Tag: سلسلہ وار ناول

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۵

    (سارہ قیوم)

    سولہویں رات

    رات آئی تو شہرزادِ شیریں بیاں و طلیق اللساں نے کہانی یوں سنائی کہ اے شہنشاہِ عالم پناہ، حسن بدر الدین مع اپنے دوستوں کے ایک جلسہ فریدوں بزم میں آیا (جسے یہ لوگ پارٹی کہتے تھے) اور اسے رشکِ طبقاتِ جناں پایا۔ باغ کیا تھا، باغ ِ ارم تھا، اسباب اور روشنیوں اور موسیقی کا عجب عالم تھا۔ وہاں جاکر بیٹھے تو دیکھا کئی حسینانِ پری جمال ، خوش تمثال ، بادۂ حسن کے سرور میں چور ، جوانی کے نشے میں مست و مخمور ناچتی ہیں اور ان کی انواع و اقسام کی پوشا کیں بدن ڈھانپنے سے قاصر ہیں، چاندی سے جسم لباس سے باہر ہیں۔
    حسن بدر الدین کے لئے یہ محافل نئی نہ تھیں، سمجھ گیا کہ محفل بادۂ و سرور ہے اور شہر کی نامی گرامی طوائفوں کو بلایا گیا ہے کہ امرا ء و شرفا کا دل بہلائیں اور رقص و موسیقی کا رنگ جمائیں۔ اس کے اپنے زمانے میں بھی راگ رنگ کی ایسی محفلیں آئے روز جمتی تھیں۔ بس فرق یہ تھا کہ پرانے زمانے کی طوائفیں پورا لباس پہنتی تھیں اور نئے زمانے میں ادھورا۔ اُس زمانے میں صرف طوائفیں ناچتی تھیں ، اس زمانے میں تماش بین بھی ساتھ ناچ رہے تھے۔ یعنی مرد آپے سے باہر تھے، عورتیں جامے سے۔ عجب بوا لعجبی تھی۔
    ابھی وہاں بیٹھے نیرنگئی دوراں دیکھ رہے تھے کہ غفران آتا دکھائی دیا۔ دوستوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔
    ‘‘ویلکم ۔ ویلکم۔’’ اس نے بازو پھیلا کر کہا۔ ‘‘Enjoying the Party?’’
    بندو نے منہ بناکر کہا۔ ‘‘پارٹی تو بعد میں انجوائے کریں گے، پہلے تو تیرے گارڈز نے جیب خالی کرادی ہماری۔ یار تین ہزار کی ایک Ecstasy Pill؟ تو خود بتا کتنا ظلم ہے۔’’
    غفران ہنسا اور بولا۔ ‘‘یہ تو ڈسکاؤنٹ پرائس ہے۔ اور انٹری فیس یا Pill خریدنا تو پارٹی رولز ہیں۔ آج کل ہر پارٹی میں ہوتے ہیں۔’’
    لیکن بندو کو تسلی نہ ہوئی، وہ منہ بناتا رہا۔
    آخر غفران نے کہا۔ ‘‘اچھا مراکیوں جارہا ہے، کتنی Pills ہیں تیرے پاس؟’’
    بندو نے کہا۔ ‘‘دو۔’’
    ‘‘غفران نے حیران ہوکر کہا۔ ‘‘بس؟ دو پہ ہی جان جارہی ہے؟ اچھا یہ بتا خود کھانی ہیں؟’’
    بندو نے ہاتھ اٹھائے ، قطعیت سے بولا۔ ‘‘نہ…… میری صحت کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔ چرس ہی ہینڈل کرلوں تو بڑا ہے۔ Ecstasyکھا کے تو اللہ کو پیارا ہوجاؤں گا۔’’
    غفران نے ہنس کر کہا۔ ‘اچھا تو حسن کو دے دے، یہ بڑا انجوائے کرتا ہے ایسی چیزوں کو۔’’
    بندو نے نظر بھر کے حسن کو دیکھا اور کہا۔ ‘‘حسن کو رہنے دے یار۔ معصوم ہے بے چارہ۔’’
    غفران پھر ہنسا اوربولا۔ ‘‘اچھا۔ چل تیری مشکل حل کرتا ہوں۔ آ تجھے ایک لڑکی سے ملواؤں۔ بڑی نوٹ والی ہے۔ اسے بیچ دے۔ کچھ پیسے اوپر سے بھی لے لے گا تو اسے پتا نہیں چلنا۔ نشے میں ہوتی ہے تو بڑی generous ہوجاتی ہے۔’’
    یہ کہہ کر بندو کا بازو پکڑا اور ایک طرف کو لے چلا۔ تجسس کے مارے حسن بھی ساتھ چلا کہ دیکھوں کیا کرتا ہے اور کس سے ملواتا ہے۔ شاید کوئی بنارس کی نامی گرامی طوائف ہو یا لکھنؤ کی کوئی حسین، مجرا کرنے والی۔
    تھوڑا آگے بڑھے تو حسن نے دیکھا کہ ناچنے والوں کے گروہ سے ایک حسین و جمیل لڑکی علیحدہ ہوئی اور ایک طرف لگی میز کی طرف چلی۔ وہاں جاکر شراب ِناب کا پیمانہ بھر اور غٹاغٹ چڑھا گئی۔
    ‘‘اوہ نو۔’’ غفران نے پریشان ہوکرکہا۔ ‘‘پی پی کے مرجائے گی کسی دن۔ میں اس کو گھسیٹ کے ڈانس کی طرف لے جاتا ہوں، یہ پھر بار میں پہنچ جاتی ہے۔ آؤ تمہیں ملواؤں۔’’
    اس کے قریب پہنچے تو حسن نے دیکھا کہ نشے کی زیادتی سے اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور کھڑے کھڑے لڑکھڑا رہی تھی۔ غفران کو قریب آتے دیکھا تو یوں آنکھیں پھاڑکے گھورنے لگی جیسے کسی اجنبی کو پہچاننے کی کوشش کررہی ہو۔ دو قدم پیچھے ہٹی تو گرتے گرتے بچی۔
    غفران نے ا سے بازو سے تھام کر سیدھا کھڑا کیا اور بولا۔ ‘‘ہیلو ڈارلنگ۔پھر سے بھول گئیں مجھے؟ آج تین مرتبہ اپنا تعارف کروا چکا ہوں۔ میں غفران۔ میرے دوستوں سے ملو۔ یہ بندو ہے اور یہ حسن۔’’
    لڑکی نے منہ پھا ڑ کر قہقہہ لگایا اور مصنوعی نزاکت سے بولی۔ ‘‘ہاں ہاں تم غفران ہو۔ تمہارے دوست ہیں، میرے بھی دوست ہیں۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘بندو ، حسن ان سے ملو ۔ یہ تانیہ ہے۔ وہ جو فلاں پارٹی کے وزیر ہیں نا ں؟ ان کی بیگم۔’’ پھر سرگوشی میں بولا۔ ‘‘دوسری بیگم۔’’
    تانیہ نے ٹھنک کر کہا۔ ‘‘Oh please dont call me begum.…… خود کو بوڑھا محسوس کرنے لگتی ہوں میں۔’’
    ‘‘چلو وہاں بیٹھیں۔’’ غفران نے کہا اور اس کو لے کر اسی جگہ آبیٹھے جہاں نعیم اور عاصم بیٹھے تھے۔ محسن موجود نہیں تھا۔ معلوم ہوا پچھلی طرف تکہ کباب بنانے والوں اور نان سینکنے والوں کو دیکھنے گیا ہے۔
    تعارف کے بعد غفران نے تانیہ سے پوچھا۔ ‘‘اور سناؤ تانیہ۔ واٹس اپ؟’’
    تانیہ نے کہا۔ ‘‘ابھی دبئی سے واپس آئی ہوں۔ ورساچی کی سپرنگ کلیکشن آئی تھی، سوچا چلی ہی جاؤں۔ کچھ رہ ہی نہیں گیا پہننے کے لئے میری وارڈروب میں۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘اچھا کیا۔ کھاؤ پیو موج اڑاؤ۔ ورساچی پہنو اور شوہر کی کمائی حلال کرو۔’’
    تانیہ بولی۔ ‘‘آف کورس۔ آخرسوسائٹی میں عزت بھی کوئی چیز ہے۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘کھانے پینے سے مجھے یاد آیا۔ کچھ کھا یا بھی ہے یا پیئے چلی جارہی ہو؟’’
    یہ سن کر تانیہ ہنسی اور بولی۔ ‘‘کھانے کے لئے کون آتا ہے پارٹی میں؟ پارٹی تو پینے کے لئے ہوتی ہے۔’’
    غفران نے کہا۔ ‘‘ارے یار تم کہو تو سہی۔ تمہارے مطلب کی کھانے کی چیز بھی حاضر کردیتے ہیں ہم۔’’
    یہ کہہ کر بندو کو اشارہ کیا۔ بندو نے دو گولیاں نکال کر میز پر رکھ دیں۔
    تانیہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ گولیوں کو اٹھا کر غور سے دیکھا اور بولی۔ ‘‘Esctasy ۔ کتنے کی ہے؟ مجھے دونوں دے دو۔’’
    یہ کہہ کر بغیر جواب کا انتظار کئے اپنا بٹوہ کھولا اور پندرہ ہزار روپے گن کر میز پر رکھ دیئے۔ بندو نے اس میں سے بارہ ہزار گن کر جیب میں ڈالے اور تین ہزار واپس کردیئے۔
    ‘‘رکھ لے یار۔’’ غفران نے دبی آواز میں ڈانٹا۔
    ‘‘نہیں یار۔ تجارت کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ دو گنا سے زیادہ منافع جائز نہیں۔ وہ نشے میں ہے تو میں اس کا فائدہ اٹھالوں؟ نہیں یار۔’’ بندو نے جواب دیا۔
    تانیہ نے پاس گزرتے ملازم کے ہاتھ سے شراب کا جام لیا اور ایک ہی گھونٹ میں گولی اور شراب دونوں چڑھا گئی۔ غفران فکر مند نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
    تھوڑی ہی دیر میں تانیہ کی آنکھیں چڑھنے لگیں۔ میز کو یوں چٹکیاں کاٹنے لگی گویا کوئی اس پر پڑی کوئی چیز اٹھانا چاہتی ہے۔ پھر ہنسنے لگی اور گنگنانے لگی۔ گانا ختم کرچکی تو رونے لگی۔
    ‘‘روتی کیوں ہو ڈارلنگ؟’’ غفران نے ہمدردی سے پوچھا۔
    ‘‘میری زندگی خالی ہے۔ بالکل خالی۔ ’’ اس نے روتے ہوئے کہا۔ ‘‘میں نے اپنی زندگی میں کیا دیکھا؟ کچھ نہیں۔ کیا پایا؟کچھ نہیں۔’’
    غفران نے تسلی دے کرکہا۔ ‘‘تم نشے میں ہوتی ہو تو تمہیں یونہی لگنے لگتا ہے۔ سب کچھ تو ہے تمہارے پاس۔’’
    اس نے روکر کہا۔ ‘‘نشے میں نہ بھی ہوں تو بھی یوں ہی لگتا ہے۔ ڈپریشن کی گولیاں کھاتی ہوں۔ پھر اس ڈپریشن کو بھلانے کے لئے بازاروں میں نکل جاتی ہوں۔ اندھا دھند شاپنگ کرتی ہوں۔ لاکھوں روپے اڑاتی ہوں۔ صرف ایک دن …… میں تمہیں بتاؤں صرف ایک دن کی خوشی دیتی ہے شاپنگ۔ اس کے بعد پھر وہی ڈپریشن۔’’
    یہ کہہ کر ناک پونچھا اور پاس بیٹھے حسن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ‘‘تم نے کبھی دکھ دیکھے ہیں؟تمہیں پتا بھی ہے دکھ ہوتا کیا ہے؟ نہیں تمہیں کیا پتا۔’’
    حسن چپ چاپ اسے دیکھے گیا۔
    وہ کہتی رہی۔ ‘‘دکھ دیکھنے ہوں تومجھے دیکھو۔ ارب پتی باپ کی بیٹی ہوں میں۔ سولہ سال کی عمر میں میرے باپ کے دوست نے مجھے ریپ کیا۔ میں نے باپ کو بتایا تو اس نے کہا، خاموش رہو۔ وہ بڑا آدمی ہے۔ اس سے تعلقات بگڑگئے تو میرے بزنس کو نقصان ہوگا۔ اس کے بعد وہ آدمی برابر آتا رہا، ہمارے ڈرائنگ روم میں بیٹھا میرے باپ کے ساتھ قہقہے لگاتا رہا۔ میں ڈپریشن میں چلی گئی۔ سائیکالوجسٹ کے چکر کاٹنے لگی۔ پھر میں نے سوچا واٹ دا ہیل۔ جب میرے باپ کو پرواہ نہیں تو مجھے اس کی عزت یا اس کے پیسے کی کیوں پرواہ ہو؟ میں نے باپ کا پیسہ اڑانا شروع کیا اور پے در پے بوائے فرینڈ بدلنے لگی۔ لوگوں میں میرے چرچے ہونے لگے۔ اپنے باپ کو جلانے کے لئے میں نے عمر میں اپنے سے تین گنا بڑے مرد سے شادی کرلی اور اس کی دوسری بیوی بن گئی۔ میرا شوہر میرے باپ کی مخالف پارٹی کا وزیر تھا اور کرپشن میں بدنام۔ میرا خیال تھا میرا باپ مجھے عاق کردے گا۔ لیکن ہوا پتا ہے کیا؟ میرا باپ بہت خوش ہو ااور کہا۔ ‘‘یہ بڑے کام کا آدمی ہے۔ اسے بڑا کیش کراسکتے ہیں ہم۔’’ اب تم مجھے بتاؤ ، اس سارے کھیل میں میں نے کیا پایا؟ ایک بوڑھا شوہر جو مجھے گھر ڈال کر بھول چکا ہے اور اپنے سے بڑے سوتیلے بچے۔ لوگ سمجھتے ہیں میں لیمبورگینی میں پھرتی ہوں، لاکھوں کا جوتا پہنتی ہوں، لاکھوں کا پرس پکڑتی ہوں، کروڑوں کے ڈائمنڈز ہیں میرے پاس تو میں خوش ہوں۔ کوئی مجھ سے پوچھے یہ چیزیں مجھے کتنی خوشی دیتی ہیں۔ زیرو، بالکل زیرو۔ اپنے غم بھلانے کے لئے retail therapyکا سہارا لیتی ہوں لیکن مجھے اس سے وہی خوشی ملتی ہے جو کسی غریب عورت کو آلو پیاز خریدنے سے ملتی ہو گی۔ بلکہ شاید اس سے بھی کم۔ اپنے دکھ بھلانے کے لئے نشہ کرتی ہوں، لیکن اس سے بھی کیا ہوتا ہے۔ کچھ ہوتا ہے؟’’
    اس کی یہ کہانی سن کر حسن بدر الدین ، کہ انتہا درجے کا رحمدل اور رفیق القلب نوجوان تھا، آب دیدہ ہوا۔ بصد ہمد ری کہا۔ ‘‘نہیں نشے سے کیاہوتا ہے، الٹا درد غم بڑھ جاتا ہے۔’’
    ‘‘Exactly۔’’ تانیہ نے آنسو پونچھ کرکہا۔ ‘‘مجھے لوگوں نے کہا نمازیں پڑھو، سکون مل جائے گا۔ لیکن اب میں الکوحل کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ گھر میں اپنا بار ہے۔ اب جب ہر وقت ایک چیز سامنے ہو تو انسان کیسے نہ پیئے؟ اور الکوحل کے ساتھ نماز نہیں ہوتی۔ میری قسمت دیکھو، لوگوں نے تو مجھے دکھ دیئے ہی دیئے، مجھے تو خدا نے بھی نہیں اپنایا۔’’
    یہ کہہ کر آنسو پوچھے، پھر قہقہہ لگا کر ہنسی اور بولی۔ ‘‘خیر چھوڑو۔ زندگی ایک دفعہ ملتی ہے۔ انجوائے کرکے گزارنی چاہیے۔’’
    پھر اونچی آواز میں پکاری۔ ‘‘اے ڈی جے یہ کیا بکواس سونگ لگا رکھا ہے۔ کوئی ڈھنگ کا میوزک لگاؤ۔ کیوں غفران ، لگتا ہے اسے بھی چڑھ گئی ہے۔ فری کی شراب دیکھ کر لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔’’
    یہ کہہ کر پھر منہ پھاڑ کر قہقہہ لگایا۔ اس کے قریب بیٹھے حسن کو اس کی کالی داڑھیں نظر آئیں، بے اختیار کراہت آئی۔ اب تانیہ کو تیز نشہ چڑھنے لگا تھا۔ زبان لڑکھڑا رہی تھی اور وہ اول فول باتیں کرنے لگی تھی۔ سگریٹ سلگانے لگی تو انگلیاں کانپنے لگیں۔ حسن نے مدد کی ، ماچس جلا کر دی۔ وہ کش پہ کش لینے لگی۔ اس کی آنکھیں بار بار چڑھ جاتی تھیں اور کچھ بڑبڑانے لگتی تھی۔
    اتنے میں وہاں سے ایک نوجوان گزرا۔ تانیہ کو دیکھ کر قریب آیا اور کہا۔ ‘‘اے بے بی۔ کیسی ہو؟ کیا کررہی ہو؟…… Want to have fun?’’
    تانیہ نے اس کی گردن میں بازو ڈالے اور کہا۔ ‘‘Yes yes I want to have fun.’’
    نوجوان نے اسے اسی طرح لپٹائے ہوئے اٹھا کر کھڑا کیا اور بولا۔ ‘‘تو چلو پھر۔’’
    غفران نے دبی آواز میں کہا۔ ‘‘چھوڑو یار ۔ نشے میں ہے۔’’
    نوجوان ہنس کر بولا۔ ‘‘یہ کب نشے میں نہیں ہوتی؟ویسے بھی اس کی مرضی سے لے جارہا ہوں۔ کیوں بے بی ،چلو گی؟’’
    ‘‘یس بے بی، یس۔’’ تانیہ نے لڑکھڑا کر کہا۔
    یہ کہہ کر ا سکی بانہوں میں جھولتی ، لڑکھڑاتی اس کے ساتھ چلی۔ وہ اسے لے کر سیدھے اس میز پر گیا جسے غفران نے بار کہا تھا۔ وہاں موجود شخص کو جیب سے چند نوٹ نکال کر دیئے۔ اس شخص نے اسے ایک چابی تھمائی۔ چابی پکڑکر وہ شخص تانیہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے ایک طرف کو غائب ہوگیا۔
    حسن یہ سب دیکھتا تھا اور اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اس نے غفران سے پوچھا۔
    ‘‘خدارا اس راز سے پردہ اٹھاؤ کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ یہ طوائفیں کہاں سے بلوائی ہیں اور یہ کیسا مجرا ہے جس میں سب لوگ ناچتے ہیں؟ یہ شخص تانیہ کو کہاں لے گیا ؟’’
    غفران نے حیران ہوکر کہا۔ ‘‘طوائفیں ؟ خدا کا خوف کرو یار۔ یہ سب بڑے اچھے گھروں کی لڑکیاں ہیں۔ وزیروں، سفیروں، بزنس مینوں کی بیٹیاں۔ لگتا ہے تم نے پہلی مرتبہ کوئی پارٹی اٹینڈ کی ہے۔ ڈانس پارٹی میں تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ تم لوگ بھی ڈانس کرو، ناچو، شراب پیو۔ بار مین کے پاس اوپر کے کمروں کی چابیاں ہیں۔ کوئی لڑکی پسند آئے ، اور اسے تم پسند آؤ تو بار مین کو دو ہزار روپے دو، چابی لو اور لڑکی کو لے جاؤ اوپر۔ آؤ تمہیں ملواتا ہوں چند لڑکیوں سے۔’’
    یہ سب سن کر حسن کا حیرت اور اچنبھے سے یہ حال ہواکہ حیطۂ تحریر سے خارج ہے۔ یہ سب کچھ تو زمانوں سے ہوتا آیا تھا لیکن یہ کام وہ عورتیں کرتی تھیں جو طوائفوں کے گھرانوں میں پیدا ہوتی تھیں اور کاروبار کے طور پر خود کو بیچتی تھیں۔ یہ سوچ کر حسن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ شریف اور اعلیٰ گھرانوں کی لڑکیاں نشے میں دھت ناچتی ہیں اور نشے کے عالم میں کوئی بھی ہاتھ پکڑ کر لے جائے، انہیں پرواہ نہیں۔ وہ مرد جو ابھی تانیہ کو لے کر گیا، جانتا تھا کہ وہ کسی کی بیوی ہے، اس وقت اپنے آپ میں نہیں ہے، پھر بھی اسے پھسلا کر لے گیا۔ یہ سوچ کر حسن کو یکدم متلی محسوس ہوئی۔ وہ اندھا دھند اٹھا اور جھاڑیوں میں جاکر قے کردی۔ انسانیت کی اور عورت کی اس سے بڑی تذلیل اس نے کبھی نہ دیکھی تھی۔
    واپسی آکر بیٹھا تو غفران نے پوچھا۔
    ‘‘کیا ہوا؟ طبیعت خراب ہے؟ کچھ پینے کو منگواؤں؟’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۴

    (سارہ قیوم)

    پندھرویں شب کا قصہ: 

    پندرھویں شب کو جب بادشاہِ فیروز بخت سکندر صولت نے تسنیم و تنسیقِ سلطنت سے فراغت پا کر محل سرا میں قدم رنجہ فرمایا اور اس کو رشکِ باغ نعیم بنایا تو کہانی یاد کر کے شہرزاد کو طلب فرمایا اور کہا کہ کل کی کہانی اور اس بدبخت حجام کا بقیہ حال سناؤ اور ہمارا دل بہلاؤ۔ تمہاری سحربیانی گدگداتی ہے، کہانی سنے بغیر نیند نہیں آتی ہے۔ شہرزاد دل ہی دل میں خوش ہوئی کہ خدانے بڑے موذی سے جان بچائی، الحمدللہ کہ یہاں تک تو نوبت آئی کہ اب بادشاہ کو داستان کی سماعت کا شوق چراتاہے اور قصۂ دلگداز ان کو لبھاتا ہے۔ عرض کیا کہ شہنشاہِ عالم، پشت و پناہِ سلاطینِ جہاں کو خدائے تعالیٰ قیامت تک سلامت رکھے، بااقبال و باکرامت رکھے۔ دوست شادو دشمن پائمال ہوں، رفقا و وابستگانِ دامنِ دولت سیم و زر سے مالا مال ہوں۔

    رہیں جب تک الٰہی مہرو ماہ و کوکب و اختر
    رہے جب تک الٰہی اس زمین پر چرخِ زنگاری
    میسسرخیرخواہوں کو تو عیشِ جاودانی ہو
    ترے بدخواہ کو حاصل ہمیشہ ذلت و خواری

    اے شہریارِ والاتبار، جب حجام نے حسن بدر الدین کو کرسی پر بٹھایا تو یکایک ایک تیز دھار استرا اس کے حلق پر جمایا اور یوں چلایا۔ ‘‘ایسے ہوتا ہے قتل۔’’
    حسن بدرالدین کا کلیجہ منہ کو آیا، بڑا صدمہ اٹھایا۔ خوف سے گھبرایا، گھبرا کر چلایا۔ ‘‘یاالٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ نائی ہے یا اجل حجام کا بھیس بدل کر آئی ہے؟’’
    یہ سن کر حجام نے استرا اٹھایا اور دانت نکوس کر بولا: ‘‘ڈر گئے؟ ہاہاہا!’’
    حسن کو اس قدر غصہ آیا کہ قریب تھا کہ مارے غصے کے اپنے کپڑے چاک کر ڈالے اور سخت ست سنائے کہ حجام نے اطمینان سے استرا بند کر کے میز پر رکھا اور کہا: ‘‘وہ جو نئی فلم آئی ہے نا ‘‘مرڈر؟’’ اس میں ایک بندے کو ایسے قتل کرتا دکھاتے ہیں ۔مجھے بڑا شوق ہے ایکٹنگ کا۔ دن کی دو فلمیں ضرور دیکھتا ہوں۔ ایک انڈیا کی اور ایک انگلش۔ پھر جو سین سب سے زیادہ پسند آتا ہے اس کی پریکٹس کرتا ہوں۔ آپ کی فیورٹ ایکٹریس کون ہے سر؟’’
    حسن نے بگڑ کر کہا: ‘‘تم اپنا کام کرو، تمہیں مجھ سے کیا سروکار ہے؟ تم نے اتنی دیر میں میرا کلیجہ پکا دیا اور سر پھرا دیا۔’’
    حجام نے کہا: ‘‘بہت جلدی میں لگتے ہیں سر، خیریت تو ہے؟’’ پھر معنی خیزی سے سرگوشی میں بولا: ‘‘گرل فرینڈ سے ملنے جا رہے ہیں؟’’
    حسن نے کہا: ‘‘اے بومِ شوم! یہ استرا اٹھا اور میرے حلق پر چلا۔ بندہ درگاہ اس حجامت سے باز آئے، تیری صحبت سے بہتر ہے کہ موت آئے۔’’
    حجام نے اطمینان سے کہا: ‘‘استرے سے کون بال کاٹتا ہے سر؟ یہ تو میں نے بس لوگوں کو ڈرانے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ ہیئرکٹ کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ بھی مل جاتی ہے کسٹمر کو اور جب لوگ ڈرتے ہیں نا سر تو ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں پھر ان کو کٹ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بس اس لیے یہ استرا رکھ چھوڑا ہے۔ ورنہ میں ٹیکنالوجی کو کام میں لانا پسند کرتا ہوں۔ الیکٹرک شیور ہوتا ہے نا سر؟ اس سے کام لیتا ہوں، ہیئرکٹ کے لیے بھی اور داڑھی کے لیے بھی۔ ہر سٹائل کے لیے میرے پاس علیحدہ نمبر کی مشین ہے۔ بتائیے آپ کیا سٹائل بنوانا پسند کریں گے؟ رونالڈو کٹ، ڈیوڈ بیکہم کٹ، پیالہ کٹ، آرمی کٹ۔ آپ کی داڑھی میں جوئیں تو نہیں ہیں سر؟’’
    اس اول جلول تقریر سے حسن اس قدر پریشان ہوا کہ اسے معلوم ہوتا تھا کہ یہ شخص اس کے دماغ کے کیڑے تک چاٹ جائے گا اور قصہ ختم نہ ہونے پائے گا۔
    حسن نے جیب سے پیسے نکالے اور کہا: ‘‘یہ پیسے رکھو اور میری گردن سے یہ کپڑا اتارو۔ اب میرا حجامت بنوانے کو جی نہیں چاہتا۔’’
    حجام نے یہ سنا تو دکھی ہوکر کہا ۔ ‘‘کیا بات کرتے ہیں سر! ناراض کیوں ہوتے ہیں؟ آپ مجھے بے شک ایک پیسہ نہ دیں لیکن بغیر ہیئر کٹ کے میں آپ کو جانے نہ دوں گا۔ بلکہ میری طرف سے آفر ہے کہ ہمارا فیشل اور پیڈی کیور مینی کیور پروموشل آفر میں ٹرائی کریں۔ ففٹی پرسٹ آف۔ جو ایک مرتبہ میرے پاس آتا ہے، پھر کہیں نہیں جاتا۔ بڑے بڑے آرٹسٹ اور امیر وزیر میرے پاس آتے ہیں اور انعام دے کر جاتے ہیں۔ آپ کے اپنے فادر میرے فادر کے پاس آیا کرتے تھے۔ کہتے تھے فضل الٰہی میں ساری دنیا پھرا ہوں لیکن جیسی چمپی تم کرتے ہو، ویسی اور کوئی نہیں کرسکتا ۔آپ چمپی کرائیں گے سر؟’’
    تنگ آکر حسن نے کہا۔ ‘‘تم بس صرف حجامت بناؤ اور اپنا راستہ لو۔ میرا سر نہ پھراؤ۔ معاف فرماؤ۔’’
    حجام کمبخت نے اطمینان سے کہا۔ ‘‘اتنی جلدی میں کیوں ہیں سر؟ جلدی میں کبھی کام اچھا نہیں ہوتا۔ میں آپ کے لئے کولڈ ڈرنک منگواتا ہوں۔ تسلی سے بیٹھیں، گپ شپ کریں۔’’
    حسن نے جھلا کر کہا۔ ‘‘بس بس تم اپنی گپ اور من ترانس رہنے دو۔ وقت ہاتھ سے جاتا ہے، نمازِ جمعہ کا زمانہ قریب آتا ہے۔ جس قدر جلد ممکن ہو حجامت بناؤ، دیر نہ لگاؤ۔ بعد از نمازِ جمعہ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔ خبردار اب قصد لا یعنی سے با آ اور جلد خط بنا۔’’
    یہ ڈانٹ سن کر حجام نے اپنی بیہودہ سرائی موقوف کی۔ ژاژخائی منسوخ کی اور قینچی اٹھا کر کچھ اٹکل پچو ہاتھ چلائے،کھٹ کھٹ کچھ بال کاٹے اور پھر ایک عجیب وضع کی چیز نکالی، اس کا کوئی پرزہ دبایا اور دم کے دم میں اس چیز کو حسن کی گدی پر جمایا۔ معاً اس میں سے گھُر گھُر کی صدائے کریہہ بلند ہو ئی اور حسن کی گدی پر پے درپے چرکے سے لگنے لگے۔
    حسن گھبرا کر چلایا۔ ‘‘او بدبخت ناہنجار، بداعمال بدکردار، تو نائی ہے یا جلاد ہے؟یا چنگیز خان کا داماد ہے؟ حماقت کی آندھی ہے، میرے قتل پر کمر باندھی ہے؟’’
    یہ کہہ کر چاہا کہ اس حجام لعین کو ٹالے، کسی طرح خود کو وہاں سے نکالے مگر وہ خرانٹ ، گرگ باراں دیدہ تاڑ گیا کہ کپڑا گلے سے نکال کر بھاگا جاتا ہے، پھر ہاتھ نہیں آتا ہے۔ جھپٹ کر حسن کی گردن میں ہاتھ ڈالا اور پہلوانوں کی طرح گردن بازو کے شکنجے میں کس لی۔
    پچکار کر کہا۔ ‘‘پریشان کیوں ہوتے ہیں سر؟ لگتا ہے کبھی الیکٹرک شیو ر یوز نہیں کیا۔ اس لئے تو اتنا براہیر کٹ رکھا ہوا تھا۔ اب ذرا میرا کمال دیکھیں کہ کیا لک دیتا ہوں آپ کو۔ ماشاء اللہ خوبصورت ہیں، سر کی شیپ بھی کتنی اچھی ہے۔ ایسے ویسے ہیر ڈریسر ز کے پاس جاجا کر آپ نے ستیاناس کرلیا ہے اپنی لکس کا۔’’
    حسن صاحب نے جو دیکھا کہ اس پاجی کمینے کے پھندے سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں تو دم سادھ کر بیٹھ رہے۔ دل میں موقع کی تلاش میں تھے کہ یہ ذرا چو کے تو اس سے اپنے کو بچاؤں اور اس کی صحبت سے نجات پاؤں،مگر وہ بلا کی طرح چمٹا ہی رہا۔
    بارے حجامت سے فراغت پائی تو حسن نے نظر اٹھائی۔ اب جو آئینے میں نظر پڑی تو آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اس کے بال جو ہمیشہ خیالاتِ پریشاں کی طرح بے قابو رہتے تھے، اب اس سلیقے سے سرپر جمے تھے کہ کیا ہی کسی شاعر کامل فن کے مصرعے جمتے ہوں گے ۔
    پہلے تو بالوں کی یہ صورت تھی کہ ہمہ وقت ماتھے پر گرے ہیں، کبھی گردن سے چمٹے ہیں تو کبھی داڑھی سے لپٹے ہیں۔ اور اب یہ صورت کہ سامنے کے بال لہریئے کی صورت میں پیچھے کو جاتے تھے۔ روشن پیشانی سے پردہ اٹھاتے تھے۔ داڑھی جو پہلے مانند ِجھاڑ جھنکاڑ تھی۔ اب مثل گلِ رخسار تھی۔ داڑھی کی لمبائی دو انگشت کے برابر، مونچھیں گویا دو سنکھ اول تا آخر ۔
    اپنی صورت جو دیکھی تو حسن بدر الدین بے اختیار پکار اٹھا۔ ‘‘یہ میں ہوں؟ حسن بد ر الدین سوداگرزادہ؟ یا  کوئی  شہزادہ بلند ارادہ؟ سروقامت سہی بالا، ابروئے پیوستہ دیوان خوبی، مجسم رعنائی و خوش اسلوبی ، خندہ پیشانی، صاحب طبع نورانی۔ اے حجام، تیرے ہنر سے میں نے وہ صورت پائی ہے کہ خدا نے اپنی قدر ت ِکاملہ دکھائی ہے۔ تیری کاریگری پر مجھے بے حد استعجاب ہے، واللہ تیرا فن لاجواب ہے۔’’
    جونہی یہ تقریر ختم ہوئی، پیچھے سے تالیاں بجنے کی آواز آئی۔ مڑ کر جو دیکھا تو ایک مردِ شریف کو کھڑا پایا جو آئینے میں حسن کو دیکھتا تھا اور بے اختیار تالیاں بجاتا تھا۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۳

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۳

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۳

    رات:14

    آنا حسن بدرالدین کا غیض و غضب میں اور چڑھنا حجام کے ہتھے:

    چودھویں شب کو جب شہریارِ سکندر جاہ خاقانِ کلاہ نے انتظامِ سلطنت سے فراغت پائی تو خاتونِ جمیلہ شہرزاد یوں چہچہائی کہ جب سوداگر بچے حسن بدرالدین نے زلیخا کو گوشۂ صحن میں چپکے چپکے روتے پایا تو بہت بے قرار ہوا اور زلیخا سے بصد اصرار اس گریہ و بکاہ کا سبب پوچھنے لگا۔ زلیخا پہلے تو ٹالتی رہی، آخر بار بار کے اصرار سے مجبور ہو کر روتے ہوئے یوں گویا ہوئی۔ ‘‘جب میں چیک اپ کرانے گئی تو…… ڈاکٹر نے مجھے….. اس نے مجھے…molest کیا۔’’
    زلیخا نے انگریزی کا جو لفظ بولا اس کا مطلب حسن کو معلوم نہ تھا۔ اگرچہ حسن زمانِ پاستان سے آیا تھا مگر بفضل ِخدا بلا کا ذہن پایا تھا۔ اس کی چھٹی حس نے گھنٹی بجائی اور کُل امور اس کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیے کہ اگر ایک نوجوان طرحدار لڑکی ایک خرانٹ، گرگِ باراں دیدہ ڈاکٹر سے مل کر آتی ہے اور پھر تنہائی میں لاکھ لاکھ آنسو بہاتی ہے تو اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ شک کے عوض حسن کو یقین ہو گیا کہ اس بدبخت، ناہنجار ڈاکٹر نے دست درازی کی ہو گی، کچھ نہ کچھ حیلہ بازی کی ہو گی۔
    اس حقیقت کا ظاہر ہونا تھا کہ مارے غیض و غضب کے حسن تھرتھر کانپنے لگا۔ ماموں زاد بہن کے ساتھ ایک لعین مرد کی دست درازی کی بات سن کر بھلا کیوں کرنہ تاب آئے اور انسان قتل پر کیوں نہ آمادہ ہو جائے؟
    پس حسن اچھل کر کھڑا ہوا اور چلاٌ کر بولا: ‘‘کہاں ہے میری تلوار و شمشیر، نیزہ و تیر؟ فوراً حاضر کرو کہ جا کر اس بدکارناہنجار کا کام تمام کروں، غیرت دار مردوں میں نام کروں۔’’
    زلیخا نے جو حسن کو اس طیش اور غیض و غضب میں دیکھا تو گھبرا کر بولی: ‘‘پلیز آہستہ بولو۔ دیکھو اتنا غصہ نہ کرو۔ پلیز بیٹھ جاؤ۔’’
    لیکن حسن اس وقت شمشیرِ عریاں تھا، غصہ ور مثل شیرژیاں تھا۔ بدماغ ہو کر بولا:
    ‘‘بیٹھ جاؤں؟ مجھے کیا سمجھ رکھا ہے کہ اتنی بڑی بات سن کر بھی میں بیٹھ جاؤں؟ میں چاہتا ہوں کہ اسی وقت جاؤں اور اس مردود کا گلا دباؤں۔ تلوارِ تیز کا ایسا تلا ہوا ہاتھ دوں کہ لاش پھڑکتی نظر آئے، پانی نہ مانگنے پائے۔’’
    زلیخا نے گھبرا کر حسن کا ہاتھ پکڑ کر اسے کرسی پر بٹھایا اور بصد ِمنت و سماجت بولی: ‘‘خدا کا واسطہ ہے اتنا شور نہ مچاؤ۔ کسی نے سن لیا تو میری عزت جائے گی اور تمہاری جان۔ ارادۂ قتل کے الزام میں پکڑے جاؤ گے۔’’
    یہ کہہ کر پانی حسن کو دیا، حسن نے ایک سانس میں پیا۔ ٹھنڈے پانی سے غیض و غضب کی آگ تھوڑی ٹھنڈی ہوئی مگر پوری طرح نہ بجھی۔
    زلیخا نے رنجیدہ ہو کر کہا: ‘‘اسی لیے میں نے کسی کو بتایا نہیں تھا۔ اسی ری ایکشن کا خدشہ تھا مجھے۔ تم نے مجھے کمزور لمحے میں پکڑ لیا۔ ورنہ میں تمہیں کبھی بھی نہ بتاتی۔’’
    حسن نے غصے سے کہا: ‘‘کیوں نہ بتاتی؟ اور میں تو پوچھتا ہوں اسی وقت کیوں نہ بتایا؟ میں اسی وقت اس عفریتِ پلید کی خبر لیتا۔ اسے قتل کرتا اور خدا سے اجر لیتا۔’’
    زلیخا نے سر جھکا لیا۔ کچھ دیر خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی: ‘‘پہلے تو مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی۔ میں اس سے پیٹ درد کا علاج کرانے گئی تھی۔ پیٹ تو اس نے چیک کرنا ہی تھا۔ ہاتھ سے بھی اور اسٹیتھوسکوپ سے بھی۔ لیکن پھر۔ پھر اس نے اور جگہ بھی۔ اور جب میں گھبرائی توکہنے لگا، آپ کے ریفلیکسز چیک کر رہا ہوں۔ گھٹنے پر ہتھوڑی مار کر چیک کیا، پاؤں پر بھی اور پھر۔ پھر اچانک اس نے۔۔۔۔۔۔’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۲
    (
    سارہ قیوم)

     

    تیرہویں شب کا قصہ:

    تیرہویں شب کو شاہِ باذل نے محل سرا میں قدم رنجہ فرمایا تو شہرزاد کو بلوایا اور فرمائش کی کہ اپنی قصہ گوئی کا کمال دکھاؤ اور عاصم کے آئیلو یولو کے بعد حسن سوداگر بچے کے حال بتاؤ۔ عاصم اور اس کے آئیلویولو کا ذکر سن کر شہرزاد نے پہلے تو تھو تھو کیا، پھر یوں آغازِ گفتگو کیا کہ اے سلطانِ فریدوں بزم جب ماڈل ٹاؤن لاہور کے مکان نمبر چار سو بیس۔ ڈی میں صبح کا سورج طلوع ہوا تو اس نے حسن بدر الدین کو صحن میں مغموم بیٹھا پایا۔ ہر دم یاد اپنی مصیبت کا قصۂ جگر خراش تھا، دل پاش پاش تھا۔ اپنے حال پر غور و فکر میں مصروف تھا کہ زلیخا ایک قاب لیے اندر سے نکلی اور اس کے پاس آکر ٹھہر گئی۔ ایک پیالی قاب سے اٹھائی اور حسن کو دے کر کہا۔
    ‘‘
    لو چائے پیو۔’’
    حسن نے چونک کر نگاہ اٹھائی۔ پیالی چائے سے بھری ہوئی پائی۔ ٹھنڈا سانس بھر کر پیالی تھام لی اور اسے ہاتھ میں لے کر ازسرِنو مصروفِ سوچ بچا ہوا ، ملال و فکر کا گرفتار ہوا۔
    زلیخا چند لمحے کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ بیٹھتے بیٹھتے منہ سے ایک کراہ نکلی اور پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دوہری ہوگئی۔ حسن نے گھبرا کر نگاہ اٹھائی تو دیکھاکہ زلیخا کا رنگ زرد ہے، پیٹ میں درد ہے۔ اسے کل رات کا حال یاد آیا جب دیوار پر لٹکے اس نے لات چلائی تھی جو زلیخا کے پیٹ میں لگی تھی۔ اپنی حرکتِ ناپسند یدہ یاد آئی، حسن کی آنکھ بھر آئی۔حال زار ہوگیا، دل بے قرار ہوگیا۔ بصد درد مندی و ہمدردی زلیخا سے کہا:
    ‘‘
    اے خاتونِ مہربان، خوش وضع و خوش بیان، یہ تیرا کیا حال ہے؟ مجھے اس حادثے کا سخت ملال ہے۔ گو کہ تجھے دکھ دینے کا کوئی ارادہ دل میں نہ تھا۔ پھر بھی اس حادثے کا میں قصور وار ہوں۔ معافی کا خواستگار ہوں۔’’
    زلیخا نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حسن کے چہرے سے ملال کی کیفیت عیاں ہے۔ بشرے سے درد و غم کی حالت نمایاں ہے۔ اداس مسکراہٹ کے ساتھ بولی:
    ‘‘
    چھوڑو، جانے دو۔ میں جانتی ہوں تم جانتے بوجھتے کسی کو تکلیف نہیں پہنچاسکتے۔’’
    یہ کہہ کر چائے کا گھونٹ بھرا اور غور سے حسن کو دیکھتے ہوئے کسی قدر تجسس سے بولی:
    ‘‘
    لیکن یہ تو بتاؤ، تم رات کو کر کیا رہے تھے؟’’
    حسن نے ایک آہِ سرد بھری، بہ دلِ پُردرد بھری اور کہا:
    ‘‘
    گھر سے بھاگ رہا تھا۔’’
    زلیخا بےساختہ ہنس پڑی۔ بولی:
    ‘‘
    وہ تو خیر میں سمجھ ہی گئی تھی، لیکن کہاں بھاگ رہے تھے؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ کیوں بھاگ رہے تھے؟ ایسا بھی کیا فیل ہونے کا غم کہ انسان گھر سے ہی بھاگ جائے؟’’
    حسن نے آبدیدہ ہوکر کہا:
    ‘‘
    میرا حال نہ پوچھو زلیخا کہ ستم رسیدہ ہوں، غم و الم رسیدہ ہوں۔ میری کہانی اور پھر وہ بھی میری ہی زبانی، مجھے آٹھ آٹھ آنسو رلائے گی اور طبیعت اس داستانِ غم کے بیان سے پریشان ہو جائے گی۔’’
    زلیخا نے ہمدردی سے حسن کو دیکھا۔ پھر بولی:
    ‘‘
    اچھا! بس اتنا ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں۔ چائے پیو اور مجھے بتاؤ کہ بھاگ کیوں رہے تھے؟’’
    بموجب ِہدایت حسن نے چائے کا گھونٹ بھرا اور زلیخا کو ایم آر آئی کی دہشت اور بنّے بھائی کی ہیبت کا تمام حال بلا کم و کاست کہہ سنایا۔
    زلیخا سوچتے ہوئے بولی:
    ‘‘
    ایم آر آئی سے ڈر گئے تم؟ چلو خیر یہ تو سمجھ میں آتا ہے۔ بہت سے لوگ جنہیں کلاسٹرو فوبیا ہوتا ہے، ایم آر آئی سے ڈرتے ہیں۔ تم بھی شاید اس لیے نہیں کرانا چاہتے ۔ لیکن یہ تو بتاؤ آخر تم بنّے بھائی سے اتنا ڈرتے کیوں ہو؟ وہ ذرا تمہیں ڈانٹتے ہیں اورتم ڈر کے مارے کانپنے لگ جاتے ہو ۔ اسی لیے وہ تمہیں اور بھی زیادہ bully کرتے ہیں۔’’
    ‘‘
    حسن نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:
    ‘‘
    اگر گوشِ ہوش سے سنو تو عرضِ حال کروں، اظہارِ بالا جمال کروں کہ مجھ بدبخت کو ماں باپ نے ہتھیلی کا چھالا بنا کر پالا تھا۔ ماں صدقے واری جاتی تھی۔ باپ پیروں تلے ہاتھ دھرتا تھا۔ میرے باپ نے کبھی ڈانٹنا تو درکنار، کبھی مجھے سخت نظر سے بھی نہ دیکھا تھا۔ جس نے کبھی کسی کی اونچی آواز نہ سنی ہو، وہ بنّے بھائی سے ڈرے گا نہیں تو اور کیا کرے گا؟’’
    حسن کی یہ بات سن کر زلیخا حیران ہوئی اور بے یقینی سے پوچھا:
    ‘‘
    تم بدر پھوپھا کی بات کررہے ہو؟’’
    حسن نے اثبات میں سر ہلا کر کہا:‘‘ہاں!’’
    زلیخا نے ترس کھانے والے انداز میں کہا:
    ‘‘
    تم آٹھ مہینے کے تھے جب بدر پھوپھا کا انتقال ہوا تھا۔ بھلا آٹھ مہینے کے بچے کو کوئی کیا ڈانٹتا؟’’
    لیکن حسن کچھ نہ سن رہا تھا۔ باپ کے ذکر نے اس کے دل میں آگ لگا دی تھی۔ وہ بظاہر وہاں موجود تھا مگر اس کا دل و دماغ اپنے زمانے و وقت میں پہنچ چکا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا:
    ‘‘
    افسوس میں نے تمام زندگی اپنے ماں باپ کو کوئی خوشی نہ دی، کچھ خدمت نہ کی۔ ایک ساحرہ کے ظلم سے والدِ ماجد کا ارتحال ہوا، مجھے صدمہ و قلق کمال ہوا۔ دو سال کے اندر اندر میں نے دولت یوں اڑائی کہ دیوالہ نکل گیا۔ میری ماں یہ غم نہ سہار سکی۔ والدِ ماجد کے دو سال بعد وہ بھی تیرِ مرگ کا نشانہ ہوئی۔ باغ ِارم کی سیر کو روانہ ہوئی۔ وا دردا، واحسرتا، ہائے ہائے۔’’
    زلیخا نے حیران پریشان ہوکر پوچھا:
    ‘‘
    کون سے باغ کی سیر کو روانہ ہوئیں؟’’
    حسن خیالوں سے باہر آیا، بولا:
    ‘‘
    باغ ِارم۔’’
    زلیخا پریشان ہوکر سوچ میں پڑ گئی۔ پھر بولی:
    ‘‘
    اس نام کا تو کوئی باغ لاہور میں نہیں۔’’
    حسن نے کہا:
    ‘‘
    لاہور کا نہیں، یہ جنت کا باغ ہے۔’’
    زلیخا ہکا بکا ہوکر بے ساختہ بولی:
    ‘‘
    ہیں؟ تو سیدھے سیدھے کیوں نہیں کہتے کہ ڈیتھ ہوگئی؟ اینی وے، پھوپھو کا انتقال تو پھوپھا کے مرنے کے سولہ سال بعد ہوا تھا، جب تم میٹرک میں تھے ۔ مجھے لگتا ہے تمہاری لانگ ٹرم میموری پہ اثر پڑا ہے۔ شاید فیل ہونے کی بھی یہی وجہ ہو۔’’
    یہ باتیں ہورہی تھیں کہ پھاٹک کھلا اور کنیز اندر آئی۔ حسن اور زلیخا کو وہاں بیٹھے دیکھا تو خوش ہوکر بولی:
    ‘‘
    واہ جی واہ، بڑی خوشبوئیں آرہی ہیں چائے کی۔ زلیخا باجی اور چائے ہے؟ میں پی لوں؟’’
    زلیخا بے ساختہ مسکرائی اور مسکراہٹ دبا کر ہلکی سی ڈانٹ یوں بتائی۔
    ‘‘
    ہر وقت کھانے پینے کی فکر میں نہ رہا کرو۔ ابھی کام شروع کرو۔ جب دادی جان کے لیے بناؤں گی، اس وقت پی لینا ۔’’
    کنیز نے منہ بنایا اور زلیخا کی پیالی کی طرف اشارہ کرکے بولی:
    ‘‘
    تو پھر یہی دے دیں اگر بچی ہے تو، سردی ہوگئی ہے، دو گھونٹ پی لوں گی تو ذرا طاقت آجائے گی۔’’
    زلیخا نے اپنی پیالی اسے تھما دی اور وہ وہیں کھڑے کھڑے سڑکے مار کر چائے پینے لگی۔ حسن نے اس سے پوچھا:
    ‘‘
    اے کنیزِ سراپا تمیز، ہر دل عزیز ، کیا تو نے میرا پیغام میری معشوقہ رنگیں ادا، دلربا کو دے دیا تھا؟’’
    کنیز نے چائے کا بڑا سا گھونٹ بھرا اور بولی:
    ‘‘
    ہاں دے دیا تھا۔’’
    حسن نے اشتیاق سے کہا:
    ‘‘
    پھر اس نے کیا کہا؟ بہت روئی ہوگی؟ رو رو کر جان کھوئی ہوگی؟ــــ’’
    کنیز بے ساختہ ہنسی اور بولی:
    ‘‘
    نہیں، سفید جوڑا ڈھونڈ رہی تھیں۔ آپ کے قلوں پر پہننے کے لیے۔’’
    یہ سن کر حسن از حد ملول و مغموم ہوا۔ زلیخا نے اس کے رنج کا یہ عالم دیکھا تو کنیز کو ڈانٹ کر بھگایا اور حسن سے کہا:
    ‘‘
    اس کی باتوں میں نہ آیا کرو، بڑی فتنہ لڑکی ہے۔’’ یہ کہہ کر اس کے ہاتھ سے پیالی پکڑی اور کہا:
    آؤ ،اندر آ کے ناشتہ کرو۔’’
    یہ کہہ کر زلیخا کرسی سے اٹھی۔ اٹھتے اٹھتے منہ سے کراہ نکل گئی۔ بے اختیار ہوکر پہلو تھام لیا۔ حسن پریشان ہوا، سخت پشیمان ہوا۔ گھبرا کر بولا:
    کیا زیادہ تکلیف ہے؟’’
    زلیخا نے پہلو پکڑے پکڑے کہا۔
    ‘‘
    ہاں! لگتا ہے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے گا۔ کچھ عرصے سے ویسے ہی پیٹ میں درد تھا، اب چوٹ بھی لگ گئی۔ کہیں اپینڈکس ہی نہ ہو، چیک کراناچاہیے۔’’ یہ کہہ کر زلیخا اندر چلی گئی۔

    ٭……٭……٭

  • عبادالرحمن

    عبادالرحمن

    عبادالرحمن 

    حریم الیاس

    (پہلا حصہ)

    پیش لفظ

    یہ کہانی ایک روشنی نامی لڑکی کے گرد گھوم رہی ہے جو والدہ کے انتقال کے بعد اپنے والد کے ساتھ اسلام آباد کے ایک چھوٹے سے علاقے میں رہتی اور اپنے ایک کالج فیلو اظفر کو پسند کرتی ہے۔ کہانی آگے اس وقت بڑھتی ہے جب روشنی ایک درس میںسورة الفرقانکے آخری رکوع کے حوالے سے بیان سنتی ہے جس میںعباد الرحمنیعنی رحمن کے بندوں کی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں اور وہ لاشعوری طور پر ان خصوصیات پر اظفر کو تصور کرنے لگتی ہے کہ جیسے وہ ان تمام خصوصیات کا حامل ہے۔

    بعدازاں جب اس کے والد روشنی کی بے حد ضد پر اس کی شادی اظفر سے کر دیتے ہیں تو وہ جو کہعبادالرحمنکا خاکہ ذہن میں لیے اظفر کی ساتھ زندگی گزار رہی ہوتی ہے، ناامید ہو جاتی ہے ۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ اظفر ویسا نہیں جیسا اس نے تصور کیا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ پسند کی شادی گھریلو حالت اور معاشی بدحالی کی وجہ سے زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ اسی دوران روشنی ایک بیٹی کی ماں بھی بن جاتی ہے اور اظفر کے اچھا بن جانے کی امید لیے اس شادی کو قائم رکھتی ہے، لیکن یہ شادی اس وقت ناکام ہوتی ہے جب اظفر گھریلو جھگڑے کے دوران غصے میں آکر روشنی پر تیزاب پھینک دیتا ہے اور وہ اس دنیا میں اپنی بیٹی اور تیزاب کے بعد آنے والے تکلیف دہ مراحل کا سامنا کرنے لیے اکیلی رہ جاتی ہے۔ روشنی اپنی بیٹی کی ساتھ تنہا سماج کی سوالیہ نگاہوں کا سامنا کرتی ہے۔

    جب وہ اس بات پر یقین کر لیتی ہے کے اس دنیا میں کوئی عبادالرحمن کے خانے میں فٹ نہیں آتا تب صحیح معنوں میں عبدالہادی اور اس کے والدین جیسے اچھے لوگ اس کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عبدالہادی نا صرف روشنی سے شادی کرتا ہے بلکہ اس کی بیٹی کو اچھا مستقبل بھی فراہم کرتا ہے۔ روشنی جو کہ ایک عرصے سے حالات اور معاشرے کی بدسلوکی کا شکار ہوتی ہے، تلخ بن جانے کے بہ جائے مثبت رہتی ہے اور اپنی بیٹی کی پرورش بھی مثبت انداز میں کرنے کے ساتھ ہمیشہ اس جملے کے ساتھ کرتی ہے کہ اسے دوسروں کے کام آنا ہے ہمیشہ اچھا بن کر رہنا ہے۔

    وہ اجالا کو سرجن بناتی ہے تاکہ وہ زندگی سے مایوس جلے ہوئے لوگوں کا علاج کرے اور انہیں وہ سہولیات دے جن سے اس وقت روشنی محروم رہی تھی۔ لیکن یہ کہانی اس وقت نیا موڑ لیتی ہے جب اجالا کے پاس اس کی (بہن (اظفر کی دوسری بیوی کی بیٹی ایسڈ اٹیک کا شکار ہو کر آتی ہے۔ یہ اجالا کی زندگی کا سب سے بدترین ایسڈ اٹیک کیس ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اس لڑکی سے بہت قریب ہوجاتی ہے اور حقیقت سے بے خبر اس کا دل جمعی سے علاج کرتی ہے یہاں تک کہ اس لڑکی کے باپ یعنی اپنے سگے باپ کو اصرار بھی کرتی ہے کہ وہ اس کے مجرم کی خلاف کیس لڑے اور وہ اس لڑائی میں اس کے ساتھ ہے۔ اس دوران اس پر حقیقت آشکار ہوجاتی ہے، لیکن وہ اپنے باپ اور اپنی بہن سے اپنی ماں کا بدلہ لینے کے بہ جائے اُن کا ساتھ دیتی ہے اور روشنی کی اچھی پرورش کا مان رکھتے ہوئے عبادالرحمن کے خاکے پر پورا اترتی ہے۔

    ٭….٭….٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۱

    سارہ قیوم

    بارہویں شب کا قصہ:

    داستانِ عبرت تو امان یعنی ہسپتال کا بیان:

    جب لیلائے شب زلفِ عنبر بارو مشک بو ُ کھولے ہوئے آئی، تو شہرزادِ شیریں زبان و سحر بیاں نے بعد شانِ نازنینی یوں کہانی سنائی کہ جب اس محرمِ راز و یارِ دم ساز نعیم نے رزلٹ آنے کی خبر سنائی تو اس صدمہء دلدوز سے نانی کا جگر پارہ ہوا، دل غم کا مارا ہوا ۔ایک چیخ مار کر بے ہوش ہو گئی، رنج و محن کے دوش بدوش ہو گئی۔
    زلیخا گھبرا کر نانی کے تلوے سہلانے لگی۔ حسن بھی گھبرا کر بھاگا اور نانی کے پاس بیٹھ کر ان کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ بے حد درمندی سے پکارا: ‘‘اے مادرِ مہربان! میرا دنیا میں بجز تیرے کوئی نہیں۔ تجھے یہ کیا ہو گیا؟ تیرے اس صدمۂ علالت و بیماری سے زندگی مجھے جنجال ہے۔ اب تیری طبع مبارک کا کیا حال ہے؟’’زلیخا نے جو یہ باتیں سنیں تو بددماغ ہو کر بولی: ‘‘کتنا کہتی تھی کہ کلاسز اٹینڈ کرو، آوارہ گردی بند کرو اور کچھ پڑھ لو بیٹھ کے۔ نہیں سنی نا میری بات؟ اب اگر ذرا کچھ غیرت ہے تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔’’
    حسن بے حد حیران ہوا، پریشان ہوا۔ گھبرا کر بولا: ‘‘وہ سب تو ٹھیک ہے مگر غلام اس قدر تو سن لے کہ خانہ زاد کا کیا قصور ہے اور اس قدر برہم کیوں مزاجِ حضور ہے؟ یوں تو غلام ہر دم گنہگار ہے مگر معلوم تو ہو کہ اب کس جرم میں سزاوار ہے؟’’
    یہ سن کر زلیخا کو اور غصہ آیا، ڈپٹ کر بولی: ‘‘بند کرو یہ ایکٹنگ۔ کچھ احساس ہے کتنی بڑی بات ہے امتحان میں ناکام ہونا؟ کنویں میں گئی انجینئرنگ۔ اب ساری زندگی سیلز مین بنے رہنا۔’’
    زلیخا تو یہ باتیں سناتی تھی اور ڈانٹتی تھی مگر حسن بدرالدین نے صرف ایک ہی جملہ سنا تھا۔جب اس نے یہ سنا کہ امتحان میں ناکام ہو گیا ہے تو اس کا رنگ فق ہو گیا، کلیجہ شق ہو گیا۔ دل کو اس زور کا دھچکا لگا کہ غش آگیا۔
    بیٹھا تو گرا، گرا تو بے ہوش۔
    ہوش آیا تو خود کو برآمدے میں نانی کے تخت پر لیٹا پایا۔ نانی کو ہوش آچکا تھا اور وہ حسن کے پاس بیٹھی زار زار روتی تھیں۔ پاس زلیخا پانی کا کٹورا ہاتھ میں لیے کھڑی تھی اور بے بسی سے کبھی حسن کو کبھی نانی کو دیکھتی تھی۔ نعیم کہیں غائب ہو چکا تھا۔
    حسن نے نانی کو آٹھ آٹھ آنسو روتے دیکھا تو حال زار ہوا، دل بے قرار ہوا۔ دل میں سوچا، یہ مجھ سے کیا حرکتِ ناپسندیدہ بیش آئی کہ امتحان میں فیل ہو گیا۔ کاش موت آتی، امتحان سے پہلے ہی جان نکل جاتی تو اس مصیبت سے چھوٹ جاتا، یہ خرابۂ دہشت خیز دیکھنے میں نہ آتا۔ میرے باپ نے مجھے اعلیٰ سے اعلیٰ مدرسوں میں پڑھایا، تجارت کا ہر گُر سکھایا اور آج میں نے باپ کے نام کو بٹہ لگایا۔
    باپ کی یاد آئی، حسن بدرالدین کی آنکھ بھرآئی۔ بے قرار ہو کر رونے لگا، اشکوں سے منہ دھونے لگا۔ نانی نے جو اس کو یوں روتے دیکھا تو تڑپ کر اس کا سر سینے سے لگا لیا اور روتے ہوئے بولی: ‘‘ماں صدقے، ماں قربان۔ نہ میرا بچہ، نہ رو۔ پاگل ہیں سارے پروفیسر جنہوں نے تجھے فیل کر دیا۔ میں تیرے کالج جاؤں گی، خود بات کروں گی پروفیسروں سے۔ بھلا ایسے کیسے فیل کر دیا انہوں نے تجھے؟ تو ُ فکر نہ کر، تیری نانی زندہ ہے ابھی۔’’
    نانی کی اس محبت کو دیکھ کر حسن کے دل میں اور بھی شرمندگی کا زور ہوا، مارے ندامت کے زندہ درگور ہوا۔ لڑکھڑاتا ہوا وہاں سے چلا اور اپنے کمرے میں آکر پڑ رہا۔
    شام تک ملال والم گراں بار ہوا، حسن مارے قلق کے بیمار ہوا۔ ہلہلا کر تاپ چڑھا اور حال ناگفتہ بہ ہو گیا۔ نانی پاس بیٹھی بلائیں لیتی تھی، دعائیں دیتی تھی۔ چپکے چپکے سسکیاں بھرتی تھی، آنسو پونچھتی تھی۔ اس خاتونِ بزرگ و مقدس میں حسن کو اپنی مادرِ مہربان نظر آتی تھی، اس کو یوں گلوگیر دیکھ کر رنج کے سبب سے حسن کی جان نکلی جاتی تھی۔ زلیخا بار بار آتی تھی، کبھی چائے تو کبھی دوا لاتی تھی۔ حسن کچھ نہ کھاتا تھا، بے ہوش ہوا جاتا تھا۔ صیدِمصیبت و ادبار تھا، اجل سے دوچار تھا۔
    صبح صبح چند آوازیں حسن کے کان میں پڑیں اور اسے ہوش آیا۔ آنکھیں کھولنے کا یارا نہ تھا، سو آنکھیں موندے چپکا پڑا رہا اور نانی اور زلیخا کی آوازیں سنتا رہا جو چپکے چپکے ہلکی آواز میں ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں۔
    حسن نے سنا ، زلیخا کہہ رہی تھی: ‘‘آپ کیوں اٹھ کر آگئیں دادی اماں؟ رات دو بجے تو سوئیں تھیں۔ اس طرح تو آپ بھی بیمار ہو جائیں گی۔ آپ آرام کریں، میں ہوں حسن کے پاس۔’’
    نانی نے گلوگیر آواز میں جواب دیا: ‘‘مجھ بوڑھی کا کیا آرام اور کیا بیماری۔ میری زندگی میرے بچے کو لگ جائے۔ دیکھو ایک رات میں کیا حال ہو گیا ہے بے چارے کا۔’’ اتنا کہہ کر نانی کی آواز بھر آئی اور وہ سسکیاں لے کر رونے لگی۔
    زلیخا نے ٹھنڈی سانس بھری اور بولی: ‘‘پتا نہیں کتنے سبجیکٹس میں فیل ہوا ہے، نعیم آئے تو اس سے پوچھوں۔ ویسے جس طرح اس نے خبر دی تھی، لگتا ہے تین سے زیادہ میں ہی فیل ہوا ہے۔’’
    نانی تڑپ کر بولیں: ‘‘اللہ نہ کرے۔ ہاتھ ٹوٹیں ان پروفیسروں کے جنہوں نے میرے حسن کو فیل کر دیا۔ اتنا محنتی لائق فائق بچہ ایسے کیسے فیل ہو سکتا ہے؟’’
    زلیخا کچھ گو مگو کے عالم میں دبی آواز میں بولی: ‘‘ہو بھی سکتا ہے۔’’
    نانی برا مان گئیں: ‘‘کیوں ہو سکتا ہے؟ دیکھتی نہیں تھی کتنا پڑھتا تھا؟’’

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱۰

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۰

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱۰

    (سارہ قیوم)

    گیارہویں رات

    حسن بدرالدین نے جو ارسلان نامی مہمان کو زلیخا کو تاکتے دیکھا تو چونکا، کان کھڑے ہوئے۔ دل میں سوچا یہ کیا ماجرائےعجیب ہے، داستانِ غریب ہے۔ کون ہے یہ شخص جو اس قدربدبخت، ناہنجار، بداعمال ،بدکردار اور بے ہودہ ہے کہ پرائی بہو بیٹیوں کو تاکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کوئی ہردیگی چمچہ ہے۔ اس کی یہ حرکت شریف زادوں اور اہلِ آبرو کی وضع کے خلاف ہے۔ یہ آنکھ لڑانے کی کوشش کون سا انصاف ہے؟ ہر چند کہ حسن کی غیرت بے حد جوش میں آتی تھی، بہت طیش کھاتی تھی مگر ممانی کے سامنے کچھ بولنا محال تھا، وہ بزرگ اور حسن خورد سال تھا۔
    کچھ دیر تو حسن بیٹھا برداشت کرتا رہا لیکن جب ارسلان کی گستاخی و شیخی مزاجی عقلِ سلیم سے منزلوں دور ہوئی تو حسن کی طبیعت بالکل نفور ہوئی اور وہ اٹھ کر باورچی خانے میں جا کھڑا ہوا اور ٹھنڈا پانی پی کر دماغ ٹھنڈا کرنے لگا۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ زلیخا بھی چائے کے برتن اٹھائے آ پہنچی۔
    ’’تم کیوں اٹھ کر آگئے؟‘‘ اس نے چائے کے برتن رکھتے ہوئے پوچھا۔
    حسن نے خفگی سے پوچھا: ’’یہ کون کندۂ ناتراش ہے، تمیزداری جس کی پاش پاش ہے؟‘‘
    زلیخا نے کہا: ’’ماما کا دور کا بھانجا ہے۔ تمہیں پسند نہیں آیا؟‘‘
    حسن ناراض ہو کر بولا: ’’مجھے اس کی صورت سے نفرت ہے۔ میری اور اس سفلہ منش، دشمنِ عقل کی کون صحبت ہے؟‘‘
    زلیخا حیران ہو کر بولی: ’’ارے ارے! اتنا غصہ کیوں؟‘‘
    حسن نے کہا: ’’یہ شخص بدتمیز ہے۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تمہیں دیکھتا تھا۔ ذرا شرم نہ کرتا تھا۔ اب تم ہی بتاؤ کہ اس کی صورت سے بندہ کیوں نہ بے زار ہو، اس کی صحبت کیوں کرنہ ناگوار ہو؟‘‘
    زلیخا ہنسنے لگی اور بولی: ’’.Look who is talking، یہ تم کہہ رہے ہو جو ہر راہ جاتی لڑکی پر فدا ہو جاتے ہو؟ اور وہ کرن والا معاملہ تو بڑا recent ہے۔‘‘
    حسن سینہ پھلا کر بولا: ’’میں جو کرتا ہوں ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہوں۔ چھپ کر وار نہیں کرتا ہوں، عقد کا ارادہ رکھتا ہوں۔ شکر ہے کہ میرا ظاہر و باطن یکساں ہے، نہ خرقۂ سالوس دربر، نہ عمامۂ زور برسر۔ لیکن اس شخص کا کیا ارادہ ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔‘‘
    یہ سن کر زلیخا سوچ میں پڑ گئی۔ پھر بولی: ’’سمجھ تو مجھے بھی نہیں آتا لیکن صاف بتاؤں مجھے یہ اچھا لگتا ہے۔ میں سوچتی ہوں بنّے بھائی کے لائے اوٹ پٹانگ رشتوں سے بہتر ہے اسی کو consider کر لوں۔ ماما بھی اس کے حق میں ہیں۔ پڑھا لکھا بھی ہے، نوکری بھی اچھی ہے اور پھر۔۔۔‘‘ زلیخا ہچکچائی۔ ’’اور پھر مجھ میں interested بھی ہے۔ اسے میرے موٹے ہونے سے اور سانولے ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔‘‘حسن نے یہ بات سنی تو کہا: ’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے، پڑھے لکھے کو فارسی کیا ہے۔ لگے ہاتھوں اس سے پوچھ لو کہ عشق کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے، کیوں عقد کا ارادہ محال ہے؟ دم کے دم میں معلوم ہو جائے گا کہ دلبر ہے یا بے وفا ہے، دل میں خلوص ہے یا جفا ہے؟‘‘
    زلیخا سوچ میں پڑ گئی، پھر بولی: ’’you know what? میرا خیال ہے تم ٹھیک کہتے ہو یہ مجھے فون پر اچھے اچھے میسجز بھیجتا ہے، کبھی کافی کی دعوت دیتا ہے کبھی سینما کی۔ لیکن اس سے آگے نہیں بڑھتا۔ میرا خیال ہے اب مجھے صاف صاف اس سے پوچھ لینا چاہیے کہ اس کا کیا ارادہ ہے۔ لیکن کیسے پوچھوں؟ گھر پر سب لوگ ہوتے ہیں اور باہر میں اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتی۔‘‘
    حسن نے کہا: ’’میں پوچھ لیتا ہوں۔ دیکھتے ہیں کیا رنگ لاتی ہے گلہری۔‘‘
    زلیخا نے سوچتے ہوئے کہا: ’’اس نے مجھے امپوریم مال میں فلم دیکھنے کی دعوت دی ہے۔ تم ساتھ چلو تو میں چلتی ہوں۔‘‘
    اور یوں طے پایا کہ زلیخا اور حسن اگلے اتوار اکٹھے فلم دیکھنے جائیں گے، ارسلان سے دل کی بات اگلوائیں گے۔

    *۔۔۔*۔۔۔*

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۸

    از: سارہ قیوم

    نویں رات

    جانا حسن بدرالدین کا محبوبہ کے مکان پر

    رات کو جب سلطانِ داراجاہ، گیتی پناہ کو گزشتہ شب کا قصہء دلچسپ یاد آیا تو فوراً شہرزاد کو طلب فرمایا اور کہا، اے طوطی شکر فشانِ خوش بیانی و عندلیب ہزار داستانِ شاخسارِ نکتہ دانی، تیری قصہ خوانی سے میرا دل بدرجہء غائت مسرور ہے اور تیرا کلام اور بیانِ شیریں مشہورِ نزدیک و دور ہے۔ شہرزاد جھک کر آداب بجا لائی اور یوں عرض پرداز ہوئی کہ حسن بدرالدین نے دروازہ کھول کر جو ایک حسینہ خوبرو، عربدہ جُو، قوس ابرو کو دیکھا تو دیکھتے ہی شیفتہ و والا ہوا۔ عشق کا بول بالا ہوا۔ ابھی اس کے حسن و جمال کی دیدمیں محو تھا کہ وہ نازنین اٹھلا کر بولی: ’’اللہ حسن بھائی، اب رستہ دیں گے یا یہیں کھڑا رکھیں گے؟‘‘
    آواز کیا تھی مندر کی گھنٹیاں تھیں۔ حسن بدرالدین عش عش کرنے لگا، جامے میں پھولا نہ سمایا۔ دل چاہا اسی وقت ہاتھ تھام لے اور اظہارِ عشق کرے اور کہے۔ ’’پیاری، میں تجھ پر اپنی جان نثار کرتا ہوں، تہہِ دل سے تجھ سے پیار کرتا ہوں۔ اے زہرہ جمال، ناہید نغمہ، پروی وش وپری رُو۔ آئیلویُولُو، آئیلویُولُو۔‘‘ لیکن قبل اس کے کہ ہاتھ پکڑ پاتا اور اپنے ارادے کو عملی جامہ پہناتا، پیچھے سے زلیخا کی آواز آئی۔ ’’کون آیا ہے حسن؟‘‘
    اس پری رُو حسینہ نے نزاکت سے حسن کے پیچھے جھانک کر صحن میں کھڑی زلیخا کو دیکھا اور اٹھلا کر بولی: ’’ہائے زلیخا۔ ہاؤ آر یو؟‘‘
    زلیخا بھی مسکرائی اور بولی۔ ’’آؤ کرن۔ آج صبح صبح کیسے؟‘‘
    وہ حسینہ مہ جبینہ کہ نامِ نامی جس کا کرن تھا، ناز سے بولی: ’’آج پریکٹیکل ہے میرا ،اور اوورآل نہیں مل رہا۔ میں نے سوچا تم سے پوچھ لوں۔ تمہارے پاس تو پری میڈیکل کا رکھا ہو گا نا۔ اب تو ضرورت نہیں ہو گی تمہیں؟‘‘
    زلیخا کے چہرے کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔ آہستہ سے بولی: ’’ہاں رکھا ہے۔ تم بیٹھو میں لا کر دیتی ہوں۔‘‘
    حسن نے بسر و چشم راستہ دیا اور کرن اپنی پتلی کمر لچکاتی اندر آئی اور تخت پر بیٹھ گئی۔ پھر اس کی نظر صحن میں کھڑے حسن پر پڑی، دونوں کی آنکھ لڑی۔ کرن مسکرائی، حسن کی خوب بن آئی۔ بے جھجک اس کے پاس تخت پر جا بیٹھا۔ وہ ناز سے کھسک کر دور ہوئی تو یہ اور آگے بڑھا۔ اُس نے ٹھنک کر منہ بنایا، اِس نے ہاتھ پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا، ابھی یہ لگاوٹ بازی جاری تھی کہ کنیز وہاں بلائے درماں کی طرح آٹپکی۔ حسن کو محبوبہ پری وش کے ساتھ بازو بھڑائے بیٹھے دیکھا تو آنکھیں مٹکا کر بولی: ’’آپ یہاں کیا کر رہے ہیں حسن بھائی؟‘‘
    اس مداخلتِ بے جا پر حسن بہت جھلایا۔ بڑا غصہ آیا۔ ڈانٹ کر بولا: ’’دور ہو۔ تیرا یہاں کیا کام ہے؟ یہ کنیز بڑی بے لگام ہے۔‘‘
    یہ ڈانٹ سن کر کنیز کو غصہ آیا۔ چمک کر بولی: ’’مجھ پہ کیوں ناراض ہو رہے ہیں؟ مجھے پتا ہے کن چکروں میں ہیں آپ۔ میرے سے بنا کے رکھیں ورنہ کام نہیں بننے دوں گی آپ کا۔‘‘
    اسی وقت زلیخا باہر آئی اور ہاتھ میں پکڑا سفید رنگ کا جبہ کرن کے ہاتھ میں تھمایا اور کہا: ’’لو ،کرن۔ تم رکھ لو یہ اوورآل۔ اب مجھے اس کی ضرورت نہیں رہی۔‘‘

  • شریکِ حیات قسط ۶

    شریکِ حیات قسط ۶

    شریکِ حیات قسط ۶

    باب ششم

    نیلے آسمان سے سفیدی غروب تک گھٹ جاتی تھی۔

    یہ ستاروں کی آمد کے اوقات تھے۔

    جب دھیرے دھیرے زمین والوں کی نظر کے کھیل سے اوجھل آنکھ بچاتے کھیل نچاتے، ستارے ایک ساتھ ہی نمودار ہونے لگتے تھے۔

    یہ وقت تھا گرمیوں کے زوال کا۔

    یا پھر موسم کی آنکھ مچولی کا کہ دن میں فصلیں پکاتا سورج گرمی کے شرارے ایسے زمین پر پھینکتا جیسے سرکس باز، تماش گر منہ میں تیل چھڑک کر آگ کے شرارے منہ سے نکالتا ہو۔

    اور غروب تک ایسے ہوجاتاجیسا زمین پر آگ کی یہ ہولی کبھی نہ چلی ہو۔ یہ درمیانہ موسم ناچتا کھیلتا، تیز ہوا کے جھکڑ چلاتا، جھومتا جھامتا ہوائوں پر کھیلتا غروب کے بعد آنے والی رات کی چادر بچھاکر ہر اک گرماہٹ کو ٹھنڈا کردیتا تھا۔

    ایسے میں دیہات کے سادہ لوح لوگ، آدمی، عورتیں، بچے اس وقت صحنوں میں چارپائیاں ڈالے مٹی سے لیپ کیے صحنوں میںچارپائیوں پر طویل تکیے رکھ کر سو لیتے۔ دن کی تھکن کو گھٹانے کی کوشش میں کھیت، کھلیان، پڑوس، محلہ کھیتی، کھلیان، کمہار، لوہار، زر، زمیندار سب کی کچہریاںسجنے لگتیں۔

    صحنوں میں عورتیں بیٹھیں گیت گنگناتیں یا بھرت، کڑھائی، کپڑا، سلائی،دھلائی، بُنائی، مال مویشیوں کے چارے باڑے کا انتظام ہوتا پھر چولہے پھونکتے رات کا دال دلیہ ساگ روٹی مکئی مکھن چاول گڑشیرہ بنانے بیٹھتیں۔ ساتھ کچے چولہے کے گرد کچی اینٹوں سے بنی چوکی پر دو تین چار عورتیں چوکڑا مارے کوئی پیاز چھیلتے، کوئی چولہے میں لکڑیاں جھونکتے، کوئی سبزی ساگ صاف کرتے، کوئی چاول چنتے ہوئے باتیں کرتی رہتیں۔ اور اسی طرح سندھو اورسوہائی اماں کی نظر سے ہٹ کر کانوں میں پھسپھساتے ہنستے ہنساتے پیاز، مٹر، گوبھی، پالک، دال، دلیہ، ساگ، چاول پکاتے، ہنڈیا چڑھاتے بہت سی باتیں کرتیں یعنی آج کی نئی کہانی کیا ہے؟

    سندھو جو نت نئی کتابی کہانیاں پڑھ ڈالتی سوہائی کو فیض یاب کردیتی اور اسی طرح آج بھی ہوا۔

    ”تجھے پتا ہے سوہائی سارنگ اور سندھو والی کُل ملا کے پنج کہانیاں ہیں۔

    پہلی میں سارنگ بت تراش اور سندھو دیوی۔

    سارنگ کے ہاتھ کاٹ لیے جاتے ہیں۔ سندھو دیوی کی قربانی ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ سندھو سارنگ نے نہیں ملنا۔

    دوسری داستان، سارنگ بنا گھڑ سوار اور سندھو ہائے سوہائی مت پوچھ دونوں کے بیچ کی وہی جدائی، وہی مات۔

    آخری سندھو سارنگ وہ جب پاکستان آزاد ہوا۔

    سندھو رہ گئی زمین کے اک ٹکڑ پرہند میں اور سارنگ رہ گیا پاکستان۔دونوں کے بیچ لمبی سرحد۔

    پہاڑ ،پربت۔

    سندھو افسردہ۔

    پر سندھو تُو اور ادا سارنگ جو مل گئے ۔سوہائی کہتی۔ 

    مگر سندھو کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کچھ۔ کچھ ایسا جو سوہائی کبھی نہ سمجھ سکتی۔ وہ بھلا اسے کیا سمجھاتی کہ پگلی یہ ملنا بھی کوئی ملنا ہے۔ وہ یہ سب سوچتی ہی رہ جاتی کہتی کچھ نا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۸

    شریکِ حیات قسط ۸

    شریکِ حیات قسط ۸

     باب ہشتم

    وہی ان ہونی جو ہونی سے ذرا پہلے ہوجاتی ہے۔

    اور پھر صورت حال آپ کے سامنے الٹے تختے کی طرح آجاتی ہے، بچھ جاتی ہے، نہیں پتا چلتا کہ دھرتی اُلٹ گئی یا پھر آسمان بدل گیا یا پھر چاند سو گیا۔

    روشنی بجھ گئی ہے رات کی یا پھر سویرا نہیں ہوا۔ دھرتی گول گھوم گئی ہے یا پھر مرکز نہیں رہا۔

    سب پلٹ جاتا ہے۔کھیل پلٹ جاتا ہے۔تختہ الٹ جاتا ہے۔چابی گھما دی جاتی ہے۔

    چابی ہی گھما دی گئی تھی، اسٹیج پر جیسے کٹھ پتیلوں کے کردار تیزی سے بدلتے گئے۔

    جو جس کا اصل کردار ہو اسے سونپا گیا۔ تیزی سے جیسے چیزوں کا ملمع اُترنے لگا یا پھر ارادوں کا روپ بدل گیا۔

    جو بھی ہوا، حیات گردش میں آگئی۔

    ایک دن کی شام نے بس لمحے کا کھیل کھیلا تھا۔

    سواری الٹی، سمجھو زندگی پلٹ گئی، ہاتھ سے اسٹیرئنگ چھوٹا، مانو اختیارات گئے سفر کے، ایک دھکا لگا۔

    حادثہ، جو جان دار کو بے جان کردے۔

    حادثہ، جو چلنے والے کو معذور کر دے۔

    حادثہ، وہی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔

    حادثہ، جسے عام زبان میں ان ہونی کہا جاتا ہے۔

    اور سارنگ کے ساتھ وہی انہونی ہوئی تھی جس دن وہ سواری سے سڑک پر نہ آسکا۔

    جس دن اس سے اختیار چھوٹا۔

    جس دن معمولی سی بے احتیاطی نے اسے کچل دیا اور اس کے ساتھ وہ ہوگیا۔

    جسے عام فہم زبان میں لوگ بُرا کہتے ہیں۔اس کے ساتھ برا ہوگیا۔

    ایک روڈ ایکسڈنٹ نے زندگی کی شکل بگاڑ دی، وہ بدل نہ سکا۔

    کہتے ہیں تعلقات پنیری کی طرح ہوتے ہیں۔ پودا لگاتے ہیں، بیج اُگاتے ہیں، پھر انہیں پانی آپس کا پیار دیتا ہے۔ خوب صورت محبت کرتی ہے اور جڑ بھروسہ مضبوط کرتی ہے۔

    وہ سوچتی رہی ہم نے شاید پنیری ہی لگائی تھی اور ہم اسے پروان نہ چڑھا سکے۔

    ایک تعلق جس کی بنیاد خاندانی دباؤ تھا۔

    ایک تعلق جس کی بنیاد کمزوری تھی، مجبوری تھی اور اس تعلق کو دیکھا جائے تو صرف مجبوری اور کمزوری نے ہی جوڑے رکھا تھا۔

    جب کمزوری اور مجبوری ختم ہوجاتی ہے تب تعلق بے جوڑ سا بے معنی سا دکھنے لگتا ہے۔

    جب پیار اور بھروسے کی بات آتی ہے تو سب کچھ بھر بھری مٹی کی طرح ڈھے جاتا ہے۔

    صرف اور صرف سوال اٹھتے ہیں۔

    اور وہ سوال بے جواب ہی مر جاتے یا دبا دیے جاتے ہیں۔ تعلق پھر اسی نہج پر آکھڑا تھا، یعنی جہاں سے دنیائیں دو ہوجاتی ہیں۔ جہاں سے زنجیر کاہُک کھلنے لگتا ہے۔ احساس کی زنجیر ٹوٹنے لگتی ہے اور بکھرنے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔

    اس نے پھر سے اسی ہمت کو جمع کرکے کہا تھا۔ ”سارنگ اب وقت آگیا ہے شاید، مجھے اب چلے جانا چاہیے۔ ایک وہ وقت تھا جب آپ پر فرائض تھے۔ آپ نے مکمل کیے بہادری سے، میں اپنی باری کھیلے بغیر ہی جارہی تھی۔مجھے تقدیر نے پھر روک دیا۔اس بار میرا امتحان تھا۔میں پاس ہوئی یا فیل، یہ آپ جانتے ہیںیا میرا اللہ جانتا ہے،بس میں بھاگی نہیں میدان چھوڑ کر،بس میں نے رستہ پکڑ لیا، میں لوٹ گئی۔میرے لیے انہیں رستوں کے دروازے اب دوبارہ کھل گئے ہیں،مجھے بلاتے ہیں، شاید مجھے اب جانا ہے۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔آپ دوبارہ اپنے مقام پر آگئے ہیں۔سب کچھ وہی ہے سارنگ،تکلیف دہ وقت گزر چکا ہے۔ مشکل ہی تھا مگر گزر گیا۔ وہی گھر، کھڑکی، دروازہ، وہی رستہ، وہی لوگ۔” اسے لگا چابی گھومنا رُک چکی ہے۔ وہ شل ہوکر تھکن سے گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی تھی۔

    ”میں تھک چکی ہوں۔” یہ دبی آواز میں کہا گیا جملہ تھا جو سارنگ کے کانوں نے سن لیا اور اس کی آنکھ کے گوشے میں، ایک بے نام سا رشک،ایک آنسو جو دل کی خاموشی ٹوٹنے پر آنکھوں میں آجاتا ہے۔ وہی آنسو بے وجہ سا یا بہت وجہ سا پل، لمحے، بھروسے اور محبتیں، دوست اور لوگ؟ سب سوال۔

    اس نے سوچا شیبا سے جاکر پوچھے یا پھر سندھیا سے،مگر وہ پہلا سوال خود سے کر بیٹھا تھا۔اسی لیے خطا کھا گیا۔

    پتّا ایک بار اس کے سامنے پھینکا گیا تھا۔چال اسے چلنی تھی۔جوابی پتّا اسے پھینکنا تھا۔

    گیند قسمت نے ایک بار پھر اس کی جیب میں ڈال دی تھی۔

    پھینکنے پر چھکّا ہوتا تو بھی مار پڑتی۔

    آؤٹ کرتا تو جیت اس کی۔ گیند ایک ہی تھی اور باری آخری۔ سارا کھیل بدل جانا تھا۔ میدان منتظر تھا۔

    ٭…٭…٭