Tag: اشتیاق احمد

  • فکشن لکھنے کے دس اصول ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    فکشن لکھنے کے دس اصول ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    فکشن لکھنے کے دس اصول

     

    -1 دورانِ تحریر موسمی حالات کو زیرِ بحث نہ لایئے۔ اگر آپ کسی خطّے کی خاص صورتِ حال کے بارے میں لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر آپ کسی کردار کے ساتھ موسم کو نتھی کرنا چاہتے ہیں تو نہ کیجیے۔

    خطّےکی آب و ہوا سے متعلق ایک مثال ”بیری لوپز“کی تصنیف کردہ کتاب "Arctic Dreams” ہے جس میں وہ اسکیموز کی زندگی زیرِ بحث لائے ہیں۔ اس میں انہوں نے برف کے باشندے یعنی اسکیمو سے بھی زیادہ برف کے بارے میں حقیقتیں بیان کی ہیں۔

    -2 دیباچہ لکھنے سے گریز کیجیے۔ پیش لفظ کے بعد آنے والا طویل دیباچہ۔ قاری کو بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ لیکن فکشن نگاری میں یہ عام روش ہے۔

    ناول کی ابتدا میں دیباچہ لکھنا پرانی بات ہو چکی ہے۔ اب تو آپ اسے اپنی تحریر میں کہیں بھی فٹ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طورJohn Steinbeck کے ناول کا دیباچہ حاضر ہے۔ اس میں کہانی کے ایک کردار کی زبانی وہ سب کہلا دیا گیا ہے، جو مصنف دیباچے میں کہنا چاہتا تھا۔ وہ کہتا ہے، ”مجھے کتاب میں ڈھیروں ڈھیر باتیں کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ مجھے کسی کی طرف سے ایسے تبصرے کی پروا نہیں کہ یہ لڑکا کیسی باتیں کرتا ہے۔ مجھے اپنی باتیں ایسے ہی کرنا پسند ہے۔“

    -3 اپنے مکالمہ جات کو کردار سے نتھی کرنے کے لیے لفظ کہا (said) کے علاوہ کبھی کوئی اور فعل استعمال نہ کریں جیسا کہ ”بڑبڑایا“، ”خبردار کیا“، ”جھوٹ بولا“ یا پھر ”سانس بھری“وغیرہ۔ ہمیشہ یہ لکھیں کہ فلاں کردار نے یہ کہا۔ 

    -4 لفظ ”کہا“ (said) کی جگہ کبھی بھی کوئی متعلق فعل (adverb) استعمال نہ کیجئے…. یہ ایک سنجیدہ تاکید ہے۔ اس طرح یا کسی بھی طرح متعلق فعل کا استعمال تحریر کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مصنف جو عموماً پیشگی معاوضہ لے چکا ہوتا ہے ، تحریر میں اس ایک لفظ کے استعمال سے اس کے ربط اور تسلسل میں ایسا فرق آئے گا کہ مصنف اور ناشر کے معاملات بری طرح بگڑ سکتے ہیں۔ میری تصنیف کردہ کتابوں میں ایک مو¿نث کردار ہے، جو تاریخی رومانس کی داستانوں میں بہت زیادہ متعلق فعل استعمال ہونے پر کچھ یوں تبصرہ کرنا ہے۔

    "full of rape and adverbs”

    -5 علامتِ استعجاب (exelamation) کے استعمال میں محتاط رہئے۔ آپ اس علامت کو 100,00 الفاظ پر مشتمل نثر میں 2یا 3 بار سے زیادہ استعمال نہیں کر سکتے۔ اگر آپ جگہ جگہ استعمال کرنا شروع کر دیں گے تو تحریر کا حشر ”Tom Wolfe “ جیسا ہو جائے گا۔ جسے پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ علامتِ استعجاب کی مٹھی بھر کر تحریر میں ڈال دیا گیا ہے۔

    -6 تحریر میں ”اچانک“ (suddenly) یا لوگوں نے بے قابو ہوتے ہوئے وحشیانہ انداز میں برتاﺅ شروع کر دیا (All hell broke loose) جیسے الفاظ کے استعمال کی سخت ممانعت ہے۔ یہ اصول وضاحت کا طلب گار نہیں ہے۔ میں نے اکثر تحریریں پڑھتے ہوئے محسوس کیا ہے کہ وہ رائٹرز جو اچانک کا لفظ استعمال کرتے ہیں، ان کی تحریر میں علامتِ استعحابیہ کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔

    -7 تحریر میں مقامی بول چال کے الفاظ اور محاورے استعمال کرتے ہوئے جملوں کو سادہ، مختصر اور جامع بنایئے کیوں کہ جب آپ اپنے الفاظ کو مکالمے کی شکل دینا شروع کرتے ہیں تو روانی میں لکھتے ہوئے صفحے پر صفحے بھرتے چلے ہیں۔

    اس نکتے کی مزید وضاحتکے لیے آپ "Annie Proulx” کی لکھی شارٹ سٹوریز کی کتاب (Close Range) میں Wyoming Voices دیکھ سکتے ہیں۔

    -8 کرداروں کا تفصیلی تعارف نہ کروایئے، جیسا کہ مشہور امریکی ناول نگار John Steinbeck کا وطیرہ ہے۔ ارنسٹ ہیمنگ وے کی کتاب Hills Like White Elephant اور American and The Girl With Him کا تقابلی جائزہ لیجیے اور فرق نوٹ کیجئے۔

    "She had taken off her hat and put it on the table.”

    یہ واحد جملہ ہے جو اُس میں کسی مادی حالت کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔

    -9 چیزوں اور جگہوں کے بارے میں غیر ضروری تفصیلات سے اجتناب کیجیے۔ جب تک کہ آپ Margaret at wood کا سا انداز نہیں اپنا لیتے اور لفظوں میں منظر نگاری جیسے فن میں طاق نہیں ہو جاتے۔ تحریر میں ایکشن کی بھی زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ کہانی کو اپنے قدرتی بہاﺅ میں بہنے دیں۔

    -10 لکھتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھیں کہ تحریر دل چسپ ہو۔ لکھنے کے بعد اپنی تحریر کو ایک قاری کی نظر سے پڑھئے اور غیر دل چسپ حصے کاٹ دیجئے۔ آپ وہ سب کچھ لکھیں جو کسی اور کی تحریر میں پڑھنا چاہتے ہیں۔بڑے بڑے پیراگراف میں مت لکھئے ایسی نثر پڑھنے میں بوجھل ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے پیراگراف اور دل چسپ واقعات بہت اہم ہیں۔ تحریر کا سب سے اہم ترین اصول جس میں یہ تمام دس کے دس اصول سما جائیں، وہ یہ ہے کہ لکھیں، دوبارہ لکھیں، دوبارہ لکھیں اور دوبارہ لکھیں۔

     
  • فکشن کی ۳۵ اقسام اور اشکال ۔ فکشن ۔ کمرشل رائٹنگ

    فکشن کی ۵۳ اقسام اور اشکال

    (1)مہم جو افسانے

    ایسی کہانیاں جن میں کردار پُر خطر اور جوشیلے کارناموں میں ملوث ہوتے ہیں۔

    (2) ائیر پورٹ ناول

    یہ فکشن کی ایسی قسم ہے جو بین الاقوامی ائیر پورٹس پر دستیاب ہوتا ہے تاکہ فضائی مسافر، پرواز کے دوران کچھ دل چسپ اور معلوماتی تحریریں پڑھ سکیں۔

    (3) مثالیہ

    یہ ایسی کہانی ہے جس میں علامات کا سہارا لے کر انسانی فطرت سے متعلق سچ اجاگر کیا جا تا ہے۔

    (4) بلڈنگزرومن(Bildungsroman)

    وہ کہانی جو کسی کردار کی جذباتی اور اخلاقی نشوونما بیان کرتی ہو۔

    (5) بلیک کامیڈی

    فکشن کی ایسی قسم جس میں مزاح کسی سانحے یا حادثے سے اخذ کیا گیا ہو۔

    (6) مزاحیہ

    مزاحیہ کہانی وہ ہوتی ہے جس میں لوگوں کو خوش کرنے کے لئے مختلف حالات و واقعات کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کے ہونٹوں پر ہنسی لے آئیں۔

    (7) مزاحیہ ڈرامہ

    ایسی کہانی جس میں مزاح اور سنجیدگی دونوں پائی جاتی ہیں۔

    (8) سوانگ بھرا مزاح

    فکشن کی اس قسم میں مزاح ،تکلیف دہ حالات اور اتفاقات سے کشید کیا جاتا ہے۔اس میں کسی کردار کو درپیش مسئلے کو مزاحیہ طریقے سے حل کیا جاتا ہے۔

    (9) مزاحِ اخلاقیات 

    یہ مزاح کی وہ قسم ہے جس میں کسی مخصوص طبقے اور ان میں پائے جانے والی عادات کا مذاق بنایا جائے۔

    (10) جرم کی کہانیاں

    جرائم اور مجرمان سے متعلقہ تفتیشی کہانیاں۔

    (11) جاسوسی کہانیاں

    ایک ایسی کہانی جس میں ہیرو کسی جرم کے بارے میں تفتیش کر رہا ہو۔

    (12) رزمیہ

    بنیادی طور پر یہ ایک طویل نظم ہے جس میںکسی افسانوی ہیروکا تذکرہ پایا جاتا ہے لیکن اب نثر میں بھی اس طرز کی کہانیاں کہی جا رہی ہیں۔

    (13) مکتوبائی کہانیاں

    یہکہانیاں ان تمام خطوط پر مشتمل ہوتی ہیں جو کرداروں کے مابین متبادل ہوتے ہیں۔

    (14) تصوراتی کہانیاں

    وہ کہانیاں ہیں جن میں تصوراتی مخلوق اس دنیا کے کاموں میں ملوث ہوتی ہے یا دیومالائی اور مافوق الفطرت مخلوق کے بارے میں کہانیاں۔

    (15) افسانوی خودنوشت

    ایک ایسی کہانی جس میں کوئی کردار کسی دوسرے کے زندگی میں ہونے والے واقعات کا گواہ بن کر خود کہانی کہے۔

    (16) افسانوی سرگزشت

    کسی کی زندگی کی کہانی بیان کرنا سرگزشت کہلاتا ہے۔

    (17) افسانوی نوع کی کہانی

    ایسی فارمولا کہانیاں جو ادبی طور پر نہیں بلکہ زبان کی چاشنی کے لیے مخصوص جاسوسی یا مہم جویانہ طرز پر لکھی جائیں۔

    (18)گوتھک فکشن

    وہ کہانیاں جو عجیب و غریب اور خطرناک واقعات کا مجموعہ ہوں اور داستان گوئی کی طرز پر بیان کی جائیں۔

    (19) ڈراوﺅنی کہانیاں

    ایسی کہانیاں جن میں خوف اور ڈر کا عنصر پیدا کیا جاتا ہے اس مقصد کے لیے بعض اوقات مافوق الفطرت مخلوق کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔

    (20) میلوڈرامہ

    وہ تحریریں جن میں اثر پیدا کرنے کے لیے جذباتی انداز اختیار کیا جائے۔ فکشن کی اس قسم میں عموماً چھوٹی سی بات کو رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

    (21) پُر اسرار فکشن

    ان میں سربستہ بھیدوں اور پُراسرار واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

    (22) فنِ لطیفہ

    ایسا اندازِ بیاں جس میں حالات و واقعات ،دوسرے فن پاروں سے لیے گئے ہوں۔ کسی مشہور فنکار کی زندگی یا کارکردگی سے لیے گئے ہوں۔

    (23) غنڈوں اور بدمعاشوں کی کہانیاں©

    ایسی کہانیاں جن میں کسی غنڈے یا بدمعاش کو ہیرو بنا کر پیش کر دیا جائے۔

    (24) مضحکہ خیز نقل

    فکشن کی ایسی قسم جس میں کسی مشہور فنکار، اسٹائل یا نوع کا مذاق اڑایا جائے۔

    (25) رومانی کہانیاں

    رومانی کہانیاں محبت کی داستانیں بیان کرتی ہیں جن میں کرداروں کو محبت کی راہ میں حائل مختلف قسم کی رُکاوٹوں اور ظالم سماج کا سامنا کرتے دکھاتے ہیں۔

    (26) رومانی مزاح

    ایسی ہلکی پھلکی تحریر جس میں محبت کہانی کو مزاح میں لپیٹ کر پیش کیا جائے۔

    (27) ہلہ گلہ والی کہانیاں

    ایسی کہانی جس میں وقتی تفریح کے لیے ہلہ گلہ سے بھرپور مزاحیہ داستان پیش کی گئی ہو۔

     

    (28) طنزیہ کہانی

    ایسی کہانی جو انسانی فطرت اور جذبات جیسا کہ غصہ، غرور اور لالچ پر طنز کرتی نظر آئے۔

    (29) سائنس فکشن

    ایسی کہانیاں جن میں انسانی زندگیوںمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کا عمل دخل دکھایا جاتا اور یہ کہ وہ کیسے نوعِ انسانی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

    (30) سنکی کہانیاں

    ایسی کہانیاں جن میں کچھ ناممکن حالات و واقعات دکھائے جائیں اور ان سے مزاح کشید کیا جائے۔

    (31) لڑنے مرنے پر تیار(Swashbuckler)

    ایسی کہانیاں جن میں ہیرو کسی نیک مقصد کے لئے لڑنے مرنے پر تیار ہوتے ہوئے اپنی جان پر کھیل کر کسی کی مدد کرے۔

    (32) سنسنی خیز ناول

    تجسس، سنسنی اور جوش جیسے عناصر سے بھرپور کہانی۔

    (33) المیہ کہانی

    غمگین اور اداس کہانی جس میں مختلف المیہ اور غم ناک قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

    (34) ٹریجک کامیڈی

    ایک ایسی کہانی جس میں طربیہ اور المیہ انداز ملا کر لکھے گئے ہوں۔

    (35) سفرنامہ

    فکشن کی اس قسم میں مصنف کسی علاقے یا ملک کا سفر اختیار کرتا اور وہاں کے بارے میں سیرحاصل معلومات قارئین تک پہنچاتا ہے۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ اٹھارواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ اٹھارواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    اٹھارواں دن :جمعہ  10 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج میرا ڈائری لکھنے کا آخری دن ہے۔ جب تک یہ صفحہ شائع ہو گا، شعبان کے آخری دن ہوں گے اور رمضان کی آمد آمد ہو گی۔ ڈائری لکھنے کے اس تین ہفتے کے سفر میں میں نے کیا کھویا کیا پایا؟ کھویا تو کچھ نہیں، پایا بہت کچھ۔ اپنے وقت کا بہترین مصرف پایا، زندگی کی کچھ یادوں کو کاغذ پر سمیٹ لینے کا موقع پایا، لکھنے کی نئی صنف کا ہنر پایا اور سب سے بڑھ کر دوستوں او رپڑھنے والوں کی توصیف و محبت پائی۔

    تو دوستو! آج میں شکر گزار ہوں آپ کے لیے۔ آپ کی اس حوصلہ افزائی کے لیے جو آپ نے کمال مہربانی و شفقت سے مجھ پر نچھاور کی۔آپ کی اس محبت کے لیے جو آپ نے مجھے بخشی اور آپ کی ان دعائوں کے لیے جن سے آپ نے مجھے اور میرے بچوں کو نوازا۔ جزاک اللہ خیراً کثیرا ۔

    آج پھر جمعہ ہے۔ میں نے حسبِ معمول گھر کو چمکایا، الماری کھول کر بہترین جوڑا نکالا، آنکھوں میں سرمہ لگایا، میچنگ جوتی اور بُندے پہنے ۔خوش قسمتی سے دراز میں سے میچنگ کلپ بھی مل گیا وہ بھی لگا لیا۔ آپ پوچھیں گے اس تیاری کا کیا مقصد؟ کیا کہیں جانا تھا یا کسی کو آنا تھا؟ نہیں! بس جمعہ پڑھنا تھا اور اپنا دل خوش کرنا تھا۔ خود ہی اپنے کپڑے دیکھنے تھے اور خود ہی واہ واہ کرنی تھی۔ کوئی دیکھے نہ دیکھے شبیر تو دیکھے گا۔ تو بس ہم شبیر بنے اپنی تیاری دیکھا کیے اور واہ واہ کیا کیے۔

    واہ واہ سے یاد آیا! بھلا بوجھو تو آج میں نے کیا دیکھا اور خوب واہ واہ کی۔ انارکلی۔ ارے نہیں بھئی! شہزادہ سلیم کی انارکلی نہیں۔ سچ مچ کی انارکلی۔ انار کے درخت پر لگنے والی، کیسری رنگ کی، نازک اندام انارکلی۔ انار کا درخت خود بھی نازک اندام ہوتا ہے لیکن اس کی کلیوں اور پھولوں کے تو کیا ہی کہنے۔ میں روز واک کرتے ہوئے اس سڑک سے گزرتی تھی، نہ جانے پہلے نظر کیوں نہ پڑی۔ آج پڑی تو بے اختیار دل چاہا چند پھول اور کلیاں توڑ کر لے جائوں ۔لیکن پھر وہی مجبوری آڑے آئی کہ ایک مرتبہ کسی چیز کو ہاتھ لگا لیا تو چہرے کو نہ لگا سکوں گی۔ پھر اس کے بعد کیا ہو گا، وہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔

    ویسے شہنشاہ اکبر کے ذوقِ سلیم کی بھی داد دینی پڑے گی کہ کیا نام چنا حسین کنیز کے لیے۔ انارکلی۔ ویسے تو اس بے مثل کہانی کے مصنف سید امتیاز علی تاج اپنے ڈرامے کے دیباچے میں خود لکھتے ہیں کہ تاریخی اعتبار سے یہ داستان بے بنیاد ہے اور میرے ڈرامے کا تعلق محض روایت سے ہے۔ ان کاکہنا بجا، لیکن اس کہانی میں، اس کردار میں اور اس نام ”انارکلی” میں اس قدر دلآویزی ہے کہ اس پر یقین کرنے اور اس سے پیار کرنے کو دل چاہتا ہے۔ سید امتیاز علی تاج کا یہ ڈرامہ کلاسیکی ادب کا شاہکار ہے اور اس کے ڈائیلاگ اس قدر خوبصورت ہیں کہ اگر اس میں سے کہانی کو نکال بھی دیا جائے تو اس کے کمال پر کوئی اثر نہ پڑے۔ چند نمونے ملاحظہ کیجئے۔

    انارکلی:  ”(ملول نظروں سے ماں کو دیکھتے ہوئے) میری اماں تمہیں کیسے سمجھائوں کہ میں کیوں غمگین ہوں۔ اے کاش میں اپنا دل کسی طرح تمہارے سینے میں رکھ دیتی۔ پھر دیکھتی تم کیسے کہتی ہو، تو انارکلی ہے تو خوش کیوں نہیں ہوتی؟ میں کیسے بتائوں، میں انار کلی ہوں، میں اسی لیے خوش نہیں ہوتی۔”

     ایک اور موقع پر جب رانی اپنے بیٹے سلیم کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ ایک کنیز سے شادی کا خیال دل سے نکال دے ورنہ دنیا باتیں جائے گی، تو وہ ماں کو جواب یوں دیتا ہے۔

     سلیم: ”میں جانتا ہوں یہ دنیا کس طرح دیکھنے کی عادی ہے۔ (غصے سے مڑ کر) جائیے دنیا کی عظیم ترین سلطنت کی لختِ جگر کو میرے پہلو کی زینت بنا دیجئے اور میں پھر بھی دنیا کی یہ سرگوشیاں آپ کے کانوں تک پہنچائوں گا۔ ‘ اس احمق کو دیکھو جس نے سیاست کے پیچھے اپنے آپ کو بیچ ڈالا۔’ جائیے فردوس سے میرے لیے ایک حور مانگ لائیے۔ پھر بھی میں دنیا کی نظروں میں یہ طعنے لکھے ہوئے دکھا دوں گا۔ ‘یہ بدنصیب عورت کی دلفریبیوں کو کیا جانے۔’ (نفرت سے) دنیا اور اس کی نظریں! پھر اگر انارکلی کو اپنا بنا لینے پر دنیا یہ کہے کہ محبت اندھی ہے تو میں دل کھول کر ہنس سکتا ہوں۔”

    اور جب انجام کار ایک حاسدانہ سازش کے ذریعے انارکلی کو زندہ دیوار میں چنوا دیا جاتا ہے اور شہزادہ تڑپ تڑپ کر دیوانہ وار انارکلی کا نام پکارتا ہے تو:

    رانی: ”(سلیم کو لپٹا کر اور اپنا رخسار اس کے سر پر رکھ کر) میرے لال وہ زندہ رہے گی۔ وقت کی گود میں، زمانے کی آغوش میں۔ یہ لاہور اس کا نام زندہ رکھے گا۔ دنیا اس کی داستان سلامت رکھے گی۔ اور تو بھی، میں بھی اور دور دراز کی نسلیں بھی اس پر آنسو بہائیں گی۔”

    اور آج صدیوں بعد لاہور کی ایک سڑک پر کھڑے میں انارکلی کو یاد کر رہی تھی، اس کی کہانی میری آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہی تھی، اور میرا دل اسکی یاد میں آنسو بن چکا تھا۔اس سڑک پر چلتے چلتے بے اختیار میرا دل چاہا کہ واپس مڑوں، انار کے درخت کے نیچے جا کھڑی ہوں اور اس کی ہر انارکلی کو تب تک تکتی رہوں جب تک وہ مرجھا کر گر نہ پڑے۔

    لیکن مجھے واپس مڑنے کی ضرورت نہ پڑی۔ اچانک میری نگاہوں کے سامنے ایک کوندا سا لپکا اور ایک گھنے پیڑ کی شاخوں میں سے مجھے کیسری رنگ کی جھلک دکھائی دی۔ میں نے جلدی سے قدم بڑھائے۔ گھنے درخت کے پیچھے انار کا ایک اور درخت سڑک کنارے کھڑا تھا اور اس پر بے شمار پھول اور کلیاں کھِلی تھیں۔

    پائولو کوئیلواپنی کتاب دی ایلکمسٹ میں لکھتا ہے کہ جب انسان شدت سے کسی چیز کی خواہش کرتا ہے تو پوری کائنات اس خواہش کو پورا کرنے میں لگ جاتی ہے۔ (جی ہاں یہ قول شاہ رخ خان کا نہیں پائولو کوئیلو کا ہے۔ وہیں سے چرا کر شاہ رخ خان کی فلم میں ڈالا گیا ہے۔) ہم اسے قبولیت کی گھڑی کہتے ہیں۔ جیسے میں نے انارکی کلی ایک مرتبہ پھر دیکھنے کی خواہش کی اور انار کا درخت دوسری مرتبہ میرے سامنے آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مائنڈ سائنس علم کی ایک شاخ ہے اور اس پر بہت ریسرچ کی گئی ہے۔ لب لباب اس ریسرچ کی فائنڈنگ کا یہ ہے کہ انسانی دماغ انتہائی طاقتور Phenomen ہے، اپنے مستقبل کی تشکیل کر سکتا ہے، جو چاہتا ہے وہ پا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس تمام سائنس کی بنیاد اس عقیدے پر کھڑی ہے کہ اس کائنات میں کچھ پازیٹو اور کچھ نیگیٹو طاقتیں ہیں۔ ان میں ایک پازیٹو طاقت ایسی ہے کہ جو سپریم ہے، سب سے بڑھ کر طاقتور ہے اور جس کے قبضے میں اس کائنات کا نظام اور تمام مخلوقات کی زندگی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ اس طاقت کو گاڈ کہہ لیجئے، کائنات کہہ لیجئے یا صرف طاقت کہہ لیجئے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ موجود ہے اور قادرِ مطلق ہے۔ اور جب ایک انسان اپنے دل و دماغ کو اس Omnipotent طاقت کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتا ہے تو زندگی میں جو چاہتا ہے پا لیتا ہے۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ سترہواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ سترہواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    سترہواں دن:جمعرات 9 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج امی کی سالگرہ ہے۔ وہ پاکستان میں ہوتیں تو میں ان کے لیے کیک بنا کر لے جاتی۔ انہیں گلے لگاتی، ان کے گورے چٹے گالوں پر پیار کرتی اور انہیں تحفے میں ایک اچھا سا سوٹ دیتی۔ وہ یہ سوٹ ”تھینک یو بہت اچھا ہے۔” کہہ کر رکھ لیتیں اور دو دن بعد مجھے فون کر کے کہتیں۔ ”بیٹا سوٹ تو بہت اچھا ہے لیکن میں ایسے رنگ پہنتی نہیں۔ یہ سوٹ میری طرف سے تم رکھ لو۔” اور میں خوشی خوشی وہ سوٹ رکھ لیتی۔

    یا پھر شاید میں انہیں اپنے گھر لے آتی۔ یہاں سالگرہ مناتی۔ وہ مجھے کھانا بنانے سے یہ کہہ کر منع کر دیتیں۔ ”اصل میں تم نمک مرچ کم ڈالتی ہو نا، مجھ سے کھایا نہیں جاتا۔ میں کچھ تھوڑا بہت بنا کر لے آئوں گی۔” اور پھر اتنا کچھ اور اتنا زیادہ بنا کر لے آتیں کہ ہمسایوں کو بھیجنے کے باوجود ختم نہ ہوتا اور جب ہم انہیں گھر چھوڑنے جاتے تو اس بہانے سے کسی بیکری پر رک جاتیں کہ کچھ چیزیں خرید لوں کل مہمان آنے والے ہیں۔ اور اس بیکری میں بچے جس چیز پر ہاتھ رکھتے، انہیں لے دیتیں۔

    یہ سب کچھ ہوتا اگر وہ پاکستان میں ہوتیں۔ لیکن اب وہ آسٹریلیا میں ہیں اور دو سال ہو گئے ہیں میں نے انہیں نہیں دیکھا، ان کے گلے نہیں لگی، ان کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھایا۔ اب اگر میں کوئی جذباتی بات لکھوں گی تو وہ جو یہ ڈائری بڑے شوق سے پڑھتی ہیں، ناراض ہو جائیں گی۔ انہیں ناشکری سے، شکوے شکایتوں سے، میلو ڈرامہ سے اور ان کے اپنے الفاظ میں ”ہیروئن بننے سے” سخت نفرت ہے۔

    تو والدہ محترمہ! بعد از سلامِ نیازمندی آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم سب یہاں خیریت سے اور خوش باش ہیں اور آپ کی خیریت اور خوشی نیک مطلوب ہے۔ آپ کو سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔ نیز آپ کو معلوم ہو کہ یہ جو آپ جوش میں آکر کیٹو ڈائٹ سے وزن کم کر رہی ہیں،  یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ نہ ہو کہ آپ اتنی سمارٹ ہو جائیں کہ پاکستان آنے پر میں آپ کو پہچان ہی نہ سکوں۔ ادھر میرا وزن کوارنٹین میں رہ کر ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے سے بڑھ رہا ہے اور آپ کے داماد کا خیال ہے کہ میں بالکل آپ کے جیسی لگنے لگی ہوں۔ کاش ایسا ہی ہو۔

    آپ کی نور چشمی

    سارہ    

    ڈیئر ڈائری، آج میں شکر گزار ہوں ماں کے لیے۔ میں اس ماں کے لیے شکر گزار ہوں جس کی دعائوں کا سایہ میرے سر پر ہے اور میں اس سکھ اور مسرت کے لیے شکر گزار ہوں جو خود ماں بن کر مجھے نصیب ہوئی ۔ نہ اس سے بڑا کوئی رشتہ ہے نہ اس سے بڑھ کر کوئی محبت ۔میری دعا ہے کہ دنیا کی ہر عورت کو ماں بننا نصیب ہو اور ہر اولاد پر اس کی ماں کا سایہ سلامت رہے۔

    پرسوں ہمارے  میاں صاحب ایک ٹی وی پروگرام میں مدعو کیے گئے اور مشہور ہو گئے۔ ان کا کرونا پر دیا گیا لیکچر بڑا پاپولر ہوا۔ کچھ یہ بھی کہ ماشا اللہ ہینڈسم آدمی ہیں اور ٹی وی پر آتے ہیں تو ٹی وی سکرین سج جاتی ہے۔ ہم ان کے ٹی وی سٹار بن جانے پر بہت خوش ہوئے۔ آج عمر نے انٹرنیٹ سے horoscpoe نکال کر ابا کو دکھایا اور خوش ہو کر کہا: ”دیکھیں آپ کے horoscpoe میں بھی لکھا ہے کہ اپریل میں آپ کو شہرت ملے گی۔”

     لیجئے! آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج۔ یعنی horoscpoe کی بلبل بولی ہے تو شہرت کی بہار آئی ہے ورنہ اس کی کیا مجال تھی کہ پاس بھی بھٹک جاتی۔ ادھر ایک ہم ہیں کہ جن کو کبھی ایسا horoscpoe نصیب نہ ہوا۔ میرے horoscpoe میں تو بس اس قسم کی باتیں لکھی ہوتی ہیں کہ آج بچے تنگ کریں گے، منگل کو کتا کاٹنے کا امکان ہے۔ دیکھو سفر پر نہ جائیو،پورا ہفتہ ہی منحوس ہے، بتائے دے رہے ہیں ہاں۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔ واحد خوشخبری یہ ہوتی ہے کہ شادی کر لیجئے جمعے کا دن سعد ہے ۔ہم دل مسوس کر رہ جاتے ہیں کہ ہماری شادی ہو چکی اور واحد سعد دن ضائع گیا۔

    ویسے یہ horoscpoe سب جھوٹ ہے، بکواس ہے ہم نہیں مانتے۔ اگر کبھی سال میں ایک مرتبہ یہ پیش گوئی اس نے کی بھی کہ آج محبوب کن اکھیوں سے دیکھ کر مسکرائے گا تو یا تو اس دن ہم سے محبوب کی قمیص استری کرتے ہوئے جل گئی یا ہمارا اپنا پائوں رپٹ گیا۔ وہ بھی محبوب کے سامنے۔ ان دونوں صورتوں میں محبوب کی مسکراہٹ تو کیا نصیب ہوتی، الٹا شرمندگی اٹھانی پڑی۔

    ویسے محبوب کا اور امی کا برج ایک ہے۔ محبوب کو تو شہرت مل گئی دیکھیے امی کو کب ملتی ہے۔ شاید میری اس ڈائری کے ذریعے مل جائے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ امی کو مشہور ہونے کے لیے میری ڈائری کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے ان کی خوش مزاجی، ان کا حسن اور ان کا سلیقہ کافی ہے۔ وہ اپنے کالج کے زمانے سے لے کر آج تک انہی چیزوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ کالج کی ہیڈگرل تھیں۔ باسکٹ بال کھیلا کرتی تھیں اور کالج کے ڈراموں میں حصہ لیا کرتی تھیں۔ اگرچہ شکل ہیما مالنی سے ملتی تھی لیکن چوں کہ ہیروئن بننے سے تب بھی نفرت تھی اس لیے ڈراموں میں بھی ہیرو بنا کرتی تھیں ۔ میرا خیال ہے تبھی سے عادت پڑی ہے دبنگ ہو کر جینے کی۔ ورنہ جو ذمہ داری سر پر پڑی تھی، کوئی کمزور عورت ہوتی تو ٹوٹ جاتی۔ بھری جوانی میں بیوہ ہوئیں۔ چار چھوٹے چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا اور سامنے ایک لمبا سفر۔ یہ لمبا سفر انہوں نے تن تنہا اسی ہمت، شکرگزاری اور زندہ دلی سے طے کیا جس کے لیے وہ مشہور تھیں۔ اور پھر ایک ہوتی ہے عام عورت کی بیوگی اور ایک ہوتی ہے بے حد حسین عورت کی بیوگی۔ دونوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایک بے سائبان حسین عورت کی طرف جتنے ہاتھ بڑھتے ہیں، اتنی ہی انگلیاں بھی اٹھتی ہیں ، اور جو عورت بے سائبانی کا یہ سفر یوں کاٹ لے کہ اس کی طرف ایک بھی انگلی نہ اٹھ سکے، وہ عورت پن کی معراج کو پہنچ جاتی ہے۔

  • قرنطینہ ڈائری ۔ سولہواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ سولہواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

     

     سولہواں دن:بدھ 8 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری:

    لو ایک شعر سنو!

    ٹخنے کا دیدار کرا

    لہنگا ذرا وہابی کر

    اس شعر کی کیا غرض و غایت اور کیا محل؟ تو دوستو شانِ نزول اس شعر کی یہ ہے کہ آج شب برا¿ت ہے اور یوں لگتا ہے آج ساری دنیا وہابی ہو گئی ہے۔

    میں ایک ایسے گھرانے میں پلی بڑھی جہاں شب برا¿ت کے حلوے اور نیاز کے زردے کو بدعت سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے ہمارے گھر میں کبھی خاص اس موقع پر حلوہ پکا کر نہ بانٹا گیا اور یہ کہا گیا کہ بھئی سنت کے خلاف ہے۔ لیکن کہیں سے آئے حلوے کو خوشی خوشی قبولنا اور مزے لے کر کھانا نہ صرف سنت ہے بلکہ عین باعثِ ثواب بھی۔ تو ہم تو ساری زندگی بدعت کی آڑ میں حلوہ پکانے سے بچے رہے لیکن ہمسایوں کو اس عمل کے بدعت ہونے کے بارے میں کبھی بھنک بھی نہ پڑنے دی۔

     جو بھی آئے، آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں

    لیکن آج تو یوں لگتا ہے ساری دنیا وہابی ہو گئی ہے۔ نہ کہیں سے حلوہ آیا، نہ زردہ۔ بس ہم سوکھے منہ اور آزردہ بیٹھے رہے۔

    تو ڈئیر ڈائری آج میں شکر گزار ہوں ان بجتی گھنٹیوں کے لئے جو کسی میتھی سوغات کی آمد کی نوید ہوتی ہیں۔ ان پلیٹوں اور پیالوں کی لئے جو رومالوں سے ڈھکے ہوتے ہیں لیکن انکی خوشبو انکے سارے بھید کھولے دیتی ہے۔ اور میں شکر گزار ہوں ان ہمسائیوں کے لئے جو حلوہ، زردہ اور حلیم پکا کر پڑوسیوں کو بھیجتے ہیں اور کسی بدعت کی وعید کو خاطر میں نہیں لاتے۔

    سہ پہر میں خیال آیا عمر سے کہوں تھوڑا حلوہ تو بنا دے۔ خود تو میں صفائی اور کچن کے کام سے تھک چکی تھی اسلئے اٹھنے کو دل نہ چاہتا تھا۔۔ میں نے عمر کو آواز دی۔ وہ اپنی ہی کسی ترنگ میں تھا۔ آیا اور آتے ہی میرے گلے میں بازو ڈال کر مجھ سے لپٹ گیا۔

    ”میرے لالے۔“ میں نے اس کا منہ چوم کر کہا۔ ”مجھے حلوہ تو بنا دو۔“

    لالے نے لاڈ سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور بڑی شفقت سے پوچھا۔ ”حلوہ کھائے گی میری بوڑھی ماں؟“

    دھت تیرے کی! بے اختیار مجھے انکل سرگرم کی ماسی مصیبتے یاد آئی جو اس موقع پر کہا کرتی تھی۔ ”بوڑھی تیری خالہ، بوڑھی تیری ماں۔“

    لیکن میں عمر کو یہ نہیں کہہ سکتی تھی۔ارے میں ہی تو تھی اسکی ماں۔ عمر کو ویسے بھی مجھ سے ایسے لاڈ کرنے کی عادت ہے۔ آتے جاتے میرے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے اور بڑی شفقت سے پوچھتا ہے۔ ”کچھ چاہیے تو نہیں میری ماں کو؟“ میری ہر بات کے جواب میں اس قسم کی کوئی شفقت اس کے پاس تیار ہوتی ہے۔ اکثر و بیشتر ہمارے درمیان اس قسم کے مکالمے ہوتے ہیں۔ (یہ مکالمے مختلف موقعوں پر ہوتے ہیں لیکن ان کا لہجہ ہمیشہ ایک ہوتا ہے۔)

    میں: کوئی مجھے پانی پلا دے۔

    عمر: پیاسی ہو گئی تھی میری ماں؟

    میں: میرے سر میں درد ہے۔

    عمر: بیمار ہو گئی تھی میری ماں؟

    میں: کھانا تیار ہو گیا ہے۔

    عمر: بھوک لگ گئی تھی میری ماں کو؟

    میں: اُف پلیز کوئی بتیاں تو جلا دے، وحشت ہو رہی ہے مجھے اس اندھیرے سے۔

    عمر: وحشی ہو گئی تھی میری ماں؟

    جب میں نے حلوے کی فرمائش کی تو اس نے اپنی اولڈ فیشن ماں کو حلوہ تو نہ بنا کر دیا البتہ حلوے جیسی بورنگ چیزوں سے اجتناب برتنے کا مشورہ ضرور دیا۔ ساتھ ہی سٹیک کے فضائل پر روشنی ڈالی اور فرمائش کی کہ اسے کچھ فنانس کیا جائے تاکہ وہ بیف کا بہترین انڈکٹ منگوائے اور مجھے رِب آئی سٹیک بنا کر کھلائے۔ لیجئے نماز بخشوانے گئے تھے، روزے گلے پڑے۔ حلوہ تو نہ ملا، الٹا پیسے دینے پڑے تاکہ صاحبزادے اپنا کوکنگ کا شوق پورا کریں۔ جاتے جاتے عمر نے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور لاڈ سے پوچھا: ”ناراض تو نہیں تھی میری ماں؟“

    اور میں اسی میں خوش ہو گئی۔ بھلا ماں بھی ناراض رہ سکتی ہے؟

    جب بھی ماں کا لفظ سنتی ہوں مجھے ملائیشیا یاد آتا ہے۔ میں نے ملائیشیا میں چھٹیاں گزارنے کا پلان اپنی بہن کے ساتھ بنایا تھا۔ میں یہاں سے گئی تھی اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ آسٹریلیا سے آئی تھی۔ اس کی بیٹیوں سے میری بہت دوستی ہے۔ وہ بچیاں آسٹریلیا میں بھاشا انڈونیشیا پڑھتی آئی تھیں۔ یہی زبان ملائیشیا میں رائج ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ رہتے مجھے شاپنگ اور گھومنے پھرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن پہلے ہی دن ایک دکان پر شاپنگ کے بعد ایک جملہ انہوں نے ایسا بولا کہ میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ وہ جملہ یہ تھا۔ ”تیری ماں کیسی؟“

    ”کیا کہا؟“ میں نے بے یقینی سے پوچھا۔

    میری بھانجی ہنسنے لگی۔ بولی: ”تھینک یو کو بھاشا انڈونیشیا میں کہتے ہیں ۔ ”تیری ماں کاسی۔“آپ بھی ٹرائی کریں۔“

    ٹھیک ہے! اس میں کیا مشکل ہے؟ میں نے اگلی دکان پر کچھ لیا اور ادائیگی کے بعد کہا۔ ”تیری ماں۔ ماں….“ اور بس اس سے آگے جملہ میرے حلق میں اٹک گیا اور سرخ چہرہ لیے شرمندگی سے بے حال ہوتی میںوہاں سے بھاگ آئی۔ کسی کو منہ پر ایسا جملہ کہنا جو ”تیری ماں“ سے شروع ہوتا ہو بدتہذیبی کی انتہا تھی۔ کم از کم مجھ سے تو یہ بدتمیزی نہ ہو پائے گی۔ اپنے قیام کے باقی دنوں میں میں نے تھینک یو ہی سے کام چلایا۔

     ہم جس ہوٹل میں ٹھہرے تھے، وہ لٹل انڈیا نامی بازار سے متصل تھا۔ ہم ایک پتلی سی گلی سے گزر کر لٹل انڈیا کی شاہراہ پر نکلتے تھے اور وہاں سے بس یا کیب لے کر گھومنے پھرنے نکل جاتے تھے۔ اس گلی میں ایک ہندو کا ایک ڈھابہ نما کھوکھا تھا جس میں تمام دن بڑے بڑے دیگچے چولہوں پر چڑھے نظر آتے تھے۔ صبح صبح یہ ہوٹل کھولنے سے پہلے وہ کرشن بھگوان کی مورتی کی پوجا کیا کرتا تھا۔ بھگوان صاحب کی مورتی عین گٹر کے اوپر رکھی ہوئی تھی اور اس کے اردگرد کوڑے کرکٹ کا ڈھیر، کچھ کھلا، کچھ بڑے بڑے کالے لفافوں میں بند، پھیلا ہوتا تھا۔ گٹر اور کوڑے کے تعفن کے بیچ بھگوان کے ہاتھوں اور سر پر اگر بتیاں سلگ رہی ہوتی تھیں اور وہ بے چارے گلے میں تازہ گیندے کے ہار پہنے، بانسری ہونٹوں سے لگائے، ایک ابدی منجمد مسکراہٹ کے ساتھ ان تینوں چیزوں کی بُو سونگھ رہے ہوتے تھے۔ پتا نہیں ہندوﺅں میں بدعت کا کانسیپٹ ہوتا ہے نہیں۔ اگر ہوتا تو جانے بھگوان کو گٹر کنارے کوڑے میں گاڑ دینے پر بدعت کا کون سا درجہ لاگو ہوتا۔ 

  • قرنطینہ ڈائری ۔ پندرہواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ پندرہواں دن

    قرنطینہ ڈائری 

    (سارہ قیوم)

    پندرہواں دن:منگل 7 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج صبح فجر کے وقت بارش ہوئی۔ موسم مزید نکھر گیا۔ یوں تو جب سے لاک ڈاﺅن شروع ہوا ہے، فضا صاف ہو گئی ہے، آسمان زیادہ نیلا لگتا ہے اور تارے زیادہ چمکدار نہ ہوا میں آلودگی نہ ٹریفک کا شور۔ لگتا ہے قدرت بھی تنگ آگئی تھی۔ اب انسان جو زندگی کی ریس میں دوڑتے دوڑتے ہانپنے لگا تھا، اسے گھر بٹھا دیا ہے کہ میاں سانس لو اور زندگی پر غور کرو کہ ہے کیا شے۔ ہو سکے تو ایک نظر اپنے دل پر بھی ڈال لینا۔ پھر معلوم ہو گا کہ،

     تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

    موسم نشیلا ہو اور ہم ٹہلنے نہ نکلیں، ایسے بھی اب حالات نہیں۔ فریدہ آنٹی کے باغ کی سبزیوں کو محبت بھری (اسے لالچ بھری نہ سمجھا جائے، محبت اور ہوس میں فرق ہوتا ہے جی) نظروں سے دیکھا اور آگے چلی۔ گرین بیلٹ کے پاس ایک چھوٹا سا بھورے رنگ کا بہت پیارا کتا نظر آیا۔ اس کے پیچھے اس سے بھی پیارا ایک بچہ جو کُتے سے بمشکل دو انگل ہی اونچا ہو گا۔ آگے آگے کتا، پیچھے پیچھے بچہ اور سب سے پیچھے بچے کے ابا جو اپنے بچے اور کتے کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ کتا یقینا پالتو تھا کیوں کہ بچہ اس سے مانوس تھا۔ بچے نے نیا نیا چلنا سیکھا تھا۔ اس کے لڑکھڑانے میں اس قدر پیارا پن تھا کہ بے اختیار دل چاہا گود میں اٹھا کر پیار کروں۔ پھر خیال آیا کہ کرونا کے دن ہیں، ایسی حرکت کو پیار نہیں اقدامِ قتل تصور کیا جائے گا۔ سو اس ارادے سے باز رہی۔

    آگے چلی تو ایک شہتوت کے درخت کے نیچے سے گزری۔ گہرے جامنی رنگ کے شہتوت سڑک پر بکھرے پڑے تھے اور ان کے رنگ سے سڑک کا وہ حصہ جامنی ہو چکا تھا۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ درخت کی اوپری شاخیں شہتوتوں سے لدی ہوئی تھیں۔ اس وقت وہاں کھڑے، شہتوت کے رنگ میں رنگی سڑک کو دیکھتے میرے ذہن میں ایک انوکھا خیال ابھرا۔ وہ یہ کہ جب میں بوڑھی ہو جاﺅں گی تو بال ڈائی نہیں کروں گی۔سفید رہنے دوں گی اور ان سفید بالوں پر پھلوں اور سبزیوں کے رنگوں سے لہر یئے یعنی Streaks ڈالوں گی۔ یہ خیال آتے ہی میرے ذہن نے تیزی سے ان چیزوں کی فہرست بنانی شروع کی جن کے رنگ خوبصورت اور یونیک ہوتے ہیں اور جو اپنا رنگ کپڑے اور بالوں پر چھوڑ جاتی ہیں۔ شہتوت کا رنگ، چقندر کا رنگ، جامن کا رنگ، آتشی گلابی گلاب کا رنگ، توری کے چھلکے کا رنگ، فالسے کا رنگ، سٹرابری کا رنگ اُف کس قدر خوبصورت لگیں گی ان رنگوں کی Streaks سفید بالوں پر۔ بہت سوچنے پر بھی مجھے کوئی ایسی چیز یاد نہ آئی جس کا رنگ فیروزی نکلتا ہو۔ خیر ایک مرتبہ میں ان رنگوں پر عبور حاصل کر لوں تو دو تین رنگ ملا کر فیروزی بھی بنا ہی لوں گی۔ پھر میں ان سفید بالوں کا اچھا سا ہیئرکٹ کرواﺅں گی، کیراٹن ٹریٹمنٹ کراﺅں گی اور ایک ماڈرن سی بڑھیابن کر پھروں گی۔ نیچرل ڈائی سے فائدہ یہ ہو گا کہ بالوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا اور جب ایک رنگ سے دل بھر جائے گا تو لیموں ملے پانی سے بال دھو کر رنگ کاٹ کروں گی اور کسی دوسرے رنگ کی Streaks کر لوں گی۔ کیسا؟

    ویسے یہ آئیڈیا پوری طرح نیا نہیں ہے۔ میرا مطلب ہے نیچرل ڈائی والا آئیڈیا تو بے شک نیا ہے لیکن سفید بالوں پر فیروزی اور آتشی گلابی Streaks والا آئیڈیا مجھے پچھلے سال آیا تھا۔ جب یہ آئیڈیا میں نے ایک دوست، جو دوست ہونے کے ساتھ گائیڈ، مینٹور اور انسپائریشن بھی ہیں، کے ساتھ شیئر کیا تو وہ لمحے بھر کے لیے چپ کی چپ رہ گئیں، پھر انہوں نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا۔ ”سارہ! یہ اتنا چھچھورا آئیڈیا آپ کو کس نے دیا؟“

    ”کسی نے نہیں۔“ میں نے فخر سے کہا۔ ”یہ میرے اپنے ذاتی دماغ کی اختراع ہے۔“

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں متنوع خیالات کے لیے۔ ان انوکھے خیالات کے لیے جو زندگی میں رنگ بھر دیتے ہیں، کبھی جامنی، کبھی گلابی، کبھی فیروزی کبھی سبز۔ وہ خیالات جو کبھی فلسفے کی شکل میں آتے ہیں اور دماغ کا چمن ہرا رکھتے ہیں، کبھی محبت کی پھوار کی صورت دل اور تن من کو بھگو دیتے ہیں، کبھی دعا کے روپ میں جلوہ دکھاتے ہیں اور روح کو چھو لیتے ہیں اور کبھی کبھی چھچھورے بن کر آدھمکتے ہیں اور ایسی گدگدی کرتے ہیں کہ ہنسی روکے نہیں رکتی۔

    ویسے دیکھا جائے تو زندگی خود بھی تو کتنی ٹیکنی کلر چیز ہے۔ صرف خیالات ہی نہیں زندگی میں تجربات بھی تو کتنے انوکھے ہوتے ہیں۔ نت نئے ذائقے، اجنبی جگہوں کے سفر، انوکھے لوگوں سے ملاقات، احمقانہ غلطیاں، بے وقوفیاں، بے اختیار قہقہے اور کتنے ہی ایسے تجربات ہوتے ہیں کہ جو نہ ہوں توزندگی روکھی پھیکی بے رنگ اور سپاٹ ہو جائے۔

    نت نئے ذائقوں کا خیال آیا تو گھر میں رکھی شترمرغ کے گوشت کی وہ کڑاہی یاد آئی جو آج دوپہر میں پکائی تھی۔ میں اونٹ، ہرن، خرگوش، آکٹوپس، کیکڑا ہر وہ چیز چکھ چکی تھی جو حلال گوشت میں نایاب گنی جاتی ہے۔ ایک شترمرغ کے گوشت کی کسر رہ گئی تھی وہ بھی پوری ہو گئی۔ کچھ عرصہ پہلے مصطفی کے دوستوں نے شتر مرغ کا باربی کیو کیا اور کچھ گوشت میرے لیے بھیجا۔ ویسے شترمرغ کا انڈا تو میں کھا چکی ہوں۔ میری ایک دوست کا شترمرغ فارم ہے۔ ایک دن ہم پندرہ سولہ فرینڈز پکنک منانے اس فارم پر گئیں۔ لم ڈھینگ قسم کے شترمرغ قریب سے دیکھنے کے شوق میں پنجرے کے قریب گئے تو فارم کی مالکہ دوست نے وارننگ دی کہ قریب مت جانا یہ انتہائی بدمزاج جانور ہے۔ غصے میں آجائے تو منہ نوچ لے گا۔ اس کی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایک شتر مرغ آنکھیں نکالتاہماری طرف جھپٹا۔شکر ہے کہ پنجرے میںبند تھا ورنہ شائد واقعی منہ ہی نوچ لیتا۔ سب سے بری اس کی چنگھاڑ ہے۔ یوں لگتا ہے کوئی زکام زدہ شیر دھاڑ رہا ہو۔ وہاں ہم نے شترمرغ کے انڈے کی بھجیا بنا کر کھائی۔ انڈا تو خیر کچھ خاص مزے کا نہ تھا ہاں گوشت البتہ مزے دار ہوتا ہے۔ یہ اور بات کہ گلتا دیر میں ہے۔ پینتالیس منٹ پریشر لگانا پڑتا ہے۔

    میری ایک اور دوست کو نت نئے ذائقوں کی کافی اور قہوے پینے کا شوق ہے۔ جن دنوں مصطفی ایف سی کالج میں پڑھتا تھا، میں روز صبح اسے کالج چھوڑ کر اس دوست کے گھر چلی جاتی تھی۔ وہاں پہلے ہم قرآن کے ایک رکوع کی تفسیر پڑھتے تھے ،پھر واک پر چلے جاتے تھے ۔ہر روز اس کے گھر میں کسی نئے ذائقے کی کافی یا قہوہ پینے کو ملتا بادام کی کافی، برازیلین کافی،Macedemia Nutکافی۔ کبھی ایلوویرا اور نیاز بوکے پتوں کا جوس اور کبھی عرق گلاب اور لیموں کا قہوہ۔ ایک مرتبہ اس نے ایک قہوہ پلوایا جس میں کچھ مانوس سی خوشبو تھی ۔معلوم ہوا موتیے کے پھولوں کا قہوہ ہے۔

    لیجئے موتیے کے پھولوں کا خیال آیا اور سامنے موتیے کی جھاڑی آگئی۔ میرے قد سے بڑی جھاڑی تھی اور اس پر بے حد خوبصورت پھول لگے تھے۔ دل چاہا ایک پھول توڑ لوں۔ پھر خیال آیا کہ کسی چیز کو ہاتھ لگا لیا تو پھر گھر جا کر ہاتھ دھونے تک چہرے کو نہ لگا سکوں گی۔ پتا نہیں یہ صرف میرے ساتھ ہوتا ہے یا سب کے ساتھ کہ جونہی کسی کام کے بارے میں کہا جائے کہ نہیں کرنا تو پوری کائنات وہ کروانے کے لیے ہاتھ دھو کرپیچھے پڑ جاتی ہے۔ چہرے کو ہاتھ لگانے کی مثال لیجئے۔ گھر میں صرف اخبار واحد چیز ہے جو باہر سے آتا ہے اور بغیر دھوئے استعمال ہوتا ہے۔ جونہی میں اخبار ہاتھ میں پکڑتی ہوں خیال آتا ہے کہ اب چہرے کو ہاتھ نہیں لگانا اور یہ سوچتے ساتھ ہی چہرے پر کھجلی ہونے لگتی ہے۔ اُف سکون سے اخبار پڑھنا محال ہو جاتا ہے۔ کبھی آنکھوں میں جلن، کبھی ناک پر کھجلی، کبھی گال پر چبھن۔ یااللہ! کروں تو کیا کروں! اٹھ کر بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھوتی ہوں۔ چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی ہوں، چہرا اچھی طرح دوپٹے سے رگڑتی ہوں۔ پورا ایک منٹ انتظار کرتی ہوں کہ اب چہرے پر کچھ ہو تو صاف ہاتھوں سے کھجا لوں، کچھ نہیں ہوتا۔ جونہی اخبار دوبارہ اٹھاتی ہوں، کھجلی شروع۔ جانے کیا اسرار ہے۔ ہو نہ ہو ماموں اللہ بخش کی شرارت ہے۔

    ایک گھر کے سامنے سے گزری۔ اندر ایک ماں کو بچے تنگ کر رہے تھے۔ کسی بات پر ضد جاری تھی۔ ”پیدا ہوئے تھے تو انسان تھے۔“ ماں حیرت سے کہہ رہی تھی۔ ”بڑے ہو کر گدھے کیسے بن گئے؟“

  • قرنطینہ ڈائری ۔ تیرہواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ تیرہواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    تیرہواں دن، پیر6 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    یوں تو آج کل ہر روز چھٹی کا روز ہے، لیکن پھر بھی اتوار کو خاص طور پر منانے کا دل چاہتا ہے۔ کل میں نے بھی اتوار کو خاص طور پر منایا اور اپنے گھر والوں کو حلوہ پوری کا ناشتہ کروایا۔ چونکہ میرے میاں ڈاکٹر ہیں۔ اس لیے ہمارے گھر میں کھانے پینے اور خوراک کے کچھ اصول سختی سے لاگو ہیں۔ ان میں سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ کھانا یا تو دیسی گھی میں بنے گا ےاکچی گھانی کے سرسوں کے تیل میں۔ سلاد اور بگھار کے لیے زیتون کا تیل استعمال ہو گا۔ میٹھے میں سفید چینی کا داخلہ گھر میں سختی سے بند ہے البتہ گُڑ، شکر اور شہد کے لیے ہمارے دروازے کیا کھڑکیاں بھی کھلی ہیں۔ یہی حال میدے کا ہے۔ میدہ آﺅٹ، چکی کا آٹا اِن۔ تو دوستو میں نے چنے آلو کی بھاجی بنائی، شکر ڈال کر سوجی کا حلوہ بنایا اور دیسی گھی میں آٹا گوندھ کر پوریاں بنائیں اور سرسوں کے تیل میں تلیں۔ بہت مزے کی بنیں۔ بچے بھی خوش ہوئے۔ میں بھی خوش ہوئی اور میاں صاحب تو بہت ہی خوش ہوئے۔

    ایک عام سے دن کو، جو آج کل باقی کے عام دنوں سے بالکل مختلف نہیں، اس تام جھام سے منانے کی غرض و غایت کیا ہے؟ نادر شاہ کے متعلق مشہور ہے کہ ہندوستان آیا تو ہاتھی کی سواری کا شوق ہو۔ ہاتھی پر سوار ہوا تو مہاوت سے کہنے لگا: ”عنانش بدستم بدہ“ (اس کی لگام میرے ہاتھ میں دے دو۔)

    مہاوت نے جواب دیا: ”فیلِ عنان ندارد“ (ہاتھی کے لگام نہیں ہوتی)

    نادر شاہ یہ کہہ کر ہاتھی سے اتر آیا کہ: ”مر کے عنانش بدست غیر باشد سواری رانشاید۔“ یعنی جس مرکب کی باگ ڈور دوسرے کے ہاتھ میں ہو، وہ سواری کے لائق نہیں۔ 

    زندگی کا معاملہ بھی ہاتھی کی سواری کا سا ہے۔ نے ہاتھ باگ پر ہے نے پا ہے رکاب میں۔ کسی بات پر بس نہیں، سکی چیز پر زور نہیں اور آج کل تو ویسے بھی اس بے بسی کا عالم سوا ہے۔ کرونا نے گھروں میں بند کر رکھا ہے اور جس طرزِ زندگی کو ہم زندگی جانتے تھے، اب بالکل بدل چکا ہے۔ وقت کی لگام ہاتھ سے نکل چکی ہے اور ہم اس کی مرضی سے چلے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ہم اور آپ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے وقت اور زندگی کو ہاتھ میں تھامیں اور اسے ایسے جئیں جیسے جینا چاہتے ہیں۔ جس چیز پر اختیار نہیں اس پر کڑھنا چھوڑیں اور جس پر اختیار ہے اسے اپنی مرضی سے برتیں۔ وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں نا

    se of the situation. u Lets make the best ،کیوں کہ جو ہونا ہے، اس پر آپ ہنسیں یا روئیں، وہ تو ہونا ہی ہے۔

             جو خشکی سے دو کوس کا ہے سفر

             تو خشکی سے دو کوس کا ہے سفر

    ہاں جی! کر لو جو کرنا ہے۔

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں مزاحمت کی جبلت کے لیے۔ وہ جبلت جو مشکل کے بیل کو سینگوں سے پکڑنا سکھاتی ہے، جو جبر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہونے کی ہمت دلاتی ہے اور جو مایوسی اور بے بسی کے اندھیرے میں اس امید کی شمع جلاتی ہے کہ ابھی سب کچھ کھویا نہیں گیا، اپنی زندگی کا کچھ اختیار اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔

    جب سے لاک ڈاﺅن شروع ہوا ہے ہمارے بچوں کے ابا نے بچوں کو ایکسرسائز کروانے کا ایک نیا طریقہ نکالا ہے۔ عام دنوں میں تو بڑے بچے جِم چلے جاتے ہیں اور چھوٹے اپنے دوستوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے۔ لیکن لاک ڈاﺅن کے دنوں میں سب بند ہے۔ اس عمر کے لڑکوں میں بہت انرجی بھری ہوتی ہے، نہ نکلے تو چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا انہیں مصروف رکھنے اور جسمانی طور پر چاق و چوبند رکھنے کے لیے ان کے ابا رات کو گھر کے سامنے انہیں فٹبال کی پریکٹس کرواتے ہیں۔ یہ پریکٹس یوں ہوتی ہے کہ بچے فاصلے سے ایک دائرے میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کو فٹ بال پاس کرتے ہیں۔ ابا کوچ، انسٹرکٹر اور ریفری بن کر دائرے کے بیچ میں کھڑے ہوتے ہیں۔ پریکٹس کے قواعد یہ ہیں کہ جو کھلاڑی بال کو کک لگانے میں ایک سے دوسرے قدم کا استعمال کرے، بال اسے چھو کر باہر نکل جائے یا وہ بال کو کک لگا کر اگلے کھلاڑی سے اتنی دور پھینکے جہاں تین قدم میں نہ جایا جا سکتا ہو تو اسے بطور سزا تین ڈنڈ نکالنے پڑتے ہیں ۔ایک ریگولر پریکٹس سیشن میں ایک بچے کے اٹھارہ بیس ڈنڈ ضرور ہو جاتے ہیں۔ عام طور پر میں یہ پریکٹس ایک طرف بیٹھ کر دیکھتی ہوں اور اپنی لکھی جانے والی کہانیوں کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں ۔لیکن کل جب یہ بچے اپنے اپنے ڈنڈ کی تعریفوں میں رطب اللسان تھے، مجھے بھی جوش آگیا۔

    ”یہ کیا مشکل ہے؟ میں بھی کر سکتی ہوں۔“ میں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

    جب سے مجھے شیاٹیکا کا مسئلہ ہوا ہے، میں اور میرے گھر والے میری کمر کے معاملے میں بہت محتاط رہتے ہیں۔ مجھے وزن نہیں اٹھانے دیا جاتا، کوئی چیز گھسیٹنے نہیں دی جاتی، زیادہ دیر کھڑے رہ کر کام کرنے پر بھی میرے بچوں اور میاں کو اعتراض ہوتا ہے۔ اب جو میں نے ڈنڈ پیلنے کا ارادہ ظاہر کیا تو سب میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی۔ پہلے تو میرے بچوں نے مجھے اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن جب میں نے Core Strength ڈویلپ کرنے کے فوائد پر تقریر شروع کی تو وہ راضی ہو گئے اور سب میرے اردگرد یوں اکٹھے ہو گئے جیسے مجھے ہاتھوں میں تھام کر تین چار مرتبہ اوپر نیچے کریں گے اور بس ڈنڈ ہو جائیں گے۔

    ”ہٹ جاﺅ پیچھے۔“ میں نے حکم دیا۔ ”یوں لگ رہا ہے میں محاذِ جنگ پر جا رہی ہوں اور سب لوگ مجھے ہتھیار پہنانے لگے ہیں۔“

    میں نے اپنا دوپٹہ اتار کر مصطفی کو پکڑایا اور وہیں سڑک کے کنارے پانچ ڈنڈ نکالے۔ بچوں نے تالیاں بجائیں۔ میاں نے شاباش دی اور مجھے یوں لگنے لگا میں رستمِ زمان ہوں۔ اپنے اس کارنامے پر بہت فخر ہوا اور رات سونے تک پہلوان پہلوان سی فیلنگ آتی رہی۔

    یہ پہلوانی کی ڈینگ جو دماغ کو چڑھ گئی، اسے نکالنے کے لیے رات میں میرا ازلی و ابدی دشمن آموجود ہوا ۔یعنی مچھر۔ میں نے مچھر بھگاﺅ لوشن لگایا لیکن یا تو میرے گھر کے مچھر ڈھیٹ ہو گئے ہیں یا وہ لوشن جعلی تھا۔ جب جب میں میٹھی نیند کی وادی کے کنارے جھوم رہی ہوتی، کوئی منحوس مچھر راگ بھیرویں الاپتا میرے کان میں آموجود ہوتا اور میں جھٹکے سے اس وادی کے کنارے سے کھینچ لی جاتی۔ بہت مرتبہ لوشن لگایا، بدل بدل کر لگایا۔ تالیوں سے انہیں مار ڈالنے کی کوشش کی لیکن ان پر مطلق اثر نہ ہوا۔ آدھی رات کو مجھے کوئی اپنے منہ پر طمانچے مارتے دیکھ لیتا تو نہ جانے کیا سمجھتا۔ مچھروں کی راگ بھیرویں کے ساتھ میری تالیوں کا طبلہ جاری تھا کہ ابراہیم صاحب بھنگڑا ڈالنے آن پہنچے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ابراہیم کو بچپن سے نیند میں چلنے کی بیماری ہے۔ وہ نیند میں اٹھ کر باتیں کرتا ہے، لڑتا جھگڑتا ہے، قہقہے لگاتا ہے، سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچ جاتا ہے اور کسی بھی بھائی کے کمرے میں جا کر اس کے ساتھ بستر میں گھس کر سو جاتا ہے۔ اس عالم میں آپ اسے لاکھ روکیے، جگانے کی کوشش کیجئے، اسے کچھ پتا نہیں چلتا۔ نہ ہی صبح اٹھ کر کچھ یاد رہتا ہے۔ آج یہ حضرت جو ساتھ والے کمرے میں شب باش تھے اٹھ بیٹھے اور لگے چلانے۔ ”عمر سے دور رہوں گا۔ عمر سے دور۔ دور۔ دور۔“ یقینا خواب میں عمر سے لڑائی ہو رہی تھی۔ یہ ارشاد فرما کر میرے کمرے میں وارد ہوئے۔ پہلے تو سیدھے باتھ روم کی طرف گئے، وہاں سے یوٹرن لے کر داخلی دروازے کی طرف لپکے ، عین اس کے قریب پہنچ کر ارادہ بدل دیا اور میرے بستر میں آن گھسے۔ میری گردن میں بازو ڈال کر ایک ٹانگ میرے اوپر رکھی اور مجھے چمٹ کر سو گئے۔ میرے کان میں ننھی منی خراٹیاں گونجنے لگیں۔ ایک مچھروں کی بلا، اوپر سے یہ جکڑ کہ کروٹ لینا تو دور کی بات میں ہل بھی نہیں سکتی تھی۔ اس بے بسی کے عالم میں بہت دیر لیٹی رہی اور آنکھیں جھپکتی رہی۔ بڑی دیر بعد آخر کچن میں کچھ کھٹر پٹر کی آواز آئی۔ یہ عمر تھے۔ ان صاحب کو آدھی رات کو بھوک ستاتی ہے اور یہ اٹھ کر پکانے ریندھنے کی فکر میں کچن میں جا دھمکتے ہیں۔

    کچن میں آوازیں سن کر میں نے سوچا کہ عمر کو بلا کر کہوں کہ لاﺅنج میں لگا مچھر مار لیمپ میرے کمرے میں لاکر لگا دے۔ میں نے عمر کو آواز دی۔ تھوڑی دیر بعد عمر اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کرتا میرے کمرے میںآ موجود ہوا۔ عمر کی عادت ہے کہ جب میرے کمرے میں آتا ہے (اور اگر میں اسے لیٹی ہوئی ملتی ہوں) تو میری ٹانگیں یا پاﺅں ضرور دباتا ہے۔ اب بھی اس نے آکر یہی کیا۔ ٹٹول کر اندازے سے میری ٹانگ پر ہاتھ رکھا اور جو زور سے دبایا تو ٹانگ ہلی اور اٹھ کر چل پڑی۔

    ”یہ کیا ہے؟ یہ کون ہے؟“ عمر اندھیرے میں گھبرا کر چلایا۔

    ”عمر سے دوردوردور۔“ ٹانگ جواباً چلائی۔

    ابراہیم کی آواز پہچان کر عمر نے اسے بازو سے پکڑا اور مارچ کراتا اپنے کمرے تک لے گیا۔ گھر میں سب کو معلوم ہے کہ اس عالم میں سختی یا کھینچا تانی یا جگانے کی کوشش نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ہر کوئی SOP (Standard Operating Procedure) پر عمل کرتا ہے۔

    بارے کہیں جا کر کمرے میں لیمپ لاکر لگایا گیا، ابراہیم بحفاظت اپنے کمرے میں پہنچائے گئے اور مجھے نیند کی وادی میں قدم رکھنا نصیب ہوا۔ اب خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ ایک ویران بیابان میں ایک بہت بڑے پنجرے کے سامنے کھڑی ہوں اور عین میرے سامنے پنجرے کے اندر ایک دیوہیکل شیر چنگھاڑ رہا ہے۔ اس ہیبت ناک شیر کے دو سر ہیں اور ان دو سروں کی چنگھاڑوں سے کل عالم لرز رہا ہے۔ میں اس عفریت کو خاموش کرانے کے لاکھ جتن کرتی ہوں لیکن وہ سر پٹک پٹک کر دھاڑے جاتا ہے۔ یکایک ایک چنگھاڑ اس نے ایسی ماری کہ دہل کر میری آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ اندھیرا ہے، میرا کمرا ہے، میں اپنے بستر پر ہوں اور شیر ہے کہ دھاڑے جا رہا ہے۔ اب جو نظر پھیر کر اس چنگھاڑ کے منبع کی طرف دیکھا تو اپنا ہی میاں نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ جس چنگھاڑ کو میں خواب میں دو مونہوں والے شیر کی دھاڑ دیکھ رہی تھی وہ میرے میاں صاحب کے خراٹے تھے۔ عام طور پر وہ خراٹے نہیں لیتے لیکن آج لے رہے تھے اور اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ رہے تھے۔ شاید یہ صبح میں کھائی حلوہ پوریوں کا اثر تھا یا شاید آج قدرت کو مچھروں، نیند میں چلتے بچوں اور خراٹوں سے میرا امتحان لینا مقصود تھا۔ واللہ اعلم۔

    ساری رات اس غل غپاڑے سے جھوجھنے کے بعد کہیں تیسرے پہر میری آنکھ لگی اور صبح اپنے وقت پر کھل گئی۔ اٹھ کر آئینے میں اپنا چہرا دیکھا تو آنکھوں کے نیچے حلقے پڑے تھے۔

            اک میری اکھ کاشنی

           دوجا رات دے اُنیندرے نے ماریا

            وے اک میری اکھ کاشنی

    لیکن چہرے پر کاشنی آنکھ کے علاوہ بھی کچھ تھا۔ مچھروں کے کاٹے کے نشانات ، اور وہ بھی ایک دو نہیں پورے دس۔

    میرے میاں صاحب نے یہ نشان دیکھے تو گھبرا کر پوچھا۔ ”تمہیں اتنے مچھر کیسے کاٹ گئے؟“

    ”اصل میں میں بہت سوئیٹ ہوں۔“ میں نے انکسار سے کہا۔ ”میرا خون میٹھا ہے، مچھر resist نہیں کرسکتے۔“

    لیکن یہ خوشخبری سن کر بھی ان کی تسلی نہ ہوئی اور وہ دوپہر تک مجھے وٹامن سی کی گولیاں کھلاتے رہے۔

    شام کو میری ایک نند کا فون آیا۔ کہنے لگیں: ”بیٹا پالک بنائی ہے۔ رائیڈر کے ہاتھ بچوں کے لیے بھیج رہی ہوں۔“ جی میں آئی کہ منع کر دوں کہ یہ تکلیف نہ کریں۔ کیوں کہ معلوم تھا کہ گھر میں میرے علاوہ کوئی نہ کھائے گا۔ لیکن کہہ نہ سکی اور شکریہ ادا کر کے فون بند کر دیا۔ ویسے بھی ان کا پالک پنیر مجھے پسند ہے۔ واک پر نکلنے سے پہلے بچوں کو بتایا کہ پھپھو پالک بھیج رہی ہیں، ریسیو کر لینا۔ بچوں نے پالک کا نام سن کر ناک بھوں چڑھائی اور بے دلی سے ریسیو کرنے کا وعدہ کیا۔ میں واک سے واپس آئی تو مصطفی کو سامنے کھڑا پایا۔ اس نے خوشی سے مجھے بتایا: ”پالک پنیر نہیں ہے پالک گوشت ہے۔ ساتھ میں کباب، رول اور سموسے بھی ہیں۔“

    رات کو ان نعمتوں کو اپنے دستر خوان پر سجے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اچھا ہوا منع نہیں کیا۔ میں نے خود ہی سے اخذ کر لیا تھا کہ یہ پالک پنیر ہو گا جب کہ وہ مجھے دعوتِ شیراز بھیج رہی تھیں۔

    اے میرے مہربان رب! ہم تیری نعمتوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں۔ انہیں حقیر جانتے ہیں، نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے ساتھ کس قدر خیر اور کتنا انعام لائی ہیں۔ ہم وہ مانگتے ہیں جسے ہم اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں، اس پر راضی نہیں ہوتے جو تو دینا چاہتا ہے۔ 

    ہم اپنے لیے ایک پھول مانگتے ہیں اور اسی کی ضد پر اڑے رہتے ہیں۔ نہیں جانتے کہ تُو تو ہمیں پھولوں کا پورا ٹوکرا دینا چاہتا ہے۔ اے رزق دینے والے، اے نعمت دینے والے ہم نہیں جانتے اور تو جانتا ہے، ہم نہیں سمجھتے اور تو سمجھتا ہے۔ لے ہم تیری رضا میں راضی ہیں، تجھ سے ملنے والی چھوٹی سی چھوٹی نعمت کو بھی آنکھوں سے لگاتے ہیں اور سر پر بٹھاتے ہیں۔ ہمیں ہر وہ نعمت دے جو تیرے خزانوں میں اعلیٰ و ارفع ہے اور اسے ہمارے دلوں کی خوشی اور تسکین کا باعث بنا۔ آمین یا رب العالمین۔

    ٭….٭….٭

     

  • قرنطینہ ڈ ائری . بارہواں دن

    قرنطینہ ڈ ائری . بارہواں دن

    قرنطینہ ڈ ائری

    (سارہ قیوم)

    بارہواں دن، ہفتہ 4 اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج دادو کی پہلی برسی ہے۔ دادو کون تھیں؟ ہماری کیا لگتی تھیں؟ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ رام پور کے نواب کے خاندان سے تھیں۔ ان کے میاں انڈین سول سروس میں تھے اور تقسیم کے بعد لاہور آبسے تھے جہاں نوجوانی میں ان کا انتقال ہوا اور وہ تین چھوٹے چھوٹے بچے اپنی کم عمر بیوی کو سونپ کر راہی ملکِ عدم ہوئے۔ اب رہا دوسرا سوال کہ وہ ہماری کیا لگتی تھیں تو اس کا جواب ذرا پیچیدہ ہے۔ دادو سے ہمارا خون کا کوئی رشتہ نہ تھا۔ وہ میری چھوٹی بہن کی ساس تھیں۔ سنتے تھے جوانی میں بہت حسین اور خوش لباس تھیں لیکن جب ہماری ان سے ملاقات ہوئی تو بوڑھی اور نحیف ہو چکی تھیں۔ وہ دنیا کی ان معدودے چند ساسوں میں سے ایک تھیں جنہوں نے اپنی بہو کے خاندان کو دل سے اپنا لیا تھا۔ بہو کی ماں، بہن بھائی، خالہ، ماموں، چچا غرض ہرایک سے اس قدر محبت سے ملتیں اور اتنی عزت سے پیش آتیں کہ گرویدہ کر لیتیں۔ اس عزت و محبت میں تصنع کا شائبہ تک نہ تھا اور بناوٹ نام کو نہ تھی۔

    میرے بچے خالہ کے گھر اپنے کزنز سے کھیلنے جایا کرتے تھے۔ وہاں ایک ملازمہ تھیں جنہیں سب گھر والے اماں کہتے تھے۔ مزے کی بات یہ کہ یہ اماں جو خود بھی عمر رسیدہ تھیں دادو کو دادو کہہ کر پکارتی تھیں اور جواب میں دادو انہیں اماں کہتی تھیں۔ اس باہمی عزت افزائی کے ماحول میں میرے بچے بھی انہیں دادو کہنے لگے۔ حالاں کہ ان کے اپنے پوتے انہیں دادی امی کہہ کر بلاتے تھے لیکن ہمارے بچوں پر اور ان کی دیکھا دیکھی ہم میاں بیوی پر لفظ دادو کا رنگ ایسا چڑھا کہ آخر دم تک قائم رہا۔

    انہیں بلیوں سے بہت محبت تھی۔ جوانی سے بلیاں پالتی آئی تھیں۔ ایک مرتبہ لاﺅنج میں اپنی بلی سے یوں گفتگو کرتی پائی گئیں۔

    ”شش! ارے کہاں سے دوں؟ دودھ ختم ہو گیا ہے۔ ہاں ہاں میں دیکھ آئی ہوں فریج میں۔ نہیں پڑا کچھ بھی وہاں۔ اچھا دیکھو ابھی بھیا دفتر سے آئیں گے تو ان سے کہوں گی وہ لا دیں گے دودھ۔“

    ”میاﺅں۔“

    ”اری چپ! دیکھ زیادہ شور کیا تو بھابھی خفا ہوں گی۔“

    بلی کی مذکورہ بھابھی یعنی میری بہن نے کہا۔ ”امی دودھ تو پڑا ہے فریج میں۔“

    سرگوشی میں بولیں: ”ہاں ہاں! میں تو ویسے ہی اسے کہہ رہی ہوں۔ ضد کرتی ہے نا پھر۔“

    ایک مرتبہ بہت شدید آندھی آئی۔ درخت اکھڑ گئے، دیواریں گر گئیں۔ اس آندھی کے ساتھ اڑ کر کہیں سے بلی کے تین نومولود بچے بھی آگئے ۔ یوں لگتا تھا انہیں دنیا میں آئے ابھی چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کیوں کہ ان کی آنکھیں ہنوز بند تھیں، منہ سے میاﺅں میاﺅں کے بجائے چوں چوں کی آواز نکلتی تھی اور ان میں ابھی ٹانگوں پر کھڑے ہونے کی سکت نہ آئی تھی۔ وہ پیٹ کے بل ہمارے پورچ میں رینگ رہے تھے۔ بہت دیر میں اور میرے بچے ان بلی کے بچوں کے گرد کھڑے انہیں دیکھتے رہے کچھ سمجھ نہ آتا تھا ان کے ساتھ کیا کریں۔ اتنے میں گیٹ کھلا اور چھوٹی بہن کی گاڑی اندر آئی۔ اس نے جو آکر بلی کے بچے دیکھے تو بولی۔ ”اگر ان کی ماں نہ آئی تو یہ تو مر جائیں گے۔ اچھا! انہیں اپنی ساس کے پاس لے جاتی ہوں۔ وہ بلیوں پر ایکسپرٹ ہیں۔ شاید کچھ بتا سکیں کہ ان کا کیا کریں۔“

    یہ وہ زمانہ تھا جب دادو اپنے بڑے بیٹے کے عین جوانی میں انتقال کے بعد ڈپریشن میں جا چکی تھیں۔ Demantia ان کے دماغ میں اپنے پنجے گاڑنا شروع ہو چکا تھا۔ وہ بے حد بیمار اور صاحبِ فراش تھیں۔ کھانا پینا برائے نام رہ گیا تھا اور بستر سے اٹھ نہ سکتی تھیں۔ میری بہن بلی کے بچوں کو ایک جوتوں کے ڈبے میں ڈال کر گھر لے گئی۔ جب دادو نے ان ستم رسیدہ بن ماں کے بچوں کو دیکھا تو گویا کسی نے ان میں نئی زندگی پھونک دی۔ وہ عمر کے اس حصے میں تھیں جب ان پر کسی ذمہ داری کا بوجھ نہ تھا۔ لیکن ذمہ داری صرف بوجھ نہیں ہوتی ۔ خود کو کسی کی ضرورت بنتے دیکھنا بڑا خوش کن احساس ہوتا ہے۔ اس احساس نے دادو کو بستر سے اٹھا بٹھایا۔ فوراً دودھ منگایا، روئی منگوائی اور روئی کو دودھ میں بھگو کر بلی کے بچوں کے منہ میں دودھ ٹپکایا۔ بچے اتنے چھوٹے تھے کہ یہ عمل ہر آدھے گھنٹے بعد کرنا پڑتا تھا۔ دو دن کے اندر نہ صرف بلی کے بچوں کی آنکھیں کھل گئیں بلکہ دادو کی بجھتی آنکھوں میں بھی زندگی کی جوت لوٹ آئی۔ بلی کے یہ بچے خوب پھلے پھولے اور جوان ہونے تک دادو کے پاس رہے۔

  • قرنطینہ ڈائری . گیارہواں دن

    قرنطینہ ڈائری . گیارہواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    گیارہواں دن: جمعتہ المبارک 3اپریل 2020

    ڈیئر ڈائری!

    آج پھر جمعہ گھر پر پڑھا۔ مصطفی نے اقامت کہی، عماد نے امامت کی اور لیجئے جمعہ ہو گیا۔ عام طور پر میں جمعہ اہتمام سے مناتی ہوں۔ آج بھی میں نے گھر چمکایا، خوشبو میں بسایا، نہا د ھو کر نیا جوڑا پہنا۔ سنت منانے کو سرمہ بھی لگایا۔ لیکن اس جمعے میں جمعے والی بات ہی نہ تھی۔ وہ صبح بچوں کے شلوار کرتے استری کیا جانا، وہ بچوں کو ”اٹھو جمعہ نکل جائے گا“ کہہ کر جلدی جلدی جگانا، وہ بچوں کا لپک جھپک تیار ہونا اور بھاگم بھاگ جانا، وہ عماد کا ہمیشہ سب سے پہلے اکیلے ہی چلے جانا تاکہ پہلی صف میں جگہ ملے، وہ عین وقت پر عمر کے جوتوں کا کھو جانا، وہ ابا کا گیٹ پر کھڑے ہو کر آوازیں لگانا، وہ عمر کا جوتوں کی تلاش میں ایک ایک پلنگ کے نیچے گھسنا اور آخر میں جلدی میں میری چپل اڑس کر دوڑ جانا آج ان میں سے کوئی بھی رونق نہ تھی۔ بچے چپ چاپ لاﺅنج میں جمع ہوئے۔ کسی نے جینز پہن رکھی تھی، کوئی نائٹ سوٹ کا پاجامہ پہنے ہوئے تھا۔ عمر صاحب نیکر ہی میں چلے آئے۔ میرے گھورنے پر نیکر گھسیٹ کر گھٹنوں سے نیچے کی اور اشارے سے تسلی دی کہ فکر نہ کریں ستر ڈھکا ہوا ہے۔ تو یوں بس چپ چاپ ہم نے نماز پڑھی اور نماز کے بعد بچے منہ لٹکائے اپنے اپنے کمروں کو سدھارے۔

    سید علی ہجویری کشف المحجوب میں فرماتے ہیں: ”صوفی کا امتیازی وصف یہ ہے کہ ماضی کا غم نہ کرے اور مستقبل کی فکر نہ کرے۔“ آج جمعے کی نماز کی نیت باندھتے ہوئے مجھے جب گزرے جمعوں کا خیال آیا تو ساتھ یہ بھی خیال آیا کہ نہ وہ وقت رہا تھا، نہ یہ رہے گا۔ یہ وبا ختم ہو جائے گی، مسجدیں پھر سے آباد ہو جائیں گی، جمعے کی رونقیں لوٹ آئیں گی۔

    تو ڈیئر ڈائری آج میں شکر گزار ہوں زندگی کے اس سبق کی جو وقت کی گردش ہمیں سکھاتی ہے۔ اس اطمینان کے لیے میں بے حد مشکور ہوں جو اللہ کی پلاننگ میں راضی ہو جانے سے ملتا ہے۔ میں گزرے ہر جمعے کو محبت او رتشکر سے یاد کرتی ہوں اور آنے والے ہر جمعے کے لیے پرامید ہوں ۔ تو آﺅ ہراس اور وسواس کی اس گھڑی کو اس امید پر گزاریں کہ یہ وقت گزر جائے گا اور آﺅ کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی خوشی سے یہ سوچ کر مسرت کا رس کشید کریں کہ یہ گھڑیاں سدا نہ رہیں گی۔

    سدا نہ باغیں بلبل بولے، سدا نہ باغ بہاراں

    سدا نہ ماپے، حسن، جوانی، سدا نہ صحبت یاراں

    (باغوں میں بلبل ہمیشہ نہیں بولے گی نہ ہی بہار سدا ٹھہرنے رہنے والی ہے۔ نہ ماں باپ سدا رہیں گے، نہ حسن، نہ جوانی اور نہ ہی عزیز دوستوں کی محفلیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔)

    آج کے اخبار میں بہت سی اچھی خبریں ہیں۔ ایک خبر تو یہ ہے کہ زمین کے اوپر اور زون کی تہہ کے سوراخ بھرنا شروع ہو گئے ہیں۔ بہت خوشی کی بات ہے۔ انسان نے دھوئیں اور کاربن کی برچھی ہاتھ سے رکھی ہے تو فطرت اپنے زخموں پر ٹانکے لگانے لگی ہے اور اس کے گھاﺅ بھرنے لگے ہیں۔ آسمان شفاف ہو گیا ہے اور تارے مزید چمکیلے اور روشن۔ شاید قدرت کو اس وبا سے یہی کام لینا مقصود تھا۔

     دوسری خبر یہ ہے کہ چین میں حکام نے کتے اور بلیاں کھانے پر پابندی لگا دی ہے۔ ویسے تو یہ اچھا ہوا لیکن اب ہم سمبا کے دشمنوں کو کیسے ڈرائیں گے؟ پہلے تو ہم انہیں دھمکاتے تھے کہ بھئی دیکھو آدمیت کے جامے میں نہ آئے اور ہمارے سمبا کو یونہی مارتے پیٹتے رہے تو ہم تمہیں اٹھا کر چین بھیج دیں گے۔ وہاں لوگ بلیوں کے کباب کھاتے ہیں۔ یہ سن کر دشمنوں کے چھکے چھوٹ جاتے تھے اور وہ دم دبا کر بھاگ جاتے تھے۔ کچھ یہ بھی کہ زبانی دھمکیوں کے ساتھ ہم انہیں ہاتھ میں پکڑے کنکروں سے بھی سمجھاتے تھے۔

    آج دو دن ہو گئے ہیں سمبا مجھ سے ناراض ہے۔ نہ میری طرف دیکھتا ہے نہ بات کا جواب دیتا ہے۔ بلاتی ہوں تو بے اعتنائی سے منہ موڑ کر آگے چل پڑتا ہے۔ پرسوں میں نے اسے ایک بلی پر حملہ کرنے کے جرم میں ڈانٹا تھا اور جب ابا آئے تھے تو ان کو بھی شکایت لگائی تھی۔ انہوں نے بھی اس کی گوشمالی کی تھی۔ لہٰذا اب سمبا صاحب مجھ سے منہ پھلائے پھر رہے ہیں۔ دیکھتی ہوں کتنے عرصے تک ان کی یادداشت ساتھ رہتی ہے اور کب تک روٹھے رہتے ہیں۔

    بلیاں ویسے بھی بہت مغرور اور خودپسند ہوتی ہیں۔ بات بات پر روٹھ جاتی ہیں۔ ویسے روٹھتے تو میں نے کئی اور جانوروں کو بھی دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ چڑیا گھر میں بندروں کے پنجرے میں ایک ننھے منے بندر کو اپنی ماں سے روٹھ کر کونے میں بیٹھا دیکھا۔ ماں منانے جاتی تھی تو صاحبزادے مزید روٹھ کر دوسرے کونے میں جا بیٹھتے تھے اور رونکھے ہو کر ماں کو مٹر مٹر کر دیکھتے تھے ۔ اور ماں کا یہ حال تھا کہ

    ان کو آتا ہے پیار پر غصہ

    ہم کو غصے پہ پیار آتا ہے

    کئی مرتبہ چڑیوں کو روٹھتے دیکھا۔ میرے کمرے میں لکھنے کی میز اور کرسی کھڑکی کے ساتھ رکھی ہے۔اس میز پر میرا آدھا وقت لکھنے میں گزرتا ہے اور باقی آدھا کھڑکی سے چڑیوں کو دیکھنے میں۔ چڑے معصوم ہوتے ہیں اور چڑیاں تیز طرار۔ ناراض ہو جائیں تو خوب لڑتی ہیں اور پھر ناراض ہو کر منہ پھیر کر چل پڑتی ہیں۔ چڑا منانے جائے تو اس بے چارے کو ٹھونگیں مارتی ہیں۔ انہیں دیکھتے ہوئے مجھے اکثر بچپن میں پڑھی وہ کہانی یاد آتی ہے جس میں چڑے نے ساری کھچڑی کھا جانے پر چڑیا کو ڈنڈی سے مارا تھا اور چڑیا اٹو اٹی کھٹو اٹی لیے کونے میں پڑ گئی تھی۔ چڑا بازار جا کر گندم لایا تھا اور چڑیا سے فرمائش کی تھی کہ پیس دے۔ گندم پیسنے سے لے کر روٹی بنانے تک ہر فرمائش کا جواب چڑیا نے یوں دیا تھا۔ ”ماری ٹونی کونے ڈالی، اب کہتے ہو گندم پیس دوں۔ دور موئے میں کیوں پیسوں؟“ اور آخر کار جب سب مرحلوں سے گزر کر چڑے نے روٹی پکا کر چڑیا کو کھانے کی دعوت دی تھی تو وہ پھرُر سے اڑی تھی اور چہک کر بولی تھی۔ ”واری سیاں پھیری سیاں میں کب تم سے روٹھی تھی؟“

    انہیں دیکھ کر خیال آتا ہے کہ زندگی کا اس سے بہتر کیا مصرف ہو سکتا ہے کہ روٹھنے منانے میں گزاردی جائے۔ ایک گھونسلہ ہو، اس میں زندگی کا ساتھی اور چھوٹے چھوٹے بچے ہوں۔ اس چھوٹی سی دنیا کا ہر محبوب اپنے چاہنے والے سے روٹھ جائے اور پھر بہت مان اور ادا اور نخرے سے مڑ مڑ کر اسے دیکھے اور ہر محبت کرنے والا بڑے لاڈ سے اپنے روٹھے محبوب کو منائے اور اس سرشاری کا لطف اٹھائے جو مان رکھنے اور منا لینے میں ہوتی ہے۔

    اے میرے پیارے اللہ! اے میرے مالک، میرے ہمدم، میرے محبوب! تیری کرسی عرش سے اوپر، کائنات سے اونچی ہے لیکن تیرا تصور میرے دل کی گہرائیوں میں رہتا ہے۔ تیری محبت میرے خیال کے دامن میں موتیوں کی طرح دمکتی ہے۔ وہ محبت جو تجھ سے بھی زیادہ تابناک ہے، کیوں کہ اس کو میں اپنی سرخوشی سے اور اپنے آنسوﺅں سے سجاتی ہوں۔ اے میرے محبوب تو محیط ہے تو مقیت ہے، تو ازل ہے تو ابد ہے لیکن اپنی رات کی تنہائیوں کے کسی پل میں میں تجھے پا لیتی ہوں۔ اس پل پر ازل سے لے کر ابد تک کے تمام زمانے قربان۔ اے میرے محبوب تو معبود ہے، تو مسجود ہے، تو مقصود ہے، تو موجود ہے ۔اور اگر میں کہیں دنیا میں تجھے اپنے سامنے موجود پاتی تو کبھی روٹھا نہ رہنے دیتی ۔تیری طرف آنکھوں کے بل آتی، تیرے پیروں سے لپٹ جاتی، اپنے آنسوﺅں سے تیرا دامن تر کر دیتی، اپنا دل نکال کر تیرے قدموں میں رکھ دیتی ۔اور پھر اس سرشاری اور وارفتگی سے آشنا ہوتی جو روٹھے محبوب کو منانے سے ملتی ہے۔ اے میرے محبوب تو ظاہر ہے تو باطن ہے، تو حیی ہے تو قیوم ہے۔ تجھے باہر ڈھونڈنے کی مجھے کیا ضرورت؟ شکر ہے کہ تو میری شہ رگ میں رہتا ہے ورنہ تجھے منانے کے لیے مجھے کتنے کشٹ اٹھانے پڑتے۔

    ٭….٭….٭

     

  • قرنطینہ ڈائری ۔ دسواں دن

    قرنطینہ ڈائری ۔ دسواں دن

    قرنطینہ ڈائری

    (سارہ قیوم)

    دسواں دن: جمعرات 2 اپریل 2020ئ

    ڈیئر ڈائری!

    جب سے پارک کو تالا لگا ہے۔ میں ہر روز واک کے لیے ایک نیا رستہ اختیار کرتی ہوں۔ کل بی بلاک کی سیر کی تھی۔ آج ایف بلاک کا چکر کاٹ کر ای بلاک کی طرف نکل گئی۔ ای بلاک نری بھول بھلیاں ہے۔ چھوٹی چھوٹی گلیاں بڑی سڑک کی طرف نکلتی ہیں اور ہر گلی ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت ہے۔ نشانی کے لیے میں نے ابراہیم کے دوست عبداللہ کا گھر رکھ چھوڑا ہے جس کے ماتھے پر ماشا اللہ لکھا ہے۔ عبدللہ کے نہیں، اسکے گھر پر۔ تو کبھی میں اس گھر سے دو گلیاں پہلے مڑ جاتی ہوں، کبھی ایک گلی آگے کا راستہ لیتی ہوں۔ آج میں جس گلی سے گزری وہاں میں نے بہت خوبصورت گھر دیکھے۔ ایک گھر مکمل طور پر پھولدار بیلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں اپنا فون کیوں نہ لائی ، ورنہ تصویر کھینچتی اور مالی کو دکھاتی کہ دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا۔ ایک تم ہو کہ ٹھیک سے لان میں جھاڑو بھی نہیں دیتے۔ ایک دوسرا گھر دیکھا جو دو کنال پر بنا ہوا تھا اور بالکل گاﺅں کے کچے گھر جیسا تھا۔ کچی مٹی کے لیپ جیسا پینٹ، شہتیروں کی منڈیریں اور کھڑکیوں پر پڑی چکیں۔ اس گھر کو دیکھ کر مجھے بہت لطف آیا۔ مٹی اور وطن کی محبت انسان کے خمیر میں ہے۔ وطن کو چھوڑ کر کہیں چلا جائے تو اپنے وطن اور پرانے گھر کی یاد میں ہڑکتا رہتا ہے ۔دنیا کے بہت سے شہروں کے نام نقل مکانی کر کے آئے ہوئے لوگوں نے اپنے پرانے شہروں کے نام پر رکھے ہیں۔ جیسے نیویارک، نیوزی لینڈ، لٹل انڈیا ۔سنا ہے امریکا میں ایک قصبہ لاہور نام کا بھی ہے۔ ضرور ہو گا، لیکن اس میں لاہور کی خوشبو، لاہور کی تاریخ اور لاہور کی سی زندہ دلی کہاں ہو گی؟ وہ بات کہاں مولوی مون کی سی۔

    مٹی کے گھر سے آگے چلی تو ایک گھر کے باہر گلاب کے پھولوں کا درخت دیکھا۔ جی ہاں درخت۔ تھی تو وہ جھاڑی ہی مگر اس قدر قد آور ہو چکی تھی اور اتنا پھیل چکی تھی کہ دس بارہ فٹ کا درخت بن چکی تھی۔ اس کی شاخیں گلابی پھولوں کے بوجھ سے جھکی پڑتی تھیں۔ اس وقت اس انجان گلی میں کھڑے گلاب کے اس درخت کو دیکھتے مجھے وہ دن یاد آیا جب میں ہمیشہ کی طرح واک کے ارادے سے پارک کی طرف گئی تھی اور اسے بند پایا تھا۔ کس قدر افسوس ہوا تھا مجھے اور کیسی حسرت سے میں نے ان چند پھولوں کو دیکھا تھا جن کے اردگرد میں پارک کے چکر کاٹتی رہتی تھی اور جو روزانہ دیکھ دیکھ کر مجھے ازبر ہو چکے تھے۔ بڑے بجھے دل سے میں نے سڑکوں پر چہل قدمی شروع کی تھی۔ لیکن یہ بجھا دل زیادہ دیر بجھا نہیں رہا تھا۔ میں نے خوبصورتی اور حسن اور تعجب کے کئی نئے جہان دریافت کیے تھے۔ وہ جہان جن کے گرد برسوں رہنے کے باوجود میں ان سے بے خبر تھی۔

    تو ڈیئر ڈائری! آج میں شکر گزار ہوں ان تمام راستوں کے لیے جو بند ہو گئے۔ وہ بند نہ ہوتے تو میں نئے راستوں کی تلاش میں کبھی نہ نکلتی۔ دریافت کی سر خوشی سے کبھی آشنا نہ ہوتی، اور قدرت کے اس گرینڈ ڈیزائن کو کبھی نہ سمجھ پاتی جو کائنات کے بڑے سیاروں سے لے کر ریت کے معمولی ذرے کو بحسن و بخوبی چلا رہا ہے۔

    ویسے جب سے یہ ڈائری شائع ہونا شروع ہوئی ہے، لوگ گھبرا گھبرا کر مجھے فون کرتے ہیں کہ واک پر کیوں نکلتی ہو؟ گھر بیٹھو ورنہ کرونا ہو جائے گا۔ تو میرے دوستو! ایک بات میں واضح کرنا چاہتی ہوں۔ جس سوسائٹی میں میںرہتی ہوں وہ بہت چھوٹی سی کمیونٹی ہے۔ گیٹ پر ناکہ لگا ہے جس سے آج کل کسی مہمان، کسی ملازم کو اندر آنے نہیں دیا جارہا۔ آج ہماری وہ چوری کی شوقین ماسی، جسے دو ہفتے قبل فارغ کر دیا گیا تھا، راشن لینے آئی تو ناکے پر گارڈز نے اندر نہ آنے دیا اور ہمیں فون کر دیا کہ یہاں سے پرندہ پر نہیں مار سکتا، جسے جو کچھ دینا ہے یہاں آکر خود دے جائے۔ دوسرے یہاں کی ہر سڑک اور گلی میں گارڈز ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔ میں کسی بھی سڑک یا گلی میں نکل جاﺅں ،ایک یا دو گارڈز منہ پر ماسک چڑھائے سائیکل پر سوار اپنے معمولی کے راﺅنڈ پر نکلے نظر آتے ہیں میں اپنے پڑھنے والوں، خاص طور پر خواتین سے گزارش کروں گی کہ اس خاکسار کی دیکھا دیکھی بغیر سوچے سمجھے واک پر نکلنے کی غلطی نہ کیجئے۔ نہ ہی نت نئی سڑکیں اور گلیاں دریافت کر کے واسکوڈے گاما بننے کی کوشش کیجئے۔ امن و امان کی حالت مخدوش ہے۔ اگر کسی بدنیت مشٹنڈے کے ہاتھوں اغوا نہ بھی ہوئیں تو کرونا تو ہے ہی ۔خدانخواستہ کاٹ گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور کوئی بزدار نہ ملے گا دادرسی کو۔