Author: misbah116@hotmail.com

  • بگلے کی ٹانگ – انشاء علی

    بگلے کی ٹانگ – انشاء علی

    بگلے کی ٹانگ
    انشاء علی

    ایک دفعہ ایک نواب صاحب شکار کے لیے گئے۔ ان کا خانساماں جمال بھی ساتھ تھا۔
    نواب صاحب نے بہت سارے بگلے شکار کیے اور اپنے خانساماں جمال کو پکانے کے لیے دے دیئے۔ جمال بہت چالاک تھا۔ اس نے تمام بگلوں کو آگ پر بُھون لیا۔ اس کی عمدہ خوش بو سے جمال کا جی للچایا تو اُس نے ہر بُھنے ہوئے بگلے کی ایک ایک ٹانگ خود کھالی۔
    جب نواب صاحب نے یہ دیکھا تو انہیں بہت غصہ آیا۔ انہوں نے جمال سے پوچھا تو وہ بولا: ”جناب! میں نے کچھ نہیں کھایا۔ بگلوں کی تو ٹانگ ایک ہی ہوتی ہے۔”
    نواب صاحب اس بات پر حیران رہ گئے۔ انہوں نے جمال سے کہا کہ ”ہم صبح جھیل پر چلیں گے۔ وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔”
    اگلے دن دونوں جھیل پر گئے تو وہاں تمام بگلے ایک ٹانگ پر کھڑے تھے۔
    جمال بول اٹھا: ”دیکھیں صاحب! میں نہ کہتا تھا کہ بگلوں کی ایک ہی ٹانگ ہوتی ہے۔”
    نواب صاحب پہلے تو حیران ہوئے مگر پھر انہیں ایک ترکیب سوجھی۔ انہوں نے تالی بجائی اور تمام بگلوں نے اپنی اوپر اٹھائی ہوئی ٹانگ زمین پر رکھ دی۔
    یہ دیکھ کر نواب صاحب نے غصے سے جمال کو گُھورا تو وہ چِلّا اٹھا: ”یہ زیادتی ہے صاحب! کل جب آپ بگلوں کی دعوت اڑانے لگے تھے تب تو آپ نے تالی نہیں بجائی تھی۔ ورنہ تب بھی بگلے اپنی دوسری ٹانگ نکال لیتے۔” چالاک خانساماں کا یہ جواب سن کر نواب صاحب کی ہنسی چھوٹ گئی اور انہوں نے اُسے معاف کردیا۔

    ٭…٭…٭

  • بدی کے بدلے نیکی

    بدی کے بدلے نیکی

    بدی کے بدلے نیکی
    ہما جاوید

    کسی گائوں میں ایک محنتی اور شریف چیونٹارہتا تھا۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔ کبھی اپنے بِل کی مرمت کررہا ہے تو کبھی منہ میں اناج کادانہ اٹھائے چلاآرہا ہے۔ وہ کاہلی کو گناہ سمجھتا اور ہرکام بڑی محنت سے کرتا تھا۔ کسی کام سے باہر نکلتا توراہ چلتے دوستوں سے بے مقصد بات چیت نہ کرتا، وہ جانتا تھا کہ عقل مند زیادہ نہیں بولتے۔ راستے میں اگر کوئی جان پہچان والا مل بھی جاتا تو چیونٹا دور ہی سے سلام دعا لے کر آگے روانہ ہوجاتا تھا ۔
    اس چیونٹے کے بل کے قریب ہی گندے پانی کاایک جوہڑتھا۔جہاںشریر اور آوارہ بچے گھنٹوں اس گندے پانی میں نہاتے رہتے۔ ان بچوں کے ساتھ بہت سی بھینسیں بھی سارا دن پانی میں بیٹھی رہتی تھیں۔ چیونٹا بڑا پریشان تھاکیوں کہ بھینسیںوہاںسارا دن پھرتی رہتی تھیں۔ چیونٹے کو خطرہ تھا کہ کہیں اُس کا کوئی بچہ اِن کے پاؤں تلے کچلا نہ جائے۔ اب وہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتا تھا۔ اگر کبھی کسی ضروری کام سے باہر جاتا بھی تو اپنے بیوی بچوں کو سختی سے کہہ جاتا کہ وہ باہر نہ نکلیں۔
    ایک دن چیونٹا بہت تھکاہوا تھا۔ وہ دوپہرکاکھانا کھا کر کچھ دیر آرام کرنے لگا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک کسی نے اسے جھنجھوڑدیا۔ وہ چونک کر اٹھا اور دیکھا کہ اس کی بیوی اس کے سر پر کھڑی ہے۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ چیونٹے نے جب اس کی طرف دیکھا تووہ بولی: ”آپ مزے سے سو رہے ہیں اور گھر میں پانی بھرا جارہاہے۔ ”
    ”ہیں …؟کیا کہاپانی …؟” کہاں سے آرہا ہے؟ چیونٹاگھبرا کر بولااور پھر وہ باہر کی طرف بھاگا۔ وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بِل کے بالکل قریب جوہڑ میں ایک بھینس بیٹھی بار بار اپنی دم پانی پرمار رہی ہے جس سے چھینٹے اُڑ اُڑ کر چیونٹے کے بل میں داخل ہورہے ہیں۔ چیونٹے نے یہ منظر دیکھا تو پریشان ہوگیا۔ اِس طرح تو ہماری خوراک کا ذخیرہ برباد ہوجائے گااور جاڑوں کے موسم میں ہم بھوکے مرجائیں گے۔ چیونٹے نے یہ سوچاپھر دوڑ کر بھینس کے قریب ایک پتھر پر چڑھ کر بولا:
    ”بی بھینس! میری ایک بات سنوگی؟”
    ”کیا ہے بھئی؟” بی بھینس نے اکڑکرجواب دیا۔
    ”دیکھو بہن! میں ایک غریب اور کمزور ساچیونٹا ہوں۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم جانتی ہو کہ ہم اپنی بِل میں برے وقت کے لیے پہلے ہی سے خوراک ذخیرہ کرلیتے ہیں۔”
    ”تو پھر میں کیا کروں؟” بھینس روکھے پن سے بولی۔
    ”اچھی بہن !تم بار بار اپنی دم پانی میں مارہی ہو۔ اس سے میرے گھر میں پانی داخل ہورہاہے اور ہمیں خوراک کاذخیرہ تباہ ہونے کااندیشہ ہے۔ خدا کے لیے میرے بچوں پر ترس کھائو ۔ میں زندگی بھر تمہارا احسان مندرہوں گا۔” وہ بھینس بڑی بد اخلاق تھی۔ اُس پرچیونٹے کی اِن باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ آنکھیں نکال کر بولی:
    ”چل بھاگ یہاں سے… میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔ جب تک چاہوں دُم ہلاتی رہوں تُو مجھ پر حکم چلانے والا کون ہوتا ہے؟ نکل جا ورنہ کچل کررکھ دوں گی۔” چیونٹے نے یہ سنا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔ وہ سمجھ گیاکہ اس ظالم بھینس سے مزید کچھ کہنا بے کار ہوگا۔ چناںچہ وہ سرجھکا کرلوٹ آیا۔ گھر میں بہت زیادہ پانی بھر نے کے باعث خوراک کا سارا ذخیرہ تباہ ہوچکا تھا ۔ چیونٹے کے بچے خوف سے چیخیں ماررہے تھے۔ اس نے بڑی مشکل سے بچوں کوپانی سے نکالا اور باہر لے آیا پھر ایک حسرت بھری نظر اپنے گھر پر ڈال کر کسی انجانی منزل کی طرف چل دیا۔
    اب اس کے پاس کھانے کو خوراک تھی اور نہ سرچھپانے کو ٹھکانا۔ وہ سخت پریشان تھا ۔چلتے چلتے وہ ایک ٹیلے کے پیچھے جانکلا۔ اس جگہ چیونٹے کے بہت سے دوست رہتے تھے۔ انہیں جب سارا حال معلوم ہوا تو سب نے چیونٹے سے کہا:” پیارے بھائی!آپ ہمارے محسن ہیں۔ہر برے وقت میں آپ نے ہماری مدد کی ہے۔ اب قدرت نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ان احسانوں کا بدلہ اتار سکیں۔”
    یہ کہہ کر بہت سے چیونٹے مل کر ایک مکان کی تعمیر میں لگ گئے۔ وہی کام جو چیونٹاا کیلا کئی دنوں میں مکمل کرتا اب گھنٹے بھر میں ہوگیا تھا۔ ان سب نے چیونٹے کے لیے بڑاسا مکان بنادیا۔ مکان کے بعد غذا کامسئلہ حل کرنے کے لیے سب چیونٹے اپنے گھروں سے تھوڑاتھوڑا اناج لے آئے ۔اب غلے کا ایک بڑا ڈھیربن گیاتھا۔ اس طرح چیونٹے کے پاس ایک آرام دہ گھر اور ڈھیر ساراغلہ جمع ہوچکاتھا۔ اس نے اپنے سب دوستوںکا شکریہ ادا کیا۔
    ایک دن چیونٹا کسی کام سے جوہڑ کی طرف جارہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہی بھینس ندی کے باہر کھڑی رورہی تھی اور بار بار اپنے سرکو جھٹک رہی تھی جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔ چیونٹے نے اس کو تکلیف میں دیکھا تو اسے بھینس پربڑا ترس آیا۔ وہ آگے بڑھا اور بھینس سے خیریت دریافت کی۔ بھینس سخت شرمندہ تھی۔ وہ روتے ہوئے بولی: ”بھائی چیونٹے مجھے معاف کردو۔ میں نے تم پر ظلم کیا تھا۔ اب اس کی سز ا بھگت رہی ہوں۔ ”چیونٹا بے چینی سے بولا :”مگر تمہیں کیا تکلیف ہے؟”
    ”میں صبح بھوسا کھارہی تھی کہ ایک چھوٹا سا تنکا اڑ کر میری آنکھ میں چلاگیا۔ تب سے میری آنکھ میں تکلیف ہے۔ مجھے کسی پل چین نہیں آرہا۔ تنکا کسی بھی طرح نکل نہیں رہا۔” بھینس نے بتایا ۔
    ”میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں۔ تم اپنا سرزمین پر رکھو۔” چیونٹا نے کہا۔
    بھینس نے جھٹ اپنا سرزمین پر رکھ دیا۔ اب چیونٹا اس پر چڑھ گیااور آنکھ کے قریب جاکر تھوڑی دیر میں وہ تنکا باہر نکال لایا ۔ تنکا نکلنے سے بھینس کو بے حد سکون ملااور اس کی آنکھوں میںندامت کے آنسو اُمڈ آئے ۔اس نے شکریہ ادا کیااوربولی:”چیونٹے میاں! میں نے تم پر ظلم کیا لیکن اس کے باوجود تم نے مجھ پر احسان کیا، آخر کیوں؟”
    چیونٹا بولا: ”سنو بہن اگر تمہاری بدی کرنے پر میںبھی بدی سے جواب دیتا تو تم میں اور مجھ میں کیا فرق رہ جاتا ۔اس طرح تو دنیا سے نیکی ہی مٹ جائے ۔ویسے بھی اگر تمہیں اُس خوشی کا احساس ہو جائے جو بھلائی کر کے ملتی ہے تو تمہارے سوال کا جواب تمہیں خود مل جائے گا۔” یہ سن کر بھینس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا پھر اس نے وعدہ کیا کہ اب وہ کسی کو تنگ نہیں کرے گی اور سب کے ساتھ نیکی سے پیش آئے گی۔

  • باغی – قسط نمبر ۱ – شاذیہ خان

    گاؤں کی سب سے الہڑ،بے باک اور منہ پھٹ مٹیار فوزیہ بتول تھی جو کسی کو خاطر میں نہ لاتی،جس راستے سے گزرتی نوجوان اپنا دل راہ میں بچھائے اس کی ایک نظر کو ترستے لیکن وہ کسی کو گھاس نہ ڈالتی بلکہ اکثر کو تو بے بھاؤ کی سُننی پڑتیں۔ میٹرک تک تو اس کے باپ نے جیسے تیسے اُسے سرکاری اسکول میںپڑھا دیا تھا لیکن آگے پڑھنے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی جس کے لیے وہ خود کوشش کرتی کہ پراندے بناکر کچھ نہ کچھ جمع کرلے لیکن چھوٹے بھائی سے اتنا پیار تھا کہ اپنے لیے جمع کیے ہوئے پیسوں سے اس کی فیس ادا کر دیتی یا کتابیں وغیرہ خرید کر دے دیتی۔وہ منے سے پیار بھی بہت کرتی تھی۔ روزانہ اس کے ہاتھ میں خرچ کے پیسے تھماتی اور تاکید کرتی کہ پڑھ لکھ کر گھر کا بڑا مرد بن تاکہ باپ کا بوجھ کچھ کم ہوسکے۔بڑے بھائی رحیم نے تو اپنی اوقات دکھادی تھی۔ شادی کے بعد پورا زن مرید بن گیا تھا۔جورو کا غلام ہر کام بیوی سے پوچھ کرکرتا، اس کی وجہ سے بہن اور ماں سے جھگڑا کرتا۔ فوزیہ چوں کہ منہ پھٹ تھی اس لیے رحیم اورفوزیہ کی آپس میںبالکل نہ بنتی۔ رحیم کی بیوی اسما کو بھی فوزیہ سے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ فوزیہ چوں کہ بھائی بھابی کی جی حضوری نہیں کرتی تھی اس لیے روزانہ کسی نہ کسی بات پر بہن بھائی میں تکرار ہوتی۔ تین بہنوں دو بھائیوںمیں فوزیہ کا نمبر تیسرا تھا ۔ بڑا بھائی رحیم پھر نازیہ ، فوزیہ، مُنی اور مُنا۔
    مُنابہن بھائیوں میںسب سے چھوٹا تھا لیکن فوزیہ سے اس کی بہت بنتی تھی۔وہ خیال بھی تو بہت رکھتی تھی اس کی پڑھائی کا، اس کے کپڑوں کا اسی لیے منا اپنی ہر ضرورت باپ کے بہ جائے بہن سے ہی کہتا تھا۔روزانہ اسکول بھیجتے وقت فوزیہ اسے ایک کالا ٹیکا لگانا نہ بھولتی۔ اس کا خیال تھا کہ منابہن بھائیوں میں سب سے خوب صورت ہے اور اسے جلد نظر لگ جاتی ہے۔





    آج بھی اسکول بھیجتے وقت فوزیہ نے چھوٹے بھائی کو کانوں کے پیچھے کالا ٹیکا لگایا اور گالوں پر ایک زور دار پیار کیا جسے مُنے نے منہ بناتے ہوئے صاف کیا۔
    ”اوہو باجی!”
    ”نظر نہ لگے میرے ویر کو،کتنا سوہنا لگ رہا ہے۔” اس نے یہ کہتے ہوئے ایک پیار بھری نگاہ بھائی پر ڈالی اور بیگ اس کے کندھے پر ڈالا۔”باجی! اب میں جاؤں؟”منے نے بڑے معصومانہ انداز میں پوچھا۔
    ”ہاں ہاں چل، تو نکل اسکول لگنے والا ہوگا مگر دیکھ سنبھل کر جانا اور راستے میں کسی سے بات نہ کرنا، تو بھی ہر کسی سے بات کرنے کھڑا ہو جاتا ہے۔” گیارہ سالہ منے نے اس کی بات سمجھ کر سر ہلایا اور بولا۔
    ”باجی تو فکر نہ کر،یہ بات تو مجھے روز سمجھاتی ہے۔”
    ”اور تو روز بھول جاتا ہے۔ ہر کسی سے بات کرنے کھڑا ہو جاتا ہے۔”فوزیہ نے بھی اس کے سر پر ایک چپت لگاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”توبہ میری باجی،اب نہیں کرتاایسی غلطی۔”وہ کان پکڑتے ہوئے بولا۔
    ”دیکھ مُنے غلطی کرلیا کر مگر گناہ کبھی نہ کرنا۔” وہ معصومانہ انداز میں بولی اور اس کے ساتھ چلتی ہوئی کمرے سے نکل آئی۔
    ”دیکھ مُنے غلطی کی معافی ہے گناہ کی معافی نہیں۔”اس نے سمجھایا اورپھر اس کے پیچھے چل پڑی،منے نے منہ بنایا۔
    ”کیا مطلب باجی؟ ” اس نے ناسمجھنے والے انداز میں پوچھا۔
    ”چل چل تو اب نکل،تجھے دیر ہورہی ہے ۔باقی باتیں بعد میں۔”
    وہ دونوں باتیں کرتے اب صحن تک آگئے تھے۔
    ”تو یہیں رک، دروازے پر مت آنا،میرے دوست مجھے چھیڑتے ہیں۔”
    ”ارے ایسے کیسے؟ میں تجھے دروازے تک چھوڑنے آؤں گی ۔چل میرے ساتھ،اور تیرے دوست کیوں چھیڑتے ہیں؟” اس نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”وہ کہتے ہیں تو اتنا بڑا ہوگیا اور تیری بہن تیرا ہاتھ تھام کر دروازے تک چھوڑنے آتی ہے۔” وہ ڈر ڈر کر بولا۔
    ”ایک جھانپڑ دوں گی تجھے اور تیرے دوستوں کو،سب مذاق وزاق بھول جائے گاتجھے بھی اور تیرے دوستوں کو بھی۔” اس نے مصنوعی غصہ دکھایا۔
    ”باجی خرچا تو دے اسکول کا۔” دروازے پر کھڑے ہوکر منے نے فوزیہ سے کہا تو اس نے پلو میںبندھے نوٹ نکالے اور دس کا نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگی۔
    ”ہاں جب تو خرچہ مانگتا ہے تب تو تیرے دوست کچھ نہیں کہتے مگر بہن کی انگلی پکڑکر دروازے تک آنے پر باتیں بناتے ہیں۔” منا نوٹ پکڑ کر خوشی خوشی گلی میں بھاگ نکلا اور وہ دور تک اسے جاتا دیکھتی رہی کہ اچانک پیچھے سے ماں کی آواز آئی۔
    ”او ری فوزیہ! نی دروازے پر ہی کھڑی رہے گی یا اندر آکر کچھ کام وغیرہ بھی دیکھے گی۔”وہ منہ بناکر ماں کے پاس آگئی۔
    ”کیا تھا اماں ، تُو مجھے بھی پڑھا دیتی۔” اس نے صحن میں پڑی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں… پڑھا کر تجھے تیر سے تلوار کردیتی۔پہلے ہی دیدہ ہوائی ہے تیرا،چل کپڑے دھو۔” ماں نے بہت خفگی سے بڑ بڑاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”فوزیہ کپڑے دھو… فوزیہ جھاڑو لگا… فوزیہ روٹی پکا… فوزیہ جوتے اُٹھا۔کتاب چھپوا کر دے دو ان ساری باتوں کی۔”یہ کہتے ہوئے وہ اندرونی کمرے کی طرف چلی گئی۔
    ”جوتے کھائے گی جس گھر میں جائے گی۔” ماں نے اُسے اندر جاتے دیکھ کرکہا۔
    اندر جاتی ہوئی فوزیہ نے اس کی بات سن کر مڑ کرجواب دیا۔
    ”جوتے ایسے ہی کھاؤں گی؟دو آگے سے بھی ٹکاؤں گی۔” ماں نے اس کی بات سن کر چارپائی کے پاس پڑا جوتا اُٹھا کر پوری قوت سے اس کی طرف اُچھالا اور وہ چلائی۔
    ”اماں جوتی نہ ماریں۔”یہ کہہ کر اس نے دوڑ لگا دی۔
    ٭…٭…٭





    ساجد کی ماں صحن موجودہ گائے کے اپلوں کو ایک کونے میں بنی چھوٹی سی کٹیا میں ڈھیری کی صورت جما رہی تھی تا کہ بہ وقت ضرورت کام آسکے۔ ساتھ ساتھ غصے سے اس کی بُڑبُڑاہٹ بھی جاری تھی۔ اتنے میں ساجد صحن میں مسواک کرتا داخل ہوا اور ٹیڑھی نظر سے غصے میں بڑبڑاتی ماں کو دیکھااور اس کے پاس آگیا۔
    آج اس نے دل میں پورا ارادہ کرلیا تھا کہ اپنی اور فوزیہ کی شادی کی بات کرکے رہے گا۔ حالاں کہ وہ جانتا تھا ماں فوزیہ کو سخت ناپسند کرتی ہے۔اسما سے لڑائی میں اکثر فوزیہ کی ہی جیت ہوتی اور اسما کی ماں کا بس نہیں چلتا تھا کہ اس کی چلتی زبان پرسیمنٹ ڈلوا کر پکا پکا ہی بند کروادے۔اس کا دل بُرا کرنے میں اسما کا بھی بہت ہاتھ تھا جو ہر دوسرے دن گھر آکر فوزیہ کی زبان درازی کے جھوٹے سچے قصے دل سے گھڑ کر سناتی،لیکن ساجد پر اس کی کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوتا کیوں کہ وہ تو فوزیہ کو کب سے دل میں بسائے اس کے خواب دیکھ رہا تھا۔اُدھرفوزیہ اُسے سخت ناپسند کرتی تھی۔اسے لوفروں کی طرح باتیں کرتا ساجد ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر فری ہونے کی کوشش کرتا اورفوزیہ اکثر اسے جھاڑ دیا کرتی۔ ساجد کا خیال تھا کہ شادی سے پہلے ہر لڑکی یوں ہی نخرے دکھاتی ہے،شادی ہوجائے گی تو وہ بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ اسی لیے آج اس نے اپنی ماں سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
    ”اماں مجھے ایک بات کرنی ہے تجھ سے۔”
    ماں نے اپلے ڈھیری کی طرف پھینکتے ہوئے ہاتھ جھاڑتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اورپوچھا۔
    ”ہاں بول… تو کب سے پوچھ پوچھ کر بات کرنے لگا۔”وہ حیران ہوئی۔
    ”توبس میری شادی کرا دے۔”وہ ایک نادان بچے کی طرح مچلتے ہوئے بولا جسے اپنا کوئی من پسند کھلونا چاہیے تھا۔
    ”یہ صبح سویرے شادی کا بھوت کہاں سے چمٹ گیا تجھے؟” ماں نے خفگی سے پوچھا۔
    ”صبح سویرے کی کیا بات ہے؟کیا میں تجھ سے کہتا نہیں رہا شادی کا؟”ساجداسی انداز میں مسواک چباتے ہوئے بولا۔
    ”ٹک کر کوئی کام تو کر لے چار دن۔دو کمرے ڈال دے پکّے،پھر ہو جائے گی شادی بھی۔”ماںنے اس کی ہٹ دھرمی کو بچوں کی ضد سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
    ”تیری ایسی ہی باتوں کی وجہ سے مجھے غصہ آتا ہے تجھ پر۔”وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔
    ”کہاں کروں رشتہ بتا؟ کون دے تجھے لڑکی؟”وہ خفگی سے بولی۔
    ”کیوں؟ تیرے بیٹے کو انکار کرنے کی جرأت کس میں ہے؟ پر ماںمیں نے شادی فوزیہ سے ہی کرنی ہے۔” وہ بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے بولا۔
    ”فٹے منہ تیرا… نہ تیری شکل اچھی ہے، نہ تیری بات۔ماں کے مقابلے میں لا رہا ہے اس چڑیل کو۔” ماں نے غصے سے پلٹ کر دیکھا۔
    ”اماں اسے چڑیل مت کہہ۔” ساجد نے منہ بنایا۔
    ”خبردار! میرے سامنے آئندہ اس کا نام بھی لیا تونے اپنی زبان سے۔یہ نہیں ہوسکتا،سن لے صاف صاف۔”
    ”تو بس ٹھیک ہے تو بھی بھول جا اپنے بیٹے کے سہرے کے پھول کھلانے کاخیال۔ میں نے بھی شادی نہیں کرنی۔” وہ غصے سے دروازے سے نکل گیا۔
    ”او ساجد!او ساجد سن تو، رک تو صحیح۔” ساجد کی ماں پریشانی سے چلاتی رہ گئی۔
    ٭…٭…٭





    امام بخش آج صبح ہی مرغی دے کر گیا تھا کہ شام کو کسی دوست نے آنا ہے گھر بھی صاف کرلینا اور اچھی سی مرغی بھی پکا لینا۔ اسی لیے مُنی فوزیہ کے ساتھ مل کر اپنے اور فوزیہ کے مشترکہ کمرے کی چارپائیوں پر بچھی چادریں جھاڑ کر دوبارہ بچھا رہی تھی۔کمرے میں پڑا ایک چھوٹا سا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی بھی آن تھا اور فوزیہ کی نظریں کام کرتے ہوئے بار بار بے چینی سے ٹی وی پر پڑ رہی تھیںجیسے اسے کسی پروگرام کاانتظار ہو۔ ٹی وی پر جمی نظروں کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح سے بستر پر چادر نہیں ڈال پاتی، جس کا ایک سرا مُنی نے اور ایک سرا اس نے پکڑا ہوا تھا۔ مُنی جھنجھلا سی گئی ۔
    ”باجی ، بستر ٹھیک کرلو، پھر دیکھ لینا ٹی وی۔” ٹی وی اسکرین پر ایک فیشن شو میں ماڈلز ریمپ پر کیٹ واک کررہی تھیں جو فوزیہ کی پوری توجہ اپنی جانب مبذول کروائے ہوئے تھیں۔
    ”ٹھیک توکردیاہے بستر،اور کیا کروں؟صبح سے لے کر شام تک بس یہی کام تو رہتا ہے۔صفائی کرو، گند ڈالو، پھر صفائی کرو ، پھر گند ڈالو۔یہ جو امیروں کے گھر ہوتے ہیں، پتا نہیں یہ ہر وقت کیسے صاف ستھرے رہتے ہیں؟” اس نے یہ کہتے ہوئے حسرت سے ٹی وی کی جانب دیکھا جس پر بریک میں کسی ڈرامے کا پرومو چل رہا تھا جس میں گھر والے ایک خوب صورت ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مُنی کی پوری توجہ ابھی بستر ٹھیک کرنے پر ہی تھی۔
    ”سن باجی آج مرغی پکنی ہے ہمارے گھر۔”مُنی نے اس کی توجہ ہٹانے کے لیے اپنے طور پر ایک بڑا انکشاف کیا۔
    ”اچھا! کون لایا ہے مرغی؟”تکیہ جھاڑتے ہوئے فوزیہ نے بھی اشتیاق سے پوچھا۔
    ”ابّا لایا ہے۔”مُنی بے پروائی سے بولی۔
    ”آج تو جمعہ بھی نہیں، پھر آج کس خوشی میں مرغی پکارہے ہیں؟” فوزیہ نے قدرے تشویش سے پوچھا۔
    ”اباکا کوئی دوست آرہا ہے ساتھ والے گاؤں سے،اپنے بیٹے کے ساتھ۔”مُنی نے اسی بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”وہ جوابا سے نائیوں کا کام سیکھنے آیا تھا؟” فوزیہ نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے مُنی کو یاد دلایا۔
    ”مجھے کیا پتا!” مُنی نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”مجھے پتا ہے، یہ وہی ہوگا اور ابا اگر اس کے لیے مرغی پکارہا ہے نا تو یاد رکھ مُنی!اباکی نیت خراب ہے۔” فوزیہ انتہائی خفگی سے بولی۔
    ”کیا مطلب؟” مُنی نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”وہ اس کمینے کو میرے گلے ڈالنے کی کوشش کرے گا، پر فوزیہ بتول مر کر بھی اس سے شادی نہ کرے۔”فوزیہ انتہائی بگڑے ہوئے انداز میں بولی۔
    ”ہاں ہاں اور تو چوہدریوں کی بہو بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ بھول جا باجی وہ بہت بڑے لوگ ہیں۔”مُنی ہنستے ہوئے دوسرے کمرے میں جاتے ہوئے بولی۔
    ”ہائے! بن ہی جاتی اگر چوہدرانی جی اپنے بیٹے کا رشتہ کہیں اورنہ طے کردیتی ۔”اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے جواب دیا اور پھر کسی خیال میں گم ہو گئی اور ٹھنڈی سانس لے کر چارپائی پر بیٹھ گئی او رمیڈم کا گیت گنگنانے لگی۔
    ”میں تیرے سنگ کیسے چلوں ساجنا
    تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا!”
    ٭…٭…٭
    دوپہر کا وقت تھا اور شدید دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ فوزیہ کا باپ امام بخش درخت کے نیچے اپنی دکان لگائے ایک گاہک کی شیو بنارہا تھا۔پاس ہی دو گاہک بیٹھے ایک اخبار ہاتھ میں لیے خبریںپڑھنے سے زیادہ اس میں موجود اشتہارات پر تبصرے کر رہے تھے اور ان کا تبصرہ بھی زیادہ تر ان ماڈلز پر تھا جو کسی بھی اشتہار میں موجود تھیں، ان کی زیادہ تر باتیں سرگوشیوں میں تھیں۔ اڑتی اڑاتی کوئی بات آس پاس بیٹھے گاہکوں اور امام بخش کے کانوں تک بھی پہنچ جاتی تو وہ اس میں جواباً اپنا حصہ ضرور ڈالتے۔
    تب ہی ایک گاہک اخبار پر موجود تصویر دیکھ کر بآواز بلند بولا۔
    ”توبہ توبہ!آج کل کی عورتیں کتنی بے حیا ہوگئی ہیں۔” وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا۔
    ”میں تو ان کے باپ بھائیوں کے بارے میں سوچ کر حیران ہوتا ہوں، کیسے بے غیرت لوگ ہیں؟ ایسی حرکتوں پر کچھ بھی نہیں کہتے۔”ساتھ بیٹھے دوسرے گاہک نے بھی لقمہ دینا ضروری سمجھا۔
    ”بے غیرتی تو اس کو لگے جسے عورت کی کمائی کھانے کی عادت نہ ہو۔ یہ عورتیں جب کما کما کر گھر کے مردوں کو کھلاتی ہیںتو ان کی غیرت تو افیم پی کر سوجاتی ہے۔”حجامت بناتے ہوئے امام بخش نے دونوں کی طرف دیکھ کر طنزیہ کہا۔
    ”اچھا تو صفحہ تو پلٹ،گھنٹے سے بکواس کرے جارہا ہے اور دیکھے بھی جارہا ہے۔کوئی اور خبر بھی تو دیکھ۔”ایک گاہک نے اخبار کا صفحہ پلٹنے کے لیے ٹہوکا دیا۔
    ”تو نے بھی سارا دن بس ادھر بیٹھ کر اخبارہی پڑھناہوتا ہے یا کچھ کام دھندا بھی کرے گا؟” امام بخش نے اپنا ہاتھ روک کر گاہک کو جھڑکا۔
    ”ہاں ہاںکروں گا، کیوں نہیں کروں گا۔جب کام ملے گا تو ضرورکروں گا۔”پہلا گاہک اپنی صفائی میں بولا۔
    ”او سدھر جا!کل تیری بیوی چودھری صاحب کے گھر جاکر تیری شکایت کررہی تھی۔” امام بخش ہنستے ہوئے بولا۔
    ”اسے بیماری ہے میری شکایتیں کرنے کی۔کھیت میں چار گھنٹے کام کیا کرلیتی ہے، مجھے تو ہڈحرام اور کام چور ہی سمجھنے لگی ہے۔” گاہک منہ بناتے ہوئے غصے سے بولا۔
    ”ساری عورتیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔مجال ہے آدمی کو فارغ بیٹھا دیکھ کر برداشت کرلیں۔ایک میری بیوی ہے اس کی کمائی کے رونے ہی ختم نہیں ہوتے۔اُسے ہر وقت یہی شک رہتا ہے کہ میںپتا نہیں اپنی کمائی کس کو دے آیاہوں۔” دوسرا گاہک منہ بناتے ہوئے بولا۔
    ”میں تو اس حق میں ہی نہیں ہوں کہ لڑکیوں کو گھر سے نکالا جائے۔ بس دسویں تک پڑھاؤ اور اگلے گھر کا کردو۔ باقی اللہ اللہ خیرصلّا،کوئی گورنر تھوڑی لگ جانا ہے عورتوں نے۔”پہلے گاہک نے منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
    شیو ختم کرتے ہوئے امام بخش نے جواب دیا۔ ”اور اگر کوئی لگ گئی نا تو سب سے پہلے وہ ان سارے مردوں کو ہی جیل میں ڈالے گی۔” اس بات پر وہ سب قہقہہ مار کر ہنسے لیکن پہلا گاہک کھسیانا ہوکر امام بخش کی طر ف دیکھنے لگاجیسے کوئی جواب نہ بن رہا ہو۔
    ٭…٭…٭





    فوزیہ اور فاطمہ چودھرانی کے گھر سے ان کے بیٹے کی شادی کے جوڑے پیک کروا کر آرہی تھیں کہ گلی کی نکڑ پر زور زور سے کسی عورت کے چیخنے کی آواز سنائی دی وہ دونوں ٹھہر گئیں۔
    ایک آدمی اپنی بیوی کا ہاتھ گھسیٹتا ہوا زبردستی کھینچتا چلا جارہا تھا۔گلی کی نکڑ پر کھڑی فوزیہ اورفاطمہ یہ منظر دیکھ کر چند لمحے ٹھٹک گئیں۔
    ”آئند ہ گھر سے نکلی تو تیری ٹانگیں توڑ دوں گا میں۔تو کیا سمجھتی تھی کہ تیرے ماں باپ کے گھر سے لا نہیں سکتا تھا میں؟ چوہے کی طرح چھپ کر بیٹھ جائے گی۔گھر چل،وہ حشر کروں گا کہ یاد رکھے گی۔” وہ آدمی زور زور سے چیخ رہا تھا۔ گاؤں کی گلی عورتوں، مردوں اور بچوں سے بھری ہوئی تھی اور سب یہ سارا تماشا دیکھ کر خاموش کھڑے تھے۔کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ کر اس آدمی کا ہاتھ پکڑتا۔ وہ آدمی اپنی بیوی کو گھسیٹتا ہوا ان کے سامنے سے گذر گیا۔
    ”دل کرتا ہے جوتا اٹھاؤں،اور ابھی گنجا کردوں اسے۔”فوزیہ نے غصے سے دانت کچکچا کر کہا۔
    ”وہ تو تب کرو نا جب پہلے ہی گنجا نہ ہو۔”فاطمہ نے منہ بناتے ہوئے اس کی ٹنڈ پر طنز کیا۔
    ”کتے بلیوں والی زندگی ہے اس گاؤں کی عورتوں کی۔ دیکھو سب کیسے کھی کھی کر کے ہنس رہی ہیں۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ ہاتھ ہی پکڑ لے اس کا۔” فوزیہ غصے سے منہ بناتے ہوئے سب عورتوں کی طرف ہاتھ اٹھا کر بولی۔
    ”ہاتھ تو کوئی عورت تب پکڑے جب وہ خود نہ پٹتی ہو۔ان کے اپنے گھروں میں روز یہی سب ہوتا ہے، لیکن حرام خور مردوں کو بھی تو دیکھو کوئی آگے بڑھ کر نہیں بولا۔”فاطمہ نے طنز کیا۔
    ”چل نی چھوڑ،ان کے تو عذاب ہی نہیں ختم ہوتے،گھر چلتے ہیں۔”یہ کہہ کر فاطمہ نے فوزیہ کا ہاتھ گھسیٹا اور آگے بڑھ گئی لیکن فوزیہ پلٹ پلٹ کر دیکھتی رہی۔اس کے چہرے پر تاسف کا احساس تھا۔
    ٭…٭…٭
    گاؤں میں چودھری صاحب کے بیٹے کی شادی کی تقریب تھی اس لیے ہر گھر میں خوشی تھی،یوں لگتا تھا کہ ان کے اپنے گھر کی شادی ہے۔چودھری صاحب بہت دیالو طبیعت کے تھے،آج تو پورا گاؤں ان کی حویلی میں موجود تھا کیوں کہ سب کو پتا تھا کہ پورے گاؤں کے غریبوں کے لیے آج دیگوں کے منہ کھول دیے جائیں گے۔ قورمہ اور بریانی کبھی کبھارتوپیٹ بھر کر ملتا تھا،اس لیے آج کوئی بھی یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔فوزیہ بھی خوب تیاری کے ساتھ پہنچی ہوئی تھی اور سب سکھیوں کے ساتھ مل کرکر ہلہ گلہ کر رہی تھی۔ بینڈ باجے والے بھی آئے ہوئے تھے جو مختلف گانوں کی دھنیں بجا رہے تھے۔ مردانے میں بھی رونق تھی لیکن یہاں زنانے میں کھلے صحن میں لڑکیوں بالیوں نے رونق لگائی ہوئی تھی جسے دیکھ دیکھ کر چودھرانی خوش ہورہی تھیں۔
    فوزیہ سب کے درمیان ڈھول لے کر بیٹھی اور میڈم نور جہاں کا کوئی گانا گا رہی تھی۔ آواز کہیں کہیں بے سُری سی ہو جاتی مگر چودھرانی کے پاس کھڑی عورتیں فوزیہ کی تعریف کرتی ہوئی خوش ہورہی تھیں ۔محفل میں موجود ایک شخص اس کی تعریفوں سے جل کر راکھ ہورہا تھااور وہ تھی اسما جو ان دونوں کے ساتھ آئی تھی اور اب پچھتارہی تھی۔
    ”جہاں فوزیہ پہنچ جائے بس میلا لگ جاتا ہے،گاؤں بھر میں رونق لگائے رکھتی ہے۔”ایک عورت نے کہا۔
    ”صحیح کہہ رہی ہیں باجی۔اس کو ناچنے گانے کا شوق ہی بہت ہے،ہر شادی میں پہنچ جاتی ہے۔”محلے کی ہی دوسری عورت نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”اے فوزیہ!یہ گانا رہنے دے۔مسرت نذیر کا کوئی شادی والا گانا گا۔”پاس بیٹھی ایک لڑکی نے فوزیہ سے کہا۔




  • آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    آرٹیکل بی-۱۲ – عظمیٰ سہیل

    ” شکر ہے بھئی نکل آئے دکان سے۔ آج تو لگ رہا تھا کہ دم ہی گھٹ جائے گا۔ توبہ کتنا رش تھا۔”فائزہ نے اپنے ڈھیروں شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے شازیہ سے کہا۔ ”ویسے تو ہر لان کی لانچنگ پہ یہی حال ہوتا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ بھی بہت ہی آگیا ہے۔” شازیہ نے ہنس کر کہا: ” ہمیں بھی تو چین نہیں کہ تھوڑا صبرہی کر لیں۔ جس دن لان کی لانچنگ ہو بس اسی دن لینا ہے نیا سٹاک۔۔کہیں ختم ہی نہ ہو جائے” فائزہ نے ناک سکوڑتے ہوئے شازیہ کی بات کاٹی، ” ہاں بھئی بعد میں لینے کا کیا مزا جب ہر نتھو خیرے کے پاس پہنچ جائے وہ ڈیزائن ۔ تب تک تو میں ایک بار پہن کے پھینک بھی چکی ہوتی ہوں۔” دونوں اسی طرح باتیں کرتی گاڑی کے قریب پہنچ گئیں۔





    گاڑی میں بیٹھ کے فائزہ نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا: ” سب کچھ بہت اچھا مل گیا لیکن میرا سب سے فیورٹ آرٹیکل نہیں ملا ۔”
    شازیہ نے پوچھا: ”کون سا؟ ١٢۔ بی؟وہ تو سنا ہے کہ آیا ہی نہیں مارکیٹ میں گولی مارو اس کو۔ باقی شاپنگ انجوائے کرو۔”
    فائزہ کے شوہر عاصم کا شمار شہر کے معروف کاروباری افراد میں ہوتا تھا۔ گھر میں دولت کی ریل پیل تھی اور فائزہ اس دولت کا بے دریغ استعمال کرتی۔ ڈیزائنر لان ہو یا برانڈڈ جوتے،ہر نیا ڈیزائن اس کی وارڈروب میں ہوتا۔ شہر کی ہر بڑی kitty پارٹی کی وہ ممبر تھی جہاں وہ اپنی دولت اور فیشن کی خوب نمائش کرتی۔ تمام بیگمات اس سے متاثر رہتیں اور اس کا بڑا زعم تھا فائزہ کو۔ اگر نہیں دبتی تھی کوئی تو وہ تھی بیگم شائستہ صدیقی۔ سیٹھ منور صدیقی کی تیسری اور چہیتی بیوی۔ فائزہ اور شائستہ کی بہت لگتی تھی اور دونوں ہر پارٹی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں رہتیں۔
    شام کی چائے پہ فائزہ عاصم کو اپنی شاپنگ کا احوال سنا رہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب کی بات سُن کر فائزہ کا منہ غصے سے سُرخ ہو گیا اور پھر اس نے فون رکھ دیا۔ شوہر کے استفسار پہ بتایا کہ دکان دار نے جو آرٹیکل اُسے یہ کہہ کر نہیں دیا تھا کہ وہ لانچ ہی نہیں ہوا ، وہی آرٹیکل شائستہ سلنے بھی دی آئی ہے۔ یہ بات شازیہ اور شائستہ کے مشترکہ ٹیلر سے اُسے پتا چلی۔ فائزہ کا موڈ سخت آف ہو گیا۔ ” بڑا ہی گھٹیا آدمی ہے یہ کریم فیبرکس کا منیجر۔ کمیشن مجھ سے لیتا ہے اور نئے ڈیزائن اس شائستہ کو دیتا ہے۔ اب وہ پارٹی میں پہن کے خوب اِترائے گی۔ ”
    عاصم جھلا کے بولا:” ارے بھئی تو تم بھی لے آؤ وہی سوٹ اور تم بھی پہن لو۔۔”
    فائزہ فورا بات کاٹ کے بولی: ” لو خواہ مخواہ ۔۔ میں کیوں پہنوں اس جیسا سوٹ؟” ۔عاصم بے زار ہو کے اٹھ گیا اور بولا:”تم عورتوں کے مسائل میری تو سمجھ سے باہر ہیں خیر میں نکل رہا ہوں۔ رات کو دیر سے آؤں گا۔ ” یہ کہہ کر عاصم نکل گیا۔
    اگلے دن فائزہ کا شازیہ کے ساتھ لنچ پہ جانے کا پلان تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے اس مہینہ کی kitty پارٹی کا ذکر نکل آیا۔ شازیہ بولی:”ارے بھئی اس بار کی kitty پارٹی تو شائستہ کی ہے نا۔مسز آفندی بتا رہی تھیں کہ اسی کے گھر ہے پارٹی۔”
    شائستہ کا نام سنتے ہی فائزہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔ وہ جل کر بولی:” ہاں اسی پہ پہنے گی وہ جوڑا۔ کل وہ منیجرلے کے آیا تھا ، وہی آرٹیکل١٢۔ بی۔بڑی صفا ئیاں دے رہا تھا کہ اس نے نہیں دیا شائستہ کو وہ جوڑا اور یہ بھی کہ بڑی مشکل سے وہ ارینج کر کے لایا ہے خاص میرے لئے۔ ورنہ سارا سٹاک ڈیزائنر نے ایکسپورٹ کر دیا ہے۔ میں نے تو خوب سنائیں اور واپس کر دیا سوٹ۔ ”





    فائزہ بڑی نخوت سے ناک منہ چڑھا کے بولی:”خواہ مخوا ہ کی کارروائی ہنہ !! ”شازیہ کھانا کھاتے کھاتے رک گئی اور بولی :” ارے بیوقوف نہ بنو اور واپس منگوا ؤو ہ سوٹ۔ یہی تو شان دار موقع ملا ہے تمہیں ، شائستہ کو نیچا دکھانے کا!” فائزہ نے تذبذب سے پوچھا: ”کیا مطلب کیسا موقع؟ اس کے جیسا سوٹ پہننے میں تو میری انسلٹ ہے، اس کی نہیں۔ ”
    شازیہ نے مسکراتے ہوئے کہا :” یہی تو تم سمجھی نہیں۔ ارے یار وہ منیجر ٹھیک کہہ رہا تھا۔ یہ والے آرٹیکل کا سارا سٹاک واقعی ایکسپورٹ ہو گیا ہے۔میں نے خود پتا کیا ہے مارکیٹ سے۔۔ یا تو تم خوش قسمت ہو، جس کے لئے منیجر نے ارینج کروادیا یا پھر شائستہ نے کوئی رابطہ استعمال کرتے ہوئے ڈائریکٹ ڈیزائنر سے لیا ہے یا ہو سکتا ہے کچھ دکان دار بلیک کر کے بیچ رہے ہوں لیکن مارکیٹ میں بہرحال یہ دستیاب نہیں ، یہ بات توپکی ہے۔ اب تم وہی سوٹ لے کے سلوا ؤ اور میں یہ بات اپنے ٹیلر کے ذریعہ شائستہ کو پہنچا دوں گی اورپھر دیکھنا وہ کبھی بھی اس پارٹی میں وہ سوٹ نہیں پہنے گی بلکہ تمہارے پہننے کے بعد تو کسی اور پارٹی میں بھی نہیں پہن سکے گی اور اس کی ساری پھرتیاں بے کار جائیں گی۔ ”
    فائزہ سوچ میں پڑ گئی۔ بات کچھ کچھ اس کی سمجھ میں آرہی تھی۔وہ سوچتے ہوئے بولی:” لیکن اگر شائستہ نے پھر بھی وہ سوٹ پہن لیا تو ہم دونوں ہی۔۔۔” یہ سوچ آتے ہی اس کا منہ بن گیا،”نہیں بھئی میں نہیں پہننے والی وہ۔۔” شازیہ اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے اس کی بات کاٹ کے بولی:” ارے پاگل پھر تو اور مزہ آئے گا۔ یاد نہیں چائنا ٹاؤن والے لنچ میں جب وہ تمہارے جیسا برانڈڈ بیگ لے آئی تھی اور پھر بھری محفل میں طنز کر رہی تھی کہ میں تو دوبئی شاپنگ فیسٹول سے لائی ہوں یہ بیگ۔ لوگ تو آن لائن کاپی منگوا کے یہی شو کرتے ہیں جیسے اوریجنل ہو۔۔”
    وہ بات یاد آتے ہی فائزہ کا منہ پھر سُرخ ہو گیا۔”تو بس پھر یہی موقع ہے اس کو نیچا دکھانے کا” ۔ شازیہ کی بات مکمل ہوتے ہی فائزہ کریم فیبرکس کے منیجر کو فون ملانے لگی۔
    شائستہ نے پارٹی کا انتظام شہر کی سب سے مشہور ایونٹ مینجمنٹ ٹیم سے کروایا تھا۔ اعلیٰ پائے کی کیٹرنگ کروائی تھی ۔ فائزہ اپنا پسندیدہ جوڑا پہنے گاڑی سے اُتری۔ دوسری گاڑی سے شازیہ کو اُترتا دیکھ کر بجائے سیدھا اندر جانے کے اُس کی طرف بڑھی۔ شازیہ نے فائزہ پہ ایک توصیفی نگاہ ڈالی اور پھر وہ دونوں اکٹھی گھر کے لان کی طرف بڑھیں جہاں پارٹی کا انتظام تھا۔ دوسری مہمان خواتین سے ملتے ملاتے فائزہ کی نظر بیگم شائستہ صدیقی پر پڑی تو فخر اور سرور کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔۔ جب اس نے بیگم شائستہ کو اپنے جیسے لباس کی بجائے کوئی اور لباس پہنے دیکھا۔ یہ گویا شکست کا ایک خاموش اعلان تھا۔ فائزہ نے ایک فاتحانہ نظر سے شازیہ کی طرف دیکھا جس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے اس فتح پہ گویا مبارکباد دی۔ اتنی دیر میں شائستہ دونوں کے قریب آ گئی۔ فتح کے نشے میں چور فائزہ اس سے معمول سے کہیں زیادہ تپاک سے ملی۔ دل ہی دل میں وہ سوچنے لگی کہ کیسے آج اپنے ڈریس کا بار بار ذکر چھیڑے۔ شائستہ نے دونوں کو بٹھایا اور کہا : ” بہت دیر سے آئی ہیں آپ دونوں۔ اتنی دیر لگا دی تیاری میں؟” فائزہ نے فخر سے اپنے لباس کی مصنوعی شکنیں دور کرتے ہوئے کہا:” بس مسز صدیقی آپ کو توپتا ہے مجھے ہر کام پرفیکشن سے کرنے کی عادت ہے ، پھر وہ چاہے کسی پارٹی کی تیاری ہو یا اپنی، میں کوالٹی پہ کمپرومائز نہیں کرتی۔ ”
    ”جی جی بالکل، اچھا باتیں تو ہوتی رہیں گی میں آپ کے لئے جوس منگواتی ہوں۔” شائستہ نے پاس کھڑے ویٹر کو کچھ اشارہ کیا اور معنی خیز مسکراہٹ لئے فائزہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اچانک کہیں سے شائستہ کے گھر کی ملازمہ ہاتھ میں جوس کی ٹرے لئے برآمد ہوئی اور فائزہ کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔ شائستہ نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ فائزہ سے کہا:” کیا ہوا مسز عاصم۔ جوس لیجئے نا” اور فائزہ کے چہرے پہ ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا کیوںکہ سامنے کھڑی ملازمہ نے وہی سوٹ پہن رکھا تھا جو فائزہ نے پہنا ہوا تھا۔ اس کا پسندیدہ ترین آرٹیکل۔ ١٢ بی۔




  • پراڈکٹ – نظیر فاطمہ

    سبزی منڈی کے ایک جانب گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر تھے، جن پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے تھے ۔ ارد گرد ناقابلِ برداشت بد بو پھیلی ہوئی تھی ۔ ہلکی سی ہوا چلتی تو بدبو کے یہ بھبھکے اس کے ساتھ لپٹ کر دور دور تک چلے جاتے اور لوگوں کو ناک پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیتے ۔ گندے مندے حلیے والے پانچ سات بچّے ان ڈھیر وں میں سے قدرے کم گلی سڑی سبزیاں اکٹھی کر کے اپنی بوریوں میں ڈال رہے تھے۔یہ گلی سڑی سبزیاں ان کا پیٹ بھرنے کا وسیلہ تھیں ۔ بھوک شاید سب سے بڑی بیماری ہے یا پھر غریب سب سے ڈھیٹ مخلوق ۔۔۔تبھی تو یہ گلی سڑی سبزیاں، گندا پانی اور باسی کھانا ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔ جب کہ لوگ گلی سڑی سبزیوں کے ان ڈھیروں کے پاس سے گزرنے سے بھی پرہیز کرتے تھے۔





    ایک سیاہ چمچمائی لینڈ کروزران ڈھیروں کے قریب آ کر رکی ۔ گاڑی اتنی چمک دار تھی کہ سیاہ رنگ ہونے کے باوجود اس میں آئینے کی طرح ہر چیز کا عکس دیکھا جاسکتا تھا۔ گاڑی سے ایک شخص اُترا۔اُس کے چہرے پر صحت مندی اور آسودگی کی چمک تھی۔گلے میں نئے ماڈل کا مہنگا ترین کیمرہ لٹک رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں بڑا سا شاپر تھا۔ پیروں میں امپورٹڈ جاگرز جو اپنی قیمت کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے ۔مہنگی جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس اس شخص نے گویا آسمان سے سیدھا زمین پر پائوں رکھا تھاجس پر زمین کی کسی مشکل یا گندگی کا ذرا برابر اثر نہیں ہوا تھا۔بدبو کا تیز بھبھکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا۔ اس بدبو کو بڑی مشکلوں سے برداشت کر کے وہ آگے بڑھا۔وہ کوڑے کے ڈھیروں کے قریب پہنچا تو وہاں گلی سڑی سبزیاں چنتے بچّے اپنی بوریاںچھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگے۔قریب تھا کہ وہ بچّے اپنی بوریاں اُٹھا کر بھاگ جاتے، اُس شخص نے پیش بندی کی۔
    ”ارے، ارے، بچّو! کہاں جا رہے ہو؟ ٹھہرو شاباش! یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں؟” اُس نے ایک پھولا سا شاپر اُن کے سامنے لہرایا جسے دیکھ کر بچّے وہیں ٹھہر گئے ۔
    ” اوئے کچھ کھانے والا ہو گا۔ رک جاتے ہیں۔” وہ بچّے جن کے چہروں سے بھوک لپٹی ہوئی تھی ، آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔
    ” اس میں تم لوگوں کے لیے کھانے پینے کی بہت سی چیزیں ہیں، کھائو گے؟” اُن کے ٹھہرنے پر اُس شخص نے اُنھیں جیسے لالچ دیا۔بچّے شرم اور جھجھک کے مارے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگے۔
    ” پہلے تم لوگوں کو میرا ایک کام کرنا ہو گا۔بولو کرو گے؟”کھانے کی چیزوں کے لالچ میں بچّے سب کچھ کرنے کو راضی تھے۔
    ”شاباش! ٹھیک ہے۔ پہلے میں تم لوگوں کی کچھ تصویریں اُتاروں گا ۔ پھر یہ ساری چیزیں میں تم لوگوں میں بانٹ دوں گا۔ چلو اب میں جیسے تمہیں کہتا ہوں ویسے کرتے جائو شاباش۔” اُس نے اپنا کیمرہ ہاتھوں میں پکڑ کر سیٹ کرنا شروع کیا۔
    ” چلو تم سب اپنی اپنی بوریاں پکڑ کر اس ڈھیر سے سبزیاں تلاش کرو۔”
    بچّے جھٹ پٹ اپنا کام کرنے لگے، یہ ان کا روز کا کام تھا۔ وہ شخص ہر ہر زاویے سے انہیں فوکس کرنے لگا ۔کوئی دس بارہ تصویریں اُس نے گروپ میں اُتاریں۔ ہر تصویر اُتارتے وقت اُس نے بچّوں کو مختلف ہدایات دی تھیں۔
    ”اب تم یہ گلا ہوا ٹماٹر اس طرح منہ میں ڈالو۔” اُس نے ایک لڑکے کو ہدایت دی۔
    وہ بچّے تو گلی سڑی سبزیاں کچی کھا جانے میں ماہر تھے۔ اُس نے بالکل اُسی طرح وہ ٹماٹر منہ میں ڈالا جس طرح اُسے ہدایت کی گئی تھی۔
    ”گڈ۔” اُس شخص نے حسبِ منشا نتائج ملنے پر خوش ہو کر بچّے کو سراہا۔
    پھر اُس نے ہر بچّے کو انفرادی طور پر ہدایات دے کر فوکس کیا ۔ہر تصویر کو دیکھنے کے بعد وہ شخص جیسے خوشی سے جھوم رہا تھا۔ اُس کا جوش اُس کے چہرے سے چھلک رہا تھا۔ تقریبا ً ایک گھنٹے کی محنت کے بعد اُس شخص نے اپنا کام مکمل کیا، کیمرہ بند کیا اور بڑا شاپر کھول کر اس میں سے چھوٹے چھوٹے شاپر نکالے ۔ ہر شاپر میں دو دو چکن پیٹیزاورجوس کا ایک ایک چھوٹا ڈبہ تھا۔
    ” آئو ، یہ لو ” اُس نے ایک ایک شاپر ہربچّے کو دیا۔
    اس کے بعد اس نے اپنی جیب سے والٹ نکالا اور ہر بچّے کو سو سو روپے کا نوٹ دیا۔ وہ ایک گھنٹے سے یہاں تصویریں اُتار رہا تھا ۔ اُس کو دیکھ کر کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔ وہ سب دم سادھے اُس شخص کی فیاضی ملاحظہ کر رہے تھے، جو کوڑا کرکٹ چن کر اپنا رزق تلاش کرنے والے بچّوں پر اتنا مہربان ہو رہا تھا۔
    ” اچھا بچّو! اللہ حافظ” وہ پلٹ کر اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا تو ایک ادھیر عمر شخص نے اُسے پکارا:
    ”صاب! یہ سب تو غریب بچّے ہیں، ان سے اتنی محبت کیوں؟”اُس نے پلٹ کر سوال کرنے والے کو دیکھا۔
    ”یہ بچّے میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔” اُس نے مسکرا کر سامنے دیکھا جہاں وہ بچّے کھانے کے ساتھ نبرد آزما تھے ۔ پھر اُس نے اطمینان بھری گہری سانس کھینچی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے گاڑی بھگائی اور گاڑی کے پہیوں سے سے اُڑنے والی دھول نے چند لمحوں کے لیے سارے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    ٭…٭…٭





    پیرس میں فوٹو گرافی کے عالمی مقابلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں پوری دنیا کے مشہور فوٹو گرافرزنے حصّہ لیا تھا ۔پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے فوٹو گرافر کو لاکھوں ڈالر انعام دیا جاناتھا ۔ ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور تھوڑی دیر میں مقابلے کے نتائج کا اعلان ہونے والا تھا۔ نمائش میں حصہ لینے والے تمام فوٹو گرافرز یہاں موجود تھے۔سب کی کھینچی گئی تصاویر ہال کی دیواروں پر آویزاں تھیں۔ مقابلے کا عنوان تھا ”ٹاکنگ فوٹو گرافس”۔ مقابلے کے نتائج کا اعلان شروع ہوا ۔ تیسری اور دوسری پوزیشن کا اعلان ہونے لگا۔ان پوزیشن ہولڈر زکی بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی تصویریں واقعی بولتی ہوئی تھیں۔ تالیوں کا شور تھما تو سب دل تھام کر پہلی پوزیشن کے اعلان کا انتظار کرنے لگے۔
    ”پہلی پوزیشن جاتی ہے عالم گیر جیلانی کو۔”
    انگریزی زبان میں اعلان ہو رہا تھا اور ساتھ ہی بڑی اسکرین پر عالم گیر جیلانی کی کھینچی گئی تصاویر ایک ایک کر کے دکھائی جا رہی تھیں۔کوڑے سے کھانے پینے کی چیزیں چنتے ہوئے بچّے،وہ گلی سڑی سبزیاں کھاتے ہوئے ننگ دھڑنگ بچّے جو جانور بھی سونگھنے کے بعد چھوڑ کر چلے جاتے تھے ۔ عالمگیر جیلانی کی تصاویر”ٹاکنگ فوٹو گرافس’ ‘نہیں بلکہ ”شائوٹنگ فوٹو گرافس” تھیں جوغربت، بھوک، محرومی اور حسرت کا چیخ چیخ اعلان کر رہی تھیں۔
    عالم گیر جیلانی نے تالیوں کی گونج میں دو لاکھ ڈالر کا چیک فخر سے مسکراتے ہوئے وصول کیا۔ دو ہزار کی سرمایہ کاری کر کے اُس نے دو لاکھ ڈالر کمائے تھے۔ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بڑا کاروباری ذہن رکھتا تھا اور ایک کاروباری شخص کے لیے اس کی پراڈکٹ سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کی کامیابی کا انحصار اُس کی پراڈکٹ پر ہوتا ہے۔ غربت اور کسمپرسی کا چلتا پھرتا اشتہار یہ بچّے عالم گیر کے لیے بہت قیمتی تھے، کیوں کہ وہ اس کی پراڈکٹ تھے۔




  • فتور – ماہ وش عدیل کرمانی

    فتور – ماہ وش عدیل کرمانی

    فتور
    ماہ وش عدیل کرمانی

    ”اری نابکار! کچھ تو کام کر لیا کر۔ سارا بوجھ ماں کے کندھوں پر ڈال دیا ہے، کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی، کھا کھا کر مسٹنڈی ہو گئی ہے۔” ماجدہ بیگم چھت کی سیڑھیوں کے ذریعے صحن میں آتا بارش کا پانی خشک کرنے میں مگن ہونے کے ساتھ سا تھ بیٹی کو کوس کر اپنا فرض بھی پورا کر رہی تھیں۔
    مگر ان کی صاحبزادی شبانہ عرف شبو صاحبہ دنیا و ما فیہا سے بے خبر اس طوفانی بارش سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔
    ”اب چھت پر کھڑی بھیگتی ہی رہے گی کیا؟ نیچے آجائو یسے بھی کالی بھینس ہے پوری، جو بجلی گر پڑی تجھ پر تو سر پر جو چار بال ہیں وہ بھی گر جائیں گے۔” لیکن ان کی باتوں کا کہاں اثر ہونا تھا۔
    دراصل چھت پر سیر سپاٹے کی وجہ نہ صرف موسلادھار بارش تھی بلکہ گردو نواح کی چھتوں پر کھڑے دو چار چھڑے چھانٹوں کی موجودگی بھی تھی اور دوسری طرف کے احوال یہ تھے کہ وہ بھی بارش سے زیادہ شبو سمیت مزید کچھ دوشیزاؤں کی بارش کے باعث ”ٹرانسپیرنسی” کے جلوے سے مستفید ہونے میں مصروف تھے۔ اللہ اللہ کرکے بارش رکی اور شبو پکوڑے پکوڑے کے نعرے لگاتے نیچے آئی۔ دوسرے لفظوں میں عرش سے فرش پر آئی اور فوراً اپنا آتشی اور زرد جوڑا نکال کر پہنا، میچنگ کی لپ سٹک لگائی ، خود پر پرفیوم انڈیلا، گیلے بالوں کو شانو پر پھیلائے بے نیازانہ انداز میں دوپٹے کو بے وقعت سی چیز سمجھ کر کندھے پر ڈالا اور پکوڑے کی پلیٹ اٹھا جو کے اماں تل رہی تھیں، یہ جا وہ جا۔
    سلیم موبائل پر کوئی رومانی گیت سیٹ کرتے ہوئے بے تابی سے اس کا انتظار کر رہا تھا، کیوں کہ شبانہ اسے پہلے ہی یہ سگنل دے چکی تھی کہ پکوڑوں کے ساتھ اپنے درشن کروانے اس کے غریب خانے پر تشریف فرما ہونے والی ہے۔ لہٰذا سلیم کی باچھیں کھلی جا رہی تھیں اور پھر اسے دیکھ کر بلکہ سجے سنورے دیکھ کر وہ خود بھی کھل گیا۔ وہ کچھ دیر تک سلیم کی بہن اور اپنی نامزد نند فوزیہ سے باتیں کرنے کے بعد شاداں و فرحاں گھر واپس آئی جہاں اس کی والدہ ماجدہ اسے آڑے ہاتھوں لینے کی تیاری کر رہی تھیں مگر ان کی کس نے سننی تھی۔ اس نے جھٹ سے ریڈیو آن کیا جہاں برسات کے گانے اِس کی سماعتوں میں رس گھولنے کے لئے بے تاب تھے جب کہ ماجدہ کی سماعتوں میں زہر گھلنے لگا تھا۔
    اس گھر میں کل تین افراد تھے۔ ایک بوڑھی والدہ ماجدہ جو سارا دن بڑبڑاتی رہتیں، ایک ہنسوڑ طبیعت کی شبانہ جس کا دوسرا نام چکنی مٹی کا گھڑا تھا اور اس کا ایک بھائی رشید، جو صبح گھر سے نکلتا اور رات گئے تک لوٹتا، وہ سنار تھا۔
    آمدنی اتنی تھی کے گھر کا خرچہ تو کسی طرح پورا ہو ہی جاتا تھا مگر اسے اپنی اور شبانہ کی شادی کی بڑی فکر رہتی تھی اس لئے دن رات ایک کر رہا تھا۔ البتہ سارا دن گھر میں کیا گل کھلتے ہیں اس بات کی کوئی اسے فکر تھی نہ ذکر تھا۔ شبانہ نام کی چڑیا محلے کے ہر آنگن میں چہچہاتی پھرتی اور ہر روز ایک نئی ذائقے کا گرم مسالا اپنی لگائی بجھائی کی مکس پلیٹ پر چھڑک کر سارے محلے میں بانٹتی پھرتی۔
    ”اری ہڈحرام اُٹھ جا بارہ بج رہے ہیں، سورج منہ کو آ جاتا ہے اور یہ اوندھی پڑی رہتی ہے۔ سارے گھر میں نحوست پھیلا رکھی ہے۔ نہ نماز کی نہ روزے کی۔ بس اپنے حسناپے میں غرق رہتی ہے یا بستر توڑتی ہے۔” ماجدہ نے اسے ہانکا۔
    ”اماں تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے مصلے سے اٹھتی ہی نہ ہو۔ آئیں بڑی تہجد گزار۔” وہ منہ بسورتی چارپائی سے اٹھی اور اماں کو دو ٹوک سناتی کمرے سے نکل گئی اور اماں حسبِ معمول اس کی اس خوش گفتاری پر کُڑھتی کام میں جت گئیں۔ اپنے ہی ہاتھوں انہوں نے اس پتنگ کو ڈھیل دی تھی پھر کس کے سامنے اپنی پریشانی کا رونا روتیں؟
    ”اچھا سُن ذرا! ثابت مسور کی دال تو پکا لے۔ دیکھ میں کپڑے دھو رہی ہوں، اس واشنگ مشین کو جانے کیا بیماری لگ گئی ہے اب ہاتھ سے کپڑے دھونے پڑیں گے سارے۔” باورچی خانے میں چائے نکالتے ہوئے شبو نے ناگواری سے اماں کا یہ فرمان سنا۔
    ”لو اب میں بیٹھ کر ثابت مسور کی دال بنائوں؟ کتنی بار کہا ہے دوپہر کے کھانے کا مجھ سے مت کہا کرو۔” اس کی جلی بھنی آواز اماں کے کانوں سے ٹکرائی۔
    ”دوپہر کے کھانے کا تو ایسے کہہ رہی ہے جیسے رات کا کھانا بلا نا غہ خود بناتی ہے موئی۔” انہوں نے سوچا اور اٹھ کر برآمدے میں آگئیں جہاں وہ پھسکڑا مار کر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔
    ”کیوں ری؟ کیا اپنے سسرال میں اپنے ساتھ کوئی غلام لے جائے گی یا مجھے ہی لے جائے گی۔”
    ”نہیں کوئی نہیں جائے گا میرے ساتھ ہڈیاں تڑوانے کے لیے۔” اس نے اطمینان سے جواب دیا۔
    ”وہاں جاتے ہی سب کی کھٹیا کھڑی کر دوں گی۔”
    ”دوسروں کی کھٹیا کھڑی کرے گی؟ صبح اپنی ہی کھٹیا سے اٹھنے میں تجھ کو موت پڑ جاتی ہے۔” اماں بڑبڑائیں۔
    ”میں تو صاف کہہ دوں گی کہ میرے آنے سے پہلے اس تندور کا عذاب جس کے سر پر تھا وہی سنبھالے گا اور صفائی کوئی تو کرتا ہوگا تو کیا اب اس کو انڈے دینے ہیں میں تو جس کام کے لئے لائی گئی ہوں وہی کروں گی یعنی اپنے مجازی خدا کی دلجوئی۔” مستقبل کی صورتِ حال کا خاکہ بناتے ہوئے اور باقاعدہ ایکٹنگ سے نمونہ اپنی ماں کے سامنے پیش کرنے کے بعد وہ خود کو زبردست داد دیتی ہوئی دوبارہ دن کے ڈیڑھ بجے ناشتے میں مصروف ہو گئی۔
    ماجدہ کو تو یہ فکر تھی کہ ان ساری باتوں کی نوبت تو اس وقت آئے گی جب یہ سسرال جائے گی۔ ایک رشتہ آیا بھی تھا اس کا مگر لوگ خاصے شریف تھے۔ اب ظاہر ہے شریف لوگ تھے تو شبو کو کس طرح پسند کر لیتے۔ اس نے بھی تو ان لوگوں کو اپنے وہ جو ہر دکھائے تھے کہ سر پر پیر رکھ کر بھاگے تھے جیسے گولی کی آواز سے گھوڑا بدک جاتا ہے۔ بھلا اس کی ماں کو کیا خبر تھی کہ پڑوس والے سلیم کی آس پر وہ یہ سب کر رہی ہے جس نے اپنی اماں کو منانے کا وعدہ کر رکھا ہے شبانہ سے۔
    شبانہ اپنی زندگی کی تیس بہاریں دیکھ چکی تھی جب کہ اس کی اماں اس کی پیدائش کے بعد سے خزاں ہی دیکھ رہی تھیں کیوں کہ شبانہ کے بچپن میں ہی اس کے ابا چل بسے تھے۔ خیر وہ وقت گزر گیا کسی طرح مگر اب شبانہ کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اماں کی فکر میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
    چناں چہ وہ اس جنجال کو جلد از جلد اپنے گھر کا کر دینا چاہتی تھیں مگر جو نصیب… مجال ہے جو کوئی ڈھنگ کا رشتہ آجائے۔ بہر حال شبانہ نے اپنی دانست میں ایک کاری گری سرانجام دی تھی کہ اپنی عمر کے حساب سے 5 سے 6 سال چھوٹی لڑکیوں سے دوستی کر رکھی تھی۔ ان کے جھرمٹ میں وہ بھی 24 سے 25 کی لگنے کی پوری کوشش کرتی تھی۔
    حاجرہ اس کی اچھی سہیلی اور رازدان تھی۔ شبانہ اسے دھڑلے سے دوچوٹی والی سلیم کی سالی کہہ کر پکارتی تھی یہ فقرہ اس نے خود سکول کے زمانے سے ہی مشہور کر رکھا تھا۔ جب سلیم اور شبانہ کے سفارتی تعلقات کی بحالی کا چرچاعام ہوا تھا اور سالیوں کی تعداد میں اضافہ اور پھر محلے کی ہر محفل میں بھی یہی سالیاں پیغام رسانی کا کام کیا کرتی تھیں۔
    پٹ سے دروازہ کھلا، مگر وہاں سلطان راہی مع مولا بخش نہیں بلکہ اماں راشن اٹھائے کھڑی تھیں، اور ان کا خون برآمدے کامنظر ملاحظہ کرتے ہی کھول گیا تھا۔ شبانہ صاحبہ مزے سے کھیرے کی قاشیں آنکھوں پر رکھے تخت پر کسی ملکہ کی طرح لیٹی ہوئی تھیں، ساتھ ہی جگالی بھی کر رہی تھیں شاید کھیرے کے ساتھ بھرپور انصاف کیا جا رہا تھا۔
    دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے ایک نظر میں اماں کی آمد کا جائزہ لیا اور پھر پہلے والی پوزیشن سنبھال لی۔ باورچی خانے میں سے کچھ جلنے کی بو اور کھڑ پٹر کی آواز سے اماں سیدھی اس طرف گئیں کہ اللہ جانے کون گھس آیا ہے؟ پر وہاں قدم رکھتے ہیں ان کی مرغی رانی پھڑپھڑاتی ہوئی باہر نکل گئی۔ سارے برآمدے میں رانی کی پھیلائی ہوئی گندگی کے نقش و نگار دیکھ کر ان کا پارہ مزید چڑھ گیا۔
    ”موئی یہ سب کیا ہے؟” انہوں نے شبانہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
    ”اری بد بخت دروازے کی کنڈی لگائے بغیر ہی پڑی ہوئی ہے۔ دیکھتی نہیں زمانہ کتنا خراب ہے اور تو۔”
    ”افوہ ہ ہ…!”
    شبانہ کی ایک طویل سی اف کا مطلب یہ تھا کہ حسبِ معمول وہ تقریر سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔
    ”ایک تو یہ آگئیں۔” وہ بڑبڑائی۔
    ”اچھا سن! رسید کہاں ہے؟”
    ماجدہ نے تخت کے سرہانے رکھی صراحی سے پانی نکالتے ہوئے پوچھا۔
    ”لو بتائو بھلا میں پچھلے ہفتے کی راشن کی رسید سنبھالے رکھوں گی کیا اب تک؟ پھینک دی میں نے وہ نری نحوست۔” وہ جلے کٹے انداز میں بولی۔
    ”جسے دیکھ کر تم جلتی کڑھتی رہتی ہو کہ اتنا بھر بھر راشن آتا ہے اور پھر مجھے کوسنے دیتی ہو کہ کتنا کھاتی ہے۔”
    ”اپنی ہی ہانکے جائے گی بکواسی۔ ماں کا مذاق بناتی ہے بے سرم میں اپنے رسیدے کا پوچھ رہی ہوں ابھی تک نہیں آیا؟ انہوں نے ادھر ادھر جھانکتے ہوئے کہا۔”
    ”صبح تو کہہ کر گیا تھا کہ آج جلدی آئے گا اماں رشید بھائی کو تم نے رسید بنا کر رکھ دیا ہے۔”
    شبانہ ہنسی دباتے ہوئے بولی۔ اسی دوران رشید بوتل کے جن کی طرح نمودار ہوا۔
    ”آہا…! آگیا میرا رسیدہ۔” گھر میں گھستے ہی اماں اس کی بلائیں لینے لگیں۔
    ”اماں تمہارا رسیدا اب عمر رسیدہ ہوتا جا رہا ہے کچھ سوچو بھی اس کے بارے میں؟”
    رشید کی اس بات پر شبانہ کھی کھی کرنے لگی اور اماں نے لاحول بھیجا۔
    ”اؤئے مرد اور گھوڑے کبھی بوڑھے ہوئے ہیں؟ اللہ بخسے اپنے باپ کو نہیں دیکھا تو نے؟ سٹھیانے کے قریب تھا مگر دوسری سادی کے لئے پر تول رہا تھا جو ابھی حیاتی باقی رہ جاتی اس کی تو دو چار کھوتے اس گھر میں ہماری زندگی جہنم بنا رہے ہوتے۔” وہ ناممکن واقعات کی منظر کشی کرنے لگیں۔
    ”لو یہ تم بھی کہاں پہنچ گئیں اماں؟” رشید کے دبے ہوئے غصے میں ہلکی سی کھول آئی۔
    ”ہائے پرانے لوگ صحیح کہہ گئے وکھت ہی کھوٹا ہو جائے ہے لونڈا مرا جا رہا ہے سادی کرنے کو۔ اب خود بیل منڈھیر چڑھنا چاہے تو کوئی کیا کرے؟” اماں سر پہ ہاتھ رکھے بولے جا رہی تھیں۔
    ”اماں تم گھوڑے اور بیل کو رہنے دو رشید کی شادی کا سوچونا۔” اس بار شبانہ بھی اماں کی مخبوط الحواسی پر چڑگئی۔
    رشید کے لئے ایک لڑکی تو ان کی نظر میں پہلے ہی جچ گئی تھی۔ سو رشید کی بے قراری کے پیشِ نظر جھٹ پٹ رشتہ طے کر دیا گیا۔
    رشتہ طے کرنے کے دو ماہ بعد ہی رشید نے شادی کی رٹ لگا لی۔ شبانہ نے روز ریڈیو پر شادی کے گانے لگانے شروع کر دئیے کہ اسی طرح اماں کی طرف سے پیش رفت ہو گی شادی کی تیاری میں۔
    اور وہ دن بھی آگیا جب شادی کی تاریخ طے کرنے جانا تھا۔
    ”ہائے میں مر گئی. یہ کیا ہے سبو؟”
    چمکیلی سی دوپہر میں بھڑکیلی سی شبانہ کو دیکھ کر اماں سینے پر ہاتھ دھرے رہ گئیں۔
    ”تیری بارات تو نہیں آ رہی پھر یہ سب کیا ہے موئی؟ اتنا گہرا اورنج کلر کا جوڑا چڑھا لیا غضب کی دھوپ میں دھکتا ہوا کوئلہ لگ رہی ہے ارے تجھے کس نے مسورہ دیا تھا کہ یہ پہن لے؟
    وہ اسے بے نقط سنانے کے موڈ میں تھیں۔
    ”ابھی نہیں پہنوں گی تو کیا تمہاری عمر میں پہنوں گی ؟ ہمیشہ ٹوکتی رہنا مجھے بس اپنی خنس نکالنے کے لئے ہی تو۔ پیدا کیا تھا تم نے ؟ پہلے اپنی لال لگام دیکھ لو۔”
    وہ اماں کے سراپے کو اوپر سے نیچے تک دیکھتی اور ہاتھ ہلا ہلا کر بولتی رہی۔
    ”کوئی خوشی کا موقع ہو مجھے گالیاں دیئے بغیر تو تمہارا کھانا ہضم نہیں ہوتا کلیجہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے مجھے ذلیل کرکے تمہارا۔”
    زہر آلود لہجے میں بولتی ہوئی صراحی سے ٹکراتی کمرے کے اندر چلی گئی اور پھر آدھے گھنٹے بعد باقی ماندہ بنائو سنگھار کے ساتھ برآمد ہوئی۔
    چند ایک رشتہ دار خواتین بھی آچکی تھیں اور ماں بیٹی کی مہابھارت کا نظارہ دیکھ رہی تھیں۔ ماجدہ بیگم کو اپنے ہی گھر میں منہ چھپانے کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ بہر حال منہ چھپاتے چھپاتے ہی جانے کی تیاری مکمل کی۔ اسی دوران رشید نے اندر آکر سوزوکی کی آمد کا اعلان کیا اور شبانہ پھرتی سے مٹھائی کا ٹوکرا سنبھالے اماں کے پاس آئی۔
    ”اماں وہ… سلیم کے گھر والوں کو نہیں پوچھا تم نے کیا؟”
    ”آئے ہائے… آج کیا سادی ہے جو انہیں بلاوا دیتی؟ ویسے بھی وہ بلاوا دینے پر بھی نہیں آتے ہیں۔” انہوں نے چپل پاؤں میں اڑستے ہوئے کہا۔
    ”کیوں نہ آتے وہ لوگ؟” شبانہ پوچھے بغیر کہاں رہ سکتی تھی بھلا؟
    فوجی (فوزیہ) کے سسرالی آرہے ہیں نا آج بلکہ اس کی ماں تو یہ کہہ رہی تھی کے فوجی (فوزیہ) کی نند سے سلیم کا رستہ (رشتہ) بھی ڈال دیا ہے۔ بات وات پکی ہو جائے گی آج۔” اماں جانے اور کیا کیا کہہ رہی تھی مگر اسے کہاں سنائی پڑتا۔ مٹھائی کا ٹوکرا وہیں اماں کے پاؤں پر چھوڑ دیا۔ وہ بلبلا کر رہ گئیں اور وہ سب چھوڑ چھاڑ دندناتی ہوئی کمرے میں واک آؤٹ کر چکی تھی۔
    ”کیا پخراٹ ڈالی ہے تم لوگوں نے؟” رشید غصہ دباتا ہوا اماں کی طرف آیا۔
    ”ارے دیکھ اس نامراد کو ؟ پہلے تو ایسے تیار ہوئی تھی جیسے رکھستی (رخصتی) ہے اس کی اور اب اچانک رونا دھونا نہ جانے کس کی میت کا سوگ منانے لگی ہے یہ۔”
    ”لاحول ولا… یہ کیسی نحو ست والی باتیں کر رہی ہو تم اس وقت۔” رشید نے قدرے جل کر کہا۔
    ”وہ تو ہے ہی ایسی رہنے دو تم اسے، تم جاؤ میں ہوں نا یہاں۔” وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر لے گیا۔ سوزوکی میں بٹھاکر گھر آیا تو اندر سے اٹھا پٹخ کی آوازیں آرہی تھیں۔ ایسے عذاب میں وہ کہاں بیٹھ سکتا تھا بھلا۔ دوبارہ چلا گیا گھر میں۔
    کچھ ہی دیر میں شبانہ کمرے سے باہر آئی۔ گھر حسبِ توقع خالی تھا اور گلی میں بھی کوئی خطرہ نہ پا کر اس نے سلیم کے پاس جانے کا سوچا، پھر کچھ خیال کر کے رک گئی اور گلی میں کھیلتے ہوئے ایک بچے کو بھیج کر سلیم کو بلوایا۔ کچھ ہی دیر بعد سلیم اپنے گھر کے دروازے پر موجود تھا۔ اس کے گلے میں گلاب کا ہار لٹکتا دیکھ کر شبانہ کے دل میں کانٹے چبھے۔ اس نے سلیم کو گھر کے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ سلیم نے منع کیا تو وہ گھر سے نکلنے لگی۔ مارے خوف کے سلیم کو خود ہی آنا پڑا کہ کہیں وہ لڑکی ہنگامہ ہی نہیں کردے۔
    ”کیا بے چینی ہے تمہیں؟”
    شبانہ اور وہ ایک دوسرے کو غیر معمولی تیاریوں پر اوپر سے نیچے تک دیکھ رہے تھے۔
    ”یہ میں کیا سُن رہی ہوں سلیم؟ تمہاری بات طے ہو رہی ہے آج؟” وہ شیرنی کی طرح دھاڑی۔
    ”شبو! اماں نے زبردستی مجھے اپنی جان کی قسم دے دی ہے۔ تمہارے لئے وہ کسی صورت راضی نہیں ہودے گی۔”
    ”بھاڑ میں گئیں تمہاری اماں اور ان کی قسمیں…” وہ دانت پیستے ہوئے کہہ رہی تھی۔
    چپ ہو جا! ایک لفظ نہیں سنوں گا میں اپنی ماں کے خلاف۔ تمہاری زبان اور باتیں شروع سے ہی بے لگام ہیں۔ شاید اسی لئے میری اماں جی نے…” سلیم کہتے کہتے رکا۔
    شبانہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ سلیم یوں اسے آئینہ دکھا سکتا ہے۔ جس طرح کھڑے کھڑے اس نے ذلیل کیا تھا سے شبانہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہنسی ہنسی میں دیئے گئے جھانسے پر سلیم جیسے بھتنے کا سر توڑ دے۔
    ”ایسا نہیں کر سکتے تم پھسڈی کہیں کے۔” وہ جانے کے لئے مڑا تبھی شبانا نے اس کا ہاتھ پکڑ کے کہا۔
    ”دیکھو شبو! ہماری عزت اسی میں ہے گو کہ میں میں نے بہت کچھ سنا تھا تمہارے بارے میں پھر بھی اس پر یقین نہیں کیا اور اماں جی سے تمہارے لئے ضد کی مگر تمہارے متعلق انہوں نے بس اتنا ہی کہا کہ جس لڑکی نے کبھی اپنی ماں کو سکھ نہیں دیا وہ کسی اور کی زندگی میں کیا سکھ لائے گی میں جانتا ہوں وہ میری خوشی چاہتی ہیں، مگر نا جانے کیوں تمہارے لئے راضی نہیں ہوتیں اور میں خود غرض نہیں ہوں مجھے ہر حال میں تم سے زیادہ اپنی جنت عزیز ہے۔” سلیم نے اپنے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آخری الفاظ کہے۔
    ”چھوڑوں گی نہیں، زندگی عذاب کر دوں گی میں تمہاری۔” وہ چلائی تھی۔
    ”کیا کرو گی؟”

  • باز – فریال سید

    باز – فریال سید

    باز
    فریال سید

    "مورے! میں ٹھیک ہو جاؤں گا ناں ؟”
    اس نے بڑی بڑی آنکھوں میں ڈھیروں ا مید سموتے ہوئے اپنی ضعیف ماں کے چہرے پہ یقین کی ایک رمق تلاش کی۔
    "ہاں میرے بچے تم بالکل ٹھیک ہو جائو گے ۔ اللہ بہت بڑا ہے ، وہ کوئی حل نکال لے گا۔ ”
    روشن بی بی نے اپنے چہرے پے مصنوعی خوش امیدی سجاتے ہوئے جنید کو ا مید دلائی ۔
    جنید خان، روشن بی بی کا واحد سہارا، ان کا اکلوتا بیٹا تھا، جو پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا تھا۔ ا س کے والد کا انتقال جنید کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا ۔ تب سے اب تک روشن بی بی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنا گزر بسر کر رہی تھی اور جنید کی تعلیم کا خرچہ اٹھا رہی تھی ۔ تب ہی ایک دن اسکول سے واپسی پر جنید کی طبیعت بگڑ گئی۔ سرکاری ہسپتال پہنچنے پر پتا چلا کہ جنید کی بیماری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگر جلد از جلد آپریشن نہ کیا گیا تو اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس آپریشن کے لئے کم سے کم پانچ لاکھ روپے درکار تھے۔
    5لاکھ روپے "جو روشن بی بی نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھے تھے، کجا ا نکا بند و بست کرنا۔
    مگر چودہ سالہ معصوم جنید جس کاسارا بچپن اپنی بیماری سے لڑ لڑ کر گزرا تھا وہ آنکھوں میں مکمل صحت یاب ہونے کا خواب سجائے بیٹھا تھا اور روشن بی بی ا س کی خوش امیدی دیکھ کے صرف ایک بار، ایک کوشش کرنا چاہتی تھیں۔
    تب ہی جنید کو جلدی واپس آنے کا کہہ کر وہ اپنی مالکن کے پاس آگئیں۔ ان سے کوئی خاص امید تو نہ تھی مگر پھر بھی وہ ایک کوشش کرنا چاہتی تھی۔
    مالکن کے گھر تو عجیب جشن کا سماں تھا۔ صاحب اور بیگم صاحبہ مٹھائی بانٹ رہے تھے ۔ خوشی تھی کہ ان کے چہروں سے عیاں تھی ۔ وہ کچھ دیر اور وہیں کھڑی رہتی اگر بیگم صاحبہ کی نظر ا س پر نہ پڑتی۔
    "ارے آؤ آؤ روشن! ادھر کیوں کھڑی ہو؟ آئو تم بھی مٹھائی کھائو۔ دیکھو تمہارے صاحب اپنا کیس جیت گئے۔” جوش سے کہتی بیگم صاحبہ نے روشن کی آنکھوں کے آنسو نہ دیکھے ، ورنہ اِ س طرح مٹھائی نہ تھماتیں۔
    "وہ بی بی جی میں نے کہنا تھا کہ۔۔ وہ جی میرا جنید ہسپتال میں ہے۔ اگر آپ میری تھوڑی مدد کردیتے تو۔۔۔”
    روشن کے لہجے کی کپکپاہٹ اس کی گھبراہٹ کی غماز تھی۔
    ” ہاں! کیوں نہیں۔ بتائو کتنے پیسے چاہئیں تمہیں۔”
    بیگم صاحبہ نے خوش دلی سے کہا تو روشن کی تھوڑی ہمت بندھی ۔
    "وہ جی، اس کے آپریشن کے لیے پانچ لاکھ روپے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر جلدی پیسوں کا بندوبست نہ ہوا تو۔۔۔”
    روشن کی آواز آنسوئوں میں ڈوب گئی اور وہ بات مکمل نہ کر سکی۔ ا س نے ڈرتے ڈرتے نظریں اٹھا کر بیگم صاحبہ کے چہرے کو دیکھنا چاہا تھا۔ آنسوئوں کی دھند کے پار ا سے بیگم صاحبہ کے نقوش سپاٹ ہوتے نظر آئے۔ خوف کی ایک سرد لہر اس کے وجود میں سرائیت کر گئی ۔ جس انکار کا ا سے خوف تھا ، شاید بیگم صاحبہ وہی کرنے والی تھیں ، اور ا س سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔
    "ایسا ہے روشن کہ۔۔” بیگم صاحبہ نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے تمہید باندھی۔
    "تمہارے صاحب آج جو یہ ضروری کیس جیتے ہیں، اِس کے لیے ا نھوں نے وکیل کو پانچ لاکھ روپے فیس دی ہے۔ تو۔۔۔” وہ ایک ثانیے کو ر کیں۔
    "تو اگر تم پہلے آجاتی تو شاید کچھ ہو بھی جاتا ، پر اب تو ناممکن ہے۔”
    بیگم صاحبہ نے اپنی انگلی میں موٹے ہیرے کی انگوٹھی گھماتے ہوئے بات مکمل کی اور روشن بی بی کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کے برسے تھے۔ وہ بنا کچھ کہے واپسی کے لیے پلٹی۔
    "اے میرے پاک خدا! اب میں کیا کروں گی ۔ یہ تو نے مجھے کیسی آزمائش میں ڈال دیا ہے؟ میں کہاں سے لائوں پانچ لاکھ؟ کیا کروں میں آخر؟ شاید میں پہلے آجاتی تو بیگم صاحبہ پیسے دے بھی دیتیں، پر اب تو وہ وکیل کو۔۔۔ وکیل!!!”
    روشن بی بی کی آنکھوں میں امید کی لو ٹمٹمائی۔ وہ تیزی سے مڑی اور بیگم صاحبہ تک آئی ۔
    "بیگم صاحبہ! وہ جی ا س وکیل کا پتا مل سکتا ہے؟ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی جی ۔ خدا کے لیے۔”
    بیگم صاحبہ نے تھوڑی دیر ا سے ترش نگاہوں سے گھورا ، پھر صاحب سے ایک کارڈ لے کے اس کی طرف بڑھا دیا۔
    خوشی سے نہال ہوتی روشن بی بی نے عجلت میں ان کا شکریہ ادا کیا اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گئی۔ اس کا ر خ بس اسٹینڈ کی طرف تھا۔ وہاں بس کے انتظار میں کھڑی ایک طالبہ سے کارڈ پہ درج پتے کے بابت پوچھا۔ اس نے خوش دلی سے پتا سمجھایا۔
    روشن بی بی کے دل میں امید اور خوف کے ملے جلے احساسات جاگ رہے تھے جن میں شرمندگی کی آمیزش بھی تھی۔ پہلی دفعہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا نے سے زیادہ ایک خود ار انسان کے لیے اِس دنیا میں کچھ بھی مشکل نہیں۔
    اپنے خیالوں میں گم وہ اپنی منزلِ مقصود پہ پہنچ چکی تھی۔
    کپکپاتے قدموں کے ساتھ ا س صاف ستھرے آفس میں پہلا قدم رکھا تو گارڈ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ وہ جانتی تھی اگر ا س نے اپنا مدعا گارڈ کو کہہ سنایا تو اندر کبھی نہ جا پائے گی۔ اِس لئے اسے کارڈ دکھا کر کہا کہ صاحب نے خود بلایا ہے۔
    گارڈ نے پہلے جانچتی نگاہوں سے ا سے دیکھا پھر اندر جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ ڈرتے ڈرتے اندر کی طرف بڑھی۔
    کالے سوٹ میں ملبوس کئی نوجوان وہیں اپنے کام میں مصروف بیٹھے تھے ۔ ان میں سے ایک اس کی طرف متوجہ ہوا۔
    "خیر ہے اماں! کس سے ملنا ہے آپ کو؟”
    "وہ بیٹا مجھے اِن صاحب سے ملنا ہے۔”
    روشن بی بی نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ میں پکڑا کارڈ ا س تیکھے نین نقش والے نوحوان کی طرف بڑھایا۔
    "ارے اماں آپ کو سر سے ملنا ہے تو یوں کہیں ناں۔ چلیں آجائیں میں ملاتا ہوں آپ کو سر سے۔”
    خوش اخلاقی سے کہتا ہو وہ انہیں اپنے ساتھ لیے اپنے سرکے کمرے تک لے آیا۔ ہلکی سی دستک کے بعد اس نوجوان نے دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر واضح تھا۔
    سیاہ سوٹ میں ملبوس ایک پینتیس چھتیس سال کے ایک نوجوان لڑکے نے مسکراتے چہرے کے ساتھ کھڑے ہوکر اس کا استقبال کیا۔ وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوتی ان کے سامنے والی کرسی پہ آکے بیٹھ گئیں۔
    وکیل صاحب نے شائستہ لہجے میں ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ وکیل صاحب کا پوچھنا تھا کہ روشن بی بی پھوٹ پھوٹ کے رو دی اور اپنی مشکل بیان کر کے مدد مانگی۔ وکیل صاحب ان کو تسلی دیتے ہوئے ان کے ساتھ باہر تک آئے اور جو تیکھے نقش والا نوجوان انہیں کمرے تک لے گیاتھا، اسے مخاطب کرتے ہوئے روشن بی بی کے ساتھ جانے کی ہدایت کی اور پتا کرنے کو کہا کہ آیا روشن بی بی جھوٹ تو نہیں کہہ رہیں؟
    وہ نوجوان روشن بی بی کوساتھ لئے اپنی ہی گاڑی میں ہسپتال تک آیا ۔ وہاں جنید اور ڈاکٹر صاحب سے مل کے جنیدکی ساری معلومات اکٹھی کرکے چلا گیا۔ روشن بی بی کے دل میں خوش امیدی جاگی تھی۔
    جب کہ نوجوان واپس آفس پہنچا اور وکیل صاحب کو ساری معلومات سے آگاہ کیا ۔ وکیل صاحب تھوڑی دیر خاموش بیٹھے رہے، پھراپنی دراز سے آج صبح ہی ملنے والا پانچ لاکھ روپے کا چیک نکالا اور نوجوان کی طرف بڑھا دیا۔ نوجوان نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے چیک تھام لیا۔
    "یہ لے جائو اور ا س اماں کے بیٹے کا آپریشن جلد سے جلد کرانے کے انتظامات کرو۔”
    نوجوان جونیئر وکیل نے حیرانی سے استفسار کیا:
    "لیکن سر یہ آپ کی پہلی بڑی فیس ہے ۔ آپ ایسے کیسے اپنے سارے پیسے۔۔۔”
    اس سے پہلے کہ نوجوان وکیل کی بات مکمل ہوتی، سر نے اپنا ہاتھ ا ٹھا کے اسے مزیدکچھ کہنے سے روک لیا۔
    "زوئے! (پشتو میں بیٹے کو کہتے ہیں) ایسا نہیں کہتے ۔ کیا پتا خدا میرا امتحان لے رہا ہو۔ میں اسے کیا جواب دوں گا؟”
    سر کی بات پہ نوجوان وکیل خاموش ہو گیا۔
    جنید کا آپریشن ہو گیا اور وہ مکمل صحت یاب بھی ہو گیا۔ اپنے پیروں پہ چل کے ایک دن وہ اور روشن بی بی وکیل صاحب کا شکریہ ادا کرنے بھی آئے تھے۔ روشن بی بی انہیں ڈھیروں دعائیں دیتیں، جنید کو ساتھ لئے چلی گئیں لیکن پھر وکیل صاحب کی کامیابیوں کا سلسلہ نہ ر کا۔
    گو کہ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا جب وکیل صاحب نے یوں کسی کی مدد کی تھی ۔ اِ س سے پہلے بھی انہوں نے کئی لوگوں کی ایسے ہی مدد کی تھی۔ آفس کے باہر کھڑے ہونے والے خوانچہ فروشوں کے قریب سے صبح جب گزرتے تو جیب میں ہاتھ ڈالتے، جتنے پیسے ہاتھ میں آتے ا نہیں دیتے جاتے۔ اپنے ہی گروپ میں کام کرنے والے جونیئر وکلا کی بھی ہر ضرورت کا خیا ل رکھتے۔ ان کی ہر ممکن مدد کرتے۔ یوں دعائیں اور عزت کماتے کماتے، وکیل صاحب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر نامزد ہو گئے۔ وہ اپنے مخالف سے بہت نمایاں ووٹ حاصل کرکے جیتے گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ وکیل صاحب بی بی اے کے موجودہ صدر سے سابق صدر ہو گئے لیکن ان کی کامیابیوں کا سلسلہ ر کا نہیں۔
    وہ اب سپریم کورٹ کے وکیل تھے۔ جس کیس کے لیے انہیں منتخب کیا جاتا، جیت ا ن کے موکل کے نصیب میں لکھ دی جاتی۔ اتنی عزت، دولت اور شہرت نے بھی ان کی فطرت نہ بدلی۔ بلکہ اب وہ پہلے سے بھی زیادہ لوگوں کی مدد کرنے لگے تھے اور وقت یونہی گزرتا گیا۔
    پھر ایک دن بی بی اے کے موجودہ صدر بلال قاسی کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا ۔
    وکیل صاحب ا س وقت کیسے پیچھے رہتے ۔ اپنے ساتھی وکلا کو اپنے ساتھ لیے ہسپتال پہنچے جہاں پہلے ہی وکلااور میڈیا کا جمِ غفیر موجود تھا۔ وکیل صاحب اور ان کے ساتھی وکلا بلال قاسی صاحب کی میت لینے میں پیش پیش تھے کہ اچانک ہجوم تھوڑا سا بڑھ گیا۔
    وکیل صاحب کے ساتھ ہی اس تیکھے نقش والے نوجوان کو ہجوم نے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ انہوں نے ارد گرد نگاہ دوڑائی، باقی سب ہی ساتھی موجود تھے، نہ تھا تو وہ جو ان کا سب سے چہیتا شاگرد اور ساتھی تھا۔ وہ یقینا اسے فون ملاتے اگر میت نکالنے کا شور نہ مچتا۔ وہ سب چھوڑ چھاڑ باقی ہجوم کی طرح بلال قاسی شہید کی میت کی طرف متوجہ ہو گئے اسی اثنا میں ایک زور دار ھماکا ہو گیا ۔ ہر سو بارود کی تیز بو اور دھوئیں کے کالے بادل چھا گئے۔ وکیل صاحب بھی زمین پہ گرے ہوئے تھے۔ انہوں نے آنکھیں کھول کے اطراف کا منظر دیکھنا چاہا مگر۔۔
    ان کی آنکھوں میں مسلسل بہتا خون ہرمنزل کو دھندلا رہا تھا ۔ کانوں میں تیز سیٹی سی بج رہی تھی۔ کچھ لوگ ا ن کی طرف تیزی سے بڑھے تھے اور پھر ا نہیں کسی چیز کا ہوش نہیں رہاتھا۔
    ”تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دھماکہ خودکش تھا ، جس میں وکلا کو نشانہ بنایا گیا ۔ ملک دشمنوں کی ایک اور سازش ، جس میں وکلا بری طرح سے متاثر ہوئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ، دشمن نے سازش کے تحت صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن بلال قاسی کو شہید کیا اور جب وکلا بڑی تعداد میں میت لینے ہسپتال پہنچے تو دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے ا ڑا دیا ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھاری جانی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ ہمارے نمائندے وقاص علی جائے وقوعہ پہ موجود ہیں آئیے جانتے ہیں ان سے زیادہ ترین صورتِ حال:
    ”جی وقاص! اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباً کتنے جانی نقصان کا خدشہ ہے؟”
    "جی نادیہ میں اس وقت جائے وقوعہ پہ موجود ہوں، یہاں قیامت کا سا منظر ہے ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے پڑے ہیں ۔ جائے وقوعہ کودیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھاری تعداد میں جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پینتیس افراد اس افسوس ناک حادثے میں شہیداور ستر زخمی ہوئے ہیں۔”
    "جی وقاص کچھ پتا چل سکا ہے کہ زخمیوں میں کتنوں کی حالت نازک ہے ؟”
    "جی نادیہ اس وقت تو یہ کہنا مشکل ہو گا لیکن ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت بہت خراب ہے اورا یک زخمی کی شناخت بہ طور باز محمد کاکڑ ،سابق صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی جا رہی ہے ۔ بازمحمد کا کڑ جو اپنے ساتھیوں سمیت بلال قاسی کی میت لینے سول ہسپتال آئے تھے اس بدترین دہشت گردی میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ جی نادیہ ۔ ۔”
    "بہت شکریہ وقاص ہمارے ناظرین کو تازہ ترین صورت حال سے اپ ڈیٹ کرنے کا۔”
    ناظرین یہ افسوس ناک مناظر جو آپ اس وقت اپنی ٹی وی سکرینزپردیکھ رہے ہیں یہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے کے ہیں ۔ جس میں تازہ تر ین اطلاعات کے مطابق پینتیس افراد شہید اور ستر کے قریب زخمی ہیں ۔ زخمیوں میں سابق صدر بی بی اے باز محمدکاکڑبھی شامل ہیں۔”
    آئیے بات کر تے ہیں ایک دفعہ پھر اپنے نمائندے وقاص سے۔
    "جی وقاص! تازہ ترین صورتِ حال سے اپ ڈیٹ کیجئے گا”
    "جی نادیہ! ایک افسوسناک خبر سے آپ کو آگاہ کرتا چلوں کر ہسپتال زرائع کے مطابق سابق صدر بی بی اے اور بلوچستان کے جانے مانے وکیل باز محمد کاکڑ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہدا کی تعداد 50 جبکہ زخمیوں کی تعداد 90 ہوگئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ زخمیوں کو سی ایم ایچ شفٹ کیا جا رہا ہے۔ آئیے بات کرتے ہیں اس واقعے کے عینی شاہد نوجوان سے۔”
    "جی شاہ صاحب! آپ اس دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں اور آپ کے بہت سے دوست اور ساتھی وکلا اس واقعے میں شہید ہوئے ہیں ، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟”
    صحافی نے تیکھے نقوش والے نو جوان کے سامنے مائک کیا ۔ نوجوان ایمبولینس میں لیٹا ہوا تھا ، اس کا ایک بازو اور ایک ٹانگ پٹیوں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ رنگت بے حد زرد تھی لیکن چہرے پر بہادری کا ڈیرہ تھا۔
    "جی بس اللہ معاف کرے قیامت تھی جو آکر گزر گئی۔ یہ ایک پری پلینڈ سازش تھی ہمارے خلاف۔ میرے سارے ساتھی شہید ہو گئے اپنے گروپ میں سے میں واحد بچا ہوں ۔ ہمارے سر باز محمد کاکڑ صاحب ایک بہترین انسان تھے ان کی شہادت سے جو خلا۔ ۔ ۔”
    "جی آپ کا بہت بہت شکریہ۔”
    نادیہ جیسا کہ آپ نے عینی شاہد کی باتیں سنی ۔ انہوں نے اس واقعہ کو پری پلینڈ سازش قرار دیا ۔ میں اپنے ناظرین کو بتاتا چلوں کہ کسی عینی شاہد سے سب سے پہلے بات ہمارے چینل نے کی ہے ۔ جی ہاں! ہم نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اس خبر سے آگاہ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔”
    نمائندہ اب بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا یہ سوچے بنا کہ وہ تیکھے نقوش والا عینی شاہد اِ س وقت کیاسوچ رہا ہے اور وہ عینی شاہد نمائندے کی پیٹھ دیکھ کر سوچ رہا تھاکیاواقعی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہماراباز ، پاکستان کا باز اب نہیں رہا؟
    کیا انہیں اندازہ ہے کہ وہ باز کتنے لوگوں کے لئے مسیحا تھا ؟
    المیہ یہ نہیں کہ کسی نے باز کی شہادت سے ہونے والے نقصان پر افسوس نہیں کیا ، المیہ تو یہ ہے کہ اس دھماکے میں اور ہر دھماکے میں جانے کتنے باز شہید ہوتے ہیں۔ ایسے باز جوسچے پاکستانی اور نیک مسلمان ہوتے ہیں ۔ دشمن ہمیشہ ہمارے بازوں پر ہی حملہ کرتی ہے ۔
    لیکن ہمیں نہ خبر ہوتی ہے نہ فرق پڑتا ہے ۔ ہاں دوسے تین دن افسوس ہوتا ہے۔ ہم احتجاج کرتے ہیں، سوگ مناتے ہیں اور پھر زندگی دوبارہ اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے ۔ فرق صرف تب پڑتا ہے جب ہم یاہمارا کوئی اپنا ایسی د ہشتگردی کی زد میں آتا ہے۔
    وہ نوجوان سوچ رہا تھا کہ کہیں یونہی ہمارے باز شہید ہوتے گئے تو ہمارے ملک میں باز ختم نہ ہوجائیں ۔ پھر اس ملک کے جنیدوں کی امدادکون کرے گا ؟
    وہ تیکھے نقوش والا نوجوان وکیل سوچ رہاتھا اور سوچے جا رہا تھا، کیوں کہ اس حادثے نے ا سکی زندگی میں جو خلا کیا تھا، وہ کبھی پرُ نہیں ہونا تھا۔ یہ سانحہ اس کی زندگی میں ہمیشہ کے لئے آکر ٹھہر چکا تھا۔

  • پچیس ہزار – حمیرا نوشین

    ڈھولک کی تھاپ اس کے دِل کی دھڑکنوں کی رفتار میں اضافے کا باعث بن رہی تھی، مسکراہٹ پورے استحقاق سے اس کے لبوں کی مکین بن گئی۔ خوش آئند خیالوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ فرینڈز اور کزنز ”حسنین” کا نام لیکر اسے گدگدا رہی تھیں، آج مہندی کی رسم تھی اور کل بارات آنی تھی۔ آج اس گھر میں وہ ناکتخدا اپنی آخری رات بسر کر رہی تھی۔صبح وہ ملیحہ افتخار سے ملیحہ حسنین کے نام سے پہچانی جائے گی۔ حسنین کا نام اس کے دل میں ہلچل مچانے لگا۔ غیرخاندان میں شادی کا خوف بھی آنکھوں میں ہلکورے لے رہا تھا مگر دوسرے ہی پل اسے جھٹک کر سہانے خواب اس کی پلکوں پر بسیرا کرنے لگے اور وہ ان خوبصورت وادیوں کی سیر کرنے لگی۔
    ٭…٭…٭





    ”پچیس ہزار سے ایک روپیہ کم نہیں ہوگا۔”
    ”یہ لو پچیس اور یہ ہزار روپیہ تھامو آپکے پچیس ہزارکا مطالبہ مان لیا گیا ہے۔” دولہا کے بھائی نے نوٹ آگے بڑھائے۔
    ”ارے واہ! ہمیں کیا بے وقوف سمجھا ہوا ہے؟ ہزار ہزار کے پچیس نوٹ ہمارے خوبصورت ہاتھوں میں تھمائیے۔” دلہن کی کزن اترائی۔
    ”میڈم رہتی پاکستان میں ہیں اور دودھ کی قیمت ڈالرز میں وصول کررہی ہیں۔” دوست دودھ کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا۔
    ”دلہن بھی تو اتنی قیمتی لے جارہے ہیں۔ تو ذرا دودھ پلائی بھی شایانِ شان ہونی چاہئے۔”
    ”یہ لیں پانچ ہزار پکڑیں اور عیش کریں” دولہا کے بہنوئی نے ہرے ہرے پانچ نوٹ لہرائے۔
    ”پانچ ہزار واپس اپنی جیب میں ڈالیں، پندرہ سالیوں میں یہ نوٹ اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات ہوگی۔”
    ”اونٹ نہیں خوبصورت اونٹنی کے منہ میں زیرہ۔” منچلے دوست نے فقرہ کسا۔ ”باتیں نہ بنائیے، نوٹ نکالیے” خوبصورت حنائی ہتھیلی سامنے ہوئی۔
    ”یہ لو ایک اور نوٹ کا اضافہ کردیا آپ کے حسین اور نازک ہاتھ دیکھ کر” وہ رومانٹک ہوا۔
    ”ان خوبصورت ہاتھوں کی قیمت آپ دے ہی نہیں سکتے۔”
    ”ارے آپ ہمارے ہاتھوں میں تھمائیں تو سہی ہم بدلے میں دل و جان آپ پر فدا کردیں گے۔” بے باک دوست نے ہاتھ ہی پکڑ لیا۔
    ”فی الحال تو ہمارا مطالبہ پورا کر دیجئے، دل و جان لینے کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔” وہ ہاتھ کھینچ کر دل ربائی سے مسکرائی۔
    لوگوں کا اشتیاق بڑھنے لگا۔ اس نوک جھونک کا مزہ لینے اسٹیج پر سب ہی چڑھ آئے۔ مووی والا لڑکیوں کے تھوڑا اور قریب ہوکر مووی بنانے لگا۔ لڑکے لڑکیوں کا باہم اختلاط کوئی اور ہی رنگ بکھیرنے لگا۔ لڑکیوں کے چہرے پرُ شوق نگاہوں کی تپش سے دہکے جارہے تھے اور لڑکوں کے دل قابو میں ہی نہیں رہے تھے۔ اچھے خاصے شریف گھرانوں کی لڑکیاں بن سنور کر دوپٹوں سے بے نیاز دولہا کے دوستوں اور رشتہ داروں کے سامنے کھڑی ان کے ایمان متزلزل کررہی تھیں۔ نوجوان تو ایک طرف جوان بچوں کے باپ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔
    ”بھئی جلدی کرو دیر ہورہی ہے۔” دولہا کی ماں کی کہیں سے آواز ابھری۔
    ”آنٹی جان آپ کے کنجوس بیٹے جیب ہی ڈھیلی نہیں کررہے، ہم تو کب کا چھوڑ دیتے انہیں۔”
    ”ارے بھئی فارغ کرو ان کو دے دلا کر” لہجے میں ناگواری جھلکنے لگی۔
    ”ہاں تو ہم نے کون سا ان کو پلو سے باندھ رکھا ہے؟ پیسے دے کر گھر کو سدھاریں۔” دوسری طرف سے جوابی حملہ ہوا۔
    ”لو بھئی نہ تمہاری نہ ہماری، یہ دس ہزار پکڑو۔” بہنوئی دولہا کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگا۔
    ”نہ… نہ… نہ اتنا سستا نہیں چھوڑیں گے۔ دولہا بھائی، کماؤ بیوی دے رہے ہیں۔ پچیس ہزار مہنگا سودا نہیں ہے۔ ایک تنخواہ میں ہی حساب پورا ہو جائے گا۔” سالی نخرے سے بولی۔
    ”کمائے گی تو کیا ہمیں کھلائے گی؟ اپنے ہی اوپر خرچ کرے گی ۔”دولہا کی بہنوں کے لہجے اکھڑنے لگے۔
    ”تیور نہ دکھائیں پچیس ہزار کے نوٹ دکھائیں۔”





    ”کیا زندگی میں کبھی پیسے ہی نہیں دیکھے؟”
    ”ہم نے تو بہت دیکھے ہیں لگتا ہے آپ کنگلے خالی جیبیں لے کر آگئے۔ دلہن لینے آئے تھے تو کچھ نوٹوں کو بھی ساتھ لے آتے۔” سیر کو سوا سیر مل رہا تھا۔
    ”کیوں؟ کیا بیٹی بیچنی ہے تم لوگوں نے؟” اچانک دولہا کی ماں کے تیور بدل گئے۔
    ”ارے ہمیں کیا پتا تھا کہ یہ بیٹی کی بولی لگائیں گے۔ اتنی سستی بیٹی بیچیں گے۔ صفدر نکال پچاس ہزار روپے، ہم ڈبل میں خرید لیں گے۔”
    بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔
    دولہا دلہن کے بھائی اور والدین کے درمیان اسی بات پر تلخ کلامی بڑھنے لگی۔ لڑکیاں سٹیج سے نیچے اتر آئیں۔
    ”ایک رسم پر ہی تو بچیوں نے کچھ پیسے کیا مانگ لئے آپ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔” والد جوش میں آگئے۔
    ”ہاں تو رسم کو رسم ہی رہنے دیں کمائی کا ذریعہ تو نہ بنائیں۔” دولہا کے والد کا بھی تابڑ توڑ جواب آیا۔ لڑکی کے باپ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”اپنی کماؤ بچی کو اپنے پاس ہی رکھیں۔ ارے ابھی سے ان لوگوں کا یہ حال ہے کل کو میرے بچے کو لوٹ کے کھا جائیں گے یہ تو۔” ماں کو مستقبل کی فکر ستانے لگی۔
    ”ہمیں بھی اپنی بہن بھاری نہیں ہے، آپ جیسے کنگلوں کے حوالے کرنے سے تو بہتر ہے کہ اس کو ساری عمر گھر پر بٹھائے رکھیں۔” بھائی غصے سے بپھرنے لگے۔
    ”ہاں تو بٹھاؤ شوق سے اپنے گھر، چل حسنین دے طلاق۔” خوشیوں کی فضا مکدر ہوگئی۔
    اس صورتِ حال پر دولہا دم سادھے کھڑا تھا۔
    ”تو پھر دیر کس بات کی ہے؟ فارغ کرو ہماری بچی کو، رشتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اس کے لیے’۔’ پھوپھا نے بھی حصہ ڈالا، پرانی رنجش کا بدلہ لینے کا یہ صحیح موقع تھا۔
    ”ہاں… ہاں ایسے فقٹوں میں رشتہ داری ہمیں قبول نہیں۔” دو تین اور بیچ میں کود پڑے۔
    ”میں کہتا ہوں اس قصے کو ابھی نمٹا دے۔” باپ بیٹے کی خاموشی سے جھنجھلایا۔
    مگر… ابا!
    ”میں کہہ رہا ہوں جلدی سے تین الفاظ کہہ دے۔ نہیں تو ساری عمر معاف نہیں کروں گا۔”
    اب… با… وہ…
    ”دے طلاق” باپ دھاڑا۔
    ”اماں میں کیسے…؟” وہ مخمصے میں پڑ گیا۔
    ”جیسے قبول ہے کے لفظ ادا کئے تھے، اسی طرح بھرے مجمع میں ان کی بیٹی کو تین الفاظ کہہ کر فارغ کر ورنہ دودھ نہیں بخشوں گی تجھے۔”
    سب کو سانپ سونگھ گیا۔
    اور دولہا نے تین قبیح الفاظ کہہ کر فرماں برداری کا ثبوت دے دیا۔
    بارات خالی واپس چلی گئی۔ بیٹی کی ماں غش کھا کر گر پڑی۔ باپ کے کندھے جھک گئے۔
    بھائی منہ چھپا کر کمروں میں جادبکے۔
    لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے اور اندر کمرے میں سجی سنوری دلہن چند گھنٹوں میں ہی باپ کی دہلیز پر بیاہتا سے مطلقہ ہوگئی۔ محض ایک رسم کے ہاتھوں، خوابوں کا محل چکنا چور ہوگیا۔ لبوں پر مسکراہٹ کی جگہ اداسی نے قبضہ جمالیا۔
    سرخ ہتھیلی خون بن کر رلانے لگی، اس کی خوشیوں کو معاشرے کی ایک رسم نے نگل لیا تھا۔

    ٭…٭…٭




  • اگلا سفر – مریم مرتضیٰ

    آج وہ بابا جی ساتھ والے گھر میں آئے ہیں۔وہ دو ماہ پہلے سامنے والے گھر میں آئے تھے اور ان آنٹی کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئے تھے،آنٹی بہت روئی تھیں چلائی تھیں مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی تھی۔ انہوں نے کہا تھا اس کا دانہ پانی یہاں سے اٹھ چکا ہے۔اس دن بین ڈالے گئے تھے،سر پیٹے گئے تھے،ہمارے گھر میں سوگ کا سماں تھا ۔میں نے تو دو دن تک کھانا نہیںکھایا تھا ۔
    میںجب سامنے والے گھر میں گئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا۔
    ” آپ انہیں کہاں لے کر جا رہے ہیں۔؟”
    ” اگلے سفرپر۔۔اس کا اگلا سفر میرے ساتھ ہے۔” انہوںنے کہا۔وہ بہت خوف ناک تھے۔میرے تو الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے۔
    ”کیا ہر کسی کا اگلا سفر ہے؟” میں نے پوچھا۔
    ”ہاں۔۔” ان کی ہاں میں کتنی گہرائی اور سچائی تھی۔
    ” کیا آپ سب کو لے جائیںگے؟” میں نے بے ساختہ پوچھا۔
    ” ہاں! مگر وقت پر۔۔۔” وہ اسی یقینی انداز میں بولے۔
    ” ہر کسی کا وقت مقرر ہے؟” میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور کپکپی سے میرا بدن لرز اٹھا۔
    ”ہاں!”
    ”کیا میرا بھی وقت مقرر ہے؟” میں نے توقف کے بعد پوچھا۔
    ”ہاں!”
    میرا وجود ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔





    ” آپ کوئی مشورہ دے دیں۔” میرے حلق سے الفاظ رک رک کر نکلے تھے۔
    ” میرے ساتھ تمہیں بھی ہر صورت جانا ہو گا مگر اپنے وقت پر۔۔وہ وقت تم کبھی بدل نہیں سکتی ہو۔ لیکن اگر راحت حاصل کرنا چاہتی ہو میرے ساتھ چل کر تو ساتھ اپنے وہ لانا جو تمہارا زیور ہے۔” انہوں نے کہا اور چلے گئے۔
    مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں کئی دنوں تک خوف میں مبتلا رہی۔ کئی کئی گھنٹے تنہائی میں بیٹھ کر زیور اکٹھے کرنے لگی۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ وقت بدل گیا اور میرا زیورات سے دل اٹھ گیا۔ میں جینے لگی پھر سے اسی طرح عیش و عشرت میں، امنگوں ترنگوں میں مجھے خیال ہی نہ رہا تھا۔ پھر ایک دن میں اکیلی بیٹھی تھی تو سب کہنے لگے چپ ہو جاؤ بابا جی کسی کو لینے آگئے ہیں کیوں کہ مسجد سے بار بار آوازیں آرہی تھیں کہ بابا جی فلاں آدمی کو لینے آئے ہیں۔ کچھ دیر مجھ پر بھی کپکپی طاری ہوئی اور میں پھر سے کا م میں مصروف ہو گئی۔ مجھے خیال ہی نہ رہا انہوں نے مجھے بھی لے جانا ہے۔ میں نے سوچا ہی نہیں۔ دنیا کی خواہشات کی دلدل میں دھنستی ہی چلی جا تی رہی ،نفس کی غلامی سے مجھے چین ملنے لگا تھا، اس نے مجھے اپنا کتا بنا لیا تھا۔ میں نفس کے پاؤں دن رات چاٹتی رہی۔ انسان جتنا امیر ہو گا اتنا ہی زیادہ گرا ہوا اور نفس کا غلام ہو گا۔میں بھی وہی کرتی رہی جو نفس کہتا رہا۔وہ کہتا چلو میں چل پڑتی، وہ کہتا رکو میں رک جاتی،وہ کہتا بیٹھو میں بیٹھ جاتی حتیٰ کہ میں کھانا بھی نفس کی مرضی سے کھاتی نہیں تو بھوکی رہتی۔
    خوابوں اورخواہشوں کے دور میں بابا جی کا خیال کبھی بھول کر بھی نہیںآیا کیوں کہ خواہش کے مطابق شے مل رہی ہو پھر ڈراؤنی چیزوں کو کیا سوچنا؟ چاہے وہ حقیقی کیوں نہ ہوں۔
    آج صبح سویرے جب میں سو رہی تھی تو مجھے رونے پیٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں بھاگی بھاگی باہر نکلی، جانے کیا ہو گیا تھا؟ پوچھنے پر پتا چلا ساتھ والے گھر وہی بابا جی آئے ہیں،ان کی جوان بیٹی کو لے جا رہے ہیں۔ گھر والے منتیں ترلے کرتے رہ گئے کہ ابھی اس کی عمر کیا ہے مگر بابا جی نے کہا کہ وقت طے ہو تو عمریں نہیں دیکھی جاتیں۔ بابا جی اسے لے گئے، معلوم نہیں وہ اپنے ساتھ زیور لے کر گئی بھی یا نہیں؟
    زیورات نہ ہوئے اس کے پاس تو بابا جی اسے بہت اذیت میں رکھیں گے۔شام ہوگئی، وہ چلی گئی، رونے کی آوازیں آہستہ آہستہ دھیمی ہو گئی ہیں۔ یہ آوازیں کیوں دھیمی پڑ گئی ہیں؟ چند دنوں بعد یہ آوازیں قہقہوں میں بدل جائیں گی۔ اسے بھول جائیں گے سب۔ وہ سامنے والے گھر میں جب بابا جی آئے تھے تو وہاں لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے، سروں میں مٹی ڈال رہے تھے۔ مگر اب ہنسی ہے، قہقہے ہیں خوشیاں ہیں ۔ جسے جانا تھا وہ چلا گیا اب اسے کون یاد رکھتا ہے۔بے وفائی کہوں یا فطرت کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔ لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ خوف طاری ہو رہا ہے، ایسے لگ رہا ہے کہ وہ آ رہے ہیں، مجھے ان کی چاپ سنائی دے رہی ہے،آواز بھی آنے لگی ہے۔میرے پاس زیورات بھی نہیں ہیں میں تو خالی ہاتھ ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا کیا ہو گا؟ وہ آرہے ہیں۔ میری جب ان سے ملاقات ہو ئی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا کون سے زیورات پاس ہوں، تو انہوں نے کہا تھا۔
    ”اطاعتِ اللہ و رسول۔”

    ٭…٭…٭




  • دیارِ خلیل – فرحین خالد

    عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں مگر ان کو ”گھر ” بنانے کے لیے مزید قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔گھر کے مکینوں کی اطراف میں کھنچی ان کی محافظ کہیے یا رکاوٹ، ایک دیوار بھی حائل رہتی ہے جس کو مزّین اور آراستہ تو خوب کیا جاتا ہے مگر اس کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاتا ۔آیئے آج ایک ایسی ہی دیوار سے اس کی بپتا سنتے ہیں۔





    مجھ سے ملئے …میں، دیارِ خلیل میں کھڑی ایک ساکت دیوار ہوں جو خود کو اس گھر کا اہم جز سمجھتی ہے ۔میں ہوں تو پتھر جیسی مگر دل میرا ، آپ ہی کی طرح نرم ہے۔ یہ بات سن کے آپ کو حیرت ہوئی ؟ کیوں..؟ جب آپ یہ مانتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، جب آپ یہ مانتے ہیں کہ روز جزا ہر ہر پتھر گواہی دے گا تو یہ ماننے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ میرا ایک دل بھی ہے جو اپنے مکینوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہاں ، مجھے ان سے سچی محبت ہے ۔ جب یہاں حزن بسیرا کرتا ہے تو میرا گریہ نہیں رکتا اور جب یہاں شادیانے بجتے ہیں تو میں ان کے قہقہوں کی گونج ہوتی ہوں۔میں جب تک اپنے مکینوں کو نہیں اپناتی ان کی اجنبیت دور نہیں ہوتی ۔
    پچھلے دنوں جب مجھ پہ روغن ہوا تو یہ اندازہ ہوا کہ میرا پھر سے سودا ہوگیا ہے… سوچتی ہوں کہ یہ کیسے سپنوں کے بیوپاری ہیں کہ جب اتنے چاؤ سے میری ایک ایک اینٹ میں خلوص و وفا کا گارا لگا کر مجھے بلندکرتے ہیں تو آخر مجھے بیچ کیوں جاتے ہیں ؟ میں، اپنے خمیر میں گندھی خصلتوں سے مجبور… اپنے ہر ایک باسی سے پیماں نبھاتی ہوں۔بہرحال آج میں خوش ہوں کہ میری ویرانی دور ہو رہی ہے ۔





    صبح سے چہل پہل تھی۔میں اپنی مقابل دیوار پہ بنتے ہیولے دیکھ رہی تھی۔ کچھ اندیشے تھے ، جو بڑھ رہے تھے کچھ آرزوئیں تھیںجو زور پکڑ رہیں تھیںکیوںکہ مزدور قطار در قطار سامان اٹھائے اندر چلے آ رہے تھے۔مجھے بھی اپنے مکینوں کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا کہ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے ؟ اللہ کرے کہ بچوں والے ہوں، مجھے ننھے بچوں کی گونجتی کلکاریاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ پہیے جیسی گول گول چیز بھی ہوا میں لہرائی ہے۔ضرور گھر کے کسی بزرگ کی سائیکل ہوگی جو صبح ہی صبح پارک لے کر جائیں گے اور واپسی میں سودا لیتے ہوئے گھر آئیں گے ۔آوازیں تو آ رہی ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہا کس زبان میں بول رہے ہیں۔مجھے ایک لمحے کے لیے فکر ہوئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی مگر دوسرے ہی لمحے میںنے تہیہ کر لیا کہ کوئی بات نہیں میں سیکھ لوں گی اسی ٹی وی لاؤنج میں تو بیٹھیں گے سارا دن یہ لوگ۔
    اب سائے ڈھل گئے تھے اور آوازیں بھی مدھم ہو گئیں تھیں۔ مجھے ابھی تک کسی کی جھلک نہیں دکھائی دی تھی۔ اچانک گھٹنوں گھٹنوں رینگتا ہوا ایک بچہ دکھائی دیا۔میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ خدا نے میری سن لی ہے ۔میری ممتا اس بچے کو اپنی نگاہ میں بھرنے کی مشتاق تھی۔ اچانک ایک سایہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں نمودار ہوا اور اس نے آواز لگائی ….
    ” بیبو ..بیبو..ارے وہاں کہاں چلی گئیں ؟”
    میںنے سوچا، بڑے فلمی لوگ ہیں!کیسا نام رکھا ہے منے بچے کا؟ مگر جیسے ہی روشنی کا جھماکا ہوا میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اتنے دن ہو گئے تھے اندھیرے میں رہتے ہوئے۔ غور کیا تو نگاہوں پہ یقین نہیں آیا۔ زمین پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی سفید ریشمی بالوں والے بچے کو سہلا رہی تھیں۔ مجھے پانچ دن لگ گئے یہ یقین کرنے میں کہ یہ کوئی بچہ نہیں ایک پالتو بلی ہے، جو بڑی بی کی بے حد لاڈلی ہے۔ اگر وہ میاؤں میاؤں کی آواز نہ نکالتی تو میری ساتھی دیواریں مجھے اندھا کہہ کے ٹال دیتیں ۔
    یہ تین لوگوں کی ایک چھوٹی سی فیملی ہے۔ سونیا گھر کی بہو ہے ،سمیر اس گھر کا واحد مرد اور تابع دار بیٹا ہے ، ایک بیوہ بوڑھی ماں اور ان کی ایرانی نسل کی خوبصورت بلی… بیبو۔ ممی جی اور سمیر کی تو اس میں جان اٹکی رہتی ہے۔ اس کی ایک ایک ادا کو محبت سے دیکھتے ہیں اور ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ اسے جب بھی موقع ملتا، سونیا اور سمیر کے بیچ میں آ کے پسر جاتی ۔سونیا کی تو جان ہی جل جاتی تھی ۔ جتنا وہ بیبو سے الرجک تھی اتنا ہی بیبو اس کی التفات کی منتظر رہتی۔ در اصل سونیا گھر میں جانور رکھنے کی قائل نہیں تھی اور دوسرے اس کو سمیر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ مقابلہ منظور نہیں تھا، گویا ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ روز کا ایک ہی ٹنٹا تھا ، بیبو چیزیں لڑھکاتی ، گند مچاتی ، صبح صبح شور کر کے ان کو جگاتی ، فرنیچر خراب کرتی، ہر چیز میں مخل ہوتی مگر سمیر کو سب ”کیوٹ ”لگتا اور ممی جی ، وہ تو ا س کی ہر ہر ادا کو دس دس بار دہراتے نہ تھکتیں۔ سونیا پیج و تاب کھا کے رہ جاتی۔ میں یہ سلسلہ بہ غور دیکھ رہی تھی اور ان ماں بیٹے کے اس لگاؤ کی وجہ سمجھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا جو ان کا دل لبھاتا یا دھیان بٹاتا … مگر سونیا کو کون سمجھاتا اس کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ گھر آباد ہونے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے ۔





    سونیا نے بارہا اور برملا سمیر سے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا مگر وہ ماں کی طرف دیکھتا تو مجبور ہو جاتا کیوںکہ ان کو اپنی بلی سے ایک لمحے کی دوری گوارا نہ تھی ۔دراصل وہ ان کی بارہ سالہ پرانی رفیقہ تھی، جس نے ان کی زندگی میں موجود خلا کو پُر کیا تھا اور اب وہ اس کی اتنی عادی تھیں کہ اس کو اپنا جزو لاینفک سمجھتی تھیں۔سمیر مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ماں کو خوش کرتا تو بیوی ناراض ، بیوی کو خوش کرنے کا مطلب تھا کہ ماں کی دل آزاری ۔ بادی النظر میں رب کی رضا بھی مطلوب تھی۔کرتا تو کیا کرتا ۔میں دیکھ رہی تھی کہ وہ خاموش طبیعت تھا سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ رہا ہوتا تھا ۔
    سونیا بری نہیں تھی۔مشیتِ ایزدی کے آگے مجبور تھی۔ ساس سے شکایت نہیں تھی ، بس ان کے شوق سے تھی ۔بیبو بھی تو نت نئے بہانے ڈھونڈتی تھی اس کو زچ کرنے کے ۔ایک روز جب سونیا نے اپنے کرسٹل کا سامان الماری میں لگانا شرو ع کیا تو میں نے خود دیکھا کہ بیبو صاحبہ آ کے اسی ڈبے میں براجمان ہو گئیں…سونیا کو صفائی اور سجاوٹ کا خبط تھا۔ ایک ہاتھ میں کپڑا اور دوسرے ہاتھ میں کرسٹل اٹھائے وہ جیسے ہی کچھ اور نکالنے جھکی تو بیبونے اندر سے باہر کی جانب چھلانگ لگا دی، اس اچانک حرکت سے سونیا کا توازن بگڑ گیا اور وہ دھڑام سے گر گئی … میرے منہ سے بھی چیخ نکل گئی ۔ آواز سن کے سمیر آیا تو سونیا کا پارہ اور چڑھ گیا اس نے کہا: ”تم کب اس عذاب سے میری جان چھڑاؤ گے! دیکھو ، کتنا نقصان کردیا اس نے میرا”سمیر نے کرسٹل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کہا ”کوئی بات نہیں اور آ جائے گا۔” سونیا کو اس کا اطمینان کو دیکھ کر آگ لگ گئی اس نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے چار سال ہو گئے ہیں اس بلی کو برداشت کرتے ہوئے اور اب اُسے کسی قیمت پہ بیبو کی حکمرانی منظور نہیں۔ اس بلی کی وجہ سے سونیا کو الرجی رہنے لگی تھی جو سخت تکلیف کا باعث تھی۔ جواب میں سمیر نے بس اتنا ہی کہا: ”ممی کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔” اس نے پیار سے بیبو کو گود میں بھرا اور باہر لے گیا۔سونیا نے اپنے گرد بکھرے کرسٹل کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا ۔مجھے پتا تھا ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں وہ اپنا دل اور مان دیکھ رہی تھی، جو سمیر نے نہیں رکھا تھا ۔میں سوچ رہ رہی تھی کہ کیا جانور کو انسان پر فوقیت دینا درست ہے ؟ میں تو بس وہی جانتی تھی جس کا مجھے ادراک تھا ۔ باہر کی دنیا جانے کس طرح ایسی گتھی سلجھاتی ہوگی ..؟





    بانو آپا کئی دن سے بیٹے کی گہری خاموشی اور سونیا کا اس سے الگ تھلگ رہنا دیکھ رہیں تھیں ۔ سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے رکھائی سے جواب دیا جس سے ان کا قلق بڑھ گیا۔ بیبو نے جب انہیں اُداس بیٹھا دیکھا تو پاس پڑی بال سے خوب کھیل کھیل کر دکھایا اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبی رہیں۔ ان کی آنکھوں سے جو مو تی جھڑ رہے تھے وہ اپنے دوپٹے میں سمیٹتی رہیں۔ بیبو بھی آزردہ سی ہو کے پیروں میں بیٹھ گئی ۔
    شام جب سمیر گھر آیا تو نہ بانو آپا تھیں نہ بیبو۔اس نے سونیا سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ وہ دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور مجھے اچھا لگ رہا تھا، جب وہ کبھی کبھی ایک ساتھ کسی بات پہ ہنس دیتے ۔جونہی گھنٹی بجی مجھے لگا آ گئے کوئی مہمان کباب میں ہڈی بننے ، کم ہی ہوتا تھا جب وہ دونوں اتنے پرسکون دکھائی دیتے تھے مگر اندر آنے والی کوئی اور نہیں بانو آپا تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں دو خوبصورت طائرِ محبت کی جوڑی تھی ۔ پوچھنے پہ چہک چہک کے بتانے لگیں کہ وہ اسلم بھائی کو بیبو دے آئیں ہیں، جو ان دنوں بالکل اکیلے تھے اور بدلے میں دو پنچھی لائی ہوں دیکھو تو… سمیر اور سونیا دونوں پنجرے پہ جھکے ہوئے ان کا چہچہانا اور پُھدکنا دیکھ رہے تھے ۔سونیا نے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھیں گی ان کے تو سوچ کے بولیں مشیل اور اوباما ۔ تینوں نے ایک ساتھ فلک شگاف قہقہہ لگایا اور میں بھی یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑی … ہنستے ہنستے بانو آپا کی آنکھیں چھلک پڑیں تو بہ مشکل میرے رُکے آنسو بھی رواں ہوگئے مگر آج میں نے ایک نئی بات سیکھی تھی کہ بڑا پن کیا ہوتا ہے۔بانو آپا نے گھر کی خوشیوں کی خاطر اپنی چاہت قربان کی تھی۔ گھر والوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ایسی ہی ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر وہ خوشیوں کا گہوارہ بنتا ہے ۔ خدا کرے کہ یہ گھر اور خوشیاں ان کو راس آ جائیں۔