Tag: افسانہ

  • ایک رات کی بات — محمد جمیل اختر

    ایک رات کی بات — محمد جمیل اختر

    انہیں ضرور خاموش ہوجاناچائیے کہ میرے سر میں درد ہے اور میں سونا چاہتاہوں ۔
    آخر یہ خاموش کیوں نہیں ہوتے۔۔۔
    ” میں تو اُس دن سے ہی پریشان ہوں جس دن سے میری تم سے شادی ہوئی ہے ”
    ” ہاں ہاں سارے مسائل کی جڑ تو میں ہی ہوں ، مجھے کون سی خوشی دی تم نے بتاو”
    آخر ان میاں بیوی کا مسئلہ کیا ہے ، کیا انہیں معلوم نہیں کہ رات کے بارہ بج چکے ہیں اور کوئی سونا چاہتاہے ، اگر لڑنا بھی ہے تو باہر سڑک پر جاکر لڑیں اس طرح پڑوسیوں کی نیندیں کیوں حرام کرتے ہیں ۔
    ”مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ تم جیسا شوہر ملے گا تو میں کبھی بھی شادی نہ کرتی ”
    ” کاش یہ بات مجھے بھی معلوم ہوتی”





    میں ایک نیا نیا وکیل ہوں اور ایک پرانے وکیل کے چیمبر میں کام کرتا ہوں ، یہ پرانا وکیل انتہاکا کھڑوس آدمی ہے اُس کے ساتھ سارا دن کام کرنے کے بعد آپ کو نیندکی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ تمام دن کی فضول بکواس بھول کراگلے دن نئی بکواس سنی جائے ، لیکن یہ میاں بیوی مجھے کچھ نہیں بھولنے دیں گے۔۔
    ”میرا بھائی صُبح کام پر جاتا ہے تو میری بھابی کے ہاتھ پر پورے دو سو روپے رکھ کر جاتا ہے کہ دن میں کچھ ضرورت بھی پڑ سکتی ہے اورایک تم ہوکہ بھول کر بھی پیسے نہیں دیتے سارا دن بچے مجھ سے پیسے مانگتے ہیں بتائو کیا جواب دوں میں اِن کوکہ تمہارا باپ ایک روپیہ دے کر نہیں جاتا مجھے۔ شادی سے پہلے تم نے کتنے وعدے کیے تھے کہ میں یہ کروں گا میں وہ کروں گا یاد کرو جب تم لاہور سے ملتان صرف مجھ سے ملنے آئے تھے اُس وقت تم کہتے تھے اخبار میں کام بھی کرتا ہوں اور بزنس بھی شروع کرنے لگا ہوں مجھے کیا پتا تھا کہ یہ اخبار میں ٹکے ٹکے کے کالم لکھنے والے کو کون پیسے دے گا؟”
    ”بس بس اب ایسی بھی بات نہیں کل کو میرا بھی نام بن جائے گا پھر دیکھنا کیسے دن پھرتے ہیں”
    افف یہ کیسے لوگ ہیں اتنا اونچا بولتے ہیں حالاں کہ اس جاڑے کی سرد راتوں میں تو سانس کی آواز بھی سنائی دیتی ہے ، پھر صبح اُس بوڑھے وکیل کی فضول باتیں سُننا پڑیں گی، آج صُبح ہی کی بات سنیں مجھے اُس نے کہا فلاں کیس کی فائل لے آو میں آدھا گھنٹہ سٹور میں وہ فائل تلاش کرتا رہا اور جب میں ڈھونڈھ کے لایا تو صاحب کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں یہ فائل لانے کا کہاہی نہیں تھا، یہ کیس تو کب کا بند ہوچکا ہے میں نے بہت کہا کہ سر آپ نے ابھی آدھا گھنٹہ قبل مجھے سرفراز ملک کے کیس کی فائل لانے کا کہاتھا، تو وہ کہنے لگے کہ اچھا اب میں اتنا بچہ ہوں کہ بندکیسوں کی فائلیں منگواوں ، میں نے تم سے بشیرصاحب کی فائل لانے کا کہا تھا، اور آپ یقین کریں بشیر صاحب کی فائل ان کی میز پرہی پڑی تھی ، میں نے کہاسر وہ تو یہ پڑی ہے آپ کی میز پر ، تو وہ ایک نظر فائل کو دیکھنے کے بعد کہتے ہیں کہ ہاں مجھے معلوم ہے وہ یہاں پڑی ہے اور یہ میں خود ڈھونڈھ کر لایا ہوں ، مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ تم یہ نہیں ڈھونڈھ سکتے ،اب آپ بتائیں ایسے شخص کے ساتھ بھلا کہاں تک بحث کی جاسکتی ہے ، میں تو ایک دن نہ ٹھہروں پر میرے ماموں ان کے دوست ہیں وہ مجھے ان کے پاس چھوڑ گئے ہیں کہتے ہیں کہ یہ اِس شہر کے سب سے مشہور اور قابل وکیل ہیں سوچتا ہوں اگر یہی قابلیت ہے تو اِس شہر میں کوئی قابل وکیل نہیں ہے ۔





    ” تم نے بچوں کے لیے کیا کیاہے، کل کو میری بچی جوان ہوگی تو کیا دو گے جہیز”
    ”خدا کا خوف کرو ابھی وہ تین سال کی ہے اور تمہیں جہیز کی فکر پڑگئی ”
    آخریہ میاں بیوی کب خاموش ہوں گے، مجھے جاکر انہیں سمجھانا چاہیے لیکن وہ کہیں گے میں کون ہوتا ہوں جو ابھی چار دن پہلے یہاں آیا ہے اور ان کی ذاتی زندگی میں دخل دیتا ہے ،
    ” یہ سامان کیوں توڑنے لگے ہو”
    ”بس میری کمائی سے آیا ہے سو میں توڑ رہا ہوں۔۔۔۔”
    چٹاخ، چٹاخ۔۔۔۔برتن ٹوٹنے لگے۔
    ”یہ تو میرے جہیزکی پلیٹیں تھیں، یہ میں تمہیں نہیں توڑنے دوں گی”
    مجھے جانا چاہیئے، ہاں مجھے ضرور جانا چاہیے ۔
    میں نے ہمت کرکے گھنٹی بجائی ۔
    ”اور شور کرو تم اب دیکھو محلے والے بھی آگئے ہیں، میں تو نہیں جاتی خود ہی جاؤ دیکھو کون ہے باہر۔”
    ”جی آپ کون؟”
    ”جی میں آپ کا نیا پڑوسی ہوں ملتان سے آیا ہوں وکیل ہوں آپ کے گھر شور تھا میں نے سوچا خیریت پوچھ لوں”
    ”لو وکیل صاحب بھی آگئے عمارہ بیگم ، آئیے آئیے صاب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ ہم میں کون حق پر ہے”۔
    ”جی میں وکیل ہوں جج نہیں”
    ”کوئی نہیں یار عدالتوں میں چکر لگا لگا کروکیل بھی جج ہی بن جاتے ہیں اور ویسے بھی ہمارا کیس کوئی زیادہ پیچیدہ نہیں میں ایک اخبار میں کام کرتا ہوں آمدن بہت معمولی ہے سو اِسی وجہ سے آئے روز ہمارا جھگڑاہوتا ہے کل بچوں کی فیس دینی ہے اور پیسے نہیں ہیں ۔
    معاف کیجئے کیا آپ ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہیں ویسے پڑوسی ہونے کے ناطے آپ ضرور ہماری مدد کریں گے ”
    ”جی وہ میں تو۔۔۔۔۔”
    ”عمارہ بیگم وکیل صاحب کے لیے چائے بناو”
    ”لیکن وہ میں تو۔”
    ”بیٹھیے بیٹھیے اپنا ہی گھر سمجھیے آپ جیسے اچھے لوگ اب کہاں ملتے ہیں آپ اگر ہماری مدد نہ کرتے توکل سکول والے ہمارے بچوں کانام سکول سے خارج کردیتے سمجھ نہیں آرہا آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں۔”
    ”وہ میں کہہ رہا تھا کہ…”
    ”آپ ضرور کہیں گے کہ پڑوسی ہونے کے ناطے یہ تو آپ کا فرض تھا لیکن آج کل کے دور میں بھلاایساممکن ہے کہ ایک ساتھ پانچ ہزار کا قرض دے دیا جائے”
    ”پانچ ہزار؟؟؟”
    ”جی صرف پانچ ہزار۔”
    ”سچ پوچھیں تو آپ کے ایک ہی کیس کی مار ہیں پانچ ہزار”
    ”مگر میں تو۔”
    ا”چھا تو آپ سمجھ رہے تھے کہ میں بہت زیادہ رقم کا مطالبہ کروں گا نہیں نہیں بھائی ہمیں بھی آپ کی مجبوریوں کا اندازہ ہے آپ بھی ہماری طرح یہاں کرائے کے مکان میں ہی رہتے ہیں۔”




  • چاند مہکتا ہے — غزالہ رشید

    چاند مہکتا ہے — غزالہ رشید

    اسلام آبادکے خوب صورت ائیر پورٹ پر ایک سال بعد بھی ویسی ہی رونق تھی۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا، ہاں البتہ فریال اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، نا صرف حلیے سے بلکہ مزاج سے بھی وہ اب پہلے سے کہیں زیادہ میچور ہوگئی تھی۔ ہونا تو یہی چاہیے تھاکہ وہ دھا ڑیں مار مار کے رونا شروع کردیتی۔ دل میں درد کی لہر اٹھی تو تھی لیکن اس نے اپنی سائیکا ٹرسٹ دوست ڈاکٹر سبین مرتضیٰ کی بتائی ہوئی ترکیب پہ عمل کرتے ہوئے چند گہری سانسیں لینا شروع کیں اور پھر سے اس خوبصورت ما حول میں جینے کے لیے، خود کو تیا ر کیا۔
    وہ اتنی کم زور تو کبھی نہ تھی کہ اسے یہ وقت کاٹنا اتنا مشکل لگتا۔ امی ابو کی اچانک موت نے اسے زندگی کے رموزو اسرار تو سکھا ہی دیے تھے،لیکن شاید ابھی اس کا کندن بننے کا عمل جاری تھا۔ ”وہ کھلنڈری فری” اب پھر سے فریال سعداحمد تھی۔
    سفر پھر سے شروع تھا، اس وقت کو بھول جانے کے لیے ملازمت بے حد ضروری تھی۔ خود شناسی بھی تو بہت ہی لازم ہے ناں، کب تک شاگردی کرتی؟ استاد بھی تو بننا تھا۔ آنے والوں کے لیے مشعل راہ، زندگی شمع کی صورت تب ہی تو بنتی ہے جب شعلہ بنے اور روشنی پھیلا ئے۔
    شومئی قسمت! نوکری ملی بھی توملگجی شام کی یاد لیے،غروب آفتاب کی طرح، اس سر سبز شہر میں جہاں اس کی زندگی میںخزاں نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔





    کل رات جب اس نے اپنی مسیحا دوست کو الوداع کہتے ہوئے خوش بو کا تحفہ دیتے ہوئے کہا تھا:
    ”دعا کرنا”
    سبین کہ اب دوبارہ تم سے ملوںتو تمہاری دوست پھر سے زندہ ہو۔ زندہ لو گوں کی طرح سانس لینے کا ہنر سیکھ چکی ہو،اس کا اعتبار ،اس کا اعتماد پھر سے بحا ل ہوچکا ہو”
    وہ دوست تھی ناں،اس کے دونوں ہاتھ مضبو طی سے تھامتے ہوئے کہا:
    ”تم ہمیشہ بہادر تھیں،کالج میں بھی اور یونیورسٹی میں بھی ، جب میں تم سے پہلی بار ملی تھی یا د ہے ناں ،صومی کے گھر پہ،اور فیلڈ الگ ہونے کے باوجود میری تم سے دوستی کی وجہ تمہاری چاند جیسی صورت ہی نہیں، خوب صورت دل بھی تھا، اور تم نے مجھے کہا تھا کہ تمہارے ابو نہیں ہیں، تو کیا ہوا؟ میرے ابو کو اپنا (بابا سائیں سمجھ لو ناں، اور پھر تم نے یہ سچ کر دکھایا۔ ابھی بھی حسن جاوید کی بے وفائی نے تم کو افسردہ ضرور کردیا ہے، لیکن تنہا نہیں کیا۔ تمہاری خالہ نے تم کو ڈھونڈ ہی لیا ناں،والدین کی جدائی کو تم نے سہا، اس بے درد کی بے وفائی کو سارے شہر سے چھپایا۔ اب بھی اس کی شادی کی خبر کو تم نے سہا۔ ویسے بھی اس سے رشتہ ہی ٹوٹا ہے ناں، یقین کرو رب سائیں کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑتا،میری بھی شادی ابھی تک نہ ہونے کی وجہ شاید یہ ہی تھی کہ تم نے میرے پاس آنا تھا۔ویسے بھی رشتے تو سارے وقتی ہوتے ہیں، سائے کی طرح گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں، خاص طورپہ آزمائش کے وقت میں۔ رشتو ں کو سمجھنا ہے تو مو سموں کو دیکھو، کبھی گرم کبھی سرد۔۔۔۔ ویسے میں تمہاری خالہ جان سے ملنے ضرور آئوں گی،ان کو تو دعوتیں کرنے کا شوق ہے ناں، اور مجھے دعوت کھا نے کا” وہ ہنس دی۔
    ”پلیز پلیز ضرور آنا۔۔۔میرا بھی دل چاہے گاکہ اسلام آباد کی سڑکوں پہ تمہارے ساتھ قدرت کے کرشمے دیکھوں۔ بہت عرصے سے ٹھنڈے کمروں،اور ڈنر ز نے مجھ سے موسموں کا حسن، ان کو انجوائے کرنے کی صلاحیت چھین لی تھی۔ میں بھی جی لوں گی ان دنوں” فری پھر اداس ہونے لگی۔
    ”اب تم اس انداز کو سوچو بھی ناں،یہ جاب تمہاری مرضی کی ہے،تم یقینا اسے انجوائے کروگی یارا اس نے الوداع ہوتے ہوئے بہت پیار سے اسے کہا تھا۔”
    ٭…٭…٭
    ”مولا! تو ہی کا میابی اور کامرانی عطا کرنے والا ہے۔” اس نے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگاتے ہوئے پھر سے خود کو اسلام آباد کی خو ب صورت اورطویل شاہراہوںکی طرف متوجہ کرتے ہوئے دعا کی۔
    ”شکر ہے آنیا جی نے اپنے ڈرائیور خان جی کو بھیج دیا۔” اس نے تیزی سے گزرتی اس پاک سر زمین کی شادابی کو دیکھتے ہوئے قدرت کی صناعی کو سراہا، اور پھر امانت علی خان کی آواز بھی اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔
    ”ابو کو بھی یہ قو می نغمہ اور یہ آوازکتنی پسند تھی۔”
    ”اے وطن پاک وطن۔۔۔پاک وطن
    اے میرے پیارے وطن”
    وہ اکثر سنتے اور اسے بھی خاص طور پہ سناتے۔
    ”اف! یہ ماضی، خواب کیوں نہیں بن جاتا؟ ہمارے اندر ہر لمحہ سانس کیوں لینے لگتا ہے؟” اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے سوچا۔
    گاڑی اب F.6/4 سے گزررہی تھی جہاں اس نے حسن جاوید کے ساتھ زندگی کے صرف دو سال ہی تو گزارے تھے، جو شاید اس کی زندگی پر نہ چاہتے ہوئے بھی حاوی ہوگئے تھے۔اور شاید روگ بھی بنتے جارہے تھے۔اس روڈ کی ایک شام کا ایک ایک لمحہ اسے یاد آنے لگا تھا۔
    وہ تو اس کے رنگ میں رنگ گئی تھی، اسے تو صرف اب یہ یاد تھا کہ اسے ابو کی وجہ سے فیض احمد فیض بہت پسند تھے اور حسن جاوید کو بھی، لیکن اس نے ٹینا ثانی کے بعد پہلی بار مونا احمد کو فیض کو گاتے سنا تو وہ مبہوت ہوکے رہ گئی تھی۔ اس نے جانا ہی نہیں کہ یہ کیفیت اس پہ گزری لیکن واردات کہیں اور بھی ہوگئی تھی۔ واپسی میں بھی اس نے ڈھونڈ کے ،موبائل پہ پھر سے سرچ کرکے مونا احمد کو لگایا۔ وہ دونوں سارے راستے پھر اسی کو سنتے رہے، اس کی آواز اور فیض کا کلام روح کو ایسے آسودہ کررہا تھا کہ گھر آکے اس رات دونوں نے ایک دوسرے سے بات بھی نہ کی،ایسی سرشاری رہی۔۔۔۔
    ستم سکھلائے گا رسمِ وفا ایسے نہیں ہو تا
    صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا
    جہاں دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں
    یہاں پیمانِ تسلیم ورضا ایسے نہیں ہوتا
    ہر اک شب ہر گھڑی گزرے قیامت یوںتو ہوتا ہے
    مگر ہر صبح ہو روز جزا ایسے نہیں ہوتا
    مونا کی آواز کب فری کے دل میں اتری اور کب وہ ماہ نور ،حسن جاوید کے دل میں براجمان ہوئی ،وہ جان ہی نہ سکی۔ اس کو توآئینہ ہر بار یہ ہی پیغام دیتا کہ تم پری ہو، اور اس کے دل پہ حکومت کرنے ہی تو اس دنیا میں آئی ہو۔ کیوں کہ حسن جاوید نے ہی تو اس سے کہاتھا: تمہارا M.B.Aکا آخری سمسٹر ،جو ہماری شادی کی وجہ سے رہ گیا ہے اسے مکمل کرلو،پھر ہم اپنا بزنس جلد ہی شروع کریںگے۔”
    ٭…٭…٭
    وہ ماضی کا سفر کرتے ہوئے ”سعد ولا” کے آہنی گیٹ کے سامنے تھی۔ آنیاجی جو اس کی سگی خالہ تھیں اور اس کی اس حرکت پہ شدید ناراض بھی تھیں کہ اس نے اپنی عدت کا وقت ان کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی دوست کے گھر گزارا۔ وہ اپنے بینک بیلنس پہ عیش کرنے والے حسن کو اب کوئی بھی رعایت دینے کو تیار نہ تھی۔
    ڈاکٹرنے اس کے اسلام آباد آنے سے پہلے انہیں بھی اس کی ذہنی کیفیت بتا کر راضی کرلیا تھا۔
    ”وہ تمہارا گھر ہے ، تم سکون محسوس کروگی ،ان کی گود میں سر رکھ کے تمہاری تنہائی کم ہوگی ،وہ خود بھی تو ذیادہ تر اکیلی ہی رہتی ہیں۔” اس کے کانوں میں اپنی دوست کے الفاظ گونجے۔
    مسز تنویر احمداس کی سگی خالہ جو بے حد خوب صورت اور پریکٹیکل خا تون تھیں۔ وہ نہیں جانتی تھیںکہ حسن جاوید مہارت سے جھوٹ بولنے کا عادی ہے۔ اس کے لیے رشتوں میں جڑے رہنے کی اہمیت ہی نہیں کیوں کہ وہ خود ایک broken family کا بچہ تھا، اب بھلا اس عمر میں وہ اپنے ساتھ ساتھ آنیا جی کو بھی ان خبروں میںکیو ں لاتی، وہ جان چکی تھی کہ اب واپسی کے سارے راستے بند تھے۔
    وہ ایک سال تک ان سے دور رہی اور اس کی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ ان سے سب حالات شیئرکرتی۔ معصومیت کی ہی بنا پہ تو، زندگی اس کے ساتھ یہ کھیل اتنی بے دردی سے کھیل گئی تھی۔ وہ ان کو کیا بتاتی کہ وہ جس حسن جاوید کو جانتی تھیں، اس کو ڈیڈی کی جائیداد نے کچھ اور ہی رنگوں میں رنگ دیا تھا۔ ایسے رنگ جس نے اسے تمام اخلاق اور اقدار سے عاری کردیا تھا۔ بے وفائی اس کی فطرت میں ہی ہوگی ورنہ ایسے ہی تو نہیں کوئی لمحوں میں فیصلہ کرتا۔ اولاد کی کمی نے تو اسے احساس تنہائی دیا ہی تھا، لیکن جس درد نے اس کے وجود کو ریزہ ریزہ کردیاتھا۔ اُسے سمیٹنا بھی تو تھا۔ خود کو جوڑنا بھی تو تھا۔ توڑنے والے کو بھلا کب یہ احساس تھاکہ کچھ رشتے کانچ سے بھی ذیادہ نازک ہوتے ہیں۔
    گاڑی گیٹ کے اندر داخل ہوئی آج پہلی مرتبہ وہ خود اسے ریسیو کرنے گیٹ تک آئیں۔ اسے بے اختیار وہ شام بھی یاد آگئی جب اس نے ڈنر سے واپسی پر اپنی عادت کے مطابق کچھ تحریر کیا، اسے کیا خبرتھی کہ وہ رات ان دونوں کے درمیان جدائی کا لمحہ بھی ساتھ لائی تھی، دسمبر کی شام۔ اس روز بہت دھند تھی۔
    ”تم دونوں اس گھر میں کبھی بھی اور کسی بھی وقت آ سکتے ہو۔ آپی اب اس دنیا میں نہیں ہیںتو کیا ہوا میرا گھر تمہارے لیے میکہ ہی ہے۔ میں تو ویسے بھی دوستوں کی محفلیں سجاتی رہتی ہوں۔ ماں جیسی شفقت تو شاید نہ دے سکوں، لیکن میرا دل ہر وقت تمہارا منتظررہے گا۔ یہ بات ہمیشہ یادرکھنا۔” ان کی آواز میں نمی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • اچھے بچے

    اچھے بچے

    آئیں مل کر سارے بچے
    کام کریں اب اچھے اچھے

    مل جل کر تم رہنا سیکھو
    بن جاؤ تم سچے بچے

    لڑنا اچھی بات نہیں ہے
    لڑتے نہیں ہیں اچھے بچے

    کہنا بڑوں کا ہر دم مانو
    بن جاؤ گے اچھے بچے

  • حماقتیں — اُمِّ طیفور

    ”دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    دل دار صدقے، لکھ وار صدقے
    تیرا کرم ہویا، ہویا پیارے صدقے…”
    چھوٹے سے صحن میں ایف۔ ایم سی نکلتی نورجہاں کی سریلی آواز پھیلتی جا رہی تھی۔ سارا صحن دُھلا دُھلایا سا چمک اور مہک رہا تھا… مہکنے کی وجہ تو یہ تھی کہ صحن میں بلبل نانی کی من پسند چنبیلی کے عطر کی شیشی ٹوٹ کے چور چور ہوئی تھی اور اُس کی خوشبو صحن دُھلنے کے باوجود سارے میں پھیلی تھی۔ بلبل نانی اس صدمے سے چور چور دل لئے… موچنا ہاتھ میں تھامے اپنی باریک تر بھنوئوں کے زائد بال اُکھاڑ رہی تھیں… چند سیکنڈ بعد عطر کے غم میں منہ سے سسکی سی خارج ہوتی تھی۔
    صحن کے نکڑ پر لگے امرود کے پیڑ کے نیچے بید کی کرسی پر پیر پسارے بابرا نے چور نظروں سے نانی کے جارحانہ انداز کو دیکھا تھا، جن کا موچنا بڑی تیزی سے بھنوئوں کی باریکی میں اضافہ کر رہا تھا۔ ”بس کر دیں بلبل نانی … اسی تیزی سے اگر بال اکھاڑتی گئیں تو ساری بھوں اُڑ جائے گی اور آپ آٹے کے پیڑے جیسی لگنے لگیں گی…”
    ”میں کہتی ہوں چپ کر جا بابرا… میرے منہ نہ لگ … میرے صلّو میاں کی نشانی تھا یہ عطر… جو تیری بے پرواہی کی نذر ہو گیا … ہائے میرے مرحوم شوہر کا تحفہ ویڑے میں بکھر گیا…”





    بلبل نانی نے ایک اور سسکی لی، ساتھ ہی غصے کے مارے اکٹھے دو بال اکھیڑ ڈالے، بھؤں بے چاری عین درمیان سے اُڑ گئی۔ بلبل نانی نے بے یقینی سے دستی آئینے میں دیکھا… اور اب کے اُن کا رنگ اُڑ گیا… بابرا کے زور دار قہقہے نے اُنھیں یقین دلایا کہ بیڑہ پوری طرح غرق ہو گیا ہے۔ ”دیکھا…! میں نے کہا تھا ناں کہ ہاتھ ہولا رکھیں… بن گئی ناں موٹر وے … ہاہاہا!”
    ”رک ذرا کم بخت!” بلبل نانی چار پائی کے نیچے سے جوتی تلاشتی ہوئی بولیں۔
    ”آپ کی چپل میں نے پہنی ہوئی ہے…”
    ”تینوں اللہ پچھے گا بابرا…! آج کے دن دو صدمے لگا دیئے تو نے مجھے…”
    ”لو بھلا…! یہ موٹر وے بنانے میں میرا کیا ہاتھ… مشینری آپ کی اپنی تھی بلبل نانی…”
    بابرا ہنستے ہوئے قریب آئی اور بہ غور جائزہ لیتے ہوئے بولی ۔
    ”ویسے بچا ہوا کیا ہے ابھی… چار دنوں میں یہ چار بال اُگ آئیں گے، لائیں گری کا تیل رگڑ دوں…”
    ”اپنے سر میں ڈال جدھر ناس پھرا ہوا ہے… بالوں کا! تجھے دیکھ کر تو مجھے جمعرات والا فقیر بابا یاد آجاتا ہے، جس کی میل سے گجی (گندھی) یہ موٹی موٹی لٹیں ہوتی تھیں… مرن جو گا… ایسا دکھتا تھا جیسے سر پر سُنڈیوں کی کنالی اُلٹا دی ہو۔”
    ”آخ تھو …!” بابرا نے کراہیت سے مصنوعی اُبکائی لی… ”حد ہو گئی بلبل نانی، یہ میں نے ہئیر اسٹائل بنایا ہوا ہے… کرل ہیں یہ کرل…”
    ”ایڈا منہ مٹکا کے نہ بول … کڑل پٹے جائے گا… اور اب جا ذرا اس موئے گانے کی آواز اونچی تو کر … حق ہاہ! میری بڑی یادیں جڑی ہیں اس گیت کے ساتھ …”
    بلبل نانی گائو تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر نیم دراز ہوتے ہوئے بولیں آنکھوں میں پرانی یادوں کی ایک خماری سی تیر گئی۔
    ”یقینا نانا بھی اُس یاد کا لازمی حصہ ہوں گے… ہیں ناں!”
    ”ہائے ہائے! کی یاد کرا دِتا ظالمے! میں اُن کو دیکھ کر بڑے بانکپن سے یہ گانا گنگنایا کرتی تھی اور وہ بالکل کسی مغرور ہیرو کی طرح اینٹھتے چلے جاتے تھے… اکڑ ہی ختم نہیں ہوتی تھی اُن کی… میں اٹھلا کر ہاتھ تھامتی اور وہ جھٹک کر بولتے… جانسن…! جب بھی پہ لاڈ آتا تو مجھے یہی بولا کرتے تھے… جانسن!…”
    ”پھوپھوپھو…!” ہنسی کسی پھوار کی صورت بابرا کے منہ سے برآمد ہوئی تھی… بلبل نانی نے خشمگیں نظروں سے دیکھا، سارا ٹیمپو بیڑہ غرق کر دیا تھا۔
    ”بلبل نانی! جانسن نہیں ”نان سینس” کہتے تھے وہ نان سینس!” بابرا پھر ہنسنے لگی تھی اور بلبل نانی کا چہرہ خفت سے انار ہوا جاتا تھا۔ اُس وقت بھلے نہ سہی مگر اب تو اُنہیں بہ خوبی ”نان سینس” کا مطلب آتا تھا۔
    ”بکواس بند کرتی ہے یا تیری گچی مروڑوں… شرم نہیں آتی ہم دونوں کے سین میں کودتے…”
    ”کیہڑا سین نانی… میں کدھر سے آگئی آپ کے سین میں… ہوتی تو تب ہی جانسن کی تشریح نہ کر دیتی… اچھا چلیں چھوڑیں… مجھے یاد آیا کہ کل ماما کا فون آیا تھا، پیسے بھجوائے ہیں اُنہوں نے گرمیوں کی شاپنگ کے … کل میں بتول کے ساتھ شاہ عالمی جائوں گی… آپ نے کچھ منگوانا ہوا تو بتا دینا”۔ بابرا بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے بے نیازی سے بولی۔
    ”ماں صدقے…! میرا بچہ میرے واسطے تین، چار ذرا کھلتے رنگوں والے پرنٹ پکڑ لینا… جو مجھ پر جچیں…”
    بلبل نانی ململ کے دوپٹے کو دائیں ہاتھ سے بائیں شانے پر سیٹ کرتے ہوئے بولیں۔
    ”اللہ کو مانیں نانی…! مجھے بھلا پتا نہیں کہ آپ کھلتے کن رنگوں کو کہتی ہیں… یہ کھٹے مالٹے جیسے رنگ اور تیکھے جامنی، بیگنی شیڈ آپ کو پسند آتے ہیں اور میں کم از کم ایسے پرنٹ اور رنگ خرید کر دکان داروں کے آگے بستی نہیں کروا سکتی…”
    ”گرقی (غرقی) پھرے تیری بستی کو… میری پسند کا مذاق اُڑاتی ہے … پھول جھاڑو کے منہ والی نہ ہووے تے…”
    بلبل نانی کا تنفس تیز ہوا تھا… نتھنے پھولنے پچکنے لگے ۔
    ”اب تو ہرگز ہرگز نہیں لائوں گی میں ایسے چھچھورے رنگ… بس ہلکے ہلکے، میٹھے میٹھے رنگوں والے پرنٹ لائوں گی… آپ کی عمر کے مطابق…”
    بابرا نے بلبل نانی کی چپلیں اُتار کر اُن کی چار پائی کے آگے دھریں اور کھڑے ہو کر فیصلہ سنایا۔
    ”ہاں… ہاں! کفن اوڑھا دے مجھے … ابھی سے بڑھاپا متھے مارلوں… کوئی ایسی بڈھی نہیں ہو گئی میں … بڈھی ہو گئی تیری ماں، بڈھی ہو گئی تیری دادی … بڈھی ہو گی تیری …”





    ”نانی…!” بابرا نے فقرہ مکمل کرنے کے ساتھ ہی اندرکمرے کی جانب دوڑ لگا دی تھی۔ بلبل نانی کی چپل لگنے سے پہلے ہی وہ گم ہو چکی تھی… مگر چپل اُڑتی ہوئی سر بکھیرتے جدید طرز کے ایف ایم ریڈیو کو جا لگی… وہ بے چارہ تاب نہ لاتے ہوئے پھڑک کر اسٹول سے گرا تھا… تیسرا صدمہ!…
    بلبل نانی سکتے کی کیفیت میں اُسے تکے جار ہی تھیں، جس کے اندرونی نظام میں خدا جانے کیا خرابی آئی کہ وہ اوّل فول بکنے لگا تھا۔
    نورجہاں کا گانا اور کسی دوسرے اسٹیشن پر چلنے والا پھکڑ جگتوں سے مزین اسٹیج شو مدغم ہو گیا… اور اب جو آواز میں اُبھر رہی تھیں وہ بلبل نانی کے کلیجے کے پار ہوئی جاتی تھیں۔
    ”دل دار صدق… کھوتے دا پتر…”
    لکھ وار صدقے …… اے آنڈے میں دِتے سی…”
    تیرا کرم ہویا،… … بساں (بس) وچ سرمہ ویچن والیا…”
    ”ہویا پیار صدقے … لکھ دی لعنت…!”
    بلبل نانی کی دوسری چپل لہراتی ہوئی آئی اور ریڈیو کا ٹینٹوا دبا گئی۔
    نانی طیش سے پیروں پر ڈالا کھیس سر تک اوڑھ کر لیٹ گئیں اور زیر لب بڑبڑائیں…… ”لکھ دی لعنت”۔
    ٭٭٭٭
    دن کے گیارہ بجے تھے… صبح کی لائٹ گئی ہوئی تھی… بلبل نانی اکتائی ہوئی صحن کے وسط میں بچھی چار پائی پر بیٹھی مٹر چھیل رہی تھیں۔ بابرا ابھی ابھی آدھے مٹر پھانک کر اور پھر کمر پر بلبل نانی کی زور دار چپیڑ کھا کر تیار ہونے کے لئے اندر چلی گئی تھی۔ اُسے اور بتول کو آج شاہ عالمی جانا تھا… دیر بھی ہو سکتی تھی لہٰذا کافی کام نبٹا بیٹھی تھی… بلبل نانی کوفت کے عالم میں بھی دھیمے سروں میں گنگنا رہی تھیں۔
    ”لے آئی پھر کہاں پہ … قسمت ہمیں کہاں سے …”
    ”یہ تو وہی جگہ ہے… گزرے تھے…”
    بلبل نانی ابھی پوری طرح گزر بھی نہ پائی تھیں کہ دھاڑ کی آواز سے داخلی دروازے کو دیوار سے مارتی بتول فاطمہ ڈیوڑھی سے گزرتی صحن میں داخل ہوئی تھیں۔ تیز رنگوں والے کھچڑی پرنٹ اور ویسا ہی دوپٹہ اوڑھے … آنکھوں پر ٹھیلے سے لئے سستے بڑے شیشوں والے گاگلز چڑھائے … پیروں میں سلور تلے والی کولہا پوری چپل پہنے… بتول فاطمہ بازار جانے کے لئے مکمل تیاری کے ساتھ پہنچ چکی تھی۔ طوطے کا رنگ کا پرس بھی ہاتھ میں جھول رہا تھا۔
    ”ہیلو گرینڈما …… کیسی ہوئنگ آپ……”
    بتول نے بلبل نانی کے قریب جا کر چٹ سے اُن کا گال چوما اور بڑے اسٹائل سے حال پوچھا۔ بلبل نانی بتول پر بڑی فریفتہ تھیں … وہ ہو بہو اُنھیں اپنی جوانی لگا کرتی تھی… حالاں کہ بابرا بھی ہوبہو اُنہی پہ پڑی تھی مگر بتول نے تو چھچھورپن کا ریکارڈ قائم کر رکھا تھا۔
    ”ماں صدقے … ! کیسی ہے بتولاں… بابرا تو اندر تیار ہو رہی ہے…”
    ”اُف…! گرینڈما میرا نیم بتول فاطمہ ہوئنگ… پلیز! ڈونٹ رانگ سیئنگ…!”
    ”ذرا بندے دے پتربن کر بولیا کر … اور بتولاں تیری ماں تجھے سب سے زیادہ کہتی ہے… پہلے اُسے منع کر … ویسے کر کیا رہی تھی ثریا…”
    بلبل نانی نے چھلے ہوئے مٹر کے دانے سمیٹتے بتول کے ہاتھوں پر دھپ لگاتے ہوئے پوچھا۔
    ”ساگ پکائنگ اور پھر کلی (اکیلی) ہی کھائنگ… میں تو شاہ علمی سے ہی چاٹ اور برگر کھا کر آئینگ…”
    بتول نے چٹخارہ بھرا تو بے اختیار بلبل نانی کے منہ میں پانی آگیا… اتنے میں بابرا کاندھے پر بیگ لٹکائے… نک سک سے درست چلی آئی۔ دونوں سہیلیاں یوں گلے ملیں جیسے مدتوں بعد سامنا ہوا ہو… حالاںکہ چوبیس گھنٹوں میں چودہ گھنٹے تو دونوں درمیانی دیوار پر چڑھی رہتی تھیں… ساتھ والا گھر بتول کا ہی تو تھا۔
    ”ماں کو کہتی ہوئی جا کہ بلبل نانی کہہ رہی ہیں کہ ساگ پکا کر تھوڑا مجھے بھی بھیجیں… اب میں کیا اکیلی جان کچن میں کھپتی پھروں…”بلبل نانی نے دونوں کا معانقہ لمبا ہوتا دیکھا تو بیچ میں اپنا مدعا بیان کر کے اُن کا دھیان بٹایا۔
    ”اوکے گرینڈما… ابھی آسکنگ… مگر ابھی ٹائم لگینگ… ابھی وہ گھوٹنگ… پھر تڑکا لگائنگ… پھر… ”
    ”اے بتول کی بچی…!” بیچ میں ہی بابرا نے کوفت زدہ ہوتے ہوئے ٹوکا…
    ”اگر تو نے یہ ”آئینگ” اور ”جائینگ” دکان داروں کے سامنے کیا نا… تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا… بستی (بے عزتی) کرا کر رکھ دیتی ہو… اگلوں کو بھی پتا لگ جاتا ہے کہ چوبرجی کی ”کھڈوں” سے نکل کر آئی ہیں۔”





    ”اُف…! بابراہ یو آر جسٹ کر پکنگ…! تمہیں کیا بتا کہ کتنا اچھا امپریشن پڑنگ… یہی محسوس منٹ ہوئینگ کہ لڑکیاں پڑھی لکھی اور وڈے گھروں کی ہوئینگ…!”
    بتول نے اِٹھلا کر بابرا کو تسلی دی… بلبل نانی نے اپنی ادھوری بھؤں اُچکا کر دونوں کو دیکھا اور ہنستے ہوئے بولیں۔
    ”کتھے دیاں پڑھی لکھی کڑیاں… بی۔ اے تو کیا مرا نہیں جا رہا دونوں سے… دوسرا سال ہے لڑھکتے ہوئے… اَج کل کے مُنڈے تو ایم۔ اے سے کم کوئی کڑی تکتے بھی نہیں … اس سال بھی اٹک گئیں تو ہو گئے پڑھے لکھے منڈوں سے ویاہ…”
    ”ہوجائیں گے بلبل نانی … ہو جائیں گے… جس طرح آپ کا ہو گیا تھا نانا کے ساتھ… آپ نے تو آٹھویں جماعت میں ہی قسم کھا لی تھی کہ نویں کہ منہ نہیں دیکھنا … پھر بھی نانا کو آپ بھاگئیں… ایسے ہی ہمارا بھی دائو چل جائے گا…” بابرا نے سینڈل کا اسٹریپ ٹائٹ کرتے ہوئے بلبل نانی کو تفصیل سے اُن کا ماضی یاد کروایا… پیچھے کھڑی بتول دانت نکو سے جارہی تھی۔
    ”بابرا… مرن جو گئے تیری زبان تو بالکل اپنی دادی پر پڑی ہے… ذرا عقل بھی لے لیتے تھوڑی سی … یا وہ کالج میں بیچ کھائی ہے…” بلبل نانی کھسیانی سی ہوئی بابرا کے لئے لیتی ہوئی بولیں۔ بابرا فوراً ان کے قریب آئی اور گلے میں بازو ڈالتے ہوئے بولی: ”ہائے نہیں بلبل نانی… ایسا کیسے ہو سکتا ہے… مجھے تو بس آپ اچھی لگتی ہیں… پھر عقل کیسے کسی اور کی اچھی لگتی…” بلبل نانی جو اُس کے لاڈ پر موم ہو گئیں تھیں… آخری فقرہ سمجھ میں آتے ہی رکھ کر اس کی کمر پر دو تھپڑ دھرے۔
    ”پراں مر…! تیری عقل مجھ پر پڑی ہوتی تو اب تک بیاہ کر اگلے گھر دفع بھی ہو گئی ہوتی… جا اب اگر زیادہ بکواس کیتی تو بٹھالوں گی گھر… سارے پرنٹ پھر تیری شکل پہ ہی اُتر آئیں گے… سمجھی!” بابرا خاموشی سے کمر سہلاتی بتول کو آنکھ سے ڈیوڑھی کی طرف اشارہ کرتی کھڑی ہو گئی مبادا بلبل نانی سچ میں روک نہ لیں۔ ”اے بتول!… اپنی اماں کو کہتی کہ تم لوگوں کے ساتھ ہی چلی جاتی… اکیلی جائو گی دونوں تو فکر رہے گی مجھے…” بلبل نانی کے لہجے میں تشویش تھی… دونوں سہیلیوںکی نظریں ٹکرائیں… تبھی بتول آگے بڑھی اور بولی…
    ”وہ … گرینڈما! آپ فکر ناٹ… ہمارے ساتھ ببلو جائینگ، وہ مرد بچہ ہوئینگ…”
    ”وہ تیرا چھے سال کا بھتیجا… او پاٹی( پھٹی) نیکر تے وگندی نک والا… مرد”… شاباش اے!”
    بلبل نانی نے استہزائیہ انداز میں ہونٹ پھیلا کر بتول کو گھورا …
    بتول برا مناتے ہوئے بولی: ”میرا بھتیجا بڑا ہوشیار ہوئینگ… گرینڈما!”
    ”آہو…! جتنا زمین کے اُتے ہوئینگ، اُتنا ہی زمین کے تھلے بھی ہوئینگ…” یہ بابرا تھی… جس نے بتول کے انداز میں ہی نانی کو تسلی دی تھی اور پھر خود ہی ہنس پڑی تھی۔
    ”ذرا چھیتی واپسی کرنا… موبیل (موبائل) بند نہ کرنا… تے بابرا میری پسند کے چار ودھیا جوڑے پھڑ کے لے آئیں… ورنہ جوتُو اپنے لئے لائے گی نا… میں وہی لے لوں گی… سمجھی!”
    بلبل نانی نے بابرا کو دھمکی دینی ضروری سمجھی تھی ورنہ بابرا کا ارادہ واقعی اس دفعہ نانی کے لئے سوبر رنگ لانے کا تھا۔ مگر بلبل نانی سے کچھ بعید نہیں تھا… وہ سچ میں اُس کے کپڑے جھپٹ لیتیں… اس لئے عافیت اسی میں تھی کہ نانی کے من پسند رنگوں کے پرنٹ لا کر اُن کے حوالے کرتی…! مزید بحث میں پڑنے کی بجائے بابرا نے بتول کا ہاتھ تھاما اور داخلی دروازے کا رُخ کیا۔
    ٭٭٭٭




  • تھکن — سمیرا غزل

    تھکن — سمیرا غزل

    انسان کتنا نادان ہے….کیسے کیسے رواج ،ظالم سماج، بصیرت سے محروم، حقیقت سے انجان حقیقت، جو نہیں ہے سے ہونے تک کی گواہ ہے، جس تک پہنچنے میں انسان کی آنکھوں کے آگے ڈھٹائی کی تنی ہوئی چربی رکاوٹ بنی رہتی ہے” وہ کہہ رہی تھی اور میں سن رہی تھی۔
    ”کیا تمہیں ریت کی پیاس کا اندازہ ہے سبین؟” اس نے خلا میں گھورتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں ہے! کبھی نہیں بجھتی۔” میں نے کہا۔
    ”تم نے کبھی کسی صحرا سے گزرتے ہوئے اس کی پیاس بجھانے کی کوشش کی؟”
    ”نہیں!”میں نے نفی میں سر ہلایا۔
    "مگر میں نے کی ہے اور تم جانو یہ دنیا کا سب سے زیادہ تھکا دینے والا اور مشکل ترین کام ہے” وہ اسی طرح خلا میں تکتے ہوئے بات کرتے جارہی تھی۔
    ”تم نے یہ کوشش کیوں کی؟” میں نے عام سے لہجے میں پوچھا۔
    "تاکہ خود کو سیراب کر سکوں”
    ”ناکام کیوں ہوگئیں؟”





    "کیو ںکہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی، اپنا آپ جھلس جاتا ہے، مگر ہوس باقی رہتی ہے، یہ سب سے تھکادینے والا کام ہے۔” اس کی آنکھوں میں ننھے ننھے تارے چمکنے لگے۔
    نیا واقعہ کیا ہے؟ میں نے افسردہ ہوکے سر جھکا لیا اور پوچھا۔
    "رواج، وہ رواج جس کی بھوک مٹاتے مٹاتے ہم ادھ موئے ہوجاتے ہیں” اس کی زبان میں لرزش تھی۔
    ”کون سا رواج” میں نے تعجب سے پوچھا؟
    ”وہ رواج جس کی ادائی پہ نہیں ہونے پہ دکھ ہوتا ہے۔ ”کچھ بتا تو……” میں نے زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”کال ریکارڈنگ ملی ہے۔” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ ارے بابا کس کی؟ میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا۔
    ”ان کی جو رواجوں کے پابند ہیں…”
    ”کون؟” میں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔
    وہی جنہوں نے کہا کہ ہم نے آج تک کوئی حق ادا نہیں کیا۔” وہ مجھے اپنی مبہم باتوں میں الجھا رہی تھی اور میں گتھی کو سلجھانے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔
    "وہی جن کا موبائل میری بیٹی نے گیم کھیلنے کے لیے مانگا تھا اور پھر معلوم نہیں کیسے وہ ریکارڈنگ چل گئی” وہ بڑبڑائی..
    کون ن ن ن سسی ریکارڈنگ؟؟” میں حیرانی سے چلائی۔
    "وہ جو شاید ان کے پاس غلطی سے ریکارڈ ہوگئی تھی۔”
    ”کچھ بتاؤ گی بھی فائزہ؟ یا یونہی پہیلیاںبُجھاتی رہو گی؟” میں چیخ پڑی۔
    "جس میں میری نند نے دوسری نند سے میری شکایت کی اور بتایا کہ میں اتنی بری اس لیے ہوں کہ میرا میکا بھی ایسا ہے۔” وہ پھر لمبے وقفے پر چلی گئی۔
    ”افففففف تو وجہ کیا تھی یہ سب کہنے کی؟”
    "انہیں عید کی دعوت کے فوراً بعد ان کی امی یعنی میری ساس کی عدت پوری ہونے کی خوشی میں دعوت چاہیے تھی اور ان کا یہ قدیم رواج مجھے قطعاً یاد نہیں رہا”
    ”اف توبہ کیا جہالت ہے فائزہ؟” غصہ سے میری رگیں تن گئیں۔
    ”میں نے تمہیں کہا تھا نہ سبین کہ صحرا کی پیاس کبھی نہیں بُجھتی اور جس کا پیٹ ہی صحرا بن جائے تو ان کے غم بھی پیٹ کی ہی سوچتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے اس کی پلکوں پہ صدیوں کا بوجھ اور لہجے میں گہری تھکن تھی۔

    ٭…٭…٭




  • صدیاں — سائرہ اقبال

    صدیاں — سائرہ اقبال

    صدیاں بیتی تھیں یا لمحے کیا معلوم ؟ لمحوں کی خبر تو وہ رکھتے ہیں جن کے پاس کھونے کو بھی بہت ہو ، پانے کو بھی بہت ۔ آپا کے پاس کیا تھا ؟ ظاہری طور پہ توکچھ نہیں ۔ جب سے آنکھ کھولی ہے، آپا کو یہیں پایا ہے اِسی کھڑکی میں۔ بس جمعرات کو بچوں میں ٹافیاں تقسیم کرتے دیکھا اور پھر اِسی کھڑکی میں کھڑے۔ کبھی جی کیا تو پاس پڑی کُرسی پر بیٹھ گئیں ۔ اکثر اکیڈمی سے آ کر بی آپا کے پاس بیٹھنے کی کوشش، کبھی اماں بیٹھنے نہ دیتیں تو کبھی آپا ہی زیادہ بات نہ کرتیں۔ ایک دم حسبِ عادت آپا کے پاس گئی انہیں کھڑکی سے ہٹا کر پلنگ کی طرف لے گئی اور کہنے لگی:
    ”آپا۔۔! کیا ہر وقت وہاں کھڑی رہتی ہیں؟ یہاں بیٹھئے ۔ ”
    ”آپا اپنے مخصوص انداز میں کہتیں، ‘پرے ہٹو۔ تُم کیا جانو ان احساسات کو؟”
    ”آپا آپ کیوں مُجھے ابھی تک بچہ ہی سمجھتی ہیں؟ جب میں یہاں آئی تھی نا تب تھی چار برس کی۔ اب تو پُورے اٹھارہ برس کی ہوں بلکہ دیکھنے میں آپ جتنی ہی لگتی ہوں۔”
    ”میرے جیسی نہ بن جانا۔” آپا نے جلے کٹے لہجے میں کہا۔
    ”ضوفی ۔۔ ضوفی ۔۔’ ‘ اماں نے آواز دی۔
    ”لو جی آ گئی اماں کی آواز ۔” ضوفشاں نے کہا۔





    ”آبیٹا! پہنچتے ہی گُھس گئی بدروح کے پاس۔ روٹیاں ڈال لے، نعمان ، نوید اور وارث آنے والے ہوں گے۔ بس دس بارہ ہی ڈالنی ہیں۔”
    حاجرہ اور سمیرا کو بھی بھوک لگ گئی ہو گی اور بہو بیگم کی بھی دو ڈال دیجئیو۔” اماں نے آواز لگائی۔
    ‘آئی اماں۔ ‘ ضوفشاں نے کہا۔
    ضوفشاں کمرے سے باہر نکلی۔’ ‘بس دو منٹ میں ڈال دوں گی۔”
    ”ہاں میری شیر بیٹی۔” اماں نے کہا۔
    ”اماں بچوں کے لئے بھی ڈالنی ہیں روٹیاں؟” ضوفشاں نے باورچی خانے سے آواز لگائی۔
    ‘نہیں روٹیاں بنا کر ان کے لئے چاول اُبال لینا۔”
    ”حاجرہ کی بیٹی ٹھیک نہیں۔ پھر وہ کھائے گی تو نوید کے بچے بھی مانگیں گے ۔ بھئی میں تو برابری کرتی سب کے ساتھ تو سب بچوں کے لئے چاول ہی اُبال دو۔” اماں نے کچھ خود کلامی کی تو کچھ ضوفشاں کو اعلان کیا۔
    ”اچھا اماں۔’ ‘ ضوفشاں نے جواب دیا۔
    نوید کھانا کھانے لگا تو بولا: ”بھئی سلاد آج پھر کسی نے نہیں کاٹا ۔ سلاد کے بغیر کہاں کھانا اندر جاتا ہے۔”
    ”چاول اُبالنے لگ گئی تھی بھائی۔ ابھی کاٹ دیتی ہوں۔” ضوفشاں نے کہا۔
    ”جیب میں ٹکا ایک نہیں اور نخرے دیکھو۔’ ‘ حاجرہ بڑبڑائی۔
    ”دو دو میرے میاں کو طعنے ، بے روزگار ہے ناں ۔ تبھی اپنی پسند کا اظہار بھی نہیں کر سکتا۔” صائمہ بھابھی نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”سلاد کاٹ دو ضوفی ۔” اماں نے آواز دی۔
    ”ابھی لائی اماں۔” ضوفی نے جواباً کہا۔
    ”تو بھابھی اُٹھ کے کاٹ لے نا۔ یہاں کیوں ہر کوئی مُفت کی روٹیاں توڑنے میں لگا ہے۔” حاجرہ نے اپنی بیٹی کے منہ میں چاول ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”اماں سلاد نہیں ہے۔” ضوفی نے باورچی خانے سے آواز دی۔
    ”یہی زبان ہے جس نے تُمہیں گھر بٹھایا ہے۔’ ‘ بھابھی نے نوالہ توڑتے ہوئے کہا۔
    ”جو بھی ہے ، جیسی بھی ہوں ، مُفت کا نہیں کھا رہی ۔ محنت کرتی ہوں اور خود کماتی ہوں ۔ کسی پہ بوجھ نہیں ہوں۔ تُم تو گھر بسا کے چار بچوں میاں سمیت سب پہ بوجھ ہو۔” حاجرہ نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ضوفشاں آئو تُم بھی کھائو ۔’ ‘ سمیرا نے آواز دیتے ہوئے کہا ۔
    ”میں بس آپا کو کھانا دے آئوں پھر کھاتی ہوں۔”
    ”اماں! نحوست کب تک کھڑکی کے سرہانے کھڑی رہے گی؟ مفت کی عادت پڑ گئی ہے ۔ اچھی بھلی نوکری کو لات مار دی۔” نوید نے کہا۔
    ”ہاں ہاں! کمائو بھائی جو نظر آ رہا تھا ۔ نیت کے کھوٹے لوگ۔” صائمہ بھابھی نے کہا ۔
    جب بھی وہ نیت کے کھوٹے لوگ کہتی، نائلہ ان کی طرف حیرانی سے دیکھتی پھر بھابھی چِڑ کے کہتیں:
    ”اے ہے ۔۔ تو کیا گھور رہی ہے مجھے ۔ کام کر جو کر رہی ہے ۔ ”
    اماں خاموشی سے سُنتی رہتیں۔ایک دِن حاجرہ نے طیش میں آ کر کہہ ہی دیا:
    ”اس وقت تو بڑا نئی نویلی دُلہن کے آنچل میں منہ چھپائے اماں اور بہنوں کو چھوڑ گئے تھے ۔ یہ وہی ہے جس کے آسرے پر چھوڑ گئے تھے۔”
    بھابھی طیش میں آتی اور چلاتی:
    ”ہائے ہائے بد زبان ، اسی زبان نے تو گھر بٹھایا ہے تجھے۔۔ورنہ۔ آج تیرا بھی گھر بس رہا ہوتا۔”
    ”تُم نہ ان کے منہ لگو صائمہ ، یہ ہے ہی بد لحاظ ، بد تمیز ، نہ چھوٹے کی تمیز نہ بڑے کی ۔” نوید کہتا۔
    اماں بین کرنے لگتیں۔
    ”میری تو قسمت ہی خراب ہے ۔گھر والا اچھا نکلا نہ اولاد ۔ جوانی میں ہی مجھے بیوہ کر کے اس کنواری رانی کے ساتھ نکل گیا۔”
    سمیرا باتوں میں ہمیشہ ہی ایک نیا چٹکلا چھوڑتی۔
    ”اماں سُنا ہے ابا اس رانی کے ساتھ فیصل آباد میں ہیں آج کل۔ ابا کی کوئی اولاد نہیں رانی سے۔ یہ بھی سُننے میں آیا ہے کہ وہ کہتی ہے میری سوتن نے کالا جادو کرایا ہے۔”
    ”پچھلی بار تو نے بتایا تھا کہ ابا کی بیٹی جوان ہے اور بیٹا، یہ اپنے ٹنکو جیسا ہے ۔ آج کہہ رہی ہے رانی بانجھ ہے ۔” حاجرہ کہتی ۔
    ”یہ لو۔۔ کھاتی ماں کا ہے ، اوڑھتی پہنتی ماں کا ہے۔ اتنی فکر ہے ابا کی تو جائو، ساتھ ہی چلے جائو۔” اماں چلاتی رہ جاتیں۔
    ضوفشاں کھانے کے برتن اُٹھاتی ، کچن سمیٹتی ۔ نوید ، وارث اور نعمان پھر سے آوارہ گردی کے لئے نکل جاتے ۔ بس ایک یہی کام تھا جو وہ دِل لگا کر اور پابندی سے کیا کرتے تھے ۔ ضوفی اپنے کام سے فارغ ہو کر آپا کے کمرے میں چلی جاتی مگر آپا بتیاں بُجھا کر سو جایا کرتی تھی ، وہ جانتی تھی کہ وہ سوتی نہیں ہے ۔ وہ تو بس آنکھیں موندتی ہے ، دِن میں وہی آنکھیں ڈھیروں خیال و خواب سجائے باہر جھانکتی تھیں مگر پھر بھی وہ آنکھیں خالی ہی ہوتی تھیں ۔ اور رات میں سارے خواب سارے خیال ایک گٹھری میں باندھ کر اپنے سرہانے رکھ لیتیں ۔ پھر وہ آنکھیں اتنی بھری ہوئی ہوتیں کہ خالی کرنے کو جگہ نہ ملتی تھی ۔آپا کاغذ قلم اُٹھائے ، دِل ہلکا کرنے لگتی۔
    ”زندگی کے پہلے دس برس چِک چِک بَک بَک میں گُزر گئے ۔ پندرہ برس کی ہوئی تو فکرِ معاش
    لاحق ہو گیا بہت موذی بیماری ہے ۔ لاحق ہو جائے تو دم کے ساتھ ہی نکلتی ہے۔ اچھوت ہے،
    کوئی آسرا دینے آتا ہے نہ بوجھ ہلکا کرنے ۔ نوکری ملی تو بھی جذبے والی ۔ بڑے ہسپتال میں
    نرس لگ گئی ۔ اٹھارہ سے بیس برس تو خوب گزرے اور پھر ۔۔۔۔ ‘ ‘
    ایک دِن چھُپ کر ، ابھی یہی تک پڑھا تھا کہ آپا آگئیں ۔ میں صفائی کرنے لگی ۔اس دِن کے بعد وہ ڈائری نظر نہ آئی ۔ رات کو اماں کو چائے دینے گئی تو سوچا آپا کے بارے میں پوچھوں ۔ ابھی کچھ پوچھنا چاہا ہی تھا کہ اماں نے تنخواہ کا حساب مانگ لیا ۔
    ”اماں اِس بار کالج کی فیس دینی پڑ گئی۔” اماں بگڑ اُٹھیں، ظاہری بات ہے گھر کا خرچ کم پڑ گیا تھا ۔ اماں نے حاجرہ سے پیسے مانگے تو حاجرہ کہنے لگی:
    ”میں یہاں کسی کے لئے نہیں کماتی۔ اپنے اور اپنے بچے کے لئے کماتی ہوں۔”
    ”ہاں ہاں مُجھے بے روزگاری کے طعنے دیا کرو۔ یہی نوید تھا جو سب کی جان ہوا کرتا تھا اور اب کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ ہیں ہی سب پیسے کے پُجاری ۔” نوید بھائی تو جیسے بگڑ پڑے۔
    ”ہاں بہن کس کی ہے آخر حسد تو کرے گی ۔ بھلا میرامیاں کیوں کسی کا بُرا چاہے گا۔” پھر بھابھی کی دھماکے دار آواز آتی۔
    بھابھی کا بھائی چہل قدمی کے بہانے باہر چلا جاتا ۔ وارث چھت پر کھڑا لڑکیاں تاکتا رہتا۔ نعمان ویسے تو گُونگا بہرا تھا مگر آنکھوں کے اشارے خوب جانتا تھا ۔ ہر گزرتی لڑکی کو دیکھ کر بالوں میں کنگھی کرتا اور مُسکراتا ۔ لڑکیاں کہتی گزرتیں:
    ”دیکھو جھلا ڈورا بھی ہے اور گونگا بھی پھر بھی حرکتوں سے باز نہیں آتا۔” وہ خوش ہوتا کہ لڑکیاں دیکھ رہی ہیں۔




  • گردشِ طالع —- اسماء حسن

    تنگ دستی انسان کو ننگے پاؤں سفر کرواتی ہے، جب تک کہ آبلوں میں سوراخ ہو کروہ پھٹ نہ جائیں۔ زخم بھر جانے کے بعد ایک نیا سفرکسی نئے آبلے کا منتظر ہوتا ہے اور پھر چل سو چل جب تک سانسوں کی ڈور چلتی ہے، قسمت کا پھیر ختم ہی نہیں ہوتا۔ اس نے گھڑی کی جانب دیکھا تودوپہر کے بارہ بج چکے تھے۔ دہکتا سورج سوا نیزے پر کھڑا اپنے ہونے کا پتا دے رہا تھا۔ گھر سے نکلے ہوئے اسے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔ اب تک اسے سڑک پر ہونا چاہیے تھا، مگربدنصیبی کسی بھیانک پرچھائی کی طرح اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ گردشِ طالع تھی کہ دو پل بھی کہیں سکون سے جینے نہیں دیتی تھی۔ گھسی پٹی پلاسٹک کی چپل اسے موچی کے تھڑے تک لے گئی۔ اس کا جی چاہا کہ موچی پیسے لینا بھول جائے، مگر وہ بھی توقسمت کا دھنی نہیں تھا۔۔ ضروریات کا اکھاڑاتو اس کے آنگن میں بھی لگتا ہو گا جس میں اکثر جذبات ہار جاتے ہوں گے۔ کیوں کہ خواہشات کو نکیل پہنائی جا سکتی ہے، مگر بھوکے شکم کوپابندِ سلاسل نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں تو صرف صبر کی سولی پر لٹکا جاسکتا ہے۔
    "دس روپے”





    موچی کا یہ جملہ سنتے ہی اس نے چادر کے کونے کی گرہ کچھ یوں کھولی جیسے دس روپے نہیں، زندگی کا گراں بہا خزانہ دینے لگی ہو۔ سو روپے کے نوٹ کی تہیں بتا رہی تھیں کہ اسے کتنا سنبھال کر رکھا گیا ہو گا۔ اس نے نوے روپے بقایا لیے اورچادر کے کونے سے باندھ کر آگے چل پڑی۔ جولائی کی تپتی دوپہر بدن کو جھلسا رہی تھی، مگر وہ اس کی پروا کئے بغیر ہی چلتی رہی۔ دو بجے سے پہلے پہلے اسے وہاں پہنچنا تھا۔ یہ ہی سوچ اس کی رفتار کو تھمنے نہیں دے رہی تھی۔ چادر کے پلو سے پسینہ پونچھتے ہوئے وہ باربار نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتی ہوئی کسی سائبان کی منتظر تھی، مگر سورج کی بھون دینے والی تپش پر کسی گہری سیاہ بدلی نے اپنا مسکن نہیں ڈالا تھا۔
    ہجوم کو چیرتی ہوئی وہ دنیا مافیہا سے بیگانہ آگے بڑھتی رہی۔ ہر طرف چہل پہل تھی۔ لوگ جگہ جگہ ٹولیاں بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے اورایک وہ تھی جس کے لبوں پر مارے بھوک و پیاس کے چاندی چمک رہی تھی۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے وہ سڑک کی طرف بھاگتی چلی جا رہی تھی۔
    گھڑی پر نظرپڑتے ہی مخمصے کے عالم میں سڑک پردوقدم آگے رکھتے ہوئے، اس نے رکشہ روکنے کی کوشش کی۔ رکشے والے نے ایک جھٹکے سے رکشہ روکا اوراسے کھری کھری سنانے لگا۔
    "کیا کررہی ہواماں؟ مرنے کا ارادہ ہے کیا؟ "وہ اماں تو ہرگز نہ تھی، مگر زندگی کے قرض اتارتے اتارتے وہ اپنی عمر سے دوگنی دکھائی دینے لگی تھی۔۔!!
    پھر اس نے ایک نظراس کے حلیے پرڈالی اور سرسے پیر تک دیکھتے ہوئے بڑبڑانے لگا:
    "ہاں! آج کل تم لوگوں نے کمائی کے نئے طریقے جو ڈھونڈ لیے ہیں۔ کسی موٹرگاڑی یا سائیکل، رکشے کے نیچے آؤ اور زخمی ہونے کابہانہ بنا کرکچھ پیسے بٹورلو۔”
    "نہیں نہیں بھائی صاحب ۔ مجھے تو اس ایڈریس پرجانا ہے۔”
    اس کے بولنے کا انداز اس کے حلیے سے بالکل میل نہ کھاتا تھا۔ اس لیے رکشے والے نے عورت کو سرتا پا دوبارہ کچھ یوں دیکھا کہ وہ لجاتی ہوئی خود کو اپنی میلی کچیلی چادرسے ڈھانپنے کی ناکام کوشش کرنے لگی، جو جگہ جگہ سے تار تار تھی۔
    دوسو روپے کرایہ ہوگا، بیٹھو”
    رکشے والے نے اسے اندر بیٹھنے کے لیے کہا تو اس کے چہرے پر گرمی کے پسینے کے ساتھ ساتھ فکرمندی بھی جھلکنے لگی۔ اسے پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی، اس لیئے انجام سوچے بغیر ہی وہ رکشے میں بیٹھ گئی۔ راستے میں ایک بڑا قبرستان پڑتا تھا۔ وہ جب بھی وہاں سے گزرتی تو اپنی ماں پر فاتحہ پڑھ کر دور ہی سے پھونک دیا کرتی تھی۔ آج ماں کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے وہ ساری عیدیں یاد آنے لگیں، جب ابا اس کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ اس کی سہیلیوں کے لیے بھی جوڑے لایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ اس کی سب سے اچھی سہیلی ناہید کا جوڑا لانا بھول گئے تو اس نے کتنی لڑائی کی اور دھمکیاں دیتی پھری کہ اگر ناہید کا اسی طرح کا جوڑا نہ لایا گیا تو وہ بھی نیا جوڑا نہیں پہنے گی۔
    چاند رات کی دمکتی روشنیوں میں ابا ہجوم سے بھرے بازار میں مارے مارے پھرتے رہے اوراس کی سہیلی کا جوڑا لا کر ہی جان بخشی ہوئی تھی۔ یہ خیال آتے ہی وہ ہنس دی۔ عید سے بہت دن پہلے ہی ابا برآمدے میں پڑے ایک بڑے سے تخت پر جوڑے، چوڑیاں اور مہندی کا سامان لاکررکھ دیا کرتے تھے۔ وہ بھاگ کرمحلے کی سبھی عورتوں کو بلا کرلاتی اور بڑے شوق سے کُرسی رکھ کر تخت کے پاس بیٹھ جاتی اورسب کو مشورے دیا کرتی۔ جب محلے بھر کی عورتیں واپسی پر جاتے ہوئے آنسوؤں سے لبریز آنکھیں لیے ابا کو دعائیں دیتیں تووہ بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا کرتی:
    "اماں یہ ساری عورتیں رو رو کر ابا کو دعائیں کیوں دیتی ہیں؟” تو اماں اس کے معصوم سوالوں پر مسکرا دیتی تھیں۔ گھر کا دروازہ اس وقت تک بند نہیں ہوتا تھا، جب تک آخری سائل کھڑا ہو۔
    آہ! کیسے میٹھے زمانے تھے کہ دیوارو درسب ہی کے لیے کھلے رہتے تھے۔
    ایک مرتبہ ابا مغرب کی نماز کے لیے گھر سے نکل رہے تھے توچاچا شریف ان سے ٹکرا گئے۔ ابا نے پوچھا کہ کیا بات ہے شریف دین، تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کہاں جا رہا ہے؟ اور یہ تیری بغل میں کیا ہے؟ تو چاچا شریف کی آنکھوں کے آنسو ساری داستان سنانے لگے۔ اس نے بغل سے ایک پوٹلی نکال کر دکھاتے ہوئے کہا تھا:
    "بھائی جی! یہ آپ کی بھابھی کا زیور بیچنے جا رہا ہوں۔” تو ابا نے اس کے ہاتھ سے وہ چھین لیا اورلاکراماں کو دیتے ہوئے کہا:
    جا یہ زیور (پرجائی بھابھی) کوواپس کردے۔
    پھرسیف الماری کی طرف بڑھے اور پیسے اُٹھا کر چاچا شریف کو یہ کہتے ہوئے دیئے تھے کہ آئندہ کبھی بھابھی کا زیور نہ بیچنا یہ تو عورت کا گہنا ہوتا ہے اور یہ پیسے تب تک نہ لوٹانا جب تک تیرے پاس نہ ہوں۔” یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو کسی بہتے دریا کی طرح رواں ہوکر اس کے دامن کو تر کرنے لگے۔
    رکشہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ گرمی قہر برسا رہی تھی۔ ہوا کے گرم تھپیڑے اس کے سانولے چہرے سے ٹکراتے تو وہ منہ کو باریک ململ کی چادر سے ڈھانپنے کی کوشش کرنے لگتی۔ اسے اماں کی یاد ستانے لگی۔ ماں اس کے سانولے رنگ سے جتنا پریشان رہتی تھی وہ اتنی ہی بے پروائی دکھاتی۔ وہ جب بھی باہر نکلتی، تو ماں اسے چہرے کو ڈھانپنے کے گر سکھاتی تاکہ گرد مٹی نہ جمے اور دھوپ سے رنگ مزید کالا نہ ہو جائے۔





    وہ بڑی معصومیت سے ماں سے پوچھتی:
    "اماں آپ چھوٹی کو کیوں نہیں کہتیں کہ سر پر اوڑھنی ڈال کرنکلا کرے۔” تو ماں اس کے گالوں کو تھپک کر کہتی:
    "پوری جھلی ہے تو۔” اس پر وہ ہنس دیتی تھی۔
    قبرستان کب کا گزر چکا تھا۔ آج وہ فاتحہ پڑھنا بھی بھول گئی تھی۔
    آنسو سانولے گالوں پرموتیوں کی طرح ٹھہرسے گئے۔ رکشہ کوایک دم جھٹکا لگا۔ وہ پادِ ما ضی سے نکل کر حال کی سنسان سڑک پر بے سرو سامان ننگے سر آن کھڑی ہوئی۔
    "ایک غریب دوسرے غریب کو کیسے ٹھگ سکتا ہے؟ کیسے دھوکا دے سکتا ہے؟ اگر میرے پاس پورا کرایہ نہیں تو اسے بتا دینا چاہیئے، وہ بھی غریب بندہ ہے میرے دکھ کو سمجھے گا۔”
    ناجانے اس نے اپنے ذہن کے منتشر خیالات کوکیسے یک جا کیا اور کپکپاتی زبان سے رکشے والے کو مخاطب کرکے یہ کہہ دیا کہ اس کے پاس کرایہ صرف نوے روپے ہے۔ یہ سنتے ہی رکشے والے نے ایک جھٹکے سے رکشہ روکا۔
    "کیا؟ تمہارے پاس کرایہ نہیں؟ تم کتنی چال باز عورت ہو۔ میں تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ تم جیسی بھیک منگی عورتیں ڈرامے بازیاں کرکے اپنے مقصد پورے کرتی ہیں۔ چلو اترو میرے رکشے سے فٹافٹ! ورنہ میں بازو کھینچ کر نیچے اتار دوں گا۔”
    وہ اپنے دائیں ہاتھ سے کچھ یوں چٹکی بجا رہا تھا کہ اگر وہ واقعی دو منٹ میں نہ اتری، تو وہ اس کے سر کی چادر تک کھینچ ڈالے گا۔
    "نہیں بھائی صاحب ایسا نہ کہیں میں دھوکے باز نہیں، مجھے ہر صورت دو بجے اس ایڈریس پر پہنچنا ہے۔ میرا وعدہ ہے کہ وہاں پہنچتے ہی تمہیں پیسے دے دوں گی۔ دیکھو! دو بجنے میں صرف پندرہ منٹ رہ گئے ہیں۔”
    "تمہاری سمجھ میں نہیں آرہا؟ جلدی اترو، ورنہ تمہیں دھکے مار کر رکشے سے اتار دوں گا اور نوے روپیہ نکالو۔ یہاں تک کا اتنا ہی کرایہ بنتا ہے۔ تمہارے پیسے پورے ہوئے، چلو اترو۔”
    رکشے والے کا ایسا اہانت بھرا لہجہ دیکھ کرمزید کچھ کہنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ نم پلکیں لیے وہ رکشے سے نیچے اتر گئی اور چادر کے کونے سے نوّے روپیہ نکال کر رکشے والے کے حوالے کر دیئے۔ ننگے آسمان تلے اور برہنہ زمین کے سینے پر گھسی پٹی چپل پہنے وہ دوڑنے لگی۔ چپل کے نیچے سے محسوس ہوتی لو اس کے پاؤں کے تلووں تک کو جھلسا رہی تھی۔ بوکھلاہٹ کے انداز میں لوگوں سے راستہ پوچھتی تو لوگ اسے عجیب نظروں سے گھورنے لگتے کہ جیسے وہ کوئی پاگل ہو جو راستہ بھٹک گئی ہو۔
    "دو بجے سے پہلے وہاں پہنچنا ہے، ضرور پہنچنا ہے۔ اگر نہ پہنچی تو کیا ہو گا۔ سب کچھ ادھورا رہ جائے گا۔ سب کے منہ لٹک جائیں گے۔ پورا گھر میری واپسی کا منتظر بیٹھا ہے۔”
    یہی سوچیں اس کے قدموں کو مزید تیز کیے جا رہی تھیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑک سے ہوتی ہوئی اس کی رہتی سہتی چپل بھی ٹوٹ چلی تھی۔ اس نے چپل اتار کر ہاتھ میں پکڑی اورمنزل کی جانب چلنے لگی۔ اس کے پاؤں کے آبلے بتا رہے تھے کہ اس نے کتنا سفر طے کر لیا ہے۔ تپتی تارکول کی سڑک کسی ریگستان کی گرم ریت کا سا جھلساؤ پیدا کر رہی تھی۔
    آخر کار ہانپتی ہوئی وہ اس گیٹ کے سامنے کھڑی تھی، جس کی تلاش میں اس نے ننگے پاؤں سفر کیا تھا۔
    اندر جانے لگی تو گارڈ کے ہاتھ نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔
    "کیا بات ہے بی بی کہاں بھاگی چلی جا رہی ہو؟”
    "وہ مجھے صالح صاحب سے ملنا تھا، انہوں نے آج کے دن ملاقات کا کہا تھا”!
    وہ پھولی سانس لیے صرف اتنا ہی کہہ سکی۔
    "اوہ! اچھا تو تم اس مقصد کے لیے آئی ہو، مگر وقت تو دو بجے تک کا تھا۔ اب تو گیٹ بند ہو چکا ہے۔ صاحب لوگ جا چکے ہیں۔”
    "مگر میں تو بہت دور سے بہت آس لے کرآئی ہوں ۔ تم ایک مرتبہ اندر جا کرصاحب سے پوچھ لو۔ وہ تو بہت نیک انسان ہیں ۔ وہ میری مدد ضرورکریں گے۔”
    "جا یہاں سے۔ گیٹ صاحب لوگوں نے ہی بند کروایا ہے۔ اگلے سال آنا اورہاں وقت کاخیال رکھنا۔ اس بابرکت مہینے میں تو وقت کا خیال رکھ لیا کرو۔ صاحب لوگوں کو نماز روزہ بھی کرنا ہوتا ہے۔ آج جمعتہ الوداع ہے۔ اس میں کمی بیشی نہیں ہونی چاہیئے۔”
    "وقت” پر زور دیتے ہوئے چوکیدارنے گیٹ بند کرلیا۔ اس میں تو یہ تک کہنے کی ہمت نہیں تھی کہ وہ تو واپسی کا کرایہ بھی یہاں سے ملنے والی اعانت سے ادا کرنے والی تھی۔ اس نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور استعجابیہ نگاہیں لیے اس کی تقسیم پرشکوہ کناں ہونے لگی۔ پھراس کے ذہن میں ابا کے گھر کا تخت گردش کرنے لگا جہاں وقت کی کوئی قید نہیں تھی اور کوئی عورت بھی آخری عورت نہیں ہوتی تھی۔ اس کی زبان سے محض اتنا ہی نکل سکا "اگلا سال؟ "اور وہ وہیں پرگرپڑی۔




  • میری پری میری جان — اقراء عابد

    کبھی پھولوں کو روتے دیکھا ہے تم نے؟
    پھول نہیں روتے ۔۔ روتے بھی ہوں تو اپنا درد اپنے اندر پنہاں کسی کونے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے چہروں پر مسکان بکھیرتے ہیں، اپنے درد کی جھلک بھی دوسروں پر عیاں نہیں ہونے دیتے میری جان!
    پھول تو پھول ہوتے ہیں۔۔ خوشیاں دیتے ہیں۔۔۔ خوشبویں بکھیرتے ہیں۔ سپنے سجاتے ہیں۔۔۔ بناتے ہیں۔۔۔ درد مٹاتے ہیں۔۔
    پھول تو پھول ہوتے ہیں نا پری! تم بھی تو پھول ہو، ننھا سا پیارا سا پھول۔۔ جس نے کبھی مُرجھانا نہیں ہے، ہمیشہ کِھلے ہی رہنا ہے تاکہ تم سے منسلک لوگ بھی اپنے پھول کو دیکھ کر اپنے لبوں کی مسکان برقرار رکھ سکیں۔ وہ کب سے اپنی پری کا سیال صاف کر رہا تھا۔ وہ اب وہ تھک چکا تھا، لیکن پری کا سیال مسلسل رواں تھا۔
    اُس نے پانی کی تلاش میں ارد گرد کا بہ غور جائزہ لیا تو پتا چلا اِس ڈربے نما کمرے میں ایک ذی روح کا رہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی کو گہرے کنویں میں پھینک دیا جاے اور اُس کنویں کو اوپر سے اچھی طرح ڈھانپ دیا جائے۔۔۔ کنواں نما عجیب و غریب یہ کمرہ چوڑائی میں کم اور گولائی میں زیادہ تھا یوں جیسے سچ میں کنواں کھودا گیا ہو۔ دیواریں بھی لمبی لمبی مگر گولائی میں تھیں اوپر چھت کی طرف دیکھا تو ایک بہت اوپر گارڈر کے ساتھ ایک پرانی طرز کا پنکھا جھول رہا تھا، جو صرف خود کو ہوا دے رہا تھا۔ روشنی کے نام پر صرف ایک بلب سنہری سی روشنی پھینک رہا تھا جو اس کھنڈر نما کمرے کے لیے کافی نہیں تھی۔ ایک خستہ حال سی چارپائی پر میلی سی سفید چادر بچھی تھی، جس پر تکیہ ندارد تھا۔ اُسی تکیے کی جگہ بیٹھی وہ نیر بہا رہی تھی جب کہ سُبحان احمد اُس کے سامنے گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھا اُسے دیوانہ وار چُپ کروا رہا تھا۔ چارپائی کے سائیڈ پر ایک چھوٹا سا میز پڑا تھا جس پر پانی کا جگ تھا اور ساتھ ہی گلاس بھی موجود تھا، مگر دیکھنے سے پتا چلتا تھا کہ برتن کافی عرصے سے دھلنے سے محروم پڑے ہیں۔ وہ پانی ڈالنے کے لیے آگے بڑھا تو یہ دیکھ کر جل اُٹھا کہ جگ میں پانی ہی موجود نہ تھا۔ یوں جیسے بہت دنوں سے یہاں کسی نے مڑ کر بھی نہ دیکھا ہو۔
    ”اُٹھو پری! چلو یہاں سے، میں اب مزید تمہیں ان لوگوں کے سپرد نہیں کر سکتا۔” سبحان نے پری کوبازئووں کا سہارا دیا اور اُسے باہر لے آیا۔ پری کی اُمید بندھی کہ اب اس قید سے جان چھوٹ جائے گی۔





    ”ارے ارے! کہاں لے کر جا رہے ہیں آپ پیشنٹ کو؟ ان کے انجکشن کا ٹائم ہو گیا ہے۔” جیسے ہی وہ پری کو لے کر باہر نکلا، نرس نے اُسے روک لیا۔
    ”ہٹ جائو رستے سے، میں سب جانتا ہوں کون سے انجکشن کی تم بات کر رہی ہو۔ ارے ذرا سی بھی انسانیت نہیں ہے تم لوگوں میں۔” وہ ڈسٹ بن میں پڑی انجکشن کی خالی شیشی دیکھ چکا تھا اور جانتا تھا یہ نشے کا انجکشن سونا کو کیسے اندر ہی اندر ختم کر رہا ہے۔ وہ اب کسی کی سننے والا نہیں تھا۔ اُس نے پری کو گاڑی میں بیٹھایا اور اُسے انتظار کرنے کیلئے کہا۔
    اس نے کسی کی بات نہیں سنی، کسی نرس کو مڑ کر جواب نہیں دیا۔ گاڑی لاک کر کے وہ سیدھا پری کے ڈاکٹر سلیم جیلانی کے پاس آگیا۔ ڈاکٹر نے حیرانی سے اُس کی طرف دیکھا، پھر پیچھے کھڑی ریسپشنسٹ کی طرف۔۔
    ”ای ایم رئیلی سوری سر! میں نے ان صاحب کو بہت روکا مگر یہ زبردستی روم نمبر سات کے پیشنٹ کو لے گئے اور اب زبردستی آپ کے روم میں گھس گئے۔ سوری سر!” ریسپشنسٹ شرمندہ کھڑی تھی۔ ڈاکٹر سلیم نے اُسے جانے کا اشارہ کیا۔
    ”جی تشریف رکھیے سبحان صاحب! کیسے ہیں آپ؟” ڈاکٹر نے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
    ”میں یہاں تشریف رکھنے نہیں بلکہ آپ کو اس بات سے آگاہ کرنے آیا ہوں کہ میں اپنی پری کو یہاں سے لے جا رہا ہوں۔ میں مزید اسے یہاں، اس قید خانے میں نہیں دیکھ سکتا۔ ارے قید خانے بھی اس سے اچھے ہوتے ہیں، وہاں بھی دو وقت کا کھانا اور پانی تو نصیب ہو جاتا ہے۔ میں ایک ماہ کے لیے ایمرجنسی میں فارن کیا چلا گیا، آپ کو اور آپ کے عملے کو لگا پری کا باپ مر گیا۔ نہیں ہر گز نہیں! وہ میری پری ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ میں نہیں جانتا اُس کو جنم دینے والے ماں باپ کون تھے اور کون بد نصیب اپنی اتنی پیاری بچی کو آپ جیسے قصائیوں کے ہاتھ دے گئے۔ ارے آپ ڈاکٹر نہیں ہیں، آپ پیسا بٹورنے والی مشینیں ہیں، جن کے منہ میں پیسا ٹھونستے رہو تو وہ ٹھیک سے کام کریں گی، ورنہ آپ کا وہ حشر کریں گی کہ آپ اپنا آپ بھول جائو گے۔” سبحان صاحب بے نقط اسے سنا رہے تھے۔
    ”ارے وہ تو معصوم ہے، ٹھیک سے کچھ بتا بھی نہیں سکتی کہ اسے کیا چاہیے؟ اُسے کچھ کھانا ہے یا پینا ہے۔ اور آپ انسانیت کے درجے سے اس قدر گر چکے ہیں کہ اُس کو کھانا تو کیا پانی تک نصیب نہیں ہوتا۔ بلکہ الٹا اُس کو نشہ آور ادویات دی جاتی ہیں تاکہ وہ نہ اٹھے اور نہ ہی آپ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے۔ اپنی آسانی کیلئے کسی معصوم کی جان کو خطرے میں کیسے ڈال سکتے ہیں آپ؟” یہ کہتے ہی اس نے میز پر بھاری ہاتھ مارا تو اس پر پڑی تمام چیزیں ایک بار چیخ اٹھیں۔ آج اُس نے اپنی ساری کی بھڑاس بنا کسی لگی لپٹی کے نکال دی۔ ڈاکٹر بڑے مطمئن انداز سے اپنی چئیر پر جھول رہا تھا۔ سُبحان کو لگا وہ بھینس کے آگے بین بجا رہا ہے، اس لئے وہ جانے کے لیے مڑگیا۔۔
    ”دیکھیے سُبحان صاحب! آپ انجلا کو نہیں لے کر جا سکتے۔ اس کا آپ سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہے۔” گلا کھنکارتے ہوئے جو الفاظ ڈاکٹر نے اُس کے کانوں میں منتقل کیے تھے انہوں نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ اُس کا دل چاہا ایک بار اس ڈاکٹر کا گریبان چاک کر دے اور اُسے اُس کی اوقات دکھا دے مگر وہ کوئی عام انسان نہیں تھا، سبحان احمد لغاری تھا جو چاہتا تو کھڑے کھڑے پورا ہسپتال اور اس جیسے کئی ڈاکٹرز خرید سکتا تھا مگر وہ ایسا نہیں تھا۔ وہ تو پیار بانٹنا جانتا تھا، نفرت نہیں۔۔
    ”خون کے رشتے اگر ایسے ہوتے ہیں جو اپنے معصوم جگر کے ٹکڑوں کو یوں آپ جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں تھما جاتے ہیں تاکہ آپ جو چاہے اُن کے ساتھ سلوک کریں اور مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تو میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے خونی رشتوں پر۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ میری بیٹی ہے، میری پری ہے اور میں اُسے مزید تکلیف میں تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔۔ سمجھے آپ ؟ میں لے جا رہا ہوں اُسے اپنے ساتھ۔ خدا حافظ!” وہ پھرتی سے ہسپتال سے باہر نکلا اور گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔۔
    ”پری بیٹا! آپ کا کمرہ دوتین دن میں تیار ہو جائے گا تب تک میرا بچہ میرے ساتھ اسی کمرے میں رہے گا۔ ٹھیک ہے نا؟” وہ اپنی پری کے تمام اشاروں کو سمجھتا تھا اس لئے مطمئن ہو گیا۔ وہ پری کے کمرے کے لیے بہترین ڈیکوریٹر کو ہائر کرنا چاہتا تھا اور اس نے اس کام میں دیر نہیں کی۔





    چار دن کی مسلسل محنت اور کوشش کے بعد سُبحان آج کافی مطمئن تھا۔ اُس نے آفس کا سارا کام اپنے مینیجر کو سونپ دیا تھا اور اپنی پری کا کمرہ اپنی زیرِ نگرانی تیار کروایا تھا۔۔ لیکن ابھی پری اُسی کے کمرے میں رہ رہی تھی کیوں کہ اُس کی صحت کافی خراب تھی۔ وہ بہت کم زور ہو گئی تھی۔ صرف ایک ماہ میں وہ سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی تھی ۔ کمرے سے فارغ ہوتے ہی سبحان نے شہر کے سب سے بہترین سائیکالوجسٹ سے رابطہ کرکے ٹائم لے لیا تھا۔
    وہ بہت خوش تھا۔ اُس کی پری اُس کے ساتھ تھی اور پری بھی پہلے کی نسبت اب قدرے مطمئن ہو گئی تھی۔ اب وہ توڑ پھوڑ اور چیختی چلاتی کم تھی اور صحیح اور بہتر دوا ملنے سے اب سُبحان کی پری اس سے کچھ کچھ ٹوٹی پھوٹی باتیں بھی کرنے لگی تھی جس کی سمجھ صرف اُسی کو آتی تھی۔ وہ سب بھول گیا تھا، آفس بھی اب کم کم ہی جاتا تھا۔ کوئی بہت ایمرجنسی ہوتی تو وہ پری کو آپا عفت کے حوالے کر کے جاتا جو اُس نے پری کے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے رکھی تھی۔ کھانا بنانے کیلئے باورچی تھا، مگر ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق پری کا کھانا آپا عفت بناتیں۔ پری کو نہلانا اور اُس کے دیگر معاملات آپا عفت دیکھتیں تھیں۔۔ دوائیں وغیرہ بہت احتیاط اور دھیان سے سُبحان خود پری کو دیتا تھا۔۔ صرف چھے ماہ کے عرصے میں پری پہلے کی نسبت بہت سنبھل گئی تھی۔ سبحان بہت خوش تھا۔ اب وہ کچھ کچھ بنا سہارے کے چلنے لگی تھی۔ لیکن کبھی کبھی پری پر وہی دورہ پڑنے لگتا، وہ چیختی چلاتی، چیزیں اٹھا اٹھا کر پٹختی اور کھانا تک نہ کھاتی۔ حتیٰ کہ کبھی کبھار وہ سُبحان کو بھی پیٹنے لگتی، جب وہ اُسے باز رکھنے کیلئے اپنے بازوئوں میں بھرتا اور وہ اپنا آپ چھوڑوانے کی کوشش کرتی تو ایسے میں بھی سُبحان سخت پریشان ہونے کے باوجود کبھی اُس سے سختی سے پیش نہیں آتا تھا بلکہ ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتا، بے تحاشا لاڈ پیار دیکھ کر پری بھی شانت ہو جاتی۔۔ پری کی صحت کی وجہ سے وہ اُس کو اپنے ہی کمرے میں رکھتا تھا اپنے ہی ساتھ سلاتا، اپنے ہی ساتھ کھلاتا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اُس کی خوشیوں کی مدت اتنی کم ہے۔۔
    ”گرفتار کر لیجیے انہیں انسپکٹر صاحب! انہی کے قبضے میں ہے میری بہن ۔۔ یہ کمینہ ہسپتال کے پورے عملے کے ساتھ بدتمیزی کر کے اور دھمکیاں دے کہ ورغلا کر میری بہن کو اپنے ساتھ لے آیا۔ وہ تو بہت چھوٹی ہے صرف۔۔آمم آ۔۔” سات یا ساڑھے سات سال کی ہو گی وہ۔۔ اسے کیا پتا یہ کون ہے۔ میری انجلا اسی کے پاس ہے انسپکٹر صاحب۔
    پولیس کے ساتھ ڈاکٹر سلیم جیلانی اور ایک ماڈرن سی لڑکی آج اُس کے گھر میں موجود تھی وہ ابھی ابھی پری کو ناشتہ کروا کر باہر نکلا ہی تھا کہ لائونج میں تمام لوگوں کو کھڑا دیکھ کر پہلے تو کچھ سمجھ ہی نہیں پایا مگر اُس عورت کے الفاظ سن کر اُسے سب سمجھ میں آ گیا۔۔۔
    ”محترمہ سب سے پہلی بات تو میں آپ کو جانتا نہیں ہوں اور اگر آپ پری کی بہن ہونے کا دعوی کر رہی ہیں تو آپ کو اتنا بتاتا چلوں کہ پری کی عمر سات یا ساڑھے سات سال نہیں بلکہ دس سال اور چار ماہ ہے اور دوسری بات میں ہسپتال کے عملے سے بدتمیزی کر کے ضرور آیا ہوں گا مگر دھمکیاں دینا میرا شیوہ نہیں۔۔۔” سبحان احمد قدرے تحمل سے بولے۔
    ”باقی رہ گئی اریسٹ کرنے کی بات تو کوئی ٹھوس وارنٹ لے کر آئیے، پھر آپ مجھے اریسٹ کیجیے گا۔ اب آپ جا سکتے ہیں میرا وقت بہت قیمتی ہے۔ شکریہ۔۔” وہ اپنی بات کہہ کر رکا نہیں بلکہ واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ وہ پری کو کھو دینے کے ڈر سے پریشان ضرور تھا اور کسی بات کی اسے پرواہ نہیں تھی۔
    اُس نے اپنے فون پر نمبر ملایا اور آہستگی سے سب کہتا گیا۔
    ”اور ہاں سنو! مجھے آج ہی اپ ڈیٹ کرنا ہے تم نے۔۔ اوکے اللہ حافظ۔۔”
    پھر پورا دن وہ سکون سے نہیں بیٹھا۔ کبھی ایک کال ملاتا تو کبھی دوسری۔۔۔۔ ایسے ہی شام ڈھل گئی اور اب رات بھی ۔۔ کتنی ہی بار کرم دین کھانے کا پوچھنے آیا مگر ہر بار اُس کا جواب یہی ہوتا بھوک نہیں ہے مجھے، آپا سے کہیں پری کو کھلا دیں اور دوا بھی دے دیں۔
    نماز تو پہلے بھی وہ کوئی نہیں چھوڑتا تھا مگر آج پری کو سلانے کے بعدسے وہ جائے نماز پر بیٹھا تھا اور اب وال کلاک اُسے تین بجنے کا اعلان سنا رہا تھا۔ وہ سجدے سے اٹھا تو اُس کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔۔ مدھم سی روشنی میں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ان چند گھنٹوں میں صدیوں کا سفر طے کرکے لوٹا ہو۔۔ ایک نظر مطمئن سی سوئی ہوئی پری کے چہرے پر ڈالی اور جائے نماز کو تہہ کرمیز پر رکھااور کمرے سے باہر نکل آیا۔




  • کچی کاگر — افشاں علی

    اس کے ننھے ننھے سے قدم اُس کچی ٹیڑھی میڑھی پگ ڈنڈی پر دوڑ رہے تھے جس کے ایک طرف نالہ بہتا تھا تو دوسری جانب کھیت تھے، جن میں گندم کی سنہری ڈالیاں سر اٹھائے اِستادہ تھیں۔
    کھیتوں میں آج کل سنہری ڈالیوں کے بیچ ہرے، نیلے اور سرخ آنچل بھی لہراتے بہار دکھلاتے گندم کی کٹائی میں اپنے شوہر یا باپ بھائی کا ہاتھ بٹاتے نظر آتے۔
    باغوں میں پھل لگنے لگے تھے، تو گندم کی فصل بھی پک کر تیار تھی۔
    کسان گندم کی ان سونے جیسی سنہری ڈالیوں کو بیل گاڑیوں میں لادے منڈیوں کی طرف نکلتے تو شام ڈھلے ہی گھر لوٹتے جہاں گھر کی عورتیں ہانڈی روٹی بنائے ان کی منتظر ہوتیں۔
    وہ بھی ایک عام سا ہی دن تھا۔ جب وہ معمول کی طرح اس کچی پگ ڈنڈی سے گذر کر گائوں کے اس حصے کی جانب چل دی جہاں کمہاروں کے خاندان آباد تھے۔
    یوں تو پورے گائوں میں کھیلنے کی بہت سی جگہیں تھیں۔ نیم کے درخت پر لگا جھولا، ندی کے ٹھنڈے پانی میں کبھی اوپر کو آتی مچھلیاں جنہیں بچے بڑے شوق سے جال ڈالے پکڑنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے۔
    جھاڑیوں کے ارد گرد آنکھ مچولی، کھیلتی لڑکیاں، خالی زمین پر لک لکھوٹی کھیلتی بچیاںتو، برگد کے گھنے درخت کے نیچے ٹاٹ بچھائے گھر گھر اور گڑیا گڈے سے کھیلتی لڑکیاں۔





    وہیں دوسری اور کُھلے میدان میں گلی ڈنڈا کھیلتے لڑکے، یعنی کھیلنے کو تو یہاں بہت سے کھیل تھے پر اس کے قدم ہمیشہ دین محمد چاچا کے گھر کی جانب ہی اُٹھتے جہاں کھیلنے کو تو کوئی کھیل نہ تھا ہاں مگر تا حدِ نظر مٹی ہی مٹی دِکھتی نظر آتی۔
    وہ ہی مٹی جس سے انسان کی بنیاد رکھی گئی جس سے اس کا ضمیر اُٹھا اور اسی مٹی سے کوزہ گر بڑی محنت سے نئی بنیاد رکھتے ایک نئے روپ، ایک نئے سانچے میں ڈھالتے۔
    دین محمد جدی پشتی کمہار تھا، اپنے آبائو اجداد کی روایات و پیشے کو برقرار رکھنے پر اسے فخر تھا۔ وہ بھی معمول کی طرح خاموشی سے دین محمد چاچا کے قریب رکھی چوکی پر آ بیٹھی۔
    ”آگئی تو…؟ آج تو میں مٹکا بنانے والا ہوں، شہر سے تیس مٹکوں کا وڈا آڈر آیا ہے…” اس کی آمد کو بغیر گردن مڑے بھی دین محمد نے محسوس کرلیا اور ساتھ ہی اسے مخاطب کیا،
    دین محمد چاچا کی بات سن کر اس کی آنکھیں چمکیں اور چہرے پر خوشی تجسس کے سب رنگ مترشح تھے۔ اس نے اپنی گول گول آنکھیں آس پاس گھمائیں۔
    ہمیشہ کی طرح دین محمد اپنے ازلی حلیے یعنی بنیان نمایاں کے نیچے دھوتی لپیٹے چوکی پر بیٹھا تھا۔
    اس کے بالکل سامنے پانی سے بھری بالٹی کم مٹکی تھی اور دوسری جانب چکنی مٹی کو گوندھ کر کچھ ڈھیلے بنے رکھے تھے۔
    دین محمد نے ان میں سے ایک ڈھیلا اٹھا کر چاک کے بیچوں بیچ رکھا اور ساتھ ہی پاس رکھی شیشم کی چوب دار لکڑی کو چاک میں موجود سوراخ میں پھنسا کر گھمانا شروع کردیا۔ چرچراہٹ کی مخصوص آواز کے ساتھ چاک کا چرخ گردش کرنے لگا اور جونہی چرخ نے رفتار پکڑی۔ دین محمد نے پانی سے بھری مٹکی میں اپنے دونوں ہاتھوں کو ڈبو کر گیلا کیا اور ساتھ ہی گردش کرتے چرخ پر رکھے مٹی کے ڈھیلے کو وہ ایک نئی شکل دینے لگا۔
    ایسا لگ رہا تھا جیسے پانی سے بھرے ٹب میں دونوں ہاتھوں سے کچھ گھنگھولا جارہا ہو۔
    اس کے ماہر ہاتھوں کی رواں حرکت اس بے شکل کے ڈھیلے کو پیچیدگی کے ساتھ ایک نئی شکل میں ڈھال رہے تھے، وقفے وقفے سے وہ اپنے ہاتھوں کو گیلا کرتا اور چرخ کی رفتار کم ہونے پر پھر سے لکڑی چاک میں پھنسا کر چرخ کا گھمائو تیز کردیتا۔
    دیکھتے ہی دیکھتے، چاک کی مسلسل گردش، دین محمد کے ماہر ہاتھوں کے مدو جزر اور گھمائو نے اس بے ڈھنگے مٹی کے ڈھیلے کو ایک نئے سانچے میں ڈھال لیا اور وہ بنا آنکھ جھپکے بڑے شوق و اشتیاق سے اس تیار مٹکے کو دیکھے جارہی تھی جسے اب دین محمد چاچا نے احتیاط سے پکڑ کر قدرے فاصلے پر سوکھنے کے لیے رکھ دیا اور ساتھ ہی نیا مٹکا تیار کرنے کے لیے دوسرا ڈھیلا اٹھالیا۔
    ”واہ… چاچا، تمہارے ہاتھوں میں تو جادو ہے اتنی دیر میں تو چاچی بشیراں تنور سے روٹیاں بھی نہیں نکالتیں، جتنی دیر میں تم نے مٹکا تیار کردیا…” اس کے لہجے میں حیرت تھی۔
    ”ارے! بٹیا، اس ماں جادو کی کے بات ہے کچی مٹی نے تو جیسی چاہو شکل میں ڈھال لیو، ڈھل جاوے ہے۔
    بالکل تم بچہ لوگاں کی طرح، تم چھوٹے بچہ لوگاں نوں بھی جو بھی سکھائو رٹو طوطا کی طرح رٹ لیو ہو یونہی یہ چکنی مٹی اور پانی کی فطرت ہووے ہے۔
    جیسے چاہو صورت میں ڈھال لیو۔ پر جے اگر یہ سوکھ جاوے اور اپنی کوئی شکل لے لیوے تو یہ پکی ہو کر مضبوط ہو جاوے ہے…!”
    ہاتھ جتنی مَشَّاقی سے چل رہے تھے اتنی ہی تیزی سے زبان بھی، جب کہ وہ آٹھ سالہ بچی کچھ سمجھنے اور ناسمجھنے کی کیفیت سے گزرتی نظریں جمائے چاک کی گردش اور دین محمد کے ہاتھوں کے گھمائو میں مگن تھی… ماحول میں گائے، بھینسوں کی جگالی اور چاک کی چرچراہٹ بھی شامل تھی۔
    ”اوئے چھوری…” تبھی سر پر چارے کا گٹھا لادے زینت اماں وہاں چلی آئیں۔
    ”تو تھلے (یہاں) بیٹھی ہے، وہاں تیری ماں تیرے نام کا رولا پا رہی ہے…”
    زینت اماں کی بات سُن کر وہ بے چینی کے ساتھ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی اور واپسی کے راستے پر چل دی۔
    وہی راستہ تھا، وہی قدم، پر فرق صرف اتنا تھا کہ آتے وقت ان قدموں میں جوش تھا، خوشی تھی مگر اب واپسی کے سمے مایوسی ان ننھے قدموں سے لپٹی اور اُداسی ان چمک دار آنکھوں میں نمایاں تھی۔
    یوں جیسے کسی سے اس کی کوئی پسندیدہ چیز چھین لی جائے۔ یوں جیسے کسی بچے کا پسندیدہ کھلونا ٹوٹ جائے۔
    بالکل اسی طرح گھومتے چرخ کی لٹو کے مانند گھومتی گردش کو دیکھنا اور دیکھتے رہنا اس کا من پسند کام اور کھیل بھی تھا۔
    ٭…٭…٭





    یہ بریک ٹائم تھا۔ اسٹاف روم میں کوئی خاص بات تو نہیں ہورہی تھی۔ بس یونہی سب ایک دوسرے سے اپنے اپنے مسائل ڈسکس کررہے تھے تو کچھ گوسپ اور اس وقت بچوں کی پرورش جیسا اہم موضوع زیربحث تھا۔
    کومل! آپ بہت لکی ہیں جو فی الحال بچوں کا جھنجھٹ ہی نہیں ورنہ نوکری پیشہ خواتین کو گھر اور باہر کی دنیا دونوں کو manage کرنا اور وہ بھی بچوں کے ہوتے ہوئے یہ بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے…
    ”نہیں، صاعقہ! آپ نہیں جانتیں دنیا میں لوگ ہمیں کسی بھی حال میں جینے نہیں دیتے۔ اس دفعہ تو حد ہی ہوگئی۔
    لاسٹ ویک اینڈ پر میری خالا ساس کے گھر دعوت تھی اور بھری دعوت میں میری خالہ ساس اور ساس صاحبہ نے مل کر میری سونی گود کی وجہ جاب کو مانتے ہوئے وہ طعنہ زنی کی کہ الآمان…
    بہ قول میری خالا ساس جن عورتوں کے پائوں گھر میں نہیں ٹکتے وہ کبھی بھی اپنے پیروں میں اولاد کی بیڑیاں نہیں پہنتیں…”
    اس نے اپنی خالہ ساس کے الفاظ ہو بہ ہو دہرائے۔ کومل کے لہجے میں اُداسی جھلک رہی تھی۔ کومل کی بات سُن کر تو کچھ پل کے لیے وہاں موجود تمام فی میل لیکچرارز کے درمیان خاموشی سی چھا گئی۔
    ”مس کومل! آپ اُداس مت ہوں، ناسمجھ اور ان پڑھ لوگوں سے ایسی ہی جاہلانہ باتوں کی امید کی جاسکتی ہے حالاں کہ اولاد کا اختیار ہمارے ہاتھ میں کہاں…؟”
    میم عنبر نے اس کی دل جوئی کی۔
    ”ویسے ہماری نیو لیکچرار بھی کافی لکی ہیں اس معاملے میں تو، ان کا ننھا سا اکلوتا بیٹا ان کی ساس و جیٹھانی جو سنبھالتی ہیں، اس لیے یہ تو کافی بے فکر ہیں کیوں نادیہ…؟”
    پروفیسر فرحت نے شرارت سے نادیہ بشیر کو چھیڑا جس کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
    ”جی بالکل یہ بات تو آپ نے ٹھیک کہی، ساس کے ہوتے مجھے بڑی آس…”نادیہ بشیر کی بات پر سبھی ہنس دیئے۔
    ”ارے مسز انیس آپ کیوں خاموش ہیں؟ آپ بھی کچھ بولئے، آخر کو آپ بھی بچوں والی ہیں… پروفیسر فرحت کی بات پر لیکچرار رطابہ کا تیزی سے چلتا پین رک گیا۔
    وہ بہ یک وقت اسائنمنٹ بھی چیک کررہی تھی اور ان سب کی باتیں بھی سن رہی تھی۔ اس نے اسائنمنٹ فائلز سائیڈ میں کی۔
    ”میں بہ یک وقت لکی بھی ہوں اور un luckyبھی…”
    ”ایسا کیوں…؟ آپ کے گھر پر تو صبح سے شام تک میڈ ہوتی ہے۔…”
    مس کومل بھی اپنا غم بھول کر سب کی باتوں میں شریک ہوگئیں۔
    ”کہیں ایسا تو نہیں کہ میڈ بچوں پر توجہ نہیں دیتی…؟” صاعقہ نے تبصرہ کیا۔
    ”ہیں؟ میم رطابہ، کیا واقعی یہ سچ ہے…؟ پھر تو ایسی میڈ کو آپ چلتا کریں ویسے بھی آج کل کی میڈ تو ہوتی ہی ایسی ہیں…”
    گوسپ کرتی لیب اسسٹنٹ سائرہ نے بھی ان کی باتوں میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا جب کہ رطابہ اِن کے فضول تبصروں سے تنگ آگئی۔
    ”افوہ! حد ہوگئی پہلے پوری بات تو سن لیا کرو سائرہ، یونہی شروع ہو جاتی ہو اندازے لگانا۔”
    ارے، میں نے کب کہا کہ میڈ بچوں کو نہیں سنبھالتی، میں تو کچھ اور کہنا چاہ رہی تھی…”
    ”کیا؟”
    سبھی کے چہرے پر تقریباً ایک ہی سوال تھا۔
    ”مانا کہ میری میڈ دوپہر سے شام تک بچوں کے پاس ہوتی ہے پر کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ وہ بچوں کو میڈ بن کر سنبھالتی ہے۔
    ماں بن کر تو نہیں نا…” رطابہ سنجیدہ تھی پر اس کی بات کو سبھی نے شاید غیر سنجیدگی سے لیا تھا۔
    ”چھوڑیں بھی ا تنی قنوطیت بھری باتیں، آج ہم جس مقام پر ہیں، وہاں تک آنے کے لیے کتنے تو پاپڑ بیلے ہیں۔
    یہ چھوٹی موٹی قربانیاں اور سہی، بس کچھ وقت کی ہی تو بات ہے مس رطابہ…” اردو لیکچرار عانیہ میمن نے رطابہ کو تسلی دی۔
    ”اور نہیں تو کیا، آج کل کی جنریشن تو ویسے بھی بہت جینیئس ہے، کوئی پرانے زمانے جیسی تو نہیں کہ ماں کے پلو سے بندھے رہیں…”
    لیکچرار صالحہ کی بات پر سبھی رضامند نظر آرہی تھیں۔
    ”بالکل صحیح کہا، اب میری ہی مثال لیجئے، میں نے جب جاب اسٹارٹ کی تھی تب میرے بچے بہت چھوٹے تھے، پر وقت نے نا صرف بچوں کی پرورش بھی کردی بلکہ مجھے بھی ہمت دی حالاں کہ میرے شوہر تو میری جاب کے خلاف تھے…”
    پروفیسر فرحت جو ناصرف عمر بلکہ تجربے کے لحاظ سے بھی سینئر تھیں انہوں نے اپنی سرگزشت سنائی۔
    ”عدنان نے تو ہمیشہ میری حمایت کی ہے چاہئیں جاب کا معاملہ ہو یا پھر سسرال کے طرف سے ملنے والے طعنے…”
    کومل کے چہرے پر نئی نویلی دلہن جیسی لجاجت پھیلی ہوئی تھی جسے سبھی نے بہ طور خاص نوٹ کرکے ایک ساتھ باقاعدہ چھیڑا تھا جب کہ کومل کو دیکھ کر رطابہ نے سوچا۔
    ”واقعی سہاگن وہی جو پیامن بھائے…”




  • ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

    ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

    ادھیڑ عمراجوکے لئے ستار ہوٹل اندھیرے میں جلتا ایک ایسا دیا تھا جس کی پھوٹتی روشنی میں وہ اپنے جینے کے راستے تلاش کیا کرتا تھا۔
    دن بھر رکشہ ریڑھی کھینچنے کے بعد شام کو اپنی سانسوں کی اجرت گننے وہ بلاناغہ ہوٹل پر پہنچ جاتا۔
    سانولی رنگت اور درمیانے قد کا دبلاپتلا اجو اپنی بذلہ سنجی اور دل چسپ حرکتوں کی وجہ سے ہوٹل کے مردہ ماحول میںسانسیں بانٹ کر اسے متحرک کر دیتا۔
    وہ اپنے سر کے گرد ہمیشہ نیلاچیک دار مفلر لپیٹے رکھتا جس میں کبھی کبھارسرخ گلاب بھی اُڑسا نظر آجاتا۔
    اپنی سانسوں میں چرس کی ملاوٹ کرنے والے اجو کے منہ سے ایسی پھلجھڑیاں پھوٹتیں کہ ہر بندہ بشر ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جاتا۔
    لوگ اس کے مخصوص مزاحیہ انداز میں اس سے فلموں کے ڈائیلاگ اور گھٹی گھٹی آواز میں گانے سُنتے، حکومت اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے کبھی خلاف اورکبھی حق میں نعرے لگواتے۔
    وہ ایکٹنگ میں خاصا ماہر واقع ہوا تھا۔ جب کبھی وہ مختلف فلمی اداکاروں کی نقل اتارتا تو ہر طرف قہقہوں کی بوچھار ہوجاتی اور اکثر اپنے منہ سے ساز بجا کر اپنے بے سروپا ناچ سے لوگوں کو دل چسپ تفریح مہیا کرتا۔
    معاوضہ کے طور پر چائے کے ساتھ ساتھ اسے تھوڑی بہت نقدی بھی مل جایا کرتی، جس سے اس کے نشے پانی کاسامان ہو جاتا۔ اجّو صحیح معنوں میں ستارہوٹل کی دھڑکن تھا۔
    شام کا اندھیرا پھیلتے ہی ستار ہوٹل جاگ اُٹھتا اور لوگ دنیا کے بکھیڑوں سے فرار ہو کر وہاں پناہ لینے آ جاتے ۔ جہاں وہ گھنٹوں باتوں اور موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے رہتے۔





    فضا میں گرم چائے سے اُڑتی بھاپ اور سگریٹ کے تیرتے مرغولوں کے ساتھ ساتھ ہر طرف تمباکو کی سڑاند بھی رچی بسی ہوتی۔
    ہوٹل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اب وہ ایک دکان سے پھیل کر دونوں اطراف کی چار پانچ دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ غرض ستار ہوٹل ماں کی طرح تھا، جو دن بھر کے تھکے ماندے افراد کو اپنے پہلو میں بٹھا کر ان کی تھکن اپنے اندر اتار لیتا۔
    مگر حقیقت یہ تھی کہ اس جاگتے ماحول کو دھڑکنیں اجّو ہی عطا کرتا ۔وہ اپنی انوکھی گپ شپ اور منفرد حرکتوں کی بدولت ہر خاص و عام میں اتنا مقبول ہو چکا تھا کہ لوگ اسے شغل مستی کے لئے شادی بیاہ کی محفلوں میں بھی بڑے اہتمام سے بلایا کرتے ،جہاں اجو کے دلچسپ چٹکلوں اور حرکتوں سے محفلیں رنگین ہوجاتی تھیں۔
    اجو کی سب کے ساتھ اچھی خاصی واقفیت ہو گئی تھی اور وہ ہر کسی کے بارے میں تھوڑا بہت ضرور جانتا تھا مگر خود اس کے بارے میں کسی کو بھی صحیح طور سے معلوم نہ تھا کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اس کی ذات، اس کا مذہب اور اس کی پہچان کیا ہے؟ جب کبھی اجّوسے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ ایک دم سنجیدہ ہو کر آنکھیں اوپر کو چڑھالیتا، ماتھے پر بل لے آتا اور گردن ٹیڑھی کر کے اپنے مخصوص انداز میں کہتا: ”اوئے بیوقوفا! تجھے اتنا بھی نہیں معلوم کہ اجّو کہاں سے آیا ہے؟ اللہ سے پوچھ، وہ تجھے بتائے گا کہ اجّو جنت سے آیا ہے۔”
    یہ بات کر کے اجّو خو د ہی ایک بُلند قہقہہ لگاتااور لوگوں کے ہونٹو ںپر ہنسی کی بے شمار تتلیاں رقص کرنے لگتیں۔ اس کی ایسی ہی بے ربط باتوں کی وجہ سے کچھ لوگ اسے نیم پاگل تصور کرتے تھے۔ مگر اکثر وہ بڑی منطقی باتیں کر کے سب کو حیران کر دیا کرتا۔
    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار کسی نے مذاق میں اسے پاگل کہہ دیا تھا۔ اجّو کے دل میں یہ بات کسی تیر کی طرح ایسی جا گڑی کہ وہ اس آدمی کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اورایک جھٹکے سے اس کی جیب سے پین نکال کر اپنی ہتھیلی پر ایک ٹیڑھی میڑھی سی شکل بنائی۔
    ”یہ کیا ہے؟” اجّو نے ہتھیلی اس آدمی کے سامنے کرتے ہوئے بہت جذباتی انداز میں پوچھا۔غصّے کی شدت سے اس کے ہونٹوں سے جھاگ نکل آیا تھا۔
    ”آدمی ہے۔” اس شخص نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”مانتے ہو نا کہ یہ آدمی ہے؟” اجّونے اس پر نظریں جماتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔
    ” ہاں مانتا ہوں۔”وہ آدمی بہ دستور مسکراتے ہوئے بولا ۔
    ”اوئے بیوقوفا! جوانسان آدمی کی شکل بنا لے، وہ پاگل کیسے ہو سکتا ہے؟”





    اجّونے طنزیہ کہا اورایک بُلند آواز سا قہقہہ لگا دیا۔وہ آدمی بھی کھسیانا ہو کر ہنسنے لگا۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ آس پاس کے لوگ بھی اس کی بے ساختگی اور سادگی پر کھلکھلا اُٹھے۔
    کبھی کبھی وہ ہوٹل پر کام کرنے والے لڑکوں کا ہاتھ بھی بٹا دیتا اور اکثر لوگوں کی میز وں پر چائے اور پانی کا جگ بھی پہنچادیا کرتا۔ اپنی ان ہی با توں کی وجہ سے اجّو لوگوں کے دلوں پر راج کرتا تھا۔
    مجھے اُس سے اتنا اُنس ہو گیا تھا کہ اسے دیکھنے میں ہوٹل پر ضرور حاضری دیتا۔
    ان ہی دنوں میرے ایک دوست کے بیٹے کی شادی طے پا گئی۔ سب دوستوں کی شدید خواہش تھی کہ شادی میں اجو کو ضرور بلایا جائے اور جب میں نے اسے دعوت دی تو وہ ہنستے ہوئے بولا:
    ”بابو صیب…یہ تو اچھا ہوا کہ آپ نے مجھے بلا لیا اگر آپ نہ بلاتے تو میں یہ شادی ہی رکوا دیتا۔”
    میں اس کی بات سُن کر ہنس پڑا۔ وہ مجھے ہمیشہ بابو صیب ہی کہا کرتا۔ شادی شروع ہوتے ہی اجو ہوٹل سے سیدھا میرے دوست کے ہاں آ جاتا ، جہاں سب لوگ اس کے شدت سے منتظر ہوتے۔
    وہ ہمیشہ قہقہوں کا طوفان اپنے ساتھ لے کر آتا ۔پوری پوری رات شغل مستی میں گزرجاتی۔ مختلف گانوں اورڈھول کی تھاپ پر اجومزے مزے کے ڈانس کرتا، مزاحیہ گانے سناتا، چائے کے دور چلتے، لطیفہ گوئی ہوتی ، پھبتیاں کسی جاتیں ۔ غرض وہ خوب ہلڑ مچائے رکھتا۔ بچے، بوڑھے، جوان سب کے اندر اجو زندگی بھر دیتا۔
    مہندی کی رسم جاری تھی اور اجو ڈھول کی تھاپ پرتھرک رہا تھا، دوسرے لڑکے بالے بھی اس کا پورا پورا ساتھ نبھا رہے تھے بلکہ ایک مقابلے کا ماحول بن گیا تھا۔
    جوں جوں ڈھول کی تھاپ میں شدت آتی جا رہی تھی، اجو کے ڈانس میں بھی تیزی آتی جارہی تھی۔
    تمام لوگ گھیرا ڈالے مسکراتے ہوئے اس کے ڈانس کو دیکھ رہے تھے ، جو پسینے میں ڈوبا نئے نئے انداز میں ٹھمکے لگا رہا تھا کہ اس دوران کسی نے پٹاخے پھوڑدیے۔
    پتا نہیں کیسے داخلی دروازے پر لٹکتے سجاوٹ کے رنگ برنگے بھڑکیلے پردوں پر اچانک چنگاریاں جا پڑیں۔ پلک جھپکتے میں آگ بھڑک اٹھی اور پردے دھڑ دھڑ جلنے لگے۔
    ”آگ لگ گئی ….آگ لگ گئی….” کا واویلا مچ گیا اورچیخ و پکار شروع ہو گئی۔ڈھول بجنا بند ہو گئے اور تھرکتے جسم یک لخت ساکت ہو گئے۔
    آگ… آگ… کی آوازوں نے ماحول میں سراسیمگی بھر دی اور چہروں پر پریشانی کی آگ جل اٹھی۔
    جلتے پردوں اور آگ کی بڑی بڑی لپٹیں دیکھ کراچانک اجو کی حالت غیر ہو گئی اور وہ تھر تھر کانپنے لگا۔
    ”آگ بجھائو….جلدی کرو یار….خدا کے لئے جلدی سے اس آگ کو بجھائو…”





    وہ زور زور سے چلانے لگا ۔ میں اجو کی بوکھلائی ہوئی حالت پر ششدر رہ گیا۔
    شکر ہے کہ کسی نقصان کے بغیرجلد ہی آگ پر قابو پا لیا گیامگر اجو ایک دم سے بجھ گیا اور ساری مستیاں اس کے اندر یوں سو گئیں جیسے آگ پردوں کو نہیں، اس کے اندر کہیں لگی ہو۔
    ہنگاموں سے فارغ ہونے کے بعد جب وہ رات گئے سونے کے لئے لیٹا تو اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔میری نظریں اسی پر ہی لگی تھیں۔
    وہ کافی دیر تک جاگتا اور بار بار کروٹیں بدلتا رہا۔اسے جب نیند نہ آئی تو وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔ اس کی بے چینی نے مجھے بھی بے چین کر دیا اور تھوڑی دیر بعد میں بھی اٹھ کر اس کے پیچھے چلا گیا۔وہ ایک بند دکان کے تھڑے پر سر جھکائے چپ چاپ بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اور چرس کی بُو دوردور تک پھیلی ہوئی تھی۔
    ”کیا بات ہے اجو! کوئی مسئلہ ہے کیا؟” میں نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔ وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا۔
    ”بابو صیب… کیا آپ کو پتا ہے کہ یہ آگ انسان سے کتنی نفرت کرتی ہے ۔”
    وہ سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے بولا مگر میرے جواب دینے سے پہلے وہ دوبارہ گویا ہوا:
    ”بابو صیب…جلتی ہوئی چیزوں میں دراصل انسان کی خوشیاں جل رہی ہوتی ہیںاور بکھری ہوئی راکھ، راکھ نہیں انسان کی خوشیاں ہوتی ہیں۔”
    میں اس کے منہ سے اتنی گہری اور سنجیدہ باتیں سُن کر حیران رہ گیا۔
    ”یہ کیسی باتیں کر رہے ہو اجو؟” میں نے اس کے اداس چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”بابو صیب…آپ نے آگ میں صرف چیزیں جلتی دیکھی ہوں گی مگر میں نے خواہشوں کو زندہ جلتے دیکھا ہے۔
    لوگوں نے آج تک روح نہیں دیکھی ہو گی مگر میں نے روح کو جھلستے دیکھا ہے۔” اس نے دکھی لہجے میں کہااور سگریٹ کا ایک لمبا کش لینے کے بعد اسے تھڑے پر مسل کر دور پھینک دیا۔