Author: misbah116@hotmail.com

  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۷

    ”یہ کس نے بھیجے ہیں؟” زینی نے اس بے نام پیلے گلابوں کے گلدستے پر نظر ڈالتے ہوئے مڑکر سلطان سے پوچھا۔
    آج تک اسے کسی نے پیلے گلاب نہیں بھیجے تھے۔ اسے ہمیشہ سرخ گلاب ہی ملتے تھے۔ خون کی طرح سرخ گلاب یہ شاید کوئی نہیں جانتا تھا کہ زینی کو صرف پیلے گلاب پسند تھے اس کو کبھی بھی گلاب کا سرخ پھول اچھا نہیں لگا تھا اور اب اس کے گھر پر بھجوائے جانے والے پھولوں میں سرخ گلابوں کی بھر مار ہوتی تھی زینی ایک نظر بھی ان میں سے کسی بکے پر نہیں ڈالتی تھی۔ صرف یہ ایک بکے تھا جس پر اس کی نہ صرف نظر ٹکی ہوئی تھی بلکہ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھا لیا تھا۔
    ”پتا نہیں، ساتھ یہ لفافہ آیا تھا۔”
    سلطان نے ایک بند لفافہ اس کی طرف بڑھایا زینی نے پھول رکھتے ہوئے بے حد دلچسپی سے اس لفافے کو کھولا۔ اندر ایک چھوٹے سے کارڈ پر صرف دو لفظ لکھے تھے۔
    ”For Zaini”
    ایک لمحہ کے لئے زینی کا ہاتھ کپکپایا۔ یہ زینی کو پھول بھیجنے والا کون تھا؟ کون تھا جو نہ صرف اس کا نام جانتا تھا، بلکہ اس کی پسند سے بھی واقف تھا۔ ذہن کی اسکرین پر ابھرنے والا چہرہ ایک ہی تھا، شیراز کا چہرہ مگر وہ ہینڈ رائٹنگ شیراز کی ہینڈ رائٹنگ نہیں تھی۔
    وہ چند لمحے خالی خالی نظروں سے اس کارڈ کو دیکھتی رہی۔ پھر اس نے کارڈ کو دوبارہ لفافے کے اندر رکھ دیا اور اسے ایک طرف پھینک دیا۔ وہ خوش فہمیوں کے جال سے آزاد ہو چکی تھی۔
    اپنے جوتے اتار کر وہ صوفے پر بیٹھ کر سگریٹ پینے لگی۔ سلطان اسے اخبارات میں آنے والے ریویوز پڑھ کر سنا رہا تھا جو اس کی فلم کے متعلق تھے۔ زینی بے حد سنجیدگی سے ان ریویوز کو سنتی رہی۔ اسے کسی تنقید یا تعریف میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن سلطان کو تھی وہ باقاعدگی سے اس کے بارے میں کسی بھی اخبار میں آنے والی ہر خبر ہر تبصرے کو اس تک پہنچاتا۔
    اور زینی کا رد عمل اسے حیران کرتا یہ فلم انڈسٹری کی پہلی ہیروئن تھی جسے اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ لوگ اور اخبار والے اس کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے۔
    زینی کے ساتھ گزرنے والا ہر دن اسے زینی کے کسی نئے رخ سے آشنا کرتا تھا وہ اس کے گھر کے افراد سے واقف تھا۔ ان کی زندگیوں کے بارے میں جانتا تھا مگر جس ایک لڑکی کے ساتھ وہ دن رات گزار رہا تھا وہ کسی بھید کی طرح تھی اس کے لئے، فلم انڈسٹری میں وہ کیوں آئی تھی؟ یہ سلطان جانتا تھا۔
    پیسہ کمانے کے لئے۔




    مگر وہ پیسہ کس لیے کما رہی تھی۔ یہ سلطان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اس نے زینی کو کبھی اپنے پیسے اپنے زیورات اپنی قیمتی چیزوں کو کسی لاکر کسی تالے میں رکھتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ باہر پڑی ہوتیں۔ ڈریسنگ ٹیبل پر، بیڈ کی درازوں میں۔ بیڈ کی سائیڈ ٹیبلز پر، لیکن باہر… سامنے دعوت عام دیتے ہوئے… سلطان اس کے زیورات اور پیسے کو سنبھالتے سنبھالتے تنگ آجاتا۔ لیکن ہر روز اس کا کسی نہ کسی سیٹ کا کچھ نہ کچھ گم ہوتا رہتا۔ اور یہ صرف اور صرف زینی کی لاپروائی کی وجہ سے ہوتا تھا۔ لیکن سلطان کو حیرت ہوتی تھی کبھی کسی رقم، کسی زیور، کسی قیمتی چیز کے گم ہونے پر اس نے زینی کو پریشان نہیں دیکھا تھا، مجال تھی کہ اس کے ماتھے پر ایک سلوٹ تک آجاتی، یوں لگتا جیسے اسے پروا ہی نہیں تھی اس کی کیا چیز کھو رہی ہے۔
    ”جب پیسے کو حفاظت سے نہیں رکھنا تو اسے حاصل کرنے کے لئے ہلکان کیوں ہو رہی ہیں پری جی؟”
    سلطان نے اس دن جھنجھلا کر اس کے ایک سیٹ پر شوٹنگ کے دوران کہا تھا زینی کا پرس گم ہو گیا تھا اور اس میں صبح ہی سلطان نے بینک سے ایک چیک کیش کروا کر پچاس ہزار رکھے تھے۔
    ”پیسے کی ضرورت ہے مجھے، اس سے محبت نہیں۔” وہ زینی کے جواب پر بول نہیں سکا تھا۔
    ”اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی چیزیں کھوتا پھرے؟” سلطان نے کچھ دیر کے بعد خفگی سے کہا۔
    ”جو کھویا ہے میں نے، وہ اگر گنوا دوں تمہیں تو ان کے سامنے یہ ساری چیزیں کچھ لگیں ہی نا۔”
    اس نے ہنس کر سلطان سے کہا تھا۔
    سلطان کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اس سے کیا کہے۔ وہ سننے اور سمجھنے والی شے نہیں تھی۔ وہ پری زاد تھی۔ اور وہ، وہ کرتی تھی جو اس کے دل میں آتا تھا۔
    پہلی فلم کی کامیابی کے بعد اس کے سامنے آفرز کے انبار لگ گئے تھے اور زینی نے وہی کیا تھا جو اس صورت حال میں کوئی بھی ایکٹریس کرتی اس نے 25 فلمیں سائن کر لی تھیں۔ فلم انڈسٹری کے ہر بڑے چھوٹے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کی فلم اس نے سائن کی تھی۔
    تبریز پاشا اس پر بڑا جزبز ہوا تھا۔ وہ اگلے پانچ سالوں تک زینی کو صرف اپنی فلموں میں کام کرتے دیکھنا چاہتا تھا اور وہ بار بار زینی کو یہ بات جتانا نہیں بھولتا تھا کہ زینی کو فلم انڈسٹری میں اس کی فلم کی وجہ سے کامیابی ملی تھی۔ اس پر سب سے زیادہ ”حق” اس کا تھا۔ مگر وہ بہر حال زینی پر پہرے نہیں لگا سکتا تھا۔
    اس نے فلم انڈسٹری کی ہر ہیروئن کو ایک ہٹ فلم کے بعد ایگریمنٹ توڑتے پایا تھا اور و ہ جانتا تھا کہ زینی بھی یہی کرے گی، کامیابی سیلاب کی مانند ہوتی ہے اس کے سامنے بند باندھنے والا احمق ہوتا ہے اور تبریز پاشا بہر حال احمق نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا اسے ٹھوکر مارنے کے لئے زینی کو کوئی اور زینہ مل جائے اور وہ جانتا تھا کہ اس وقت انڈسٹری کا ہر پروڈیوسر زینی کے لئے سیڑھی کا پائیدان بننے کا خواہش مند تھا۔
    اور زینی کے اس طرح دھڑا دھڑ فلمیں سائن کرنے پر جزبز ہونے والا وہ اکیلا نہیں تھا۔ سلطان نے بھی زینی کو بے حد روکنے کی کوشش کی تھی۔
    اس چھوٹی فلم انڈسٹری میں سال میں دو چار فلموں سے زیادہ فلموں کے ہٹ ہونے کا امکان کم تھا اور پچیس فلموں میں سے بیس فلموں کے فلاپ ہونے کا مطلب ایک نئی ہیروئن کے لئے کیا تھا۔ یہ سلطان جانتا تھا زینی نہیں۔ لیکن زینی اس معاملے میں اس کی بات سننے پر تیار نہیں تھی۔ مجبوراً سلطان نے اسے ان فلموں کو سائن کرنے دیا مگر زینی کو ڈیٹس دینے کے سلسلے میں اس نے بے حد ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان میں سے بہت سے پروڈیوسرز کو دوسرے اور تیسرے سال کی ڈیٹس دیں۔
    ان میں سے کچھ پرانے پروڈیوسرز نے اس پر کچھ ہنگامہ ضرور کیا۔ مگر نئے پروڈیوسر جو صرف ایک فلم کے پروڈیوسر کے طور پر اپنا نام اور ہیروئن کے ساتھ تصویر دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ تھوڑی سی چوں چرا کے بعد ان ڈیٹس پر رضا مند ہو گئے تھے۔
    پہلے سال میں پری زاد کی صرف دس فلمیں سیٹ پر تھیں اور ان میں سے کسی فلم میں سفیر اس کے ساتھ نہیں تھا۔ پہلے سفیر لوگوں کو پری زاد کو اپنے ساتھ کاسٹ کرنے سے منع کرتا تھا۔ اب یہ کام پری زاد نے کیا تھا۔ اس نے ہر پروڈیوسر سے ہیرو کا نام تبدیل کروا کر فلم سائن کی تھی۔ اور سلطان اس پر بھی خوش نہیں تھا۔
    سفیر کے علاوہ باقی سارے ہیرو سیکنڈ لیڈ سمجھے جاتے تھے اور سیکنڈ لیڈ ایکٹرز کے ساتھ ہیروئن کے طور پر فلم کرنا سلطان کے نزدیک پروفیشنل خود کشی تھی اور سلطان خائف تھا کہ جیسے ہی اس کی ابتدائی کچھ فلمیں فلاپ ہوئیں پروڈیوسر نام کے پرندے اس کی دیواروں سے غائب ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس وقت اس کو سفیر کے ساتھ فلم کی ضرورت پڑتی اور سلطان جانتا تھا کہ سفیر جیسا منتقم مزاج آدمی اس وقت پری زاد کے ساتھ کبھی فلم نہ کرتا۔
    پری زاد اس وقت گرتی ہوئی دیوار ہوتی اور سفیر گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دینے کی شہرت نہیں رکھتا تھا۔ خاص طور پر اس صورت حال میں جب ہر پروڈیوسر سفیر کو یہ بتاتا کہ وہ اسے فلم سے اس لیے کٹ کر رہا تھا کہ پری زاد اس کے ساتھ اس کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتی۔ سفیر یہ سب کچھ بھولنے والا نہیں تھا اور سفیر ہی کیا اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہ سب کچھ نہیں بھولتا۔ مگر پری زاد کو سفیر سے کتنی چڑ تھی۔ یہ سلطان کو پتہ نہیں تھا اس کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے کیرئیر کی دو بڑی غلطیاں ایک ہی وقت میں کر رہی تھی اور ایک ہی وقت میں دو غلطیاں بہت تھیں، سلطان کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ”بہت” زینی کے لئے ”بہت” نہیں تھیں۔
    ”میں انور حبیب کی ڈائریکشن میں کام نہیں کروں گی۔ تم صبح اخبار میں میرا بیان لگوا دو۔”
    وہ اس وقت گاڑی میں تبریز پاشا کے گھر ہونے والی ایک فلمی پارٹی سے واپس آرہے تھے جب راستے میں زینی نے سلطان کے سر پر بے حد آرام سے ایک اور بم پھوڑا۔
    ****




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۴

    سر جھکائے اس نے فرش پر نظر آنے والے پیروں کو باری باری دیکھنا شروع کیا۔ نکاح خواں، ایجاب وقبول کی عبارت سے پہلے کے چند جملے ادا کر رہا تھا۔ اس کے اندر جیسے لاوا ابل پڑنے کو تیار تھا۔ وہ سارے ان لوگوں کے پاؤں تھے جو اس کے وجود کو سیڑھی بنا کر اوپر جانا چاہتے تھے۔ اس کا باپ، ماں، بہنیں۔ چند لمحوں کے لیے اسے لگا وہ سارے پیر اس کے جسم کے اوپر سے گزر رہے تھے۔ ہاتھیوں کے کسی جھنڈ کی طرح اسے روندتے رگیدتے ہوئے، چند لمحوں کے لیے اسے واقعی اپنا وجود بے حد کچلا اور مسلا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے جیسے گہرا سانس لے کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
    آخر وہ کیوں ان لوگوں کے لیے سیڑھی بنے، انہیں اپنے اوپر سے گزرنے دے؟ اس نے سوچا۔ لیکن وہ کر کیا سکتی تھی۔ اس کے ہاتھ کٹے ہوئے تھے۔
    پھر اسے یک دم کسی کا خیال آیا۔ خوف کی ایک لہر سی اس کے جسم کے اندر سے گزری۔
    ”تم نے اگر ہاں کی تو میں خود کو گالی مار لوں گا۔ تمہارے گھر سے تمہاری بارات جائے گی تو میرے گھر سے میرا جنازہ۔”
    اس کے کانوں میں اس کی دھمکی گونجی، اسے یقین تھا، وہ جو کہتا تھا کر گزرتا تھا۔ وہ یہ بھی جانتی تھی۔ وہ اس وقت ریوالور لے کر وہیں کہیں آس پاس ہو گا۔ وہ ”ہاں” کہتی، نکاح خواں باہر جا کر اعلان کرتا اور اس کے بعد…
    میک اپ سے لپے پُتے چہرے پر بھی اسے پسینے کے قطرے نمودار ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اسے باہر بیٹھے اپنے سے بائیس سال بڑے بوڑھے بے حد معمولی صورت کے اس ”امیر آدمی” سے شدید نفرت محسوس ہوئی۔ جوشادی کے نام پر اس کا ”سودا” کرنے آیا تھا۔ اسے اتنی ہی نفرت اس کمرے میں موجود اپنے ”خونی رشتوں” سے ہوئی جن کی مرضی اور خوشی سے وہ سودا طے پایا تھا۔
    ساری دنیا میں صرف ایک ہی شخص تھا جو اس سے محبت کرتا تھا اور وہ شخص اس شادی کی صورت میں آ پنی جان دینے کو تیار تھا۔ اسے وہ سارے وعدے یاد آئے جو وہ چار سال سے ایک دوسرے کے ساتھ کر رہے تھے۔ سارے منصوبے، سارے خواب۔ اور اب نئی بھیانک تعبیر ان کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی تھی۔ کہ وہ اسے بھی ایک خواب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک ڈراؤنا خواب۔
    مووی کیمرے کی تیز روشنی جیسے اس کے چہرے کو جلا رہی تھی۔ کمرہ اس وقت لوگوں سے بری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس کے چچا،ماموں، چچیاں، ممانیاں، محلے کی چند دوسری عورتیں ہر ایک وہاں جیسے کوئی تماشا دیکھنے کے لیے کھڑا تھا یا کم از کم وہ جس ذہنی حالت میں تھی اس کو ایسا ہی لگ رہاتھا۔
    نکاح خواں اب بالآخر اس سے وہ سوال کررہا تھا جس کے جواب کی تیاری وہ پچھلے ایک ہفتہ سے کر رہی تھی، کمرے میں یک دم خاموشی چھا گئی تھی۔
    ٭٭٭





    ”آج بہت جلدی گھر آگئیں… کالج تو اتنی جلدی بند نہیں ہوتا۔” ربیعہ نے دروازہ کھولتے ہوئے زینی سے کہا۔
    ”ہاں، بس آگئی۔” اس نے بے حد مبہم جواب دیا اور پھر اندر کمرے کی طرف جانے کے بجائے صحن میں بچھی چار پائی کی طرف آگئی۔
    ”سونے لگی ہو؟” ربیعہ نے اسے چار پائی پر لیٹتے ہوئے دیکھ کر حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں۔” زینی نے اس بار بھی اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ پھر چار پائی پر چت لیٹ گئی۔ ربیعہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں اس کو دیکھتی رہی۔ زینی چار پائی پر چت لیٹی دیوار پر چڑھی انگور کی بیل کو دیکھ رہی تھی۔
    ”کیا سوچ رہی ہو؟” ربیعہ اس کے پاس آگئی۔
    ”کچھ نہیں۔” اس نے ربیعہ کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔
    ”رمشہ سے ملیں؟” ربیعہ اس کے پاس چار پائی پر بیٹھ گئی۔
    ”ہاں!” وہ بد ستور انگور کی بیل کو دیکھتے ہوئے ربیعہ کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔
    ”تمہاری اتنی لمبی غیر حاضری سے تو بہت پریشان ہوئی ہو گی وہ۔”
    ”نہیں۔ وہ خود بھی چھٹی پر تھی۔ اسلام آباد گئی ہوئی تھی ایک ہفتہ پہلے دوبارہ کالج جوائن کیا ہے اس نے ویسے بھی اب تو فارغ کرنے والے ہیں ایک دو دن میں۔ ساری کلاسز نہیں ہو رہی ہیں اب۔”
    ”اس کو پتا ہے تمہارے اور شیراز کے بارے میں؟” ربیعہ نے کچھ تامل کے بعد اس سے پوچھا۔
    ”پورے کالج کو پتا ہے میری منگنی ٹوٹنے کے بارے میں۔ محلے کی جو لڑکیاں کالج پڑھتی ہیں، انہوں نے سب کچھ بتایا ہوا ہے وہاں۔ رمشہ کو بھی کسی نے بتا دیا تھا۔”
    ”کیا بتا دیا تھا؟”
    ”یہی کہ میرے منگیتر نے مجھے رنگے ہاتھوں کسی لڑکے کے ساتھ گلی میں پکڑا ہے۔”
    ربیعہ کا دل کٹا۔ اس نے ایسی لاتعلقی سے کہا تھا جیسے وہ اپنے بارے میں نہیں کسی دوسرے کے بارے میں بات کر رہی ہو۔
    ”کسی کو یقین نہیں آیا ہو گا کالج میں ان سب باتوں پر اور رمشہ کو تو بالکل بھی نہیں۔ میں جانتی ہوں سب وہاں تمہیں کتنا پسند کرتے ہیں اور چار سال سے دیکھ رہے ہیں سب تمہیں وہاں، اس بکواس پر تو کسی نے یقین ہی نہیں کیا ہو گا۔”
    ربیعہ کے لہجے میں بے حد اعتماد تھا۔ زینی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اسی طرح خاموشی سے انگور کی بیل کی کو دیکھتی رہی جس پر صحن سے ایک چڑیا اڑ کر جا بیٹھی تھی۔ شاید اسے وہاں کوئی کیڑا نظر آیا تھا اور اب وہ پتوں میں اس کیڑے کو تلاش کرنے کے لئے چونچیں مارنے میں مصروف تھی۔ ربیعہ کچھ دیر اس کے جواب کی منتظر رہی۔ لیکن جب اس نے کچھ نہیں کہا تو ربیعہ نے جیسے قدرے بے صبری کے ساتھ اس سے دوبارہ پوچھا۔
    ”کیا کہا سب نے؟”
    ”کچھ نہیں۔” اس نے اسی لاتعلقی سے کہا۔
    ربیعہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ ”کچھ بھی نہیں؟ کسی نے کچھ بھی نہیں کہا؟”
    زینی کبھی پریشان کالج چلی جاتی تھی تو سو لوگ اس کو تسلیاں دیتے پھرتے تھے۔ وہ بھی جو اس کو جانتے تک نہیں ہوتے تھے اور وہ گھر آکر بڑے فخریہ انداز میں ربیعہ کو یہ سب بتاتی تھی اور اب اس کی منگنی ٹوٹ گئی تھی اور کسی نے کچھ نہیں کہا۔ یہ ناقابل یقین تھا۔ ان چار سالوں کے دوران پورے کالج کو زینی کی صرف منگنی کے بارے میں ہی نہیں یہ تک پتا تھا کہ اس کا منگیتر بے حد قابل ہے اور سول سروس کے امتحان میں بیٹھنے سے لے کر اسے کوالیفائی کرنے تک سب کچھ کالج میں پہنچتا رہا تھا۔ ان ساری معلومات کو پہنچانے میں زینی کا نہیں محلے کی لڑکیوں کا ہاتھ تھا جو زینی کے کالج میں ہی اس کی جونیئر یا سینئر تھیں… اس کی منگنی کا کالج کی لڑکیوں کو پتا نہ ہوتا تو بہت سے رشتے زینی کے لیے کالج سے ہی آتے۔ لڑکیاں اس کے حسن پر کچھ اسی طرح فریفتہ تھیں وہاں۔
    ”زبان سے تو مجھ سے کسی نے کچھ نہیں کہا… نظروں سے بہت کچھ کہا۔” زینی ابھی بھی اس چڑیا کو دیکھ رہی تھی ”لڑکیاں مجھے دیکھ کر سرگوشیوں میں باتیں کرتی رہیں، کچھ ہنستی رہیں، کچھ گھورتی رہیں یوں جیسے منگنی ٹوٹنے کے بعد میرے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔”
    وہ اب بھی اس طرح بات کر رہی تھی جیسے کسی اور کی بات کر رہی ہو۔ ربیعہ کو دھچکا لگا۔
    ”رمشہ نے توکچھ کہا ہو گا تم سے؟” ربیعہ نے جیسے کسی آس میں پوچھا۔
    ”ہاں… وہ پریشان تھی۔ لڑکیاں میری عدم موجودگی میں اس سے آکر اس لڑکے کے بارے میں پوچھتی رہیں، جس کے ساتھ شیراز نے مجھے پکڑا تھا۔ ان میں سے کچھ رمشہ کو کالج کے گیٹ پر کھڑے ہونے والے کچھ لڑکوں کے نام اور حلیے بتاتی رہیں جو میرے لیے وہاں کھڑے ہوتے تھے۔ ان کا خیال تھا میں ان ہی میں سے کسی لڑکے کے ساتھ انوالوڈ تھی۔
    کسی گاڑی والے امیر لڑکے کے ساتھ اس کے پیسے کے لئے، کیونکہ سب کو پتا ہے کہ میں غریب ہوں، غربت کی وجہ سے میں لالچ میں آگئی تھی۔”
    چڑیا کو ابھی تک وہ کیڑا نہیں ملا تھا وہ ایک پتے سے دوسرے پر پھدک رہی تھی۔ اس کی ہر حرکت کے ساتھ زینب کی نظریں اس کا تعاقب کر رہی تھیں۔
    ”بس سب نے یہی کہا، کسی نے کچھ اور نہیں کہا؟” ربیعہ کو جیسے شاک لگا۔
    ”نہیں۔ اور بھی بہت کچھ پوچھتی رہی تھیں لڑکیاں… یہ کہ شیراز نے مجھے اس لڑکے کے ساتھ کس حالت میں پکڑا تھا؟ کیا اس نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ یا ہم کوئی اور قابل اعتراض حرکت کر رہے تھے گلی میں؟ کچھ لڑکیوں نے رمشہ کو بتایا کہ شیراز نے مجھے گلی میں نہیں پکڑا، کسی لڑکے کے ساتھ اس کی گاڑی میں پکڑا تھا۔ کچھ نے رمشہ سے کہا کہ شیراز نے دراصل مجھے کسی لڑکے کے ساتھ کالج کے پاس کسی چھوٹے ہوٹل کے کمرے میں پکڑا تھا۔ وہ ہوٹل کا نام جاننا چاہتی تھیں۔ کچھ نے کہا کہ شیراز کو اکیڈمی میں اس لڑکے نے اپنے ساتھ میرے کچھ بلو پرنٹس بھیجے تھے۔ جن کو صرف شیراز نے نہیں وہاں پوری اکیڈمی نے دیکھا اور شیراز کی بے حد رسوائی ہوئی۔ کچھ نے رمشہ کو قسم کھا کر بتایا کہ انہوں نے خود کئی بار مجھے کالج کے باہر مختلف لڑکوں کی گاڑیوں میں بیٹھ کر جاتے دیکھا تھا بعض نے بتایا کہ میں گیٹ پر کسی لڑکے کو دیکھ کر مسکراتی تھی اور اشارے کرتی تھی۔”
    ربیعہ کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ اس کا جسم کانپنے لگا تھا۔ وہ پچھتا رہی تھی۔ اس نے کیوں صبح اسے کالج جانے سے نہیں روکا تھا۔
    ”اللہ ان لوگوں کو، ان بہتان لگانے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔” ربیعہ کو بے اختیار رونا آگیا۔
    ”اللہ سب کا رب ہے۔ وہ سب کو معاف کر دیتا ہے۔” زینی کے لہجے کی سرد مہری نے ربیعہ کو اور رلایا۔
    زینی ابھی بھی چڑیا کو دیکھ رہی تھی۔ ربیعہ نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ زینی کو دیکھا۔ وہ چارپائی کے سرہانے والی لکڑی کے فریم پر سر ٹکائے لیٹی ہوئی تھی۔ صحن میں اترتی دھوپ اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی اور اس دھوپ نے اس کے رنگ کو سنہری مائل سرخ کر دیا تھا۔ اس کے گلے اور کانوں میں کچھ نہیں تھا۔ البتہ بالوں کی بہت سی چھوٹی بڑی لٹیں اس کی گردن، پیشانی اور چہرے کے اطراف چپکی ہوئی تھیں۔ کالج کے سفید یونیفارم کی شرٹ کے کالر پر بھی اس کے بالوں کی چند چھوٹی چھوٹی لٹیں چپکی ہوئی تھیں۔ ربیعہ نے سفید رنگ کسی پر زینی سے زیادہ سجتا نہیں دیکھا تھا۔ لیکن پھر سوال یہ تھا کہ اس پر کیا نہیں سجتا تھا۔ اس کی بے حد تیکھی ناک کے اطراف میں پسینے کے بہت سے چھوٹے چھوٹے قطرے نمودار ہو رہے تھے۔ وہ قطرے اس کے ماتھے، پیشانی اور گردن پر بھی نمودار ہو رہے تھے۔ چار پائی پر اس حالت میں لیٹی وہ ربیعہ کو کوئی مومی مجسمہ لگی تھی جسے دھوپ آہستہ آہستہ پگھلا رہی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس سے نظر ہٹانا مشکل تھا۔ وہ فنا ”ہو جانے” والا حسن تھا اور وہ فنا ”کر دینے والا” حسن تھا۔
    اس کی خوب صورتی دیکھ کر ربیعہ کو اور رونا آیا مگر زینی ارد گرد سے بے خبر اس بیل پر اسی چڑیا کو دیکھنے میں محو تھی۔ آخر اسے رزق کیوں نہیں مل رہا تھا؟




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۳

    زندگی کے آخری لمحوں میں اس نے ایک بار پھر اپنی موت کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی، وہ ناکام رہی۔ وہ اس کے پیروں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھ سکی تھی۔ فرش پر چلتے پھرتے اس کے پیر۔ وہ وارڈ روب کی طرف جا رہا تھا۔ بلند آواز میں کچھ کہتے ہوئے۔ کیا کہہ رہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اس کے ذہن نے ایک دم الفاظ کا مفہوم سمجھنا چھوڑ دیا تھا۔ ہر آواز اس کے لیے شور بن گئی تھی۔ ایک بے معنی، بے ہنگم، بے مقصد شور۔
    وہ فرش پر اس کے پیروں کے قریب وارڈ روب میں موجود کپڑوں کو گرتے دیکھ رہی تھی۔ وہ اب بھی کچھ کہہ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنے بیڈ سائیڈ ٹیبل کی دراز کی طرف اسے جاتے دیکھا۔ وہ کمرے میں ہر طرف کسی چیز کو تلاش کر رہا تھا۔ زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ جانتی تھی کہ اسے کس شے کی تلاش تھی۔ پیسے کی اور اس تلاش میں شاید اسے یہ احساس بھی نہیں رہا تھا کہ کچھ دیر پہلے اس نے جسے بری طرح زدو کوب کیا تھا۔ وہ مر رہی تھی یا مرنے والی تھی۔ ورنہ آخر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ اسے مرنے دیتا۔ آخر وہ اس کا شوہر تھا۔ آخر وہ اس سے محبت کرتا تھا۔ شوہر؟ محبت؟ محبت؟ شوہر؟
    اس کا ذہن اب جیسے کسی شے کو، کسی لفظ کو کوئی مفہوم دینے میں ناکام ہو رہا تھا۔ اوندھے منہ فرش پر گری وہ بے حد کوشش کے باوجود بھی کراہ نہیں پا رہی تھی۔ بے حد کوشش کے باوجود بھی اپنے وجود کو حرکت دینے میں ناکام ہو رہی تھی۔ صرف اس کا سانس تھا جو ابھی چل رہا تھا۔ کیوں چل رہا تھا؟ کیا رہ گیا تھا؟
    موت اس کے کمرے کے فرش پر ابھی بھی ادھر سے ادھر چل رہی تھی۔ اس نے بے یقینی سے ایک آخری بار جیسے سوچنے کی کوشش کی تو کیا اتنے سالوں سے وہ اپنی موت سے محبت میں مبتلا تھی؟ وہ اتنے سالوں سے کیا وہ اپنے موت کے ساتھ ایک ہی گھر میں، ایک ہی کمرے میں ،ایک ہی بستر پر رہتی آرہی تھی؟
    زرّی کو آخری سانس لینے تک یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اس شخص کے ہاتھوں مر رہی تھی جو اس کی زندگی تھا۔
    ٭٭٭





    اس نے بے یقینی سے سامنے بیٹھے وکیل کو دیکھا۔ پھر اپنے کپکپاتے ہاتھوں کو مٹھیوں کی صورت میں بھینچ لیا۔ا سے شرمندگی ہو رہی تھی۔ وکیل اس کی حالت دیکھ کر کیا سمجھ رہا ہو گا۔
    وہ کچھ سمجھ رہا تھا یا نہیں۔ بہر حال اس وقت اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔ یہ صرف ٹیبل کے دوسری طرف بیٹھے سر سے پاؤں تک بری طرح لرزتے کانپتے اس تیس سالہ نوجوان کے لیے شاک تھا مگر خود اس وکیل کے پچیس سالہ کیرئیر میں یہ سب کچھ بہت بار ہو چکا تھا۔
    ”دوبارہ پڑھ کر سنا سکتے ہیں؟”
    اس نے اپنی زبان اور جسم کی لرزش پرقابو پاتے ہوئے کہا۔ وکیل اسے دیکھ کر مسکرایا۔ پھر بے حد میکانکی انداز میں ایک بار پھر وہی سب کچھ دہرانے لگا۔
    اس نے پلکیں جھپکائے بغیر، دم سادھے پوری توجہ سے ان دس لائنز کو سنا۔ وہ تسلی کرنا چاہتا تھا کہ اسے سننے میں کچھ غلطی تو نہیں ہوئی۔ پچھلے ہفتے بھی اسی جگہ اس وکیل کے آفس میں بیٹھے اس کو اس نے پانچ بار سنا تھا۔ اگر وکیل کے ساتھ اس کی اپائنمنٹ ختم نہ ہو جاتی تو شاید وہ اس وکیل کو پانچ بار اور وہی کاغذ اور وہی چند لائنیں پڑھنے کے لیے کہتا۔
    اس نے پورا ویک اینڈ ڈھنگ سے کچھ کھائے پیئے بغیر گزار دیا تھا۔ جمعہ کو اس کی وکیل سے ملاقات ہوئی تھی۔ آج پیر تھا۔ اس نے زندگی میں ہمیشہ ویک اینڈ کے آنے کا انتظار کیا تھا۔ کبھی اس طرح اس کے گزرنے کا نہیں جمعے اور ہفتے کی رات کو وہ سو نہیں سکا۔ اس کی نیند یکدم پتا نہیں کہاں غائب ہو گئی تھی۔ اور اتوار کی رات کو وہ نیند میں کوئی بے حد برا خواب دیکھ کر ایک بار پھر جاگ گیا تھا۔ پھر باقی کی رات اس نے بستر میں بیٹھے کھڑکی کو گھورنے یا کمرے کے چکر لگاتے گزار دی۔
    پیر کی صبح وہ اس لاء فرم کے کھلنے سے بھی پہلے جا کر وہاں بیٹھ گیا تھا جس کے ساتھ وہ وکیل منسلک تھا۔
    اس کی اپوائنٹ منٹ ساڑھے گیارہ بجے تھی۔ وہ تب تک سخت سردی میں پارکنگ لاٹ میں بیٹھا رہا۔ یوں جیسے اسے ڈر ہو کہ وہ وہاں سے ہٹا تو یہ سب کچھ کسی خواب کی طرح غائب ہو جائے گا۔
    اور اب وہ دس منٹ سے وہاں بیٹھا ہوا تھا۔
    ”آپ اور کافی لیں گے؟” وکیل نے جیسے اس کاغذ کو ایک بار پھر پڑھنے سے بچنے کے لیے کہا۔
    ”ہاں۔” اس نے اپنے سامنے پڑے خالی ڈسپوزبل کپ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    وکیل نے خود اٹھنے کے بجائے انٹر کام کا ریسیور اٹھا کر اپنی سیکرٹری کو اندر بلایا۔ وہ کمرے کے ایک کونے میں ہی پڑے کافی میکر سے کافی کے دو کپ ان دونوں کے سامنے رکھ گئی۔ وکیل نے ایک سائیڈ ٹیبل پر پڑا کو کونٹ کو کیز کا چھوٹا سا جار اٹھا کر اس کا ڈھکن کھولتے ہوئے اس نوجوان کے آگے کیا۔ اس نے ایک دفعہ اپنے دائیں ہاتھ کو پوری قوت سے کھولنے اور دوبارہ بھینچنے کے بعد جار میں ہاتھ ڈال کر ایک کوکی نکال لی۔ وکیل نے خود بھی ایک کوکی نکالتے ہوئے جار کو دوبارہ بند کر کے اسی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
    سامنے بیٹھے نوجوان نے کوکی کا آدھے سے زیادہ حصہ دانتوں سے کاٹ کر کافی کا ایک گھونٹ لیا اور ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے وکیل سے کہا۔
    ”آپ اس کاغذ کو ایک بارپھر پڑھیں۔” وکیل کا دل چاہا، وہ اب اپنا سر پیٹ لے۔
    ٭٭٭
    ”یہ کیا ہے؟” شیراز نے حیرانی سے اس قیمتی پرفیوم کودیکھا جو زینب اس کی طرف بڑھا رہی تھی۔
    وہ اگلے دن اکیڈمی جانے والا تھا اور اس دن اسے لے کر باہر کھانا کھلانے آیا تھا۔ کوئی دوسری بیٹی ہوتی تو ضیا اسے کبھی اس طرح منگیتر کے ساتھ باہر جانے نہ دیتے مگر یہ زینی تھی اور اس کی ضد پر انہوں نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ وہ زندگی میں پہلی بار شیراز کے ساتھ اکیلی کہیں باہر جا رہی تھی۔
    ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے بعد وہ اسے ایک پارک میں لے آیا تھا۔ پارک کی بینچ پر بیٹھے باتیں کرتے ہوئے زینب نے اپنے بیگ سے وہ پرفیوم نکال کر شیراز کے ہاتھ میں تھمایا تھا۔
    ”آپ کے لیے ہے یہ۔” زینب نے مسکراتے ہوئے شیراز سے کہا۔ ”آپ کو بہت پسند تھا نا۔”
    وہ چار چھ ماہ پہلے کسی دوست کے گھر سے وہ پرفیوم لگا کر زینب کے گھر آیا تھا۔
    ”ارے! میں کہاں اس طرح کے مہنگے پرفیوم خرید سکتا ہوں۔ یہ تو ایک دوست کے گھر گیا تھا وہیں استعمال کر لیا۔”
    اس نے تب زینب کے پوچھنے پر بتایا تھا۔ وہ شرٹ اس نے اگلے چند ہفتے دوبارہ نہیں پہنی بلکہ اسے اپنی دوسری شرٹس کے ساتھ رکھ دیا جن میں سے اسی پرفیوم کی مہک آنے لگی تھی اور وہ اگلے کئی دن ان دوسری شرٹس کو استعمال کرتا رہا۔ زینب کو اس نے ہنسی ہنسی میں یہ بات بتائی تھی۔
    ”کتنے کا ہو گا یہ پرفیوم؟” زینب نے تب بے حد سنجیدگی سے اس سے پوچھا۔
    ”دو ڈھائی ہزار کا۔” شیراز نے بتایا پھر اس نے ایک ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہا تھا۔ ”یہ کوئی شرٹ، رومال اور گھڑی نہیں ہے زینب بی بی! جو تم مجھے فوراً لا دو گی۔”
    وہ جانتا تھا۔ زینی اس سے اس پرفیوم کی قیمت کیوں پوچھ رہی تھی۔ زینب نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ دو ڈھائی ہزار واقعی معمولی رقم نہیں تھی۔
    اور اب اتنے ماہ کے بعد ہیوگو باس شیراز کے ہاتھوں میں تھا۔
    ”لیکن اتنے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟” شیراز اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔
    ”یہ مت پوچھیں۔” زینب نے بے اختیار کہا۔
    ”پھر بھی۔۔۔۔” شیراز نے اصرار کیا۔
    ”میں نے کہا نا۔ یہ مت پوچھیں۔” وہ اسے یہ نہیں بتانا چاہتی تھی کہ اس نے پچھلے کئی ماہ سے اپنے لئے کپڑوں کا ایک جوڑا بھی نہیں بنوایا تھا۔ وہ ضیا سے جیب خرچ کے طور پر ملنے والے روپے تک جمع کرتی رہی تھی۔ اپنے چھوٹے موٹے اخراجات اور کالج آنے جانے کا کرایہ وہ ٹیوشن سے نکال لیتی تھی اور اتنے ماہ میں بہت کم ایسا ہوا تھا کہ اس نے کالج میں کینٹین سے کچھ کھایا تھا۔ اگر شیراز ان مہینوں میں وقتاً فوقتاً اس سے ادھار رقم نہ لیتا رہا ہوتا تو زینب بہت پہلے اسے وہ پرفیوم خرید کر دے دیتی۔
    شیراز اب پیکنگ کھول کر قدرے جوش کے عالم میں وہ پرفیوم لگا رہا تھا۔ زینی اس کے چہرے پر پھیلی خوشی کو دیکھ رہی تھی۔ اسے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے تھا کہ وہ خوش تھا۔ اس کے دیے گئے کسی تحفے نے اسے مسرور کیا تھا۔
    ”تم بہت عجیب ہو زینی!” اس نے پرفیوم دوبارہ ڈبے میں رکھتے ہوئے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا۔
    ”کیوں عجیب کیوں ہوں؟” زینی نے چونک کر اسے دیکھا۔
    ”محبت میں اس طرح تو مرد کرتے ہیں کہ عورت کی زبان پر کسی چیز کا مطالبہ آئے اور وہ سرد ھڑ کی بازی لگا کر اس کو پورا کر دیں۔ ایسی عورتیں نہیں د یکھیں جو یہ کرتی ہوں۔” شیراز اس بار بے حد سنجیدگی کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
    ”محبت میں یہ کہاں لکھا ہے ۔ کون کس کے لیے کیا کرے گا اور کس کو کس کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ بس یہ دل کی بات ہے۔ میں وہ کرتی ہوں جو میرا دل مجھ سے کہتا ہے اور آپ کو اس خوشی کا اندازہ تک نہیں ہو سکتا جو مجھے ہوتی ہے جب میں آپ کے لیے کچھ کرتی ہوں۔ آپ کے لیے، نہیں کرنا تو پھر اور کس کے لیے کرنا ہے۔”
    شیراز کے ہاتھ سے پرفیوم لے کر اس نے بڑے قرینے اور سلیقے کے ساتھ پیک کیا۔ شیراز نے اسے قدرے بے ڈھنگے انداز میں پیک کیا تھا۔
    ”میں تمہارے لیے بہت کچھ کروں گا زینی! بہت کچھ تم… تم میرے گھر میں ملکہ کی طرح رہو گی۔”
    شیراز نے یک دم اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ اسے واقعی اس وقت زینی پر بے حد پیار آرہا تھا۔
    ”گھر میں ملکہ بنا کر چاہے نہ رکھیں مگر دل میں کنیز بن کر ضرور رہنے دیں۔”زینی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”ضرور کنیز بنا کر رکھتا اگر تم اتنی خوبصورت نہ ہوتیں۔” وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا۔ ”لیکن اب اتنی خوب صورت لڑکی کو کوئی کنیز تھوڑی بناتا ہے۔”
    ”میں بہت اداس ہو جاؤں گی آپ کے بغیر۔” زینی نے یک دم اداس ہوتے ہوئے کہا۔ اسے یاد آگیا تھا کہ وہ اگلے دن اکیڈمی جا رہا تھا۔
    ”اداس ہونے والی کیا بات ہے۔ میں دو ہفتے میں ایک بار تو آہی جایا کروں گا۔” شیراز نے اسے تسلی دی۔




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۲

    شوکت زماں اسے پچھلے پندرہ منٹ سے گالیاں دے رہا تھا۔ پہلے پنجابی پھر اردو، اب انگریزی میں۔ وہ کچن میں مصروف تھا۔ لیکن شوکت زماں کی آواز اس تک بخوبی پہنچ رہی تھی۔ شوکت زماں کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا۔ وہ ٹرے میں سوپ کے پیالے رکھنے لگا۔ لاؤنج عبور کر کے کمرے کے کھلے دروازے سے اندر آیا تو وہ اسے فرینچ میں گالیاں دینا شروع کر چکا تھا۔ اس کا مطلب تھا۔ وہ اب جلد ہی چپ ہونے والا تھا۔ اس کی فرنیچ اچھی تھی نہ اس میں اس کی گالیوں کا ذخیرہ الفاظ۔
    شوکت زماں اب خاموش ہو کر ہانپ رہا تھا یا ہانپنے کی وجہ سے خاموش ہو گیا تھا۔ اس نے ٹرے صوفے کے پاس پڑی سینٹر ٹیبل پر رکھی اور اس میں سے پہلا پیالہ اٹھا کر بیڈ پر اس کے پاس لے آیا۔
    ”تو آخر جاتا کیوں نہیں یہاں سے؟ کتے کی طرح میرے گھر کیوں پڑا ہوا ہے تو کیا سمجھتا ہے میں تجھے کچھ دوں گا؟ ایک پینی تک نہیں ملے گی تجھے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تیرے دل میں کتنا لالچ ہے۔”
    گالیوں کے بعد وہ اسی طرح کی گفتگو کرتا تھا۔ اس نے حسب معمول پہلا پیالہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ شوکت زماں نے ہمیشہ کی طرح پہلا پیالہ اٹھا کر پوری قوت سے فرش پر پھینکا۔ وہ مطمئن ہو کر واپس سینٹر ٹیبل کی طرف مڑ گیا۔
    ”وصیت لکھوا دی ہے میں نے وکیل کو ہر چیز خیرات میں بانٹ دی ہے میں نے، یہ گھر، میرے گیس اسٹیشن، سپراسٹور، بینک اکاؤنٹ سب کچھ، اس گھر کا فرنیچر تک میں نے اولڈ ہوم کو دے دیا ہے۔ اس کتیا، اس کے بچوں اور تیرے لیے ایک تنکا تک نہیں چھوڑا میں نے تم سب کو بھی تو پتا چلے شوکت زماں کیا چیز ہے کیا کر سکتا ہے۔”
    دوسرا پیالہ اٹھاتے ہوئے اس نے شوکت زماں کو اردو میں کہتے سنا اس نے پچھلے جملے پنجابی میں کہے تھے۔




    وہ دوسرا پیالہ لے کر اس کے سامنے آگیا۔ اس بار پیالہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کے بجائے اس نے اس پیالے کو کھڑے کھڑے شوکت زماں کی طرف بڑھایا۔ شوکت زماں نے پیالہ اس کے ہاتھوں سے لے کر پوری قوت سے سوپ اس کے سینے پر اچھال دیا اور پیالہ ایک بار پھر فرش پر پھینک دیا۔ وہ چھنا کے سے ٹوٹا۔ اس نے اپنے سوپ میں لتھڑے کپڑوں پر ایک نظر ڈالی اور مطمئن ہو کر ایک بار پھر سینٹر ٹیبل کی طرف بڑھا۔
    ”میں تم سب کو برباد کر کے رکھ دوں گا۔ پولیس کو اطلاع کروں گا تمہارے بارے میں جھوٹے مقدمے بنواؤں گا تمہارے خلاف۔ تجھے ڈی پورٹ کروا دوں گا۔ اس ملک سے یا پھر ساری عمر جیل میں گزرے گی تمہاری، تمہارا خاندان ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے گا، بھیک مانگتے پھریں گے سڑکوں پر۔ تجھے ابھی پتا نہیں شوکت زماں کیا کر سکتا ہے۔”
    شوکت زماں اب انگلش میں حلق کے بل چلا رہا تھا۔ وہ تیسرا پیالہ اٹھا کر اس کے پاس چلا آیا، شوکت زماں نے کبھی اسے فرینچ میں نہیں دھمکایا تھا۔ وہ اسے جانتا تھا اسے فرینچ نہیں آتی، وہ فرینچ میں اسے صرف گالیاں دیتا تھا کیونکہ وہاں اپنے چار سالہ قیام کے دوران فرینچ کے جو چند لفظ اس نے سیکھے تھے۔ وہ گالیاں ہی تھیں اور وہ بھی شوکت زمان کی مدد سے۔
    وہ تیسرا پیالہ لے کر اس بار شوکت زماں کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔ شوکت زماں نے پوری طاقت سے اس کے چہرے پر تھوکا۔ اس نے دائیں بازو کی شرٹ سے اسے صاف کیا، شوکت زماں نے پوری قوت سے اس کے دائیں گال پر تھپڑ مارا۔ پھر بائیں ہاتھ سے تھپڑا مارا۔ اس نے شوکت زماں کو روکنے کی کوشش کرنے کے بجائے سوپ کے پیالے کو پوری قوت سے پکڑے رکھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔ سوپ گر جائے پھر شوکت زماں کیا پیتا۔
    پہلا تھپڑ، دوسرا، تیسرا، چوتھا دو دائیں گال پر دو بائیں گال پر پھر داہنے کندھے پر دائیں ہاتھ کا بھر پور مکا پھر بائیں کندھے پر بائیں ہاتھ کا مکا اور اب اس کے سر کے بالوں کی باری تھی۔ شوکت زماں اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے اس کے بال کھینچ رہا تھا اور وہ سوپ کے پیالے کو سنبھالے اس Sequence کو دل میں دہرا رہا تھا جس میں شوکت زماں اس کی پٹائی کر رہا تھا۔
    شوکت زماں اب قدرے بے دم ہو کر ہانپ رہا تھا۔ اس نے اطمینان کے ساتھ سوپ کے پیالے سے پہلا چمچہ بھر کر شوکت زماں کے منہ کی طرف بڑھایا۔ شوکت زماں نے منہ کھول کر سوپ پی لیا۔ اس نے دوسرا چمچہ بڑھایا۔ اس نے وہ بھی پی لیا۔ اب اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ رہے تھے۔ وہ جانتا تھا اب شوکت زماں آگے کیا کرنے والا تھا۔ اس نے تیسرا چمچہ اس کے ہونٹوں کی طرف بڑھایا اس نے پیا آنسو اب اس کے گالوں پر بہنے لگے تھے اس نے چوتھا چمچہ بھی پیا وہ اب سسکیاں لینے لگا تھا پانچواں، چھٹا، ساتواں، آٹھواں، نواں چمچہ، دسواں چمچہ اس سوپ کے پیالے کا آخری چمچہ تھا۔
    اور شوکت زماں نے اب بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاؤں پکڑ لیے تھے۔ وہ بلند آواز میں زار وقطار رو رہا تھا۔
    ”دیکھ لے میری بات مان لے تجھے اللہ کا واسطہ… تجھے تیری ماں کا واسطہ مجھ پر ترس کھا… رحم کر… دیکھ لے تو جو کہے گا میں کروں گا بس مجھ پر ترس کھا۔”
    شوکت زماں اب اس کی ٹانگوں سے چپکا گڑگڑاتا ہوا اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے بے حد رحم بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
    اس نے اپنی ساری زندگی میں شوکت زماں سے زیادہ ”شریف، رحم دل، بااخلاق، بامروت، اعلا ظرف، مہذب، شائستہ اور غنی” انسان نہیں دیکھا تھا۔
    ایک گہرا سانس لے کر اس نے شوکت زماں کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔ شوکت زماں یک دم رونا بھول گیا۔ شاک کے عالم میں کچھ دیر وہ بے حس و حرکت اس کے قدموں میں بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اس کے پیروں سے ہاٹھ ہٹا لیے۔ مزید ایک لفظ بھی کہے بغیر وہ وہیں اس کے قدموں میں کمرے کے فرش پر کسی نوزائیدہ بچے کی طرح گھٹنے اپنے سینے تک سکیڑے کروٹ کے بل یوں فرش پر ڈھے گیا جیسے وہ مر گیا ہو۔
    تھوڑی دیر بعد اس نے بیڈ پہ کھڑے ہو کر شوکت زماں کو پھلانگا۔ ابھی اسے کمرے کا فرش صاف کرنا تھا۔ اپنے کپڑے تبدیل کرنے تھے اور رات کے کھانے کے لیے سوپ کے تین پیالے تیار کرنے تھے۔
    *****
    کرم علی نے زندگی کا پہلا سفر سترہ سال کی عمر میں ایک جعلی شناختی کارڈ اور جعلی پاسپورٹ پر مچھلیاں پکڑنے والے ایک ٹرالر پر کیا تھا۔ وہ اسی کی دہائی کے پہلے چند سالوں میں غیر قانونی طور پر کویت پہنچنے والے پہلے تین لوگوں میں سب سے بڑا تھا۔ اس کے ساتھ دوسرے لڑکوں کی عمریں پندہ سولہ سال تھیں۔ وہ ان تینوں لڑکوں میں سب سے زیادہ صحت مند بھی تھا۔ ان میں سے ایک کو جذام دوسرے کو ٹی بی جبکہ کرم علی کو صرف برص تھا۔ اس کی کمر اور پیٹ پر سفید دھبے تھے۔ لیکن کرم علی جانتا تھا کچھ عرصہ میں وہ پورے جسم پر پھیل جائیں گے۔ اور اس کے بعد کسی عرب ملک کا سفر کرنا اور وہاں پر کام حاصل کرنا بے حد دشوار ہوتا۔ عرب برص کے مریضوں سے نفرت کرتے تھے اور 80کی دہائی میں ایشیائی ممالک میں برص کا مرض بے حد عام تھا۔
    وہ اس ٹرالر پر موجود واحد ”لیگل” بندہ تھا۔ باقی کے دونوں لڑکوں کے پاس شناختی کارڈ اور پاسپورٹ نہیں تھے۔ وہ یا یہ جعلی کاغذات تیار کروا سکتے تھے یا کویت کے اس غیر قانونی سفر کے لیے ٹرالر والے کو پیسے دے سکتے تھے۔
    ان دونوں لڑکوں کی طرح کرم نے بھی ٹرالر والے کو پانچ ہزار روپے دیے تھے۔ اس میں سے پندرہ سو روپے اس نے پچھلے چار سال میں صبح کے وقت اسکول جانے سے پہلے اخبار بیچ کر، سہ پہر کو پھلوں کی ریڑھی لگا کر، شام کو سگنلز پر پھولوں کے گجرے بیچ کر اور رات کو لفافے جوڑ کر جمع کیے تھے۔ ان پندرہ سو میں کچھ رقم سردیوں میں کوئلہ بیچنے، عیدوں پر غبارے بیچنے، چودہ اگست پر جھنڈیاں، جھنڈے بیچنے اور شب برات پر آتش بازی کا سامان بیچنے سے بھی حاصل ہوئی تھی۔ جمع ہونے والی یہ رقم بہت زیادہ ہوتی اگر کرم تیرہ سال کی عمر سے اپنا گھر خود نہ چلا رہا ہوتا۔ اس کے گھر میں ماں باپ سمیت آٹھ افراد تھے اور بدقسمتی سے وہ ماں باپ اور بہن بھائیوں سب سے ”بڑا” تھا۔ اس کے ماں باپ ذمہ داریوں کو اٹھانے کے اعتبار سے اس سے بعد میں آتے تھے۔
    کرم علی کا باپ جہاں داد سال کے بارہ مہینے میں بارہ مختلف کام کرتا تھا اور کسی ایک کام سے بھی اسے اتنی آمدنی نہیں ہوتی تھی جسے وہ ”پان سگریٹ” کی اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے کے بعد گھر میں دیتا اور گھر کے اخراجات پورے ہوتے۔
    شادی کے چودہ سالوں میں صرف شادی کا پہلا سال تھا جب جہاں داد باقاعدگی سے اپنی بیوی کو خرچا دیتا رہا اس کے بعد کرم علی پیدا ہو گیا اور جہاں داد بیٹے کی پیدائش کے بعد شادی کے دوسرے ہی سال جیسے ہر ذمہ داری سے آزاد ہو گیا۔ گھر میں اب اگلی نسل آگئی تھی یعنی دوسرا مرد۔
    اگلے تین سال اخراجات کی ذمہ داری جہاں داد کا باپ اٹھاتا رہا۔ کیونکہ جہاں داد کی بیوی اس کی بھتیجی تھی اور اسی کے اصرار پر اس کے بھائی نے اپنی بیٹی کی شادی جہاں داد کو بے حد ناپسند کرنے کے باوجود بھی کر دی تھی۔ ان دو سالوں میں جہاں داد کے ہاں دو بیٹیوں کا اضافہ ہوا اور اس کا دل بیوی اور گھر سے مزید اچاٹ ہو گیا۔ اس کے کسی بھائی کے ہاں دو بیٹیاں نہیں تھیں اگر کسی کی دوسری بیٹی ہوئی تھی تو پیدائش کے کچھ عرصہ کے بعد مر گئی اور اب اس کے ہاں دو بیٹیاں ہو گئی تھیں۔ وہ جتنا دکھی ہوتا کم تھا۔ کرم علی پر اب دو بہنوں کی ذمہ داری بھی آگئی تھی۔ کیونکہ جہاں داد کے خاندان میں بہنوں کو ہمیشہ بڑا بھائی ہی بیاہتا تھا۔
    اگلے چار سال گھر کے اخراجات جہاں داد کے باپ کی موت کے بعد اس کے بڑے دونوں بھائیوں نے اٹھائے تھے کیونکہ وہ سب ایک ہی گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ کھانا پینا بھی مشترکہ تھا اور جہاں داد کو لعنت ملامت کرنے کے باوجود اس کے بھائی اس کی بیوی اور بچوں کو ہر ماہ تھوڑی بہت رقم دیتے رہے۔ کرم علی کو اسی زمانے میں اس کے تایا کے بچوں کے ساتھ ایک سرکاری اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔
    پاکستان میں ٹیلی ویژن کی نشریات کا آغا ز ہو چکا تھا۔ جہاں داد کے ایک بڑے بھائی کے کمرے میں بھی ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی آگیا تھا جس نے گھر کی دوسری عورتوں اوربچوں کی طرح جہاں داد کی بیوی کو بھی خواب دکھانے شروع کر دیے تھے۔ پینٹ کوٹ میں ملبوس سگار پیتا، فرفرانگریزی بولتا لمبی گاڑی سے اترنے والا اور ایک بڑے سے گھر میں رہنے والا اونچا لمبا خوب صورت، پڑھا لکھا مرد۔




  • محمدۖہمارے

    محمدۖہمارے

    محمدۖہمارے
    بنتِ محمد رفیق (کراچی)

    محبت کی معراج پالینے والے
    نمازوں کا تحفہ ہیں وہ لانے والے

    سراپا صداقت سراپا امانت
    امین اور صادق وہ کہلانے والے

    نبوت کے خاتم رسالت کے خاتم
    وہ ختم الرسل کا لقب پانے والے

    نبیوں کی آکر امامت کرائی
    وہ آخر میں تشریف لے آنے والے

    شریعت ہمارے لیے لے کے آئے
    وہ غاروں میں تشریف لے جانے والے
    ٭…٭…٭

  • نعت رسولِ مقبولۖ

    نعت رسولِ مقبولۖ

    نعت رسولِ مقبولۖ
    سید عطاالمصطفیٰ

    اے کاش کبھی ہو جو رسائی ترے در کی
    کرتا رہوں دن رات گدائی ترے در کی

    آنکھوں کے لیے سرمہ ِ نایاب تھا درکار
    سو خاک مدینے سے منگائی ترے در کی

    ہے جن و بشراور ملائک کا وظیفہ
    کرتے ہیں بیاں سب ہی بڑائی ترے در کی

    احوالِ مدینہ سنا زائر سے تو ہم نے
    تصویر خیالوں میں بنائی ترے در کی

    اک درجہ سکوں ہوگی ترے در کی زیارت
    اک بارِ گراں ہوگی جدائی ترے در کی

    مجھ کو نہ ہی مخمل نہ ہی کمخواب کی حاجت
    سرکار عطا ہو جو چٹائی ترے در کی
    ٭…٭…٭

  • آؤ کھانا کھائیں

    آؤ کھانا کھائیں

    آؤ کھانا کھائیں
    نظیر فاطمہ

    آؤ بچو! کھانا کھائیں
    مل کر دسترخوان بچھائیں
    اپنے ہاتھوں کو دھولیں
    شروع میں بسم اللہ پڑھ لیں
    پلیٹ میں تھوڑا سالن لیں
    اور نوالے چھوٹے لیں
    دائیں ہاتھ سے کھائیں کھانا
    ہر لقمے کو خوب چبانا
    چپکے چپکے کھائیں سب
    برتن کو چمکائیں سب
    کھا کر، رب کا شکر کریں
    کلی کریں اور ہاتھ دھوئیں
    ٭…٭…٭

  • رات کو دیکھوں!

    رات کو دیکھوں!

    رات کو دیکھوں!
    صوبیہ اطہر

    رات کو دیکھوں، جی للچائے
    کوئی تارا ہاتھ میں آئے

    امی بولیں بیٹے پیارے
    تم بھی تو ہو میرے تارے

    پُھولے گال، چمکتی آنکھیں
    خُوش بو، خُوش بو، مہکی سانسیں

    ننھے منّے پیارے پیارے
    ربّ نے بنائے کتنے سارے

    ٹِم ٹِم کرتے پیارے تارے
    دیکھو ربّ کی قدرت سارے

    ٭…٭…٭

  • ہمیں اُن سے عقیدت ہے

    ہمیں اُن سے عقیدت ہے

    ہمیں اُن سے عقیدت ہے
    نوشین فاطمہ عبدالحق

    ہے خوش قسمت وہ وادی جس کا مکہ نام ہے بچو!
    وہاں کا ذرّہ ذرہ قابلِ اکرام ہے بچو!
    اسی وادی میں پیدائش ہوئی حضرت محمدۖ کی
    انہی کی تو بدولت مذہب اسلام ہے بچو!

    خدائے برتر و بالا کا ہے انعام یہ ہم پر
    حضورِ پاک کی امّت میں ہیں ہم، ہوں سلام اُن پر
    سب ان کی عظمتوں کے معترف، انسان، جن، پتھر
    جو لائے ہم تلک وہ رب کا ہی پیغام ہے بچو!

    ہمیں اُن سے محبت ہے ہمیں اُن سے عقیدت ہے
    انہی کے نام سے گل ہیں، گلوں میں رنگ و نگہت ہے
    انہی کی سنتوں پر چلنے کا انعام جنت ہے
    ہر اک سنت کو زندہ رکھنا اپنا کام ہے بچو!

    مشکل الفاظ:

    قابلِ اکرام عزت کے قابل

    برتروبالا عظمت والا

    معترف تعریف کرنے والا

    نگہت خوش بو

  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۱

    من و سلویٰ کا بنیادی موضوع رزق حلال ہے۔ بنی اسرائیل پر نازل کی جانے والی نعمتوں میں سے ایک من و سلویٰ تھی۔ من ایک میٹھی دانے دار شے تھی جو آسمان سے رات کو شبنم کی طرح گر کر جم جاتی۔ سلویٰ ایک بٹیر تھا جو کثیر تعداد میں ان کے علاقے میں آتا اور وہ اسے پکڑ کر کھاتے۔ بنی اسرائیل چالیس سال تک جلا وطنی کے دور میں یہ آسمانی رزق کھاتے رہے پھر اس رزق پر اعتراض کرتے ہوئے حضرت موسیٰ سے ”زمینی رزق” کا مطالبہ کرنے لگے۔ وہ اس ”پاکیزہ سادہ کھانے” کے بجائے انواع و اقسام کے کھانے چاہتے تھے۔
    مجھے من و سلویٰ کے بارے میں پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ بنی اسرائیل کے ”من و سلویٰ” اور ہمارے ”رزق حلال” میں بہت مماثلت ہے۔ وہ ”پاکیزہ سادہ کھانا” تھا۔ یہ ”پاکیزہ سادہ رزق” ہے۔ دونوں کا حصول بے حد آسان ہے مگر بنی اسرائیل کے لیے من و سلویٰ پر انحصار کرنا اور ہمارے لیے رزق حلال پر جینا مشکل ہے۔ وہ بنی اسرائیل کی سوچ تھی، یہ ہماری سوچ ہے۔ وہ من و سلویٰ سے ”ناخوش” تھے اور اس کا ”مذاق” اڑاتے تھے۔ ناشکری کرتے تھے۔ ہم کو رزق حلال ”پسند” نہیں ہے اور ہم اس پر ”اعتراض” کرتے ہیں۔ انہیں زمین سے اگنے والا انواع و اقسام کا رزق چاہیے تھا۔ ہمیں شارٹ کٹ سے کم وقت میں بہت زیادہ پیسہ چاہیے۔
    بنی اسرائیل کی قوم کہتی تھی کہ موسی کا رب ”کنجوس” ہے جس کے پاس ان کے لیے من و سلویٰ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہم آج یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہمارا خدا” ہمیں رزق حلال کے علاوہ کچھ نہ دے کر ”تنگ” کر رہا ہے۔ بنی اسرائیل اپنی اس سوچ اور ناشکری کی وجہ سے مغضوب ہوئی اور ہم…
    یقینا ہم مغضوب ہونا نہیں چاہتے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ من و سلویٰ کے معاملے میں نظر آنے والی یہ مماثلت افسوس ناک ہے، شرم ناک ہے یا ہولناک، اس کا فیصلہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر کر سکتے ہیں۔
    اور آخر میں بس ایک بات…
    من و سلویٰ کوئی اسلامی کہانی نہیں ہے، نہ ہی یہ کوئی اسلامک اسکالرلی فکشن ہے۔ ایک ایشو کے بارے میں میری ذاتی رائے ہے جو بالکل غلط بھی ہو سکتی ہے۔ میرا علم ناقص ہے، میری عقل محدود اور مجھے ان دونوں پر کوئی گمان نہیں مگر میری نیت میں کوئی خرابی نہیں اور میں اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی شکر گزار ہوں۔
    تو ”من و سلویٰ” حاضر ہے۔

    عمیرہ احمد