Tag: انسپیکٹر جمشید سیریز

  • جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط | شہید برہان وانی بنامِ پاکستان

    جنت سے ایک خط
    شہید برہان وانی بنامِ پاکستان
    نفیسہ عبدالرزاق

    میرے پاکستانی بھائیوں!
    السلام علیکم!
    آج میں آپ سے پہلی بار مخاطب ہوں۔ پاکستان کا نام ہم کشمیریوں کے لئے کوئی نیا نہیں ہے، ہم جہاں پیدا ہوتے ہی آزادی کے نعرے سنتے ہیں وہیں پاکستان کا نام بھی سنتے ہیں۔ میں آج آپ کو اپنی داستان سنانا چاہتا ہو تھوڑی بہت تو آپ جان ہی چکے ہوںگے میرے شہید ہونے کے بعد۔ میں پھر سے اسے دُہراتا ہوں جب پندرہ برس کی عمر میں اپنے بھائی کے ساتھ جاتے ہوئے قابض بھارتی فوج نے ہمیں بلاوجہ تذلیل کا نشانہ بنایا تب شاید پہلی بار غلامی کا مجھے بے پناہ احساس ہوا اس تذلیل نے ایک پل چین نہ لینے دیا اور میں برہان جو اپنی جماعت میں ہمیشہ اول رہتا تھا میرے آگے ایک روشن مستقبل تھا مگر مجھے غلامی سے نفرت ہے سو اسی غلامی کو آزادی میں بدلنے کے لئے میں گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ بہت سے مشکل پڑائو آئے میں رکا نہیں چلتا ہی گیا، بہت سے مقامی مجاہدین کی طرح میں نے بھی پاکستان کی طرف دیکھنے سے گریز کیا، اپنے زور بازو اور اللہ کی مدد کے سہارے میں کم وقت میں کشمیر کے ہر گھر کا ہر دل عزیز بن گیا۔ دشمن کو ناکوں چنے چبوائے مگر آزادی کی روشن صبح ابھی دور تھی ۔ بائیس سال کی عمر میں شہادت کا پروانہ آپہنچا یہ وہ عمر ہوتی ہے، جس میں ہر نوجوان اپنا کیریئر پلان کرتا ہے مگر مجھے کوئی افسوس نہیں، میں نہیں تو کیا ہوا ہماری آنے والی نسلیں ضرور آزاد فضائوں میں سانس لیں گی ( اِن شاء اللہ)۔ خیر،میری آج خاص طور پر آپ سب سے مخاطب ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ میرے جنازے کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا گیا مجھے اس پرچم سے بے حد اُنسیت محسوس ہوئی مجھے لگا میرے بعد میرا کشمیر تنہا نہیں ہوگا پاکستانی ہر بار کی طرح آگے آئیںگے مگر یہ کیا میرے جانے کے بعد جنت نظیر وادی میں ہنگامے پھوٹ پڑے ”ہر گھر سے برہان نکلے گا”کے نعرے گونجے اور ساتھ میں وردی والے دہشت گرد بغیر کسی تخصیص کے گولیاں برسانے لگے اور ان چاردنوں میں بہت سے برہان سبز پرچم میں لپٹے مجھ سے آ ملے۔
    میں اُن کی طرف آس و امید سے دیکھتا رہا کہ وہ مجھے بتائیں گے پاکستانیوں نے بھارتی ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی ہے ان کو منہ توڑ جواب دیا ہے کیوںکہ غلام تو ہم ہیں آپ تو آزاد قوم ہیں اور آزاد قومیں خود مختار ہوتی ہیں وہ مل کر جابر کو للکار سکتی ہیں مگر میرے یہ شہید بھائی تو کوئی اور داستان سُنا رہے تھے آپ لوگ تو بہت مصروف ہیں آپ کے پاس وقت نہیں کہ ہمارے بارے میں جانیں، آواز بلند کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ جب آپ کی مصروفیات کی بابت دریافت کیا تو معلوم ہوا عید کے دن ہیں اس لیے سینما میں بھارتی فلمیں لگی ہیں اور یہی آپ کی مصروفیات ہیں۔ یقین کیجیے یہ سُن کر دل لہو لہو ہوگیا۔ آپ کو ہمارا کتنا خیال ہے نا کہ سینما میں جا کر بھارت کو کروڑوں کا بزنس دیتے ہیں، جس سے وہ ہتھیار بنا کر ہمارے سینوں پر وار کر کے ہمیں شہید کرتے ہیں اور ہمیں ڈائریکٹ جنت کا ٹکٹ تھماتے ہیں۔
    جنت تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے تو آپ کی بدولت ہمارے لیے جنت کا رستہ بہت آسان ہوجاتا ہے۔ صرف میڈیا نہیں آپ تو پور پوردشمنکے جال میں قید ہوتے جا رہے ہیں، جس کی قید سے ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں۔ فلمیں اور ڈرامے آپ اُن کے دیکھتے ہیں سارا سارا دن گانے آپ ان کے سنتے ہیں پھر مارکیٹ جا کر ان ہی کی پراڈکٹس خریدتے ہیں پھر کہتے ہیں کیا کریں میڈیا یہی دکھاتا ہے آپ ایک بار بائیکاٹ کر کے تو دیکھیں پھر میڈیا وہی دیکھائے گا جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں اپ ان کی چیزیں چھوڑ کر ایک بار اپنی چیزیں طلب تو کریں پھر کیسے وہ زبردستی آپ کو دشمنوں کی چیزیں تھمادیں گے۔
    ارے ہاں! یہاں پہنچ کر میری ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی ہوئی میرے اور دوسرے آنے والے ساتھیوں کے ذریعے انہیں آپ کے حالات معلوم ہوئے بہت اُداس ہوئے کہنے لگے: ”میری قوم کو کیا ہوگیا؟ انہیں جس کی غلامی سے آزاد کروایا تھا آج ذہنی طور پر اسی کے غلام بنے بیٹھے ہیں۔ کتنی قربانیاں! کتنی قربانیاں! آہ…کیوں بھول گئے کہ شہیدوں کے لہو سے سینچا تھا اس گلزار کو۔ اگر انہیں کے رسم و رواج پر چلنا تھا تو وہ سب لہو رائیگاں گیا نا برہان! پھر کیوں ان کشمیریوں کے لئے اپنی جوانی، اپنا مستقبل سب چھوڑ کر اس راہ کا انتخاب کرلیا یہ بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ نہیں رہتی میری قوم کو یاد قربانیاں۔”

  • مدیر سے پوچھیں | پرویز بلگرامی

    مدیر سے پوچھیں | پرویز بلگرامی

    مدیر سے پوچھیں
    پرویز بلگرامی

    ٭ اپنی کہانی کے بارے میں بتائیں، آپ اس فیلڈ میں کب سے ہیں؟ کیسے آنا ہوا اس فیلڈ میں؟

    پرویز بلگرامی: جہاں تک لکھنے کا سوال ہے تو کم عمری سے لکھنا شروع کر دیا تھا لیکن چھپنے کی ابتدا روزنامہ جنگ کے نونہال لیگ یعنی بچوں کے صفحہ سے ہوئی پھرماہنامہ چاند میں لکھا.لیکن جب پروفشنلی لکھنے کا آغاز کیا تو ڈائجسٹوں کے دفاتر میں آنا جانا بڑھ گیا۔اسی دوران میں شمیم نوید صاحب سے قربت بڑھی اور ان کے مشورے پر سچی کہانیاں جوائن کر لیا۔اس وقت وہ اس پرچے کے مدیر تھے ۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد میں نے سچی کہانیاں چھوڑ دیااور پھر سے فری لانسنگ کرنے لگا۔شمیم نوید کے بعد سلیم فاروقی صاحب سچی کہانیاں کے مدیر بنے تو میں دوبارہ سے سچی کہانیاں میں آگیا۔اس وقت سچی کہانیاں ۔دوشیزہ کی ٹیم میں تمام لوگ کو آپریٹیو تھے۔سیما غزل تھیں۔مصطفیٰ ہاشمی تھے۔دانش دیروی تھے ۔سلیم آزر تھے۔ثمینہ یاسمین تھیں۔خوب وقت گزرا۔1994میں سلیم فاروقی سچی کہانیاں چھوڑ گئے تو میں نے ادارت سنبھال لی۔تب سے 2008 تک سچی کہانیاں کو سجاتا سنوارتا رہا پھر جاسوسی ڈائجسٹ پبلیکشن کے ماہ نامہ سرگزشت میں آگیا۔تب سے یہیں ہوں۔

     

    ٭ ایک مہینے میں آپ کو اوسطاً کتنے مسودے موصول ہوتے ہیں؟ اور آپ کا تحریروں کی چناؤ کا کیا معیار ہوتاہے؟

    پرویز بلگرامی : سچی کہانیاں میں نئے مصنفین کو اولیت دی جاتی تھی۔وہاں کام کا مزہ ہی کچھ اور تھا۔نئے مصنفین کا آئیڈیا لے کر ہم لوگ کہانیاں لکھ دیتے تھے اور اسے شائع کیا جاتا اسی مصنف کے نام سے جس کی وجہ سے پرچے کی خریداری بھی بڑھتی اور نئے لکھنے والے کو حوصلہ بھی ملتا۔وہاں جو لوگ لکھتے تھے ان سے باضابطہ خط و کتابت کیا کرتا تھا۔انہیں ان کی کہانیوں کی خامیاں بتاتا۔لکھنے کا انداز سمجھاتا یہی وجہ ہے کہ سچی کہانیاں سے شروعات کرنے والوں میں سے کچھ اب نامور بن چکے ہیں۔اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔لیکن سرگزشت ذرا تیڑھا پرچہ ہے۔اس میں لکھنے کے لیے مصنف کا مطالعہ وسیع ہونا ضروری ہے کیونکہ سرگزشت انفورمیٹیو میگزین ہے۔لیکن اس کا ایک حصہ ایسا ہے جس میں نئے مصنف لکھ سکتے ہیں۔جن کی کہانیاں آتی ہیں اور اس میں کوئی ہلکی پھلکی خامی نظر آتی ہے تو مصنف کو اطلاع دے دیتا ہوں کہ اپنی کہانی کو اپنے مسودے سے ملا کر دیکھیں کہ کون کون سی تبدیلی ہوئی ہے پھر بلا جھجک پوچھ لیں کہ وہ تبدیلی کیوں کی ہے۔جو لوگ فون کرتے ہیں ان کو جواب دیتا بھی ہوں اور کہانیوں کے سلسلے میں مشورے بھی دیتا ہوں۔در اصل یہ طریقہ شمیم نوید کا تھا اور پھر سلیم فاروقی نے اختیار کیا ۔ اپنے دو سینئر کو جس راہ پر چلتے دیکھا اسی راستے پر میں بھی چلنے لگا۔یہی وجہ ہے کہ نئے مصنفین مجھ سے بہت زیادہ قریب ہیں۔میں پابندی سے ہر نئے لکھنے والے کو تاکید کرتا رہتا ہوں کہ وہ جملوں کی بندش پر خصوصی توجہ دیں۔جس طرح دریا کی لہریں اٹھتی ہیں اسی طرح جملوں میں روانی رہنا چاہیے تا کہ پڑھنے والے کو لطف آئے۔پھر کہانی کو آگے بڑھانے کا صحیح انداز اپنائیں ۔معروف مصنفین کی تحریر کو بہ نظر غور دیکھیں کہ وہ کہانی کو کس طرح آگے بڑھا رہے ہیں۔وہی انداز اپنائیں ۔خاص کر تجسس پیدا کرنے کی ضرور کوشش کریں تا کہ قاری اگلا صفحہ ضرور پڑھے۔جملوں کی ساخت آسان رکھیں تا کہ ایک کم پڑھا لکھا بھی بہ آسانی سمجھ لے کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔کہانی آہستہ آہستہ اٹھائیں اور پرت پرت کھولیں۔نہ زیادہ سست رکھیں اور نہ بہت تیز بھگائیں۔کہانی کو آگے بڑھانے کی رفتار پر مکمل کنٹرول رکھیں۔اختتام ایسا ہو کہ قاری چونک جائے لیکن غیر فطرتی نہ لگے۔

     

    ٭ہ کون سی چند چیزیں ہیں جن کا خیال ایک نئے لکھنے والے کو اپنا کام آپ کو بھیجتے ہوئے رکھنا چاہیے؟

    پرویز بلگرامی :مصنفین کو کہانی بھیجنے کے پہلے کم سے کم تین بار ضرور پڑھنا چاہیے۔اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کہانی لکھ کر ایک طرف رکھ دیں پھر دوسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے الگ رکھ دیں اور تیسری کہانی شروع کر دیں۔اسے مکمل کر کے پہلی کہانی کو پڑھیں۔اس طرح اس کہانی کی خامیاں سامنے آتی جائیں گی۔اسے ایڈیٹ کر کے الگ رکھ دیں اور دوسری کو پڑھیں۔اس کی خامی درست کر کے تیسری کو نکال لیں۔اسے درست کرنے کے بعد پھر پہلی کہانی کو پڑھیں۔اگر ایک کہانی کو آپ نے تین بار پڑھ کر درست کر لیا تو یقینا وہ کہانی خامیوں سے بہت حد تک مبرا ہو جائے گی۔ہر نئے مصنف کو ابتدا میں اس طریقہ کو ضرور اپنا نا چاہیے۔لیکن لکھنے والے کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔اگر وہ دن بھر میں اس کام کو دس گھنٹے دیتا ہے تو اسے لکھنے کے لیے صرف دوگھنٹے صرف کرنا چاہیے۔اس سے اسے لکھنے کے لیے مواد بھی ملے گا اور جملوں کو برتنے کا صحیح انداز بھی علم میں آتا جائے گا۔
    ٭بطور مدیر کیا آپ ایسے موضوعات پر کام کرتے ہیں جو risky ہوں؟
    پرویز بلگرامی : ادارتی کام ہوتا ہی رسکی ہے۔ذرا سی نظر چوکی اور غلط مواد چھپ گیا۔خود میرے ساتھ ایک بار ہو چکا ہے۔لکھنے والا خاصہ تجربے کار۔منجھا ہوا لکھاری۔ایک ایسا مضمون لکھ گیا جس پر محکمے حرکت میں آگئے۔بعد میں اس مضمون کو پڑھا تو سر پیٹ لیا اس لیے کہ اس میں کئی ایسی باتیں تھیں جو پرنٹ نہیں ہونا چاہیے تھا۔مصنف سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ یہ معلومات نیٹ سے لیا ہے۔نیٹ پر سچ کے علاوہ جھوٹ بھی بھرا پڑا ہے۔سچ اور جھوٹ کی اگر مدیر کو پرکھ نہ ہو تو ایسی باتیںہوجانا تعجب خیز نہیں۔ویسے نئے تجربے کے لیے رسک لینا ضروری ہے۔جس مدیر کے اندر نیا کچھ کرنے کی امنگ نہ ہو اس کا پرچہ لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔

    ٭ نئے موضوعات پر کام کرنے کے لیے زیادہ موزوں کون ہوتا ہے؟ نئے رائٹرز یا پرانے رائٹرز؟

    پرویز بلگرامی: پرانے لکھاری نسبتاً بہتر انداز میں نئے موضوع کو برت سکتے ہیں۔نئے لکھاری کے جملوں بے ساختگی نہیں ہوتی۔بے ساختگی تجربے سے آتی ہے۔پرانے لکھاری الفاظ کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔مثلاً نیا لکھاری لکھے گا” چچا جان کی شیو بڑھ آئی تھی۔”جب کے پرانا لکھاری لکھے گا”شیو نہ کرنے کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ چچا جان کے گالوں پر چیونٹیوں کے انڈے سینکڑوں کی تعداد میں بکھرے ہوئے ہیں۔” اس سے سطر بھی بڑھی اور پڑھنے والے کو جملے کے بڑے ہونے کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔

     

    ٭نئے لکھنے والوں میں آپ کی رائے میں کون ہے جو اچھا کام کررہا ہے؟

    پرویز بلگرامی: ڈائجسٹوں میں جن کی تحریریں چھپ رہی ہیں ان نئے مصنفیں میں ناصر ملک ۔ندیم اقبال۔محمد فاروق انجم۔ڈاکٹرعبدالرب بھٹی کے علاوہ بھی چار پانچ مصنف بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔

     

    ٭ دنیا بھر کے لکھنے والوں میں آپ کا پسندیدہ رائٹر کون ہے؟

    پرویز بلگرامی :دنیا بھر کے رائٹرز میں کسی ایک یا دو کا نام لینا میرے خیال سے صحیح نہیں ہے۔اس لیے کہ ہر رائٹر کا ایک دو کام ہی ایسا ہوتا ہے جو اس کی پہچان بن جاتا ہے۔اگر پسندیدگی کی نظر سے دیکھوں تو مجھے جاپانی مصنف جیرو اکاگاوا کے جتنے ترجمے پڑھے ہیں سب پسند آئے ہیں۔زبردست مسٹری ۔اسی طرح بنگلہ کے نہار رنجن گپت۔امریکا کے اسٹیفن کنگ پسند آئے ہیں۔لیکن جب ہم اردو کی طرف آتے ہیں تو ابن صفی پر سوئی رک جاتی ہے۔لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ مجھے آگ کا دریا یا علی پور کا ایلی پسند نہیں آیا۔در اصل ہر ایک کی پسند ایک خاص نکتے کے گرد گردش کرتی ہے۔ورنہ تو اردو میں جتنے اچھے ناول لکھے گئے ہیں اس کی مثال مشکل ہے کیونکہ عالمی زبانوں میں سب سے نئی زبان اردو ہی ہے۔چائنیز جاپانی فرنچ جرمن انگلش کے مقابلے میں اردو کی عمر بہت کم ہے لیکن فیکشن رائٹنگ میں اردو کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے ۔

     

    ٭ آپ کی پسندیدہ صنف کون سی ہے؟

    پرویز بلگرامی: کہانیوں کی ہر صنف پڑھنے میں اچھی لگتی ہے جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے تو میں نے ہر قسم کی کہانیاں لکھی ہیں۔رومانی۔خوفناک۔تھرل سسپنس لیکن جہاں تک ڈوب کر لکھنے کا تعلق ہے مجھے ہارر لکھنے میں زیادہ مزہ آتا ہے مزے کی بات یہ ہے کہ تھریل زیادہ لکھا ہے۔لیکن جب چھاپنے کی بات آتی ہے تو میں معاشرتی مسائل کی کہانیاں پرچے میں شامل کرنے پر زور دیتا ہوں۔کیونکہ عام قاری اپنے مسائل کو پڑھنا پسند کرتا ہے۔بشرطیکہ لکھنے والا پیش کرنے کا فن جانتا ہو۔
    ٭ کہانی کی کون سی ایسی صنف ہے جو آپ کو غیر دلچسپ لگتی ہے؟
    پرویز بلگرامی : مجھے ایسی کہانیاں بالکل پسند نہیں جن میں انسانی نفسیات کے نام پر جنس زبردستی ڈالی جائے یا اوچھے جملے لکھ کر قاری کو بھٹکانے کی کوشش کی جائے۔منٹو کے پاس الفاظ کا ذخیرہ تھا۔وہ کہانی کو الفاظ سے ملفوف کر کے پیش کرتے تھے لیکن تسکینی انداز میں نہیں بلکہ نشتر بنا کریہی وجہ ہے کہ میں جنس زدہ کہانیوں کو فوراً رد کر دیتا ہوں۔
    ٭ آپ نے اب تک ماشااللہ بہت کام کیا ہے، کوئی ایسا پراجیکٹ جو آپ کے دل کے بہت قریب ہو؟
    پرویز بلگرامی : مجھے اپنے دو ناول کا پلاٹ بہت پسند ہے ”جرمِ مسلماں” اور ” دوسرا جنم”لیکن یہ بھی خود سے شکواہ ہے کہ میں جس انداز میں وہ دونوں ناول لکھنا چاہتا تھالکھ نہیں پایا کیونکہ جس ڈائجسٹ میں وہ کہانی قسط وار چھپ رہی تھی اس کے ریڈر میں جیسا چاہتا تھا اس انداز میں اسے پسند نہیں کرتے۔مجبورا پرچے کے قارئین کو ذہن میں رکھ کر لکھنا پڑا۔اپنے دل کی اس چبھن کو مٹانے کے لیے میں ان دونوں ناول کو دوبارہ لکھوں گا۔ایک اور طویل کہانی” میری منزل میرا رستہ”اور سرگزشت کے ١٩٩١ کے کسی شمارے میں بعنوان ”ایک کہانی”کا پلاٹ مجھے

  • مدیر سے پوچھیں | علی عمران سے ملاقات

    مدیر سے پوچھیں | علی عمران سے ملاقات

    مدیر سے پوچھیں
    علی عمران سے ملاقات

    علی عمران کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مشہور سٹِ کام سیریلز ‘نادانیاں’، ‘بلبلے’ کے مصنف کے طور پر تو سب انہیں جانتے ہی ہیں لیکن اس کے علاوہ وہ اے آر وائی ڈیجیٹل میں بہ طور کونٹینٹ ہیڈ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس ماہ مدیر سے پوچھیں کے سلسلے میں ہمارا انتخاب ہیں علی عمران۔
    ٭ کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟ ہمارے قارئین جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے لکھنا کب شروع کیا؟
    علی عمران: میں نے اپنا کام ریڈیو پاکستان سے زمانۂ طالب علمی میں شروع کیا تھا ، وہاں ایک پروگرام ہوا کرتا تھا ‘بزمِ طلبہ’، اس میں لکھنے اور پڑھنے والے آیا کرتے تھے، میری شروعات وہاں سے ہوئی تھیں، چوں کہ آرٹس کونسل پڑوس میں ہی تھا تو پیدل چل کروہاں جایا کرتا تھا، اس زمانے میں وہاں سٹریٹ تھیٹر ہوا کرتا تھا میں اپنے ریڈیو کے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں گیا۔ بزمِ طلبہ کے تھیٹر کی ایک ٹیم تھی جس نے وہاں پر تھیٹر کیا اور ہم وہ دیکھنے گئے ۔مجھے بڑا متاثر کیا اس پلے نے اور ان ساری چیزوں نے اس کے ساتھ ہی اس چیز نے مجھے اعتماد بھی دیا کہ میں لکھ بھی سکتا ہوں، یہ کوئی اتنی مشکل چیز بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے ایک تھیٹر پلے لکھا، جس گروپ کے لئے لکھا تھا انہوں نے اس کو اچھا ڈائریکٹ نہیں کیا، میں نے سوچا کہ یہ خود ڈائریکٹ کرنا چاہیے تو پھر ہم نے ایک چھوٹا سا تھیٹر گروپ بنایا میزان کے نام سے، اس زمانے میں لڑکیاں تھیٹرمیں بہت کم آتی تھیں خاص طور پر سنجیدہ تھیٹر میں، تو ہمارے ایک دوست کہتے تھے یار شادیاں کرو اور اپنی بیویوں سے کام کرواؤ( قہقہہ) بہرحال اس گروپ سے ہم نے ایک پلے کیا، خود لکھا، خود ڈائریکٹ کیا خود ہی ایکٹ بھی کیااور مزے کی بات ہے دیکھا بھی خود ہے (مسکراتے ہوئے)۔ لیکن اس کا اپنا نشہ تھا، کہتے ہیں کہ تھیٹر کا نشہ کوکین کے نشے سے زیادہ خطرناک ہے۔ کوکین کا نشہ ہم نے کبھی کیا نہیں ، تو پھر وہ ایک نشہ لگ گیا اور بڑی برُی لت لگ گئی ( مسکراتے ہوئے) ہم گھنٹوں آرٹس کونسل کے چبوترے پر بیٹھا کرتے تھے۔ ٹیلی ویژن میں بہت بعد میں آیا ہمارے ایک بہت اچھے رائٹر ہیں فصیح باری خان، ان سے میری واقفیت تھی ، ان سے میں نے درخواست کی کہ اگر ٹیلی ویژن کے لئے کوئی کام مل سکے، اس زمانے میں ایک پروڈکشن ہاؤس تھا BMN پروڈکشن میمونہ صدیقی کا ان کے پاس انہوں نے بھیجا، میںنے ان کے لئے ایک ٹیلی فلم لکھی، وہ آج تک بنی نہیں لیکن مجھے اس کے پیسے مل گئے تھے (مسکراتے ہوئے) اور اس کے جب پیسے ملیں تو مجھے لگا کہ یار یہ تو اچھا کام ہے تو میں باقی سب جو کام کررہا تھا اپنی زندگی میں وہ چھوڑ کر اس ہی طرف آگیا۔میں نے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا تھا ، نفسیات کا علم تھا، ادب سے تو خیر شروع سے ہی لگاؤ تھا ، لکھتا بھی تھا، ریڈیو نے وہ خوف دور کیا، اس کے بعدتھیٹر نے بہت سکھایا، اور پھر ٹیلی ویژن ایک بالکل الگ میڈیم تھا۔
    ٭ ایک مہینے میں اوسطاً کتنے مسودے اور آئیڈیاز آپ کے پاس آجاتے ہیں اور آپ کا سلیکشن کا طریقہ کار کیا ہے؟
    علی عمران: جس چینل میں میں بیٹھا ہوں اس کی اپنی requirement ہے اور اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم چیزوں کو سلیکٹ کرتے ہیں ، ایسا نہیں ہے کہ ہم ہر کہانی اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ سکرپٹ اچھا نہیں ہے یا کہانی اچھی نہیں ہے، کئی بار ہم وہ اس وجہ سے نہیں کرپاتے کہ وہ ہمارے چینل کی requirement سے match نہیں کررہی ہوتی۔ بہت اچھے اور خوبصورت سکرپٹس ہوتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرپاتے ہیں کیوں کہ ہمیں تھوڑا محتاط ہونا پڑتا ہے اور آپ نے مہینے کی بات کی ہے تو وہ تو میں نہیں بتا پاؤں گا لیکن ہمیں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً چالیس، پچاس نئے مسودے مل رہے ہوتے ہیں ، اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔
    ٭ کیا آپ riskier themes پر کام کرتے ہیں؟یا پھر جو آپ کا چینل پروفائل ہے اس ہی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں؟
    علی عمران: دونوں چیزیں ہوتی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ٹیلی ویژن لوگوں کا مزاج بناتا ہے ۔میں جب سے یہاں ہوں میری کوشش ہوتی ہے کہ چینل کی جو requirement ہے اس کو feed کیا جائے اس کے علاوہ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ساتھ ساتھ ہم ایسا کونٹینٹ بھی بناتے جائیں جو لوگوں کو دوسرے طریقے سے کہانی سننے اور دیکھنے کا بھی عادی بنائے ۔ ہم نے ایشوز پر کہانیاں بہت کی ہیں، ہم نے controvercial taboos پر بھی کام کیا ہے، صرف روتی دھوتی عورتوں پر کام نہیں کیا ۔

    ٭ آپ کے خیال میں نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے کون سے رائٹرز زیادہ موزوں ہیں؟ نئے رائٹرز یا سینئر اور منجھے ہوئے؟
    علی عمران: دیکھیں دونوں کے اپنے pros and cons ہیں، دونوں کی اپنی اچھائی اور کمی ہوتی ہیں۔ نئے لکھنے والوں کے پاس انرجی بہت زیادہ ہوتی ہے، passion بہت ہوتا ہے ان میں، ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کچھ ہٹ کر کام کیا جائے۔ جہاں تک پرانے رائٹرز کا تجربہ بہت count کرتا ہے ان کو سکرپٹ کی تکنیک کا پتا ہوتا ہے، ان کے ساتھ کام کرنے میں وہ دقّت نہیں ہوتی جو نئے رائٹرزکے ساتھ کام کرنے پر ہوتی ہے ،اگر آپ ہمارا پورا اردو ادب اٹھا کر پڑھ لیجیے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کہانیاں کم و پیش ایک ہی جیسی ہوتی ہیں، ان کا اسلوب انہیں مختلف بناتا ہے، مجھے مغربی ادب کی کہانیاں بہت اپیل کرتی ہیں وہاں پر انسانی نفسیات پر اور آج کے انسان پر کہانیاں ہوتی ہیں جس پر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کام نہیں ہوپایا ہے ۔ نئے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، پرانے رائٹرز بھی اچھا لکھ رہے ہیں، کچھ پرانے رائٹرز ہیں، جو اچھا نہیں لکھ رہے، کچھ نئے رائٹرز ہیں جو اچھا نہیں لکھ رہے۔ یہ کرتے کی وِدّیا ہے جو کرنے سے آتی ہے۔
    ٭ ابھی جو آپ نے بات کی پاپولرفکشن کی، ہمارے ملک میں دو طبقے بنے ہیں، ایک ادب اور ایک فکشن۔ ادب والے فکشن رائٹر کو کچھ سمجھتے نہیں ہیں، آپ کے خیال میں یہ درست ہے؟
    علی عمران: ہر آدمی کا اپنا ایک نظریہ ہے، اپنی ایک سوچ ہے ، لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ ہر قسم کی سوچ کو اظہارکا موقع دینا چاہیے۔ اگر ایک آدمی اپنے ڈھب سے کہانی سنانا چاہتا ہے تو اس کو سنانے کا موقع ضرور دیں،یہ فرق ہمیشہ سے رہا ہے، میں اس چیز کا حامی ہوں کہ ہر طرح کا کام سامنے آنا چاہیے۔
    ٭ نئے لکھنے والوں میں کچھ ایسے نام جن کا کام آپ کو زیادہ بہتر لگا ہو؟
    علی عمران: بہت سارے ہیں، نئے رائٹرز میں مجھے لگتا ہے کہ بہت پوٹینشل ہے، اور ہمارے پاس زیادہ تر نئے رائٹرز کام کررہے ہیں ۔ ہر رائٹر میں کچھ نہ کچھ خصوصیت ہوتی ہے ، کچھ کا سکرین پلے بہت اچھا ہوتا ہے، کچھ کے مکالمے اچھے ہوتے ہیں، کچھ کو کہانی کہنا بہت اچھی آتی ہے ۔ہر رائٹر میں کوئی نہ کوئی خاص بات ہوتی ہے، میں تو بڑا پراُمید ہوں، مجھے بڑی خوش آئند بات لگتی ہے، میری بس ایک درخواست ہوتی ہے کہ جو لکھ رہے ہیں اس کو ایمان داری سے لکھیں، جو لکھا ہے اس کو پڑھیں ضرور اور اس کو بار بار چھلنی سے گزاریں۔
    ٭ آپ نے ابھی کہا کہ زمانۂ طالب علمی سے آپ کا لکھنے پڑھنے کا شوق رہا ہے، تو کون سا ایسا ادیب ہے جس کی تحریریں آپ کو بہت اچھی لگتی ہیں؟
    علی عمران: لکھنے کا تو بہت بعد میں ہی شوق ہوا، پہلے پڑھنے کا شوق تھا اور بہت شوق تھا۔ ہماری یونیورسٹی کے زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ آپ خواتین کو متاثر کرنے کے لئے اشعار سنایا کرتے تھے ، ہمارے زمانے کی لڑکیاں بھی اشعار سے بڑا متاثر ہوتی تھیں، ہم نے مختلف شعراء کے اشعار سنانا شروع کردیے ، بعد میں ہم پکڑے گئے کہ یہ کسی اور کے شعر تھے، اس احساسِ شرمندگی نے مجبور کیا کہ اب کچھ لکھا بھی جائے(قہقہہ) جہاں تک ایک ادیب کی بات ہے تو ایک کا نام لینا مشکل ہے۔بہت سارے ہیں ، اگر برِصغیر کی بات کی جائے تو سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی صاحب، گلزار صاحب، ممتاز مفتی صاحب ، عبداللہ حسین اور اگر آپ بین الاقوامی ادب کی بات کریں تو چیخوف ہیں۔
    ٭ کون سا writing genre کا آپ کو بہت پسند ہے؟
    علی عمران: مجھے نفسیاتی کہانیاں ہمیشہ سے پسند آئی ہیں اور ٹیلی ویژن کے اعتبار سے اگر پوچھا جائے تو مجھے رومانی کہانیاں پسند آتی ہیں۔
    ٭ کون سا writing genre جو آپ کو انتہائی غیر دلچسپ لگتا ہو؟
    علی عمران: آپ اگر یقین کریں گے تو میں بتادیتا ہوں مزاح (قہقہہ) میں سچی بات بتاؤں تو مجھے کامیڈی لکھنے میں بھی زیادہ مزہ نہیں آتا۔ میں بہت بے دلی سے لکھ کر اپنے ڈائریکٹر کو دے دیتا ہوں کہ بھائی جو سمجھ آئے اس کو شوٹ کردینا، اور وہ بہت اچھا نکل آتا ہے ، تو وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ بے دلی سے ہی لکھا کریں، دل سے لکھیں گے تو رزلٹ اچھا نہیں آئے گا (قہقہہ)
    ٭ آپ کو نہیں لگتا کہ بلبلے بہت زیادہ طویل ہوگیا ہے اس کو اب بند ہوجانا چاہیے؟
    علی عمران: دیکھیں اگر آپ میری پسند ناپسند پر جائیں گے تو اس وقت ٹیلی ویژن پر چلنے والے آدھے سے زیادہ ڈرامے بند ہوجائیں گے ( مسکراتے ہوئے) میں نے کہا نا کہ چینل کی بھی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ چینل ڈھیٹ بن کر بیٹھا ہوا ہے ، مجھے آج بھی بہت لوگ ملتے ہیں جو بلبلے دیکھتے ہیں اور باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔ میرا ماننا یہ ضرور ہے کہ اس کی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ یقینی طور پر ایک چیز اگر اتنی طویل ہوگی تو ایک وقت آئے گا کہ لوگ اس کو گھر کا سامان سمجھنے لگتے ہیں۔
    ٭ آپ نے کامیڈی کے علاوہ سنجیدہ بھی لکھا ہے؟
    علی عمران: میں نے شروعات سنجیدہ کام سے ہی کی۔ اب بدقسمتی ہے کہ لوگوں کو اس کے حوالے سے زیادہ پتا نہیں (قہقہہ) میں تو مزاح لکھتا ہی نہیں تھا ، نہ ہی لکھنا چاہتا تھا۔ میں نے کامیڈی کبھی نہیں لکھی، تھیٹر میں ڈارک کامیڈی تھوڑی بہت لکھی اور شاید وہی چیز میرے کام آگئی۔ ایک سیریل آتا تھا میں اور تم جو اظفرکرتے تھے،اس کے رائٹر کے ساتھ کچھ مسئلہ ہوگیا تو اظفر میرے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ علی بھائی آپ نے یہ لکھنا ہے ، میں نے کہا یار مجھے تو کامیڈی نہیں لکھنا آتا، تو انہوں نے کہا یار اتنا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، میرے ساتھ بیٹھ جاؤ یوں کرو، یہ کرو، اور ایسے کرلیتے ہیں، اور واقعی اظفر نے بڑا آسان کردیا۔
    ٭ آپ کے اب تک کے کیے گئے پراجیکٹ میں کون سا پراجیکٹ ہے جو آپ کو بہت پسند ہے؟
    علی عمران: میں نے شروع میں ایک شارٹ پلے کیا تھا، خاموشی کے نام سے جس میں فیصل قریشی اور ثانیہ سعید تھے اور عمران پٹیل اس کے ڈائریکٹر تھے، وہ پلے مجھے بہت پسند تھا۔ دوسرا میرا ایک سیریل تھا خراشیں، سیفی حسن نے ڈائریکٹ کیا تھا وہ بھی مجھے بہت پسند ہے۔ پھر فہد مصطفیٰ نے ایک سیریز شروع کی تھی ‘اور پھر’ کے نام سے اس کے میں نے پلے لکھے تھے۔ کامیڈی میں مجھے جو پسند ہے وہ نادانیاں ہیں، اور بلبلے۔۔اب تو نہیں لیکن شروع میں بہت پسند تھا(مسکراتے ہوئے)
    ٭ مقابلے کے باقی ایڈیٹرز میں کون سے ایسے ہیں جن کا کام آپ کو بہتر لگتا ہے؟

  • سیاہ اور سفید کے درمیان

    سیاہ اور سفید کے درمیان

    ناول

    ”سیاہ اور سفید کے درمیان ”

    تحریر: نائلہ عرفان

    Surah Al-Baqarah
    (Ayat 286)
    ”خدا کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔اُس کوثواب بھی اُسی کا ملے گاجو ارادہ سے کرے اور اُس پر عذاب بھی اُسی کا ہو گا جوارادہ سے کرے۔ اے رب ہمارے نہ پکڑ ہم کو اگر ہم بھولیں یا چُوکیں۔ اے رب ہمارے اور نہ رکھ ہم پر بوجھ بھاری جیسا رکھا تھا ہم سے اگلے لوگوں پر ۔ اے رب ہمارے اور نہ اُٹھوا ہم سے وہ بوجھ کہ جس کی ہم کو طاقت نہیں اور درگزر کر ہم سے اور بخش ہم کو اور رحم کر ہم پر تو ہی ہمارا رب ہے ۔ مدد کر ہماری کافروں پر” ۔
    (سورہ البقرہ آیت 286)

    ”A journey of a thousand miles begins with a single step”
    میلوں کی مسافت پہلا قدم اُٹھانے سے ہی طے ہوتی ہے۔

    سید مظہر حسین مرحوم کے انتقال کو آج سوا مہینے پورا ہوا قُل دسواں اور چہلم سب ہی پورے اہتمام سے منائے گئے ۔رشتے دار عموماََدن رات کا کھانا بھیجوایا کر تے جب کہ پرُ لطف ناشتے کا اہتمام محلے داروں نے سنبھالا ہوا تھا۔ایک روز تو مختلف شہروں سے آئے مظہر صاحب کے بہن بھائیوں نے رات کو ہی سو چ لیا کہ صبح اُٹھ کر تندوری نان بمعہ لیاقت سفید مکھن منگوالی جائیں جو کہ کو ئٹہ کی خاص سوغات سمجھی جا تی ہے ۔ساتھ میں دودھ والے سے تازہ دودھ لے کر دودھ پتی چائے بھی چڑھ گئی ۔ابھی ناشتے کا پہلا دور اختتام پذیر نہیں ہوا تھا کہ ڈاکٹر شاہ زمان کے گھر سے گرماگرم ناشتے کی ایک اور بڑی ٹرے آگئی ۔دو مختلف طرح کے آملیٹ،گھر کے بنے دس پندرہ پراٹھے ،تازہ ڈبل روٹی ،چھوٹی بلیوبینڈ مکھن کی ٹکیہ ،جیم اور شہد کی دو شیشیا ں اور چائے کے دو فل سائز تھرماس ۔ سب کی آنکھیں ناشتے کی اس ٹرے کو دیکھ کر کُھلی کی کُھلی رہ گئیں پھر تقریباََ سبھی نے پچھلے ناشتے کو کو صاف کر کے اگلے نا شتے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ غم زدہ حلیمہ بھابھی اگرچہ عدّت میں تھیں مگرگھر والی ہونے کے ناطے ہر آئے گئے کا خیال رکھنا اُن کا فرض ٹھہرا پہلے انہوں نے شکرئیے کے ساتھ ناشتے کی ٹرے وصول کی ۔بعد میں بچے کُچے نا شتے کو سمیٹ کر دُرناز )برتن دھونے والی ادھیڑ عمر خاتون( کے حوالے کیا ۔پھر اپنا تیرھواں سپارہ کھول کر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پڑھنے بیٹھ گئیں ۔رات کو بھی بڑی ذمہ داری سے انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے تمام برتنوں میں دیگ کا کھانا بھرا پھر گرم جوش شکریہ ادا کر نے کی خصوصی تاکید کے ساتھ ٹرے واپس بھیجوادی۔
    سوئم کی قر آن خوانی کا انتظام عورتوں کا گھر پر اور مردو ںکے لیے سامنے خالی پلاٹ پر کیا گیا تھا۔مظہر صاحب کے گھر کے بالکل سامنے سحر این جی او (NGO)کا دفتر ہے ۔دفتر کے ساتھ والے پلاٹ پرمالک پلاٹ سے پوچھ کر چار دیواری کھڑی کر دی ۔سکیورٹی (security)کیمرہ ‘ رات بھر آدھی گلی کو روشن رکھنے والی پاور فل اسٹریٹ لائٹ بھی لگوادی گئی اور گیٹ پر چوکیدار بیٹھا دیا ۔اس طرح نہ صرف دفتر والوں کو ایک بہترین پارکنگ لاٹ مل گیا ۔بلکہ گلی کی سکیورٹی کا بھی خاطر خواہ انتظام ہو گیا ۔این جی او (NGO)میں ہر وقت لوگوں کے آنے جانے سے ایک رونق سی لگی رہتی ۔بہر حال جب حلیمہ اور شیراز نے سوئم کا دن مُقررکرلیا تو محلے میں اطلا ع بھیجوا دی گئی ۔کوئٹہ کے لوگوں میں خلوص کا تناسب بڑے شہروں کی نسبت کچھ زیادہ ہی ہے۔بس تو پھر کیا تھا محلے کا ایک لڑکا دوڑ کر این جی او (NGO)کے چوکیدار کے پاس گیا اور اُس سے پارکنگ لاٹ رسمِ قُل کے لیے مانگ لیا۔واضح رہے کہ یہ وہی چوکیدار ہے ۔جس سے مظہر صاحب کی اپنی پوری زندگی ٹھنی رہی ۔جب بھی گھر سے نکلتے اِسے کسی نہ کسی بات پر ضرور ہی رگڑتے جیسے کبھی کہتے کہ ”تمہارا لوگ جب بھی لاٹ سے گاڑی نکالتا ہے ‘ہمارے تھڑے پر ضرور چڑھاتا ہے ‘کبھی ٹوٹ گیا ۔تو میں نے مالک کے پاس لڑنے پہنچ جانا ہے "یا پھر کہتے” تمہارے دفتر میں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ پوری گلی میں شور وغُل ڈال رکھا ہے” شیراز نے دبّی زبان میں کئی مرتبہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ”ابّا !اوّل تو ہمارا تھڑا خا صا مضبوط سیمنٹ کا بنا ہوا ہے ۔شیشے کا نہیں کہ ذرا سا گاڑی چڑ ھنے پر ٹوٹ جائے ۔دوسرا یہ کہ یہاں سے نکلنے کا اور راستہ بھی نہے ۔تیسرا یہ کہ اِن لوگوں سے ہماری ہمسائے داری ہے اور چوکیدار ایک غریب شریف آدمی ہے ۔آپ ہر وقت اُس کا پیچھا نہ پکڑا کرئیں "مگر مرحوم کچھ پیدائشی برہمی کا شکا ر تھے ،سوچھوٹی چھوٹی باتوں پر فساد کھڑا کر ناطبیعت میں رچ بس گیا تھا۔ کف افسوس کیا خبر تھی کہ ایک روز اِسی لاٹ پر اُن کی رسمِ قُل ہوگی اوریہی این جی او (NGO)والے انتظام کریںگے۔
    خیر شیراز اکثر آتے جاتے چوکیدار کے ہاتھ پر کبھی ہزار ‘پانچ سو رکھ دیتا ۔اس غریب چوکیدار نے حق ہمسایہ گیری ادا کرتے ہوئے ”لشتم چشتم این جی او (NGO)کے مالک کو فون کر کے اجازت طلب کی اور پھر انتظامات میں بھی خوب آگے آگے رہا ۔حتی کہ ہرے پھول دار ٹینٹ کو روشن رکھنے کے لیے جو دو بڑے بڑے بلب لگوئے گئے تھے اُن کا کنکشن بھی سامنے مظہر صاحب کے گھر سے لینے کے بجائے ساتھ موجود این جی اوکے دفتر سے دے ڈالا ۔سوئم کے لیے چکن کڑاہی ،مٹن پلائو اور میٹھے چاولوں کی جو تین دیگیں آئیں وہ بھی اُسی نے دیگ والے کے ساتھ مل کر گدھے گاڑی سے اُتروائیں اور پلاٹ کے سامنے خالی سڑک پر رکھ وادیں۔اسی لئے حاضرینِ محفل اس چھوٹی سی زندگی میں آپ سب کے ساتھ بھلے رہئے کوئی پتہ نہیںکہ کوئی کب کہاں اور کس طرح آپ کا بھلا کر جاتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب سب نے مل کر کئی کلام پاک اور سینکڑوں مرتبہ سورةیسٰین پڑھ ڈالی تو حلیمہ نے حافظ سلیمہ مندوخیل سے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے پرُسوز دُعا کی التماس کی ۔۔۔۔کافی دیر تک اللہ سبحان وتعالی کے آگے عاجزی سے گڑگڑ انے اور توبہ استغفار کرنے کے بعد انھوں نے کٹے ہوئے موسمی پھلوں ودیگر پکوانوں کی سوخ پھول دار خوان سے دھکی پلیٹوں پر فاتحہ دے ڈالی۔اس طویل روح پُرور رتقریب کے اختتام تک حلیمہ بھابھی اس قدر تھک چکی تھیں کہ صوفے پر کچھ دیر کے لیے یہ کہہ کر بیٹھ گئیں کہ خدارا اب مجھے نہ اُٹھانا کیونکہ اب اگر اُٹھی تو ڈر ہے کہ چکرا کر کہیں گر ہی نہ پڑوں ۔
    دراصل اللہ نے مظہر حسین اور حلیمہ مظہر کو صرف دو ہی اولادیں دی ہیں ۔عائلہ مظہر اور شیراز مظہر۔ عائلہ توشادی کر کے امریکہ چلی گئی تو اُس کا آنا جانا ہوا مشکل ۔بچا شیراز تو وہ بیچارہ باہر کا انتظام سنبھا لے کہ اندر کا؟ لہٰذا اندرونِ خانہ کی تمام تر ذمہ داری آئی حلیمہ بھابھی کے کندھوں پر۔ اب انھیں کبھی سفید چادروں کے لیے آواز پڑتی تو کبھی کسی کو جائے نماز یںدرکار ہوتیںعین سوئم کی قران خوانی کے درمیان ڈرائنگ روم کے بیرونی دروازے کے پاس والے کونے سے آواز آئی بھابی !اگر بتیاں کہاں ہیں ؟اِن کے بغیر قرآن خوانی کا بھلا کیا مزہ ”
    لو بھلا بتائو یہ قرآن خوانی مرحوم کی روح کو بخشوانے کے لیے رکھوائی ہے یا تمہارے مزے کے لیے۔ یہ آواز عطرت پھوپھو کی تھی ۔مسز عطر ت عثمان مظہر صاحب کے دس بہن بھائیوں میں سے ساتویں نمبر پر ہیں۔خاتون جس محفل میں جاتیں کچھ الگ ہی نظر آتیں وجہ چہرے پر تنا شکنوں کا منفرد جال شکنوں کی ترتیب کچھ اس پرکارہے ماتھے پر لمبائی کے رُخ چار اور چوڑائی کے رُخ چھ ، دونوں آنکھوں کے گرد بے تحاشہ چھوٹی چھوٹی لکیریں اور سب سے واضح ناک کے سرے سے لیکر ہونٹوں کے کناروں تک آتی اسمائل لائنز،(حالانکہ کے مسکرانے سے اُن کا دور کا بھی واستہ نہیں تھا )جب بھی وہ منہ ٹیڑھا کر کے بو لتیںتو وہ کچھ اور بھی واضح ہو جاتیں ۔پچھلے سال جب وہ ا پنی ڈاکٹر بیٹی کو امتحان دِلوانے لندن لیکر گئیں تو اپنی کاسموٹولوجسٹ بھابھی سے زبر دستی مفت میں بوٹوکس کے انجکشنز لگوالئے اور فلرز بھی ڈلوالئے ۔

    جس سے چہرہ تو سچی بات ہے جیسے پہلے تھا ویسا ہی رہا ۔بھابھی نے کون سا دل سے یہ کام کیا تھا۔بس جان ہی چھڑوائی تھی اپنی مگر وہ خود کو پچپن کے بجائے پینتیس 35))کا سمجھنے لگیں ۔دماغ کے فطور اور لہجے کے غرور میں گراقدرِ اضافہ ہوا کہ ناخن کچھ مزید لمبے ہوگئے لپ اسٹک ،نیل پالش شیڈ کچھ دوہرا گہرا اور انگوٹھیا ںدوسے چار ہوگئیں ۔یہ عطرت پھوپھو ہی تھیں جنھوں نے بھرے مجمع میں جب عورتیںمنہ کھول کھول کر حلیمہ بھابھی کی خدمت گزاری کے گُن گارہی تھیں ۔تو جل کر کہہ دیا کہ "بھئی ! ہمیں کیا پتہ کہ خدمت کی بھی ہے یا نہیں ہم تو سب دوربیٹھے تھے اپنے اپنے گھروں میں۔ میں تو آخیرتک فون کرتی رہی کہ ذراکی ذرا بھائی کی آواز ہی سنُ لو ں مگر کبھی جواب ملتا کہ اّبا ابھی سو رہے ہیں ۔کبھی یہ کہ اُن کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ ابھی بات کر سکیں ”
    اپنے سے فقط ڈیڑ ھ دو سال چھوٹی بہن کے بے تُکے پن پربڑی سعدیہ پھوپھو نے خوب ہی بُرا محسوس کیا۔ساتواں سپارہ جو ابھی صرف نصف ہی پڑھا تھا انگلی رکھ کر بند کیا ۔عینک ناک کی ٹپ پر ٹکائی اور پہلے اُسے خوب غور سے دیکھا پھر ٹھوک کر بولئیں ۔”تم نے بالکل صحیح کہا بھلا دوربیٹھے ہوئوں کو یہاں کے باسیوںکی کُلفتوں کا کیا اندازہ ؟ہم توبھئی دو قدم کے فاصلے پر رہتے ہیں ۔لہذا پَل پَل کی خبر ہے کہ پچھلے دو سال سے حلیمہ بھابھی اور شیراز نے کس طرح مظہر بھائی کی خدمت کے لیے اپنا دن اور رات ایک کیا ہوا تھا۔مظہر بھائی پچھلے تیس سالوں سے زیا بیطس کے مریض تھے ۔دوسال پہلے گُردوںنے جواب دے دیا اور بہنا !ڈالیسیز Dialysis))کے مریض کی دیکھ بھال کرنا کو ئی بچو ں کا کھیل نہیں ہے۔آخر کے چند مہینوں میں ہیپاٹائٹس (hepatitis)ہوگیا ۔چہرے کا رنگ کالا سیاہ، جسم پر سیاہ دھّبے مرحوم پیشاب اور پوٹی بھی ڈائیپر(Diaper)میں کر رہے تھے اتنے لہیم شہیم آدمی کے پیمپر(pamper) بدلنا بھی ہر بار ایک مرحلہ ہوتا ۔اوپر سے بھائی کا چِڑچِڑاپن اور کنجوسی اپنے عروج پر تھی اپنے علاج پر بھی جیب سے ایک ٹکا خرچ کرنے کو تیار نہ تھے ۔ایک منٹ کیسی باہر والے اٹینڈئنٹ Attendent))نے ٹِک کر نہ دیا ۔خود ہی ماں بیٹا کبھی اُن کی اُلٹیا ں صاف کرتے تو کبھی مالش کر رہے ہیں ،جسم داب رہے ہیں ۔سچ پوچھوتو اِن دونوں نے اپنی جنت اسی دنیا میں کمالی میں خود اِس بات کی سب سے بڑی گواہ ہوں ۔مگر تم کیا جانو!تم تو خیر سے دور بیٹھی تھیںاپنے گھرمیں "سعدیہ پھوپھو نے اپنی بات ختم کر کے ٹیولپ ٹشو Tulip tissue ))کا پاکٹ سائز پیک اپنے پرس سے نکالا ۔اس میں سے دوخوشبودار سفید ٹشو باہر کھینچے اور بھیگی بھیگی آنکھوں کو خوب رگڑ کر صاف کرنے لگئیں ۔بڑی بہن کے اِس تفصیلی بیان کے بعد عطرت پھوپھو اپنا سا مُنہ لے کر رہ گئیں ہاتھ میں کب سے پکڑی سورةیسٰین کچھ غصے میں اور کچھ وجّدمیں آکر جھوم جھوم کر پڑھنی شروع کر دی ۔سعدیہ پھوپھو اگر چے قرآن خوانی کے درمیا ن باتیں کرنا معیوب خیا ل کر تی تھیں ۔مگر اِس وقت یہ وضاحت دینا بے حد ضروری تھا ۔
    پہلے ہی عائلہ کی عدم موجودگی پہ گھر کے ملازمین سے لے کر ہر آئے گئے نے خوب ہی سوال اُٹھائے ہیں کہ عائلہ اب تک کیوں نہیںآئی؟؟ پہلے باپ کی دو سالہ بیماری میں نہیں آئی اب تدفین پہ بھی غائب ہے !!حلیمہ بھابھی سمجھا سمجھا تھک گئیں کہ امریکہ کوئی پاکستان میں نہیں رکھا ہوا۔پی آئی اے(PIA)کی براہِ راست پرواز بھی امریکہ سے آنا اب بند ہو چکی ہے ۔اگر باپ کی اطلاع ملتے ہی اِسے ٹیکٹس کسی طرح مل بھی جاتے توکنیکٹنگ Connecting))فلائٹ لے کر یہاں کوئٹہ آتے کم از کم دو دن تو لگ ہی جانے تھے اور مظہر صاحب کی تدفین اتنی دیر روکی نہیں جاسکتی تھی۔باڈی اِس حال میں ہی نہیں تھی پھر باہر والوں کی اپنی زندگی کے ہزار ہاں جھمیلے ہیں ۔ہمیں اُس سے کوئی شِکایت نہیں ہے۔آجائے گی وہ اپنی سہولت سے لیکن اللہ کی اِس زمیں پہ جتنے اُبھار اور گھاٹیاں ہیں ۔اِس سے کہیں زیادہ اُبھار اور گھاٹیا ں انسان دماغ پہ موجود ہیں ۔جہاں پراَن گنت سوچیں اُبھر تی پھسلتی رہتی ہیں ،سومولا کی زمین پر ربسنے والے اپنی قیاس آرئیوں سے باز نہیں آتے ۔
    دراصل عائلہ مظہر نے شادی اپنی مرضی سے کی تھی شروع شروع میں تو باپ بیٹی میں خاصی ٹھنی رہی۔مگر امریکہ جانے کے بعد بھی وہ ہرسال ماں باپ سے ملنے آیا کرتی تھی ۔بلکہ ایک مرتبہ ایان کا کوئی طویل پرجیکٹ جاپان میں چل رہا تھا تو عائلہ کوئی سال بھر کے لیے دونوں بچوں کے ساتھ ماں باپ کے پاس پاکستان آگئی تھی۔اِس موقع پر بھی خاندان بھر میں خوب چہ میگوئیاں ہوئیں کہ یقینا میاں بیوی کی علیحدگی ہو گئی ہے۔ آگیا ہو گا کسی گوری کے چکر میں تو بھیج دیاعائلہ کو واپس خیر عائلہ کچھ عرصہ رہ کر چار سالہ سلیمان اور دو سالہ مُحمد کے ساتھ ور جینا (virginia)واپس چلی گئی اور ایسی گئی کہ اب دو ڈھائی سال ہونے کو آئے اُس کا کوئی نام ونشان نہیں ہے۔
    "سعدیہ باجی !یہ اپنی عائلہ نظر نہیں آرہی اِس روز میں تد فین میں آئی تھی تو بھی ملاقات نہیں ہوئی مانا کہ باپ کا غم ہے مگر ایسا بھی کیا کہ بندہ آنے جانے والے مہمانوں سے پُرسہ بھی نہ لے سکے "عائلہ کی بابت خالصتاً ٹھوہ لینے والے انداز میں پوچھنے والی یہ مظہر حسین کے ماموں زاد بھائی کی بیوہ بیگم طاہرہ نسیم تھیں صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ بن رہی ہیں اندر سے خوب ہی جانئے ہیں کہ عا ئلہ یہاں موجود نہیں ہے ۔
    بہر کیف اُن کے اِس سوال پرسعدیہ پھوپھو کا پانی کے جگ کی طرف بڑھتا ہاتھ تھم سا گیا ۔”طاہرہ بھابھی !عائلہ تو نہیں آئی شاید کچھ ٹھہر کر آنے کا ارادہ ہے ”
    ” اچھی بہن !سچ کہو یعنی کہ اب بھی نہیں آئی اللہ جانے کیا معاملہ رہا ہو گا ۔ویسے بھی اپنی عائلہ کی یہ love marriage)) ہے ۔ مظہر بھائی اِس رشتے کے شروع سے ہی خلاف تھے کیا پتہ سسر اور داماد میں کب سے سرد جنگ چل رہی ہو جس کا بدلہ اُس نے عائلہ کو مظہر بھائی کی بیماری نہ میں بھیج کر لیا ہو”انہوں نے مانوقیاس کے سمندر میں ساری کشتیاں ڈبو دئیں ۔اگر آپ نے کبھی پمپکن پیچ(pumpkin patch)کی پھولے پھولے گالوں والی خوب گول مٹول اور گوری چٹّی گڑیاں دیکھی ہوں تو اِس لائن کی وہ گڑیا جو بارہ تیرہ سال کی بچیوں کے لیے ہوتی ہے وہ لے آئیں ۔اُسے پاکستان کے کیسی بہترین برانڈ کے کپڑے پہنا کر سر پر دوپٹہ اُوڑھا دیں اور شکل کی ساری معصومیت سرے سے غائب کر دئیں تو ہوبہو نسیم بھابھی بن جاتی ہیں ۔پہنا اُوڑھنا اِن کا شروع سے ہی بہت اچھا رہا ہے اور کیوں نہ ہو ؟دونوں بیٹے خوب اچھا کمارہے ہیں ۔ایک تو کینڈا میں ہے اور دوسرا کوئٹہ میں کوئی لیب شیب چلا رہا ہے جس طرح کی وہ ٹیڑھی ماں تھیں اولاد خود بخود ہی سیدھی رہتی شرافت سے دونوں بیٹے انھیں خوب اچھا پاکٹ منی دیتے ہیںجو بہو پاس تھی شریف خاندان کی قبول صورت مگر کم پڑ ھی لکھی لڑکی تھی جیسے وہ اہتمام سے اپنے ایم ایس سی پاس بیٹے کے لیے بیاہ کر لئیں تھی ۔اب پائوں کے انگوٹھے تلے ایسا دبارکھا ہے کہ اپنے میکے جانا تو درکنار گھر کے دروازے تک اُن کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتی تھی ۔بھلے گھر میں بے چاری کا دم گھٹا جا رہا ہو ۔
    "اچھی بہن!بس اب کیا بتائوں کہ آخری دونوں میں بھیا مرحوم کی شریانوں کی حالت اِس قدر نازک ہوگئی تھی کہ مزید ڈائی لیسیسزDialysis))ممکن نہیںرہا تھا ۔”انہوں نے سعدیہ پھوپھو کے قریب کھسک کر قدرے راز داری سے کہا انداز ایسا تھا کہ جیسے وہ مرحوم کی تیمار داری کے لیے روزانہ آتی رہی ہوں اور سعدیہ پھوپھو کبھی کبھار حالانکہ حقیقت اِس کے بالکل برعکس تھی ۔وہ خود مرحوم کی طویل بیماری میں صرف ایک آدھ بار ہی خبر گیری کے لیے آسکیں تھیں۔
    ”ڈاکٹر نے صاف جواب دے دیا تھا ،دماغ پر اثر ہونے لگا تو سارا سارا دن عجیب وغریب آوازیں نکالتے رہتے۔کیسی پل چین نہیں تھا یوں لگتا کہ موت کا فرشتہ نظر وں کے سامنے ہر وقت موجود ہو مگر تف ہے بھئی آج کل کی اولاد پر کہ ایسے کڑے وقت میں بھی ماں باپ کی دل جوئی کو نہ آسکے۔
    نہ تو عائلہ اُمید سے ہے نہ اس کے بچے شیرخوار ہیں کہ اتنا لمبا سفر ممکن نہ ہو .عائلہ تو گوروں کے دیس میں جا کر بالکل انہی کی طرح سوچنے لگی ہے کہ اپنے شیڈول کے مطابق آنا جانا ہے ماں باپ بھلے اِس کے بچوں کی صورتوں کو ترستے رہیں "وہ کچھ اور آگے کھسک کر مزید گویا ہوئیں۔
    ”ویسے میں اس کے بچوںسے مل چکی ہوں پہلے دونوں ہی عجیب چڑچڑے سے تھے ۔ہر وقت ماں کا پلو پکڑے ہر آئے گئے کو نوچتے کھسوٹتے رہتے ،بولتے ولتے اُس وقت تو کچھ خاص نہ تھے لگتا ہے کہ عائلہ نے کوئی خاص تمیز نہیں سیکھائی ۔امریکہ کے بجائے کسی چک کی پیداوار لگ رہے تھے ۔اب اپنے خرم (اُن کا چھوٹا بیٹا )کے بچوں کو ہی دیکھ لو ‘میں نے پالنے میں ہی آداب سلام کی تمیز سیکھادی تھی ورنہ آتا جاتا تو اُن کی ماں کو بھی کچھ خاص نہیں ہے۔آپ کی بھابی صاحبہ کیا بتا رہی ہیںکہ صاحبزادی کب تک آئیں گی ؟ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید سعدیہ پھوپھو عائلہ کی صفائی ضرور پیش کرتیں مگر اُن کا دل اِس بارعائلہ سے خوب ہی کھٹا ہو ا تھا ۔اگر چے اپنے ہاتھوں کی پالی بچی تھی دلِ ودماغ یہ مانے کو تیار نہیں تھا مگر حالات کچھ یہی خبر دے رہے تھے کہ عائلہ بدل گئی ہے بہت دُکھی دل سے گویا ہوئیں کہ "اُن سے تو ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا ہے ہر ایک کو یہی کہتی پھر تی ہیں کہ باہر والوں کے اپنے سومسلے مسائل ہوتے ہیں جن کا اندازہ ہم پاکستان میں بیٹھ کر نہیں لگا سکتے ۔میرا بھائی تو آخیر تک سب سے پوچھتا رہا کہ عائلہ آگئی کیا ؟میرے سیلمان اور محمد کہا ں ہیں ؟پھر اُن کے معصوم چہرے دیکھنے کی حسرت لیئے لحد میں اُتر گیا بد قسمتی اُس کی بھی کہ باپ کا آخری دیدار نہ کر سکی البتہ حلیمہ بھابھی نے میت کو قبرستان لے جانے سے پہلے پانچ منٹ کے لیے فیس ٹائم پر دیکھایاضرور تھا ۔اُس کے رونے کی ہلکی سی آواز تو میں نے بھی سُنی تھی ۔یہ رونا تو اب عمر بھر کا ہے ۔کچھ بھی کر لو ماں باپ کہاں واپس آتے ہیں ”
    سعدیہ پھوپھوکی بات سنُ کر نسیم بھابھی نے اثبات میں خوب زور سے سر ہلایا پھر اپنے سوجے ہوئے پیر سمیٹ کر اُٹھنے لگ گئیں ۔
    "اچھا اب میں چلوں گی پیر نیچے بیٹھنے سے اور سوج گئے ہیں گھر جا کر اِن کا ذرا مساج کروں تو کچھ سکون آئے ”نسیم بھابھی خود بھی زیابیطس کی مریضہ تھیں مگر پرہیز بالکل بھی نہ کر تیں لہذاکبھی پیر سوجتے تو کبھی چہرہ لیکن اِس کے باوجود بھی خاصی سوشل خاتون تھیں ۔جہاں بھی جاتیں دس پندرہ منٹوں میں مقررہ ہدف پورا کر لیتیں ۔دوسروں کے دل آپس میں کھٹے کر کے خود مطمئن سی جیے جا رہی تھیں ۔
    ”ارے نسیم بھابھی !ذرا روکئیے تو دُعا میں شریک ہو کر ‘دو لقمے کھا کر چلی جائیے گا ۔”سعدیہ پھوپھو نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔ ”اچھی بہن !کھانا تو میں باہرکا کھاتی نہیں ہو ں مگر دُعا میں شرکت لازمی کرو نگی بس میں ذرا لطیف )ڈرائیور)کو فون کر دوں کہ وہ پندرہ منٹ باہر میرانتظار کرے ”نسیم بھابھی نے اپنے کوچ (coach)کے شولڈر بیگ سے آئی فون نکالا اور ڈرائیورکو نمبر ملا کر ہدایت دینے لگ گئیں تو سعدیہ پھوپھو بھی کچن میں ایک نظر ڈالنے کے خیال سے اُٹھ کھڑی ہوئیں ۔

  • اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز



    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
    یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

    غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
    نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

    تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
    دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

    آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
    کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

    اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
    جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

  • حسینہ معین – گفتگو

    حسینہ معین – گفتگو



    حسینہ معین جدید پاکستانی ٹی وی ڈرامے کے موجدوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی اس وقت جوائن کیا جب ڈرامہ بہت گہرے اور سنجیدہ سروں میں تھا ۔ پھر حسینہ معین آئیںاور نہوں نے پی ٹی وی کی سرمئی سکرین پر جیسے رنگ بکھیر دیے۔۔۔

    ایک بہائو سے چلتی ہوئی تیز رفتا ر کہانی۔۔ایسے زندہ ، سانس لیتے کردار کہ جیسے ابھی سکرین سے نکل کر آپ کے سامنے چلنے پھرنے لگیں گے۔ ۔۔بے ساختہ، تیکھے مکالمے کہ ذہن عش عش کر اُٹھے۔۔۔اور کہانی کا مرکزی کردارنبھاتی، ایک مضبوط، ہنس مکھ، بہادر لڑکی۔ 

    یہ سب عناصر نہ صرف حسینہ آپا کی پہچان بنے، بلکہ انہوں نے عورت کو ٹی وی پر لکھے جانے کا ، دکھائے جانے کا ایک نیا انداز بھی بخشا۔ آپ کہانی پڑھنے یا لکھنے کے شوق کے بارے میں سنجیدہ ہوں اور آپ نے حسینہ آپا کے ڈرامے نہ دیکھ رکھے ہوں، یہ دو متضاد باتیں محسوس ہوتی ہیں۔تو آئیے، ملواتے ہیں آپ کو حسینہ آپا سے۔۔۔اور جانتے ہیں ان سے کہانی کی بنت کے راز۔

    الف کتاب : آپا، کچھ اپنے سفر کی شروعات کے بارے میں بتائیے۔کیسے لکھنا شروع کیا آپ نے؟

    حسینہ معین: (مسکراتے ہوئے)میری شروعات؟ اصل میں میں نے لکھناشروع کیا تھا جب میں کلاس 7th میں تھی۔ یہاں سے بچوں کا ایک میگزین نکلتا تھا  ‘بھائی جان’  اورجنگ کا بچوں کا اخبار تھا،جس میں میں نے کچھ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھی تھیں۔پھر کالج کے زمانے کی بات ہے کہ وہاں سرکولر آیا ریڈیو پاکستان سے ،کہ جشنِ تمثیل ہو رہا ہے طلبا ء و طالبات کاتو آپ کے کالج سے بھی ہمیں ٢٥ منٹ کا ایک ڈرامہ چاہیے۔اس وقت میں صرف سیکنڈ ائیر میں تھی۔ہماری اُردو کی پروفیسر تھیں، مسز سلمیٰ حقی، انہوں نے مجھے کہا کہ تم لکھو۔کیونکہ وہ دیکھتی تھیں کہ میں وال پیپر میگزین کے لیے کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی، حالانکہ وہ بس یونہی شرارت کی چیزیں تھیں کہ کبھی کسی ٹیچر کے بارے میں کچھ لکھ دیا کبھی کسی لڑکی کے بارے میں، تو انہوں نے کہا کہ تم لکھو۔ میں نے کہا کہ بھئی مجھے تو نہیں آتا۔یہ ڈرامہ ورامہ تو الگ چیز ہے۔تو انہوں نے کہا کہ نہیں نہیں تم ہی لکھو۔ بس پھر میں نے دو ڈھائی دن میں ڈرامہ لکھ کر انہیں دے دیا۔ کچھ دن بعد اطلاع آئی کہ اسے فرسٹ پرائز ملا ہے۔ہماری پرنسپل نے اسمبلی میں اعلان کیا۔ اس سے بڑی خوشی ہوئی کہ واہ بھئی۔ بس وہ ہماری بریک تھی، سٹارٹنگ پوائنٹ۔اس کے بعد ریڈیو پاکستان والوں نے کہا کہ آپ Studio no. 9 کے لیے لکھیں۔آ پ کی رائٹنگ میچور ہے۔تو میں نے خوشی میں اس پروگرام کے لیے آٹھ دس ڈرامے لکھے۔اس کے بعد میں بی اے کر کے ایم اے میں چلی گئی تو ایم اے چونکہ کچھ مشکل ہوتا ہے تو پھر ڈرامے لکھنا چھوڑ دیے۔پھر ایم اے کیا، پھر بی ایڈ کیا۔ پھر (سوچتے ہوئے)  جب کراچی میں ٹی وی آیا تو انہوں نے ریڈیوکا ایک ڈرامہ لے کر مجھے کہا کہ اسے آپ ٹی وی کے لیےdramatize کر دیں۔ اب ریڈیو کے لیے لکھنا آسان ہے۔ بس آپ کی imagination کام کرتی ہے اور آپ لکھتے چلے  جاتے ہیں۔لیکن ٹی وی کے لیے آپ کو دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ کیا ایسا اصل میں ہو سکتا ہے یا نہیں، ٹی وی کی سکرین پہ اسے کسی physical حالت میں دکھایا جا سکتا ہے یا نہیں۔تو خیر پھر میں نے اسی ڈرامے کو ٹی وی کے لیے لکھ دیا۔ ”نیا راستہ” کے نام سے وہ ڈرامہ چلا۔وہ بھی بہت کامیاب ہوا۔ خیر ہو سکتا ہے اس میں میرا کوئی کمال نہ ہو، کامیڈی کی وجہ سے وہ ڈرامہ مشہور ہو گیا ہو۔ بہر حال پھر مجھے پی ٹی وی والوں نے باقاعدہ بلایا اور کہا کہ آپ عید کے لیے ایک پلے لکھیں۔ پھر میں نے عید کے لیے Happy Eid Mubarak لکھا۔ اس میں مرکزی کردار نیلوفر(عباسی) اور شکیل نے کیے۔وہ بھی بہت پاپولر ہوا۔ اصل میں اس زمانے میں کامیڈی بہت کم کی جا رہی تھی۔ خیر وہ اتنا مشہور ہوا کہ اس کے فوری بعدپی ٹی وی والوں نے کہا کہ اب آپ ایک سیریل لکھیں۔ عظیم بیگ چغتائی کی ایک کتاب تھی، اس میں سے ایک کہانی تھی ”عورت تیرا نام کمزوری”۔۔۔انہوں نے کہا کہ اس پر سیریل لکھ دیں۔ جب میں نے وہ کہانی پڑھی تو وہ بس ایک دس ، بارہ صفحے کا افسانہ تھا، اب اُسے سات قسطوں میں بنانا، میں نے کہا یہ تو بڑا مشکل ہے۔اور وہ تھا بھی 1920ء سے 1930ء کے دوران کا۔اس زمانے کے مزاق بھی الگ تھے، کرداروں کی بنائی بھی، سب الگ تھا۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ اسے چھوڑیں، بس مرکزی خیال لے کر اپنی کہانی لکھ دیں۔Free adaptation۔تو وہ پھر ہم نے شہزوری کے نام سے کیا اور luckily شہزوری بہت زیادہ کامیاب رہا۔

    الف کتاب: شہزوری تو بہت زبردست پلے تھا۔ کمال۔ اتنے برجستہ مکالمے، اور ایسی دلیر لڑکی۔

    حسینہ معین:دیکھو، ٹی وی ڈرامے کی کامیابی، تین لوگوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔رائٹر، ڈائیریکٹر، اور آرٹسٹ۔اگر تینوں میں میل نہ ہو تو ڈرامہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔اور شہزوری میں یہ سب موجود تھا۔ اب جب شہزوری کامیاب ہوا تو بس ایک سلسلہ سا چل پڑا۔



    ٢۔آپ نے پی ٹی وی کے لیے پہلا اوریجنل سکرپٹ لکھا، کرن کہانی۔ اس سے پہلے ناولز کو ڈرامائی تشکیل دی جاتی تھی۔ اس تجربے کے بارے میں بتائیے۔

    حسینہ معین:یہ شہزوری کے بعد ہوا۔ جب شہزوری کامیاب ہوا تو مجھے پی ٹی وی والوں نے کہا کہ اب آپ ایک اور لکھیے، وہ بھی عظیم بیگ چغتائی کی ایک کتاب تھی۔ ۔تب میں نے انہیں کہا کہ دیکھیے ایسا کرتے ہیں کہ میں ایک آئیڈیا دیتی ہوں اور اس پر ہی لکھ لیتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کسی کہانی پہ لکھنے میں بھی اتنی ہی محنت پڑتی ہے کیونکہ کہانی بالکل نئے سرے سے لکھنی ہوتی ہے، صرف مرکزی خیال لیا جاتا ہے۔ توانہوں نے کہا کہ اچھا آپ آئیڈیا دیں۔ تو پھر میں نے کرن کہانی کا آئیڈیا دیا۔شروع میں وہ لوگ بڑے پریشان تھے کہ بھئی پہلے تو ہمارے ہاں ایسا کبھی ہوا نہیں، کیونکہ ہم تو ہفتے کے ہفتے کے حساب سے چلتے ہیں۔ ایک ہفتے کا لکھا اگلے ہفتے میں شوٹ ہوتا ہے اور ریکارڈ ہو کر آن ائیر چلا جاتا ہے۔اب اگر کہانی لکھتے ہوئے آپ کہیں رُک گئیں اور آپ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کہانی آگے کیسے جائے تو ہم تو مارے جائیں گے۔ میں نے انہیں مطمئن کرنے کی بہت کوشش کی کہ ایسا نہیں ہو گا۔ اور تب اس وقت بہت لوگوں نے میرا ساتھ دیا۔افتخار عارف صاحب تھے وہاں، انہوں نے کہا کہ آپ لوگ فکر نہ کریں، یہ کر لیں گی۔محسن علی صاحب نے بھی کہا کہ یہ کر لیں گی۔کنور آفتاب صاحب اس وقت وہاں کے جی ایم تھے۔تو ان سب لوگوں نے اتنا encourage کیا کہ کرن کہانی بن گئی، اور لکھی گئی اور آخر تک ڈائریکٹرز میں ہمارے ساتھ شیرین خان بھی شامل ہو گئیں۔اور وہ بھی بہت اچھی ڈائیریکٹر تھیں۔کرن کہانی کی کامیابی کے بعد پی ٹی وی والوں نے کہا کہ بس اب آپ خود ہی لکھیے، اپنے آئیڈیاز پر۔بس پھر میں نے زیر زبر پیش لکھا، انکل عُرفی لکھا ۔

    الف کتاب: آپ کے یہ تمام ڈرامے بے حد کامیاب رہے، بہت مشہور ہوئے۔ ایک اچھے سکرپٹ کے علاوہ اور کیا وجوہات تھیں ان کامیابیوں کی؟

    حسینہ معین:دیکھیں میری ہمیشہ سے پریکٹس تھی کہ میں دو ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کرتی تھی۔دو اس لیے کہ ایک ڈائریکٹر میرے ساتھ ڈسکس کر رہا ہوتا تھا ، سن رہا ہوتا تھا کہ میں نے کیا لکھا ہے،اور اگر اس کو ٹھیک کیا جائے تو کیسے کیا جائے اور دوسرا ڈرامہ ریکارڈ کروا رہا ہوتا تھا۔لیکن آپ یہ دیکھیں کہ آپ میری جتنی بھی سیریلز دیکھیںگے آپ کو کہیں بھی ڈائریکشن کا فرق نظر نہیں آئے گا۔یہ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے بہت اچھے ڈائریکٹرز ملے۔ شروع ہی سے یہ میرے ساتھ یہ دو ڈائریکٹرز، شیرین خان اور محسن علی چلتے رہے۔ So much so  کہ جب میں نے ہیڈ کوارٹر میں آئیڈیا دیا کہ میں ہنری جیمز کے ناول ”The Portrait of a Lady” پہ لکھنا چاہتی ہوںتو وہاں سے جواب آیا کہ اگر یہ حسینہ کر رہی ہیں تو کرنے دیں لیکن اگر کوئی اور کر رہا ہے تو نہیں ہو گا!



  • منّزہ سہام مرزا – گفتگو

    منّزہ سہام مرزا – گفتگو

    گفتگو

    منّزہ سہام مرزا

    (منّزہ سہام مرزا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ منّزہ اپنے بچپن سے ہی اس شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کے والد سہام مرزا صاحب دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کے مدیرِ اعلیٰ اور بانی تھے۔ اب منّزہ سہام ماہ نامہ دوشیزہ ڈائجسٹ اور سچی کہانیاں کی ادارت کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔)

    ٭ کچھ اپنے حوالے سے بتائیں، آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں؟

    منّزہ: میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں اپنے والد کے ساتھ واقعی میں بچپن سے ہی اس فیلڈ میں ہوں۔ جب وہ آفس جاتے تو میں بھی ان کے ساتھ جایا کرتی تھی۔ میرا شروع سے ہی اس کام کے ساتھ ایک خاص لگاؤ رہاہے، وہ مجھ سے کہانیوں کو ڈسکس کیا کرتے تھے، اچھا بتاؤ یہ افسانے، یہ کہانیاں کیسی ہیں؟ ہمارے ادارے سے بچوں کا رسالہ بھی نکلتا تھا جس کا نام ہی ”بچوں کا رسالہ تھا،” میں اس میں ”کوّا کہانی” کے نام سے کہانی لکھتی تھی، اس کا مرکزی خیال ابّو نے ہی دیا تھا کہ ایک کوّا ایک گھر میں بیٹھا ہے اور وہ اس گھر یا اس جگہ پر جو کچھ دیکھ رہا ہے، وہ سب بیان کررہا ہے۔ تو بہت چھوٹی سی عمر سے ہی بچوں کی کہانیوں میں معاشرے مسائل کو ڈسکس کیا۔ مجھے بلیاں بہت پسند تھیں، پہلی کہانی میں نے پانچویں جماعت میں لکھی تھی جس کا نام بلّی کانفرنس تھا، اور اس کے بعد کوّا کہانی۔ جانوروں کی کہانیاں زیادہ لکھیں۔ ابّو کے انتقال کے بعد جب میں نے آفس سنبھالا تو بہت سی چیزوں کا مجھے نہیں پتا تھا، لیکن ابّو کے ساتھ آفس آتے جاتے بہت سی چیزیں غیر ارادی طور پر میں سیکھتی گئی اور مجھے زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں نے ویسے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔ گریجوایشن میں نے سینٹ جوزف کالج اور ماسٹرز کراچی یونی ورسٹی سے کیا تھا۔

    ٭ آپ جب ایڈیٹنگ کی فیلڈ میں باقاعدہ طور پر آئیں تو اس کے بعد سے آپ نے لکھناترک کردیا یا ابھی بھی جاری ہے؟

    منّزہ: ترک نہیں کیا، میں کالمز لکھتی رہی۔ میرا مزاج تھوڑا سا تبدیل ہوا۔میں پہلے کہانیاں اور افسانے لکھتی تھی، پھر مجھے کالم لکھنے میں مزہ آنے لگا۔ وہ ایک چیز جو میرے اندر شروع سے تھی سوشل ایشوز کو ڈسکس کرنا، وہ افسانے میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن ذاتی طور پر مجھے کم الفاظ میں چیز کہنا یا لکھنا اچھا لگتا ہے تو ظاہر ہے وہ چیز آپ کالم میں کرسکتے ہیں، پھر میں کالمز لکھتی رہی۔ کالمز لکھ کر بھی تھک گئی کہ کچھ فائدہ نہیں ہوتا کتنا آپ لوگوں کوسمجھائیں (مسکراتی ہیں)، کالم لکھنا بھی چھوڑ دیا۔ اس کے بعد میں نے ایک چھوٹی سی ڈائری کے طور پر ‘شہید کی ڈائری’ لکھنا شروع کی جو دو صفحات پر مشتمل ہوتی تھی، وہ 1965ء کی جنگ کا ایک گمنام شہید ہے، وہ جنّت سے بیٹھ کر ہمارے ملک کو کیسے دیکھ رہا ہے، اس کو کیا نظر آرہا ہے۔ وہ سلسلہ چلتا رہا، لیکن اب واقعی میں لکھنے کی فرصت نہیں ہے، جب آپ ایک ادارہ چلارہے ہوتے ہیں تو مشکل ہوجاتا ہے۔ اب دل میرا چاہتا ہے لیکن وقت نہیں مل پاتا۔

  • شکیل عادل زادہ – گفتگو

    گفتگو

    شکیل عادل زادہ

    شکیل عادل زادہ صحافت اورڈائجسٹ کی دنیا کا بے حد معتبر نام ہیں۔ مقبول زمانہ ڈائجسٹ ”سب رنگ” ان کی پہچان بنا۔ 1938ء میں مراد آباد میں پیدا ہونے والے شکیل عادل زادہ کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ چھے سال کے تھے جب والد دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ نامساعد مالی حالات کے باعث خود تگ و دو کرتے ہوئے تعلیمی منازل طے کیں۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے اور بطورِ صحافی اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی محنت اور لگن سے ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے اس درجے تک پہنچے کہ اپنی ذات میں ایک ادارہ بنے۔ انہوںنے سب رنگ کے پلیٹ فارم سے اُردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے بہترین کارہائے نمایاں انجام دیئے۔

    الف کتاب کے کونٹینٹ مینیجر حسن عمر سے ہوئی شکیل عادل زادہ کی گفتگو کا احوال پڑھیے۔

    حسن عمر: ویسے تو ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کی عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں مگر پھر بھی ہمارے قارئین کے لیے مختصراً تعارف کہ آپ کب سے اس فیلڈ میں ہیں، شروعات کیسے ہوئیں؟

    شکیل: میں عملی زندگی میں اخبار کے راستے داخل ہوا تھا۔یہ سفر  رئیس امروہوی صاحب کے روزنامہ ”شیراز” سے شروع ہوا۔ یہ اُس زمانے میں شائع ہونے والا  ایک ناکام پرچہ تھا۔ لیکن جب میں اس سے وابستہ ہوا  تو تب وہ ڈمی (dummy) پر چھپتا تھا۔جب پرچے میں جان نہ رہتی تو پھر ڈیکلریشن زندہ رکھنے کے لیے وہ ڈمی پر چھپا کرتے تھے۔ تو میں نے اسے مزید ڈمی کردیا۔ یہ بات ہے سن ستاون(1957) کی۔چوں کہ کچھ اشتہارات تھے، تقریباً آٹھ نو سو روپے کے، اس زمانے میں آٹھ نو سو روپے بھی بہت ہوتے تھے ، تو ہم یہ کرتے کہ اشتہارات چھاپنے کے لیے چار صفحے کا سنڈے ایڈیشن چھاپتے جب کہ  باقی سولہ صفحے چھاپنے کے لیے ہمیں ڈمی کی مدد لینا پڑتی تھی۔ قانون یہ ہے کہ سولہ پرچوں کی ماہانہ ڈمی اگر داخل کی جائے توڈیکلریشن زندہ رہتا ہے۔ تو چار تو ہم سنڈے ایڈیشن چھاپ دیتے تھے مہینے میں، باقی سپلیمنٹ کے طور پر ایک صفحہ پر مشتمل اخبار روزانہ چھاپ دیتے تھے،جو تقریباً سو کے قریب چھپتا تھا۔ اس میں ہمیں کافی بچت ہونے لگی جس میں سے رئیس صاحب کا ذاتی خرچہ نکل آتا تھا۔ رئیس صاحب سے میرا تعلق یوں ہوا کہ میرے والد اور رئیس صاحب ہندوستان کے شہر مرادآباد سے ایک رسالہ نکالتے تھے جس کا نام تھا ”مسافر”۔ رئیس صاحب تقسیم کے فوراً بعد پاکستان آگئے اور میں کوئی دس سال بعد یہاں آیا۔ یہاں آیا تو کچھ عرصہ اپنے عزیزوں کے ہاں گزارا لیکن بعد میں رئیس صاحب کے گھر ہی رہا۔تو گویا میری لکھنے کی تربیت اسی خاندان میں ہوئی۔ رئیس امروہوی ،سیّد محمد تقی اور ان کے چھوٹے بھائی جون ایلیا کی ہمراہی میں سارا وقت گزرا اور یہی میرا عملی زندگی کا آغاز تھا۔ ہم پڑھتے بھی رہے، اردو کالج میں داخلہ لیا، وہاں سے بی کام کیا، پھر external student کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں اور بعد میں پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرزکیا۔ یہ میری مختصراً روداد ہے (مسکراتے ہیں)

    حسن عمر: سب رنگ کا آئیڈیا کسی نے دیا تھا یا یہ خالصتاً آپ کا اپنا آئیڈیا تھا؟

    شکیل: جی ہاں بالکل! یہ میرا اپنا آئیڈ یا تھا۔ہوا کچھ یوں کہ ”شیراز” تقریباً ایک سال تک چلا۔ جون ایلیا بھی اسی زمانے میں ہندوستان سے آئے تھے اور بہت بیمار تھے۔ انہیں TB تھی ایک طویل علاج کے بعد وہ ٹھیک تو ہو گئے مگر ان کی دوبارہ صحت مند زندگی کی طرف بحالی کے لیے ایک رسالہ نکالا گیا جس کا نام تھا ”انشائ” ۔ یہ ایک علمی اور ادبی پرچہ تھا۔ ادبی کم اور علمی زیادہ تھا کیوں کہ یہ گھرانہ  اپنی  علمی حیثیت سے زیادہ پہچانا جاتا تھا۔ ایک سال کے بعد میں بھی انشاء سے وابستہ ہوگیا۔ انشاء میں مارکیٹنگ یعنی اشتہارات کا حصول اور طباعت کی ذمے داری میری تھی۔ سرکولیشن کا کام ان کے تیسرے بھائی سید محمد عباس کرتے تھے اور پرچے کی ایڈیٹنگ جون ایلیا کرتے۔  رفتہ رفتہ میں بھی ایڈیٹنگ میں دل چسپی لینے لگا۔ انشاء ایک ادبی پرچے کی طرح چلتا رہا اور ہماری سر توڑ کوشش کے باوجود اس کی اشاعت ساڑھے بارہ سو سے آگے نہ بڑھ پائی۔ اس کے کئی تیور اور  روپ بدلے۔۔خواتین کے ٹائٹل بھی لگائے( مسکراتے ہیں) لیکن اس کی سرکولیشن ساڑھے بارہ سو سے زیادہ نہ ہوسکی۔ اس زمانے میں اردو ڈائجسٹ کی بڑی شہرت تھی اور اس کی اشاعتی تعداد نوے ہزار تک جا پہنچی تھی۔ ہم تین لوگوں کا روز گار انشاء سے ہی وابستہ تھا، جون ایلیا، ان کے بڑے بھائی سید محمد عباس اور میں۔۔۔تاثر یہ تھا کہ یہ ہم تینوں کا پرچہ ہے۔ پھر ہم نے الطاف حسن قریشی کے اُردو ڈائجسٹ کی مقبولیت سے متاثر ہوکر انشاء کو ”عالمی ڈائجسٹ” کردیا۔۔ عالمی ڈائجسٹ میں دو ایک سال تک جون صاحب زیادہ مستعدرہے، لیکن ڈائجسٹوں کے بارے یہ تاثر غالب تھا کہ یہ دوسرے درجے کی چیزیں ہیں، جو ابھی تک قائم ہے۔ اس تاثر کے پیشِ نظر وہ اس سے بتدریج علیحدہ ہوتے گئے، اور میں اس میں اسی طرح شامل ہوتا گیا۔ باقاعدہ ادارت میں میرا نام آنے لگا، کہانیوں کے انتخاب وغیرہ میں عباس صاحب میرا ساتھ دیتے۔۔۔اس سے فرق یہ پڑا کہ ڈائجسٹکی اشاعت ساڑھے بارہ سو سے ساڑھے چار ہزار تک پہنچی لیکن پھر وہیں ٹھہر گئی۔ بے حد کوششوں کے باوجود اس میں اضافہ نہ کر پائے۔ پھر مزید چارے کے طور پر  ہم نے کالی مائی ٹائپ کی پراسرار کہانیاں قسط وار شائع کرنا شروع کیں اور اسے فکشن کی طرف لے آئییہ طریقہ کار آمد ثابت ہوا اور اشاعت بیس ہزار تک جا پہنچی۔ لیکن جب اس کی اشاعت بیس ہزار تک ہوئی، تو مجھے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہاں میری حیثیت  ملازم کی سی ہے، جب کہ حقیقت  میں ،میں پارٹنر تھا۔ ایک مشہور ناقد ہیں سید محمد علی صدیقی جو ڈان میں Aerial کے نام سے کالم لکھتے ہیں اور اُردو تنقید میں ان کا بڑا نام ہے۔ انہوں نے میری طرف سے رئیس امروہوی اور سید محمد تقی سے بات کی کہ شکیل کا رسالے  میں کیا حصہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا  کہ شکیل تو مالک ہیں، جیسے جون ویسے شکیل۔ (مسکراتے ہیں) صدیقی صاحب نے مجھے بتایا تو میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں تو وہ کرتے رہتے  ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت بھی تو ہو۔ انہوں نے رئیس صاحب سے دوبارہ بات کی تو انہوں نے کہا کہ دستاویزی ثبوت کیسا، یہ پرچہ تو رئیس صاحب سمیت سب کا ہے، تقی صاحب اور، ان کی اولادوں کا بھی ہے۔ میں نے ان کے رویئے سے بد دل ہوتے ہوئے ‘سب رنگ’ کے نام سے اپنا ایک ڈیکلریشن چپکے سے فائل کردیا تھا ۔ یہ ایوب خان کا زمانہ تھا اور اس زمانے میں ڈیکلریشن کا ملنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا،وہ امپورٹ لائسنس کی طرح ملتا تھا۔ مجھے ڈیکلریشن داخل کیے ہوئے زمانہ ہوگیا۔ بہت کوششوں کے بعد بالآخر نومبر 1979 میں مجھے اس کا ڈیکلریشن مل ہی گیا۔ پیسے ویسے تو میرے پاس اس وقت تھے نہیں، جمع پونجی بھی پانچ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ تو میں نے رئیس امروہوی کو  خط لکھا کہ اگر میرا کچھ بقایا بنتا ہے تو مجھے دے دیا جائے، میں یہ رسالہ چھوڑ رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایک پیسہ نہ دیا، البتہ یہ چاہا کہ میں دوبارہ آجاؤں۔۔میں نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ میں اپنا ایک پرچہ نکال رہا ہوں۔ آخر کار اپنے ان پانچ ہزار سے سب رنگ کی ابتدا کی، کچھ دوستوں نے مدد کی۔عالمی ڈائجسٹ کے زمانے میں جو تعلقات پریس اور بائنڈر سے بن چکے تھے ،انہوںنے بڑی معاونت کی۔پریس والوں نے کہا کہ ہم چھاپیں گے اور جب پرچہ چل نکلے  تو ہمیں پیسے دے دیجیے گا۔ پھرلکھاریوں اور ادیبوں نے بھی بڑا ساتھ دیا۔ پہلا پرچہ ہم نے جنوری 70 میں پانچ ہزار کی تعداد میں چھاپا۔ اس زمانے میں ریڈرز ڈائجسٹ بھی اُردو ڈائجسٹ کی طرح اپنا ایک نام اور مقام رکھتا تھا۔ میں نے سب رنگ کو ریڈرز ڈائجسٹ کی طرز پہ تیار کیا تاکہ لوگوں کو عام ڈائجسٹ سے ہٹ کر کچھ پڑھنے کو ملے۔ پہلا شمارہ ساڑھے تین ہزار بکا، ڈیڑھ ہزار واپس آگیا۔ ہم نے دوسرا پرچہ بھی پانچ ہزار ہی چھاپا، اس میں سے بھی ساڑھے تین ہزار ہی بک سکا۔ یہ صورت حال  خاصی  تشویش ناک تھی۔ چناں چہ ہم نے اپنا رخ فکشن کی طرف موڑا۔ جس طرح ہم فکشن پر مبنی پرچہ عالمی ڈائجسٹ نکالتے تھے، اس ہی طرح ہم سب رنگ میں بھی فکشن پر زیادہ توجہ دینے لگے۔ تیسرا شمارہ بھی پانچ ہزارچھپا لیکن وہ پورا بک گیا۔ چوتھا پرچہ غالباً چھے ہزار چھپا تھا اور جو سب کا سب بک گیا تھا، یہاں تک کہ ہمارے پاس ایک بھی کاپی نہ بچی۔ اسے قارئین کی طرف سے پذیرائی ملنے لگی اور بتدریج بڑھنے لگی اس کی اشاعت بتدریج بڑھنے لگی، پہلے سال اس کی بیس ہزار، دوسرے سال بیالیس ہزار، تیسرے سال باسٹھ ہزار ، چوتھے سال اسّی ہزار، پانچویں سال ایک لاکھ اور پھر یہ ڈیڑھ لاکھ سے اوپر تک بھی چھپا۔ یہ کیوں کر ہوا؟ اس لیے کہ ہم نے بہت صدقِ نیت سے کام کیا، بہت خلوص سے، بہت محنت اور جانفشانی سے اور لوگوں کو وہ معیاری تحریریں پڑھنے کو دیں جو وہ ڈھونڈ رہے تھے۔ میرے بعد عالمی ڈائجسٹ ، جون صاحب کی بیگم زاہدہ حنا نے سنبھالا، انہوں نے بھی اسے بہت بہتر بنایا اور اس کی اشاعت بیس ہزار تک جا پہنچی مگرہم بہت آگے بڑھ چکے تھے۔تو یوں یہ سفر شروع ہوا۔

  • چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

    چشمہ – انعم سجیل – افسانچہ

    چشمہ

    انعم سجیل



    ”امیّ! مجھے فہد سے شادی نہیں کرنی، آپ پلیز تائی جان کو منع کر دیں ۔“

    ”لیکن آخر کیا بُرائی ہے اُس میں؟ پڑھا لکھا ہے، اچھی نوکری ہے اور سب سے بڑھ کر اپنی نظروں کے سامنے پلا بڑھا ہے۔ کوئی وجہ بھی تو ہو انکار کی؟“ زلیخا بیگم نے کڑے لہجے میں اپنی بیٹی صالحہ سے استفسار کیا۔

    ”امّی! آپ کو تو پتا ہے فہد نظر کا چشمہ لگا تاہے اور مجھے کسی ایسے شخص سے شادی نہیں کرنی جس کو میں عینک کے بغیر نظر ہی نا آﺅں۔ آپ بس دوسرے رشتے کو فائنل کر دیں۔“ صالحہ نے جیسے ضد ہی پکڑ لی اور زلیخا بیگم کو اپنی لاڈلی بیٹی کی ضد کے آگے ہار ماننا ہی پڑی۔ یوں صالحہ فیض کی دلہن بن کر اس کے بڑے سے گھر میں آ گئی۔

    فیض ایک کام ےاب اور معروف بزنس مین تھا جس کے لیے سب سے ضروری اس کا کاروبار تھا۔ خوب صورت بیوی کی حیثیت اس کے لیے ایک شو پیس سے زیادہ نہ تھی جس کو گھر میںلا کر سجا وٹ کے لیے رکھ دیا گیا ہو۔یوں تو صالحہ کو آسائشوں کی کمی نہ تھی، کمی تھی تو صرف احساس کی۔ بات صرف ایک نظر کی تھی۔وہ ہر روز تیار ہو کر فیض کا انتظار کرتی اور چاہتی تھی کہ وہ اس کو نظر بھر کر دیکھے ، اس کے حسن کی تعریف کرے، اس کو اپنا وقت دے لیکن فیض کے خیال میں یہ سب فارغ لوگوں کے چونچلے تھے۔اور پھر ہر گزرتے دن نے صالحہ کو باور کرایا کہ بصارت کم زور ہونے پر تو چشمہ لگا کر سب کچھ ٹھیک سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اگر آنکھوں پر بے حسی کا ان دیکھاچشمہ لگا ہو تو بھرپور بصارت کے باوجود بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

    ٭….٭….٭



  • ترجیح – صبا سید– افسانچہ

    ترجیح – صبا سید– افسانچہ

    ترجیح

    صبا سید



    ”باجی! تھوڑی مدد کر دےں۔ بچے کو بکھار (بخار) ہے دوائی کے پیسے نہیں۔“

    ”جاﺅ بھئی معاف۔۔۔۔۔“ میرے جملے کے اختتام سے پہلے ہی سمیعہ نے جھٹ پچاس کا نوٹ اسے پکڑا دیا۔

    ”خواہ مخواہ پیسے دیے، ڈرامے ہیں ان کے صرف۔ میں یہاں ہر ہفتے آتی ہوں، اس کے بچے کو ہمیشہ بخار ہوتا ہے؟“ میں نے اسے بتایا۔

    ”اور تم تو سوشل ورک کرتی ہو، تم تو ان لوگوں کو بہتر جانتی ہوگی۔تم کیسے بے وقوف بن سکتی ہو ایسے لوگوں کے ہاتھوں؟“ مجھے حقیقتاً اس کی بے وقوفی پر حیرانی ہوئی تھی۔

    ”ہاں جانتی ہوں، مجھے معلوم ہے یہ سب ڈرامہ ہے۔۔۔“اس نے آہستہ سے کہا۔

    ”مگر میں بے حس ہونے سے زیادہ بے وقوف ہونے کو ترجیح دیتی ہوں۔“