میاں کی جوتی ۔ کہاوت کہانی ۔ الف نگر

میاں کی جوتی

کہاوت کہانی

پرانے زمانے کی بات ہے ہندوستان کے دور دراز علاقے میں رئیس نام کا ایک بہروپیا رہتا تھا۔ وہ عجیب سی حرکتیں کرکے لوگوں کو ہنسناتا اور اپنے مختلف روپ بدلتا رہتا لیکن اس کام میں اسے زیادہ آمدن نہ ہوتی۔

ایک دن اُس کے دل میں امیر بننے کاخیال آیا۔ چناں چہ وہ اس پر عمل کرنے کے لیے دوسرے شہر روانہ ہوگیا۔ وہاں جاکر اس نے اپنا تعارف ”رئیس میاں” کے نام سے کروایا اور لوگوں سے کہا: ”مجھے سرکار نے آپ لوگوں کے پاس بھیجا ہے۔”

لوگ اس کی بات توجہ سے سننے لگے۔ اس نے لوگوں کو بادشاہ کا حکم نامہ سنایا کہ آج کے بعد آپ لوگ کھیتی باڑی کرکیجو بھی غلہ اُگاؤ گے، اس میں شاہی حکومت کا حصہ بھی شامل ہوا کرے گا۔ جو کسان شاہی حکومت کو حصہ نہیں دے گا، اس کے سر پر جوتے مارے جائیں گے۔

چناں چہ لوگ شاہی فرمان سمجھ کر اپنے اناج میں سے کچھ حصہ رئیس میاں کو بھی دینے لگے۔ رئیس میاں دل ہی دل میں خوش ہورہے تھے کہ چلو بیٹھے بٹھائے اچھا خاصا اناج جمع ہوجائے گا۔ پھر یونہی ہونے لگا۔ جو لوگ اپنے غلے سے رئیس میاں کو حصہ نہ دیتے ان کے سر میں جوتے مارے جاتے۔ دن یونہی گزرتے گئے۔

آخر تنگ آکر ایک دن کچھ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضر ہوکر اس لگان کو معاف کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناں چہ شہر کے کچھ سیانے لوگ مِیلوں کا سفر کرکے بادشاہ کے دربار میں پہنچے اور گڑگڑاتے ہوئے بادشاہ کو اپنا دکھڑا سنانے لگے۔ بادشاہ ان کی بات سن کر بہت حیران ہوا کیوں کہ اسے کسی بھی بات کا علم ہی نہ تھا۔ بادشاہ کے سامنے اب رئیس میاں کا بھانڈا پھوٹ چکا تھا۔

پھر ہوا یوں کہ بادشاہ نے اپنے کارندے بھیج کر رئیس میاں کو گرفتار کروایا اور اسے دربار میں طلب کرلیا۔ رئیس میاں تو اب گردن جھکائے یوں کھڑے تھے جیسے کچھ کِیا ہی نہ ہو۔ بادشاہ نے اچھی طرح تصدیق کرلینے کے بعد متاثرہ کسانوں کو دعوت دی کہ وہ آگے آئیں۔

اس کے بعد بادشاہ نے رئیس میاں کا جوتا اتروا کر لوگوں کے ہاتھ میں دیا اور کہا: ”ہر کسان دو دو جوتے رئیس میاں کے سر پر مارے۔”

چناں چہ سب نے ایسا ہی کیا۔ لوگ باری باری آتے اور دو دو جوتے لگاتے ہوئے گزر جاتے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے: ”میاں کی جوتی میاں کے سر پر” یعنی جو آدمی جیسا کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا۔ اس دن کے بعد یہ کہاوت مشہور ہوگئی۔ میاں کی جوتی، میاں کے سر پر۔

٭…٭…٭

Loading

Read Previous

لومڑی کی عقل مندی ۔ الف نگر

Read Next

پرستان کی کہانی  ۔ الف نگر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!