوک لگی ہے۔صُبح سے اب روٹی نصیب ہوئی ہے۔”
    ”ابا میں نے اس لفنگے سے شادی نہیں کرنی،تو بس مجھے پڑھنے دے۔ میں اپنا خرچہ خود اٹھا لوں گی، تو فکر نہ کر۔”فوزیہ نے ہمت کر کے کہا۔
    امام بخش نے کھانا چھوڑ کر اُس کی بات سنی ،پھر غصے سے جواب دیا۔
    ”او بس کر دے،تیرے بعد ایک بوجھ اور باقی ہے مجھ پر،یہ ختم ہوگا تو وہ اتاروں گا۔”
    ”ابا میں تجھ پر بوجھ نہیں، میں پراندے وغیرہ بنا کر اپنا خرچہ خود اُٹھا لیتی ہوں، میں وعدہ کرتی ہوں تجھے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔” فوزیہ نے گڑگڑا کر کہا۔
    امام بخش نے ہاتھ میں پکڑا نوالہ دوبارہ پلیٹ میں رکھا اورغصے سے بولا۔
    ”اب توہمیں اپنی کمائی کا طعنہ بھی دینے لگی ہے۔ ویسے ہی سب مجھے نازیہ کی وجہ سے طعنے دیتے ہیں، وہ بھی تیری بے وقوفیوں کی وجہ سے بھاگ بھاگ کر گھر بیٹھ جاتی ہے۔”
    ”ابا اس کے شوہر نے اسے نکالا ہے، وہ خود بھاگ کر نہیں آئی۔”فوزیہ تن کربولی۔





    ” تو بھڑکاتی ہے اسے اس کے میاں کے خلاف، تو وہ بولتی ہے نا۔آخر مرد کب تک برداشت کرے۔” امام بخش چارپائی سے کھڑا ہوگیا اور منہ میں پانی ڈال کر کلی کی۔
    فوزیہ باپ کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی۔ ”ابا تو بات کہاں سے کہاں لے جارہا ہے۔ میں تجھ سے اپنی بات کررہی ہوں اور تو نازیہ…”
    امام بخش نے نہایت غصے سے اسے جھڑک دیا۔
    ” نازیہ کو تو نے خراب کیا ہے۔ تیری باتوں سے پورے خاندان بلکہ گاؤں میں میرا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ توجتنی جلد اپنے گھر کی ہو جائے بہتر ہے۔”
    فوزیہ حیرت سے نگاہیں پھاڑ کر جیسے اُسے دھچکا لگا ہو۔
    ”میں نے ایسا کیا کردیا کہ تیرا سر شرم سے جھک گیا ابا؟”
    ”بس چھوڑ دے ساری باتیں، میں اب زیادہ دیر تجھے گھر نہیں بٹھا سکتا۔”
    ”ابا تو جانتا ہے وہ کیسا ہے؟” فوزیہ نے دکھی انداز میں کہا۔
    ”ہاں ہاں سب ٹھیک ہو جاتے ہیں شادی کے بعد، چل جا اندر مجھ سے کوئی بات نہ کر۔” امام بخش نے غصے سے کہا۔
    ”ابا تو ایک بار…”فوزیہ نے زچ ہو کر کہا اور پاؤں پٹختی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ عابد کی دکان پر گئی جہاں وہ اپنے کام میں مصروف تھا۔ اُسے دیکھ کر بھی عابد کام میں مصروف رہا۔اسے ایک نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا جیسے جتا رہا ہو کہ وہ اُس سے ناراض ہے۔ فوزیہ نے اس کی آنکھوں کے آگے ہاتھ ہلایاجیسے اسے منانا چاہ رہی ہو۔
    ”ناراض ہے مجھ سے؟”
    ”ناراض تو نہیں بس تیری وجہ سے روز اماں سے باتیں سنتا ہوں۔” عابدنے منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
    ”اچھا چھوڑ سب باتیں، تو حل بتا اب کرنا کیا ہے؟ وقت بہت کم ہے ہمارے پاس۔” فوزیہ صلح کے انداز میں بولی۔
    ”تو اپنے ماں باپ کو راضی کر، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔”عابدنے اُسے سمجھایا۔
    ”اور اگر وہ راضی نہ ہوئے تو کیا میرے ساتھ بھاگ کر شادی کرے گا؟”
    عابد نے حیرانی سے اس کی بات سنی۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا جواب دے۔
    ایک لمحے کے لیے عابد فوزیہ کی دیدہ دلیری پر حیران رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ وہ تذبذب کا شکار تھا۔ آخر اس کے منہ سے یہی نکلا۔
    ”بھاگ کر؟”
    ” کیا سوچ رہا ہے؟ بس اتنی سی بات پر تیرا دم نکل گیا؟ویسے تو بڑی محبت جتاتا تھا۔” فوزیہ نے اسے شرم دلائی۔
    ”میں تیار ہوں، بالکل تیار ہوں پر ایک بار تو کوشش تو کر انہیں منانے کی،شاید وہ مان جائیں۔”عابد ایک دم جوش میں آگیا۔
    ”میں نے ساری کوششیں کر لی ہیں پاگلا، وہ نہیں مانتے۔اسی لیے تجھے کہہ رہی ہوں۔تو راضی ہے تو بھاگ چلتے ہیں۔”فوزیہ نے اس کی بات پر مایوسی سے کہا۔
    ”دیکھ شادی تو میں نے تجھ سے ہی کرنی ہے،لیکن تو کوشش کر گھر والے مان جائیں۔”عابد نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔وہ دراصل تھوڑا سیدھا راستہ نکالنا چاہتا تھا تا کہ بات خراب نہ ہو۔
    فوزیہ نے بڑے غور سے اس کا چہرہ دیکھا جیسے کچھ ٹٹول رہی ہو۔
    ”اچھا چل میں تیرے کہنے پر آخری کوشش کر لیتی ہوں۔اماں کو بتا دیتی ہوں کہ میں نے عابد سے شادی کرنی ہے۔اگر وہ مان گئی تو ٹھیک ورنہ…”
    ”ہاں انہیں سیدھا سیدھا بتا تیری خواہش پر میری ماں تیرے گھر آئی تھی،اب وہ بھی ہاں کر دیں۔”عابد نے اسے رستہ دکھایا۔وہ جانتا تھا کہ فوزیہ کی ماں کبھی راضی نہیں ہوگی لیکن ایک کوشش کر کے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔
    ”چل دیکھتی ہوں، تیری خاطر یہ بھی کر لیتی ہوں،مگر مجھے امید نہیں ہے کہ وہ مانے گی۔” فوزیہ قدرے مایوسی سے بولی اور پھیکی سی مسکراہٹ سے عابد کی طرف دیکھاجو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭





    گھر میں اس کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں۔سب ہی خوش تھے صحن میں منی ڈھولکی بجاتے ہوئے نور جہاں کا گانا بھی گا رہی تھی۔جب فوزیہ گھر میں داخل ہوئی تو منی گلا پھاڑ کر بے سُری آواز میں”ماہی آوے گا میں پُھلاں نال دھرتی سجانواں گی”گانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ”او بس کردے منی، گلا مت پھاڑ۔پہلے ہی سر میں بہت درد ہے۔”فوزیہ نے اسے ڈانٹ کر کہا۔
    ”باجی تیری شادی کی خوشی میں ساتھ والی سے ڈھولکی مانگ کر لائی ہوں،آ جا مل کر بجاتے ہیں۔” منی نے ڈانٹ کا برا مانے بغیر فوزیہ کو بھی دعوت دی۔
    ”بکواس بند کر میرے سر میں درد ہورہا ہے۔ ”فوزیہ نے غصے سے اسے دیکھا اور بولی۔
    ابھی فوزیہ کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ اماں کمرے میں داخل ہو گئی اور آتے ہی اس پر چڑھ دوڑی۔
    ”تو یہ بتا کہ کہاں گئی تھی؟ آدھے گھنٹے کا کہہ کر دو گھنٹے لگا کر آئی ہے۔تیری بھابی بھی پوچھ رہی تھی۔”
    ”وہ کون ہوتی ہے پوچھنے والی؟” فوزیہ تلملاتے ہوئے بولی۔
    ”بس کر دے اپنی بکواس،اب تو اس کے بھائی کے گھر جانے والی ہے۔”ماں نے اسے زور سے ڈانٹا۔
    ”ابھی گئی تو نہیں نا، جب جاؤں گی تب رعب ڈال مجھ پر۔رعب میں تو میں اپنے باپ کے بھی نہیں آتی۔”فوزیہ نے منہ بسورتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا۔
    ”سدھر جا فوزیہ ورنہ سر پکڑ کر روئے گی۔” ماں نے اسے سمجھایا۔
    ”فوزیہ کمرے میں جاتے ہوئے رکی اور طنزیہ انداز میں ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”بس تو بددعائیں دیتی رہنا،سر پکڑ کر روئیں میرے دشمن۔”
    ” ہاںہاں بددعادے مجھے فوزیہ،منہ بھرکے بددعا دے۔توکب سے اپنادشمن سمجھ رہی ہے مجھے؟”ماں روہانسی ہو کر بولی۔
    ”جب سے تو نے دشمنوں والے ہتھیار استعمال کیے ہیں۔”فوزیہ نے چلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ” اچھا بابا معاف کر دے مجھے،مت لڑ اب،چل جا اندر۔”ماں نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔
    ”تو ہمیشہ مجھے ہی چپ کروایا کر اماں۔میں چپ ہو گئی نا تو اسی طرح منہ سے کچھ بلوانے کے لیے ہاتھ جوڑے گی۔”فوزیہ نے کہا۔
    ”تو چپ تو کر کے دکھا تب مانوں گی،توتو ابھی بھی مسلسل منہ چلا رہی ہے۔”ماں نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا۔
    ”ٹھیک ہے پھر،آج سے فوزیہ بتول چپ ہے،کچھ نہیں بولے گی،حتیٰ کہ تو نکاح کے لیے بھی بلوا کر دیکھ۔مولوی کے سامنے انکار کروں گی۔” فوزیہ نے نہایت غصے سے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔
    ”اللہ تیرا بیڑا غرق کرے فوزیہ، تجھے کسی کی آئی آ جائے،تو مر جائے۔ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکالنے والی کا جنازہ اٹھے۔”ماں نے منہ پر دوپٹا ڈال کر اسے کوسنے دینے شروع کردیئے۔
    ”ہاں ہاں دو بددعائیں، دل بھر کر دو۔میرے مرنے پر ترسو گی میری شکل کو۔”فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے ماں کو دیکھا اور دھمکی دیتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
    ٭…٭…٭





    آج ساجد بہت خوش تھا کیوں کہ اس کے دل کی مراد پوری ہورہی تھی پورے گاؤں کے لڑکوں میں اس کی دھاک بیٹھ گئی تھی کہ گاؤں کی سب سے خوب صورت لڑکی سے اس کی شادی ہورہی تھی۔وہ دلہا بن کر بارات لے کر فوزیہ کے گھر آیا تھا۔صحن میں خوب چہل پہل تھی۔فوزیہ کے گھر والے اسے سادگی سے رخصت کرنا چاہتے تھے۔ رحیم نے ادھار لے کر کھانے کا انتظام کیا تھا کیوں کہ اُسے اپنی سسرال میں اپنی دھاک بھی بٹھانی تھی،خالی خولی بہن تو نہیں بھیج سکتا تھا۔ عورتوں والے حصے میں ساجد کی ماں بڑے طمطراق سے بیٹھی تھی۔اس کے انداز میں بھی بڑا غرور تھا جسے فوزیہ کے گھر والے بھی محسوس کررہے تھے۔ اسما بھی خوش خوش اِدھر اُدھر انتظامات میں مصروف تھی کہ کچھ بھی ہو بھائی کی دلی خواہش تو پوری ہوگئی۔
    ”مولوی صاحب آ گئے۔”اتنے میں کسی نے آواز لگائی تو باراتیوں اور گھر والوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
    ایک مولوی صاحب ہاتھ میں نکاح رجسٹر تھامے اند رداخل ہوئے۔انہیں خاص اہتمام سے بٹھادیا گیا۔
    ”مولوی صاحب بسم اللہ، نکاح شروع کرو۔” رحیم نے کہا۔
    نکاح شروع کیا گیا لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کہ جس سے نکاح پڑھایا جانا تھا وہ دلہن تو گھر میں موجود ہی نہیں،اور جب پتا چلا تو رحیم کے ساتھ ساتھ ساجد اور دوسرے لوگ باہر کی طرف بھاگے۔گھر میں موجود سب ہی لوگ جانتے تھے کہ وہ سیدھی کہاں گئی ہوگی۔
    ٭…٭…٭
    رحیم،ساجد اور چند دوسرے لوگ عابد کی دکان پر پہنچ گئے۔وہ پہلے ہی اداس اور دُکھی سا بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ ان سب کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر گڑبڑا گیا۔
    ”او بتا اوئے کہاں ہے میری بہن؟تو نے رشتہ بھیجا تھا نا ہمارے گھر؟” رحیم نے غصّے سے کاؤنٹر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے کیا پتا تیری بہن کا۔میں نے تو نہیں بھگایا اسے۔” عابد نے گھبراتے ہوئے جواب دیا۔رحیم نے اس کا گریبان پکڑ لیا اور ساجد نے ایک زوردار تھپڑا مارا۔
    ”اوئے سچ سچ بتا دے ،اس سے پہلے کہ تجھے پولیس کے حوالے کر دیں۔وہ میری منگ ہے،میں تجھے چھوڑوں گا نہیں۔”ساجد نے چلاتے ہوئے اس کا گلا پکڑ لیا۔
    ”اسے پولیس کے حوالے نہ کرو،میں تو کہتا ہوں چودھری صاحب کے پاس لے چلو وہ خود ہی اس سے قبول کر وا لیں گے۔”ایک آدمی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا،سب لوگوں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور عابد کو گھسیٹنے لگے۔
    ”اوئے مجھے دکان تو بند کر لینے دو،چلتا ہوں تمہارے ساتھ۔ چودھری صاحب خود فیصلہ کر لیں گے۔”عابد نے گریبان چھڑاتے ہوئے چیخ کر کہا۔
    ساجد نے اُسے ایک اور زوردار تھپڑ مارا اور گھسیٹتے ہوئے بولا۔
    ”بھاڑ میں گئی تیری دکان،ہماری زندگی داؤ پر لگی ہے اور تجھے دکان کی پڑی ہے۔”
    ”اسے چودھری صاحب کے پاس لے چلو فوراً ، وہاں دو تھپڑ پڑیں گے تو یہ خود ہی بول پڑے گا۔”
    رحیم نے عابد کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا اورمشتعل ہجوم اسے گاؤں کی گلیوں میں گھسیٹتا ہوا چودھری صاحب کی حویلی کی طرف روانہ ہو گیا۔
    چودھری صاحب کی حویلی میں لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔بھانت بھانت کی خلقت میںرنگ برنگی آوازیں آرہی تھیں۔ فوزیہ کا پورا خاندان اور گاؤں کے سارے مرد وہاں موجود تھے۔انہی مردوں میں فوزیہ کا باپ امام بخش بھی شامل تھا۔اس نے چودھری صاحب کے سامنے آکر ہاتھ جوڑے اور گڑگڑاتے ہوئے بولا۔
    ”چودھری صاحب! اس آدمی نے میری بیٹی بھگائی ہے،ہم آپ کے پاس فیصلہ لینے آئے ہیں۔”
    چودھری صاحب نے تحمل سے اس کی بات سنی اور ایک انکشاف کرتے ہوئے کہا۔
    ”اوئے اس نے تیری بیٹی نہیں بھگائی،وہ میرے پاس ہے۔تم اس بچی کے ساتھ زبردستی کیوں کر رہے ہو؟”چودھری نے امام بخش کو ڈانٹا۔اسی دوران فوزیہ بھی چودھری صاحب کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
    ”سُن!تو بچی کی شادی زبردستی نہیں کر سکتا،اگر وہ نہیں چاہتی تو کیوں زبردستی کر رہا ہے؟”
    امام بخش ہاتھ جوڑتے ہوئے بہت نرمی سے بولا۔





    ”چودھری صاحب! میں غریب آدمی ہوں،اس کے علاوہ ایک اور بیٹی بھی ہے بیاہنے والی، برادری سے رشتہ اچھا تھا تو سوچا رخصت کر دوں،مگر یہ …”اس نے منہ میں آئی گالی کو زبان کے نیچے روکا۔
    ”تجھے پتا ہے ہمارے مذہب میں لڑکی کی مرضی کے بغیر شادی کرنا جرم ہے؟”چودھری اس کا انداز دیکھ کر غصے سے بولا۔
    امام بخش نے فوزیہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
    ”چودھری صاحب معافی چاہتا ہوں،اگر اس کی مرضی کا انتظار کروں تو شاید کبھی شادی نہ ہو اور مجھے اس کے بعد ایک اور بیٹی بیاہنی ہے۔”
    فوزیہ نے کچھ کہنا چاہا مگر چودھری صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا اورخودفوزیہ کی جگہ جواب دیا۔
    ”دیکھ امام بخش!بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اور ان کے دکھ درد بھی سانجھے۔تواپنی اس بیٹی کو تو اب بھول جا،اب یہ ہمارے پاس ہے اور ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا۔”
    چودھری صاحب کی یہ بات سن کر،رحیم نے ساجد کے آنکھ کے اشارے پر آگے بڑھ کر دلیری سے کہا۔
    ”لیکن چودھری صاحب جس کے ساتھ اس کی شادی ہو رہی ہے سارے گاؤں میں اس کی بڑی بدنامی ہوگی۔”
    ”اوئے تو چپ کرزن مرید! تجھے اپنی بہن کی نہیں اپنے سالے کی فکر ہے جس کی بدنامی پورے گاؤں میں مشہورہے ۔”چودھری صاحب نے گرجتے ہوئے اسے ڈانٹا۔
    ”لیکن چودھری صاحب…”امام بخش نے کچھ کہنے کی کوشش کی،چودھری نے ہاتھ اُٹھا کر اس کی بات کاٹ دی۔
    ”لیکن ویکن کچھ نہیں، میں نے کہہ دیا لڑکی نے ہماری حویلی میں پناہ لی ہے۔اس لیے جب تک وہ خود نہیں چاہے گی ہم نہیں بھیج سکتے بلکہ لڑکی بھی موجود ہے تم خود پوچھ لو۔بتا فوزیہ تو کیا چاہتی ہے؟”
    فوزیہ نے منہ سے کچھ بولے بِنا محض نفی میں سر ہلا دیا۔
    امام بخش نے بیٹی کا ردعمل دیکھااور وہ کچھ دیر سوچتا رہا،پھر چودھری صاحب کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنے لگا۔
    ”چودھری صاحب تسی ساڈے مائی باپ او،تہاڈا فیصلہ ساڈا فیصلہ ہے۔”
    ”لیکن ابا سارا گاؤں کیا کہے گا؟”رحیم اس فیصلے سے راضی نہیں تھا،آگے بڑھ کر باپ سے خفگی سے بولا۔
    امام بخش نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اورجھڑک کر بولا۔
    ”کوئی نہیں ہوتی بدنامی،چودھری صاحب کا فیصلہ ہے یہ اور چودھری صاحب کے آگے گاؤں والے کچھ نہیں کہیں گے،تو گھرچل اب۔”
    فوزیہ نے فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہوئے بھائی کو دیکھا اور وہ اسے غصے سے گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔اس کے باہر نکلنے کے بعد فوزیہ نے اسی انداز میں ساجد پر نظر ڈالی جس کے چہرے پر بھی ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اُسے معلوم تھا پورے گاؤں نے اُسے نکو بنادینا ہے۔ وہ اُسے گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭





    اپنے گھر پہنچ کر اسما ماں سے لپٹ کر زور زور سے رو پڑی،سب گھر والوں کے چہروں پر اداسی اور بے عزتی کے آثار تھے۔ساجد نے ایک غصیلی نظر رحیم پر ڈالی۔اسما روتے روتے بولی۔
    ”اماں! پورے گاؤں میں بدنامی ہوئی ہے ہماری،میرے ویر کی برات لوٹ گئی بغیر دلہن کے۔”
    ”تو بھی واپس نہیں جائے گی اب،تب انہیں پتا چلے گا کہ بے عزتی کیا ہوتی ہے۔”اسما کی ماں غصے سے کھڑی ہوئی اورجواب دیا۔
    اسما رحیم کی طر ف دیکھ کر بلبلائی اور ماں سے کہا۔”لیکن اماں اس میں میرا کیا قصور،میرے بچوں کا کیا قصور،بدلہ لینا ہے تو اس کمینی سے لو جس کی وجہ سے بدنامی ہوئی ہے۔”
    رحیم نے بیوی کی طرف دیکھ کر ہاں میں ہاں ملائی اور ساس سے پوچھا۔
    ”اس میں میرا اور اسما کا کیا قصور؟ تم لوگ رشتہ لائے ہم نے قبول کیا،پھر ماں باپ کو منا لیا،اب وہ کمینی بھاگ گئی تو ہم کیوں بھگتیں؟”
    ساجد نے خاموشی سے ساری بات سنی اور غصے سے اپنے بہنوئی کو ڈانٹا۔
    ”تو چپ رہ،تجھ سے ایک بہن قابو نہ ہوسکی۔تو جانتا تھا کہ وہ کیسی ہے،اس نے بتا بھی دیا تھا کہ وہ گھر سے بھاگ جائے گی،تو نے اس پر پابندی کیوں نہ لگائی؟نظر کیوں نہ رکھی؟ ”





    ”تو تو اس بات کا بدلہ اپنی بہن سے لے گا؟حالاں کہ ہم دونوں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔” رحیم نے پریشانی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی بات کی وضاحت کی۔ساجد نے غصّے سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
    اسما نے بھائی کے غصے کو دیکھا تو ساجد کے پاس جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے اسما کا ہاتھ بھی جھٹک دیا۔وہ انتہائی غصے میں تھا لیکن اسما نے بھی ہمت نہ ہاری اور کہنے لگی۔
    ”تجھے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا ہے تو فوزیہ سے لے،بس یہ سوچ کہ وہ واپس آئے گی تو کیا کرے گا؟”
    ساجد چارپائی پر بیٹھ گیا اور بولا۔
    ”او رہن دے تو اپنے مشورے،دیکھ لیا میں نے تجھے۔بھائی کی خاطر اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتی؟”
    ”غصہ نہ کر،میں تیری خاطر جان بھی دے سکتی ہوں،مگر تو ذرا عقل استعمال کر۔جس کی وجہ سے ہم سب اذیت میں ہیں اسے کوئی سزا دے۔میرے گھر بیٹھنے سے اس کی خوشی ہوگی پاگل کہ اس کی راہ کا روڑا ہٹ گیا۔”اسما اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔
    اسما کی بات سن کر اس کی ماں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔”کہہ تو ٹھیک رہی ہے،اس طرح تو اس کے دل کو ٹھنڈ پر جائے گی۔”
    ”وہ گھر آجائے تو پھر دیکھنا میں اس کا کیا حال کرتا ہوں،سب دیکھیں گے۔بے غیرت، بے شرم نے ہم سب کے سر جھکا دیے۔” رحیم فوزیہ کا ذکر کرتے ہوئے آگ بگولا ہوا، اس کی آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں چمک رہی تھیں۔
    ”ہاں میں جانتا ہوں کہ تو کتنا مرد ہے،پہلے تو سنبھالی نہیں گئی اور اب باتیں بنا رہا ہے۔خیر توکچھ نہ کر،میں خود ہی دیکھ لوں گا۔”ساجد نے رحیم کی مردانگی پر چوٹ پر کرتے ہوئے کہا اور کندھے پر پڑا رومال جھاڑ کر باہر نکل گیا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ چودھری صاحب کے گھر بہت خوش تھی۔دن بھر چودھرانی اور ان کی بہو کے کام کرتی اور چودھری صاحب کے آنے کے بعد ان کے لیے چائے وغیرہ کی ذمہ داری بھی اس نے اٹھالی تھی۔ وہ دل سے دونوں کی قدر کرتی تھی اور جانتی تھی کہ اگر ان دونوں نے اس کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو وہ اس وقت ساجد کی بیوی بن کر اس کی باتیں سن رہی ہوتی۔ کبھی کبھی اسے اماں اور ابا خاص طور پر منا یاد آتا لیکن اس نے دل سخت کرلیا تھا کہ اگر انہیں فکر نہیں میری تو میں کیوں کروں۔
    ایک دن فوزیہ حویلی کے صحن میں بیٹھی تھی کہ چودھرانی وہاں آئی اور اپنے چند پرانے جوڑے اس کے آگے رکھتے ہوئے کہا۔
    ”یہ لے،انہیں صحیح کر کے پہن لینا۔پتا نہیں تجھے کب تک یہاں رہنا ہے۔”




  • گائے کے سینگ

    گائے کے سینگ

    گائے کے سینگ
    باذلہ سردار

    ایران کے کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اُس کے دو بچے تھے۔ بیٹی کا نام نور اور بیٹے کا نام عمر تھا۔ کسان نے ایک خوب صورت گائے پال رکھی تھی۔ اُس کا بچھڑا بھی بہت گول مٹول اور پیارا تھا۔
    کسان روزانہ گائے کو کھیتوں میں چرانے کے لیے لے جاتا۔ گائے بہت سا دودھ تو دیتی لیکن وہ بہت چالاک اور لڑاکا تھی۔ اپنے سینگوں سے روزانہ کسی نہ کسی کو زخمی کردیتی۔ ایک دن گائے نے اپنے مالک ہی کو ٹکر مار دی۔ سینگ لگنے سے کسان زخمی ہوگیا۔ اُس نے غصّے میں گائے کے سینگ کاٹنے کا ارادہ کرلیا۔ کسان نے سوچا کہ یہ کام وہ اگلے دن کھیتوں سے واپسی پر کرے گا۔
    دوسرے دن وہ گائے کے ساتھ اپنے بچوں کو بھی چراگاہ لے گیا۔ دوپہر میں کسان نے گائے کو چرنے کے لیے کُھلا چھوڑا اور خود کسی کام میں مصروف ہوگیا۔ اُس کے دونوں بچّے گائے کے بچھڑے سے کھیلنے لگے۔ اچانک قریبی جھاڑیوں سے ایک بھیڑیا نکل آیا۔ اُسے دیکھتے ہی کسان کے بچے چیخنے لگے۔ بھیڑیے نے آتے ہی بچھڑے پر حملہ کردیا۔ گائے نے جب بچھڑے کو مصیبت میں دیکھا تو وہ فوراً بھیڑیے کی طرف لپکی اور اُس پر حملہ کردیا۔ کچھ ہی دیر میں گائے نے اپنے بڑے بڑے سینگوں کی مدد سے بھیڑیے کو زخمی کردیا۔ بھیڑیا وہاں سے دُم دبا کے بھاگ نکلا۔
    شور سُن کر کسان بھی بھاگتا ہوا وہاں آپہنچا۔ یہ ساری صورتِ حال دیکھ کر اُس نے اپنے بچوں کو گلے لگایا اور پھر بچھڑے کو پیار کرنے لگا۔ بات اس کی سمجھ میں آگئی کہ اللہ نے کوئی شے بنا حکمت کے نہیں بنائی۔ یہ سوچ کر اس نے گائے کو تھپکی دی اور اس کے سینگ کاٹنے کا ارادہ ترک کردیا۔
    ٭…٭…٭

  • چی چی کی توبہ

    چی چی کی توبہ

    چی چی کی توبہ
    زاہدہ عروج

    شہر سے بہت دور ایک باغ تھا جس میں ایک ننھی چیونٹی رہتی تھی۔ اُس کا نام چی چی تھا۔ چی چی کی ماں اُس سے بہت پیار کرتی تھی۔ چی چی تھی تو بہت اچھی مگر اُس میں ایک برُی عادت بھی تھی۔ اُس کی ماں جو بھی کھانا لاتی وہ چی چی کے حلق سے نہ اُترتا مگر باہر پڑی گندی چیزیں وہ بڑے شوق سے کھاجاتی۔
    چیونٹی بی نے کئی بار اُسے سمجھایا کہ بیٹا! اچھے بچے گری پڑی چیز نہیں کھاتے۔ بہت سی چیزیں زہریلی بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے سے ہم بیمار ہو سکتے ہیں۔”
    چی چی اُس وقت تو بات مان لیتی مگر جیسے ہی کھانے کی کوئی چیز دیکھتی تو ماں کی نصیحت بھول جاتی۔ آج بھی چی چی ماں سے نظر بچا کر گھر سے نکلی۔ باغ میں پہنچی تو وہاں سفید پاؤڈر کی ایک تھیلی پڑی تھی۔ چی چی کو اُس کی خُوش بو بہت پسند آئی۔ وہ جلدی سے پاؤڈر کھانے لگی۔ ابھی اُس نے پاؤڈر چکھا ہی تھا کہ پیچھے سے چیونٹی بی کی آواز سُنائی دی جو چی چی کو سفید پاؤڈر کھاتے دیکھ چکی تھی۔ یہ پاؤڈر باغ سے کیڑے مکوڑے ختم کرنے کے لیے ڈالا گیا تھا۔
    پاؤڈر کھاتے ہی چی چی کے پیٹ میں درد شروع ہوگیا اور وہ رونے لگی۔ چی چی کی ماں اُسے گھر لے آئی اور جلدی سے دوا پلائی۔ دوا پینے سے چی چی کو چند اُلٹیاں ہوئیں تو طبیعت کچھ بہتر ہوئی۔ چی چی ایک ہفتہ تک بیمار رہی اور بیماری میں اُسے اُبلے اور پھیکے کھانے کھانا پڑے۔ چی چی نے اپنی ماں سے معافی مانگی اور باہر جاکر گندی چیزیں کھانے سے توبہ کرلی کیوں کہ اُس دن اگر چیونٹی بی وقت پر نہ پہنچتی تو زیادہ پاؤڈر کھانے سے چی چی کی جان بھی جا سکتی تھی۔

    ٭…٭

  • بھولو کی بے وقوفی

    بھولو کی بے وقوفی

    بھولو کی بے وقوفی
    معاویہ مومن

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گاؤں میں ایک بُڑھیا رہتی تھی۔ اُس کا بیٹا ”بھولُو” بڑا ہی بے وقوف تھا۔ ایک دن بُڑھیا نے بھولُو کو کچھ سامان خریدنے بازار بھیجا۔ بھولُو نے بُڑھیا سے دو سِکّے لیے اور بازار کی طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے اسے ٹھوکر لگی اور دونوں سِکّے کہیں گر گئے۔ بھولُو بہت پریشان ہوا۔ اُس نے واپس آکر اپنی امّی کو بتایا کہ سکّے گم گئے ہیں۔ بُڑھیا نے سمجھایا: ”بیٹا اس طرح کی چیزوں کو جیب میں رکھتے ہیں۔”
    دوسرے دن بُڑھیا نے بھولُو کو گھی لانے کے لیے بازار بھیجا۔ اِس بار بھولُو نے دکان سے گھی لیا اور اپنی جیب میں ٹھونس لیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے سارا گھی پگھل کر بہ گیا۔ بھولُو نے دیکھا تو پریشان ہوگیا۔ بُڑھیا نے اُسے پھر سمجھایا: ”بیٹا! اِس طرح کی چیزوں کو مرتبان یا ڈبے میں ڈال کر لاتے ہیں۔” اگلے دن بھولُو ایک بار پھر بازار گیا۔ اُس نے دو چوزے خریدے اور انہیں ڈبے میں بند کرکے گھر لے آیا۔ جیسے ہی بُڑھیا نے ڈبہ کھولا، اندر سے دو چوزے نکلے جو دم گھٹنے سے مرچکے تھے۔
    بُڑھیا نے افسردہ ہوکر کہا: ”بیٹا ایسی چیزیں ہاتھوں میں اٹھا کر لاتے ہیں۔” چناں چہ اگلے دن بھولُو نے بازار سے گدھے کا ایک بچہ خریدا اور اسے اپنے کندھوں پر سوار کرلیا۔ گدھے کا بچہ اُس کے کندھوں پر ٹِک ہی نہیں رہا تھا۔ بھولُو بڑی مشکل سے اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا۔
    راستے میں ایک اُداس شہزادی کا محل تھا۔ شہزادی نے اُس دن اعلان کر رکھا تھا کہ جو بھی اُسے ہنسائے گا وہ اِسے انعام دے گی۔ شام ہونے کو تھی لیکن کوئی بھی شہزادی کو ہنسانہ سکا۔ ایسے میں محل کے سامنے سے بھولُو کا گزر ہوا جس نے بڑی مشکل سے اپنے کندھوں پر گدھے کا بچہ اُٹھا رکھا تھا۔ یہ دیکھتے ہی شہزادی کی ہنسی چھوٹ گئی۔ اُس نے بھولو کو بلا کر بہت سارے انعامات دیے۔

    ٭…٭…٭

  • بکری اور بھیڑیا

    بکری اور بھیڑیا

    بکری اور بھیڑیا

    عائشہ علوی

    یہ کہانی ہے چینی بکری اور ایک مغرور بھیڑیے کی۔ چینی بکری کے تین پیارے سے بچے تھے۔ سونی، مونی اور ٹونی۔ ایک دن بکری اپنے بچوں کے لیے کھانا ڈھونڈنے نکلی۔ پیچھے سے بھیڑیا آیا اور بکری کے تینوں بچوں کو کھا گیا۔
    گھر واپس آتے ہی چینی بکری نے بچوں کو آواز دی۔ ”سونی، مونی، ٹونی” پر جواب نہ آیا۔ وہ پریشان ہوگئی۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا تو اسے بھیڑیے کے پیروں کے نشان ملے۔ وہ سب کچھ سمجھ گئی۔ بھیڑیا اس کے تینوں بچوں کو کھا گیا تھا۔
    وہ پھلانگتی ہوئی اس پہاڑ پر جاپہنچی جس کے غار میں بھیڑیا رہتا تھا۔ وہ غار کی چھت پر زور زور سے کُھر مارنے لگی۔ غار کے اندر سے بھیڑیا چلّایا۔ ” کون ہے اوپر جو یہ حرکت کررہا ہے؟”
    ”میں ہوں چینی بکری۔ کیا تم مجھے بتا سکتے ہوکہ میرے سونی مونی اور ٹونی کون کھاگیا ہے؟”
    ”میں نے تمہارے سونی، مونی اور ٹونی کو ہڑپ کر لیا ہے۔” بھیڑیا غرور سے بولا۔
    ”تم بہت ظالم ہو! کل میرے اور تمہارے درمیان لڑائی ہوگی۔” بکری بولی۔
    ”ہاہاہا! ٹھیک ہے میں تمہیں دیکھ لوں گا۔” بھیڑیا قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔
    بکری لوہار کے پاس پہنچ گئی۔ ”ظالم بھیڑیا میرے ننھے بچوں کو کھاگیا ہے۔ تم میری کچھ مدد کرو اور میرے سینگ تیز کردو۔ میں نے بھیڑیے سے لڑنا ہے۔ دیکھو میں تمہارے لیے اُجرت کے طور پر دودھ کا کٹورا لائی ہوں۔”
    لوہار نے بکری کے سینگوں کو تیز کردیا۔ اُس کے سینگ تلوار کی طرح تیز ہوگئے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بھیڑیا بھی کنکر اور گارے سے بھرا ہوا ایک پتیلا لوہار کو دیتے ہوئے بولا:
    ”میں اس پتیلے میں تمہارے لیے کھانا لایا ہوں۔ تم میرے دانت تیز کردو۔”
    پتیلے میں کنکر اور گارا دیکھ کر لوہار بھیڑیے کی مکاری سمجھ گیا۔ بھیڑیے نے دانت تیز کرنے کے لیے جو منہ کھولا تو لوہار نے بڑی چالاکی کے ساتھ اس کے دانت اکھاڑ دیے اور وہ یہی سمجھتا رہا کہ اس کے دانت تیز ہورہے ہیں۔
    لوہار بولا: ”تمہارے دانت تیز ہوچکے ہیں۔ اب تم بے فکر ہوکر جائو۔”
    اگلے روز دوپہر کا وقت ہوا تو بھیڑیا اور بکری لڑائی کے لیے آمنے سامنے تیار تھے۔
    ”تم حملہ کرو’۔’ بھیڑے نے چِلّا کر کہا۔
    ”نہیں تم پہلے وار کرو۔” بکری بھی غصے میں بولی۔
    پھر بھیڑیے نے بکری پر منہ کھول کر حملہ کردیا مگر بکری کو کوئی نقصان نہ پہنچا کیونکہ بھیڑیے کے تو دانت ہی نہیں تھے۔ اب بکری کی باری تھی۔ اس نے بھیڑیے پر حملہ کرکے اس کو مار ڈالا اور اس کے پیٹ سے سونی، مونی اور ٹونی کو باہر نکال لیا۔ بکری اپنے بچوں کو دیکھ کر بہت خوش تھی۔
    تب سے اب تک چینی بکری اور اُس کے بچے آرام و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔
    ٭…٭…٭