Tag: Alif Kitab

  • لوک کہانی | دُلّے کی وار

    لوک کہانی | دُلّے کی وار

    لوک کہانی
    دُلّے کی وار
    شازیہ ستار نایاب

    شازیہ ستار نایاب کا تعلق لاہور سے ہے۔ سیاسیات میں ماسٹرز کررکھا ہے۔ بچپن سے لکھنے کا آغاز کیا۔ پھول، نونہال، الف کتاب، کرن اور آنچل جیسے رسائل کے لیے لکھا۔ کچھ تعطل کے بعد 2016ء سے دوبارہ لکھنے کا آغاز کیا۔ الف نگر کے لیے مستقل لکھ رہی ہیں۔ بچوں اور بڑوں کے لیے بہت سی کہانیاں اور مضامین ان کے کریڈٹ پر ہیں۔

    ”زہراں کے ابّا! اس سال توزہراں کی شادی نہیں ہو سکتی۔” حمیدہ بی بی نے مایوسی کے عالم میں کہا۔
    ”ہاں ایسا ہی لگتا ہے نیک بخت! سوچا تھا اس بار فصل اچھی ہوئی ہے تو آرام سے دھی رانی کی شادی کر دیں گے مگر حکومتی کارندے اتنا زیادہ لگان لے گئے کہ کچھ بچا ہی نہیں۔” دینو نے مایوسی سے کہا۔
    ”میں تو لڑکے کی ماں کو شادی کی تاریخ لینے کا کہہ آئی تھی۔” حمیدہ روہانسی ہوئی۔
    دینو ابھی اسے تسلی دینے کے لیے الفاظ سوچ ہی رہا تھا کہ کپڑے کی ایک تھیلی اس کے قدموں میں آگری، اس کے ساتھ ہی دروازے پر دستک ہوئی۔ دینو نے ایک نظر تھیلی پر ڈالی پھر آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔
    ”سلام چاچا!” آنے والے نے کہا۔
    ”اوئے دُلّا بھٹی… یہ تھیلی تُو نے پھینکی ہے؟”
    ”ہاں! اوپر خدا ہے اور نیچے عبداللہ بھٹی۔ جب تک زندہ ہوں کسی بہن، بیٹی کا بیاہ نہیں رک سکتا۔ یہ اشرفیاں رکھ اور بیٹی بیاہنے کی تیاری کر۔” عبداللہ بھٹی نے کہا۔
    ”جیتا رہ میرا پتر! ہم غریبوں کا بھی خدا کے بعد تُو ہی سہارا ہے۔” دینو نے بے اختیار دعا دی اور عبداللہ بھٹی کو گلے لگا لیا۔
    ”رب سوہنا تجھے گرم ہوا سے بچائے۔ تجھے میری عمر بھی لگ جائے، تو نے ہم پہ بڑا احسان کیا ہے۔” حمیدہ بی بی نے خوش ہوکر کہا۔
    ”کوئی احسان نہیں ہے میرا۔ یہ تمہارا ہی پیسہ ہے جو مغلیہ حکومت لگان کے نام پر لے جاتی ہے۔ یہ مغل حکمران ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں اور غلامی میرے باپ دادا نے کبھی قبول نہیں کی تو میں کیسے کر لوں؟” عبداللہ بھٹی کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔ اپنے باپ اور دادا کے چہرے اُس کی نگاہوں میں گھوم گئے۔
    ”چلتا ہوں چاچا! بیاہ پر آؤں گا۔”
    ”ضرور پتر! رب راکھا۔” دینو نے کہا۔
    ”رب راکھا۔” عبداللہ بھٹی نے کہا اور گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔
    عبداللہ تو چلا گیا لیکن بوڑھے دینو کی نگاہوں کے سامنے ماضی کا منظر گھوم گیا، جب ساندل بار (پنڈی بھٹیاں کا قریبی علاقہ) میں صدیوں سے بھٹی خاندان کی حکومت تھی۔ تب مغلوں نے ہندوستان پر حملہ کیا تو اسی علاقے کو اپنی گزر گاہ بنایا۔ مغل لشکر یہاں لوٹ مار کرتے فصلوں اور چرا گاہوں کو اجاڑتے چلے گئے۔ مزاحمت کرنے والوں کو قتل کردیتے، کھڑی فصلوں کو آگ لگا دیتے۔ ایسی صورت حال یہاں کے لوگوں کے لیے نا قابل برداشت تھی۔ پھر لوگ لگان (ٹیکس) کے ظالمانہ قوانین سے بھی تنگ تھے۔ تب سردار ساندل بھٹی نے اپنے جوان منظم کر کے مغلیہ تسلط کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا۔ ساندل بھٹی کا بیٹا فرید بھٹی بھی اس کے ساتھ تھا۔ اکبر بادشاہ نے ان کے خلاف لشکر کشی کی اور قلعہ فرید تباہ کرکے دونوں کو گرفتار کیا اور اس کے بعد انہیں پھانسی دے دی۔ جب عبداللہ جوان ہوا تو اسے اُس کے باپ دادا کی شہادت کے متعلق بتایا گیا۔ وہ بھی اپنے باپ اور دادا کی طرح بہادر تھا۔ آزادی سے محبت اس کے لہو میں دوڑ رہی تھی۔

    پنڈی بھٹیاں کے قریبی گاؤں کوٹ نکہ میں ایک بڑا ظالم زمیندار رہا کرتا تھا۔ تمام لوگ اُس کے ڈر سے کانپتے تھے۔ ایک دفعہ کسی غریب ہندو مُول چند کی خوب صورت لڑکی سُندر مندریے پر اُس کی نگاہ پڑ گئی ۔ زمیندار نے لڑکی کے باپ سے اُس کا ہاتھ مانگا۔ مُول چند خوف کے مارے انکار نہ کرسکتا تھا مگر غیر مذہب میں وہ لڑکی بیاہنے کے لیے تیار نہ تھا۔ چناں چہ وہ بھاگ کر پنڈی بھٹیاں میں دُلّا بھٹی کے پاس آگیا اور سارا ماجرا سنایا۔ ایک منصوبہ بندی کے تحت دُلّا بھٹی نے مُول چند کو کہا کہ وہ زمیندار کو بیٹی کے رشتہ کے لیے ہاں کرکے تاریخ مقرر کردے۔
    مُول چند نے ایسا ہی کیا۔ دوسری طرف دُلاّ بھٹی نے سانگلہ میں اپنے ایک ہندو دوست کے لڑکے سے سُندر مندریے کا رشتہ طے کردیا اور اُسے شادی کی وہی تاریخ دی جو مُول چند نے کوٹ نکہ کے زمیندار کو دی تھی۔ زمیندار کی برات سج دھج کر مُول چند کے دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ اُدھر دُلاّ بھٹی دوسری برات لے کر آگیا۔ دُلّا بھٹی کے شیر جوانوں نے زمیندار کو بڑی مضبوطی سے پکڑ کر نیچے گرا لیا اور اُوپر سے جُوتے برسانے شروع کردیے۔ وہ بھی یوں کہ جیسے بادلوں میں بجلی کڑکتی ہے۔ معافی مانگنے پر زمیندار کی خلاصی ہوئی اور اسے سندر مندریے کو بیٹی کہنا پڑا۔ اس کے بعد سُندر مندریے کی شادی ہندو لڑکے سے کردی گئی اور شادی کی رسم میں دُلّا بھٹی خود سُندر مندریے کے باپ کی حیثیت سے شریک ہوا۔ اس واقعہ کے بعد دُلاّ بھٹی مظلوم عوام کا لیڈر بن گیا۔
    ہندوستان میں اس وقت تک شہنشاہ اکبر ایک نئے دین ”دینِ الٰہی” کی بنیاد رکھ چکا تھا جسے مسلمانوں نے سخت نا پسند کیا۔ دینِ الٰہی کی نا پسندیدگی، آزادی کی تڑپ اور مظلوم کسانوں پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر بے شمار لوگ عبداللہ بھٹی کے گرد اکٹھے ہو گئے۔ ارد گرد کی ریاستوں کے حاکم بھی اُس کے ساتھ مل گئے۔ والد فرید بھٹی اور دادا ساندل بھٹی کے بعد عبداللہ بھٹی ساندل بار کی سرحدوں کو وسیع کرتا چلا گیا۔
    عبداللہ بھٹی کی بڑھتی ہوئی طاقت شہنشاہ اکبر کے لیے مستقل خطرہ بن گئی تھی۔ مغربی پنجاب کے لوگ اس کے ساتھ تھے۔ وہ مغلیہ افواج کو لوٹتا اور مال غریبوں میں تقسیم کر دیتا۔ وہ شاہی نوابوں کے لیے ایک مسئلہ بن گیا۔ اس کی وجہ سے مغلیہ سلطنت کے دبدبے میں کمی آرہی تھی۔ چناں چہ شہنشاہ اکبر اعظم کو خود لاہور آنا پڑا۔ دوسری طرف عبداللہ بھٹی کو بھی مغلیہ حکومت کے اقدامات کی خبر ہو گئی۔ وہ بھی اُن کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔
    ایک دن عبداللہ کو اطلاع ملی کہ ساندل بار کے شمالی علاقے میں ایک قافلہ مغلوں کے لیے رسد لے کر جا رہا ہے۔ عبداللہ بھٹی اور اس کے ساتھی تیزی سے سفر کرتے ہوئے رسد کے قافلے تک پہنچ گئے۔ قافلہ تھکا ہوا تھا۔ عبداللہ اور اس کے ساتھیوں نے بارہ ہزار کی نفری کے اس قافلے پر اتنی شدت سے حملہ کیا کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے تتر بتر ہوگیا۔ قافلے کے سردار کا سر کاٹ کر عبداللہ بھٹی نے اکبر بادشاہ کے درباری اور ایک بااثر شخص کو اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ یہ بادشاہ کے لیے دُلّا بھٹی کی طرف سے تحفہ ہے۔ اگر ساندل بار میں لگان کے لیے کسی کو بھیجا یا کو ئی رسد کا قافلہ بغیر اجازت یہاں سے گزرا تو اس کا بھی یہی حشر ہو گا۔
    یہ پیغام پا کر بادشاہ غصے میں آگ بگولا ہو گیا اور بولا: ”کون سورما ہے جو ا س کو ہمارے دربار میں پیش کرے۔” اس وقت کے

  • سنی سنائی لوک کہانی | بوتل والا جن

    سنی سنائی لوک کہانی | بوتل والا جن

    سنی سنائی لوک کہانی
    بوتل والا جن
    علی اکمل تصور

    قصور سے تعلق رکھنے والے جناب علی اکمل تصور کی پہلی کہانی 1990ء میں شائع ہوئی۔ ایک بہترین کہانی کار کے طور پر انہوں نے بچوں کا ادب میں اپنا لوہا منوایا۔ 1993ء میں دعوة اکیڈمی شعبہ بچوں کا ادب سے بہترین ادیب کا ایوارڈ حاصل کیا۔ ملک بھر کے بڑے رسائل میں ان کی کہانیاں نئی نسل کی ادبی و اخلاقی تربیت کر رہی ہیں۔ الف نگر کے لیے یہ ان کی پہلی تحریر ہے۔
    تقریباً دو سو سال پہلے کی بات ہے۔ کسی گاؤں میں ایک ہندو چرواہا رام داس رہتا تھا۔وہ بکریاں پال کر گزر بسر کرتا۔ بے چارا تنگ دستی کا مارا ہر وقت سوچوں میں ڈوبا رہتا۔ اس دن بھی وہ کچھ سوچ رہا تھا۔ اس کے آگے آگے بکریاں اٹکھیلیاں کرتے چل رہی تھیں۔ اِن کی منزل گاؤں سے دور ایک گھنا جنگل تھا۔ جہاں بکریوں کو کھانے کے لیے چارا مل جاتا تھا۔ رام داس کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ اپنی بیوی کا علاج کروانے کے لیے اس نے ساہوکار سے قرض لیا پھر ساہوکار نے اُسے سود کے ذریعے اپنے شکنجے میں کس لیا تھا۔ اب وہ رام داس سے اُس کی بکریوں کا ریوڑ چھیننا چاہتا تھا۔
    ”میں بنیے کے قرض سے نجات کیسے حاصل کروں؟” وہ یہی بات سوچ رہا تھا کہ جنگل آگیا۔ سورج سر پر پہنچ چکا تھا۔ وہ ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گیا۔ اس کی بکریاں اِدھر اُدھر گھوم پھر کر گھاس کھا رہی تھیں۔ اچانک رام داس نے سورج کی روشنی میں چمکتی ہوئی ایک چیز دیکھی۔
    ”یہ کیا ہوسکتا ہے؟” تجسس کے ساتھ وہ اس کی طرف لپکا۔ یہ جادوئی بوتل تھی جس میں جن قید تھا۔ خوشی سے اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
    ”اگر اس میں سے جن نکل آئے تو وارے نیارے ہوجائیں۔” اُس کے دل میں امید جاگی۔ اس نے جیسے ہی بوتل کا ڈھکن کھولا، اچانک اس سے دھواں نکلنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دھویں نے ایک بھیانک شکل والے جن کی صورت اختیار کرلی۔ خوشی سے رام داس ناچنے لگا۔
    ”تو کیا میں نے اپنے بچپن میں جنوںوالی جو کہانیاں سنی تھیں وہ سب سچی تھیں؟” رام داس سوچنے لگا۔ اب وہ منتظر تھا کہ جن کب اس کی خواہشات پوری کرتا ہے، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ جن تو اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔
    ”اے نادان آدمی! میری بات سن۔” جن کڑکتے لہجے میں بولا۔ اس کی آواز ایسی خوف ناک تھی کہ رام داس کی گھگیبندھ گئی۔ اس کے باوجود وہ ہمت کرکے بولا: ”تمیز سے بات کر، میں تیرا مالک ہوں۔”
    ”مالک… ہاہاہا۔ احمق آدمی میں بوتل کا قیدی ہوں۔ تم نے اپنی شامت کو خود آواز دی ہے، مجھے بھوک لگی ہے، میں کیا کروں؟ کس کو کھاؤں؟ ہاں میں تمہیں کھاؤں گا۔ آدم بُو… آدم بُو۔”جن چلّایا۔
    اُس کی باتیں سن کر رام داس کو چکر آگیا۔ ”یہ اچھی بات نہیں ہے، میں نے تمہیں قید سے آزاد کیا ہے۔ تمہارے ساتھ نیکی کی ہے اور تم میرے ساتھ زیادتی کرنا چاہتے ہو؟” رام داس نے کہا۔
    ”نیکی کیا ہے؟ زیادتی کیا ہے؟ میں نہیں جانتا۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ مجھے بھوک لگی ہے اور اب میں تمہیں کھا کر اپنی بھوک مٹاؤں گا۔” جن بولا۔
    ”کیا تم نیکی اور بدی کا فلسفہ نہیں جانتے؟ چلو میرے ساتھ، پہلے ہم کسی منصف سے فیصلہ لیتے ہیں کہ نیکی کا بدلہ بدی سے نہیں دیا جاتا۔” رام داس نے کہا۔ ”ٹھیک ہے لیکن اگر فیصلہ میرے حق میں ہوگیا، تو میں تمہیں کھا جاؤں گا۔” جن کی بات سن کر رام داس نے سکھ کا سانس لیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ فیصلہ اُس کے حق میں ہوگا اور یوں اُس کی جان بچ جائے گی۔ رام داس کو اپنی جان کے لالے پڑے تھے وہ بکریوں کا کیا کرتا۔ اس نے اپنی بکریاں جنگل میں چھوڑیں اور ایک جانب چل پڑا۔ جن اُس کے سر پر ہوا میں پرواز کررہا تھا۔ چلتے چلتے سامنے ایک بلند پہاڑ آگیا۔ پہاڑ دیکھ کر رام داس رُک گیا۔ اب اس نے بلند آواز میں پہاڑ کو آواز دی: ”اے پہاڑ! ہمارے درمیان نیکی اور بدی کا فیصلہ کر دو۔”

    پہاڑ نے فوراً ہی جواب دیا۔”نیکی اور بدی کا فیصلہ؟ آخر بات کیا ہے؟”
    رام داس بولا: ”یہ ظالم جن بوتل میں قید تھا۔ میں نے اِسے آزادی دلائی اور اب یہ مجھے ہی کھانا چاہتا ہے۔ کیا نیکی اور بدی برابر ہوسکتے ہیں؟” رام داس کی بات سن کر پہاڑ نے ٹھنڈی آہ بھری اور بولا: ”تمہیں کیا بتاؤں دوست! میں تو خود بہت دکھی ہوں۔ قدرت نے مجھے طاقت دی اور میں نے اس زمین کو سنبھال رکھا ہے، مگر یہ انسان میری جڑیں کھود رہے ہیں، سرنگیں بنا رہے ہیں۔ وہ میرے پتھروں سے اپنے مکانات تعمیر کرتے ہیں ، مجھ میں کوئلے اور ہیرے تلاش کررہے ہیں۔ اگر یہ سب یونہی چلتا رہا تو جلدی ہی میں زمین بوس ہوجاؤں گا، میں بہت دکھی ہوں۔ میں منصف بن کر تمہارا فیصلہ نہیں کرسکتا، جاؤ کوئی اور منصف ڈھونڈ لو۔” پہاڑ کی بات سن کر رام داس بوجھل دل کے ساتھ آگے روانہ ہوا۔ تھوڑی دور جاکر اُسے ایک درخت نظر آیا۔ یہ بوڑھا درخت تھا۔
    ”اے درخت! ہمارے درمیان نیکی اور بدی کا فیصلہ کر دو۔”اُس نے التجا کی۔
    ”نیکی اور بدی کا فیصلہ؟ ہوا کیا ہے؟” درخت نے پوچھا۔
    ”یہ جن بوتل میں قید تھا۔ میں نے اِسے آزادی دلائی اور اب یہ مجھے ہی کھانا چاہتا ہے، کیا نیکی اور بدی برابر ہو سکتے ہیں؟” رام داس کی بات سن کر درخت نے سرد آہ بھری۔
    ”میں تمہیں کیا بتاؤں دوست! میں تو خود بہت دکھی ہوں، قدرت نے مجھے بہت خاص بنایا ہے۔ میں پھل دیتا ہوں اور سایہ بھی، مگر اس کے باوجود انسان میرے در پے ہے۔ یہ پھل لینے کے لیے مجھے پتھر مارتے ہیں۔ کلہاڑی سے میری شاخیں کاٹتے ہیں۔ مجھے بہت درد ہوتا ہے۔ اب تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ کسی روز انسان آرے سے مجھے کاٹ پھنکیں گے۔ میں بہت دکھی ہوں۔ میں منصف بن کر تمہارا فیصلہ نہیں کرسکتا، جاؤ کوئی اور منصف ڈھونڈ لو۔” درخت کی باتیں سن کر رام داس گھبرا گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اُتر آئے۔
    ”تم خود کو مظلوم سمجھتے ہو؟ دراصل اس زمین پر سب سے بڑے ظالم تم لوگ خود ہی ہو۔” جن خوش ہوکر قہقہے لگا رہا تھا۔
    ”امید ابھی باقی ہے ظالم جن! چلو میرے ساتھ۔” رام داس چل پڑا۔ اب اُس کی منزل مومن خان کے کھیت تھے۔ مومن خان ایک کاشت کار تھا۔ جب رام داس، مومن خان کے کھیتوں میں پہنچا، تو دیکھا۔ مومن خان بیلوں کی مدد سے کھیت میں ہل چلا رہا تھا۔
    ”مومن خان!” رام داس نے اُسے آواز دی۔ وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر رام داس کے پاس چلا آیا۔

  • گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)

    گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)

    گوادر کی لوک کہانی (سنی سنائی)
    انوکھا جزیرہ
    مصباح ناز

    جہلم سے تعلق رکھنے والی مصباح ناز نے بی کام کررکھا ہے۔ لکھنے پڑھنے کا جنون بچپن ہی سے تھا۔ پہلی کہانی 2018ء میں الف کتاب پورٹل پر شائع ہوئی۔ اس سے مزید لکھنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ بچوں کے لیے ”انوکھا جزیرہ” یقینا ان کے روشن ادبی مستقبل کی نوید ہے۔
    آج کل پاکستان کے ساحلی شہر گوادر کے پوری دنیا میں چرچے ہیں۔ برسوں سے اس شہر میں رہنے والے ماہی گیر جانتے ہیں کہ یہاں سمندر کے بیچوں بیچ کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے موجود ہیں۔ اسی علاقے کی ایک لوک داستان جسے آج بھی مقامی لوگ بڑے دل چسپ انداز میں سناتے ہیںکہ برسوں پہلے یہاں ساحل کے پاس جوہن دار نام کا ایک مچھیرا رہتا تھا۔ وہ اپنی گزر بسر کے لیے جال بُنتا، مچھلیاں پکڑتا، پھر انہیں بیچ کر پیسے کماتا تھا۔
    ایک روز جوہن دار نے دوسرے مچھیروںکے ہمراہ گہرے سمندر میں جال لگانے کا فیصلہ کیا، چناں چہ وہ سبھی ایک کشتی میں سوار ہوئے پھر کچھ دیر بعد کشتی سمندر کی لہروں پر سفر کرتی ہوئی گہرے پانی کی طرف جانے لگی ۔چلتے چلتے وہ بہت دور پہنچ گئے۔ہر طرف پانی ہی پانی تھا ۔کشتی میں اس وقت جوہن دار سمیت پانچ لوگ سوار تھے ۔سیر کرتے اور مچھلیاں پکڑتے شام کا وقت ہوا تو اچانک ایک مچھیرے نے بتایا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہونے والا ہے۔
    ”اوہ ! اب کیا ہوگا؟میرے خیا ل میں ہمیں واپس چلنا چاہیے ۔”دوسرے مچھیرے نے کہا۔ اچانک جوہن دار چِلّااُٹھا:’دوستو! سامنے دیکھو ،وہ کیا ہے ؟”
    سب نے گہرے پانی کی طرف نگاہ دوڑائی تو انہیں ایک نشان سا نظر آیا ۔ شایدسامنے کو ئی چھوٹا سا جزیرہ تھا۔
    ”میرے خیال میں ہمیں اسی طرف چلنا چاہیے۔” یہ کہہ کر جوہن دار نے کشتی کا رخ جزیرے کی جانب کردیا ۔وہاں پہنچتے ہی جوہن دار نے دوستوں کی مدد سے کشتی کا لنگر ڈال دیا۔ اس جزیرے پر پہلے کبھی اِن کا گزر نہیں ہوا تھا۔اسی لیے وہ ذرا محتاط اندا ز میںقدم اٹھاتے آگے بڑھنے لگے۔ ابھی انہوں نے جزیرے پر کھانے پینے کے سامان کی تلاش شروع ہی کی تھی کہ اچانک وہاں عجیب شکلوں والے کچھ لوگ آئے اورانہیں زبردستی پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔
    جوہن اورباقی مچھیرے اس ناگہانی آفت سے گھبرا گئے ۔ان کی آنکھیں بند کرکے انہیں ایک ویران جگہ پر لے جایا گیا۔کچھ دیر بعدوہ سبھی ایک غار میں قید تھے۔ جب ان کی آنکھوں سے پٹی ہٹائی گئی تو خود کو اس خوف ناک جگہ پردیکھ کر وہ پریشان ہوگئے۔ سامنے اونچی جگہ پر ڈرائونی شکل والاایک آدمی بیٹھا تھا۔ اس کا نام نپکو تھا۔ نپکو اپنا تازہ شکار دیکھ کرہولے سے مسکرا رہا تھا۔
    ”تم کون لوگ ہو ؟اور ہم سے کیا چاہتے ہو؟” جوہن دار نے گھبرا کر پوچھا۔

    ”یہ جزیرہ ہمارا ہے اور ہماری اجازت کے بغیر یہاں کوئی پرندہ بھی پَر نہیں مار سکتا، تم لوگوں نے ہم سے پوچھے بغیر یہاں کشتی کیوں روکی؟ اسی لیے میرے آدمی تمہیں یہاں لے آئے ہیں۔” نپکو نے رعب دار آواز میں کہا۔
    ”مگر ہمیں معلوم نہ تھا،آپ اگر ہمیں معاف کردوتو ہم فوراََ یہاں سے چلے جاتے ہیں۔” جوہن نے درخواست کی لیکن نپکو نہ مانا ،وہ بہت بے رحم اور ظالم جادوگر تھا۔ اس نے فوراً کوئی منتر پڑھا پھر جوہن کے سوا باقی تمام مچھیروں کو مٹی کا پتلا بنا دیا۔ یہ دیکھ کر جوہن مزیدخوف زدہ ہوگیا۔ نپکواب جوہن سے مخاطب ہوا:
    ”سنو!تم مجھے بہادر لگتے ہو، میرے پاس تمہارے لیے ایک کام ہے، اگر تم نے میرا وہ کام کردیا تو میں تمہارے دوستوں کو پھر سے اصل صورت میں لے آئوں گا،صرف یہی نہیں،بلکہ تم لوگو ںکو آزاد بھی کردوں گا۔” نپکو نے کہا۔
    ”اوہ!کیسا کام؟” جوہن دار نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
    ”ہمارے دیوتا کو تمہارے دیس کے ایک درویش عامل نے مٹی کا پتلا بنا دیا ہے، دیوتا ہمیں ایک مفید قسم کا جادو سکھا رہے تھے مگر عامل کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ اس نے اپنے عمل سے ہمارے دیوتا کو مٹی کا بنا دیا۔کئی سال بعد وہ عامل مرگیا اور مرتے وقت اس نے یہ سارا عمل اپنی بیٹی کو سکھا دیا تھا ۔ اب اس کی بیٹی یہ سب کچھ جانتی ہے۔ اگر تم اُسے اغوا کرکے یہاں لے آئو تو وہ ہمارے دیوتا کو ٹھیک کرسکتی ہے۔” نپکو نے تفصیل بتائی۔
    جوہن کے پاس اپنے دوست مچھیروں کی زندگی بچانے کا کوئی اور راستہ نہ تھا، اسی لیے وہ مان گیا۔ مشن پر جانے سے پہلے نپکو نے جوہن کو ایک جادوئی ہار دیا۔
    ”لو،یہ رکھ لو، اگرتم یہ ہار کسی طرح عامل کی بیٹی کے گلے میں پہنا دو، تو وہ اسی وقت تمہاری قید میںآجائے گی۔” نپکو نے اسے ہار دیتے ہوئے کہا۔
    جوہن ہار لیے سفر پر روانہ ہوگیا۔ چلتے چلتے وہ اس بستی میں پہنچ گیا جہاں عامل کی بیٹی رہتی تھی۔ اس نے لوگوں سے اُس عامل کے گھر کا پتا پوچھا اور کچھ ہی دیر بعد اپنی منزل پر پہنچ گیا۔ دروازے پر دستک دی تو ایک لڑکی نے دروازہ کھولا۔ سامنے ایک مسافر کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ جوہن سے کچھ پوچھتی ،وہ خود ہی بول پڑا:
    ”اے نیک دل لڑکی !میں مسافر ہوں اورسفر کرکے کافی تھک گیا ہوں۔مجھے پینے کے لیے پانی چاہیے۔” جوہن کی معصوم شکل پر لڑکی کو رحم آیا۔ اس نے جوہن کو دروازے پر ہی رکنے کاکہا اور تھوڑی دیر بعد اس کے لیے پانی لے آئی۔
    ”نام کیا ہے تمہارا ؟” لڑکی نے اس سے پوچھا۔
    ”جوہن… جوہن نام ہے میرا، یہ ساتھ والے شہر سے آیا ہوں۔”
    ”کیا کرنے آئے یہاں؟” لڑکی نے سپاٹ لہجے میںپوچھا۔
    ”تت… تاجر ہوں۔” جوہن نے فوراََ بات بنائی۔

  • زندگی کا سانس |سو لفظی کہانی

    زندگی کا سانس |سو لفظی کہانی

    زندگی کا سانس
    تنزیلہ احمد

    کافی دیر سے اپنی جگہ ساکت وہ آنکھوں میں افسردگی سموئے ہوئے تھی۔
    فراک کے کونے مسلتی وہ اپنے باپ کو شکست خوردہ حالت میں کیاری کے پاس بیٹھے دیکھ رہی تھی۔ ان کی زندگیوں کا آج ناخوش گوار ترین دن تھا۔
    دوپہر کو اس کا نومولود بھائی ہمیشہ کے لیے ان کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ اس کا معصوم سا دل سناٹوں کے زیر اثر تھا۔
    ننھا دماغ یہ سمجھانے میں ناکام رہا کہ کیسے وہ اپنے باپ کی دلجوئی کرے۔
    اچانک باپ کی نظر اس کی جانب اُٹھی۔ افسردہ آنکھوں میں چمک کوندی۔
    یہاں زندگی اب بھی سانس لے رہی تھی۔
    ٭…٭…٭

  • زندگی | سو لفظی کہانی

    زندگی | سو لفظی کہانی

    زندگی
    عشوارانا

    ”سلام صاحب…” صاحب نے سرسری سا سر ہلایا۔
    ”وہ… صاحب… تنخواہ…” مالی بابا بات کرنے کو آگے بڑھے۔
    صاحب نے ہاتھ ہلایا کہ دے دیں گے۔
    مالی بابا کہہ نہ سکے کہ شدید ضرورت ہے، پہلے ہی ہفتہ بھر دیر ہو گئی ہے۔
    ”ہاں سنو! پودوں کو وقت پہ پانی دے دینا،
    ان کی حفاظت اور دیکھ بھال نہ ہو تو زندہ نہیں رہتے۔”
    صاحب دروازہ کھول کرگاڑی میں بیٹھتے ہوئے بولے۔
    ”غریب کو بھی خوراک کا پیسہ نہ ملے یا بھوکا سوئے تو وہ بھی زندہ نہیں رہتا۔”
    مالی بابا نے باہر نکلتی گاڑی کو دیکھتے ہوئے حسرت سے سوچا۔
    ٭…٭…٭

  • تضاد | سو لفظی کہانی

    تضاد | سو لفظی کہانی

    سو لفظی کہانی

    تضاد
    مدثرہ عندلیب
    باہر صحن میں کھیلتے اور شور مچاتے بچے کھانے پینے کی چیزوں کے ریپر بھی خوب بکھیر رہے تھے…
    دس سالہ نعمان چیختی آواز کے ساتھ… باہر صحن میں کھیلتے بچوں کو ڈانٹ رہا تھا۔
    برا بھلا کہہ رہا تھا… اتنا گند کیوں مچا رکھا ہے… اتنا شور کیوں کررہے ہو؟
    نعمان کی اونچی آواز سن کر… اس کے ابو کمرے سے باہرنکلے…
    نعمان کے بازو کوزور سے مروڑا… اور بری طرح اسے جھنجھوڑتے ہوئے چیخے:
    ”کیا شور مچا رکھا ہے نعمان تم نے… کیابچوں کو اس طرح ڈانٹتے ہیں؟”

    ٭…٭…٭

     

     

  • مدیر سے پوچھیں | سائرہ غلام نبی

    مدیر سے پوچھیں
    سائرہ غلام نبی

    سائرہ غلام نبی کا نام ڈائجسٹ اور ڈرامہ انڈسٹری میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ڈائجسٹ پڑھنے والے قارئین ان کے نام سے بہ خوبی واقف ہیں۔ سائرہ نے خواتین اور شعاع ڈائجسٹ سے اپنے ادارتی سفر کا آغاز کیا تھا، اور آج کل وہ MD Productions (ہم ٹی وی نیٹ ورک) میں بہ حیثیتہیڈ آف کانٹنٹ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں، اس ماہ ہمارے لیے ”مدیر سے پوچھیں“ کے سیکشن کے لیے سائرہ سے بہتر انتخاب کوئی نہ تھا۔

    ٭ آپ اس فیلڈ میں کتنے عرصے سے ہیں؟ اور اس فیلڈ میں آپ کی آمد کس طرح ہوئی؟
    سائرہ: اب تو بہت پرانی بات ہوگئی، بیس سال میں نے خواتین ڈائجسٹ میں کام کیا اور پانچ سال مجھے ایم ڈی پروڈکشن میں ہوگئے ہیں، سٹوڈنٹ لائف سے ہی میں نے کام شروع کردیا تھا،لکھنے کا سفر میرا بہت پہلے سے ہی جاری تھا، ساتویں،آٹھویں کلاس سے جب پڑھنا آیا تھوڑی سمجھ اور شعور بیدار ہونا شروع ہوا تو کتابوں سے رغبت پیدا ہوئی، اور بے تحاشہ ہوئی، کہانیوں کی دنیا بہت اچھی لگتی تھی۔ویسے بھی بچے تھے تو اتنی زیادہ سہولتیں نہیں تھیں، یہ سارا کچھ اس طرح سے نہیں تھا، بہت مختلف منظر نامہ تھا، ہماری ایک دنیا تھی چھوٹی سی بہت ہی چھوٹی سی،جس میں ایک PTV تھا اور دوسری کتابیں تھیں اور کتابیں بھی اتنی فراوانی سے نہیں ملا کرتی تھیں، کتابوں کا حصول بھی ہمارے لیے بہت مشکل تھا۔ زیادہ تر لوگوں کے گھروں میں اخبار، ماہانہ ڈائجسٹ اور ہفت روزہ میگزین آیا کرتے تھے، اور ان میں سے کچھ سیاسی جرائد تھے، ہماری دوستیں،پڑوس، احباب، کزنز اور انکل سب ان رسائل اور جرائد میں دلچسپی لیا کرتے تھے،پڑھے لکھے لوگ ان جرائد میں لکھا بھی کرتے تھے، اس وقت کہانی لکھنا ایک بہت بڑی fantasy ہوا کرتی تھی۔ باہر کی دنیا سے رابطے پیدا کرنے کے کوئی ذرائع نہیں تھے، ہم اس حرفوں اور کتابوں کے ذریعہ ہی اپنا رابطہ بحال کرتے تھے۔میں ماسٹرز کررہی تھی، پیپرز چل رہے تھے اور ان دنوں ریڈیو پاکستان میں پروگرام بھی کیا کرتی تھی، آنا جانا لگا رہتا تھاتو کسی نے بتایا کہ ڈان میں اشتہار آیا ہے خواتین ڈائجسٹ والوں کی طرف سے سب ایڈیٹر کی پوسٹ کے لیے، میں سن کر گھبرا گئی، میں نے دل میں سوچا کہ وہ بہت ہی قابل اور اہل لوگوں کی پوسٹ ہوگی، میں وہاں پر جانے کے لیے بالکل آمادہ نہیں تھی، لیکن میری دوست نے کہا کہ تم وہاں پر جاؤ، میں اس کے کہنے پر چلی گئی۔ وہاں پر محمود ریاض صاحب نے میرا انٹرویو کیا۔ اور میں آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں،اس سے پہلے میں نے خواتین ڈائجسٹ کا کوئی شمارہ کبھی پڑھا ہی نہیں تھا(قہقہہ)۔ بس دیکھا تھا لیکن خواتین ڈائجسٹ کی کہانیوں کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتی تھی، مجھے لگتا تھا کہ یہ بہت زیادہ خوابوں کی دنیا میں رہنے والی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا اس طرح کی fantasy world اور رومانس کی دنیا سے تعلق نہیں تھا، مجھے ادبی کتابوں اور ناولز پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا، ادبی افسانے پڑھا کرتی تھی اور ا ن ہی کو ادب سمجھا کرتی تھی۔مجھ سے محمود ریاض صاحب نے پوچھا آپ نے کسی افسانہ نگار کو پڑھا ہے تو میں نے اپنے پسندیدہ افسا نہ نگار غلام عباس اور بیدی وغیرہ کا نام لیا۔ پھر انہوں نے دوبارہ پوچھا آپ نے کبھی ہمارا ڈائجسٹ پڑھا ہے، میں نے ان سے کہا ہاں دیکھا ہے، انٹرویو دے کر میں گھر چلی گئی تھی، اور مجھے اندازہ تھا کہ مجھے نہیں رکھا جائے گا، گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد مجھے خواتین ڈائجسٹ سے فون آیا کہ آپ کل سے جوائن کرلیں۔ میرے لیے بہت ہی سرپرائزنگ تھا۔ اس کے اگلے دن میں یونیورسٹی گئی کیوں کہ اس وقت تک میری پہلی اور آخری محبت تو یونیورسٹی ہی تھی(مسکراتے ہوئے)۔وہاں پر دوستیں تھیں، ایک ادبی سرکل تھا، ہم اخبار نکالا کرتے تھے، اس وقت مجھے وہ دنیا چھوڑنا بہت مشکل لگ رہا تھا لیکن ساتھ ہی مجھے پریکٹیکل لائف میں آنے کا موقع مل رہا تھا۔میرے ذہن میں ہمیشہ سے جاب کرنے کا ارادہ تھا، کیوں کہ مجھے کتابیں اور تحقیق سے بہت دلچسپی تھی تو میرا ارادہ تھا کہ میں ایم فل کروں گی لیکن پھر میں ایم فل کر ہی نہیں سکی۔ اگلے دن سے میں نے خواتین ڈائجسٹ جوائن کرلیا اور وہاں پر میری فل ٹائم جاب تھی۔ اس کے بعد میں سوچتی رہ گئی، اس وقت میرے ٹیچرز اور دوستوں کا یہی خیال تھا کہ مجھے اپنی تعلیم کو آگے جاری رکھنا چاہیے۔

    ٭ آپ کے پاس ایک مہینے میں اوسطاً کتنے مسودے آجاتے ہیں؟ اور آپ لوگوں کا selection process کیا ہے؟
    سائرہ: ہمارے پاس اس طرح کا کوئی حساب تو نہیں جس سے ہم یہ بات نکال سکیں کہ ہمارے پاس ایک ماہ میں اوسطاً کتنی تحریریں آتی ہیں، لیکن ہمارے پاس روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ آتا رہتا ہے، روز ہی لوگ اپنے ideas لے کر خود بھی آرہے ہوتے ہیں، اور فون پر بھی رابطے میں رہتے ہیں۔ مطلب صبح آنکھ کھلنے سے رات آنکھ بند ہونے تک ہم بس کہانیاں ہی سنتے رہتے ہیں (قہقہہ)اور ایک ایک شخص تین تین، چار چار کہانیاں سنا رہا ہوتا ہے۔ اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں سکرپٹ لکھنا بہت آسان کام ہے، یہاں پر چوکیدار، مالی اور کچن میں کام کرنے والا، سب کا یہی خیال ہے کہ وہ ڈرامہ لکھ سکتا ہے اور سب اپنی اپنی کہانیاں لے کر ہمارے پاس آجاتے ہیں (قہقہہ)۔ کوئی فریش آئیڈیا لے کر آتا ہے تو ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ صرف آئیڈیئے پر کہانی نہیں چلتی، جب تک اس آئیڈیا کو صفحات پر منتقل نہ کیا جائے، وہ آئیڈیا کسی کام کا نہیں ہوتا، لیکن ہم رائٹرز کے ساتھ ہوتے ہیں، ان کو لے کر چلتے ہیں۔
    ٭ وہ کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنا مسودہ آپ کے پاس بھیجتے وقت رکھنا چاہیے؟
    سائرہ: سب سے پہلے تو جو ڈرامہ لکھنا چاہتا ہے، وہ اگر آج فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے رائٹر بننا ہے، تو وہ فیصلے کا وقت غلط ہوتا ہے۔ جو رائٹر ہوتا ہے اس کو یہ فیصلہ بیس سال پہلے کرنا چاہیے کیوں کہ یہ صرف لکھنے کا عمل نہیں ہے، لکھنا ایک مسلسل پریکٹس کا نام ہے، اور جب تک آپ کو اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کو صفحہئ قرطاس پر منتقل کرنے کا ہنر نہیں آئے گا تو بات نہیں بنے گی۔ آپ کو بہت زیادہ پڑھنے کی عادت ہونی چاہیے،الفاظ آپ کے لیے مانوس ہو، الفاظ کو برتنے کا سلیقہ آنا چاہیے، اور ہر طرح کی صورت حال میں آپ کے اند ر judgement کا ایک element ہونا چاہیے۔ آپ لوگوں کو، چیزوں کو اور ان کے معاملات کو judge کرسکیں۔آپ کا مشاہدہ ایک عام آدمی سے بے پناہ زیادہ ہونا چاہیے، اور پھر اس کے ساتھ خدا نے اگر آپ کے اندر کہانی بننے کی صلاحیت رکھی ہے توصرف اس صلاحیت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، اس ہیرے کو تراشنا ہوگا۔گائیک اگر صرف اچھی آواز لے کر پیدا ہوجائے تو وہ گائیک نہیں بن سکتا، جب تک وہ روزانہ کی بنیاد پر ریاض نہ کرے، لکھنے کا عمل بھی ایسا ہے کہ اس میں جتنی بھی محنت کی جائے، آپ کی تحریر میں نکھار آئے گا اور تاثر پیدا ہو گا۔
    ٭ آپ کے خیال میں جو لوگ اچانک اُٹھ کر کہتے ہیں کہ میں اچھا لکھ سکتا ہوں / لکھ سکتی ہوں آپ کے نزدیک یہ خام خیالی نہیں ہے؟ کیوں کہ میرے نزدیک پڑھنا ایک الگ چیز ہوتی ہے اور لکھنا الگ چیز ہوتی ہے۔اگر کسی بندے کے اندر یہ capability نہیں ہے پھر بھی وہ چاہے تو کیا اس کے اندر یہ چیز پیدا ہوسکتی ہے؟
    سائرہ: یہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ لکھنے کی صلاحیت خدا کی طرف سے ہوتی ہے لیکن اس صلاحیت کو نکھارنا بہت ضروری ہے، صرف محض پڑھ کر یا یہ سوچ کر کہ میں نے اردو ادب میں ماسٹرز کیا ہوا ہے، لکھنا شروع کردیں تو کوئی ڈگری آپ کو رائٹر نہیں بنا سکتی۔
    ٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتی ہیں؟
    سائرہ: کوشش تو کرتے ہیں لیکن چوں کہ یہ عوامی میڈیم ہے تو ہم مختلف بات کو بھی سہل انداز میں سے کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم چینل نے کئی issue basedڈرامے کیے ہیں،آج کل آپ اُڈاری دیکھ رہے ہیں لیکن اس میں ہم نے دلچسپی کا عنصر ایسا رکھا ہے کہ لوگ کڑوی حقیقتوں کو دیکھنے پر آمادہ ہو۔ بس بات کا ڈھنگ آنا چاہیے۔

    ٭ نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے آپ کے خیال میں بہتر طریقے سے کون سے رائٹرز کام کررہے ہیں؟ سینئر رائٹرز یا جونیئر رائٹرز؟
    سائرہ: سب سے پہلے تو میں ایک بات کہوں کہ آئیڈیا کوئی نیا نہیں ہوتا، کہانی کوئی نئی نہیں ہوتی، کہانی ان ہی کرداروں کے درمیان گھوم رہی ہے جو روزِ ازل سے ہے، ایک مرکزی کردار ایک عورت ایک مرد۔ ان کے درمیان ایک تیسرا کردار جو اُن کی دنیا کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے جیسے آدم اور حوا کی جس مین ان کے پیچھے شیطان، پھر ہابیل اور قابیل کی کہانی، ایک قتل کی کہانی۔ لیکن اس کہانی کو میں کس طرح بیان کروں گی، آپ کس طرح بیان کریں گے، یہ اسلوب ہوتا ہے جو کہانی کو مختلف بناتا ہے اور جس کی زندگی پر جتنی نظر ہوتی ہے، وہ اس طرح سے زندگی کی layers سے کچھ نہ کچھ نکالتا ہے۔آپ ایک طرف سے دیکھ رہے ہیں، میں ایک طرف سے دیکھ رہی ہوں۔ زندگی تو ایک ہی ہے، سیب کی طرح، ایک قاش آپ نکال رہے ہو، ایک میں نکال رہی ہوں۔ ہوسکتا ہے جو قاش آپ نکالیں وہ سڑا ہوا ہو، ہوسکتا ہے جو میں نکال رہی ہوں، وہ بہتر ہو۔ زاویہئ نظر مختلف ہوسکتا ہے، اسلوب مختلف ہوسکتا ہے۔ جو لوگ کامیاب ہیں، وہ قسمت کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہیں، اپنی محنت اور قابلیت کی بنیاد پر کامیاب ہیں۔جن کو پڑھنے والے قارئین ملے ہوئے ہیں تو وہ بھی قسمت کی وجہ سے نہیں ملے، ایک دفعہ قسمت یاوری کرے گی لیکن بار بار نہیں کرے گی۔ ان کو خدا نے صلاحیت دی، انہوں نے اپنی صلاحیت کو پالش کیا، اس کو نکھارا، اور وہ مسلسل اپنے آپ کو آگے لے کر آرہے ہیں اور اپنی کہانیاں لکھ رہے ہیں چاہے وہ ڈائجسٹ میں ہو یا ڈرامہ انڈسٹری میں، اور کام ان ہی کا اوپر آرہا ہے، جو محنت کرتے ہیں۔

  • یاد کا بوڑھا شجر

    یاد کا بوڑھا شجر
    قرۃ العین خرم ہاشمی

     

    ”ابا میاں کہاں ہیں؟“صبا نے آہستگی سے پوچھا تھاکیوں کہ بڑی بھابھی غضب ناک تیوروں سے اسے گھور رہی تھی۔
    ”آگیا تمہیں بڑے میاں کا خیال؟ پتا بھی ہے کہ بڑے میاں پچھلے کئی دنوں سے شدید بیمار ہیں۔ڈاکٹر نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے مگر وہ ہیں کہ کچھ سنتے ہی نہیں!۔تھوڑی طبیعت بہتر ہوتی ہے چھڑی کے سہارے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے،پرانے سٹور روم میں پہنچ جاتے ہیں۔اللہ بخشے تمہاری مرحومہ اماں جان نے ضرور وہاں کوئی خزانہ یا راز چھپایا ہو گا۔ جس کی خبر صرف ان کو ہی ہے تب ہی وہ گھنٹوں وہاں کچھ نہ کچھ تلاش کرتے رہتے ہیں اور سمجھ دار اتنے ہیں کہ کچھ پوچھو تو خاموشی کی چادر اوڑھے ٹکر ٹکر چہرہ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔“
    صبا نے گہری سانس لے کر اس کے چہرے سے نظر ہٹائی تھی۔لوگوں کو اکثر احساس نہیں ہوتا ہے کہ غصہ اور نفرت اچھے بھلے چہرے کے نقوش بگاڑ کر انہیں خوف ناک بنا دیتے ہیں۔
    ”میں ابا میاں کو دیکھتی ہوں!“صبا وہاں سے خاموشی سے اُٹھ کر اس بڑے سے گھر کے کونے میں بنے پرانے سٹور روم میں چلی آئی جہاں اماں کے زمانے کا پرانا سامان اور فرنیچر پڑا اپنی مدت پوری کر رہا تھا۔پیلے بلب کی روشنی میں صبا نے،سفید کپڑوں میں ملبوس،اپنے کمزور اور نحیف ہاتھوں سے اِدھر اُدھر پڑی چیزیں ہٹاتے کچھ ڈھونڈتے،ابا میاں کو اداسی سے دیکھا تھا۔صبا نہ جانے پچھلے کتنے برسوں سے اپنے باپ کو کسی ان دیکھی چیز کی تلاش میں برف کی سل کی طرح قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھ رہی تھی۔تلاش کا سفر ظاہری مسافت رکھتا ہو یا باطن کی تہ در تہ پرتیں کھولتا ہو۔اس میں وجود اورجسم ایسے ہی گھلتے ہیں جیسے تیز دھوپ میں پگھلتی برف!تلاش اپنا خراج فنا کی صورت میں لیتی ہے۔اب یہ فنا کس پیمانے پر اور کتنی تیزی سے ہوتی ہے یہ اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے!اپنی اپنی چاہ پر منحصر ہوتا ہے۔جس کی جتنی چاہت ہو گی اس کا حاصل بھی اتنا ہی ہوگا۔

    ”ابامیاں!کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟“صبا نے نرمی سے باپ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ابامیاں نے چونک کر خالی خالی نگاہوں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔اس وقت اُن کے چہرے پر اتنی بے بسی تھی کہ صبا کا دل تڑپ کر رہ گیا۔
    ”ابامیاں!کیوں اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اذیت دے رہے ہیں؟سب کہتے ہیں کہ آخری عمر میں پروفیسر صاحب کسی ذہنی مرض کا شکار ہو گئے ہیں مگر ابامیاں!دنیا چاہے کچھ بھی کہے مگر ایک بیٹی کا دل جانتا ہے کہ اس کا باپ پاگل نہیں ہے! جو شخص آج بھی ماضی اورحال کی سب سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔آج بھی اپنے طالب علموں میں علم کے خزانے بانٹتا ہو،ایسا شخص بھلا ذہنی طور پر ناکارہ کیسے ہوسکتا ہے؟میں نہیں جانتی کہ آپ کی تلاش کیا ہے، آخر آپ کی زبان تک یہ سچ کیوں نہیں آتا؟ مگر ابامیاں میں آپ کو اتنا بے بس اور لاچار بھی نہیں دیکھ سکتی!زندگی میں وہ مقام بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جب ہم اپنے پیاروں کو بے بسی کی دلدل میں لمحہ بہ لمحہ اترتے دیکھتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کر پاتے ہیں۔“صبا نے روتے ہوئے باپ کے جھریوں بھرے کمزور ہاتھوں کو تھاما تھا۔ابامیاں نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور اس کا سر تھپکتے ہوئے کمزور لہجے میں بولے:
    ”میں نے تمہاری اماں کو لیدر کا ایک چھوٹا بیگ دیا تھا جس میں۔۔۔!“اسی وقت آہٹ ہوئی تو دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا،جہاں متجسس نظروں سے دیکھتی،بڑی بھابھی کھڑی تھی۔ان دونوں کے دیکھنے پر گڑبڑا کر غصے سے بولیں:
    ”اچھا تو بڑے میاں نے گاؤں والی زمین کے کاغذ کسی لیدر کے بیگ میں چھپائے ہیں۔ مجھے پہلے ہی شک تھا کہ زمین کے کاغذ گم ہونے والی بات سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔دیکھو! ذرا خدمت ہم لوگ کریں اور سارا اثاثہ بیٹی لے جائے۔واہ جی کیسا انصاف کیا بڑے میاں نے۔“
    بڑی بھابھی تیز تیز بولتی وہاں سے چلی گئی مگر صبا جانتی تھی کہ یہ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوگی۔ایسا ہی ہوا شام تک عدالت لگ چکی تھی اور فردِ جرم اس پر عائد کرتے ہوئے اسے سب کچھ سچ سچ بتانے کو کہا گیا تو وہ افسردگی سے مسکرا کر اپنے بڑے بھائی سے بولی:
    ”بھائی!ابامیاں نے بہت پہلے ہی اپنے سب اثاثے،اپنا سب کچھ ہم تینوں بہن بھائیوں میں تقسیم کر دیا ہے۔احمد بھائی اپنا حصہ لے کر دبئی جا چکے ہیں، رہ گئے آپ اور میں تو ہمارے پاس بھی اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔جہاں تک گاؤں والی زمین کی ملکیت کی بات ہے تو ابامیاں بہت سال پہلے ہی اس زمین کو گاؤں کے بچوں کے سکول کے لئے وقف کر چکے ہیں۔پھر ایسی بات کرنے یا سوچنے کا کیا فائدہ؟“
    ”ہاں میں جانتا ہوں مگر وہ تمہاری بھابھی کہہ رہی تھی کہ۔۔“بڑے بھائی نے شرمندہ لہجے میں کچھ کہنا چاہا تھا۔
    ”بھائی ہر رشتہ اپنی اپنی جگہ پر سچ اور جھوٹ کے تناسب سے مل کر ہی بنتا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ کس رشتے میں کتنا سچ ہے اور کس رشتے میں کتنا جھوٹ، اس کا فیصلہ ہر خردمند انسان خود کرتا ہے۔“

    اس رات صبا کو ابامیاں کی بگڑتی حالت کے پیشِ نظر وہاں رکنا پڑا۔ابامیاں تین دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے اور پھر ایک صبح خاموشی سے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔موت کی آہٹ سے پھیلا سناٹا، اپنے پنجے بہت اندر تک گاڑ دیتا ہے کہ ایک بار ہی سہی مگر موت کی اذیت سارے جسم میں جمود ضرور طاری کر دیتی ہے۔مگر اس دل چیرتے سناٹے کو زندگی کی ایک چہکار ہی درہم برہم کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے، شاید زندگی کی رونقیں اسی لئے ہیں کہ اپنے پیاروں کی موت کے غم کو کسی حد تک بھلایا جاسکے، موت کی سرد چاپ سے، زندگی کی آہٹ کشید کی جا سکے۔ابامیاں سے محبت کرنے والے، انہیں یاد کرنے والے بہت سے لوگ اور بھی تھے جن کی تربیت اور کامیابی میں ابامیاں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔وہ لوگ بھی اپنے پیارے اور شفیق استاد کی موت کا افسوس کرنے جوق در جوق آ رہے تھے۔
    ”پروفیسر صاحب جیسے نیک لوگ بہت کم ہوتے ہیں، میں ایسے بہت سے غریب اورمستحق طالب علموں کو جانتی ہوں،جن کے تعلیمی اخراجات پروفیسر صاحب نے بہ خوشی پورے کیے تھے۔“وہ خاتون کافی دیر سے وہاں بیٹھی رو رہی تھی۔ابامیاں کو آج اس دنیا سے گئے دس دن گزر چکے تھے۔
    ”ویسے مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی۔۔!سنا ہے کہ پروفیسر صاحب آخری دنوں میں عجیب بہکی بہکی سی باتیں کرتے تھے؟کیا یہ سچ ہے کہ وہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوگئے تھے؟“اس عورت کے پوچھنے پر بڑے بھائی افسوس بھرے انداز میں بولے:

  • سعی

    سعی

    سحر ساجد

    وہ عجیب کیفیت میں تھی….. ناک کے نتھنوں سے، سانس کے نام پر خارج ہونے والی ہوا تپش لیے ہوئے تھی۔ وہ کہاں تھی، آسمان پر یا زمین پر؟ وہ اپنے وجود کو کسی سطح پر محسوس نہیں کرپارہی تھی۔ سر جس قدر بھاری تھا، وجود اسی قدر ہلکا۔ ذہن کسی ایک سوچ پر مرتکز نہیں ہوپارہا تھا۔ اس کے وجود پر ایک نظر ڈالو تو سانس کا اتار چڑھاؤ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لمبے ادھ کھلے بال، کچھ شانوں پر، کچھ سینے پر اُلجھے، پریشان اور بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے۔ خلافِ معمول دوپٹہ گلے میں، کہ ان کے ہاں گھر میں بھی دوپٹہ سر پر لیا جاتا تھا۔ دونوں بازو سیدھے پہلو میں گرے …… ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند کیں۔ لاؤنج کے کنارے پر کھڑی اک اک چیز کو دیکھے جارہی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ کیوں دیکھے جارہی تھی۔
    فیصلہ سخت تھا جو اس نے کرلیا تھا اور اس فیصلے کی یاد آتے ہی اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کچھ اور سختی سے بھینچی تھی۔ ہونٹ لرزے اور آنکھ کے کنارے پر اک قطرہ آکر جم سا گیا تھا۔ دل پر جیسے کسی نے خنجر کا وار کیا تھا۔ لرزتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے حلق سے نیچے کچھ اتارا تھا اور اس کی نظر ان چیزوں پر کسی آوارہ بد روح کی طرح بھٹکتی تھی ”آپی!….“
    اچانک لاؤنج کے کسی گوشے سے آواز ابھری تھی۔ وہ بُری طرح سے ڈری اور سہم کر آواز کی سمت دیکھا تھا لیکن اس کاارادہ دائیں ہاتھ کی مٹھی کو کمر کے پیچھے چھپانے کا تھا۔”آپی۔ دیکھیں میرا بے بلیڈ۔“

    اسے بھائی کی آواز کسی باز گشت کی طرح محسوس ہوئی تھی۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے بھائی کو دیکھا جو لٹو سے کھیل رہا تھا۔ وہ کسی بے جان وجود کی مانند بھائی کی طرف بڑھی تھی۔ وہ نیچے قالین پر بیٹھا میز پر اپنا لٹو گھمارہا تھا اور وہ اس کے پیچھے موجود صوفے پر جاکر بیٹھی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیاں اب اس کے دائیں بائیں سختی سے صوفے پر جمی تھیں اور وہ اپنے بھائی کو دیکھے ہی چلی جا رہی تھی۔ اس کے بھائی نے بٹن دبایا، لٹو میز کی سطح سے ٹکرایا۔ وہ چونک کر آواز کی سمت متوجہ ہوئی۔ لٹو اب گھوم رہا تھا گول، گول اور تیزی سے…. اس کے بھائی نے مڑ کر اس کا گھٹنا ہلاکر اس سے کچھ کہا تھا۔ کیا؟ وہ محض آواز کااِک احساس ہی محسوس کرپائی تھی۔ لٹو گھوم رہا تھا گول گول اور پھر گھومتے گھومتے وہ یک دم بڑا ہوتا گیا۔ ہوتا گیا، ہوتا ہی چلاگیا۔ لٹو اتنا بڑا ہوگیا کہ وہاں موجود ہر چیز پر حاوی ہوچکا تھا۔ وہ ڈر کے مارے صوفے کی پشت سے ٹکرانے کے سے انداز میں جالگی تھی۔ لٹو ا س کے عین سامنے گھومے چلاجارہا تھا۔ وہ نظریں لٹو کیگھومتی دھاریو ں سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن سر کو حرکت نہیں دے پارہی تھی۔ نظر گھوم رہی تھی، سر چکرارہا تھا اور اب اسے متلی محسوس ہورہی تھی، اتنی کہ پیٹ میں شدید بل پڑا۔ وہ بے اختیار آگے کو جھکی۔ اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔ وہ سانس لینے کو سیدھی ہوئی اور پیروں تلے سے جیسے زمینیک دم نکلی ہو۔ لٹو عین اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا میں معلق گھومے جارہا تھا۔ گھبراہٹ کا احساس شدید تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے، کف بہتے منہ کے ساتھ، بری طرح سے خوف زدہ ہوکر اس لٹو کو دیکھتی جارہی تھی۔
    ’آپی۔ آپی!“ اس کا بھائی شانہ ہلارہا تھا لیکن وہ متوجہ نہ تھی۔ وہ متوجہ ہو بھی کیسے سکتی تھی۔
    تنفس کی بگڑی رفتار کے ساتھ وہ خوفزدہ سی لٹو کو دیکھے جارہی تھی۔
    ”مور، مور“ اس کا بھائی ماں کو بلانے بھاگا تھا اور ماں کے آنے تک وہ بے حد گھبراچکی تھی۔ اتنی خوف زدہ ہوچکی تھی کہ اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی اور اس میں موجود زہریلی گولیاں پھانک لیں۔ اچانک وہاں سناٹا چھاگیا تھا، اتنا کہ جیسے کائنات کی ہر متحرک چیز حالت قرار میں آچکی ہو…. وہاں اب کوئی لٹو نہ تھا۔ وہ بے یقینی سے کھڑی ہوئی لڑکھڑائی اور پھر اوندھے منہ گرگئی اور گرتے ہی تکلیف کی اک لہر، دھماکے کی صورت اس کے وجود سے آن ٹکرائی تھی۔ شدید دباؤ، اندھیرا،گھٹن، پیاس، حلق سوکھ رہا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی لیکن کمال کی بات یہ کہ وہ خود ہی اپنے تڑپتے وجود کو ذرا فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ محسوس کرسکتی تھی کہ اسے کتنی تکلیف ہورہی تھی۔ وہاں زمین پر اس کا تڑپتا جسم تھا اور وہ دور بس، بہتی آنکھوں کے ساتھ کھڑی خود کو بے بسی سے تڑپتا دیکھ رہی تھی اور میز پر لٹو آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ساکت ہوگیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    یہ انگور کے باغوں کی سرزمین تھی۔ اس کے خاندان والے پتھریلے پہاڑوں کے درمیان بستے اور اک سخت زندگی گزارتے تھے۔ یہ قلعہ سیف اللہ تھا اور وہ اس کی ہونہار بیٹی جاناں کاکڑ۔ اونچی نیچی گھاٹیوں پر جب چلتی تو یوں محسوس ہوتا تھا گویا جنگل میں کسی ہرنی نے کلانچ بھری ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ اس کی اماں کہتی تھیں۔ ”جاناں پاگل تو نیند میں بھی اسکول کا سبق دہراتی رہتی ہے۔“

    اور ہاں وہ اتنی ہی پاگل تھی۔ جنونی تھی۔ اسے پڑھنا تھا بہت سارا۔ ڈھیر سارا۔ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ ڈاکٹر۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ قلعہ سیف اللہ، قبائل کی آماج گاہ تھا۔ جہاں روایات کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھی تب سے برقعہ پہن کر اسکول جاتی تھی۔ برقعے کے اوپر کالی چادر کے نقاب سے محض اس کی ایک آنکھ ہی نظر آیا کرتی تھی۔ وہ قلعہ سیف اللہ کی ان چندخوش نصیب لڑکیوں میں سے تھی جو پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ جاناں وہ طالبہ تھی جس نے اپنا ہر امتحان نمایاں درجے میں پاس کیا تھا۔ وہ برف زاروں میں پل کر بڑی ہوئی تھی لیکن خواہش، اک چنگاری کی صورت، طلب بن کر سینے میں بھڑکتی تھی۔ وہ خوش تھی، مگن تھی اور سمجھتی تھی کہ زندگی کا سفر اسی طرح کامیابی و کامرانی سے طے ہوتا چلا جائے گا۔ وہ امتحان پر امتحان پاس کرتی چلی جائے گی اور پھر…… پھر وہ دن ضرور آئے گا کہ جب وہ اسکالرز گاؤن پہنے اپنی Ph.D کی ڈگری وصول کرے گی۔ خوشی سے چیختے ہوئے اسکالرز کیپ کو ہوا میں اچھالے گی اور کوئی نامعلوم فوٹوگرافر اس کی آنکھ کی خوشی، اس کی ہنسی، اس کے چہرے کا جوش، طمانیت سب اک لمحے میں قید کرکے اسے زندہ جاوید بناڈالے گا۔ ہاں …… وہ ایسا ہی سوچتی تھی…… ایسا ہی سمجھتی تھی۔
    جب اس نے میٹرک میں پوزیشن حاصل کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ اتنی خوش تھی اتنی کہ لگتا تھا کہ بس اب خوشی سے مر ہی جائے گی۔ وہ۔ وہ جاناں کاکڑ۔ اک پسماندہ علاقے کی گورنمنٹ اسکول کی طالبہ، اُسی جاناں کاکڑ نے میٹرک میں ٹاپ کیا تھا۔ ٹاپ۔ یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ پہلی بڑی کامیابی اور اتنی بڑی خوشی جو اُسے مار بھی ڈالتی تو غم نہ تھا۔ لیکن اسے تو جینا تھا۔ بہت سارا ایک لمبی زندگی گزارنی تھی کیوں کہ اسے تو پڑھنا تھا۔ ڈھیر سارا۔ اتنا زیادہ کہ اس کے نام کے ساتھ لکھا جاتا… ڈاکٹر جاناں کاکڑ……
    ٭٭٭٭

  • خوبصورت آنکھیں

    خوبصورت آنکھیں

    منیر احمد فردوس

     

    ”سر جی…!“ اچانک میرے کانوں سے مانوس سی آواز ٹکرائی۔
    میں جو کافی دیر سے اپنے سامنے رکھی فائل میں سر دیئے کمپیوٹر پر ماہانہ اعداد و شمار بنانے میں بُری طرح سے اُلجھا ہواتھا، چونک اُٹھا۔ سراُٹھا کے دیکھا تو سامنے دفتر کانوجوان چپڑاسی شاکر تھا،جس کے ساتھ نقاب اوڑھے ایک خاتون کھڑی تھی اور اس کی نگاہوں نے میرے چہرے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ یک دم میرے ذہن سے تمام اعداد و شمار جھڑ سے گئے۔میں نے کی بورڈ پر جلدی جلدی انگلیاں چلائیں اور بجلی جانے کے ڈر سے اب تک کا کیا ہوا کام محفوظ کیا۔پھر اس خاتون پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالتے ہوئے سوالیہ نظروں سے میں شاکر کی طرف دیکھنے لگا۔اس نے بھی شاید حیرت سے پھیلتی میری آنکھوں میں تیرتا سوال پڑھ لیا تھا۔
    ”سر جی!ہیڈ کلرک صاحب نے میڈم کو آپ کے پاس بھیجا ہے اور کہا ہے کہ ان کو کوئی سٹیٹمنٹ چاہئے۔“
    شاکر نے میڈم کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا…ٹھیک ہے،میں دیکھتا ہوں۔“ میں نے آنکھوں سے حیرت جھاڑتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔ میری بات سن کرشاکرچلا گیا۔
    میں نے طائرانہ نظروں سے خاتون کا لمحے بھر کے لئے جائزہ لیا، جس نے سفید چادراوڑھ رکھی تھی اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ڈھیلے ڈھالے نقاب کو اپنے گالوں سے چپکا رکھا تھا۔کالے رنگ کا ایک بڑا سا پرس بھی ا س کے دائیں کاندھے پر لٹک رہا تھا۔
    ”میڈم! آپ بیٹھئے نا… کھڑی کیوں ہیں؟“
    میں نے اپنے دائیں جانب کونے میں رکھی ایک اکلوتی کرسی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے پُرتکلف انداز میں کہا-
    ”جی بہت شکریہ۔“ اس نے ملائمت سے کہا اور کسی تابع دار شاگرد کی طرح کرسی پربیٹھ گئی۔

    وہ درمیانے قد کی ایک نفیس خاتون تھی،جسے جوانی خیر باد کہنے کے لیے پر تول رہی تھی۔اس کا سڈول اور بھرا بھرا جسم چادر سے باہر بھی اپنے خطوط واضح کر رہا تھا۔ ہلکے پیلے سوٹ میں وہ بہت نکھری ہوئی لگ رہی تھی۔اس کے گھٹنوں سے لٹکتی قمیص کے گھیرے پر کسی ماہر کشیدہ کار کا فن بول رہا تھا۔اس کے بیٹھتے ہی میرے نتھنوں میں بھینی بھینی خوشبو کے قافلے سے اترنے لگے۔ اس نے بہت ہی عمدہ خوشبو لگا رکھی تھی۔ میں دل ہی دل میں اس کے اعلیٰ ذوق اور خوش لباسی کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔
    ”جی میڈم…! فرمائیے کون سی سٹیٹمنٹ چاہئے آپ کو؟“
    میں نے اپنے سامنے رکھی فائل میں فلیگ لگا کر اسے بند کیا اور ویل چیئر پر گھوم کر اس کی طرف دل جمعی سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”جی اصل میں‘ میں ایک این جی او سے منسلک ہوں اور مجھے ایک ہفتہ وار سٹیٹمنٹ اپنے دفتر میں جمع کروانی ہے اور یہ سٹیٹمنٹ اس پر فارمے پر بنا کر دینی ہے۔“ اس نے ایک تہ کیا ہوا پرفارما اپنی گود میں رکھے پرس سے نکال کر مجھے تھماتے ہوئے کہا۔
    اچانک دائیں طرف سے اس کا نقاب ڈھلک کر اس کے سرخ گالوں کی مکمل کہانی سنا گیا، جسے اس نے فوراً ہی دُرست کیا اور اس پر دوبارہ انگلیاں جما کرجھینپتی ہوئی مجھے یوں دیکھنے لگی جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
    میں نے پرفارما لیتے ہوئے نقاب سے باہر جھانکتی اس کی آنکھوں کو نظر بھر کے دیکھا۔ سرمے سے دھلی ہوئی اس کی روشن آنکھیں میری آنکھوں میں جیسے ٹھہر سی گئیں۔مجھے ان میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی اور اس کی آنکھیں مجھے خوب صورت لگنے لگیں۔ اس کے دیئے ہوئے پرفارمے پر نظریں گاڑے میں اس پر لگے کالمز کو غور سے دیکھنے لگا مگر پتا نہیں کہاں سے میرے دل میں اس کی آنکھوں کو پھر سے دیکھنے کی خواہش مچل اٹھی، جو پل بھر میں شدت اختیار کر گئی۔میں انہیں دوبارہ دیکھنے کے لئے دل ہی دل میں بات کرنے کا کوئی بہانہ تراشنے لگا۔ شاید میں اپنی آنکھوں کی تصدیق چاہتا تھا کہ واقعی وہ آنکھیں خوب صورت ہیں یا مجھے دھوکا ہوا ہے۔
    ”میڈم! آپ یہ بتائیں کہ یہ ڈیٹا آپ کو کب تک چاہئے؟“
    میں نے پرفارما میز پر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا اور اس کی آنکھوں کوبڑے اہتمام سے دیکھنے لگا۔
    بہ ظاہر وہ آنکھیں زیادہ خوب صورت نہیں کہی جا سکتی تھیں مگرانہیں عام سی آنکھیں کہنا بھی ناانصافی تھی۔ان میں کوئی بات ایسی ضرور تھی کہ کھلم کھلا باتیں کرتی اس کی چمک دار آنکھیں مجھے بار بار اپنی طرف بلا رہی تھیں۔ کوئی کچھ بھی کہتا مگر میری نظر میں وہ آنکھیں خوب صورت قرار پا چکی تھیں۔ عجیب اتفاق تھا کہ کچھ دن پہلے پڑھا ہوا سعادت حسن منٹو کا افسانہ”آنکھیں“میرے دماغ میں گھوم گیا۔ جس میں منٹو نے ایک معمولی لڑکی کی عام سی آنکھوں کا ذکرکچھ ایسے خاص اندازمیں کیا تھا کہ مجھے بھی اس لڑکی کی آنکھیں خوبصورت لگنے لگی تھیں۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ وہ آنکھیں تھیں جو منٹو کے افسانے سے نکل کر میرے روبرو تھیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اِن آنکھوں میں روشنیوں کے میلے تھے اور منٹو کے افسانے کی لڑکی نابینا تھی۔

    اس سے پہلے کہ میڈم میری بات کا جواب دیتیں، اچانک میرا اکاؤنٹنٹ ارشد دندناتا ہوا میرے کمرے میں گھس آیا، جس کے ساتھ میری کافی بے تکلفی تھی۔ اس نے آتے ہی بھر پور انداز میں میڈم کاجائزہ لیا جو میری بات کا جواب دیتے دیتے رُک گئی تھی اورمتجسس نظروں سے ارشد کو دیکھنے لگی۔مگر مجھے یہ سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی کہ وہ کمرے میں کیوں آیا ہے۔وہ داخل ہوتے ہی مجھ سے گویا ہوا:
    ”سوری شاہد صاحب! آپ کو ڈسٹرب کیا۔ میں صرف یہ بتانے کے لئے حاضرہوا تھا کہ آپ نے کرسیوں کے لئے جو ڈیمانڈ بھیجی تھی۔ آپ کے حکم کی تعمیل میں نئی کرسیاں آ گئی ہیں۔ اگر کہیں تو آپ کے کمرے میں بھجوا دوں…؟“
    ارشد نے مجھے دیکھتے ہوئے بڑے ہی سنجیدہ انداز میں کہا۔مگر اس کی سنجیدگی کے پیچھے چھپی شرارت کو میں اس کی آنکھوں میں چمکتا ہوا واضح طور پر محسوس کر رہا تھا۔ کیوں کہ نہ تو میں نے کرسیوں کی کوئی ڈیمانڈ کی تھی اور نہ ہی نئی کرسیاں آئی تھیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ گذشتہ ہفتے میں نے اپنے کمرے میں اکلوتے بلب کی جگہ ایک ٹیوب لائٹ لگانے کو کہا تو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا ”یار! بجٹ ہی نہیں ہے، کہاں سے لگوا کر دوں؟“
    خیر ابھی مجھے اس سے جان چھڑا نا تھی۔ میں نے ایک نظر میڈم کو دیکھا جو اس ساری صورتِ حال میں خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کا یوں معصومیت سے دیکھنا مجھے بہت اچھا لگااور میرے اندر انجانی مسرت کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔میں ارشد کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا:
    ”بہت شکریہ جناب! آپ کی مستعدی کی داد دیتا ہوں۔ بس گذارش ہے کہ آپ فی الحال کرسیوں کو اپنے پاس رکھیں، میں فارغ ہو کر ابھی آپ سے رابطہ کرتا ہوں۔“
    میری بات سُن کر ایک شریر سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر یوں ناچنے لگی، جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ کیوں بچہ جمورا! پکڑ لیا نا؟ اکیلے اکیلے گپیں لگاتے ہو؟
    ”ٹھیک ہے سر! ہم تو حکم کے غلام ہیں۔ آپ نے حکم کیا اور فوراً اس کی تعمیل ہوئی۔بس آپ بھی ہمارا خیال رکھا کریں۔“
    ارشد نے دایاں ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر تابع دارانہ انداز میں مُسکراتے ہوئے کہااورکن انکھیوں سے میڈم کی طرف دیکھا، جو اصل حقیقت سے انجان خاموشی سے ہماری فرضی گفت گو سن رہی تھی۔جب کہ میں دل ہی دل میں ارشد کی حرکتوں پر ہنس رہا تھا۔
    ”جی جی جناب!آپ کا احسان ہے، بس میں ابھی آپ سے رابطہ کرتا ہوں“