Tag: افسانہ

  • میزانِ بریّہ — راؤ سمیرا ایاز

    زمین کی کوکھ میں سب جب دکھ پنپ جائیں تو ہر فصل کے بیچ میں سیاہی مائل رنگوں کا بسیرا ہوتا ہے جو پھر نسل در نسل زمین کی کوکھ سے فصلوں کی کوکھ تک میں جا اترتا ہے۔
    وہ بھی ایسے ہی اک فصل کا بیچ تھی…
    حاکمیت کے عنصر کی مٹی کے غو سے بیچ پاتا وہ سانس لیتا وجود یوں زندہ تھا کہ چلتے ہوئے زمین پہ رکھتے جوتوں کی آواز تو کیا سانس کی ”آہ” تک بھی ہوا میں جذب ہوجاتی تھی۔
    سرخ پٹوں والی اس کھڑکی کے سامنے بیٹھے وجود پر کسی مٹی کے پتلے کا ساگمان ہوتا ہے…
    جس میں ”اذن” کا تصور اک خیال ہی ثابت ہوتا اگر جو روشنی کی نگاہ حیرت کا منبع بن کر نہ تکتی اسے…جو جھکے سر کے ساتھ سفید کورے کاغذ پر اپنی پوری ہمت و طاقت کے ساتھ نبرد آزما تھا… ہمت و طاقت … جو اک خواب و خیال سے بھی کہیں بڑھ کر تھی … کوئی سیات…
    کورے کاغذ پر بکھرتے وہ الفاظ …اک انجانی دنیا کو بیان کرتے تھے… ایسی دنیا، جس کی زمین بھی سرخ تھی اور آسمان بھی احمریں… اور یہ احمری رنگ بھی بوجھ تھا جیسے … مگر ہر بوجھ کا سہار بھی ہوتا ہے دنیا میں… اس کا بھی تھا… ایک رازداں… ایک نگہباں…
    جہاں کسی کی نظر نہ جاسکی تھی۔
    ترچھی ہوئی روشنی نے رُک بدلا تو پتلے نے جنبش کی تھی۔
    وہ اٹھا اور کمرے کی دہلیز کو پار کر گیا ۔ مگر سیڑھیاں اترنے سے بھی پہلے اک آواز اس کے قدموں کو روکنے کا جواز بن گئی۔
    ”میں نے سنا ہے کہ کل تم باغ کے عقبی حصے کی طرف گئیں تھیں۔”
    خالی گھر کے اندر گونجتا وہ اک آسیب زدہ آواز تھی۔
    تھرتھرائی پلکوں نے اس بے حد لمبے بیک والے صوفے کی نشست پر بیٹھے وجود کو دیکھا۔
    ”میں نے وہاں مانو کو جاتے دیکھا تھا اسی لئے …” نرم آواز میں خشکی کی تہہ تھی براؤن لب بھینچے تھے۔
    ”مانو۔” لمحے بھر جھکی سرد آنکھیں دوبارہ اٹھیں۔
    ”وہ ایک جانور ہے… اور جانوروں کی پیروی انسانوں کے لائق نہیں ہے نادان لڑکی، دوبارہ ایسا عذر اور ایسا بے وقوف قدم میں برداشت نہیں کرسکتی۔”
    سرد آنکھیں …لکڑی کا سا سخت وجود… اور پتھرکے قدم…
    وہ وہیں کھڑی رہ گئی… اس نے وہاں بے انت پھیلی خاموشی اور کہر ماحول کی یاسیت کو دیکھا… جسے بیان کرنے کی سعی لاحاصل تھی۔
    مگر اس نے اس لاحاصل کا ایک ”معبد” دریافت کررکھا تھا۔
    ہاں… وہی … اک رازداں… ایک نگہباں…!
    ایک ایسا ”روزن” جسے دریافت کرنے کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب ہم اپنوں کو ہی اپنا یقین دلانے میں بے حد دوجہ ناکام ہوجاتے ہیں۔
    قدم بہ قدم چلتے وہ اس بے انت پھیلے سخت دیواروں کے ہجوم سے باہر نکلی تو سر پہ ٹھہری ان نیلی گہری آنکھوں نے اسے دیکھ کر ایک دفعہ جھپکی لی اور پانی کا دھارا نکل گیا۔ وہ بے بسی سے ۔ رستی اُن آنکھوں کا قہر دیکھتی رہی جو پانی کی صورت زمین پہ بہہ رہا تھا۔
    اور وہ … اس کا ”روزن” … پانی اس کا رستہ روکے ہوئے تھا۔
    تبھی ایک نرم سی چمک میں ڈوبی ان گہری سرمئی آنکھوں نے اسے دیکھا تو بے ساختہ ہی اس کی مٹھی سے کاغذ پھسلا… اور اس نے وہ کاغذ اپنے اس روزون کی طرف بڑھتے دیکھا۔
    کسی کی ذات کا آخری سہارا … آخری پناہ گاہ…
    ٭…٭…٭





    اس کی سانس پھولی ہوئی تھی… دونوں ہاتھ سر پر رکھے۔
    ”زندیگ بھی عذات ہوگئی ہے میرے لئے۔” غم غم و غصہ زیادہ تھا چہرے پر یا غصہ و خفگی فیصلہ کرنا ذرا مشکل تھا۔
    ”میں چاہوں بھی تو خود کو ”ان” پر ثابت نہیں کرسکتا… کہ یہ ایک ناکام راہ ثابت ہوگی ہر لحاظ سے۔”
    ”ہوں بڑے آئے… بڑے بڑے فیصلے کرنے والے، ہوگیا ناں نقصان ، آگیا ناں سات دکانوں سے مال واپس…یہ مانگ بڑھے گی ہماری،یہ کوالٹی دنیا پر ثابت ہوگی…ہاں…”
    بڑے چچا کا آخری کا ہنکارا ذلت آمیز تھا۔
    اس کے ماتھے کی رگ پھڑکی۔
    ”میں گھاٹے کا سودا ہر گز برداشت نہیں کروں گا… کل ہی محترم جناب کے اکاؤنٹ سے رقم آجانی چاہیے… میرے نقصان کی بھرپائی مجھے ہر صورت چاہیے۔”
    اس نے زور سے آنکھیں میچیں تھیں۔
    اصل فساد کی جڑ… زمینوں سے آتا وہ پیسہ تھا جو بہت ایماندار سے اس کے اکاؤنٹ میں آتا… جسے وہ سوچ سوچ کر اور بہت مناسب طریقے سے خرچ کرتا تھا …مگر بڑ ے چچا…وہاب انصاری۔
    ”ایک اکلوتے وارث کی حیثیت ہم سے زیادہ نہیں ہوسکتی، خون و جگر سے سینچا زمینوں کو ہمارے باپ دادا نے اور باقی کسر پوری کی ہم نے… مگر نکال باہر کیا۔
    ہمیں ہر چیزسے کہ ہم دوستوں کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں زندگی میں… مگر حق، حق ہوتا ہے کبھی سیاہ نہیں پڑتا…ہم پائی پائی کا حساب بھی رکھ سکتے ہیں اور منہ میں رکھے نوالے بھی گن سکتے تھے، نہیں چھوڑا ہم نے سب کچھ اس دو ٹکے لڑکے پر… زندہ ہیںہم چاہے کوئی کچھ بھی بولے۔”
    چھوٹے چچا کی طنزیہ دبنگ آواز نے اسے اٹھنے پر مجبور کردیا…کہ وہ بات کو کہاں سے کہاں لے جارہے تھے۔
    ”اس دو ٹکے کے لڑکے نے آپ کی اسپیئر پارٹس کی دکان کو دکانوں میں بدل ڈالا چچا جی…” سنجیدہ سی نرم مگر دو ٹوک آواز نے اس کو مضبوط کیا تھا…
    ہاں… زندگی میں اب بھی اس کے لئے جگہ تھی کوئی تھا جو اس کے لئے کھڑ اہوسکتا تھا۔
    ضبط کی بکھری طنا بیں سمٹی تھیں۔
    ”تم خامو ش رہو نیہا ، یہ بڑوں کی باتیں ہیں۔” بڑی چچی کی خفگی پر وہ آگے بڑھ آئی۔
    ”نہیں امی… بات اصول کی بھی ہے اور بہت صاف بھی… تایا ابا و تائی امی کے جانے کے بعد وہ اس گھر کا فرد نہیں ہے کیا…!” اس نے جمعہ حاضرین کو دیکھا۔
    ”آپ مانیں، نہ مانیں مگر داداجان نے اپنے لاڈلے اکلوتے پوتے کو سرپرست رکھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آگے کے حالات کیا ہوتے، وہ حق کا کام کرتا ہے۔ اگر اس کے اکاؤنٹ میں پیسہ آتا ہے تو وہ آ پ کو بھی ملتا ہے، اگر زمینوں پر سے پرانٹ آتا ہے تو وہ بھی آ پ کو ملتا ہے… اب اگر زمین پہ فصل کم ہونے لگی ہے تو نقصان بھی تو سب کو پورا کرنا ہے۔ اس میں کوئی دوغلی بات نہیں ہے۔”
    کندھے اچکاتے ، اس نے سب کو ٹھنڈا کیا تھا۔ اور برف کا کرنے کے لئے…
    ”اور ابو رہی بات مارکیٹ میں نام خراب ہونے کی تو یہ آپ کی اپنی وجہ سے ہوا ہے کہ آپ نے زیادہ پرافٹ کے لئے ناقص میٹریل استعمال کرنے کی خود ہدایت دی تھی اپنے اسسٹنٹ سلمان کو…”
    نیہا کا ایک ایک لفظ مضبو ط بھی تھا اور سچا بھی…
    اور جو اسے ہلکا کر گیا تھا۔
    بے شک زمین پر گری ریت کو ہوا بکھیر سکتی ہے۔
    مگر مٹھی میں بھری جانے والی ریت بھی وزن بھی رکھتی ہے۔
    بے انمو ل تو کچھ بھی نہیں…
    ٭…٭…٭
    چاند نکلتے وقت ہو یا سورج کے غروب ہونے کا… ان دونوں میں فطرت سے زیادہ قدرت کے حکم کا اثر ہے… لیکن انسان کے اعمال میں تو خداوند کریم کے حکم کی بدولت خود اس کا ہاتھ ہے… پھر اسے کیوں محروم رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنی ”فطرت” کے برخلاف جملے…
    زمین کے لب خشک تھے کہیں اک قطرہ بے رنگ پانی کا نہ تھا ۔ لگتا نہیں تھا کہ ا س نے کبھی پانی پیابھی تھا… یاوہ سیراب بھی ہوئی تھی۔
    فقط ایک دن میں ہی وہ اپنی ظاہری حالت میں آگئی تھی جو قدرت کی طرف سے اس کی فطرت میں ودیعت کردی گئی تھی…یہ تھا اس کا رنگ …
    سوکھے کتھے جیسا…
    اور خود اس کی فطرت میں جو سرخ خون اس کے اندر دوڑتا تھا ابھرتا لاوہ تھا۔ شدت سے بھرا ہوا… چھلکنے کو بے تاب… اس سرخ خون سے بنا وہ چہرہ یوں تھا جیسے سفید گنبد کسی پر شکوہ عمارت کا ”خاموش، چپ چاپ… آنکھیں، ناک، کان، ہونٹ، زبان ، دل و دماغ ہر چیز بس اک ابروئے جنبش کی منظر۔
    لبوں سے نکلتے لفظوں کی محتاج…
    ”خود کو اس موسم میں کمرے تک ہی محدود رکھنا، خاص ٹھنڈبرھ جاتی ہے۔ سرما کی بارش میں، میں نہیں دیکھوں، سنوں تمہیں کہیں کھڑکی سے لٹکتے یا یا باہر برآمدے و لان میں گھومتے۔” سرجھک گیا۔
    حکم عدولی کی گنجائش ناپید تھی… اس میں کہ اس بڑے سے گھر میں فقط وہ دو ہی سانس لیتے وجود تھے… باقی جو تھے وہ شاید دیکھے، سنے، بولنے کی حس سے محروم تھے فقط کام کے پجاری… کام ختم … بات ختم۔
    سادہ پلین سے آسمانی رنگ میں ملبوس وہ دھیرے دھیرے خاموشی سے گردن ہلاتیرہی…ادب کا تقاضہ خاصا اہم تھا اس وقت ”باقی میں ذرا قاسم خان کے ساتھ جارہی ہوں… واپسی میں تمہاری لسٹ، جسے میں نے دوبارہ ترتیب دیا ہے… لیتی آؤں گی…”
    ”اب”… خاموشی کا تقاضہ ادب سے بھی زیادہ مقدم تھا۔ وہ گردن ہلانا بھی چھوڑدیا۔
    جاتے قدموں کی آواز پر دروازے کے مودب کھلنے کی آوازپر، پھر گاڑی کے باہر نکل جانے کی آواز پر…
    سراٹھا…نگاہ اٹھی۔
    اف … سنہری سکوں کا پانی… جو گالوں پر پھیلتا تھوڑی تک جاتا تھا… کچھ کہنا تھا شاید…
    ساکن درو دیوار نے سمجھنا چاہامگر وہ پلٹ گئی… وہی سیڑھیوں کو جاتا اوپر کا راستہ وہی کمرہ… وہی کھڑکی اور وہی کورا کاغذ۔
    مگر اب وہاں وہ روشنی کی لکیرنہیں جھانکتی تھی… نہ جانے آج اسے اتنی جلدی کیوں تھی جانے کی…!!
    ”تم جانتے ہو کہ مجھے کی کے بھی بارے میں سخٹ و غلط سننا پسند نہیں ہے۔” سرخ اسٹابری کو منہ میں رکھتی وہ اسے دیکھنے لگی جس کی نگاہ کی مسکراتی روشنی اس کے وجود کو تابناک کررہی تھی۔
    ”اور تم تمہیں تو میں نے ایک خاص جگہ دی ہے اپنی زندگی میں تو پھر کیسے سنتی تمہارے بارے میں کچھ۔” اک گہری سانس لیتے روید نے مسکراتی نگاہ کو لبوں تک لاتے سرجھٹکا۔
    ”جانتا ہوں سب کچھ نیہا مگر پھر بھی وہ ہمارے بڑے ہیں اور خاص کر تمہارے ماں ، باپ… چھوٹے چچا ، چچی کی خیر ہے مگر تمہیں بڑے چچا سے نہیں الجھنا چاہیے، چاہے وہ تمہیں اکلوتی ہونے کا بہت زیادہ مارجن کیوں نہ دیں۔”
    ”ہر رشتہ بعد میں رویہ،پہلے انسانیت ، سچائی اور سیدھی بات … پھر کچھ اور روید… یہ مت سمجھو کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں تو ہی ایسا کررہی ہوں۔”
    ”اچھا میں سمجھا کہ شاید۔” اس کی سنجیدہ پر شوخ بات پر نیہا نے اسے گھورا ۔
    ”تم۔”
    ”مذاق تھا یار… کیا میں تمہیں جانتا نہیں۔” اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ اس شفاف لڑکی کو خود اپنا دل دکھانا چاہ رہا تھا اپنی آنکھوں کے ذریعے، جو اس کی محبت میں بھی ویسا ہی صاف و شفاف تھا۔
    ”اور محبت مسکرا دے تو مار ہی دیتی ہے۔” روید نے نیہا انصاری کی مسکراہٹ پر محسوس کیا تو کہا۔
    ”نیہا یونہی مسکراتی شفاف پانی کے باؤل سے اسٹابری نکال نکال کر کھاتی رہی ۔
    ”اور تمہارے بزنس کرنے کے خواب کی تکمیل نے تو روید انصاری کی نیندیں اڑا دی ہیں محترمہ… رکھ تو خیال کرلو، پہلے ہی تھرڈ پرسن سمجھا جاتا ہوں…”
    ”کیا ہوا۔” کوئی جواب، رد ِ عمل پاکر روید نے اسے دیکھا۔
    ”نہیں کچھ خاص نہیں۔”
    ”تو پھر خاموش کیوں ہوگئی ہو۔”
    ”تمہیں یونہی محسوس ہوا۔ میں اب چلتی ہوں ماما۔
    وہ اٹھی اور ساتھ ہی بچی ہوئی چند اسٹرابریز اس کے ہاتھ پر رکھتی خالی باؤ ل اٹھانے لگی تھی کہ روید نے اسے روک دیا…
    مضبوط ہاتھ کے دباؤ پر وہ نظر نہ چراسکی۔
    ”کیا بات ہے نیہا۔ مجھے نہیں بتاؤگی جو تمہارا سب سے ”قریبی” رشتہ ہے…” اسے بالکل ساتھ بٹھاتے ہوئے دوستانہ انداز میں کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ بے جان سی لگی اسے ۔
    ”مجھے میرا لون ”پاس” نہیں ہوا روید۔”
    ”اوہ لیکن کیوں… لون کے پاس ہونے کی ایک ریکوائرمنٹ پراپرٹی کسی جائیداد وغیرہ کامالک ہونا بھی ہوتا … یا پھر کیش وغیرہ… میرے پاس اس حد تک ریکوائرمنٹ نہیں ہے۔”
    ”تو اس میں کیا مسئلہ ہے۔” وہ خاموش ہوئی تو اس کے اعصاب بھی ڈھیلے پڑے اور وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
    ”مسئلہ نہیں ہے یہ…”
    ”بالکل نہیں۔” مطمئن ہونے کے انداز میں کہتے اس کے منہ کی طرف اسٹرابری بڑھائی لیکن وہ یونہی اسے دیکھتی رہی… سب کچھ تو جانتا تھا وہ… ماما، پاپا کی مخالفت… چچا، چچی کا استہزائیہ انداز…تو پھر … وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی… جہاں ایک وہ تھی اور خود اس کی اپنی ذات کے ہونے کا غرور… ”اوہ…”
    اس کی آنکھوں میں خفگی اُتری۔
    ”ایسا نہیں ہوسکتا روید… جو تم چاہ رہے ہو۔” قطعی انداز میں کہتے وہ وہاں سے اٹھی… اور اس کا جالینے والا محبوب انداز…
    روید انصاری کو اجازت نہیں تھی کہ وہ فدا ہوتا مگر سرشارہونا بنتا تھا۔
    ”چاہنے کو تو سب ہوسکتا ہے کہ بات تو صرف ”چاہنے” کی ہے۔
    اس کے برابر سے اٹھتا وہ پرسکون تھا اور وہ بے چین…
    ”یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔”
    ”یہ ٹھیک ہی ہوگا، اس سے کہیں زیادہ جب میں اور تم یوں ساتھ نہ ہوں گے۔”
    اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ اپنی بات کہہ کر اسے چپ کرا گیا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • بل ہے کہ مانتا نہیں — سید محسن علی

    بل ہے کہ مانتا نہیں — سید محسن علی

    تپتی دھوپ میں شیخ حسام الدین گھر میں داخل ہوئے تو بُری طرح پسینے میں شرابور تھے ۔ ذرا دم لینے کے لیے پنکھے کے نیچے بیٹھے ہی تھے کے ان کی بیگم زبیدہ خالہ نے اُن کے آگے بجلی کا بل کردیا۔
    ”ہائیں اتنا بل۔” وہ بل دیکھ کر اچھل پڑے۔
    ”ارے میں کتنا کہتا ہوں کے احتیاط سے بجلی استعمال کیا کرو ، لیکن تم لوگ…”
    ”ارے موئی بجلی ہوتی ہی کب ہے جو احتیاط کریں، ہر دوگھنٹے بعد ایک گھڑی بھر کے لیے آتی ہے کیا احتیاط کریں اور کون سے تم نے گھر میں اے سی لگوا رکھے ہیں، اب کیا بچے پنکھے کے نیچے بھی نہ بیٹھیں۔” جواب میں خالہ نے بھی جب شیخ صاحب پر چڑھائی کردی تو وہ کچھ پیچھے ہٹے۔
    ”تم تو ہر بات کا اُلٹا ہی جواب دینا ، میرا یہ مطلب تھوڑی تھا، میں کہہ رہا تھا کے…”
    ”کیا مطلب نہیں تھا، دیکھ لو ہم اتنی احتیاط سے بجلی استعمال کرتے ہیں اور یہ بل آتا ہے اور دوسروں کو دیکھو سب کے گھروں میں اے سی چل رہے ہیں لیکن بس تمہیں ہی ایمانداری کا بھوت سوار ہے۔ ” خالہ نے شیخ صاحب کی بات کاٹ کر کہا۔
    ”تم پھر شروع ہوگئیں، ہزاربار کہہ چکا ہوں کے اگر دوسرے غلط کا م کررہے ہیں تو لازمی نہیں میں بھی اپنی آخرت خراب کروں ، ارے کیا ان ایئر کنڈیشنوں سے پہلے لوگ سکون سے نہیں سوتے تھے؟”
    ”لو موئی پھر چلی گئی لائٹ ، منحوس ابھی تو تین گھنٹے بعد آئی تھی۔ ارے کیڑے پڑیں ان بجلی والوں کو…”
    قبل اس کے ، کہ ان کی بحث ایک جنگ کا روپ اختیار کرتی اچانک لائٹ چلی گئی اور خالہ کی مغلظات کا رخ شیخ صاحب سے مڑکر بجلی والوں کی جانب ہوگیا۔
    وہ بل تو جسے تیسے شیخ صاحب نے جمع کروادیا گو کے اس کی بدولت اس ماہ ان کا ہاتھ خاصا تنگ رہا لیکن پھر انہوں نے حتی الامکان کوشش کی کے گھرمیں کہیں بھی کوئی فالتو بجلی استعمال نہ ہو جس پر ان کی کئی بار خالہ سے تو تومیں میں بھی ہوئی مگر معاملہ کچھ عجیب اور یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ ہر دو تین ماہ بعدتوقع سے کئی گنا زیادہ بل آنے لگاجسے دیکھ کر شیخ صاحب کی پریشانی میں اضافہ ہوجاتا۔ اس دن نماز سے واپس آتے ہوئے شیخ صاحب نے اپنے پڑوسی عرفان صاحب سے دریافت کیا کے ان کا بل کتنا آتا ہے تو وہ اطمینان سے بولے:
    ” بس ہزار بارہ سو ۔”
    ”ہائیں عرفان صاحب آپ کے گھر میں تو دو دو اے سی چلا رہے ہیں پھر بھی؟” شیخ صاحب نے آنکھیں پھاڑ کے سوال کیا۔
    ”ارے بھائی اب آپ سے کیا پردہ ۔ ایک لائن مین ہے اصغر اس سے سیٹنگ کی ہوئی ہے پھر ساری لائن کی سیٹنگ اس نے خود ہی کی ہے مگر ١یک ہزار روپے لیتا ہے مہینے کے پھر جتنا مرضی اے سی چلاؤ۔ پڑوسیوں کے حقوق تو ویسے بھی ہم پر فرض ہیں، میں ایسا کرتا ہوں کے آپ کی بھی بات کروادیتا ہوں۔”
    ”لاحول وللہ عرفان صاحب ، یہ تو آپ ہمیں حرام کام کا مشورہ دے رہے ہیں یاد رکھیے حرام کی بجلی میں کیا ہوا ہر کام بھی حرام ہوتا ہے ۔” شیخ صاحب نے غصے سے کہا۔
    ”ارئے آپ کس صدی میں جی رہے ہیں شیخ صاحب ، یہ تو آج کل ضروری ہوگیاہے، نہیں کروگے تو ویسے بھی زیادہ بل کی چٹنی لگادیں گے یہ لوگ اور جو ایک بار ان کے جال میں پھنس گیا سمجھو گیا۔”
    عرفان صاحب نے کسی جہاندیدہ کے مانند شیخ صاحب کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ”بہت بہت شکریہ آپ کے مشورے کا، میں خودہی نمٹ لوں گااس مسئلے سے۔”
    شیخ صاحب نے ساری عمر اپنی سرکاری نوکری اتنی ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ کی تھی کے آج بھی سب لوگ سوائے خالہ کے، ان کی راست گوئی کی مثال دیا کرتے تھے وہ بھلا اپنے نئے پڑوسی عرفان صاحب کی بات کیوںکر برداشت کرتے اسی لیے بھڑک گئے۔
    ”کمال ہے میں تو آپ کی مدد کررہا تھا، خیر شوق سے خود ہی بھگتیے، نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔ ” عرفان صاحب نے ناگواری سے جواب دیا اور شیخ صاحب نے بڑبڑاتے ہوئے گھر کی راہ لی۔
    آئے روز کے زائد بلوں کے خلاف شیخ صاحب تلملاتے ہوئے اگلے روز ہی واپڈا کے مقامی دفتر جاپہنچے اور دفتر کے ایک کمرے میں گھس کر وہاں بیٹھے ملازمین سے احتجاجی لہجے میں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا سبب دریافت کرنے لگے لیکن ان پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا بلکہ ساری روداد سننے کے بعدایک کلرک نے اپنی پرانی سی ٹیبل کے سائیڈ میں پڑے گندے سے ڈسٹ بن میں میم پوری تھوکی اور ہتھیلی سے منہ صاف کرکے شیخ صاحب کو بولا:
    ”ارے ا نکل یہاں نئے میٹر کی درخواستیں جمع ہوتی ہیں آپ برابروالے کمرے میں جائیں۔”
    دوسرے کمرے میں صرف شیخ صاحب ہی نہیں بلکہ ہردوسرا بندہ اپنے زائد بل کے جھوٹے سچے دکھڑے رو رہا تھااور وہاں موجود عملہ روزانہ کے اس عمل سے اکتا کر نہایت بے حسی سے ان کی دکھ بھری داستانیں ایک کان سے سن کردوسرے سے اڑا کر انہیں ہی مورود الزام ٹھہرا رہاتھا کہ حضرات بجلی بھی تو آپ نے ہی استعمال کی ہے ، نا کے ہم نے۔ اگر سننے والامخاطب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ثابت قدمی سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر نوحہ کناں رہتا تو وہ اسے حکام بالا کے نام پر درخواست دائر کرنے کا مشورہ دیتا تاکہ کارروائی کی جاسکے۔





    شیخ صاحب نے بھی جب اپنا مؤقف پیش کیا تو ایک خداترس بندے نے ان کی درویش صورت دیکھتے ہوئے ان پر یہ حقیقت آشکار کی کے جناب آپ کے بل پر تو ڈیڈکشن لگی ہوئی ہیں۔
    ”لیکن بھائی کس بات کی ڈیڈکشن ؟”
    ”ممکن ہے عملے نے آپ کے میٹر میں کوئی گڑبڑ دیکھی ہو یا کوئی اور ناجائز چیز ، اب تو آپ کو یہ جرمانہ بھرنا پڑئے گا ۔”
    ”کیا بات کررہے ہو میاں، ہم نے ساری عمر ایمانداری سے بجلی کا بل ادا کیا ہے ہم یہ حرام کام کیوں کرنے لگے۔” شیخ صاحب سے غصے سے جواب دیا۔
    ” چاچا یا تو آپ یہ اماؤنٹ جمع کرادیں یا آپ صاحب کے نام درخواست جمع کرادیں تاکہ کارروائی ہو۔ ٹیم خود ہی آپ کے گھر آکر چیک کرلے گی کے کوئی بات تو نہیں ہے ۔ ” اس نے شیخ صاحب کو سمجھاتے ہوئے جواب دیا اور دوسرے صارفین بلکہ متاثرین کی جانب متوجہ ہوگیا۔
    حیران و پریشان شیخ صاحب وہاں سے سیدھے اپنے پرانے دوست عزیز صاحب کے پاس پہنچے اور ڈیڈکشن کی اصطلاح کے متعلق اپنی الجھن کا ماجرا بیان کیا۔
    ”کیا بتاؤں حسام بھائی برا حال ہے ہر طرف لوٹ مچی ہے۔ لوگ بھی ڈھڑلے کے ساتھ بجلی چوری کر رہے ہیں۔ بہت سی جگہوں پر یوں ہورہا ہے جو لوگ ہر ماہ لائن مینوں کو پیسے دیتے ہیں وہ بچ جاتے ہیں اور جو نہیں دیتے اُن کے بلوں میں اسی طرح ڈیڈکشن لگاکرخسارہ پورا کیا جاتا ہے۔”
    ان کے دوست نے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”توکیا یہ بات اعلیٰ افسران کو معلوم نہیں۔” شیخ صاحب نے تعجب سے پوچھا۔
    ” ارے بھائی تم تو ہمیشہ کے بدھو ہی رہوگے سب ملی بھگت ہوتی ہے بھائی میرے ، جب اوپر سے بہت سختی ہوتی ہے چھاپے پڑنے شروع ہوجاتے ہیں چوریاں بھی پکڑی جاتی ہیں ، لیکن چند دنوں بعدمعاملہ ٹھنڈا ہونے پر پھروہی دھندے شروع ہوجاتے ہیں۔ ”
    ان کے دوست شیخ صاحب کے بھولے پن پر مسکرا کر بولے۔
    ”ارے پھر بھی کوئی اس ظلم کے خلاف آواز تو اٹھانے والا ہونا چاہیے نا، تم تو مجھے جانتے ہی ہو۔ دیکھومیں کیسے ان لوگوں کے خلاف شکایات درج کرواتا ہوں۔” شیخ صاحب نے ایک عزم سے کہا اورعزیز صاحب دل میں ہمدردی کے جذبات لیے اپنے سادہ لوح دوست کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوئے ۔
    اس کے بعد شیخ صاحب کے واپڈا آفس کے چکر لگنے شروع ہوگئے۔ چوں کہ نوکری سے حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے اس لیے اب گھرمیں فارغ بیٹھنے پر طبیعت بھی مائل نہیں تھی تو پوری توانائی سے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف مستقل مزاجی سے ڈٹ گئے۔ کبھی کسی افسر کے انتظار میں بیٹھے ہوتے کبھی کسی کے سامنے اپنا کیس پیش کررہے ہوتے لیکن زیادہ تر افسروں کے پاس ٹائم نہیں ہوتااور جو ٹائم دیتا وہ کسی ماتحت کے حوالے کردیتا ۔ سب درخواست منگواتے اور رکھ لیتے ہاں چند لوگ اتنی مہربانی ضرور کرتے کے بل کی قسط کرواکر شیخ صاحب کو تھما دیتے کہ جناب پہلے اسے جمع کروادیجیے پھر کام ہوتا رہے گا۔ یہاں کوئی کسی کا پرسان حال نہیں تھا اور شیخ صاحب کا بل ان کے بس سے باہر ہوتا جارہا تھا۔ اکثر تو یوں بھی ہوا کے شیخ صاحب جب دفتر پہنچے تو عوام کی ایک بڑی تعداد کو وہاں لوڈ شیڈنگ کے باعث احتجاج کرتے پایا۔ ایک بار تو گھر واپسی پر بھی راستے میں، ان کے ساتھ والے محلے کے لوگوں کی جانب سے ٹرانسفارمر میں خرابی کے سبب دو دن سے لائٹ نہ ہونے کے باعث ہنگامہ آرائی کی جارہی تھی اور مشتعل مظاہرین نے حکام کی عدم دلچسپی اور مطلوبہ فنی سہولت نہ ہونے کے باعث سڑک پر جلاؤ گھیراؤ کرکے راستہ بند کیا ہوا تھا۔ شیخ صاحب کافی دیر بے بسی کے عالم میں ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بعد ایک لمبے متبادل راستے کو طے کرکے گھر پہنچے۔
    کافی عرصہ محکمہ پانی وبجلی کے دفاتر کے چکر لگانے کے بعد شیخ صاحب کے علم میں کئی چیزوںکا گراں قدر اضافہ ہوا کے ایک تو متعلقہ عملہ اپنے مقررہ وقت پر کبھی نہیں پہنچتا سوائے چند ایک کے جو واقعی اپنے فرائض منصبی نہایت ایمانداری اور ذمہ داری سے ادا کررہے تھے ۔ دوسرا وہاں صرف وہ ہی نہیں ان جیسے نہ جانے کتنے زائد بلوں کے ستائے مو جود تھے لیکن ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو واقعی بجلی کی چوری میں ملوث بھی تھے جیسے ان کے گھر کام کرنے والا مستری اور پلمبر بھی، مستری کے گھر بھی دو دو اے سی چل رہے تھے لیکن وہ بضد تھا کے وہ تو ڈائریکٹ چل رہے ہیں میٹر کا بل تو غلط آیا ہے نہ، اور شیخ صاحب لاحول پڑھ کر خاموش ہوجاتے۔ کچھ ایسے ہوتے کے سارا مہینہ غیر ذمہ داری سے بجلی استعمال کرتے اور بل آنے پر اپنا دکھڑا رونے پہنچ جاتے۔ کسی کے گھر پر کرائے داروں کے چلے جانے کے بعد بھی ہر ماہ بل آرہا ہوتا ، کوئی بے چارہ خالی گھر میں بل آنے کا دکھڑا رو رہا ہوتا۔ کچھ کے میٹر ہی بند پڑے تھے اور انہوں نے ڈائریکٹ کھمبوں پر سے تار جوڑے ہوئے تھے۔ شیخ صاحب کو ایسے ایسے ، اپنے شعبوں میں طاق ہر فن مولا حضرات سے بھی سلام دعا کا شرف حاصل ہوا جو بجلی کے میٹر کی ریڈنگ پیچھے کرنے کے خفیہ گر جانتے تھے اور معقول معاوضہ پر اپنی خدمات پیش کرتے تھے۔
    چند ایک نے تو شیخ صاحب کو اشارہ بھی دیا کے صاحب کسی کو کچھ دے دلا کر معاملے کودرست کروادیجیے تاکے اس جھنجھٹ سے جان چھوٹے لیکن شیخ صاحب نے رشوت دینے کے خیال ہی سے انکار کردیا۔
    ایک من چلا تو ایسا بھی ملا جو شیخ صاحب کو اپنا تجربہ سنانے لگا۔ ” میرے گھر بھی جب دیکھو ڈیٹیک شن ( ڈیڈکشن ) ٹھوک جاتے تھے میں نے بل جمع کرانا ہی چھوڑ دیا، میں دہاڑی دار آدمی اپنا گھر چلاؤں یا ان ڈیٹیک شن کی پھٹیکوں کو بھروں، میں نے بل جمع کرانا ہی چھوڑ دیا۔ لے گئے میرا میٹر اتار کے میں نے کہالے جاؤ بیٹا، اگلے دن ہی ڈائریکٹ تار ڈلوالیااب کیا لے جائیں گے زیادہ سے زیادہ تار لے جائیں گے نہ، میں پھر لاکے لگالوں گا، کیسا؟”
    وہ اپنی بپتا سنانے کے بعد مسکراتے ہوئے شیخ صاحب کو تعریف طلب نگاہوں سے دیکھنے لگا اور شیخ صاحب اپنے دل کی بات کو دل ہی میں دبائے اک شان بے نیازی سے اسے نظرانداز کرتے ہوئے ایک بار پھر عزیز صاحب کے پاس دل کا بوجھ ہلکا کرنے چلے گئے۔ عزیز صاحب نے شیخ صاحب کی پریشانی دیکھتے ہوئے اپنے ایک جان پہچان والے سینئر کلرک سے شیخ صا حب کا رابطہ کروایا۔ شیخ صاحب ان کے سامنے بھی حاضر ہوئے اور اپنا مدعا بیان کیا۔ وہ صاحب خاصے صاف گو واقع ہوئے تھے ہنستے ہوئے بولے:
    ”جناب ٥٠ ، ٤٠ ہزار کی ڈیڈکشن لگنا اب معمول کی بات ہوگئی ہے ۔ آپ آہستہ آہستہ قسطیں جمع کرواکر بل تو ادا کرتے رہیے اور درخواست جمع کروادیجیے، آہستہ آہستہ خود ہی ختم ہوجائیں گی۔”
    لیکن درخواست جمع کرائے تو کافی عرصہ ہوگیا کچھ ہوتا ہی نہیں، سب ہمیں ہی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔” شیخ صاحب نے بے چارگی سے جواب دیا۔
    ” بات یہ ہے شیخ صاحب کے آج کل سب ہی چوربن گئے ہیں کیا حکومت کیا عوام جس کو جہاں موقع مل رہا ہے لوٹ رہا ہے۔ اب کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا ہوتا نہ’ آپ کو ایک بات بتاؤں خود میرے گھر کے میٹر پر بھی ڈیڈکشن لگی ہوئی ہے، ہاہاہاہا۔ ‘ ‘ انہوں نے بے تکلفی سے شیخ صاحب کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
    ”لیکن جناب کوئی حل تو بتائیے نا، ایسا ہوتا رہا تو میں جلد ہی لاکھوں روپے کا مقروض ہوجاؤں گا کہیںنیب میں کیس نہ چلا جائے ۔”
    ”ارے گھبرائیے نہیں ، نیب والے کوئی بدمعاش تھوڑی ہیں۔ خیر آپ چاہیں تو دوچیزیں کرسکتے ہیں یا تو کسی سے سیٹنگ کروالیجیے، کچھ دے دیاکیجیے پھر بھلے اے سی بھی لگالیں گھرمیںاور اگر واقعی آپ نے کبھی بجلی چوری نہیں کی تو وفاقی محتسب کے نام درخواست دائر کرادیجیے ۔” انہوں نے معنی خیز مسکراہٹ سے شیخ صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    اور شیخ صاحب بھی کہاں ہمت ہارنے والے تھے انہوں نے بھی وفاقی محتسب کے دفتر کیس داخل کروادیا۔ کارروائی شروع ہوئی اور کچھ عرصے میں ثابت ہوگیا کے شیخ صاحب کے گھر پر لگائی گئی تمام ڈیڈکشنز غلط ہیں۔ وفاقی محتسب کی طرف سے شیخ صاحب کے لیے واپڈا کے حکام کو احکامات جاری کردیے گئے کے صارف پر لگائے گئے تمام جرمانے فوری ختم کیے جائیں ۔
    اتنی خواری کے بعد فتح کے آثار دیکھ کر شیخ صاحب نے فخر سے اس لیٹر کی کاپی تمام جاننے والوں کو دکھائی خاص طور پر اپنے پڑوسی عرفان صاحب کو ، لیکن وہ یہ سب طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتا ہوا چلا گیا۔
    اپنی فتح کے نشے میں چور شیخ صاحب انتظار کرتے رہے کے اب کے مہینے اُن کے بل سے سارے جرمانے رفع ہوجائیں گے لیکن دلی دور است۔ ایک طرف لوڈ شیڈنگ تھی جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔
    اکثر ساری ساری رات بجلی غائب ہوتی تو کبھی کوئی گرڈ اسٹیشنوں میں خرابی ہوجاتی اوروولٹیج اتنے کم ہوتے کے شیخ صاحب سارے گھر کی اہم چیزوں کوبند کروادیتے۔ حالاں کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس سال کے اختتام تک لوڈ شیڈنگ مکمل ختم ہوجائے گی لیکن سال ختم ہوگیا انتظار ختم نہ ہو ا یہاں تک کے بجلی کے بحران کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے وعدوں پر عوام سے ووٹ بٹورنے والے خود مال بٹور کر اپنی مدت پوری کرکے چلے گئے لیکن لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی۔ گرمیوں میں منسٹر صاحب یہ توجیح پیش کرتے رہے کے خشک سالی کی وجہ سے دریاؤں میں پانی نہیں ہے اس لیے زائد لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے اور سردیوں میں گویا ہوتے کہ سردی کی وجہ سے دریاؤں کا پانی جم گیا ہے اس لیے پانی کی کمی بھی لوڈشیڈنگ کا سبب ہے ۔ اس پر سونے پر سہاگہ کبھی ابر رحمت برس جائے تو عوام کو اس زحمت سے دوچار کیا جاتا کے دو بوندوں کے برستے ہی عاشقانہ مزاج شاعری کرنے والے لوگ بھی بارش کے بعد توبہ کرتے نظر آتے، بادلوں کے گرجتے ہی لائٹ بند ہوجاتی حتیٰ کہ بادل برس کر بھی چلے جاتے اور آسمان پر تارے جگمگانے لگتے لیکن لائٹ عید کا چاند ہوجاتی اور پھر ان تاروں کی روشنی میں ہی رات کالی ہوتی۔ زندگی بنا بجلی کے جیسے تیسے گزر ہی جاتی ہے لیکن بنا پانی کے یہ زندگانی کتنی کٹھن ہوتی ہے اس کا اندازہ شیخ صاحب کو اس دن ہوا جب اچانک ہونے والی برسات کے سبب لائٹ غائب ہوئی سو ہوئی لیکن پانی کی موٹر نہ چلنے کے سبب ٹینکی میں پانی ختم ہوگیا۔ اس پر ستم یہ کے شیخ صاحب کا پیٹ سخت خراب اور گھر میں پانی کی ایک بوند موجود نہیں جس سے حوائج ضروریہ کا انتظام کیا جائے۔ وہ دبے لفظوں خالہ کی کفایت شعاری نہ کرنے کی عادت کو جواز بناکر تنقید کرنے لگے کے اگر باورچی خانے میں رکھے ڈرم میں آڑے وقت کے لیے کچھ پانی بچا کر رکھ لیا ہوتا تو ابھی یوں رسوا نہ ہونا پڑ رہا ہوتا۔ اس وقت شیخ صاحب کو اپنی ہی مثال سے اس بات کی اہمیت کا اور اندازہ ہوگیا کے ملک کے لیے ڈیم بننا کتنا ضروری ہے ۔ ادھر ان کے بیٹے کی پھرتی کام آئی جو محلے کے کسی سخی انسان کے گھر سے چند پانی کی بالٹیاں بھر لایا لیکن جب شیخ صاحب کے علم میں یہ بات آئی کے انہیں پانی کی بالٹیاں عطیہ کرنے والامحسن کوئی اور نہیں ان کا پڑوسی عرفان صاحب ہی ہے تو پہلے پہل ان کا اس پانی کے استعمال کے لیے دل ہی آمادہ نہیں ہوالیکن پھر یہ سوچ کر خود کو آمادہ کرلیا کے یہ پانی باوقت مجبوری بیت الخلا میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
    اصل میں جب سے شیخ صاحب کے علم میں یہ بات آئی تھی کے ان کے پڑوسی عرفان صاحب بجلی کے اتنے بڑے چور ہیں تب سے وہ ان کے دل سے ہی اتر سے گئے تھے اسی لیے ١٢ ربیع الاوّل کے موقع پر جہاں سارا محلہ عرفان صاحب کے گھر کی شاندار لائٹنگ دیکھ کر سبحان اللہ کہہ رہا تھا وہیں شیخ صاحب بار بار عرفان صاحب کے گھر کی جانب نظر کرکے لاحول ولا کی تسبیح کا ورد کرتے رہے تھے۔
    اس سب کے باوجود شیخ صاحب اس گتھی کو سلجھانے سے قاصر تھے کے اگر بجلی کی پیداوار میں اتنی ہی کمی آگئی ہے تو یہ کمبخت بجلی کے بل کی افزائش میں کمی واقع کیوں نہیں ہورہی ۔ جائز بجلی کے استعمال کے نرخ بھی اس ناجائز حد تک بڑھا دیے گئے ہیں کے ایک غریب آدمی کے لیے ممکن نہ رہا ہے کے یا تو وہ بجلی کا بل ادا کردے یا اپنے بال بچوں کو پال پوس لے ۔ اسی دوران رمضان کا مقدس مہینہ بھی آگیا تو شیخ صاحب کے لیے ممکن نہ رہا کے اس عمر میں روزے کی حالت میں اپنے بل کے لیے خواری کرتے پھریں۔ انہوں نے بل کے معاملے کو ایک ماہ کے لیے مؤخر کر کے گویا احترام رمضان میں دشمن کے خلاف جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن ماہ رمضان میں بھی جب روزے دار بجلی والوں کے عتاب کا شکار ہوئے تو ہر قسم کے حالات میں صبر و شکر اور قناعت کا دامن نہ چھوڑنے والے شیخ صاحب بھی بلبلااٹھے اور صرف اسی وقت شکر ادا کرتے دکھائی دیتے جب لائٹ جاکر واپس آجاتی۔ جب کے خالہ لائٹ بند ہوتے ہی بجلی والوں کو بددعائیں دینا شروع کردیتیں تو شیخ صاحب اور جھلا جاتے۔
    ”ارے نیک بخت کیوں اپنی زبان خراب کرتی ہو ، اگر ایسے بددعائیں دینے سے بجلی والوں کا کچھ ہوتا تو آج کوئی بھی زندہ نہیں ہوتا۔”
    ”ارے میں تو دوں گی بد دعائیں ، موؤں نے زندگی جو اجیرن بنادی ہے اور ایک تم ہو ، زمانے بھر کے ایماندار۔ ” خالہ بھی شیخ صاحب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیتیں۔
    ”پھر شروع ہوگئی تمہاری وہی بیکار کی رٹ کیا میں لوڈ شیڈنگ کروارہا ہوں ۔ ” شیخ صاحب غصے سے کہتے۔
    ”بس تم غصے میں ہی آجانا بات کو سمجھنا نہیں۔ میرا مطلب ہے دیکھ لو بجلی ہوتی نہیں ہے اور اللہ مارے کتنا بل بھیجے جاتے ہیں جیسے یہاں خزانے دفن ہوں۔ اب تو تم بھی ریٹائر ہوگئے ہو ، خیر سے دونوں بچے بھی ابھی کمانے جوگے نہیں ہوئے ، کہاں سے پورے کریں گے اخراجات؟ ”
    آنے والے وقت کی ذمہ داری کا سن کر ایک لمحے کے لیے شیخ صاحب خاموش ہوجاتے اور خالہ شیخ صاحب پراپنی باتوں کا اثر ہوتے دیکھ آخری وار کرتیں۔
    ”اب دیکھو گھر میں اے سی لگ جائے گا تو کچھ پل سکون سے گزر جائیں گے بغیر بجلی کے روزہ رکھنا کتنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اکثر تو سحری بھی اندھیرے میں کرنی پڑتی ہے۔ ”
    ”ہاں یہ تو ہے لیکن نیک بخت اچھی نیت کا اجر اللہ ضرور دیتا ہے۔ آج ہی مولوی صاحب فرما رہے تھے کے لوڈ شیڈنگ میں رکھے ہوئے روزوں کا زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ ”
    یہ سننے کے بعد خالہ چند لمحوں کے لیے بنا کچھ بولے شیخ صاحب کو گھورتی رہتیں اور پھر پہلے سے کہیں قوت کے ساتھ بجلی والوں کو کوسنے دینے شروع کردیتیں۔
    ہاں عید آئی تو عوام کو کم سے کم تینوں دنوں کے لیے بناکسی بندش کے بجلی کی عیاشی دے دی گئی ۔ سب سکون میں رہے لیکن عید ختم ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا چاند یوں نظر آیا کے پچھلے تینوں دنوں کی کسر برابر ہوگئی ۔ چند دن بعد ہی بجلی کے بل بھی آگئے اور یہ دیکھ کر شیخ صاحب سجدہ شکر بجالائے کے ان کے بل سے تما م ڈیڈکشن ختم کردی گئی تھیں گویا انہیں ان کی کڑی تپسیہ کا پھل مل گیا۔
    ایک دن خالہ نے دیکھا شیخ صاحب کچھ بے چین سے دکھائی پڑتے ہیں فوراً بھانپ گئیں کہ ہو نہ ہوکوئی پریشانی ہے۔ انہوں نے پاس آکر مزاج پرسی کرتے ہوئے سبب دریافت کیا۔
    ” ہاں بیگم جانے آج کیا ہوگیا ہے صبح سے لائٹ ہی نہیں گئی خدا خیر کرے۔ ”
    یہ سننا تھا کے خالہ غصے سے لال پیلی ہوگئیں اور ان کا عرصے سے شیخ صاحب کی دماغی حالت پرہونے والا شک یقین میں بدلنے لگا۔
    ” ارے کیا سٹھیا گئے ہو ، لائٹ نہیں گئی تو شکر ادا کرو خدا کا، کیوں منہ لٹکا کر منحوس باتیں کررہے ہو ؟”
    ” ارے کم عقل عورت کتنی بھاری قیمت بھی تو دینی پڑتی ہے اس عیاشی کی ، چند گھنٹے لائٹ نہیں جاتی توپھر بعد میں پورا پورا دن فنی خرابی کے نام پر لائٹ بند کرکے اپنا اگلا پچھلا سارا حساب سود سمیت وصول کرلیتے ہیں یہ لوگ۔ ”
    ” تم اگلی بار جاؤگے نہ واپڈا کے دفتر، تو بڑے افسر سے یہ بھی شکایت کردینا کے بھیا کسی کے گھر کی لائٹ جائے یا نہ جائے ، میرے گھر کی لائٹ سب سے پہلے بند کردیا کرو ، نوازش ہوگی۔”
    خالہ نے بھی تنک کے وہ جواب دیا کہ شیخ صاحب کو خاموش ہوتے ہی بن پڑی۔
    اس کے کوئی پانچ ماہ کے بعد کے بات ہے شیخ صاحب کا بیٹا چپ چاپ گھر میں داخل ہوا اور ان کے آگے بجلی کا بل کردیا ۔ انہوں نے جب بل دیکھا تو ایک بار پھر سر پکڑ کر بیٹھ گئے کیوں کہ اس ماہ ان کے بل میں نئی ڈیڈکشن لگی ہوئی تھی۔ بیٹے نے بل دکھانے کے بعد ان کے ہاتھ سے بل واپس لیا اورگھر سے باہر کی جانب جانے لگا۔
    ”ارے کہاں جارہے ہو ، اس وقت سب جاچکے ہوں گے واپڈا آفس سے ، میں کل پھر جاؤں گا۔”
    ” ابا میں واپڈا آفس نہیں جارہا ذرا پڑوس میں عرفا ن صاحب سے مل کر آرہا ہوں ۔ ” بیٹے نے جاتے ہوئے آواز لگائی۔
    ” اچھا۔” شیخ صاحب نے تھکے لہجے میں جواب دیا پھر اچانک انہیں کچھ یاد آگیا اور وہ بیٹے کے پیچھے ڈانٹتے ہوئے لپکے ۔
    ” ارے عرفان کے پاس کیوں جارہے ہو تم ، کوئی ضرورت نہیں اس کے پاس جانے کی میں خود دیکھ لوں گا ان سب کو ، وفاقی محتسب کی عدالت میں پھر سے گھسیٹ لوں گا ان کو، اب کے باقاعدہ اپنا وکیل کرکے کیس کردوں گا ان سب پر دیکھنا جج صاحب کیا کرتے ہیں ان کا… ”

    ٭…٭…٭




  • میرے آسماں سے ذرا پرے — مونا نقوی

    میرے آسماں سے ذرا پرے — مونا نقوی

    ”محبت کے دل میں اترنے کا کوئی خاص موسم نہیں ہوتا کہ وہ آئے اور اپنی روپہلی کرنوں سے کسی وجود کا احاطہ کر کے اسے دل کش زنجیر میں جکڑ لے ۔محبت تو کبھی بھی، کسی بھی لمحے صحیفہ ٔ نور کے مانند دلوں میں اترتی اور دل کو اس الوہی جذبے سے آشنا کرکے، راتوں کی نیندیں اُڑا کے اور جاگتی آنکھوں میں حسیں سپنے سجا دیتی ہے۔ یہ دل کا سکون لوٹ کر بھی ایک الگ ہی قرار اور احساس سے آشنا کرتی ہے۔ عظام تم کیا جانو محبت اور اِس کے خوب صورت فلسفے کو ۔” وہ محبت کی حسین وادیوں میں ٹہلتی کسی خوب صورت خیال میں کھوئی اپنا فلسفہ جھاڑ رہی تھی۔
    ”مت بھولو وریشہ، تم جس محبت کے جذبے کے زیرِ اثر خوب صورت الفاظ میں فلسفۂ محبت جھاڑ رہی ہو، اس جذبے سے تمہیں آشنا کروانے کاسہر اما بہ دولت عظام حیدر کو جاتا ہے۔” وہ اپنا کالر درست کرتے ہوئے گویا ہوا۔
    ”ورنہ تم بھی اِس دنیا کی وہی عام سی لڑکی رہتیں، جو چاہے جانے کے خواب دیکھتی تو ہے مگر کبھی انہیں حقیقت بنتے نہیں دیکھ پاتی۔” وہ وریشہ کی خوب صورت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    ”مانتی ہوں، مجھے ایک عام سی لڑکی سے خاص تمہاری محبت نے بنایا ہے اور میں ہمیشہ خاص رہنا چاہتی ہوں۔ تمہاری نظر میں بھی اور دنیا کی نظروں میں بھی۔” اس کی آنکھوں میں خوف اور لہجے میں التجا تھی۔ اسے کھونے کا خوف تو خود کو نہ کھونے کی التجا کرتی وہ نگاہیں آج بھی عظام کے ذہن پرنقش تھیں۔ وہ لہجہ آج بھی اس کی سماعتوں میں گونجتا تھا۔
    ”عظام اور وریشہ اک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ جدائی نام کی کوئی چیز کبھی بھی ہم دونوں کے درمیان نہیں آ سکتی۔”
    عظام کے پر اعتماد لہجے میں بلا کا یقین تھا اور اسی شب وریشہ کا دل اس یقین پر ایمان لے آیا تھا۔ نیچے عظام کی خالہ زاد کی مہندی کے فنکشن سے فراغت کے بعد سب رشتہ دار خوش گپیوں میں مصروف تھے اور چھت پر عظام اور وریشہ مستقبل کے سہانے خواب بُن رہے تھے۔ دور آسمان پر چمکتا چودھویں کا چاند دونوں کو محبت کے عہدو پیماں کرتا دیکھ ان کی بلائیں لے رہا تھا تو چمکتے ستارے مبارک باد اور سلامتی کی دُعائوں کے سندیسے بھیج رہے تھے۔
    ٭…٭…٭




    وہ آج بھی بے بسی کی تصویر بنی اپنے شوہر کو اپنی آنکھوں کے سامنے بے وفائی کرتے دیکھ رہی تھی لیکن ہمیشہ کی طرح مہر برلب تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ارمغان کا روز روز اپنی نئی گرل فرینڈز کو گھر لے آنا اور رات گئے بے مقصد گفت گو کرتے رہنا اور پھر ان آزاد ماحول کی پروردہ لڑکیوں کو گھر تک چھوڑنے جانا محض اسے دکھ اور تکلیف پہنچانے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔وہ اس کے چہرے پر چھانے والی اُداسی اور آنکھوں میں اترنے والی نمی سے محظوظ ہوتا تھا۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی اُداس ہو جاتی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر اس کے رخساروں پر بہنے لگتے۔ بعض اوقات وہ تنگ آکر علیحدگی کا فیصلہ کرتی مگر ارمغان کے چبھتے نشتر جیسے الفاظ اس کی زبان بند کروا دیتے۔
    ”احسان مانو میرا جو تم جیسی بدنامی کی پوٹلی کو میں نے قبول کر لیا۔ یا د رکھو، میں نے چھوڑ دیا تو تم کہیں کی نہیں رہو گی۔ گھر والے تو ڈیڑھ سال سے ملنے تک نہیں آئے تمہیں، ان کے علاوہ بھی کوئی ٹھکانہ ہے جہاں رہ سکو تم؟ اگر بنا چکی ہو تو بتا دو، میں ابھی گھر بدر کرنے کو تیار ہوں تمہیں ۔” ا س کے پاس ارمغان کی کسی بات کا جواب نہیں ہوتا۔ وہ یہ سوچ کر چپ رہتی کہ اگر ارمغان نے اسے چھوڑ دیا تو وہ کہاں جائے گی۔ وہ خاموشی سے لب سیے پلٹ آتی۔
    ٭…٭…٭
    ”زندگی کا ہر لمحہ جو تمہارے بن گزرتا ہے، اس لمحے کی روداد نہ پوچھو وریشہ، ایسا لگتا ہے جیسے موت و حیات کے بیچ لٹک رہا ہوں۔” وریشہ آج کافی دنوں بعد عظام کے گھر آئی تھی اور وہ موقع ملتے ہی دلِ بے تاب کے قصے سنانے بیٹھ گیا تھا۔
    ”اُف عظام! تم بھی نا بات بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہو کہ جھوٹ زیادہ اور حقیقت کم ہی لگتی ہے۔” وریشہ اس کی بات سنتے ہی ہلکا سا ہنستے ہوئے بولی۔
    ”قسم سے اک لفظ جھوٹ نہیں کہتا وریشہ!” وہ جھٹ سے اس کے سامنے بیٹھ کر اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے بولا:
    ”محسوس کرو، اس دل کی دھڑکن کی ہر لے میں تمہارا نام لیتا ہے میرا دل ۔تم میری سانسوں کے چلنے کا سبب ہو ۔اگر تم دور ہوئیں تو دل کے بند ہونے سے پہلے ہی میری سانسیں رک جائیں گی۔” وریشہ نے اس کے ہونٹوں پر تڑپ کر ہاتھ رکھا۔
    ”حالت تو وریشہ کی بھی تم سے کم نہیں، تمہاری یہ باتیں خوف زدہ کر دیتی ہیں مجھے۔ یا تو تم خود پاگل ہو جائو گے یا مجھے کر دو گے۔”
    ”محبت کبھی انسان کو پاگل نہیں ہونے دیتی وریشہ مگر یہ سچ ہے کہ محبت پاگل پن کا دوسرا نام ہے۔ کسی کا دیوانہ ہو کر ہوش و خرد کہاں کچھ سمجھنے اور دیکھنے کے قابل رہتے ہیں؟”
    ”عظام! مجھے ڈر لگتا ہے تمہاری محبت سے ، تمہاری باتوں سے۔” وہ خوف زدہ نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی جو اس کاہاتھ تھامے عجیب و غریب باتیں کر رہا تھا۔ وریشہ، عظام کی پھوپھی زاد تھی۔ دونوں میں پسندیدگی تو لڑکپن میں قدم رکھتے ہی ہو گئی تھی، مگر اظہارِ محبت کرنے میں انہیں چھے سال لگ گئے۔
    ٭…٭…٭
    ”آپ کو یہ جاب کیوں چاہیے وریشہ؟”
    ”ذہنی سکون کے لیے سر۔”اولڈ ایج ہوم کے مالک نے وریشہ سے سوال کیا، تو اس نے فوراً جواب دیا۔
    ”آپ کو واقعی لگتا ہے اِس جاب سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا؟” اس کے جواب پر بے ساختہ پوچھا گیا۔
    ”جی سر!بزرگوں کی خدمت سے، ان کا خیال رکھ کر اور ان کی دعائوں سے لگتا ہے مجھے واقعی ذہنی سکون ملے گا۔” وریشہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
    ”جب کہ مجھے لگتا ہے اِن بزرگوں کے قریب رہ کر، ان کی زندگی کی کہانیاں سن کر آپ کو دکھ اور تکلیف کے سوا کچھ نہ ملے گا۔”
    ”آپ بس مجھے یہ جاب دے دیں سر، مجھے ذہنی سکون ہی ملے گا۔ میں اُن کے دُکھ بانٹ کر اپنے غم اور دکھ بھول جائوں گی۔ ” اس کے لہجے میں التجا در آئی۔ اپنے حالات سے فرار اسے یہاں جاب کرنے میں ہی نظر آرہا تھا۔
    ”اوکے وریشہ! آپ ابھی سے جوائن کر سکتی ہیں۔” ریحان احمر نے خوش دلی سے کہا، تو وریشہ کااُداس چہرہ اک دم کھل اٹھا۔ ریحان نے آج پہلی بار گہرے سیاہ بادلوں کے پیچھے سے چاند کو نمودار ہوتے دیکھا تھا۔
    ٭…٭…٭
    وہ ایک وفادار اور فرض شناس بیوی کی طرح اپنے تمام فرائض ادا کر رہی تھی۔ ارمغان کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت تن دہی سے پورا کرتی۔ ارمغان کو کبھی بھی گھریلو کام میں اُس سے شکایت نہیں ہوئی تھی۔ صبح ارمغان کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ اس کی ضرورت کی ہر چیز تیار رکھتی۔ اس کے تیار ہونے سے پہلے ہی وہ ناشتا ٹیبل پر لگا چکی ہوتی۔ وہ خاموشی سے ناشتا کرتا اور وہ ہر روز ہی اس کے منہ سے تعریف کے چند کلمات سننے کی منتظر رہتی لیکن وہ بنا کچھ کہے اُٹھ جاتا۔ وہ سرد آہ بھر کر اسے جاتا دیکھتی رہ جاتی۔وہ اپنی قسمت کے اِس فیصلے پر شکوہ کناں نہیں تھی بلکہ وہ صبر کے گھونٹ پیتے ہوئے شکر سے زندگی گزار رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    اولڈ ایج ہوم میں وریشہ کا دل لگ گیا تھا۔ اس کی بے قرار زندگی میں ایک ٹھہرائو آگیا تھا۔ بزرگوں کے سایۂ شفقت اور ان کی دعائوں نے اسے نیا حوصلہ بخشا تھا۔ وہ بہت محبت اور توجہ سے ہر ایک کی بات سنتی۔ ان کی کہانیاں اسے کبھی مغموم کر دیتیں تو کبھی جینے کے نئے گر سکھاتیں مگر پھر بھی اس کے اندر کا خالی پن گھر لوٹتے ہی اس کے دل میں براجمان ہو جاتا۔ اُداسیوں کے کُہر زدہ ماحول سے وہ جتنا نکلنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی اسے اپنے چاروں طرف گہرا ہوتے پاتی۔ وہ کسی ایسے سرے کی تلاش میں تھی جسے پکڑ کر اِس ماحول سے باہر نکل سکے، مگر فی الحال ایسا کوئی سرا اسے دستیاب نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”خود کو بہت بڑا تیس مار خان سمجھتے ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ہمارے گھر اور ہمارے بزنس پر بھی قبضہ کر لو گے؟” عظام کو اس سے پہلے میں نے ایسے غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ بس دست و گریباں ہونا باقی تھا، مگر اُس نے خود پر کنٹرول رکھا۔
    ”میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تم کیا اول فول بک رہے ہو۔ کہنا کیا چاہ رہے ہو تم؟” ارمغان نے سمجھ نہ آنے والے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”اتنے بھی ”چھنے کاکے” نہیں ہو تم جو سمجھ نہیں آ رہی۔ جب دیکھو اِس گھر میں موصوف کے گن گائے جارہے ہیں اور یہ بھولی صورت پوچھ رہی ہے کہ کیا کہنا چاہ رہے ہو تم۔” عظام کو فائنل ائیر میں سپلی آنے پر چھوٹے ماموں سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑی تھی اور وہ اپنا سارا غصہ ارمغان پر اتار رہا تھا اور کیوں نہ اتارتا؟ ماموں نے ارمغان کی قابلیت اور ذہانت کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے جو ملا دیے تھے ۔ یہ بات عظام کو ہمیشہ کی طرح ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
    ”قسم سے میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، تم بد گمانی سے کام مت لو ۔”ارمغان نے اپنے ازلی پُرسکون اندازمیں کہا۔
    ”خوب سمجھتا ہوں میں اِس معصوم صورت کے پیچھے ایک عیار انسان چھپا بیٹھا ہے۔” عظام کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ میرے روکنے کے باوجود وہ ارمغان کو بے نقط سنائے جا رہا تھا اور وہ میرے سامنے اس کے رویے کی وجہ سے شرمندگی محسوس کر رہا تھا۔
    ”عظام کیا کروں ایسا کہ تمہاری بد گمانی دور ہو جائے ۔ تمہارا دل صاف ہو جائیمیری طرف سے۔” وہ روہانسا ہو گیا ۔ نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں میں نمی تیرتے دیکھ کر میرا دل دکھنے لگا تھا۔
    ”اِس گھر سے چلے جائو، اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتا تمہارا وجود ۔” عظام نفرت سے کہتا ہوا باہر نکل گیا۔ ارمغان کی نیلی آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔
    ”بہت غلط کرتا ہے عظام آپ کے ساتھ۔” میرے پاس اسے ہم دردی میں کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
    ”عادت ہوگئی ہے مجھے یہ سب سننے کی۔ آپ دکھی نہ ہوں ۔آج کون سا پہلی بار ہوا ہے آپ کے سامنے۔”
    ”آپ بہت اچھیہیں ارمغان۔ کبھی حوصلہ نہ ہارئیے گا۔ کوئی بھی مشکل ہو، بس ثابت قدم رہیے گا۔”
    وہ اثبات میں سرہلا کر باہر نکل گیا اور میں اس مضبوط انسان کو جاتا دیکھتی رہ گئی جس کا حوصلہ چٹان جیسا تھا جسے وقت کی کوئی بھی تیز آندھی گرا نہیں سکی تھی۔
    ٭…٭…٭
    مریم آپی شادی کے بعد آج پہلی مرتبہ ایک ہفتہ رہنے کے لیے آئی تھیں۔ سب کزنز ان کے پاس جمع تھے۔
    ”بس میں نے سوچ لیا ، سب کی شادی جلد کروا کے ہی دم لوں گی۔”
    ”بھئی کیوں؟ آخر ہم معصوموں کی آزادی سے کیوں خوامخواہ کا بیر ہو نے لگا آپ کو؟” عظام کے بڑے بھائی اسجد جھٹ سے بولے۔
    ”کیوں کہ اس گھر کی اکلوتی بیٹی کے بیاہ کر چلے جانے سے اِس گھر میں بیٹی کی کمی جو ہو گئی ہے۔ چچی جان سے کہہ دیا ہے میں نے، تین بیٹیاں جلد آئیں گی اِس گھر میں اور انہوں نے رشتہ ڈھونڈنے کی ذمے داری بھی مجھے سونپی ہے۔” انہوں نے اپنی طرف اشارہ کر کے اتراتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے تو منظور ہے۔آپ کی چوائس ویسے بھی بہت اچھی ہے مریم آپی۔” عظام جھٹ سے اٹھ کے مریم آپی کے پاس بیٹھ گیا۔
    ”پہلے تو اسجد بھائی کی باری ہے، مریم آپی اِن کے لیے کوئی لڑکی نظر میںرکھیے۔” میں نے عظام کی بات کے جواب میں فوراً کہا تو میری بات سن کے عظام بد مزہ ہوتے ہوئے بولا۔
    ”آپی! اسلام میں کہیں شرط نہیں کہ پہلے بڑے کی شادی ہو۔” عظام مجھے منہ چڑا کر بولا۔
    ”اسلام میں نہیں لکھا مگر زمانے کادستور یہی ہے کہ پہلے بڑے بھائی کی شادی ہو اور پھر چھوٹے کی۔”مریم آپی بھی اسے تنگ کرنے کے موڈمیں تھیں۔ مجھے دیکھ کر آنکھ دبا کے بولیں، تو عظام کھڑکی کے پاس جا کر کھڑاہوگیا۔
    ”آپی پہلے بتائیں اسجد بھائی کے ساتھ کیسی لڑکی جچے گی؟”میں نے شرارت سے اسجد بھائی کو دیکھ کر کہا جن کے کان کھڑے ہو چکے تھے۔
    ”اِس کے ساتھ کوئی فضول خرچ اور ماڈرن سی لڑکی سوٹ کرے گی ۔جیسا یہ خود ہے، ویسی ہی لڑکی ہونی چاہیے۔ بس گھومنے پھرنے اور شاپنگ کرنے کی شوقین۔”
    ”واہ واہ! آپی ایسا ہو جائے تو سونے پہ سہاگا ہے۔ مجھے بھی کوئی روک ٹوک اور خرچوں کے لیے رونے والی شریکِ حیات کی خواہش نہیں۔”اسجد بھائی جھٹ سے بولے۔
    ”السلام علیکم آپی۔” ارمغان آفس سے آنے کے بعد سیدھا مریم آپی سے ملنے چلا آیا۔ آج بھی وہ تھری پیس سکائی بلیو سوٹ میں ہمیشہ کی طرح غضب ڈھا رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی عظام کا منہ بن گیا۔
    ”وعلیکم السلام میرے شہزادے بھائی۔” مریم آپی نے محبت پاش نظروں سے ارمغان کو دیکھتے ہوئے نہایت خوش دلی سے جواب دیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بیڈ پر بٹھا لیا۔
    ”اور میرے ساتھ کون جچے گی؟ کیسی بھابی لانا چاہیں گی آپ میری بیوی کی صورت میں؟” عظام میرے بگڑتے تیوروں سے محظو ظ ہوتے ہو ئے بولا۔
    ”اُف پھوٹ گئی اُس کی قسمت جو تمہاری بیوی بنے گی۔” آپی نے اپنا الٹا ہاتھ پیشانی پر مارتے ہوئے کہا، تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔
    ”اب ایسی بھی بات نہیں، بہت کیئرنگ اور محبت کرنے والا شوہر ہوں گا میں۔”عظام نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
    ”بالکل! مگر اس کے ساتھ ساتھ تمہارے نخرے…” مریم آپی نے نخرے کی”ے” کو لمبا کھینچا تو عظام میرے قریب بیٹھتے ہوئے آہستہ سے بولا:
    ”بہ خوشی اٹھا لے گی میرے نخرے ۔”میں نے مسکرا کے سر جھکا لیا۔




  • رنگ ریز — قرۃ العین خرم ہاشمی

    ”دنیا میں ایسا کوئی رنگ نہیں بنا ، جو شالارنگ والا کے ہاتھوں میں آکر کھلا نہ ہو ! بابو جمیل میں ایسا رنگ رنگتا ہوں کہ کپڑا خود بھی اپنی قسمت پہ نازاں ہوتا ہے ! اس شہر میں ، مجھ سے زیادہ رنگوں کی صحیح پہچان کسی کو بھی نہیں ہے !”




    شالا رنگ والے نے ہمیشہ کی طرح بہت مان اور فخر سے دعوی کیا ۔جمیل احمد نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور اسے کام سمجھانے لگا ۔ وہ پچھلے کئی سالوں سے اپنی ذاتی اور چھوٹی سی بوتیک کا کام لے کر اس کے پاس آ رہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ شالا رنگ والے کی بات اتنی غلط بھی نہیں ہے ۔ اس پرانی گلی میں کوئی بھی ایسا رنگ ریز نہیں تھا جو اس کی طرح کا کپڑا رنگتا ہو ۔شالا رنگ والے کے رنگ بہت پکے اور منفرد ہوتے تھے ۔ جمیل احمد نے جب نیا نیا بوتیک کا کام شروع کیا تھا تو اس وقت اس کے پاس بہت محدود بجٹ تھا اور اسی محدود بجٹ میں اس نے گاہک کو بہتر سے بہتر کام مہیا کرنا تھا تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنی اچھی ساکھ بنا سکے ۔ اسی لئے ،اس نے دریا کے پل کے پاس آباد ، شہر کے سب سے پرانے بازار کا انتخاب کیا اور بہت تلاش کے بعد بالاخر اسے شالا رنگ والا مل ہی گیا۔پرانی گلی کے سب سے آخر والے کونے میں ٹین کی چھت کے نیچے ،چائے والے کھوکھے کے سامنے وہ بیٹھتا تھا۔ آج سے چھ ، سات سال پہلے وہ تیس کے لگ بھگ تھا۔ سانولا رنگ ،دراز قد، متناسب جسم کے ساتھ وہ اچھی شخصیت کا مالک تھا ۔ نخرہ اس میں بہت تھا ، اپنے ہنر پہ نازاں ، اپنی مرضی کا دام لینے والا اور اپنی مرضی سے کام کرنے والا ۔۔۔۔!
    مگر یہ بھی ضرور تھا کہ اپنا کام بہت دل لگا کر اور ایمانداری سے کرتا تھا ۔خواتین کی عادت ہوتی ہے ، ہر بات میں اعتراض کرنے اور نقص نکالنے کی ، مگر شالا رنگ والا کسی کی نہیں سنتا تھا ۔اگر کوئی نئی آنے والی عورت اس کے زیادہ دام پہ اعتراض کرتے ہوئے کہتی کہ
    ” پورے بازار میں ایک ہی دام مقر ر ہے مگر تمہارے دام سب سے الگ اور زیادہ ہیں !”
    ” پھر آپ کہیں اور سے کام کروا لیں ۔۔! میں اپنے دام کم نہیں کرتا ہوں ۔۔۔!”
    وہ لاپروائی سے کہہ کر اپنے کام میں لگ جاتا ۔کچھ عورتیں تو یہ سن کر چلی جاتیں مگر زیادہ تر اس کی مستقل گاہک تھیں ۔ جو اسکے مزاج سے بہت اچھی طرح واقف تھیں ۔اس لئے سر کھپائی کرنے کے بجائے ، اپنے کام سے کام رکھتی تھیں ۔ شالا رنگ والا ایک بار جس بات پہ بگڑ جاتا ، پھر اسے سمجھانا یا منانا بہت مشکل ہوتا تھا ۔ اس کے رنگوں کی طرح ، اس کی ضد بھی بہت پکی تھی !اپنے بہت پرانے گاہکوں کے ساتھ اس کا مزاج زیادہ تر خوشگوار ہی رہتا تھا ۔ کیونکہ وہ اسے اور اس کے مزاج کو سمجھ کر بات کرتے تھے ۔ اگر شالا رنگ والا کسی سے بہت ہنس ہنس کر بات کر رہا ہو تا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ آج اس کا موڈ بہت خوشگوار ہے پھر وہ بات بہ بات قہقہ لگاتا تھا ، ہنستے ہوئے اس کے سفید دانت بہت واضح نظر آنے لگتے تھے ۔ مگر اس کے بہت سے ہم عصر اس بات کو غلط رنگ دے کر بیان کرتے کیونکہ وہ اس کے کام اور تھڑے کے سامنے لگے رش سے بہت جلتے تھے اور اسی حسد میں کہتے ؛




    ” اس کے پاس زیادہ خواتین اسی لئے جاتی ہیں کہ وہ انھیں اپنی باتوں میں لگا لینے کا ماہر ہے ! پہلے پہل نخرے دکھاتا ہے اور پھر اپنے مرضی کے دام طے کرتے ہی ، اس کا مزاج بدل جاتا ہے ۔ اب ظاہر سی بات ہے اس طرح ہنس ہنس کر باتیں کرے گا تو سب شہید کی مکھیوں کی طرح اس کے گر د جمع ہی ہوں گی نا!”
    یہ باتیں وہ حریف کرتے تھے جن کے پاس دکان تو بہت بڑی تھی مگر کام بہت کم تھا ۔ جبکہ شالا رنگ والا ایک چھوٹے سے تھڑے پہ ،اپنا کاروبار چمکائے بیٹھا تھا ۔جمیل احمد کو بھی اس کا نخرہ اور غرور نہیں بھایا تھا مگر جمیل احمد کا ، شالارنگ والے کے مزاج سے زیادہ اپنے کام سے مطلب تھا ۔ وہ جس طرح کا کام چاہتا تھا ، وہ شالا رنگ والے سے بہتر کوئی اور نہیں کر سکتا تھا ۔ شالا رنگ والے کے دام اس کی مرضی کے مطابق ہی طے ہوتے تھے مگر جتنا اچھا وہ کام کرتا تھا ، جمیل احمد کو اس کے بتائے دام زیادہ نہیں لگتے تھے ۔ اسی لئے جمیل احمد بہت کچھ دیکھ کر نظرانداز کر دیتا تھا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جمیل احمد او راس میں ایک انجانا سا تعلق بن گیا تھا۔ جمیل احمد کو یاد ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی تو وہ کس طرح تیار ہو کر کام پر آتا تھا ۔ تیل لگا کر اچھی طرح کنگھی کئے ہوئے بال ، صاف ستھرے کپڑے پہنے ، ہر وقت ہلکی سی گنگناہٹ اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ رقصاں رہتی تھی جیسے ساون کے دنوں میں ہلکی سی کن من جاری رہتی ہے ۔ جمیل احمد اپنے کام کی وجہ سے زیادہ تر اس کے پاس آیا ہی رہتا تھا اور کافی وقت وہاں گزارتا تھا ۔ اس لئے اب وہ اکثر ادھر ، اُدھر کی باتیں بھی کر لیتے تھے ۔
    ” تم اتنا کماتے ہو ! کسی اچھی سے جگہ کیوں نہیں چلے جاتے ! ” جمیل احمد نے ایک بار عورتوں کے بے پناہ رش میں پڑنے والے دھکوں سے گھبرا کر کہا ۔
    ”بابو جمیل سوچا تو بہت بار مگر وہ کیا ہے کہ !” شالا رنگ والا اپنے کالے اور گھنے بالوں میںہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
    ”مجھے یاد ہے آج بھی ۔۔۔!!!” اس نے بڑی سی کڑاہی میں گرم پانی میں گھلا رنگ نالی میں الٹایا اور برتن کوپانی سے کھنگال کر ، اس میں صاف پانی ڈالا اور اس کے گرم ہونے کا انتظار کرتے ہوئے کہنے لگا ۔
    ”جب میں نے پہلی بار اپنے ابا کے ساتھ ضد کر کے اس پرانی گلی آیا تھا ۔ تب بھی یہ اسی طرح ہی گنجان و آباد علاقہ تھا۔ میں شاید تب سات یا آٹھ سال کا تھا ۔ ابا نے مجھے اپنے پاس رکھے ٹین کے پرانے ڈبے پہ بیٹھا یا اور گاہکوں کے ساتھ مصروف ہوگئے ۔میں دن بھر اپنے باپ کو مختلف قسم کے لوگوں کے ساتھ رنگوں کے صحیح انتخاب اور امتزاج کے لئے الجھتے دیکھتا رہا ۔ ابا کو اپنے پیسوں سے زیادہ ، لوگوں کے کام کی فکر ہوتی تھی کہ سب کچھ بہترین اور گاہک کی مرضی کے مطابق ہو ۔ ابا نے بھی اپنا کام اسی جگہ سے شروع کیا تھا ۔ وہ اکیلے کام کرتے تھے۔ دن بھر رنگوں کی ڈبیوں کو کھولتے اور بند کرتے رہتے ۔ رات گئے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ۔ میں جو پہلے کچھ دن خاموشی سے سب دیکھتا رہا ۔ بعد میں چھوٹے چھوٹے کاموں میں ابا کی مدد کر وانے لگا ۔ اماں کہتی تھیں کہ ابھی میری عمر نہیں ہے ان رنگوں میں رنگنے کی ! مگر اباکا ماننا تھا کہ ” ہنر سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ! یہ ایک رنگ ساز کا بیٹا ہے ، اسے رنگوں کو برتنے کا سلیقہ آنا چائیے ۔”
    شالا رنگ والا ، بولنے پہ آتا تو رکتا ہی نہیں تھا ۔ وہ بہت باتونی تھا اس لئے کہ اس کی باتوں میں لفظ ” میں ” بار بار آتا تھا اور اسے اس لفظ سے بہت محبت تھی ، اس لئے کہ اسے اپنی ذات کے بت کو پوجنے کی عادت تھی ۔۔۔۔ ! اپنے ماضی کا ذکر تو خاموش ہونٹوں کو بھی خودکلامی کے رس میں بھگو دیتا ہے ، وہ تو پھر رنگوں میں سانس لینے والا ، زندہ دل آدمی تھا ۔
    ” بس بابو جمیل! اباکی یہ بات دماغ میں ایسی بیٹھی کہ پھر سکول جا کر بھی دل نہیں لگا ۔ بمشکل آٹھ جماعتیں پاس کی اور ابا کے ساتھ کام سنبھال لیا پھر ابا تو گزر گیا مگر اپنی سب ذمہ داریاں اور فکریں میرے کندھے پہ ڈال گیا۔ بس شکر ہے بہت سا کڑا وقت تو گزر گیا ہے ، جو رہ گیا ہے وہ بھی گزر جائے گا !”




  • جواز — امایہ خان

    ”میں بہت جلد واپس آئوں گی۔” نہایت گرم جوشی سے الوداع کہتے ہوئے اس نے بیپ سے رخصت لی۔ اپنے ریستوران کے مالک گرومیل کو اس نے پہلے ہی مطلع کردیا تھا۔ پیزیریا انٹیکا (pizzeria antica)، اٹلی کے شہر بریشیا کے شمال میں واقع تھا اور اسے وہاں ویٹر کی ملازمت کرتے تین ماہ ہوگئے تھے۔ اس مختصر سی مدت میں ہی اس نے اپنی خوش اخلاقی اور زندہ دلی سے سب گاہکوں کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ اسی لیے گرومیل ملتانی اس سے بے حد خوش تھا۔ وہ دوسری ایشیائی عورتوں کی طرح مردوں سے ہچکچاتی نہیں تھی بلکہ مسلمان ہونے کے باوجود مغربی لباس پہنتی اور ان ہی کے اطوار اپنائے ہوئے تھی۔ اطالوی زبان پر اُسے مکمل عبور تھا جس کی اہم ترین وجہ شاید بیپ تیمپینی سے دیرینہ تعلقات تھے۔




    گرومیل کئی بار کام ختم ہونے کے بعد اسے تیمپینی کے ساتھ جاتے دیکھ چکا تھا۔ وہ تیمپینی باشندہ تھا۔ پیشے کے لحاظ سے ترکھان اور اس کی عمر پینتیس برس تھی۔ اُس نے موقع دیکھ کر ایک دوبار سمجھانا چاہا۔
    ” تم ابھی کم عمر ہو، کسی بیس اکیس سال کے لڑکے سے دوستی کیوں نہیں کرتیں؟” جس پر وہ خوش دلی سے مسکرا کر بولی:
    ”میں نے اس کی عمر دیکھ کر محبت نہیں کی۔” گرومیل اس جواب پر محض کندھے اُچکا کر رہ جاتا۔ ظاہر ہے وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں آزادی تھی۔ جب اس کے ماں باپ نہیں روک سکے، تو وہ کیا کرسکتا تھا؟ اس کے بعد ملتانی نے کبھی ایسا کوئی سوال نہیں کیا، یہ جاننے کے بعد بھی کہ وہ مستقل طور پر تیمپینی کے گھر منتقل ہوگئی ہے، وہ کچھ نہیں بولا تھا۔
    اس شام تین دن کی رخصت لے کر وہ اس کے ریستوران سے نکلی اور پیدل چلتی ہوئی بیپ کے اپارٹمنٹ تک پہنچی تو وہ اسے دروازے پر ہی مل گیا۔ دو چار اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد وہ جلد واپسی کا وعدہ کرتی وہاں سے روانہ ہوگئی۔ بیپ کو اس نے بتایا تھا کہ فرانس سے کچھ رشتہ دار ملنے کے لیے آئے ہیں اور اس کا باپ چاہتا ہے وہ خود ان کے لائے ہوئے تحائف وصول کرے ، اس لیے وہ جارہی تھی۔ اپنے والدین اور رشتہ داروں سے مل کر اسے کل شام تک واپس آجانا تھا۔ اپنی چھٹی کا تیسرا دن وہ صرف بیپ کے ساتھ گزارتی مگر ایسا نہ ہوا۔
    دوسرا اور پھر تیسرا دن بھی یونہی گزر گیا، اس کی کوئی خیر خبر نہ آئی۔ عموماً بیپ اس سے ان دنوں میں خود سے رابطہ نہیں کرتا تھا جب وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتی تھی، لیکن اب مجبوری تھی۔ وہ اس کے لیے مزید فکر مند تب ہوا جب لاکھ کوشش کے باوجود بھی موبائل پر اس سے رابطہ نہ ہوسکا۔ اس کا فون مسلسل آف تھا۔
    چوتھے دن کا سورج غروب ہوتے ساتھ ہی بیپ کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے پولیزیا میں شکایت درج کی جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے بعد carbeneria کو حنا کی گمشدگی کی اطلاع کردی۔ انہیں شک تھا کہ بیپ کی لِٹل ڈول کو اس کے باپ نے کہیں غائب کردیا ہے۔
    ٭…٭…٭




    ”باجی مجھے بس دو منٹ بات کرنی ہے صفیہ سے، مجھے گوجرانوالہ کا یہ نمبرملادیں۔”
    اس کی منت بھرے انداز میں کی گئی درخواست کو رد کرنا رباب کے لیے آسان نہیں تھا، مگر پھر بھی اس نے کہا۔
    ”تمہارا شوہر پھر چلائے گا یہاں آکر، اسی لیے دلاور نے منع کیا ہے کہ میں تمہاری کوئی مدد نہ کروں۔”
    ”اچھا! تو پھر یہ بیلنس ڈلوادیں فون میں۔” اس نے ڈوپٹے کے پلّو میں بندھے چند مڑے تڑے نوٹ اور سِکے نکال کر اس کے سامنے میز پر رکھ دیے۔ رباب کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ بشریٰ نے یہ معمولی رقم بھی کس مشکل سے جمع کی ہوگی، اس کا دل پسیج گیا۔
    ”رہنے دو، آئو بات کروادیتی ہوں۔”
    ”شکریہ جی! لیکن بتایئے گا نہیں آپ دلاور بھائی کو، سلیم کو پتا لگا، تو میری ہڈی پسلی ایک کر دے گا۔”
    ”ٹھیک ہے! نہیں بتائوں گی لیکن جلدی بات ختم کرنا۔” رباب نے ریسیور کان سے لگا کر اس کے ہاتھ سے پرچہ لیا اور نمبر ملانے لگی۔ کال ملا کر دینے کے بعد وہ خود وہاں سے ہٹ گئی۔ دس منٹ بعد جب وہ واپس آئی تو منظر حسبِ توقع ہی تھا۔ بشریٰ ہمیشہ کی طرح دوپٹے میں منہ چھپا کر رو رہی تھی۔
    ”مجھے بھی لے جا اماں، یہاں نئیں رہنا… مینوں لے جا۔” اپنی بیٹی کی وہی پرانی گردان سن کر بشریٰ کے آنسو بہے چلے جارہے تھے۔ رباب کو بہ یک وقت دونوں ماں بیٹی پر غصہ بھی آیا اور ترس بھی۔
    ”بس فون ملانے کا شوق ہے، بات تو کرتی نہیں ہے بیٹی سے۔” وہ بڑبڑاتی ہوئی بشریٰ کے نزدیک آئی جو آہستگی سے ریسیور واپس رکھ رہی تھی۔
    ”کیا ہوا؟ بات کیوں نہیں کی؟”
    ”کرلی جی!” بشریٰ نے ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھے اور جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”بہت مہربانی جی! اللہ آپ کو جزا دے۔” اُس نے جاتے ہوئے کہا اور رباب اُس کی دعا پر محض سرہلا کر رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”وائی ال انفرنو” (go to hell)” فلورا نے حقارت سے گھورتے ہوئے اسے جہنم میں جانے کا مشورہ دیا اور وہ ڈھٹائی سے مسکراتا اپنی میز کی جانب بڑھ گیا، جیسے بس یہی سننے کے لیے کھڑا ہو۔ چار سال میں اسے اب اتنی اطالوی زبان تو سمجھ آنے لگی تھی مگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا تھا۔ کچھ دن پہلے ہی اس نے پرانے ریستوران سے دھکے دے کر نکالے جانے کے بعد یہاں آنا شروع کردیا تھا۔ تب سے اس کا معمول تھا کہ ریستوران میں داخل ہوتے ہی فلورا کے پاس کائونٹر پر جاکر اسے چھیڑتا۔
    ”میں تمہارے ساتھ رات گزارنا پسند کروں گا…”vogho dormise con teاس فقرے کو بھی وہ کئی دنوں کی لگاتار محنت کے بعد یاد کرپایا تھا۔ وہ اسکول کے زمانے سے ہی سبق یاد کرنے میں بڑا ”ماٹھا تھا۔” تب ہی تنگ آکر چوتھی کے بعد ماسٹر صاحب اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر چھوڑ آئے تھے۔ جس کے بعد اس نے ابا کے ساتھ باڑے پر وقت دینا شروع کردیا۔ ابا کے پاس چھے بھینسیں تھیں۔ ان کا دودھ گائوں کے گھر گھر پہنچایا جاتا، وہ بھی ابا کے ساتھ لگ گیا۔ ابا تو ویسے بھی اس کی پڑھائی کے حق میں نہ تھا۔ یہ تو بے چارے اسکول ماسٹر صاحب کا شوق تھا جو زبردستی بچوں کو پکڑ پکڑ کر پڑھنے بٹھاتے۔ انہوں نے کتنے ہی بچوں کو پڑھا یا لیکن سلیم نے ایسا زچ کیا کہ خود ہی تنگ آکر گھر چھوڑ آئے۔
    میلان پہنچ کر کئی مواقع پر اسے اپنی تعلیم سے عدم توجہی پر پچھتاوا ہوا۔ اگر وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی ہی بول پاتا تو شاید اسے ایسی مشکل پیش نہ آتی۔ اَسّی نوے کی دہائی سے اٹلی کی حکومت کی آسان پالیسیوں کی بہ دولت سینکڑوں پاکستانی روزگار کے حصول کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر آتے رہے تھے۔ سلیم بھی اپنی تمام تر نالائقیوں کے باوجود کام حاصل کرنے میں کام یاب ہوگیا۔ فیکٹریوں میں زیادہ تر سِکھ سپروائزر تھے جن سے مشینوں کا کام سمجھنا مشکل نہ تھا۔ تکلیف تو رہائش، کھانے پینے اور ملنے جلنے میں تھی۔
    میلان میں کچھ عرصہ گزار کر اب وہ بھی دیگر پاکستانیوں کی دیکھا دیکھی بریشیا شفٹ ہوگیا تھا۔ یہاں جنوبی ایشیا سے آئے مسلمانوں کی تعداد روز بہ روز بڑھ رہی تھی۔ زیادہ تر کا تعلق غریب اور ان پڑھ طبقے سے تھا اور غیر قانونی طریقے سے آئے پاکستانیوں کو بھی قدرے کم معاوضے پر کام مل جاتا تھا۔ ملازمت دینے میں بہت فیاض مگر عزت دار شہری کی حیثیت سے انہیں تسلیم کرنے میں اطالوی معاشرہ نہایت تنگ دل ثابت ہوا۔
    دن رات گدھوں کی طرح کام میں مصروف رہنے کے بعد بدبودار پسینے میں شرابور، گندے کپڑوں میں ملبوس مزدوروں کا ریستوران میں گھس آنا میلان کے نازک طبع شہریوں کو بے حد گراں گزرتا تھا۔ حال تو بریشیا میں بھی کم و بیش یہی تھا۔ مقامی لوگ ان سے کراہت محسوس کرتے لیکن زیادہ تر خوف کھاتے تھے، اسی لیے میل جو ل بڑھانے سے گریز کرتے تھے۔ ویسے ہی ان کے پاس تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ نائٹ لائف انجوائے کرنے کے لیے زیادہ تر کے پاس فاضل رقم نہ ہوتی اور جن کے پاس ہوتی ان کے انداز و اطوار دیکھ کر کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا تھا۔
    سلیم یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ فلورا کبھی اثبات میں جواب نہیں دے گی۔ اس کے باوجود وہ محض تنگ کرنے کے لیے یہ فقرہ اسے بلاناغہ سنایا کرتا۔ پہلے پہل تو اس کے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بولے گئے اطالوی فقرے کو فلورا سمجھ ہی نہ پائی اور اسے نظر انداز کردیا، مگر جب ہر روز ریستوران کا چکر لگانا اور خاص طور پر فلورا کے نزدیک آکر یہ جملہ کہنا اس کا معمول بن گیا تب اسے توجہ دینا پڑی اور جب اُسے سمجھ آیا کہ سلیم اُسے رات گزارنے کی پیشکش کررہا ہے تو وہ غصے میں آگ بگولا ہوگئی۔ مجبوری یہ تھی کہ ویٹرس کی حیثیت سے اسے ریستوران میں آئے گاہکوں سے بدلحاظی کی اجازت نہ تھی۔ تنگ آکر اس نے ریستوران کے مالک سے شکایت کردی جس نے اسے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ یعقوب، جو کچن میں صفائی ستھرائی پر مامور تھا، کو بلوا کر سلیم کو دھمکی دی گئی کہ اگلی بار معمولی سی شکایت پر اسے فی الفور ہراساں کرنے کے الزام میں پولیزیا کے حوالے کردیا جائے گا۔ یعقوب نے نہایت واضح الفاظ میں اسے وہاں آنے سے ہی منع کردیا جس کے بعد سلیم نے دوبارہ اس ریستوران کا رُخ نہیں کیا، وہ کہیں اور جانے لگا۔
    ٭…٭…٭




  • صلیب — ثمینہ طاہر بٹ

    بعض اوقات انسان جو سوچتا ہے، جو کرنا چاہتا ہے وہ کر نہیں پاتا۔ کبھی زمانے کی زبانیں راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہیں، تو کبھی ذات برادری کے خود ساختہ، بے بنیاد اور کھوکھلے اصول، کہیں انا کی دیوار بیچ میں آ جاتی ہے، تو کہیں ضد اور غصہ اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی صلیب خود اپنے شانوں پر اٹھا نی پڑتی ہے۔ اس وقت اسے اپنے ارد گرد نہ تو کوئی اپنا ہم درد دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی رہ نما نظر آتا ہے۔ بس وہ انسان ہوتا ہے اور اس کے ناکردہ گناہوں کا بوجھ، جسے وہ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے چلتا چلا جاتا ہے۔




    شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے برن یونٹ کے اندر پڑی ادھ جلی لڑکی کی کرب ناک چیخیں اب آہستہ آہستہ دم توڑ رہی تھیں۔ وہ شاید غنودگی میں جا رہی تھی یا پھر بے ہوشی میں، دور سے دیکھنے پر کچھ خاص اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس برن یونٹ میں اس حالت میں لائی جانی والی وہ پہلی لڑکی نہیں تھی۔ یہاں تو روزانہ ہی اس طرح کے کئی مریض آتے جاتے رہتے تھے۔ برن یونٹ کی سرد اور خاموش دیواریں دن میں کئی بار ایسے ہی اندوہ ناک اور دل دوز مناظر دیکھتی تھیں۔ تیزاب پھینک کر جلائی جانے والی دوشیزائیں، پٹرول اور تیل چھڑک کر زندہ جلائے جانے والی بہوویں اور ان کے درد سے تڑپتے اپنے مُنہ سے موت مانگتے وجود دیکھ دیکھ کر ان دیواروں کی آنکھیں بھی پتھرا چکی تھیں۔ ان مریضوں کے خلق سے نکلنے والی کرب ناک چیخیں ، آہیں اور کراہیں برداشت کرنا ان دیواروں ہی کا کام تھا یا پھر اس وارڈ میں مشینی انداز میں اپنے اپنے کام میں منہمک نرسوں اور ڈاکٹرز کا حوصلہ ، جو شاید اب ان دیواروں کی طرح ہی سرد اور بے حس ہو چکے تھے۔ وارڈ کے اندر وہ جان کنی کے عالم میں مبتلا تھی۔ کمرے کے باہر سفید بالوں اور جھکے شانوں والا اس کا پریشان حال باپ سنگی مجسمے کی صورت سر جھکائے حزن و ملال کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ اس کی گود میں قطرہ قطرہ گرنے والے بے بسی کے آنسوؤں کو دیکھ کر احساس ہو رہا تھا کہ اس کے پتھرائے وجود میں ابھی بھی زندگی کے کچھ آثار باقی ہیں۔
    ”ڈاکٹر!! اب کیسی حالت ہے اس burn victum کی؟ کیا ہم اس کا بیان لے سکتے ہیں؟” سنگی مجسمے کے کانوں میں ایک جانی پہچانی آواز پڑی تو جیسے اس کے بے جان ہوتے وجود میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ بعض اوقات ایسے بھی تو ہوتا ہے ناں کہ جب ہم مایوسی اور دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں خود کو دھنستا ہوا محسوس کرتے ہیں، تو اسی وقت ہمارے آس پاس ہی ہمارے قریب، بہت قریب امید کے جگنو ٹمٹمانے لگتے ہیں۔ جب خوف اور اکیلا پن اپنے نوکیلے پنجے ہماری روح میں گاڑنے لگتے ہیں، تو ہماراکوئی اپنا، کوئی بہت ہم درد ایک دم ہاتھ بڑھا کر ہمیں اس خوف، اس اکیلے پن کے پنجے سے چھڑوا کر دور، بہت دور لے جاتا ہے۔ اس وقت بھی یہی ہوا تھا۔
    ”بلال۔” ان کے مضطرب ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی تھی، مگر یہ آواز شاید دل سے نکلی تھی اس لیے سیدھی دل تک ہی پہنچی تھی۔
    ”پروفیسر صاحب آپ؟ آپ یہاں… کیسے… کیوں…؟” بلال نے یک لخت پلٹ کر دھیمی لرزتی آواز کی سمت دیکھا اور پھر کچھ اور دیکھنے کے قابل ہی نہ رہا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کا وجود پتھر میں ڈھل چکا ہے۔ خوف کی بھاری صلیب نے اس کی روح، اس کے دل کو اپنے بوجھ تلے دبا لیا تھا۔ وہ اندھوں کی طرح گرتا پڑتا پروفیسر صاحب تک پہنچا اور اب ان کے قدموں میں بیٹھا ان کے بے بسی سے بہتے آنسو چن رہا تھا۔
    S.P بلال احمد اور جان بہ لب مریضہ کا مجبور باپ… یہ کیسا کنکشن تھا۔ پولیس کی بھاری نفری سمیت وہاں موجود ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے کان بھی کھڑے ہو چکے تھے۔ وہ سب تجسس بھرے انداز سے SP بلال صاحب کو اس ادھ جلی مریضہ کے باپ کے آنسو پونچھتے، انہیں گلے لگاتے، ان کے ہاتھ چومتے دیکھ رہے تھے۔
    ”سر! یہ اُسی مریضہ کے والد ہیں، جن کے بارے میں آپ investigation کرنے آئے ہیں۔” ڈاکٹر فاریہ نے ان کے پاس آتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا تو بلال احمد کا سارا وجود پتھر سے بھربھری ریت میں تبدیل ہو گیا۔ اسے لگا وہ وہیں، اسی کاریڈور میں ننھے ننھے ذرات بن کر بکھرتا جا رہا ہو۔ اس کے اپنے وجود کی ریت اُڑ اُڑ کر اس کی حیران آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔




    ”قندیل!!” حیرت اور خوف کے غلبے کے زِیر اثر اس کی آواز بھی کہیں دم توڑتی جا رہی تھی۔
    ”بلال! قندیل جل گئی۔ میری قندیل جل گئی۔ بلال… میری قندیل بجھ گئی۔” پروفیسر صاحب اس کے شانے پر سر رکھ کر نوحہ کناں ہوئے تو وہ بھی جیسے ہوش میں آگیا۔
    ”نہیں بابا! قندیل نہیں بجھے گی۔ قندیل کبھی نہیں بجھ سکتی بابا، کبھی بھی نہیں!” پروفیسر صاحب نے ایک دم چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ان کی ساکت نگاہیں بلال احمد کے پر عزم روشن چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ وہ روشن چہرہ جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں خود سے دور کر دیا تھا۔
    پروفیسر عالم صاحب کا شمار ان اساتذہ میں ہوتا تھا جوعِلم کا عَلم اٹھائے نسل ِ انسانی کے لیے مشعلِ راہ بنے ہر طرف روشنی کی کرنیں بکھیرتے رہتے ہیں۔ ان کے بے شمار شاگرد تھے اور ان کے گھر اور دل کے دروازے علم کی پیاس رکھنے والوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے۔ جس طرح پہاڑوں کے درمیان بہنے والا چشمہ ، بل کھاتا اپنی دھن میں مگن لوگوں کی پیاس بجھاتا چلتا چلا جاتا ہے، اسی طرح پروفیسر عالم صاحب بھی اپنے شاگردوں میں بلا امتیاز و تفریق علم کی دولت لٹا رہے تھے اور لوٹنے والے دونوں ہاتھوں سے جھولیاں بھر بھر کر لوٹ رہے تھے۔
    بلال بھی ان کا ایسا ہی ایک شاگرد تھا۔ بلا کا ذہین اور سیلف میڈ انسان۔ بلال جیسے لوگوں کے لیے زندگی کبھی بھی مہربان دوست ثابت نہیں ہوتی۔ انہیں اپنی راہ میں پڑے پتھروں پر قدم جما جما کر چلنا پڑتا ہے۔ کبھی گرتے، کبھی سنبھلتے کسی نہ کسی طرح وہ لوگ بھی منزل پر پہنچ ہی جاتے ہیں، مگر یہ خوش نصیبی بھی صرف چند لوگوں کے حصے میں ہی آتی ہے اور بلال بھی بلا شبہ ان ہی خوش نصیبوں میں سے ایک تھا۔
    اس کا اس بھری دنیا میں بوڑھی دادی کے سوا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے والدین اور دادی کے ساتھ گاؤں میں رہتا تھا۔ شاید وہ ہمیشہ ہی وہیں رہ کر پلتا بڑھتا اور جوان ہو کر اپنے باپ دادا کی طرح اپنی آبائی زینیں سنبھالتا، مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ اگر ایسا ہو جاتا تو وہ نہ ہوتا جو تقدیر میں لکھا جا چکا تھا۔ بلال اگر ان پڑھ دیہاتی ہی رہتا، تو وہ ”بیت العلم ” کا مکین کیسے بنتا؟
    پروفیسر عالم نے اپنی رہایش گاہ کو ”بیت العلم” کا نام دے رکھا تھا۔ وہ اپنی بیگم اور اکلوتی بیٹی کے ساتھ بڑی مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ اگر ان کا اوڑھنا بچھونا درس تدریس تھا تو مہک عالم کی زندگی کا محور عالم صاحب اور چھے سالہ قندیل کی خوشیوں کا خیال رکھنا تھا۔ سب ٹھیک چل رہا تھا، مگر اچانک چلتے چلتے ان کی زندگی جیسے رک سی گئی۔ مہک کو موسمی بخار نے جکڑ لیا۔ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف خود پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتی تھیں اور یہی بے توجہی ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہر اور بیٹی پر بہت بھاری پڑی۔ مسلسل رہنے والا بخار کسی بڑی بیماری کا پیشِ خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور جب سارے ٹیسٹ کروائے گئے، تو وقت ہاتھ سے ریت کی طرح نکل چکا تھا۔ مہک کو کینسر جیسے موذی مرض نے اپنا نشانہ بنا لیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے بڑی ہمت سے حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور اپنے فرائضِ منصبی کے ساتھ ساتھ مہک کے علاج پر بھی پوری توجہ مرکوز کر دی، مگر اب واقعی دیر ہو چکی تھی۔ مہک کے پاس وقت بہت کم بچا تھا اور اسے اپنے سے زیادہ قندیل اور عالم صاحب کی فکر ستاتی تھی۔
    ادھر بلال کے ساتھ بھی قسمت نے عجیب کھیل کھیلا تھا۔ وہ اپنی دادی کے ساتھ ان کی دور پرے کی عزیزہ ” مہک عالم” کی عیادت کے لیے شہر آیا تھا کہ پیچھے سے اس کی دنیا ہمیشہ کے لیے اجاڑ دی گئی۔ وہی گاؤں کی دشمنیاں اور زمین جائیداد کے بکھیڑے۔ اس کے داد کے شریکوں نے پیچھے اس کے ماں باپ اور بہن کو مار ڈالا اور ان کے گھر اور زمینوں پر قبضہ کر لیا۔ دادی جو مہک کی دور پرے کی پھپھو تھیں یہ خبر سن کر ہوش وحواس کھو بیٹھیں۔ وہ تو اپنی مرتی بھتیجی کی آخری بار عیادت کو گئی تھیں اور اب خود اسی ہسپتال میں بستر علالت پر آن پڑی تھیں۔ عالم صاحب کا نرم دل بھی ان پر گزرنے والی قیامت سے لرز سا گیا۔ اس پر جب بلال کے باپ کے شریکوں نے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا، تو وہ اور زیادہ پریشان ہو گئے۔ دس سالہ معصوم بلال کی موہنی اور معصوم صورت ان کے دل میں ایسی بسی کہ انہوں نے اس کے رشتے داروں کو صاف انکار کر دیا۔
    عالم صاحب کے اس انکار نے دوسری طرف آگ سی بھڑکا دی تھی۔ وہ لوگ تو دشمنیاں پالنے کے عادی تھے، انہوں نے عالم صاحب کو بھی اپنا دشمن مان لیا، مگر یہاں بلال کی دادی نے عقل مندی کا ثبوت دیا اور عالم صاحب اور بلال کے سر سے اس دشمنی کا بوجھ اتارنے کے لیے اپنی ساری زمینیں، گھر، مال مویشی سب کچھ شریکوں کے نام لگا دیا۔ سب معامالات کورٹ کچہری میں ہوئے۔ پکے کاغذات پر انگوٹھے لگے اور بوا رحمت نے اپنی کل دنیا، اپنے پوتے کی جان اس دشمنی کے گرداب سے بچالی۔
    بلال کی جان تو بچ گئی، مگر مہک کو مزید مہلت نہ ملی اور وہ ایک دن باتیں کرتے کرتے اس سکون سے سوئی کہ پھر آنکھ ہی نہ کھول پائی۔ قندیل کے سر سے ممتا کی چھاؤں چھن گئی، مگر بوا جی نے اسے اپنی محبت بھری آغوش میں بھر لیا۔ اب بوا جی کی زندگی کا مقصد بلال کے ساتھ ساتھ قندیل بھی بن چکی تھی۔ پروفیسر عالم، مہک کی ابدی جدائی کو بڑی جی داری سے جھیل گئے تھے۔ انہوں نے خود کو پہلے سے زیادہ مصروف کر لیا۔ اپنے گھر کو اکیڈمی میں تبدیل کر دیا اور خود درس وتدریس میں کھو گئے۔
    ”بابا! بلال کا رزلٹ آگیا، دیکھیں اس نے پورے صوبے میں ٹاپ کیا ہے! ” قندیل بے حد خوش تھی۔ اس کے مسکراتے چہرے پر ایک انوکھی سی خوشی پھیلی تھی جیسے بلال کا نہیں اس کا اپنا رزلٹ آگیا ہو۔ پروفیسر صاحب نے کتاب سے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر اس کی خوشی کو محسوس کرتے ہوئے خود بھی خوش ہو گئے۔ بلال ان کے لیے سگی اولاد سے کم نہیں تھا اور پھر اس کی ذہانت، شرافت اور تابع داری اسے اور زیادہ ان کے دل کے قریب کرتی تھی۔




  • مصطفیٰ — اُمِّ زینب

    مصطفیٰ — اُمِّ زینب

    مجھے اپنی ایک بات جو سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے و ہ یہ کہ میں اپنی لاکھ مصروفیات کے باوجود اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے ضرور جوڑے رکھتی ہوں بلکہ یہاں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔ اس کی دو خاص وجوہات ہیں، ایک مصطفی اور دوسری کہ یا اللہ! میرے پاس بہت سارا پیسا آجائے۔ اب آپ ہی بتائیں یہ دونوں چیزیں تو مجھے اکٹھی اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔
    جب سے مصطفی میری زندگی میں آیا ہے نجانے کیوں آنکھ کھلتے ہی میرے ذہن میں آدھمکتا ہے اور جب تک میں سو نہیں جاتی کوئی لمحہ ایسا نہیں ہو تاکہ اس کی یاد میرے ساتھ نہ ہو، مگر پھر بھی صبح صبح میں ایک اچھی مسلمان بننے کی کوشش کرتی ہوں۔ کلمہ پڑھ کر اٹھتی ہوں کہ کہیں اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض نہ ہو جائے اور آج میری اور مصطفی کی کوئی لڑائی نہ ہو جائے یا ہمیں کوئی اور پریشانی نہ آجائے۔




    مصطفی… مصطفی… مصطفی! آخر یہ مصطفی میری زندگی میں اتنا اہم کیوں ہے؟ کون ہے یہمصطفی؟
    جی ہاں ٹھیک سمجھے آپ میری زندگی مصطفی سے شروع ہو کر مصطفی پر ہی ختم ہوتیہے۔
    دو سال پہلے میری ملاقات مصطفی سے اس کے گھر پر ہوئی۔ میری سہیلی انیتا جس بلڈنگ میں رہتی تھی، مصطفی کا فلیٹ بھی اسی بلڈنگ میں تھا۔ میں اور انیتا اس کے گھر گئیں کہ انیتا کو اپنا لیپ ٹاپ ٹھیک کروانا تھا۔ مصطفی کمپیوٹر سے متعلق ہر طرح کا کام جانتا تھا مجھے وہ بہت ہی سلجھا ہوا انسان لگا پھر میری دوسری ملاقات اس سے تب ہوئی جب اس کے ابو کا انتقال ہوا۔ اس وقت مجھے وہ اپنے جیسا لگا، بہت ہی بے بس اور اکیلا۔ میں آٹھ سال کی تھی اور میری چھوٹی بہن ایک سال کی جب میرے ابو فوت ہو ئے تھے۔ مجھے آج بھی وہ تکلیف یاد آتی ہے، جو مجھے اپنے ابو کے فوت ہونے پر ہوئی تھی تو میرا دم گُھٹنے لگتا ہے۔
    میں اپنی بہن کے ساتھ مصطفی کے گھر کھانا لے کر گئی۔ آج تیسرا دن تھا۔ میں اس کے گھر روز کھانا لے کر جاتی تھی۔ اس کے سب رشتے دار جا چکے تھے۔ ویسے تو اس کی امی روز کھانا لیتی تھیںلیکن آج اس کی امی سو چکی تھیں۔
    ”آپ تکلیف نہ کیا کریں ہم کل سے خود ہی پکا لیا کریں گے، دو لوگ ہی تو ہیں ہم۔” مصطفی نے شکر گزار سا ہوکر کہا۔
    ” کوئی بات نہیں! کچھ دن ہم کام آجائیں گے تو کیا فرق پڑے گا۔ بعد میں ساری زندگی آپ نے خود ہی کرنا ہے اور ہمسائے کس لیے ہوتے ہیں۔” میں نے اسے ٹرے پکڑاتے ہوئے کہا۔
    اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ میں بیٹھ تو گئی لیکن بات کرنے کے لیے میرے پاس کوئی اور موضوع نہ تھا۔ پھر میں نے اسے اپنے ابو کے فوت ہونے کی تھوڑی بہت تفصیل بتائی اور اس کا دل ہلکا کرنے کے لیے اس کے ابو کے بارے میں بہت ساری باتیں پوچھیں۔ میں اس کے درد کو اپنے دل سے محسوس کر سکتی تھی اور جانتی تھی کہ اس کڑے وقت میں اسے ایک دل کی بات سُننے والے کی اشدضرورت ہے۔
    اس رات گھرآکر میں بہت دیر تک اس کے بارے میں سوچتی رہی ۔وہ مجھے بہت اپنا اپنا سا لگا۔ یہ بڑھتی عمر کا تقاضا تھا یا شاید اس لیے کہ اس کا اور میرا دکھ ایک جیسا تھا بلکہ شاید نہیں یقینا ایسا ہی تھا۔ وہ مجھے اچھا بھی لگنے لگا۔ مجھے لگا بغیر اجازت ہی وہ میرے دل میں گھر کرتا چلا جا رہا تھا جب کہ میں نے ہمیشہ یہی سوچا تھا کہ میں کسی امیر کبیر آدمی سے محبت کروں گی۔ اکثر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی لڑکیاں سوچتی ایسا ہی ہیں۔ مگر یہ بات آج حقیقت بن کر میرے سامنے آگئی کہ محبت کی نہیں جاتی بلکہ محبت ہو جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے۔ میں جس ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں کام کرتی تھی وہاں اکائونٹس میں مصطفی کو بھی میرے کہنے پر جاب مل گئی۔ ہم روز بس پر اکٹھے ہی جاتے اور شام کو اکٹھے واپس آتے۔
    یہ اسٹور کراچی ڈیفنس میں واقع تھا۔ اس سپر سٹور میں ہماری ڈیوٹی صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک تھی۔ ہر پندرہ دن بعد ہمیں ایک چھٹی ملتی تھی۔ روز شام کو میں اور مصطفی کچھ دیر ایک کیفے میں بیٹھ کر کافی پیتے۔ کبھی کبھی میں سوچتی تھی کہ ہم ہر روز ساتھ ہوتے، ساتھ آتے جاتے اور رات کو دیر تک فون پر بات بھی کرتے ہیں، مگر پھر بھی ہماری باتیں ختم کیوں نہیں ہوتیں؟لیکن شاید اسی کو انڈرسٹینڈنگ کہتے ہیں۔




    میرے ابو کی وفات سے پہلے ہمارے حالات بہت اچھے تھے پھر اچانک پتا چلا کہ انہیں کینسر ہو گیا ہے۔ شروع میں انہوں نے میری امی سے یہ بات چھپائی، مگر جب تکلیف حد سے بڑھنے لگی تو انہوں نے امی کو بتا دیا۔ انہی دنوں میری چھوٹی بہن پیدا ہوئی تھی۔ اسی ایک ڈیڑھ سال کے اندر ابو کی جاب تو گئی ساتھ ہی ان کے علاج پر بہت سا پیسا بھی لگ گیا۔ میرے ابو ہمیشہ امی کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے مگر ان حالات میں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگے۔ کچھ پیسے انہوں نے بینک میں جمع کروا دیے کہ اس کا منافع آئے گا، تو گھر کا کچن چلتا رہے گا۔ مجھے یاد ہے ابو سو بھی جاتے تو امی ان کے پاس بیٹھ کر قرآنی آیات پڑھتی رہتیں خیر اللہ کو جو منظور تھا ہونا تو وہی تھا۔ ابو ہمیں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے اور ایک سال کے اندر ہی ہمارا شمار مڈل کلاس سے سفید پوش افراد میں ہونے لگا۔ وہی رشتہ دار جو ہمارے ساتھ خوشی سے ملتے اب ہمارے رابطہ کرنے پر بھی بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے گو کہ میں تب صرف آٹھ سال کی تھی مگر اس سال نے مجھے یہ بات بہت اچھی طرح سمجھا دی کہ ہماری زندگی میں پیسے کی بہت اہمیت ہے۔
    امی کو اپنے دکھ شیئر کرنے کے لیے کوئی نہیں ملتا تھا۔ ابو نے تو انہیں شہزادیوں کی طرح رکھا ہوا تھا۔ ایک دن میں اسکول سے واپس آئی تو امی کمرے میں فرش پر گری ہوئی تھیں۔ میں پڑوسیوں کے ساتھ مل کر انہیں ہاسپٹل لے کر گئی۔ وہاں جا کر پتا چلا کہ ان پر فالج کا شدید اٹیک ہوا ہے۔ امی گھر تو آگئیں، مگر اب وہ صرف بیڈ پر ہی تھیں۔ شروع شروع میں مجھے اپنی ہی ماں کی ماں بن کر تیمار داری کرنابہت مشکل لگا ۔ وہ بس زندہ تھیں اور اس وقت کی صورت حال میں میرے لیے یہ بھی غنیمت تھا۔
    میں وقت کی اس خوبی کو سراہے بغیر نہ رہ سکی کہ مشکلضرور تھا، مگر گزرتا جا رہا تھا۔ امی کا خیال رکھ کر اور گھر کے اخراجات کا حساب رکھتے میں اپنی عمر کے لوگوں سے زیادہ سمجھدار ہو چکی تھی۔
    اتنی مشکلا ت سے گزر کر جب مصطفی میری زندگی میں آیا تو مجھے ہر وقت ایک خوش گوار سا احساس گھیرے رکھتا۔ اپنے اور اس کے روشن مستقبل کی امید نے مجھے نئی زندگی دی۔ مصطفی نے مجھ سے کئی بار شادی کا کہا، مگر میں نے ہر بار اسے یہی کہا کہ جب ہم دونوں کے پاس بہت ساری بچت ہو گی تب ہم شادی کریں گے تاکہ ہمیں کسی قسم کی کوئی بھی پریشانی نہ ہو۔ مصطفی ہر بار مُسکرا کر خاموش ہو جاتا۔
    اس کا نظریہ ہمیشہ سے یہ تھا کہ زندگی کو ہر لمحے بھرپور طریقے سے جینا چاہیے، آنے والی بڑی بڑی خوشیوں کے انتظار میں اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جب کہ میرا نظریہ اس کے برعکس تھا۔ وہ ہر لمحے کو جینا چاہتا تھا اور میں ہر لمحے اچھے لمحات کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ ان سب باتوں کے باوجود جس طرح دولت میرا مقصد اور جنون تھی اسی طرح مصطفی بھی میرا مقصد اور جنون تھا۔
    پھر اچانک ہماری زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا کہ میں نے اپنے جنون اور مقصد کو پانے کے لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیا۔ جی ہاں! میں نے مصطفی کو ہی کھو دیا اپنے ہاتھوں، کسی اور کے حوالے کر دیا، مگر یہ کیا اس کے بعد… کوئی چیز اور کوئی بات بھی مجھے خوش نہ کر سکی۔ مجھے سمجھ نہ آتا کہ مصطفی غلط تھا یا میں غلط تھی؟ نہیں! میں غلط نہ تھی، مصطفی ہی بے وفا تھا۔ کیا یہ سب مصطفی کے لیے اتنا ہی آسان تھا؟ وہ تو کہتا تھا کہ مجھے دولت کی ہوس نہیں۔ وہ تو کہتا تھا میرے لیے تم ہی سب کچھ ہو۔ پھر یہ سب کیسے ہو گیا؟




  • موسمِ گُل — عاصمہ عزیز

    خوب صورت شاہ ولا جس کی پیشانی پر ماشا اﷲ کی تختی سجی تھی، میں اس وقت گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔
    شان دار فرنیچر سے مزّین شاہ ولا کے ڈائننگ روم میں اس وقت دو لوگ دوپہر کے کھانے کے لیے غیر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک کے چہرے پر سوچ اور تفکر کا گہرا جال بچھا تھا جب کہ دوسرے کے دلکش نقوش سے غصہ اور جھنجھلاہٹ واضح تھی۔
    ”با باپلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ ….میں نہیں کرسکتی ابھی شادی وادی۔” عنایہ شاہ نے پچھلے دوتین دنوں سے بار بار دہرایا جانے والا جملہ ایک دفعہ پھر دہرایا۔ بیٹی کی بات سن کر حیدر شاہ کا نوالہ پکڑے منہ کی طرف جاتا ہاتھ لمحہ بھر کے لیے ہوا میں معلق ہوا، لیکن اگلے ہی لمحے انہوں نے پلیٹ پر جھکی اپنی نظریں اٹھائیں اور سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹی کو گھورتے ہوئے کہا۔
    ”میں نے آپ سے آپ کی رائے نہیں پوچھی… اور نہ ہی آئندہ اس بارے میں میرا ایسا کوئی ارادہ ہے۔”




    ”لیکن بابا”….. عنایہ نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا، لیکن حیرت اور دکھ کی شدت سے اس کی آواز حلق کے اندر ہی گھٹ کررہ گئی۔
    ”مم… میں پڑھنا چاہتی ہوں ابھی۔” کچھ دیر خود پرقابو پانے کے بعد اس نے بہ مشکل یہ الفاظ ادا کیے تھے۔ آج سے پہلے اسے اپنے باباسے بات کرنے کے لئے کبھی الفاظ نہیں سوچنا پڑے تھے۔تین سال کی عمر میں ماں کی وفات کے بعد سے انہوں نے اس کی ہر خواہش کو الفاظ میں ڈھلنے سے پہلے پورا کیا تھا۔ عنایہ شاہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتاتھا جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور جنہیں ”انکار” اور ”نہیں” جیسے لفظوں سے بہت کم واسطہ پڑتا ہے۔
    ”جسٹ سٹاپ اٹ! کوئی لیکن ویکن نہیں چلے گا۔” انہوں نے سخت لہجے میں اسے ٹوکتے ہوئے اپنے بٹوے سے چند بڑے نوٹ نکال کر ٹیبل کی سطح پراس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا:
    ”یہ کچھ رقم رکھیں اور اپنی پسند سے شاپنگ کیجیے۔ اس جمعہ کو آپ کا نکاح ہے۔” انہوں نے یہ کہتے ہوئے اس کے حیرت سے گنگ چہرے سے نظریں چرالیں۔ عنایہ باپ کے اس رویے کی وجہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس نے سامنے پڑے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک جھٹکے سے کرسی کھسکائی اور منہ بنائے اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
    ”تم؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟” کمرے میں ملازمہ کی موجودگی نے اس کے غصے کی شدت سے بڑھتے پارے کو آسمان سے مزید باتیں کرنے پر مجبور کردیاتھا۔عنایہ شاہ باپ کے برعکس اپنے ملازموں کو عام انسان کے بجائے احساسات وجذبات سے عاری غلاموں کا درجہ دینا زیادہ پسند کرتی تھی۔
    ”وہ… وہ بی بی جی!” ملگجے سے کپڑے زیب تن کیے پکی عمر کی ملازمہ کے ہاتھ میں کانچ کا نفیس گل دان لرز رہا تھا۔
    ”شٹ اپ نان سنس! نکل جائو میرے کمرے سے اپنا گندہ وجود لے کر۔” وہ غراتے ہوئے جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی تھی۔ پرُ غرور لہجے میں اپنے سے کم حیثیت ملازمہ کو برا بھلا کہتے ہوئے شاید وہ یہ بھول گئی تھی کہ انسان کو اس دنیا میںمحض اپنے برے اعمال کا ہی نہیں بلکہ اپنی زبان سے ادا کیے سخت الفاظ کابھی خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
    ٭…٭…٭




    حیدر شاہ اور شاہ نواز شاہ دو ہی بھائی تھے۔حیدر شاہ فطرتاًملنسار اور نرم مزاج کے حامل تھے جب کہ شاہ نواز شاہ کی طبیعت میں غروروتکبر اور دولت کی لالچ وہوس کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اسی لئے شاہ نواز شاہ نے ماں باپ کی وفات کے بعد جائیداد اور کاروبار میں سے اپنا حصہ بانٹتے ہوئے شاہ ولا سے نکل کر الگ گھر میں رہنا پسند کیا تھا۔
    گھر اور کاروبار کی علیحدگی کے بعد شاہ نواز شاہ کو اگر کوئی چیز اپنے بھائی سے جوڑے ہوئے تھی تو وہ بھائی نہیں بلکہ پیسے کی محبت تھی جس کی انہیں اپنے نئے کاروبار کو جمانے کے لئے اکثروبیشتر ضرورت پڑتی رہتی تھی۔
    حیدر شاہ ان کے لالچی پن سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنی فطرت اور بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر ہمیشہ ان کی مدد کے لئے تیار کھڑے رہتے تھے۔
    وقت اسی طرح سرکتا رہا۔ کئی سال کسی سمندر کی منہ زور موجوں کی طرح تندی وتیزی سے بیت گئے۔
    انسان کی فطرت کا بدلائو کبھی بھی وقت کا محتاج نہیں رہتا۔ہزار وں قیمتی لمحے اور گھڑیاں بیت جانے کے باوجود انسان اپنی فطرت کو نہیں بدل سکتا۔ اسی طرح کئی سال بیت جانے کے باوجود شاہ نواز شاہ کی فطرت میں دولت کے لیے چُھپی حرص و ہوس میں کوئی فرق نہیں آیا۔
    ورثے میں ملی جائیداد کو عیش وعشرت میں اڑانے کے بعد اب شاہ نواز شاہ کی نظر اپنے بھائی کی جائیداد پر تھی، جسے وہ ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے واحد ہتھیار عنایہ شاہ تھی، جسے بہو بنا کر وہ بآسانی اپنا مقصد حاصل کرسکتے تھے۔
    لیکن حیدرشاہ کے واضح اور دوٹوک انکار کے بعد وہ دل مسوس کررہ گئے تھے۔ پھر بھی وہ ہار ماننے والوں میں سے نہ تھے کیوں کہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے انہوں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے عنایہ شاہ کے سامنے محبت کا جال بچھا دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    کمرا نیم تاریک تھا۔ وہ اس وقت بیڈ سے ٹیک لگائے اپنے بستر پر نیم دراز تھے۔اپنی بیٹی عنایہ شاہ کے مستقبل کا خوف انہیں کسی زہریلے ناگ کی طرح ڈس رہا تھا۔جس دولت اور جائیداد کو انسان اپنی خوشیوں کی ضمانت سمجھتا ہے، اس وقت وہی دولت انہیں اپنی دشمن دکھائی دے رہی تھی۔
    کاش! وہ اس دولت اور جائیداد کے عوض اپنی بیٹی کے خوش گوار مستقبل کویقینی بناسکتے ۔انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے کنپٹیاں سہلاتے ہوئے سوچاتھا۔ آج سے ایک سال پہلے ہی وہ برین ٹیومر جیسی موذی بیماری کا شکار ہونے کا اور اس بات کا علم ان کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مرحوم دوست کے بیٹے عرشما ن کے علاوہ کسی کو نہیں تھا۔ جسے انہوں نے حال ہی میں اس کی ذہانت اور قابلیت کی بنا پر اپنے آفس میں اعلیٰ عہدے پر فائز کیا تھا۔ وہ حیدرشاہ کی بیماری کا راز اپنے سینے میں دبائے سگے بیٹوں کی طرح ڈاکٹر سے ان کا چیک اپ کرواتا اور ان کا خیال رکھتاتھا۔ حیدر شاہ کے لیے بھی وہ محض ایک تنخوار دار ملازم نہیں تھا بلکہ وہ اسے سگے بیٹے کا درجہ دیتے تھے۔ رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے بلکہ احساس کے بھی ہوتے ہیں۔بعض دفعہ جب خونی رشتے ہمیں راستے میں پڑے بے جان پتھر کی طرح ٹھوکر مار کرچلے جاتے ہیں، تو احساس کے رشتے ہی ہماری اندھیری دنیا میں روشنی لاتے ہیں۔”
    پچھلے کئی ماہ سے ڈاکٹر انہیں سرجری کرانے کی پُر زور تاکید کر رہا تھا جسے وہ ہر بار ٹالتے رہے، لیکن اب آپریشن ان کے لئے ضروری ہوگیاتھاکیوںکہ بیماری ان کی بے پرواہی کی بنا پر اپنے پنجے گاڑ چکی تھی۔ اس لئے وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنی بیٹی کو لالچی و خودعرض رشتے داروں سے بچاتے ہوئے اس کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے تھے۔
    وہ سوچوں کی وادی میں ڈوبے ہوئے تھے کہ دروازے پر ہونے والی دستک اور اس کے بعد عنایہ کے نمودار ہونے نے انہیں چونکادیا تھا۔
    ”آئو بیٹا بیٹھو!” رسمی علیک سلیک کرتے ہوئے بیڈ سے کچھ فاصلے پر پڑے صوفے پر وہ ٹک گئی۔
    ”اور بیٹا شاپنگ کرلی آپ نے؟” حیدر شاہ نے بیٹی کے متذبذب چہرے پر نگاہیں ٹکائے بات کا آغاز کرتے ہوئے اسے بولنے کا موقع دیا۔
    ”جب مجھے شادی ہی نہیں کرنی تو شاپنگ کیسی؟” عنایہ شاہ نے منہ بنا کے اپنی ازلی ہٹ دھرمی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا۔ کوئی اور موقع ہوتا، تو وہ شاپنگ کرنے سے کیسے منع کرسکتی تھی۔
    ”عرشمان میری پسند ہے اور آپ کو اپنے….” حیدر شاہ نے کچھ بولنا چاہا، لیکن عنایہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی:
    ”بابا جان آپ اپنے اس تنخواہ دار ملازم کو میرے لئے کیسے پسند کرسکتے ہیں؟ میں نے زندگی میں ہمیشہ بہترین اورقیمتی چیزوں کا انتخاب کیا جب کہ اب آپ…”
    ”اسٹاپ اٹ!” انہوں نے اس کی پٹرپٹر چلتی زبان کو روکنے کے لیے درشتی سے ٹوکتے ہوئے کہا۔
    ”چیزوں کو تو دولت کے ترازو میں تولا جا سکتا ہے، لیکن انسانوں کو نہیں، انسان کو اخلاق وکردار کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔”
    ”اوکے! آپ قائم رہیں اپنے فیصلے پر، تب تک میں جا رہی ہوں، چچا جان کے پاس۔ چچا جان ٹھیک کہتے ہیں آپ ہم دردی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔” وہ اٹھی اور دھپ دھپ کرتی کمرے سے نکل گئی۔
    حیدر شاہ اس کے باغیانہ لہجے کو محسوس کرتے اپنی خوش فہمی پر سوچتے رہ گئے کہ عرشمان کی ہم درد اور پُرخلوص شخصیت کی ضرورت ان سے زیادہ عنایہ کو ہے۔
    ٭…٭…٭




  • میں، محرم، مجرم — افراز جبین

    میں، محرم، مجرم — افراز جبین

    اس نے لرزتے ہاتھوں سے ICU کا دروازہ کھولا۔ اس کا اکلوتا بیٹا، اس کے بڑھاپے کا سہارا آکسیجن ماسک، نالیوں اور ڈرپس میں لپٹا ہوا تھا۔ اس کے لبوں پر شکوہ نہیں بلکہ آنکھوں میں شرمندگی اور چہرے پر پچھتاوے کے سائے منڈلا رہے تھے۔
    مدثر کو ہسپتال میں داخل ہوئے آج تیسرا دن تھا۔ اسے ہوش آگیا تھا۔ نیند کی گولیاں زیادہ مقدار میں کھانے کی وجہ سے اس کے معدے کو مکمل طور پر واش کیا گیا۔ اس کی طبیعت ذرا سنبھلی تو انعم کے بے قرار دل کو ذرا سا سکون ملا، مگر مدثر نے ہوش میں آتے ہی اپنے سیدھے ہاتھ کی رگ کاٹ لی۔ رات کا ناجانے کون سا پہر تھا۔ انعم کی آنکھ لگی اور مدثر… اس کا مدثر ایک بار پھر زندگی سے کھیل گیا تھا۔
    خون بہت زیادہ بہ گیا تھا مگر خدا نے پھر بھی اس کی جان بچالی۔ دل میں بہت سے سوال اور آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ انعم اسے دن رات صرف سگریٹ کے کش لگاتے دیکھتی۔ وہ کسی سے کیا کہتی؟ مدد کے لیے کس کو کیا پکارتی؟ اس کا اکلوتا بیٹا… وہ تو اپنے آپ کو آج تک معاف نہیں کر پائی تھی اور اب ایک نیا روگ۔
    ٭…٭…٭




    احمد علی سرکاری ملازم تھے، نہایت ایمان دار اور شریف النفس انسان۔ ان کی زندگی کا ایک اصول تھا کہ جو مرضی کرو بس حرام لو اور نہ ہی دو۔ اس قیمتی اصول کی سزا انہیں یہ ملتی کہ ان کی ماہانہ آمدنی مہینے کے درمیان میں ختم ہوجاتی اور باقی دن اگلے مہینے تنخواہ کی آس میں گزر جاتے۔ ان کی اہلیہبیگم فرخندہ بھی اپنے شوہر کی ہم مزاج تھیں اس لیے دونوں میاں بیوی کی خوب اچھی گزرتی، مگر پہ درپہ ہونے والی تین بیٹیوں اور تین بیٹوں نے گھر کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔ چھے بچے اور دو میاں بیوی۔ آٹھ لوگوں کا گزر، بسر بچوں کی تعلیم، کپڑا لتّا، زمانے کے ساتھ چلتے چلتے بیگم فرخندہ تو جیسے تھک سی گئی تھیں۔ اکثر سوچتیں اور نم آواز سے کہتیں:
    ”احمد علی! اپنی تو گزر گئی! بچوں کا کیا ہوگا؟ ان کی تعلیم، بچیوں کی شادیاں!”
    ”بیگم گھبراتی کیوں ہو؟ اللہ مالک ہے۔” وہ ہر بار ٹھنڈی سانس بھر کر یہی جواب دیتے۔
    احمد علی کے چھے بچے تھے، جو بالکل ماں باپ کی فطرت کے عکاس تھے۔ کوئی باپ کی طرح ایمان دار تو کوئی ماں کی طرح صابر۔ سب سے بڑے بیٹے عثمان نے میٹرک کرتے ہی پرائیویٹ ٹیوشنز پڑھانی شروع کردیں۔ فاخرہ، سلمیٰ اور علیشبہ بھی چھوٹی عمروں سے ہی گھر میں ٹیوشن پڑھانے لگیں۔ منجھلا بیٹا اکبر ایک کال سینٹر میں پارٹ ٹائم جاب کرتا، یوں گھر کا ہر فرد اپنے طور پر گھریلو اخراجات میں ایک اہم کردار ادا کرتا ماسوائے بلال کے۔ وہ گھر میں سب سے چھوٹا تھا۔ احمد علی نے کسی بچے کو خاص لاڈ پیار نہیں دیا تھا، لیکن بلال علی کی تو چال ہی نرالی تھی۔ وہ ہر وہ کام کرتا جس کی کسی کو توقع تک نہ ہوتی۔
    ”فرخندہ بیگم! یہ آخر کس مرض کی دوا ہے۔” احمد علی اکثر جھنجھلا کر پوچھتے۔
    ”بچہ ہے ابھی، رونق ہے گھر کی۔” وہ لاڈ سے کہتیں۔
    ”میں بتائے دیتا ہوں، تمہارا یہ بچہ کوئی گل ضرور کھلائے گا۔ دیکھ لینا۔” وہ ہر بار ٹھنڈی آہ بھر کر کہتے۔
    ٭…٭…٭
    ”احمد علی! احمد علی اٹھو۔” فرخندہ بیگم کی آواز نے احمد علی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
    ”کیا ہوگیا بھئی؟ کیوں چلا رہی ہو۔” نیند سے بھری آنکھیں مسلتے ہوئے احمد علی بڑُ بُڑائے۔
    ”وہ… وہ نا! وہ” فرخندہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے اور آواز اتنی بری طرح کپکپا رہی تھی کہ الفاظ بھی صحیح طرح منہ سے نہیں نکل رہے تھے۔
    ”وہ میرے امریکا والے کزن شجاع بھائی۔”
    ”شجاع! مرگئے کیا؟ بس جی موت ہے کسی کو کہیں بھی آجائے ولایت ہو یا دیس۔ یہ ظالم کہاں دیکھتی ہے کسی کو۔” احمد علی نے انتہائی سوگ وار لہجے میں کہا۔
    ”چُپ بھی کرو احمد علی! جو منہ میں آرہا ہے بولتے جارہے ہو۔ شجاع بھائی کا فون آیا تھا امریکا سے، وہ اگلے مہینے پاکستان آرہے ہیں۔”
    ”ہر سال ہی آتے ہیں تمہارے میکے والے…” احمد علی ابھی کچھ اور بھی بولتے مگر فرخندہ بیگم کی گھورتی نگاہوں نے انہیں یک دم خاموش کروا دیا۔
    ”شجاع بھائی اپنے دونوں بڑے بیٹوں کے لیے فاخرہ اور سلمیٰ کا رشتہ مانگ رہے تھے۔”
    وہ رات زیادہ خاموش تھی یا احمد علی، فرخندہ بیگم اسی کشمکش میں فجرکے لیے اٹھیں تو احمد علی کو مصلے پر سر رکھ کر گڑگڑاتے ہوئے بس اتنا سُنا:
    ”الٰہی! تیرا شکر ہے۔ الٰہی تیرا فضل ہے۔”
    ٭…٭…٭
    کرتا کوئی اور بھرتا کوئی ہے اور کتابوں میں پڑھا ہوا یہ محاورہ ہر کسی کو رٹا ہوا تھا۔ انعم سے اگر کوئی پوچھتا تو وہ بتاتی کہ اس کی زندہ مثال تو وہ خود تھی۔ آج سے اٹھارہ سال پہلے افضل کے نکاح میں آکر اس نے زندگی کا ہر میدان مار لیا تھا۔ افضل علی انتہائی خوب رُو، خوش مزاج اور ایک بڑی کمپنی کا مالک تھا۔ اس کی افضل علی سے پہلی ملاقات ایک بینک میں ہوئی تھی۔ وہ ٹیوشن فیس جو بچوں کے والدین بینک میں جمع کروا دیتے وہ ہر ماہ کی طرح اس مہینے بھی وہی لینے آئی تھی۔
    دروازہ کھولتے ہی سامنے منیجر کے کمرے سے نکلتے ہوئے افضل پر اس کی نظر پڑی تو وہ ایک لمحے کو رک سی گئی۔ براؤن لائنوں والی ٹی شرٹ، نیلی جینز، ہاتھ میں بہترین موبائل اور چہرے پر ہلکی سی ڈاڑھی، وہ تو جیسے نظر اٹھانا ہی بھول گئی تھی۔
    ”ایکسکیوزمی پلیز! ذرا راستہ دیجیے۔” پیچھے سے کسی بزرگ نے اسے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا دیکھ کر راستہ مانگا۔
    ”اوہ سوری!” وہ راستے سے ہٹی۔
    کیا خوب صورت چیز ہے، اس نے سوچ کر دل مسوس کیا۔ پھر اپنے خیالوں کو جھٹک کر آگے بڑھ گئی۔ پیسے نکلوا کر باہر نکلی تو گلفام موبائل پر کسی سے انگریزی میں بات کررہا تھا۔ اس کی کالی چمکتی ہنڈا سوک ساتھ ہی کھڑی تھی۔ انعم ابھی اسے اور دیکھتی کہ دو نقاب پوش بائیک پر تیزی سے آئے اور اس کے ہاتھ میں موجود بیگ جھٹکے سے کھینچا۔ وہ زور سے چیخی۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ کرتی نقاب پوش اس کا بیگ لے کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے فرار ہوگئے۔
    ٭…٭…٭




    ”شجاع بھائی! میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ میں نہ تو آپ کے معیار کی شادی کرسکتا ہوں اور نہ ہی اتنا زیادہ جہیز دے سکتا ہوں۔” احمد علی نے انتہائی دھیمے لہجے میں کہا۔
    ”مجھے دولت اور حسن کی ہوس ہوتی تو بیٹوں کو امریکا میں بیاہ دیتا۔ مجھے اپنی نسل خاندانی خون سے بڑھانی ہے۔ اب اگر آپ نے ایسی کوئی ٹال مٹول کی تو میں انکار سمجھ کر چلا جاؤں گا۔” شجاع کی بات پر بیگم فرخندہ کا دل دہل گیا۔ ہر ماں کی طرح وہ بھی اپنے بچوں کی خوشی کے لیے لالچی ہوگئی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ فاخرہ اور سلمیٰ جاکر بھائیوں کو بھی امریکا بلوا لیں گی اور زندگی کے باقی دن آرام سے گزر جائیں گے، مگر احمد علی کی ایک ہی رٹ تھی کہ وہ اونچے لوگ ہیں۔
    ”نہیں شجاع بھائی، احمد علی کا یہ مطلب نہیں تھا۔ آپ بھی نہ بس۔” فرخندہ بیگم نے احمد علی کو ڈپٹا۔ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے۔
    ٭…٭…٭
    ”Are you ok?” افضل کی آواز نے اسے سکتے سے باہر نکالا۔
    ”جی ہاں… وہ میرا بیگ، ٹیوشن کے پیسے، وہ ہوسٹل کی فیس۔” اس وقت وہ اپنے حواس میں نہیں تھی۔ اس کی آواز رندھ گئی تھی۔ کوئی اور موقع ہوتا تو وہ بھنگڑا ڈالتی۔ بالکل فلموں کی طرح ایک خوب صورت لڑکا اس کی مدد کر رہا تھا اور وہ کسی ہیروئن کی طرح مظلوم بن کر بیٹھی ہوئی تھی۔ مگر اس وقت اسے صرف یہ یاد تھا کہ اس کے پورے مہینے کی محنت، وہ پیسے چلے گئے اور ابو نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس مہینے بڑی مشکل سے بھیجے ہیں۔ اب کیا ہوگا؟
    ”Can I help you?” افضل نے پھر اسے پکارا تو اس نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔
    ”Oh God! پلیز آپ روئیے مت۔ آپ گاڑی میں بیٹھیے۔” اس نے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور بھاگ کر سامنے چھوٹے سے جنرل اسٹور سے اس کے لیے پانی کی بوتل لے آیا۔ کچھ دیر بعد اس نے اسے ہوسٹل کے باہر اتار دیا۔
    ”بہت شکریہ!” انعم نے اداس لہجے میں کہا۔
    It’s ok! آپ میرا یہ کارڈ رکھ لیجیے، کبھی بھی ضرورت ہو توdo contact me”
    اس کی چمکتی ہوئی گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گئی اور وہ بوجھل دل اور خالی ہاتھ ہوسٹل میں داخل ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    ”میں اپنے سب دوستوں کو بلاؤں گا۔” بلال نے گھر میں شورمچا رکھا تھا۔ ہر طرف گہما گہمی تھی۔ کبھی بازار کا چکر، کبھی کوئی مہمان آجاتا اور کبھی خود جانا پڑتا۔ گھر کی پہلی خوشی میں ہر کوئی بوکھلا یا ہوا پھر رہا تھا۔ احمد علی تو بس پورا دن حساب کتاب ہی کرتے رہتے۔
    ”ذرا دھیان سے کرو سارے کام! ابھی باقی بچے بھی ہیں۔”
    ”میں نے کبھی آپ کو پریشان کیا ہے؟ پھر کیوں آپ پریشان ہوجاتے ہیں۔” فرخندہ بیگم احمد علی کی اس بات پر کبھی الجھتی، کبھی ڈپٹتی اور کبھی شکوہ کناں انداز میں کہتیں۔
    ”وہ تو میں بس یوں ہی کہہ رہا تھا۔”احمد علی ذرا کھسیانے ہوکر کہتے۔
    ذیشان اشرف اور رقیہ بانو کی ازدواجی زندگی مڈل کلاس لوگوں کی طرح سرد، گرم اور نرم ہر مرحلے سے گزرتی مگر بندھن ہر موسم کے بعد مضبوط ہوجاتا۔
    انعم ان کی پہلی اولاد تھی۔ اس کے معصوم چہرے پر اس کی آنکھوں میں ایک مقناطیسی کشش اور بے باکی تھی۔ اس معصوم چہرے کی بولتی آنکھیں رقیہ بیگم کو بے پناہ بھاتیں۔ انعم کے بعد دوبیٹیوں اور ایک بیٹے نے ان کے آنگن کو مکمل کردیا۔
    بچوں کی پرورش، گھر گرہستی، شوہر سے محبت اور اس کی اطاعت رقیہ بانو کی کل کائنات تھی اور رقیہ بانو نے اپنی کائنات کو جنت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ یہ جنت اس دن ہمیشہ کے لیے ویران ہوگئی جب رقیہ بانو نے دنیا سے منہ موڑ لیا۔ نہ کوئی بیماری، نہ کوئی تکلیف۔ بس اک شام ذرا سا دل گھبرایا، ذیشان اشرف جب تک آفس سے گھر پہنچے رقیہ بانو جا چکی تھیں۔ نہ کسی سے کچھ کہا نہ سُنا۔ اپنے آنگن کو بلکتی سسکیوں میں چھوڑ کر وہ اپنے ہی ہاتھوں سے بنایا ہوا گلشن ویران کرگئیں۔
    ٭…٭…٭
    ”مدثر کیا تم دوبارہ پڑھائی شروع نہیں کرسکتے؟” انعم نے ایک روز اپنی ساری ہمت جمع کرکے اس سے دو ٹوک انداز میں پوچھا۔ مدثر نے اسے پلٹ کر یوں دیکھا کہ وہ خود ہی سے نظریں چرا گئی۔
    ”بیٹا زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ ہر شکست پر انسان کو ایسا لگتا ہے کہ زندگی اب رک گئی ہے، یہی آخر ہے۔ اس سے آگے کچھ نہیں، مگر پھر کچھ تگ و دو کے بعد زندگی دوبارہ شروع ہوجاتی ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں غم کو جلانے سے دکھ کم نہیں ہوتا۔ دکھ پر وقت اپنا مرہم رکھ جاتا ہے۔ تمہیں بھی کچھ وقت لگے گا، مگر اس طرح سے بند کمرے میں تنہائی اور لاحاصل کی تمنا سے تو وقت بھی نہیں گزرے گا۔”
    اس نے آگے بڑھ کر مدثر کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔ دونوں ماں بیٹے کی آنکھوں سے چھلکتی برسات نے دونوں کے دلوں کواور بوجھل کردیا۔
    غم نے تو جیسے انعم کے گھر کی راہ ہی دیکھ لی تھی۔ اداسی اس کے آنگن میں گرمیوں کی دھوپ کی طرح اس کے وجود کو جھلسا رہی تھی۔ مدثر کو بہت زیادہ سمجھاتے، قسمیں اور وعدے دینے کے بعد اس نے آفس جوائن کرلیا مگر یونیورسٹی وہ نہیں جاتا تھا۔ سارا کاروبار خسارے میں جارہا تھا۔ جب مالک سر پر نہ ہو تو ملازمین مالک بن جاتے ہیں اور اس کے حق دار بھی بدل جاتے ہیں۔
    ٭…٭…٭




  • جب زمین تنگ ہوجائے — حنا نرجس

    تقریباً تین ماہ گزر چکے تھے لیکن ابھی تک لاشعوری طور پر میری نگاہیں دائیں جانب ہل ہل کر قرآن پڑھتے بچوں میں سے قطار کے اختتام پر اس خوف زدہ چہرے کو تلاش کرنے لگتیں، جو ایک عرصہ تک میری نگاہوں کا مرکز رہا تھا۔ اب تک تو یقینا اس کے ماں باپ کو بھی صبر آ چکا ہو گا لیکن میرے اندر جلتا پچھتاوے کا بھانبڑ بجھنے میں نہیں آتا تھا۔ وہ خوب صورت چہرے، نرم طبیعت اور مہذب لب و لہجے کا مالک بچہ تھا جسے اس کے باپ نے اچانک ہی ساتویں جماعت سے انگریزی میڈیم سکول سے اٹھا کر قرآن مجید حفظ کروانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ خود بھی ان دنوں تازہ تازہ تبلیغی جماعت سے متاثر ہوئے تھے اور اکثر ان کے ساتھ اندرون و بیرونِ ملک جانے لگے تھے۔




    وہ بچہ شاید اس اچانک تبدیلی کو قبول نہیں کر پایا تھا کیوں کہ وہ مدرسے میں کسی سے بھی گھلتا ملتا نہیں تھا۔ اس کے طور طریقے سب سے الگ تھے۔ پتا نہیں کیوں میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ میں اسے بہ طور استاد پسند نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے یہ میرا وہم ہو لیکن یہ بات تو طے تھی کہ وہ دوسرے بچوں کی طرح مجھ سے ڈرتا نہیں تھا۔ بات کرتے وقت اس کا لہجہ مؤدب لیکن آواز مضبوط ہوتی اور یہی بات مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔ پھر تو مجھے جیسے ضد ہو گئی کہ اس کو ہر صورت اپنے رعب و دبدبے میں لا کر ہی رہنا ہے۔ ہر گزرتے دن اس پر میری سختی بڑھتی چلی گئی۔ کھڑا کر کے سبق یاد کروانا، مرغا بنانا، دھوپ میں بٹھانا، دیر سے چھٹی دینا، ڈنڈے سے پیٹنا غرض یہ کہ کون سی سزا تھی جو میں نے اسے نہ دی ہو۔ وہ سبق پر محنت کر کے سزا سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا لیکن میں بھی اپنے نام کا ایک تھا، تلفظ کی کوئی معمولی غلطی پکڑ کر پھینٹی لگا دیتا۔
    دروازے پر دستک سن کر سحرش بیگم نے سنک کا نل بند کیا اور گیلے ہاتھ دوپٹے سے پونچھنے لگیں جب ہی وحید بولے:
    "رہنے دیں بھابھی میں نکل ہی رہا ہوں، دیکھ لیتا ہوں۔”
    وہ ابھی ابھی دودھ لے کر آئے تھے اور ٹی وی پر کوئی دینی پروگرام چلتا دیکھ کر ذرا دیر لاؤئج میں رک گئے تھے۔ وہ جلد ہی پلٹے، ان کی آواز میں قدرے تشویش تھی۔
    "بھابھی! مغیث کہاں ہے؟ مسجد سے لڑکا اس کا پوچھنے آیا ہے۔ گیا نہیں آج مدرسہ؟”
    سحرش بیگم چند ثانیے تو خالی نظروں سے ولید کو دیکھتی رہیں جیسے بات سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں پھر دھیمے لہجے میں بولیں:
    "وہ تو وقت پر چلا گیا تھا، مسجد میں نہیں ہے کیا؟” ان کے لہجے میں فکر مندی کے آثار جھلک رہے تھے۔
    "آپ پریشان نہ ہوں میں پتا کرتا ہوں۔” ان کو تسلی دیتے ہوئے وحید باہر نکلے تو ان کے اپنے ذہن میں منفی خیالات گردش کر رہے تھے۔” لگتا ہے مدرسے میں دل نہیں لگتا صاحب زادے کا، پر پرزے نکالنے لگے ہیں۔” مغیث سب پوتے پوتیوں میں بڑا ہونے کی وجہ سے دادا ابا کا بہت لاڈلا رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ وحید کو اس سے قدرے پرخاش تھی جس کے اظہار کا موقع کم کم ہی میسر آتا تھا۔
    اس دن سے تو مجھے مزید شہ مل گئی جب وقت پر مدرسے نہ پہنچنے پر ایک لڑکے کو اس کے گھر بھیجا۔ کچھ ہی دیر بعد گھر، محلے اور مسجد میں مغیث کی ڈھنڈیا پڑ گئی جو بالآخر مسجد کے پچھواڑے پرانے سٹور میں پڑے کاٹھ کباڑ کے پیچھے دبکا ہوا ملا۔ اس کے چچا، جو استاد اور گھر والوں کی نگاہوں میں دھول جھونکنے کے اس مظاہرے پر سیخ پا ہو رہے تھے، اس کے کان کھینچتے، تھپڑ لگاتے میرے سامنے پیش کرتے ہوئے بولے:
    "قاری صاحب! میرا فون نمبر نوٹ کر لیں، آئندہ یہ دو منٹ کی بھی تاخیر کرے تو فوراً مجھے اطلاع کریں۔ بڑے بھائی صاحب تو بیمار والد صاحب اور دونوں گھروں کی ذمہ داری مجھ پر ڈال کر روانہ ہو جاتے ہیں، کل کلاں لڑکا ہاتھ سے نکل گیا تو اسے میری ہی لاپروائی تصور کیا جائے گانا۔”




    اس دو طرفہ سختی سے اس کا سارا اعتماد ہوا ہو گیا۔ میری من چاہی تبدیلی آرہی تھی۔ اب تو مجھے دیکھتے ہی اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ گھگھیا کر معافی مانگتا تو میرے من میں ٹھنڈ پڑ جاتی۔
    اگلی بار جب اس کے والد دورے سے لوٹے اور پڑھائی کے متعلق جاننے کے لیے میرے پاس تشریف لائے تو میں نے خود سے گھڑ کر اس کی خوب شکایتیں لگائیں۔ وہ سر جھکا کر دبی دبی آواز میں اکثر الزامات سے انکار کرتا رہا لیکن باپ کو تو استاد پر مکمل اعتماد تھا۔ خشمیگن نگاہوں سے اسے گھورتے وہ اٹھ کر چلے گئے اور میں مستقبل قریب میں اس کی درگت بننے کے خیال سے ہی محظوظ ہونے لگا۔ اس روز اس کی نگاہوں میں بے یقینی، شکوہ، رحم کی اپیل اور نہ جانے کیا کیا یک جا ہو گیا تھا لیکن میں انجان بنا رہا۔
    "قاری صاحب، قاری صاحب!”
    میری آنکھ ایک نسوانی آواز کے پکارنے پر کُھلی۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ نیند سے ایک دم جاگنے پر پہلے تو میں کچھ سمجھ نہ پایا لیکن جب یادداشت بحال ہوئی تو یاد آیا کہ آج میں نے مغیث کی چھٹی بند کی ہوئی تھی اور تاخیر کچھ زیادہ ہی ہو گئی تھی۔ معلوم نہیں کب میری آنکھ لگ گئی اور وہ مجھے جگانے کی جرات نہیں کر پایا۔
    وہ برقع پوش ڈری ہوئی سی خاتون انتظار کا طویل دورانیہ گزار کر بالآخر ایک چھوٹے لڑکے کی انگلی تھامے اپنے لختِ جگر کی معافی کی درخواست لیے خود آن پہنچی تھی۔ ایک لمحے کو میرا دل کانپا لیکن جلد ہی میں نے خود کو پھر سے پتھر کر لیا۔ شکایات کی لمبی فہرست کے ساتھ احسان دھرتے ہوئے میں نے اسے چھٹی کا پروانہ عطا کیا۔
    میری سختیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔ بچہ ہار تو کب کا چکا تھا، اب تو ذہنی طور پر بھی غائب محسوس ہوتا۔ سبق سناتے ہوئے بار بار اٹکتا، لگتا تھا وہ اب بہتری کی کوششیں تک ترک کر چکا تھا۔ شاید اسے مجھ سے کسی خیر کی امید نہیں رہی تھی۔ رت جگوں سے اس کی آنکھیں لال رہنے لگیں لیکن میں شیطان کے شکنجے میں کسا ہوا اپنا دل اس کے لیے نرم نہ کر پایا۔
    پھر یہ آئے روز ہونے لگا۔ جب مدرسے پہنچنے میں تاخیر ہوتی تو کسی لڑکے کو گھر بھیجا جاتا یا چچا کو فون کیا جاتا اور جب مدرسے سے گھر پہنچنے میں تاخیر ہوتی تو وہ برقع پوش خاتون ڈری سہمی، خوف زدہ اور پریشانی کے عالم میں اسے لینے آتی اور مجھے اس کی آنکھوں میں التجا نظر آتی جیسے کہہ رہی ہو:
    "قاری صاحب، آپ ہی رحم کیجیے، میں ہر طرف سے دباؤ میں گھری کم زور مخلوق اپنے بیٹے کی حالت سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔”
    لیکن میری رسی شاید کچھ زیادہ ہی دراز کر دی گئی تھی۔ سارا دن قرآن کے ساتھ رہ کر بھی قرآن میرے حلق سے نیچے نہیں اترا تھا۔ مجھے دل کی نرمی سے محروم کر دیا گیا تھا۔ میں ظلم کر کے لطف اندوز ہونے لگا تھا۔
    میری روش نہ بدلی حتیٰ کہ وہ دن بھی آگیا جب اس کے گھر پتا کرنے جانے والے لڑکے کو صفِ ماتم بچھی ہوئی ملی اور کچھ ہی دیر بعد اس کے چچا جھکے کندھوں اور گیلی آنکھوں کے ساتھ اعلان کرانے کی غرض سے مسجد آن پہنچے۔
    اس کے والد جنازے میں شریک نہ ہوسکے کیوں کہ وہ ملک سے باہر گئے ہوئے تھے اور زیادہ انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ نیلے پڑتے بدن اور پھولتے پیٹ کی وجہ سے مغیث کے جسدِ خاکی کو زیادہ دیر رکھنا ممکن نہ تھا۔
    یہ خود کشی تھی یا قتل، لوگوں کی آراء مختلف تھیں۔ پوسٹ مارٹم کروانے پر گھر والے رضامند نہ تھے۔ اگر قتل بھی تھا تو کیا قاتل کوئی ایک شخص تھا یا زیادہ افراد کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ کوئی آلۂ قتل بھی تو برآمد نہ ہوا۔ لیکن اس روز سے میں راتوں کو بار بار پسینے میں شرابور دہشت زدہ سا اُٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں اور دن میں میری نگاہیں مسجد میں دائیں جانب ہل ہل کر قرآن پڑھتے بچوں سے ہوتی ہوئی قطار کے اختتام پر اس خوف زدہ چہرے کو تلاش کرنے لگتی ہیں۔

    ٭…٭…٭