Tag: kahaniyan

  • اسپیس شپ کا فرار | علینا ملک

    اسپیس شپ کا فرار | علینا ملک

    اسپیس شپ کا فرار

    علینا ملک

    بازل، وہاج اور فاتح بلا کے شرارتی اور بے حد ذہین بچے تھے۔ پورا محلہ ان کی شرارتوں سے واقف تھا۔ ایک دن وہاج نے فاتح اور بازل کو ساتھ لیا اور دادا جان کی لائبریری کی طرف چل پڑے۔
    ”داداجان! ہمیں ضروری بات کرنی ہے۔” تینوں نے لائبریری میں داخل ہوتے ہی کہا۔ ”ہاں بولو! ” دادا جان اپناچشمہ درست کرتے ہوئے بچوں کے چہروں کا جائزہ لینے لگے۔
    ”دادا جان! اِس بار ہم آپ کے ساتھ شکار پر جائیں گے۔” بازل نے کہا۔
    ”ارے! کیوں بھئی؟ تم لوگ تو بہت شرارتی ہو۔ تمہارے والدین نہیں مانیں گے۔ انہوں نے صاف انکار کردیا۔ ”دادا جان! پلیز ، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ وہاں کوئی شرارت نہیں کریں گے۔” تینوں کے اصرار پر دادا جان خاموش ہوگئے۔ دادا جان کے دوست قریشی صاحب کا شہر سے دورایک بہت بڑا فارم ہائوس تھا۔ اِس کے تین اطراف گھنا جنگل تھا۔
    قریشی صاحب اور اُن کے دوست مہینے میں ایک بار شکار کے لیے وہاں جاتے تھے۔ ”بچو! ایک بات یاد رکھنا۔ فارم ہائوس کے اطراف میں خوف ناک جنگل ہے۔ وعدہ کرو کہ تم اُس کے کاٹیج سے باہر نہیں نکلو گے۔” دادا جان نے مقررہ دن فارم ہاؤس پہنچ کر بچوں کو نصیحت کی۔ ”جی دادا جان! ہم ایسا ہی کریں گے۔ آپ بے فکر رہیں۔”
    فارم ہائوس واقعی کسی جادوئی محل یا پرستان سے کم نہ تھا۔ چاروں طرف سبزہ، خوب صورت باغات، بے شمار پھل دار درخت اور خوش نما پھول، پودے اِس پیارے منظر کو چار چاند لگا رہے تھے۔ دادا جان بچوں کو سمجھا کر دوستوں کے ہمراہ شکار کے لیے چل دیے۔
    ُہرّرے… اب آئے گا مزہ! تینوں نے جیپ کونظروں سے اوجھل ہوتے ہی نعرہ لگایا اور باغ کے پچھلے حصّے میں نکل آئے۔ ”اوہ… تم دونوں ادھر آئو، دیکھو یہ کیا چیزہے؟” بازل نے فاتح اور وہاج کو پکارا۔ ”ہائیں! یہ کوئی خفیہ دروازہ لگتا ہے۔” تینوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
    ”اس کے پیچھے شایدجنگل ہے جس کا ذکر دادا جان کر رہے تھے ۔” فاتح نے کہا۔ دروازے کو تالا لگا دیکھ کر وہ تینوں رسی کے ذریعے دوسری طرف کود گئے اور کسی ماہر جاسوس کی طرح وہ جنگل میں آگے بڑھنے لگے۔ اچانک انہیں عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں۔ وہ تینوں سہم گئے۔ پھر ایک طرف سے آہنی ہاتھ ان کی طرف بڑھے۔ انہوں نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیں اور آہنی ہاتھ انہیں گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔ ”اوہ …اوہ … ہم اس وقت کہاں ہیں؟” ہوش میں آتے ہی بازل کی آواز گونجی۔ چاروں طرف شیشے اور اسٹیل کی دیواریں تھیں۔ چھت کے ساتھ ایک بڑی اسکرین نصب تھی۔ یہ کوئی اسپیس شپ تھی جس کے آہنی پنجے اِنہیں پکڑ کر شپ میں لے آئے تھے۔وہ تینوں خوف زدہ تھے۔
    اچانک دیوار ذرا آگے کو سرکی اور ایک لمبا روشن راستہ دکھائی دیا۔ اس راہ داری کی دوسری طرف کچھ فولادی مشینیں نصب تھیں۔ چند عجیب و غریب روبوٹ نما بلائیں کمرے میں داخل ہوئیں۔ ”مجھے لگتا ہے یہ ہماری زمین پر کوئی خطرناک منصوبہ لے کر آئے ہیں ۔”وہاج نے کہا۔
    ”ہاں! تم ٹھیک کہہ رہے ہووہاج! ہمیں کچھ کر نا ہوگا، لیکن پہلے یہاں سے فرار ہونے کاراستہ تلاش کرناچاہیے ۔” بازل نے کہا۔ ”دیکھو! نیچے فرش پر کچھ ہندسے لکھے ہو ئے ہیں۔ یہ ہندسے راستہ کھلنے کا کوڈ ہوگا۔” فاتح نے ذہن لڑایا۔ ابھی وہ باتیں کررہے تھے کہ جادوئی دروازہ ایک بار پھر کھلا کوئی روبوٹ نما مخلوق اندر داخل ہوئی۔ اُن کے ہاتھوں میں فائلیں اور الیکٹرک پیڈ زتھے۔
    اندر آنے والے یہ عجیب و غریب روبوٹ ایک اسکرین کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ بازل اُن کی حرکات کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اُن کے واپس جاتے ہی بازل نے فرش پر لکھا کوڈ ملایا تو دروازہ خود بہ خود کھل گیا۔ انہیں سامنے ایک سیڑھی نظر آئی۔ وہ جلدی سے سیڑھی کے ذریعے نیچے اُتر گئے۔ کچھ دیر رینگنے کے بعد انہوں نے دوڑ لگادی اور اسپیس شپ سے کافی دُور نکل آئے۔
    ابھی وہ اپنی سانسیں بحال کر رہے تھے کہ ایک دم سے ان کے قدم زمین کے ساتھ چپک کررہ گئے۔ سامنے دادا جان کی جیپ کھڑی تھی۔ ”اُف! دادا جان تو آگئے۔ اب کیا ہوگا!” فاتح نے گھبرا کر پوچھا۔ ابھی وہ پریشانی کے عالم میں تھے کہ اچانک ایک آواز نے انہیں چونکا دیا۔ ”تم لوگوںنے تو وعدہ کیا تھا مجھ سے؟ تم واقعی اعتبار کے قابل نہیں ہو۔” دادا جان کی آنکھیں غصّے سے سرخ تھیں۔
    ”دادا جان! ہمیںمعاف کر دیں۔ ہم سے واقعی غلطی ہوگئی۔” فاتح نے سر جھکاتے ہوئے کہا پھر بازل نے سارا واقعہ سنا یا تو دادا جان حیران رہ گئے۔ ”دادا جان! ہمیں اس مخلوق کو یہاں سے بھگانا ہوگا۔” یہ کہہ کر تینوں نے اپنا منصوبہ دادا جان کو بتا دیا۔ پھر سب نے مل کر بہت سی لکڑیاں جمع کیں اور اُنہیں اسپیس شپ کے چاروں طرف پھیلا کر آگ لگا دی۔
    جیسے ہی آگ بھڑکی، اسپیس شپ میں ہل چل مچ گئی۔ ہر طرف دھواں اُٹھنے لگا۔ کچھ دیر بعد دھویں کے بادل چھٹنا شروع ہوئے تو بچوں کو اسپیس شپ آسمان کی طرف جاتی دکھائی دی۔ سب نے زور دار نعرے لگانا شروع کردیے۔ دادا جان نے تینوں کو پیار سے گلے لگا لیا۔
    ”داداجان! آپ ہم سے ناراض تو نہیں ہیں نا۔” واپسی پر بچوں نے دادا جان سے سوال کیا ۔
    ”دیکھو بچو! تم لوگوںنے وعدہ خلافی کی جس کا مجھے افسوس ہے۔ میں تم سب سے خفا ہوں۔ ہاں! البتہ مجھے خوشی ہے کہ تم نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اس پر میں تم سب کو شاباش دیتا ہوں لیکن یاد رکھنا کہ قسمت ہمیشہ مہربان نہیں ہوتی اس لیے بڑوں کا کہنا ماننا سیکھو۔ اسی میںتمہاری کامیابی ہے۔”
    ”جی دادا جان! ہم آیندہ کہنا مانیں گے۔” تینوں نے یک زبان ہوکر کہا اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
    ٭…٭…٭

  • درزی اور راجا | انعم سجیل

    درزی اور راجا | انعم سجیل

    درزی اور راجا
    انعم سجیل

    کسی جنگل میں راجہ نام کا ایک ہاتھی رہتا تھا۔ وہ روز نہانے کے لیے ندی پر جایا کرتا۔ راستے میں درزی کی دکان تھی۔ راجہ روزانہ اُس درزی کی دکان پر کچھ دیر ٹھہر جاتا کیوں کہ درزی اُسے کھانے کے لیے ڈبل روٹی دیا کرتا تھا۔ راجہ مزے لے لے کر ڈبل روٹی کھاتا اور پھر نہانے چلا جاتا۔
    ایک دن راجہ درزی کی دکان پر آیا اور اپنی سُونڈ کھڑکی کے اندر کی تاکہ درزی سے روٹی لے سکے۔ اسی دوران درزی کو شرارت سُوجھی۔ اس نے ڈبل روٹی کی بجائے ایک باریک اور نوک دار سوئی راجہ کی سونڈ میں چبھودی۔ راجہ تو ایک دَم تڑپ ہی اٹھا۔ سوئی چبھنے سے اُسے بہت درد ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن راجہ نے درزی کو کچھ نہ کہا اور حُپ چاپ ندی پر نہانے چلا گیا۔ درزی اپنی شرارت پر خوب ہنسا۔
    راجہ جب ندی پر پہنچا تو اُس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ وہ درزی سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ خوب اچھی طرح نہانے کے بعد راجہ نے ندی کے کنارے سے بہت سا کیچڑ اپنی لمبی سُونڈ میں بھر لیا اور تیز تیز چلتا ہوا درزی کی دُکان پر پہنچ گیا۔ درزی اپنی دُھن میں مگن رنگ برنگے پیارے پیارے کپڑے سی رہا تھا۔
    راجہ نے کھڑکی سے اپنی سُونڈ اندر کی اور سارا کیچڑ پھینک دیا۔ درزی کی دکان میں رکھے سارے کپڑے کیچڑ سے خراب ہوگئے۔ پہلے تو درزی کو بہت غصہ آیا لیکن جب اُسے اپنی شرارت یاد آئی تو وہ بہت شرمندہ ہوا۔ اُس نے راجہ سے معافی مانگی اور آئندہ شرارت سے توبہ کرلی۔
    ٭…٭…٭

  • پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ

    لبنیٰ حمید

    کسی قصبے میں روبینہ نام کی ایک لڑکی رہتی تھی۔ اُس کے پاس ڈھیر ساری کتابیں تھیں لیکن اُسے اِن کتابوں سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ ایک دن روبینہ کا کتا اُس کی کتابوں والی الماری پرچڑھ گیا۔ روبینہ اُسے نیچے اتارنے لگی تو ساری کتابیں زمین پر گر گئیں اور اُن کے صفحات پھٹ گئے۔ کتابوں کے صفحوں سے جانور نکل کر باہر آنے لگے۔ روبینہ حیرانی سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ ہاتھی میز پر ناچ رہا تھا۔ بندروں نے پردے پھاڑ کر پگڑیاں بنالی تھیں۔ خرگوش اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے جب کہ دُنبہ ایک طرف کھڑا رو رہا تھا۔
    ”رکو! تم سب واپس آجاؤ۔” روبینہ غصے سے چلّائی مگر اِس شور میں کسی نے اُس کی آواز نہ سنی۔
    اچانک روبینہ کو ایک خیال آیا۔ اُس نے ایک کتاب کھول کر کہانی پڑھنا شروع کی: ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں…” سب جانور قریب آکر روبینہ کی کہانی سننے لگے۔ اچانک روبینہ نے دوسرا صفحہ پلٹا تو بندر اُچھلنے لگے:
    ”یہ ہمارے بارے میں لکھا ہے۔” اِس کے بعد وہ چھلانگیں لگاتے ہوئے کتاب کے اندر غائب ہوگئے۔ روبینہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی لیکن وہ کہانی پڑھتی رہی۔ یوں ایک ایک کرکے سب جانور دوبارہ کتابوں میں بند ہوگئے۔ اب پورے گھر میں خاموشی تھی۔ ”میں انہیں دوبارہ کیسے دیکھ پاؤں گی؟” روبینہ افسردگی سے بولی مگر پھر اچانک اُسے ایک خیال آیا اور وہ مُسکرانے لگی۔
    اب وہ روزانہ اپنے اسکول کی کتابیں اور کہانیاں بہت شوق سے پڑھنے لگی۔ اُسے کتابیں پڑھنے میں مزا آنے لگا۔ اب وہ روزانہ کتابوں میں سب جانورں سے ملاقات کرلیتی تھی۔

  • ننّھا زرّافہ | نور الہدٰی افضل

    ننّھا زرّافہ | نور الہدٰی افضل

    ننّھا زرّافہ
    نور الہدٰی افضل

    کسی جنگل میں ایک ننھا زرافہ ظرفی رہتا تھا۔ جنگل کے جانور اُس کی لمبی گردن کا خوب مذاق اُڑاتے ۔ ظرفی دُکھ سے سوچتا کہ کاش اُس کی گردن چھوٹی ہو سکتی۔ ایک دن وہ اسی سوچ میں اُداس بیٹھا تھا کہ اچانک ایک پری اُس کے پاس سے گزری۔ پری نے ظرفی سے پوچھا:
    ”تم اُداس کیوں ہو؟” وہ بولا: ”سب جانور میری لمبی گردن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔”
    پری نے کہا ”لو! اس میں اُداسی کی کیا بات ہے۔ اگر تم چاہو تو میں ابھی تمہاری گردن چھوٹی کر دیتی ہوں لیکن… تمہاری گردن دوبارہ لمبی نہیں ہو پائے گی۔”
    ”سچ پیاری پری! کیا ایسا ہوسکتا ہے؟” ظرفی خوشی سے چلّایا۔
    پری نے جادو کی چھڑی گھمائی اور اُس کی گردن چھوٹی کردی۔ اگلے دن جب وہ گھر سے نکلا تو جنگل کے سب جانور بہت حیران ہوئے مگر وہ پھر سے اُس کا مذاق اڑانے لگے۔ انہیں نظرانداز کرکے ظرفی آگے چل پڑا۔
    پہلے جو جانور اُس کی لمبی گردن کا مذاق اڑاتے تھے، اب وہی اُس کی چھوٹی گردن پر بھی ہنس رہے تھے۔ وہ سوچ میں گُم آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے بھوک ستانے لگی۔ وہ جلدی سے درخت کی طرف بڑھا تا کہ پھل کھا سکے مگر اُس کا منہ پھلوں تک نہ پہنچ سکا۔ پہلے لمبی گردن کی وجہ سے اُسے آسانی تھی۔ وہ اونچے درختوں سے مزے مزے کے پھل کھا سکتا تھا لیکن اب ایسا نہیں تھا۔ بھوک کی وجہ سے وہ رونے لگا۔ اچانک اُس کی آنکھ کھل گئی۔
    ”اوہ! تو یہ ایک خواب تھا!” اپنی لمبی گردن دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے عزّم کیا کہ اب وہ کبھی دوسروں کے مذاق اڑانے پر اُداس نہ ہو گا کیوں کہ اللہ نے اُسے بہت خوب صورت بنایا ہے۔
    ٭…٭…٭

  • کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

    کہاوت کہانی | مسور کی دال | ضیاء اللہ محسن

    کہاوت کہانی
    مسور کی دال
    ضیاء اللہ محسن

    پرانے زمانے میں ہندوستان پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ کھانے پینے کا بہت شوقین تھا اسی لیے اُس نے اپنے محل میں بہت وسیع باورچی خانہ بنارکھا تھا۔ اس باورچی خانے میں بہت سے باورچی نت نئے پکوان بنا کر بادشاہ کو خوش کرتے اور اس سے انعام لیتے۔ مسور کی دال اُن دنوں بہت قیمتی ڈش سمجھی جاتی تھی۔ جیسے آج کل گوشت یا مچھلی پسند کی جاتی ہے۔ بادشاہ کو بھی مسور کی دال بہت پسند تھی۔
    ایک دن بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو باورچی مسور کی دال سب سے اچھی بنائے گا اُسے خاص انعام و کرام سے نوازا جائے گا۔ چناں چہ تمام شاہی باورچیوں نے اچھی سے اچھی دال بنانے کے لیے محنت کی لیکن بادشاہ کو کسی کا ذائقہ پسند نہ آیا۔ انہی دنوں ایران سے ایک باورچی ہندوستان آیا ہوا تھا۔ وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھا۔ چناں چہ اُسے بھی محل میں دعوت دی گئی تاکہ وہ اپنی قسمت آزمائے۔
    خدا کا کرنا یہ ہوا کہ بادشاہ کو حاذق نامی اس باورچی کی بنائی گئی دال پسند آگئی۔ چناں چہ اُسے انعام و اکرام دے کر شاہی باورچیوں میں شامل کر لیا گیا۔ رفتہ رفتہ یہ باورچی بادشاہ کا خاص اور لاڈلا بن گیا۔ بادشاہ کو جب بھی مسور کی دال کھانا ہوتی تو حاذق ہی کو کہا جاتا۔
    دن یونہی گزرتے گئے۔ ایک دن بادشاہ بیمار پڑگیا۔ اُسے لگا کہ اُس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ چناں چہ بادشاہ نے شاہی خاندان کے تمام افراد کو ایک دعوت پر مدعو کیا تاکہ نئے بادشاہ کے نام کے لیے سوچ بچار کی جاسکے۔ چوں کہ بادشاہ کی کوئی اولاد نہ تھی چناں چہ نئے بادشاہ کے لیے کسی قریبی عزیز کا نام دے دیا گیا۔ اِس اعلان کے چند روز بعد بادشاہ کا انتقال ہوگیا۔ اب تختِ شاہی پر نیا بادشاہ بیٹھ چکا تھا لیکن اپنی فطرت میں یہ کچھ تنگ دل اور کنجوس تھا۔
    کچھ روز بعد نئے بادشاہ نے مسور کی دال کھانے کی فرمائش کی۔ چناں چہ حاذق باورچی نے دال تیار کرکے بادشاہ کے دسترخوان پر پیش کی، جسے کھاتے ہی بادشاہ کا منہ بن گیا۔ اُسے دال پسند نہ آئی۔ بادشاہ حاذق پر بگڑتے ہوئے بولا:
    ”اے پردیسی باورچی! کیا تمہیں کھانا پکانا نہیں آتا؟ ہونہہ… کیا ہی بد ذائقہ چیز بنائی ہے۔”
    یہ بات سنتے ہی ایرانی باورچی حاذق نے جواب دیا: ”بادشاہ سلامت! دال تو وہی ہے جو میں پہلے بنایا کرتا تھا البتہ اب کھانے والا منہ بدل گیا ہے۔ ہونہہ… یہ منہ اور مسور کی دال…” یہ کہتے ہوئے حاذق نے محل سے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور ایران جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اُسے معلوم ہوگیا کہ اب یہاں اِس کی قدر نہیں ہوگی۔
    پیارے بچو! حاذق تو واپس ایران چلا گیا لیکن اُس کا بولا گیا جملہ اتنا مشہور ہوا کہ رفتہ رفتہ وہ کہاوت بن گئی جو آج بھی مشہور ہے۔ یہ منہ اور مسور کی دال۔ آج بھی اگر کوئی آدمی کسی کام یا کسی خدمت کے لائق نہ ہو تو اس کے لیے یہی کہاوت بولی جاتی ہے۔
    ٭…٭…٭

  • مالی کا گدھا | طاہرہ احمد

    مالی کا گدھا | طاہرہ احمد

    مالی کا گدھا
    طاہرہ احمد

    پرانے زمانے کی بات ہے شہر بغداد میں رستم نامی ایک مالی رہتا تھا۔ ایک دن رستم اپنے گدھے کو لے کر بازار سے گزر رہا تھا۔
    بازار میں اُسے ایک ٹھگ ملا، ٹھگ نے رستم سے پوچھا: ”میاں! گدھے کو کہاں لے جارہے ہو؟” رستم بولا: ”یہ بہت تنگ کرتا ہے۔ میں اسے بیچنے جارہا ہوں۔” ٹھگ نے کہا:
    ”ارے بھئی کیوں نقصان کرتے ہو اپنا؟ میں اسے انسان بنا سکتا ہوں لیکن اس کے بدلے پانچ سونے کے سِکّے لوں گا۔” رستم یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اس نے گدھا ٹھگ کے حوالے کیا اور چھے ماہ بعد آنے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔
    دن گزرتے گئے۔ اُدھر ٹھگ نے رُستم کا گدھا بیچ ڈالا۔ چھے ماہ بعد رستم ٹھگ کے پاس گیا۔ اس نے جاتے ہی ٹھگ سے گدھے کے متعلق پوچھا: ”بھائی میرا گدھا انسان بن گیا؟”
    یہ سن کر ٹھگ پہلے تو گھبرایا پھر اُس نے سوچا کہ یہ تو بے وقوف ہے۔ کیوں نا اس کی بے وقوفی کا فائدہ اٹھایا جائے؟
    اُس نے مالی سے کہا: ”دیکھو بھائی! میں نے تمہارے گدھے کو انسان بنادیا تھا اور اب وہ شہر جاکر گورنر لگ گیا ہے۔ تم گورنر کے محل چلے جاؤ لیکن یاد رکھنا وہ خود کو گدھا نہیں مانے گا۔ اس لیے تم اُس کی کسی بات پر یقین نہ کرنا۔ بس اس کے سامنے چارہ لہرا دینا، ہوسکتا ہے وہ تمہیں پہچان لے۔”
    ٹھگ کی بات سن کر رُستم نے اپنے ہاتھ میں چارہ لیا اور گورنر کے محل میں چلا گیا۔ وہاں جاکر مالی نے گورنر کے سامنے چارہ لہرایا اور بولا: ”چل بھئی میرے گدھے! تُو انسان بن گیا ہے۔ چل میرے ساتھ میں تجھے لینے آیا ہوں۔”
    گورنر نے یہ بات سنی تو اسے بہت غصّہ آیا وہ چیخ کر بولا: ”کون ہو تم؟ کہاں سے آئے ہو؟ کون سا گدھا؟ چلو بھاگو یہاں سے…” رُستم نے گورنر کو پچکارنا شروع کردیا۔
    ”ارے میرے پیارے گدھے! اتنا غصہ کیوں کرتا ہے۔ تُو اپنے مالک کو ہی بھول بیٹھا۔ دیکھ یاد کر جب تو میرے ڈنڈے کھایا کرتا تھا میں ہی تیرا مالک ہوں۔” یہ کہہ کر رستم نے اُچھل کر گورنر کو دبوچ لیا۔ گورنر نے اپنے سپاہی بلالیے جنہوں نے مالی کو گرفتار کرلیا۔ رستم کے رونے دھونے پر گورنر نے اُس سے سارا واقعہ سنا تو اس کی ہنسی چُھوٹ گئی۔ اس نے سپاہی بھیج کر اس ٹھگ کو گرفتار کروایا اور رُستم کو آزاد کر دیا۔

  • گائے کے سینگ

    گائے کے سینگ

    گائے کے سینگ
    باذلہ سردار

    ایران کے کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اُس کے دو بچے تھے۔ بیٹی کا نام نور اور بیٹے کا نام عمر تھا۔ کسان نے ایک خوب صورت گائے پال رکھی تھی۔ اُس کا بچھڑا بھی بہت گول مٹول اور پیارا تھا۔
    کسان روزانہ گائے کو کھیتوں میں چرانے کے لیے لے جاتا۔ گائے بہت سا دودھ تو دیتی لیکن وہ بہت چالاک اور لڑاکا تھی۔ اپنے سینگوں سے روزانہ کسی نہ کسی کو زخمی کردیتی۔ ایک دن گائے نے اپنے مالک ہی کو ٹکر مار دی۔ سینگ لگنے سے کسان زخمی ہوگیا۔ اُس نے غصّے میں گائے کے سینگ کاٹنے کا ارادہ کرلیا۔ کسان نے سوچا کہ یہ کام وہ اگلے دن کھیتوں سے واپسی پر کرے گا۔
    دوسرے دن وہ گائے کے ساتھ اپنے بچوں کو بھی چراگاہ لے گیا۔ دوپہر میں کسان نے گائے کو چرنے کے لیے کُھلا چھوڑا اور خود کسی کام میں مصروف ہوگیا۔ اُس کے دونوں بچّے گائے کے بچھڑے سے کھیلنے لگے۔ اچانک قریبی جھاڑیوں سے ایک بھیڑیا نکل آیا۔ اُسے دیکھتے ہی کسان کے بچے چیخنے لگے۔ بھیڑیے نے آتے ہی بچھڑے پر حملہ کردیا۔ گائے نے جب بچھڑے کو مصیبت میں دیکھا تو وہ فوراً بھیڑیے کی طرف لپکی اور اُس پر حملہ کردیا۔ کچھ ہی دیر میں گائے نے اپنے بڑے بڑے سینگوں کی مدد سے بھیڑیے کو زخمی کردیا۔ بھیڑیا وہاں سے دُم دبا کے بھاگ نکلا۔
    شور سُن کر کسان بھی بھاگتا ہوا وہاں آپہنچا۔ یہ ساری صورتِ حال دیکھ کر اُس نے اپنے بچوں کو گلے لگایا اور پھر بچھڑے کو پیار کرنے لگا۔ بات اس کی سمجھ میں آگئی کہ اللہ نے کوئی شے بنا حکمت کے نہیں بنائی۔ یہ سوچ کر اس نے گائے کو تھپکی دی اور اس کے سینگ کاٹنے کا ارادہ ترک کردیا۔
    ٭…٭…٭