Tag: عمیرہ احمد

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۱

    دانہ پانی — قسط نمبر ۱

    انتساب

    دانہ پانی کے نام
    جس کی تلاش کچھ کو پارس کرتی ہے کچھ کو پتھر

    =====================================

    پیش لفظ

    کبھی کبھی کہانی کاغذ پر شہد کی طرح بہتی ہے۔ ایک تار بناتے ہوئے، پھیل کر سمٹتے ہوئے، سمٹ کر پھیلتے ہوئے۔اپنی مٹھاس سے دل کو شکر کردیتی ہے۔
    دانہ پانی بھی کچھ ایسے ہی لمحوں میں لکھی ہوئی کہانی ہے، جب حرف کاغذ پر اُتر کر پہلے لفظ،پھر کہانی بُننے لگتے ہیں۔ کچھ کہانیاں دماغ کو کھپادیتی ہیں، کچھ دل کو چرخہ بنادیتی ہیں۔ تار تار کاتتے کاتتے ایک ایسا جہاں ایسے کرداروں کے ساتھ آکر آباد ہوجاتا ہے جوکبھی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ دانہ پانی بھی ایسے ہی جہاں کے ایسے ہی کرداروں کی کہانی ہے۔
    تکبّر سے دیا گیا دانہ اور عاجزی سے پلائے ہوئے پانی کے بیچ کوئی رشتہ کیسے جُڑ سکتاہے؟ جُڑ بھی جائے تو توڑ نہیں چڑھتا، توڑ چڑ ھ بھی جائے تو ہوک اور آہ میں ختم ہوجاتا ہے۔ قصّہ کہانی بن جاتا ہے… دانہ پانی بھی قصّہ کہانی بن گئے اور میں داستان گو۔
    تو چلیں آج سناتی ہوں کہانی دانے کی، جس کو تکبّر تھا کہ وہ لوگوں کی بھوک مٹاتا ہے، وہ نہ ملتا تو دُنیا مرجاتی… اور پانی کی جو کہتا ہے وہ نہ ہوتا تو دانہ سوکھا ہی بنجر مرجاتا، نہ اُگتا، نہ لہلہاتا، نہ کسی کے گھر کا گیہوںبنتا۔
    دانہ جھگڑالو تھا، خوب باتیں سُناتا، خوب لڑتا، طنز، طعنے، تہمت سب کہہ دیتا۔ ہر دوسرے کی بات پر پھٹ پڑتا۔
    پانی صلح جُو تھا۔ سب سُن لیتا۔ گہرا تھا، سب پی جاتا۔
    پر ایک دن پانی کو غصّہ آگیا تھا دانے کے تکبّر پر… بس ایک دن ہی غصّہ آیا تھا اور ایسا غصّہ کہ سب قصّہ کہانی بن گئے… دانہ بھی اور پانی بھی…موتیا بھی اور مراد بھی۔
    عمیرہ احمد

  • اچھے بچے

    اچھے بچے

    آئیں مل کر سارے بچے
    کام کریں اب اچھے اچھے

    مل جل کر تم رہنا سیکھو
    بن جاؤ تم سچے بچے

    لڑنا اچھی بات نہیں ہے
    لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے

    کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
    بن جاؤ گے اچھے بچے

  • آدھا سورج —- امایہ خان

    آدھا سورج —- امایہ خان

    تنگ گلی کے دونوں کناروں پر بنے فٹ پاتھ انہی لوگوں کے قبضے میں تھے۔ جن کی صورت بھک منگوں جیسی اور حرکتیں پاگل دیوانوں جیسی تھیں۔ دیواروں سے ٹیک لگائے، آنکھیں بند کیے چند جلالی پیر بھی تھے جنہیں ہر گزرتے شخص کے قدموں کی آہٹ پر ”حق اللہ” کا نعرہ لگانا یاد آجاتا۔ غیر متوجہ زائرین کے گزرجانے کے بعد وہ اپنی کمر کے پیچھے چھپے ہاتھ کو باہر لاتے اور سیاہ ہونٹوں کے کنارے پر باقی ماندہ چرس کا سگریٹ اڑس لیا جاتا۔
    مزار کے سامنے لوگوں کی کثیر تعداد دیکھ کر وہ بہت پہلے ہی گاڑی سے اترگئی تھی۔ یہاں تک چل کر آتے آتے اسے رستے کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکا اور شاید غلطی سے وہ اس پچھلی سڑک پر آگئی تھی۔ جہاں ڈیرہ ڈالے تمام افراد کا کھانا پینا چڑھاوے چڑھانے والوں کی ذمہ داری تھا۔ منت مانگنے، اتارنے آئے اکثر لوگ صاحب مزار کے پاس پہنچنے سے قبل ان فقیروں کے منہ سے اپنے لیے دعائے خیر سننے کے عوض جیبیں خالی کردیتے۔ ان کے نزدیک یہ بھی اللہ والے تھے جو اپنا گھر بار چھوڑے یہاں صاحب مزار کے عشق میں چُور محض لوگوں کی بھلائی کی خاطر رل رہے تھے۔ گندگی اور غلاظت کی بو اور تیز اگربتیوں کی مہک آپس میں دست و گریبان تھیں…. کبھی ایک حاوی ہوجاتی تو کبھی دوسری…. فضا ایسی تھی جیسے کثیف دھوئیں کے غبار گلاب کی خوشبو میں لپیٹ دیے گئے ہوں۔ وہ سیاہ بڑی سی چادر اوڑھے تیز قدموں سے چلنے کی کوشش کرتی ہوئی مزار کے اندر پہنچنا چاہتی تھی۔ مگر چلنے کا رستہ کہاں تھا… ہر دو قدم پر اسے ٹھہرجانا پڑتا۔ جب تک نکلنے کی راہ ملتی وہ ان فقیروں کو حسرت سے دیکھتی جو بہ ظاہر دنیا کے جھمیلوں سے آزاد مست زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے۔ پھر آگے بڑھتے وہ اپنی چادر درست کرتی چلنے لگتی۔ اسے یوں چادر میں چھپنے کا کوئی شوق نہیں تھا یہ تو مجبوری تھی، بیلا نے کہا تھا اپنے معمول کے حلیہ میں اسے مزار میں داخل ہونے کی اجازت ہر گز نہ ملے گی مجبوراً اسی کا شلوار قمیص پہننا پڑا جو اس کے ناپ سے کافی بڑا تھا۔ جھبلا نما قمیص اور جھول والی شلوار… اوپر سے نہایت میلا اور بدبودار اس کی ماں کی ہدایت پر ہر دم گھر کو چمکانے میں مصروف اس ملازمہ کا پسینے میں شرابور وجود شاید اس قابل نہیں تھا کہ اس پر توجہ دی جاتی یا کم از کم اتنا ریلیف تو دیا جاتا کہ وہ خود بھی اسی طرح صاف ستھری رہے جیسا گھر کی رکھتی ہے۔ اس کا دل اور دماغ اتنے well trained تھے کہ بنا سوچے سمجھے ہر مسئلہ کی جڑ اس کی ماں ہی قرارپاتی اور نہیں تو کیا؟ میں جو بے چین روح کی طرح پورے شہر میں …. جی ماری پھرتی ہوں…. سکون کی تلاش میں ….. اس میں قصور کس کا ہے؟





    اس کا دھیان حال میں تب واپس آیا جب وہ مزار کے احاطے میں داخل ہوکر سیڑھیوں کے سامنے پہنچ گیا سو ڈیڑھ سو سیڑھیاں چڑھ کر عقیدت مند صاحب مزار سے اپنی مرادیں مانگنے جارہے تھے۔ وہ بھی ان میں شامل ہوگئی۔
    ”وہ دیکھو اس پر حاضری آئی ہے” اپنے ساتھ چلتی دو عورتوں میں سے ایک کو نہایت جوش سے کہتے اور سامنے دیکھا، کچھ بھی سمجھ نہ آیا جائے۔ وہ کس طرف متوجہ ہوئی تھیں جو تیزی سے آخری چار سیڑھی پھلانگتی مزار سے پہلے والے کمرے کے دروازے پر جا کھڑی ہوئیں اور ایڑیاں اچک اچک کر سروں کے اوپر سے اندر جھانکنے کی کوشش کرنے لگیں۔ ابھی اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا تھا اور نہ ہی کوئی باہر جاسکتا تھا سب جہاں کے تہاں ٹھہرگئے تھے۔ اس چوکھٹ پر جہاں رنگ بہ رنگ موتیوں کی جھالر کچھ تازے کچھ باسی پھولوں کی لڑیاں جابجا لٹک رہی تھیں۔ کھلے صحن کے ایک طرف دیوار پر جالی خانوں میں کبوتر بیٹھے تھے اور کچھ کابکیں خالی تھیں۔ اس نے بھرپور نظر چاروں اطراف دوڑائی، دیوار کے کونے سے…. جہاں چپلیں سنبھال کے بیٹھا شخص لوگوں کو نمبروالی تختیاں پکڑارہا تھا۔ چند پھول فروش تھالیوں میں پھولوں کی پتیاں لیے بیٹھے تھے نیچے گلی میں بھی تو ایسی کئی دکانیں تھیں اس نے، پھولوں کی بھی اور چادروں کی بھی چادریں جن پر اللہ اور رسول کے صفاتی نام خوشنما رنگوں سے چھپے جھلمل ستاروں، ابرق اور افشاں سے سجے تھے ایک قطار میں آخر تک چلتے اس نے ہر شوخ رنگ کپڑے پر لکھے کلمات پڑھ ڈالے تھے یہ چادریں قبر پر چڑھائی جاتی ہیں یا انہیں شانوں پر اوڑھا جاتا ہے اسے دونوں باتوں کا علم نہیں تھا۔ کسی بھی مزار پر آنے کا یہ پہلا تجربہ تھا جب سے سنا تھا درگاہوں پر سکون ملتا ہے۔ مرادیں پوری ہوتی ہیں، اس نے یہ در بھی کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور آج صاحب قبر کی کرامت کا امتحان لینے پہنچ گئی تھی۔
    یہاں آکر دیکھا تو بھانت بھانت کے لوگ نظر آئے۔ نیاز دینے والوں کا رش، لنگر کھانے والوں کو ہجوم، مانگنے والے فقیر، ناچتے ملنگ، دھمال ڈالتے مرید، نرینگے پھونکنے والے، سارنگی بجانے اور گانے والے جانے کون سا کلام پڑھ رہے تھے وہ سمجھ ہی نہ پائی۔ عجب میلہ سا لگا تھا، یہ ماحول یہ شور کچھ عجیب ہی تھا جیسے کسی نئی دنیا میں آگئی تھی وہ۔ مزار میں داخل ہونے سے پہلے وہ اس شخص کے پاس سے گزری جو تہ شدہ بوری پر آلتی پالتی مارے بیٹھا ایک جوڑی جوتے کی حفاظت کے عوض چار روپے وصول کرتا اپنی ٹوپی میں ڈال رہا تھا جسے اسے الٹا زمین پر رکھا ہوا تھا۔ ایک لمبی ڈوری کا آخری سرا مسلسل اس کے ہاتھ میں تھا جس میں نمبر والی تختیاں پروکر ڈالی ہوئی تھیں پیسے لے کر وہ ایک تختی جوتے میں ڈالتا اور دوسری زائر کو پکڑادیتا۔ مگر اسے تو جوتے اتارنے ہی نہیں تھے وہ پہلے ہی سے ننگے پائوں تھی۔ یونہی مزار کے اندر داخل ہوگئی وہاں موجود بھیڑ انہی جیسے لوگوں پر مشتمل تھی جنہیں وہ باہر چھوڑ آئی تھی۔ اس نے سامنے قبر کی طرف دیکھاجس کے گرد سب دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے کھڑے تھے، چند ایک غموں سے چور قبر کے سرے پکڑ کر زمین پر بیٹھے رورہے تھے۔ گڑگڑانے اور گھگیانے سے اسے کوئی دل چسپی نہیں تھی وہ کھڑے ہوئوں کے نزدیک چلی آئی باری باری وہ ہر ایک کے قریب چند سیکنڈرز کے لیے پنجوں کے بل اچک کر ان کی دعا کے الفاظ سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتی پھر آگے بڑھ جاتی۔ بآواز بلند دعا مانگنے والوں کی مہربانی سے اس کا آدھا وقت یوں ضائع ہونے سے بچ گیا۔
    یہاں بھی فضا میں اگر بتیوں کے ساتھ وہی بو شامل تھی جو خوش گوار تو ہر گز نہیں تھی مگر دماغ کی نسوں میں گھسی چلتی رہی تھی…. معلوم نہیں کیا تھا؟…. پر کچھ اثر تھا ضرور…. جو اسے پیچھے رہ جانے والی دنیا کے ہر خیال سے دامن چھڑالینے میں مدد دے رہا تھا۔ اپنا وجود یک دم بھاری سا محسوس ہونے لگا تو وہ زمین پر ہی دیوار سے ٹیک لگائے چند زائرین کے درمیان جگہ بنا کر بیٹھ گئی۔
    اس نے پہلے بائیں طرف دیکھا سیاہ چمڑی اور سفید جاٹوں والا، گردن میں رنگ بہ رنگے موتیوں کی ان گنت مالائیں ہزار دانوں کی تسبیح ہاتھ میں لپیٹ کر منہ ہی منہ میں جانے کیا بدبداتا وہ ٹوٹے ناخنوں سے بدرنگ چوغے میں لپٹے بدبودار وجود پر خارش کرتے کرتے اس کی جانب متوجہ ہوا۔ اس کے چہرے پر جابجا سلوٹیں تھیں اور ماتھے پر گہری لکیریں مگر آنکھوں میں شعلوں میں لپک تھی۔ جب کہ اس کی دائیں جانب ایک عورت بیٹھی تھی دھواں دھواں منظر میں تحلیل ہوتی۔
    عام حالات میں شاید وہ ایسے لوگوں کو دور سے دیکھتے ہی بھاگ کھڑی ہوتی پریوں نزدیک آنے کی ہمت ہر گز نہ کرنا مگر اس کی زندگی میں تو عام حالات بھی تھے ہی نہیں… سب کچھ خاص تھا ہمیشہ سے…. بے حد خاص۔ سفید جاٹوں والے بابا نے اپنے ہاتھ سے اس کے ہاتھ میں جانے کیا دیا…. اس نے بھی ساتھ بیٹھی عورت کی دیکھا دیکھی ایک کش لگایا…. بیہوش و خرد آہستگی سے ہاتھ چھڑا کر بھیڑ میں گم ہوگئے۔ ہر کش کے ساتھ منظر دھواں دھواں ہو رہی اور بس ”وہ” یاد آتے تھے پر کیف لمحے…. بے خودی کا عالم….!
    کاش زندگی اسی جنت میں بسر ہو…. ہمیشہ ہمیشہ کے لیے…. اس نے آنکھیں بند کریں اور اندھیروں میں ڈوبتی چلی گئی۔
    ******





    ثروت کافی کے گھونٹ بھرتے ہوئے اخبار کی شہ سرخیوں پر نظر دوڑارہی تھی۔ صبح کا یہ مختصر سا وقت اس کی فراغت کا ہوا کرتا تھا ورنہ باقی دن تو یوں دوڑتے بھاگتے گزرجاتا تھا کہ سانس لینے کی بھی فہرست نہیں ملتی تھی۔ اسی لیے وہ پوری کوشش کرتی تھی کہ ان اوقات میں وہ اطمینان سے بیٹھ کر اپنی کافی انجوائے کرسکے۔
    ہمیشہ کی طرح اعجاز جلدی میں تھا، اسے پھر دیر ہوگئی تھی۔ صبح بیٹی کو اسکول چھوڑ کر واپس آنے کے بعد اس کے پاس اپنے کپڑے استری کرنے اور تیار ہونے کے لیے کافی کم وقت ملا کرتا۔ پہلے پہل اس نے ثروت سے کپڑے استری کرنے کے لیے کہا تو جواباً لمبی تقدیر سننے کو ملی تھی اس کے بعد یہ گستاخی کم از کم اس نے نہیں دہرائی تھی۔ بہ قول ثروت کے رانا نواز علی کی اکلوتی بیٹی ان کاموں کے لیے پیدا نہیں کی گئی۔ یہ نوکروں کے کام ہیں، اعجاز نے مان لیا مگر کپڑے ہمیشہ خود استری کیے۔ اسے بیلا کے ہاتھ سے کی گئی استری شدہ کپڑے پسند نہیں تھے۔ کہیں نہ کہیں شکن رہ جایا کرتی تھی جسے وہ دوبارہ استری کرکے پہنا کرتا اور پھر نہایت غیر محسوس طریقے سے ان دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو سمجھ لیا۔ اعجاز کو معلوم ہوگیا کسی بھی کام پر اعتراض کرنے سے بہتر ہے اسے خود کرلیا جائے اور ثروت…. اس کے لیے یہی کافی تھا کہ اعجاز نے اسے سمجھ لیا ہے۔
    عام دنوں میں اعجاز ہاتھ میں جوتے پکڑے ڈائننگ ٹیبل تک آتا تھا۔ انہیں وہاں پھینک کر کرسی پر بیٹھ کے ناشتہ زہر مار کرتے ہوئے وہ پائوں جوتوں میں ڈال کر جلد سے جلد گھر سے روانہ ہونے کی کوشش کرتا تھا، مگر آج ایسا نہیں ہوا تھا کیونکہ گزرا کل بہت خاص دن تھا جسے ثروت کی بے حسی نے برباد کردیا تھا۔ رات کو ان کے جھگڑے کے بعد مسئلہ مزید گھمبیر ہوگیا تھا۔ اعجاز کا موڈ ابھی تک خراب تھا شاید اسی لیے ثروت کو یوں اطمینان سے کافی پیتا دیکھ کر وہ مزید جھنجھلاگیا تھا ”ناشتہ تیار نہیں ہوا ابھی تک….؟”
    ثروت نے بنا اس کی طرف دیکھے جواب دیا، ”بیلا بنا کر لارہی ہے….”
    اعجاز نے بڑی جدوجہد سے اپنے پیر بند تسموں والے جوتوں میں گھسیٹتے ہوئے کہا،
    ”جلدی کروادو مجھے دیر ہورہی ہے۔”
    ثروت کو یوں بار بار ڈسٹرب کیا جانا کھولا گیا، اس نے اخبار میز پر پٹختے ہوئے اور سے بیلا کو آواز دی، hurry up بیلا…. فوراً بریک فاسٹ لائو ٹیبل پر….” ”یوں جاہلوں کی طرح چلانے کے بجائے تم خود اٹھ کر میرا ناشتہ لے آئو تو بہتر ہوگا…” اعجاز نے ثروت کو تنگ کرنے کے لیے کہا اور کامیاب رہا۔ ثروت نے جل کر جواب دیا ”میں تمہاری نوکر نہیں ہوں…. بیلا ہے ‘وہ’ پکارہی ہے تو لا بھی دے گی….”
    اعجاز پھر بھی باز نہیں آیا اس نے پکا ارادہ کرلیا تھا جس طرح ثروت نے کل کا پورا دن اور رات برباد کی تھی وہ بھی آج کا دن خراب ضرور کرے گا۔
    ”بیلا میری بیوی نہیں ہے…. تم ہو…. میرا خیال رکھنا تمہارا فرض ہے….” ثروت سلگ اٹھی، ”اور مجھے پریشان کرنا تمہارا…. سکون سے نیوز پیپر بھی نہیں پڑھ سکتی…. تم جج بن کر فیصلے صادر کرتے رہا کرو…. اور میں حکم بجا لاتی رہوں۔” ہر وقت تمہارے ذہن پر اپنا کام سوا رہتا ہے…. آج جج کہہ دیا ہے کل ملزم کہہ دوگی… واہ کیا بات ہے وکیل صاحبہ کی….” اعجاز جان بوجھ کر اسے تنگ کررہا تھا۔
    ”اپنا طنز اپنے پاس رکھو سمجھے…”، ثروت کے جواب نے اسے سمجھادیا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہا ہے۔ ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے اس نے ثروت کے آگے پڑا اخبار اٹھاتے ہوئے بیلا کے لائے ناشتے کی جگہ بنائی۔ ثروت نے ایک نظر ناشتے کی طرف دیکھا اور زیر لب مسکرادی۔ اب جلنے کلسنے کی باری اعجاز کی تھی جس کا موڈ آف ہوچکا تھا۔
    ”یہ کیا بنایا ہے؟” اس نے جلا ہوا ٹوسٹ اٹھا کر غصے سے پوچھا تو بیلا گڑبڑاگئی، ”وہ …. صاحب آپ کو دیر ہورہی تھی تو میں نے آنچ تیز کردی… تھوڑا جل گیا…. آپ ٹھہریں… میں دوسرا لادیتی ہوں….” تیزی سے واپس جاے لگی، مگر اعجاز اسے فوراً روک دیا اور کہا،” رہنے دو میں پہلے ہی لیٹ ہوچکا ہوں…. یہ اسپیشل ناشتہ اپنی میڈم کو، کھلادینا،” پلیٹ کو ثروت کے سامنے پٹختے ہوئے اعجاز اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
    ثروت نے بلاتاخیر پلیٹ کو واپس دھکیل دیا، اس کا دل جلانے کی غرض سے مسکراتا ہوا اعجاز سیٹی بجاتا رخصت ہوگیا۔ بیلا خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی پھر ثروت کی جانب مڑی، تو وہ بھی پیر پٹختی اپنے کمرے میں جاتی نظر آئی…. بیلا نے ایک سرد آہ بھر کر ناشتے کی چیزیں واپس سمیٹتے ہوئے سوچا، ”بڑے ناشکرے لوگ ہیں… اللہ نے ساری نعمتیں دیں پھر بھی جب دیکھو…. لڑتے ہی رہتے ہیں۔”
    ******





    وہ لڑکی piercing کروانے کے دوران غش کھاگئی جونہی اس کی گردن ایک طرف ڈھلکی بون بھی ڈھیلا ہوکر کرسی کی پشت سے ٹک گیا جواد ہڑبڑا کر آدھی اڑی بالی کو یونہی چھوڑ کر اس کی جانب لپکا۔ چلو میں تھوڑا پانی لے کر اس لڑکی کے چہرے چھڑکا مگر پوری طرح بے ہوش ہوچکی تھی۔ چند منٹ پہلے جب وہ لڑکی اس کی دکان کے اندر آئی تھی تو اس کی آمد کا مقصد جان کر اسے شک ہوا تھا کہ وہ لڑکی شاید مذاق کررہی ہے۔ ہاں اس کے پاس عورتیں اپنے کان ناک چھدوانے آیا کرتی تھیں اور آئی بروز کے پاس ایک دور کی piercing بھی کرچکا تھا وہ۔ مگر اس لڑکی کو ناف پر بالی چھدوانی تھی۔ ٹی شرٹ جینز میں ملبوس وہ پر اعتماد لڑکی بہ مشکل پندرہ سال کی ہوگی جو بلا خوف شاپنگ پلازہ کی آخری کونے والی چاندی کے زیورات والی دکان میں یہ کام کروانے پہنچ گئی تھی، اور وہ تن تنہا اس وقت بارہ بج رہے تھے۔ پلازہ میں ایک ایک کرکے تمام دکانیں کھلتی جارہی تھیں۔ مگر گاہکوں کا رش نہیں تھا۔ جواد نے اس کے اصرار پر بالآخر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے شوکیس کے نیچے سے سپرٹ کی بوتل اور روئی کا ٹکڑا نکال لیا۔ اس دوران وہ لڑکی اس چھوٹی سی کرسی پر براجمان ہوگئی اور اپنی ٹی شرٹ کو تھوڑا اوپر سِرکا لیا۔ جواد کے لیے یہ اپنی طرز کا انوکھا تجربہ تھا جب ایک نوجوان لڑکی اس سے یہ کام کرواتے ہوئے بالکل بھی شرم محسوس نہیں کررہی تھی۔ جب کہ وہ خود ایک لڑکا ہونے کے باوجود جھجک رہا تھا۔ بڑی ہمت کرکے اس نے خود کو اس کام کے لیے آمادہ کیا اور اب وہ لڑکی بے ہوش ہوچکی تھی تو جواد اس لمحے کو کوس رہا تھا جب اس نے ہمت کا ارادہ کیا تھا۔ اسے فوراً کسی کو بلانا چاہیے ورنہ خود سے کوئی آگیا تو جانے کیا سمجھے۔ ابھی اس نے سامنے والی دکان پر موجود سلیم بھائی کو آواز دینے کے لیے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے اسی وقت دو خواتین باہر شوکیس میں سجے چاندی کے سیٹ کی قیمت پوچھتی ہوئی اندر داخل ہو گئیں۔ جیسے ہی ان کی نگاہ اس بے ہوش لڑکی پر پڑی وہ ٹھٹھک کروہیں رک گئیں جواد کے تو اوسان خطا ہو گئے، بہ مشکل تھوک نگلتے ہوئے اپنی وضاحت پیش کرتا وہ تقریباً ہلاک ہونے لگا، ”وہ … یہ بالی چھدواتے ہوئے درد سے بے ہوش ہوگئیں شاید…. میں کسی کو مدد کے لیے بلانے ہی والا تھا۔”
    ہر چند کہ وہ سچ بول رہا تھا پر اس کا انداز ان عورتوں کی نظر میں اسے مشکوک بناگیا تھا۔ شاید انہوں نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا تھا۔ دونوں برقع پوش خواتین میں سے ایک تو اس لڑکی کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی جو ذرا بڑی عمر کی خاتون تھیں وہ جواد کے سر ہوگئی ”تم نے کیا کیا ہے اس لڑکی کے ساتھ؟”
    ”باجی…. آپ یقین کریں میں تو صرف اپنا کام کررہا تھا…. یہ بے ہوش ہوگئی…. میں نے پانی بھی ڈالا مگر….”
    وہ عورتیں اس کے گال زور زور سے تھپتھپانے لگیں: ”یہ مرتو نہیں گئی؟ یا اللہ! پانی دو گلاس میں…”، جواد نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ کم عمر عورت نے گلاس لے کر ہاتھ میں پانی بھر بھر کر چہرے پر ڈالا، آوازیں دیں اس کے باوجود وہ ہوش میں نہیں آئی، ”اس کے ساتھ کوئی نہیں تھا کیا؟…. اتنی سی بچی کو کوئی اکیلے اس کام کے لیے کیوں بھیجے گا…. ؟”بڑی اماں جی مسلسل جواد پر ہی شک کررہی تھیں۔ ”تم کہہ رہے ہو یہ بالی چھدواتے ہوئے درد سے بے ہوش ہوئی پر اس کے کانوں میں تو کوئی بالی نظر نہیں آرہی… کہاں ہے بالی…؟” انہوں نے دونوں کانوں کی بالی چیک کی۔ ”جی، وہ…. یہاں piercing کی ہے میں نے….” جواد نے اس کی ٹی شرٹ کی طرف اشارہ کیا۔
    ”کہاں…” وہ کچھ بھی نہ سمجھیں تب جواد کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کے لیے انہیں تفصیل بتانا پڑی۔ بس مصیبت ہوگئی، دونوں عورتیں توبہ توبہ کہتی اپنے کلے پیٹنے لگیں۔ کم عمر عورت نے کسی خیال کے تحت پیروں کے پاس گرا اسکا بینڈ بیگ اٹھاکر شوکیس پر رکھا اور کھول لیا تھوڑی سی تلاش بسیار کے بعد الم غلم سامان سے بھرے بیگ میں سے بالآخر موبائل برآمد ہوگیا۔ اس نے کالز لسٹ کھول کر نام پڑھنا شروع کیے انتہائی بیش قیمت لیٹسٹ ماڈل کا سیل فون…. اس نے ایک بار پھر غور سے اس لڑکی کی طرف دیکھا، ”ہونہہ آج کل ماں باپ بس اولاد کو ڈھیروں آسائشیں خرید کر دینا ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں… کچھ ہوش ہی نہیں بچے کیا کرتے پھررہے ہیں…” Mom کے نیچے درج نمبر کو پریس کرتے ہی کال خود بہ خود ڈائل ہونے لگی۔ ”بیل جارہی ہے۔” اس نے گردن موڑ کر اماں جی کو بتایا جو اس لڑکی کے پرس میں تاکا جھانکی کررہی تھی، چار پانچ بیلوں کے بعد دوسری طرف سے فون ریسیو کرلیا۔
    اس خاتون کو تمام تفصیلات سے آگاہ کرکے چند مزید باتوں کے بعد کے بعد کال ڈس کنیکٹ کردی، اماں جی نے اپنی بہو کے کندھے پر ہاتھ رکھا: ”کیا کہا اس کی ماں نے….؟ کیا آرہی ہے اسے لینے کے لیے؟”
    ”نہیں!… کہہ رہی تھی ڈرائیور باہر پارکنگ لاٹ میں ہوگا۔ اسے فون پر دکان کا نام اور نمبر وغیرہ بتاکر یہاں بھیجتا ہے وہی لے کر جائے گا اسے….”
    انہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ اس لڑکی کا ڈرائیور جلد ہی وہاں پہنچ گیا۔ پہلے اس نے باہر سے شاپ کا نام اور نمبر بورڈ پر پڑھ کر زیر لب دہرایا پھر اندر داخل ہوکر اپنی بے ہوش ”چھوٹی میم صاحبہ” کی طرف دیکھا۔ حیرانی کی بات یہی تھی اسے ایسی حالت میں دیکھنے کے باوجود ڈرائیور کے چہرے پر بالکل بھی حیرانی نہیں تھی۔ ڈرائیور نے کوئی سوال پوچھے بغیر اپنی مالکن کا ہینڈ بیگ ایک کندھے پر ڈالا پھر جھک کر اس کا بازو اپنے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے سہارا دے کر اسے کرسی سے اٹھالیا اور یونہی ساتھ لگائے ہوا دکان سے باہر نکل آیا۔ دونوں عورتیں بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر نکل آئیں۔ انہیں کیا خریدنا تھا وہ کس کے لیے بازار آئی تھیں؟ فی الحال یہ سب کچھ غیر اہم ہوگیا تھا۔ وہ ڈرائیور سے بات کیے بغیر آپس میں کھسر پھسر کرتی اس کے ساتھ گاڑی تک پہنچ گئیں۔ ”باجی میری مدد کریںگی؟ آپ چھوٹی میم صاحب کو پکڑلیں یا گاڑی کا لاک کھول دیں۔” اماں جی نے آگے بڑھ کر لڑکی کو ایک جانب سے سہارا دیا تو ڈرائیور نے جیب سے گاڑی کی چابی نکالی بہو نے ڈرائیور کے ہاتھ سے چابی لے کر ہنڈا سٹی کا دروازہ کھول دیا۔ اس لڑکی کو پچھلی سیٹ پر لٹانے میں انہیں دونوں عورتوں نے مدد کی۔ ڈرائیور ان کابے حد شکر گزار تھا، اچھے طریقے سے شکریہ ادا کرتا گاڑی میں جا بیٹھا اور چند منٹ بعد ہی وہاں سے روانہ ہوگیا۔ بہ ظاہر وہ لڑکی محفوظ ہوگئی تھی ڈرائیور انہیں بتاگیا تھا کہ سیدھا ہسپتال جائے گا جہاں اس کی ماں آکر اسے سنبھال لے گی۔ ان دونوں کا اس لڑکی سے کوئی رشتہ نہیں تھا اس کے باوجود وہ اس کے لیے نہایت فکر مند تھیں۔ اگر ڈرائیور نے اس کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کرنے کی کوشش کی تو کون بچائے گا اسے؟ آخر کو وہ بھی غیر مرد ہے اور جوان بھی۔ ”چلیں امی گھر چلیں۔” بہو نے اماں جی کو مخاطب کیا جو ابھی تک اس جاتی گاڑی کو دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے مُڑ کر اپنی بہو سے کہا: ”ضرور یہ لڑکی نشہ کرتی ہے۔”
    ******





    شام کو اعجاز گھر کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوا ثروت اسے لائونج میں صوفے پر بیٹھی کسی شخص سے بات کرتی نظر آئی۔ اس نے اعجاز کی آمد محسوس کرنے کے باوجود اپنی گفت گو جاری رکھی، ”کیا نام ہے تمہارا….؟”
    ”جی دلاور…. میں بیرسٹر شفیق صاحب کے گھر آیا ہوں۔”
    ”ہاں مجھے بتایا تھا انہوں نے… چلو ٹھیک ہے تم صبح سات بجے آنا…. تمہاری نوکری پکی…” ”شکریہ میڈم…” دلاور ممنونیت سے کہتا جیسے ہی مڑا اسے اعجاز نظر آیا:” السلامُ علیکم صاحب….”، اعجاز نے خفیف اشارے سے اس کے سلام کا جواب دیا اور دلاور کے جاتے ہی ثروت سے پوچھا: ”کون تھا یہ؟”
    ”میں نے حسن سے بات کی تھی ڈرائیور کے لیے… اس نے اپنے جاننے والوں کے پاس سے بھجوادیا اسے” ”اور تم نے اسے کام پر رکھ لیا…؟” اعجاز کا دماغ گھوم گیا۔
    ”ہاں تو… ہمیں ضرورت تھی ایک ڈرائیور کی… عماریہ کے اسکول پک اینڈ ڈراپ میں مسئلہ نہیں ہوگا….” ثروت نے بے نیازی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور اسی انداز پر اعجاز کو غصہ آگیا ”میں نے صرف ایک بار تم سے عماریہ کو پک کرنے کے لیے کہا اور تم نے ڈرائیور بلالیا… کوئی ضروت نہیں ہے… میں ہر گز اجازت نہیں دوںگا کہ میری بیٹی ایک غیر آدمی کے ساتھ آئے جائے۔”
    ”اور میں بھی ہر گز اجازت نہیں دوںگی کہ تم عماریہ کو اسکول سے لاتے لے جاتے اسے میرے خلاف بھڑکاتے رہو…” ثروت بھی بھری بیٹھی تھی آج دوپہر میں اعجاز نے میٹنگ کی وجہ سے ثروت کو عماریہ کے اسکول جاکر اسے پک کرنے کے لیے کہا تھا، وہ بھی عین وقت پر، آفس سے نکلتے وہاں پہنچتے ثروت کو کافی وقت لگ گیا اور تب اسکول خالی ہوچکا تھا۔
    گاڑی میں بیٹھ کر عماریہ ماں سے سیدھے مُنہ بات نہیں کررہی تھی جب ثروت نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کے پاپا نے ہی دیر میں اطلاع دی اور اس کا اتنا قصور نہیں۔ اس وضاحت کو اس نے قبول نہیں کیا تھا، اس کے خیال میں ثروت اپنے کام میں اس قدر مگن رہی کہ اسے اعجاز کی کال ریسیو کرنے کی فرصت نہیں ملی تھی بالکل اسی طرح جس طرح دو دن پہلے وہ عماریہ کی برتھ ڈے بھول گئی تھی، آج عماریہ کو بھی بھول گئی تھی۔
    اپنی بیٹی کی بدگمانی دیکھ کر ثروت کو شاک لگا تھا۔ ہاں یہ بات درست تھی کہ اس دن وہ مصروفیت کے سبب اعجاز کی کال ریسیو نہیں کررہی تھی لیکن اگر وہ واقعی چاہتا تھا کہ بیٹی کے سالگرہ میں اسے شامل کرے تو ایک دن پہلے اسے بتا تو سکتا تھا۔ وہ بھول گئی تھی تو یاد کروادیتا مگر اس نے ایسا کرنے کے بجائے بیٹی کی نظروں میں ماں کو ویمپ میں بناکر جس طرح پیش کیا وہ ثروت کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اور اس بات کا حساب وہ اعجاز سے بے باک نہ کرتی یہ ممکن نہیں تھا۔
    ”تم اتنے شاطر انسان ہو…. میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی… تم نے گھر میں پارٹی رکھی عماریہ کے سب دوستوں کو بلالیا لیکن مجھے بتایا تک نہیں….”
    ”کیوں؟ تمہیں اپنی اکلوتی بیٹی کا برتھ ڈے یاد نہیں تھا۔ تم پیدا کرکے اسے بھول گئی ہو اسے…” اعجاز کے ترکش میں بھی تیروں کی کمی نہیں تھی۔
    ثروت پل بھر کے لیے لاجواب ہوئی، پھر جیسے اسے اعجاز کا مسئلہ سمجھ آگیا: ”دراصل تم مجھ سے جیلس ہو… اس لیے خوامخواہscene createکرتے رہتے ہو….”
    اعجاز کو اس کی سوچ پر افسوس ہوا،” تم ماں ہوکر بیٹی کی ضروریات کو اتنا سرسری لیتی ہو؟ کیا تمہیں نظر نہیں آتا وہ دن بہ دن تم سے دور ہوتی جارہی ہے؟”
    ”تم تم ہر وقت اسے میرے خلاف بھڑکاتے رہوگے، poison کرتے رہوگے تو یہی ہوگا،”
    اعجاز نے جواباً اسے چیلنج کیا،” اگر تمہیں لگتا ہے یہ میری باتوں کا اثر ہے تو جائو…. غلط ثابت کردو مجھے…. اپنا کام چھوڑو گھر پر بیٹھو… اسے ٹائم دو… تاکہ اسے یقین آجائے کہ تم اس سے واقعی محبت کرتی ہو،”
    ”تمہاری نظرمیں تو ہر مسئلے کا حل بس یہی ہے کہ میں کام چھوڑ کر گھر بیٹھ جائوں۔” ”بالکل… ہمارے مسئلے ہی تمہارے کام کی وجہ سے ہیں۔”
    ”دراصل تم یہ برداشت نہیں کرپارہے کہ میں تم سے زیادہ کامیاب ہوں۔”
    ”میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ تم نہایت غیر ذمہ دار عورت ہو…. اور ایک بہت بری ماں…”. ثروت جاہل عورتوں کی طرح ہاتھ نچاتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔
    ”تم بہت اچھے باپ ہونا….. آئندہ مجھ سے مت کہنا اسے pick کرنے کے لیے…. ”اس کے پیچھے آتے ہوئے اعجاز دھاڑا ”نہیں کہوںگا…. عماریہ میری بیٹی ہے… اور میں اس کے لیے وہ سب کچھ کروںگا جو تم نہیں کرسکتیں… میری طرف سے جہنم میں جائو… ”ثروت نے کمرے کا دروازہ اس کے منہ پر بند کرتے ہوئے کہا، "You too go to hell!””
    *******




  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  |  باب 6

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 6

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    کپاڈوکیہ کی پراسرار وادی
    باب6

    صبح سویرے ناشتا کرنے کے بعد ہم قونیہ سے کپاڈوکیہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ طویل تھا۔ راستے میں ہم کچھ دیر کے لئے ایک جگہ رکے، وہاں کچھ دکانیں تھیں جہاں مختلف چیزوں کے ساتھ ہوا میں اڑنے والے غبارے کے ماڈلز اور کھلونے رکھے تھے ۔ hot air Balloon کپاڈوکیہ کا souvenir سمجھا جاتا تھا۔ میں نے اپنے بچوں اور بھانجے بھانجیوں کے لئے ہوا میں اڑنے والے رنگین غبارے خریدے اور کچھ دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے تحائف ہے۔ کائونٹر پر بِل پے کرنے آئے تو دکاندار نے ہمیں پرنسس (شہزادی) کہہ کر مخاطب کیا۔ہم اس طرزِ تخاطب پر حیران ہوکر چونکے۔
    شاید یہاں لوگ میڈیم ، مادام کہنے کے بجائے خواتین کو پرنسس کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ فیری ٹیل جیسی وادی میں فیری ٹیلز جیسے انداز تھے۔
    ہم نے خشک پھلوں کی چائے اور چائے کا خوبصورت مگ بھی خریدا جس پر ترکی کا جھنڈا بنا ہوا تھا۔
    وہاں اک دکان پر افغانی لڑکا بھی تھا جو اردو بولنا جانتا تھا وہ پاکستانیوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اس خوشی میں اس نے اردو میں ہی بات کی۔ اسے فخریہ انداز میں پاکستانیوں کے ساتھ اردو میں بات کرتے ہوئے دیکھ کر ہم نے سوچا کہ غیر ملکیوں کے لئے اردو بولنا باعث فخر ہوتا ہے۔ نہ جانے وہ کون سی جگہ تھی جو قونیہ اور کپاڈوکیہ کے راستے میں آتی تھی، وہ ایک خوبصورت مقام تھا۔ پُرسکون پر فضا اور دلکش ، کپاڈوکیہ چائے والے سیاح کچھ دیر کے لئے اس خوبصورت مقام پر رکتے تھے ۔ ہم نے وہاں سے شاپنگ کرنے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی چیزیں بھی لیں۔
    کچھ دیر بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے، راستہ طویل تھا۔ ہم نے راستے میں چپس اور چاکلیٹ کھاتے ہوئے سفر طے کیا۔
    کپاڈوکیہ کی وادی میں ڈرائیونگ کرنا مہارت کا کام تھا، ڈھلوانی سڑکیں اور پر پیچ راستے تھے دشوار گزار موڑ تھے۔ کپاڈوکیہ ترکی کے بے نیو شہر میں واقع ہے۔ کپاڈوکیہ کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ گیارہویں صدی میں اس شہر پر ترکوں نے قبضہ کیا تھا۔ کپاڈوکیہ عجیب و غریب ہیت والے پراسرار پہاڑوں کی انوکھی وادی ہے جسے دیکھنے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔ کیا جاتا ہے کہ یہاں صدیوں پہلے ایک آتش فشاں پھٹا تھا، جس کے نتیجے میں یہاں سے نکلنے والے لاوے اور راکھ نے جگہ جگہ مختلف چٹانوں کی شکل اختیار کرلی، پھر اس میں ملنے والے بارش کے پانی اور گارلے سے ان چٹانوں نے منفرد شکل اپنالی۔ کچھ چٹانوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے ٹوپی پہنی ہوتی ہو، کچھ تکونی چٹانیں ہیں اور کچھ کسی اور انداز کی۔ یہ جگہ عام نظروں سے بے حد دور واقع تھی۔ اس لئے لوگ دشمنوں سے چھپنے کے لئے اس وادی میں روپوش ہوجایا کرتے تھے۔ ان چٹانوں کو تراش کر ایک شہر بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ ان پہاڑوں میں غار بھی بنے ہیں۔ ان پراسرار پہاڑوں اور انوکھی وادی کو دیکھنے والے لوگ کچھ دیر کے لئے حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ 1985ء میں کپاڈوکیہ کو UNESCO کی عالمی ثقافت ورثے کی فہرست میں بھی شامل کرلیا گیا۔
    یہاں چٹانوں کو fairy chimneys بھی کہا جاتاہے۔
    کہا جاتا ہے کہ عیسائیت کے ابتدائی دور میں لوگ یہاں آئے تھے۔
    کپاڈوکیہ میں وسیع وادیاں ہیں اس لئے یہاں لوگوں کو بہت چلنا پڑتا ہے۔
    کپاڈوکیہ میں بھی لوگ ہوا میں اڑنے والے غبارے کی سیر کرتے ہیں۔ اور اس انوکھی اور پراسرار وادی کی دلکشی میں عجیب طرح کی کشش ہے۔
    ہم دوپہر کو کپاڈوکیہ پہنچے۔
    بس انوکھی وادی میں رُکی۔ ہم بس سے اترے، وہ عجیب و غریب ہیت کے حامل پہاڑوں کی پراسرار وادی تھی۔ دور تلک پراسرار پہاڑوں کا سلسلہ نظر آرہا تھا۔ قدرت کے ایسے انوکھے نظارے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔ آسمان بادلوں سے بھرا ہوا تھا۔ پراسرار پہاڑوںکی وادی میں جابجا سبزہ اور درخت بھی نظر آرہے تھے۔ ہم کچھ دیر سڑک کے کنارے کھڑے حیرت کے عالم میں اس وادی کے انوکھے نظارے دیکھتے رہے۔ پہاڑوں پر دھوپ کی سنہری کرنیں چمک رہی تھیں۔
    ”یہ ہے کپاڈوکیہ………عجیب و غریب پہاڑوں کی پراسرار بستی، بس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ صدیوں پہلے یہاں اک آتش فشاں پھٹا تھا۔ جس کے بعد یہاں اس وادی کی formation ہوئی۔ ”
    سرخان نے اپنے مخصوص انداز میں بتایا۔
    یہاں آکر انسان کو یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی انوکھے دیس میں چلا آیا ہو۔ یہ الف لیلیٰ کی کہانیوں جیسی پراسرار بستی معلوم ہوتی تھی۔
    ہم حیرت سے اردگر د کے نظارے دیکھتے ہوئے وہاں سے پیدل چلتے ہوئے آگے آئے۔ ایک جگہ مختلف رنگوں کے جھنڈے لگے تھے۔ یہ جگہ شایدکوئی Mounment تھی۔ ہم کچھ دیر وہاں بیٹھ گئے اور یادگار گروپ فوٹو بنوایا۔ یہاں موسم خنک تھا۔ ہم نے موٹے کپڑے پہنے تھے اور سوئیٹر بھی ساتھ رکھا تھا۔ ترکی کے مختلف شہروں کا موسم بھی مختلف ہے۔ یہاں بہت سے سیاح آئے ہوئے تھے اور اس وادی کو دیکھتے ہوئے حیرت زدہ تھے۔
    آپ جب بھی کپاڈوکیہ آئیں تو بہت اچھا سا ناشتہ کرکے آئیں کیونکہ اس وادی میں لوگوں کو بہت پیدل چلنا پڑتا ہے۔ پہاڑ، چٹانیں، سیڑھیاں ، میدان، یہاں لوگوں کو بہت واک کرنی پڑتی ہے۔
    اکثر لوگ راستے میں ہی کسی جگہ بیٹھ جاتے ہیں۔ یہاں جگہ جگہ ہوٹل، ریسٹورنٹ ، دکانیں اور کیفے بھی موجود ہیں۔
    ہم وادی میں چلتے ہوئے نظارے دیکھتے رہے، پھر ہم دوپہر کے کھانے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں چلے آئے جو ڈھلوان کی طرف واقع تھا۔ ہم گلی نما ڈھلوانی سڑک پر چلتے ہوئے جارہے تھے کہ راستے میں کیمرہ تھامے اک نوجوان نظر آیا۔ اس نے ہم سے کہا کہ ہم اس سے تصویریں بنوالیں۔ کچھ دیر بعد وہ تصویریں ہمیں نئے اور منفرد انداز میں ایک پلیٹ پر پرنٹ کرکے دے گا اور یہ کپاڈوکیہ کی اک یادگار ہوگی۔ ہمیں یہ انوکھا انداز اچھا لگا اور ہم نے خوشی خوشی تصویریں بنوالیں پھر اک غار نما عمارت میں چلے آئے جس کا نام بندالی ریسٹورنٹ تھا۔
    کپاڈوکیہ کے غار ہوٹل دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ جنہیں cave hotel بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں کا منفرد آرکیٹیکچراور انٹریئر سیاحوں کی کشش کا باعث ہے۔ لوگوں کو انفرادیت میں کشش محسوس ہوتی ہے۔ اور وہ منفرد چیزوں کی طرف اٹریکٹ ہوتے ہیں۔ خوبصورتی کو سب ہی لوگ پسند کرتے ہیں۔ مگر انفرادیت میں اک خاص طرح کی دلکشی ہوتی ہے۔
    ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے تو وہاں اک وسیع ہال تھا۔ جہاں میز کرسیاں ترتیب سے لگی تھیں اور ویٹر متحرک تھے۔ اندرونی دیواریں بھی غار جیسی تھیں۔ کونے میں موجود میزوں پر انواع و اقسام کے کھانوں کا بوفے لگا ہو اتھا۔ رش کی وجہ سے ہم لوگ قطار میں کھڑے رہے اور باری باری پلیٹ میں کھانا ڈال کر اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئے۔ نئے ذائقے اور نئے پکوان تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہم کسی غار میں بیٹھ کر کھانا کھارہے ہیں اور اس کا اپنا ہی لطف تھا۔
    کھانے کے بعد ہم ریسٹورنٹ سے باہر آئے تو سامنے چائے والا نظر آیا جو پھرتی سے شیشے کے چھوٹے گلاسوں میں چائے ڈال رہا تھا۔ یہاں چائے مگ کے بجائے چھوٹے گلاس میں پینے کا رواج تھا۔
    موسم خنک تھا ، ہم نے سوچا کہ چائے پی لی جائے۔ ہم چائے والے کے قریب چلے آئے۔
    ”دوکپ چائے بنادیں۔ یہ چائے ہے یا قہوہ ہے؟”
    ہم نے خوشدلی سے انگریزی زبان میں کہا۔
    ”چائے ہے میں جانتا ہوں کہ پاکستانی چائے سے بہت محبت کرتے ہیں۔ آپ لوگ پاکستان جاکر کپاڈوکیہ کی چائے کو بہت یاد کریں گے۔”
    وہ اپنے کام میں مصروف مسکراتے ہوئے بولا۔
    ”لگتا ہے کہ آپ نے یہ دکان پاکستانیوں کے لئے ہی کھولی ہے؟”
    ہم نے بے ساختہ کہا۔
    وہ اس بات پر ہنسا۔
    ”یہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں مگر پاکستانیوں کی بات اور ہے۔ وہ زندہ دل ہوتے ہیں کھانے پینے اور شاپنگ کرنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ بہت پیسے خرچ کرتے ہیں اور بے حد خوش اخلاق ہوتے ہیں ان کے ساتھ بات کرتے ہوئے ہمیں بھی تھوڑی بہت اردو آگئی ہے ۔ ان کے رویے میں محبت اپنائیت اور گرم جوشی ہوتی ہے۔ ان کی حِس مزاح کمال کی ہوتی ہے۔ ہنستے اور ہنساتے رہتے ہیں۔ کسی بات کا برا نہیں مانتے۔”

    وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
    دور تک پہاڑوں کا سلسلہ نظر آرہا تھا۔ انوکھی وادی کی سیر میں اک انوکھا پن تھا۔ ہمیں اس کی بات سن کر خوشی ہوئی۔
    ”پاکستانی لوگون کی عادتوں سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ آپ کے پاس تو مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگ آتے ہیں۔ ایسے میں پاکستانی لوگوں کو پہچاننا، پرکھنا اور ان کی خوبیوں کو دریافت کرنا حیرت انگیز ہے۔”
    یسریٰ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
    ”آپ مجھے یہ بتائیں آخر پاکستانی چائے پینے کے اتنے شوقین کیوں ہوتے ہیں۔ یہ سوال میں اکثر لوگوں سے پوچھتا ہوں۔میں چونکہ چائے بنانے کے بزنس سے منسلک ہوں اس لئے اس حوالے سے اکثر و بیشتر ریسرچ اور سروے کرتا رہتا ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”چائے کے حوالے سے ہر شخص کی ایک کہانی ہے ۔ مجھے کبھی چائے پینے کی عادت نہیں تھی۔ ہمارے گھر میں ایک ہی بندہ چائے پیتا تھا اور وہ میری امی تھیں۔ کبھی کبھار ہم اس وقت چائے پیتے جب ہمیں امتحان کی تیاری کے لئے رات کو جاگناپڑتا۔ جب میری شادی ہوئی تو میں بالکل چائے نہیں پیتی تھی مگر پھر گھر میں اکثر مہمان آتے تھے۔ چائے بنتی تھی۔ میں کسی کے گھر جاتی توچائے سے سجی ٹرالی کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا اور میزبانوں کو انکار کرنا اچھا نا لگتا۔ پھر میرے میاں ہر چار گھنٹے بعد گرما گرم چائے پینے کے عادی تھے اور ہر وقت ہاتھ میں دھواں اڑاتا بڑا سامگ تھامے رکھتے۔ چائے سے محبت کرنے والوں کے درمیان رہتے ہوئے وقت کے ساتھ مجھے بھی چائے پینے کی عادت ہوگئی۔ جس چیز میں محبت شامل ہوجائے تو اسے چھوڑنا مشکل ہوتاہے۔ ”
    میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مجھے چائے والے کا سوال دلچسپ لگا تھا۔
    ”واقعی ، ہر شخص کی زندگی میں اک چائے کہانی ضرور ہوتی ہے۔ میں بھی چائے نہیں پیتی تھی مگر گھر میں ہر وقت چائے بنتی تھی۔ تو یونیورسٹی میں میری سہیلیوں کو چائے پینے کی عادت تھی۔ دوستوں کی محبت کااثر ہوتا ہے اور انسان دوستوں کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔
    رفتہ رفتہ مجھے بھی چائے سے محبت ہوگئی اور محبت عادت میں بدل گئی۔ اب اس ٹرکش چائے کو بھی ہم بہت یاد کریں گے۔ یہاں خشک پھلوں کی چائے کا رواج عام ہے ۔ جو صحت کے لئے بھی مفید ہوتی ہے۔ سیب اور انار کی چائے عالم استعمال ہوتی ہے۔”
    یسریٰ نے بے ساختہ کہا۔
    چائے والا چائے تیار کرچکا تھا۔
    ”یہ لیجئے مادام، ترکی کی روایتی چائے، کپاڈوکیہ، غار اور چائے……. انوکھی وادی کا انوکھا لطف۔”
    اس نے چائے سے بھرے شیشے کے گلاس ہماری طرف بڑھاتے ہوئے خوشدلی سے کہا۔
    ”شکریہ۔”
    ہم نے رقم ادا کرکے چائے کے گلاس تھامے اور باہر آگئے۔ سنہری دھوپ نے پوری وادی کو جگمگارکھا تھا۔ سنہری دھوپ اور چائے، خانہ بدوشوں کو بھلا اور کیا چاہیے۔
    ”چائے کہاں سے لی؟”
    طاہرہ مظہر نے فوراً پوچھا۔
    ”وہاں سے۔”
    ہم نے اشارہ کرکے بتایا۔
    یہ سنتے ہی پاکستانی چائے کے دیوانے ہوگئے۔ کچھ موسم کا تقاضا تھا کچھ پاکستانیوں کی چائے سے محبت تھی کہ لوگ جوق در جوق چائے بنوانے لگے۔ چائے والا اتنی رونق دیکھ کر اور اپنی چائے کی اتنی اہمیت دیکھ کر خوش ہوگیا۔
    چائے پینے کے بعد ہم واپس جانے لگے تو فوٹوگرافر نوجوان نے ہمیں ہماری تصویریں ایک شیلڈ نما پلیٹ پر چسپاں کرکے دیں۔ یہ بے حد منفرد انداز تھا۔ یہ تصویریں کسی sovenierکی طرح تھیں اور کپاڈوکیہ کی خصوصیت تھیں۔
    ہم حیرت اور خوشی سے وہ خوبصورت پلیٹ ہاتھ میں لئے دیکھتے رہے جس پر ہماری تصویر کے ساتھ کپاڈوکیہ کا نام لکھا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اسٹینڈ بھی تھا۔ چاہیں تو اس تصویر کو کسی ایک میز یا شیلف پر سجاد یں، چاہیں تو دیوار پر لگادیں۔
    کچھ عرصہ قبل ہم مری گئے تھے وہاں چیئر لفٹ پر بیٹھے تھے تو سینچے دیکھا اک شخص جنگل میں کھڑا پھرتی سے لوگوں کی تصویریں بنارہا تھا اور اشارے کرکے کہہ رہا تھا کہ ان تصویروں کا پرنٹ کچھ دیر بعد ملے گا۔ ہم رائونڈ پورا کرکے چیئر لفٹ سے اُترے تو اس نے ہمیں تصویریں دیں مگر وہ عام اور سادہ تصاویر تھیں۔ ہمارے ہاں بھی سیاحتی مقامات پر کپاڈوکیہ جیسی تصاویر بنائی جاسکتی ہیں۔ یہاں آرٹ میں جدت اور انفرادیت تھی۔ فن اور ہنر کی انفرادیت کے کمال میں تخیل اور شعور کا عمل دخل ہوتا ہے۔ آرٹ کی دنیا وسیع ہے۔ ترکوں کے پاس بے مثال آرٹ ہے اور آرٹ کو کاروبار میں ضم کرنے کی سمجھ بوجھ بھی ہے۔ یہاں کے لوگ کاروبار کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف تھے۔ اگر ہمارے ہاں بھی سیاحتی مقامات پر فوٹوگرافی کے ایسے کاروبار ہوں تو Small Industries کو فروغ ملے گا۔
    ہم تصویر والی خوبصورت پلیٹ

  • استنبول سے انقرہ تک   (سفرنامہ)  | باب 5

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 5

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    قونیہ ، تصوف کا شہر

    باب5

    صبح سویرے ناشتا کرنے کے بعد ہم پاموکلے سے قونیہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ راستے میں سب لوگوں نے عائشہ کو سالگرہ کی مبارکباد دی اور اس خوشی میں یاسمین مشتاق نے بس میں ہی عائشہ کو چھوٹا سا پیسٹری نما کیک بھی کھلایا۔ ہم بس میں یہ خوشیاں مناتے ہوئے قونیہ کی جانب سفر کرتے رہے۔
    قونیہ ایک تاریخی شہر ہے۔ 1420ء میں قونیہ کو عثمانیوں نے فتح کیا تھا اور بعد میں اسے صوبہ قرہ سان کا دارالحکومت بنادیا گیا تھا۔ قونیہ اناطولیہ کے وسط میں واقع ہے۔ یہ صوبہ قونیہ کا دارالحکومت ہے۔ جو رقبے کے لحاظ سے ترکی کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ بے حد خوبصورت شہر ہے۔
    مولانا رومی اس شہر کو iconium کہا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ قونیہ شہر میں ولی پیدا ہوتے رہیں گے اور اس شہر کو مدینة الاولیاء کا لقب دے دیا تھا۔
    بس راستے میں ایک جگہ رکی اور ہم لوگ بس سے اترے دور پہاڑ نظر آرہے تھے، ذرا فاصلے پر سرسبز درخت بھی تھے۔ وہاں چند دکانیں تھیں اور باہر گاڑیاں بھی کھڑی تھیں، وہاں لوگوں کی آمدورفت تھی۔ یہاں بھی چینی سیاح نظر آئے۔ لگتا ہے کہ چینی لوگوں کو سیاحت کا بے حد شوق ہے۔ ہمارے پاکستان میں بھی اکثر و بیشتر چینی نظر آتے رہتے ہیں۔
    ہم لوگوں نے دکانوں سے کچھ چیزیں خریدیں۔ وہاں ایک چھوٹی سی دکان تھی۔ شیشے کی کھڑکیوں کے ساتھ مختلف رنگوں کے اسکارف لٹکے ہوئے تھے۔ دکان کے باہر ایک اسٹینڈ پر باریک اور نازک جیولری سجی ہوئی تھی۔
    ایک دکان میں پرانے زمانے کی روایتی ٹوپیاں رکھی تھیں جن کے دونوں اطراف دوپٹے کی طرح کپڑا کندھوں پر گرتا تھا۔ پرانے زمانے میں ترک خواتین ایسی ٹوپیاں پہنتی تھیں۔
    سب لوگوں نے دکان سے وہ ٹوپیاں اٹھا کر پہنیں اور تصاویر بنوائیں۔
    ترک دکاندار بھی پاکستانی خواتین کی زندہ دلی پر حیران ہوئے۔
    ہم نے کچھ کھانے پینے کی چیزیں اور آئس کریم خریدی۔
    قونیہ پاموکلے سے قونیہ کافی فاصلے پر تھا۔ ہم نے باتیں کرتے ہوتے خوبصورت نظارے دیکھتے ہوئے اور آئس کریم کھاتے ہوئے یہ سفر طے کیا۔
    ہم دوپہر کو قونیہ پہنچے ۔ بس سے اتر کر ہم لنچ کرنے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں آگئے۔ کھانے میں پیزا نما نان تھے۔ یہ بھی ترکی کی مشہور ڈش تھی۔ ساتھ سلاد اور لسی تھی۔ ایک طشتری سے کھانا کھایا ۔ کھانا بچا تو ہم نے ویٹر سے کہہ کر کھانا پیک کروالیا۔
    حسنہ عباسی نے تجویز دی۔
    ”یہاں بہت سے شامی مہاجر بچے ہوتے ہیں۔ یہ کھانا ہم ان کو دے دیں گے۔ وہ خوش ہوجائیں گے اور یوں ان کی مدد بھی ہوجائے گی۔”
    اس تجویز سے سب نے اتفاق کیا۔
    کھانے کے بعد ہم باہر آئے تو وہاں قریب ہی ایک وسیع مگر خوبصورت احاطہ تھا۔ پکے فرش پر مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے سبزہ زار بنے ہوئے تھے اور لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ بھی موجود تھے۔ وہ ایک پرسکون جگہ تھی مگر وہاں رونق بھی تھی۔ کچھ لوگ بنچ پر بیٹھے تھے اور کچھ لوگ چل پھر رہے تھے۔ وہاں ہمیں کچھ شامی مہاجر بچے بھی مل گئے۔ ہم نے پیک کیا ہوا کھانا انہیں دے دیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔
    ایک بھورے بالوں اور سیاہ لباس والی بچی ہمارے قریب چلی آئی۔ اس نے اپنا تعارف Syrian(شامی) کہہ کر کروایا۔ اس کی آنکھوں میں اداسی اور چہرے پر حزن اور تھکن تھی۔ پہلے تو ہمیں سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے پھر غور سے سننے پر سمجھ آئی کہ وہ لفظ Syrian (شام سے تعلق رکھنے والے) بول رہی ہے۔ اس کے بولنے کا تلفظ اور انداز مختلف تھا۔ اس ایک لفظ Syrian میں اک داستان پنہاں تھی۔ یہ لفظ اک اداس تعارف تھا، اس بچی کا سنبھال کررکھا ہوا فخر تھا۔ اس کی پہچان اور شناخت تھا۔ اس کا اثاثہ تھا۔ وہ ترکی میں تھی مگر آج بھی Syrian تھی۔ غریب الوطنی کا دکھ اس کے چہرے پر لکھا تھا اور اس کی آواز سے عیاں تھا۔ وہاں ایک اور بچہ بھی تھا۔ پرانی سی جینز اور جامنی شرٹ پہنے ہوئے سیاحوں کو دیکھ رہا تھا۔ ان بچوں نے بچپن ہی میں غریب الوطنی کے دکھ دیکھ لئے تھے۔ یہ ترکوں کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ انہوں نے شامی مہاجرین کو پناہ دی۔ یہ مہاجر بچے مہاجر کیمپ میں رہتے تھے اور ان کو سیاحوں کی رونق دیکھنے اس احاطے میں آجایا کرتے تھے۔ بہت سے لوگ خوشی خوشی ان مہاجرین کی مدد کردیا کرتے ہیں۔
    احاطے میں ایک جگہ Konya لکھا ہوا تھا۔ اس کے نیچے یہ عبارت تحریر تھی (City of hearts) (دلوں کا شہر) وہ بے حد خوبصورت جگہ تھی۔ ہم نے وہاں گروپ فوٹو بنوایا اور وہاں سے آگے کی طرف چلے۔
    پھر ہم مولانا رومی کے مزار کی طرف چلے آئے۔ مولانا رومی بہت بڑے عالم ، بزرگ، صوفی ، شاعر، مفکر ، استاد اور بے حد اہم شخصیت کے حامل تھے۔
    مولانا جلال الدین رومی کا نام محمد، لقب جلال الدین اور عرنیت مولانا رومی ہے۔ ان کے اسلاف کا تعلق بلخ سے تھا جو اب افغانستان میں واقع ہے۔ مولانا رومی 1207 ء میں بلخ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا حسین بن احمد خطیبی عالم فاضل شخص تھے، ان کے والد مولانا بہائو الدین بھی عالم تھے۔
    یہ وہ دور تھا جب اسلام کی سرحدیں شمالی افریقہ تک تھیں اور مسلمان یورپ کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔برصغیرپاک و ہند میں شہاب الدین غوری کی اسلامی حکومت تھی۔ اسلام کے ثقافتی اثرات دنیا میں پھیل رہے تھے مگر اس دور میں اسلام دشمن لوگوں نے فتنے فساد فوجیں یلغار کررہی تھیں اور مشرق کی طرف سے تاتاری سیلاب امڈ رہا تھا مگر امت مسلمہ پر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا کہ اللہ نے مسلمانوں کو مولانا جلال الدین رومی جیسے صاحب علم اور صاحب کشف شخص عطاء کئے جنہوں نے اصلاح و تربیت کا کٹھن کام اس خوبی سے سرانجام دیا کہ اللہ کے فضل و کرم سے اس صدی کے آخری حصے میں اسلام کے دشمن اسلام کے نام ہوا بن گئے۔
    تاتاری حکمران برکا خان نے اسلام قبول کرلیا اور انہی منگولوں نے اسلام کی گراں قدر خدمات سرانجام دی جو کبھی اسلام کے دشمن ہوا کرتے تھے۔
    مولانا جلال الدین رومی کے والد مولانا بہائو الدین محمد امام غزالی سے بہت متاثر تھے۔ مولانا رومی نے جب ہوش سنبھالا تو ان کے گھر میں امام غزالی کی تعلیمات کا بہت چرچا تھا۔ یہ ایک علم دوست گھرانہ تھا جس پر صوفیانہ رنگ کے اثرات تھے۔ یہ وہ دور تھا جب بچوں کو قرآن کریم اور حدیث کا مطالعہ کروایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ حساب ، منطق، سیاسیات اور فلسفے کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ مولانا رومی کے والد نے ان کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی اور اسی لئے انہوں نے سید برہان الدین کومولانا رومی کا اطالیق مقرر کیا جو کہ بے حد قابل استاد تھے۔
    کچھ عرصہ بعد مولانا بہائو الدین اپنے اہل خانہ کے ساتھ بلخ سے روانہ ہوگئے اور راستے میں آئے جس بھی شہر سے گزرتے تو ان لوگوں کا پرجوش خیر مقدم ہوتا نیشا پور پہنچے تو ان کی ملاقات مشہور بزرگ شاعر خواجہ فرید الدین عطار سے ہوئی۔
    خواجہ صاحب نے ننھے جلال الدین کو دیکھا تو ان کے والد سے کہا کہ اس جوہر قابل سے غافل نہ ہونا، یہ کہہ کر انہوں نے اپنی کتاب اسرار نامہ ننھے رومی کو دی جسے مولانا رومی نے ساری عمر عزیز رکھا۔
    پھر مولانا رومی کے والد اپنے اہل خانہ کو لے کر بغداد پہنچے اور وہاں سے مکہ مکرمہ حج کرنے کے لئے چلے آئے۔ اس کے بعد یہ خاندان دمشق اور پھر زنجان چلا آیا، پھر انہوں نے ملاکیہ کا رخ کیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ لارندہ چلے گئے اور کچھ سال وہیں رہے۔مولانا رومی کی شادی شرف الدین کی بیٹی گوہر خاتون سے کردی گئی۔ اس وقت مولانا کی عمر سترہ یا اٹھارہ برس تھی۔ مولانا کے دو بیٹے رشید سلطان اور علائوالدین لارندہ ہی پیدا ہوئے ۔ اس دور میں چنگیز خان نے ثرقند غارا نیشاپور بلخ اور دیگر علاقوں میں تباہی مچادی تھی۔ اس لئے لوگ ان متاثرہ علاقوں سے ہجرت کرکے قونیہ کا رخ کررہے تھے۔

    مولانا بہا ئو الدین بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ قونیہ چلے آئے مگر کچھ عرصے بعد مولانا بہائو الدین کا انتقال ہوگیا، یہ خبر سن کر سید برہان الدین ترمز سے توشیہ چلے آئے۔ انہوں نے اپنے شاگرد مولانا رومی کو گلے لگایا اور انہیں یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ ان کے شاگرد نے تمام علوم میں کمال مہارت حاصل کرلی ہے مگر مولانا رومی اب بھی علم کے حصول کے متلاشی تھے اسی مقصد کے تحت وہ شام چلے آئے، اس زمانے میں دمشق بہت اہم تعلیمی مرکز تھا، مزید علم حاصل کرنے کے بعد آپ واپس قونیہ چلے آئے اور پھر وہیں رہے۔
    امیر بدر الدین نے قونیہ میں ایک بڑا مدرسہ قائم کیا تھا، مولانا رومی نے وہیں قیام کیا۔ مولانا رومی نے قونیہ میں درس و تدریس کی ذمہ داری سنبھال لی اور ان کے اکثر ساتھی بھی قونیہ آگئے تھے اس طرح قونیہ علمائے کرام کا اہم مرکز بن گیا۔مولانا رومی کے مدرسے میں چار سو سے زائد طلبا ء تھے۔ مولانا رومی اپنے مدرسے کے علاوہ دیگر مدارس میں بھی درس دیا کرتے تھے۔ پھر مولانا کی ملاقات ایک ایسی اہم شخصیت سے ہوئی۔ جس نے مولانا کے افکار پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے بلکہ اس شخصیت کے روحانی تاثر نے مولانا رومی کے دل کی کیفیت یکسر بدل دی۔ یہ شخصیت ایک بہت بڑے بزرگ اور صوفی حضرت شاہ شمس تبریز کی تھی۔ مولانا رومی حضرت شاہ شمس تبریز کے مرید ہوگئے۔ اس حوالے سے ایک واقعہ بے حد مشہور ہے کہ ایک دن مولانا رومی حوص کے کنارے اپنے شاگردوں کو درس دے رہے تھے اور قریب ہی کچھ کتابیں پڑی تھیں، حضرت شاہ شمس تبریز وہاں تشریف لائے اور انہوں نے مولانا رومی سے پوچھا کہ (ای چی است؟) (یہ کیا ہے؟)مولانا رومی نے جواب دیا تو نامی دانم (تم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے) مولانا رومی کو اس وقت معلوم نہ تھا کہ سامنے کھڑا شخص کوئی جید بزرگ اور علم ہیں۔ حضرت شاہ شمس تبریز نے وہ ساری کتابیں حوض میں ڈال دیں، اس پر مولانا رومی لبرہم ہوگئے اور کہا کہ یہ تم نے کیا کردیا ہے۔ حضرت شمس تبریز نے حوص سے وہ کتابیں نکال کر مولانا رومی کو دیں تو وہ کتابیں خشک تھیں۔ مولانا رومی حیران رہ گئے، انہوں نے بے ساختہ پوچھا ای چی است؟ (یہ کیا ہے؟) تو حضرت شاہ شمس تبریز نے جواب دیا تو نامی دانم (یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے) اس کے بعد مولانا رومی حضرت شاہ شمس تبریز کے مرید ہوگئے اور انہوں نے حضرت شاہ شمس تبریز کو اپنا شیخ مان لیا۔
    ایک بے حد خوبصورت شعرہے:
    مولانا ہرگز نہ شد مولائے روم
    تا غلامِ شمس تبریز ناشہ

  • استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ)  | باب 4

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب 4

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    پاموکلے کی حیرت انگیز خوبصورتی

    باب4

    صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد برصا سے پاموکلے کے لئے روانہ ہوئے۔
    پاموکلے ایک بے حد خوبصورت قصبہ نما گائوں ہے۔ جو ترکی کے صوبہ Denizilliمیں واقع ہے۔ یہاں cotton castleیعنی روئی کا قلعہ بھی موجود ہے جو دنیا بھر میں اپنی حیرت انگیز خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے یہاں گرم پانی کے چشمے بہتے ہیں اور کیلشیم کاربونیٹ کے معدنی ذخائر کی وجہ سے یہاں کے فرش سفید رنگ کے ہیں۔ یہ ترکی کا مشہور سیاحتی مقام ہے سفید پہاڑوں کی یہ وادی سیاحوں کے لئے بے حد کشش رکھتی ہے۔ ہم بس کی کھڑکی کے پار نظر آتے نظارے دیکھ رہے تھے سڑک کے اطراف سرسبز کھیت تھے۔ ترکی کے گائوں اور دیہات بھی بے حد خوبصورت ہیں ہماری اگلی سیٹ پر خالدہ آنٹی اور یاسمین مشتاق براجمان تھیں، ساتھ والی سیٹ پر رضیہ آنٹی اور طاہرہ مظہر بیٹھی تھیں۔ ہماری پچھلی سیٹ پر نیئر اور شاہینہ بیٹھی تھیں اور ان کے ساتھ والی سیٹ پر فضہ اور طلعت تھیں۔ سفر کے دوران ہم باتیں کرتے رہے۔
    یسریٰ نے اپنی پھپھو رضیہ صدیق کے بارے میں بتایا۔
    ”یہ میری پھپھو رضیہ صدیق ہیں اور یہ بڑی ہنر مند اور سلیقہ مند خاتون ہیں۔ انہیں بہت کچھ آتا ہے۔ ہمارے خاندان میں جتنی بھی تقریبات اور شادیاں ہوتی ہیں، ان سب کے لئے پھپھو ہی سب کے کپڑے ڈیزائن کرتی ہیں اور سب لوگ شاپنگ کے لئے انہیں ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
    یہ بہت باکمال ڈیزائنر ہیں اور ہر معاملے میں پھپھو سے مشورہ لیا جاتا ہے اور ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے میں رضیہ پھپھو کے ساتھ اسکردو اور ہنزہ گئی تھی۔ جب مجھے ترکی جانے کے بارے میں پتا چلا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا اور میں نے بھی فوراً اس ٹرپ کو جوائن کرلیا۔ اس حوالے سے اکثر عائشہ سے بات ہوتی رہتی تھی مجھے اپنے ویزے کی بہت فکر تھی۔ پھپھو کے ساتھ بیٹھی طاہرہ آنٹی میری روم میٹ ہیں اور پھپھو کی عزیز سہیلی بھی ہیں۔ پھپھو کی عادت ہے کہ وہ سب کا بے حد خیال رکھتی ہیں۔ بہت محبت کرنے والی اور شفیق خاتون ہیں۔ میں نے اس کی بات سنتے ہوئے ایک نظر اس کی پھپھو کو دیکھا۔
    ”کاش ہماری بھی کوئی پھپھو ہوتی۔”
    میں نے بے ساختہ کہا۔ یہ ہماری دلی خواہش تھی کہ ہماری بھی کوئی پھپھو ہوتی۔ نہ ہماری کوئی پھپھو تھی اور نہ ہی میرے بچوں کی کوئی پھپھو تھی۔ یہ حیرت انگیز اتفاق تھا۔
    اچانک رضیہ پھپھو نے ہماری طرف دیکھا جیسے انہیں پتا چل گیا ہو کہ ہم ان کے بارے میں ہی بات کررہے ہیں۔ ہنر مندی کے علاوہ ان کی حسیات بھی تیز تھیں اور قوتِ مشاہدہ بھی کمال کی تھی۔
    ”پھپھو میں انہیں آپ کے بارے میں بتارہی ہوں۔ یہ حیران ہورہی ہیں کہ تمہاری پھپھو کو اتنا کچھ آتا ہے اور وہ اتنی قابل خاتون ہیں۔”
    یسریٰ نے اپنی پھپھو کو دیکھتے ہوئے جواباً کہا۔
    یسریٰ کی پھپھو سنجیدہ اور سوبر خاتون تھیں، سفید دوپٹہ سر پر اوڑھا ہوا تھا۔ کبھی کبھی دھیمے انداز میں مسکراتیں۔ پھپھو کا یہ روپ انوکھا اور شفیق تھا۔ ان کے ساتھ بیٹھی طاہرہ مظہر سیا ہ دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں اور آنکھوں پر سیا ہ رنگ کی سن گلاسز لگائے ہوئے تھے۔ پھپھو کی نسبت وہ بارعب خاتون نظر آرہی تھیں۔ پھپھو میری طرف متوجہ ہوئیں۔
    ”میںنے آپ کو ترکی آنے سے پہلے کبھی نہیں دیکھا مگر میں نے آپ کے ڈرامے دیکھے ہیں آپ نے لکھنے کا آغاز کیسے کیا؟”
    رضیہ پھپھو نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے پوچھا۔
    ”مجھے بچپن سے ہی لکھنے کاشوق ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔ یہ کئی بار کا دہرایا ہوا جواب تھا۔
    جب بھی کوئی یہ سوال پوچھتا، میرا یہی جواب ہوتا۔
    دراصل ایسے سوالات کے جوابات دینا مجھے مشکل لگتا تھا۔ لکھنے کا آغاز کیسے کیا، ڈرامے کیسے لکھنا شروع کئے، ٹی وی تک کیسے چلی گئیں، یہ کیسے کیا، وہ کیسے کیا، بندہ اب ان باتوں کا کیا جواب دے۔ اکثر لوگ میسج پر مجھ سے پوچھتے کیا آپ ڈائجسٹ رائٹر والی مدیحہ شاہد ہیں، میں جواب دیتی جی ہاں، لوگ حیران ہوتے اچھا، یقین نہیں آتا، یہ حیرانی مجھے بھی حیران کردیتی ۔ میں سوچتی کہ رائٹرز بھی تو عام لوگ ہی ہوتے ہیں۔ بس یہ ہے کہ ان کا پروفیشن باقی لوگوں سے مختلف ہوتا ہے۔
    ذرا توقف کے بعد یسریٰ نے پھپھو کی داستان کا سلسلہ وہیں سے جوڑا۔
    ”رضیہ پھپھو اپنے عہد کی ایک نامور شخصیت ہیں ۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ ہمارے خاندان کی لیڈر ہیں۔ انہوں نے بہت سے ممالک کے سفر کئے ہیں اور رفاہِ عامہ اور سوشل ورک کے حوالے سے بے شمار کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں دونوں شادی شدہ ہیں اور ان کے پوتے پوتیاں بھی اب جوان ہوگئے ہیں مگر یہ ابھی تک ایکٹو ہیں، ہر ایونٹ اور تقریب میں شرکت کرتی ہیں، پھپھا صدیق نے بھی ہر معاملے میں پھپھو کا ساتھ دیا ہے اور لوگ انہیں آئیڈیل کپل سمجھتے ہیں پھپھو جہاں بھی جاتی ہیں پھپھا جان کے ساتھ ہی جاتی ہیں۔ ہم نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھ رہے ہیں۔”
    اس نے مزید بتایا۔

    اس سفر میں ہم رضیہ پھپھو کے متعلق باتیں کرتے رہے۔ ایسے بزرگ قابل ِ رشک ہوتے ہیں جن کی نئی نسل انہیں آئیڈیلائز کرتی ہے۔ ورنہ میں نے ایسے بہت سے معمر لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی دوسروں کو دکھ دیئے اور خاندانی سیاستوں اور سازشوں میں مصروف رہے۔ خیر پاموکلے پہنچ کر ہم نے ایک ریسٹورنٹ میں دوپہر کا کھانا کھایا جہاں ترکی کی روایتی ڈشز تھیں۔ ہم کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے، پاموکلے کا موسم خوشگوار تھا اور سنہری دھوپ بے حد بھلی لگ رہی تھی۔ یہاں کی فضا میں تازگی تھی۔ ہر طرف رونق تھی۔
    وہاں سے ہم گائیڈ کے ہمراہ اک جھیل نما تالاب کے پاس آئے جہاں لوگ تیراکی کا شوق بھی پورا کررہے تھے۔ وہاں اردگرد سبز درخت تھے اور لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ بھی موجود تھے۔ تالاب دیکھنے کے بعد ہم لوگ باہر آئے اور ہم وہاں سے پیدل ہی cotton castle کی جانب چلے۔ روئی کا وہ قلعہ جسے دیکھنے کے لئے لوگ بے تاب تھے۔ یہاں آکر لوگوں کو بہت پیدل چلنا پڑتا ہے۔ اچھی بھلی واک ہوجاتی ہے۔ یہاں کے نظارے اتنے خوبصورت تھے کہ ہمیں پیدل چلنے میں لطف آرہا تھا۔
    Cotton Castleآکر ہم سب بے حد ایکسائیٹڈ تھے۔ سفید فرش پر نیلے پانی کے چشمے بہہ رہے تھے۔ کیا خوبصورت نظارے تھے، کیا رعنائی اور دلکشی تھی، سبحا ن اللہ، اللہ کی قدرت کے ایسے خوبصورت نظارے، ایسے دلکش منظر تھے۔
    دیکھنے والے خوش اور حیران رہ جاتے۔
    کہاجاتا ہے کہ اس پانی میں کچھ ایسی قدرتی معدنیات ہیں کہ جن میں healing properties پائی جاتی ہیں۔ یہ قدرتی پانی کے چشمے ہیں۔ انہیں دیکھنے کے لئے لوگ دور دراز سے کے علاقوں سے آتے ہیں۔ دن کے وقت یہاں بہت رش ہوتا ہے اور یہاں کا موسم بھی خوشگوار ہوتا ہے۔ دور نیلے پانی کی اک جھیل بھی نظر آرہی تھی اور اس سے آگے لوگوں کے مکانات بھی تھے، وہاں آبادی بھی تھی۔ سنہری کرنوں کا عکس پانی پر جھلملا رہا تھا۔
    یہ چشمے دور تک بہتے نظر آرہے تھے۔ ان کی روانی میں ایک ردھم تھا۔ ذرا آگے لوہے کی زنجیریں بھی لگی تھیں۔ فرش پر پھسلن کی وجہ سے بہت احتیاط سے چلنا پڑتا ہے۔
    لوگ پانی میں چلتے ہوئے دور تلک چلے گئے تھے۔ ہم بھی کچھ دیر پانی میں چلتے رہے پھر کنارے پر بیٹھ گئے۔ بہت تازگی محسوس ہورہی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس پانی کو چھوتے ہی انسان کو تازگی کا احساس ہوتا ہے اور لوگ تازہ دم ہوجاتے ہیں۔
    دور سے یہ سفید رنگ نے پہاڑ لگتے ہے قریب جاکر پتا چلتا ہے کہ یہ برف نہیں بلکہ سخت پتھریلی چٹانیں ہیں۔ ان پہاڑوں میں جگہ جگہ پانی کے تالاب بھی بنے ہوئے تھے۔ وہاں اک شخص رنگ برنگا طوطالئے ہوئے آیا۔ لبنیٰ نے اس طوطے کے ساتھ تصویر بنوائی۔ رضوانہ ہیٹ پہنے اپنی سیلفی اسٹک کے ساتھ نظرآئیں۔وہ چینی سیاحوں کے ساتھ ہنی خوشی تصویریں بنارہی تھیں۔
    دور ایک واٹر چینل کے پاس ڈاکٹر شمیم، عالیہ ، کرن، نیئر، طاہرہ، یاسمین، شاد، شاہین بیٹھی تھیں۔ نگہت بھی پانی میں چلتے ہوئے نظر آئیں۔ مہوش بھی اپنے شوہر دانیال کے ساتھ تھی۔ عمران صاحب بھی چشمے کے پاس کھڑے نظر آئے۔
    پہاڑ میں ایک جگہ تیزی سے چشمہ بہتا جارہا تھا لوگ اس کے نیچے کھڑے ہوکر پانی کا لطف اٹھا رہے تھے۔ یہاں بے فکری کے ساتھ اک آزادی بھی تھی۔ اک آزاد ماحول تھا۔ کسی کو کسی کی پرواہ نہیں تھی اور لوگ انجوائے کررہے تھے۔ پانی میں کھیل رہے تھے۔
    میں کنارے پر بیٹھ کر یہ خوبصورت نظارے دیکھ رہی تھی۔ یہ چشمے قدرت کا تحفہ ہیں۔
    وہاں آنے والے سیاح خوش تھے اور بے فکری سے انجوائے کررہے تھے۔ رش تھا مگر کسی طرح کی افراتفری نہیں تھی اور یہی لطف اٹھانے کا طریقہ ہوتا ہے کہ کسی کو تنگ نہ کیا جائے۔
    ہم کافی دیر وہاں بیٹھے رہے۔ کچھ دیر بعد ہم وہاں سے چلے ۔ وہاں ہم نے ایک خوبصورت شام دیکھی۔
    وہاں اک شادی شدہ نوبیاہتا جوڑا دولہا دلہن بھی آئے ہوئے تھے اور بے حد خوش و خرم نظر آرہے تھے۔ ترکی میں دلہنیں اپنی شادی پر سفید رنگ کا لباس پہنتی ہیں، ہلکا میک اپ کرتی ہیں اور ہلکے پھلکے زیور پہنتی ہیں۔
    وہاں آئی دلہن بے حد خوبصورت تھی اور اس نے حجاب پہنا ہوا تھا۔ مغربی انداز کے طرزِ زندگی کے باوجود یہاں بھی خواتین حجاب پہنتی تھیں یہ بے حد خوش آئند بات تھی۔ اس نے ہاتھوں میں رنگ برنگے خوش رنگ پھولوں کا گلدستہ تھاما ہوا تھا۔ چہرے پر ہلکا میک اپ تھا۔ یہاں پر لوگ برائیڈیل فوٹو شوٹ کے لئے بھی آتے ہیں۔
    ایک اور کپل تھا۔ لڑکی نے سفید رنگ کا خوبصورت لباس پہنا ہوا تھا۔ گلے میں ایک سنہری رنگ کا لاکٹ تھا اور بالوں میں کلپ لگے تھے ہاتھ میں سنہری کڑا تھا۔ لڑکے نے سفید رنگ اور سیاہ اور مہرون رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ ترکوں کے چہروں پر جو خوشی ہوتی ہے اس میں خود اعتمادی کی جھلک واضع نظر آتی ہے۔ پاکستانیوں نے اِ ن دولہا دلہن کو جالیا اور ذوق و شوق سے ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔
    میرے پاس ایک چھتری تھی۔ جو میری بیٹی کی تھی جلدی میں میں نے وہی چھتری اپنے ساتھ رکھ لی تھی۔ اس چھتری کے ساتھ ایک بیٹی تھی عائشہ نے وہ سیٹی لے لی اور وہ سیٹی بجاتے ہوئے گروپ کے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں آسانی ہوتی کچھ دیر بعد ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ پیدل کا راستہ لمبا تھا۔ ہم نے بھاگتے دوڑتے وہ راستہ طے کیا۔ بہت عرصے بعد ہم یوں بچوں کی بھاگے تھے۔ راستہ سڑک نما ٹریک تھا۔ یہ پہاڑی علاقہ تھا۔ ایک جگہ ہم سب نے گروپ فوٹوبنوایا۔
    عقب میں سفید رنگ کے پہاڑ نظر آرہے تھے۔ پانی پر سنہری کرنوں کا عکس جھلملا رہا تھا۔ دور سرسبز درخت بھی نظر آرہے تھے۔ وہ بے حد خوبصورت جگہ تھی۔ اچانک سڑک کے کنارے چلتے ہوئے آرٹیکا کا پائوں پھسلا اور وہ نیچے گرگئی۔ آس پاس کے لوگ بھاگتے ہوئے اس کی طرف لپکے اسے سہارا دے کر اٹھایا مگر اسے کافی چوٹیں آئی تھیں۔ہم فوراً بس میں بیٹھے اور ہم ہوٹل Anemon چلے آئے جو کہ ایک شاندار ہوٹل تھا۔ ا س میں کسی فلورز تھے۔ ہم اپنا سامان اٹھائے اپنے اپنے کمروں میں چلے آئے۔ میرے پاس دو سوٹ کیس تھے۔ ان کے ساتھ لفٹ میں سوار ہونا پھر انہیں گھسیٹ کر کمرے تک لانا بھی دشوار تھا۔
    یہاں لوگوں کو اپنا سامان خود اٹھانا اور سنبھالنا پڑتا ہے۔ اپنے جھوٹے موٹے کام بھی خود کرنے پڑتے ہیں۔ انسان کو حد سے زیادہ ذمہ دار ہونا پڑتا ہے۔
    میں سامان لئے کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں زاہدہ فاروق کے ساتھ ایک لڑکا بھی تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ ان کا بیٹا ہے اور پاکستان سے آگیا ہے۔ زاہدہ اپنے بیٹے کی آمد پر بے حد خوش اور نہال تھیں۔ مامتاکی خوشی میں محبت کا عکس واضع نظر آتا ہے۔
    ”یہ میرا بیٹا حیدر ہے۔پاکستان سے آیا ہے، شکر ہے کہ خیریت سے یہاں پہنچ گیا ہے۔ مجھے اس کی بڑی فکر تھی۔”
    وہ خوشی سے معمور آواز میں بولیں۔
    ”مبارک ہو، آپ کا بیٹا آگیا ہے۔”
    میں نے مسکرا کر کہا۔
    مجھے معلوم تھا کہ وہ کس شدت سے اپنے بیٹے کا انتظار کررہی تھیں۔ پاکستان فون کرتی رہتی تھیں۔ ہم لوگ ہوٹل میں چیک اِن کرتے ہی انٹرنیٹ connect کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہوجاتے، انٹر کام پر منیجر کو فون کرتے رہتے اور ٹوٹی پھوٹی انگلش سن کر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے مغز ماری کرتے رہتے۔ انٹرنیٹ connect ہوتے ہی سب سے پہلے پاکستان فون کرتے۔ اب میں زاہدہ کا بیٹا آگیا تھا تو مجھے کمرہ تبدیل کرنا تھا، میں نے پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ اب مجھے ہوٹل کے دوسرے کمرے میں جانا تھا جو اس کمرے سے دور تھا۔
    حیدر کے ساتھ پاکستان سے ساجدہ بھی آئی تھیں وہ بھی کسی وجہ سے لیٹ ہوگئی تھیں۔ عائشہ کے شوہر عمران صاحب بھی آگئے تھے۔ آج خوشی کا دن تھا۔ ساجدہ اب میری روم میٹ تھیں۔
    ”آپ ذرا میرا سامان اٹھالیں گے؟”
    میں نے اس لڑکے سے کہا۔ زاہدہ کے ساتھ اپنائیت کی وجہ سے میں نے چنداں تکلف سے کام نہ لیا اور جھٹ سے یہ فرمائش نما مطالبہ کردیا۔
    ”جی میں؟”

  • استنبول سے انقرہ تک  (سفرنامہ)  | بُرصا کے رنگ  | باب 3

    استنبول سے انقرہ تک  (سفرنامہ) | بُرصا کے رنگ | باب 3

    تحریر:مدیحہ شاہد

    استنبول سے انقرہ تک  (سفرنامہ)

    بُرصا کے رنگ
    باب3
    صبح سویرے ہم نے ناشتہ کرکے سامان بس میں رکھوایا اور برصا کے لئے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم ایک لیدر فیکٹری وزٹ کے لئے رکے جہاں لیدر سے بنی اشیاء بنائی جاتی تھیں۔ اس فیکٹری کا نام Levinson fur and leatherتھا۔ ہم فیکٹری کے اندر آئے تو وہاں پورا stitching unit تھا، بہت ساری مشینیں رکھی ہوئی تھیں اور لوگ کام میں مصروف تھے۔
    ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپری منزل پر آئے تو وہاں لیدر سے بنی اشیاء کوٹ، جیکٹ، پرس وغیرہ رکھے تھے اور بے حد مہنگے تھے جن کی قیمت ڈالرز میں تھی۔ کرن تحسین نے ایک جیکٹ خریدی ہم مختلف چیزیں دیکھتے رہے۔
    ترکی صنعتی لحاظ سے بھی خود کفیل ملک ہے۔ ملک کی معیشت کے لئے صنعتی ترقی بہت ضروری ہے۔ ترکی میں بے شمار صنعتیں ہیں۔ کچھ دیر بعد ہم باہر آئے اور تھوڑی دیر سڑک کے کنارے بیٹھے رہے۔
    موسم خوشگوار تھا اور ہلکی دھوپ تھی سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھی۔ میں اور یسریٰ سڑک کے کنارے بیٹھے کافی دیر آپس میں باتیں کرتے رہے۔ سڑک کے پار عمارتیں بھی نظر آرہی تھیں۔
    ہم سے ذرا فاصلے پر فرح توقیر ، نورین مان، نیہا، صباحت اور نگہت موجود تھیں۔
    کچھ لوگوں نے لیدر فیکٹری سے باہر آنے میں بہت دیر کردی۔ ہم لوگوں نے چونکہ فیکٹری اور وہاں موجود اشیاء دیکھ لی تھیں اس لئے جلد وہاں سے باہر آگئے تھے۔
    لیدر کی مصنوعات بے حد مہنگی ہوتی ہیں۔ ہمارا تو اتنا بجٹ نہیں تھا۔ لیدر کی اتنی مہنگی کوئی چیز خریدتے اور پھر ہمیں لیدر کی چیزوں میں اتنی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اس لئے ہم فیکٹری وزٹ کرنے کے بعد جلد ہی باہر آگئے تھے۔
    بس ذرا فاصلے پر کھڑی تھی۔
    گروپ کے لوگ پیدل چلتے ہوئے بس تک آئے پھر وہاں سے ہم روانہ ہوئے اور بس میں بیٹھ کر ساحل پر آئے جہاں سے ہم بحری جہاز یعنی فیری (ferry) میں سوار ہوئے۔
    اس بحری جہاز کے نچلے حصے میں گاڑیاں اور بس وغیرہ بھی پارک کی گئی تھیں۔ ہم فیری کے اوپر والے حصے میں آگئے۔
    فیری نیلے پانی کے سمندر میں لکیریں بناتے ہوئے تیرتی جارہی تھی۔ یہ بے حد خوشگوار تجربہ تھا۔ مجھے یاد آیا بچپن میں جب ابا کی پوسٹنگ کراچی ہوئی تھی تو ہم نے پورٹ قاسم میں بحری جہاز دیکھے تھے۔ یہاں مختلف بحری جہاز تھے۔ جنہیں فیری (ferry) کہا جاتا ہے اور یہ مرمرا کے سمندر میں چلتے ہیں۔
    ہم جہاز کے جنگلے کے پاس کھڑے ہوئے دھوپ کی سنہری کرنوں میں چمکتے نیلے سمندر کو دیکھتے رہے۔ کیسا خوبصورت اور دلکش منظر تھا۔ آسمان کی نیلاہٹیں خوبصورت تھیں۔ سفید سمندری پرندے فضا میں اڑتے ہوئے اِدھر سے اُدھر جارہے تھے۔ ہم کتنی ہی دیر ان خوبصورت نظاروں سے نظریں نہیں ہٹا پائے۔
    خوبصورتی کو دیکھنا بھی ایک نعمت ہے۔
    اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں اور غور و فکر کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا یہ اللہ رب العزت نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ بے شک تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لئے ہی ہیں۔
    استنبول سے برصا سمندر کے راستے بھی جایا جاسکتا ہے اور بذریعہ سڑک بھی لوگ جاسکتے ہیں۔
    برصا ترکی کا ایک اہم شہر ہے۔ جو ٹیکسٹائل سے وابستہ ہے۔ یہ سرسبز شہر ہے اور یہاں بے حد خوبصورت عمارتیں اور مساجد موجود ہیں۔
    برصا شہر صوبہ ٔ برصا کا دارالخلافہ ہے۔
    یہاں حضرت خضر سے منسوب مسجد اور ترکوں کا قدیم قلعہ بھی ہے۔
    اور چنار کا چھ سو سال پرانا درخت بھی ہے ، کہاجاتا ہے کہ اسی درخت کے سائے میں بیٹھ کر خلافت ِ عثمانیہ کی داغ بیل رکھی گئی تھی۔ عثمان (اوّل) نے 1326 ء میں برصا شہر کو فتح کرلیا تھا۔
    سب لوگ فیری کے سفر کو انجوائے کررہے تھے۔
    دھوپ کے باوجود وہاں تیز ہوا تھی۔ لوگوں نے کوٹ ، جیکٹ اور سوئیٹر پہنے ہوئے تھے۔
    ایک کونے میں یاسمین اور رفعت فیری کے جنگلے کے پاس کھڑی ٹائٹینک والا پوز بنائے کھڑے تھیں۔
    رضوانہ اپنی سیلفی اسٹک کے ساتھ مصروف نظر آئیں۔
    لوگ تصاویر اور ویڈیوز بنارہے تھے۔
    نیلے پانی کا سمندر اتنا خوبصورت تھا کہ لوگ دیکھتے تو دیکھتے ہی رہ جاتے۔ ہم نے اوپر سے جھانکا تو فیری کی نچلی منزل پر گاڑیاں پارک ہوئی نظر آئیں۔ دور دور تک نیلا سمندر نظر آرہا تھا۔ نیلا سمندر ، لہریں، سمندر پرندے، نیلا آسمان، بادل ، قدرت کے نظارے بے حد دلکش تھے۔
    میں فیری کے کوریڈور میں واک کرتی رہی اور خوبصورت نظارے دیکھتی رہی پھر میں فیری کے اندر آگئی۔ وہاں لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ موجود تھے۔ کونے میں کافی شاپ بھی تھی جہاں سے لوگ کھانے پینے کی چیزیں اور کافی لے رہے تھے۔ فیری میں بہت لوگ سوار تھے۔ نیلا سمندر، خوبصورت نظارے اور ٹرکش کافی، میں بھی وہیں چلی آئی کہ چلو ہم بھی کافی پیتے ہیں۔
    کافی شاپ پر رش تھا۔ میں رش کم ہونے کا انتظار کرتی رہی۔ کچھ دیر بعد جب رش کم ہوا تو میں کائونٹر کے پاس چلی آئی جہاں کافی بنانے والا کھڑا تھا۔
    ”ایک کپ کافی۔”
    میں نے اسے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    وہ شخص کافی بنانے لگا۔

    وہاں چینی چوکور ڈلیوں کی شکل میں ایک پیالے میں پڑی تھی۔
    ”تھوڑا دودھ اور ڈال دیں۔ ہم پاکستانی ہیں دودھ والی چائے اور کافی پیتے ہیں۔”
    میں نے اسے انگلش میں بتایا۔
    تین چار چینی کی چوکور ڈلیاں ڈالنے کے باوجود کافی کڑوی تھی۔
    ہر علاقے اور ہر ملک کے لوگوں کی اپنی پسند و ناپسند ہوتی ہے۔ خیر اپنی تسلی کرکے، کافی میں میٹھا چیک کرکے میں پلٹی تو مجھے وہاں اپنے گروپ کا کوئی بندہ نظر نہ آیا میں پریشان ہوگئی۔
    ”گروپ کے سب لوگ کہاں چلے گئے!”
    میں نے فیری کے ہال میں اِدھر اُدھر دیکھا، پھر باہر آئی تو کوریڈور سنسان سا محسوس ہوا میرے تو اوسان خطا ہوگئے۔
    فیری ، سمندر ، پردیس… میں ہاتھ میں کافی لئے وہیں کھڑی رہ گئی ۔ سمجھ نہ آئی کہ اب کیا کروں ۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ پورے بحری جہاز میں اپنے گروپ کا کوئی بندہ نا ملتا۔ کافی کی مصروفیت میں ایسی محو ہوگئی تھی کہ پتا ہی نہ چلا گروپ کے لوگ کہاں چلے گئے۔ پھر بھی میں نے تلاش جاری رکھی۔ میں دوبارہ باہر آئی اِدھر اُدھر دیکھا کہ اچانک سامنے سے عائشہ آتی نظر آئی۔ اُسے دیکھ کر دل کو اطمینان ہوا۔
    ”میں آپ کو کب سے ڈھونڈ رہی ہوں۔ سب لوگ بس میں بیٹھ چکے ہیں، آپ کہاں گھوم رہی ہیں… چلیں جلدی کریں میرے ساتھ آئیں۔”
    اس نے فکر مندی سے کہا۔
    میں لپک کر اس کے پاس آئی۔
    ”ہاں وہ دراصل میں کافی لینے چلی گئی تھی، پتا ہی نہ چلا سب اچانک کہاں چلے گئے۔” میں اپنی اس لاپرواہی پر کچھ شرمندہ سی ہوگئی۔
    ”سفر کرتے ہوئے لوگوں کو بہت الرٹ اور چوکس رہنا پڑتا ہے۔اِدھر اُدھر نظر رکھنی پڑتی ہے برصا آگیا ہے، سب لوگ جاکر بس میں بھی بیٹھ گئے اور آپ کو خبر ہی نہ ہوئی ایسی کون سی اسپیشل کافی ہے۔” عائشہ نے کہا۔ ہم تیزی سے چلتے ہوئے بس کے پاس آئے اور بس میں سوار ہوئے تو سب لوگ ہمارا انتظار کررہے تھے۔
    ”ایک خاتون گم ہوگئی تھیں شکر ہے کہ مل گئی ہیں۔”
    کسی نے کہا۔
    میں فوراً اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ اس سفر میں میں بھی کسی جگہ گم ہوسکتی ہوں۔
    ”دیکھیں آپ لوگ محتاط رہیں، گروپ کے ساتھ رہا کریں۔ کوئی شخص گم ہوجاتا ہے تو ہمیں بے حد پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ پردیس ہے… یہاں ان باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ میں باربار آپ لوگوں کو بتارہی ہوں۔ اس طرح ہمارا وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔”
    یاسین نے خفا اور ناراض انداز میں دوبارہ اعلان کیا۔
    میں کان لپیٹے سنتی رہی اور کافی پیتی رہی۔
    میرے ساتھ بیٹھی یسریٰ نے تلوں والا رول دیا۔ جس کا نام simit ring ہے۔ یہ ترکی کا مشہور smack ہے اور جگہ جگہ عام ملتا ہے اور ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے۔
    ہم برصا پہنچ چکے تھے۔ بس ایک جگہ رکی اور ہم لنچ کرنے کے لئے ایک ریسٹورنٹ میں آئے جس کا نام ”بنکار” تھا۔
    برصا بے حد خوبصورت اور تاریخی شہر ہے۔ یہاں کی عمارت اور گھر کلاسیکل اور روایتی انداز میں بنے ہوئے ہیں۔
    ترکی کے ہر شہر کا اپنا ایک مزاج ہے۔ اپنا ایک الگ کلچر ہے۔
    برصا میں سبزہ ہے۔ پھول پودے، گھاس اور درختوں کی بہتات ہے۔ اس لئے اسے ”گرین برصا” (سرسبز برصا) بھی کہا جاتا ہے۔
    برصا سلجھے ہوئے لوگوں کا شہر لگتا ہے ۔ یہاں صاف ستھری کشادہ سڑکیں اور باغیچوں والے کلاسیکل انداز میں بنے خوبصورت گھر نظر آتے ہیں۔ یہاں عمارات کا فن ِ تعمیر بے حد خوبصورت ہے۔
    بنکار بے حد خوبصورت ریسٹورنٹ تھا۔ ہوٹل کی عمارت کے باہر ٹوکریوں میں پھول کھلے تھے۔ ہوٹل کے باہر خوبصورت سرسبز درخت تھے۔
    وہاں ایک بے حد مزاحیہ سا ویٹر بھی تھا جس نے خوب شغل لگایا ۔ کھانے میں ڈونر کباب تھے۔ کسی کو بیف کے کباب ملے تو کسی کو چکن کے کباب ملے۔ گوشت کے تلے ہوئے ٹکڑوں کے ساتھ ٹماٹر اور ہر ی مرچیں تھیں، ساتھ دہی بھی تھا، کہاجارہا تھا کہ یہی کباب تھے۔
    ”یہ کیسے کباب ہیں، ہمارے ہاں تو ایسے کباب نہیں ہوتے!”
    لوگ یہ کباب دیکھ کر حیران تھے۔
    بیف کھانے والے کم تھے، چکن کی ڈیمانڈ زیادہ تھی۔ لوگوں نے اپنی فرمائشیں بھی کیں۔
    ”جو کچھ بھی ملے شکر کرکے کھالینا چاہیے۔”
    یاسمین نے نخرے کرتے لوگوں کو دیکھ کر بارعب انداز میں نصیحت کی۔
    پردیس آکر انسان صبر شکر بھی سیکھ لیتا ہے۔جب بھی پردیس جائیں ناز نخرے اپنے وطن میں چھوڑ کر آئیں اور اپنا سامان خود اٹھانے کی عادت ڈال بھی لیں۔ پردیس آکر ہم بہت کچھ سیکھ چکے تھے۔ سب لوگ کھانے میں مصروف ہوگئے۔
    وہ مزاحیہ ویٹر آنکھ مار کر بات کررہا تھا۔ ہم حیران رہ گئے کہ یہ ویٹر آنکھ کیوں مار رہا ہے۔ پھر کسی نے وضاحت کی کہ یہ یہاں کے لوگوں کا انداز ہے۔ winkکرتے ہوئے بات کرتے ہیں۔ ہم نے اس انداز کو بھی سمجھ لیا اور جب بھی کوئی آنکھ مارتا اس سے نارمل انداز میں بات کرتے پردیس جاکر انسان کو وہاں کے ماحول اور کلچر کو سمجھنا پڑتا ہے۔
    کھانے کے بعد ہم سِلک مارکیٹ چلے آئے جو برصا کا قدیم بازار تھا۔ بس سے اتر کر ہم سڑک پر پیدل چلتے رہے ایک جگہ سیڑھیاں نظر آئیں جن کے دونوں اطراف سرسبز لان تھے۔ ہم نے وہاں یادگار گروپ فوٹو بنوایا۔
    برصا میں بھی پیدل چلنے کارواج تھا۔ گروپ کے لوگ پیدل چلتے ہوئے تھک گئے تو رفعت سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پربیٹھگئی۔
    ”ارے آپ فٹ پاتھ پر کیوں بیٹھ گئی ہیں؟ دیکھنے والے لوگ نہ جانے کیا سمجھ لیں گے۔”
    کسی نے رفعت کو ٹوکتے ہوئے کہا۔
    ”کچھ بھی سمجھ لیں۔ میں تھک گئی ہوں۔ کچھ دیر یہیں بیٹھ کر سُستا لیں گے۔”
    رفعت کے اطمینان میں فرق نہ آیا ۔ نیہا نے شرارت سے پرس میں سے پیسے نکالے اور رفعت کو پکڑا دیئے۔
    ”اپنی مرضی سے دے رہی ہو، واپس نہ مانگنا اب یہ میرے ہوگئے ہیں۔”
    رفعت نے شرارت سے کہتے ہوئے مٹھی بند کردی۔
    ”یہ تو بس مذاق تھا۔ پیسے اب واپس کردیں۔”
    نیہا نے ہنستے ہوئے کہا اور پھر پیسے واپس لے بھی لئے۔ ہاں بھئی روپے پیسے کی اہمیت کا احساس توپردیس میں ہوتا ہے۔ جہاں ایک ایک روپیہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنا پڑتا ہے کہ جتنا بجٹ ہے اسی میں گزارہ کریں اور کسی سے ادھار مانگنے کی نوبت نہ آئے۔
    ہم پھر پیدل چلتے رہے۔ گائیڈ نے بازار میں شاپنگ کے لئے دو گھنٹوں کا ٹائم دیا۔
    ہم نے سوچا اب دو گھنٹے بازار میں کون گھومتا پھرتا رہے۔ استنبول سے ہم نے کافی شاپنگ کرلی تھی۔ اسی لئے میں بس کی طرف آگئی سوچا بس میں کچھ دیر آرام سے بیٹھیں گے۔
    لبنیٰ اور رضوانہ ایک مسجد دیکھنے چلی گئیں۔ میں سعادت منیر بھی بس میں بیٹھی تھیں۔ باقی لوگ بازار چلے گئے۔ میں پارکنگ ایریا میں آگئی۔
    پارکنگ کے پاس بے حد خوبصورت گھر بنے ہوئے تھے۔ جہاں جنگل نماباغ تھے۔ گھروں کے باہر گاڑیاں بھی کھڑی تھیں۔ میں چلتے ہوئے پارکنگ کے کنارے تک آئی۔ سامنے گرے رنگ کا تکونی چھت والا اور سفید کھڑکیوں والا خوبصورت گھر تھا۔ جس پر ترکی کا پرچم لگا تھا۔ گھر کے ساتھ چھوٹا سا باغ بھی تھا۔ گھر کے باہر گملے بھی رکھے ہوئے تھے۔
    میں وہاں کھڑی اس خوبصورت گھر کو دیکھتی رہی۔
    یہاں لوگ گھروں میں خود کام کرتے ، باغ کا خیال رکھتے، پودوں کو پانی دیتے اور مصروف رہتے۔
    کچھ دیر بعد میں بس میں آگئی ، جہاں سعادت منیر بھی بیٹھی تھیں۔
    ”تم بازارنہیں گئی۔”
    انہوںنے پوچھا۔
    ”تھک گئی تھی۔ کافی دیر پیدل چلتے رہے تھے، سوچا کون بازارمیں دو تین گھنٹے چلتا رہے۔ اسی لئے بس میں آگئی۔”
    میں نے جواباً کہا۔ مرسڈیز بس بے حد آرام دہ تھی۔
    یکدم ڈرائیور اوہان بس میں آیا اور اس نے بس اسٹارٹ کردی ۔ہم حواس باختہ رہ گئے۔ ڈرائیور انگریزی زبان سے نابلد تھا نا وہ ہماری زبان سمجھتا تھا اور نا ہم اس کی زبان سمجھ سکتے تھے۔
    ”بات سنیں ، ہم کہاں جارہے ہیں؟”
    ہم نے اشارے کرکر کے اس سے پوچھنے کی کوشش کی۔
    نجانے وہ ترک زبان میں کیا بول رہا تھا۔ ہماری سمجھ میں نہ آیا۔ ترکی آنے سے پہلے ہمیں ترک زبان کے عام بول چال کے کچھ الفاظ سیکھ لینے چاہیے تھے، ہمیں یہ غلط فہمی تھی کہ ترکی میں انگریزی بولی جاتی ہے۔
    مس سعادت بھی گھبرا گئیں۔
    ”بھائی کہاں لے کر جارہے ہو ہمیں؟ ہمارے گروپ کے لوگ تو اُدھر بازار میں ہی ہیں۔ ارے اس سے پوچھو تو سہی اسے کس نے کہا ہے کہ بس چلادے، ہمیں کہاں لے جارہا ہے؟ میرا تو دل گھبرا رہا ہے۔”
    سعادت منیر نے گھبرا کر کہا۔
    بس ، دو پردیسی خواتین اور ایک اجنبی ڈرائیور… میں نے فوراً بلند آواز میں اسے ٹوکا۔
    ”ہمارے گائیڈ سرخان کو فون کردیں۔ سرخان … فون…”
    مزید وضاحت کے لئے ہم نے اشارے بھی کئے۔
    اس نے موبائل سے سرخان کو کال ملائی اس سے ترک زبان میں کچھ بات کی اور مجھے موبائل پکڑا دیا۔
    اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ سرخان کو کہہ رہا ہے یہ دو وہمی خواتین ہے، خوفزدہ ہو گئی ہیں ان سے بات کرکے انہیں تفصیل بتادو۔
    میں نے موبائل تھام کر سرخان سے بات کی۔
    ”ہیلو مسٹر سرخان! یہ ڈرائیور ہمیں کہیں لے جارہا ہے۔ گروپ کے لوگ وہیں بازار میں ہیں، ہمیں اس کی بات بھی سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کہہ کیا

  • استنبول سے انقرہ تک  (سفرنامہ)  | باب2

    استنبول سے انقرہ تک (سفرنامہ) | باب2

    تحریر:مدیحہ شاہد

    ”استنبول سے انقرہ تک ”  (سفرنامہ)

    توپ کاپی محل اور قیمتی خزانے

     2باب

    صبح سویرے ہم تیار ہوکر ناشتہ کرنے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پہنچے جہاں بڑی رونق تھی اور خوبصورت برتنوں میں ناشتے کے لوازمات سجے تھے۔ شہد، دلیہ، ابلے ، انڈے، بریڈ، مکھن، آملیٹ، پنیر، زینون، کارن فلیکس، بغیر دودھ والی چائے، کافی، جوس اور دیگر ڈشز پورے اہتمام کے ساتھ سرو کی گئی تھیں۔ لوگوں کی باتوں کی آواز کے ساتھ برتنوں کی کھنک بھی گونج رہی تھی۔
    ناشتہ کرنے کے بعد ہم بس میں سوار ہوکر توپ کاپی محل کی طرف روانہ ہوئے۔ ٹاکسم اسکوائر سے توپ کاپی محل کافی فاصلے پر تھا۔ صبح صبح موسم بے حد خوشگوار تھا۔ میں بس کی سیٹ پر بیٹھی کھڑکی کے پار نظر آتے نظارے دیکھنے میں محو تھی۔ ترکی آکر جو چیز واضع نظر آتی ہے۔ وہ وہاں کی صفائی ہے۔ سڑکیں، مکانات، گلیاں سب صاف ستھری تھیں۔ دکانیں سجی ہوئی تھی۔ ہر چیز میں اک خاص قسم کا نظم و ضبط نظر آتا ہے۔ جسے دیکھنے والے بے اختیار سراہتے ہیں۔
    حیرت کی بات تھی کہ بس جس راستے سے بھی گزرتی، دور سے اک مسجد نظر آتی رہتی جو شاید بلندی پر واقع تھی۔
    کچھ دیر بعد بس محل سے ذرا فاصلے پر سڑک کے کنارے رُکی اور ہم پرجوش انداز میں بس سے اُترے۔ صبح کے اجالوں میں ہلکی دھوپ چمک رہی تھی۔ محل بلندی کی طرف تھا۔ وہاں سے ہم پیدل ہی محل کی جانب چلے۔ محل دیکھنے کی ایکسائٹمنٹ اتنی تھی کہ جذبات پر قابو پانا مشکل تھا۔ ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے ہوئے محل کی جانب چلتے جارہے تھے۔ صبح کی تازگی میں اک پرلطف سی رونق ہوتی ہے۔
    کچھ دور چلنے کے بعد سامنے مضبوط، عالی شان اور شاندار محل نظر آیا جس کے صدر دروازے والی دیوار پر سنہری حروف سے پہلا کلمہ لکھا ہوا تھا۔
    لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔
    اسلام کا پہلا کلمہ اسلام کا پہلا بنیادی رکن ہے۔ اسلام کی بنیاد ہے۔ مسلمانوں کا دل ہے۔ صرف زبان ہی نہیں، مسلمان کا دل بھی کلمہ گو ہوتا ہے۔ یہ کلمہ بہشت کی کنجی ہے، عالم اسلام کی اساس ہے۔ مسلمان کا قیمتی اثاثہ ہے۔ اللہ رب العزت کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، یہ دنیا، کائنات، زمین، آسمان، ہر چیز اللہ کی ہے۔اللہ اور رسول اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی ہدایت کا راستہ ہے۔ پہلا کلمہ طیبہ دنیا اور کائنات کا قیمتی خزانہ ہے۔ بادشاہت اور حکمرانی صرف اللہ رب العزت کے لئے ہے۔ وہی معبود ہے، وہی بادشاہ ہے، وہی حکمران ہے، اللہ ہر شے پر قادر ہے، تخت اُسی کا ہے، بادشاہی اُسی کی ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اسی کا ہے۔ وہ ہی ہر شے پر قادر ہے۔ یہ دنیا، کائنات اور جو کچھ بھی ہے اُسی کی ملکیت ہے۔ باقی سب خالی ہے۔
    محل کے اونچے میناروں پر دھوپ دمک رہی تھی اور بلندی پر ترکی کا پرچم لہرا رہا تھا۔
    توپ کاپی محل فن تعمیر کا باکمال شاہکار ہے۔
    میں توپ کاپی محل کے سامنے کھڑی تھی۔
    خوش، حیران اور ایکسائیٹڈ۔۔۔ یوں جیسے انسان کی کوئی قیمتی خواہش اچانک پوری ہوجائے۔
    ترکی کے ڈراموں نے پاکستان میں مقبولیت حاصل کی تو میں بھی سارے کام نپٹا کر ٹرکش ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی، اور پھر یہ شوق جنون بن گیا۔
    اکثر میرا بیٹا علی اپنے پاپا کو شکایت لگاتا کہ مما ٹی وی پر ڈرامے دیکھ رہی ہیں اور مجھے کارٹون نہیں دیکھنے دے رہیں، علی کے پاپا اس شکایت پر بالائی منزل سے سیڑھیاں پھلانگتے بھاگے آتے کہ یہ کیا گھر میں ہر وقت ٹرکش ڈرامے لگے رہتے ہیں اور اب تو بچے بھی شکایتیں کرنے لگے ہیں۔ یہ بات نہیں تھی کہ مجھے ترکی ڈراموں کے اداکار، سیٹ ، ملبوسات یا ڈراموں کی کہانی پسند تھی۔ بات تو یہ تھی کہ دل چپکے چپکے استنبول اور توپ کاپی محل کے عشق میں گرفتار ہوگیا تھا۔
    اس وقت میں نے سوچا نہ تھا کہ ایک دن میں بھی ٹی وی ڈرامے لکھوں گی اور میرے تحریر کردہ ڈرامے بھی اسی طرح ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہوں گے جنہیں لوگ دیکھیں گے، سراہیں گے اور ایک دن میں بھی کوئی مشہور شخصیت بن جائوں گی، لوگوں کو انٹرویوز دوں گی۔ بھلا یہ کب سوچا تھا میں نے ۔ مگر ہم نے کب کیا کام کرنے ہوتے ہیں یہ اللہ طے کرتا ہے۔ یہ اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں۔ انسان کے دل میں کچھ ایسی خواہشات ہوتی ہیں۔ جن سے صرف رب واقف ہوتا ہے۔
    مجھے استنبول آنے اور توپ کاپی محل دیکھنے کی خواہش تھی۔ آج میں استنبول کی سڑک پر توپ کاپی محل کے سامنے کھڑی تھی۔
    انسانوں کو اپنی خواہشات بتانے کا کوئی فائدہ نہیں، اپنی خواہشات کی تکمیل کی دعائیں رب سے مانگنی چاہیے کہ وہی بادشاہ ہے، معبود ہے، حکمران ہے اور عطا کرنے والا ہے۔
    محل کے صدر دروازے کے اوپر دیوار پر لکھا گیا کلمہ اک پیغام تھا۔
    محل کے سامنے بہت سے لوگ قطاروں میں کھڑے تھے۔ وہاں سیاحوں کا رش تھا مگر اک خاص ڈسپلن بھی نظر آرہا تھا۔ مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگ اس محل کو دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔
    میں پرجوش انداز میں خوشی سے معمور دل کے ساتھ اس محل کو دیکھتی رہی پھر مجھے زارش نظر آیا۔
    ”زارش ! اس محل کے سامنے میری تصویر بنادینا۔”
    میں نے زارش سے کہا اور محل کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ ٹرپ پر اچھی تصویریں بنانے والا بندہ مل جائے تو ٹرپ کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ زارش نے کئی تصاویر بنائیں اور وہ ایک ماہر فوٹو گرافر تھا۔ پھر ہم سب محل میں داخل ہونے کے لئے قطار میں کھڑے ہوگئے۔ میرے ساتھ فرح توقیر، نورین مان، نگہت، عذرا فہیم، صباحت ، زارش، نوشین ، ان کے میاں، لئیق انکل اور ان کی بیگم صوفیہ اور دیگر لوگ تھے۔ وہاں سکول کے بچوں کا ٹرپ بھی آیا ہوا تھا۔ استاد بچوں کی قطار کے ساتھ کھڑے تھے۔ نا وہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کررہے تھے اور نا چیخ چلا رہے تھے۔ ان کا رعب ان کے انداز اور ان کی آنکھوں میں تھا۔
    بچوں میں بے حد اعتماد تھا۔ وہ ہنستے مسکراتے ہوئے آپس میں باتیں کررہے تھے۔ ترکی کے لوگ خوش رہنے کے فارمولے سے واقف تھے۔ وہ خود بھی خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دیتے ہیں۔ اس (Personality trait) نے ہمیں حیران کیا۔ خوشی کا فارمولا یہی ہے کہ آپ دوسروں کی خوشی کا خیال رکھیں۔
    میں نے اسکارف والی سلجھی ہوئی اک لڑکی کو سیلفی اسٹک سے تصویریں بناتے دیکھا جو اپنے والدین کے ساتھ کھڑی تھی اور فوٹو گرافری میں منہمک تھی۔ میں دھیرے سے اس کے قریب آگئی ۔ ایک جیسی دلچسپیاں اور شوق لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔
    اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا۔
    میرا نام فضہ ہے اور میں اپنے والدین کے ساتھ اسلام آباد سے آئی ہوں۔ یہ میری والدہ طلعت اور یہ میرے والد امتیاز ہیں۔ مجھے سیاحت کا شو ق ہے اور ہم مختلف ممالک میں اکثر سیاحت کی غرض سے آتے جاتے رہتے ہیں۔”
    اس نے سُریلی آواز میں کہا۔ اس کے ساتھ اس کے والدین بھی کھڑے تھے۔
    ”میری بھی تصویر کھینچ دیں۔ میں اکثر سیاحتی مقامات پر گئی ہوں۔ مگر مجھے اچھی تصویریں کھینچنے والے لوگ نہیں ملتے۔ کبھی تصویریں اچھی نہیں آتیں تو کبھی فوکس صحیح نہیں ہوتا۔”
    میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”آپ میرے ساتھ آجائیں۔”

  • ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) | آغازِ سفر | باب ۱

    ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) | آغازِ سفر | باب ۱

    تحریر:مدیحہ شاہد
    ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)
    آغازِ سفر
    باب1
    سوشل ورک کا شوق اور خدمت ِ خلق کا جذبہ مجھے بین الاقوامی این جی او انر ویل کلب کے قریب لے آیا۔ مجھے یہ کلب جوائن کئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ڈسٹرکٹ چیئرمین 341 کے سالانہ وزٹ کی خبریں ملنے لگیں۔
    یاسمین مشتاق جن کا تعلق جھنگ سے تھا انرویل کلب 2018-2019 کی چیئرمین تھیں۔ ان کے شوہر چوہدری مشتاق روٹری کلب کے گورنر تھے اور خود وہ کئی سالوں سے اس این جی او سے وابستہ تھیں۔
    میں چونکہ کلب کی نئی ممبر تھی تو مجھے کلب کی سرگرمیوں اورچارٹر کے متعلق زیادہ علم نہیں تھا۔
    کسی نئی جگہ پر جاکر ایڈجسٹ ہوناا ور نئے دوست بنانا میرے لئے ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے۔ میں نے اپنے تیئں کوشش کی کہ کلب کی سرگرمیوں میں خاطر خواہ حصہ لے سکوں اور وہ دوست بناسکوں جو دوسروں کے فیس بک پروفائل میں نظر آتے ہیں۔ میری زندگی میں دوست بنانے کی جستجو اک طویل جستجو تھی۔ میں نے خوشی خوشی اس کلب کو جوائن کیا۔
    سب ممبران سے تھوڑا بہت تعارف ہوا۔ کئی لوگوں نے میرے ٹی وی ڈرامے دیکھ رکھے تھے اور مجھے میرے کام کے حوالے سے جانتے تھے۔ مجھے اس کلب میں سب نے خوش آمدید کیا۔ دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سال میں ایک بار ہر کلب میں چیئرمین کے وزٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے اور اس وزٹ میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ نئے ممبران کو کلب کی پِن بھی لگائی جاتی ہے۔
    ہمارے کلب نے اوائل مارچ کے دنوں میں سروز کلب لاہور میں ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ چیئرمین یاسمین مشتاق جھنگ سے تشریف لائیں۔ نیلے لباس میں ملبوس پھولوں کے گلدستے تھامے وہ سب سے خوشدلی سے ملیں۔ مجھے وہاں علم ہوا کہ وہ اپریل میں کلب کا سالانہ انٹرنیشنل ٹرپ لے کر ترکی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے تحت لوگ اپنے اپنے نام لکھوا رہے تھے۔ میں فوراً اُس طرف متوجہ ہوگئی۔
    ”ترکی!”
    میری آنکھیں چمکنے لگیں۔
    دل میں چھپی برسوں پرانی خواہش نے آنکھ کھولی۔ استنبول ، توپ کاپی محل، بُرصا، قونیہ، انقرہ، خلافت ِ عثمانیہ کے تاریخی مقامات ، مساجد، نیلے پانی کا سمندر اور بے شمار جگہیں یاد آئیں۔ میں ترکی کے تاریخی ڈرامے ذوق و شوق سے دیکھتی تھی۔ مجھے وہاں کی ثقافت ، کلچر ، روایات اور آرکیٹیکچر بہت پسند تھا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مجھے ترکی سے بے حد محبت تھی۔ ترکی کے بارے میں پڑھ پڑھ کر مجھے وہاں کی سیر کا بے حد شوق تھا مگر گھر داری میں کئی سال ایسے مصروف رہی کہ اس خواہش کوپورا کرنے کی فرصت نہ ملی۔ گھر، بچے، ذمہ داریاں، بچوں کے سکول، ان کی پڑھائی اور کہانیاں، ڈرامے لکھنے میں ایسی مصروف رہی کہ کبھی کسی باہر کے ملک جانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔
    اب جو اس ٹرپ کے بارے میں سنا تو دل کو سمجھانا مشکل ہوگیا۔ وہ ایک انقلابی لمحہ تھا۔
    ”میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
    میں نے ایک لمحے میں یہ فیصلہ کرلیا۔
    جن لوگوں کو ہمسائے کے گھر جانے کی فرصت نہ ہو ان کے لئے کسی فارن ٹرپ پر جانا انہونی ہی تو تھی۔ مگر میں نے مصروفیات کی گٹھری کو ایک طرف رکھ دیا۔ دل میں کسی چیز کی لگن ہو تو فیصلے لمحوں میں ہوجایا کرتے ہیں۔
    ”گھر والوں سے مشورہ کرلیں، آپ کے بچے بھی چھوٹے ہیں۔ اس ٹرپ کا پیکیج ایک لاکھ پینسٹھ ہزار ہے، اپنا بجٹ بھی دیکھ لیں۔ یہ فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے پڑتے ہیں۔ ہر پہلو کو دیکھنا پڑتاہے۔”کسی نے آہستہ آواز میں سنجیدگی سے کہا۔
    ”میں سب Manage کرلوں گی۔ آپ میرا نام بھی لکھ لیں۔ میں بھی ترکی جانا چاہتی ہوں۔”
    میں نے حتمی انداز میں اعتماد سے کہا۔ سوچ بچار، نظرثانی جیسی فلسفیانہ باتیں کہیں پیچھے رہ گئیں۔
    اس لمحے مجھے فیصلہ کرنے کی قوت کا ادراک ہوا۔ انسان کے دل و دماغ میں بہت سی قوتیں ہوتی ہیں جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔
    ”ہاں ضرور چلیں۔ میں آپ کو ترکی گروپ میں شامل کرلیتی ہوں۔ آپ ٹریول ایجنٹ سے بات بھی کرلیجئے گا وہ آپ کو ٹریول پلان بھی بھیج دیں گے۔”
    یاسمین مشتاق نے خوشدلی سے کہا۔
    وہ خوش اخلاق اور خوش مزاج شخصیت کی مالک تھیں۔ ترکی جانے کی خوشی اور ایکسائیٹمنٹ اتنی زیادہ تھی کہ میں نے جوش وولولے کے ساتھ اپنا نام لکھوا دیا اور ترکی گروپ میں شامل ہوگئی۔
    میں خوشی خوشی گھر آئی اور گھر والوں کو یہ اہم اطلاع دی جسے سن کر ہر کوئی حیرت زدہ رہ گیا۔ گھر والوں کو کس طرح راضی کیا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ میں نے ٹریول ایجنٹ سے بات چیت کر لی اور ایڈوانس بھی جمع کروا دیا۔ پاسپورٹ میرے پرس میں ہی پڑا تھا۔ اس پاسپورٹ کی کہانی بھی حیرت انگیز تھی۔ کچھ عرصہ قبل میں نے زی انڈیا کے لئے ایک ڈرامہ لکھا تھا جس کی میٹنگ کے سلسلے میں مجھے اور مصباح شفیق کو دبئی جانا تھا مگر میرا پاسپورٹ نہیں بنا ہوا تھا کہ کبھی پاسپورٹ بنانے کا خیال ہی نہیں آیا تھا۔ پھر مجھے ارجنٹ پاسپورٹ بنوانا پڑا مگر میٹنگ دو دن بعد ہی تھی تو مصباح اکیلی ہی دبئی چلی گئی۔ میں باربار پاسپورٹ دیکھ کر آہ بھرتی۔ پاسپورٹ تو بن گیا مگر دبئی کا ٹؤر نکل گیا۔ اس بات کا غم مہینوں دل میں رہا مگر اب غم کے خوشی میں بدلنے کا وقت تھا۔
    جب انسان پہلی بار کسی فارن ٹرپ پر جارہا ہوتا ہے تو بچوں کی طرح ایکسائیٹڈ ہوتا ہے۔ میں نے ٹرپ کا پلان پڑھا۔ استنبول، انقرہ، قونیہ اور کپاڈوکیہ کے اہم مقامات کی تصاویر بار بار انٹرنیٹ پر دیکھتی رہتی۔ نئے کپڑے سلوائے، بہترین سوٹ کیس خریدا، جیولری ، جوتے، پرس نیز خوب شاپنگ کی۔ ہاں بھئی عمر کتنی بھی منزلیں طے کرلے، خواتین کا دل ہمیشہ ٹین ایجر ہی رہتاہے۔
    خیر 24 اگست کو ہم سعودی ایئرلائنز کے ذریعے ترکی کے لئے روانہ ہوئے۔ جہاز میں بیٹھ کر دل ذرا خوفزدہ ہوگیا۔ میں پہلی بار جہاز میں تب بیٹھی تھی جب میں بارہ سال کی تھی۔ ابا جان سعودی عرب سے واپس آئے تھے اور ان کی پوسٹنگ ملیر کینٹ کراچی ہوئی تھی۔ ہم لاہور سے کراچی جہاز میں گئے تھے۔ پھر شادی کے بعد میاں کی پوسٹنگ بہاولپور رہی تو میں اپنے بیٹے علی کے ساتھ بہاولپور سے پنڈی اور پنڈی سے بہاولپور جہاز میںآیا جایا کرتی اور سارے کینٹ میں جہازوں میں سفر کرنے والی خاتون مشہور ہوگئی تھی مگر پھر بھی اب جہاز میں بیٹھ کر دل خوفزدہ ہوگیا۔ خوف کا تعلق عمر سے نہیں وِل پاور سے ہوتا ہے۔ خیر میں نے اپنی ہمت بندھائی اور خود کو حوصلہ دیا۔ میرے دائیں جانب خالدہ سعید اور بائیں جانب یاسمین مشتاق بیٹھی تھیں۔ سائیڈ والی سیٹ پر رفعت اور عبدالستار صاحب بیٹھے تھے۔

    ایئر پورٹ پر اچانک کچھ ایسے واقعات رونما ہوگئے تھے کہ جن کی وجہ سے بہت سے مسافر اپ سیٹ تھے۔ مسز شہناز سردار کے دو پاسپورٹ تھے وہ ایک پاسپورٹ لائیں دوسرا نہ لاسکیں اور بورڈنگ کلوز ہوگئی۔ وہ اور ان کے میاں جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ عائشہ عمران کے میاں بھی کسی وجہ سے جہاز میں سوار نہ ہوسکے۔ وہ اپنی بہن مہوش کے ساتھ بیٹھی تھیں اور مسلسل رو رہی تھیں۔
    ”حوصلے سے کام لیں، نہ روئیں۔”
    ارد گرد بیٹھے لوگوں نے ہمدردی سے سمجھایا مگر ان کا غم کم نہ ہوا۔
    ”گھر سے نکلتے وقت ہم دونوں کتنے خوش تھے کہ ترکی جارہے ہیں۔ کئی دنوں سے خوشی خوشی تیاریاں کررہے تھے۔ مگر میں جہاز میں سوار ہوگئی اور وہ وہیں ایئرپورٹ پر رہ گئے ۔
    ” میرا دل رو رہا تھا۔”
    وہ آنسو بہاتے ہوئے رقت آمیز انداز میں بولیں۔
    ”آپ پریشان نہ ہوں۔ وہ بھی جلد آجائیں گے۔”
    لوگوں نے تسلی دی سب مسافر ان کے غم میں برابر کے شریک تھے۔
    سب مسافر خوشی خوشی جہاز میں سوار ہوگئے، میرے میاں کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا!”
    وہ پھر رونے لگیں۔ آہیں اور سسکیاں گونجنے لگیں۔
    ”آپ کی شادی کو کتنا عرصہ گزرا ہے؟”
    کسی نے پوچھا۔
    ”اٹھارہ سال۔”
    انہوں نے جواب دیا۔
    ”آپ کے بچے ہیں؟”
    کسی نے سوال کیا۔
    ”میرے چھ بچے ہیں۔”
    وہ اسی انداز میں بولیں۔
    ”پھر بھی محبت کا یہ عالم ہے!”
    کسی نے بے ساختہ کہا۔
    ”محبت عمر، وقت ، سال، مہینے نہیں دیکھتی۔ اس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ وقت سے نہیں۔”
    کسی نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
    مہوش اور ان کے شوہر فیصل عائشہ عمران کو تسلیاں اور دلاسے دیتے رہے۔ مشتاق صاحب بھی سمجھاتے رہے کہ فکر نہ کریں۔ عمران صاحب اگلی فلائٹ سے ترکی پہنچ جائیں گے مگران کے دل کو تسلی نہ ملی اور وہ آنسو بہاتی رہیں۔”
    ”سفر کے دوران اکثر ایسے واقعات ہوجایا کرتے ہیں، فکر نہ کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔”
    سب نے ہمدردی کا اظہار کیا۔
    یاسمین مشتاق نے بھی اپنے آنسو صاف کئے۔
    ”آپ کیوں رو رہی ہیں؟”
    میں نے حیرت سے پوچھا۔
    ”میرے میاں نے ایئرپورٹ سٹاف کی بہت منت سماجت کی کہ تھوڑا انتظار کرلیں۔ عمران صاحب کا پاسپورٹ غلطی سے ٹریول ایجنسی کے دفتر میں رہ گیا تھا۔ وہاں سے ایئرپورٹ پہنچنے میں آدھا گھنٹہ مزید لگنا تھا مگر ایئرپورٹ سٹاف نے بورڈنگ کلوز کردی۔ اپنے علاقے میں میرے میاں کا بہت رعب ہے۔ انہوں نے کبھی کسی شخص کی اتنی منت سماجت نہیں کی مگر آج میری وجہ سے انہیں لوگوں سے اتنی ریکوئیسٹ کرنی پڑی۔ اس با ت کا مجھے بہت افسوس ہے۔ وہ اپنے کئی اہم کام چھوڑ کر میرے ساتھ اس ٹرپ پر آئے ہیں اور میری وجہ سے انہیں لوگوں سے ریکویسٹ کرنی پڑی جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ ”
    انہوں نے آنکھ کے کنارے صاف کرتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔

  • جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط
    شہید برہان وانی بنامِ پاکستان
    نفیسہ عبدالرزاق

    میرے پاکستانی بھائیوں!
    السلام علیکم!
    آج میں آپ سے پہلی بار مخاطب ہوں۔ پاکستان کا نام ہم کشمیریوں کے لئے کوئی نیا نہیں ہے، ہم جہاں پیدا ہوتے ہی آزادی کے نعرے سنتے ہیں وہیں پاکستان کا نام بھی سنتے ہیں۔ میں آج آپ کو اپنی داستان سنانا چاہتا ہو تھوڑی بہت تو آپ جان ہی چکے ہوںگے میرے شہید ہونے کے بعد۔ میں پھر سے اسے دُہراتا ہوں جب پندرہ برس کی عمر میں اپنے بھائی کے ساتھ جاتے ہوئے قابض بھارتی فوج نے ہمیں بلاوجہ تذلیل کا نشانہ بنایا تب شاید پہلی بار غلامی کا مجھے بے پناہ احساس ہوا اس تذلیل نے ایک پل چین نہ لینے دیا اور میں برہان جو اپنی جماعت میں ہمیشہ اول رہتا تھا میرے آگے ایک روشن مستقبل تھا مگر مجھے غلامی سے نفرت ہے سو اسی غلامی کو آزادی میں بدلنے کے لئے میں گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ بہت سے مشکل پڑائو آئے میں رکا نہیں چلتا ہی گیا، بہت سے مقامی مجاہدین کی طرح میں نے بھی پاکستان کی طرف دیکھنے سے گریز کیا، اپنے زور بازو اور اللہ کی مدد کے سہارے میں کم وقت میں کشمیر کے ہر گھر کا ہر دل عزیز بن گیا۔ دشمن کو ناکوں چنے چبوائے مگر آزادی کی روشن صبح ابھی دور تھی ۔ بائیس سال کی عمر میں شہادت کا پروانہ آپہنچا یہ وہ عمر ہوتی ہے، جس میں ہر نوجوان اپنا کیریئر پلان کرتا ہے مگر مجھے کوئی افسوس نہیں، میں نہیں تو کیا ہوا ہماری آنے والی نسلیں ضرور آزاد فضائوں میں سانس لیں گی ( اِن شاء اللہ)۔ خیر،میری آج خاص طور پر آپ سب سے مخاطب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ میرے جنازے کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا مجھے اس پرچم سے بے حد اُنسیت محسوس ہوئی مجھے لگا میرے بعد میرا کشمیر تنہا نہیں ہوگا پاکستانی ہر بار کی طرح آگے آئیںگے مگر یہ کیا میرے جانے کے بعد جنت نظیر وادی میں ہنگامے پھوٹ پڑے ”ہر گھر سے برہان نکلے گا”کے نعرے گونجے اور ساتھ میں وردی والے دہشت گرد بغیر کسی تخصیص کے گولیاں برسانے لگے اور ان چاردنوں میں بہت سے برہان سبز پرچم میں لپٹے مجھ سے آ ملے۔
    میں اُن کی طرف آس و امید سے دیکھتا رہا کہ وہ مجھے بتائیں گے پاکستانیوں نے بھارتی ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی ہے ان کو منہ توڑ جواب دیا ہے کیوںکہ غلام تو ہم ہیں آپ تو آزاد قوم ہیں اور آزاد قومیں خود مختار ہوتی ہیں وہ مل کر جابر کو للکار سکتی ہیں مگر میرے یہ شہید بھائی تو کوئی اور داستان سُنا رہے تھے آپ لوگ تو بہت مصروف ہیں آپ کے پاس وقت نہیں کہ ہمارے بارے میں جانیں، آواز بلند کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ جب آپ کی مصروفیات کی بابت دریافت کیا تو معلوم ہوا عید کے دن ہیں اس لیے سینما میں بھارتی فلمیں لگی ہیں اور یہی آپ کی مصروفیات ہیں۔ یقین کیجیے یہ سُن کر دل لہو لہو ہوگیا۔ آپ کو ہمارا کتنا خیال ہے نا کہ سینما میں جا کر بھارت کو کروڑوں کا بزنس دیتے ہیں، جس سے وہ ہتھیار بنا کر ہمارے سینوں پر وار کر کے ہمیں شہید کرتے ہیں اور ہمیں ڈائریکٹ جنت کا ٹکٹ تھماتے ہیں۔
    جنت تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے تو آپ کی بدولت ہمارے لیے جنت کا رستہ بہت آسان ہوجاتا ہے۔ صرف میڈیا نہیں آپ تو پور پوردشمنکے جال میں قید ہوتے جا رہے ہیں، جس کی قید سے ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ فلمیں اور ڈرامے آپ اُن کے دیکھتے ہیں سارا سارا دن گانے آپ ان کے سنتے ہیں پھر مارکیٹ جا کر ان ہی کی پراڈکٹس خریدتے ہیں پھر کہتے ہیں کیا کریں میڈیا یہی دکھاتا ہے آپ ایک بار بائیکاٹ کر کے تو دیکھیں پھر میڈیا وہی دیکھائے گا جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں اپ ان کی چیزیں چھوڑ کر ایک بار اپنی چیزیں طلب تو کریں پھر کیسے وہ زبردستی آپ کو دشمنوں کی چیزیں تھمادیں گے۔
    ارے ہاں! یہاں پہنچ کر میری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی ہوئی میرے اور دوسرے آنے والے ساتھیوں کے ذریعے انہیں آپ کے حالات معلوم ہوئے بہت اُداس ہوئے کہنے لگے: ”میری قوم کو کیا ہوگیا؟ انہیں جس کی غلامی سے آزاد کروایا تھا آج ذہنی طور پر اسی کے غلام بنے بیٹھے ہیں۔ کتنی قربانیاں! کتنی قربانیاں! آہ…کیوں بھول گئے کہ شہیدوں کے لہو سے سینچا تھا اس گلزار کو۔ اگر انہیں کے رسم و رواج پر چلنا تھا تو وہ سب لہو رائیگاں گیا نا برہان! پھر کیوں ان کشمیریوں کے لئے اپنی جوانی، اپنا مستقبل سب چھوڑ کر اس راہ کا انتخاب کرلیا یہ بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ نہیں رہتی میری قوم کو یاد قربانیاں۔”