Tag: انسپیکٹر جمشید سیریز

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۸

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۸

    از: سارہ قیوم

    نویں رات

    جانا حسن بدرالدین کا محبوبہ کے مکان پر

    رات کو جب سلطانِ داراجاہ، گیتی پناہ کو گزشتہ شب کا قصہء دلچسپ یاد آیا تو فوراً شہرزاد کو طلب فرمایا اور کہا، اے طوطی شکر فشانِ خوش بیانی و عندلیب ہزار داستانِ شاخسارِ نکتہ دانی، تیری قصہ خوانی سے میرا دل بدرجہء غائت مسرور ہے اور تیرا کلام اور بیانِ شیریں مشہورِ نزدیک و دور ہے۔ شہرزاد جھک کر آداب بجا لائی اور یوں عرض پرداز ہوئی کہ حسن بدرالدین نے دروازہ کھول کر جو ایک حسینہ خوبرو، عربدہ جُو، قوس ابرو کو دیکھا تو دیکھتے ہی شیفتہ و والا ہوا۔ عشق کا بول بالا ہوا۔ ابھی اس کے حسن و جمال کی دیدمیں محو تھا کہ وہ نازنین اٹھلا کر بولی: ’’اللہ حسن بھائی، اب رستہ دیں گے یا یہیں کھڑا رکھیں گے؟‘‘
    آواز کیا تھی مندر کی گھنٹیاں تھیں۔ حسن بدرالدین عش عش کرنے لگا، جامے میں پھولا نہ سمایا۔ دل چاہا اسی وقت ہاتھ تھام لے اور اظہارِ عشق کرے اور کہے۔ ’’پیاری، میں تجھ پر اپنی جان نثار کرتا ہوں، تہہِ دل سے تجھ سے پیار کرتا ہوں۔ اے زہرہ جمال، ناہید نغمہ، پروی وش وپری رُو۔ آئیلویُولُو، آئیلویُولُو۔‘‘ لیکن قبل اس کے کہ ہاتھ پکڑ پاتا اور اپنے ارادے کو عملی جامہ پہناتا، پیچھے سے زلیخا کی آواز آئی۔ ’’کون آیا ہے حسن؟‘‘
    اس پری رُو حسینہ نے نزاکت سے حسن کے پیچھے جھانک کر صحن میں کھڑی زلیخا کو دیکھا اور اٹھلا کر بولی: ’’ہائے زلیخا۔ ہاؤ آر یو؟‘‘
    زلیخا بھی مسکرائی اور بولی۔ ’’آؤ کرن۔ آج صبح صبح کیسے؟‘‘
    وہ حسینہ مہ جبینہ کہ نامِ نامی جس کا کرن تھا، ناز سے بولی: ’’آج پریکٹیکل ہے میرا ،اور اوورآل نہیں مل رہا۔ میں نے سوچا تم سے پوچھ لوں۔ تمہارے پاس تو پری میڈیکل کا رکھا ہو گا نا۔ اب تو ضرورت نہیں ہو گی تمہیں؟‘‘
    زلیخا کے چہرے کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی۔ آہستہ سے بولی: ’’ہاں رکھا ہے۔ تم بیٹھو میں لا کر دیتی ہوں۔‘‘
    حسن نے بسر و چشم راستہ دیا اور کرن اپنی پتلی کمر لچکاتی اندر آئی اور تخت پر بیٹھ گئی۔ پھر اس کی نظر صحن میں کھڑے حسن پر پڑی، دونوں کی آنکھ لڑی۔ کرن مسکرائی، حسن کی خوب بن آئی۔ بے جھجک اس کے پاس تخت پر جا بیٹھا۔ وہ ناز سے کھسک کر دور ہوئی تو یہ اور آگے بڑھا۔ اُس نے ٹھنک کر منہ بنایا، اِس نے ہاتھ پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا، ابھی یہ لگاوٹ بازی جاری تھی کہ کنیز وہاں بلائے درماں کی طرح آٹپکی۔ حسن کو محبوبہ پری وش کے ساتھ بازو بھڑائے بیٹھے دیکھا تو آنکھیں مٹکا کر بولی: ’’آپ یہاں کیا کر رہے ہیں حسن بھائی؟‘‘
    اس مداخلتِ بے جا پر حسن بہت جھلایا۔ بڑا غصہ آیا۔ ڈانٹ کر بولا: ’’دور ہو۔ تیرا یہاں کیا کام ہے؟ یہ کنیز بڑی بے لگام ہے۔‘‘
    یہ ڈانٹ سن کر کنیز کو غصہ آیا۔ چمک کر بولی: ’’مجھ پہ کیوں ناراض ہو رہے ہیں؟ مجھے پتا ہے کن چکروں میں ہیں آپ۔ میرے سے بنا کے رکھیں ورنہ کام نہیں بننے دوں گی آپ کا۔‘‘
    اسی وقت زلیخا باہر آئی اور ہاتھ میں پکڑا سفید رنگ کا جبہ کرن کے ہاتھ میں تھمایا اور کہا: ’’لو ،کرن۔ تم رکھ لو یہ اوورآل۔ اب مجھے اس کی ضرورت نہیں رہی۔‘‘

  • شریکِ حیات قسط ۶

    شریکِ حیات قسط ۶

    شریکِ حیات قسط ۶

    باب ششم

    نیلے آسمان سے سفیدی غروب تک گھٹ جاتی تھی۔

    یہ ستاروں کی آمد کے اوقات تھے۔

    جب دھیرے دھیرے زمین والوں کی نظر کے کھیل سے اوجھل آنکھ بچاتے کھیل نچاتے، ستارے ایک ساتھ ہی نمودار ہونے لگتے تھے۔

    یہ وقت تھا گرمیوں کے زوال کا۔

    یا پھر موسم کی آنکھ مچولی کا کہ دن میں فصلیں پکاتا سورج گرمی کے شرارے ایسے زمین پر پھینکتا جیسے سرکس باز، تماش گر منہ میں تیل چھڑک کر آگ کے شرارے منہ سے نکالتا ہو۔

    اور غروب تک ایسے ہوجاتاجیسا زمین پر آگ کی یہ ہولی کبھی نہ چلی ہو۔ یہ درمیانہ موسم ناچتا کھیلتا، تیز ہوا کے جھکڑ چلاتا، جھومتا جھامتا ہوائوں پر کھیلتا غروب کے بعد آنے والی رات کی چادر بچھاکر ہر اک گرماہٹ کو ٹھنڈا کردیتا تھا۔

    ایسے میں دیہات کے سادہ لوح لوگ، آدمی، عورتیں، بچے اس وقت صحنوں میں چارپائیاں ڈالے مٹی سے لیپ کیے صحنوں میںچارپائیوں پر طویل تکیے رکھ کر سو لیتے۔ دن کی تھکن کو گھٹانے کی کوشش میں کھیت، کھلیان، پڑوس، محلہ کھیتی، کھلیان، کمہار، لوہار، زر، زمیندار سب کی کچہریاںسجنے لگتیں۔

    صحنوں میں عورتیں بیٹھیں گیت گنگناتیں یا بھرت، کڑھائی، کپڑا، سلائی،دھلائی، بُنائی، مال مویشیوں کے چارے باڑے کا انتظام ہوتا پھر چولہے پھونکتے رات کا دال دلیہ ساگ روٹی مکئی مکھن چاول گڑشیرہ بنانے بیٹھتیں۔ ساتھ کچے چولہے کے گرد کچی اینٹوں سے بنی چوکی پر دو تین چار عورتیں چوکڑا مارے کوئی پیاز چھیلتے، کوئی چولہے میں لکڑیاں جھونکتے، کوئی سبزی ساگ صاف کرتے، کوئی چاول چنتے ہوئے باتیں کرتی رہتیں۔ اور اسی طرح سندھو اورسوہائی اماں کی نظر سے ہٹ کر کانوں میں پھسپھساتے ہنستے ہنساتے پیاز، مٹر، گوبھی، پالک، دال، دلیہ، ساگ، چاول پکاتے، ہنڈیا چڑھاتے بہت سی باتیں کرتیں یعنی آج کی نئی کہانی کیا ہے؟

    سندھو جو نت نئی کتابی کہانیاں پڑھ ڈالتی سوہائی کو فیض یاب کردیتی اور اسی طرح آج بھی ہوا۔

    ”تجھے پتا ہے سوہائی سارنگ اور سندھو والی کُل ملا کے پنج کہانیاں ہیں۔

    پہلی میں سارنگ بت تراش اور سندھو دیوی۔

    سارنگ کے ہاتھ کاٹ لیے جاتے ہیں۔ سندھو دیوی کی قربانی ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ سندھو سارنگ نے نہیں ملنا۔

    دوسری داستان، سارنگ بنا گھڑ سوار اور سندھو ہائے سوہائی مت پوچھ دونوں کے بیچ کی وہی جدائی، وہی مات۔

    آخری سندھو سارنگ وہ جب پاکستان آزاد ہوا۔

    سندھو رہ گئی زمین کے اک ٹکڑ پرہند میں اور سارنگ رہ گیا پاکستان۔دونوں کے بیچ لمبی سرحد۔

    پہاڑ ،پربت۔

    سندھو افسردہ۔

    پر سندھو تُو اور ادا سارنگ جو مل گئے ۔سوہائی کہتی۔ 

    مگر سندھو کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کچھ۔ کچھ ایسا جو سوہائی کبھی نہ سمجھ سکتی۔ وہ بھلا اسے کیا سمجھاتی کہ پگلی یہ ملنا بھی کوئی ملنا ہے۔ وہ یہ سب سوچتی ہی رہ جاتی کہتی کچھ نا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۸

    شریکِ حیات قسط ۸

    شریکِ حیات قسط ۸

     باب ہشتم

    وہی ان ہونی جو ہونی سے ذرا پہلے ہوجاتی ہے۔

    اور پھر صورت حال آپ کے سامنے الٹے تختے کی طرح آجاتی ہے، بچھ جاتی ہے، نہیں پتا چلتا کہ دھرتی اُلٹ گئی یا پھر آسمان بدل گیا یا پھر چاند سو گیا۔

    روشنی بجھ گئی ہے رات کی یا پھر سویرا نہیں ہوا۔ دھرتی گول گھوم گئی ہے یا پھر مرکز نہیں رہا۔

    سب پلٹ جاتا ہے۔کھیل پلٹ جاتا ہے۔تختہ الٹ جاتا ہے۔چابی گھما دی جاتی ہے۔

    چابی ہی گھما دی گئی تھی، اسٹیج پر جیسے کٹھ پتیلوں کے کردار تیزی سے بدلتے گئے۔

    جو جس کا اصل کردار ہو اسے سونپا گیا۔ تیزی سے جیسے چیزوں کا ملمع اُترنے لگا یا پھر ارادوں کا روپ بدل گیا۔

    جو بھی ہوا، حیات گردش میں آگئی۔

    ایک دن کی شام نے بس لمحے کا کھیل کھیلا تھا۔

    سواری الٹی، سمجھو زندگی پلٹ گئی، ہاتھ سے اسٹیرئنگ چھوٹا، مانو اختیارات گئے سفر کے، ایک دھکا لگا۔

    حادثہ، جو جان دار کو بے جان کردے۔

    حادثہ، جو چلنے والے کو معذور کر دے۔

    حادثہ، وہی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔

    حادثہ، جسے عام زبان میں ان ہونی کہا جاتا ہے۔

    اور سارنگ کے ساتھ وہی انہونی ہوئی تھی جس دن وہ سواری سے سڑک پر نہ آسکا۔

    جس دن اس سے اختیار چھوٹا۔

    جس دن معمولی سی بے احتیاطی نے اسے کچل دیا اور اس کے ساتھ وہ ہوگیا۔

    جسے عام فہم زبان میں لوگ بُرا کہتے ہیں۔اس کے ساتھ برا ہوگیا۔

    ایک روڈ ایکسڈنٹ نے زندگی کی شکل بگاڑ دی، وہ بدل نہ سکا۔

    کہتے ہیں تعلقات پنیری کی طرح ہوتے ہیں۔ پودا لگاتے ہیں، بیج اُگاتے ہیں، پھر انہیں پانی آپس کا پیار دیتا ہے۔ خوب صورت محبت کرتی ہے اور جڑ بھروسہ مضبوط کرتی ہے۔

    وہ سوچتی رہی ہم نے شاید پنیری ہی لگائی تھی اور ہم اسے پروان نہ چڑھا سکے۔

    ایک تعلق جس کی بنیاد خاندانی دباؤ تھا۔

    ایک تعلق جس کی بنیاد کمزوری تھی، مجبوری تھی اور اس تعلق کو دیکھا جائے تو صرف مجبوری اور کمزوری نے ہی جوڑے رکھا تھا۔

    جب کمزوری اور مجبوری ختم ہوجاتی ہے تب تعلق بے جوڑ سا بے معنی سا دکھنے لگتا ہے۔

    جب پیار اور بھروسے کی بات آتی ہے تو سب کچھ بھر بھری مٹی کی طرح ڈھے جاتا ہے۔

    صرف اور صرف سوال اٹھتے ہیں۔

    اور وہ سوال بے جواب ہی مر جاتے یا دبا دیے جاتے ہیں۔ تعلق پھر اسی نہج پر آکھڑا تھا، یعنی جہاں سے دنیائیں دو ہوجاتی ہیں۔ جہاں سے زنجیر کاہُک کھلنے لگتا ہے۔ احساس کی زنجیر ٹوٹنے لگتی ہے اور بکھرنے تک کا وقفہ ہوتا ہے۔

    اس نے پھر سے اسی ہمت کو جمع کرکے کہا تھا۔ ”سارنگ اب وقت آگیا ہے شاید، مجھے اب چلے جانا چاہیے۔ ایک وہ وقت تھا جب آپ پر فرائض تھے۔ آپ نے مکمل کیے بہادری سے، میں اپنی باری کھیلے بغیر ہی جارہی تھی۔مجھے تقدیر نے پھر روک دیا۔اس بار میرا امتحان تھا۔میں پاس ہوئی یا فیل، یہ آپ جانتے ہیںیا میرا اللہ جانتا ہے،بس میں بھاگی نہیں میدان چھوڑ کر،بس میں نے رستہ پکڑ لیا، میں لوٹ گئی۔میرے لیے انہیں رستوں کے دروازے اب دوبارہ کھل گئے ہیں،مجھے بلاتے ہیں، شاید مجھے اب جانا ہے۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔آپ دوبارہ اپنے مقام پر آگئے ہیں۔سب کچھ وہی ہے سارنگ،تکلیف دہ وقت گزر چکا ہے۔ مشکل ہی تھا مگر گزر گیا۔ وہی گھر، کھڑکی، دروازہ، وہی رستہ، وہی لوگ۔” اسے لگا چابی گھومنا رُک چکی ہے۔ وہ شل ہوکر تھکن سے گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی تھی۔

    ”میں تھک چکی ہوں۔” یہ دبی آواز میں کہا گیا جملہ تھا جو سارنگ کے کانوں نے سن لیا اور اس کی آنکھ کے گوشے میں، ایک بے نام سا رشک،ایک آنسو جو دل کی خاموشی ٹوٹنے پر آنکھوں میں آجاتا ہے۔ وہی آنسو بے وجہ سا یا بہت وجہ سا پل، لمحے، بھروسے اور محبتیں، دوست اور لوگ؟ سب سوال۔

    اس نے سوچا شیبا سے جاکر پوچھے یا پھر سندھیا سے،مگر وہ پہلا سوال خود سے کر بیٹھا تھا۔اسی لیے خطا کھا گیا۔

    پتّا ایک بار اس کے سامنے پھینکا گیا تھا۔چال اسے چلنی تھی۔جوابی پتّا اسے پھینکنا تھا۔

    گیند قسمت نے ایک بار پھر اس کی جیب میں ڈال دی تھی۔

    پھینکنے پر چھکّا ہوتا تو بھی مار پڑتی۔

    آؤٹ کرتا تو جیت اس کی۔ گیند ایک ہی تھی اور باری آخری۔ سارا کھیل بدل جانا تھا۔ میدان منتظر تھا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۷

    شریکِ حیات قسط ۷

    شریکِ حیات قسط ۷

    باب ہفتم

    نیلے آسمان سے سفیدی غروب تک گھٹ جاتی تھی۔

    یہ ستاروں کی آمد کے اوقات تھے۔

    جب دھیرے دھیرے زمین والوں کی نظر کے کھیل سے اوجھل آنکھ بچاتے کھیل نچاتے، ستارے ایک ساتھ ہی نمودار ہونے لگتے تھے۔

    یہ وقت تھا گرمیوں کے زوال کا۔

    یا پھر موسم کی آنکھ مچولی کا کہ دن میں فصلیں پکاتا سورج گرمی کے شرارے ایسے زمین پر پھینکتا جیسے سرکس باز، تماش گر منہ میں تیل چھڑک کر آگ کے شرارے منہ سے نکالتا ہو۔

    اور غروب تک ایسے ہوجاتاجیسا زمین پر آگ کی یہ ہولی کبھی نہ چلی ہو۔ یہ درمیانہ موسم ناچتا کھیلتا، تیز ہوا کے جھکڑ چلاتا، جھومتا جھامتا ہوائوں پر کھیلتا غروب کے بعد آنے والی رات کی چادر بچھاکر ہر اک گرماہٹ کو ٹھنڈا کردیتا تھا۔

    ایسے میں دیہات کے سادہ لوح لوگ، آدمی، عورتیں، بچے اس وقت صحنوں میں چارپائیاں ڈالے مٹی سے لیپ کیے صحنوں میںچارپائیوں پر طویل تکیے رکھ کر سو لیتے۔ دن کی تھکن کو گھٹانے کی کوشش میں کھیت، کھلیان، پڑوس، محلہ کھیتی، کھلیان، کمہار، لوہار، زر، زمیندار سب کی کچہریاںسجنے لگتیں۔

    صحنوں میں عورتیں بیٹھیں گیت گنگناتیں یا بھرت، کڑھائی، کپڑا، سلائی،دھلائی، بُنائی، مال مویشیوں کے چارے باڑے کا انتظام ہوتا پھر چولہے پھونکتے رات کا دال دلیہ ساگ روٹی مکئی مکھن چاول گڑشیرہ بنانے بیٹھتیں۔ ساتھ کچے چولہے کے گرد کچی اینٹوں سے بنی چوکی پر دو تین چار عورتیں چوکڑا مارے کوئی پیاز چھیلتے، کوئی چولہے میں لکڑیاں جھونکتے، کوئی سبزی ساگ صاف کرتے، کوئی چاول چنتے ہوئے باتیں کرتی رہتیں۔ اور اسی طرح سندھو اورسوہائی اماں کی نظر سے ہٹ کر کانوں میں پھسپھساتے ہنستے ہنساتے پیاز، مٹر، گوبھی، پالک، دال، دلیہ، ساگ، چاول پکاتے، ہنڈیا چڑھاتے بہت سی باتیں کرتیں یعنی آج کی نئی کہانی کیا ہے؟

    سندھو جو نت نئی کتابی کہانیاں پڑھ ڈالتی سوہائی کو فیض یاب کردیتی اور اسی طرح آج بھی ہوا۔

    ”تجھے پتا ہے سوہائی سارنگ اور سندھو والی کُل ملا کے پنج کہانیاں ہیں۔

    پہلی میں سارنگ بت تراش اور سندھو دیوی۔

    سارنگ کے ہاتھ کاٹ لیے جاتے ہیں۔ سندھو دیوی کی قربانی ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ سندھو سارنگ نے نہیں ملنا۔

    دوسری داستان، سارنگ بنا گھڑ سوار اور سندھو ہائے سوہائی مت پوچھ دونوں کے بیچ کی وہی جدائی، وہی مات۔

    آخری سندھو سارنگ وہ جب پاکستان آزاد ہوا۔

    سندھو رہ گئی زمین کے اک ٹکڑ پرہند میں اور سارنگ رہ گیا پاکستان۔دونوں کے بیچ لمبی سرحد۔

    پہاڑ ،پربت۔

    سندھو افسردہ۔

    پر سندھو تُو اور ادا سارنگ جو مل گئے ۔سوہائی کہتی۔ 

    مگر سندھو کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کچھ۔ کچھ ایسا جو سوہائی کبھی نہ سمجھ سکتی۔ وہ بھلا اسے کیا سمجھاتی کہ پگلی یہ ملنا بھی کوئی ملنا ہے۔ وہ یہ سب سوچتی ہی رہ جاتی کہتی کچھ نا۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۵

    شریکِ حیات قسط ۵

    شریکِ حیات قسط ۵

    باب پنجم 

     

    کسی نے سنا؟

    مولا بخش مر گیا۔

    اس کے مرنے کا یقین کون کرے گا؟

    چارپائی پر خاموش پڑا بے فکر سا وجود، ہلکا پھلکا سا، کوئی فکر نہ فاقہ۔

    اوہ مولا بخش تو اپنی ساری فکریں یہاں ہی چھوڑ گیا۔

    اب کہنے سننے کو کچھ نہ تھا۔ کہا نہ تھا کہ بندہ خاک ہے، ایک دن خاک میں مل جانا ہے۔مٹی کو مٹی میں دفن ہونے دے۔

    ”سبھاگی اب دل بجھ گیا ہے۔تیرا مولا بخش تھک گیا ہے۔” چار چھ دن پہلے بخارمیں تپتے وجود پرجب اس نے ہاتھ رکھا تومولا بخش کا جسم تپ رہا تھا۔

    ”لگتا ہے بخار تیرے سر چڑھ گیا ہے سندھیا کے ابا۔ سٹھیا گیا ہے تو، دماغ پھر گیا ہے تیرا، کیا اُلٹی سیدھی ہانکے جا رہا ہے۔” وہ بگڑاُٹھی۔

    ”اب نہ بگڑیں، نہ کاوڑ جیں (خفا ہونا) نہ بُرا بھلا کہیں۔ اپنے سارے نخرے اپنے مولا بخش تک رکھیں مگر خوش رہیں۔”

    ”توچریا ہو گیا ہے مولا بخش۔ مت ماری گئی ہے تیری۔”

    ” او مت نہیں مری میری سندھو کی ماں۔ دعا کر مت کبھی نہ مرے، مت مرنے سے پہلے مولا بخش مر جائے۔ ”

    ”اللہ نہ کرے مولا بخش۔ بس بھی کردے۔”

    ”تجھے پتا ہے سندھو کی ماں! مٹی کا پتلا جب زمین پر چل چل کر تھک جاتا ہے، جب اُسے دانہ اُگانے کی سکت نہ رہے تو سمجھو دانہ پانی ختم ہوا، اُٹھ گیا۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ کھیتوں کے کاموں سے بے زار ہوا،جی چرایا یا یہ کہا کہ تھک گیا ہوں۔”

    پہلی بار کہا تولمحہ بھرکے لیے توسبھاگی نے بھی بھری آنکھوں سے دیکھتے ہی دل تھام لیا۔” ایسا نہ کہو مولا بخش تو ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟سندھو کی خوشیاں کون دیکھے گا بھلا ؟چریا ہواہے کیا؟ ”

    ”چریا نہیں سیاٹا ہوں۔ تیرا مولا بخش سیاٹا ہے۔ او سبھاگی دیکھ، مٹی کو مٹی سے بڑا قرار آتا ہے۔ تیرا مولا بخش راج کرے گا، وہاں سکھی رہے گا۔پھر دیکھ زمین کے اندر کھیتی کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، بغیر کھیتی کے اناج دیتی ہے۔ وہاں شاید اناج کی بھی حاجت اور ضرورت نہ ہو۔”

    ”دیکھ تو نے آج مجھے رُلا دیا۔ اپنی سبھاگی کو رُلا دیا ہے تو نے۔” اُٹھ کر جیجی کے پاس گئی۔ ”جیجی ماں کوئی دم درود؟ کوئی تسبیح صلوٰة مولا بخش سٹھیا گیا ہے۔ بخار سر چڑھ گیا ہے، الٹی سیدھی ہانکے جا رہا ہے۔ چپ ہی نہیں ہوتا ۔”

    جیجی اٹھ کر مولا بخش کے کمرے تک آئیں، سر پہ ہاتھ رکھا۔ ”بخار تو اب کم ہے اس کا۔”

    ”لے تو کیا گالھ کر رہا ہے مولا بخش، سبھاگی کو رلایا ہو اہے آج تو نے۔”

    ”جیجی ماںگود میں سر رکھنے دے پھر بتاتا ہوں۔”

    جیجی ماں نے گود میں پناہ دی۔ مولا بخش نے سر ٹیکا۔

    ”او دیکھ جیجی ماں!

    دنیا کے سارے مرد روکھے۔

    ساری مائیاں سوکھیں۔

    شوہر سارے نکمے۔

    بیویاں سگھڑ سوہنڑیں۔

    مولا بخش کوجا سبھاگی چاندی۔”

    ”اس کی باتوں کا اعتبار نہ کریں جیجی ماں۔یہ پل میں کچھ تو پل میں کچھ کہتا ہے۔”

    ”یہ کہہ کیا رہا تھا تو ہی بتا دے۔”

    مولا بخش نے آنکھوں کے اشارے سے اُسے کچھ کہنے سے روکا۔ یہ نہیں کہ مولابخش کا ڈر تھا بلکہ بات ہی ایسی تھی، جو وہ منہ سے نہیں کہہ سکتی تھی۔کہتے ہوئے سو دفعہ ڈرتی تھی۔ کبھی کہتے ہیں منہ کا کہا بھی سُن لیا جاتا ہے۔

    وہ چپ ہو گئی خاموش رہی کچھ نہ بولی۔جیجی کو تسلی ہوئی کہ چلو بخار تھا جو ہلکا ہو گیا ہے۔ اب سب ٹھیک ہے۔

    سب ٹھیک ہے کا کھیل کس قدر جان لیوا ہوتا ہے کبھی کبھار۔ وہ جب انسان سب ٹھیک ہے اپنی زبان سے کہتا ہے اور دل و دماغ نفی کرتے ہیں تو لگ پتا جاتا ہے۔

    دھڑکا لگ جاتا ہے اور پھر تب تک لگا رہتا ہے، جب تک ہاتھ دھڑکن پر رہے۔

    ٭…٭…٭

  • شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

    شریکِ حیات قسط ۴

     باب چہارم

    ”سارنگ سندھ میںمحبوب کو کہتے ہیں۔” بڑا مان تھا اُس کے لہجے میں۔

    ”تمہیں خوشی ہوتی ہو گی بڑا خوب صورت سا سمبل ہے۔”

    ”مجھے محبوب بننے سے زیادہ ایک کامیاب انسان بننے کی جستجو ہے۔” اس کا لہجہ بہت سادہ تھا۔

    ”تم نے محبوب ہونے کا ذائقہ چکھا نہیں اس لیے کہہ رہے ہو۔” جواب میں کسک کا احساس تھا۔

    وہ فراز سلیم تھا، جنوبی پنجاب سے اس کا تعلق تھا۔ وہ بھی اسپیشلائزیشن کے لیے آیاتھا۔

    مگر اسے بھی اسپیشلائزیشن سے زیادہ موسیقی میں دل چسپی تھی۔ گائیک بننا اس کا خواب تھا، مگر اس کے گلے کے سُر نے اس کی اس خواہش کا گلا بُری طرح سے گھونٹ دیا تھا۔اس کے بعد اسے طبلہ بجانے میں دل چسپی محسوس ہوئی تو اس نے طبلہ بجانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔ وہ ڈرم بھی بہت اچھا بجاتا تھا۔

    کل کے کنسرٹ میں وہ بھی شریک تھا، جو اپنی خواہش کی ناکامی کے بعد ماں کی خواہش پر ڈاکٹر بن کر اسپیشلائزیشن کرنے یہاں آیاتھا اور پہلے ہی سمسٹر میں بُری طرح سے پھنس گیا تھا۔یہی ٹینشن تھی جس نے اس کی راتوں کی نیند اُڑا دی تھی اور وہ ایک رات کو بہار کرنے کے لیے سارنگ کے ساتھ کنسرٹ کا حصہ بن گیا تھا اور سارنگ کی بجائی بانسری اور گائیک کے لفظ جیسے اس کے دل پر اثر کر رہے تھے۔

    جب مائیک تھامنے سے پہلے سنگر نے سارنگ کی طرف دھن چھیڑنے کا اشارہ کیا۔سب سے پہلی دُھن بانسری کی دُھن تھی اور کیا لَے تھی جیسے دل ہچکولے کھاتا ہوا تھر کے ریگستان میں سہج سہج کر چلتے ہوئے اونٹوں کی چالوں جیسا ہو جائے۔

    بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہوئی تھی۔سسی جسے عام سندھی میں سسوئی کہا جاتا تھا۔ وہ سسی جو بھنبھور کی رہنے والی تھی۔گیت میں سسی کا درد شاعر نے پوری طرح سمو دیا تھا۔ گیت آواز، سر، لے، دھن اور ساز کے ساتھ بجتا ہوا سماعتوں میں ایک جادو جگا گیا، لوک داستانی رنگ چڑھ گیا۔

    دوسرے دن شام ڈھلے ٹریننگ سینٹر سے چھٹی ہونے کے بعد وہ پورا گروپ فراز سلیم، سارنگ، پوجا، صنم اور شیبا سمیت کیفے کے باہر بیرونی پارک میں کل کے گیت، سر اور کہانی پر بات کر رہا تھا۔ جب بات سسی کے بھنبھور سے شروع ہو کر سارنگ کے محبوب پر ختم ہو گئی۔

    اور کبھی وہیں سے شروع ہونی تھی۔

    ٭…٭…٭

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۷

    قصہ آئیلویُولُو کا

    آٹھویں رات:

    شہرزاد نے اپنی سحربیانی اور شیریں زبانی سے سات راتوں تک تو خدا خدا کر کے قتل سے جان بچائی۔ جب آٹھویں رات آئی تو شاہِ کیواں جاہ کو آداب بجا لائی اور یوں سلسلہ سخن کو شروع کیا کہ راویانِ طلیق اللسان نے بیان کیا ہے کہ حسن بدرالدین کو بدقسمتی اور خوبی طالع نے زار زار رلایا اور دیر تک پھوٹ پھوٹ کر رونا آیا۔ آخر کہا، لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ وہ قادرِ مطلق ہے اور اس کے مرضی کے بغیر کسی کو کوئی قدرت حاصل نہیں۔ میں نے لاکھ جتن کیے کہ احوالِ مراد داستانِ جگر خراش لوگوں کو سناؤں، اپنی مصیبت کا کوئی حل پاؤں مگر کسی نے میری بات نہ سنی۔ سب بے سود ہے، انجام مراد و کشود کا بہر نوع مفقود ہے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یہیں زندگانی گزاروں اور جنابِ باری کا شکر بجا لاؤں کہ بے شک اس زمانہء دہشت خیز میں پہنچایا پر ملک الموت سے نہ ملوایا۔ اب صابر شاکر رہوں اور مردانہ وار زندگی کی مشکلوں کا مقابلہ کروں۔ ہمت مرداں مددِ خدا۔

    خود سے یہ عہد کر کے حسن بدرالدین اس گھر میں رہنے لگا۔ وہ گھر جہاں محبت کرنے والی نانی تھی، ایک مسکین مرنجاں مرنج ماموں تھا، ایک بد مزاج و ترش کلام ممانی تھی۔ شعلہ رخسار و گلعذار زلیخا تھی اور بھولا بھالا منا تھا۔ ان سب پر سوا ممانی کا پچھلے شوہر سے بیٹا، غصہ ور اور ہتھ چھٹ بنا تھا۔ یہ انسان تو ویسے ہی تھے جیسے سب انسان ہوتے ہیں لیکن زندگی ویسی نہ تھی جیسی زمانہ ازل سے انسان گزارتا آیا ہے۔ قدم قدم پر جادو کے کرشمے تھے، نئی نئی چیزیں تھیں، ان کے نئے نئے نام تھے، عجب تعجب خیز کام تھے۔ اچانک بجلیاں جل اٹھتی تھیں، بیٹھے بیٹھے گل ہو جاتی تھیں اور گھر والے واپڈا نامی کسی شخص کو کوسنے لگتے تھے۔ دیوار پر لگے چوکھٹے میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ہنگامہ بپا رہتا تھا۔ نانی جان فرمائش کرتیں۔ ’’ٹی۔ وی لگاؤ۔‘‘ اور چوکھٹا، آئینہ جہاں نما بن جاتا۔ کبھی پریاں رقص کرتیں تو کبھی پیرانِ فرتوت، عجب کرتوت، لڑتے جھگڑتے نظر آتے۔ ہر چھوٹا بڑا اپنی اپنی تختیاں اٹھائے پھرتا جسے وہ فون کہتے تھے۔ اس عجوبہ روزگار تختی پر بیٹھے بٹھائے کوئی دورہ پڑتا تھا اور گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں۔ ادھر گھنٹی بجی، ادھر اسے کان سے لگایا اور مصروف گفتگو ہوئے۔ حسن کا فون بھی بجتا تھا مگر وہ ڈر کر اسے چھپا دیتا تھا، ہاتھ میں نہ لیتا تھا۔ یہ اور ایسی کئی اور چیزیں تھیں جن کی وجہ سے حسن حیران و بے قرار ہوتا تھا اور مثلِ زلف پریشان روزگار ہوتا تھا۔
    پہلا جھٹکا اسے اس وقت لگا جب معلوم ہوا کہ جمعہ کو چھٹی نہیں ہوتی، اتوار کی چھٹی کا رواج ہے۔ حسن حیران ہوا اور کہا لاحول ولا قوۃ ! یہ مسلمانوں کا راج ہے؟ دوسرا جھٹکا تب لگا جب معلوم ہوا کہ اب ملک کا نام ہندوستان نہیں پاکستان ہے۔ حسن کو یہ نام پسند آیا، مگر یہ راز سمجھ میں نہ آیا۔ تیسرا اور سب سے بڑا جھٹکا اسے تب لگا جب چھٹی کے روز ممانی نے اسے حکم دیا کہ مارکیٹ سے انڈے ڈبل روٹی لے آئے۔ یہ کہہ کر ایک کاغذ کا نیلے رنگ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھمایا، اسے پھاٹک کا رستہ دکھایا۔ حسن گھبرایا اور بولا ’’یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ مارکیٹ کیا بلا ہے؟ اس کاغذ کے ٹکڑے کا میں کیا کروں؟ کچھ رقم دیجئے کہ جا کر انڈے لاؤں۔‘‘
    یہ سن کر ممانی ناراض ہوئی اور بولی۔ ’’میرا تیرا کوئی مذاق نہیں۔ سیدھی طرح جاتا ہے یا اتاروں جوتی؟‘‘
    ناچار حسن بدرالدین وہاں سے بہ دل اندوہ گیں خستہ و حزیں نکل کھڑا ہوا اور سراسیمہ و پریشان سڑک پر چلنے لگا۔
    اچانک پیچھے سے آواز آئی۔ ’’حسن بھائی حسن بھائی رکیں۔‘‘ مڑا تو دیکھا منا بھاگتا ہوا آرہا ہے۔ وہ حسن کے قریب آیا اور پھولی سانس کے ساتھ بولا۔ ’’میں نے بھی مارکیٹ جانا ہے۔ آج میچ ہے میرا، بال نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر حسن کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

  • سوئ بار

    سوئ بار

    سوئِ بار
    (افسانہ)
    میمونہ صدف

    ٹھنڈی وڈاں گاو ¿ں کے رشک خان کی پوتی گاو ¿ں کی اونچی نیچی پگڈنڈیوں پہ اچھلتی کودتی زمین کی دراڑوں کو دیکھتی جاتی ہے ۔ گہری اور بڑی دراڑیں جنھوں نے زمین کو اندر تک چیر ڈالا تھا۔ اماں بتاتی تھی کہ یہ دراڑیں برسوں پہلے تب پڑی تھیں جب اس علاقے میں شدید بھونچال آیا تھا ، آبادی کی آبادی تلپٹ ہوگئی تھی ۔
    ”اماں بھونچال کیسے آتا ہے؟“ اس کی آٹھ جماعتیں پڑھی ماں بتاتی کہ جب زیرِ زمین پلٹیں سرکتی ہیں تو بھونچال آتا ہے ، زمین ہچکولے کھانے لگتی ہے اور دادا ایسے میں ٹھنڈی آہیں بھرتے کہا کرتے تھے کہ جب زمین پہ بوجھ بڑھ جاتا ہے، تو زمین اس بوجھ کو اتار پھینکنے کو انگڑائیاں لیتی ہے ۔ اس کا ننھا ذہن سوچتا کہ زمین پر آخر کس شے کا بوجھ ہے ؟ انسانوں اور ڈھورڈنگروں کایا شہرکی بڑی بڑی عمارتوں کا ؟
    دادا کہتے تھے ۔ ” جب حضرت انسان حد سے تجاوز کرنے لگتا ہے تو پہاڑ دھرتی بنانے والے کے حضور گزارش کرتے ہیں کہ ایک حکم دیں اور وہ سرک جائیں ، ہوا بھی سوال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے کہ آیا وہ سب اڑا لے جائے ، پانی چاہتا ہے کہ وہ سب بہا لے جائے لیکن قدرت خاموش رہتی ہے ۔بنانے والا حکم نہیں دیتا ، مہلت دیتا ہے۔۔ تبھی آدم شیر ہوتا ہے ۔تباہ ہو کر بھی اصلاح نہیں کرتا ، پچھتاتا نہیں ہے۔ سوال کرتا ہے ، اکڑتا ہے اور پھر سے وہی دہراتا ہے ۔“
    رشک خان کی پوتی ناسمجھی سے بس اثبات میں سر ہلا دیتی ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ دادا کیسی باتیں کرتے ہیں اور رشک خان ماضی میں کھو جاتا جہاں برسوں پہلے زمین کو سرکنے کا حکم جاری ہو ا تھا ۔
    ٭….٭….٭
    ٹھنڈی وڈاں گاو ¿ں میں ایک ہی بات زبانِ زد عام تھی کہ زمان خان کے اِکو اِک پتر کا ضمیر بگڑ گیا ۔ شہر بھیجا تھا پڑھنے کو ، عقل مت سیکھنے کو، افسر بن کر لوٹنے کو ۔ مگر کچھ نہ بنا بس ناخلف بن گیا ، ناشدنی، نافرجام۔ اب اسے انہی القابات سے نوازا جاتا ۔ کبھی و ہ جو باپ کی نیک نامی کا باعث بنا، اب بدنامی کا باعث بن رہا تھا۔ پہلے گاو ¿ں والے اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے، اب سب اسے آنکھیں دکھاتے ۔ وہ جو قابل ِ مثال رہا تھا۔
    ”دیکھ شیر گل جیسا بن۔ کتنا لائق نکلا ۔ پورے گاو ¿ں کیا آس پاس کے گاو ¿ں میں بھی کوئی اس جیسا نہیں ۔“ اب بھی قابلِ مثال ہی تھا ۔
    ”خبردار جو شیر گل سا وتیرہ اپنایا۔ ناعاقبت اندیش۔ ہماری سات پیڑھیوں میں اس سا کوئی نہیں نکلا۔“
    تو وہ جو شیر گل تھا اس کے باپ دادا اور تایا کا اس گاو ¿ں میں دیگر لوگوں کی طرح ایک ہی کاروبار تھا ۔ مہاجن ، جو مجبوروں کو قرض دیا کرتے اور سود سمیت وصول کیا کرتے ۔ آس پاس کی دکانوں پر بھی یہ نہیں تو کم و بیش اسی قسم کاکاروبار عام تھا ۔ کوئی سرحد پار سے غیر قانونی اسلحہ منگوا کر دکانوں کی زینت بنا رہا ہے ، تو کوئی پوست کی کاشت سے کما رہا ہے ۔ سب حلال اور باعثِ برکت مانا جاتا ۔کالا دھن سفید سمجھ کر وصولا اور بیچا جاتا۔ اسی مال سے صدقہ کیا جاتا ، خیرات کی جاتی، زکوة دی جاتی۔ وہاں کوئی قاعدہ قانون نہ تھاکہ ان کے اپنے قاعدے اپنے قانو ن تھے اور صدیوںسے ایسا ہی چلا آرہا تھا ۔
    شیر گل جب شہر سے آتا نجانے کس کس کو ایسے کاروبار سے جڑا پاتا ، اندر کہیں سے برا مناتا لیکن ظاہر نہ کرتا ۔ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہی سہی پر کوئی درجہ تو تھا ۔جب رہا نہ گیا تو ایک روز بول پڑا ۔
    ”کاکا یہ کام چھوڑ دو ۔ یہ سارا سود ہے ۔ خدا اور اس کے رسولﷺ کے خلاف اعلان جنگ، یہ آمدن حرام ہے۔ “ زمان خان سکتے میں آگیا ۔ یہ کون سی زبان تھی جو وہ بول رہا تھا ۔ کون سا فتویٰ وہ جاری کر رہا تھا۔
    ”کون کہتا ہے کہ آمدن حرام ہے ؟“
    ”وہ قرض جو نفع لے کر آئے حلا ل کیسے ہو سکتا ہے؟“ زمان خان کا جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھ گیا تھا۔
    ”اسی کمائی سے تیرے دادا نے ہمیں پالا اور اسی کمائی سے ہم اپنی نسل کو پال رہے ہیں ۔ اب یہ حرام ہوگئی۔ پاپ چڑھ گیا۔“ وہ انیس سالہ شیر گل کو مارتا رہا اور وہ مار کھاتا رہا ۔ جب وہ مار مار کر ہانپنے لگا تو اس نے شیر گل کے منہ پر تھوک دیا۔
    ”باپ دادا کو حرام خور کہتا ہے۔ شہر اس لیے بھیجا تجھے؟“ شیر گل نے اپنا منہ آستین سے پونچھ ڈالا پھر بھی مو ¿دب کھڑا رہا ۔
    ”شہر حق اور سچ کی تلاش میں بھیجا تھا نا۔ اب جب حق اور سچ کی بات کرتا ہوں، تو سب سے بڑا جھوٹا بھی میں ہوں اور باطل بھی میں۔“
    ”سائنس پڑھنے کو بھیجا تھا، تو ہمیں مذہب پڑھا رہا ہے۔“
    ”سائنس پڑھنا اور مذہب پڑھنا ایک برابر ہے ۔ سچ ہے ۔“
    ”کہاں سے آیا تیرا یہ سچ؟“ زمان خان دہاڑا تھا۔ پہلے کبھی دہاڑا نہیں تھا مگر اب اس سے کم پر بات نہ بن رہی تھی ۔
    ”آسمانوں سے اترا ہے ۔“ وہ نظریں جھکائے کھڑا رہا ۔مو ¿دب بنا رہا۔
    ”نافرمان ہے تو، خمیدہ آگیا تجھ میں ، میری تربیت میں۔ کیا تجھے دکھتا نہیں کہ سب اسی کاروبار سے کما رہے ہیں ، کتنی برکت ہے اس میں ؟“
    ”حرام میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔ تبھی یہاں کی عوام کبھی خوشحال نہیں ہوتی ۔“
    ”سب غلط ہیں کیا؟“ اس نے کف اڑایا۔
    ”جو یہ کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔“
    ”ایک تو سچا ہے؟“ نخوت سے دیکھا گیا۔
    ”جو یہ نہیں کرتے سب سچے ہیں۔“ ادب سے جواب آیا۔
    ”مردود ہو گیا ہے تو۔“ زمان خان اکلوتے بیٹے کا ماتم منانے کو سر پیٹنے لگا تھا۔
    بات پھیلتے پھیلتے ٹھنڈی وڈاں تو کیا آس پاس کے چھوٹے دیہات تک جا پہنچی تھی۔ سو اب پنجایت بٹھائی گئی۔
    ”تو ہمارے کاروبار کو حرام کہنے والا کون ہوتا ہے؟“ سب گاو ¿ں والے بیٹھے تھے ۔ وہاں ایک ہی عاصی کھڑا تھا ۔ انیس سالہ جوان شیر گل۔
    ”میری کیا مجال۔ یہ تو خدا اور اس کا رسول ﷺ کہتے ہیں ۔“
    ”تجھے کیا خدا نے خود کہا یا فرشتے بھجوائے؟“ بڑا زمیندار ٹھنکا تھا ۔
    ” کلام بھیجا گیا ہے وہاں لکھا ہے سب۔ وہاں درج ہے سب ۔“ وہ سر جھکائے ، ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔
    سب کی تیوریاں چڑھیں۔

  • بیلینس شیٹ ۔ مکمل ناول

    بیلینس شیٹ ۔ مکمل ناول

    بیلنس شیٹ
    (novelette)
    نشاءوقار
    ”ایکسکیوزمی آر یو کھنک؟“ امتیاز سپر مارکیٹ میں مہینہ بھر کی گروسری کی شاپنگ کرکے میں بل کی ادائیگی کرنے قطار میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ پیچھے سے آنے والی کچھ اجنبی کچھ شناسا آواز پر میں نے چونک کر دیکھا۔
    ”یس آئی ایم!“ میں نے سوالیہ نظروں سے اپنے سامنے کھڑی کالے عبایہ اور کالے ہی اسکارف کا نقاب پہنے خاتون سے پوچھا جو ہاتھوں میں کالے دستانے اور پاو ¿ں میں کالے موزے پہنے ہوئے تھیں۔ دیکھنے سے صاف لگ رہا تھا کہ خاتون شرعی پردہ کرتی ہیں۔
    ”میں شبی فاطمہ! سر شاہ خالد کے کوچنگ سینٹر میں بی۔ کام کی کلاسز میں ہم ساتھ ہوتے تھے شریف آباد والے کیمپس میں۔ یاد آیا کچھ؟“ خاتون نے تفصیل سے اپنا تعارف کرایا اور میں نے حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے اپنی ٹرالی آگے بڑھائی۔
    ”کیا ہوا؟ پہچانا نہیں؟“ میری حیرانی کو اجنبیت سمجھتے ہوئے وہ ایک دم سے نارمل ہوگئی۔
    ”ارے نہیں یار پہچان لیا؟ “ میرے اتنا کہنے پر اس نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگالیا۔
    ”بس تمہاری ظاہری حالت کی وجہ سے تمہیں پہچاننے میں مجھے تھوڑی دقت ہوئی۔“ میں چاہ کر بھی اپنی حیرانی اس سے چھپا نہ پائی جسے اس نے کمال مہارت سے نظر انداز کر دیا ۔اس دوران ہم دونوں اپنے بل ادا کرکے سپر مارکیٹ کے باہر آکر کھڑے ہوگئے۔ اتنے میں علی جو گاڑی میں بچوں کے ساتھ بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے، مجھے دیکھ کر گاڑی میرے نزدیک لے آئے۔
    ”علی! ان سے ملیں، یہ میری کوچنگ فرینڈ شبی فاطمہ ہیں اور فاطمہ، یہ میرے شوہر علی مرتضیٰ ہیں۔“ میں نے علی اور فاطمہ کا تعارف کرایا۔ رسمی سی علیک سلیک کے بعد فاطمہ گاڑی میں میرے بچوں کی طرف اشتیاق سے دیکھنے لگی۔
    ”یہ تمہارے بچے ہیں کھنک ؟“



    ”جی جناب الحمدللہ! چلو بچو خالہ سے شیک ہینڈ کرو۔ ماشاءاللہ سے اللہ نے مجھے چار بچوں سے نوازا ہے۔ بڑے دونوں اپنی دادی کے پاس ہیں۔ چھوٹوں کو لے کر ہم لوگ شاپنگ پر آگئے۔“ میں نے بچوں کا تعارف کراتے ہوئے فاطمہ کو جواب دیا۔ اس دوران علی ٹرالی کا سارا سامان گاڑی میں منتقل کرچکے تھے اور خشمگیں نگاہوں سے مجھے گھور رہے تھے کیونکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیاں مسلسل ہارن دے رہی تھیں۔ ایک تو اتوار اوپر سے مہینے کی شروع تاریخیں جس کی وجہ سے سپر مارکیٹ آنے والوں کا ہجوم اپنے عروج پر تھا۔
    ”یہ میرا موبائل نمبر ہے مجھ سے رابطے میں رہنا۔“ فاطمہ نے مجھے گاڑی میں بیٹھتا دیکھ کر جلدی سے مارکیٹ کے اداشدہ بل پر اپنا موبائل نمبر لکھ کر مجھ سے کہا اور تیزی سے پیچھے ہٹ گئی تاکہ علی گاڑی آگے بڑھالے کیونکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کے ہارن مسلسل بج رہے تھے۔ گاڑی تھوڑی سی آگے بڑھی تو میں نے بیک مرر سے دیکھا کے سفید کلر کی نیو ماڈل کرولا میں ایک آدمی اس کی ٹرالی کا سامان رکھ رہا تھا۔ حلیے سے وہ ادھیڑ عمر کا شخص ڈرائیور لگ رہا تھا جب تک وہ میری نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی میں تب تک بیک مرر سے اسے دیکھتی رہی۔ اس دوران وہ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھ چکی تھی۔ اس کی ظاہری اور مالی حالت کے علاوہ اس کا بات کرنے کا انداز اور لب و لہجہ اس فاطمہ سے یکسر مختلف تھا جسے میں جانتی تھی۔
    ”مما! دیکھیے بھائی جان مجھے ٹیبلیٹ نہیں دے رہے۔ کب سے اکیلے اکیلے گیم کھیل رہے ہیں اب میری ٹرن ہے۔ مجھے دلوائیے بھائی جان سے ٹیبلیٹ۔“ میری سب سے چھوٹی بیٹی مناہل نے روتے ہوئے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا تو میں جو ابھی تک فاطمہ کے بارے میں سوچ رہی تھی، اُس کیفیت سے نکل کر سب سے پہلے اس پیپر کو اپنے پرس کی پاکٹ میں سنبھال کر رکھا۔
    ”یحییٰ! نہیں تنگ کرو چھوٹی بہن کو اب اس کی ٹرن ہے اسے دو ٹیبلیٹ۔“ میں نے دونوں بچوں میں جھگڑا نمٹایا اور علی کی طرف متوجہ ہوگئی جو حسب عادت کراچی کے بے ہنگم ٹریفک اور غیر ذمہ داری سے گاڑی ڈرائیو کرتے لوگوں کی وجہ سے غصّے میں لال پیلے ہورہے تھے۔” کراچی میں اگر آپ کو ڈرائیونگ کرنی ہے تو اپنی گاڑی احتیاط سے چلانے کے ساتھ ساتھ آس پاس چلتی گاڑیوں کو بھی بچانا ہے۔ سارے جہاں میں لوگ ڈرائیونگ کے دوران اپنی جان کی فکر کرتے ہیں اور یہاں اپنے علاوہ آس پاس کے لوگوں کی جان کی فکربھی آپ کو ہی کرنا پڑتی ہے ۔“ علی حسب عادت جب تک گھر نہیں
    آگئے مستقل بڑبڑاتے رہے۔ باپ کو غصّے میں دیکھ کر بچے دبک کر بیٹھے رہے اور میرے دماغ سے بھی فاطمہ وقتی طور پر محو ہوگئی۔

  • فیصلہ

    فیصلہ

    قتل کیس پر مبنی ایک سبق آموز سچ بیانی
    فیصلہ
    محمد ظہیر شیخ
    راج نگرکے تھانیدار کی بدقسمتی کہ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی ایسی خبر ملتی کہ مجبوراً پولیس کو پہنچنا پڑتا تھا۔ چھوٹے موٹے واقعات اپنی جگہ تھے کہ اطلاع ملی کہ راجہ شہباز کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے۔ گاﺅں کی بات تھی جنگل کی آگ کے مانند پورے علاقے میں فوری طور پر پھیل گئی۔
    ٭….٭….٭
    راج نگر یوں تو گاﺅں ہی تھا، مگر اس کی آبادی اور رقبہ کسی چھوٹے شہر سے کم نہ تھا۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک حلقے کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے تمام متعلقہ امیدواروں کی توجہ کا مرکز راج نگر ہوتا تھا۔ یوں تو راج نگر کی آبادی کا بڑا حصہ راجپوت خاندان پر مشتمل تھا، مگر اس کے باوجود کم ازکم چھے سات مختلف برادریوں کے لوگ بھی اسی گاﺅں کے باسی تھے۔ ساری برادریوں کے ہوتے ہوئے بھی راجپوتوں کو اکثریت حاصل تھی۔ اس لیے کسی قسم کے سماجی یا سیاسی فیصلے کرنے میں ان کے پاس جملہ حقوق محفوظ تھے اور کسی برادری کے کسی فرد کی مجال نہ تھی کہ ان کے فیصلوں پر احتجاج یا نافرمانی کرے۔ باقی لوگ تو اللہ اللہ کرکے اور مصلحت کے تحت جی حضوری کرکے وقت گزار رہے تھے مگر جب سامنے اپنا ہی خون آجاتا تو بات بڑی دور تک چلی جاتی۔ اپنوں سے محبت تو ہوتی ہے، مگر جب وہی ادشمنی پر اتر آتے ہیں تو قیامت کا سماں ہوتا ہے۔
    راجہ عامر بچپن ہی سے بہت نازک طبیعت واقع ہوا تھا۔ اسکول کے لڑکے اکثر اسے لیڈی، لیڈی کہہ کر چھیڑتے تھے۔ اسے خود بھی کبھی کبھی احساس ہوتا تھا کہ وہ جس گاﺅں اور فیملی سے تعلق رکھتا ہے وہاں تو حاکم رہا جاتا ہے ، مگر وہ الگ طبیعت رکھتا تھا ۔ گاﺅں میں کوئی بھی شادی بیاہ یا کسی بھی قسم کی تقریب میں شامل ہونا اسے باعثِ شرم محسوس ہوتا تھا۔ لڑائی جھگڑا کرنا تو درکنار وہ کسی ایسی جگہ جانا بھی ناپسند کرتا تھا جہاں اس قسم کی کسی بات کا اندیشہ ہو۔ اسکول سے کالج پہنچا تو مسیں بھیگی اور نوجوانی سے جوانی کا سفر طے ہوا، مگر طبیعت کی وہ شادابی برقرار رہی۔ گھر والے تو ایک طرف گاﺅں والے بھی حیرت زدہ تھے کہ یہ کیسا راجپوت ہے جو ہر ایک سے مسکرا کر ملتا ہے اور گریبان بھی کھلا نہیں رکھتا۔ باقی برادریوں کے تمام افراد اس کی دل سے عزت کرتے تھے مگر اپنی برادری میں وہ کم حیثیت شمار ہوتا تھا ۔ وہ ایسا پھول تھا جو صرف دکھائی دینے کے لیے تھا، مگر پھول کانٹوں کے بغیر ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ اسی لیے اس کے ساتھ بھی ایک زہریلا کانٹا تھا، اس کا بڑا بھائی ناصر……..
    عامر شبنم تھا تو ناصر شعلہ، دونوں بھائیوں کی آپس میں گاڑھی چھنتی تھی۔ ہر کام مل جل کر کرتے، ہر راز ایک کا دوسرے کو پتا ہوتا تھا۔ کھانا پینا اور کھیلنا حتیٰ کہ سونے کا کمرا بھی کا مشترکہ تھا، مگر جب بات آتی لڑائی جھگڑے کی تو عامر بھیگی بلی اور ناصر بھیڑیا بن جاتا تھا۔ ناصر بلا کا لڑاکا تھا۔ گھر والوں کی روک ٹوک نہ ہونے کے باعث وہ ہر پھڈے میں پیش پیش ہوتا تھا۔ اس کے والد راجہ دلاور ایک سرکاری کالج کے پرنسپل تھے، گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ عیاش پرست گھرانہ تھا۔ مکان کی تعمیر کے علاوہ جو کچھ کمایا جاتا عیش و عشرت میں اڑا دیا جاتا۔ گزر بسر اچھے سے ہو رہی تھی اور کیا چاہیے تھا۔ مستقبل کی فکر اس لیے بھی نہیں تھی کہ چار پانچ سال بعد ریٹائرمنٹ کی رقم سے کاروبار کرنے کا ارادہ تھا۔ اسی لیے کسی بھی پھڈے کی صورت میں فوری طور پر ناصر کو مکھن کے بال کی مانند بچا لیا جاتا۔ زیادہ باز پرس نہ کی جاتی کیونکہ یہی ایک ہتھیار تھا جس کی بدولت وہ برادری ہر سو حاوی تھی۔ ناصر، عامر کو اکثر طنز کا نشانہ بناتا مگر عامر ٹس سے مس نہ ہوتا۔ وہ اکثر کہتا ”دیکھ عامرے! یہ جو طاقت ہے نا یہ مرد کی شان ہوتی ہے ۔ اگر انسان اس سے محروم ہو جائے یا جان بوجھ کر اسے زنگ لگا دے تو پھر مرد اور خواجہ سرا میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔“
    ”ہوں! تو اس کو تم مردانگی کہتے ہو۔“ وہ مسکراتے ہوئے سادہ سے انداز میں کہتا۔
    ”اگر مظلوموں کو دبانے کو، ان کا حق چھین لینے کو اور اپنے سے کمزور لوگوں کو پیٹنے کو تم مردانگی سمجھتے ہو تو میں ایسی مردانگی پر سو بار لعنت بھیجتا ہوں۔“
    ”ایک دن آئے گا جب میری بات تمہاری سمجھ میں آجائے گی ۔ جب تمہیں احساس ہوگا کہ ہر چیز تمنا اور محبت سے نہیں ملتی، کچھ حقوق ایسے ہوتے ہیں جو چھیننے پڑتے ہیں ۔ پھر تم میرے پاس آﺅ گے اپنا ہیجڑا پن لے کر……
    ”دیکھنا ایک دن تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی عامرے۔“وہ میٹھی ڈانٹ پلاتے ہوئے عامر سے کہتا اور پھر ایک دن عامر کو اس کی بات سمجھ آگئی۔ وہ پریشان تھا کہ اپنی مشکل کیسے ناصر سے بیان کرے۔ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ ناصر نے اس کی حالت سے خود ہی اندازہ لگا لیا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ عامر اپنی کتب لیے بیٹھا تھا کہ ناصر اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ناصر زیر لب مسکرا رہا تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ اب اس کی خیر نہیں سب کچھ ناصر کے گوش گزار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔
    ٭….٭….٭