قلب مومن نے ان سب کو دیکھا پھر بڑی روانی سے کہنے لگا۔
”روحانیت۔ یعنی اللہ سے تعلق۔ جیسے۔ جیسے۔”
وہ بے ربط لفظوں کی گردان کرنے لگا۔
ذہن اور دل کی سلیٹ بیک وقت صاف تھی، وہاں کہیں بھی کچھ لکھا ہی نہیں ہوا تھا جو زبان پر لفظ بن کر آجاتا۔ اس کے باوجود اس کے اندر گنبد کی بازگشت کی طرح وہ لفظ گونج رہے تھے۔
”روحانیت۔ یعنی اللہ سے تعلق۔ جیسے۔”
”روحانی وجود کیا اور اللہ سے تعلق کس جیسا؟” دو سوال تھے اور دونوں کے جواب اس کی ساری قابلیت دینے میں ناکام تھی۔ ”جسم” ان سوالوں کے جواب دے ہی نہیں سکتا تھا جب تک وہ روح سے خالی رہتا۔ اس لمحے پہلی بار قلب مومن کو اپنے اندر کا وہ خالی پن محسوس ہوا تھا جو دادا بار بار اس کو بتانے کی کوشش کرتے تھے تو اسے غصہ آتا تھا۔
”تمہارے پاس روح نہیں ہے قلب مومن! تم روحانیت کے بارے میں کیا فلم بناؤ گے۔” دادا نے اس سے کہا تھا۔ ”تمہاری روح کو وہ کامیابی کھا گئی ہے جس میں فلاح نہیں ہے۔ دنیا کو چنا ہوا ہے تم نے، سب کچھ دنیا کے لیے، سب کچھ جسم کے لیے۔ روح کیسے نہ مرتی تمہاری۔”
عجیب شاک کے عالم میں ان پانچ لوگوں کی نظریں اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے قلبِ مومن نے سوچا تھا کیا وہ واقعی روح کے بغیر تھا اور دادا سچ کہتے تھے اور اگر ایسا تھا تو ایسا کب ہوا تھا۔ کوئی تاریخ، کوئی دن، کوئی لمحہ جب وہ صرف جسم رہ گیا تھا۔ اندر سب کچھ خالی، کوئی الجھن بھی تھی جو سلجھ نہیں رہی تھی۔ کوئی آواز، اس کا جواب نہیں دے رہی تھی۔
”آ۔ ہم۔ اس پر ایک دو دن تک دوبارہ سٹنگ کرتے ہیں، دوبارہ ریفرنس ڈھونڈتا ہوں میں تاکہ آسانی ہو کردار۔ کہانی۔” اس نے ان سب سے نظریں چراتے ہوئے عجیب بے ربطی سے کہا تھا۔ ٹینا جیسے اس کی مدد کو آئی تھی۔
”ہاں یہ بہتر رہے گا۔ دوبارہ سٹنگ کرتے ہیں۔ آج یہ تو کلیئر ہو گیا کہtypical، روایتی کہانی نہیں چاہیے، کوئی نئی چیز چاہیے۔ اگلی میٹنگ میں اور بھی وضاحت ہو جائے گی۔”
اس نے صورت حال سنبھالنے کی کوشش کی تھی اور اگلے چند منٹوں میں مومن کا آفس خالی ہو گیا تھا۔ وہ بھی زیادہ دیر وہاں نہیں رکا تھا، اس کا جی ہر چیز سے عجیب انداز میں اچاٹ ہوا تھا۔
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
اس کا اپارٹمنٹ بھی اسی کی طرح خاموش اور خالی تھا اور یہ احساس قلبِ مومن کو آج پہلی بار گھر واپس آکر ہوا تھا۔ وہ لاؤنج میں ہی بیٹھ گیا تھا۔ اھدنا الصراط المستقیم کی اسی کیلی گرافی کے نیچے مگر آج پہلی بار اس کی پشت اس کیلی گرافی کی طرف نہیں تھی۔ وہ دوسرے صوفے پر تھا۔ اس کیلی گرافی کے بالکل سامنے وہ آیت جیسے اس کو چیلنج کر رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے وہ عبدالعلی کی مہارت کو سراہ رہا تھا۔ ان کا ہنر اتنا بے عیب تھا جتنا انسانی آنکھ ڈھونڈ سکتی تھی۔
”اللہ سے تعلق؟” وہ سوال پھر اس کے اندر گونجنے لگا تھا۔ ”ایسا مشکل سوال تو نہیں تھا کہ اس طرح گونگا ہو جاتا میں یا شاید اس لیے مشکل ہو گیا کہ میرا اور اللہ کا تعلق ٹوٹ گیا ہے۔ تعلق رہا ہی نہیں۔”
زندگی میں پہلی بار وہ اپنی ذات کے سامنے اعتراف کر رہا تھا۔ وہ بات مان رہا تھا جو وہ دادا کے سامنے ماننے سے انکاری تھا۔
”کیسے ٹوٹا؟”
”کب ٹوٹا؟”
”مجھے کیوں پتا نہیں چلا؟” عجیب شاک اور بے یقینی کے عالم میں وہ اپنے آپ سے سوال کر رہا تھا اور جواب کہیں نہیں تھا۔
”مومن بھائی!” شکور وہاں آیا تھا اور مومن نے اس کی آواز سنتے ہی بے حد درشتی سے اسے دیکھے بغیر مزید کچھ کہنے سے روکا تھا۔
”کھانا نہیں کھانا مجھے اور تم اب مجھے ڈسٹرب مت کرنا۔” شکور کچھ نروس سا اس کے سامنے آیا تھا۔
”میں تو بس یہ دینے آیا ہوں مومن بھائی!” اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا ڈبا تھا۔
”یہ کیا ہے؟” وہ جھنجھلایا تھا۔
”یہ دادا جی نے بھیجا ہے آج ہی آیا ہے۔ کہہ رہے تھے، آپ کو دے دوں۔” شکور نے ڈرتے ڈرتے میز پر وہ ڈبا رکھا تھا۔
”کھولوں؟” اس نے مومن سے پوچھا۔
”نہیں، میں کھول لوں گا، تم جاؤ۔” مومن نے کہا۔ شکور برق رفتاری سے غائب ہوا۔
مومن کچھ دیر تک میز پر دھرے اس ڈبے کو دیکھتا رہا۔ جس پر اسی خوب صورت، جانی پہچانی موتیوں جیسی لکھائی میں اس کا پورا نام اور پتا لکھا ہوا تھا اور پھر بھیجنے والے کا نام اور پتا۔
وہ عبدالعلی کی کوئی خطاطی نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کی سالگرہ کے علاوہ وہ اسے پچھلے سالوں میں کبھی کوئی خطاطی نہیں دیتے رہے تھے اور خطاطی اس شکل اور سائز کے ڈبے میں ہو بھی نہیں سکتی تھی۔ قلبِ مومن نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ کیا وہ کچھ بھول گیا تھا دادا کے گھر پر جسے انہوں نے لوٹایا تھا، کچھ یا دنہیں مگر اسے یقین تھا، وہ کوئی بھول کر رہ جانے والی چیز ہی تھی۔ اس نے ڈبے کی پیکنگ کھولنے کی کوشش کی۔ وہ بڑی احتیاط سے پیک کیا گیا تھا۔ پیکنگ کو ہٹا کر اس نے ڈبا کھول لیا۔ وہ اس کا لیٹرباکس تھا، ہاتھ سے بنا ہوا لکڑی کا ایک بہت پرانا لیٹرباکس۔
قلبِ مومن لیٹرباکس کو ہاتھ میں پکڑے ساکت رہ گیا تھا۔ وہ سرا جسے وہ ڈھونڈتا پھر رہا تھا وہ مل گیا تھا۔ روح کو کب مارا تھا۔ اللہ سے تعلق کب ٹوٹا تھا۔ لیٹرباکس کا ڈھکنا کھولتے ہوئے اس نے اندر دیکھا، وہ خطوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ سے لکھے ہوئے چھوٹے چھوٹے لفافوں والے خط۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر لیٹر باکس کے اندر سے سارے خط کال کر میز پر ڈھیر کر دیے۔ اس کے ہاتھ کی لکھائی میں ہر لفافے پر اللہ اور اس کا نام لکھا تھا۔
”اللہ کے نام۔”
اللہ کا گھر۔
قلب مومن!
قلبِ مومن نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے یوں جیسے وہ ان کی کپکپاہٹ روکنا چاہتا تھا۔ یادوں کا ایک سیلاب تھا جو اسے بہائے لے جا رہا تھا۔ جب وہ ترکی میں تھا تب بھی دادا نے اسے یہ لیٹرباکس ایک رات دکھایا تھا اور اسے دینے کی کوشش کی تھی اور تب اس نے نہ لیٹرباکس کو ہاتھ لگایا تھا نہ خطوں کو۔ یوں جیسے وہ ان کو چھوتا تو پتھر کا ہو جاتا۔
”تمہارے خط اور تمہارا لیٹرباکس ہے قلبِ مومن!” دادا کو لگا تھا شاید اسے یاد نہیں رہا۔
”جانتا ہوں دادا!” مومن نے بے تاثر چہرے کے ساتھ ان سے کہا تھا۔ ”بے وقوف تھا تب میں۔ سمجھتا تھا خط لکھوں گا تو اللہ جواب دے گا۔” اس نے دادا کے سامنے جیسے اپنا ہی مذاق اڑایا تھا۔
”کیا نہیں دیا اللہ نے جواب؟ ان خطوں کے بعد ہی تو میں تم سے مل پایا تھا۔” دادا نے بے حد محبت سے اسے ٹوکا تھا۔
”اور میں سمجھا تھا، اللہ واقعی آپ کو کہہ رہا تھا کہ مجھے جواب دیں۔” مومن نے گہرا سانس لے کر تب ان سے کہا، جیسے خود پر افسوس کیا تھا۔
”تم بڑے معصوم تھے مومن! پر کتنی بڑی نیکی کی تھی تم نے یہ خط لکھ کر۔ تمہیں اندازہ بھی نہیں ہو گا، تمہارے خط حسن جہاں نے مجھے بھیجے تو مجھے لگا اللہ نے تمہاری ذریعے سے میرے سوالوں کے جواب دے کر میرے دل کی گرہیں کھولی تھیں۔”
وہ رونے لگے تھے اور قلبِ مومن کی سمجھ میں ان کے یہ آنسو آئے نہ وہ احسان جو وہ اس کو یاد دلا رہے تھے۔
”آپ رو کیوں رہے ہیں؟” وہ عبدالعلی کے آنسو دیکھ کر بے چین ضرور ہوا تھا۔
”یہ تمہارے لیے رکھا ہے میں نے، شاید تمہارے دل کی گرہیں بھی اسی طرح کھول دے جیسی میری کھول دیں۔”
انہوں نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے وہ لیٹرباکس اسے تھمانے کی کوشش کی تھی مگر مومن نے ان کے ہاتھ پرے کر دیے تھے۔
”اب کوئی سوال نہیں ہیں میرے اللہ سے۔ سب جواب زندگی اور دنیا نے دے دیے ہیں مجھے۔”
وہ کہہ کر ان کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا مگر اب جب وہ اس لیٹرباکس اور خطوں کو سامنے رکھے بیٹھا تھا تو اسے لگا، دادا نے ٹھیک کہا تھا اور وہ بالکل صحیح وقت پر اس کے پاس آیا تھا جو سوال اللہ ذہن میں ڈالتا ہے، اس کا جواب اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہوتا، کسی دنیا، کسی زندگی کے لمحے کے پاس نہیں۔
قلبِ مومن نے پہلا خط اٹھایا۔ اس لفافے پر پھول اور ستارے بنے ہوئے تھے، بہت سے رنگوں کی پینسلوں سے جن کا رنگ اب پھیکا پڑ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نمی آئی۔ وہ پھول اس نے حسن جہاں سے بنانے سیکھے تھے اور ستارے طہٰ سے اور لفافے پر وہ ہمیشہ پھول ایک کونے میں بناتا تھا، ستارے دوسرے کونے میں اور درمیان میں ڈھیر سا فاصلہ۔ وہ جیسے اپنے ماں باپ کی تقدیر اور زندگی کاغذ پر کھینچ کر اللہ کے نام بھیجتا رہا تھا۔
”میرے پیارے اللہ!
میرا نام قلبِ مومن ہے۔ میں آٹھ سال کا ہوں اور اپنی ممی کے ساتھ رہتا ہوں۔”
وہ اس سے آگے نہیں پڑھ پایا اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں، کوئی فلم تھی جو آنکھوں کے سامنے چلنے لگی تھی۔ اپنے ماں باپ کے ساتھ گزارا ہوا بچپن، وہ خوب صورت زندگی اور پھر وہ سانحہ۔
قلبِ مومن نے دوسرا خط اٹھایا اس میں اس کی تصویر لگی ہوئی تھی جسے گوند کے ساتھ کاغذ پر چپکایا ہوا تھا۔ یہ وہ تصویر تھی جو اس نے اللہ تعالیٰ کو بھیجی تھی تاکہ وہ اسے پہچان لے۔
قلبِ مومن تصویر میں نظر آنے والے اس آٹھ سالہ بچے کو یوں دیکھ رہا تھا، جیسے اسے پہچان ہی نہ پا رہا ہو۔ کیا وہ وہی تھا۔ کیا وہ ایمان، یقین اس کا تھا، کیا وہ تحریر اس کی تھی۔ کیا وہ زندگی اس نے گزاری تھی، کیا وہ سارے لفظ، جملے، باتیں اسی قلب مومن کی تھیں۔
کچھ ٹوٹ رہا تھا اس کے اندر، جو بُت تھا، طلسم تھا، فریب تھا۔ اس کی اپنی ذات، اپنی خودنمائی، خودستائشی، کامیابی کا۔ کچھ چڑ رہا تھا اس کے اندر جو وہی ایمان و یقین تھا جو اس کا خاصا تھا، اس کا اثاثہ تھا۔
یہ وہی تعلق تھا جسے وہ کھوجنے بیٹھا تھا، اللہ سے بندے کا تعلق۔ کیا تھا اللہ سے بندے کا تعلق۔ کیا تھا اللہ سے قلبِ مومن کا تعلق؟ اور کیوں ٹوٹا تھا؟ اس کے پاس اس سوال کا جواب تھا۔ وہ تعلق جس کی وجہ سے جڑا تھا، اسی کی وجہ سے ٹوٹا تھا۔ اس کی ماں حسن جہاں کی وجہ سے، اس کی پارسائی نے اسے مومن کیا تھا اس کے گناہ نے اسے کافر۔
اور اس کا وہ گناہ قلبِ مومن، اللہ اور حسن جہاں کے علاوہ اگر کسی چوتھے اور پانچویں شخص کو پتا تھا تو وہ طہٰ تھا یا سلطان یا پھر عبدالعلی۔
٭…٭…٭
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});