Author: misbah116@hotmail.com

  • لاحاصل — قسط نمبر ۱

    انتساب!

    نجمہ سلطان محمود کے نام
    جنہوں نے 30 سال پہلے اسلام قبول کرنے کے بعد
    انگلینڈ چھوڑ کر پاکستان میں سکونت اختیار کرلی۔

    پیش لفظ

    لاحاصل کے بارے میں مجھے مزید کچھ نہیں کہنا… مجھے جو کچھ کہنا تھا… میں نے کہانی میں کہہ دیا… بعض کہانیوں کو لکھ کر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ اس کہانی کو اس سے بہتر نہیں لکھ سکتے تھے… لاحاصل کے بارے میں میرے بھی یہی تاثرات ہیں… اسے لکھنے میں ایک سال لگا… دس سال یا دس دن لگتے تب بھی یہ آپ کے سامنے اسی صورت میں آتی۔
    اعزاز کی بات میرے لیے صرف یہ ہے کہ اسے میں نے نجمہ سلطان محمود کے نام کیا ہے… واضح رہے یہ ان کی زندگی کی کہانی نہیں ہے کیونکہ میں ان سے صرف دو دفعہ ملی ہوں اور دونوں بار میں نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا مگر خدیجہ نور کے کردار کو لکھتے ہوئے میرے ذہن میں انہی کی شخصیت تھی…
    عمیرہ احمد

    umeraahmed@yahoo.com




  • حاصل — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

    حاصل — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

    ”سسٹر! مجھے آپ سے ایک درخواست کرنی ہے۔”
    وہ اس دن چرچ سے واپس آکر سیدھی سسٹر پیٹریشیا کے پاس گئی تھی۔ سسٹر الزبتھ بھی ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔
    ”میں یہاں کانونٹ میں رہنا نہیں چاہتی۔ آپ مجھے کہیں اور بھجوا دیں۔ ”سسٹر پیٹریشیا اس کے مطالبے پر حیران رہ گئی تھیں۔
    ”کیوں کیا ہوگیا ہے؟”
    ” میں یہاں خود کو آزاد محسوس نہیں کرتی۔ میں اپنے مذہب کے مطابق عبادت نہیں کرسکتی۔ مجھے صرف قرآن پاک میں دلچسپی ہے۔ ان کتابوں میں نہیں جو آپ مجھے پڑھنے کے لیے دیتی ہیں۔”
    سسٹر پیٹریشیا کو وہ اتنی بدلی ہوئی لگی تھی کہ انہیں چند لمحوں کے لیے یقین نہیں آیا تھا کہ یہ سب الفاظ اس کے ہیں۔
    ”کرسٹینا! تمہیں کیا ہوا ہے؟”
    ”پلیز سسٹر! میں کرسٹینانہیں ثانیہ ہوں۔ آپ مجھے میرے نام سے پکاریں۔”
    سسٹر پیٹریشیا نے سسٹر الزبتھ کی طرف دیکھا تھا۔
    ”سسٹر! میں مسلمان ہوں اور میں مسلمان ہی رہنا چاہتی ہوں۔ میری برین واشنگ کرنے کی کوشش نہ کریں۔”
    وہ خود یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اتنی طاقتور کیسے ہوگئی تھی مگر اس وقت اسے کسی چیز سے خوف نہیں آرہا تھا نہ کسی کی ناراضی سے نہ کسی کے اکیلا کردینے سے اورنہ ہی موت سے۔
    ”ثانیہ!تمہارا نام صرف اس لیے بدلا گیا تھا تاکہ تمہارے نام کی کسی لڑکی کے یہاں ہونے کی بات لیک آؤٹ نہ ہوسکے ورنہ اورکوئی وجہ نہیں تھی۔”
    سسٹر پیٹریشیا کا لہجہ ایک دم معذرت خواہانہ ہوگیا تھا۔
    ”آپ یہ خبر لیک آؤٹ ہوجانے دیں مگر مجھے میرے اپنے نام سے پکاریں۔ میں اب کسی چیز سے خو فزدہ نہیں ہوں۔ میرے ساتھ جو ہونا ہے وہ ہوگا اور میں اسے روک نہیں سکتی۔ مگر آپ مجھ سے میرا تشخص چھیننے کی کوشش نہ کریں۔ مجھے یہاں سے بھجوا دیں۔”
    اس کا لہجہ اتنا قطعی تھا کہ دونوں سسٹرز میں سے کسی نے مزید کچھ نہیں کہا تھا۔
    ”ٹھیک ہے ، تم کو یہاں سے بھجوادیا جائے گا۔”
    ”تھینک یو سسٹر۔” وہ کمرے سے نکل آئی تھی۔
    پچھلے بہت سے دنوں میں پہلی بار اس نے بڑی بے خوفی سے لائبریری میں جا کر قرآن پاک کی بلند آواز سے تلاوت شروع کردی تھی۔
    ”اب مجھے اس شخص کے لیے چرچ نہیں جانا کیونکہ وہ وہاں نہیں آئے گا۔ وہ کبھی کسی چرچ میں اللہ کو ڈھونڈنے اور سکون پانے نہیں جائے گا اورمجھے کسی جھوٹ کا سہارا لے کر یہاں سے اس کے پاس نہیں جانا پڑے گا اوراب مجھے کسی سے یہ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں کون ہوں اور کیا چاہتی ہوں اورآج مجھے ڈائننگ روم میں کسی دعامیں شرکت کے ساتھ اپنا کھانانہیں کھانا۔ مجھے کھاناکھانے سے پہلے صرف بسم اللہ پڑھنی ہے اوربآواز بلند پڑھنی ہے اور کل مجھے کسی چرچ کی سروس میں شرکت نہیں کرنا۔ واحد کام جو مجھے کرنا ہے ، وہ اس قرآن پاک کی تلات ہے اور مجھے یہ تلاوت کبھی بھی چھپ کر اور ڈر کرنہیں کرنی نہ ہی نماز پڑھتے وقت مجھے دل میں کوئی خوف رکھنا ہے پھر جنہیں مجھے چھوڑنا ہوگا۔ وہ مجھے چھوڑدیں گے اور مجھے صرف اپنے اللہ سے سہارا چاہیے۔ میرا اللہ اورمیرا رسولۖ میرے لئے کافی ہے اورمیں اپنے گناہوں کے لیے اللہ سے رحمت کی طلبگار ہوں۔”
    اس نے زندگی میں کبھی خود کو اتنا طاقتور محسوس نہیں کیا تھا جتنا وہ اس وقت محسوس کر رہی تھی۔
    *…*…*





    ”تم نے کیا سوچا ہے؟” ہیومن رائٹس کمیشن کی اس نامی گرامی عہدے دار نے اس سے ایک بار پھر پوچھا تھا۔
    ”میں آپ کو بتا چکی ہوں، مجھے کسی کورٹ میں پیش ہونا ہے نہ ہی میڈیا کے سامنے آنا ہے۔ مجھے ایسا کچھ نہیں کرنا ہے۔” اس نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا۔
    ”تم انکار نہیں کر سکتیں۔ یہ دونوں کام تمہارے لیے ضروری ہیں۔ تم اس کیس میں گواہ ہو۔ تمہاری گواہی بہت ضروری ہے ۔ تمہاری گواہی کے بغیر بلال بچ جائے گا۔”
    اس کے سر میں درد کی لہریں اٹھنے لگی تھیں۔
    ”اورمیڈیا کے سامنے آنا اس لیے ضروری ہے تاکہ تم انہیں بتا سکو کہ اس ملک میں عورتوں کو کس قسم کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے حقوق کس طرح پامال کیے جاتے ہیں ۔ اقلیتوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے، ان کے ساتھ کس طرح امتیاز برتا جاتا ہے۔ تمہارا میڈیا کے سامنے آنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔” وہ عورت بولتی جارہی تھی۔
    ”آپ کو پتا ہے، میرے اس طرح کے بیانات سے کیا ہوگا؟ مسلمانوں اور اقلیتوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے۔ میں نہیں چاہتی میری وجہ سے کسی اقلیت کو نقصان اٹھانا پڑے مگر آپ مجھ سے جو چاہ رہی ہیں ، اس کے بعد یہی ہوگا۔” وہ کچھ برہم ہوگئی تھی۔
    ”ہم نے اس بارے میں بہت سوچا ہے اورپچھلے ایک سال کے عرصے میں یہی سوچ کرخاموشی اختیار کیے رکھی ہے تاکہ اس مسئلے کی وجہ سے دونوں کمیونٹیز کے درمیان کوئی کشیدگی نہ ہو، مگر اب حالات کافی حد تک نارمل ہیں۔ جوئیل کی فیملی باہر منتقل ہوچکی ہے ، ان پر کسی قسم کے حملے کا خطرہ نہیں ہے۔”
    ”مگر باقی لوگوں پر تو ہے، ساری اقلیتیں تو باہر شفٹ نہیں ہوسکتیں۔ میری ایک غلطی سے میری اور ڈیوڈ کی فیملی کو جو نقصان پہنچ چکا ہے۔ میں نہیں چاہتی ۔ اب ویسا کوئی نقصان کسی دوسرے کو برداشت کرنا پڑے۔”
    ”تم نے کوئی غلطی نہیں کی۔ تم نے جو کیا، وہ اپنے حق کے لیے کیا۔ تاریخ میں تم جیسی لڑکیوں کا نام بہت اونچی جگہ لکھا جائے گا۔” وہ عورت اب ایک بار پھر اس کے سامنے جال بچھا رہی تھی۔
    ”مجھے کسی تاریخ میں نام نہیں لکھوانا ہے۔ مجھے کسی تاریخ کا حصہ نہیں بننا ہے۔ میں نے جو کچھ کیا۔ مجھے اس پر کوئی فخر نہیں ہے۔ تاریخ میرے چہرے کو سونے سے لکھے یا چاندی سے مگر میری نظروں میں، میرا سیاہ چہرہ سیاہ ہی رہے گا۔ دنیا کا کوئی پانی اس سیاہی کو دور نہیں کرسکتا، میرے گناہ نے میرے ہاتھ پاؤں کاٹ کر مجھے محتاج بناکر آپ کے سامنے پھینک دیا ہے۔ اب میں چاہوں بھی تو اپنے پیروں پر خود کھڑی نہیں ہوسکتی، مگر میں اس سب کے لیے کسی کو ذمہ دار نہیں سمجھتی۔ یہ صرف اور صرف میری غلطی تھی۔ میری غلطی کی وجہ سے ڈیوڈ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اوربس یہ کافی ہے۔ مجھے کسی میڈیا کے سامنے آکر اپنا یہ بد صورت چہرہ لوگوں کو نہیں دکھانا ہے۔”
    وہ عورت عجیب نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔
    ”میڈیا کے سامنے تمہیں آنا چاہیے یا نہیں مگر کورٹ میں تمہیں پیش ہونا چاہیے۔ تم مانتی ہو کہ غلطی تمہاری تھی جس کی وجہ سے ڈیوڈ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ تم انصاف کرو ڈیوڈ کے ساتھ؟ اس کی فیملی کیساتھ؟ تم کورٹ میں پیش نہ ہو کر ایک اورگناہ نہیں کرو گی کیا؟ سچ چھپا کر؟ بلال کو سزا سے بچا کر۔”
    ”پلیز، اس وقت مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔ اس وقت میں کچھ سوچنا نہیں چاہتی۔ پلیز آپ یہاں سے چلی جائیں۔”
    وہ یکدم سر پکڑ کر چلانے لگی تھی۔
    ہیومن رائٹس کمیشن سے متعلق وہ تینوں عورتیں کچھ دیر خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہنے کے بعد کمرے سے نکل گئی تھیں۔
    ان عورتوں کے جانے کے بعد بہت دیر تک اس کے ذہن میں ان کی باتیں گونجتی رہی تھیں۔ وہ ایک عجیب شش و پنج میں گرفتار تھی۔ اس کی گواہی سے بلال کو نقصان پہنچتا تھا اورگواہی نہ دینے سے وہ ضمیر کی خلش کا شکار تھی۔
    بلال نے ڈیوڈ کو قتل کیا ہے اور میں گواہی نہ دے کر اس گناہ میں اس کی شریک کیوں بننا چاہتی ہوں۔ میں گواہی نہ دے کر ایک بار پھر اللہ کے سامنے… نہیں میں اب ایسا کوئی کام نہیں کروں گی جس سے مجھے اللہ کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑے اگر میں اپنے غلط کام کی سزا بھگت رہی ہوں تو پھر بلال کو بھی سزا ملنی چاہیے۔ دنیا کا کوئی قانون اسے یہ حق نہیں دیتا کہ وہ ڈیوڈ کو قتل کردے اگر بات انصاف کی ہے تو ڈیوڈ اوراس کے گھروالوں کے ساتھ بھی انصاف ہونا چاہیے۔
    اس شام نماز پڑھنے کے بعد خود بخود ہی جیسے اس کے لیے ہر فیصلہ کرنا آسان ہوگیا تھا۔
    *…*…*
    اس نے زندگی میں کبھی اتنے لوگوں کو خود کو گھورتے نہیں دیکھا تھا ان میں ہر طرح کی نظریں تھی۔ وہ نظریں جن میں اس کے لیے نفرت تھی، وہ نظریں جن میں اس کو دیکھ کر حیرانی تھی اور وہ نظریں جن میں اس کے لیے ترس تھا۔ کورٹ کے اندر داخل ہونے تک اس نے اپنے بارے میں بہت سے جملے سن لیے تھے۔ اس کا دل ان جملوں کو سن کر زمین میں گڑنے کو نہیں چاہا تھا وہ پہلے ہی زمین میں گڑ چکی تھی۔
    ” وہ جسے چاہے ذلت دیتا ہے۔”
    اس کے ذہن میں ایک آیت لہرائی” اور اس ذلت کا انتخاب میں نے اپنی مرضی سے کیا اورا ب مجھے صبر کرنا چاہیے۔”اس نے چادر سے چہرے کوچھپاتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو بھینچ لیا تھا۔
    کورٹ روم میں بہت عرصے کے بعد اس نے چند ایسے چہروں کو دیکھا تھا جن کے بغیر رہنا کبھی اس کے لیے ناممکن تھا اوراب وہ کتنے عرصے سے ان کے بغیر ہی رہ رہی تھی اس نے یاد کرنے کی کوشش کی تھی ۔ کٹہرے میں کھڑے بلال پر اس نے دوسری نظر نہیں ڈالی تھی۔ پہلی نظر اس سے ملتے ہی بلال نے زمین پر تھوک دیا تھا۔ اور یہ بلال وہ تھا جو اس کے کہنے پر کوئی بھی کام کرنے کو تیار رہتا تھا اور آج…آج اس کی آزمائش تھی اسے پہلی بار احساس ہو رہا تھا کہ عدل کرنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے اور تب عدل کرنا جب اس سے اپنے ہی جسم کا ایک حصہ زخمی ہوتا ہو۔ اس نے اپنے وجود میں پہلی بار کپکپاہٹ محسوس کی تھی۔
    جج نے اسے کٹہرے میں بلوالیا تھا۔ لوگوں سے بھرے ہوئے کورٹ روم پر نظر دوڑاتے ہوئے اس نے جج کو دیکھا تھا۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے اپنا بیان ریکارڈ کروانا شروع کر دیا تھا۔ کورٹ روم میں سناٹا تھا۔ اور وہ جانتی تھی بلال کی زندگی کا فیصلہ اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ کریں گے اوراس نے وہاں سچ کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا تھا۔
    *…*…*
    اگلے چند ہفتوں میں عدالت نے اس کی کسٹڈی کا فیصلہ بھی کیا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ جج پر کتنا پریشر ڈالا گیا تھا مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ اسے اس کی مرضی کے مطابق اسی ادارے کے پاس رہنے دیاگیا تھا۔ جہاںوہ ر ہی تھی وہ جانتی تھی چند دنوں کے اندر اسے اپنے ملک سے باہر بھجوادیا جائے گا اور اس کے بعد…
    اس نے عدالت کو بلال کو عمر قید کی سزا دیتے ہوئے بھی سنا تھا۔ ا س نے بلال کے چہرے پر پھیلتی ہوئی تاریکی بھی دیکھی تھی۔ وہ بلال کے خوابوں سے واقف تھی اوروہ یہ بھی جانتی تھی کہ اب اس کی زندگی کہاں گزرے گی۔ وہ تیس سال کا تھا اوراگلے کئی سال اس نے…۔
    ” اور یہ سب صرف میری وجہ سے ہوا، صرف میری وجہ سے۔”
    اس نے سوچا تھا اوراس کے اعصاب پر تھکن سوار ہونے لگی تھی۔ کوئی اپنے خاندان کے لیے اتنی رسوائی کا سبب نہیں بن سکتا۔ جتنی رسوائی میں نے اپنے خاندان کو دی ہے۔ کاش اللہ نے مجھے اس دنیا میں اتارا نہ ہوتا یا اتارا تھا تو بہت پہلے مجھے مار دیا ہوتا اتنی لمبی زندگی نہ دی ہوتی۔”
    اس نے کورٹ سے باہر نکلتے ہوئے اپنی گیلی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے کہا تھا۔
    *…*…*
    ”مجھے اپنی زندگی کے لیے خود راستہ ڈھونڈنے دیں، میں وہ سب نہیں کرسکتی جو آپ چاہتے ہیں، مجھے کسی پریس کانفرنس میں اسلام اورپاکستان میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی مذمتی بیان نہیں دینا۔ آپ مجھے اپنے ہاتھ کا ہتھیار مت بنائیں، مجھے چھوڑ دیں۔ میری برین واشنگ کرنے کی کوشش مت کریں۔”
    ”تم بہت سے حقائق کو نظر انداز کر رہی ہو۔ اس وقت اگر تم اس ملک میں زندہ سلامت موجود ہو تو یہ ہماری وجہ سے ہے تم کو یاد رکھنا چاہیے کہ تمہارے لوگ اور تمہارا خاندان تمہارے ساتھ کیا کرسکتے تھے، صرف ہم لوگوں کی وجہ سے تم یہاں محفوظ بیٹھی ہو۔”
    ”بعض دفعہ زندگی سب کچھ نہیں ہوتی میرے پاس بھی زندگی کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں۔”
    ”ہم تمہیں صرف ایک بار پریس کانفرنس میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد تم بے شک دوبارہ کبھی پریس کے سامنے مت آنا۔”
    ”مجھے ایک بار بھی پریس کے سامنے نہیں آنااگرآپ نے مجھے مجبور کیا تو میں پریس کانفرنس میں یہ کہہ دوں گی کہ مجھے آپ لوگوں نے ٹریپ کیا تھا اورمیں یہ سب کچھ آپ لوگوں کے کہنے پر کر رہی ہوں اس لیے بہتر ہے کہ آپ مجھے چھوڑ دیں۔”
    امریکہ آنے کے بعد اسے مسلسل پریشرائز کیا جارہا تھا کہ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرے تاکہ میڈیا کے ذریعے ان ایشوز کو مزید اچھالا جائے جو پاکستان کے متعلق مغربی عوام کی رائے خراب کرتے رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس کی جو مغربی تنظیم اسے پاکستان سے امریکہ لانے اوروہاں سیاسی پناہ دلوانے کی موجب بنی تھی اب وہ بدلے میں اس کو ایکسپلائٹ کرنا چاہ رہے تھے۔
    امریکہ میں ہی اس کی ملاقات ڈیوڈ کی فیملی سے کروائی گئی تھی اوراس بار ڈیوڈ کی فیملی نے اسے اسی کام پر مجبور کرنے کی کوشش کی تھی جو کام اس تنظیم کے افراد کرواناچاہ رہے تھے۔ اس کا جواب ایک بار پھر انکار کی صورت میں تھا۔
    ”میں جانتی ہوں، میری وجہ سے آپ کو اپنے بیٹے کی جان سے ہاتھ دھونا پڑا مگر میں مجبور ہوں۔ میں آپ کی بات نہیں مان سکتی۔”
    ڈیوڈ کی فیملی واپس جاتے ہوئے بہت مشتعل تھی ، اسے قائل کرنے میں ناکامی پر چند ہفتوں کے بعد اسے اس کی مرضی کے مطابق چھوڑ دیا گیا تھا۔
    وہ وہاں سے نکلتے ہی طے کر چکی تھی کہ اسے کہاں جانا تھا۔ پرس میں کچھ ڈالرز اورایک بیگ لیے وہ اسلامک سینٹر چلی گئی تھی۔ وہ جانتی تھی اب اسے مدد کی ضرورت تھی اور یہ مدد اسے امریکہ میں کہیں اور سے نہیں مل سکتی تھی۔ اسے سر چھپانے کے لیے جگہ اور ایک جاب کی ضرورت تھی اور یہ چیزیں اسے اب کوئی اورنہیں دے سکتا تھا۔
    اسلامک سینٹر میں اس نے چند ماہ کے سوا اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا اورپھر مدد کے لیے درخواست کی تھی۔ اسے جواب میں ایک ریفرنس لیٹر کے ساتھ ایک پاکستانی کے پاس بھجوا دیا گیا تھا۔ وہاں جا کر اسے دوبارہ اپنی داستان نہیں سنانی پڑی تھی۔ اس پاکستانی نے اپنے ایک سٹور میں اسے سیلز گرل کے طور پر ملازمت دے دی تھی۔ اسی کے توسط سے ایک جگہ پر پے انگ گیسٹ کے طور پر اس کے لیے رہائش کابندوبست بھی کردیا گیا تھا۔




  • حاصل — قسط نمبر ۱

    حاصل — قسط نمبر ۱

    پیش لفظ…!

    ”حاصِل” میری زندگی کی چند اہم تحریروں میں سے ایک ہے… میرے خیال میں میری ابتدائی تحریروں میں سے سب سے میچور اور بہتر… اور یہی تحریر ہے جو بعد میں آنے والے میرے ناول لاحاصِل کی بنیاد بنی… دونوں تحریروں میں کیا تعلق ہے یہ آپ پڑھنے کے بعد طے کریں…
    انسان ساری زندگی حاصِل سے لا حاصلِ اور لاحاصلِ سے حاصِل کی طرف سفر کرتا رہتا ہے… اور یہی سفر انسان کی اپنی زندگی کا حاصِل بھی ہے…
    ”حاصِل” اسی”سفر” کا آغاز ہے۔ آئیے”سفر” شروع کرتے ہیں۔

    عمیرہ احمد




  • ایمان، امید اور محبت — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

    ”پھر تم نے کیا طے کیا ہے؟” اس رات ڈنر پر سبل نے پیٹرک سے پوچھا۔
    ”کیا طے کرنا ہے… میرا خیال ہے، جو تم کہہ رہی ہو وہی ٹھیک ہے۔ اس کا فیصلہ ڈینی کو ہی کرنا چاہیے۔” پیٹرک نے بڑے مطمئن انداز میں کہا۔
    اس کی بات پر سبل مسکرائی۔ ”ڈینی جب بڑا ہوگا تو وہ ہم دونوں کے مذہب کا مطالعہ کرے گا جس مذہب میں اسے زیادہ دلچسپی محسوس ہوگی اسے وہی اختیار کرنا چاہیے کم از کم اس طرح اس کے ذہن میں کوئی الجھن نہیں ہوگی۔ میں نے اسی لیے تمہیں یہ مشورہ دیا تھا۔”
    ”ہاں ٹھیک ہے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔”
    ”میرا خیال تھا، شاید تمہیں کوئی اعتراض ہوگا۔ کیونکہ مجھ سے زیادہ مذہبی ہو۔”
    ”نہیں خیر، اتنا مذہبی نہیں جتنا تم سمجھ رہی ہو۔ مذہب اصل میں بہت وقت مانگتا ہے اور میرے پاس وقت کی کمی ہے۔”
    ”پھر بھی ہر ہفتے تم عبادت کے لیے تو باقاعدگی سے جاتے ہو۔” سبل نے اسے کچھ جتانے والے انداز میں کہا۔
    ”ہاں جاتا ہوں۔ میرے لیے وہاں جانے کی اہمیت عبادت سے زیادہ ایک روایت کی حیثیت سے ہے۔ ماں باپ نے ایک عادت بنا دی ہے۔ مگر مجھے اس روٹین سے الجھن نہیں ہوتی۔ جہاں دوسرے بہت سے کام ہوتے ہیں، چلو یہ بھی سہی۔” وہ کھانا کھاتے ہوئے اسے بتا رہا تھا۔
    ”اتنی مصروف زندگی میں مذہب کے لیے وقت نکالنا واقعی بہت مشکل کام ہے۔ مجھے تمہاری اس روٹین پر بہت حیرت ہوتی ہے۔ خود مجھے تو ہفتے بلکہ مہینے میں ایک بار بھی چرچ جانا بہت مشکل لگتا ہے۔” سبل نے کندھے اچکا کر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
    ”میں نے کہا نا، مجھے عادت ہو چکی ہے ورنہ اور کوئی بات نہیں۔” پیٹرک کھانے سے تقریباً فارغ ہو چکا تھا۔
    پیٹرک ایڈگر جرمنی کے ایک اچھے یہودی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا خاندان بہت کٹر قسم کے یہودیوں پر مشتمل تھا۔ پیٹرک کے ماں باپ بھی بہت زیادہ مذہبی تھے۔ اپنی ساری اولاد کو انھوں نے ا سی راستے پر چلانے کی کوشش کی۔ ہٹلر کے زمانے میں جرمنی میں یہودیوں کو بڑے پیمانے پر قتل کرنے کے بعد باقی یہودیوں کو جِلا وطن کر دیا گیا۔
    پیٹرک کی فیملی بھی اس زمانے میں امریکہ آ گئی تھی مگر جرمنی کے دو ٹکڑے ہونے کے بعد جب یہودیوں نے آہستہ آہستہ واپس جرمنی جانا شروع کیا تو پیٹرک کی فیملی بھی واپس چلی گئی۔ مگر پیٹرک نے اپنے ماں باپ کے ساتھ واپس جانے کے بجائے امریکہ میں ہی سیٹل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ماں باپ کی مخالفت اور ناراضگی کے باوجود وہ اپنے اس فیصلے پر قائم رہا۔ امریکہ میں اس کو اپنے لیے سب کچھ خود ہی کرنا پڑا کیونکہ اس کی فیملی واپس جا چکی تھی اور واپس جانے کے بعد وہ نئے سرے سے وہاں سیٹل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس لیے ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ پیٹرک کی کسی بھی طرح سے مالی مدد کرتے۔
    پیٹرک نے مکینیکل انجینئرنگ کرنے کے کچھ عرصے بعد ایک بہت اچھی امریکن کمپنی میں ملازمت کر لی۔ اس ملازمت کے کچھ عرصے کے بعد جب وہ اپنے والدین کے پاس دو ہفتے کی چھٹیاں گزارنے جرمنی آیا ہوا تھا تو اس کی ملاقات سبل سے ہوئی۔
    سبل ایک ٹرکش عیسائی تھی۔ پیٹرک کی طرح وہ بھی اپنے والدین کے ساتھ جرمنی میں آ کر سیٹل ہو گئی تھی۔ دونوں کے درمیان فرق صرف یہ تھا کہ پیٹرک کا آبائی وطن جرمنی ہی تھا اور سبل کا آبائی وطن ترکی تھا۔ دونوں کے درمیان بڑی تیزی سے روابط بڑھے اور پھر یہ روابط شادی کے پرپوزل تک آ گئے۔
    شادی کے اس پرپوزل پر دونوں کے خاندانوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ پیٹرک کے والدین چونکہ کٹر یہودی تھے، اس لیے وہ پیٹرک کی شادی بھی اپنی کمیونٹی کی کسی لڑکی سے کرنا چاہتے تھے۔ دوسری طرف سبل ایک کیتھولک گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور یہودیوں کے بارے میں اس کے ماں باپ کو بہت زیادہ اعتراضات تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ کسی عیسائی فیملی میں ہی شادی کرے مگر دونوں نے اپنے خاندان کے اختلافات کے باوجود شادی کر لی۔
    *…*…*





    شادی کے بعد سبل پیٹرک کے ساتھ امریکہ آ گئی اور وہاں اس نے ایک معروف ادارے میں جرمن ٹرانسلیٹر کے طور پر کام شروع کر دیا۔ کافی عرصے تک دونوں کے خاندان اس شادی پر ناراض ہی رہے مگر پھر آہستہ آہستہ دونوں کے خاندانوں نے اس شادی کو قبول کر لیا۔
    پیٹرک اور سبل میں بہت سی باتیں مشترکہ تھیں۔ دونوں کے خاندان مذہبی اور کٹر تھے۔ ان کی تربیت ایک مخصوص ماحول میں ہوئی تھی جہاں اخلاقیات کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ دونوں ہی بہت سوشل نہیں تھے۔ شاید اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ان کے خاندان میں ہر کسی سے میل جول بڑھانے کا رواج نہیں تھا۔ بہت سے معاملات کے بارے میں ان کا نقطہ نظر خاصا قدامت پرست تھا۔ سبل کی پیدائش اور پرورش ترکی میں ہوئی تھی اور اس پر اس معاشرے کا خاصا اثر تھا جس میں اس نے پرورش پائی تھی۔
    لباس کے معاملے میں وہ لاشعوری طور پر بہت محتاط ہو گئی تھی۔ مغربی معاشرے میں رہنے کے باوجود وہ ایسے لباس کو پسند نہیں کرتی تھی جو اس کے جسم کو پوری طرح سے ڈھانپ نہ سکتا ہو اور ایسا لباس پہننے سے وہ ہمیشہ گریزاں رہتی تھی۔ پیٹرک بھی اس معاملے میں خاصا قدامت پرست تھا۔ وہ خود بھی سبل کو اس طرح کے کپڑوں میں دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ دونوں شراب پیتے تھے مگر اس کا استعمال صرف کسی فنکشن میں ہی کرتے تھے۔ سبل کے ذہن پر اس معاملے میں اپنے والدین کے بچپن سے دیے جانے والے وعظ کا خاصا اثر تھا اور یہی وجہ تھی کہ جب پیٹرک بعض دفعہ گھر میں بھی شراب پینے کی کوشش کرتا تو وہ اسے روک دیا کرتی تھی۔ دونوں کا حلقہ احباب محدود تھا اور وہ بھی ان ہی لوگوں پر مشتمل تھا جو ان ہی کی طرح کچھ اخلاقی قدریں رکھتے تھے۔ دونوں کی زندگی میں کسی نہ کسی حد تک مذہب کا عمل دخل رہا تھا اور امریکہ میں رہنے کے باوجود یہ عمل دخل کم نہیں ہوا تھا۔
    شاید اگر وہ امریکہ میں کچھ زیادہ عرصہ گزارتے تو ان کے طرزِ زندگی میں اور خیالات میں نمایاں تبدیلیاں آ جاتیں مگر امریکہ میں آنے کے ایک ڈیڑھ سال بعد ہی پیٹرک کی کمپنی نے اسے اردن میں بھجوا دیا جہاں وہ کچھ بہت بڑے تعمیراتی پروجیکٹس کے لیے تین سال رہا۔ تین سال کے بعد اسے مڈل ایسٹ کے ہی ایک اور ملک مراکش میں بھیج دیا گیا۔ وہاں اس کا قیام دو سال رہا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ ان دونوں کو مڈل ایسٹ اور ایشیا کے بہت سے ملکوں میں رہنے کا اتفاق ہوا اور ان میں سے زیادہ تر ممالک مسلم تھے۔ یورپ یا امریکہ میں لمبے قیام کا انھیں موقع نہیں ملا۔ اس لیے ان کی قدامت پرستی نہ صرف برقرار رہی بلکہ اس میں کسی حد تک اضافہ بھی ہوا۔
    سبل مختلف ممالک میں قیام کے دوران مختلف سفارت خانوں کے تحت چلنے والے اسکولز میں پڑھاتی رہی۔ وہ ایک بہت مہربان اور فیاض قسم کی لڑکی تھی۔ پیٹرک کے ساتھ اس کی بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ تھی اور مذہب کے فرق کے باوجود وہ اس کے ساتھ ایک بہت اچھی زندگی گزار رہی تھی۔ مذہب کے بارے میں دونوں بہت زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ مذہبی روایات کی پیروی کرنے کے باوجود مذہبی رسومات پر عمل کرنا ان کے لیے خاصا مشکل ہو گیا تھا اور آہستہ آہستہ مذہب ان کی زندگی میں ثانوی حیثیت اختیار کر گیا۔
    *…*…*
    ڈینیل کی پیدائش مراکش میں ہوئی اور اس کی پیدائش پر پہلی بار پیٹرک اور سبل اس الجھن کا شکار ہوئے کہ ڈینیل کو کس مذہب کو ا ختیار کرنا چاہیے۔ دونوں کی خواہش تھی کہ وہ ان کے مذہب کو اختیار کرے مگر دونوں ہی ایک دوسرے کے سامنے اس خواہش کا اظہار کرنے سے جھجکتے تھے اور اس کشمکش میں ڈینیل کسی مذہب کو اختیار کیے بغیر ہی پرورش پانے لگا۔
    پہلی بار دونوں کے درمیان ڈینیل کے مذہب کے بارے میں تب بات ہوئی جب پیٹرک سبل کے ساتھ چھٹیوں میں جرمنی گیا تھا۔ پیٹرک اور سبل کے ماں باپ نے ڈینیل کو پہلی بار دیکھا تھا۔ ڈینیل اس وقت دو سال کا تھا۔
    پیٹرک کے والدین کو اتفاقاً یہ پتا چل گیا پیٹرک نے ڈینیل کے مذہب کے حوالے سے ابھی کچھ طے نہیں کیا۔ اس بات نے انھیں بھڑکا دیا تھا۔
    ”وہ تمہارا بیٹا ہے، اسے یہودی ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں کسی دوسری سوچ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔” اس کے باپ نے سختی سے پیٹرک سے کہا۔
    ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر آپ جانتے ہیں کہ سبل کیتھولک ہے اور اس طرح میں ڈینیل کے مذہب کے بارے میں اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش کروں گا تو اسے اعتراض ہوگا۔” پیٹرک نے وضاحت پیش کی۔
    ”میں اسی لیے چاہتا تھا کہ تم سبل سے شادی نہ کرو۔” اس کے باپ کے اشتعال میں اور اضافہ ہو گیا تھا۔
    ”بہرحال سبل کو اس معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اولاد ہمیشہ وہی مذہب اختیار کرتی ہے جو باپ کا مذہب ہوتا ہے۔”
    ”یہ ضروری نہیں ہے ڈیڈی! اولاد کو وہی مذہب اختیار کرنا چاہیے جو اس کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ جس میں اسے دلچسپی محسوس ہو۔”
    پیٹرک نے ان کے غصے کو کم کرنے کی کوشش کی مگر اس کوشش نے الٹا اثر کیا تھا۔ ایڈگر کچھ اور بھڑک گیا۔
    ”مجھے عقل سکھانے کی کوشش مت کرو۔ تمہارے دماغ میں یہ خناس بٹھانے والی تمہاری بیوی ہے۔ تم اپنے بیٹے کو یہودی نہیں بناؤ گے تو کیا کیتھولک بناؤ گے؟”
    ”اس بارے میں ابھی ہم دونوں نے کچھ طے نہیں کیا۔”
    ”تم دونوں کو کچھ طے کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ وہ ایک پیدائشی یہودی ہے اور یہودی ہی رہے گا۔” ایڈگر نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا۔
    پیٹرک نے ان سے مزید بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا اور خاموش ہو گیا۔ مگر جرمنی سے واپس آنے کے فوراً بعد اس نے سبل سے اس سلسلے میں بات کی۔
    ”ہمیں ڈینیل کے بارے میں کچھ طے نہیں کرنا چاہیے۔ وہ کون سا مذہب اختیار کرتا ہے یہ اس کے ہاتھ میں دے دینا چاہیے۔ بہت ممکن ہے کہ ابھی ہم اس کے لیے جس مذہب کا انتخاب کریں۔ بڑا ہو کر وہ اس کے بجائے دوسرے مذہب کی طرف راغب ہو جائے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم دونوں اس کو اپنے اپنے مذہب کے بارے میں ساری معلومات دیتے رہیں۔ اسے اپنے ساتھ عبادت اور دوسری رسوم میں بھی شریک کرتے رہیں مگر باقاعدہ طور پر اسے یہودی یا عیسائی بنانے کی کوشش نہ کریں۔” سبل نے جیسے ایک تجویز اس کے سامنے رکھ دی تھی۔
    ”مگر سبل! میری فیملی کو اس پر اعتراضات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بچہ ہمیشہ وہی مذہب اختیار کرتا ہے جو اس کے باپ کا ہو اس لیے ڈینیل کو بھی یہودی مذہب کو اختیار کرنا چاہیے۔”
    سبل نے ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی بات سنی۔ ”میرے خاندان والوں کو بھی اس پر بہت سے اعتراضات ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بچے کی ماں میں ہوں اور میں اس کے لیے اچھے اور برے راستے کا تعین بہتر طور پر کر سکتی ہوں، کیونکہ بچہ باپ کی نسبت ماں سے زیادہ قریب ہوتا ہے اس لیے اسے میرا مذہب اختیار کرنا چاہیے لیکن میں نے ان کے اس اعتراض کو رد کر دیا۔ میں نے اپنے والدین سے یہی کہا کہ ڈینیل اپنی مرضی سے اپنے لیے مذہب کا انتخاب کرے گا اور اپنی مرضی سے کیا جانے والا یہ انتخاب ہمارے باہمی رشتے پر اثر انداز نہیں ہوگا مگر اس طرح صرف خاندان کے دباؤ پر کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ ہمارے باہمی تعلق اور اعتماد کو بری طرح متاثر کرے گا۔”
    پیٹرک خاموش ہو گیا۔ وہ واقعی اتنا مذہبی نہیں تھا کہ صرف مذہب کی خاطر اپنے اور سبل کے رشتے کی قربانی دے دیتا۔ یا باہمی تعلقات میں آنے والی کوئی دراڑ قبول کر لیتا۔ مذہب ویسے بھی ان کے لیے ایک اضافی چیز تھی، روٹین میں شامل، کوئی ایسی ضرورت نہیں تھی جسے پورا کرنے کے لیے وہ باہمی اختلافات کو بھی برداشت کر لیتے۔ یہی وجہ تھی کہ جب سبل نے دوبارہ اس کا فیصلہ پوچھا تو اس نے بھی اس کی تجویز سے اتفاق کر لیا کہ ڈینیل کے لیے اپنی مرضی سے مذہب کا انتخاب ہی بہتر رہے گا۔
    ڈینیل اسی ماحول میں پرورش پاتا رہا۔ ماں اسے اپنے مذہب کے بارے میں بنیادی باتوں سے آگاہ کرتی رہتی۔ باپ اسے اپنے مذہب کے بارے میں بتاتا رہتا۔ جب بھی سبل اور پیٹرک عبادت کے لیے اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جاتے وہ ڈینیل کو بھی ساتھ لے جاتے۔ وہ بڑی دلچسپی سے یہودیوں اور کیتھولکس کی مذہبی رسومات دیکھتا۔ اس کے لیے یہ سب ایسا ہی تھا جیسے مہینے میں کبھی تھیٹر چلے جانا یا پارک میں تفریح کے لیے جانا۔ وہ دونوں جگہ جا کر انجوائے کرتا تھا۔
    شروع میں پیٹرک ہر ہفتے اپنی عبادت گاہ باقاعدگی سے جایا کرتا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی یہ روٹین تبدیل ہوتی گئی۔ ویسے بھی دوسرے ممالک میں یہودیوں کی عبادت گاہوں کی تعداد کم تھی اور اس کا زیادہ تر قیام ایسے علاقوں میں ہوتا تھا جہاں پر اکثر ان کی عبادت گاہ نہیں ہوتی تھی۔ اس کے برعکس سبل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدگی سے چرچ جانے لگی۔ پیٹرک کے برعکس اسے ہمیشہ ہی عبادت کے لیے ہر جگہ کوئی نہ کوئی چرچ مل ہی جایا کرتا تھا۔ امریکہ میں قیام کے دوران اس کی سرگرمیوں کی نوعیت دوسرے ممالک میں قیام سے مختلف ہوتی تھی۔ ان ممالک میں اس کی سرگرمیاں زیادہ محدود ہوتی تھیں۔ ایمبیسی کے اسکول میں پڑھانے کے بعد اس کا زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزرتا تھا اور ڈینیل پر ماں کے خیالات و نظریات کا اثر گہرا ہوتا گیا۔
    اس نے ماں سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ کچھ لاشعوری طور پر اور کچھ شعوری طور پر۔ سبل عیسائی ہونے کے باوجود مشرقی روایات کو نہ صرف پسند کرتی تھی بلکہ بہت سی مشرقی روایات اس نے اپنائی بھی تھیں۔ مشرق کے لیے یہ پسندیدگی ڈینیل میں بھی منتقل ہوئی تھی اس نے اپنی ابتدائی زندگی ایسے ماحول میں گزاری تھی جہاں مغرب کی آزادی کا نہ صرف کوئی تصور نہیں تھا بلکہ اس آزادی کو ناپسند بھی کیا جاتا تھا۔ اسکولز میں بھی وہ زیادہ تر مسلمان اسٹوڈنٹس کے ساتھ ہی پڑھتا رہا اور وہاں بھی آزادی کے کسی نئے تصور سے وہ آشنا نہیں ہو سکا۔ گھر آنے کے بعد وہ سارا وقت سبل کے ساتھ ہی گزارا کرتا تھا کیونکہ غیر ملکی ہونے کی حیثیت سے سبل اور پیٹرک باہر آمد و رفت میں خاصے محتاط تھے۔ ان کا آنا جانا مخصوص فیملیز میں تھا۔ ڈینیل اگر کبھی سیر و تفریح کے لیے کہیں جاتا بھی تو سبل اور پیٹرک کے ساتھ ہی۔
    *…*…*
    پندرہ سال کی عمر میں وہ واپس امریکہ آیا تھا اور امریکہ آ کر وہ ایڈجسٹمنٹ کے پرابلمز سے دوچار ہونے لگا تھا۔ امریکہ میں آ کر ملنے والی آزادی کو پسند کرنے کے بجائے وہ ناپسند کرنے لگا تھا۔ اس کے لیے یہ ایک ایسی دنیا تھی جو اس کے نظریات سے میچ نہیں کرتی تھی۔ ماں باپ کی طرح وہ بھی خاصا ریزرو تھا اور اس کی یہ عادت خوبی کے بجائے ایک خامی کی طرح اسے ہر جگہ بہت زیادہ نمایاں کرنے لگی۔
    ”پاپا! میں واپس انڈیا جانا چاہتا ہوں۔” اس نے امریکہ آنے کے بعد ایک دن پیٹرک سے کہا تھا۔ پیٹرک کی آخری پوسٹنگ انڈیا میں ہوئی جہاں دو سال قیام کے دوران وہ دارجلنگ کے ایک بورڈنگ میں پڑھتا رہا تھا۔ پیٹرک نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا۔
    ”کیوں ڈینیل؟”
    ”میں یہاں نہیں رہ سکتا۔ یہاں سب کچھ بہت عجیب ہے۔ اسکول میں میرے کلاس فیلوز ڈرگز استعمال کرتے ہیں اور…” وہ کہتے کہتے رک گیا۔ ”مجھے ان کی عادتیں اور حرکتیں پسند نہیں ہیں۔”
    پیٹرک نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ بہت بے چین اور مایوس نظر آ رہا تھا۔
    ”میں جانتا ہوں ڈینیل! یہاں کا ماحول کچھ اور طرح کا ہے مگر تمہیں خود کو اس کا عادی بنانا چاہیے کیونکہ اب تمہیں اعلیٰ تعلیم یہیں حاصل کرنی ہے۔”
    ”پاپا! مجھے اسکول کا ماحول پسند نہیں ہے۔”
    ”میں تمہیں کسی دوسرے بہتر اسکول میں داخل کروا دیتا ہوں۔”
    ”پاپا! مجھے یہاں کی زندگی پسند نہیں ہے۔ میں یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتا۔ مجھے لگتا ہے میں کسی ایلین کی طرح غلط جگہ پر آ گیا ہوں۔ میرے کلاس فیلوز میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ بے ہودہ باتیں کرتے ہیں۔”
    ”تم انھیں نظر انداز کر دیا کرو… ہر جگہ کا اپنا ایک مخصوص کلچر ہوتا ہے۔ یہاں کا طرز زندگی یہی ہے۔” سبل نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔




  • ایمان، امید اور محبت — قسط نمبر ۱

    ”اِیمان، اُمید اور محبت” ذاتی طور پر میری اپنی پسندیدہ تحریروں میں سے ایک ہے… اسے ملنے والے فیڈ بیک سے آپ لوگ مجھ سے زیادہ واقف ہیں۔
    میں نے کوشش کی ہے کہ میں آپ لوگوں کو زندگی کے کچھ اور رنگ دکھاؤں یا زندگی کو اس اینگل سے دکھاؤں جہاں سے میں اسے دیکھتی ہوں، ہو سکتا ہے آپ کو یہ رنگ بہت پھیکے یا ضرورت سے زیادہ گہرے لگیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میرا اینگل چیزوں کو یا زندگی کو اس طرح آپ کے سامنے پیش نہ کر سکے جس طرح آپ چاہتے ہیں۔ پھر بھی دنیا پر موجود چھ ارب انسانوں میں کم از کم ایک انسان زندگی کو اسی اینگل سے دیکھتا ہے اور وہی رنگ دنیا کے کینوس پر بکھیرنا چاہتا ہے، جو اس کہانی میں آپ کو نظر آئیں گے… اور وہ انسان میں ہوں۔
    بہت سے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کچھ لکھنا یا کہنا انسان کو بہت خوشی دیتا ہے۔ مگر صرف اپنی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی بات کہنا یا لکھنا اس سے زیادہ خوشی دیتا ہے۔ اس تحریر میں، میں نے اپنی بات کہی ہے اسے پڑھتے ہوئے شاید آپ اسے ”اپنی بات” سمجھیں۔

    عمیرہ احمد




  • دربارِ دل — قسط نمبر ۲ (آخری قسط)

    میں نے اسے پہلی بار لبرٹی بکس پر دیکھا تھا۔ باربی کیو ٹونائٹ پر کھانا کھانے کے لیے بیٹھے بیٹھے بیٹھے مجھے اچانک کسی کتاب کا خیال آیا۔ اپنے دوست کو میں اس کی ٹیبل پر چھوڑ کر خود لبرٹی بکس کے اندر چلا آیا۔ اور وہیں پہلی بار میں نے مہر کو دیکھا۔ وہ سیاہ سلیولیس شرٹ پہنے ہوئے تھی اور میں نے سیاہ اور سفید کا اتنا خوبصورت Combination یا کنٹراسٹ جو بھی کہہ لیں… پہلی بار دیکھا تھا۔ اس کے تراشیدہ بال اس کے کندھوں اور پشت پر بکھرے ہوئے تھے اور وہ میگزین کی ورق گردانی کرتے ہوئے بار بار انھیں جھٹک رہی تھی اور ہر جھٹکے کے ساتھ اس کی مخروطی گردن کسی Swan کی طرح چند لمحوں کے لیے لمبی ہوتی پھر دوبارہ پہلے والی پوزیشن پر آ جاتی۔ اس کے ہونٹوں پر سرخ لپ اَسٹک لگی ہوئی تھی اور میگزین دیکھتے ہوئے وہ وقفے وقفے سے اپنے ہونٹ سکوڑ رہی تھی اور اس کے ہونٹوں کی ہر حرکت مجھے اس کی طرف کھینچ رہی تھی۔ اور اس کا فگر… کمال کا تھا… وہ ایک خوبصورت Painting تھی جو اس وقت لبرٹی بکس کے اندر ایستادہ تھی… Perfect… میں نے بے اختیار کہا… اگر وہ کہیں سڑک پر ہوتی تو میں پاس سے گزرتے ہوئے سیٹی بھی بجا دیتا… وہ سیٹی Deserve کرتی تھی…
    تین سال بعد پاکستان واپس آنے کے بعد یہ کسی لڑکی سے میرا اس طرح کا پہلا ”آمنا سامنا” تھا۔ تین سال پہلے پاکستان میں قیام کے دوران تو خیر روز ہی میں کئی لڑکیوں کو دیکھ کر اس طرح کے احساسات سے دوچار ہوتا تھا جس طرح کے احساسات سے مجھے اس لڑکی نے دوچار کیا تھا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں حسن پرست تھا بلکہ میں تو فخریہ طور پر اس بات کو کہتا ہوں کہ میں حسن پرست تھا… حسن کا مداح تھا اور خوبصورتی کو سراہتا تھا اور خوبصورتی اگر ایک عورت کی شکل میں ہو تو پھر تو سونے پر سہاگہ والی بات ہو جاتی ہے۔
    خیر میں سیاہ لباس والی لڑکی کی بات کر رہا تھا جو اس وقت مجھے لبرٹی بکس پر نظر آئی تھی اور جس نے چند لمحوں کے اندر مجھے اپنا معمول بنا دیا تھا۔ میں اس وقت اسے دیکھتے ہوئے یہ قطعاً بھول چکا تھا کہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ وہاں کھانا کھانے آیا تھا اور میرا وہ دوست آرڈر دینے کے بعد میرے انتظار میں باہر بیٹھا ہوگا اور اگر ویٹر نے کھانا سرو کر دیا تو… شاید مجھے کوس بھی رہا ہوگا۔
    یہ نہیں تھا کہ اس شاپ میں اور لڑکیاں نہیں تھیں… تھیں… یہ بھی نہیں تھا کہ میں نے زندگی میں پہلی بار کوئی خوبصورت لڑکی دیکھی تھی… میں روز درجنوں خوبصورت لڑکیاں دیکھتا تھا… مگر بعض چہرے پتہ نہیں آپ کے وجود کے کس حصے پر نقش ہوتے ہیں کہ آپ ان کو چاہنے کے باوجود اپنے اندر سے نکال نہیں پاتے۔ میں نے بھی مہر کے لیے ایسا ہی کچھ محسوس کیا تھا۔





    دنیا میں تین قسم کے مرد ہوتے ہیں ایک وہ جو خوبصورت لڑکیوں کو دیکھتے ہیں دوسرے وہ جو ہر لڑکی کو دیکھتے ہیں اور تیسرے وہ جو کسی لڑکی کو نہیں دیکھتے… اور یہ تیسری قسم کے مرد پاگل خانے میں ہوتے ہیں۔ میں خود پہلی قسم کے مردوں میں شامل تھا… صرف خوبصورت لڑکیوں کو دیکھتا تھا… خوبصورت اور فیشن ایبل… یا دوسرے لفظوں میں یہ کہیں کہ… "Presentable” لڑکیاں… اور مہر ایسی ہی ایک لڑکی تھی… اس کو دیکھا جا سکتا تھا، غور کیا جا سکتا تھا، چاہا جا سکتا تھا۔ ”کچھ اور” بھی کیا جا سکتا تھا مگر وہاں لبرٹی پر میں نے اس کو صرف دیکھا… اور ٹکٹکی باندھ کر دیکھا… لڑکیوں کو کوئی دیکھ رہا ہو تو انھیں فوراً پتہ چل جاتا ہے اور میں تو اسے گھور رہا تھا مگر مجال ہے اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا ہو… ہو سکتا ہے وہ ساری عمر اسی طرح دیکھی جاتی رہی ہو اور اس کے اندر سے یہ احساس ہی ختم ہو گیا ہو کہ کوئی اسے معیوب انداز میں دیکھ رہا ہے… مگر میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ وہ بھی مجھے ایک نظر دیکھے… میں خوبصورت مرد تھا کوئی بھی لڑکی مجھ پر دوسری نظر ڈالے بغیر نہیں رہ سکتی تھی… اور میں وہاں کھڑا تھا کہ دوسری نظر تو ایک طرف وہ پہلی بار تو دیکھے مجھے۔
    میں کتاب واپس شیلف میں رکھ کر میگزینز کے سیکشن کے پاس چلا گیا۔ اس سے بمشکل دو قدم کے فاصلے پر کھڑے ہو کر میں نے ایک میگزین ہاتھ میں لیا… کم از کم اب تو گردن موڑ کر دیکھ لیتی… نہیں وہ اسی انداز میں میگزین ”پڑھ” رہی تھی… یقینا پڑھ رہی تھی صرف دیکھنے والے تو اتنے محو نہیں ہوتے۔
    اور میں اس کے اتنا پاس کھڑا تھا کہ اس کے پرفیوم کی خوشبو کو محسوس کر رہا تھا اس کے برہنہ دودھیا بازو پر کندھے سے کلائی تک مختلف جگہوں پر تین تِل تھے۔ میرا دل چاہا میں اس کے بازو کو چھو کر دیکھوں۔ اس کی شرٹ کے Slits اتنے لمبے تھے کہ اس کی ٹراؤزرز نما پاجامہ سے اوپر سفید کمر کا ایک انچ کے برابر جسم بھی نظر آ رہا تھا… وہ دور سے حسین لگی تھی پاس آ کر میں سحر زدہ ہو گیا تھا۔ اس کی سیاہ مہین شرٹ اس کے دودھیا جسم کو چھپانے میں مکمل طور پر ناکام ہو رہی تھی اور میرے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہی تھی۔ گردن کے ہر جھٹکے کے ساتھ کچھ دیر کے لیے اس کے تراشیدہ بال اس کی ہیئت سے ہٹتے اور میری نظریں جسم کے اس حصے پر جم جاتیں جو شرٹ کے پچھلی طرف کھلے گلے کی وجہ سے عیاں تھا… بے اختیار میرا دل چاہا میں اس سے بات کروں۔
    ”کیا میں یہ میگزین دیکھ سکتا ہوں؟” مہر نے گردن کو ہلکا سا ترچھا کر کے مجھے دیکھا پھر انگلی کے اشارے سے ریک میں لگے اسی میگزین کی دوسری کاپیز کی طرف اشارہ کیا۔ میں بے ساختہ شرمندہ ہوا۔ ”سوری میں نے دیکھا نہیں تھا۔” میں نے کہا۔ ”اس سے بات کرنے کی خواہش پوری نہیں ہوئی مگر چلو اس نے ایک بار دیکھا تو سہی… میں نے دل کو تسلی دی بات تو پھر بھی کی جا… اس سے پہلے کہ میں ایک اور کوشش کرتا مہر میگزین ہاتھ میں لیے کاؤنٹر پر چلی گئی۔ میں منہ کھولے اسے دیکھتا رہ گیا۔ دو منٹ لگے ہوں گے اسے میگزین کی ادائیگی اور پھر لبرٹی بکس سے باہر نکلنے میں… اور میں اگلے دس منٹ اسی ہونق انداز میں منہ کھولے لبرٹی بکس کے گلاس ڈور سے باہر پارکنگ کو دیکھتا رہا جہاں وہ لبرٹی سے نکل کر ایک گاڑی میں بیٹھ کر گئی تھی۔ تو یہ مہر سے میری پہلی ملاقات تھی۔
    وہاں باہر اوپن ائیر میں بیٹھے اپنے دوست کے ساتھ اس رات میں کسی چٹنی کے بغیر Vegetable سیخ کباب کھاتا رہا… اور خود بولنے کی بجائے اپنے دوست کی باتیں سنتا رہا اور آس پاس بیٹھی خوبصورت لڑکیوں کو زندگی میں پہلی بار نظر انداز کرتا رہا۔ میرا ذہن صرف اس ایک لڑکی پر جماہوا تھا جو لبرٹی بکس سے باہر گئی تھی۔اس کے برہنہ دودھیا بازو کی پشت کا خوبصورت خم جو اس کے بالوں کے ہٹتے ہی نظر آتا، اس کے لمبے Slits سے نظر آنے والی کمر، اس کی مہین شرٹ سے نظر آنے والا جسم، اس کی لمبی گردن، اس کے ریشمی بال، سرخ لپ اَسٹک میں چھپے خوبصورت ہونٹ، اس کی گھنی پلکوں والی سیاہ آنکھیں… اور اس کے تین تِل… میرے خدا وہ مرد کتنا خوش قسمت ہوگا جو اس کا شوہر بنے گا۔
    ”مراد یار ذرا پیچھے مڑ کر دیکھو وہ سیاہ کپڑوں والی لڑکی کو۔” میرے دوست نے کھانا کھاتے ہوئے ٹیبل پر آگے جھک کر میرے کانوں میں جیسے سرگوشی کی۔ میں کرنٹ کھا کر پیچھے مڑا۔ وہ مہر نہیںتھی ایک اور لڑکی تھی ایک گہرا سانس لے کر میں نے گردن سیدھی کی… ”دیکھا؟” میرے دوست نے مجھ سے پوچھا۔ ”ہاں۔” میں نے پانی کا گھونٹ لیا۔ سیاہ لباس کی جو ”تباہ کاریاں” میں لبرٹی بکس پر دیکھ چکا تھا وہ ہر جگہ نظر نہیں آتی تھیں۔ ”اچھی ہے نا؟” میرے دوست نے رائے لی۔ ”اچھی ہے… ہر لڑکی اچھی ہے۔” میں لاپرواہی سے بڑبڑایا۔
    ……***……
    ”اگر ہر لڑکی اچھی ہے تو آخر پھر تم میری بات کیوں نہیں سنتے؟” ممی نے بہت غصے سے مجھ سے کہا۔ میں ناشتہ کرنے میں مصروف تھا اور وہ میرا سر کھانے میں…
    ”آپ کا سوال یہ ہونا چاہیے کہ میں آپ کی بات پر عمل کیوں نہیں کرتا؟” میں نے لاپرواہی سے ان کی تصحیح کی۔
    ”مجھے زہر لگتی ہے تمہاری ہر بات کو مذاق میں اڑا دینے کی عادت۔”
    ”وہ تپیں… اچھا چلیں میں اب سنجیدہ ہو جاتا ہوں اور۔” میں نے یک دم اپنی مسکراہٹ غائب کرتے ہوئے کہا۔
    ”تمھیں اب شادی کر لینی چاہیے۔” ممی نے تحمل سے کہا۔
    ”کیونکہ میری شادی کی عمر ہو چکی ہے اور اس لیے بھی کیونکہ میں آپ کا اکلوتا بیٹا ہوں اور اس لیے بھی کیونکہ آپ گھر میں تنہا ہوتی ہیں… دیکھ لیں مجھے آپ کا پورا سکرپٹ یاد ہے۔” میں نے ان کی بات کاٹ کر بڑے اطمینان سے فخریہ انداز میں کہا۔
    ممی کچھ لمحے خاموشی سے میرا چہرہ دیکھتی ہیں پھر انھوں نے صبر و تحمل کے سارے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا۔
    ”تم مجھے صرف یہ بتاؤ کہ میرے ساتھ سعیدہ کے گھر چلو گے یا نہیں؟” انھوں نے ایک بار پھر اپنی اسی دوست کا نام لیا جن کی اکلوتی بیٹی کے وجود نے پچھلے تین سال سے میری زندگی حرام کر رکھی تھی۔ Canada ایم بی اے کرنے جانے سے پہلے ممی کئی سالوں بعد اپنی اس دوست سے ملی تھیں اور وہ میری زندگی کا تاریک ترین دن تھا کیونکہ انھیں اپنی دوست کی باحیا، پارسا اور شریف بیٹی بے حد پسند آ گئی تھی۔ مجھے ان کی اس پسند پر بالکل اعتراض نہ ہوتا مگر بدقسمتی سے انھیں وہ لڑکی میرے لیے پسند آ گئی تھی۔
    ”ممی جب مجھے آپ کی فرینڈ کی بیٹی سے شادی ہی نہیں کرنی تو ان کے گھر جانے کا کیا فائدہ؟” میں نے بے حد سکون سے کہا۔
    ”تم ایک بار وہاں چلو تو… تم دیکھ لینا وہ لڑکی تمھیں بھی اتنی ہی پسند آئے گی۔ میں نے تین سال پہلے اسے دیکھا تھا اور تب سے آج تک اسے اپنے ذہن سے نہیں نکال سکی۔” ممی نے مجھ سے کہا۔
    ”جو نقشہ آپ اس لڑکی کا میرے سامنے کھینچتی ہیں وہ میری بیوی والا نہیں ہے۔” میں نے انھیں صاف صاف لفظوںمیں بلاشبہ 250 ویں بار بتایا۔ ”ایک بار دیکھنے میں تو کوئی ہرج نہیں۔” ممی نے کہا۔
    ”آپ اسے یہاں منگوا لیں میں دیکھ لوں گا۔” میں جملہ بول کر پچھتایا۔ ممی کا پارہ آسمان سے چھونے لگا تھا۔
    ”یہاں منگوا لوں؟ کوئی چیز ہے… جانور ہے… کیا ہے کہ یہاں منگوا لوں؟ خدا کسی کو اگر اکلوتی اولاد دے تو فرمانبردار دے…” میں نے ان کی بات کاٹی۔
    ”ورنہ زیادہ بچے دے اور سارے نافرمان دے تاکہ ایک اولاد کو بار بار نافرمانی کے طعنے دے دے کر اس کی زندگی اجیرن نہ کی جا سکے۔” میں نے چائے کا آخری گھونٹ اطمینان سے لیا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ ممی ناراضگی سے وہیں بیٹھی رہیں۔
    تین سال پہلے Canada جانے سے پہلے میری شادی یا منگنی ٹائپ کی کسی چیز کا مسئلہ پہلی بار زیر غور آیا تھا۔ ماؤں کا خیال ہوتا ہے کہ وہ بیوی کی صورت میں کوئی نکیل لا کر اپنے بیٹوں کے ناک اور منہ میں ڈال دیں گی اور اس کے بعد جدھر چاہے انھیں دوڑاتی پھریں گی… میری ممی بھی مختلف نہیں تھیں: پاپا اور وہ اپنی سوچ اور طور طریقوں کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ پاپا جتنے لبرل اور ماڈرن تھے۔ ممی اتنی ہی کنزرویٹو… بلکہ Rigid کا لفظ استعمال کروں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ مجھ پر ددھیال کا زیادہ اثر تھا اور ممی کو میرے ددھیال والے ایک آنکھ نہ بھاتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ میرے ویسٹرنائزڈ ہونے کی بنیادی وجہ میرے ددھیالی کزنز اور ان کی فیملیز ہی تھیں جو میرے ساتھ سکول کالج میں پڑھتے رہے اور جن کے گھر میرا بہت آنا جانا تھا۔
    اور بہت شروع سے ہی وہ اس خوف میں مبتلا ہو گئیں کہ اگر میں اپنے جیسی ہی کوئی آزاد خیال لڑکی پسند کر بیٹھا تو ان کا اور ان کی آنے والی نسل کا کیا ہوگا۔ وہ پہلے دبے لفظوں میں… پھر کھلم کھلا… اور پھر دو ٹوک الفاظ میں میری ہر گرل فرینڈ کا فون ریسیو کرنے کے بعد مجھے بتا دیتیں کہ انھیں ”کیسی” بہو چاہیے تھی۔ میں ہر بار ان کی ٹینشن کو کم کرنے کی کوشش کرتا اب گرل فرینڈز کے اس ہجوم میں میں بالآخر عمر کے اس حصے میں بیوی کی تلاش میں مصروف نہیں تھا جب سب کیرئیر بنا رہے ہوتے ہیں اور میں بھی تب سنجیدگی سے اگر کسی چیز کے بارے میں سوچتا تھا تو وہ کیرئیر ہی تھا… گرل فرینڈز پارٹیز، پھرنا پھرانا تو صرف شوق اور دلچسپی کی بات تھی۔
    ممی کے برعکس پاپا نے مجھے Free hand دے رکھا تھا۔ انھیں پرواہ نہیں تھی کہ میں گھر سے باہر کیا کرتا تھا اور کس کے ساتھ پھرتا تھا انھیں اگر کسی چیز میں دلچسپی تھی تو وہ میرے گریڈز تھے اور میرے گریڈز ہمیشہ شاندار رہتے تھے۔ ”تمہاری ممی کو خوامخواہ عادت ہے ہر چھوٹی چھوٹی بات پر ٹینشن لینے کی… تم پرواہ مت کیا کرو۔” وہ ممی کے ہر ”ایمان افروز” لیکچر کے بعد مجھے کہتے اور ممی کے لیکچر کا جو رتی برابراثر ہوتا وہ بھی زائل کر دیتے۔
    ”میں تمھیں منگنی کیے بغیر Canada نہیں جانے دوں گی۔” میرے گریجویشن کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر جانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہی انھوں نے میرے سر پر ایٹم بم پھوڑا تھا۔ میں لو میرج کرنا چاہتا تھا مکمل لو میرج… اپنی مرضی سے اپنی پسند کی لڑکی سے شادی اور ممی… وہ میرے راستے میں کانٹے بچھا رہی تھیں یا کنواں کھود رہی تھیں میں جان نہیں سکا۔
    ”یہ نری جہالت ہے صفیہ… سو سال پہلے لوگ اس طرح کرتے ہوں گے اب کون منگنیاں کر کے بیٹوں کو پڑھنے کے لیے باہر بھجواتا ہے۔” پاپا نے بے حد ناراضگی کے ساتھ میری حمایت میں ممی سے کہا۔
    ”آپ کا بیٹا اگر منگنی کے بغیر باہر گیا تو شادی کر کے واپس آئے گا۔” ممی نے جیسے پاپا کو خبردار کیا۔
    ”اگر میرا ایسا ارادہ ہوا تو وہ تو میں منگنی کے بعد بھی باہر سے شادی کر کے ہی واپس آؤں گا۔ آپ سمجھتی ہیں منگیتر نام کی چیز کوئی امام ضامن ہے جو باہر مجھے ہر لڑکی سے دور رکھے گی۔” میں نے خاصی بدلحاظی سے کہا اور یہ بدلحاظی مجھے خاصی مہنگی پڑی۔ پاپا نے خاصی درشتی سے مجھے ڈانٹا۔
    ”ہاں ڈھونڈو اس کے لیے کوئی لڑکی… بہتر ہے یہ منگنی کروا کر ہی باہر جائے۔” انھوں نے اعلان کیا اور میرے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔




  • دربارِدل — قسط نمبر ۱

    میرے سامنے ڈائننگ ٹیبل پر رکھے ہوئے گلاس میں موجود مشروب یک دم اور سیاہ ہو گیا تھا۔ گلاس کے کناروں پر میری لپ اسٹک کے نشان تھے۔ کوئی اُن نشانوں پر انگلی پھیر کر یا محض ایک نظر ڈال لینے پر یہ اندازہ کر سکتا تھا کہ میرے ہونٹ خوبصورت تھے۔ مشروب میں موجود برف کے کیوبز اب بہت ننھے ننھے سے رہ گئے تھے… چند لمحوںمیں وہ بھی تحلیل ہو جاتے… اس سیاہ مشروب میں غائب ہو جاتے بالکل اسی طرح جس طرح میں ہو رہی تھی… ابھی… اس وقت…
    میرے بائیں طرف ٹیبل کے سرے پر بیٹھا قہقہے لگانے والا مرد میرا شوہر تھا… اور ”وہ” تھا جیسے میں نے دنیا میں سب سے زیادہ چاہا تھا… ہنستے ہوئے اس کا ”سفید چہرہ” سرخ ہو رہا تھا… اور وہ ”سفید شرٹ” پہنے ہوئے تھا اور "D&G” کا آفٹر شیو اس کے وجود کو مہکا رہا تھا اور اس کی کلائی میں "Gucci” کی گھڑی تھی اور اس کی پلیٹ میں ”فرائیڈ چکن” کا ایک ٹکڑا اور اس کے گلاس میں ”لیمن سپرائٹ”… اور میں… میں… میں… دربارِ دل میں تھی… کسی نے میری آنکھوں سے پٹی اتار دی تھی مجھے ٹھیک طرح سے دیکھنے کے لیے آنکھیں جھپکنی بھی نہیں پڑیں… سب کچھ نظر آ رہا تھا… صاف نظر آ رہا تھا۔
    مگر میری بینائی کو واپس آنے میں بہت دیر لگ گئی تھی اتنی دیر کہ اب سامنے نظر آنے والے منظر پر مجھے یقین نہیں آ رہا تھا… خود اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لینے پر بھی میرا ذہن یہ سب کچھ تسلیم کرنے سے انکار کر رہا تھا… ذہن جو کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا آنکھیں اور دل نہیں مان رہا تھا… اور آنکھیں جو کچھ دکھانے کی کوشش کر رہی تھیں… ذہن اس پر یقین نہیں لا رہا تھا۔
    مجھے اپنا وجود یک دم برف کا بت بنتا محسوس ہوا تھا یا پھر کانچ کا مجسمہ… جو انگلی کی ہلکی سی ضرب سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا… یوں ڈھے جاتا جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں… میں نے اپنے ہونٹ بھینچنے کی کوشش کی… اور میرے ہونٹوں نے میرا ساتھ نہیں دیا ایک عجیب Defiance تھی جو میرے وجود کے ہر عضو میں اتر آئی تھی… مہر سمیع کا اپنا جسم اس کو Own کرنے سے انکار کر رہا تھا… وہ کسی اور کے اشارے پر چل رہا تھا… کسی اور کے اشارے پر؟… میں، میں پِس رہی تھی… مہر سمیع… میرا ذہن سب کچھ تسلیم کرنے کی سعی میں مصروف تھا۔
    اور مراد… وہ ہنس رہا تھا… میرا شوہر… وہ شخص جسے میں نے سب سے بڑھ کر چاہا تھا… وہ ہنس رہا تھا۔ اس کی ہنسی میں کانٹوں جیسی چبھن تھی… وہ مجھ پر ہنس رہا تھا… اور پھر میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے چھری اور کانٹے کو بھی یک دم ہنستے دیکھا… پھر ٹیبل پر میرے سامنے پڑی میری ڈنر پلیٹ… پھر میرا گلاس… باری باری سب ہنسنے لگے تھے اور پھر میز پر پڑی ہر شے… ہر چیز… ڈشز، پلیٹیں، چمچ، کانٹے، چھریاں، ڈونگے، گلاسز… سب اس کورس میں شامل ہو گئے تھے… پھر ٹیبل، کرسیاں، ڈیکوریشن پیسز، دیوار پر لگی Paintings، لائٹس، پردے، فرنیچر، ڈرائنگ روم اور ڈائننگ کی ہر شے قہقہے لگانے لگی تھی۔ ان سب کی نظریں مجھ پر تھیں اور ان سب کی انگلیاں بھی مجھی پر اٹھی ہوئی تھیں… وہاں کمرے میں موجود ہر شے کا جیسے ایک چہرہ اُگ آیا تھا اور ہر چہرے کی نظریں مجھ پر تھیں… اور میں… میں انھیں دیکھ نہیں پا رہی تھی۔
    میرے ہاتھ سے کانٹا پلیٹ میں گرا… مراد نے مجھے چونک کر دیکھا۔ ”کیا ہوا؟”… ”تم نے کھانا کیوں چھوڑ دیا؟” مراد نے مجھ سے پوچھا۔ اس کے لہجے میں تشویش تھی۔
    ”اور انسان شر کو اس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر کو بے شک انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔” سورة بنی اسرائیل پارہ 15۔
    ”بھابھی کیا ہوا؟” یہ مونس تھا… میرے شوہر کا بہترین دوست… ”آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟” وہ بھی مراد کی تشویش میں شامل تھا۔ میں نے اس کے چہرے کو دیکھا… اس کے نام کو دل میں دہرایا… مونس… مومی… بے یقینی تھی کہ بھنور کی طرح مجھے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھی اور میں بے بسی سے اس کی گرفت سے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ”پریکٹیکل جوک” کسی نے میرے سر پر کچھ مارا۔ ”500 روپے” ایک دوسری آواز نے سرگوشی کی۔ ”1000 روپے” آوازیں تھیں کہ بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔ میں نے سانس لینے کی کوشش کی… میں نے آوازوں کی بازگشت سے فرار ہونے کے لیے کوشش کی۔





    ”کیا بات ہے مہر؟” وہ پھر مراد تھا۔ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا مگر میرے ہاتھ نے اس کے ہاتھ کا لمس محسوس نہیں کیا۔ میں نے اپنے ہاتھ کو دیکھا… وہ لمس محسوس کیوں نہیں کر رہا تھا… کیا ”وہ” نہیں تھا؟… ”یا میں” نہیں تھی؟
    ”کھانا کھانا کیوں بند کر دیا؟” وہ پوچھ رہا تھا… ”میں کیوں کھا رہی تھی؟” میں سوچ رہی تھی۔ ”اس طرح کیوں دیکھ رہی ہو؟” اسے میری نظریں عجیب لگیں۔ ”اس طرح کیا دیکھ رہی تھی؟” میں نے سوچا… وہ تو کبھی بھی چہرہ نہیں تھا میرے لیے… صرف آواز تھی… پھر میں چہرے کو کیوں دیکھ رہی تھی؟… کیا دیکھ رہی تھی؟… جب آوازیں چہروں میں تبدیل ہوتی ہیں تو کیا وہ سب کو اسی طرح بھیانک لگتی ہیں جیسے مجھے لگ رہی تھیں… یا پھر یہ سب صرف میرے ساتھ ہی ہوا تھا…؟ میرے ساتھ ہی ہونا تھا؟…
    ”مہر کیا سوچ رہی ہو؟” آواز نے ایک بار پھر کہا… نہیں چہرے نے ایک بار پھر کہا… ہاں۔ یہ وہی تو تھا… وہی آواز… پھر آخر میں نے اسے Illusion کیوں سمجھا؟… کیوں جانا؟… میں نے اس کے ہاتھ کے نیچے سے اپنے ہاتھ کو کھینچا… میں اس کی نہیں تھی۔ میں کسی اور کی تھی… کس کی؟… میں نے دل کو ٹٹولا۔
    ”آئیے مہر سمیع… آپ بھی آئیے۔” دل نے مجھے خوش آمدید کہا۔ ”دیکھئے آپ نے کیا پایا ہے؟” وہ مسکرا رہا تھا ”جو پایا ہے… وہ کھرا ہے یا کھوٹا؟” وہ پوچھ رہا تھا۔ ”کھرا ہے تو کیا دام دیے ہیں؟” اس کا لہجہ عجیب تھا۔ ”کھوٹا ہے… تو کیا کھویا ہے؟” میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔
    میں دربارِ دل میں تھی… دل بادشاہ کے حضور… ”دیکھئے انجام محبت… اور کہیے آپ کہاں ہیں؟” وہ تمسخر سے کہہ رہا تھا۔ ”کیا محسوس کر رہی ہیں؟… کیا کہنا چاہتی ہیں؟”… کچھ کہہ پائیں گی؟… اب بھی؟… ابھی بھی…؟ دل نے ہنس کر مجھ سے کہا تھا… اور پھر میرے وجود سے اپنی زنجیریں ہٹا دی تھیں میں دل کی گرفت سے آزاد ہو گئی تھی… اتنے سالوں میں پہلی بار بوجھ ہٹا تھا… یا بوجھ بڑھا تھا؟
    ”جائیے آپ کو آزاد کرتے ہیں… انجام محبت دیکھ لینے والے دربارِ دل میں کیا ٹھہریں گے؟ وہ کہہ رہا تھا۔ ”جائیے۔” مگر میں کہاں جاتی… اب… اب… کہاں؟ اتنا بڑا دھوکہ کھا کے؟ ”میں نے دھوکہ نہیں دیا آپ کو… میں نے تو صرف فریب دیا تھا۔” وہ ہنسا۔ ”دھوکہ تو آپ نے خود کھایا ہے۔” اس کے ماتھے پر یک دم بل آئے… میں نے خود کو دربارِ دل سے باہر پایا۔
    ”آئی ایم سوری بھابھی…” یہ مونس تھا۔ ”اگر میری باتوں سے آپ کو تکلیف پہنچی ہے تو۔” مونس نے جیسے میری حالت کو Assess کرتے ہوئے نتیجہ نکالا تھا۔
    ”تکلیف پہنچی ہو تو؟” میں نے سوچا۔ ”کیا مجھے تکلیف پہنچی تھی؟” میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ تکلیف؟… یہ تکلیف کیا ہوتی ہے؟… کیا یہ تکلیف تھی جو میں محسوس کر رہی تھی؟… یا پھر بے عزتی تھی؟… یا پھر یہ پچھتاوا تھا؟… یا کوئی احساسِ زیاں تھا؟… یا یہ کچھ اور تھا؟… کچھ اور جس کو میں نام نہیں دے پا رہی تھی۔ جس کو کوئی نام نہیں دے سکتا تھا۔ ”مجھے اس موضوع پر بات کرنی نہیں چاہیے تھی۔” مونس وضاحت کر رہا تھا۔ ”مجھے اصل میں اندازہ نہیں تھا کہ آپ کو اتنا برا لگے گا ورنہ میں بات کرتے ہوئے محتاط رہتا۔” ”نہیں نہیں یار تم نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ تمھیں ایکسکیوز کرنی پڑے۔” مراد نے مونس کو ٹوکا تھا، وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ معذرت مونس کو نہیں کرنی چاہیے تھی… وہ کسی اور کو کرنی چاہیے تھی… میرے شوہر کو… مراد کو… مومی کو… یا پھر شاید مجھے۔
    ”مہر سمجھ دار لڑکی ہے وہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوتی ہے نہ برا مانتی ہے۔” مراد مونس کو تسلی دے رہا تھا۔ ”چھوٹی چھوٹی باتیں؟” میں نے اس کے الفاظ سنے۔ اس کے نزدیک ہر بات ہمیشہ چھوٹی چھوٹی ہوتی ہے… ہر بار… ہر بات… اور میں… میں کہاں کی سمجھ دار تھی… میں تو…
    میں نے کرسی چھوڑ دی اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی… مراد کے چہرے سے نظریں ہٹائے بغیر… چپ چاپ… میں نے ایک بار بھی اسے دیکھتے ہوئے پلک نہیں جھپکی تھی… میں نے دیکھا ہی پہلی بار تھا اسے… ایک سال میں پہلی بار میں نے اس چہرے کو دیکھا تھا… اس سے جس سے مجھے عشق تھا… نہیں عشق نہیں تھا کچھ اور تھا… عشق انسان سے خدا نہیں چھڑواتا… میں نے چھوڑا تھا… تو پھر کیا یہ عشق تھا؟… اگر عشق نہیں تھا تو پھر کیا تھا؟ ”اور انسان شر کو اس طرح مانگتا ہے جیسے خیر کو… اور بے شک انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔”
    ”مہر… مہر… رکو… کہاں جا رہی ہو؟” وہ مجھے پیچھے سے آوازیں دے رہا تھا… وہ جو میرا کچھ بھی نہیں تھا… اور میں… میں اگر پیچھے مڑ کر دیکھ لیتی تو ایک بار پھر پتھر کی ہو جاتی جیسے چار سال سے پتھر کی ہو گئی تھی۔
    ”بھابھی ناراض ہو گئی ہیں مراد… ہمیں یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔” مونس کہہ رہا تھا۔ ”وہ ناراض نہیں ہوتی… تم کھانا کھاؤ… میری اور اس کی بہت اچھی انڈر سٹینڈنگ ہے میں اسے منا لوں گا۔”
    وہ آخری جملہ تھا جو میں نے سنا تھا اس کے بعد میں ڈائننگ روم سے باہر نکل آئی… اور میں نے پہلی بار لاؤنج کو دیکھا… میں اس گھر میں پچھلے ایک سال سے رہ رہی تھی مگر میں نے ایک سال میں پہلی بار اس جگہ کو دیکھنے کی کوشش کی جو میرا گھر تھی اور میں اسے پہچان نہیں پائی… میں وہاں کیوں تھی؟… کیا تعلق تھا میرا اس گھر سے؟ میرا ذہن جیسے ماؤف ہو گیا تھا… کسی سوال کا جواب نہیں دے پا رہا تھا اور میں… میں چہروں کی شناخت کھو رہی تھی… یا پھر شاید پہلی بار کر رہی تھی۔
    پھر لاؤنج سے گزرتے ہوئے میں نے اپنے عکس کو آئینے میں دیکھا اور میں اسے بھی پہچان نہیں پائی… وہ کون تھی جو آئینے میں تھی… وہ میں تو نہیں ہو سکتی تھی۔ میں… مہر سمیع تو کوئی اور تھی… اور جو وہاں میرے سامنے آئینے میں تھی وہ کون تھی… ساڑھی میں ملبوس… کٹے ہوئے Streaked بال… زیورات سے لدا پھندا وجود میک اَپ سے لتھڑا چہرہ… کیوٹکس لگے لمبے ناخن… سلیولیس بلاؤز سے جھلکتے عُریاں بازو… مہر سمیع تو… میں نے بے یقینی سے آئینے کو دیکھا…پھر اپنے ناخنوں کو… پھر اپنے ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک کو پوروں سے چھوا… یہ سب کچھ کس وقت ہو گیا تھا؟… بے یقینی سی بے یقینی تھی… میں مہر سمیع تھی؟… مگر آئینے میں نظر آنے والا وجود کسی اور کا تھا… مگر آئینے کے سامنے میں تھی… مہر سمیع… تو پھر آئینے کے اندر کون تھا؟… کیا مہر سمیع؟… کوئی بھیانک خواب تھا جو ختم ہو گیا تھا یا پھر خواب شروع ہوا تھا؟

    **…**…**




  • شہرِذات — عمیرہ احمد

    ”خدا کا خوف کرو فلک! اتنی دیر میں لوگ چاند پر جا کر واپس آجاتے ہیں جتنی دیر میں تم صرف اپنی آنکھوں کا میک اپ کررہی ہو۔ میں تمہیں ایک بار پھر یقین دلاتی ہوں، وہاں سلمان انصر کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس لیے اتنے ہتھیاروں سے لیس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔”
    رشنا کی بیزاری اب اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی اور وہ سیدھا سیدھا طنز کرنے پر اتر آئی تھی۔ مگر اس کی کسی بات کا فلک پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ اسی سکون و اطمینان سے اپنی پلکوں پر مسکارا کی ایک اور کوٹنگ کرتی رہی۔
    ”اٹھ جاؤ فلک! اٹھ جاؤ ہم کنسرٹ پر جارہے ہیں کسی فیشن شو میں نہیں اب بس کرو۔” اس کی خاموشی نے رشنا کو کچھ اور تپایا۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر اس کے سامنے پڑی میک اپ کٹ کو اٹھا کر بند کر دیا۔
    ”تمہیں کیا تکلیف ہے یار! چند منٹ انتظار نہیں کرسکتیں؟” فلک نے اس کے ہاتھ سے میک اپ کٹ چھینتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے قطعاً کوئی تکلیف نہیں ہے مگر یار جتنی جانفشانی سے تم میک اپ میں مصروف ہو، اس سے تمہیں ضرور کوئی تکلیف ہو جائے گی۔”
    فلک اس کی بات کا جواب دئیے بغیر ایک بار پھر مسکارا لگانے میں مصروف ہو گئی۔ رشنا ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ کر ہلکی سی مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی فلک اپنے چہرے پر جمی اس کی آنکھوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میک اپ میں مصروف رہی۔
    ”فلک! تمہیں آخر میک اپ کی ضرورت ہی کیا ہے۔ تمہیں تو خدا نے پہلے ہی بہت مکمل بنایا ہے۔ میک اپ کی ضرورت تو ان لوگوں کو ہوتی ہے جن میں کوئی خامی کوئی کمی رہ گئی ہو۔ تم میں تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔” چند لمحے اس کے چہرے پر نظر جمائے رکھنے کے بعد رشنا نے کہا۔
    ایک دلکش مسکراہٹ فلک کے چہرے پر لہرائی۔ ایک خاص ادا سے دایاں ابرو اچکاتے ہوئے اس نے کہا۔





    ”جانتی ہوں مجھے میک اپ کی ضرورت نہیں ہے مگر سلمان کو میک اپ پسند ہے اور جو چیز اسے پسند ہے، وہ فلک کو کیسے ناپسند ہوسکتی ہے۔ مس رشنا کمال! یہ سب سنگھار صرف اسی ایک شخص کے لیے کر رہی ہوں تاکہ اس کی نظر کہیں اور نہ جاسکے۔ اگر کوئی چہرہ اس کے خیالوں میں رہے تو وہ یہی چہرہ ہو اگر کوئی وجود اس کی نظر کو اسیر کرے تو وہ یہی وجود ہو۔”
    فلک نے میک اپ کٹ بند کرکے دراز میں رکھ دی۔
    ”دل تو اس بندے کا پہلے ہی جیت چکی ہو اب باقی کیا رہا جسے حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ وہ بندہ تمہارے پیچھے اس قدر دیوانہ ہے کہ اس سب سنگھار کے بغیر بھی اس کی نظر تمہارے علاوہ کسی اور چہرے پر نہیں ٹکے گی۔”
    رشنا نے رشک آمیز حسرت سے کہا تھا۔ ایک تفاخر آمیز مسکراہٹ سے فلک اپنے تراشیدہ بالوں میں برش کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    خوبصورتی کی اگر کوئی حد ہوتی تو وہ حد فلک شیرافگن تھی۔ وہ مجسم حسن تھی جو نظر ایک بار اس چہرے کو دیکھ لیتی وہ دوبارہ کچھ اور دیکھنے کے قابل نہیں رہتی تھی۔ اسے نظروں کا اسیر کرنے کا ہنر آتا تھا۔ بعض دفعہ وہ اپنے وجود کو آئینے میں دیکھتی اور خود اپنے سحر میں گرفتار ہو جاتی اور پھر سوچتی۔
    ”اگر میں ایک عورت ہوتے ہوئے خود اپنے ہی عکس سے نظر ہٹا نہیں سکتی تو کسی مرد کے لیے یہ کتنا مشکل ہو گا۔”
    یہ احساس اسے بیٹھے بٹھائے قلوپطرہ بنا جاتا پھر وہ گھنٹوں آئینے کے سامنے بیٹھی سنگھار میں مصروف رہتی۔ بہت سے لوگوں کو دنیا میں صرف ایک چیز ملتی ہے اور بس ایک ہی چیز ملتی ہے۔ بعض لوگوں کو دنیا میں سب کچھ ملتا ہے اور سب کچھ ہی ملتا ہے، فلک شیرافگن دوسری فہرست میں آتی تھی۔ وہ شیرافگن جلیل کی اکلوتی بیٹی تھی اور شیرافگن جلیل ملک کے نامور انڈسٹریلسٹ تھے۔ اسے چاہا نہیں گیا تھا۔ بے تحاشا چاہا گیا تھا اگر اس کے ماں باپ کا بس چلتا تو وہ واقعی اسے اپنی پلکوں پر بٹھا لیتے۔ وہ خود پسند بھی تھی اور خود پرست بھی مگر کوئی اور خامی اس میں نہیں تھی یا شاید اس کا حسن کسی دوسرے کو اتنی جرأت ہی نہیں دیتا تھا کہ وہ فلک شیرافگن کی کوئی خامی ڈھونڈ پاتا۔
    اس نے ہر جگہ سے ستائش پائی تھی چاہے وہ گھر ہو یا سکول، کالج ہو یا یونیورسٹی۔ وہ لڑکیاں بھی جو اس سے حسد کرتی تھیں۔ کہیں نہ کہیں ان کے دل میں بھی اس سے دوستی کی خواہش ضرور دبی رہتی تھی۔ بعض دفعہ کوئی دل ہی دل میں اس سے سخت بدگمان ہوتا اسے ناپسند کرتا اس کے بارے میں دوسروں سے غلط باتیں کہتا اور پھر وہ ایک بار ہی اس سے مخاطب ہوتی، حال احوال پوچھتی، مسکراتی اور اگلا چاروں شانے چت ہو جاتا پھر اس میں کوئی مزاحمت ہی باقی نہیں رہتی تھی۔ اگلے کتنے دن وہ اسی احساس کے ساتھ ساتویں آسمان پر رہتا کہ فلک شیرافگن نے اس سے بات کی ہے اس کا حال احوال دریافت کیا ہے اسے دیکھ کر مسکرائی ہے۔ پھر وہ دوبارہ کبھی اس کی مخالفت کرنے کی جرأت نہ کر پاتا۔ وہ اکثر اپنے مخالفین کو اسی طرح چت کیا کرتی تھی۔
    وہ یونیورسٹی میں ایم ایف اے کر رہی تھی مگر اس کا حلقہ احباب لمبا چوڑا نہیں تھا۔ اس کے دوستوں کی تعداد محدود تھی۔ اس کی چند دوستیں وہی تھیں جن کے ساتھ اسکول کے زمانے سے اس کی دوستی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلق نہ صرف مضبوط ہوا تھا بلکہ اس کی دوستوں میں کوئی اضافہ بھی نہیں ہوا تھا۔ رشنا بھی اس کی ان ہی گہری دوستوں میں سے ایک تھی اور اس سے اور مریم سے ہی اس کا سب سے زیادہ میل جول تھا۔
    فلک کے لیے رشتے تب سے آنے شروع ہو گئے تھے جب وہ اسکول میں تھی۔ مگر شیرافگن نے بڑی خوبصورتی سے سب کو ٹال دیا تھا وہ چھوٹی عمر میں اس کی شادی کرنا نہیں چاہتے تھے ویسے بھی وہ جانتے تھے کہ فلک کے لیے کبھی بھی رشتوں کی کمی نہیں ہو گی۔ وہ نہ صرف بے پناہ خوبصورت تھی بلکہ ان کی ساری دولت کی بھی مالک تھی پھر ایسی سونے کی چڑیا کو پھانسنے کے لیے شکاریوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ کیوں نہ ہوتا۔
    وہ شروع سے کو ایجوکیشن میں پڑھی تھی اور شروع سے ہی اس کے پیچھے بھاگنے والوں کی فہرست بہت لمبی تھی۔ مگر فلک نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی تھی یا پھر شاید اس کو کسی میں اتنی کشش ہی محسوس نہیں ہوئی تھی کہ وہ اس کے بارے میں سوچتی بلکہ وہ اکثر اپنی فرینڈز کے ساتھ مل کر ایسے عشاق کا مذاق اڑایا کرتی تھی۔ رشنا اکثر اس سے کہا کرتی تھی۔ ”جو لوگ خود خوبصورت ہوتے ہیں، انہیں کسی دوسرے سے محبت ذرا کم ہی ہوتی ہے اور عشق تو دور کی بات ہے۔” وہ ہر بار اس کی باتوں پر قہقہہ لگایا کرتی تھی۔
    سلمان انصر سے اس کی ملاقات اپنی ایک دوست کی بہن کی شادی کی تقریب میں ہوئی تھی۔ آواری میں سوئمنگ پول کے کنارے ایک ٹیبل پر وہ اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی حسب معمول بہت سی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی اور اس بات سے آگاہ بھی تھی اور بے پرواہ بھی اپنی دوستوں کے کسی بات پر قہقہہ لگاتے ہوئے اس کی نظر سوئمنگ پول کے دوسرے کنارے پر موجود ایک ٹیبل پر پڑی تھی۔ سیاہ جینز اور اسی رنگ کی لیدر کی جیکٹ اور ٹی شرٹ میں ملبوس وہ بندہ اس ٹیبل کی سب سے خاص چیز تھا۔ وہ اتنی دور سے بھی اس کے چہرے کے نقوش کی خوبصورتی کو محسوس کر سکتی تھی۔ وہ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لڑکے کی بات سن رہا تھا اور ہاتھ میں پکڑے ہوئے گلاس سے کوک کے سپ لے رہا تھا۔ فلک چاہتے ہوئے بھی اس سے نظر ہٹا نہیں پائی۔ اپنی فرینڈ کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے وہ وقفے وقفے سے اسے دیکھ رہی تھی اور کچھ دیر بعد اچانک اسے احساس ہوا تھا کہ وہ صرف فلک کی توجہ کا مرکز نہیں تھا۔ کچھ اور نظریں بھی بار بار اس کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ اور اس احساس نے پہلی بار اسے حسد سے روشناس کروایا تھا۔ اس کے دل میں بڑی شدت سے اس کے پاس جانے کی خواہش پیدا ہوئی۔
    ”رشنا! یہ سوئمنگ پول کے دوسری طرف ٹیبل پر بلیک آؤٹ فٹ میں جو بندہ ہے، اسے جانتی ہو؟”
    اس نے اچانک رشنا سے سرگوشی میں پوچھا جو اس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی رشنا نے نظر دوڑائی تھی۔ ”نہیں یار یہ کوئی نیا بندہ ہے کم ازکم میں واقف نہیں ہوں۔” اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا تھا۔
    پھر فلک نے یہی سوال ٹیبل کے گرد بیٹھی ہوئی اپنی دوسری دوستوں سے کیا تھا۔ سب کا جواب نفی میں تھا۔
    ”رمشہ سے پوچھو، میرا خیال ہے، یہ اس کے بہنوئی کا کوئی دوست ہو گا۔” رشنا نے اس سے کہا تھا۔ وہ رشنا کے ساتھ اٹھ کر اسٹیج کی طرف آگئی تھی۔ وہاں رمشہ، دولہا دلہن کے ساتھ بیٹھی تصویریں بنوا رہی تھی۔ فلک نے اسے ایک طرف بلوایا اور اس بندے کے بارے میں پوچھا تھا وہ اپنے بھائی سے اس کے بارے میں پوچھنے گئی تھی۔
    ”یہ سلمان انصر ہے، اسد بھائی کا کزن ہے۔” اس نے آکر اپنے بہنوئی کا نام لیا تھا۔ فلک نے اس سے کہا تھا کہ وہ اسے اس سے ملوائے۔
    ”اچھا چلو ٹھیک ہے۔ اسد بھائی کا چھوٹا بھائی جمشید بھی اسی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس کے پاس تمہیں لے جاتی ہوں ظاہر ہے وہ خود ہی ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کا تعارف کروا دے گا۔ ” رمشہ نے اس ٹیبل پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
    فلک دھڑکتے دل کے ساتھ رمشہ کے ساتھ اس ٹیبل کی طرف آگئی تھی۔ وہ دور سے جتنا خوبصورت نظر آرہا تھا پاس آکر اس سے زیادہ اچھا لگا تھا اسے۔ رمشہ کے ساتھ جب وہ اس ٹیبل کے پاس پہنچی تو رمشہ نے جمشید سے اس کا تعارف کروایا تھا پھر جمشید نے باری باری ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے لڑکوں کا تعارف ان سے کروایا تھا۔
    سلمان انصر نے اپنے تعارف پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہیلو کہا تھا۔ پھر وہ پہلے کی طرح ارد گرد نظر دوڑانے میں مصروف ہو گیا تھا۔ فلک کے لیے یہ بات حیران کن تھی۔ وہ اس ٹیبل پر بیٹھے ہوئے دوسرے لڑکوں کی طرح اسے ستائشی نظروں سے نہیں دیکھ رہا تھا۔ اس کے دل کو کچھ ٹھیس لگی تھی، کچھ دل گرفتہ سی وہ واپس اپنی میز پر آگئی تھی۔ فنکشن کے اختتام تک اس کی توجہ اسی پر مرکوز رہی تھی مگر اس نے سلمان انصر کو ایک بار بھی اپنی طرف متوجہ نہیں دیکھا۔
    اگلے کئی دن وہ اس کے بارے میں سوچتی رہی۔ وہ چہرہ جیسے اس کے دماغ میں کہیں فیڈ ہو گیا تھا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اسے اپنے ذہن سے جھٹک نہیں پارہی تھی۔
    سلمان انصر سے اس کی دوسری ملاقات Pace میں ہوئی تھی۔ وہ ہاتھوں میں کچھ شاپنگ بیگز تھامے باہر کی طرف آرہا تھا۔ جبکہ وہ اندر جارہی تھی۔ اسے سامنے سے آتے دیکھ کر فلک کے قدم رُک گئے۔
    ”ہیلو!” پاس آنے پر فلک نے بے تابی سے اسے مخاطب کیا وہ کچھ حیران ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک نہیں تھی۔
    فلک کو شاک لگا۔ ”کیا مجھ میں ایسی کوئی بات بھی اسے نظر نہیں آئی کہ یہ مجھے یاد رکھتا۔” اس نے سوچا تھا۔
    ”سوری، میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے۔”
    فلک نے کچھ دل گرفتہ ہو کر دو ہفتے پہلے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتایا۔
    وہ ایک دم مسکرایا۔ ”مجھے یاد آگیا کیسی ہیں آپ؟”
    اس کی مسکراہٹ نے فلک کی ساری سنجیدگی دور کر دی تھی ”میں ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟”
    ”فائن۔”
    ”اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کیا میں آپ کو لنچ کی آفر کر سکتی ہوں؟” اس نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر اس سے کہا تھا۔
    وہ اس اچانک آفر پر کچھ حیران ہوا تھا۔
    ”لنچ آل رائٹ چلیں۔” چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے کہا تھا۔
    دونوں باہر نکل آئے۔ فلک نے اپنے ڈرائیور کو واپس بھجوا دیا۔ سلمان کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے اسکا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
    ”کہاں چلیں؟” اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا تھا۔
    ”فیوجی یاما۔” وہ گاڑی کو ریورس کرتے ہوئے سڑک پر لے آیا تھا۔




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۱۰ (آخری قسط)

    وہ اس بوڑھے بھکاری کے پاس فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ ہاتھ میں پکڑا آدھا برگر اس نے اس کے سامنے رکھ دیا۔ بوڑھا اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ وہ تاش کے پتوں سے گھر بنا رہا تھا… بے حد انہماک بے حد محویت سے یوں جیسے وہ واقعی اصلی گھر تھا… بلاکس سے بننے والا… وہ یوں بیٹھی انہماک سے اس گھر کو دیکھ رہی تھی جیسے وہ اسی کام سے وہاں آئی تھی… 52 پتوں سے بننے والا گھر… وہ سانس روکے پلکیں جھپکائے بغیر پتوں کے اس گھر کو مکمل ہوتے ہوئے دیکھے جا رہی تھی… بوڑھا کپکپاتے ہاتھوں سے آخری دو پتے… رکھنے جا رہا تھا… آخری دو پتے… پھرگھر مکمل ہو جاتا… وہ اب پتے رکھ رہا تھا… اب… اب… ہوا کا ایک جھونکا آیا… یا شاید اس کا ہاتھ کانپا… یا شاید پتے ٹھیک سے رکھے نہیں جا سکے… کچھ ہوا تھا… پورا گھر زمین بوس ہوگیاتھا… بوڑھے نے ایک گالی دی… زینی نے گہرا سانس لیا… آج بھی گھر نہیں بن سکا تھا… ہرروز ان ہی آخری دو پتوں کو رکھتے رکھتے گھر ٹوٹ جاتا… وہ روز یونہی اسی انہماک سے بیٹھ کر گھر دیکھتی جیسے کسی دن تو وہ معجزہ ہو ہی جانا تھا… لیکن وہ معجزہ اب تک نہیں ہوا تھا۔
    ”Hard luck” اس نے بوڑھے سے افسوس کیا اور پانی کی آدھی بوتل بھی اس کے پاس ہی چھوڑ دی۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ اس کا راستہ تھا وہ روز وہاں کام پر جاتے اور آتے ہوئے گزرتی تھی۔ جاتے ہوئے وہ جلدی میں ہوتی رکنے کا وقت نہیں ملتا تھا لیکن آتے ہوئے یہ فٹ پاتھ اور اس پر بیٹھے ہوئے یہ پانچ بھکاری اس کے لیے جیسے amusement parkمیں تبدیل ہوجاتے تھے۔ وہ انہیں تقریباً روزانہ ہی کچھ نہ کچھ دیتی تھی… کبھی چند سکے کبھی چند ڈالر… کبھی کھانے پینے کی چیزیں… اور کبھی آنسو… جو وہ وہاں کسی نہ کسی کے سامنے بیٹھ کر بہاتی تھی… وہاں کون اسے جانتا یا پہچانتا تھا کہ حیرت زدہ ہوتا یا اس پر ترس کھاتا یا اس سے پوچھتا… نہ وہ ان میں سے کسی سے کچھ پوچھتی تھی نہ ان میں سے کوئی اس سے کچھ پوچھتا تھا… جو واحد جملے ان کے درمیان کبھی کبھار exchange ہوتے وہ موسم کے بارے میں تھے… یا greetings یا شکریے کا اظہار… یا پھر وہی۔۔۔۔” bad luck” ،”hard luck” ، ”nice effort”، ”good show”… جو وہ ان میں سے کسی نہ کسی سے کہتی تھی۔
    اگلا سیاہ فام گٹارسٹ اس دن پتہ نہیں کونسا گانا اپنے گٹار پر بجا رہا تھا وہ پہچان نہیں پائی ورنہ اتنے عرصے سے وہ ان پانچ چھ ٹیونز کو پہچاننے لگی تھی جو تقریباً وہ ہر روز بجاتا تھا… اور اس نے باری باری اس سے ان میں سے ہر گانے کے lyrics اور سنگر کے بارے میں پوچھا تھا۔
    لانگ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ بے مقصد اس کے سامنے کھڑی اس کو سنتی رہی… اسے لگتا اسے دیکھ کر وہ ہمیشہ بڑی محنت اور زیادہ توجہ سے بجاتا تھا… وہ اسی کے پاس کھڑے گٹار کو سنتے سنتے بعض دفعہ رونے لگتی تھی… اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا تھا… جیسے آج بھی نہیں ہوا تھا۔ گانا ختم ہونے کے بعد لانگ کوٹ کی جیب میں موجود سکوں میں سے ایک سکہ نکال کر اس نے اس کے سامنے پڑے ہیٹ میں ڈالا تھا اور پھراپنے گیلے گالوں کو صاف کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔




    وہ Spanish ہپی آج نہ گیندوں کو ہوا میں آچھال رہا تھا نہ گلاسز کو… وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا… اور ایسا تب ہوتا جب وہ بہت زیادہ نشے میں ہوتا… اور ہفتے میں ایک دو بار ایسا ضرور ہوتا جب وہ بالکل کسی مردہ جانور کی طرح فٹ پاتھ پر اپنی مخصوص جگہ پر پڑا رہتا… کوئی اسے کچھ دے کر جاتا یا اس کے سامنے پڑے سکے لے جاتا اس کو پتہ نہیں چل سکتا تھا۔ وہ کرتب دکھا رہا ہوتا تو وہ کچھ دیر اس کے سامنے کھڑی رہتی… ہوا میں اچھالی جانے والی چیزوں میں کوئی دلچسپی لیے بغیر… وہ صرف اس کی انگلیوں، کلائیوں اور گلے میں پڑے عجیب عجیب پتھروں والے بینڈز اور زیورات کو دیکھتی رہتی تھی… ان میں سے کون سا پتھر اس نے کس مقصد کے تحت پہنا تھا یہ شاید وہ اب خود بھی نہیں بتا سکتا تھا… جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک سکہ اس نے اس کے سامنے پڑے گلاس میں ڈال دیا وہ اس دن کا پہلا سکہ تھا جو کسی نے اس ہپی کے گلاس میں ڈالا تھا۔
    اگلا بھکاری ایک سیاہ فام نوجوان تھا… اور یہ واحد بھکاری تھا جس کے پا س وہ سب سے کم وقت گزارتی تھی… وہ فلوٹ بجاتا تھا اور اسے بے حد عجیب لگتا تھا… اس نے کسی کو اتنا برا فلوٹ بجاتے زندگی میں نہیں سنا تھا اور وہ شاید یہ سمجھتا تھا کہ وہ بہت اچھا بجاتا تھا اس لیے وہ اپنے پاس رکنے پر ہر شخص کے لیے پہلے سے بھی کوئی خراب دھن بجاتا تھا… زینی کو بعض دفعہ اس کی ”محنت” پر ہنسی آتی… اسنے اپنے سامنے ڈرمز اور سکسا فون بھی رکھے ہوئے تھے لیکن ایسا بہت کم ہوا کہ زینی نے اسے ان میں سے کسی انسٹرومنٹ کو بجاتے دیکھا ہو… وہ صرف فلوٹ ہی بجاتا تھا… کم از کم زینی کے آنے پر… اور آہستہ آہستہ زینی کو احساس ہو نے لگا کہ وہ اسے asian سمجھ کر صرف اس کے لیے فلوٹ بجا رہا تھا… اسے pleaseکرنے کے لیے اسے یقین تھا وہ اسے انڈین سمجھ رہا ہو گا… بعض دفعہ وہ اسے بھکاری نہیں لگتا تھا… چند ایک بار وہ کچھ دنوں کے لیے وہ وہاں سے غائب بھی ہوا… لیکن پھرواپس آگیا… زینی کو وہ کبھی نشے میں محسوس نہیں ہوا تھا اس کے باوجود اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ وہاں اس فٹ پاتھ پر کیوں بیٹھا رہتا تھا… بھیک کیوں مانگتا تھا… اور ہر وقت فلوٹ کیوں بجاتا تھا… جیب سے ایک سکہ نکال کر اس نے ہمیشہ کی طرح اس کے پاس پڑے ایک ڈبے میں اچھال دیا… پھر ہمیشہ کی طرح چلتی ہوئی فٹ پاتھ کے آخر میں بیٹھی اس میکسیکن عورت کے پاس پہنچ گئی جو پھر وہی سکیچ بنا رہی تھی جو وہ ہمیشہ بناتی تھی… ہمیشہ… وہی مرد… وہی خوبصورت مرد… زینی آنکھیں بند کیے بھی اس مرد کے نقوش بتا سکتی تھی… وہ میکسیکن عورت کاغذ پر اس مرد کا چہرہ سکیچ کرتی تھی اور اس کے ہاتھ کی ہر حرکت کے ساتھ زینی کے ذہن پر کسی ”اور” مرد کے نقوش ابھرنے لگتے تھے… اس عورت نے اس مرد کا چہرہ بناتے ہوئے کبھی سر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا… بس پاگلوں کی طرح وہ اپنے کام میں لگی رہتی تھی… اور بعض دفعہ تو وہ زینی کو پاگل ہی لگتی تھی… بعض دفعہ ہر کوئی کسی دوسرے کو پاگل ہی لگتا ہے… وہ ادھیڑعمر عورت تھی… وہ نوجوان مرد تھا… پتہ نہیں وہ کتنے سالوں سے اسی ایک چہرے کو بناتی آرہی تھی… یا ہو سکتا ہے وہ ابھی کچھ عرصہ پہلے سے… اندازہ لگانا مشکل تھا… لیکن یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس مرد کے ساتھ عورت کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا… اس کے نقوش میں اس عورت کے نقوش نہیں تھے۔
    وہ بہت دیر اس عورت کے پاس کھڑی اس چہرے کو کاغذ پر ابھرتے دیکھتی جب سکیچ مکمل ہو جاتا تو عورت بہت سارے دوسرے سکیچز کے ساتھ اس کاغذ کو رکھ کر ایک نیا سکیچ بنانے لگتی تھی… زینی کو کبھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ان پرانے سکیچز کو کیا کرتی تھی… پھینکتی تھی… پھاڑتی تھی یا کہیں رکھ آتی تھی۔
    اس نے اپنی جیب میں موجود آخری سکہ اس عورت کے سامنے رکھا اور فٹ پاتھ کا موڑ مڑ آئی… اداسی آج بھی اتنی ہی گہری تھی جتنی روز ہوتی تھی… اور صرف سڑک کا یہ وہ حصہ تھا جس سے گزر کر چند لمحوں کے لیے کم ہو جاتی تھی… پھروہ اس فٹ پاتھ کو پیچھے چھوڑ آتی… آگے وہ بلڈنگ تھی جہاں 23 ویں منزل پر اس کا اپارٹمنٹ تھا… اور جہاں کی حالت اتنی ہی ڈپریسنگ تھی جتنا باہر سڑک کا ماحول تھا۔
    وہ کینیڈا آنے کے بعد شروع میں ایک بہتر علاقے میں تھی… بہتر لیکن مہنگے… اور چند ماہ میں کام حاصل نہ کر پانے پر اسے وہ علاقہ چھوڑنا پڑا تھا… جہاں بالآخر اسے کام ملا اس کے قریب ترین یہی علاقہ تھا… یہاں وہ لوگ رہتے تھے جو کینیڈا میں آجانے کے بعد struggle کرنے کے دور سے گزر رہے تھے… جو اپنے اپنے ملکوں اور اپنی اپنی سوسائٹیز کے outcast تھے اور وہ اس خواب کے ساتھ وہاں آئے تھے کہ ایک دن وہ کسی نہ کسی فیلڈ میں کسی نہ کسی طرح excel کریں گے… وہ علاقہ کسی کا بھی ”انتخاب” نہیں تھا… ”مجبوری” تھی… سیڑھی کا پہلا پائیدان… صرف وہ تھی جو سیڑھی کے آخری پائیدان سے اتر کر پہلے پائیدان پر آکر کھڑی ہوئی تھی… کامیابی کو ”چکھ ” لینے کے بعد کامیابی کی خواہش یا خواب کے بغیر… ایک ایک پائی بچانے کی جدوجہد کے بغیر وہ وہاں شاید اپنی زندگی گزارنے نہیں آئی تھی… زندگی ضائع کرنے آئی تھی۔
    اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر وہ اندر چلی آئی۔ ہمیشہ کی طرح بے حد ”سرد خاموشی” نے اس کا استقبال کیا تھا۔ دن ڈوب رہا تھا۔ سٹنگ ایریا کی کھڑکیاں اب روشنی اندر لانے میں ناکام ہو رہی تھیں۔ اس نے لائٹ آن کر دی۔ اپنا لانگ کوٹ اور جوتے اتارتے ہوئے وہ آگے بڑھ آئی۔ ہاتھ میں پکڑا پرس کچن کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے وہ کھڑکیوں کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی… یہ اس کا روز کا معمول تھا کام سے واپس آنے کے بعد ان کھڑکیوں کے سامنے کھڑے ہو کر باہر دیکھنا… گزری ہوئی زندگی کو کسی فلم کی طرح ان کھڑکیوں کے شیشوں پر دیکھنا… تکلیف دہ مناظر سے بچنے کی کوشش کرنا… چبھنے والے جملوں کو سماعتوں سے غائب کرنے کی جستجو کرنا… اور پھر پچھتاوا… وہ جیسے روز خود احتسابی کے عمل سے گزرتی تھی… وہ جیسے روز بے یقینی کا شکار ہوتی تھی… جو کچھ ”پری زاد” کرتی رہی تھی… وہ ”زینب ضیائ” کیسے کر سکتی تھی… کیسے؟ اس کے اندر اتنی نفرت، اتنا غصہ، انتقام کا ایسا جذبہ کہاں سے آگیا تھا… یہ عفریت اس نے کس طرح پال لیا تھا… وہ تو زینی تھی اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر اس کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہہ دینے والی سیدھی سادھی لڑکی… پھر اسے کیا ہو گیا تھا؟
    وہ کھڑکی کے سامنے سے ہٹ آئی… ہر بار اس سوال کے آتے ہی وہ شکست خوردہ انداز میں کھڑکی کے سامنے سے ہٹ آتی تھی… فریج میں کل کا پکایا ہوا کھانا ابھی بھی پڑا تھا… وہ اسے نکال کر گرم کرنے لگی… کئی سالوں کے بعد وہ یہاں آکر کھانا پکانے لگی تھی… اور جب پکانے لگی تو اسے احساس ہوا کہ وہ کچھ بھی نہیں بھولی تھی… ہر کھانے کی ترکیب وہ جیسے مشینی انداز میں ذہن میں لاتی… لیکن کسی بھی کھانے کا ذائقہ ویسا نہیں تھا جیسا پہلے تھا… جیسا اس کے گھر میں ”زینی” پکاتی تھی کوئی بھی چیز لاکھ جدوجہد کے بعد اب ویسی نہیں بنتی تھی… اسے پہلے بے بسی کا احساس ہوتا تھا… رونا بھی آتا تھا پھر جیسے اس نے اس بدلے ہوئے ذائقے کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا… یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اس کے ہاتھ کی تاثیر میں کمی آگئی تھی…
    وہ اب رزق حلال کماتی تھی… رزق حلال کھاتی تھی… وہ یہاں آنے سے پہلے ہر وہ چیز کسی نہ کسی کو دے آئی تھی یا چھوڑ آئی تھی جسے اس نے رزق حرام سے پایا تھا… جو چند لاکھ روپے وہ یہاں لے کر آئی تھی وہ اس گھر کو بیچ کر لائی تھی جو ضیاء کا تھا وہ واحد اثاثہ تھا جو اس نے اپنی فیملی سے مانگ کر لیا تھا… کہیں نہ کہیں وہ اپنے ذہن میں آج بھی اپنے باپ کی بات پر یقین رکھے ہوئے تھی کہ رزق حلال میں برکت ہوتی ہے… وہ اس برکت کا اثر اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتی تھی… کہیں نہ کہیں وہ آج بھی اپنے باپ کی بات کی آزمائش چاہتی تھی… اور وہ پیسے واقعی ابھی تک ختم نہیں ہوئے تھے… کسی نہ کسی طرح سے چل رہے تھے… اس کی زندگی میں ویسا سکون نہیں تھا جیسا وہ چاہتی تھی لیکن سکون تھا… وہ مقابلے کی دوڑ سے نکل کر جیسے اطمینان سے تماشائیوں میں جا کھڑی ہوئی تھی۔
    سٹر فرائیڈ، ویجیٹیبلز اوربوائلڈ رائس، وہ یہاں آکر کئی سالوں کے بعد ”کھانا” کھانے لگی تھی… ڈائیٹنگ کے نام پر چھوڑی جانے والی تمام چیزیں… وہ انگلیوں کی پوروں کے ساتھ لقمے بنا کر چاول کھاتی رہی… اسے کینیڈا میں آئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہونے لگا تھا… پیچھے پاکستان میں کیا ہو رہا تھا… شوبزمیں کیا ہو رہا تھا… وہ جیسے بھول گئی تھی۔
    واحد رابطہ جو اس کا کسی کے ساتھ تھا وہ نفیسہ تھیں… جنہیں وہ کبھی کبھار فون کرتی… ان کی شادی کر لینے کی ہدایت اور تشویش سنتی… اپنے بہن بھائیوں کے بارے میں جانتی اور فون رکھ دیتی… وہ اس کے لیے روٹین کی باتیں ہوتی تھیں… وہ سب اب امریکہ میں اکٹھے تھے… ایک سٹیٹ میں… تھوڑے سے فاصلے پر… اور اپنی اپنی زندگی میں settled اور خوش تھے… ان میں سے کسی کی زندگی میں زینی نام کا کوئی خلا نہیں تھا جسے وہ جا کر پر کرتی… ان سب کے لیے وہ اب ایک outsider تھی اور زینی نے اپنے اس سٹیٹس کو قبول کر لیا تھا۔
    دس منٹ میں کھانا ختم کرنے کے بعد اس نے ان چند برتنوں کو صاف کیا اور کچن سے باہر آگئی۔
    مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد عشاء کی نماز تک وہ قرآن پاک پڑھتی رہی… یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ یہ وہ قرآن پاک تھا جسے کبھی ضیاء پڑھا کرتے تھے اور اسے پڑھتے ہوئے بہت بار وہ اپنے ارد گرد ضیاء کی مہک محسوس کرنے لگتی تھی… بہت بار اسے لگتا وہ وہیں کہیں ہیں اس کے آس پاس بہت قریب… لیکن بہت دور… بہت دفعہ اسے قرآن پاک کے صفحات پر اپنے باپ کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہونے لگتا… وہ ہر لائن کے نیچے انگلی پھیرتے تھے… وہ بھی ہر لائن کے نیچے انگلی پھیرا کرتی تھی… کبھی کبھار بھول جاتی… اور پھر احساس ہونے پر دوبارہ اسی طرح انگلی پھیرنے لگتی تھی۔
    ضیاء کو اتنے سالوں میں اس نے کبھی خواب میں نہیں دیکھا تھا… کبھی نہیں… لیکن ان کی خوشبو کو بھی اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا جس طرح وہ اب کرنے لگی تھی… اس ایک سال میں بہت بار تہجدمیں روتے ہوئے اسے لگتا ضیاء اس کے پاس آبیٹھے تھے… ناراض لیکن بے چین… خفا لیکن اس کے پاس… سارا قصور اس کا قصور تھا… ساری غلطی اس کی غلطی تھی… وہ ہمیشہ روتی تھی لیکن کچھ کہے بغیر… کوئی گلہ کوئی شکایت کیے بغیر… سب نے اس سے بہت کچھ کہا تھا صرف ایک ضیا نے ہی کچھ نہیں کہا تھا… وہ اب سننا چاہتی تھی باپ سے… یہ جاننے کے باوجود کہ اس نے ضیاء سے کیا کہا تھا… وہ جیسے چاہتی تھی کہ باپ بھی ملامت کرے… سب کچھ کہہ دے… پر بات کرے اس سے… لیکن وہاں خاموشی تھی… اور خاموشی اسے رلاتی تھی… باپ کی خفگی اتنے سالوں میں اس طرح پہلی بار چبھی تھی اسے… تب جب وہ ”میں جو کچھ کر رہی ہوں ٹھیک کر رہی ہوں” کے زعم سے باہر آگئی تھی۔
    ”اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑارحیم ہوتا ہے زینی۔” وہ شاید پانچ چھ سال کی تھی جب اس نے پہلی بار اپنے باپ کے منہ سے سنا تھا۔ وہ رات کو ان کے ساتھ سوتی تھی اور سوال پوچھ پوچھ کر ان کا کتنا وقت ضائع کرتی تھی اسے احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ ”سب کو معاف کر دیتا ہے؟” اس نے باپ کے سینے سے سر اٹھا کر ضیاء کا چہرہ دیکھا۔
    ”ہاں سب کو” ضیاء نے اطمینان سے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں؟” وہ اس کی بات پر بے اختیار ہنسے۔
    ”کیونکہ وہ ہمارا رب ہے۔ اس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ وہ ہم سے بڑی محبت کرتا ہے۔” انہوں نے اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے کہا۔
    ”کتنی محبت کرتا ہے؟” وہ بے حد سنجیدہ تھی۔
    ”ستر ماؤں جتنی۔”
    ”آپ جتنی نہیں۔” وہ جیسے بے حد مایوس ہوئی۔
    ضیاء کھلکھلا کر ہنستے رہے۔ انہوں نے اسے لپٹا لیا تھا۔
    ”ہاں میرے جتنی بھی بلکہ مجھ سے بہت زیادہ۔”




  • من و سلویٰ — قسط نمبر ۹

    سعید نواز نے زینی اور شیرازکے تعلق کے بارے میں پتا کروایا یا نہیں لیکن بہر حال انہوں نے دوبارہ شیراز سے اس سلسلے میں بات نہیں کی تھی اور یہ شیراز کے لیے جیسے معجزے سے کم نہیں تھا اور اس نے اس معجزے کے لیے کتنی دعائیں مانگی تھیں، یہ صرف وہی جانتا تھا۔ اگلے چھ ماہ وہ بے حد محتاط رہا تھا۔
    زینی سے رابطے کا تو فی الحال سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کیونکہ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ زینی اس کے خلاف اپنے دل میں کتنا غصہ رکھتی تھی۔ شیراز نے ان چند ”گرل فرینڈز” کے ساتھ بھی ہر طرح کا رابطہ منقطع کر دیا جن کے ساتھ وہ پچھلے کچھ عرصہ سے انوالوڈ تھا۔
    شینا کی زبان پر کچھ عرصہ تک پری زاد کا ذکر اور اس کے حوالے سے طعنے رہے تھے مگر پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا پری زاد جیسے قصہ پارینہ بنتی گئی۔
    شیراز اس عرصہ میں آیک فرمانبردار شوہر بن کر دکھانے کے لیے جتنی کوشش کر سکتا تھا وہ کرتا رہا تھا۔ دفتر اور گھر کے علاوہ اپنی سوشل لائف مکمل طور پر کاٹ دی تھی۔ دوبارہ سے شینا اور سعیدنواز کا اعتماد جیتنے کے لیے اسے بہت محنت کرنا پڑ رہی تھی۔ وہ انہیں یقین دلانا چاہتا تھا کہ وہ اتنا ہی بے ضرر تھا جتنا وہ سمجھتے تھے اور پری زاد والا قصہ ایک اتفاق کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
    یہاں تک کہ شیراز نے شینا کے بیٹے پر بھی اس طرح توجہ دینی شروع کر دی جیسے وہ اس کا اپنا بچہ ہو۔ اس کے دل میں ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید اس بچے پر دی جانے والی توجہ ہی کے بدلے میں شینا اسے معاف کر دے اور اس کے رویے میں کچھ بہتری آئے۔
    لیکن شینا کے رویے میں بہتری کے لیے کی جانے والی ہر کوشش ڈھاک کے تین پات ثابت ہوئی۔ سہیل کے ساتھ اس کے تعلقات اسی طرح عروج پر تھے اور اب وہ کھلے عام ان کے گھر آنے لگا تھا اور شیراز نے زہر کا یہ گھونٹ بھی پی لیا تھا۔
    اس نے جیسے اس بات پر سمجھوتہ کر لیا تھا کہ سہیل کو شینا کی زندگی میں کسی نہ کسی شکل میں ساری زندگی رہنا ہے۔ وہ بعض دفعہ شینا کی سہیل کے لیے محبت دیکھ کر حیران بھی ہوتا تھا۔ حسد کرنا تو خیر اب اس نے کب کا چھوڑ دیا تھا۔
    سہیل سے شینا کا تعلق اور محبت اب سعید نواز کے علاوہ اور کسی کو اپ سیٹ نہیں کرتی تھی۔ صرف سعید نواز تھا جسے سہیل اور شینا کا یہ میل جول ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اور اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ سہیل کو گولی مار دیتا لیکن اس جذبے میں شیراز سے ہمدردی کا کوئی عنصر نہیں تھا بلکہ سعید نواز کو سہیل اور اس کے گھر والوں سے ذاتی مخاصمت تھی اور بیٹی ایسی تھی کہ وہ اس پر جان چھڑکتا تھا اور وہ اسی طرح سہیل پر مرتی تھی۔
    باپ کی ناپسندیدگی ناراضی یا مخاصمت جیسے اس کے لیے کوئی معنی نہیں ر کھتے تھے۔




    شیراز کو کبھی تو سعید نواز پر غصہ آتا، کبھی ترس اور کبھی اسے خوشی ہوتی۔ شینا وہ پہاڑ تھی جس کے سامنے سعید نواز آگیا تھا۔
    شیرا ز کی باقی دونوں بہنوں کی شادی بھی اب ہو چکی تھی۔ اکبر اور نسیم اب بالکل اکیلے تھے۔ شیراز کوشش کے باوجود ان کے پاس جانے اور بیٹھنے پر بھی خود کو آمادہ نہیں کر پاتا تھا۔ اکبر اور نسیم کے پاس بات کرنے والے جو موضوعات تھے ان پر بات کرنے سے شیراز کو بری طرح غصہ آتا تھا۔
    وہ اس بات پر صدمے سے بے حال ہوتے کہ ان کے بیٹے کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل میں کسی اولاد کا امکان نظرآتا ہے۔ اپنی اگلی نسل انہیں دور دور تک کہیں نظر نہیں آرہی تھی اور صرف یہی سوچ کہ ان کی نسل ان کے بیٹے کے ساتھ ہی ختم ہونے والی ہے۔ اکبر اور نسیم کو بے حال نہ کرتی تو اور کیا کرتی۔
    وقتاً فوقتاً وہ اب شیراز کو خفیہ طور پردوسری شادی کا مشورہ بھی دینے لگے تھے۔ یہ صرف شیراز جانتا تھا کہ وہ اسے دوسری شادی کا نہیں،خود کشی کا مشورہ دے رہے ہیں۔ سعید نواز یا شینا سے دوسری شادی کا چھپا رہنا ناممکن تھا اور اس کے بعد پتا چلنے پر وہ اس کا جو حشر کرتے وہ شیراز کو ایسے کسی ارادے سے باز رکھنے کے لیے کافی تھا۔
    جبکہ اکبر اور نسیم کا اصرار تھا کہ وہ دوسری شادی کر کے اپنی دوسری بیوی کو ان کے پاس رکھے۔ انہیں یقین تھا کہ شینا یا اس کے باپ کو اس کی شادی کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔ انہیں آب اپنے بڑھاپے اور تنہائی کا خیال بھی پریشان کرتا تھا۔
    بعض دفعہ شیراز واقعی دوسری شادی کے بارے میں سوچنے لگتا تھا۔ کچھ دیر کے لیے وہ واقعی فرض کر لیتا تھا کہ شینا اور سعید نواز کو اس کی شادی کے بارے میں پتا نہیں چلے گا۔ وہ اپنی بیوی کو یہاں اپنے ماں باپ کے پاس رکھے گا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہو گی۔ اور پھر اسے خیال آتا۔ لیکن اگر ہو گئی تو؟ اور اس تو کے بعد نظر آنے والی تصویر اتنی ہولناک تھی کہ اس کے سارے ارادے لمحہ بھر میں غائب ہوجاتے۔
    وہ ایک دلدل میں پھنس چکا تھا جس میں وہ ہاتھ پاؤں مار سکتا تھا لیکن باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ کسی لڑکی کے ساتھ کوئی افیر چلانا اور کچھ وقت گزارنا دوسری بات تھی لیکن کسی کو مستقل طور پر اپنی زندگی میں شامل کرنا ایسا قدم تھا جو وہ اٹھانے کے قابل نہیں تھا اسے اپنے آس پاس ملنے جلنے والے افراد میں اب بہت سارے ایسے مرد نظر آنے لگے تھے جو اس جیسی ہی دوہری تہری زندگیاں گزار رہے تھے۔ بہت سارے ایسے مرد جنہوں نے کامیابی کے زینے چڑھنے کے لیے امیر سسرال کا سہارا لیا تھا۔اور ان میں سے بظاہر کوئی ناخوش نظر نہیں آتا تھا ہر ایک کامیاب زندگی گزارتا نظر آرہا تھا۔ ہر ایک کی زندگی میں وہ معجزے ہو چکے تھے جس کے لیے انہوں نے کامیابی کی یہ سیڑھی ڈھونڈی تھی۔ لیکن ہر ایک کی زندگیوں میں کہیں نہ کہیں وہ شگاف بھی نظر آتے تھے جو صرف شیراز یا شیراز جیسے دوسرے لوگ ہی دیکھ سکتے تھے۔ جو ویسی زندگیاں گزار رہے تھے اور جو ان ماسک کو پہچان سکتے تھے جو وہ سب پہن کر ایک دوسرے کے سامنے آتے تھے۔
    ٭٭٭
    ”کرم علی کو فون کرنا چاہیے آپ کو۔” سلطان نے اس سے کہا۔ وہ دو دن پہلے کرم علی کی فلم کی شوٹنگ کے لیے اوٹوا آئی تھی اور یہاں آتے ہی سلطان نے اسے بار بار کرم علی سے رابطے کے لیے کہنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اسے رابطے کا نہ بھی کہتا تب بھی زینی کو اوٹوا میں اس کے ساتھ گزرے ہوئے وہ دو ہفتے بری طرح یادآنے لگے تھے اور اس کے ساتھ ہی کرم علی بھی۔
    کیوں یاد آرہا تھا یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
    ”کیوں فون کرنا چاہیے مجھے؟” زینی نے بے حد سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”آپ کواچھا لگا تھا وہ پری جی۔” سلطان نے اس کے کسی زخم کو چھیڑا تھا۔
    ”اس سے کیا ہوتا ہے؟” زینی نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”کچھ نہیں ہوتا کیا؟” سلطان نے بے حد چبھتے ہوئے اندازمیں پوچھا۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اس نے کہا۔
    ”نہیں کچھ نہیں ہوتا۔”
    ”چلیں میں پراچہ صاحب سے کہوں گا وہی ملاقات کا انتظام کروا دیں۔ کھانا وانا تو کریں گے کرم علی صاحب… ہر پروڈیوسر کرتا ہے۔” سلطان نے جیسے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”خبر دار تم نے پراچہ سے اس سلسلے میں کوئی بات کی میں نے کہا نا مجھے کرم علی سے نہیں ملنا، نہ ہی بات کرنی ہے۔” زینی نے بے حد سنجیدگی سے کہا اسے سلطان کی بات سے زیادہ اس کے انداز پر غصہ آیا تھا۔ سلطان اس وقت اسے غصے میں دیکھ کر خاموش ہو گیا۔
    اسے منع کرنے کے باوجود زینی کو جیسے کوئی موہوم سی امید تھی کہ وہ اتنے ہفتے کے قیام میں کبھی نہ کبھی اس سے رابطے کی کوشش کرے گا۔ وہ لاشعوری طور پر منتظر تھی کہ وہ کسی نہ کسی دن سیٹ پر شوٹنگ دیکھنے سہی آئے گا تو… کرم علی نہیں آیا تھا۔
    ”آپ کو پتہ ہے کرم علی کی شادی ہو گئی ہے۔”دو ہفتے کے بعد ایک دن سلطان نے منہ لٹکا کر زینی کو بتایا۔ وہ اس وقت سین کے دوران آنکھوں کے میک اپ کی ری ٹچنگ کر رہی تھی چند لمحوں کے لیے زینی کو ہاتھ میں پکڑے آئی شیڈز کے کلرز کو پہچاننا اور یہ طے کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ وہ کون سا کلر استعمال کر رہی تھی۔ اس کا کوئی تعلق تھا کہ وہ چند لمحوں کے لیے اس طرح سکتے میں آئی تھی۔
    ”اچھا ہوا، تمہیں کس نے بتایا؟”
    چند لمحوں کے بعد جیسے اس نے اس شاک سے خود کو آزاد کرتے ہوئے کہا۔ وہ ایک بار پھر آئی شیڈز پر نظریں جمائے ہوئے ان کو پہچاننے کی کوشش میں مصروف تھی۔
    ”کیااچھا ہوا پری جی؟ مجھے توذرا خوشی نہیں ہوئی اس کی شادی کا سن کر۔” سلطان نے منہ بسورتے ہوئے کہا تھا۔
    ”تمہاری خوشی یا نا خوشی سے کیا فرق پڑتا ہے۔ سلطان… کرم علی خوش ہے اپنی شادی سے۔ یہ کافی ہے۔”
    اس نے بالآخر شیڈز پہچاننے شروع کر دیے تھے لیکن آوازکی لرزش پر قابو پانے میں اسے ابھی بھی دقت ہو رہی تھی۔
    ”آپ بھی صحیح کہتی ہیں پری جی۔” سلطان نے گہرا سانس لیا۔
    ”پراچھا آدمی تھا اگر آپ۔۔۔۔” سلطان نے بات ادھوری چھوڑ دی زینی نے سر اٹھا کر سامنے کوریوگرافر کو ایکٹرز کو ڈانس کی ریہرسل کرواتے ہوئے دیکھا آج اسے ایک ڈانس کی شوٹنگ کروانی تھی۔ زینی کا دل یک دم اچاٹ ہو گیا تھا۔
    ”سلطان اگر میں آج شوٹنگ نہ کرواؤں تو؟ پیک اپ ہو سکتا ہے کیا؟”
    زینی نے سامنے لوگوں کو سین کی تیاری کرتے ہوئے سلطان سے کہا۔
    سلطان نے چونک کر اس کاچہرہ دیکھا اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس نے سیٹ پر اسے کرم علی کی شادی کے بارے میں بتا کر غلطی کی تھی لیکن غلطی ہو چکی تھی۔
    ٭٭٭