Tag: سلسلہ وار ناول

  • شریکِ حیات قسط ۷

    شریکِ حیات قسط ۷

    شریکِ حیات قسط ۷

    باب ہفتم

    نیلے آسمان سے سفیدی غروب تک گھٹ جاتی تھی۔

    یہ ستاروں کی آمد کے اوقات تھے۔

    جب دھیرے دھیرے زمین والوں کی نظر کے کھیل سے اوجھل آنکھ بچاتے کھیل نچاتے، ستارے ایک ساتھ ہی نمودار ہونے لگتے تھے۔

    یہ وقت تھا گرمیوں کے زوال کا۔

    یا پھر موسم کی آنکھ مچولی کا کہ دن میں فصلیں پکاتا سورج گرمی کے شرارے ایسے زمین پر پھینکتا جیسے سرکس باز، تماش گر منہ میں تیل چھڑک کر آگ کے شرارے منہ سے نکالتا ہو۔

    اور غروب تک ایسے ہوجاتاجیسا زمین پر آگ کی یہ ہولی کبھی نہ چلی ہو۔ یہ درمیانہ موسم ناچتا کھیلتا، تیز ہوا کے جھکڑ چلاتا، جھومتا جھامتا ہوائوں پر کھیلتا غروب کے بعد آنے والی رات کی چادر بچھاکر ہر اک گرماہٹ کو ٹھنڈا کردیتا تھا۔

    ایسے میں دیہات کے سادہ لوح لوگ، آدمی، عورتیں، بچے اس وقت صحنوں میں چارپائیاں ڈالے مٹی سے لیپ کیے صحنوں میںچارپائیوں پر طویل تکیے رکھ کر سو لیتے۔ دن کی تھکن کو گھٹانے کی کوشش میں کھیت، کھلیان، پڑوس، محلہ کھیتی، کھلیان، کمہار، لوہار، زر، زمیندار سب کی کچہریاںسجنے لگتیں۔

    صحنوں میں عورتیں بیٹھیں گیت گنگناتیں یا بھرت، کڑھائی، کپڑا، سلائی،دھلائی، بُنائی، مال مویشیوں کے چارے باڑے کا انتظام ہوتا پھر چولہے پھونکتے رات کا دال دلیہ ساگ روٹی مکئی مکھن چاول گڑشیرہ بنانے بیٹھتیں۔ ساتھ کچے چولہے کے گرد کچی اینٹوں سے بنی چوکی پر دو تین چار عورتیں چوکڑا مارے کوئی پیاز چھیلتے، کوئی چولہے میں لکڑیاں جھونکتے، کوئی سبزی ساگ صاف کرتے، کوئی چاول چنتے ہوئے باتیں کرتی رہتیں۔ اور اسی طرح سندھو اورسوہائی اماں کی نظر سے ہٹ کر کانوں میں پھسپھساتے ہنستے ہنساتے پیاز، مٹر، گوبھی، پالک، دال، دلیہ، ساگ، چاول پکاتے، ہنڈیا چڑھاتے بہت سی باتیں کرتیں یعنی آج کی نئی کہانی کیا ہے؟

    سندھو جو نت نئی کتابی کہانیاں پڑھ ڈالتی سوہائی کو فیض یاب کردیتی اور اسی طرح آج بھی ہوا۔

    ”تجھے پتا ہے سوہائی سارنگ اور سندھو والی کُل ملا کے پنج کہانیاں ہیں۔

    پہلی میں سارنگ بت تراش اور سندھو دیوی۔

    سارنگ کے ہاتھ کاٹ لیے جاتے ہیں۔ سندھو دیوی کی قربانی ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ سندھو سارنگ نے نہیں ملنا۔

    دوسری داستان، سارنگ بنا گھڑ سوار اور سندھو ہائے سوہائی مت پوچھ دونوں کے بیچ کی وہی جدائی، وہی مات۔

    آخری سندھو سارنگ وہ جب پاکستان آزاد ہوا۔

    سندھو رہ گئی زمین کے اک ٹکڑ پرہند میں اور سارنگ رہ گیا پاکستان۔دونوں کے بیچ لمبی سرحد۔

    پہاڑ ،پربت۔

    سندھو افسردہ۔

    پر سندھو تُو اور ادا سارنگ جو مل گئے ۔سوہائی کہتی۔ 

    مگر سندھو کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کچھ۔ کچھ ایسا جو سوہائی کبھی نہ سمجھ سکتی۔ وہ بھلا اسے کیا سمجھاتی کہ پگلی یہ ملنا بھی کوئی ملنا ہے۔ وہ یہ سب سوچتی ہی رہ جاتی کہتی کچھ نا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۵

    شریکِ حیات قسط ۵

    شریکِ حیات قسط ۵

    باب پنجم 

     

    کسی نے سنا؟

    مولا بخش مر گیا۔

    اس کے مرنے کا یقین کون کرے گا؟

    چارپائی پر خاموش پڑا بے فکر سا وجود، ہلکا پھلکا سا، کوئی فکر نہ فاقہ۔

    اوہ مولا بخش تو اپنی ساری فکریں یہاں ہی چھوڑ گیا۔

    اب کہنے سننے کو کچھ نہ تھا۔ کہا نہ تھا کہ بندہ خاک ہے، ایک دن خاک میں مل جانا ہے۔مٹی کو مٹی میں دفن ہونے دے۔

    ”سبھاگی اب دل بجھ گیا ہے۔تیرا مولا بخش تھک گیا ہے۔” چار چھ دن پہلے بخارمیں تپتے وجود پرجب اس نے ہاتھ رکھا تومولا بخش کا جسم تپ رہا تھا۔

    ”لگتا ہے بخار تیرے سر چڑھ گیا ہے سندھیا کے ابا۔ سٹھیا گیا ہے تو، دماغ پھر گیا ہے تیرا، کیا اُلٹی سیدھی ہانکے جا رہا ہے۔” وہ بگڑاُٹھی۔

    ”اب نہ بگڑیں، نہ کاوڑ جیں (خفا ہونا) نہ بُرا بھلا کہیں۔ اپنے سارے نخرے اپنے مولا بخش تک رکھیں مگر خوش رہیں۔”

    ”توچریا ہو گیا ہے مولا بخش۔ مت ماری گئی ہے تیری۔”

    ” او مت نہیں مری میری سندھو کی ماں۔ دعا کر مت کبھی نہ مرے، مت مرنے سے پہلے مولا بخش مر جائے۔ ”

    ”اللہ نہ کرے مولا بخش۔ بس بھی کردے۔”

    ”تجھے پتا ہے سندھو کی ماں! مٹی کا پتلا جب زمین پر چل چل کر تھک جاتا ہے، جب اُسے دانہ اُگانے کی سکت نہ رہے تو سمجھو دانہ پانی ختم ہوا، اُٹھ گیا۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ کھیتوں کے کاموں سے بے زار ہوا،جی چرایا یا یہ کہا کہ تھک گیا ہوں۔”

    پہلی بار کہا تولمحہ بھرکے لیے توسبھاگی نے بھی بھری آنکھوں سے دیکھتے ہی دل تھام لیا۔” ایسا نہ کہو مولا بخش تو ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟سندھو کی خوشیاں کون دیکھے گا بھلا ؟چریا ہواہے کیا؟ ”

    ”چریا نہیں سیاٹا ہوں۔ تیرا مولا بخش سیاٹا ہے۔ او سبھاگی دیکھ، مٹی کو مٹی سے بڑا قرار آتا ہے۔ تیرا مولا بخش راج کرے گا، وہاں سکھی رہے گا۔پھر دیکھ زمین کے اندر کھیتی کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، بغیر کھیتی کے اناج دیتی ہے۔ وہاں شاید اناج کی بھی حاجت اور ضرورت نہ ہو۔”

    ”دیکھ تو نے آج مجھے رُلا دیا۔ اپنی سبھاگی کو رُلا دیا ہے تو نے۔” اُٹھ کر جیجی کے پاس گئی۔ ”جیجی ماں کوئی دم درود؟ کوئی تسبیح صلوٰة مولا بخش سٹھیا گیا ہے۔ بخار سر چڑھ گیا ہے، الٹی سیدھی ہانکے جا رہا ہے۔ چپ ہی نہیں ہوتا ۔”

    جیجی اٹھ کر مولا بخش کے کمرے تک آئیں، سر پہ ہاتھ رکھا۔ ”بخار تو اب کم ہے اس کا۔”

    ”لے تو کیا گالھ کر رہا ہے مولا بخش، سبھاگی کو رلایا ہو اہے آج تو نے۔”

    ”جیجی ماںگود میں سر رکھنے دے پھر بتاتا ہوں۔”

    جیجی ماں نے گود میں پناہ دی۔ مولا بخش نے سر ٹیکا۔

    ”او دیکھ جیجی ماں!

    دنیا کے سارے مرد روکھے۔

    ساری مائیاں سوکھیں۔

    شوہر سارے نکمے۔

    بیویاں سگھڑ سوہنڑیں۔

    مولا بخش کوجا سبھاگی چاندی۔”

    ”اس کی باتوں کا اعتبار نہ کریں جیجی ماں۔یہ پل میں کچھ تو پل میں کچھ کہتا ہے۔”

    ”یہ کہہ کیا رہا تھا تو ہی بتا دے۔”

    مولا بخش نے آنکھوں کے اشارے سے اُسے کچھ کہنے سے روکا۔ یہ نہیں کہ مولابخش کا ڈر تھا بلکہ بات ہی ایسی تھی، جو وہ منہ سے نہیں کہہ سکتی تھی۔کہتے ہوئے سو دفعہ ڈرتی تھی۔ کبھی کہتے ہیں منہ کا کہا بھی سُن لیا جاتا ہے۔

    وہ چپ ہو گئی خاموش رہی کچھ نہ بولی۔جیجی کو تسلی ہوئی کہ چلو بخار تھا جو ہلکا ہو گیا ہے۔ اب سب ٹھیک ہے۔

    سب ٹھیک ہے کا کھیل کس قدر جان لیوا ہوتا ہے کبھی کبھار۔ وہ جب انسان سب ٹھیک ہے اپنی زبان سے کہتا ہے اور دل و دماغ نفی کرتے ہیں تو لگ پتا جاتا ہے۔

    دھڑکا لگ جاتا ہے اور پھر تب تک لگا رہتا ہے، جب تک ہاتھ دھڑکن پر رہے۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

     باب چہارم

    ”سارنگ سندھ میںمحبوب کو کہتے ہیں۔” بڑا مان تھا اُس کے لہجے میں۔

    ”تمہیں خوشی ہوتی ہو گی بڑا خوب صورت سا سمبل ہے۔”

    ”مجھے محبوب بننے سے زیادہ ایک کامیاب انسان بننے کی جستجو ہے۔” اس کا لہجہ بہت سادہ تھا۔

    ”تم نے محبوب ہونے کا ذائقہ چکھا نہیں اس لیے کہہ رہے ہو۔” جواب میں کسک کا احساس تھا۔

    وہ فراز سلیم تھا، جنوبی پنجاب سے اس کا تعلق تھا۔ وہ بھی اسپیشلائزیشن کے لیے آیاتھا۔

    مگر اسے بھی اسپیشلائزیشن سے زیادہ موسیقی میں دل چسپی تھی۔ گائیک بننا اس کا خواب تھا، مگر اس کے گلے کے سُر نے اس کی اس خواہش کا گلا بُری طرح سے گھونٹ دیا تھا۔اس کے بعد اسے طبلہ بجانے میں دل چسپی محسوس ہوئی تو اس نے طبلہ بجانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ وہ ڈرم بھی بہت اچھا بجاتا تھا۔

    کل کے کنسرٹ میں وہ بھی شریک تھا، جو اپنی خواہش کی ناکامی کے بعد ماں کی خواہش پر ڈاکٹر بن کر اسپیشلائزیشن کرنے یہاں آیاتھا اور پہلے ہی سمسٹر میں بُری طرح سے پھنس گیا تھا۔یہی ٹینشن تھی جس نے اس کی راتوں کی نیند اُڑا دی تھی اور وہ ایک رات کو بہار کرنے کے لیے سارنگ کے ساتھ کنسرٹ کا حصہ بن گیا تھا اور سارنگ کی بجائی بانسری اور گائیک کے لفظ جیسے اس کے دل پر اثر کر رہے تھے۔

    جب مائیک تھامنے سے پہلے سنگر نے سارنگ کی طرف دھن چھیڑنے کا اشارہ کیا۔سب سے پہلی دُھن بانسری کی دُھن تھی اور کیا لَے تھی جیسے دل ہچکولے کھاتا ہوا تھر کے ریگستان میں سہج سہج کر چلتے ہوئے اونٹوں کی چالوں جیسا ہو جائے۔

    بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہوئی تھی۔سسی جسے عام سندھی میں سسوئی کہا جاتا تھا۔ وہ سسی جو بھنبھور کی رہنے والی تھی۔گیت میں سسی کا درد شاعر نے پوری طرح سمو دیا تھا۔ گیت آواز، سر، لے، دھن اور ساز کے ساتھ بجتا ہوا سماعتوں میں ایک جادو جگا گیا، لوک داستانی رنگ چڑھ گیا۔

    دوسرے دن شام ڈھلے ٹریننگ سینٹر سے چھٹی ہونے کے بعد وہ پورا گروپ فراز سلیم، سارنگ، پوجا، صنم اور شیبا سمیت کیفے کے باہر بیرونی پارک میں کل کے گیت، سر اور کہانی پر بات کر رہا تھا۔ جب بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہو کر سارنگ کے محبوب پر ختم ہو گئی۔

    اور کبھی وہیں سے شروع ہونی تھی۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۳

    شریکِ حیات قسط ۳

    شریکِ حیات قسط ۳

    باب سوم

     

    زندگی میں وہ سب نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔ اگر ہوتا ہے تو کم از کم اس طرح نہیں ہوتا جس طرح ہم چاہتے ہیںاور وہ سب ہوجاتا ہے جو ہم نہیں چاہتے۔

    وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔ ”سندھیا تم کیا چاہتی ہو؟”

    ”مجھے نہیں پتا ادا سارنگ، مگر کم از کم یہ سب نہیں جو ہورہا ہے۔ اچھا نہیں لگ رہا مجھے یہ سب،بہت برا لگ رہا ہے۔”

    اسے معلوم تھا وہ کنفیوزڈ ہے، سہمی ہوئی ہے اور فکر مند ہے۔ وہ اسے ایسی صورتِ حال میں مضبوط دیکھنا چاہتا تھا حالاںکہ اسے معلوم تھا وہ کس قدر کمزور اور معصوم سی لڑکی ہے۔ اس کے حوالے سے گھر بھر میں باتیں ہورہی تھیں۔ایک کے بعد ایک ایشو چل رہا تھا۔ ایسے میں اس کا سہما ہوا رہنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔

    پورے دو دن خاموشی کی نظر ہوگئے تھے۔

    ایسا لگ رہا تھا جیسے گھر میںراقاص گھوم گیا ہو ۔ مائوں نے بچوں کو ڈرانے کے لیے جو خیالی بھوت کہانیاں بنائیں تھیں، راقاص بھی ان ہی میں سے کسی ایک کہانی کا کردار تھا جسے بدشگونی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

    گھر میں مایوسی پھیلی کام بگڑنے لگے، یا مایوسی حد درجہ بڑھ گئی تو سمجھو گھر میں راقاص گھوم گیا۔

    سبھاگی ایسے وقتوں میں شور شرابے سے کام لے لیتی تھی اور جیجی افسردہ ہوجاتیں۔ حسن بخش غصہ اور مولابخش کو چپ لگ جاتی تھی۔اسے چپ کیا لگتی مانو گھر میں راقاص گھوم جاتا۔ بیٹی کا رشتہ بہ مشکل طے ہوا اور ہوکر سوالیہ نشان بن گیا کتنی بڑی بات تھی۔

    بیٹیوں سے نہیں ان کے نصیبوں سے ڈر لگتا ہے۔اسے جیجی کی بات یاد آگئی۔

    نصیب اس قدر مہنگا کیوں ہوتا ہے کہ اسے پیسے سے بھی نہیں خریدا جاسکتا۔ پیسے سے خریدا جاتا تو میں خود کو بیچ کر سندھو کا نصیب خرید لیتاوہ مایوس تھا،افسردہ تھا۔

    حسن بپھرا ہوا تھا۔ صادق کی خوب آئو بھگت کی تھی فون پر۔ اس نے فون بند کرکے رکھا ہوا تھا۔ حیدرآباد جارہا تھا تو جیجی نے روک دیا کہ جاکر تماشا نہ لگا شہر میں، کچھ دن ٹھہر جا کرتے ہیں۔ تب تک بھرائی آگئی روتی پیٹتی کہ بیٹے نے بغیر بتائے شادی کر رکھی تھی، وہ کیا کرسکتی تھی۔مگر اب گھر کی بات ہے، خاندان بھر میں پتا لگ گیا ہے کہ سندھیا کو صادق کی پوتی (دوپٹہ اوڑھنی) پہنائی ہے۔ ونی اور بنی (لڑکی اور فصل) عزت والا نہیں چھوڑتا۔ تم سندھیا میرے بل بوتے پر دو، عیش کرے گی۔ گائوں میں گھر کی مالکن بن کر رہے گی۔چابی تو اس کے پاس رہے گی نا۔ وہ موئی شبراتن کب تک، کہاں رہتی ہیں ایسی لڑکیاں گھر بسا کر۔مجھے تو میری سندھیا عزیز ہے۔

  • شریکِ حیات – قسط ۲

    شریکِ حیات – قسط ۲

    شریکِ حیات . قسط ۲

    باب دوم

    جتنا مشکل سوال تھا، اس سے کہیں زیادہ مشکل جواب لے کر آیا۔

    کتنا مشکل ہوتاہے کسی کو یہ یقین دلاناکہ وہ سچ بول رہا ہے۔ کسی کو چھوڑنے سے پہلے یہ جھوٹ کہنا کہ چھوڑ کر نہیں جائوںگا ہمیشہ تمہارے پاس رہوں گا۔

    اسے بھی یہی مشکل پیش آئی جب اس نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا:”میں باہر جائوںگا مگر کچھ عرصے کے لیے ، صرف کام کے لیے جارہا ہوں ابا۔”

    ”چھوڑنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ ہی تو ہوتا ہے ۔تو یہاں رہ کر بھی کام کرسکتا ہے سارنگ، تجھے پتا ہے نا سب کو کس قدر تیرا انتظار تھا۔ سب تیرے لیے ترسے ہوئے تھے اور پھر گوٹھ کو تیری کتنی ضرورت ہے۔” وہ جو سوچ رہے تھے وہ سب کچھ سا رنگ سے کہنا چاہتے تھے مگر مجبور تھے۔ 

    سارنگ کی ہلکی مسکراہٹ اب بھی تفکر میں نہ بدلتی تو کب بدلتی۔ ” فیصلوں سے پہلے سوچا جاتا ہے، تم نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے سوچا نہیں ۔”

    ”میں نے بہت سوچ کر یہ فیصلہ کیا ہے ابا سائیں اپنے اور آپ سب کے لیے۔”

    ”ہمارے مستقبل کے لیے ہم سب کے لیے۔جہاں اتنی ساری محنتیں کی ہیں، یہاں تک تو آگیا ہوں نا آپ کی دعا سے۔” 

    ”بہت لمبا انتظار سارنگ۔ بہت انتظار کیا ہے ہم سب نے پر اب نہیں۔ اب ڈسپنسری بسا،اپنے گوٹھ کی خدمت کر، اپنے لوگوں کو دیکھ۔ دیکھ کیسے سارے آس لگائے بیٹھے ہیں اور پھر ہم، ہم سب جوتارے گن گن کر راتیں کاٹتے ہیں تیرے لیے۔ ایک دفعہ پھر سے یہ انتظار بڑا اوکھا ہوجائے گا، اوّلاہوجائے گا۔”

    سارنگ کی چپ کو چپ لگ گئی تھی، اک خاموشی روح کے ساتھ جڑ گئی۔ ابا کا لہجہ دیوار بن گیا تھا سخت دیوار!

    اپنے لوگ، اُن کی محبتیں، ڈسپنسری، یہ سب اپنی جگہ، مگر ابا تھا، جس کا حکم ٹالنا دشوار تھا۔

    چاچا نے سارنگ کے چہرے کو دیکھا اور چہرے پہ چھائی دھند کو دیکھا۔ 

    دھند میں گم ہوتی ہوئی امید کو دیکھا، جب اس کی آنکھیں کچھ مرجھائیں تو وہ اپنی چارپائی سے اٹھا، چائے کی پیالی رکھ دی اور اس کے برابر آکھڑا ہوا۔

    ”سارنگ تو جائے گا،تو ضرور جائے گا۔ تو جو چاہتا ہے وہ کر، تجھے جو صحیح لگتا ہے، وہ ضروری ہی ہوگا۔”

    حسن بخش نے خفگی اور احتجاجی انداز میں مولابخش کو دیکھا اور بولا۔ ”بغیر صلاح مشورے کے تونے کب سے فیصلوں پر مہر لگانا شروع کردی ہے؟” حسن بخش کے لہجے میں غصہ تھا۔

    ”اوبھا! او ادا!ٹھنڈا ہو،ادھر آ۔” کندھے پر بازو پھیلا کے اپنے ساتھ لگایا۔

    ”بہتے پانی کو روکا نہیں جاتا میاں۔ رستہ دیا جاتا ہے۔اسے روک نہیں، اسے رستہ دے۔وہ تیرے ہی کنارے آلگے گا۔” آہستہ سے اُکسایا۔

    ”او نہیں مولابخش۔ یار بڑا انتظار کیا ہے میں نے اب بہت مشکل ہے۔”

    ”اب کچھ مشکل نہیں ہے بھائو، مشکل تب تھا۔”

    ”اب تو آسان ہے،اب سارنگ ہمارے سامنے ڈاکٹر بن کر آیا ہے۔”

    سارنگ نے سستی سے چائے اپنی ٹرے میں رکھ دی، ایک طرف ابا کی ضد اور دوسری طرف اس کا مستقبل تھا۔ سمجھ نہ آیا ابا کو مستقبل بنائے یا مستقبل کو ابا۔ ابھی یہ نہیں معلوم تھا کہ ابا مستقبل بن سکتا ہے یامستقبل ابا۔ دونوں کا اگر ٹکرائو ہو تو بڑا مشکل وقت آجائے گااور دونوں کا ٹکرائو ہونا ہی تھا۔

    مولابخش حسن کو اپنے ساتھ لگاکر آگے بڑھ گیا۔ غالباً وہ خفا ہوکر کمرے کی طرف جانے لگا تھا۔ ”او دیکھ بھائو حسن۔ ہماری خوشی تھی اسے ڈاکٹر بنانا اور اس نے ہماری خوشی پر اپنی جان مٹا دی۔اب اس کی خوشی ہے باہر جانا، تو جان لگادے پر انکار نہ کر۔

  • شریکِ حیات أ قسط ۱

    شریکِ حیات أ قسط ۱

    شریکِ حیات أ قسط ۱

    باب اوّل

    خواب دیکھنے کی عمر کچی ہوتی ہے۔

    سندھیا تو کتنی پیاری ہے!

    جو کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے کبوتروں کے پر گنتی ہے، پنجرہ کھول دیتی ہے، کبوتر اڑ جاتے ہیں ایک آواز کے ساتھ۔

    مرغیوں کا ڈربہ کھول دیتی ہے، وہ صحن بھر میں پھرتی ہیں، ٹاں ٹاں کرتی ہوئی، تم سے پیار کرتی ہیں، تمہیں اپنی ماں سمجھتی ہیں۔

    ہائے تم کتنی اچھی ہو۔ پریوں کی کہانیاں پڑھتی ہو اور پیارے پیارے خواب دیکھتی ہو۔

    کھڑکی میں بیٹھ کر اپنے شہزادے کا انتظار کرتی ہو۔سندھیا تم تو سچ میں رانی ہو۔

    تیرے لیے شہزادہ آئے گا دور سے۔

    ”پیاری سندھیا !تم کتنی اچھی ہو۔” کھڑکی میں بیٹھی چڑیا کہتی ہے اور پیاری سندھیا کے چہرے پر گلابیاں بکھر جاتی ہیں ۔ 

    ٭…٭…٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    قصہ آئیلویُولُو کا

    آٹھویں رات:

    شہرزاد نے اپنی سحربیانی اور شیریں زبانی سے سات راتوں تک تو خدا خدا کر کے قتل سے جان بچائی۔ جب آٹھویں رات آئی تو شاہِ کیواں جاہ کو آداب بجا لائی اور یوں سلسلہ سخن کو شروع کیا کہ راویانِ طلیق اللسان نے بیان کیا ہے کہ حسن بدرالدین کو بدقسمتی اور خوبی طالع نے زار زار رلایا اور دیر تک پھوٹ پھوٹ کر رونا آیا۔ آخر کہا، لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ وہ قادرِ مطلق ہے اور اس کے مرضی کے بغیر کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں۔ میں نے لاکھ جتن کیے کہ احوالِ مراد داستانِ جگر خراش لوگوں کو سناؤں، اپنی مصیبت کا کوئی حل پاؤں مگر کسی نے میری بات نہ سنی۔ سب بے سود ہے، انجام مراد و کشود کا بہر نوع مفقود ہے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یہیں زندگانی گزاروں اور جنابِ باری کا شکر بجا لاؤں کہ بے شک اس زمانہء دہشت خیز میں پہنچایا پر ملک الموت سے نہ ملوایا۔ اب صابر شاکر رہوں اور مردانہ وار زندگی کی مشکلوں کا مقابلہ کروں۔ ہمت مرداں مددِ خدا۔

    خود سے یہ عہد کر کے حسن بدرالدین اس گھر میں رہنے لگا۔ وہ گھر جہاں محبت کرنے والی نانی تھی، ایک مسکین مرنجاں مرنج ماموں تھا، ایک بد مزاج و ترش کلام ممانی تھی۔ شعلہ رخسار و گلعذار زلیخا تھی اور بھولا بھالا منا تھا۔ ان سب پر سوا ممانی کا پچھلے شوہر سے بیٹا، غصہ ور اور ہتھ چھٹ بنا تھا۔ یہ انسان تو ویسے ہی تھے جیسے سب انسان ہوتے ہیں لیکن زندگی ویسی نہ تھی جیسی زمانہ ازل سے انسان گزارتا آیا ہے۔ قدم قدم پر جادو کے کرشمے تھے، نئی نئی چیزیں تھیں، ان کے نئے نئے نام تھے، عجب تعجب خیز کام تھے۔ اچانک بجلیاں جل اٹھتی تھیں، بیٹھے بیٹھے گل ہو جاتی تھیں اور گھر والے واپڈا نامی کسی شخص کو کوسنے لگتے تھے۔ دیوار پر لگے چوکھٹے میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ہنگامہ بپا رہتا تھا۔ نانی جان فرمائش کرتیں۔ ’’ٹی۔ وی لگاؤ۔‘‘ اور چوکھٹا، آئینہ جہاں نما بن جاتا۔ کبھی پریاں رقص کرتیں تو کبھی پیرانِ فرتوت، عجب کرتوت، لڑتے جھگڑتے نظر آتے۔ ہر چھوٹا بڑا اپنی اپنی تختیاں اٹھائے پھرتا جسے وہ فون کہتے تھے۔ اس عجوبہ روزگار تختی پر بیٹھے بٹھائے کوئی دورہ پڑتا تھا اور گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں۔ ادھر گھنٹی بجی، ادھر اسے کان سے لگایا اور مصروف گفتگو ہوئے۔ حسن کا فون بھی بجتا تھا مگر وہ ڈر کر اسے چھپا دیتا تھا، ہاتھ میں نہ لیتا تھا۔ یہ اور ایسی کئی اور چیزیں تھیں جن کی وجہ سے حسن حیران و بے قرار ہوتا تھا اور مثلِ زلف پریشان روزگار ہوتا تھا۔
    پہلا جھٹکا اسے اس وقت لگا جب معلوم ہوا کہ جمعہ کو چھٹی نہیں ہوتی، اتوار کی چھٹی کا رواج ہے۔ حسن حیران ہوا اور کہا لاحول ولا قوۃ ! یہ مسلمانوں کا راج ہے؟ دوسرا جھٹکا تب لگا جب معلوم ہوا کہ اب ملک کا نام ہندوستان نہیں پاکستان ہے۔ حسن کو یہ نام پسند آیا، مگر یہ راز سمجھ میں نہ آیا۔ تیسرا اور سب سے بڑا جھٹکا اسے تب لگا جب چھٹی کے روز ممانی نے اسے حکم دیا کہ مارکیٹ سے انڈے ڈبل روٹی لے آئے۔ یہ کہہ کر ایک کاغذ کا نیلے رنگ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھمایا، اسے پھاٹک کا رستہ دکھایا۔ حسن گھبرایا اور بولا ’’یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ مارکیٹ کیا بلا ہے؟ اس کاغذ کے ٹکڑے کا میں کیا کروں؟ کچھ رقم دیجئے کہ جا کر انڈے لاؤں۔‘‘
    یہ سن کر ممانی ناراض ہوئی اور بولی۔ ’’میرا تیرا کوئی مذاق نہیں۔ سیدھی طرح جاتا ہے یا اتاروں جوتی؟‘‘
    ناچار حسن بدرالدین وہاں سے بہ دل اندوہ گیں خستہ و حزیں نکل کھڑا ہوا اور سراسیمہ و پریشان سڑک پر چلنے لگا۔
    اچانک پیچھے سے آواز آئی۔ ’’حسن بھائی حسن بھائی رکیں۔‘‘ مڑا تو دیکھا منا بھاگتا ہوا آرہا ہے۔ وہ حسن کے قریب آیا اور پھولی سانس کے ساتھ بولا۔ ’’میں نے بھی مارکیٹ جانا ہے۔ آج میچ ہے میرا، بال نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر حسن کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۶

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۶

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۶

    چھٹی رات:

    چھٹی رات آئی تو شہرزاد نے کہانی یوں سنائی کہ حسن بدر الدین نے خود کو ایف سی کالج میں چار درویشوں کی مجلس میں پایا تھا، انہوں نے حسن کو سفوف نشہ آمیز پلایا تھا۔ لیکن پھر چوتھے درویش نے اپنی کہانی سنائی اور حسن کے ہوش و حواس نے سکندری دکھائی۔ گزرا زمانہ یاد آیا، حسن بدر الدین بہت پچھتایا۔ سگریٹ پھینک دی اور زار زار رویا۔ بقیہ درویش، کہ اب نشے میں تھے، اس کے ساتھ مل کر روئے، آخر ایک درویش قلندر نے کہا۔ ’’وہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن ذرا اس سگریٹ کے پیسے دیتے جاؤ۔‘‘
    حسن نے آنسو پونچھے اور کہا۔ ’’دولت پیسہ سب غرقاب ہوا، میں خانہ خراب ہوا۔ اب درہم و دینار کیا اور روپیہ پیسہ کیا، میرے پا س پھوٹی کوڑی نہیں ۔ مفلس و بے زرہوں، یہاں ہوں پر دربدر ہوں۔‘‘
    اس پر درویش نے تیوری چڑھائی، چشم خشم دکھائی اور بولا۔ ’’پیسے نہیں تھے تو پہلے کہنا تھا، سگریٹ پینے کیوں بیٹھ گیا؟ خیر ہم یاروں کے یار ہیں۔ ادھار کرسکتے ہیں۔ کل پانچ سو روپے لادینا۔ اور ہاں، آئندہ پیسے نہ ہوئے تو مال نہیں ملے گا۔‘‘
    حسن ناراض ہوا اور بولا۔ ’’بے وقوف کسی اور کو بنانا۔ کیا سونا پیس کر دیا تھا اس نلکی میں؟ اور سونا بھی دیا تھا تو کیا؟ ایک روپیہ تولہ سونا تو میں اپنے ہاتھوں سے خریدتاآیا ہوں۔ اب زیادہ سے زیادہ پانچ روپیہ تولہ ہو گیا ہوگا۔ تم پانچ سو روپے کس چیز کے لیتے ہو؟ اگر دوستی روپے پیسے پر ہی ہے تو ایسی دوستی کو دور سے سلام ہے۔ یہ محبت برائے نام ہے۔‘‘
    چوتھے درویش نے خوش ہوکر باقی درویشوں سے پوچھا۔ ’’آج کیا پلایا ہے اس کو؟ بالکل ٹن ہوگیا ہے۔ مجھے بھی دو، میں بھی ٹرائی کروں۔‘‘
    نعیم نے فکر مند ہوکر کہا۔ ’’آج صبح سے ہی ایسی باتیں کررہا ہے۔ لگتا ہے گھر سے ہی کوئی سستا نشہ کرکے آیا تھا۔‘‘ پھر حسن سے بولا۔ ’’دیکھ بھائی، مفت خوری کا کوئی سین نہیں ہے یہاں۔ پیسے لے کے آیا کر، خود بھی پیا کر، ہمیں بھی پلایا کر۔‘‘
    ان کی یہ گفتگو سنی تو ان کی صحبت سے حسن کی طبیعت نفور ہوئی، پچھلی پاس داشت ومحبت سب کافور ہوئی۔ اچھل کرکھڑا ہوا اور ناراض ہوکر بولا۔ ’’بس میں سمجھا، تم سب مطلب کے یارہو، بے حد شریر قلندرانِ چہار ہو۔ ایسی دوستی سے خدا بچائے۔ اب بندہ روانہ ہوتا ہے، دیوانگی سے ہاتھ چھڑا، فرزانہ ہوتا ہے۔‘‘
    یہ کہہ کرپاؤں پٹختا وہاں سے چلا۔ نعیم اٹھ کر اس کے پیچھے دوڑا اور اس کا بازو پکڑ کر بولا۔
    ’’ٹھہر، میں چھوڑ آتا ہوں۔ پچھلی دفعہ بھی چار سگریٹیں پی کر گیا تھا اور ایکسیڈنٹ کرا بیٹھا تھا۔ موٹر سائیکل ٹوٹل ہوگئی تھی۔ اب ویگن میں جائے گا تو اس حال میں کسی بس کے نیچے آجائے گا۔‘‘
    حسن نے بازو چھڑانے کی کوشش کی مگر اس نے زور سے پکڑ لیا اور گھسیٹ کر لے گیا۔
    تھوڑی دیر بعد حسن بدر الدین نعیم کے ساتھ ایک لوہے کے ویسے ہی گھوڑے پر سوار سڑک پر رواں دواں تھا جیسا گھر میں ماموں نے چلایا تھا۔ ویسے ہی بے شمار گھوڑے اور چرخے اور بغیر گھوڑے کی گاڑیاں سڑک پر چلتی تھیں۔ ان کے شور سے کان پر پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ دھوئیں اور گرد و غبار کا عجب حال تھا، سانس لینا محال تھا ۔ مصیبت میں گرفتار تھا، زندگی کشتی تھی اور یہ منجدھار تھا۔
    خدا خدا کرکے راستہ کٹا اور نعیم حسن بدر الدین کو ماڈل ٹاؤن کے اس مکان کے پھاٹک پر اتار کر پھٹ پھٹ کرتا چلا گیا۔ حسن اندر آیا تو نانی کو گھر کے بڑے کمرے میں بیٹھا پایا۔ اکیلی بیٹھی مٹر چھیلتی تھی۔ حسن پاس جا بیٹھا اور ادب سے سلا م کیا۔ نانی نے واری صدقے ہوکر جواب دیا۔ پھر کہنے لگی۔ ’’آج جلدی آگیا میرے چاند۔ آج پڑھائی نہیں کرنی تھی دوستوں کے ساتھ؟‘‘ پھر جواب کا انتظارکئے بغیر بولی ۔ ’’سارا دن تیری فکر رہی۔ وہ کمبخت بنّا، ہاتھ ٹوٹیں اس کے، اس زور سے مارا تھا میرے لعل کو کہ مجھے لگا چوٹ تجھے نہیں مجھے لگی ہے۔‘‘
    اس شفقت و محبت سے حسن کا دل بھر آیا۔ بے اختیار ہوکر اس نے نانی کی گود میں سررکھ دیا۔ نانی پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔ بلائیں لینے لگی۔
    حسن نے پوچھا۔ ’’یہ بنّے بھائی کون ہیں؟‘‘

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۵

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۵

     

    چھٹی رات قصہ چہار درویش: عروسِ پری چہرہ و پری رُو، نسرینِ تن و قوسِ اَبرُو ملکہء شہرزاد یوں داستاں سرا ہوئی کہ اے سلطانِ جم مرتبہ، قدرِ قدرت، سنجر منزلت، کہانی حسن بدرالدین کی نے یہ موڑ لیا تھا کہ شہرِ مینو سواد لاہور کے ایک مقام بنامِ ایف سی کالج میں حسن بدر الدین کو قسمت نے پہنچایا تھا اور وہاں اس نے ایک سنسنان باغ بنامِ بوٹینکل گارڈن میں خود کو چار قلندر درویشوں کی مجلس میں پایا تھا۔ وہاں انہوں نے کسی سفوف کی بھری نلکی سلگا کر حسن کے منہ سے لگائی تھی، آتشِ شوق بھڑکائی تھی۔ اس کے کش لگانے سے ایسا سرور ہوا کہ رنج و غم دور ہوا۔ حسن نے سوچا خدائی نعمت ملی، دن کیا ہے، روزِ عید ہے۔ یہ جگہ خانہء امید ہے۔ اس راح روح ، کیمیا ئے فتوح کی دو تین مزید نلکیاں مل جائیں تو دنیا باغِ ارم بن جائے گی۔ ان چار درویشوں کی محبت نے اس کے دل میں جگہ پائی اور حسن بدر الدین کی خوب بن آئی۔پوچھا ’’تم کون ہو اور کہاں سے آتے ہو؟ یہاں کیونکر آنا ہوا اور کہاں جاتے ہو؟ مجھ سے اپنا سب حال بیان کرو اورکُل راز عیاں کرو، کہ تم مجھے دل و جان سے زیادہ عزیز ہو۔ اتنی ہی دیر میں معلوم ہوگیا کہ خوش سلیقہ و باتمیز ہو۔‘‘ یہ محبت بھری تقریر سن کر پہلے درویش نے جو حسن کے دائیں ہاتھ بیٹھا تھا اور جس کی چگی داڑھی کے بال سوئیوں کی طرح کھڑے تھے، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا:’’ہم میں سے ہر ایک کی ایک ایک کہانی ہے ۔ایسی عجیب و غریب کہ پہلے کبھی دیکھی نہ سنی۔ تمہارا اصرار ہے تو سناتے ہیں۔ وقت اچھا کٹ جائے گا۔ ویسے بھی میرے موبائل کی بیٹری لو ہے۔ اب کرنے کو کچھ نہیں۔ تو لو سنو میری کہانی۔‘‘

    درد بھری کہانی، پہلے درویش کی زبانی:

    پہلے درویش نے اپنی داستان یوں سنائی کہ میں ایک کلرک کا بیٹا ہوں۔ اللہ کی طرف سے آئے تو بندہ جھیل جائے، جو انسان خود اپنے اوپر مصیبت ڈالے تو ا س کا کیا علاج؟ اللہ کی طر ف سے سات پشتوں نے غربت کے علاوہ کسی چیز کا منہ نہ دیکھا تھا لیکن قسمت نے موقع دیا اور میرے ابو سرکاری محکمے میں کلرک لگ گئے۔ لیکن ابو کو ایمانداری کی لاعلاج بیماری لگ گئی۔ جس گھر میں ہن برسن سکتا تھا، وہاں برسات کے موسم میں چھت ٹپکنے کے علاوہ کچھ نہ برسا۔ سونے پر سہاگہ، میرے ماں باپ نے مجھے انجینئر بنانے کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔ میں اور میری بہن دو ہی اولادیں تھیں لہٰذا سب ارمانوں کا نشانہ میں ہی بنا۔ بہن کو سرکاری سکول میں ڈالا گیا اور مجھے انگریزی سکول میں۔ میرے خرچے پورے کرنے کے لئے میری ماں نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کردیا۔ اٹھتے بیٹھتے مجھے یہ سننے کو ملتا تھا کہ یہ ساری محنت و مشقت ا س لیے کی جارہی ہے تاکہ میں انجینئر بنوں اور نہ صر ف خاندان کا نام روشن ہو بلکہ سارے دکھ دلدردور ہوں اور بہن کی اچھی سی جگہ شادی ہوسکے۔ اور میں ؟ اب آپ سے کیا چھپانا یارو، مجھے انجینئرنگ میں خاک دلچسپی نہیں۔ انٹرسٹ ہے تو صرف ایک چیز میں: کھانااور صرف کھانا۔۔۔پکانا، پیش کرنا، سجانا، کھانا۔۔۔ مجھے کھانے سے متعلق ہر چیز سے عشق ہے۔ اپنے باپ سے چھپ کر تین محلے چھوڑ کر ایک تندو پر نوکری کرلی۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں، میں مزے سے تندور جاتا ، روٹیاں لگاتا اور وہاں کھانا پکتے دیکھتاا ور سیکھتا۔ ایک دن میرے باپ نے مجھے دیکھ لیا۔ اس دن میرا باپ بہت رویا۔ ماں بھی روئی، بہن بھی روئی۔ صرف میں نہیں رویا۔ میں نے ماں باپ سے صاف کہہ دیا کہ مجھے کمپیوٹروں سے نفرت ہے اور کھانے سے عشق۔ میں کمپیوٹر انجینئر نہیں شیف بننا چاہتا ہوں۔ صدمے سے میرے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ۔ وہ دن اور آج کا دن میں ان کے سامنے کھانا پکانے کا نام نہیں لیتا۔ ویسے یوٹیوب پر میں نے بہت سے کوکنگ چینل سبسکرائب کررکھے ہیں۔لیکن انہیں دیکھ دیکھ کربس آہیں بھرتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔ زبردستی کی انجینئرنگ گلے پڑی ہے ، نہ رکھی جاتی ہے نہ چھوڑی جاتی ہے۔ مزے کی با ت یہ کہ میری بہن کمپیوٹروں کی دیوانی ہے لیکن اس کو زبردستی کھانے پکانے پر لگایا جاتا ہے کہ آگے کام آئے گا۔ وہ میری سب کتابیں پڑھتی ہے ، میری اسائنمنٹس وہی بناکر دیتی ہے۔ اسی کی وجہ سے میں اب تک پاس ہوتا آیا ہوں۔ لیکن میرا دل مر گیا ہے۔ جب یہ سوچتا ہوں کہ ساری زندگی کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر گزارنی پڑے گی تو خودکشی کرنے کو دل چاہتا ہے۔ پھر اپنے بوڑھے باپ اور بیمار ماں کا خیال آتا ہے تو رک جاتا ہوں۔ بس دوستو! اس غم کو بھلانے کے لئے ڈرگزلیتا ہوں۔ پھر یہ غم ستاتا ہے کہ ان ڈرگز کا خرچہ میری ماں اپنی ہڈیاں توڑ کر دے رہی ہے تو خود سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ اس دکھ کو بھلانے کے لئے مزید ڈرگز لیتا ہوں۔ اور یوں یہ شیطانی چکر چلتا رہتا ہے جس میں میں پھنس گیا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ مردِ درویش رونے لگا، طنابِ ضبط کھونے لگا۔ بصد دقت آنسو پونچھے، اپنی نلکی کا آخری کش لگایا اور کہا۔ ’’یار ایک سگریٹ اور دینا۔‘‘پھر دوسرے درویش کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ ’’اب تم اپنی داستان سناؤ۔‘‘

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۴

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۴

    الف لیلہ دو ہزار اٹھارہ داستان ‘‘ 

    چوتھی رات

    دیکھنا حسن بدر الدین کا جادو کے کرشمے اور ملنا صغیر و کبیر سے: 

    چوتھی رات ہوئی تو بادشاہ شہرزاد کے پاس آیا اور حکم دیا کہ کل کی کہانی کا بقیہ حصہ ہم کو سناؤ اور دو گھڑی ہمارا دل بہلاؤ۔ وہ رشکِ پری بہ صد نازِ دلبری بولی کہ بادشاہ کی خوشی ہرطرح منظور ہے۔ ہم اس میں راضی ہیں جو مرضیءحضور ہے۔ خدا جہاں پناہ کو خضروالیاس کی عمر عطا فرمائے اور دشمنوں کی ایک تدبیر نہ چلنے پائے۔
    نہ کیوں ہو تیرے دستور العمل سے شادماں عالم
    کرم کرنا تیری عادت، جفا سے تجھ کو بیزاری
    مقابل میں ترے خواہانِ زینت ہواگر دشمن
    کرے زخموں سے تیری تیغ اس کے تن پہ گلکاری
    اس تقریرِ خوشامدانہ کے بعد شہرزاد یوں گلفشاں ہوئی، زمزہ سنج بیاں ہوئی کہ جب وہ مردِ مسلمان، خوش آواز و خوش الحان حسن بدر الدین کے گلے لگ کے زارزار رونے لگا، اشکوں سے منہ دھونے لگا تو حسن کا دل جو پہلے ہی رنج والم سے معمور تھا، مزید بھر آیا اور وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ بہت دیر تک دونوں روتے رہے۔ جب گریہ وزاری اور آہ و بے قراری سے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو حسن نے پوچھا۔ ’’آپ کون ہیں اور زار زار کیوں روتے ہیں؟ کیا میری طرح آپ کے بھی نصیب سوتے ہیں؟‘‘
    یہ سن کر اس مردِ خوش گلو نے سرد آہ بھری اور کہا ۔’’کیا پوچھتے ہو بیٹا۔ یہ تو وہ سوال ہے جو میں آج تک خود سے پوچھتا آیا ہوں۔ میں کون ہوں، کہاں ہوں ، جہاں ہوں وہاں کیوں ہوں۔ بلھیا کی جاناں میں کون؟‘‘
    یہ تقریرِ دلپذیر سن کر حسن مزید چکرایا، کچھ سمجھ نہ پایا۔ اس مردِ مسلمان نے جو حسن کے چہرے پر ایک رنگ آتے ایک جاتے دیکھا تو ہمدردی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا۔ ’’خیر، مجھے چھوڑو اپنی سناؤ ۔ سب خیر تو ہے۔ اتنی رات گئے کیوں جاگتے ہو؟ کیا آج پھر ممانی نے کچھ کہہ دیا؟‘‘
    حسن نے بصدِ عاجزی اپنا حال عرض کیا اور کہا۔ ’’ایک زنِ مکارہ کہ ساحرہ بدانجام تھی، نے میرے باپ کو بزورِ جادو بکرابنایا، ملکِ عدم کو پہنچایا۔ مجھے زمانے کی گردش میں پھینکا اور میں یہاں آن پہنچا۔ اب کیونکر یہاں سے جاؤں کہ بستہ ء تقدیر ہوں۔ سلسلہ ء قضا میں اسیر ہوں۔ یہ بڑی طویل کہانی ہے، خلاصہ یہ کہ موت کی مہمانی ہے۔‘‘
    وہ مردِ بزرگ غور سے حسن کی داستان سنتا تھا، بولا ’’اچھا اچھا، کالج میں ڈرامہ کررہے ہو؟ خوب، بہت خوب ۔ اچھے ڈائیلاگ ہیں۔ کس کی تحریر ہے؟ آغا حشر؟ چلو اسی بہانے کچھ کتابیں ادب کی پڑھوگے۔ ذہن وسیع ہوگا۔ آج کل کتابوں کو کون پوچھتا ہے۔ دن بھر دکان پر بیٹھا مکھیاں مارتا ہوں اور کتابوں سے گرد جھاڑتا ہوں۔ افسوس کیسے کیسے گوہرِ نایاب گاہکوں کے انتظار میں بوسیدہ ہورہے ہیں۔‘‘
    یہ کہہ کر وہ مردِ پیر آبدیدہ ہوا، اپنی خوش کلامی سے حسن کا پسندیدہ ہوا۔ حسن بدر الدین کہ سودا گر بچہ تھا، دکان کا نا م سن کر کان کھڑے ہوئے، پوچھا۔ ’’کتابوں کی دکان ہے آپ کی؟‘‘
    وہ بولا۔ ’’لیجیے سنیے اب افسانہء فرصت مجھ سے۔
    آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
    ٹھیک کہتے ہو۔ کتابیں نہیں کہنا چاہیے۔ زروجواہرہیں، لعل و گوہر ہیں، بزرگوں کے نسخے ہیں۔ لیکن کوئی ان کا قدر دان نہیں۔ بِکری نہ ہونے کے برابر ہے۔ اوپر سے مہنگائی ہے کہ بڑھتی جاتی ہے۔ بجلی کا بل اس مہینے اتنا آیا ہے کہ سوچتا ہوں بجلی کٹوادوں۔ آج سارا دن واپڈا کے دفتر کے چکر لگاتا رہا ہوں۔ رشوت مانگتے۔۔۔‘‘ ابھی یہ تقریر جاری تھی کہ یکایک کمرہ روشنیوں سے جگمگا اٹھا ۔ وہ مردِ خوش آوا ز بولا۔ ’’لو آ گئی محترمہ لائٹ۔ لو بیٹا اب اپنے ماموں کو اجازت دو۔ تم بھی جاکر سوجاؤ، صبح کالج جانا ہوگا۔ ‘‘