Tag: aabehayat

  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۶

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۶

    نیوہیون واپس آنے کے بعد اس نے زندگی کے ایک نئے سفر کو شروع کیا تھا۔
    اس رات اس جنگل کے ہولناک اندھیرے اور تنہائی میں اس درخت کے ساتھ بندھے بلکتے ہوئے کئے گئے تمام وعدے اسے یاد تھے۔
    وہ سب سے بالکل الگ تھلگ رہنے لگا تھا۔ معمولی سے رابطے اور تعلق کے بھی بغیر۔
    ”مجھے تم سے نہیں ملنا۔”
    وہ صاف گو تو ہمیشہ سے ہی تھا مگر اس حد تک ہوجائے گا اس کے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اس کی توقع نہیں تھی۔ چند ہفتے اس کے بارے میں اس کا گروپ چہ میگوئیاں کرتا رہا پھر یہ چہ میگوئیاں اعتراضات اور تبصروں میں تبدیل ہوگئیں اور اس کے بعد طنزیہ جملوں اور ناپسندیدگی میں پھر سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہوگئے۔ سالار سکندر کسی کی زندگی کا مرکز اور محور نہیں تھا نہ دوسرا کوئی اس کی زندگی کا۔ اس نے نیوہیون میں پہنچنے کے بعد جو چند کام کئے تھے اس میں جلال انصر سے ملاقات کی کوشش بھی کی تھی۔ وہ پاکستان سے واپس آتے ہوئے اس کے گھر سے امریکہ میں اس کا ایڈریس لے آیا تھا۔ یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ اس کا ایک کزن بھی اسی ہاسپٹل میں کام کررہا تھا جہاں جلال کام کررہا تھا۔ باقی کاکام بہت آسان ثابت ہوا۔ ضرورت سے زیادہ آسان۔
    وہ اس سے ایک بار مل کر اس سے معذرت کرنا چاہتا تھا۔ اسے ان تمام جھوٹوں کے بارے میں بتا دینا چاہتا تھا جو وہ اس سے امامہ کے بارے میں اور امامہ سے اس کے بارے میں بولتا رہاتھا۔ وہ ان دونوں کے تعلق میں اپنے رول کے لئے شرمندہ تھا۔ وہ اس کی تلافی کرنا چاہتا تھا۔ وہ جلال انصر تک پہنچ چکا تھا اور وہ امامہ ہاشم تک پہنچنا چاہتا تھا۔
    وہ جلال انصر کے ساتھ ہاسپٹل کے کیفے ٹیریا میں بیٹھا ہوا تھا۔ جلال انصر کے چہرے پر بے حد سنجیدگی تھی اور اس کے ماتھے پر پڑے ہوئے بل اس کی ناراضی کو ظاہر کررہے تھے۔
    سالار کچھ دیر پہلے ہی وہاں پہنچا تھا اور جلال انصراسے اپنے سامنے دیکھ کر ہکابکا رہ گیا تھا۔ اس نے جلال سے چند منٹ مانگے تھے۔ وہ دوگھنٹے انتظار کروانے کے بعد بالآخر کیفے ٹیریا میں آگیا تھا۔
    ”سب سے پہلے تو میں یہ جاننا چاہوں گا کہ تم نے مجھے ڈھونڈا کیسے؟” اس نے آپ جناب کے تمام تکلفات کو برطرف رکھتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھتے ہی سالار سے کہا۔
    ”یہ اہم نہیں ہے۔”
    ”یہ بہت اہم ہے۔ اگر تم واقعی یہ چاہتے ہو کہ میں کچھ دیر تمہارے ساتھ یہاں گزاروں تو مجھے پتا ہونا چاہئے کہ تم نے مجھے کیسے ڈھونڈا؟”
    ”میں نے اپنے کزن سے مدد لی ہے۔ وہ ایک ڈاکٹر ہے اور اس شہر میں بہت عرصے سے کام کررہا ہے۔ میں یہ نہیں جانتا کہ اس نے آپ کو کیسے ڈھونڈا ہے۔ میں نے صرف اس کو آپ کا نام اور کچھ دوسری معلومات دی تھیں۔” سالار نے کہا۔
    ”لنچ…..؟جلال نے بڑے رسمی انداز میں کہا، وہ ٹیبل پر آتے ہوئے اپنی لنچ ٹرے ساتھ لیکر آیا تھا۔
    ”نہیں، میں نہیں کھاؤں گا۔” سالار نے شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی۔
    جلال نے کندھے اچکائے اور کھانا شروع کردیا۔
    ”کس معاملے میں بات کرنا چاہتے تھے تم مجھ سے؟”
    ”میں آپ کو چند حقائق سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔”
    جلال نے اپنی بھنویں اچکائیں۔”حقائق؟”
    ”میں آپ کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا۔ میں امامہ کا دوست نہیں تھا۔ وہ میرے دوست کی بہن تھی، صرف میری نیکسٹ ڈور ”neighbour… جلال نے کھانا جاری رکھا۔
    ”میری اس سے معمولی جان پہچان تھی۔ وہ بھی صرف اس لئے کیونکہ ایک بار اس نے مجھے فرسٹ ایڈ دے کر میری جان بچائی تھی۔ وہ مجھے پسند نہیں کرتی تھی خود میں بھی اسے پسند نہیں کرتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ میں نے آپ پریوں ظاہر کیا جیسے وہ میری بہت گہری دوست تھی۔ میں آپ دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتا تھا۔”
    جلال سنجیدگی سے اس کی بات سنتے ہوئے کھانا کھاتا رہا۔
    ”اس کے بعد جب امامہ گھر سے نکل کر آپ کے پاس آنا چاہتی تھی تو میں نے اس سے جھوٹ بولا۔ آپ کی شادی کے بارے میں۔”
    اس بار جلال کھانا کھاتے کھاتے رک گیا۔” میں نے اس سے کہا کہ آپ شادی کرچکے ہیں۔ وہ آپ کے پاس اسی لئے نہیں آئی تھی۔ مجھے بعد میں احساس ہواکہ میں نے بہت نامناسب حرکت کی ہے مگر اس وقت تک دیر ہوچکی تھی۔ امامہ سے میرا کوئی رابطہ نہیں تھا مگر یہ ایک اتفاق ہے کہ آپ سے میرا رابطہ ہوگیا۔ میں آپ سے ایکسکیوز کرنا چاہتا ہوں۔”




    ”میں تمہاری معذرت قبول کرتا ہوں مگر میں نہیں سمجھتا کہ تمہاری وجہ سے میرے اور امامہ کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی، میں پہلے ہی اس سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔” جلال نے بڑی صاف گوئی سے کہا۔
    ”وہ آپ سے بہت محبت کرتی تھی۔” سالار نے دھیمی آواز میں کہا۔
    ”ہاں میں جانتا ہوں مگر شادی وغیرہ میں صرف محبت تو نہیں دیکھی جاتی اور بھی بہت کچھ دیکھا جاتا ہے۔” جلال بہت حقیقت پسندانہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ”جلال! کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ اس سے شادی کرلیں۔”
    ”پہلی بات یہ کہ میرا اس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ میرا اس کے ساتھ رابطہ ہوتا بھی تب بھی میں اس کے ساتھ شادی نہیں کرسکتا۔”
    ”اس کو آپ کے سہارے کی ضرورت ہے۔” سالار نے کہا۔
    ”میں نہیں سمجھتا کہ اسے میرے سہارے کی ضرورت ہے۔ اب تو بہت عرصہ گزرچکا ہے اب تک وہ کوئی نہ کوئی سہارا تلاش کرچکی ہوگی۔” جلال نے اطمینان سے کہا۔
    ”ہوسکتا ہے اس نے ایسا نہ کیا ہو۔ وہ ابھی بھی آپ کا انتظار کررہی ہو۔”
    ”میں اس طرح کے امکانات پر غور کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ میں نے تمہیں بتایا ہے کہ میرے لئے اپنے کیرئیر کی اسٹیج پر شادی کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ وہ بھی اس سے۔”
    ”کیوں…؟”
    ”اس کیوں کا جواب میں تمہیں کیوں دوں۔ تمہارا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں اس سے کیوں شادی نہیں کرتا چاہتا۔ میں تب ہی اسے بتا چکا ہوں اور اتنے عرصے کے بعد تم دوبارہ آکر پھر وہی پینڈوراباکس کھولنے کی کوشش کررہے ہو۔” جلال نے قدرے ناراضی سے کہا۔
    ”میں صرف اس نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کررہا ہوں، جو میری وجہ سے آپ دونوں کا ہوا۔” سالار نے نرمی سے کہا۔
    ”میرا کوئی نقصان نہیں ہوا اور امامہ کا بھی نہیں ہوا ہوگا۔ تم ضرورت سے زیادہ حساس ہورہے ہو۔”
    جلال نے سلاد کے چند ٹکڑے منہ میں ڈالتے ہوئے اطمینان سے کہا۔ سالار اسے دیکھتا رہا۔ وہ نہیں سمجھ پارہا تھا کہ وہ اسے اپنی بات کیسے سمجھائے۔
    ”میں اس کو ڈھونڈنے میں آپ کی مدد کرسکتا ہوں۔” اس نے کچھ دیر بعد کہا۔” مگر میں اسے ڈھونڈنا نہیں چاہتا۔ شادی مجھے اس سے نہیں کرنی تو پھر ڈھونڈنے کا فائدہ۔”
    سالار نے ایک گہرا سانس لیا۔” آپ جانتے ہیں اس نے کس لئے گھر چھوڑا تھا؟”
    ”میرے لئے بہرحال نہیں چھوڑا تھا۔” جلال نے بات کاٹی۔
    ”آپ کے لئے نہیں چھوڑا تھا، مگر جن وجوہات کی بناپر چھوڑا تھا کیا ایک مسلمان کے طورپر آپ کو اس کی مدد نہیں کرنی چاہئے جب کہ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ لڑکی آپ سے بہت محبت کرتی ہے۔ آپ سے بہت انسپائرڈ ہے۔”
    ”میں دنیا میں کوئی واحد مسلمان نہیں ہوں اور نہ ہی مجھ پر یہ فرض کردیا گیا ہے کہ میں اس کی مدد ضرور کروں۔ میری ایک ہی زندگی ہے اور میں اسے کسی دوسرے کی وجہ سے تو خراب نہیں کرسکتا اور پھر تم بھی مسلمان ہو، تم کیوں نہیں شادی کرتے اس سے؟ میں نے توتب بھی تم سے کہا تھا کہ تم اس سے شادی کرلو۔ تم ویسے بھی اس کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہو۔”
    جلال انصر نے قدرے چبھتے ہوئے انداز میں کہا۔ سالار اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ وہ اسے بتا نہیں سکتا تھا کہ وہ اس سے شادی کرچکا ہے۔
    ”شادی…؟ وہ مجھے پسند نہیں کرتی۔” اس نے کہا۔
    ”میں اس سلسلے میں اسے سمجھا سکتا ہوں۔ تم میرا اس سے رابطہ کرو ادو تو میں اسے تم سے شادی پر تیار کرلوں گا۔ اچھے آدمی ہو تم…اور خاندان وغیرہ بھی ٹھیک ہی ہوگا تمہارا۔ کار تو ڈیڑھ سال پہلے بھی بڑی شاندار رکھی ہوئی تھی تم نے۔ اس کا مطلب ہے روپیہ وغیرہ ہوگا تمہارے پاس۔ ویسے یہاں کس لئے ہو؟”
    ”ایم بی اے کررہاہوں۔”
    ”پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ جاب تمہیں مل جائے گی۔ روپیہ ویسے بھی تمہارے پاس ہے۔ لڑکیوں کو اور کیا چاہئے۔ امامہ تو ویسے بھی تمہیں جانتی ہے۔” جلال نے چٹکی بجاتے مسئلہ حل کیا تھا۔
    ”سارا مسئلہ تو اسی”جاننے” نے ہی پیدا کیا ہے۔ وہ مجھے ضرورت سے زیادہ جانتی ہے۔” سالار نے جلال کو دیکھتے ہوئے سوچا۔
    ”وہ آپ سے محبت کرتی ہے۔” سالار نے جیسے اسے یاد دلایا۔
    ”اب اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ لڑکیاں کچھ زیادہ جذباتی ہوتی ہیں اس معاملے میں۔” جلال نے قدرے بیزاری سے کہا۔
    ”یہ ون سائیڈڈ لوافیئر تو نہیں ہوگا۔ آپ کسی نہ کسی حدتک اس میں انوالو تو ضرور ہوں گے۔” سالار نے قدرے سنجیدگی سے کہا۔
    ”ہاں تھوڑا بہت انوالو تھا، مگر وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ ترجیحات بھی بدلتی رہتی ہیں انسان کی۔”
    ”اگر آپ کو وقت اور حالات کے ساتھ اپنی ترجیحات بدلنی تھیں تو آپ کو اس کے بارے میں امامہ کو انوالو ہوتے ہوئے ہی بتا دینا چاہئے تھا۔ کم از کم اس سے یہ ہوتا کہ وہ آپ سے مدد کی توقع رکھتی نہ ہی آپ پر اس قدر انحصار کرتی۔ میں امید کرتا ہوں آپ یہ تو نہیں کہیں گے کہ آپ نے اس سے شادی کے حوالے سے کبھی کوئی بات یا وعدہ کیا ہی نہیں تھا۔”
    جلال کچھ کہنے کے بجائے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔
    ”تم مجھے کیا جتانے اور بتانے کی کوشش کررہے ہو؟” اس نے چند لمحوں کے بعد اکھڑے ہوئے انداز میں اس سے کہا۔
    ”اس نے جب مجھ سے پہلی بار رابطہ کیا تھا تو آپ کا فون نمبر اور ایڈریس دے کر اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں آپ سے پوچھوں آپ نے اپنے پیرنٹس سے شادی کی بات کرلی ہے۔ میں نے اسے اپنا فون دیا تھا کہ وہ آپ سے یہ بات خود پوچھ لے۔ یقینا اسلام آباد آنے سے پہلے آپ نے اس سے یہ کہا ہوگا کہ آپ اس سے شادی کے لئے اپنے پیرنٹس سے بات کریں گے۔ آپ نے یقینا پہلے محبت وغیرہ کے اظہار کے بعد اسے پروپوز کیا ہوگا۔”
    جلال نے کچھ برہمی سے اس کی بات کاٹی۔”میں نے اسے پروپوز نہیں کیا تھا۔ اس نے مجھے پروپوز کیا تھا۔”
    ”مان لیتا ہوں اس نے پروپوز کیا۔ آپ نے کیا کیا؟ انکار کردیا؟” وہ چیلنج کرنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
    ”انکار نہیں کیا ہوگا۔” سالار عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
    ”اس نے مجھے بتایا تھا کہ آپ نعت بہت اچھی پڑھتے ہیں اور آپ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی بہت محبت ہے۔ آپ کو بھی بتایا ہوگا اس نے کہ وہ آپ سے محبت کیوں کرتی تھی مگر آپ سے مل کر اور آپ کو جان کر مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ آپ نعت بہت اچھی پڑھتے ہوں گے مگر جہاں تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا تعلق ہے میں نہیں سمجھتا وہ آپ کوہے۔ میں خود کوئی بہت اچھا آدمی نہیں ہوں اور محبت کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرسکتا۔ خاص طورپر اللہ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے بارے میں مگر اتنا میں ضرور جانتا ہوں کہ جو شخص اللہ یا اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے یا لوگوں کو یہ امپریشن دیتا پھرتا ہے وہ مدد کے لئے پھیلے ہوئے ہاتھ کو نہیں جھٹک سکتا نہ ہی وہ کسی کو دھوکا اور فریب دے گا۔” سالار اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
    ”اور میں تو آپ سے ریکویسٹ کررہا ہوں اس کی مدد کے لئے۔ ہوسکتا ہے اس نے بھی ڈیڑھ سال پہلے کی ہو،پھر بھی اگر آپ انکار پر مصر ہیں تو…میں یا کوئی آپ کو مجبور تو نہیں کرسکتا مگر آپ سے مل کر اور آپ سے بات کرکے مجھے بہت مایوسی ہوئی۔”
    اس نے الوداعی مصافحہ کے لئے جلال کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ جلال نے اپنا ہاتھ نہیں بڑھایا، وہ تنفر بھرے انداز میں ماتھے پر بل لئے اسے دیکھتا رہا۔
    ”خدا حافظ۔” سالار نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا۔ جلال اسی انداز میں اسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر اس نے خود کلامی کی۔”It’s really an idiots world out there۔”
    وہ دوبارہ لنچ ٹرے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ اس کا موڈبے حد آف ہورہا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۴

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۴

    گاڑی اس بڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی جو تقریباً سنسان تھی۔ ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔
    اسٹیئرنگ پر دایاں ہاتھ رکھے اس نے بائیں ہاتھ کو منہ کے سامنے رکھ کر جماہی روکی اور نیند کے غلبے کو بھگانے کی کوشش کی۔ اس کے برابر کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی امامہ بے آواز رو رہی تھی اور سالار اس بات سے باخبر تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنے ہاتھ میں پکڑے رومال سے اپنی آنکھیں پونچھتی اور ناک رگڑ لیتی… اور پھر سامنے ونڈ اسکرین سے باہر سڑک پر نظریں جما کر رونا شروع کردیتی۔
    سالار وقفے وقفے سے اس پر اچٹتی نظر ڈالتا رہا۔ اس نے امامہ کو کوئی تسلی دینے یا چپ کروانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ خود ہی کچھ دیر آنسو بہا کر خاموش ہوجائے گی، مگر جب آدھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اسی رفتار سے روتی رہی تو وہ کچھ اکتانے لگا۔
    ”اگر تمہیں گھر سے اس طرح بھاگ آنے پر اتنا پچھتاوا ہونا تھا تو پھر تمہیں گھر سے بھاگنا ہی نہیں چاہئے تھا۔”
    سالار نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔ امامہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
    ”ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، ابھی تو شاید تمہارے گھر میں کسی کو تمہاری غیر موجودگی کا پتا بھی نہیں چلا ہوگا۔” اس نے کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کرنے کے بعد اسے مشورہ دیا۔
    ”مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔” اس بار اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد قدرے بھرائی ہوئی مگر مستحکم آواز میں کہا۔
    ”تو پھر تم رو کیوں رہی ہو؟” سالار نے فوراً پوچھا۔
    ”تمہیں بتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” وہ ایک بار پھر آنکھیں پونچھتے ہوئے بولی۔ سالار نے گردن موڑ کر اسے غور سے دیکھا اور پھر گردن سیدھی کرلی۔
    ”لاہور میں کس کے پاس جاؤگی؟”
    ”پتا نہیں۔” امامہ کے جواب پر سالار نے قدرے حیرانی سے اسے دیکھا۔
    ”کیا مطلب… تمہیں پتا نہیں ہے کہ تم کہاں جا رہی ہو؟”
    ”فی الحال تو نہیں۔”
    ”تو پھر تم آخر لاہور جا کیوں رہی ہو؟”
    ”تو پھر اور کہاں جاؤں؟”
    ”تم اسلام آباد میں ہی رہ سکتی تھیں۔”
    ”کس کے پاس؟”
    ”لاہور میں بھی تو کوئی نہیں ہے جس کے پاس تم رہ سکو… اور وہ بھی مستقل… جلال کے علاوہ۔” سالار نے آخری تین لفظوں پر زور دیتے ہوئے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
    ”اس کے پاس جا رہی ہو تم۔” کچھ دیر بعد اس نے قدرے چبھتے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”نہیں، جلال میری زندگی سے نکل چکا ہے۔” سالار اندازہ نہیں کرسکا کہ اس کی آواز میں مایوسی زیادہ تھی یا افسردگی۔ ”اس کے پاس کیسے جاسکتی ہوں میں۔”
    ”تو پھر اور کہاں جاؤگی؟” سالار نے ایک بار پھر تجسس کے عالم میں پوچھا۔
    ”یہ تو میں لاہور جانے پر ہی طے کروں گی کہ مجھے کہاں جانا ہے، کس کے پاس جانا ہے۔” امامہ نے کہا۔
    سالار نے کچھ بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھا۔ کیا واقعی وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کہاں جانا تھا یا پھر وہ اسے بتانا نہیں چاہتی تھی۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔




    ”تمہارا فیانسی… کیا نام ہے اس کا… ہاں اسجد… کافی اچھا، ہینڈسم آدمی ہے۔” ایک بار پھر سالار نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔ ”اور یہ جو دوسرا آدمی تھا… جلال… اس کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں ہے… کچھ زیادتی نہیں کردی تم نے اسجد کے ساتھ؟”
    اِمامہ نے اس کے سوال کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف سامنے سڑک کو دیکھتی رہی۔ سالار کچھ دیر گردن موڑ کر اس کے جواب کے انتظار میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا مگر پھر اسے احساس ہوگیا کہ وہ جواب دینا نہیں چاہتی۔
    ”میں تمہیں سمجھ نہیں پایا… جو کچھ تم کر رہی ہو، اسے بھی نہیں… تمہاری حرکتیں بہت … بہت عجیب ہیں… اور تم اپنی حرکتوں سے زیادہ عجیب ہو۔” سالار نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔
    اس بار امامہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
    ”کیا تمہاری حرکتوں سے زیادہ عجیب ہیں میری حرکتیں… اور کیا میں تم سے زیادہ عجیب ہوں…” بڑے دھیمے مگر مستحکم لہجے میں پوچھے گئے اس سوال نے چند لمحوں کے لیے سالار کو لاجواب کر دیا تھا۔
    ”میری کون سی حرکتیں عجیب ہیں… اور میں کس طرح عجیب ہوں؟” چند لمحے خاموش رہنے کے بعد سالار نے کہا۔
    ”تم جانتے ہو، تمہاری کون سی حرکتیں عجیب ہیں۔” امامہ نے واپس ونڈاسکرین کی طرف گردن موڑتے ہوئے کہا۔
    ”یقینا میری خود کشی کی ہی بات کر رہی ہو تم۔” سالار نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ ”حالاں کہ میں خود کشی نہیں کرنا چاہتا، نہ ہی میں خود کشی کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں تو صرف ایک تجربہ کرنا چاہتا تھا۔”
    ”کیسا تجربہ؟”
    ”میں ہمیشہ لوگوں سے ایک سوال پوچھتا ہوں، مگر کوئی بھی مجھے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا، اس لیے میں اس سوال کا جواب خود ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں۔” وہ بولتا رہا۔
    ”کیا پوچھتے ہو تم لوگوں سے؟”
    ”بہت آسان سا سوال ہے مگر ہر ایک کو مشکل لگتا ہے۔” What is next to ecstasy? اس نے گردن موڑ کر امامہ سے پوچھا۔
    وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔ ”Pain”
    ”And what is next to pain?” سالار نے بلا توقف ایک اور سوال کیا۔
    "Nothingness”۔
    "What is next to nothingness?” سالار نے اسی انداز میں ایک اور سوال کیا۔
    ”Hell” امامہ نے کہا۔
    ”And what is next to hell?”اس بار امامہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
    ”What is next to hell?” سالار نے پھر اپنا سوال دہرایا۔
    ”تمہیں خوف نہیں آتا۔” سالار نے امامہ کو قدرے عجیب سے انداز میں پوچھتے سنا۔
    ”کس چیز سے۔” سالار حیران ہوا۔
    ”Hellسے… اس جگہ سے جس کے آگے اور کچھ بھی نہیں ہوتا… سب کچھ اس کے پیچھے ہی رہ جاتا ہے… معتوب اور مغضوب ہوجانے کے بعد باقی بچتا کیا ہے جسے جاننے کا تمہیں تجسس ہے۔” امامہ نے قدرے افسوس سے کہا۔
    ”میں تمہاری بات سمجھ نہیں سکا… سب کچھ میرے سر کے اوپر سے گزرا ہے۔” سالار نے جیسے اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
    ”فکر مت کرو… آجائے گی… ایک وقت آئے گا… جب تمہیں ہر چیز کی سمجھ آجائے گی پھر تمہاری ہنسی ختم ہوجائے گی… تب تمہیں خوف آنے لگے گا… موت سے بھی اور دوزخ سے بھی… اللہ تمہیں سب کچھ دکھا اور بتادے گا… پھر تم کسی سے یہ کبھی نہیں پوچھا کروگے۔ "What is next to ecstasy?” امامہ نے بہت رسانیت سے کہا۔
    ”یہ تمہاری پیش گوئی ہے؟” سالار نے اس کی بات کے جواب میں کچھ چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”نہیں۔؛؛ امامہ نے اسی انداز میں کہا۔
    ”تجربہ؟” سالار نے گردن سیدھی کرلی۔
    ”ہاں، یہ تمہارا تجربہ ہی ہوسکتا ہے… کی تو تم نے بھی خود کشی ہی ہے… میرا مطلب ہے کرنے کی کوشش کی ہے… میں نے اپنے طریقے سے یہ کوشش کی تھی… تم نے اپنے طریقے سے کی ہے۔” سالار نے سرد مہری سے کہا۔
    ”امامہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آگئے۔ گردن موڑ کر اس نے سالار کو دیکھا۔
    ”میں نے کوئی خود کشی نہیں کی ہے۔”
    “کسی لڑکے کے لیے گھر سے بھاگنا ایک لڑکی کے لیے خود کشی ہی ہوتی ہے… وہ بھی اس صورت میں جب وہ لڑکا شادی پر تیار ہی نہ ہو… دیکھو، میں خود ایک لڑکا ہوں… بہت بڑاڈ مائنڈڈ اور لبرل ہوں اور میں بالکل برا نہیں سمجھتا اگر ایک لڑکی گھر سے بھاگ کر کسی لڑکے کے ساتھ کورٹ میرج یا شادی کرلے… مگر وہ لڑکا اس کا ساتھ تو دے، ایک ایسے لڑکے کے لیے گھر سے بھاگ جانا جو شادی کر چکا ہو … چچ چچ… میری سمجھ میں نہیں آتا اور پھر تمہاری عمر میں بھاگنا… بالکل حماقت ہے۔”
    ”میں کسی لڑکے کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔”
    ”جلال انصر!” سالار نے اس کی بات کاٹ کر اسے یاد دلایا۔
    ”میں اس کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔” وہ بے اختیار آواز میں چلائی۔ سالار کا پاؤں بے اختیار بریک پر جا پڑا۔ اس نے حیرانی سے امامہ کو دیکھا۔
    ”تو مجھ پر کیوں چلا رہی ہو، مجھ پر چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔” سالار نے ناراضی سے کہا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
    ”یہ جو تمہاری مذہب والی تھیوری یا فلاسفی یا پوائنٹ یا جو بھی ہے I don’t get it کیا فرق پڑتا ہے۔ اگر کوئی کسی اور پیغمبر کو ماننا شروع ہوگیا ہے… زندگی ان فضول بحثوں کے علاوہ بھی کچھ ہے… مذہب، عقیدے یا فرقے پر لڑنا … What rubbish”
    امامہ نے گردن موڑ کر ناراضی کے عالم میں اسے دیکھا۔ ”جو چیزیں تمہارے لیے فضول ہیں، ضروری نہیں وہ ہر ایک کے لیے فضول ہوں۔ میں اپنے مذہب پر قائم رہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی اس مذہب کے کسی شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ تو یہ میرا حق ہے کہ میں ایسا کروں، میں تم سے ایسی چیزوں کے بارے میں بحث نہیں کرنا چاہتی جسے تم نہیں سمجھتے… اس لیے تم ان معاملات کے بارے میں اس طرح کے تبصرے مت کرو۔”
    ”مجھے حق ہے کہ میں جو چاہے کہوں Freedom of expression (اظہار کی آزادی)” سالار نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ امامہ نے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ سالار بھی خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔
    یہ جلال انصر … میں اس کی بات کر رہا تھا۔” وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر اپنے اسی موضوع کی طرف آگیا۔
    ”اس میں کیا خاص بات ہے؟”اس نے گردن موڑ کر امامہ کو دیکھا۔ وہ اب ونڈاسکرین سے باہر سڑک کو دیکھ رہی تھی۔
    ”جلال انصر اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے… وہ بالکل بھی ہینڈسم نہیں ہے۔ تم ایک خوب صورت لڑکی ہو، میں حیران ہوں، تم اس میں کیسے دلچسپی لینے لگیں… کیا وہ بہت زیادہ intelligent ہے؟” اس نے امامہ سے پوچھا۔
    امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ intelligent…” کیا مطلب؟”
    ”دیکھو یا تو کسی کی شکل اچھی لگتی ہے… میں نہیں سمجھتا تمہیں جلال کی شکل اچھی لگی ہوگی یا پھر کسی کا فیملی بیک گراؤنڈ… پیسہ وغیرہ کسی میں دلچسپی کا باعث بنتا ہے… اب جلال کا فیملی بیک گراؤنڈ یا مالی حالت کے بارے میں، میں نہیں جانتا مگر خود تمہارا فیملی بیک گراؤنڈ جتنا ساؤنڈ ہے، یہ بھی تمہارے لیے اس میں دلچسپی کا باعث نہیں بن سکتا… واحد بچ جانے والی وجہ کسی کی ذہانت، قابلیت وغیرہ ہے… اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ کیا وہ بہت intelligentہے… کیا بہت آؤٹ اسٹینڈنگ اور brilliant ہے؟”
    ”نہیں۔” امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔
    سالار کو مایوسی ہوئی۔ ”تو پھر… تم اس کی طرف متوجہ کیسے ہوئی امامہ ونڈاسکرین سے باہر ہیڈ لائٹس کی روشنی میں نظر آنے والی سڑک دیکھتی رہی۔ سالار نے اپنا سوال دوبارہ نہیں دہرایا۔ صرف کندھے اچکاتے ہوئے وہ دوبارہ ڈرائیونگ پر توجہ دینے لگا۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
    ”وہ نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔” تقریبا پانچ منٹ بعد خاموشی ٹوٹی تھی۔ ونڈاسکرین سے باہر دیکھتے ہوئے مدھم آواز میں امامہ یوں بڑبڑائی تھی جیسے خود کلامی کر رہی ہو۔ سالار نے اس کا جملہ سن لیا تھا مگر اسے وہ ناقابل یقین لگا۔
    ”کیا؟” اس نے جیسے تصدیق چاہی۔
    ”جلال نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔” اسی طرح ونڈاسکرین سے باہر جھانکتے ہوئے کہا مگر اس بار اس کی آواز کچھ بلند تھی۔
    ”بس آواز کی وجہ سے… سنگر ہے؟” سالار نے تبصرہ کیا۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۳

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۳

    ”یہ احمقانہ تجویز اسجد کے علاوہ کسی دوسرے کی ہو ہی نہیں سکتی۔ اسے احساس نہیں ہے کہ ابھی میں پڑھ رہی ہوں۔” امامہ نے اپنی بھابھی سے کہا۔
    ”نہیں اسجد نے یا اس کے گھر والوں نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ بابا خود تمہاری شادی کرنا چاہ رہے ہیں۔” اِمامہ کی بھابھی نے رسانیت سے جواب دیا۔
    ”بابا نے کہا ہے؟ مجھے یقین نہیں آرہا۔ جب میں نے میڈیکل میں ایڈمیشن لیا تھا تب ان کا دور دور تک ایسا کوئی خیال نہیں تھا۔ وہ تو انکل اعظم سے بھی یہی کہتے تھے کہ وہ میرے ہاؤس جاب کے بعد ہی میری شادی کریں گے۔ پھر اب اچانک کیا ہوا؟” اِمامہ نے بے یقینی سے کہا۔
    ”کوئی دباؤ ہوگا مگر مجھے تو امی نے یہی بتایا تھا کہ یہ خود بابا کی خواہش ہے۔” بھابھی نے کہا۔
    ”آپ انہیں بتا دیں کہ مجھے ہاؤس جاب سے پہلے شادی نہیں کرنی۔”
    ”ٹھیک ہے میں تمہاری بات ان تک پہنچادوں گی مگر بہتر ہے تم اس سلسلے میں خود بابا سے بات کرو۔” بھابھی نے اسے مشورہ دیا۔
    بھابھی کے کمرے سے جانے کے بعد بھی وہ کچھ پریشان سی وہیں بیٹھی رہی۔ یہ اطلاع اتنی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ اس کے پیروں کے نیچے سے محاورتاً نہیں حقیقتاً زمین نکل گئی تھی۔ وہ مطمئن تھی کہ اس کی ہاؤس جاب تک اس کی شادی کا مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا اور ہاؤس جاب کرنے کے بعد وہ اس قابل ہوجائے گی کہ خود کو سپورٹ کرسکے یا اپنی جلال سے شادی کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔ تب تک جلال بھی اپنی ہاؤس جاب مکمل کر کے سیٹ ہو جاتا اور ان دونوں کے لیے کسی قسم کا کوئی مسئلہ کھڑا نہیں ہوتا مگر اب اچانک اس کے گھر والے اس کی شادی کی بات کر رہے تھے۔ آخر کیوں؟
    ”نہیں اسجد اور اس کے گھر والوں نے مجھ سے اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ میں نے خود ان سے بات کی ہے۔”
    اس رات وہ ہاشم مبین کے کمرے میں موجود تھی۔ اس کے استفسار پر ہاشم مبین نے بڑے اطمینان کے ساتھ کہا۔
    ”بات بھی کرلی ہے؟ بابا! آپ مجھ سے پوچھے بغیر کس طرح میری شادی ارینج کرسکتے ہیں۔” امامہ نے بے یقینی سے کہا۔
    ہاشم مبین نے کچھ سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ ”یہ نسبت تمہاری مرضی سے ہی طے ہوئی تھی۔ تم سے پوچھا گیا تھا۔” انہوں نے جیسے اسے یاد دہانی کروائی۔
    ”منگنی کی بات اور تھی… شادی کی بات اور ہے… آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ ہاؤس جاب سے پہلے آپ میری شادی نہیں کریں گے۔” امامہ نے انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا۔
    ”تمہیں اس شادی پر اعتراض کیوں ہے۔ کیا تم اسجد کو پسند نہیں کرتیں؟”
    ”بات پسند یا ناپسند کی نہیں ہے۔ اپنی تعلیم کے دوران میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں آئی اسپیشلسٹ بننا چاہتی ہوں۔ اس طرح آپ میری شادی کردیں گے تو میرے تو سارے خواب ادھورے رہ جائیں گے۔”





    ”بہت سی لڑکیاں شادی کے بعد تعلیم مکمل کرتی ہیں۔ تم اپنی فیملی میں دیکھو… کتنی…” ہاشم مبین نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔”
    امامہ نے ان کی بات کاٹ دی۔ ”وہ لڑکیاں بہت ذہین اور قابل ہوتی ہوں گی۔ میں نہیں ہوں۔ میں ایک وقت میں ایک ہی کام کرسکتی ہوں۔”
    ”میں اعظم بھائی سے بات کرچکا ہوں، وہ تو تاریخ طے کرنے کے لیے آنے والے ہیں۔” ہاشم مبین نے اس سے کہا۔
    ”آپ میری ساری محنت کو ضائع کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو میرے ساتھ یہی کرنا تھا تو آپ کو چاہئے تھا کہ آپ اس طرح کا کوئی وعدہ ہی نہ کرتے۔” امامہ نے ان کی بات پر ناراضی سے کہا۔
    ”جب میں نے تم سے وعدہ کیا تھا تب کی بات اور تھی… تب حالات اور تھے اب۔۔۔۔”
    امامہ نے ان کی بات کاٹی۔ ”اب کیا بدل گیا ہے… حالات میں کون سی تبدیلی آئی ہے جو آپ میرے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہیں؟”
    ”میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اسجد تمہاری تعلیم میں تمہارے ساتھ پورا تعاون کرے گا اور تمہیں کسی چیز سے منع نہیں کرے گا۔” ہاشم مبین نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
    ”بابا مجھے اسجد کے تعاون کی ضرورت نہیں ہے مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آپ مجھے میری تعلیم مکمل کرنے دیں۔” امامہ نے اس بار قدرے ملتجیانہ انداز میں کہا۔
    ”اِمامہ تم فضول ضد مت کرو… میں وہی کرں گا جو میںطے کر چکا ہوں۔” ہاشم مبین نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ ”میں ضد نہیں کر رہی درخواست کر رہی ہوں۔ پلیز بابا میں ابھی اسجد سے شادی کرنا نہیں چاہتی۔” اس نے ایک بار پھر اسی ملتجیانہ انداز میں کہا۔
    ”تمہارے نسبت کو چار سال ہونے والے ہیں اور یہ ایک بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے خود کچھ عرصے کے بعد کسی نہ کسی وجہ سے منگنی توڑ دی تو۔”
    ”تو کوئی بات نہیں کوئی قیامت نہیں آئے گی وہ منگنی توڑنا چاہیں تو توڑ دیں بلکہ ابھی توڑ دیں۔”
    ”تمہیں اس شرمندگی اور بے عزتی کا احساس نہیں ہے، جس کا سامنا تمہیں کرنا پڑے گا۔”
    ”کیسی شرمندگی بابا! یہ ان لوگوں کا اپنا فیصلہ ہوگا۔ اس میں ہماری تو کوئی غلطی نہیں ہوگی۔” اس نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔
    ”تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے یا پھر تم عقل سے پیدل ہو۔” ہاشم مبین نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
    ”بابا! کچھ نہیں ہوگا لوگ دو چار دن باتیں کریں گے پھر سب کچھ بھول جائیں گے۔ آپ اس بارے میں خوامخواہ پریشان ہو رہے ہیں۔” اِمامہ نے قدرے بے فکری اور لاپروائی سے کہا۔
    ”تم اس وقت بہت فضول باتیں کر رہی ہو۔ فی الحال تم یہاں سے جاؤ، ہاشم مبین نے ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    امامہ بادل نخواستہ وہاں سے چلی آئی مگر اس رات وہ خاصی پریشان رہی۔
    اگلے دن وہ واپس لاہور چلی آئی ہاشم مبین نے اس سلسلے میں دوبارہ بات نہیں کی لاہور آکر وہ قدرے مطمئن ہوگئی اور ہر خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنے امتحان کی تیاری میں مصروف ہوگئی۔
    ہاشم مبین نے اس واقعہ کو ذہن سے نہیں نکالا تھا، وہ ایک انتہائی محتاط طبیعت کے انسان تھے۔
    وہ اِمامہ کے بارے میں پہلی بار اس وقت تشویش میں مبتلا ہوئے تھے، جب اسکول میں تحریم کے ساتھ جھگڑے والا واقعہ پیش آیا تھا۔ اگرچہ وہ کوئی ایسا غیر معمولی واقعہ نہیں تھا مگر اس واقعے کے بعد انہوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر امامہ کی نسبت اسجد کے ساتھ طے کردی تھی۔ ان کا خیال تھا اس طرح اس کا ذہن ایک نئے رشتے کی جانب مبذول ہوجائے گا اور اگر اس کے ذہن میں کوئی شبہ یا سوال پیدا ہوا بھی تو اس نئے تعلق کے بعد وہ اس بارے میں زیادہ تردد نہیں کرے گی۔ ان کا یہ خیال اور اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا۔
    اِمامہ کا ذہن واقعی تحریم کی طرف سے ہٹ گیا تھا۔ اسجد میں وہ پہلے بھی کچھ دلچسپی لیتی تھی مگر اس تعلق کے قائم ہونے کے بعد اس دلچسپی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ ہاشم نے اسے بہت مطمئن اور مگن دیکھا تھا۔ وہ پہلے ہی کی طرح تمام مذہبی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتی تھی۔
    مگر اس بار جو کچھ وسیم نے انہیں بتایا تھا اس نے ان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دی تھی۔ وہ فوری طور پر یہ نہیں جان سکے مگر انہیں یہ ضرور علم ہوگیا کہ امامہ کے عقائد اور نظریات میں خاصی تبدیلی آچکی تھی اور یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کے پورے خاندان کے لیے بڑی تشویش کا باعث تھا۔
    وہ اپنی بڑی بیٹیوں کی طرح اسے بھی اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے اور یہ اس لیے بھی اہم تھا کہ اسے شادی کے بعد خاندان ہی میں جانا تھا۔ وہ خاندان بہت تعلیم یافتہ تھا۔ خود ان کا ہونے والا داماد اسجد بھی امامہ کو اعلی تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا تھا۔ ہاشم مبین کے لیے اس کی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر کے اسے گھر بٹھا لینا آسان نہ تھا، کیوں کہ اس صورت میں اسے اعظم مبین کو اس کی وجہ بتانی پڑتی اور امامہ سے سخت ناراض ہونے کے باوجود وہ نہیں چاہتے تھے کہ اعظم مبین اور ان کا خاندان امامہ کے ان بدلے ہوئے عقائد کے بارے میں جان کر برگشتہ اور بدظن ہوں اور پھر شادی کے بعد وہ اسجد کے ساتھ بری زندگی گزارے۔ انہوں نے ایک طرف اپنے گھر والوں کو اس بات کو راز رکھنے کی تاکید کی تو دوسری طرف امامہ کی منت سماجت پر اسے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
    امامہ صبیحہ کے لیکچر اٹینڈ کرنے اور اس کے ہاں جانے یا جلال سے ملنے کے معاملے میں اس قدر محتاط تھی کہ اس کا یہ میل جول ان لوگوں کی نظروں میں نہیں آسکا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ جویریہ اور رابعہ کو بھی ہر چیز کے بارے میں اندھیرے میں رکھے ہوئے تھی۔ ورنہ اس کے بارے میں ضرور کوئی نہ کوئی خبر ادھر ادھر گردش کرتی اور ہاشم مبین تک بھی پہنچ جاتی مگر ایسا نہیں ہوا ہاشم مبین اس کی طرف سے مطمئن ہوگئے تھے، مگر امامہ کے اندر آنے والی ان تبدیلیوں نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔
    ان کے دماغ میں جو واحد حل آیا تھا وہ اس کی شادی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اس کی شادی کردینے سے کم از کم وہ خود امامہ کی ذمہ داری سے مکمل طور پر آزاد ہوجائیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اس طرح اچانک اس کی شادی کا فیصلہ کرلیا تھا۔
    ”جلال! میرے پیرنٹس اسجد سے میری شادی کر دینا چاہتے ہیں۔” لاہور آنے کے بعد امامہ نے سب سے پہلے جلال سے ملاقات کی تھی۔
    ”مگر تم تو کہہ رہی تھیں کہ وہ تمہاری ہاؤس جاب تک تمہاری شادی نہیں کریں گے۔” جلال نے کہا۔
    ”وہ ایسا ہی کہتے تھے، مگر اب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی تعلیم شادی کے بعد بھی جاری رکھ سکتی ہوں۔ اسجد لاہور میں گھر لے لے گا تو میں زیادہ آسانی سے اپنی تعلیم مکمل کرسکوں گی۔”
    جلال اس کے چہرے سے اس کی پریشانی کا اندازہ کرسکتا تھا۔ جلال بھی ایک دم فکر مند ہوگیا۔ ”جلال! میں اسجد سے شادی نہیں کرسکتی۔ میں کسی صورت اسجد سے شادی نہیں کرسکتی۔” وہ بڑبڑائی۔
    ”پھر تم اپنے پیرنٹس کو صاف صاف بتادو۔” جلال نے ایک دم کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے کہا۔
    ”کیا بتادوں؟”
    ”یہی کہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
    ”آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ وہ کس طرح ری ایکٹ کریں گے… مجھے انہیں پھر سب کچھ ہی بتانا پڑے گا۔” وہ بات کرتے کرتے کچھ سوچنے لگی۔
    ”جلال! آپ اپنے پیرنٹس سے میرے سلسلے میں بات کریں۔ آپ انہیں میرے بارے میں بتائیں۔ اگر میرے پیرنٹس نے مجھ پر اور دباؤ ڈالا تو پھر مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑے گا، پھر مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی۔”
    ”امامہ! میں اپنے پیرنٹس سے بات کروں گا۔ وہ رضا مند ہوجائیں گے۔ میں جانتا ہوں میں انہیں منا سکتا ہوں۔” جلال نے اسے یقین دلایا پوری گفتگو کے دوران پہلی بار امامہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔
    ”اگلے چند ہفتے وہ اپنے پیپرز کے سلسلے میں مصروف رہی، جلال سے بات نہ ہوسکی۔ آخری پیپر والے دن وسیم اسے لینے کے لیے لاہور آگیا تھا۔ وہ اسے وہاں یوں دیکھ کر حیران رہ گئی۔
    ”وسیم! میں ابھی تو نہیں جاسکتی۔ آج تو میں پیپرز سے فارغ ہوئی ہوں مجھے ابھی یہاں کچھ کام ہیں۔”
    ”میں کل تک یہیں ہوں۔ اپنے دوست کے ہاں ٹھہر جاتا ہوں جب تک تم اپنے کام نمٹا لو پھر اکٹھے چلیں گے۔” وسیم نے اس کے لیے مدافعت کا آخری راستہ بھی بند کر دیا۔
    ”میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔” امامہ نے کچھ بے دلی سے فیصلہ کرتے ہوئے کہا۔ اسے اندازہ تھا کہ وسیم اسے ساتھ لے کر ہی جائے گا۔
    ”تم اپنی چیزیں پیک کرلو۔ اب تم ساری چھٹیاں وہاں گزار کر ہی آنا۔” اسے واپس مڑتے دیکھ کر وسیم نے کہا۔
    ”اس نے سر ہلا دیا مگر اس کا اپنی تمام چیزیں پیک کرنے یا اسلام آباد میں ساری چھٹیاں گزارنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس نے طے کیا تھا کہ وہ چند دن وہاں گزار کر کسی نہ کسی بہانے سے واپس لاہور آجائے گی اور یہ ہی اس کی غلط فہمی تھی۔
    رات کے کھانے پر وہ سب گھر والوں کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی اور سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
    ”پیپر کیسے ہوئے تمہارے؟” ہاشم مبین نے کھانا کھاتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”بہت اچھے ہوئے۔ ہمیشہ کی طرح۔” اس نے چاول کا چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ویری گڈ۔ چلو کم از کم پیپرز کی ٹینشن تو ختم ہوئی۔ اب تم کل سے اپنی شاپنگ شروع کردو۔”
    امامہ نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔ ”شاپنگ؟ کیسی شاپنگ؟”
    ”فرنیچر کی اور جیولرز کے پاس پہلے چلے جانا تم لوگ۔ باقی چیزیں تو آہستہ آہستہ ہوتی رہیں گی۔” ہاشم مبین نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس بار اپنی بیوی سے کہا۔
    ”بابا! مگر کس لیے؟” امامہ نے ایک بار پھر پوچھا۔ ”تمہاری امی نے بتایا نہیں تمہیں کہ ہم نے تمہاری شادی کی تاریخ طے کردی ہے۔”
    امامہ کے ہاتھ سے چمچ چھوٹ کر پلیٹ میں جاگرا۔ ایک لمحہ میں اس کا رنگ فق ہوگیا تھا۔
    ”میری شادی کی تاریخ؟” اس نے بے یقینی سے باری باری سلمیٰ اور ہاشم کو دیکھا جو اس کے تاثرات پر حیران نظر آرہے تھے۔
    ”ہاں تمہاری شادی کی تاریخ…” ہاشم مبین نے کہا۔
    ”یہ آپ کیسے کرسکتے ہیں؟ مجھ سے پوچھے بغیر۔ مجھے بتائے بغیر۔” وہ ہونق چہرے کے ساتھ انہیں دیکھ رہی تھی۔
    ”تم سے پچھلی دفعہ بات ہوئی تھی، اس سلسلے میں۔” ہاشم مبین یک دم سنجیدہ ہوگئے۔
    ”اور میں نے انکار کر دیا تھا۔ میں۔”
    ہاشم مبین نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔ ”میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ مجھے تمہارے انکار کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں اسجد کے گھر والوں سے بات کرچکا ہوں۔” ہاشم مبین نے تیز آواز میں کہا۔
    ”ڈائننگ ٹیبل پر یک دم گہری خاموشی چھا گئی تھی کوئی بھی کھانا نہیں کھا رہا تھا۔
    امامہ یک دم اپنی کرسی سے کھڑی ہوگئی۔ ”آئی ایم سوری بابا، مگر میں اسجد سے ابھی شادی نہیں کر سکتی۔ آپ نے یہ شادی طے کی ہے۔ آپ ان سے بات کر کے اسے ملتوی کردیں۔ ورنہ میں خود ان سے بات کرلوں گی۔” ہاشم مبین کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”تم اسجد سے شادی کروگی اور اسی تاریخ کو جو میں نے طے کی ہے۔ تم نے سنا؟” وہ بے اختیار چلائے۔
    ”It’s not fair” امامہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
    ”تم اب مجھے یہ بتاؤگی کیا فیئر ہے اور کیا نہیں۔ تم بتاؤگی مجھے؟” ہاشم مبین کو اس کی بات پر اور غصہ آیا۔
    ”بابا! جب میں نے آپ سے کہا تھا کہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی تو آپ زبردستی کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ۔” امامہ بے اختیار رونے لگی۔
    ”کر رہا ہوں زبردستی پھر میں حق رکھتا ہوں۔” وہ چلائے۔ امامہ اس بار کچھ کہنے کے بجائے اپنے ہونٹ بھینچتے ہوئے سرخ چہرے کے ساتھ تیزی سے ڈائننگ روم سے نکل گئی۔
    ”میں اس سے بات کرتی ہوں، آپ پلیز کھانا کھائیں۔ اتنا غصہ نہ کریں۔ وہ جذباتی ہے اور کچھ نہیں۔” سلمیٰ نے ہاشم مبین سے کہا اور خود وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
    ان کے کمرے سے نکلتے ہی وسیم کو دیکھ کر امامہ بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”تم دفع ہوجاؤ یہاں سے۔ نکل جاؤ۔” اس نے تیزی سے وسیم کے پاس جاکر اسے دھکا دینے کی کوشش کی۔ وہ پیچھے ہٹ گیا۔
    ”کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟”
    ”جھوٹ بول کر اور دھوکا دے کر تم مجھے یہاں لے کر آئے ہو۔ مجھے اگر لاہور میں پتہ چل جاتا کہ تم اس لیے مجھے اسلام آباد لا رہے ہو تو میں کبھی یہاں نہ آتی۔” وہ دھاڑی۔
    ”میں نے وہی کیا جو مجھ سے بابا نے کہا۔ بابا نے کہا تھا میں تمہیں نہ بتاؤں۔” وسیم نے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی۔
    ”پھر تم یہاں میرے پاس کیوں آئے ہو۔ بابا کے پا س جاؤ۔ ان کے پاس بیٹھو۔ بس یہاں سے دفع ہوجاؤ۔” وسیم ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا پھر کچھ کہے بنا کمرے سے نکل گیا۔
    امامہ اپنے کمرے میں جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس وقت اس کے پیروں کے نیچے سے صحیح معنوں میں زمین نکل چکی تھی۔ یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے گھر والے اس کے ساتھ اس طرح کرسکتے ہیں۔ وہ اتنے قدامت پرست یا کٹر نہیں تھے جتنے وہ اس وقت ہوگئے تھے۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ "مجھے اس صورت حال کا سامنا کرنا ہے۔ مجھے ہمت نہیں ہارنی۔ مجھے کسی نہ کسی طرح فوری طور پر جلال سے کانٹیکٹ کرنا ہے۔ وہ یقینا اب تک اپنے پیرنٹس سے بات کرچکا ہوگا۔ اس سے بات کر کے کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔”
    وہ بے چینی سے کمرے میں ٹہلتے ہوئے سوچتی رہی۔ اس کے کمرے میں دوبارہ کوئی نہیں آیا۔
    رات بارہ بجے کے بعد وہ اپنے کمرے سے نکلی۔ وہ جانتی تھی۔ اس وقت تک سب سونے کے لیے جاچکے ہوں گے۔ اس نے جلال کے گھر کا نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔ فون کسی نے نہیں اٹھایا۔ اس نے یکے بعد دیگرے کئی بار نمبر ملایا۔ آدھ گھنٹہ تک اسی طرح کالز کرتے رہنے کے بعد اس نے مایوسی کے ساتھ فون رکھ دیا۔ وہ جویریہ یا رابعہ کو فون نہیں کرسکتی تھی۔ وہ دونوں اس وقت ہاسٹل میں تھیں۔ کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد اس نے صبیحہ کا نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔ اس کے والد نے فون اٹھایا تھا۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۲

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۲

    یہ سب کچھ اسکول میں ہونے والے ایک واقعے سے شروع ہوا تھا۔ اِمامہ اس وقت میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی اور تحریم اس کی اچھی دوستوں میں سے ایک تھی۔ وہ لوگ کئی سال سے اکٹھے تھے اور نہ صرف ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے بلکہ ان کی فیملیز بھی ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں۔ اپنی فرینڈز میں سے امامہ کی سب سے زیادہ دوستی تحریم اور جویریہ سے تھی مگر اسے حیرت ہوتی تھی کہ اتنی گہری دوستی ہونے کے باوجود بھی جویریہ اور تحریم اس کے گھر آنے سے کتراتی تھیں۔ امامہ ہر سال اپنی سال گرہ پر انہیں انوائٹ کرتی اور اکثر وہ اپنے گھر پر ہونے والی دوسری تقریبات میں بھی انہیں مدعو کرتی، وہ گھر سے اجازت نہ ملنے کا بہانہ بنا دیتیں۔ چند بار امامہ نے خود ان دونوں کے والدین سے اجازت لینے کے لیے بات کی، لیکن اس کے بے تحاشا اصرار کے باوجود ان دونوں کے والدین انہیں اس کے گھر آنے کی اجازت نہ دیتے۔ ان کے اس رویے پر کچھ شاکی ہوکر اس نے اپنے والدین سے شکایت کی۔
    ”تمہاری یہ دونوں فرینڈز سید ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر ہمارے فرقہ کو پسند نہیں کرتے۔ اسی لیے ان دونوں کے والدین انہیں ہمارے گھر آنے نہیں دیتے۔”
    ایک بار اس کی امی نے اس کی شکایت پر کہا۔
    ”یہ کیا بات ہوئی… ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے…” امامہ کو ان کی بات پر تعجب ہوا۔
    ”اب یہ تو وہی لوگ بتا سکتے ہیں کہ وہ ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے… یہ تو ہمیں غیر مسلم بھی کہتے ہیں۔” اس کی امی نے کہا۔
    ”کیوں غیر مسلم کہتے ہیں۔ ہم تو غیر مسلم نہیں ہیں۔” امامہ نے کچھ الجھ کر کہا۔
    ”ہاں بالکل۔ ہم مسلمان ہیں… مگر یہ لوگ ہمارے نبی پر یقین نہیں رکھتے۔” اس کی امی نے کہا۔
    ”کیوں…؟”
    ”اب اس کیوں کا میں کیا جواب دے سکتی ہوں۔ بس یہ لوگ یقین نہیں رکھتے۔ کٹر ہیں بڑے، یہ تو انہیں قیامت کے دن ہی پتہ چلے گا کہ کون سیدھے رستے پر تھا۔ ہم یا یہ۔۔۔۔”
    ”مگر امی! مجھ سے تو انہوں نے کبھی مذہب پر بات نہیں کی۔ پھر مذہب مسئلہ کیسے بن گیا… اس سے کیا فرق پڑتا ہے، پھر دوسرے کے گھر آنے جانے سے کیا ہوتا ہے۔” امامہ ابھی بھی الجھی ہوئی تھی۔
    ”یہ بات انہیں کون سمجھائے… یہ لوگ ہمیں جھوٹا کہتے ہیں، حالاں کہ خود انہیں ہمارے بارے میں کچھ پتا نہیں… بس مولویوں کے کہنے میں آکر ہم پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ انہیں ہمارے بارے میں اورہمارے نبی کی تعلیمات کے بارے میں کچھ پتا ہو تو یہ لوگ اس طرح نہ کہیں۔ شاید پھر انہیں کچھ شعور آجائے… اوریہ لوگ بھی ہماری طرح راہِ ہدایت پر آجائیں۔ تمہاری فرینڈز اگر تمہارے گھر نہیں آتیں تو تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم بھی ان کے گھر مت جایا کرو۔”
    ”مگر امی! ان کی غلط فہمیاں تو دور ہونی چاہئیں میرے بارے میں۔” اِمامہ نے ایک با رپھر کہا۔
    ”یہ کام تم نہیں کرسکتیں۔ ان لوگوں کے ماں باپ مسلسل اپنے بچوں کی ہمارے خلاف برین واشنگ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ہمارے خلاف زہر بھرتے رہتے ہیں۔”
    ”نہیں امی! وہ میری بیسٹ فرینڈز ہیں۔ ان کو میرے بارے میں اس طرح نہیں سوچنا چاہیے۔ میں ان لوگوں کو اپنی کتابیں پڑھنے کے لیے دوں گی، تاکہ ان کے دل سے میرے بارے میں یہ غلط فہمیاں دور ہوسکیں، پھر ہوسکتا ہے یہ ہمارے نبی کو بھی مان جائیں۔” امامہ نے کہا۔اس کی امی کچھ سوچ میں پڑ گئیں۔
    ”آپ کو میری تجویز پسند نہیں آئی؟”
    ”ایسا نہیں ہے… تم ضرور انہیں اپنی کتابیں دو… مگر اس طریقے سے نہیں کہ انہیں یہ لگے کہ تم اپنے فرقہ کی ترویج کے لیے انہیں یہ کتابیں دے رہی ہو۔ تم انہیں یہ کہہ کر کتابیں دینا کہ تم چاہتی ہو وہ ہمارے بارے میں جانیں۔ ہم کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اوران سے یہ بھی کہنا کہ ان کتابوں کا ذکر وہ اپنے گھر والوں سے نہ کریں… ورنہ وہ لوگ زیادہ ناراض ہوجائیں گے۔” امامہ نے ان کی بات پر سر ہلا دیا۔
    ٭…٭…٭





    اس کے چند دنوں بعد اِمامہ اسکول میں کچھ کتابیں لے گئی تھی۔ بریک کے دوران وہ جب گراؤنڈ میں آکر بیٹھیں توامامہ اپنے ساتھ وہ کتابیں بھی لے آئی۔
    ”میں تمہارے اور جویریہ کے لیے کچھ لے کر آئی ہوں۔”
    ”کیا لائی ہو دکھاؤ؟” اِمامہ نے شا پر سے دو کتابیں نکال لیں اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان دونوں کی طرف بڑھا دیا۔ وہ دونوں ان کتابوں پر ایک نظر ڈالتے ہی کچھ چپ سی ہوگئیں۔ جویریہ نے امامہ سے کچھ نہیں کہا مگر تحریم یک دم کچھ اکھڑ گئی۔
    ”یہ کیا ہے؟” اس نے سر دمہری سے پوچھا۔
    ”یہ کتابیں ہیں تمہارے لیے لائی ہوں۔” امامہ نے کہا۔
    ”کیوں…؟”
    ”تاکہ تم لوگوں کی غلط فہمیاں دورہوسکیں۔”
    ”کس طرح کی غلط فہمیاں؟”
    ”وہی غلط فہمیاں جو تمہارے دل میں، ہمارے فرقے کے بارے میں ہیں۔” اِمامہ نے کہا۔
    ”تم سے کس نے کہا کہ ہمیں تمھارے ”مذہب” یا تمہارے نبی کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں ہیں؟ تحریم نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”میں خود اندازہ کرسکتی ہوں۔ صرف اسی وجہ سے تو تم لوگ ہمارے گھر نہیں آتے۔ تم لوگ شاید سمجھتے ہو کہ ہم لوگ مسلمان نہیں ہیں یا ہم لوگ قرآن نہیں پڑھتے یا ہم لوگ محمدﷺکو پیغمبر نہیں مانتے حالاں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے… ہم لوگ ان سب چیزوں پر یقین رکھتے ہیں۔ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ محمدﷺکے بعد ہمارا ایک امتی نبی ہے اور وہ بھی اسی طرح قابل احترام ہے جس طرح محمدۖ۔” اِمامہ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
    تحریم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں اسے واپس تھما دیں۔ ”ہمیں تمہارے اور تمہارے مذہب کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے… ہم تمہارے مذہب کے بارے میں ضرورت سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس لیے تم کو کوئی وضاحت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے بڑے روکھے لہجے میں اِمامہ سے کہا۔ ”اورجہاں تک ان کتابوں کا تعلق ہے تو میرے اورجویریہ کے پاس اتنا بے کار وقت نہیں ہے کہ ان احمقانہ دعووں، خوش فہمیوں اور گمراہی کے اس پلندے پر ضائع کریں جسے تم اپنی کتابیں کہہ رہی ہو۔” تحریم نے ایک جھٹکے کے ساتھ رابعہ کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں کھینچ کر انہیں بھی اِمامہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اِمامہ کا چہرہ خفت اورشرمندگی سے سرخ پڑ گیا۔ اسے تحریم سے اس طرح کے تبصرے کی توقع نہیں تھی اگر ہوتی تو وہ کبھی اسے وہ کتابیں دینے کی حماقت ہی نہ کرتی۔
    ”اور جہاں تک اس احترام کا تعلق ہے تو اس نبی میں جس پر نبوت کا نزول ہوتا ہے اوراس نبی میں جو خود بخود نبی ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے زمین اورآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ تم لوگوں کو اگر قرآن پر واقعی یقین ہوتا تو تمہیں اس کے ایک ایک حرف پر یقین ہوتا۔ نبی ہونے میں اورنبی بننے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔”
    ”تحریم! تم میری اورمیرے فرقہ کی بے عزتی کر رہی ہو۔” امامہ نے آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ کہا۔
    ”میں کسی کی بے عزتی نہیں کر رہی۔ میں صرف حقیقت بیان کر رہی ہوں، وہ اگر تمہیں بے عزتی لگتی ہے تو اس کے بارے میں کچھ نہیں کرسکتی…” تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”روزہ رکھنے میں اوربھوکے رہنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ قرآن پڑھنے اور اس پر ایمان لانے میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے۔ بہت سارے عیسائی اور ہندو بھی اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے قرآن پاک پڑھتے ہیں تو کیا انہیں مسلمان مان لیا جاتا ہے اوربہت سے مسلمان بھی دوسرے مذہب کے بارے میں جاننے کے لیے دوسری الہامی کتابیں پڑھتے ہیں تو کیا وہ غیر مسلم ہوجاتے ہیں اورتم لوگ اگر حضورﷺکوپیغمبر مانتے ہو تو کوئی احسان نہیں کرتے۔ تم ان کی نبوت کو جھٹلاؤگے تو اور کیا کیا جھٹلاؤگے، پھر تو انجیل کو بھی جھٹلانا پڑے گا، جس میں حضورﷺکی نبوت کی خوش خبری دی گئی ہے، پھر تو توریت کو بھی جھٹلانا پڑے گا، جس میں ان کی نبوت کی بات کی گئی ہے، پھر قرآن پاک کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو محمدﷺکو آخری نبی قرار دیتا ہے اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر تمہارا نبی محمدﷺکی نبوت کو جھٹلاتا تو وہ ان مناظروں کی کیا توجیہہ پیش کرتا جو وہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے کئی سال عیسائی پادریوں سے محمدﷺ کی نبوت اور اسلام کے آخری دین ہونے پر کرتا رہا تھا۔ اس لیے امامہ ہاشم! تم ان چیزوں کے بارے میں بحث کرنے کی کوشش مت کرو، جن کے بارے میں تمہیں سرے سے کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ تمہیں نہ اس مذہب کے بارے میں پتا ہے، جس پر تم چل رہی ہو اورنہ اس کے بارے میں جس پر تم بات کر رہی ہو۔”
    تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”اورمیں ایک چیز بتادوں تمہیں… دین میں کوئی جبر نہیں ہوتا… تم لوگ محمد ﷺ کی نبوت کے حتمی ہونے کا انکار کرتے ہو تو ہمارے پیغمبر محمد ﷺ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
    ”مگر ہم محمدﷺکی نبو ت پر یقین رکھتے ہیں۔” اِمامہ نے اس با ت پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”تو پھرہم بھی انجیل پر یقین رکھتے ہیں، اسے الہامی کتاب مانتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں تو کیا ہم کرسچن ہیں…؟ اور ہم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت داؤد علیہ السلام کی نبوت پر بھی یقین رکھتے ہیں تو کیا پھر ہم یہودی ہیں؟ "تحریم نے کچھ تمسخر سے کہا ”لیکن ہمارا دین اسلام ہے، کیوں کہ ہم محمد ﷺ کے پیروکا رہیں، اورہم ان پیغمبروں پر یقین رکھنے کے باوجود نہ عیسائیت کا حصہ ہیں نہ یہودیت کا، بالکل اسی طرح تم لوگوں کا نبی ہے کیوں کہ تم اس کے پیروکار ہو۔ ویسے تم لوگ تو ہمیں بھی مسلمان نہیں سمجھتے۔ ابھی تم اصرار کر رہی ہو کہ تم اسلام کا ایک فرقہ ہو… جب کہ تمہارے نبی اوراس کے بعد آنے والے تمہاری جماعت کے تمام لیڈرز کا دعویٰ ہے کہ جو مرزا کی نبوت پریقین نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے… تو اسلام سے تو تم لوگ تمام مسلمانوں کو پہلے ہی خارج کر چکے ہو۔۔۔”
    ”ایسا کچھ بھی نہیں ہے… میں نے ایسا کب کہا ہے؟” امامہ نے قدرے لڑکھڑائے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”تو پھر تم اپنے والد صاحب سے ذرا اس معاملے کو ڈسکس کرنا… وہ تمہیں خاص اپ ٹو ڈیٹ انفارمیشن دیں گے، اس بارے میں … تمہارے مذہب کے خاصے سرکردہ رہ نما ہیں وہ …” تحریم نے کہا ”اور یہ جو کتابیں تم ہمیں پیش کر رہی ہو… انہیں خود پڑھا ہے تم نے … نہیں پڑھا ہوگا۔ ورنہ تمہیں پتا ہوتا ان سرکردہ رہ نماؤں کے بارے میں۔”
    جویریہ تحریم کی اس ساری گفتگو کے دوران خاموش رہی تھی، وہ صرف کن اکھیوں سے امامہ کو دیکھتی رہی تھی۔” اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ محمدﷺا س کے آخری نبی ہیں اورمیرے پیغمبرﷺاس پر گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کے آخری نبی ہیں اورمیری کتاب مجھ تک یہ دونوں باتیں بہت صاف واضح اور دو ٹوک انداز میں پہنچا دیتی ہے تو پھر مجھے کسی اورشخص کے ثبوت اور اعلان کی ضرورت نہیں ہے… سمجھیں۔”
    تحریم نے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”بہتر ہے تم اپنے مذہب کو یا میرے مذہب کو زیر بحث لانے کی کوشش نہ کرو۔ اتنے سالوں سے دو ستی چل رہی ہے، چلنے دو۔۔۔”
    ”جہاں تک تمہارے گھر نہ آنے کا تعلق ہے تو ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے کہ میرے والدین کو تمہارے گھر آنا پسند نہیں ہے۔ یہاں اسکول میں تم سے دوستی اور بات ہے۔ بہت سے لوگوں سے دوستی ہوتی ہے ہماری اور دوستی میں عام طورپر مذہب آڑے نہیں آتا لیکن گھر میں آنا جانا … کچھ مختلف چیز ہے… انہیں شاید میری کسی عیسائی یا یہودی یا ہندو دوست کے گھر جانے پر اعتراض نہ ہو لیکن تمہارے گھر جانے پر ہے… کیوں کہ وہ لوگ اپنے مذہب کو مانتے ہیں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے، جس مذہب سے تعلق ہوتا ہے وہی بتاتے ہیں، اوریہ بھی حقیقت ہے کہ جتنا تم لوگوں کو ناپسند کیا جاتاہے اتنا ان لوگوں کو نہیں کیا جاتا کیوں کہ تم لوگ صرف پیسے کے حصول اوراچھے مستقبل کے لیے یہ نیا مذہب اختیار کر کے ہمارے دین میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہو، مگر کرسچن، ہندو یا یہودی ایسا نہیں کرتے۔”
    امامہ نے بے اختیا رٹوکا ”کس پیسے کی بات کر رہی ہو تم…؟ تم ہماری فیملی کو جانتی ہو… ہم لوگ شروع سے ہی بہت امیر ہیں۔ ہمیں کون سا روپیہ مل رہا ہے اس مذہب پر رہنے کے لیے۔”
    ”ہاں تم لوگ اب بڑے خوش حال ہو، مگر شروع سے تو ایسے نہیں تھے تمہارے دادا مسلمان مگر غریب آدمی تھے۔ وہ کاشت کاری کیا کرتے تھے اورایک چھوٹے سے کاشت کار تھے۔ ربوہ سے کچھ فاصلے پر ان کی تھوڑی بہت زمین تھی پھر تمہارے تایا نے اپنے کسی دوست کے توسط سے وہاں جانا شروع کردیا اور یہ مذہب اختیار کرلیا اور بے تحاشا امیر ہوگئے کیوں کہ انہیں وہاں سے بہت زیادہ پیسہ ملا پھر آہستہ آہستہ تمہارے والد اورتمہارے چچا نے بھی اپنا مذہب بدل لیا پھر تم لوگوں کا خاندان اس ملک کے متمول ترین خاندانوں میں شما رہونے لگا اوریہ کام کرنے والے تم لوگ واحد نہیں ہو زیادہ تر اسی طریقے سے لوگوں کو اس مذہب کا پیرو کار بنایا جا رہا ہے۔”
    امامہ نے کچھ بھڑکتے ہوئے اس کی بات کو کاٹا ”تم جھوٹ بول رہی ہو۔”
    ”تمہیں یقین نہیں آرہا تو تم اپنے گھر والوں سے پوچھ لینا کہ اس قدر دولت کس طرح آئی ان کے پاس… اورابھی بھی کس طرح آرہی ہے۔ تمہارے والد اس مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں ڈالرز آتے ہیں، انہیں غیر ملکی مشنریز اوراین جی اوز سے …” تحریم نے کچھ تحقیر آمیز انداز میں کہا۔
    ”یہ جھوٹ ہے، سفید جھوٹ۔” امامہ نے بے اختیار کہا۔ ”میرے بابا کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیتے۔ وہ اگر اس فرقہ کے لیے کام کرتے ہیں، تو غلط کیا ہے۔ کیا دوسرے فرقوں کے لیے کام نہیں کیا جاتا۔ دوسرے فرقوں کے بھی تو علماء ہوتے ہیں یا ایسے لوگ جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔”
    ”دوسرے فرقوں کو یورپی مشنریز سے روپیہ نہیں ملتا۔”
    ”میرے بابا کو کہیں سے کچھ نہیں ملتا۔” امامہ نے ایک با رپھر کہا۔ تحریم نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    اِمامہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا پھر گردن موڑ کر اپنے پاس بیٹھی جویریہ کی طرف دیکھا۔
    ”کیا تم بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہو؟”
    ”تحریم نے غصہ میں آکر تم سے یہ سب کچھ کہا ہے۔ تم اس کی باتوں کا برا مت مانو۔” جویریہ نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
    ”تم ان سب باتوں کو چھوڑو… آؤ کلاس میں چلتے ہیں، بریک ختم ہونے والی ہے۔” جویریہ نے کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوگئی۔
    ٭…٭…٭




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱

    پیش لفظ

    پیر کاملﷺکو میں نے آپ کے لیے لکھا ہے۔ آپ سب کی زندگی میں آنے والے اس موڑ کے لیے، جب روشنی یا تاریکی کے انتخاب کا فیصلہ ہم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، ہم چاہیں تو اس راستے پر قدم بڑھادیں جو روشن ہے اور چاہیں تو تاریکی میں داخل ہو جائیں۔
    روشنی میں ہوتے ہوئے بھی انسان کو آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔ اگر وہ ٹھوکر کھائے بغیر زندگی کا سفر طے کرنا چاہتا ہے تو تاریکی میں داخل ہونے کے بعد آنکھیں کھلی رکھیں یا بند کوئی فرق نہیں پڑتا، تاریکی ٹھوکروں کو ہماری زندگی کا مقدر بنا دیتی ہے۔
    مگر بعض دفعہ تاریکی میں قدم دھرنے کے بعد ٹھوکر لگنے سے پہلے ہی انسان کو پچھتاوا ہونے لگتا ہے۔ وہ واپس اس موڑ پر آنا چاہتا ہے جہاں سے اس نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ تب صرف ایک چیز اس کی مدد کرسکتی ہے، کوئی آواز جو رہ نمائی کا کام کرے اور انسان اطاعت کے علاوہ کچھ نہ کرے۔
    پیر کاملﷺوہی آواز ہے، جو انسان کو تاریکی سے روشنی تک لاسکتی ہے اور لاتی ہے۔ اگر انسان روشنی چاہے تو اور ”یقینا ہدایت انہیں کو دی جاتی ہے جو ہدایت چاہتے ہیں۔”
    آئیے ایک بار پھر پیر کاملﷺکو سنیں!
    عمیرہ احمد




  • امربیل — قسط نمبر ۸

    امربیل — قسط نمبر ۸

    "تمہارا جہانگیر کے ساتھ کوئی جھگڑا ہے؟” اس شام لان میں چائے پیتے ہوئے باتوں کے دوران اچانک لئیق انکل نے اس سے پوچھا۔
    عمر چونکا ”نہیں۔” اس نے بڑے نارمل انداز میں کہا۔
    ”اچھا!” لئیق انکل نے حیرت کا اظہار کیا۔ ”جہانگیر تو کہہ رہا تھا کہ تم آج کل اس سے کچھ ناراض ہو۔ تم دونوں کے درمیان کوئی بات وات نہیں ہوتی؟”
    لئیق انکل نے چائے کے سپ لیتے ہوئے بڑے جتانے والے انداز میں کہا۔
    ”نہیں، بات تو ہوجاتی ہے مگر کوئی خوشگوار انداز میں نہیں ہوتی۔” عمر نے بڑی لاپروائی سے کہا۔
    ”اچھا! کیوں؟” لئیق انکل نے خاصی بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا۔
    عمر نے ایک گہری نظر ان پر ڈالی۔ ”پاپا خوشگوار انداز میں کسی خوبصورت عورت سے ہی بات کرتے ہیں۔ یا پھر کسی سیاست دان سے۔”
    لئیق انکل نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔ عمر اسی طرح بے تاثر چہرے سے انہیں دیکھتا رہا۔ بمشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ”you have a very good sense of humour” (تمہاری حس مزاح بہت اچھی ہے) مگر اس طرح کی بات جہانگیر کے سامنے مت کرنا۔”
    ”ورنہ وہ چوتھی شادی کرلیں گے۔ ہے نا۔۔۔” عمر نے لاپروائی سے کہہ کر ایک بار پھر چائے پینا شروع کردیا۔
    ”اسی قسم کی باتیں تم جہانگیر سے کرتے ہو، اسی لیے تو وہ اتنا پریشان رہتا ہے۔”
    ”ایکسکیوزمی! پاپا میری وجہ سے پریشان نہیں ہوتے۔ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں نہ ہی کسی دوسرے کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔”
    عمر نے چائے کا کپ سامنے پڑی ہوئی میز پر رکھ دیا۔
    ”عمر! جہانگیر کے بارے میں اتنا بدگمان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تمہاری بہت پروا کرتا ہے۔ تم اس کے بیٹے ہو۔ وہ تمہارے رویے کی وجہ سے بہت فکر مند رہتا ہے۔” لئیق انکل یکدم سنجیدہ ہوگئے۔
    ”اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں ان کی اولاد ہوں یا ان کا بیٹا ہوں۔”




    ”کیوں فرق نہیں پڑتا… تم جہانگیر سے پوچھو، کتنی اہمیت ہے اس کے نزدیک تمہاری۔”
    ”میں ان کی اکلوتی اولاد نہیں ہوں۔ دوسری بیوی سے بھی ان کی اولاد ہے اور اب۔ اب تیسری سے بھی ہوجائے گی۔” اس کے لہجے میں تلخی تھی۔
    ”مگر تم اس کے سب سے بڑے بیٹے ہو۔ تمہاری اور اس کی بہت اچھی انڈراسٹینڈنگ ہونی چاہیے ورنہ آگے چل کر اور پرابلمز ہوں گی۔”
    عمر نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا۔ ”کیا مطلب! آگے چل کر کیا پرابلمز ہوں گی؟” عمر نے کچھ الجھ کر کہا۔
    ”وہ تمہارے مستقبل کے بارے میں بہت کچھ پلان کرتا رہتا ہے۔ کل کو جب تمہاری شادی کے بارے میں اگر وہ کوئی فیصلہ کرنا چاہے گا تو اس طرح کے ٹکراؤ کی صورت میں پرابلم ہوگا۔”
    لئیق انکل نے اتنے نارمل انداز میں یہ بات کہی کہ وہ ان کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔
    ”میں آپ کی بات نہیں سمجھا ہوں۔ آپ کس کی شادی کی بات کر رہے ہیں؟” اس نے سرد آواز میں کہا۔
    ”تمہاری شادی کے بارے میں؟”
    ”میری شادی کے بارے میں پاپا کچھ طے کیوں کریں گے؟”
    ”وہ تمہارا باپ ہے۔”
    ”تو۔۔۔”
    ”عمر! تمہیں شادی۔۔۔”
    اس نے یکدم لئیق انکل کی بات کاٹ دی۔ ”انکل! آپ مجھ سے جو کچھ بھی کہنا چاہتے ہیں، صاف صاف کہیں۔ کیا پاپا نے میری شادی کے بارے میں آپ سے کچھ کہا ہے؟” وہ جیسے بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔
    لئیق انکل کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتے رہے۔ ”شادی تو نہیں! ہاں البتہ وہ تمہاری انگیجمنٹ ضرور کرنا چاہتا ہے۔”
    ”کس سے؟”
    ”یہ میں نہیں جانتا۔”
    ”بہت خوب، بہر حال آپ پاپا کو بتا دیں کہ مجھے شادی نہیں کرنا نہ آج نہ ہی آئندہ کبھی اور جس سے وہ میری انگیجمنٹ کرنا چاہتے ہیں اس سے خود شادی کرلیں۔” اس کی آواز میں تلخی تھی۔
    ”یار! تم خواہ مخواہ ناراض ہو رہے ہو، میں نے تو ویسے ہی بات کی تھی ایک… اس نے کون سا کچھ طے کرلیا ہے۔”
    تم مجھے یہ بتاؤ کہ صفدر مقصود کے ساتھ کیسی ملاقات رہی تمہاری؟”
    لئیق انکل نے یکدم بات کا موضوع بدلتے ہوئے سائیکالوجسٹ کا نام لیا۔
    ”میں نے پاپا سے پہلے بھی کہا تھا، مجھے کسی سائیکالوجسٹ کے ساتھ سٹنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے لیے یہ سائیکالوجیکل ٹیسٹ ایک کیک واک ہے۔ مجھے صفدر مقصود جیسے لوگوں کی گائیڈنس کی ضرورت نہیں ہے۔”
    ”کسی بھی چیز کو اتنا سرسری نہیں لینا چاہیے۔ بعض دفعہ یہ نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔ صفدر مقصود نے ہی بعد میں تمہارا انٹرویو کرنا ہے۔ اس لیے جو کچھ وہ بتاتا ہے، اسے غور سے سنا کرو۔” لئیق انکل نے اسے سنجیدگی سے سمجھایا۔




  • امربیل — قسط نمبر ۷

    امربیل — قسط نمبر ۷

    ”میں نے سوچا شاید تم زارا سے ملتے ہوگے۔”
    علیزہ اگلی شام اپنے کمرے سے نکل کر لاؤنج کی طرف آرہی تھی، جب اس نے لاؤنج میں نانو کو عمر سے کہتے سنا تھا۔ وہ ٹھٹھک گئی۔
    رات کو عمر کے کمرے میں جانے کے بعد وہ بھی کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آگئی تھی… بہت دیر تک وہ عمر کے بارے میں سوچتی رہی پھر آہستہ آہستہ نیند نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
    آج صبح عمر ناشتے کی میز پر نہیں تھا۔ کالج سے واپس آنے پر اس نے لنچ پر بھی موجود نہیں پایا۔ ”سر میں کچھ درد ہے اس کے… آرام کر رہا ہے۔” اس کے پوچھنے پر نانو نے کہا تھا۔




    علیزہ کچھ بے چین ہوگئی۔ ”کیا زیادہ درد ہے؟”
    ”پتا نہیں… کچھ بتایا نہیں کہہ رہا تھا کہ سوؤں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔” نانو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”آپ کو پوچھنا چاہیے تھا!” اس نے بے ساختہ کہا۔ ”موسم تبدیل ہو رہا ہے اسی کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔” نانو نے اس کی بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا تھا۔
    وہ کچھ دیر تک انہیں دیکھتے رہنے کے بعد اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔
    عمرکے لئے اس کے دل میں موجود ہمدردی میں یک دم اضافہ ہوا تھا۔ پڑھائی کے دوران بھی وہ بدستور عمر کے بارے میں سوچتی رہی۔
    اور اب جب وہ تین گھنٹے بعد شام کی چائے کیلئے نکلی تھی تو وہ لاؤنج میں موجود تھا۔
    ”نہیں، آپ نے غلط سوچا۔ میں ممی سے نہیں ملتا ہوں۔”
    وہ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے مدھم آواز میں نانو سے کہہ رہا تھا۔
    ”کیوں؟” نانو کے سوال پر عمر نے چند لمحے خاموشی سے ان کے چہرے کو دیکھا تھا۔
    ”کبھی طلب محسوس نہیں ہوئی۔” اس کا لہجہ بہت عجیب تھا۔
    ”والدین اور اولاد ایک دوسرے کیلئے طلب نہیں ضرورت ہوتے ہیں۔” نانو نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا تھا۔
    ”ہماری کلاس میں پیرنٹس اور اولاد ایک دوسرے کیلئے طلب ہوتے ہیں نہ ہی ضرورت ،بلکہ چیزوں کی طرح ہوتے ہیں… جب اولاد کو ضرورت پڑے تو وہ ماں باپ کو استعمال کرلے اور جب ماں باپ کو ضرورت پڑے تو وہ اولاد کو استعمال کرلیں۔” علیزہ نے اس کی مذاق اڑاتی ہوئی ہنسی سنی تھی۔ وہ کوریڈور میں جہاں کھڑی تھی، وہاں سے اس کی پشت نظر آرہی تھی۔ وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی مگر اس کی آواز سے وہ اندازہ کرسکتی تھی کہ وہ طنز کر رہا تھا۔
    ”اس طرح مت کہو۔” نانو نے اسے جیسے روکنے کی کوشش کی تھی۔
    ”سچ کہہ رہا ہوں گرینی! جیسے میں یہ مگ استعمال کر رہا ہوں نا میرے اور اس مگ کے درمیان اتنا ہی گہرا رشتہ ہے جتنا میرا اپنے ماں باپ کے ساتھ اور میرے ماں باپ کے نزدیک بھی میری اہمیت کافی کے اس گرم مگ جتنی ہی ہوگی جو ضرورت کے وقت ان کے کام آجائے۔” اس کا لہجہ پہلے سے زیادہ تلخ تھا۔
    علیزہ کوشش کے باوجود اندر داخل نہیں ہوسکی۔
    ”پتا نہیں، میرا اندر جانا ٹھیک ہے یا نہیں؟” وہ وہیں کھڑی سوچنے لگی۔
    ”تم زارا سے مل لیا کرو۔” نانو کی آواز میں اس بار ہمدردی جھلکی تھی۔
    ”کیوں؟” عمر کا لہجہ بہت تیکھا تھا۔ ”ا ب ایسا کیا ہوگیا ہے کہ میں ان سے مل لیا کروں؟”
    ”وہ تمہاری ماں ہے۔”
    ”تو میں کیا کروں؟”
    ”تم بچپن میں بہت اٹیچ تھے اس کے ساتھ۔”
    ”ہوسکتا ہے۔”
    ”جھوٹ مت بولو عمر!”
    ”میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں۔ میں واقعی انہیں مس نہیں کرتا بلکہ میں کبھی بھی کسی کو بھی مس نہیں کرسکتا۔” اس کی آواز میں بے حد سنجیدگی تھی۔
    ”مگر زارا تم سے ملنا چاہتی ہے۔ بہت محبت کرتی ہے وہ تم سے بار بار تمہاری باتیں کر رہی تھی۔ مجھے بتا رہی تھی کہ تمہیں اس نے سوات میں دیکھا تھا۔ پھر تمہیں ٹریس آؤٹ کرنے کی کوشش کی مگر تم ہوٹل سے چیک آؤٹ کرگئے۔ پھر اس نے اندازہ لگایا کہ تم یہیں ہوگے میرے پاس اور وہ سیدھی تمہارے پیچھے لاہور آگئی۔” نانو اب تفصیل سے بتا رہی تھیں۔
    ”بڑا کارنامہ کیا مجھے ڈھونڈ کر۔” اس نے عمر کو بڑبڑاتے سنا تھا۔
    ”وہ اپنی فیملی کو وہیں سوات میں چھوڑ کر صرف تمہارے لیے یہاں آئی تھی۔” نانو نے جیسے اسے جتایا۔
    ”نہ آتیں… اپنی فیملی کے ساتھ ہی رہتیں… انجوائے کرتیں۔”
    ”وہ صرف تمہارے لیے یہاں آئی تھیں… مجھے بتا رہی تھی کہ تمہیں بہت مس کرتی ہے۔”
    ”مس کرتی ہیں تو یہ ان کی غلطی ہے نہ کیا کریں… بے اولاد تو نہیں ہیں۔ دوسرے بیٹے ہیں نا پاس… پھر میرے لیے یہ ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟” اس کے لہجے میں بے زاری تھی۔




  • امربیل — قسط نمبر ۶

    امربیل — قسط نمبر ۶

    ”ان این جی اوز کے آفس کینٹ کے علاقہ میں ہیں اور ظاہر ہے یہ تو ناممکن ہے کہ آرمی کے علاقے میں ہونے والی ایسی سرگرمیاں آرمی کی ایجنسیز سے خفیہ ہوں مگر وہ بھی صرف رپورٹس دے دیتے ہیں… کچھ کر نہیں سکتے۔”
    وہاں اس عمارت کے بڑے کمرے میں سب لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے اسے عمر کی بات بے اختیار یاد آئی۔ وہ لوگ لاہور سے سیدھا اس گاؤں میں جانے کے بجائے پہلے اس این جی او کے آفس میں گئے جو شہر کے اندر کینٹ کے علاقے میں ایک خاصی بڑی کوٹھی میں واقع تھا، عمر کی ایک بات سچ ثابت ہوگئی تھی۔ وہاں انہیں اس این جی او کی طرف سے اپنے کام اور آفس کی دوسری سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی جانی تھی۔ اس وقت وہ چائے اور اسنیکس سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور علیزہ کو یہ دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی کہ اس نسبتاً قدامت پسند علاقے میں بھی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداداس این جی او کیلئے کام کر رہی تھی جو خاصی حیران کن بات تھی آفس کی عمارت کا ایک جائزہ لیتے ہوئے اسے قدم قدم پر حیرانی ہوئی تھی۔ عمارت میں موجود سہولتیں نہ صرف بے حد جدید تھیں۔ بلکہ خاصی وافر تھیں۔ اندر موجود کمپیوٹر اور فیکس مشینوں سے لے کر باہر موجود گاڑیوں کے ماڈلز تک یہ ظاہر کر رہے تھے کہ روپے کا خاصی فراوانی سے استعمال کیا جارہا ہے۔
    ”این جی او اگر واقعی دیہی علاقوں میں ریفارمز اور سوشل ڈیویلپمنٹ کیلئے کام کر رہی ہیں تو پھر ان کے آفسز بھی ان ہی گاؤں وغیرہ میں ہونے چاہئیں تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ مسلسل اور بہتر رابطہ میں رہیں مگر کسی بھی این جی او کا آفس تم گاؤں کے اندر نہیں دیکھو گی۔ سارے آفسر شہر کے سب سے مہنگے اور محفوظ علاقے میں خاصے گم نام اور خفیہ رکھے گئے ہیں اگر ان کا کام لوگوں کی بہتری ہی ہے تو پھر انہیں تو لوگوں کے ساتھ رابطے زیادہ بڑھانے چاہئیں اپنے آفسزکو ایسی جگہوں پر رکھنا چاہیے جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے نام سے واقف ہوں، ان کے پاس آسکیں مگر ایسا نہیں ہے شہر کے اردگرد گاؤں کے لوگ ان کے نام سے بہت آشنا ہیں مگر شہر میں اگر تم کینٹ کے علاقے میں بھی کھڑے ہو کر کسی سے کسی بھی این جی او کا نام بتا کر آفس کا پتا پوچھو تو وہ بے خبر ہوگا اگر انہیں کچھ لیک آؤٹ ہوجانے کا خطرہ نہیں ہے تو یہ لوگوں کو کھلے عام اپنے آفس میں کیوں آنے نہیں دیتیں۔ انٹرنیشنل میڈیا تو دھوم مچا رہا ہے ان کے کارناموں کی مگر مقامی اخبارات تک ان کے کام اور نام سے بے خبر ہیں۔” اسے عمر کے الزامات یاد آرہے تھے۔
    چائے اور دوسرے لوازمات سے فارغ ہونے کے بعد انہیں اس این جی او کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بریفنگ دینی شروع کی۔ ”جب ہم نے اس علاقے میں کام شروع کیا تھا اس وقت یہ پورا علاقہ ہر طرح سے پسماندہ تھا… یہاں زندگی کی بنیادی سہولیات تک نہیں تھیں صرف تیس فیصد بچے اسکول جاتے تھے اور پرائمری میں ڈراپ آؤٹ ریٹ بہت زیادہ تھا، اور وہ بہت سے مہلک امراض کا شکار ہو تے تھے۔ عورتوں کی حالت تو اس سے بھی زیادہ خراب تھی۔ ڈرگز کا استعمال بھی اس علاقے میں بہت زیادہ تھا۔”
    وہ اب دوسرا ”Version” سن رہی تھی۔ ”اس علاقے میں موجود فیکٹریاں بانڈڈ لیبر کروا رہی تھیں۔ دیہاتی علاقے سے زمیندار زبردستی فیکٹریز کے مالکان کے مطالبے پر کام کیلئے لوگوں کو بھجواتے تھے۔ جو اجرت ان لوگوں کو دی جاتی تھی اسے سن کر آپ کو شاک لگے گا مگر لوگ کام کرنے پر اس لیے مجبور تھے کہ خواندگی کی شرح بہت کم تھی اور بے روزگاری بہت زیادہ تھی۔ بنیادی طور پر یہ زرعی علاقہ تھا مگر لوگوں نے اپنی زرخیز زمینیں فیکٹریز کی تعمیر کیلئے بیچنا شروع کردیں۔ اس سے یہ ہوا کہ اس علاقے میں کاشت کاری بہت کم ہوگئی۔ ایک بڑے علاقے میں ٹینریز بن گئیں اور ٹینریز سے نکلنے والے آلودہ پانی نے اس علاقے کی زرخیزی پر منفی اثرات مرتب کیے لوگوں کو نہ صرف مالی طور پر بہت سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بہت سے جلدی امراض بھی ان علاقوں میں پھیل گئے دوسرے لفظوں میں یا مختصراً آپ یہ سمجھ لیں کہ اس علاقے میں زیادہ استحصال ہو رہا تھا۔”
    وہ بہت غور سے اس شخص کی باتیں سن رہی تھی۔
    ”پھر سب سے پہلے ہم نے اس علاقے میں کام شروع کیا۔ آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ یہ کتنا مشکل کام تھا بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ ایک ہر کولین ٹاسک تھا، شروع شروع میں ہم جہاں جاتے تھے ہم سے تعاون نہیں کیا جاتا تھا بعض جگہوں پر تو ہمارے ممبرز پر حملے بھی کیے گئے۔ ہم پر دباؤ ڈالا گیا۔ مختلف فیکٹریز کی طرف سے کہ ہم یہ کام نہ کریں انہیں خوف تھا وہاں لوگوں میں شعور آئے گا تو ان کا بزنس ٹھپ ہوجائے گا اور یہ خوف بالکل درست تھا جن حالات اور شرائط پر وہ لوگ کام کررہے تھے شعور حاصل کرنے پر سب سے پہلے وہ ان فیکٹریز کیلئے کام کرنا ہی چھوڑتے، ہماری ثابت قدمی نے ایک طرف تو ان علاقوں کے لوگوں میں ہم پر اعتماد بڑھایا بلکہ دوسری طرف ہمیں دیکھ کر بہت سی دوسری این جی اوز بھی میدان میں آگئیں ایک پورا نیٹ ورک قائم ہوگیا۔”




    اگر اسے عمر کی باتوں میں سچائی نظر آئی تھی تو اس شخص کے لہجے میں بھی وہ کوئی فریب ڈھونڈنے میں ناکام رہی اس کی الجھن بڑھ گئی تھی ”اپنی sense of Judgement۔” اسے عمر کی بات یاد آئی، مگر اسے استعمال کیسے کرتے ہیں اس نے سوچا تھا۔
    ”ہم لوگ گروپس بنا بنا کر سارا دن ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اور دوسرے تیسرے گاؤں پھرتے رہتے ہمیں ایک ایک گھر جانا پڑا۔ وہاں سارے کوائف اکٹھے کرنے پڑے۔ گھر میں افراد کی تعداد کتنی ہے۔، ان میں عورتیں کتنی ہیں اور ان کی عمریں کیا ہیں، مرد کتنے ہیں اور کس عمر کے ہیں، بچوں کی تعداد کیا ہے اور کس عمر کے ہیں، گھر میں کام کرنے والے افراد کی تعداد کیا ہے؟ اور وہ کس کام سے منسلک ہیں۔ ان کی آمدنی کتنی ہے گھر میں کون سی سہولتیں ہیں، کیا بچے اسکول جاتے ہیں۔ گھر میں خواندہ افراد کتنے ہیں؟ یہ سب کچھ جاننے کیلئے ہمیں بڑے پاپڑ بیلنے پڑے کیونکہ لوگ ہمیں شک کی نظر سے دیکھتے تھے اور معلومات چھپاتے تھے یا غلط معلومات دیتے تھے یا پھر بات ہی نہیں کرتے تھے ہمیں ان معلومات کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ ہم ان لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی پراپر پلاننگ کرسکتے۔”
    اس کے الجھے ہوئے ذہن میں اب کچھ اور گونج رہا تھا۔
    ”این جی اوزجب یہاں آئیں تو انہوں نے دیہی اصلاحات اور سوشل ڈویلپمنٹ کا نام لے کر حقائق اور اعداد و شمار اکٹھے کرنے شروع کردیئے۔ کس علاقے میں کس عمر تک کے بچے کام کر رہے ہیں؟ فٹ بال انڈسٹری سے منسلک عورتوں کی تعداد کیا ہے۔ بانڈڈ لیبر کی اجرتوں کا ریٹ کتنا ہے؟ ان لوگوں کو کس طرح کی سہولیات میسر ہیں؟ یہ سارا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے ”اور اب دیکھئے گا علیزہ بی بی آئندہ چند سالوں میں چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کے حوالے سے ان ہی علاقوں کے متعلق انٹرنیشنل میڈیا خاصا شور مچائے گا۔ کچھ پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔” اس نے اپنے ذہن سے عمر کی آواز جھٹکتے ہوئے دوبارہ اس شخص کی آواز پر توجہ دینی شروع کی۔
    ”ظاہر ہے یہ لوگ کسی آدمی کو تو گھر کے اندر آنے نہیں دیتے اس لیے ہمیں لڑکیوں کی ضرورت تھی جو یہ کام کرسکیں، اسی لیے آپ لوگ دیکھیں گے کہ اس علاقے میں کام کرنے والی ساری این جی اوز کے ساتھ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد وابستہ ہے۔”
    ”ہم دو دو لوگوں کا ایک گروپ بناتے تھے جو ایک لڑکی اور لڑکے پر مشتمل ہوتا تھا، یہ لوگ اپنے مخصوص علاقے میں جاتے اور خود کو بہن بھائی ظاہر کرتے اس علاقے کے امام مسجد سے رابطہ کرتے پھر اس کے ذریعے سے باقی لوگوں سے واقفیت حاصل کرتے۔ لڑکیوں کا گھر کے اندر آنا جانا شروع ہوتا، وہ ان کی ضرورت کی چھوٹی موٹی چیزیں ساتھ لے جاتے دوائیاں، صابن، خشک دودھ، بسکٹ اور اسی قسم کی چھوٹی موٹی دوسری چیزیں آہستہ آہستہ وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے لگے اور پھر کوائف اکٹھے کرنا کافی آسان ہوگیا۔ معلومات حاصل کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ تھا کہ ان لوگوں تک اپنی بات پہنچائی جائے اور انہیں ان باتوں کو ماننے کیلئے قابل کیا جائے۔ یہ کام زیادہ مشکل تھا مگر بہرحال کسی نہ کسی طرح ہم نے یہ کام بھی شروع کردیا۔
    ہمارے چار بنیادی مقاصد تھے، چائلڈ اور بانڈڈ لیبر کا خاتمہ، بچوں کیلئے تعلیم کی فراہمی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان علاقوں میں روزگار کے بہتر مواقع اور بہتر اجرت کی فراہمی اوراس کے علاوہ بھی کچھ اور چیزیں تھیں جو ہم کرنا چاہتے تھے مگر وہ اتنی اہمیت کے حامل نہیں تھے۔
    ہم اس علاقے اور وہاں کے رہنے والوں کی زندگیوں میں کیا تبدیلیاں لے کر آئے ہیں یہ آپ تب ہی جان پائیں گے جب آپ خود وہاں جائیں گے لوگوں سے باتیں کریں گے اور ان تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ہمیں یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ہم نے سب کچھ تبدیل کردیا ہے ظاہر ہے ہم ابھی بھی کام کر رہے ہیں اور تبدیلی ایک مسلسل عمل کا نام ہے لیکن ہم نے ایک اہم کام کا آغاز ضرور کیا ہے اور شاید جتنی بہتری این جی اوز وہاں لائی ہیں اتنی کوئی حکومت بھی نہیں لاسکتی تھی۔”
    شہلا نے اسے کہنی مار کر متوجہ کیا ”کیا تمہیں اب بھی ان پر شک ہے؟”
    ”کیا تمہیں شک ہے؟” اس نے جواباً پوچھا۔
    ”پتا نہیں میں تو بہت ہی کنفیوزڈ ہوں۔ ایک طرف عمر کی باتیں۔ دوسری طرف یہ لوگ… ابھی تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔” شہلا بھی اسی کی طرح الجھی ہوئی تھی۔
    ”ابھی تو یہ سب کچھ زبانی بتارہے ہیں جب ہم گاؤں میں جاکر رہیں گے تب ہی ہمیں اندازہ ہوسکے گا کہ کیا یہ واقعی سچ بول رہے ہیں یا پھر یہ واقعی کوئی جھوٹ ہے۔” اس نے شہلا سے کہا۔
    وہ آدمی ایک بار پھر بولنا شروع کرچکا تھا اب وہ اپنی این جی اوز کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا تھا اور اس کی کارکردگی کے حوالے سے کچھ حقائق پیش کر رہا تھا۔ سب لوگ بے حد سنجیدگی سے اس کی باتیں سننے میں مصروف تھے۔
    پہلی بار علیزہ کو اندازہ ہوا کہ سچ اور جھوٹ کو پہچاننا کتنا مشکل کام ہے۔ Sense of Judgement ہر بندے کے پاس ہوتی ہے اور اگر ہو بھی تو ضروری نہیں کہ اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی سب ہی کے پاس ہو۔ کم از کم اس کیلئے تو یہ سب بہت مشکل تھا۔
    ”اگر عمر کے پاس ٹھوس اعتراضات تھے تو اس چیز کی ان کے پاس بھی کمی نہیں ہے اگر وہ لاجک کی بات کرتا ہے تو یہ شخص بھی ہر چیز کو منطقی بنا کر ہی پیش کر رہا ہے اگر عمر کی بات میں سچائی نظر آئی تھی تو جھوٹا تو یہ آدمی بھی نہیں لگ رہا تھا پھر میں یہ کیسے طے کروں کہ کون صحیح اور کون غلط ہے۔”
    وہ جتنا سوچ رہی تھی اتنا ہی الجھتی جارہی تھی۔
    ***




  • امربیل — قسط نمبر ۳

    امربیل — قسط نمبر ۳

    اگلے دن یونیورسٹی میں اس کا دل نہیں لگا تھا۔ گھر واپس آتے ہی وہ سیدھا کچن میں گئی۔
    ”نانو رات کے لئے کیا پکوا رہی ہیں!”
    ” کوئی خاص چیز کھا نے کو دل چاہ رہا ہے؟”
    نانو نے مسکراتے ہوئے پوچھاتھا۔
    ”نہیں ! میں اپنے لئے نہیں عمر کے لئے پوچھ رہی ہوں۔ اس کے لئے کیا بنوا رہی ہیں۔”
    نانو کرسی پر بیٹھی ملازم سے فریزر صاف کروا رہی تھیں۔ انہوں نے کچھ حیرانی سے دیکھاتھا۔




    ”عمر کے لئے تو کچھ بھی نہیں بنوارہی۔”
    ”کیوں نانو ؟”
    وہ کچھ حیران رہ گئی۔
    ”آپ کو یاد ہے نا کہ وہ رات کو آ رہا ہے؟”
    ”ہاں ، مجھے یاد ہے ، وہ دو بجے کی فلائٹ سے یہاں آئے گا۔ پہنچتے پہنچتے اسے تین بج جائیں گے ظاہر ہے کہ اس وقت تو وہ کھانا نہیں کھائے گا، سیدھا سونے کے لئے چلا جائے گا۔”
    ”پھر بھی نانو! فرض کریں اس نے کھانا نہ کھا یا ہوا تو؟”
    ”یہ فرض کرنے والی بات ہے ہی نہیں ، وہ رات کا کھانا یقیناً فلائیٹ میں ہی کھائے گا۔ تم جانتی ہو کہ کھانے کے معاملہ میں وہ کتنا باقاعدہ ہے۔”
    ”پھر بھی نانو! بھوک کا کیا ہے۔ وہ تو کسی بھی وقت لگ سکتی ہے، اگر اس نے کچھ کھا نے کے لئے مانگ لیا؟”
    ”بعض دفعہ تم حماقت کی حد کر دیتی ہوعلیزہ! اس طرح بات کر رہی ہو جیسے گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہو ہی نا۔ تمہیں پتہ ہے ہر وقت فریج میں دو، تین ڈشز ضرور ہوتی ہیں۔ بھوکا نہیں سو ئے گاوہ۔”
    علیزہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔
    ”البتہ کل کے لئے میں کافی ڈشز بنوا رہی ہوں، تم دیکھ لینا بلکہ خود بھی خانساماں سے کہہ دینا ، اگر کوئی خاص چیز وہ بھو ل جائے تو۔”
    وہ اب دوبارہ ملازم کی طرف متوجہ ہو چکی تھیں۔
    ”میں دیکھ لوں گی ، آپ فکر نہ کریں۔”
    وہ کچن سے باہر آگئی تھی، لاؤنج کی گھڑی تین بجا رہی تھی۔
    ”اور وہ رات کے تین بجے گھر پہنچے گا۔ ابھی پورے بارہ گھنٹے باقی ہیں اور مجھے ان بارہ گھنٹوں میں کیا کرنا چاہئے ؟”
    اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی۔
    اپنے کمرے میں جاکر رات کو پہننے کے لئے کپڑے دیکھنے شروع کر دئیے تھے۔ پھر ایک لباس اس نے منتخب کر ہی لیاتھا ایک خیال آنے پر وہ واپس کچن میں آگئی تھی۔
    ”نانو ! عمر ڈرائیور کو پہچانے گاکیسے ؟ یہ ڈرائیور تو نیا ہے اور ڈرائیور بھی عمر کو نہیں پہچانتا!”
    ”میں نے ڈرائیور کو عمر کی تصویر دکھا دی تھی۔ مزید احتیاط کے طور پر میں نے اسے کارڈ پر عمر کا نام لکھ دیا ہے۔ عمر کارڈ اس کے پاس دیکھ کر خود ہی آ جائے گا۔”
    ”ہاں ! یہ ٹھیک ہے۔”
    وہ مطمئن ہو کر واپس اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    رات کا کھانا اس نے نانو کے ساتھ آٹھ بجے کھالیا۔ پہلی بار کلاک کو بار بار دیکھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وقت کو پر نہیں لگتے بلکہ بعض دفعہ وقت بالکل رک بھی جاتا ہے۔ اس کی تیز رفتاری ہی صبر آزما نہیں ہوتی ۔بعض دفعہ اس کی سست رفتاری بھی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
    ”نانو، آپ ڈرائیور کو کتنے بجے بھیجیں گی ؟”
    کھانے سے فارغ ہو کر علیزہ نے پوچھاتھا۔
    ”ایک بجے۔”
    ”آپ عمر کا انتظار کریں گی؟”
    ”ظاہر ہے ،مجھے تو ویسے بھی رات کو نیند نہیں آتی مگر تم چاہو تو جا کر سو جاؤ۔”
    ”نہیں نانو ! میں بھی انتظار کروں گی۔”
    ”تمہیں صبح یونیورسٹی جانا ہے۔”
    نانو نے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں ! مجھے پتہ ہے لیکن کچھ نہیں ہوگا۔”




  • امربیل — قسط نمبر ۱

    امربیل — قسط نمبر ۱

    مجھے یہ کہنا ہے

    بعض کہانیاں لکھتے ہوئے آپ کو ایک مستقل خلش کا احساس ہوتا رہتا ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں، یہ کہانی کہیں کوئی تبدیلی نہیں لائے گی۔ امربیل بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے جسے لکھتے ہوئے میں اسی احساس سے دوچار ہوں پھر بھی میں اس کہانی کو اس لئے لکھ رہی ہوں تاکہ آپ لوگ زندگی کے ایک اور پہلو کو جان سکیں۔ ان لوگوں کے دلوں اور ذہنوں پرایک نظر ڈال سکیں۔ جو پاکستان کے قیام کے بعد سے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ اچھے طریقے سے یا برے طریقے سے۔ بہرحال وہ اس ملک کو چلا رہے ہیں اور خود وہ اپنی زندگیوں میں کس ابنارمیلٹی کا شکار ہیں۔ امربیل میں آپ یہی دیکھ پائیں گے۔
    اس ناول کو پڑھتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ کوئی سیاسی ناول نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی تاریخی اور معاشرتی ناول ہے۔ یہ خواہش اور چاہ کا ناول ہے یا پھر سو دو زیاں کا۔ بعض دفعہ ساری زندگی گزارنے کے بعد بھی ہم یہ جان نہیں پاتے کہ ہمیں آخر زندگی میں کس چیز کی ضرورت تھی… کسی چیز کی ضرورت تھی بھی یا نہیں اور بعض دفعہ زندگی کے آخری لمحات میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم نے زندگی کا حاصل بنا رکھا تھا، اس چیز کے بغیر زندگی زیادہ اچھی گزر سکتی تھی۔ امربیل کے کردار بھی آپ کو آگہی کے اسی عذاب سے گزرتے نظر آئیں گے۔
    میں نے اس ناول میں کرداروں کی بھیڑ اکٹھی نہیں کی۔ صرف چند لوگ ہیں جو پہلے اپنے ارد گرد انسانی رشتوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور بعد میں صرف انسانوں کی … جو کوشش انہوں نے کبھی نہیں کی، وہ اپنے آپ کو تلاش کرنے کی ہے۔
    بنیادی طور پر امربیل ان ناولوں میں سے ایک ہے جو صرف ایک کردار کے لئے لکھا گیا اور یہ ایک ہی کردار کا ناول ہے۔ اب وہ کردار کس کا ہے… یہ آپ کو خود معلوم کرنا ہو گا۔ ہاں میں یہ دعویٰ کر سکتی ہوں کہ آپ اس کردار سے چاہنے کے باوجود بھی نفرت نہیں کر پائیں گے۔ حقیقت میں بھی آپ ایسے کرداروں کے ساتھ ایسی ہی محبت میں گرفتار رہتے ہیں اور … اور… یہی آپ کی غلطی ہے۔
    آئیے غلطی دہرائیں۔




    کوئی چھاؤں ہو
    جسے چھاؤں کہنے میں
    دوپہر کا گمان نہ ہو
    کوئی شام ہو
    جسے شام کہنے میں شب کا کوئی نشان نہ ہو
    کوئی وصل ہو
    جسے وصل کہنے میں ہجر رت کا دھواں نہ ہو
    کوئی لفظ ہو
    جسے لکھنے پڑھنے کی چاہ میں
    کبھی اک لمحہ گراں نہ ہو
    یہ کہاں ہوا ہے کہ ہم تمہیں
    کبھی اپنے دل سے پکارنے کی سعی کریں
    وہیں آرزو بے اماں نہ ہو۔
    وہیں موسمِ غمِ جاں نہ ہو

    عمیرہ احمد