Tag: افسانہ

  • حوّا کی بیٹی — سارہ عمر

    ”بس یہیں روک دیں۔” وہ ڈرائیور کے پیچھے سے بولی تھی۔ پرس سنبھالتی وہ اپنے اسٹاپ پر اتر گئی۔
    ایک لمحے کے لیے نظر سڑک کے پار اُٹھی اور پلٹ کر واپس آنا بھول گئی۔
    ”یہ تو…” وہ زیر لب بَڑبَڑائی۔
    ”یہ یہاں کیسے؟یہ تو گوجرانوالہ ہے …” اس نے اپنی چادر کا پلو کھینچ کر منہ کے آگے کیا۔ سوائے ایک آنکھ کے اس کا سارا چہرا چادر میں چھپ گیا تھا۔
    ”یااللہ! بس گھر کا راستہ نظر آجائے جلدی سے۔” اس نے گھر کی طرف دوڑ لگا دی تھی جیسے کوئی بھوت نظر آگیا ہو۔
    گھر پہنچتے پہنچتے سارا جسم پسینے میں بھیگ چکا تھااور سانس بری طرح اُکھڑ رہی تھی۔
    ”آ گئی نگہت؟ جلدی سے روٹی ڈال دے۔ بچے بھی بھوکے ہیں۔” اسے ہاتھ دھوتا دیکھ کر ساس نے کہا تو وہ کچن میں چلی آئی۔
    اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور ہونٹ خشک تھے،اس سے روٹیاں ٹیڑھی پک رہی تھیں۔ کچھ کچی اور کچھ جل رہی تھیں۔ چولہے کے آگے پسینہ تو آتا ہی ہے مگر اس کو ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔
    ”اگر وہ واقعی ولید ہوا اور اس نے مجھے پہچان لیا تو کیا ہوگا؟ میں تو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی۔”
    ٭…٭…٭




    سمندر کی لہریں بار بار اس کے پاؤں کو چھو کر جارہی تھیں۔ جب ریت پاؤں کے نیچے سے نکلتی تو ندا کھلکھلا کر ہنس پڑتی اور فرقان اسے دیکھ کر ہنس پڑتا۔
    ”ایسے پاگل ہورہی ہو جیسے پہلی بار پانی دیکھا ہے۔” اس نے ندا کا ہاتھ تھاما اور ساحل پر چلنے لگا۔
    ”ایسی بات نہیں! ہر مہینے آتے تھے ہم سمندر پہ، بس شادی کے بعد پہلی بار آئی ہوں۔”
    وہ مُسکرا کر روٹھے انداز سے بال سلجھانے لگی جو ہوا سے اڑے جارہے تھے۔
    ”تبھی اتنا مزہ آرہا ہے؟” اس نے شوخی سے کہا تو وہ پھر ہنس دی۔
    ”سچی اسی لیے اتنا مزہ آرہا ہے۔” اس نے ہاں میں ہاں ملائی تو وہ اس کا ہاتھ گرم جوشی سے دباتا مُسکرا دیا۔
    ندا نے فرقان کے کندھے پر سر رکھا اور آنکھیں بند کردیں۔
    ”کاش یہ پل اسی طرح رہیں اور فرقان ایسے ہی مجھے پیار کرتے رہیں۔” وہ دل ہی دل میں مُسکرا دی۔
    ٭…٭…٭
    ”راجو ایک اور پلیٹ لا۔” شبیر نے راجو کو آرڈر کیا اور آج کا اخبار نکال کر صفحے پلٹنے لگا۔
    ”لو یہ دیکھو۔” اسلم نے پانی کا گلاس رکھ کر اسے دیکھا۔
    ”ڈیرہ غازی خان: چار بچوں کی ماں نے زہر کھا کر خودکشی کرلی۔ وجۂ تنازع معلوم نہ ہوسکی۔” وہ خبر پڑھ کر سنا رہا تھا۔
    ”یہ اتنے چھوٹے چھوٹے شہر کی عورتیں اتنا بڑا کام کیسے کرلیتی ہیں۔ چار بچوں کا بھی خیال نہ آیا حد ہوگئی۔” اسلم بری طرح نالاں ہوا۔
    ”بھلا چار بچوں کے ساتھ ایسا کیا مسئلہ کھڑا ہوگیا جو خودکشی جیسا حرام کام کر بیٹھی؟” شبیر نے بھی لقمہ دیا۔
    ”صاحب یہ تیسری پلیٹ ہے۔” راجو نے چھولوں کی پلیٹ رکھی تھی۔
    ”ہاں ہاں آئے ہیں تو صحیح سے کھا کر جائیں گے۔ برنس روڈ کے چھولے۔ ایویں تو مشہور نہیں کیا ذائقہ ہے بھئی۔”
    شبیر پھر سے کھانے میں جت گیا تھا۔ اسلم بھی ساتھ دینے کو موجود تھا۔
    ”کیا بنا تیری والی کا؟” شبیر نے پاس آکر آنکھ مار کے سرگوشی کی۔
    ”کہتی ہے مل نہیں سکتی۔ بس فون پہ بات کرو۔ بھائی ناراض ہو جائے گا۔” اسلم نے فکر مندی سے کہا۔
    ”چل تو لگا رہ کبھی تو آئے گا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔” وہ پانی کا گھونٹ بھر کر بولا۔
    ”سیما کو دوبارہ اس ایزی لوڈ والے نے تنگ تو نہیں کیا۔” شبیر کی بات پہ اسلم کی تیوریاں غصے سے چڑھ گئی تھیں۔
    ”آنکھ تو اٹھا کر دیکھے میری بہن کی طرف ہاتھ پاؤں توڑ کے چیل کوؤں کو ڈال دوں گا۔” وہ بھنا کر بولا۔
    ”ہاں ٹھیک ہے کھانا کھا کچھ بھی مدد چاہیے ہو یار کی تو بتانا۔”شبیر نے ٹھنڈا کیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”اُف اسے بھی ابھی خراب ہونا تھا۔” گاڑی چلتے چلتے گرم ہوگئی تھی اور اب رک گئی۔ نئی نئی گاڑی چلانی سیکھی تھی نیلم نے۔کتنا منع کیا تھا ماما بابا نے اکیلے مت نکلنا مگر نیلم بھی ضد کی پکی تھی۔
    ”اب کیا کروں؟” وہ پریشان ہوئی۔ بونٹ کھول کر ساتھ خود کھڑی ہوگئی۔
    پہلا بائیک والا ہی اسے دیکھ کر رک گیا۔
    پینٹ شرٹ پہ گلاسز لگائے۔ وہ فوراً اس کی طرف آیا۔
    ”کیا ہوگیا آپ کی گاڑی کو؟”
    ”پتا نہیں مجھے سمجھ نہیں آرہی۔”
    ”جی میں دیکھتا ہوں۔”
    سمجھ تو اسے بھی نہیں آنی تھی مگر تھوڑا ہاتھ مار کر ایکٹنگ کرنے میں کیا حرج تھا۔
    نیا شکار پھنسنے والا تھا۔
    نیلم بار بار کئی بار پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”بابا کو فون کرے گی تو ڈانٹ ہی پڑے گی۔” وہ خود سے سوچنے لگی۔
    ”موبائل ہے آپ کے پاس میں گھر بھول آیا ہوں یہاں میرے دوست کی ورک شاپ ہے وہ بندہ بھیج دے گا۔”
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں اور انہی دو آنکھوں نے اسے دوبارہ اندھا کردینا تھا۔
    اس نے فوراً غائب دماغی سے موبائل پکڑایا۔
    ”بس ابھی آجاتا ہے۔”
    دس منٹ بعد ہی بندہ آگیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی سٹارٹ ہوگئی۔ قصہ ختم، مگر نہیں ابھی تو قصہ شروع ہوا تھا۔
    اگلے کئی دنوں میں نیلم کے موبائل پہ نامعلوم نمبر سے میسج آئے اور پھر اس محسن کا پتا لگا تو شناسائی دوستی اور دوستی محبت میں بدل گئی تھی اور یہ محبت جو دل لگی تھی دل کی لگی بننے والی تھی۔
    ٭…٭…٭




    ”نگہت یہ پہن کر دکھاؤ۔” اس نے کانچ کی نازک سی چوڑیاں اس کے ہاتھ پر رکھ دیں۔ نگہت کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ جگمگ جگمگ کرتی چوڑیاں اس نے اپنے نازک ہاتھوں میں پہن لیں۔
    کانچ سے دل والی لڑکیوں کو کانچ کی چوڑیاں پہنتے تو کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جب وہ ٹوٹتی ہیں تو اس کے زخم ایک عرصے درد کرتے ہیں۔
    ”ولید بہت خوب صورت ہیں۔”
    ”تم سے زیادہ نہیں۔” وہ مُسکرایا۔
    ”کب بھیجو گے میرے گھر رشتہ؟” پھر وہی سوال لبوں پر مچل گیا۔
    ”پہلے کچھ بن تو جاؤں، کنگلے کو رشتہ کون دے گا۔” وہ اُداسی سے بولا۔
    ”تم بھیجو تو۔”
    ”گھر بھی تو گوجرانوالہ میں ہے تمہارا۔ پڑھائی ختم کرکے گھر جاؤ۔ امی کی بھی طبیعت بہتر ہوگی تو سفر کریں گی ناں۔” وہ پیروں میں پانی نہیں پڑنے دیتا تھا۔
    وہ چوڑیوں سے کھیلنے لگی۔
    ”گھر والوں کو کیا کہو گی؟ چوڑیاں کس نے دیں؟”
    ”کہہ دوں گی دوست نے۔” وہ جواب دیتے ہنس پڑی تو وہ بھی ہنس پڑا۔
    ان لڑکیوں کو بہلانا کتنا آسان ہے ناں۔” سو پچاس کا گفٹ دے کر سو سال ان کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔
    ٭…٭…٭
    ندا کیا کررہی ہو؟” فرقان کی آواز پہ وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔ ہاتھ میں پکڑا موبائل فرقان نے جھپٹ لیا تھا۔
    ”کیا دیکھ رہی تھی۔ موبائل چیک کررہی ہو؟”
    ”کال لوگ کیوں کھلی ہوئی ہے؟” وہ بری طرح دھاڑا تھا۔
    ”میں تو…” اس کی دھاڑ نے اس کے ہواس معطل کردیئے تھے۔
    ”مجھ پر شک کررہی ہو، اپنے شوہر پر ؟”وہ سخت ناراض تھا۔
    ”فرقان یقین کریں کال آرہی تھی میں نے۔”
    ”ضرورت کیا ہے تمہیں کال دیکھنے یا اٹھانے کی۔ میں تمہارا موبائل چیک کرتا ہوں۔ آئندہ اس کو ہاتھ مت لگانا سنا تم نے۔” وہ ڈر گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”ثوبیہ بہت بہت مبارک ہو۔” تانیہ نے بھی مبارک باد دی تھی۔
    وہ بھی سب کو اترا اترا کر اپنی منگنی کی انگوٹھی دکھا رہی تھی۔
    ”کون ہے کیا کرتا ہے وہ؟” سب فرداً فرداً پوچھ رہی تھیں۔
    ”اور تمہارے پرانے عاشق کا کیا ہوا ثوبیہ جو جینے مرنے کی قسمیں کھا رہا تھا۔”
    سمعینہ نے سب کے سامنے اس سے پوچھا تو اسے لگا بیچ چوراہے میں اس کا راز کھل گیا۔ حالاں کہ یہ راز تھا ہی کب۔ ہر روز کا قصہ تھا ڈیپارٹمنٹ والوں کے لیے۔
    سینئر کے ذوالفقار کے ساتھ ثوبیہ کا افیئر زد عام تھا مگر دونوں کے گھر والوں کو کچھ معلوم نہ تھا کہ یونیورسٹی میں کیا ہورہا ہے۔
    ذوالفقار گیا تو بات بھی دب گئی۔ سب کے سامنے یہ بھانڈا پھوٹے گا۔ اسے امید نہ تھی۔
    ”بھلا اس کنگلے ذوالفقار کے پاس سوائے ڈگری کے تھا ہی کیا؟ اچھے وقت پہ جان چھوٹ گئی تھی۔ ”ابو نے اپنے کزن کے بیٹے سے منگنی کیا کی کہ اب ثوبیہ ہواؤں میں تھی۔
    ”یار چھوڑ۔” تانیہ نے ثوبیہ کا منہ دیکھ کر کہا جہاں ایک رنگ آرہا تھا ایک جارہا تھا۔
    چھوڑ تو ثوبیہ نے اسے دیا تھا مگر اب ذوالفقار نے اسے نہیں چھوڑنا تھا یہ اسے نہیں پتا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”نگہت تم اتنی ڈری ڈری کیوں رہتی ہو؟” تیمور سے اب نہ رہا گیا۔ نگہت کا یہ حال دیکھ کر انہیں کچھ عجیب لگا۔
    شادی کے بعد اتنے سالوں میں کبھی وہ اتنی بدحواس نہ ہوئی۔ اب تو وہ باہر جانے سے ڈرتی، فون کی گھنٹی سے ڈرتی، دروازہ بجنے سے ڈرتی۔
    اس کی دماغی حالت کافی سنجیدہ ہوگئی تھی۔
    ”مجھے کسی ڈاکٹر سے ہی بات کرنی پڑے گی۔”
    وہ اسے سائیکاٹرسٹ کو دکھانا چاہ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • بارش کب ہوگی — مریم جہانگیر

    بارش کب ہوگی — مریم جہانگیر

    بارش کب ہو گی؟ ” عمیر نے زبیر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
    "اگر میں ہوا کی رتھ پہ سوار ہو سکتا تو اس پہ بیٹھ کر دور آسمانوں میں چلا جاتا اور آسمان پہ بکھرے ہوئے بادلوں سے پوچھتا کیوں اے میرے بادلو! تم ہم سے کیوں روٹھ گئے ہو؟ اب ہمارے گاؤں پہ آکر کیوں نہیں برستے ؟ کڑکتی ہوئی بجلی ساتھ لاتے ہو لیکن شور مچا کر کہیں دور غائب ہو جاتے ہو۔ ہمارے نصیب میں تو شور ہی رہ گیا ہے۔بارشیں تو تم جانے کس کو دان کر چکے ہو۔ لیکن تم جانتے ہو مجھے ہوا کی رتھ پہ سوار ہونا بھی نہیں آتا "زبیر نے حسرت سے آسمان پہ نظر ٹکا کر جوا ب دیا۔
    "بھیا آپ سے بات پوچھنا ایسا ہے جیسے کسی بے سرے قوال کو چھیڑ دیا جائے۔ویسے بھی یہاں ہوا ہے ہی کہاں جس کی رتھ پہ آپ سوار ہو سکیں۔ "عمیر نے جواباً اپنے سے پانچ سال بڑے بھائی کو اس کی لن ترانیوں پہ ٹوکا۔
    "تو نہ پوچھا کرو مجھ سے۔ میں تو نہیں کہتا کہ مجھ سے پوچھو۔” زبیر نے صاف دامن بچایا۔




    "مجھے لگتا ہے ماں کی آنکھیں بھی بنجر ہوگئی ہیں۔ ان سے بھی بارش نہیں ہوتی۔ بھیا تمہیں پتا ہے ماں سے کون سا بادل روٹھا ہے؟ "عمیر اپنے فطری تجسّس پہ قابو نہ پا سکا۔
    "ہزار سوال کرو لاکھ جواب دوں گا۔ مجھ سے کچھ اور پوچھ لو یہ نہ پوچھو۔” زبیر کو اب کی بار واقعی دامن بچانا تھا۔
    وہ دونوں گھر کی کچی دیوار پہ بیٹھے تھے۔شام کے سائے آہستہ آہستہ گہرے ہونے لگے ۔دور آسمان کے آخری کونے پہ سورج اپنی الوداعی روشنی کو بہ مشکل سمیٹے دوسرے دیس کوچ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ان کم عمر سے لڑکوں کا روپ یوں کملایا ہوا تھا، جیسے ان کے جسم پہ درختوں کی چھال جیسی کوئی چیز چپک گئی ہو اور کلہاڑی جیسی کسی سختی کی منتظر ہو کہ آئے اور چیر دے۔ ان کی آنکھوں سے ویرانی یوں ٹپک رہی تھی جیسے شکست خوردہ قدیم کھنڈر کی دیواریں چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا ثبوت اپنی دراڑوں سے دیتی ہیں۔ان کی گھنی پلکوں پہ گرد کی اتنی دبیز تہ تھی کہ اس ڈر سے پلک جھپکانے سے گریز کرنے کو جی چاہتا کہ کہیں یہ واحد متاع بھی ہوا کی پرواز کے ساتھ بکھر نہ جائے۔ ان کی آواز پیاس سے لڑکھڑائی ہوئی اور ہونٹ پپڑی زدہ تھے۔ ان کی آوازیں سن کر یوں لگتا کہ کہیں ٹین کے کنستر بج رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان کی نو خیز زندگیاں اس بنجر پن سے شکست کھانے کے حق میں نہیں تھیں۔
    وہ دیوار پہ ٹکے ہوئے اپنی باتوں کی پٹاری سے کچھ نہ کچھ بانٹ رہے تھے۔زندہ رہنے کو بانٹنا کتنا ضروری ہے….. ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
    لبوں پہ پیاس پھڑپھڑا رہی تھی لیکن لفظ پر جَھٹک کر ہوا میں پرواز کرتے رہے اور پیاس وہیں پھڑپھڑاتی رہی۔
    روشنی نے اپنی چادر سمیٹی تو دور سے ایک ہیولا ڈگمگاتا ہوا چلتا آیا۔
    زبیر فورا آگے بڑھا: "ماں کتنا پانی لائی ہو؟”




    "بس یہ اتنا سا ملا۔” ماں نے کٹورا دکھایا جس کا صرف پیندا بھرا تھا۔ زبیر کا چہرہ مایوسی سے لٹک گیا۔ پیاس نے اسے بے حال کر رکھا تھا۔
    "تم لوگ یہاں بیٹھے کیا باتیں بگھار رہے ہو؟” ماں کو جیسے کسی نا خوش گوار بات کا احساس ہوا۔
    زبیر سٹپٹا کر نگاہیں جُھکا گیا۔ اس کی آنکھوں میں ماں کو دیکھ کر روشنی کی جوت جاگی تھی جیسے کھنڈرات کے اندر کوئی ہیرا جگمگا اٹھے لیکن پھر وہ یوں ماند پڑی کہ جیسے ابھی ساری دیواریں چٹخ جائیں گی۔
    اور اب یہ ماں کا سوال…. اس سوال کا سامنا کرنے کی ہمت زبیر میں نہ تھی۔ عمیر تھوڑا بے باک اور انجان تھا۔اپنی گرد آلود آنکھیں جما کر بولا: "بارش کب ہو گی؟”
    ماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔آنکھوں میں اتنی حیرت تھی کہ ماتھے تک آئی اوڑھنی پیچھے کہیں لڑھک گئی اور بے چاری کو خبر بھی نہ ہوئی۔
    اس لمحے زبیر نے آنکھ اُٹھا کر دیکھا ماں کی آنکھوں میں بلا شبہ زیادہ گرد نظر آئی۔
    اس نے چھوٹے کو ٹہوکا دیا کہ چُپ رہ لیکن وہ بے خبر رہا اور اس نے اسی طرح اپنا سوال دہرایا۔
    "بارش کب ہوگی؟”
    "اللہ غارت کرے تجھے۔ منہ بند کر کے بیٹھ۔ بارش کی دعائیں نہ مانگ۔وہ آتی ہے تو سب بہا لے جاتی ہے۔ پیچھے ککھ نہیں چھوڑتی۔ ککھ سمجھتا ہے؟ ککھ؟ یہ تیلا؟ یہ بھی نہیں چھوڑتی۔” ماں نے زمین سے تنکا اٹھا کر دکھایا۔
    روٹھے روٹھے قدم اٹھائے وہ اپنی کچی کٹیا میں چلی گئی۔ابھی اس کے بلونگڑوں نے اس کے پیچھے ہی آجانا تھا۔
    عمیر نے گھر کے سامنے کا سپاٹ میدان دیکھا۔ اجڑے ہوئے درخت اور لُو زدہ ہوا، کچھ بھی ماں کے بیان سے میل کھاتا دکھائی نہ دیا۔یہاں تو اَبر کی ضرورت تھی۔ یہاں تو بارش کو برسنا چاہیے تھا۔ یہ مٹی پانی پانی چلاتی بھٹک رہی تھی۔ماں نے کیوں ایسی بہکی بات کی۔ماں تو سمجھ دار ہے۔اس کا ناتواں ذہن یہ بوجھ اٹھانے سے قاصر تھا۔ اس نے سوچوں کی گٹھڑی کندھے پہ ہی رکھی اور بڑے بھائی کی پیروی کرتا ہوا گھر میں داخل ہوگیا۔
    ماں نے اتنے میں پیاز توڑ کر دو حصّوں میں بانٹ دی آدھی بڑے کو تھمائی اور آدھی چھوٹے کو۔ ”اللہ غارت کرے” والی بات شاید کٹیا کے دروازے کے باہر ہی کہیں رہ گئی تھی۔وہ پیاز چبا چکے تو پچکا ہوا ایک ایک ٹماٹر بھی ملا۔ زبیر سمجھ گیا ضرور ساتھ والے گاؤں سے خیرات آئی ہوگی۔بھائیوں نے وہ بھی لے کر پیٹ کے ایندھن میں ڈالا۔




  • بس کا دروازہ — نوید اکبر

    جون کی گرمی۔۔۔ دوزخ کی گرمی۔۔۔لاہور شہر اور اُنتالیس نمبر بس۔یہ بس ائیر پورٹ سے شیرا کوٹ تک جاتی تھی، نہ جانے کتنی خاک، کتنے تنکے راستے میں بکھراتے ہوئے۔ اس کے راستے میں کینٹ بھی آتا تھا اور امراء کا گلبرگ بھی۔ یہ روڈ کلمہ چوک سے بھی گزرتا تھا اور اقبال ٹاون کی مون مارکیٹ سے بھی۔
    بس کے اندر سے باہر کی دنیا ہوا کی طرح یوں ہو کر گزرتی تھی جیسے کسی بہتی ندی کے کنارے بنے جوہڑ میں ندی کا کچھ پانی پھنس کر تھوڑی دیر کے لیے رک جائے لیکن پھر بے چین ہو کر تھوڑی ہی دیر میں ندی کے شور میں شامل ہو کر دوبارہ ندی ہو جائے۔




    بس کے دو خود کار دروازے آنے جانے والے پانی کو regulate کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، بدلتے موسموں کو نہیں۔ سردیوں میں بس کی کھڑکیاں بند رہتی ہیں۔ اندر بھیڑ کی وجہ سے موسم گرم رہتا ہے۔ گرمیوں میں کھڑکیاں کھل جاتی ہیں پر اندر بھیڑ کی وجہ سے سب تنور ہو جاتا ہے۔ بسیں فطری طور پر گرمی پسند ہوتی ہیں لیکن انسان۔۔۔ انسان فطری طور پر اِختلاف چاہتا ہے۔ وہ گرمیوں میں سردی چاہتا ہے اور سردیوں میں گرمی۔ وہ ہر موسم میں بہار چاہتا ہے اور بہار میں بارش۔ اندر بھی ایک طرح کی بارش ہو رہی تھی۔ جلد کے پور کھل رہے تھے اور ہر طرف پسینہ بہ رہا تھا۔ قمیصیں جسم سے چپک گئیں تھیں۔ چہرے گیلے تھے اور دہشت عروج پر تھی۔ دوپہر کے تین بجے جتنے لوگ بس کی سیٹوں پر ہوتے ہیں اُس سے دُگنے سیٹوں کے بیچ چھت سے ٹنگی لوہے کی راڈوں سے لٹک رہے ہوتے ہیں۔ کچھ کے ہاتھ تو راڈ بھی نہیں آتی۔ پھر وہ ان راڈوں سے ٹنگے بھائیوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں جیسے سانسیں جسم میں اور جسم زندگی میں پھنس جاتے ہیں۔ جسمانی نفرت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ جذبوں کی طرح انسان بھی عروج و زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ بس میں موجود کچھ لوگ عروج کی طرف سفر کرنے والے ہوتے ہیں، کچھ زوال پہ آ چکے ہوتے ہیں اور کچھ عروج و زوال کے درمیان ڈائواں ڈول ہوتے ہیں۔۔۔
    فطرتاً سب مسافر اسی پانی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ دنیا کا ہر شخص ازل سے اس تلاش میں ہے۔ کسی کو یہ رزق علم سے ملتا ہے، کسی کو روحانیت سے، کسی کو محبت سے، کسی کو شہرت سے تو کسی کو پیسے سے۔ مختلف اقسام کے یہ رزق بانٹنے والے فرشتے بس میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔ کچھ مستقل طور پر یہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے تو کچھ مسافروں کے ساتھ چڑھتے اُترتے رہتے تھے۔ اس بس میں نوّے فیصد لوگ پیسہ ڈھونڈ رہے تھے۔ روٹی ڈھونڈ رہے تھے۔ ہر پیر کے نیچے گردش تھی اور نظریں آسمان کھوج رہی تھیں۔ روٹی ہر روح کو معلوم نا معلوم رستے کی طرف کھینچ رہی تھی اور کچھ کو کھینچتے کھینچتے اس بس میںلے آئی تھی۔ بہت سوں کو تو رزق اسی بس سے ملتا تھا۔
    ڈرائیور، کنڈیکٹر اور ٹکٹ چیکر کے علاوہ کئی ایسے دُکان دار تھے، جو اس بس میں دو گھڑی کے لیے چھابڑی لگاتے اور اگلے سٹاپ پہ اُتر جاتے۔
    صدر بازار کے پاس ایک سانولی سی جوان اوڈھ لڑکی مردوں کے حصے میں داخل ہوئی۔ ناک میں موٹی سی نتھ اور سر پر بڑا سا ڈوپٹہ اوڑھے۔ سارے مرد یکایک اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ بسوں میں مردوں کی توجہ کئی عورتوں کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے لیکن اُس کے لیے توجہ اک ہتھیار تھی۔ دو سیکنڈ سانس لے کر اُس نے ترنم چھیڑا۔۔۔
    شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ
    یثرب کے والی
    سارے نبی تیرے در کے سوالی
    شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ




    بس کا موسم بدلنے لگا۔ نگاہوں میں اک آواز لہرانے لگی۔ کسی کو اپنے گناہ یاد آئے تو کسی کو محرومیاں۔ اگلے سٹاپ سے پہلے پہلے نعت ختم ہو چکی تھی اور وہ گناہ گاروں اور نیکوکاروں سے اُن کی بخششں اور ثواب کے سکّے سمیٹ کر، اُنہیں اپنے حال پہ چھوڑتے ہوئے بس سے اُتر گئی۔ اُس کے اُترتے ساتھ ہی انسانیت کے اس مختصر ٹولے پر تاجروں، حکیموں اور علم فروشوں کی عنایت ہو گئی۔ خبر نامے کے مطابق آج ملک میں تجارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کی نعمتیں آ موجود ہوئیں۔ سب کچھ بکنے لگا۔
    "بہنوں اور بھائیو۔۔۔ جی میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حلال رزق عین عبادت ہے جو شخص جھوٹ بیچ کر مال بیچتا ہے وہ اللہ کا نہیں شیطان کا ساتھی ہے۔”
    بیان تو جاری ہو گیا لیکن منجن نہ بکا۔۔۔ حالاں کہ ڈبیا پہ منجن بنانے والے کی فوٹو بھی تھی۔ کتنی مشابہت تھی ان دونوں میں۔ ویسے بھی جب بنانے والے اور بیچنے والے کے نظریات ایک ہوں، جذبات ایک ہوں، مقاصد ایک ہوں تو صورتیں کیوں نہ ایک ہوں؟
    "دانت سے خون آئے تو نماز نہیں ہوتی۔” منجن نہ بکا۔
    "عزیز دوست پاس آنے سے کتراتا ہے۔” نہ جی نہ۔
    "معاشرے میںسبکی ہوتی ہے۔” کوئی چکر نہیں۔
    "محبوب سے راز و نیاز کی باتیں کم ہو جاتی ہیں۔” بک گیا۔
    ایک بوڑھے بابا جی کی عنایت ہو گئی۔ بارش کی اس پہلی بوند کے بعد بارش کے دو چارقطرے اور بھی ٹپکے لیکن پھوار نہ پڑ سکی۔ منجن فروش اگلے سٹاپ پہ اُتر گیا۔ آج صفائی ، صحت اور فارماسوٹیکل فرشتے کچھ سست سست سے تھے۔
    سفر جاری رہا اورسفر کرتے کرتے سڑک سورج کے قریب چلی گئی۔ زمین کی برف زوروں سے پگھلنے لگی۔ بس کی ساری سواریاں پگھلنے لگی۔پنجاب میں سیلاب کا موسم تھا۔ ہر طرف پانی آگیا۔۔۔ اور ہر زبان سوکھنے لگی۔
    ایک چودہ پندرہ سال کا لڑکا اس سیلاب میں دھڑا دھڑ پانی کے گلاس بیچنے لگا۔ پانی نیم گرم تھا۔ شائد یہ گرمی پانی نے تار کول کی اُس سڑک سے جذب کی تھی جس پر یہ لڑکا ننگے پیر دوڑ رہا تھا۔
    ٹھنڈی گنڈیری ، میٹھی گنڈیری۔ چند سکّوں کے عوض کچھ کڑوی زبانیں بھی میٹھی ہو گئیں۔
    بھیڑ میں پرانی قمیص اور سستی جینز پہنے شخص نے آواز لگائی۔۔۔ "چائنا آگیا، چائنا چھا گیا۔ بازار جا کر پوچھو تو اس بال پوائنٹ کی قیمت بیس روپے سے کم نہیں۔ کمپنی کی پروموشن واسطے اس وقت دو بال پوائنٹ اور ایک خالص جاپانی کاغذی پنکھے کے سیٹ کی قیمت ہے۔۔۔ دس روپے، دس روپے، دس روپے۔”
    اس نوجوان کے پیچھے سفید شلوار قمیص پہنے ایک عزت دار شہری کھڑا تھا۔ نوجوان کے چُپ ہوتے ساتھ ہی اس درمیانی عمر کے پاکستانی نے تقریر شروع کر دی جس کا لبّ لباب یہ تھا کہ پاکستانی معاشرہ تنزلی اور بے راہ روی کی طرف گامزن ہے۔ دین سے دوری نے زندگی میں برکت او ر روحانیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ رزق میں تنگی آ گئی ہے۔ پریشانیوں اور مسائل میں اِضافہ ہو رہاہے لیکن اس سب سے نجات ممکن ہے۔ طریقہ پانچ وقت کی نماز، اور نماز کے بعد چند دعائیں۔ ان دعاوں کا جاننا زیادہ مشکل نہ تھا کیوں کہ اس کے کاندھے سے لٹکے بیگ میںایک انمول کتاب بیسیوں کی تعداد میں موجود تھی۔ فلاحی اغراض کی بنا پر کمپنی بسوں میںاس کتاب کا ہدیہ صرف دس روپے وصول کر رہی تھی اور تو اور اس کتاب میں بس پر چڑھنے اور بس سے اترنے کی بھی دو سنہری دعائیں درج تھیں۔ یہ کتاب بس میں ہٹ ہو گئی اور اس دن کی بیسٹ سیلر قرار پائی۔ پوری سات کاپیاں فروخت ہوئیں۔ شائد سات زندگیاں بدل گئیں۔ کئی اور زندگیوں میں بھی برکتوں اور روحانیت کے چراغ روشن ہو جاتے اگر ملک خوش حال ہوتا اور جیبوں میں بس کا کرایہ چھوڑ کر اضافی دس روپے ہوتے۔۔۔ لیکن نہیں۔ ایسی صورت میں شائد اس عزت دار شہری کی ایک بھی کتاب نہ بکتی۔ بھوک مٹ جائے تو دسترخوان پہ کون بیٹھتا ہے۔ حسرتیں ختم ہو جائیں تو دعا کون کرے؟




  • درخت اور آدمی — محمد جمیل اختر

    درخت کے سائے میں بیٹھے بیٹھے ایک دن وہ اُکتا گیا، یہ دنیا اتنی بڑی ہے میں کب تک یہاں پڑا رہوں گامجھے ضرور یہاں سے جانا ہوگا۔
    ”میں یہاں سے جارہاہوں ” ایک دن اُس نے درخت کو اپنا فیصلہ سُنا یا۔
    درخت جو اُسے سایہ دینے میں ایسا مگن تھا کہ اُسے یقین نہ آیا۔
    اُس نے اپنی شاخیں پھیلائیں اورکہا: ”دیکھو یہاں سے مت جائو تمہارے بغیر میرا کیا ہوگامیں اپنی شاخوں کو اور گھناکر دوں گابس تم یہیں رہو میرے پاس۔”
    ” میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں وہاں سے تمہارے لیے کھاد اور پانی بھیجوں گا”
    ”تم پھر سوچوشاید کوئی اور حل نکلتاہو دیکھومیں تمہارے بغیرنہیں رہ سکتاتمہارے سوایہاں میرا کون ہے ؟”
    ”کئی اور مسافر آئیں گے تمہارے سائے میں بیٹھیں گے تم سے باتیں کریں گے تم پریشان نہ ہو میں لوٹ آئوں گا۔” اور وہ وہاں سے دور بہت دور جا کر آباد ہوگیادرخت ساری رات روتا رہااور بہت سی شاخیں اُسی رات ٹوٹ کے گرگئیں ۔
    مدتیں گُزریں وہ پلٹ کر نہیں آیانئے شہر کے نئے ر نگ تھے نئی مصروفیات تھیں ،ہاں لیکن شہر میں جب کبھی اُسے گائوں کا کوئی آدمی ملتا تو وہ اُس سے درخت کے بارے ضرور پوچھتا۔




    شروع شروع میں لوگوں نے اُسے بتایا کہ درخت کے پتے گر گئے ہیں اور وہ ساری رات روتا ہے شاید دیمک لگ گئی ہے اُسے۔ ”
    ”لیکن میں تو کھاد اور پانی ہر ماہ بھیجتا ہوں کیا یہ محکمے کے لوگ میرا سامان وہاں نہیں پہنچاتے؟”
    ”کھاد اور پانی پہنچ رہا ہے لیکن درخت پہ بہار نہیں آرہی ایک بار دیمک لگ جائے تو کہاں بہار آتی ہے۔”
    وہ فکر مند ہوا درخت کو دیمک لگنے کا خیال اُسے بار بار ستاتا لیکن شہرکی مصروفیات نے اُسے یہ سب آخر بھلا دیا، کچھ اور عرصہ بیت گیا اُسے لوگوں نے بتایا کہ درخت کی سب شاخیں ٹوٹ چکی ہیں اور وہ نیچے بیٹھے مسافروں میں سے کسی کو نہیں پہچانتا۔
    اُس نے درخت کو پیغام بھیجا کہ وہ شہر آجا ئے کہ یہاں پرانے درختوں کی دیکھ بھال کے لیے الگ نرسریاں آبادہیں۔
    ”میں کیسے آسکتا ہوں ، میں تو درخت ہوں زمین سے جڑا ہوادرخت۔”
    پھر وہ ایک مدت بعددرخت کے پاس لوٹ آیا ۔
    ”میں آگیا ہوں، تم خاموش ہو، مجھے پہچانو میں آگیا ہوں تمہاری شاخیں تمہارے پتے کہاں ہیں ، بولوتم بولتے کیوں نہیں۔”
    ٹنڈ مُنڈ سے درخت نے سر اُٹھا کر اُسے ایک نظر دیکھا (ایسی نظر سے کہ جس کو سمجھنے کے لیے آدمی کو کم ازکم درخت ہونا پڑے گا)۔

  • لال کتاب — حنا یاسمین

    لال کتاب — حنا یاسمین

    اس کچے سے صحن میں شام اُتر رہی تھی۔ ہوا نے چلنے سے انکار کر دیا اور بڑھتی حبس نے سینوں کے اندر دھڑکتے دل پژمردہ کر دیئے تھے۔ وہ خاندانی گویئے تھے۔ سال ہا سال سے گیت سنگیت کا کام کیا جاتا۔ سارنگی… باجے… ہیلا… بگل سنگھا… ترئی… دف… ڈھول… …ستار… سنکھیا… بینجو… پیالو… جھانجر … ڈگڈگی… ڈھولک… سرود… سیٹی اور سرمہ تقریباً سبھی سے واقف تھے۔ یہ سارے موسیقی کے آلات اُن کے لیے روحانی پیشوائوں کی طرف سے عبادت کا ایک ذریعہ تھے۔ ان کو بجانے۔ دھنیں بنانے اور نت نئی اختراع، موسیقی کی دنیا میں متعارف کروانے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ صبح جب سورج اپنے نور کی پہلی کرن کو دھرتی کا دکھ سمیٹنے کیلئے بھیجتا تو اس گھر میں مرغ کی بانگ کے ساتھ ہی ریاض کا کام شروع کر دیا جاتا۔ پائل… چمپا… سسی اور ان کا باپ مورکھ راج اپنے کام کا آغاز کر دیتے۔ تینوں بیٹیاں، باپ کے ہم راہ ریاضت سمجھ کر موسیقی کے آلات سے آشنائی حاصل کرتیں۔ سمن لال ان سے نئی نئی دھنیں تیار کرواتا اور بڑے بڑے پروڈیوسروں کے ہاتھوں بڑی بڑی قیمتوں میں بیچ آتا، چار پیسے مورکھ راج کے ہاتھ پر بھی رکھ دیتا۔ یہ غریب تین بیٹیوں کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے ہنسی خوشی قبول کرتا۔





    بس بھگوان کی کرپا ہے… کبھی وہ وقت بھی تھا… جب دو نوالے روٹی کے نصیب نہ تھے۔ وہ جب بھی سمن لال سے پیسے وصول کرتا تو کتنی ہی دیر پیسے آنکھوں پر لگائے۔ بھگوان کا شکر ادا کرنے لگ جاتا۔
    احمدپور شرقیہ کی اس پرانی حویلی میں پچھواڑے کا حصہ بیچ کر باقی والا صحن اور برآمدے کے ساتھ والے دو کمرے مورکھ راج کے تھے۔ جن لوگوں کو اس نے پچھواڑے کا حصہ بیچا تھا ان لوگوں نے اس پر چار دیواری ڈال کے صرف جگہ گھیری تھی۔ خرید کر کوئی تعمیراتی کام اس پر شروع نہیں کیا تھا۔ چمپا کتنا روئی تھی جب اس کی ماتا کے مرنے کے بعد اس کے پتا نے پیچھے کا حصّہ بیچ ڈالا۔ وہاں موتیا کی کلیاں اور گلاب کی کیاریوں کو اس نے اور پائل نے کتنی محبت سے اُگایا تھا۔ پھر پھول کھلتے اور وہ خوب صورت گجرے بنا کر سسی کو دیتیں۔ سسی کو الٹی چٹیا گندھوا کر ان پر پھول سجانے کا بڑا شوق ہوتا۔ وہ سب سے چھوٹی اور مورکھ راج کی لاڈلی تھی۔ پائل چٹیا بنا دیتی اور چمپا اس کے بالوں میں موتیے اور گلاب کی کلیاں ٹانک دیتی پھر وہ احمد پور شرقیہ کی گلی گلی… محلہ … محلہ پھرتی… بیس بیس روپے اور پندرہ پندرہ روپے میں گجرے فروخت کر آتی۔ چمپا شادیوں میں ڈگڈگی… ڈھولک… جھانجر بجا آتی۔ پائل کو کتھک ڈانس کی اچھی مشق تھی۔ بھلا ہو صلہ دیدی کا… چندی گڑھ سے انہیں پاکستان ملنے آئی اور یہ فن پائل میں منتقل کر گئی۔ ہنر کوئی بھی بے کار تھوڑی جاتا ہے۔ جب گندم پکنے کے دن آتے یا چاولوں کی فصل کھڑی ہوتی تو سانول گائوں سے تانگہ لے آتا۔ چودھریوں کے ہاں محفل موسیقی رکھی جاتی… یا بچے کی ولادت کی خوشی میں جشن… چمپا گانا بجانا کرتی اور پائل ناچ ناچ کر اُن کے بڑے دالانوں میں مورنی بنے پھرتی۔ گندم کے دانے اور چاولوں کی بوریوں سے کچھ مہینے آرام سے گزر جاتے۔ چودھرائن کبھی میٹھا گُڑ اور کٹے کا گوشت بھی عنایت کر دیتی۔ البتہ وہاں سے وہ کچھ کھا نہ سکتی تھیں۔ اگر کھانا آتا بھی تو علیحدہ برتنوں میں۔ وہ لوگ خاندانی مسلمان تھے اور وہ ہندومذہب کی تھیں بھلا ان کے ساتھ کچھ کھایا پیا جا سکتا تھا؟
    پائل کی آنکھیں بہت پیاری تھیں پھر امّاں نے جنہیں وہ بی بی جان کہتی تھی چاندی کی نتھلی اُسے تحفتاً دی۔ وہ پہن کر تو اس کی سنہری رنگت اور دمک گئی تھی۔ نور باجی تو سچ مچ کسی دیوتا کی دیوی لگتی۔ پائل کی اس کے ساتھ اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ ہر وقت سفید دوپٹہ اور سفید شلوار کے ساتھ کسی بھی رنگ کی قمیص زیب تن کئے رکھتی۔ بس دوپٹہ اور شلوار لازماً سفید رنگ کے ہوتے۔ بی بی جان کہتی تھیں کہ اُن کا خاوند شہید ہو گیا ہے۔ اسی لیے وہ ان کے ہاں رہتی تھیں۔ پائل کیا جانے شہید کیا ہوتا ہے۔ چمپا بتاتی تھی کہ جو ان کے بھگوان کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر دے وہ شہید ہوتا ہے۔ چمپا نے مسلمانوں کے سکول سے کچھ جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں۔ نور باجی کی آنکھیں ہر وقت متورم سی رہتیں اور ان کی نازُک سی ناک پر چمکتی ہیرے کی لونگ میں بھی اداسیاں گھُلی رہتیں۔ وہ اداس شام میں کھڑی سفید مورتی لگتی۔
    بی بی جان کبھی کبھی پائل کو بلوا بھیجتی تاکہ نور باجی کا دل لگا رہے۔ اس بڑے سے گھر میں نوکر… چاکر… ڈھور ڈنگروں کے علاوہ وہ دونوں خواتین رہتی تھیں۔
    یہ لوگ گدی نشین تھے۔ ان کے بڑے ابا کی وفات کے بعد ماحول قدرے بدل گیا۔ اب گانے بجانے… ساز و آلات… سب کچھ جائز تھا۔ بدلتی رتوں اور گزرتے وقت نے بہت کچھ نیا اور انوکھا کر دیا تھا۔





    نور باجی کا بھائی وجاہت حسین ولایت پڑھنے گیاتھا۔ بی بی جان بتاتی ہیں کہ وہ ہر سال آجاتا جب آموں پر بور آنے لگتی اور موسم اپنی کروٹ بدلنے لگتا۔ کوئی وقت مقرر نہ تھا۔ ہر سال بعد اُس کا چکر ضرور لگتا۔ گائوں کی زمین کو نور باجی کے چاچے سنبھالتے… لوگ چودھریوں کی عزت بہت کرتے تھے، نور باجی لال رنگ کی کتاب بہت شوق سے پڑھتیں۔ پائل حیران ہوتی اُس کتاب کو پڑھنے سے پہلے وہ ہاتھ دھوتیں۔ منہ دھوتیں… پائوں دھوتیں… اس کو چومتیں، سینے سے لگاتیں اور پھر پڑھنے بیٹھ جاتیں۔ پائل کو اس وقت وہ درشن دیوی کی طرح پوتر اور دودھ سے دُھلی لگتیں۔ ان کے چہرے پر ایسا حزن ہوتا۔ ایسی سرمستی ہوتی جیسے گرما میں اترتے ٹھنڈے بادلوں کی اوٹ میں بیٹھا مدھم چاند… یا سورج کی کرنوں کو اپنے پروں میں سمیٹ کر زمین پر پھیلی پیلی دھوپ سمیٹے پچھم سے پورب کی طرف بہتی ہوائیں…
    ”وقت کا بھی نشہ ہوتا ہے پائل!… جب شام ہمارے چوباروں پر ڈیرہ جمانے آتی ہے اور دن بھر کی تھکی کرنوں کو واپس بھیجنے کیلئے کمربستہ ہوتی ہے تو دل پر یادوں کے دریچے کھل جاتے ہیں، روح پر اداسیاں اترنے لگتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ وجود گھائل ہو اور نمک کی طرح پگھل کر اپنا آپ کھو دے، تب یہ لال کتاب مجھے بہت سنبھالتی ہے…”
    ایک دن پائل کے استفسار پر کہ وہ اس مخصوص وقت میں ہی کیوں لال کتاب پڑھتی ہیں پر انہوں نے مفصل جواب دیا۔
    ”نور باجی! یہ کتاب ساری اداسی دور کر دیتی ہے…؟ وہ حیران ہوتی۔
    ”یہ کتاب اداسی بھی دور کرتی ہے… بیماری بھی… دکھ درد بھی…” وہ پیار سے اس بھولی بھالی لڑکی سے بولیں۔ ”ہر دکھ تکلیف…؟” وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید پھیلا کر پوچھتی۔
    ”ہاں ہر دکھ ہر تکلیف…” اُس کی آنکھوں میں اشتیاق ہی نہیں بلکہ ایک شوق کا جہان آباد تھا۔ پائل کو لگا اس کتاب سے اچھا کوئی ہم درد نہیں۔ وہ نور باجی سے کتاب سننے کی فرمائش کرتی۔ وہ اس کی بات مان جاتیں اور اُسے کتاب پڑھ کر سنانے لگتیں۔ الفاظ موتی بن جاتے جو اس کے دل پر اِترا اِترا کر شوق اور دل چسپی کا محل تعمیر کرنے لگتے۔ وہ بھاگی بھاگی نور باجی سے ملنے سانول کے پیغام پر جاتی۔
    پچھلے کچھ دنوں سے ابّا کی کھانسی زور پکڑنے لگی تھی… ریاض ٹھیک نہ ہو پاتا۔ سوہنی خالہ کے کہنے پر ابّا کو دارچینی اور الائچی کی چائے بھی دی۔ موڑ پر موجود حکیم جان محمد سے نیلی شیشی والا شربت بھی لے کر پلایا پر ابّا ساری رات کھانستا رہا۔ سسی کی آنکھیں بھرنے لگی۔ پائل اور چمپا کتنی ہی دفعہ سسی سے چھُپ کر رو چکی تھیں۔ اسی طرح ان کی ماتا کی کھانسی نہیں رکتی تھی اور پھر ایک دن وہ چپکے سے بھگوان کے پاس چلی گئی۔ اب پِتا جی…؟ سو ہنی خالہ نے انہیں ابا کہنا سکھایا تھا۔ مُسلوں کے محلے میں پِتا ماتا عجیب سا لگتا۔ مسلمانوںکو ابّا مُسلے کہتا تھا۔
    سنکھیا… ستار، سارنگی… جھانجر… بینجو بھی انہی کی طرح اُداس تھیں۔ مورکھ راج کے سُر بکھرنا بند ہو گئے… شدید طوفان میں لٹکتی کچی اینٹوں کی طرح ٹوٹتی دیوار جیسی زندگی رہ گئی۔
    اور لالی… کوّے اور چڑیا کی آواز پر اُٹھتی چمپا نے صحن کے کچے حصے سے پودینہ کی پتیاں اُتار کر ابّا کے لیے قہوہ بنانے کا انتظام کیا۔ ابّا کھانس کھانس کر پرانی جھلنگا چارپائی کی رسی کے ساتھ جھول رہا تھا۔ کھانسی اُسے ٹِک کر کسی ایک جگہ پر قائم رکھنے میں ناکام ثابت کر رہی تھی اور قہوہ سمیت ابّا کے پاس پہنچی چمپا کی چیخوں نے صحن کے دوسری طرف پڑی چارپائی پر موجود دو نفوس کو ہڑبڑا کر اُٹھنے پر مجبور کیا تھا۔ ”ابّا مر گیا…؟” سسی نے بے ساختہ پائل کی کلائی پر اپنے پنجے گاڑے شیر کو دیکھ معصوم ہرنی کی آنکھوں میں اُتر جانے والی اداسی کے سارے رنگ اُس کی نگاہوں میں نظرآرہے تھے۔ ”بھگوان کی کرپا… ایسے نہ کہو…” پائل اُس کی بات دہل کر بولی۔
    ”چمپا کیوں چیخی…؟” پائل کی آواز گونج بن کر اُس کے کچے صحن میں پھریریاں لے کر عقبی دیواروں سے ٹکرائی… پھر آناً فاناً کھیس پیچھے پھینکے گئے۔ ٹوٹی نائلون کی جوتیوں میں پیر پھنسائے، خاکستری گلابی اوڑھنیاں گردن کے گرد جھلاتی دو لڑکیاں ایک گُندھے بالوں والی اور ایک چھوٹی لٹوں کو سر کے دائیں بائیں گھماتے ابّا کی چارپائی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئیں۔ ابّا کا استخوانی ہاتھ لال نشانوں اور نیلی ٹکیوں سے بھر گیا تھا۔ پھر ایسے ہی نشان کمر سے لے کر پیٹ تک بنے ہوئے تھے۔ چمپا جیسی چیخ پائل اور سسی نے بھی ماری۔ چیخوں نے آپس میں مقابلہ کیا اور دوڑ میں سسی کی چیخ کو پیچھے چھوڑتی، پائل کی چیخ خالہ سو ہنی کے مکان تک پہنچی۔ وہ دوڑی چلی آئیں۔ تینوں لڑکیوں کے آنسو پونچھے اور نیلی شیشوں کی دکان سجائے حکیم جان محمد کے پاس پہنچ گئی، انگوری رنگ کا پھٹا ہوا تنبو پہنے۔ چمپا مُسلوں کے برقعہ والی خواتین کو تنبو پہننے والی خواتین کہتی تھی، جو شادی بیاہ میں لگائے جاتے۔ حکیم صاحب سکّہ رائج الوقت کے مطابق پندرہ روپے اور پچیس پیسہ پر راضی ہو کر گھر مورکھ راج کو چیک کرنے آگئے نیلے سرخ نشانوں کو اس نے کسی ماہر ڈاکٹر کی طرح چیک کیا۔ ”اس کا تو خون خراب ہے۔ بڑے ہسپتال لے جانا پڑے گا۔ پھر ڈاکٹر اِس کے ٹیسٹ کرے گا اور بیماری کے بارے میں بتائے گا۔ بیٹا یہ تو بہت لمبا چوڑا کام ہے۔ اس پر بہت پیسہ لگے گا۔” حکیم جان محمد نے تینوں بہنوں کے پیروں سے جان نکال دی۔ ابّا کو بچانا بھی ضروری تھا۔ ان کے علاوہ اس جہاں میں ان کا تھا ہی کون…؟ پر پیسہ وہ بھی اتنا سارا اکٹھا کہاں سے لے کر آتیں۔ سمن لال نے دو ہزار روپے نئی دھن بنانے کے دیئے۔ حالاں کہ پیچھے سے وہ پتا نہیں کتنے لاکھوں کما کر لایا تھا۔ دو ہزار لے کر پائل خوشی خوشی حکیم جان محمد کی دکان پر گئی۔




  • سوزِ دروں — سندس جبین

    سوزِ دروں — سندس جبین

    داستان محبت مقابلے میں شامل ”سوزِ دروں” ایک ایسی کہانی ہے جس کو لکھنے سے پہلے کئی بار میرا قلم دماغی اور ارادی طور پر ٹوٹا پھر ہمت کرکے لکھنا شروع کردیا۔ مگر ذہن میں ہر وقت ہار جیت چلتی رہی تھی۔ شاید وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے کبھی نہ تو رائٹنگ کمپٹیشن ہوا تھا نہ میں نے حصّہ لیا تھا۔ مگر میں اپنے بابا کی بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا اور بار بار حوصلہ افزائی کی کہ ہار جیت چھوڑو اور کہانی لکھوں… اس لیے میں نے پھر واقعی ہار جیت کا خیال ذہن سے نکال کے اسے لکھا اور میں سمجھتی ہوں کہ اسی وجہ سے میں نے اسے مکمل بھی کر لیا۔ اللہ پاک کا کرم ہے کہ اس نے مجھے بہت سے اچھے لوگوں میں سربلند کیا۔
    الف کتاب کی ساری ٹیم اور جیوری کا شکریہ جنہوں نے اس قابل سمجھا اور سو سے زیادہ رائٹرز میں سے مجھے چنا گیا۔ محبت کا جو نظریہ میں نے اپنی داستان محبت میں چنا مجھے یقین ہے کہ آپ اس سے اتفاق کریں گے کیوں کہ محبت تب ہی خوبصورت ہے جب اس کے سوزِدروں میں پاکیزگی کا ساز ہو۔

    سندس جبیں




  • اُوپر حلوائی کی دکان — علینہ معین

    ”اماں! کدھر ہو؟” ”اماں جلدی آئو”۔ شبانہ بلند آواز میں پکار رہی تھی۔ ایک تو صبح سویرے خالہ شیداں کا فون اس کی سپنوں بھری نیند میں خلل ڈال گیا اوپر سے شادی کا بلاوا۔ مطلب جانا لازمی۔ پارہ کیسے نہ ہائی ہوتا… ”اماں” اس نے پھر ہانک لگائی۔ بالآخراماں اسے اندر آتی نظر آہی گئیں۔ ”کیا ہے شبانہ؟ کیوں صبح صبح گلا پھاڑ رہی ہے؟” اماں نے چھوٹتے ہی کہا۔ ”اماں تیری بہن کا فون آیا تھا۔ کنیز باجی کا ویاہ ہے اگلے مہینے۔” شبانہ عرف شبو نے وہیں پڑے پڑے پیغام پہنچایا۔
    ”ہائے ہائے اینی گرمی دے وچ ویاہ؟ شیداں دا دماغ خراب ہو گیا ہے اور اس موٹی نوں کنے پسند کر لیا اتنی گرمی وچ۔” اماں کو اپنی پڑ گئی۔ ”اماں کیا مطلب ہے تیرا گرمی کے موسم میں لوگ شادی نہیں کرتے یا کڑی نہیں پسند کر سکتے؟ کیا پتا کوئی مجھے بھی گرمی میں ہی پسند کر لے۔” شبانہ عرف شبو نے خواب دیکھنا شروع کیا۔





    ”رہن دے شبو گرمی وچ تے ہر بندہ ویسے ہی بھینگا لگدا اے تو تو ہے ہی پیدائشی بھینگی تجھے کون پسند کرے گا۔” اماں نے اس کی خوش فہمی پر تیل ڈال کر آگ ہی لگا دی ۔ ”اُٹھ اماں باہر نکل مجھے سونا ہے۔ آنکھوں میں ذرا سا فرق کیا ہوا تو نے مجھے بھینگی ہی بنا دیا۔ کوئی اپنی بیٹیوں کو یوں بھی کہتا ہے؟” شبانہ نے صبح صبح رونا شروع کر دیا۔ ”چلو جی اِس منحوس نے تو سویرے ہی تماشا لگا لیا اے” اماں نے جاتے جاتے ایک جان دار دھموکا اس کے کاندھے پر رسید کر ہی ڈالا۔
    لو جی شبانہ چک جھمری جانے کے لئے تیار ہو رہی تھیں صبح۔ ابا بے چارے مستری تھے اور وسائل اتنے نہیں تھے کہ سب جاتے کیوں کہ اس طرح ابا کے کام کا حرج جو ہوتا اور پھر سال پیچھے اماں خود ہی بہن کے گھر چکر لگا آئیں یا پھر خالہ خود ہی آجاتی اپنی موٹی سی بیٹی کنیز کو لے کر جو تھوڑا اونچا بھی سنتی تھی۔ شبانہ کے بے حد اصرار اور جذباتی دھمکیوں کے نتیجے میں اماں نے دوچھتی پر پڑے بڑے سے ٹرنک سے اس کے لئے بھی چمک دمک والے دو جوڑے نکال دیے۔ گھنگھرو والا پراندہ اور ایڑی والے جوتے وہ خود خرید لائی تاکہ اس کے شہری ہونے کا تاثر تو پڑے اُن سب پر۔ ہاں بس میں بیٹھتے ہی کالا چشمہ لگانا نہ بھولی آخر کو تھوڑی ہی سہی، بھینگی تو تھی نا۔ اماں نے خوب لتے لیے مگر اثر کس پر ہوتا۔ چک جھمری آتے آتے ماں بیٹیاں گرمی سے گھوم ضرور گئی تھیں مگر اماں کی زبان فراٹے بھر رہی تھی۔ ”نی شیداں ٹٹ مریں اتنی گرمی وچ بلا کے ناس مار دیتا ای۔”
    سیون اپ کی ٹھنڈی ٹھار بوتلیں پی کر بھی گرمی کا اثر کم نہیں ہو رہا تھا۔ بس کے مسافر بے چارے زیر لب مسکرائے جا رہے تھے۔ خدا خدا کر کے سٹاپ آیا تو دونوں اتریں۔ جہاں گرمی نے مت مار رکھی تھی، ساتھ ہی حلیے بھی بگاڑ کے رکھ دیئے تھے۔ اتنی محنت سے کیا گیا میک اپ بہ کر شبو کو ڈرائونا بنا رہا تھا۔ نیلا آئی شیڈ غازے کی جگہ اور غازہ بہ کر گردن پہ۔ ”ہائے نی شبو جا اُس نلکے توں منہ دھو جا کے لگ رہا ہے چڑیل نوں نیل پے گئے نیں۔” اماںرکنے والی نہیں تھی لہٰذا فوراًً بات مان لی۔منہ دھو رہی تھی کہ خالہ شیداں کا بیٹا آگیا انہیں لینے۔ ”ارے یہ پا صدیق اتنا بڑا ہو گیا؟” اس نے فٹ کالا چشمہ آنکھوں پہ چڑھایا اور آگے بڑھی۔ خالہ کا گھر آتے آتے پسلیاں ہل گئیں۔ تانگے کی سواری کے نتیجے میں جوڑ دکھنے لگے تھے۔ دو تین بار صدیق کی طرف نگاہ اُٹھی تو وہ مسکرا مسکرا کر اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شبانہ نے فوراً منہ پھیر لیا۔ ”ہنہ لگ رہا ہے گنے کو مونچھیں لگائی ہیں۔”
    جونہی ماں بیٹی اندر داخل ہوئیں گھر میں شور مچ گیا ”میداں آگئی۔ نی شیداں تیری بہن آگئی۔” دونوں بہنیں جھپیاں ڈال ڈال کر ملنے لگیں۔ ”ارے میداں یہ شبو ہے نا! کتنی بڑی ہو گئی ” ”شکر ہے میرا بھی دھیان آیا۔” شبانہ دن میں سوچتے ہوئے بڑے انداز سے مسکرائی ”پتر یہ کالی عینک اتار تے آرام نال بیٹھ”۔ اس نے بڑے سے صحن میں نظر گھمائی مگر چارپائیوں کے انبار پر موٹی موٹی عورتوں کے ڈھیر پڑے تھے کوئی بیٹھی اور کوئی لیٹی ہوئی تھی۔ خالہ کو بھی احساس ہوا تو خود ہی اندر لے گئیں۔ کھانا کھا کے جان میں جان آئی تو کنیز کا خیال آیا۔ ”خالہ شیداں کنیز باجی کدھر ہے؟” ”پتر صبح ناشتے میں پائے نہاری کیا کھا لیے تب کی پڑی سو رہی ہے۔ میں نے بھی نہیں اٹھایا ایک دن کی تو پروہنی ہے وچاری۔” شبانہ کو اچھو لگ گیا ”بارہ من کی دھوبن اور و چاری”۔ اماں نے پوچھا ”آپا منڈا کرتا کیا ہے؟” ”میداں نال دے پنڈ میں دو چنگ چیاں چلاتا ہے۔ چنگا کمائو ہے۔ مال ڈنگر بھی ہے گھر میں۔ خوش حال لوگ نیں۔” لڑکے کی اتنی خوبیاں سن کر اماں کو اپنی بیٹی کی پڑ گئی۔ ”ہائے میری شبانہ کا وی رشتہ ہو جائے تے میں بھی سکون لواں”۔





    ”رہن دے اماں! میرے لئے کوئی چنگ چی ڈرائیور ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔” شبانہ نے دانت پیس کر اماں کو گھرکا۔ ”کیوں؟ تو کوئی حور پری ہے یا ابا وزیر ہے ملک کا جو اتنے اونچے خواب نیں تیرے۔”
    ”اماں لحاظ کر لو کچھ میرا ہم مہمان آئے ہیں ادھر۔” شبو دروازے میں پا صدق کو دیکھ کر ہڑبڑا اٹھی۔ مگر اماں کہاں رکنے والی تھیں۔ شبو کی مدح سرائی جاری رکھی ”نا تو ہے تو میری دھی ایک تے بھینگی اوپر سے رنگت بھی کوئی خاص نہیں۔ اپنے ابے دی کاربن کاپی، تورشتہ آئے شاہد آفریدی دا۔ بلے وی بلے” اماں کی زبان کون روکتا۔ خالہ شیداں اور پا صدیق کے چہروں پر مسکراہٹ تھی، جب کہ شبانہ عرف شبو آنسو بہا رہی تھی اور کوس رہی تھی اس لمحے کو جب اس نے اماں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ شام کو مہندی کی رسم تھی۔ خالہ شیداں نے باقاعدہ جھٹکے دے دے کر کنیز کو اٹھایا۔ مندی آنکھوں کے ساتھ وہ منہ ہاتھ دھوتی اندر آئی خالہ کو سلام کرنے۔ شبانہ سے بھی ملی کہ پہلے بھی کوئی خْاص لگائو تو تھا نہیں پھر بھی لحاظ مروت میں آگئی کہ کل رخصت ہو جانا ہے۔ اماں حسب عادت نہ رہ سکیںا ور چھوٹتے ہی بولیں: ”ہائے کنیز کچھ پتلی ہی ہو جاتی۔ ارے وہ ڈائٹنگ ہی کر لیتی دھیے۔” مگر افسوس کنیز سنتی بھی کم ہی تھی نجانے کیا سمجھ آئی۔ ”فائٹنگ؟ خالہ نہیں میں تو سو رہی تھی اور تو تو جانتی ہے خالہ میں ہوں بھی بڑی شریف سی۔” اس نے شبانہ کو گھوری ڈالتے معصومیت سے کہا۔ ”شبانہ! تو نے ابھی تک عینک نہیں اتاری؟ ادھر کمرے میں بھی تجھے کیا دھوپ پڑ رہی ہے ادھر تو تجھے کوئی دیکھنے والا بھی نہیں آتا”۔ کنیز نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ مجبوراً خاموش رہی کہ اماں پھر نہ اسٹارٹ ہو جائیں۔ شبانہ نے بھی دل میں بدلہ لینے کی ٹھان لی کہ چھوڑوں گی نہیں تجھے کنیز باجی۔
    شدید گرمی نے مت مار رکھی تھی مگر عورتوں اور لڑکیوں کے چمکیلے بھڑکیلے لباس تو ایک دوسرے کو مات دے رہے تھی اور کسر تو شبانہ نے بھی نہیں چھوڑی تھی۔ پیلا سوٹ جس پہ اس نے خود گوٹا لگایا تھا بڑے ارمانوں سے، کانوں میں بڑے بڑے جھمکے پراندہ اور اونچی ایڑی کے سینڈل کے ساتھ لشکتے میک اپ میں خود کودوسری مونا لیزا سمجھ رہی تھی۔
    ”باجی، راستہ دے دیں۔” وہ جو جلدی تیار ہو کر صحن میں کھڑی انتظام دیکھ رہی تھی اور کڑھ رہی تھی کہ کیا تھا جو میرا بھی بیاہ ہو جاتا۔ چونک کر پلٹی تو دیکھا صدیق کسی لڑکے کے ساتھ دیگ اٹھائے کھڑا راستہ مانگ رہا تھا۔ ”ہٹ کر کھڑی ہو شبانہ، راہ دے۔ گرمی نال جان نکل رہی ہے۔” پسینے میں نہایا صدیق اب باقاعدہ گھور رہا تھا۔ ”ہائے ہائے جان دیکھو اس گنے کی اور غصہ دیکھو۔” دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتی ایک طرف ہو گئی۔ صحن سے پیچھے کھلے برآمدے میں کام والی اماں ابٹن مہندی کے تھال سجا رہی تھی۔ شبانہ بھی ادھر ہی چل دی۔ مہندی کی دھانسو تیاری میں شبانہ کا کالا چشمہ بھی شامل تھا، جسے دیکھ کر گائوں کے شریر لڑکے اور شریر ہو رہے تھے۔ ”گورے گورے مکھڑے پہ کالا کالا چشمہ” ہائے ہائے چال اور مستانی ہو رہی تھی شبو کی۔ مگر ہائے ری قسمت اس کی صاف گو اماں یہاں بھی آگئی سلطان راہی بن کے۔ ”وے اندھیو! اے میری دھی کدھروں گوری لگدی اے۔ تو اڈی بہن ہے کج تے خیال کرو بے غیرتو۔بھینگی ہے اس لئے عینک لائی اے تسی گانے گان لگ گئے او۔” اماں نے لاج کیا رکھنی تھی الٹا پول کھول کر سب کے سامنے رکھ دیا۔ منہ چھپانے کو جگہ نہ ملی۔ آئندہ کہیں بھی اماں کے ساتھ نہیں جانا۔ اس نے دل میں عہد کیا۔ لڑکے بغلوں میں منہ دے دے کر ہنس رہے تھے۔ شبو نے بسورنا شروع کیا ہی تھا کہ سٹیج سے چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگی۔ کنیز باجی سٹیج پر لڈیاں ڈال رہی تھی۔ ”ہائے اماں۔ ہائے اماں” کی گردان کے ساتھ اچھل کود ہو رہی تھی۔ مگر ایسا کچھ نہ تھا، بس کنیز کا واویلا تھا اور حیران پریشان مہمان۔ ابھی تو اسے ابٹن لگانا شروع ہی کیا تھا۔ آخر دو سیون اپ ڈکار کر اور 4 رس گلے کھا کر بولی ابٹن میں مرچیں ہیں۔ بس پھر اماں جو شروع ہوئیں گرمی سے پہلے ہی برا حال ہو رہا تھا ”نی دھی کنیز، دو گھنٹے لا کے منہ تے توں کریماں مل مل کر آئی ہے چھلے آلو جیسا منہ ہو گیا اے تیرا۔ ایس لئی مرچاں لگ رہیاں نیں۔ ”




  • دیو اور پری — سارہ عمر

    بہت پرانی بات ہے ایک دیو کا ایک بستی پر سے گزر ہوا۔ اس کی نظر اک گھر کے باغ میں کھڑی خوب صورت لڑکی پر پڑی۔
    لڑکی کیا تھی پری تھی۔ شہزادیوں کی سی آن بان والی۔ دیو نے خوب صورت لڑکی کو پانے کا فیصلہ کر لیا۔ دیو ایک خوبصورت شہزادے کا روپ دھار کر گھوڑے پر سوار اس گھر کے آگے جا پہنچا۔
    دروازے پر دستک دی اور کہا کہ شہزادہ راستہ بھول بیٹھا ہے مسافر ہے کیا پناہ مل سکتی ہے؟
    شہزادی جیسی لڑکی اور اس کے ماں باپ تو اس شہزادے کا رنگ روپ، آن بان اور شان و شوکت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے اسے گھر آنے کی اجازت دے دی۔ وہ ان کے گھر آیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ کچھ ہی عرصے میں لڑکی کے گھر والوں کو سبز باغ دکھا کر اپنی دولت کے قصے سنا کر اور اپنی باتوں میں الجھا کر ایسا ہوش سے بے گانہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی دینے پر راضی ہو گئے۔
    اس لڑکی کا نام پری تھا، لگتی بھی پریوں جیسی تھی۔ وہ تو خود شہزادے پر دل و جان سے گرویدہ ہو گئی لیکن مشرقی شرم و حیا کے باعث بول نہ سکی۔ دل ہی دل میں مستقبل کے خواب سجائے، وہ خاموشی سے اپنے سپنوں کے راجا کے سنگ رخصت ہو گئی۔
    اس کے ماں باپ بہت خوش تھے کہ دور دیس کا راجا صرف ان کی بیٹی کو لینے اتنی دور کا سفر کر کے آیا۔
    دیو شہزادے نے پری کو گھوڑے پر بٹھایا اور گھوڑا ہوا سے باتیں کرتا دوڑتا چلا گیا۔
    پری اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی اچانک اسے لگا گھوڑا سچ میں آسمان سے باتیں کرتا اوپر کی طرف جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ گھوڑا بادلوں میں گم ہوتا گیا۔ دیو کا محل بادلوں کے اوپر تھا۔





    دیو کا محل آگیا تھا۔ دیو جو ابھی شہزادے کے ہی روپ میں تھا اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ ے اپنے محل لے گیا۔ وہ حیران و پریشان تھی کہ یہ کہاں آگئی؟………
    شہزادے نے کہا: ”پری میں زمین پر سیر کرنے گیا تھا جب تم پر نظر پڑی۔ مجھے لگا کہ تمہارے بغیر میری زندگی ادھوری ہے تمہارے آنے سے میرا گھر مکمل ہو گیا۔ اب یہ تمہارا گھر ہے ہمیشہ کے لئے۔”
    پری کچھ گھبرائی اور بولی: ”لیکن میر ے ماں باپ؟ کیا میں ان سے کبھی مل نہ سکوں گی۔”
    ”نہیں نہیں اب ایسا بھی نہیں کچھ سال تو انتظار کرنا پڑے گا نا… کیوںکہ بار بار زمین پر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔”
    پری اب کیا کرتی شادی تو ہو گئی تھی۔ شہزادہ اسے لے کر بادلوں کی سیر کرتا، محل کا ایک ایک گوشہ گھماتا پھراتا رہا۔
    کئی ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ دیو اپنی اصلیت چھپاتے چھپاتے تنگ آگیا تھا۔ دیو نے ایک دن پری سے کہا: ”بہت دن گزر گئے اب تم اپنے گھر کو سنبھالو۔ مثلاً کھانا پکانا صفائی ستھرائی وغیرہ۔ پری پریشان ہوئی اور بولی:” تم مجھے ماسی بنا کر لائے ہو کیا؟”
    دیو شہزادہ بولا: ”نہیں مجھے باورچی کے ہاتھ کے کھانے نہیں پسند۔ تم دل سے میرے لئے پکائو گی تو مجھے اچھا لگے گا۔”
    پری بولی: ”لیکن میرے ماں باپ نے مجھے کھانا بنانا نہیں سِکھایا۔ شادی بھی اتنی جلدی میں ہوئی کہ کچھ سیکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔”
    شہزادہ بولا: ”باورچی سے سیکھ لو آہستہ آہستہ سب آجائے گا۔”
    پری شہزادے کی محبت میں راضی ہو گئی۔ باورچی محل کا ایک ہی ملازم تھا۔ وہ ایک جن تھا مگر اس نے اپنی اصلیت نہیں بتائی۔ وہ ایک عام انسان کے روپ میں تھا۔ باورچی نے اسے بتایا: ”پری بی بی! شہزادے صاحب کا کھانا بنانا آسان بات نہیں۔ دراصل ان کے نخرے بہت زیادہ ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی بات کا برا مان جاتے ہیں۔ شہزادے کی پسندیدہ چیز تیار کرنا جان جوکھم کا کام ہے۔”
    پری کو لگا کہ باورچی خواہ مخواہ اپنی اہمیت جتا رہاہے۔ کچھ شادی کا نشہ تھا اور کچھ اپنے حسن کا غرور جن کا شکار تو شہزادہ ایک ہی وار میں ہو گیا تھا۔ پری دل لگا کر سیکھنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس نے باورچی کے ساتھ مل کر بہت محنت سے کھانا بنایا۔ مصالحے وغیرہ اپنے ہاتھ سے ڈالے تا کہ اس کا شوہر اس کی محنت و محبت کا حترام کرے ۔
    کھانا میز پر لگایا گیا۔ شہزادے نے جیسے ہی کھانا چکھا اس کے غیظ و غضب کی انتہا نہ رہی۔ وہ غصے سے چلایا: ”اتنا نمک اور اتنی مرچ کتنا بد مزہ کھانا بنا کر رکھا ہے میرے آگے۔ ”
    وہ ایک شیر کی طرح دھاڑا اور اسی وقت اس کا شہزادے والا روپ ختم ہوا اور لبادہ اُتر گیا۔ اس کی جگہ ایک دیو نے لی۔ معصوم پری اس صورتِ حال سے گھبرا کر چلاتی ہوئی سیڑھوں سے اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے کمرے میں کنڈی لگا کر بے تحاشا روئی۔ روتے روتے وہ کمرے کی واحد کھڑکی کے پاس آگئی اور باہر دیکھتے ہوئے رونے لگی اور اس کے آنسو قطار در قطار بادلوں پر گرنے لگے۔ ننھے ننھے موتیوں نے پانی کے ڈھیر سارے قطروں کی شکل اختیار کر لی اور بادل بہت زور سے کڑکے اور برش برسنے لگے گئی۔ پری روتی جاتی تھی اور بارش کی جھڑی رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔
    پری کا دل بہت بری طرح ٹوٹا تھا۔ کہاں وہ نازک پری شیشے جیسی کانچ جیسی آبگینے کی طرح اور کہاں وہ ظالم دھاڑتا ہوا دیو۔ اوپر سے اس کے سامنے اس کی بنائی ہوئی چیز کی برائی۔ بھلا گھر میں اس کے ساتھ کبھی ایسا سلوک ہوا تھا۔ اب ماں باپ کی یاد نے اس کا دل اپنی مٹھی میں لے لیا۔ دھیان دیو سے ہٹ کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا تھا۔ اپنے ماں باپ کے پاس۔ ناجانے کس حال میں ہوں گے۔
    موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ کتنے عرصے بعد بارش ہوئی تھی۔ پری کی ماں نے ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا تاکہ بارش کے کچھ قطرے سمیٹ لے۔ لیکن پانی کے یہ قطرے جیسے ہی اس کے ہاتھ پر پڑے۔ اسے لگا یہ قطر ے نہیں پری کے آنسو ہیں۔
    اس کا دل بہت بری طرح بے قرار تھا۔ وہ پریشانی سے پری کے باپ سے بولی: ”کتنے دن ہو گئے پری کی کوئی خیر خبر نہیں۔ کیا تمہارے پاس اس کا پتا تک نہیں؟” پری کا باپ بھی اداس تھا۔ وہ اپنی کم عقلی پر حیران ہوا کہ واقعی مجھے اس کا پتا پوچھنے کی فرصت نہ ملی اور یوں انجان شخص کے ساتھ اپنی پھول سی بیٹی بھیج دی۔ نہ جانے کس حال میں ہو گی۔ دونوں ماں باپ اب پری کے لئے بے چین اور مضطرب سے ہو گئے۔
    پری نے آہستہ آہستہ حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا۔ کیا کرتی شادی جو ہو گئی تھی۔ اس نے کھانا پکانا بھی سیکھ لیا تھا۔ وہ سارا سارا دن محل کی صفائی کرتی، کھانا پکاتی ،برتن دھوتی اور کپڑے دھوتی۔ حالاںکہ دیو چاہتا تو اسے کچھ نہ کرنا پڑتا۔ لیکن وہ چاہتا تھا کہ وہ اتنا تھک جائے کہ اسے اپنے گھر کی یاد نہ ستائے۔ اپنے ماں باپ سے ملنے کی خواہش نہ ہو کیوںکہ اگر وہ زمین پر چلی گئی اور میری اصلیت بتا دی تو بھلا اس کے ماں باپ اسے دوبارہ کب آنے دیں گے۔ اس سوچ نے دیو کو خود غرض بنا دیا۔
    پری کو ہر وقت غم رہتا کہ اس کے ماں باپ نے اس کی شادی جس انسان سے کی وہ کیا نکلا؟ سب پیار، محبت، عزت واحترام کے وعدے ہوا ہو گئے اور بس کچھ ہی مہینوں میں اس کی اہمیت ختم ہو گئی۔
    پری دن رات وہاں سے نکلنے کے منصوبے بناتی۔ لیکن کیسے؟ کیا کرے؟ کھڑکی سے چھلانگ لگا دے؟ بادلوں پر گرے گی تو کہاں جائے گی؟ اسے لگتا کہ دیو اس کو قید میں ڈال کر بھول گیا ہے۔




  • آئینہ اور فضّہ — کومل ذیشان

    آئینہ اور فضّہ — کومل ذیشان

    اسائنمنٹ مکمل کرتے ہوئے اس نے پانچویں، چھٹی بار اضطراب میں سر اٹھا کر سامنے دیکھا، کھڑکی کے شیشے پر رنگ برنگی جلتی بجھتی روشنیوں کا عکس تھا۔ جلتی بجھتی روشنیاں جو اسے لمحہ بہ لمحہ اندھیرے میں دھکیل رہی تھیں، دل ڈوبتا تھا پھر ڈوبتا تھا پھر ابھرتا تھا۔ باہر شدید سردی تھی اندر چلتے ہیٹر کی حدت کے باعث شیشے پر پانی کے قطرے پھسلتے تھے وہ بے ارادہ ہی کتنی دیر ان قطروں کو اوپر سے نیچے پھسلتا دیکھتی رہی ساتھ والے گھر میں شادی تھی ہفتہ پہلے سے ہی ڈھولک شروع ہوگئی تھی اس کے گھر والے بھی مدعو تھے۔ اس وقت سب وہیں گئے ہوئے تھے امی، ابا، آئینہ مگر وہ نہیں گئی تھی، کیسے جاسکتی تھی کل بائیو کیمسٹری کی اتنی اہم اسائنمنٹ جمع کروانی تھی سو گہری سانس لے کر سر دوبارہ جھکایا مگر دھیان کہیں اور تھا اور دل بھی۔ وہاں سے آتی ڈھولک اور گانوں کی آوازیں، قہقہے اور باتیں اس نے سر سامنے پھیلے کاغذوں پر رکھ دیا جن پر لکھے نیلے حروف اس کے آنسوؤں سے پھیلتے چلے گئے۔





    دفعتاً اسے احساس ہوا کمرے میں کسی نے جھانکا ہے وہ تیزی سے چہرہ صاف کرکے واپس مصروف نظر آنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسائنمنٹ بنی نہیں ابھی تک اگلے پل آئینہ اس کے سر پر کھڑی پوچھ رہی تھی، نہیں ابھی تو کک… کافی کام رہتا ہے وہ قلم تیزی سے کاغذ پر چلاتے ہوئے بولی تھی۔ آئینہ نے غور سے اس کے جھکے سر اور کاغذ پر پھیلے گیلے حروف کو دیکھا۔ فنکشن ختم نہیں ہوا ابھی اب کی بار اس نے سر اُٹھا کر پوچھا تھا۔ ”نہیں ابھی تو ان کا کافی دیر جاگنے کا پروگرام ہے” آئینہ نے اس کی سوجی ہوئی آنکھوں سے بے اختیار نظریں چرائیں۔ ”تم کہتی ہو تو میں آجاتی ہوں امی، ابا تو آگئے ہیں واپس تمہاری مدد کروا دیتی ہوں۔ نہیں تم وہاں رہو خالہ کو برا لگے گا۔” آئینہ نے بے اختیار گہری سانس لی وہ جانتی تھی کہ وہ اس وقت اکیلے رہنا چاہتی ہے۔ ”چلو تم اسائنمنٹ مکمل کرلو میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں” وہ اس کے سر کو نرمی سے سہلاتے ہوئے بولی تھی۔ کمرے سے باہر جاتے ہوئے اس نے مُڑ کر دوبارہ فضہ کو دیکھا جو واپس اسائنمنٹ پر جُھک گئی تھی اور باہر نکل گئی کسی کے ہاتھوں رد ہونا یقینا ایک تکلیف دہ چیز ہے مگر اس کے ہاتھوں رد ہونا جس سے دل وابستہ ہو اس تکلیف کو ناپنے کا شاید کوئی پیمانہ نہیں بن سکتا، اس توہین کو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے بے حد مشکل۔
    آئینہ نے کپڑے تہ کرتے ہوئے پانچویں چھٹی بار اس کی طرف دیکھا تھا، جو پچھلے آدھے گھنٹے سے بے حس و حرکت ٹیرس میں کھڑی تھی نگاہیں بھی تب سے مسلسل ایک ہی جگہ پر ٹکی تھیں۔ ٹیرس سے خالا کے گھر کا برآمدہ اور لان نظر آتا تھا۔ سرمد کی شادی کو ایک ہفتہ گزر بھی گیا تھا آج کل ان کے گھر خوب رونق لگی ہوئی تھی۔ بیٹیوں نے ابھی تک میکے میں ہی ڈیرہ ڈال رکھا تھا نئی نویلی بھابھی کے خوب چاؤ چونچلے کیے جارہے تھے۔ دو دن بعد دلہا، دلہن ہنی مون پر جانے والے تھے سو ان کے جانے کے بعد ہی دونوں بیٹیوں نے بھی سسرال سدھارنا تھا۔ ”فضّہ ذرا میری مدد کروا دو صبح سے میں اکیلے ہی لگی ہوئی ہوں” آئینہ نے ہمت کرکے بلآخر اسے پکارا وہ اس کی آواز پر یکدم چونک کر پلٹی۔ مجھے دھیان نہیں رہا پریشانی میں اس کی لکنت بڑھ جایا کرتی تھی۔ آئینہ نے اس کے خوبصورت چہرے پر بکھرے آزردگی کے رنگ کو دیکھا کچھ کہنے کے لیے لب کھولے مگر پھر خاموش ہوگئی۔
    وہ جہاں کھڑی ہوجاتی تھی کسی بیش قیمت ہیرے کی طرح سب میں الگ سے چمکتی ہوئی نظر آتی تھی، یہ خوبصورتی اور انفرادیت صرف اس کی صورت تک محدود نہیں تھی اخلاق، کردار، تعلیم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ بس جس ایک چیز نے اس چمکتے چاند پر گرہن لگایا تھا وہ اس کی پیدائشی کمزوری تھی اس کی زبان کی لکنت سرمد کی شادی طے ہونے سے پہلے تک آئینہ کو اس کے دل میں موجزن اس جذبے کی شدت کا احساس نہیں تھا۔ وہ اندر کہیں اس کی پسندیدگی کو جانتی اور سمجھتی تھی۔ وہ سب اکٹھے پلے بڑھے تھے اور جس طرح ان دونوں کی آپس میں دوستوں والی بے تکلفی تھی، جس طرح سے خواہ وہ پڑھائی کا معاملہ ہو یا کچھ اور وہ اس کی مدد کیا کرتا تھا ہر جھگڑے، ہر گیم میں اس کی طرف داری کیا کرتا تھا وہ بھی یہی اندازہ لگا پائی تھی کہ وہ فضہ کو پسند کرتا ہے۔ امی کو بھی سرمد کے جھکاؤ کے بارے میں اندازہ تھا وہ تو بلکہ خالہ کی طرف سے رشتہ مانگنے کے انتظار میں تھیں۔ ”ہاتھ چلانا بند کیوں کردیئے ہیں۔” فضہ نے اس کو ہلایا تو وہ سوچتے سوچتے ہوش میں آئی تھی۔ اس نے نرمی سے اس کے ہاتھ تھام لیے: ”زندگی میں نافضہ دل ٹوٹتے، جڑتے رہتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ہر ایک کی زندگی میں کبھی نا کبھی ایسا مرحلہ آتا ہے مگر جو اس چھوٹے سے فیز میں اپنی پوری زندگی کو قید کردیتا ہے وہ ایک دن ضرور پچھتاتا ہے۔” اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا فضہ جو اس سے اس بات کی توقع نہیں کررہی تھی اس نے شرمندگی سے سر جُھکا لیا وہ یہ کیسے بھول گئی وہ آئینہ تھی اس کی سگی بہن اس کے کہے اور بن کہے لفظوں کو اس سے بہتر اور کون سمجھ سکتا تھا۔ بچپن سے اب تک اس کو سنبھالنے، اس کو سمجھنے کی ذمہ داری وہی تو اٹھاتی آئی تھی۔ اتنے سال اس نے مجھے غلط فہمی میں مبتلا رکھا اس نے سر اٹھایا تو اب کی بار آنکھوں میں آزردگی اور تکلیف نہیں غصہ تھا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے اسے اندازہ نہ ہو آئینہ کو اس پل اس کی جلتی آنکھوں سے خوف آیا تھا جن کے شعلے بار بار ان میں ابھرنے والے آنسو بُجھا دیتے تھے پھر تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ بھڑکنے لگتیں مجھے یقین نہیں آتا کہ اس نے خالا کے سامنے میرے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے۔ آئینہ اس کی بات پر چونکی تھی یکدم اسے اس کے اتنے شدید ردعمل کا سبب سمجھ میں آیا تھا اس کا دل ٹوٹا تھا اس لیے نہیں کہ سرمد نے اسے رد کیا تھا بلکہ اس کے دل ٹوٹنے کی وجہ وہ سبب تھا جس کی وجہ سے وہ ردکی گئی تھی۔ وہ آئینہ کو بتاتی چلی گئی تھی سارا کچھ امی کی طرح خالہ کو بھی یہی خیال گزرا تھا کہ اس کا انتخاب فضہ ہی ہوگی اسی سلسلے میں انہوں نے اس سے بات کی تھی۔ وہ جو اپنے دھیان میںمگن امی کا پیغام لیے کمرے میں داخل ہونے لگی تھی ان کی بات سن کر اس کے قدم دروازے پر تھمے تھے۔ خالہ کی بات پر اس کی سانس رک گئی تھی وہ دم سادھے سرمد کے جواب کی منتظر تھی وہ جواب میں ہنس پڑا تھا اس کے ہنسنے سے اسے توہین محسوس ہوئی تھی، شدید توہین، ٹانگیں لرزی تھیں۔ ”امی میں اس کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیسی باتیں کرتی ہیں آپ ترس کھا کر میں اس کی مدد کردیتا ہوں یا اس کا دل رکھنے کے لیے بات چیت کرلیتا ہوں انسان ہونے کے ناتے اس سے ہمدردی رکھتا ہوں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اس کو ساری زندگی کے لیے اپنے سر منڈھ لوں۔ مجھے ایسی بیوی چاہئے جس کے ساتھ چلتے جسے لوگوں سے ملواتے میں فخر محسوس کروں جو میرے لیے سکون کا باعث ہو نہ کہ مصیبت بن جائے۔” ماں کو اس کے جواب پر یقین نہیں آیا تھا وہ تو اتنا عرصہ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہی تھیں کہ فضہ کی طرف اس کا جھکاؤ ہے اسی لیے وہ اپنی بہن کو اشاروں کنایوں میں رشتے کا عندیہ بھی دے چکی تھیں۔ ”اس کی ایک بات سننے میں پتا ہے کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔” انہوں نے سرمد کی بات پر تاسف سے اس کی طرف دیکھا پھر ان کی نظر سامنے اٹھی تھی جہاں سفید پڑتے چہرے کے ساتھ فضہ کھڑی تھی وہ دروازے میں کسی مجسمے کی طرح ایستادہ تھی۔





    ”بعض اوقات ہمیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن کا سامنا ہم نہیں کرنا چاہتے، ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو ہماری ذات میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں مگر ایک بات بتاؤں میں تمہیں۔” آئینہ نے اسے دھیرے سے تھام کر بیڈ پر بٹھا دیا اور خود بھی تکیے اور کپڑوں کو آگے دھکیل کر بیٹھ گئی ”لوگ، حالات، دنیا بعض اوقات قابل مذمت ضرور ہوتے ہیں قابل نفرت نہیں، سو دلیلیں ہوتی ہیں ان کے پاس کہ وہ حق پر ہیں سو ان کو ان کے برے رویوں سمیت ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ تم بھول جاؤ اس کو اور اس منظر کو۔” آئینہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ آئینہ کے مطابق مذمت کا بہترین طریقہ یہی تھا معاف کرو دو اور آگے بڑھ جاؤ۔ پتا نہیں فضہ نے اس کی بات کو کتنا سنا اور کتنا مانا تھا مگر اس کے بعد اس نے کبھی ٹیرس میں کھڑے ہوکر ان کے گھر کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ دن بہ بدن مصروف ہوتی چلی گئی اور بدلتی چلی گئی۔ آج کل وہ ایک بڑی نامور فرماسوٹیکل کمپنی کے ساتھ کام کررہی تھی۔ وہاں اس کے کولیگز اس کی ذہانت اور قابلیت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے اور یہاں گھر میں رشتے کے لیے آنے والوں کے ہاتھوں جانے کتنی بار اس نے ذلت کی گہرائیاں دیکھی تھیں، اندھی اندھیری گہرائیاں وہ جیسے سم سم کے بال کی طرح ہوگئی تھی جس کا دل چاہتا آسمان کی طرف اچھال دیتا اور جس کا دل چاہتا زمین پر مار کر لطف اندوز ہوتا۔ سم سم کی بال جو زمین پر جتنی زور سے ٹکراتی ہے آسمان کی طرف بھی اسی زور اور شدت سے اٹھتی ہے۔ اسی مدوجذر میں ڈوبتے ابھرتے اس کی زندگی بھی گزر رہی تھی۔ اب اس سے جو بھی پہلی بار ملتا وہ اس کے بارے میں بہت سنجیدہ، لیے دیئے رہنے والی، کم گو اور اردگرد کی ہر چیز سے بے نیاز کڑوی سی لڑکی کا تاثر لے کر اٹھتا رفتہ رفتہ یہ شکایت اس کے رشتے داروں اور دوستوں کو بھی ہونے لگی اور دوسری طرف آئینہ کے سبھی دیوانے تھے فضہ کے پس منظر میں چلے جانے کے بعد وہ اور نمایاں ہوگئی تھی۔ اب تو یہ صورت حال تھی فضہ جلتا ہوا مشرق تھی تو آئینہ ٹھنڈا ٹھار مغرب کا حساس، مٹھاس سے بھری، زندہ دل فضہ کہیں کھو گئی تھی اور آئینہ اس کھوئی ہوئی فضہ کو واپس لانا چاہتی تھی، جو سورج کی دھوپ اور بارشوں کو پہلے کی طرح محسوس کرے، جسے پھولوں پر منڈلاتی تتلیاں اچھی لگیں، جو ہمسایوں کی بہو پر ظلم ہونے پر تلملائے، بجلی جانے پر حکومت کو کوسے، اپنے جذبوں کا اظہار کرتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو، گھبرائے نہیں تلخی سے ایک لفظ پر بات ختم نہ کردے، اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے والی فضہ، اپنے خوابوں کے پیچھے دوڑنے والی فضہ، اور نچی آواز میں قہقہہ لگانے والی فضہ آئینہ کو وہی فضہ چاہیے تھی یہ والی نہیں جو لوگ اب اسے جانے کن کن القابات سے نوازتے تھے انہی لوگوں کے رویوں نے چھوٹی سی جسمانی کمزوری کے باعث اسے ایسا کردیا تھا بار بار ٹھکرائے جانے کے احساس اور اپنے خوابوں کے مسمار ہوجانے نے اس کی شخصیت کو بدل ڈالا تھا۔
    ”تمہیں پتا ہے خالہ کل امی کے پاس کافی دیر بیٹھ کر گئی ہیں بہت رو رہی تھی۔ ”آئینہ ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی فضہ جو تکیہ گود میں دھرے بیٹھی تھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کچھ تھا اس کی بات کرنے کے انداز میں جسے آئینہ نے محسوس کیا تھا ”اچھا کیوں رو رہی تھیں خالہ” آئینہ نے سامنے اپنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا اس کے باوجود کہ امی اسے سب کچھ بتا چکی تھیں۔ سرمد نے بغیر کسی کو بتائے نیشنیلٹی حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ میں پیپر میرج کی تھی وہ لڑکی نیشنیلٹی ملنے سے عین پہلے اس سے طلاق لے کر چلی گئی۔ زرقا کے گھر والوں کو پتا نہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ وہاں کیا گل کھلا رہا ہے انہوں نے خالا سے بہت جھگڑا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں یا تو وہ زرقا کو فوراً اپنے پاس بلائے نہیں تو طلاق دے۔ جب کہ اس نے خالہ کو کہا ہے کہ وہ نیشنلٹی حاصل کیے بغیر اس کو ہر گز نہیں بلائے گا میرا تو خیال ہے وہ پھر سے پیپر میرج کے لیے پرتول رہا ہے۔ آئینہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی کتنے عرصے بعد وہ یوں بغیر رکے لگاتار بول رہی تھی۔ تمہیں خوشی ہوئی ہے اس بات سے فضہ کو بولتے بولتے بریک لگا تھا وہ اس جملے کی توقع نہیں کرسکتی تھی وہ بھی آئینہ کے منہ سے وہ ہکّا بکّا اسے دیکھ کررہ گئی۔ ”تمہیں میں ایسی لگتی ہوں۔” ”نہیں تم ایسی نہیں ہو۔” وہ تکیے سے ٹیک لگاتے اپنا جوڑا کھولتے ہوئے نرم لہجے میں بولی تھی اصل میں اتنے سالوں میں مجھے عادت نہیں رہی تمہارے منہ سے کسی کے بھی بارے میں کوئی بات، کوئی رائے، کوئی تبصرہ سنوں اس لیے سوچا اس میں کچھ تو غیر معمولی ہے۔ فضہ نے شرمندگی سے سرجُھکا لیا چہرہ سرخ ہوا تھا کیا پتا میرے نفس کو اس سے کچھ اطمینان ملا ہو اب کی بار لکنت زدہ جملے میں لرزش شامل تھی وہ شرمسار لگ رہی تھی اسے آئینہ نے جیسے اس کے نفس کا چہرہ دکھایا تھا اسے گھن آئی تھی۔ تو تم پھر ایسا کرو کہ اپنے اس نفس کو سزا دو فضہ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، آج واقعی اس کے لیے دل میں موجود ہر جذبے کو نکال باہر کرو محبت، نفرت اور مذمت سب کچھ اس گندے پانی کو بہ جانے دو جو تمہارے اندر تعفن پھیلا رہا ہے فضہ یک ٹک اسے دیکھے گئی تھی۔
    ان دنوں آئینہ کے لیے ڈھڑا ڈھڑ رشتے آرہے تھے ساتھ امی ابا اس کے لیے بھی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ عرصے بعد آئینہ کی شادی طے ہوگئی تھی وہ اس کے لیے بے حد خوش تھی مگر اس کے بچھڑنے کے احساس سے شدید اداس مہندی کے فنکشن پر سب مگن تھے ڈھولک، گانے، مذاق، رنگ برنگے قمقوں میں مُسکراتے کھلکھلاتے چہرے وہ کونے میں موجود ہاتھ کے آخری ٹیبل پر آبیٹھی سب کھانا کھانے میں مصروف تھے وہ آئینہ کو سٹیج پر کھانا کھلا کر ابھی یہاں آکر بیٹھی تھی۔ کھانے کے بعد ساری کزنوں نے آئینہ کا محاصرہ کرلیا تھا وہاں بجتی ڈھولک کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی اس نے زرقا کو دیکھا جو سُرخ لباس زیب تن کیے، ڈھیر سارا سونے کا زیور پہنے، گہرے سرخ رنگ کی لپ اسٹک لگائے مگر چہرے پر گزرے تین سالوں کی خزاں کا عکس اور گرد لیے گود میں منا سا گل گوتھنا ارقم تھا۔




  • چپ — عزہ خالد

    برتنوں کا ڈھیر دھو کر فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔
    کمرے اور کچن کے بیچ اتنا فاصلہ تو نہ تھا مگر پھر بھی اس کی سانس پھول گئی تھی۔
    سامنے دیوار پر لگے کیلنڈر پر نظر پڑتے ہی اسے کچھ یاد آیا تھا۔ ”بارہ جون…”
    یہ جون کی بارہ تاریخ توکچھ جانی پہچانی لگتی ہے۔ کوئی نہ کوئی خوش گوار یاد تو وابستہ ہو گی اس دن سے…
    کچھ نہ کچھ تو ہے اس دن… مگر کیا…؟؟
    دماغ کے کسی کونے کھدرے سے ایک یاد برآمد ہوئی تھی۔ ایک چھوٹی سی گڑیا… خوب صورت فراک پہنے… بالوں میں رنگ برنگی پنیں لگائے… سامنے میز پر رکھا کیک کاٹ رہی تھی…





    ”ہیپی برتھ ڈے…” کا شور… ہنستے مسکراتے چہرے… (جو جانے کہاں کھو گئے تھے…)
    اوہ… آج تو مرحومہ ہادیہ عبدالباسط کی سالگرہ ہے… جو کبھی بڑے اہتمام سے منائی جاتی تھی۔ دونوں بھائی پورے گھر میں غبارے لگاتے تھے۔
    اب معلوم نہیں وقت بدل گیا تھا یا بھائی…
    کمرے میں داخل ہونے سے بستر پر بیٹھنے تک اس کی نظریں کیلنڈر سے نہ ہٹی تھیں۔
    اس کی عمر کتنی ہے…؟؟
    بہت سوچنے اور دماغ پر زور دینے کے بعد وہ حساب لگا پائی تھی۔
    آج وہ بتیس سال کی ہو گئی ہے۔
    بتیس سال…
    آج اس کے اس دنیا میں بتیس سال پورے ہو گئے ہیں۔
    عمر بتیس سال
    ہاتھ… خالی
    دل… خالی
    دامن … خالی
    جانے اس دنیا میں آنے والوں کو عمر، خوشی غم کس حساب سے تقسیم کیے جاتے …
    کسے کتنے سال جینا ہے…؟
    کس کے حصے میں کتنی خوشیاں ہیں…
    کتنے غم ہیں…
    کتنے گھنٹے مسکرانا ہے…
    کتنے گھنٹے آنسو بہانا ہے…
    کس کے لیے زندگی ”گلزار” ہے اور کس کے لیے زندگی ”بوجھ” ہے۔ کچھ زندگی کے اس سفر پر ہنستے مسکراتے بے فکری سے چلے جا رہے ہیں اور کچھ اسے بوجھ کی طرح گھسیٹے جا رہے ہیں۔
    اور اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اس بوجھ سے آزاد ہو جائیں۔
    وہ ”ہادیہ عبدالباسط” خود کو زندوں میں شمار نہیں کرتی تھی۔
    وہ مر چکی ہے…
    زندہ لوگ ہنستے ہیں مسکراتے ہیں… خوش ہوتے ہیں…
    اسے ہنسے مسکرائے اتنا عرصہ ہو گیا کہ اسے خود بھی یاد نہیں وہ آخری مرتبہ کب ہنسی تھی؟
    زندہ انسانوں کو جب کوئی برا بھلا کہے تو وہ پلٹ کر جواب دیتے ہیں۔ پلٹ کر جواب دینے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو بھی انہیں تکلیف محسوس ہوتی ہے… پر اسے صبح سے شام کوئی کچھ بھی کہے … جتنا چاہے ذلیل کرے … اسے ذرا فرق نہیں پڑتا…
    زندہ انسان خواب دیکھتے ہیں…
    اس کا خوابوں سے کوئی لینا دینا نہیں…
    (ماضی میں رہا ہو تو یاد نہیں…)





    وہ گونگی نہیں پر دو چار دن میں ایک آدھ جملہ ہی بولتی ہے…
    چند گنے چنے جملوں کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں کرتی …
    خواہشیں… وہ کیا بلا ہیں…؟ اسے نہیں معلوم …
    خوشی، غم، خواب، خواہش، دکھ، تکلیف… یہ سب اس کے لیے ایسی زبان کے لفظ ہیں جن کی وہ حروف تہجی سے بھی واقف نہیں… تو وہ کیسے خود کو زندہ لوگوں میں شمار کرے۔
    ماضی میں شاید اس زبان سے شناسائی رہی ہو… تھوڑی بہت جان پہچان رہی ہو… مگر اب… اب تو جیسے یادداشت پر گرد کی موٹی تہ جم گئی ہو…
    آج سے پہلے اسے کبھی اتنا وقت ہی نہ ملا تھا کہ فرصت سے بیٹھ کر ماضی کو یاد کر سکے… اس گرد کی موٹی تہ کو صاف کرے… زندگی کی جمع تفریق کرے… کیا کھویا… کیا پایا… ”پایا” والا خانہ خالی تھا۔
    ”کھوئے” والے خانے میں ایک لمبی فہرست تھی…
    بھائی بھابھی بچوں کے ساتھ کسی عزیز کے ہاں شادی پر گئے تھے۔
    وہ طویل سانس لیتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی تھی۔
    ایک گڑیا تھی گھر بھر کی لاڈلی… بابا کی جان…
    بابا اس کی فرمائشیں پوری کیے جاتے… بھائی لاڈ اٹھاتے نہ تھکتے تھے… اور امی بس اس کی باتوں پر مسکرائے جائیں۔
    پھر وقت بدلا، منظر بدلا، گھر کے باہر ایمبولینس آکر رکی…
    آفس جاتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور وہ ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گئے…
    ان کی زندگی کا دیا بجھ گیا وہ بس یاد کی صورت میں رہ گئے…
    معاشی حالات بگڑے … وقاص بھائی نے تعلیم کے ساتھ ساتھ جاب بھی شروع کی… وقار بھائی شام کے وقت اکیڈمی میں پڑھانے لگے…
    حالات بہت اچھے تو نہ ہوئے پر گزارا اچھا ہونے لگا۔
    وہ کالج جانے لگی… راستے میں کھڑا آوارہ چھچھورے لڑکوں کا گروپ … اسے دیکھ کر گانے گاتا… جملے کستا…
    گھر آکر امی سے کہا… تو انہوں نے اسے ”چپ” رہنے کو کہا…
    ارادہ تھا کہ بھائیوں کو بتا کر ان کی طبیعت صاف کروائے گی۔ مگر امی نے سختی سے منع کر دیا۔
    ”کوئی ضرورت نہیں ہے… وہ جھگڑ پڑیں گے… بات بڑھ جائے گی… تم بس خاموش رہا کرو… گھر سے کالج اور کالج سے گھر… کسی کی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں…” امی نصیحتیں سن کر وہ بس انہیں دیکھتی رہ جاتی۔
    اس آوارہ گروپ کی ہمت اس کی خاموشی سے مزید بڑھی اور وہ اسے کالج تک چھوڑ کر آنا انہوں نے اپنی ڈیوٹی سمجھ لیا تھا۔
    ادھر اس کا گریجویشن ہوا ادھر ساتھ والے محلے کی خاتون مٹھائی کا ڈبہ لیے رشتہ لے کر پہنچ گئی…
    ”میں اپنے بیٹے اکمل کا رشتہ لے کر آئی ہوں… مین روڈ پر جو ورکشاپ ہے اس میں کام کرتا ہے…”
    فضیلہ بیگم حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھیں جو اپنے نکمے بیٹے کا رشتہ لے کر آئیں اور انہیں پورا یقین تھا کہ ”ہاں” ہو گی تبھی مٹھائی کا ڈبہ ساتھ لے کر آئی تھیں۔
    ”مجھے اکمل نے ہی بھیجا ہے آپ کو آپ کی بیٹی نے بتایا ہو گا…” انہوں نے فضیلہ بیگم کی حیرت دور کرنا چاہی تھی۔
    فضیلہ بیگم نے کچن کی کھڑکی میں کھڑی ہادیہ کودیکھا تھا جسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان چھچھوروں میں سے اکمل تھا کون سا …
    ”بہن میں معافی چاہتی ہوں… آپ کے بیٹے اور میری بیٹی کا کوئی جوڑ نہیں ہے… میری طرف سے انکار…” ابھی فضیلہ بیگم کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ خاتون بول پڑیں۔
    ”یہ بات تو اپنی بیٹی کو سمجھانی تھی نا… کیوں سج دھج کر باہر نکلتی تھی… میرے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسایا… میں تو آنا بھی نہیں چاہ رہی تھی… اکمل کی ضد کی وجہ سے آگئی…” وہ خاتون سو باتیں سنانے کے بعد مٹھائی کا ڈبہ اٹھا ئے واپس چلی گئی۔
    امی کو اپنی جانب عجیب نظروں سے دیکھتا پا کر اس نے انہیں بتایا کہ یہ اس کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔ اس نے ان کی ہدایت کے مطابق کسی کو ایک لفظ نہیں کہا تھا۔
    ”چھوڑو… دفع کرو…”
    ”بھائیوں کو نہ بتانا…” امی کی ہدایت پر وہ صرف حیران ہوئی تھی وہ بھلا انہیں بتاتی بھی کیا…
    امی کے نزدیک ہر مسئلے کا حل ”چپ” تھا۔
    پھر منظر بدلا۔
    دونوں بھائیوں کی شادی ہو گئی… کچھ دن اچھے گزرے پھر بھابھی کے رویے میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔