خونی سایہ — عمارہ خان (تیسرا اور آخری حصہ)

فلک جو ماں سے ایشل کے بارے میں بات کرنے جلد ہی گھر آگیا تھا، ڈاکٹر کو ان کے کمرے سے نکلتا دیکھ کے پریشان ہوگیا۔
”بیٹا مجھے معاف کردے میں نے زبردستی تیری شادی۔”قدسیہ بیگم کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
”نہیں اماں ایسی باتیں نہ کرو۔ میں خوش ہوں۔” فلک نے ماں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا۔
”دیکھو کتنا بلڈ پریشر بڑھالیا ہے اپنا۔”
”مجھے سکون نہیں آتا تجھے دیکھ کے فلک۔ ایک طرف تو گھر سے بھاگتا ہے، تو دوسری طرف سارہ کہیں سے بیاہتا نہیں لگتی۔ٔٔ قدسیہ بیگم نے بالآخر اعتراف کرتے ہوئے ہا ر مان لی۔
”مجھ سے غلطی ہوگئی تجھے وقت دینا چاہیے تھا۔”
”اوہ اماں…” فلک جسے کبھی کبھی شک ہوتا تھا ماں ایشل کے بارے میں جانتی ہیں آج ثابت ہوگیا۔
”میری خواہش تھی تجھے خوش دیکھوں اسی لیے زبردستی شادی کرادی، لیکن مجھے کیا معلوم تھا، تو جس سے دل لگا چکا ہے اس کا رنگ بہت پکا ہے۔”
”میں خوش ہوں اماں۔” قدسیہ بیگم سے نظریں چراتے ہوئے فلک نے باقی جملہ زیرلب پورا کیا۔
”اب میں واقعی خوش ہوں۔”
”بے شک، تو دوسری شادی کرلے فلک۔ مجھے سکون نہیں ملتا تیرے گھر کی ویرانی دیکھ کے۔ کیا منہ دکھاؤں گی تیرے ابا کوان کی پسند کی لڑکی خوش نہیں تو دوسری طرف میری ممتا کو صبر نہیں آتا میرا بچہ بے سکون رہا ہے۔” قدسیہ بیگم رو پڑیں تو فلک نے بے ساختہ ان کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔
”اماں …وہ…”فلک کا جھجکتا ہوا انداز دیکھ کے قدسیہ بیگم نے اسے بہ غور دیکھا اور دل کڑا کرکے اسے زندگی کی نوید دی۔
”میں تجھے اجازت دیتی ہوں فلک… تو اپنی پسند کی لڑکی کو اپنی ویران زندگی میں لے آ، لیکن ایک بات ہے۔تیرا احسان ہوگا مجھ پر۔”
”حکم دو اماں۔ ایسے نہیں کہو۔” فلک مطمئن تھا۔
”بس سارہ کو طلاق نہیں دینا، اسے نہیں چھوڑنا۔”
اورفلک کے لیے اس سے بہتر کوئی موقع نہیں تھا ایشل کی بات کرنے کا، لیکن ان دونوں کوخبر نہ ہوئی کہ ادھ کھلے دروازے کے پار سارہ ہاتھ میں سوپ لیے کھڑی بت بن چکی تھی۔
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

گم صم سی سارہ کے لیے یقین نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا کہ اس کا گھر اجڑرہا ہے اور وہ کچھ نہیں کرسکتی۔
فلک کا خوش گوار موڈ دیکھ کے وہ اب مزید پریشان ہونے لگی تھی۔ جہاں فلک مستقل موبائل فون کان سے لگائے زیرلب باتیں کرنے لگتا، تو وہ ڈپریشن کا شکار ہونے لگتی۔ گھر سے بھی توجہ کم ہوگئی تھی جب گھر والا ہی اپنا نہیں تو گھر سے کیادل لگانا۔ رات کے ایک بجے تک فلک موبائل سے لگا ہوا تھا اور سارہ کروٹیں بدلتی کب نیند کی آغوش میں چلی گئی اسے معلوم ہی نہیں ہوا۔ ساری رات پراگندہ سوچوں کے حصار میں ہی نکل گئی جس کی بدولت صبح کھڑ کھڑ سے آنکھ کھلی، تو سامنے ہی فلک گنگناتا الماری سے کپڑے نکال رہا تھا۔ سارہ نیم دراز ادھ کھلی آنکھوں سے فلک کی مصروفیات دیکھتی رہی۔ باتھ روم سے فریش ہوکے نکلا اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہوکے خود پہ پرفیوم کا چھڑکاؤ کیا، لیکن کچھ ہی دور بیڈ پر لیٹی سارہ کی طرف ایک نگاہ غلط بھی نہیں ڈالی۔ ناچاہتے ہوئے بھی سسکی کی نامحسوس سی آواز کمرے کی خاموشی میں پھیل گئی۔ فلک ایک دم چونک گیا۔
”کیا بات ہے۔ کیا ناشتا واشتا نہیں ملے گا ؟” فلک نے معمول سے ہٹ کے سارہ کو لیٹے ہوئے دیکھ کے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔
”کیا میری اوقات اس گھر میں صرف کام کے لیے ہے۔” سارہ چیخنے کے انداز میں بولی۔
فلک حیرانی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔
”کیا ہوگیا تمہیں صبح صبح۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔”
سارہ مایوسی سے اسے دیکھنے لگی۔
”واقعی آپ دوسری شادی کرلیں گے فلک؟”
”کیا مطلب؟” فلک کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، سارہ اس وقت ایسا کوئی سوال اٹھائے گی۔
”مطلب بھی آپ ہی بتائیں۔ ہر چیز تو آپ ڈیسائیڈ کررہے ہیں، تو مطلب میں کیسے بتاسکتی ہوں۔”
فلک نے منہ بناتے ہوئے اسے ناگواری سے دیکھا۔
”ہوں… تو اب تم چھپ چھپ کے میری اور اماں کی باتیں سنتی ہو۔”
”میری زندگی کا سوال ہے فلک اور مجھے اتنی بھی اجازت نہیں کہ…” سارہ کا گلا رندھ گیا۔
”اتنے سال جس گھر کی خاطر وفاداری میں گزار دیے آج یہ صلہ مل رہا تھا وہاں سے۔ میرا کیا قصور تھا، کس بات کی سزا بھگتی ہے میں نے ۔ ”ناچاہتے ہوئے بھی سارہ کی آواز بلند ہوگئی۔
”آواز ہلکی رکھو۔ مجھے عادت نہیں ہے اس لہجے میں بات سننے کی۔” فلک نے غصے سے گھورتے ہوئے اپنا پرس اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ پیچھے بنت حوا تقدیر کے اس انوکھے فیصلے کو سن کے گم صم بیٹھی رہ گئی۔
٭…٭…٭
فلک کے جانے کے بعد، کچھ دیر سارہ کو اپنے حواس مجتمع کرنے میں لگ گئے۔ آخر اس نے قدسیہ بیگم سے بات کرنی چاہی اور کمرے سے باہر نکلی۔ سامنے ہی فلک اور قدسیہ بیگم ساتھ بیٹھے سرگوشیوں میں مصروف تھے۔ سارہ کو دیکھتے ہی فلک نے اپنی بات ختم کی اور اماں کو الوداعی بوسہ دیا۔
”فلک ناشتا تو کرلے بیٹا۔” قدسیہ بیگم نے سارہ کو دیکھ کے بلند آواز میں فلک کو پکاراکہ سارہ نارمل ہوچکی ہے۔ فلک نے سارہ کو نظر انداز کرتے ہوئے باہر کی جانب قدم رواں رکھے۔
”اسٹور میں ہی کرلوں گا اماں۔”
فلک جا چکا، تو قدسیہ بیگم نے سارہ کو احساس دلانے کی خاطر بلند آواز میں کہا۔
”کیسی بیوی ہو؟ میاں کو بھوکا جانے دیا؟”
”اماں کیا واقعی ، مجھ میں اور گھر کی ملازمہ میں کوئی فرق نہیں دکھتا آپ کو۔” سارہ نے بے یقینی سے قدسیہ بیگم کو دیکھا۔
”کون سی کمی ہے تمہیں اس گھر میں؟ قدسیہ بیگم نے جب ایک فیصلہ کرہی لیا تھا، تو اس پر ڈٹ جانا ہی مناسب سمجھا۔”
سارہ نے افسردہ انداز میں سامنے بیٹھی ساس کو دیکھا اور چپ سادھ لی ۔ جس کا شوہر ہی اس کا نہیں ہوا…
”میں نے ہر چیز خاموشی سے برداشت کی، لیکن سوتن، آپ بھی تو عورت ہیں ، ایمان داری سے بتائیں کیسے یہ سب سہ لوں؟”
”اس کا حق ہے دوسری شادی کرنا۔” قدسیہ بیگم نے بہو کی آنکھوں سے نظریں چرائیں۔
”اور میرا کوئی حق نہیں ہے اماں؟”
اماں کی خاموشی ہی جواب تھی۔
”آپ گواہ ہیں فلک کا سرد مزاج، بد اخلاقی، ہر بات پر طعنے برداشت کیے ہیں، لیکن یہ نہیں برداشت ہوتا اماں۔ لگتا ہے میرے وجود کی بالکل ہی نفی ہورہی ہے۔”
بت بنی اماں کو دیکھ کے سارہ نے سسکتے ہوئے اپنے آنسو صاف کیے۔ لیکن وہ تھے کہ امڈ امڈ آرہے تھے ۔
”آپ لوگ اچھا نہیں کررہے میرے ساتھ۔ ناانصافی کررہے ہیں یاد رکھیے گا۔” آنسوؤں میں ڈوبا ہوا وجود شایدبددعا دے رہا تھا اورمظلوم کی بددعا رد ہوجائے آج تک ایسا ہوا تو نہیں۔
٭…٭…٭
فلک جس کا موڈ گھر میں ہی خراب ہوچکا تھا، رہی سہی کسر مین روڈ کی ٹریفک نے پوری کردی، لیکن جیسے ہی ایشل کا فون آیا اس کا موڈ از خود خوش گوار ہوگیا۔ من پسند عورت سے بات کرتے ہوئے کب اسٹور آیا اسے معلوم ہی نہیں ہوا۔
”اچھا ایشل اسٹور آگیا ہے، باقی باتیں کچھ دیر بعد۔” فلک نے مسکراتے ہوئے گاڑی پارکنگ ایریا میں پارک کی۔ جیسے ہی باہرنکلنے کے لیے گیٹ کھولنے لگا اسی وقت گہری سانسوں کی آواز نے اس کی توجہ کھنچ لی۔
”تم ہو۔ یہ تم ہو نا؟” فلک کی آواز سنتے ہی فرنٹ سیٹ پر ہیولہ نمودار ہوا جس کی آج بھی کوئی شکل نمایاں نہیں تھی ،لیکن بھرائی ہوئی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
”پھرکیا سوچا تم نے فلک شیر؟”
”کیا واقعی ایسا ہوسکتا ہے؟”
”ہاں۔”
”لیکن کیسے؟”
”اپنی بیوی کی قربانی دے دو۔”
فلک نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
”ہاں… وہ دوسری شادی نہیں کرنے دے گی تمہیں اور ایشل اس کے ہوتے تم سے کیسے شادی کرے گی۔”
”لیکن میں دوسری شادی کرسکتا ہوں ، دونوں کو ایک ہی گھر میں رکھنے کے لیے تیار ہوں میں۔ افورڈ کرسکتا ہوں بہ آسانی ۔”
”ایشل سارہ کے ہوتے ہوئے تم سے شادی نہیں کرے گی۔” ہیولے نے اسے اکسایا۔
”تم یہ کیسے جان سکتے ہو۔ اتنا یقین کیوں ہے تم کو؟ فلک نے تیزی سے پوچھا، لیکن جواب دینے کے لیے وہاں کوئی نہیں تھا۔” فلک نے اسی وقت موبائل نکالا اور ایشل کو فون ملانے لگا۔
”ہاں فلک بولو،ابھی تو…”
”ایشل مجھے صاف اور کلیئر جواب دو ، ہم کب ایک ہورہے ہیں۔”
”کیا ہوا فلک ، کچھ مسئلہ ہوگیا کیا؟” ایشل کی پریشانی بجا تھی۔
”ایشل پلیز میری بات کا جواب دو بس۔ ہم کب شادی کررہے ہیں؟”
”فلک ، وہ …”
”کب ایشل؟”
”تمہاری بیوی فلک …اس کا کیا قصور ہے اس سب میں۔”
”تم کب مجھ سے شادی کررہی ہو۔ فلک کو کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا۔”
”م…مم…میرے ضمیر کو یہ گوارا نہیں ہوگا فلک کہ ایسے کسی عورت پر سوتن بن کے…”
”میراحق ہے دوسری شادی کرنا، میں دوگھر بہ آسانی چلا سکتا ہوں ایشل۔”
”لیکن فلک …”
”ہاں یانہیں…”
”اچھا کیا میں تمہاری بیوی سے ایک بار مل سکتی ہوں؟”
”ایشل… کیوں بات کو طول دے رہی ہو۔ اتنی مشکل سے تو ہم مل رہے ہیں۔” فلک جھنجھلا ساگیاتھا ۔
”پلیز فلک…میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں، لیکن کسی کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی، سمجھو اس بات کو۔ ہم اپنی خوشیوں کے لیے سارہ کو کیوں دکھی کریں۔”
فلک نے ایشل کا حتمی انداز دیکھ کے فون ہی کاٹ دیا، لیکن یہ الگ بات تھی کہ اس کے ماتھے پر بننے والی لکیریں ذہنی اُلجھن کو صاف دکھارہی تھیں۔ ایک بار اگر ایشل سارہ سے مل لیتی، تو یقینا سارہ اسے فلک شیر سے بدظن کردیتی یا ایشل خود ہی سارہ کی خاطر قربانی دے دیتی،لیکن فلک اس بار ایشل کو ہر صورت پانا چاہتا تھا، اس کے لیے وہ ہر حد پار کرنے کے لیے تیار تھا۔
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

خونی سایہ — عمارہ خان (دوسرا حصہ)

Read Next

اے شب تاریک گزر —- صدف ریحان گیلانی (پہلا حصّہ)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!