Tag: Urdu fiction

  • اللہ میاں جی — ضیاء اللہ محسن

    اللہ میاں جی — ضیاء اللہ محسن

    دروازہ پوری شدت کے ساتھ کھٹکھٹایا گیا۔ ایسی دل دہلا دینے والی دستک سن کر وہ بری طرح سہم گئی۔یہ لمحات اُس کے لیے قیامت ِ صغری ٰ سے کم نہ تھے۔ رنج و الم سے معمور اس کا معصوم دل یک دم اچھل کا حلق میں آگیا۔ اسے اپنے قدم مَن مَن بھاری محسوس ہونے لگے ۔ ایک مایوس کن نگاہ اس نے مسلسل دھڑدھڑاتے بیرونی دروازے پر ڈالی۔ اگلے ہی لمحے اس کی نگاہیں قریبی چارپائی پر پڑے آٹھ سالہ مامون کا طواف کرنے لگیں جو ہمیشہ ایسی صورت ِ حال سے خوف زدہ ہوجاتا تھا ۔دروازہ ابھی تک زور دار انداز میں مسلسل کھٹکھٹایا جا رہا تھا۔ اس بار تو ساتھ ایک کرخت مردانہ آواز بھی گھر والوں کے دل و دماغ پر ہتھوڑے برسانے لگی تھی ۔
    ”ابے کھولو دروازہ …کھولتے کیوں نہیں ہو میں تمھارے باپ کا نوکر ہوں کیا؟ نکلو یہاں سے… دفع ہوجائو… چھوڑ دو ہماری جان ،کہاں سے آگئے یہ بھوکے ننگے،بے غیرت لوگ ۔”
    شور کی آواز سن کرمامون آنکھیں مَلتے ہوئے اُٹھ بیٹھا۔ وہ واقعی خوف زدہ تھا۔ اسے نیند سے بے دا رہوتا دیکھ کرڈری سہمی ماں نے ایک جھر جھری لی ،پھر کچھ توقف کے بعد ایک بڑی چادر چہرے پر ڈال کر منہ ڈھانپ لیا۔ اب وہ خوف کے سائے میں بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھانے لگی۔
    ”اماں! نہیں، اماں… آپ نہیں جائیں گی،میں دیکھتا ہوں ۔” حسب ِ معمول آج پھر آٹھ سالہ مامون اپنی ماں کو باہر جانے سے روک رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اب کیا ہونے والا ہے مگر ماں بھلا کیسے رکتی وہ اپنے بیٹے کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی سو خود ہی دروازے کی طرف چل دی۔ ویسے بھی آج اسرار صاحب کچھ زیادہ ہی غصے میں تھے۔ مسلسل غلیظ گالیاں اور طعنے دینے کے ساتھ ساتھ وہ دروازے پر لاتوں اور مکوں کے وار بھی کیے جارہے تھے۔
    ماں کو باہرجا تا دیکھ کرننھے مامون نے چارپائی سے چھلانگ لگائی اور تیزی سے دروازے کی طرف لپکا۔ وہ گھر کے صحن میں ہی چارپائی پر بیٹھا ہوم ورک کرنے میں مصرو ف تھا کہ نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔ اس سے چھوٹی تین سالہ مائرہ آس پاس کے ماحول سے بے نیاز قریب کھڑی انگوٹھا چوسنے میں مصروف تھی۔ اب وہ دروازے کی طرف بڑھ رہاتھا۔
    ”اماں! آپ چلیے واپس…” سیانے مامون نے اپنی ماں کو حکم جاری کیا۔ دروازے پرجارحانہ دستک جاری تھی، وہ دوڑتا ہوا گھر کی دہلیز پار کرکے باہر نکل گیا۔ حسبِ سابق اسرار انکل کو غضب ناک حالت میں دیکھ کرمامون ذرا سہم گیا۔ اُسے علم تھاکہ آج بھی اسرار انکل اس کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کرنے والے …اسے یقین تھا کہ انکل آج بھی اُسے اور اُس کی ماں کو جلی کٹی سُنائیںگے اور پھروہی ہوا…جس کا پہلے سے یقین تھا۔ اسرار صاحب برسے اور خوب ہی برسے… مامون بے چارا سر جُھکائے سب برداشت کرتا رہا۔
    ”انکل! وہ …ایک دو دن تک نا…” اس کی بات درمیان سے اُچک لی گئی ۔
    ”کیا مطلب ایک دو دن …؟ بے وقوف سمجھ رکھا ہے ہمیں؟ اپنی ماں کو باہر نکالو،تم لوگوں کے پاس کرائے کے پیسے نہیں تو یہ گھر جلدی سے خالی کردو ۔اب اس سے زیادہ میں برداشت نہیں کر سکتا۔ بہت ہوگئی، تین تین ماہ کا کرایہ سر چڑھا رکھا ہے۔” اسرار صاحب کے منہ سے کف اُڑ رہی تھی۔ دروازے کے دائیں پٹ کی اوٹ لیے فرخندہ پریشانی کے عالم میں تھوک نگل رہی تھی۔ وہ باپردہ خاتون تھی۔ اپنی بے بسی پر کڑوے گھونٹ پی کر دروازے کے پیچھے سے بول ہی پڑی:
    ”بھائی صاحب! بس جلد ہی آپ تک کرائے کے پیسے پہنچ جائیں گے ۔”
    ”خاک پہنچ جائیں گے۔ یہ تم لوگوں کا ہر مہینے کا معمول ہے۔ تمہاری وجہ سے مجھے اچھا خاصا ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ کمینگی کی کوئی حد ہوتی ہے۔ نہ جانے بھوکے ننگے سارے لوگ ہمارے پلے ہی کیوں پڑتے ہیں۔” اسرارصاحب گالیوں کی بوچھاڑ کے ذریعے اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے تھے۔ دروازے کی اوٹ میں اب خاموشی تھی پھر رفتہ رفتہ وہاں سے سسکیوں کی آواز آنے لگی ۔جاتے جاتے اسرار صاحب نے وہ غلیظ زبان استعمال کی کہ شریف آدمی سنتے ہی زمین میں گڑ جائے ۔
    آٹھ سالہ مامون آنکھوں میں، غصہ اور بے بسی لیے اسرار احمد کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ قدرے توقف کے بعد سہما ہوا مامون ماں کے پاس چلا آیا۔ اس نے اپنے آپ کو بے بس محسوس کیا کہ اپنی اور اپنی ماں کی سرعام بے عزتی پر صرف مٹھیاں بھینچ کررہ گیا تھا۔ ننھی آنکھوں کے گوشے پُرنم تھے۔
    ”اماں! اسرار انکل ہم سے روزانہ پیسے کیوں مانگنے آتے ہیں کیا ہمارے پاس ان کو دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں؟” آخر مامون نے معصومیت بھرے لہجے میں اپنی ماں سے پوچھ ہی لیا۔ ماں نے ایک سرد آہ بھرکر سات ماہ کی گڑیا رانی کو چار پائی سے اٹھایا اورجواب دیے بغیر آنکھوں میں آنسو لیے کمرے میںچلی گئی۔
    ننھا مامون یہ منظردیکھ کر ایک بار پھر افسردہ ہوگیا۔
    ”اماں مجھے دودھ پینا ہے۔” تین سالہ مائرہ اپنی توتلی زبان میں بار بار رٹ لگائے جارہی تھی، چٹاخ کی آواز سے ایک تھپڑ مائرہ کا گال سرخ کرگیا۔
    ”مائرہ! اپنی زبان بند رکھ… دیکھ نہیں رہی کہ اماں پریشان ہیں، ہمارے پاس دودھ کے پیسے نہیں۔ اماں نے تمہیں کتنی باربولا ہے کہ ابا دودھ لینے گئے ہیں ۔”مامون نے روتی چیختی مائرہ کو غصیلی نظروں سے دیکھااور پھر خودبھی رودیا۔
    ”مگر ابا کو گئے ہوئے تو بہت دیر ہوچکی ہے وہ واپس کیوں نہیںآرہے؟” ننھی مائرہ قمیص کے دامن سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے منہ میں بڑبڑارہی تھی۔ تب مامون نے ہچکیاں لیتی مائرہ کو آگے بڑھ کر گلے لگا لیا اور اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    اعظم صاحب کو فوت ہوئے ابھی چند ماہ ہوئے تھے۔ مامون، مائرہ اور چھے ماہ کی گڑیا رانی اپنی اماں کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے۔ تیس سالہ فرخندہ نے کبھی تصور میں بھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی اس قدر کٹھن ہوجائے گی۔ وہ چار بہنو ں اور دو بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی ۔ شادی کے بعد باقی بہن بھائیوں سے قدرے خوش حال بھی لیکن قدرت کے کھیل بھی نرالے ہیں ۔ فرخندہ سے پیار کرنے والا باوفاشوہر ایک دن دفتر سے آتے ہوئے ٹریفک حادثے کا شکار ہوگیا ۔مکان بھی کرائے کا تھا اور دوسرے اخراجات بھی منہ کھولے کھڑے تھے۔ تب ہی حالات نے بہت تیزی سے ایسا پلٹا کھایا کہ گھر کا خرچ چلانا بھی فرخندہ کے لیے مشکل ہوگیا۔
    ادھر بچے جب باپ کی شفقت سے محروم ہوئے تو روز انہیں زندگی ایک نیا روپ دکھا رہی تھی۔ مامون تو بہت جلد سمجھ دار ہو گیا۔ ادھرمائرہ اپنے ننھے دماغ میں سوچتی رہتی کہ ان کے پاس جونی، عبیرہ اور نائلہ کی طرح نئی نئی چیزیں، آئس کریم اور کھلونے کیوں نہیں ہیں، لیکن مامون اب ان باتوں کو بھو لتا جا رہاتھا۔ حالا ت نے چھوٹی عمر ہی میں اس کی سو چوں کادھا را بدل ڈالا تھا۔ اب وہ، بجلی کا بل، مکان کا کرایہ، گھر کا راشن اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ سے آشنا ہوچکا تھا، لیکن ایک بات اس کے ننھے دماغ میںگردش کرتی رہتی۔ ابا کے بعد اماں تو اکثر روتی رہتی ہیں مجھے ایسا کیا کرنا چاہیے کہ میں اماں کو چپ کرا سکوں۔ یہی سوال اسے تنگ کرتا رہتا تھا۔وہ اکثر اسی طرح کی باتوں میں اُلجھا رہتا۔
    ٭…٭…٭

  • ٹوٹی ہوئی چپل — علینہ ملک

    ٹوٹی ہوئی چپل — علینہ ملک

    سورج کی سنہری کرنوں نے چارسو اپنا رنگ بکھیرا تویہ ساتھ ہی ایک نئے دن کا آغاز تھا، زندگی کا پہیہ ایک بار پھر اپنے مخصوص ڈگر پر رواں ہو چلا تھا بس فرق صرف امارت اور غربت کا تھا۔ پیسہ ہو تو زندگی کے رنگ ہی بدل جاتے ہیں، ورنہ جینے کے لیے سانسوں کا رشتہ تو سب کا یکساں ہی ہوتا ہے۔
    کچی اینٹوں سے بنے اس غریب بستی کے مکان میں بھی سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی دن کا آغاز ہوا تھا۔ مُنی نے چائے کی آخری چسکی اور باسی روٹی کا آخری لقمہ لیتے ہوئے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا۔
    ”اماں میں آج اسکول نہیں جائوں گی۔” کوثر نے چوٹی کو بل دیتے ہوئے کہا اس کے لہجے میں افسردگی تھی۔
    کیوں کیا ہوا ہے ،تیری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ عجلت میں چادر کو سر پر ٹھیک کرتے ہوئے اس کی ماں نے پوچھا۔
    ہاں اماںطبیعت تو ٹھیک ہے مگر… میری چپل آج پھر ٹوٹ گئی ہے۔ اب کیا ننگے پاؤں اسکول جائوں؟ منی نے منہ بسور کر ماں کو دیکھا۔ وہ بے چاری الگ پریشان تھی۔
    ”اچھا میں کوشش کروں گی تیری نئی چپل لے آئوں۔ بیگم صاحبہ آج کل مصروف ہیں اس لیے ابھی تک تنخواہ بھی نہیں ملی۔ میں بات کروں گی آج۔ تیرے ابا کی دوائیوں میں آدھے پیسے نکل جاتے ہیں اور پھر راشن ،گھر کا کرایہ اور اسکول کی فیس،قرضہ کی قسطیں… کیا کروں ہر مہینے مجال ہے کہ ہاتھ میں ایک پیسہ بھی باقی بچے۔” کوثر نے ایک ساتھ کئی خرچے گن ڈالے تھے۔ ”ایسا کر! یہ پیسے پکڑ اور جاتے ہوئے موچی سے مرمت کروالے” کوثر نے دس کا نوٹ منی کی طرف بڑھاتے ہو ئے کہا۔
    ”اماں کوئی پچاس بار مرمت کروا چکی ہوں اب تو یہ بے جان چپل بھی پناہ مانگ رہی ہے ہاتھ جوڑ کر کہ خدا کے لیے میری جان بخش دو اور ساتھ ہی وہ موچی بھی یہی کہتا ہے بی بی اب اس کا پیچھا چھوڑ دو۔ منی نے خفگی سے ماں کو جتلایا۔
    ”اچھا اچھا… بس کر زیادہ باتیں نہ بنا، کہا تو ہے کہ نئی لے دوں گی۔ دعا کر بیگم صاحبہ تنخواہ ہاتھ پر رکھ دے اور ہاں آج اسکول مت جانا، خیر ہے تُو نے پڑھ کے کون سا استانی لگ جاناہے۔ کام کرنا تو یہی ہے جو ہماری قسمت میں لکھا گیا ہے۔” کوثر نے ساتھ ہی جلی کٹی بھی سنا ڈالی تھیں۔
    ”اچھامیں چلتی ہوں بنگلے بھی پہنچنا ہے دیر ہوگئی تو بیگم صاحبہ کلاس لے گی۔ ابا کو دوائی یاد سے کھلا دینا اور گھر کا کام ختم کرکے چپل مرمت کروا لینا دروازے سے نکلتے ہوئے بھی اس نے دس باتیں ایک سانس میں کہہ ڈالی تھیں۔
    ”اچھا اماں اللہ حافظ۔” منی نے ساری باتوں کے جواب میں صرف اتنا ہی کہا تھا اور پھر دروازہ بند کر کے جلدی جلدی سارا سامان سمیٹنے اور جھاڑو دینے لگی۔ وہ بچپن سے اپنی ماں کی باتوں اور ان حالات کی عادی ہو چکی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”اف کوثر! آج پھر تم نے دیر کر دی، دیکھو بچے ناشتے کیے بغیر ہی اسکول جارہے ہیں کتنی بار کہا ہے کہ صبح وقت پر پہنچ جایا کرو۔” بیگم صاحبہ جو غصہ سے بھری بیٹھی تھیں ایک دم برس پڑیں۔
    ”باجی! میں تو پورے (ٹیم )ٹائم پر ہی گھر سے نکلی ہوں۔” اس نے منمناتے ہوئے۔
    ”کوثر یا تو تمہاری گھڑی خراب ہے یا پھر تم بہانے بنانے میں ماہر ہو۔ آج پھر بچے بغیرناشتے کے اسکول چلے گئے۔ تمہیں کام پر کس لیے رکھا ہے ہم نے… اگر روزانہ میرے بچوں کو بھوکے پیٹ ہی اسکول جانا پڑے تو پھر تمہاری کیا ضرورت…” ریحانہ بیگم کا پارہ صبح صبح بلند ہو رہا تھا۔
    ”معذرت باجی! کل صبح سویرے پہنچ جائوں گی آپ فکر نہ کریں۔” اس نے شرمندگی سے کہا پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئی۔
    ”باجی جی آپ نے ابھی تک تنخواہ نہیں دی مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔” ساتھ ہی اس نے اپنا مدعا بھی بیان کیا کہ بیگم صاحبہ نے ابھی کچھ دیر میں تیار ہوکر چلے جانا ہے اور پھر اسے تنخواہ نہیں ملنی۔
    ”کوثر تمہیں کل بھی بتایا تھا کہ میں آج کل بہت مصروف ہوں ،سوشل ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے پانچ روزہ ورک شاپ چل رہی ہے جس میں شرکت کے لیے، دوسرے شہروں سے اور باہر سے بھی مہمان آئے ہوئے ہیں ،میں کچھ دن میں فارغ ہوجائوں تو تمہارا حساب کر دوں گی۔” ریحانہ بیگم نے وہی کل والی بات دُہرائی تھی۔
    ”ماما مجھے یہ والے شوز نہیں پہننے۔ آپ کو کہا بھی تھا وہ بلیک والے شوز نکال دیں جو بابا شارجہ سے لائے تھے۔” لائبہ جو کالج جانے کے لیے جلدی جلدی تیار ہورہی تھی آف موڈ کے ساتھ بولی،وہ جو مزید کچھ کہنا چاہتی تھی پھر وہیں چپکی رہ گئی ۔
    ”اچھا رکو! میں کوثرسے کہہ دیتی ہوں وہ نکال دے گی بیٹا میں نے تو بہت ڈھونڈے مجھے نہیں ملے۔” کوثر جائو ذرا لائبہ کی الماری میں جہاں شوز رکھے ہوئے ہیں وہاں سے بلیک کلر کے شوز ڈھونڈ دو ورنہ اس لڑکی نے کالج نہیں جانا۔”
    ”اچھا بی بی! میں دیکھتی ہوں۔کوثر نے لائبہ کے کمرے میں آکر الماری کھولی اور پھر پندرہ منٹ اسے لائبہ کا مطلوبہ جوتا ڈھونڈنے میں لگ گئے، یوں لگتا تھا جیسے جوتوں کا کوئی بازار ہو، کچھ کھلے پڑے تھے۔ کچھ ڈبوں میں بند اور کچھ جو پرانے ہو چکے تھے وہ یوں ہی بکھرے پڑے تھے۔ لگ بھگ دس پندرہ نئے پرانے جوتوں کے جوڑے تھے۔ کوثرنے پہلے بھی یہ سب کچھ دیکھا ہوا تھا مگر آج نہ جانے کیوں اس نے پہلی بار غور سے دیکھا بھی اور گنا بھی اور پھر ایک سرد آہ اس کے منہ سے نکلی۔
    ٭…٭…٭
    ”ابا دوا کھالو۔” جھاڑو اور برتنوں سے فارغ ہو کر اس نے پانی کا گلاس اور دوائی باپ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ وقت اور حالات نے اس معصوم بچی سے اس کا بچپن چھین لیا تھا وہ وقت سے پہلے بڑی ہوچکی تھی جو عمر اس کے کھیلنے کی تھی وہ اسے گھر کے کام اور حالات کو جھیلنے میں گزر رہی تھی۔
    ”اچھا ابا! میں ذرا باہر جارہی ہوں ،موچی سے چپل مرمت کروا لاؤں جلد ہی آجائوں گی۔ اگر زیادہ کھانسی آئے تو تم یہ دوا ضرور پی لینا۔” مُنی نے باپ کے سامنے دوا رکھتے ہوئے کہا۔
    ”ایک پائوں میں چپل پہنے اور دوسری میں ٹوٹی ہوئی چپل تھامے وہ گھر کی دہلیز سے باہر نکلی تھی۔ دروازے کے دونوںپٹ برابر کر کے اس نے باہر سے کنڈی چڑھائی اور پھر تنگ سی گندی گلی سے گزری جہاں کوڑے کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ اونچے نیچے راستوں پر اس نے قدم بڑھانے شروع کردیے۔
    دھوپ کی شدت اور جلتی ریت نے جلد ہی اسے اس بات کا احساس دلا دیا کہ اس کے ایک پائوں میں چپل نہیں ہے مگر پھر بھی چہرے پر بے فکری اور مسکراہٹ سجائے وہ اپنی ہی دھن میں چل رہی تھی۔ تعفن زدہ گلی کی آخری نکڑ پر پہنچ کر اس نے ہاتھ میں پکڑی ٹوٹی چپل پائوں میں اُڑس لی اور پھر چوڑی کشادہ سڑک کے ساتھ بنے فٹ پاتھ پر جس کے ساتھ بڑی بڑی دکانیں اور اسٹور بنے ہوئے تھے وہ خود کو قدرے گھسیٹ کر چلنے لگی ۔سڑک پر ٹریفک کا اژدحام تھا ،چارطرف سے آنے والی گاڑیاں، رکشے، موٹر سائیکلیں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں تھے۔
    خود کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے وہ دو رویہ سڑک کے کنارے پر آئی کیوں کہ اسے سڑک پار کر کے دوسری طرف جانا تھا۔ بیچ سڑک پر تیزی سے گزرتی موٹر سائیکلوں ،رکشوںاور گاڑیوں کا بے ہنگم شور سماعتوں پر خاصا گراں گزر رہا تھا ۔فٹ پاتھ سے روڈ پر قدم رکھتے ہی اس نے تیزی سے آتی جاتی گاڑیوں کی طرف دیکھا اور جیسے ہی تھوڑا فاصلہ محسوس کیا تو چپل گھسیٹتے ہوئے روڈ پر آگئی۔ اچانک اسی لمحے ایک تیز آتی ہو ئی موٹر سائیکل نے اسے زور سے ہٹ کیا اور وہ دور فٹ پاتھ سے ٹکراتی ہوئی منہ کے بل جاگری۔ دوسری سمت سے آتی ہوئی گاڑی نے اس کی ٹانگوں کو کچل ڈالا ۔ ٹوٹی ہو ئی چپل پائوں سے نکل کر کہیں دور جاپڑی اس نے بہ غور دیکھا۔ درد کی انتہاؤں میں اسے محسوس ہوا کہ شاید ٹوٹے ہوئے چپل اس کے ٹوٹے پھوٹے پاؤں کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
    افلاس کی بستی میں ذرا جا کر تو دیکھو
    وہاں بچے تو ہوتے ہیں مگر بچپن نہیں ہوتا

    ٭…٭…٭

  • یہ راہ مشکل نہیں — عائشہ احمد

    یہ راہ مشکل نہیں — عائشہ احمد

    اﷲ پاک نے دنیا کو ایسے ہی نہیں بنایابابا، آدم کو بنانے کے بعد اماں حوا کو پسلی سے پیدا کرنا کوئی معمولی بات نہیں اور پھر ابلیس کا سجدے سے انکار کرنے میں بھی اس ربِ کائنات کی کوئی مصلحت چھپی تھی۔ آدم اور حو ا کو زمین پر بھیجنا بھی بے وجہ نہیں تھا۔ آدم اور حوا کو نیکی اور برائی کا راستہ بتا کر انہیں دنیا میںجینے کا طریقہ اور ساتھ ہی حلال اور حرام کا فرق بھی سمجھا دیا گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    کومل کی طبیعت سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ تنویر ہر جگہ اس کو لے کر گیا لیکن ڈاکٹر ز کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بیماری کیا ہے۔ کومل مشہور بزنس مین تنویر کی اکلوتی بیٹی ہے۔ اس لیے تنویر کی جان اس میں تھی۔ ایک دن اس نے گردے میں درد کی شکایت کی۔ ڈاکٹرز نے وہ عام سا درد بتایا لیکن اس کے بعد کومل کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی۔
    وہ ملک کے ہر بڑے ڈاکٹر کے پاس گیا لیکن کوئی بھی اس کی بیٹی کا علاج نہیں کر پایا۔ اس وقت بھی وہ ایمرجنسی وارڈ میں تھی۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی۔ ڈاکٹر نے اسے مصنوعی سانس کی نالی لگائی ہوئی تھی۔ شیشے کے پار وہ اپنی بیٹی کو زندگی اور موت کی کشمکش میں دیکھ رہا تھا لیکن بے بس تھا۔ بیٹی کے لیے چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ جب اس کی بیوی فوت ہوئی تب کومل دس سال کی تھی لیکن بیٹی کی خاطر اس نے دوسری شادی نہیں کی۔ حالاں کہ کئی خوب صورت لڑکیاں اس سے شادی کی خواہش مند تھیں مگر اس نے سب پر کو مل کو ترجیح دی۔ اب کومل کی بیماری نے اسے پریشان کر کے رکھ دیا تھا۔ کوئی ایسا اسپتال نہیں تھا جہاں وہ اسے نہ لے کر گیا ہو لیکن ڈاکٹرز اس کی بیماری سمجھ نہیں پارہے تھے۔ وہ پیسہ پانی کی طرح بہا رہا تھا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ اس کے دوست نے اسے امریکا جانے کا مشورہ دیا۔ وہ کومل کو لے کر امریکا بھی گیا لیکن اُس کی حالت جوں کی توں تھی۔
    ”پاپا جانی کیا میں مر جائوں گی؟” کومل کے اس سوال پر وہ تڑپ کر رہ جاتا۔
    ”نہیں پاپا کی جان…! ایسا کچھ نہیں ہوگا۔” وہ اسے تسلی دیتا لیکن حقیقت میں یہ ایک فریب تھا جو نہ صرف وہ کومل بلکہ خود کو بھی دے رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    تنویر کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو مٹی کو بھی ہاتھ لگائیں تو سونا بن جائے۔ اس نے اپنے کام کا آغاز ایک چھوٹی سی کیمیکل فیکٹری سے کیا تھا اور آج اس کا کاروبار نہ صرف پورے ملک میں پھیلا تھابلکہ غیر ملکی سطح پر بھی اس کا نام تھا اور حکومتی سطح پر ملنے والے ٹھیکے بھی تنویر کیمیکلز گروپ آف کمپنیز کو ملتے جس کے لیے تنویر ہر جائز اور ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتا۔ رشوت بھی دیتا اوریوں وہ ہر کنٹریکٹ حاصل کر لیتا۔ اس بات پر اس کی اپنی بیوی سے لڑائی رہتی۔ وہ ہمیشہ اسے کہتی کہ اتنی دولت کیا کرنی ہے، ایک ہی تو بیٹی ہے ہماری لیکن تنویر پر ایک ہی دھن سوار تھی۔ اس کی بیوی کینسر میں مبتلا ہوکر اس دنیا سے چلی گئی لیکن تنویر نے پھر بھی ہوش کے ناخن نہ لیے۔
    ٭…٭…٭
    کومل کی بیماری روز بہ روز بڑھتی جا رہی تھی اور تنویر کو کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی اس کے ایک دوست نے اسے ایک بزرگ کا پتا بتایا اور کہا کہ اس کے پاس چلے جائو، اس کی دعا میں شفا ہے۔تنویر کومل کو ساتھ لیے اس بزرگ کے پاس پہنچ گیا۔ انہوں نے کومل کو دیکھا جو سوکھ کر کانٹا ہوگئی تھی۔بزرگ کافی دیر کومل کو دیکھتے رہے تنویر کے چہرے پر بے چینی نمایاں تھی۔ اسے یقین تھا کہ اس بزرگ کی دعا سے کومل ٹھیک ہو جائے گی۔
    ”بابا جی میری بیٹی ٹھیک ہو جائے گی نا؟ سنا ہے آپ کی دعائوں میں بڑا اثر ہے۔” تنویر بے تابی سے بولا۔بزرگ نے اسے غور سے دیکھا، ان کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ رینگ گئی۔
    ”بابا جی! آپ میری بات کا جواب دینے کے بجائے مسکرا رہے ہیں۔” تنویر مایوسی سے بولا تو بزرگ اسے چند لمحے دیکھتے رہے پھر بولے:
    ”میں اس لیے مسکرایا ہوں کہ انسان دوسرے انسانوں پر کتنا یقین رکھتا ہے، لیکن جو ذات اسے دنیا میں لانے کا وسیلہ بنتی ہے،اسے دنیا کی ہر آسائش مہیا کرتی ہے اس پر کبھی اعتبار نہیں کرتا، اس سے مدد نہیں مانگتا۔ اس سے دعا اور شفا کی امید نہیں رکھتا۔” بابا جی کومل کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔
    ”ماں، باپ کے کیے کی سزا ہمیشہ اولاد کو ملتی ہے لیکن ماںباپ کو اس بات کااحساس نہیں ہوتا۔” وہ تو بس دنیا کی دوڑ میں لگے ہوتے ہیں۔بابا جی بغیر رکے بولے۔
    ”لیکن بابا جی میں نے کبھی کچھ ایسا غلط نہیں کیا۔ کبھی کسی کو دکھ نہیں دیا۔ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھتا ہوں۔ صدقہ خیرات تو بہت زیادہ کرتا ہوں۔” پھر میرے اوپر ایسی مصیبت کیوں آئی؟ پہلے بیوی چھوڑ کر چلی گئی اور اب بیٹی کو لمحہ لمحہ موت کی طرف بڑھتا دیکھ رہا ہوں۔” تنویر رو دیا تھا۔
    ”حرام کھانا چھوڑ دے ،تیرے سارے مسئلے حل ہوجائیں گے۔” بزرگ نے کہا تو تنویر کے ساتھ کومل بھی چونک گئی۔ تنویر پھٹی پھٹی نظروں سے بزرگ کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے انہوں نے کوئی بم پھوڑ دیا ہو۔
    ”بابا جی…”تنویر تھوک نگلتے ہوئے بولا۔
    ”جس بدن میں حرام مال کی آمیزش ہو جائے اس کی دعا قبول نہیں ہوتی بیٹا، پھر چاہے جتنا مرضی صدقہ خیرات کر لے،جتنا مرضی اﷲ کی راہ میں خرچ کرلے لیکن وہ قبول نہیں ہوتا میرے بچے۔” بزرگ نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ تنویر نظریں نیچی کیے یہ سب سُن رہا تھا۔ وہ بزرگ سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔ کومل بھی دبی دبی آواز میں رو رہی تھی۔
    ”یہ دنیا انسان کے لیے ایک امتحان گاہ ہے جسے عبو کرنے کے لیے آگ کا دریا پار کرنا پڑتا ہے اور کام یابی اسے ہی ملتی جو اﷲ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے اور اﷲ کے بتائے ہوئے راستوں میں سے ایک راستہ حلا ل ہے۔ یہ راہ مشکل نہیں ہے بیٹا! بس اپنا نفس مارنا پڑتا ہے۔” تنویر نے سر اوپر کیا تو اُس کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔

    ٭…٭…٭

  • متحیر — لبنیٰ احمد

    متحیر — لبنیٰ احمد

    ”میرا بیٹا ماشاء اللہ بہت خوبصورت ہے۔”
    ”جی جی ماشا اللہ۔”
    اُن کے پانچویں بار دہرانے پرمیرا جواب بھی مختلف نہ تھا۔ ”وہ بڑا ہوکر آرمی آفیسر بنے گا۔ کہتا ہے ملک سے تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کردوں گا اور اماں تمہیں سلیوٹ کیا کروں گا ہر صبح یہی بس خواہش ہے۔”
    ”اچھی بات ہے اماں جی۔” میں نے پھیکی مسکراہٹ سے جواب دے کر اپنی بیٹی زروا کو ایک بازو سے دوسرے پر منتقل کیا۔
    ”میرا چاند” اب اماں خود کلامی کررہی تھیں۔
    میں اس وقت شہر کے مشہور چائلڈ اسپیشلسٹ کے کلینک میں موجود تھی اور اپنی بیٹی کے چیک اپ کاانتظار کررہی تھی۔ پچھتر نمبر ٹوکن ملا تھا جب کہ چونتیسواں نمبر چیک اپ کروانے میں مصروف تھا۔ خاصے معروف ڈاکٹر تھے۔ ویٹنگ روم میں خوبصورت کرسیوں کی قطاریں اور لوگوں کا ہجوم شدید سردی میں ہر بچہ ہی متاثر تھا۔ سامنے اسکرین پر بچوں کے پسندیدہ کارٹون ٹام اینڈ جیری چل رہے تھے اور میرے ساتھ بیٹھی خاتون بے حد باتونی تھیں اُن کا نمبر چھہتر تھا۔ اپنے بیٹے کے چیک اپ کے لیے آئی تھیں جو ایک طرف بنے پلے ایریا میں کھیلنے میں مصروف تھا۔ زروا مجھے شدید پریشان کررہی تھی۔ بخار اور سردی کی وجہ سے بے تحاشا چڑچڑی ہوگئی تھی۔ مجھے دو منٹ کھڑے اور دو منٹ اُس کی فرمائش پر بیٹھنا پڑ رہا تھا جس سے بے انتہا کوفت محسوس ہورہی تھی لیکن گیارہ ماہ کی بیمار بچی سے میں ایسی توقع ہی رکھ سکتی ہوں۔
    ”سات سال کا ہوجائے گا اگلے ماہ میرا ایشان۔” جیسے ہی میں بیٹھی اماں جی کا ایشان نامہ پھر سے شروع ہوگیا۔ ”یہ دیکھو پچھلے سال ٹرافی جیتی ہے اس نے اپنے اسکول میں سب سے بہترین مقرر کی۔” آئی فون پر اگلی تصویر میری نظر کے سامنے کرتے انہوں نے کہا۔
    اب کے میں نے قدرے غور سے دیکھا سات سال کا گول مٹول سا بچہ جو کہ بے حد چمک دار آنکھوں کے ساتھ اپنے اساتذہ کے ہمراہ ٹرافی لیے کھڑا ہے۔
    ”بہت شان دار اللہ اُسے اور کامیابیاں دے۔” میں نے اماں جی کا جوش اور ولولہ دیکھ کر دل سے دعا کی۔
    ”تمہیں پتا ہے ایک بار بچپن میں۔” میری دلچسپی دیکھتے ہوئے وہ ایشان کا کوئی بچپن کا غیر اہم واقعہ لے کر بیٹھی گئیں صد شکر مجھے اپنے خاوند آتے دیکھائی دیے میں زروا کو انہیں دے کر ریلیکس ہوکر زنانہ انتظار گاہ میں پھر سے جا بیٹھی۔
    اماں جی نے مجھے دوبارہ آتے دیکھا، تو خوشی سے اُن کی باچھیں کھل گئیں۔ سائیڈ اسکرین پر باسٹھ نمبر روشن تھا۔ بس کچھ دیر اور…
    ”میرے ایشان کو دال چاول بہت پسند ہیں۔ اُس کے فیورٹ کھیل فٹ بال اور والی بال ہیں۔” ایشان کا ہیئر اسٹائل اُس کا لباس اور وہ کتنا صفائی پسند ہے۔ اس کے آئیڈیل راحیل شریف ہیں، ایوب خان کے دور کی فوجی موویز دیکھتا ہے۔ اُس کی اصول پسند طبیعت۔ اُس کا نرم مزاج۔” یہ ماں تو اپنے بیٹے کی دیوانی لگتی تھی۔
    ”میرے ایشان نے اُس روز مجھے کہا تھا اماں دعا کرنا میرا ٹیسٹ ٹھیک ہوجائے۔ اگر ٹیسٹ میں مارکس کم آئے تو میرا فلو اور زکام جس کی وجہ سے میں اچھی تیاری نہیں کرسکا شاید کبھی ختم نہ ہو۔” اسکرین پر چوہتر نمبر کی بپ ہوئی۔
    ”اوہ اچھا اماں جی آپ کے بیٹے کو فلو اور زکام ہے۔ اللہ بہتر کرے نظر نہیں آرہا ہے کہاں ہے وہ؟”
    میں نے سوالیہ نظروں سے اُن کی طرف دیکھا مجھے حیرت بھی ہوئی کہ اتنا پیار جتا رہی ہیں اور بیٹے کو کھیلنے کے لیے پلے ایریا میں بھیجا ہوا ہے بہ جائے اپنے پاس بٹھانے کے۔ میں نے ایک نظر دور کھیلتے بچوں کو دیکھا۔ اماں جی کے کچھ کہنے سے پہلے میڈیکل اٹینڈنٹ نے زروا کے نام اور نمبر کی بپ بجا دی۔ میں جلدی سے شیشے کے دوسرے پار کمرے میں چلی آئی جہاں ڈاکٹر صاحب نے ہر مریض کی طرح مجھے بھی تسلی دیتے ہوئے دواؤں کا پلندہ تھما دیا۔
    امید کا دامن پکڑے اپنی بیمار بیٹی کو لیے جب میں باہر آئی تو اماں جی اور میڈیکل اٹینڈنٹ کے درمیان بحث چل رہی تھی۔ میرے خاوند میڈیکل کارنر سے دوائیں لے رہے تھے۔ میں زروا کو اُٹھائے چپکے سے وہاں چلی آئی۔
    ”اماں جی کیوں اپنا اور ہمارا ٹائم ضائع کررہی ہیں۔ بُلائیں آپ کا بیٹا ہے کہاں؟ بیٹا اُس نے فون پر کہا تھا اُسے فلو ہے۔ ٹیسٹ تھا اُس کا مگر لوگ کہتے ہیں سولہ دسمبر کو تمہارا بیٹا شہید ہوگیا تھا۔”
    میرے دل پر ایک دھچکا سا لگا اور میں پچھلی کہانی پر ہکا بکا سی رہ گئی۔ اُسی لمحے میرے شوہر نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف متوجہ کیا اور میں اُن سے مزید کچھ کہے سنے بغیر بوجھل قدموں سے باہر کی جانب چل دی۔

    ٭…٭…٭

  • دیکھ تیرا کیا رنگ کردیا ہے —- فہمیدہ غوری

    دیکھ تیرا کیا رنگ کردیا ہے —- فہمیدہ غوری

    آج کل کراچی کے شہری سڑکوں ،راستوں سے گزریںتو ارد گردکی بے چاری فضائیں پکار پکار کر کہہ رہی ہوتی ہیں ۔
    دیکھ! تیرا کیا رنگ کر دیا ہے
    ”خوشبو” کا جھونکا تیرے سنگ کر دیا ہے
    عالمگیر کا یہ آفاقی گیت تو آپ نے بھی سنا ہوگا ۔کراچی کی گلیوں کے تعفن زدہ ماحول دیکھتے اور سونگھتے ہی یہ گیت خود بہ خود زبان پر آجاتا ہے ۔امر واقعہ یہ کہ کراچی میں کچرے کے ڈھیر لگ چکے ہیں کوئی صاحب ِخوش گمان چاہے تو بڑی آسانی سے گینز بک آف ورلڈ میں یہ” کارنامہ ‘ ‘ درج کرواسکتا ہے۔ میڈیا بار بار گندے نالے دکھا کر حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کروا تا رہتا ہے، مگر مجال ہے جو صاحبان ِ اقتدار کے کان پرجوںتک رینگتی ہو ۔
    کچرے کے ڈھیر ،ابلتے ہوئے گٹر ، پھٹی ہوئی پائپ لائنز زبان ِ حال سے اپنا دُکھڑا سنا رہی ہوتی ہیں۔سر کار تو سرکار ،عوام کی بھی کوئی کل سیدھی نہیںلگتی ۔گلیوں میں کچرا پھینکنا تو یوں عام ہے کہ گویا لوگ اسے اپنا پیدائشی حق تصور کرتے ہیں ۔حالاں کہ اس کے مُضر اثرات سے سبھی واقف ہیں ،لیکن پھر بھی گھروں کی صفائی کرکے دوسروں پراپنا گند پھینکنے جیسی کمینی حرکت سے لوگ بازنہیں آتے ۔
    ابھی پچھلے جمعے کی بات ہے ۔بڑے بھائی جان نیا نکور کورے لٹھے کا سفید براق کرتا پاجامہ پہن کر نماز ادا کرنے چلے۔ ابھی کچھ دور ہی گئے ہوں گے کہ راہ چلتے کسی نے اوپر سے ڈائپر والا بھرا شاپر پھینک دیا ،پکا فوجی نشانہ تھا۔ سیدھا بڑے بھائی جان کے سر پر آکر پھٹا۔ بے چارے بھائی کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہے۔
    سرکار اور عوام دونوں نے مل کر اس روشنیوں کے شہر کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔کوئی ایسا مرد جرّی ،کوئی ایسا صلاحیت والا انسان اللہ اس شہر کو دے کہ دنیا دوبارہ کراچی کو عروس البلا د کہہ سکے۔
    صفائی کے بعد کراچی کا دوسرابڑا مسئلہ پانی ہے …جی ہاں!پینے کا صاف پانی۔
    سنا ہے زمانہ قدیم میں کراچی میں سڑکیں دُھلا کرتی تھیں۔ہمیں تو یہ سوچ کر ہی اتنی خوشی ہو رہی ہے گویا تب یہاں پانی وافر مقدار میں میسر تھا۔لیکن اب سڑکیںبے چاری خاک دھلیںگی؟کہ اب توشاید واٹر بورڈ والوں کے پاس چُلو بھر پانی بھی نہ ہو۔چلو اور کچھ نہیں تو بندہ ڈوب ہی مرے ۔
    ابھی چند دن پہلے کی بات ہے ۔چچا میاں کے منجھلے بیٹے کا ”بر دکھوا ”تھا ۔بر دکھوا منہ دکھانے کو کہا جاتاہے۔یعنی رشتہ طے کرنے سے قبل لڑکی والے دیکھنے اور فیصلہ کرنے آتے ہیں کہ یہ منہ ان کی بیٹی کے قابل ہے بھی یا نہیں۔چچا میاں کے منجھلے بیٹے کا بر دکھوا تھا۔مہمانوں کی آمد آمد تھی ۔ ابا میاں کے شور کرنے پر منجھلے بھیا نہانے چلے گئے ۔اتنے میں سسرالیوں کی آمد بھی ہوگئی۔
    پُرجوش استقبال کیا گیا۔چائے پانی اور دیگر لوازمات ان کے سامنے سجا دیئے گئے ۔ایسے میں اچانک ،شور اُٹھاکہ ”دولہا میاں” کو بلایا جائے۔زور زور سے غسل خانے کا دروازہ پیٹا گیا۔اندر سے بھائی میاں کی مریل سی فریاد سنائی دی۔
    ”پانی…پپ…پانی ۔” گویاعین وقت پر پانی دغا دے گیا اور بھائی میاں کے سرپر لگے خضاب نے ان کی آنکھیں اندھی اور منہ کالا کر دیا تھا۔بے چارے اب منہ دکھاتے بھی توکیسے…؟ کراچی کی تاریخ اس قسم کے” عظیم واقعات” سے بھری پڑی ہے ۔
    کراچی کا تیسرا بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ ہے ۔ گزشتہ بقراعید کا یہ ”درد ناک” قصہ ہے۔ ہم لوگ قربانی سے فارغ ہوئے تو کلیجی ،گردوں کی دعوت ِشیراز اڑانے کے بعد اماں اور آپا نے بڑی ہی ایمان داری اور وضع داری سے سارے محلے میں گوشت، ہڈیاں اور چھیچھڑے برابر تقسیم کیے، پھرپانچ کلو چانپیں، پانچ کلو تکے کی بوٹیاں ،ڈھائی کلو قیمہ اور بھیا کے سسرال سے آئے بکرے کے پائے ڈیپ فریزر میںرکھ دیئے۔لیکن یہ کیا ؟لمبے عرصے کے لیے بجلی چلی گئی ۔
    اماں جی کے تو گویااوسان ہی خطا ہوگئے۔انہوںنے ادھر اُدھر کافی فون کھڑکائے کہ کوئی محلے دار ،کوئی رشتہ دار ہمارا گوشت اپنے ہاں چند دن کے لیے رکھ لے،مگر کہاں جی …شرافت کا تو زمانہ ہی نہیں رہا ۔سب نے صاف انکار کردیا ۔اگلے دن اماں بے چاری غریبوں میں سری پائے تقسیم کرکے ثواب دارین حاصل کرتی رہیں ۔ ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کے ذمہ داروں کو کھری کھری سناتی رہیں۔اس قدر ظالم ہیں یہ حکمران ذرابھی انہیں اپنے دیس اور عوام کے مسائل کا ادراک نہیں ہے ،پھر کراچی بے چارہ تو ویسے بھی ان سب کے لیے تختہ مشق بنا ہوا ہے ۔
    مسائل تو کراچی کے اور بھی بہت ہیں ،دل کرتا کہ ساری گانٹھیں آج ہی کھول دوں ، لیکن ہمارے مضمون سے کون سا کسی کے سر پر جوں رینگنی ہے ۔سو اپنا خون جلانا یہیں بند کرتے ہیںاور کراچی بے چارے کو صرف یہی کہتے ہوئے رخصت چاہتے ہیں کہ :” دیکھ! تیرا کیا رنگ کردیا ہے ”
    ٭…٭…٭

  • تم میرا نصیب نہ تھے — سلمیٰ خٹک

    تم میرا نصیب نہ تھے — سلمیٰ خٹک

    وہ دونوں انگلینڈ کے ایک دور دراز ساحل سمندر پر چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔سامنے اُن کے بچے پانی میں کھیل رہے تھے۔ سیاحوں کے لیے وہ دونوں بھی توجہ کا مرکز تھے۔ جوزف گورا چٹا، نیلی آنکھوں اور لمبے قد والا کسرتی بدن کا مالک، آدھی آستینوں والی سفید شرٹ اور جینز میں پاؤں پھیلائے اپنی کہنیوں پر ٹکا ہوا نیم دراز تھا۔ اس کے ساتھ نور تھی۔ پوری آستینوں کی ڈھیلی ڈھالی شرٹ، ساتھ میں لمبا سکرٹ اور اپنا پورا سر سکارف میں چھپائے ہوئے تھی۔ اس نے بڑی سن گلاسز لگائی ہوئی تھیں اور جوزف کے سامنے سمٹ کر ایک طرف چٹائی پر بیٹھی ہوئی تھی۔
    ”نائس کپل!” (اچھی جوڑی ہے) ایک معمر جوڑے نے نزدیک سے گزرتے ہوئے انہیں دیکھ کر کہا اور مُسکرا کر آہستہ آہستہ آگے چل دیئے۔
    ”تھینک یو!” جوزف نے مسکرا کر کہا۔
    ”وہ ہمارے بچے ہیں۔” اُس نے معمر جوڑے کو بچوں کی طرف اشارہ کرکے بتایا۔ وہ دونوں بڑی حیرت سے اُن چار بچوں کو دیکھنے لگے۔ دو لڑکے اور دو لڑکیاں، لیکن ایک لڑکا اور لڑکی بالکل گورے جب کہ دوسرے دو گندمی رنگت کے مگر بے حد خوب صورت بھوری آنکھوں والے بچے تھے اور گورے تو کالی اور بھوری آنکھوں پر مر مٹتے ہیں۔
    ”خوش رہو!” عورت نے انہیں دعا دی اور اپنے بوڑھے شوہر کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ آہستہ ریت پر ان سے دور چل دی۔
    ”اب بھی کہتا ہوں، شادی کر لو مجھ سے، ہم دونوں ہی خوش رہیں گے اور ہمارے بچے بھی۔” جوزف نے نور کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”جوزف! تم باز نہیں آؤ گے۔”
    نور نے قدرے خفگی سے کہا۔
    اس نے بچوں کو آواز دی اور قریب پڑے باسکٹ سے سینڈوچز اور جوس کے ڈبے نکالنے لگی۔ بچے چیختے ہوئے اکٹھے جوزف کے اوپر دور سے دوڑتے ہوئے چڑھ دوڑے اور وہ ”ہائے میں مر گیا” اور ”بچاؤ بچاؤ اِن چھوٹے شیطانوں سے مجھے بچاؤ” چلاتے ہوئے ایک ایک کو پکڑنے لگا۔
    نور مسکراتے ہوئے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ سب کچھ کتنا مکمل اور اچھا لگ رہا تھا مگر اس کے دل میں ایک ہوک سی اُٹھی کہ یہ تو بالکل اُلٹ تھا۔ کچھ بھی تو مکمل نہیں تھا اُس کی زندگی میں۔

    دور سمندر پار سورج ایک بہت بڑے سونے کے تھال کی مانند دکھائی دے رہا تھا جو آہستہ آہستہ پانی میں اُترنے کی تیاری کررہا تھا۔ نور نے سامان سمیٹا، چٹائی لپیٹی اور جوزف نے بچوں کو اپنے آپ کو خشک کرنے کے لیے الگ الگ تولیے دیئے اور انہیں جوتے پہنانے میں مدد کرنے لگا۔
    وہ لوگ ساحل سمندر سے پندرہ بیس منٹ کے فاصلے پر رہتے تھے۔ یہ انگلینڈ کا ایک خوب صورت اور پُرسکون قصبہ تھا۔ یہ علاقہ زیادہ تر ریٹائرڈ اور عمر رسیدہ لوگوں کا مسکن تھا جو ساری عمر بڑے شہروں کے شور و غل میں مشینی زندگی گزارنے کے بعد اپنے آخری ایام آرام و سکون سے گزارنے کی خواہش میں یہاں رہتے تھے۔ بچے ان کے گھونسلوں سے اُڑ چکے تھے اور اُسی مشینی زندگی کے سائیکل میں جتے ہوئے تھے، جس میں اُن کے والدین عمر گزار چکے تھے۔ وہ کبھی کبھار اپنے بوڑھے والدین کو سال گرہ، کرسمس پر شکل دکھا جاتے تھے ورنہ تو کونسل کی طرف سے صفائی والا، دوائی دینے والی نرس اور یہاں تک کہ تین وقت کا کھانا بھی انہیں کوئی آکر دے جاتا تھا۔ ایسے قصبے میں رہنے کا فیصلہ اُس نے اِسی لیے کیا تھا کہ اپنے ہم وطنوں سے دور رہ سکے اور اُس کے خاندان والے اُس تک پہنچ نہ پائیں۔ وہ سب سے ناطہ توڑ کر، پاکستان سے بڑی رازداری سے اور چھپ کر بچوں کے ساتھ انگلینڈ آئی تھی اور یہاں اس نے پناہ کے لیے درخواست دی جو منظور ہوگئی تھی۔ اس کی ڈگریاں اُس کے بہت کام آئی تھیں۔ اس نے جس سکول میں بچوں کو داخل کروایا تھا، اُس کی پرنسپل نے از راہِ ہم دردی اُسے ”ٹیچنگ اسسٹنٹ” کے طور پر رکھ لیا تھا۔ وہ کلاس ٹیچر کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ کبھی بچوں سے سبق سنتی تو کبھی ڈرائنگ کی کلاس کے لیے بچوں کو پنسل کاغذ پکڑاتی، کلاس روم کے چھوٹے چھوٹے کام اس کے ذمہ تھے۔ تنخواہ کم تھی مگر گزارہ ہو رہا تھا۔ گھر اُسے کونسل نے دیا تھا۔بچوں کی تعلیم مفت تھی تو صرف کھانے پینے کا خرچہ ہی تھا۔ جوزف سے ملاقات بھی بڑی یادگار تھی۔
    ٭…٭…٭
    جیسے ہی ٹیکسی اُس کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچی، وہ اور بچے اُتر کر سامنے چھوٹے سے گھر کو دیکھنے لگے۔ سرخ اینٹوں سے بنا ہوا گھر بالکل چھوٹا سا ”گڑیا کا گھر” معلوم ہو رہا تھا۔ اس کے سامنے چھوٹا سا سبزے کا پلاٹ تھا جس کی گھاس کافی بڑھ چکی تھی۔ سامنے سرخ دروازہ تھا۔ ٹیکسی والے نے اُس کے دو بڑے سوٹ کیس نکالے اور نور نے اُسے کرائے کے پیسے پکڑائے۔ اس نے ٹیکسی والے سے نزدیکی بازار کا پوچھا تو اُس نے بتایا کہ یہ چھوٹا سا قصبہ ہے۔ تقریباً دس بارہ منٹ کی مسافت پر چھوٹا سا بازار ہے جب کہ ساتھ والی گلی کے نکڑ پر ایک چھوٹا سا سٹور ہے جس میں ضرورت کی ہر چیز مل جاتی ہے۔ وہ اس کا شکریہ ادا کرکے سوٹ کیس دروازے کے پاس لانے لگی۔ بچوں کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ وہ جتنے پیسے پاکستان سے لائی تھی وہ اُس نے ایئرپورٹ سے پاؤنڈ میں تبدیل کروا لیے تھے جو بڑی تیزی سے ختم ہورہے تھے۔ برمنگھم ایئرپورٹ سے نکل کر وہ اپنی ایک سکول کی سہیلی کے گھر گئی تھی جہاں دس بارہ دن گزارنے کے دوران اُس نے خاندانی دشمنی اور اپنی اور بچوں کی جان کو خطرہ بتا کر انگلینڈ میں پناہ کے لیے درخواست دی تھی۔ جب اُسے اس دور دراز علاقے میں گھر کی آفر کی گئی تو اُس کی درخواست پر کام آسانی سے ہوگیا اور اب برمنگھم سے پانچ گھنٹے ٹرین کی مسافت کے بعد اور ٹرین سٹیشن سے ٹیکسی میں گھر آنے کے بعد بچوں کو زوروں کی بھوک لگی ہوئی تھی۔ وہ دروازے پر ہی چیخ رہے تھے۔ پرس میں سے گھر کی چابیاں نکالتے ہوئے اُس نے غصے سے بچوں کو پشتو میں ڈانٹا۔ وہ غصے میں انہیں گھر کے اندر داخل ہونے کو کہہ رہی تھی اور ساتھ ہی اپنی بھی تھکاوٹ اور بھوک سے اُن کو آگاہ کررہی تھی۔
    ”میرا دماغ خراب نہ کرو تم دونوں، کچھ کرتی ہوں میں، پہلے گھر میں تو داخل ہونے دو۔ تنگ کرکے رکھ دیا ہے تم دونوں نے مجھے تم لوگوں کے لیے ہی تو یہ سب کچھ کررہی ہوں۔” وہ رو دینے کو تھی جب اچانک خوف سے اُس کے اوسان خطا ہوگئے۔ کوئی بے حد قریب سے پشتو ہی میں اُس کو مخاطب کررہا تھا۔ اُس نے تیزی سے مُڑ کر دیکھا تو اور بھی حیران و پریشان ہوگئی۔ سامنے لمبے قد کا، نیلی آنکھوں والا ایک گورا کھڑا تھا جس کی ایک ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا تھا اور وہ چھڑی کے سہارے کھڑا تھا۔
    ”ہیلو! ذَما نُوم جوزف دے۔ ماشو مانو نہ غصہ مہ کوہ” (ہیلو! میرا نام جوزف ہے، بچوں پر غصہ مت ہو۔)
    نور کچھ بول ہی نہ سکی۔ آدھے گھنٹے بعد وہ گھر کے اندر تھی اور بچے خوشی خوشی پنیر اور ٹماٹر کے سینڈوچز کھا رہے تھے جو جوزف اپنے گھر سے بناکر لایا تھا۔ سیب کے جوس کا بڑا ڈبہ اور ساتھ میں چاکلیٹ کیک کے چار چھوٹے ٹکڑے ایک پلیٹ میں رکھے ہوئے تھے۔ اُس کے دو بچے جو نور کے بچوں کے ہم عمر لگ رہے تھے، ان دونوں بچوں کو حیرت سے دیکھ رہے تھے جو سینڈوچز اور جوس پر ٹوٹ پڑے تھے۔ جوزف خاموشی سے اُس کو تکے جارہا تھا۔ اُسے بے چینی سی ہونے لگی۔ وہ صوفے پر پہلو بدل کر بچوں سے پانی کا پوچھ رہی تھی۔ مگر وہ کہاں اُس کی سن رہے تھے، سینڈوچز کے بعد وہ لوگ اب چاکلیٹ پر ہاتھ صاف کررہے تھے۔
    ”میں ابھی آیا۔” یہ کہتے ہوئے جوزف اُٹھا اور اپنے دونوں بچوں کو بھی اُٹھنے کا شارہ کیا۔ اپنی چھڑی سنبھالتے ہوئے وہ باہر کے دروازے کی طرف بڑھا۔
    نور کو حیرت ہوئی کہ وہ اچانک اُٹھ کر کیوں چلا گیا۔ اُس نے جلدی سے دروازہ لاک کیا اور پہلی دفعہ اُس چھوٹے سے گھر کا جائزہ لینے لگی۔ نیچے چھوٹا سا لاؤنج تھا جس میں دو سیٹوں والے دو صوفے پڑے ہوئے تھے۔ ایک کونے میں چھوٹا سا چوکور میز اور چار کرسیوں والی ڈائیننگ ٹیبل تھی۔ دو کافی ٹیبل بھی پڑی ہوئی تھیں۔
    اس نے ساتھ والا دروازہ کھولا تو اسے چھوٹا سا کچن نظر آیا۔ اُسے حیرت ہوئی کہ وہاں واشنگ مشین اور فریج بھی پڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ کوکنگ رینج بھی موجود تھا۔ اوپر دیوار میں چھوٹی چھوٹی الماریاں نصب تھیں۔ اُس نے الماریاں جلدی جلدی کھول کر سرسری سی نگاہ ڈالی تو اسے کچھ برتن نظر آئے۔ اوپر کے پورشن میں دو بیڈ روم اور ایک باتھ روم تھا۔ بڑے بیڈ روم میں ایک ڈبل بیڈ اور کپڑوں کی الماری جب کہ چھوٹے کمرے میں دو سنگل بیڈز پڑے ہوئے تھے۔ بچے بھی گھر میں اوپر نیچے پھر رہے تھے مگر اب انہیں نیند آنے لگی تھی انہیں۔
    اُس نے اپنے سوٹ کیس میں سے اپنی دو گرم چادریں نکالیں اور ڈبل بیڈ کے گدے پر ڈال دیں۔ بچوں کو سویٹر اور جرابیں پہنا کر بیڈ پر لیٹنے کی تاکید کی کیوں کہ اُس کے پاس تو کمبل وغیرہ کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ دن بھی اُس کے بچوں نے دیکھنے تھے۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن وہ بچوں کے سامنے کم زور نہیں پڑنا چاہتی تھی، سو جلدی سے کمرے سے نکل آئی۔
    اُسے اپنا گرم کوٹ یاد آیا جو نیچے صوفے پر پڑا ہوا تھا۔
    ”چلو یہی اوڑھا دیتی ہوں۔ کل جا کر ضروری چیزیں لے آؤں گی۔”
    وہ نیچے پورشن میں آئی تو دفعتاً دروازے پر دستک ہوئی۔ اُسے یاد آیا جوزف نے آنے کا کہا تھا۔ اُس نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر دیکھا تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں کمبل اور دوسرے ہاتھ میں چھڑی تھی جب کہ اُس کی بیٹی ساتھ میں کارن فلیکس کا ڈبہ اور ایک لیٹر دودھ کے ٹیٹرا پیک ہاتھ میں لیے کھڑی تھی۔
    ”سوری! تھوڑی دیر ہوگئی۔ یہاں قریب ہی چھوٹی سی دکان ہے ہم وہاں سے یہ چیزیں لینے گئے تھے۔” نور دروازے پر ہی کھڑی رہی۔
    ”اندر آنے دو بھئی ایک دو اور بھی کام ہیں۔” جوزف نے کہا تو نور جلدی سے پیچھے ہوئی اور انہیں اندر آنے کا راستہ دیا۔
    جوزف کی آواز سُن کر دونوں بچے بھی نیچے آگئے۔ جوزف کی بیٹی اُن سے ان کے بارے میں پوچھنے لگی جب کہ جوزف کچن کی طرف بڑھ گیا۔ کمبل اُس نے وہیں صوفے پر رکھ دیا تھا۔اُس نے فریج کا سوئچ آن کیا اور کچن کے ایک کونے میں لگے ہوئے شیلف کی طرف بڑھا۔
    ”اِدھر آؤ! یہ بٹن دیکھ رہی ہو۔ اِس کو آن کرنے سے تمہارے گھر میں سنٹرل ہیٹنگ آن ہوجائے گی۔ تمہارے سارے کمروں میں جو دیواروں کے ساتھ لوہے کی بنی ہوئی بڑی بڑی گرل سی لگی ہوئی ہیں، اِن میں سے گرم پانی گزرنے لگے گا اور کمروں کو گرم کرنے کا کام شروع ہو جائے گا۔” وہ انگریزی میں بڑی روانی کے ساتھ اُسے سمجھا رہا تھا۔
    ”اور ہاں نلکوں میں بھی گرم پانی آنے لگے گا۔” وہ اب بھی باتیں کرتے کرتے کچھ بٹنوں کو دبا رہا تھا۔
    ”بس ہوگیا! میں نے اِس میں ٹائم بھی سیٹ کر دیا ہے۔ اب رات کودس بجے کے قریب یہ ہیٹر بند ہو جایا کریں گے اور صبح پانچ بجے دوبارہ خود ہی آن ہو جایا کریں گے۔ تم لوگ جب تک اٹھو گے تو گھرگرم ہوگیا ہوگا۔ اچھا میں چلتا ہوں تم لوگ تھکے ہوگے۔ وہ سامنے پینتیس نمبر گھر ہے میرا، صبح بات ہوگی۔”
    نور ممنونیت سے اسے دیکھنے لگی۔ غیب سے کوئی فرشتہ ہی اُتر آیا تھا اُس کی مدد کرنے کو۔ وہ دروازے پر پہنچا تو نور کو یاد آیا کہ اُس نے پہلی بات پشتو میں کی تھی۔ اُس کے بعد تو وہ دونوں انگریزی میں ہی بات کرتے رہے تھے۔
    ”سنو! پشتو کیسے سیکھی ہے تم نے؟” نور نے پوچھا۔
    ”میں سوچ رہا تھا کہ تم کب پوچھو گی مجھ سے؟” وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
    ”میں برٹش آرمی میں تھا اور دو سال افغانستان میں سروس کرتا رہا ہوں۔ چھ مہینے پہلے یہ سوغات لے کر آیا ہوں وہاں سے۔” اس نے اپنی پلاسٹر لگی ٹانگ کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
    ”اور وہاں کے مقامی لوگوں سے کچھ نہ کچھ پشتو سیکھی ہے، مگر تم افغانی نہیں ہو۔ تمہارا لہجہ بارڈر کے اُس طرف کا ہے، یعنی پاکستان کا۔” نور حیرت سے اُس کو دیکھتی رہی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
    ”کسی بھی قسم کی مدد چاہیے ہو تو سامنے ہی میرا گھر ہے۔ دروازے وغیرہ اچھی طرح سے بند کرلینا۔ شب بہ خیر۔” یہ کہہ کر وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ آہستہ سڑک کے پار بنے ہوئے اسی طرح کے چھوٹے سے ایک سرخ اینٹوں والے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    شروع کے دن بہت کٹھن تھے۔ اپنی سہیلی کے گھر رہتے ہوئے وہ صرف برطانوی دفتر کے چکر ہی لگاتی تھی جہاں اُس کا انٹرویو ہوا تھا۔ اُسے اپنا آپ پناہ گزین بننے کا اہل ثابت کرنے کے لیے کچھ سچ، کچھ جھوٹ کا سہارا لے کر افسران کو قائل کرنا تھا۔ بچے گھر پر اس کی سہیلی کے پاس ہوتے تھے۔ جیسے ہی اُسے کونسل نے یہ چھوٹا سا گھر الاٹ کیا، اُس نے دوسرے ہی دن اپنے بیگ پیک کیے اور یہاں آگئی۔ اُس نے اپنی سہیلی کو بھی غلط پتا بتایا تھا۔ وہ کسی بھی جاننے والوں سے بہت دور چلے جانا چاہتی تھی۔
    اور اب یہاں بچوں کے ساتھ اس گھر میں، جب کہ آدھی سے زیادہ رات گزر چُکی تھی اور ڈبل بیڈ پر دونوں بچوں کے درمیان لیٹے ہوئے اور جوزف کے دیئے ہوئے کمبل اوڑھے ہوئے اسے مستقبل کی فکروں نے آگھیرا تھا۔ وہ کیا کرے گی؟ پاکستان سے نکلنے کا فیصلہ کرنے سے لے کر آج اِس وقت تک اُسے کوئی چیز یاد نہیں تھی۔ بس وہ خود کو اور بچوں کو پشاور سے، اپنے شوہر سے، اپنے والدین سے، اپنی فیملی سے سب سے دور، بہت دور لے جا کر چھپ جانا چاہتی تھی۔ مگر اب اُسے نئے نئے اندیشوں نے آ گھیرا تھا۔ کیا وہ اکیلے اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت کر پائے گی؟ کیا انگلینڈ آنے کا فیصلہ اُس نے صحیح کیا یا نہیں؟ کیا وہ ہمیشہ اپنے وطن، اپنے شہر اور خاندان کے لوگوں سے چھپ کر رہ سکے گی؟ اور انہیں سوچوں میں غلطاں نور کی آنکھ پتا نہیں کس وقت لگی۔
    اگلے کئی دن کافی مصروف رہے تھے۔ دوسرے ہی دن جوزف نے اسے بازار سے جاکر ضروری سامان خریدنے میں مدد کی۔ وہ ایسے نور کے سارے کاموں میں مدد کررہا تھا جسے وہ برسوں سے اُسے جانتا ہو۔ کچھ ہی دنوں میں وہ سرخ اینٹوں والا مکان گھر کی شکل اختیار کرگیا تھا۔ پردے لگ گئے، تکیے، بیڈ شیٹ وغیرہ آگئے۔ جوزف کے مشورے پر نور نے چھوٹا کمرہ بچوں کے لیے سیٹ کیا۔ ڈرائنگ روم کے لیے کُشن اور ایک دو پینٹنگز وغیرہ لیں۔ کافی سامان تو جوزف یہ کہہ کر خود ہی لے آیا تھا کہ اُس کے گھر میں ویسے ہی یہ چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔
    ”میری بیوی جب مجھے چھوڑ کر گئی تو سب کچھ یہیں چھوڑ گئی تھی، یہ کہہ کر وہ مجھ سے جُڑی ہوئی کوئی چیز ساتھ نہیں رکھناچاہتی۔” ایک دن نور کے پوچھنے پر جوزف نے اسے بتایا۔
    ”مگر وہ کیوں چھوڑ کر گئی تمہیں؟” نور نے تجسس سے پوچھا۔
    ”جب تک میں پیسے بنانے کی مشین بنا رہاوہ خوش تھی، مگر جب زخمی ہوکر واپس آیا تو اُس نے کوئی اور ڈھونڈ لیا۔” اُس نے تلخ لہجے میں بتایا۔
    ”اور بچے؟” نور نے سراسیمگی کے عالم میں اگلا سوال کیا۔
    ”شکر ہے بچے بھی خود چھوڑ کر گئی ہے ورنہ میں تو اِن کے بغیر جینے کا تصورہی نہیں کرسکتا۔ میری زندگی اِن دونوں کے دم سے ہے۔” یہ کہتے ہوئے جوزف کی آنکھوں میں نمی کی سی آگئی۔ نور کی آنکھیں بھی بھر آئی تھیں۔ اُسے جوزف بالکل اپنے جیسے ہی تو لگا تھا۔ دونوں اپنے بچوں پر دل و جان سے فدا تھے اور اُن کی زندگی کا محور اُن کے بچے ہی تھے۔
    ”چلو بھئی! بہت جذباتی سین ہوگئے۔” جوزف اپنی ہتھیلیوں سے آنسو پونچھتے ہوئے بولا۔
    ”میں نے بچوں کو سکول سے لینے جانا ہے، یہاں نزدیک ہی ہے۔ پیدل ہی اُن کو لاچھوڑ آتا ہوں اور لے آتا ہوں۔ تم بھی بچوں کو سکول میں ڈال لو۔ اگر چاہو تو کل سکول اکٹھے جاکر پرنسپل سے بات کرلیتے ہیں۔” وہ اٹھتے ہوئے اور چھڑی سیدھی کرتے ہوئے بولا۔
    ”ہاں! ضرور چلوں گی۔” نور نے جلدی سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے! کل تیار رہنا۔ بچوں کو بھی لے جائیں گے۔”
    ”جوزف!” نور نے اچانک اسے آواز دی۔
    ”ہاں”۔ جوزف جواب اٹھ کر کھڑا ہوچکا تھا، اس کی آواز پر بولا۔
    ”تھینک یو۔”
    ”کس لیے؟”
    ”اُس سب کے لیے جو تم نے میرے لیے کیا۔”
    ”ارے! میں نے اتنا کچھ کیا اور تم صرف تھینک یو کہہ کر جان چھڑا رہی ہو۔”جوزف نے مایوس ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا۔
    نور کو ہنسی آگئی۔ اب اتنے دنوں جوزف کے ساتھ ہوتے ہوئے اتنا تو اُسے معلوم ہوچکا تھا کہ وہ بے لاگ اور لگی لپٹی بغیر بات کرنے والا بندہ تھا اور اُسے پہلے ہی اندازہ تھا کہ وہ ”کوئی بات نہیں” یا اس قسم کا کوئی رسمی جملہ تو بولے گا ہی نہیں۔
    ”اچھا بتاؤ! اب تمہارے احسانات کیسے چکاؤں؟” نور نے ہنسی روکتے ہوئے پوچھا، ”بھئی کبھی کبھی اچھا سا کھانا بنا کر کھلا دیا کرو۔”

  • زندگی تو باقی ہے — مائرہ قیصر

    زندگی تو باقی ہے — مائرہ قیصر

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نوجوان ہینڈسم لڑکا جسے ایک حسینہ سے محبت ہو گئی۔ دونوں نے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیا۔ ماں باپ کو راضی کیا اور پھر خوشی خوشی زندگی گزارنے لگے۔ یہ تھی ایک خوش باش جوڑے کی کہانی۔ ایسا ضرور ہوتا ہو گا مگر محض فلموں میں۔ مناہل اور صائم کی کہانی میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ حیران ہیں کہ یہ محبت کی کہانی کیسے ہے؟ تو پھر سُنیئے کہانی۔
    کہانی وہیں سے شروع ہوئی جہاں سے ہر رومیو جولیٹ کی ہوتی ہے۔ صائم اور مناہل نیویارک کی ایک ہی یونیورسٹی کے دو انتہائی مختلف بلکہ مخالف ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم تھے۔ صائم نیوروکیمسٹری میں گریجویشن کے آخری سال میں تھا اور وہ فائن آرٹس میں تھی۔
    شکل و صورت، محنت اور ذہانت کے اعتبار سے دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بہت اچھے تھے۔ اِن دونوں کی ملاقات خاصی ڈرامائی تھی۔
    آرٹسٹک ذہانت کے موضوع پر ریسرچ کی خاطر صائم اور اس کے گروپ فیلوز کو فائن آرٹس ڈپارٹمنٹ کے طلبا کے ساتھ کچھ وقت گزارنا اور انٹرویوز بھی لینا تھے۔ بس یہیں دونوں کی ملاقات ہوئی اور پھر دوستی جو رفتہ رفتہ محبت کے رنگوں میں ڈھلتی چلی گئی پھر؟ پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے۔ اپنی اپنی تعلیم مکمل کرتے ہی دونوں پاکستان آگئے اور ماں باپ کو رضامند کرنے کے بعد شادی کر لی۔ اس وقت مناہل کی عمر اکیس اور صائم کیبائیس سال تھی۔ ہیپی اینڈنگ؟ جی نہیں۔
    تین سال بعد۔۔۔
    باہرگھنٹی کا بج بج کر گلا بیٹھ سا گیا تھا، مگر کوریڈور میں آمنے سامنے موجود ان دو کمروں کے دروازوں میں سے ایک بھی نہیں کھلا۔
    ”صائم دروازہ کھولو جا کر۔” ایک دروازے کے اندر سے بالآخر ایک زنانہ آواز ابھری۔
    ”خود چلی جاوؑ۔” اب ایک مردانہ آواز دوسرے کمرے سے آئی۔
    ”میں ملازمہ نہیں ہوں تمہاری۔۔۔ جا کر دیکھو کون دروازہ توڑ رہا ہے۔”
    مگر اب کی بار کوئی جواب نہیں آیا۔ چند لمحے مزید گزرے تو ایک کمرے کا دروازہ کھلا۔ ہوڈی اور ٹراؤزر میں ملبوس چڑیا کے گھونسلا نما بالوں والی ایک لڑکی آنکھیں ملتی اور بڑبڑاتی ہوئی باہر نکلی۔ فرش پر بکھرے جرابوں اور کپڑوں کے ڈھیر میں سے سلیپرز ٹٹول کر پیروں میں گھسیٹتی باہر چلی گئی۔ اندر آ کر دودھ کا لفافہ لونگ ایریا کے ساتھ موجود کچن کاوؑنٹر پر اچھالا اور صائم کے کمرے میں داخل ہو گئی۔
    باہر نکلی تو ایک ہاتھ میں مردانہ نیلی شرٹ اور دوسرے میں قینچی تھی۔

    ”اب میں تمہیں مزہ چکھاتی ہوں۔” لبوں پر شیطانی مسکراہٹ سجائے مناہل نے صائم کی شرٹ کے چاروں طرف ایسے نفیس کٹس لگائے کہ وہ ایک خوبصورت فرِل بن گئی پھر شرٹ کے وسط میں دل کی شکل کا ٹکڑا کاٹا اور پھینک دیا گویا شرٹ کے سینے میں دل کی شکل کا سوراخ ہو۔ اس کے بعد اس نے اس شرٹ کو ہینگر پر لٹکا کر رکھ دیا اور اپنی تیاری میں مصروف ہو گئی۔
    کچھ دیر گزری تو صائم جمائی لیتا باہر نکلا تو سامنے لٹکے ماسٹر پیس کو دیکھ کر اس کا کھلا منہ کھلا ہی رہ گیا اور چودہ کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔
    ”مناہل!”وہ زور سے چلایا، تو وہ جو مست سی اپنے کپڑے استری کر رہی تھی منظر میں آئی۔
    ”یہ۔۔۔یہ کیا تم نے؟ یہ۔۔۔یہ شرٹ مجھے میری کولیگ نے تحفے میں دی تھی۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے؟”
    ”اوہو ڈارلنگ میں جانتی ہوں یہ تمہیں تمہاری فیورٹ کولیگ نے تحفے میں دی تھی مگر دیکھو تو یہ اب زیادہ اچھی لگ رہی ہے۔۔۔ ہے نا؟”مناہل نے شرٹ کے ”دل”میں سے جھانکتے ہوئے بلا کی معصومیت سے کہا۔
    ”آئی ہوپ اب تم صبح صبح مجھے ڈسٹرب کرنے سے پہلے لاکھ بار تو ضرور سوچو گے۔”
    صائم نے دانت پیستے ہوئے چنگھاڑتی نظروں سے اسے گھورا اور زور زور سے پیر زمین پر مارتا باتھ روم میں گھس گیا۔
    اس کے نکلنے کے بعد مناہل اندر چلی گئی۔ ابھی ٹوتھ برش منہ میں رکھا ہی تھا تو صائم نے دروازے سے اندر جھانکا۔ وہ آفس کے لیے بالکل تیار تھا۔
    ”اپنا خیال رکھنا سوئٹ ہارٹ۔”
    مناہل نے منہ میں برش رکھے ایک ابرو اُٹھا کر آئینے میں اس کے عکس کو دیکھا جو بہت زور لگا کر مُسکرا رہا تھا۔
    ”وہ کیا ہے کہ آج مجھے تمہارے برش پہ بہت پیار آیا، تو میں نے باتھ روم کی تھوڑی سی صفائی کرلی، لہٰذا اپنا خیال رکھنا اوکے بائے۔”
    فاتحانہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے وہ گاڑی میں بیٹھا اور آفس کے لیے نکل گیا جب کہ گھر کے اندر مناہل کی چیخیں گونج رہی تھیں۔
    ان دونوں کے درمیان ہمیشہ ہی اتنا پیار محبت اور سلوک رہتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو اتنا چاہتے تھے کہ ناشتا بھی الگ کرتے اور اجنبیوں کی طرح رہتے تھے۔ لڑائی جھگڑے تو عام سی بات تھی اور ان لڑائیوں کے نتیجے بڑے دلچسپ ہوتے تھے۔
    کبھی صائم کی پرفیوم میں پرفیوم کے بجائے پانی پایا جاتا تو کبھی مناہل کی بنائی ہوئی پینٹنگز پر اسی کی لپ سٹکس سے مختلف نقش و نگار بنے ہوئے نظر آتے۔ بس ایسی ہی قابلِ رشک محبت تھی ان دونوں کی۔
    اب آپ سوچتے ہوں گے اگر اتنا ہی حسنِ سلوک تھا دونوں میں، تو طلاق ہی کیوں نہ لے لی، تو اس کا قصّہ بھی سُن لیجیے۔
    طلاق کی کہانی کچھ یوں ہے کہ اس کے کاغذات تقریباً تین بار بن کر ان دونوں کی ایسی ہی ننھی منی لڑائیوں کی نذر ہو چکے تھے۔ کبھی وہ ان کی کسی کش مکش کے دوران کچن سنک میں بہ کر ضائع ہو جاتے، تو کبھی مناہل کے انتقام کے دوران صائم کی فائلز آگ کا ایندھن بن جاتیں یا پھر مناہل کے پیپر ورک سمیت صائم کے ہاتھوں ردی کے ڈھیر میں سوار ہو کر خیرباد کہہ جاتے۔
    وہ دونوں ایک ہی یونیورسٹی کے سائنس اور فائن آرٹس کے شعبوں میں جاب کر رہے تھے۔ مناہل کی نئی گیلری کا افتتاح ہوئیکچھ عرصہ ہی گزرا تھا جس میں وہ اپنے اور اپنے طلباء کے آرٹ ورک کی نمائش کیا کرتی تھی۔ اس گیلری کی تعمیر سے لے کر افتتاح تک کے سفر میں مسٹر فیاض نے اس کا بہت ساتھ دیا تھا۔
    مسٹر فیاض اس کے ڈپارٹمنٹ کے بتیس تینتیس سالہ ایچ او ڈی تھے اور اپنے نام کی طرح سخی ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت نرم دل انسان تھے۔
    دوسری طرف صائم ٹیچنگ کے ساتھ ساتھ اسی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے نیروکیمسٹری کے شعبے میں ریسرچ بھی کر رہا تھا اور اس کام میں مس انیتا بھی اس کے ساتھ تھیں۔ اس کے علاوہ وہ دونوں انٹرنیٹ بلاگز بھی لکھتے تھے۔ مس انیتا ایک کم گو مگر سلجھی ہوئی شخصیت رکھتی تھیں، لیکن چند دنوں سے وہ کافی بیمار اور خاموش نظر آنے لگی تھیں جسے صائم نے بھی نوٹ کیا تھا۔
    ”میں ٹھیک ہوں مسٹر صائم مجھے کیا ہونا ہے۔”صائم کے پوچھنے پر وہ اکثر ہنس کر یہی جواب دیتی تھیں۔
    صائم اور مناہل کی زندگی دنیا کے اکثر شادی شدہ جوڑوں سے خاصی مختلف تھی۔ کہنے کو تو دونوں ہی دوپہر دو سے تین بجے کے درمیان گھر آجایا کرتے تھے، مگر اپنی اپنی گاڑی پر اور گھر آ کر بھی نوک جھوک میں ہی بسر ہوئی تھی۔ ان کی اس نوک جھوک میں ان کی ایک اور ساتھی بھی تھیں۔
    مسز عابد ان کی پڑوسی جو پورے محلے کی کیمرے کی آنکھ تھیں اور اکثر ہی ان کے اونچی آواز میں لڑنے جھگڑنے سے ایک حد تک مستفید ہونے کے بعد شکایت کرنے ان کے گھر کی گھنٹی بجاتی رہتیں، مگر ان دونوں پر اس چیز کا اثر آخر کیوں ہونا تھا۔
    ایک اتوار روز مرّہ کی لڑائیوں کی طرح عام جنگ چل رہی تھی جس میں ہتھیار کشنز اور مظلوم ایک مرتبہ پھر طلاق کے کاغذات تھے جن پر مناہل سائن کرنے لگتی تو کبھی صائم کا فون بجنے لگتا کبھی اس کا اپنا، چوتھی کاوش میں اس نے بالآخر سائن کرنے کا پختہ ارادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر پین اٹھایا اور سائن کرنے ہی والی تھی کہ باہر دروازے کی گھنٹی بجی۔
    اب دونوں ہی کڑھتے ہوئے باہر نکلے کہ مسز عابد کی شکایتوں کو آج بریک لگا ہی دیں، مگر دروازہ کھولا تو سامنے کوئی بھی نہ تھا ۔ تذبذب کا شکار ہوتے دونوں نے دروازہ بند کرنے کا سوچا ہی تھا کہ نظریں اور قدم وہیں جم گئے اور پھر یوں لگا جیسے اب وہ یہاں سے ہل نہیں پائیں گے۔
    ان کی دہلیز پر ایک بے بی کوٹ میں ایک شیرخوار بچہ بڑی بڑی آنکھیں کھولے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ دونوں چند لمحے کے لیے ہل نہ سکے۔ پھر ایک دوسرے سے خالی خالی نظروں کا تبادلہ کرنے کے بعد اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔
    صائم دروازے سے نکل کر سڑک پر آیا اور ارد گرد نظر دوڑانے لگا، مگر آس پاس کوئی نہ تھا۔
    ”اب کیا کریں؟”صائم ایک بار پھر دروازے میں کھڑے ہو کر اس بچے کو دیکھنے لگا۔
    مناہل نے جواب نہیں دیا، وہ بھی بچے کو ہی دیکھ رہی تھی۔
    ”ہم اسے یہاں نہیں چھوڑ سکتے۔”
    ”یہیں چھوڑ دو۔”مناہل ہلکی سی آواز میں کہہ کر اندر جانے کے لیے مڑی تو صائم نے اسے روکا۔
    ”پاگل ہو گئے ہو۔ اگر کسی نے اسے یوں ہمارے دروازے پر دیکھ لیا، یا کوئی اور اٹھا کر لے گیا تو؟”

  • مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۴ آخری قسط)

    مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۴ آخری قسط)

    ”مان گئی وہ؟” ابھی وہ صوفے پر نیم دراز ہوا ہی تھا جب ٹیرس کا دروازہ بند کرتے پیٹر نے اس سے پوچھا۔
    ”ہاں بڑی مشکل سے مانی۔ دوستی کے واسطے دے کر منایا ہے اسے۔”
    ”ڈین ایک بار پھر سوچ لو کیا یہ سب صحیح ہے؟ اس طرح دونوں کی پرسنل لائف آن ائیر لانا؟ جیف کو بہت برا لگے گا۔”
    ”یہ تمہیں کس نے کہا کہ سب آن ائیر آئے گا؟ تم بے فکر رہو یہ سب صرف ڈراما ہے جیف کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے۔ مجھے یقین ہے کہ جو کام ہم اتنے ماہ میں نہ کر سکے وہ کام میچ میکر مسٹر ویلی ڈیلی کر دے گا۔ میں ملا ہوں اس سے اور ان دونوں کے بارے میں سب بتا دیا ہے۔” اس کے لہجے میں بے پروائی تھی۔
    ”ڈین تم پاگل ہو۔ بالکل کھسکے ہوئے۔” وہ اس کی عقل پر افسوس کر رہا تھا۔
    ”دیکھو کوئی تو بات ہو گی اس میچ میکر اور اس کی فیملی میں۔ یوںہی بلاوجہ تو وہ ڈیڑھ سو سال سے لوگوں کے لیے ہم سفر تلاش نہیں کر رہے نا۔ اگر تم غور کرو تو یہ کافی انٹرسٹنگ سیچوئیشن بن رہی ہے۔ ”
    ”وہ کیسے؟”
    ”یار سوچو تو ذرا وہ مرم سے شادی سے انکار کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر وہ دونوں ڈرامائی کرداروں کی حیثیت سے ایک میچ میکر کے پاس جا کر اپنے اپنے لیے مناسب ساتھی تلاش کرنے کا کہیں گے، تو کیا پتا کہ اس ڈرامے کا کردار نبھاتے ہوئے وہ میچ میکر جیف کو اصل میں قائل کر لے۔” پھر کچھ سوچ کر وہ دوبارہ گویا ہوا۔” میں مسٹر ڈیلی کو سمجھا چکا ہوں کہ جیف کو حقیقت میں راضی کرنا ہے۔ وہ بھی اس انداز میں کہ اسے محسوس تک نہ ہو کہ وہ میچ میکر سب جانتا ہے۔ بس اب مجھے کل صبح کا انتظار ہے۔ بڑا مزا آنے والا ہے۔ وہ دونوں سمجھ رہے ہوں گے کہ وہ ایک اسکرپٹڈ سیچوئیشن کے لیے اداکاری کر رہے ہیں اپنے ناظرین کے لیے جب کہ حقیقت میں ناظرین کے بجائے وہ خود الو بن رہے ہوں گے۔ ”
    ”اور جب اسے پتا چلے گا کہ ہم نے جان بوجھ کر اسے وہ سب کرنے کو کہا ہے، تو اسے دکھ ہو گا اس دھوکے پر۔” پیٹر کو جیف کے ردعمل کی فکر تھی۔ وہ اس سے اپنی دوستی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
    ”کون سا دھوکا ؟ تم تینوں نے بھی تو مل کر مجھے بلیک بیوٹی کے ہاتھوں دھوکا دیا تھا۔ میں نے تو کچھ نہیں کہا تمہیں۔ تم فکر نہ کرو میں سب سنبھال لوں گا۔” اسے تسلی دے کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
    ٭…٭…٭

    ”اس وقت کون آ گیا؟” گھنٹی بجنے پر وہ کوفت سے بڑبڑائی۔ سونے کی تمام کوششیں بے کار ثابت ہوئی تھیں۔ دکھتی ہوئی کنپٹی کو دباتے ہوئے اس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا۔ سامنے وہ کھڑا تھا چہرے پر تذبذب کے تاثرات لیے۔
    ”تم اس وقت؟ سب ٹھیک تو ہے؟ ” وہ اس شخص سے یہ توقع ہرگز نہیں کر سکتی تھی کہ رات کے گیارہ بجے اس کے کمرے کے دروازے کے باہر کھڑا ہو گا۔
    ”مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔” دھیمے لہجے میں وہ گویا ہوا۔
    ”بات؟ مجھ سے؟ وہ بھی ضروری؟”اس نے اپنی حیرت کو چھپانے کا تکلف کرنا غیر ضروری سمجھا۔
    ”ٹھیک ہے اندر آجاؤ۔” راستہ دیتے ہوئے اس نے اسے اندر آنے کو کہا۔
    اس نے جھجک کر انکار کیا۔”نہیں یہیں ٹھیک ہے۔”
    ”جبرائیل آ جاؤ اندر۔ یوں اس طرح دروازے پر بات کرتا دیکھ کر لوگ اور مشکوک ہوں گے۔ یقین مانو میں اتنی بھی بری لڑکی نہیں جتنا تم سمجھتے ہو۔” ترش لہجے میں کہہ کر وہ اندر کی جانب مڑ گئی۔ اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر وہ بے ساختہ اپنے لب بھینچ گیا۔ پھر پر سوچ انداز میں قدم اندر کی جانب بڑھا دیے۔
    ”بیٹھو۔”اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ خود اس کے مقابل بیڈ پر بیٹھ گئی اور اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی جو اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں چھپا، انجانا سا بھید تلاش کر رہا تھا۔
    ”تم شاید کوئی ضروری بات کرنے آئے تھے۔” جب بہت دیر تک وہ خاموش رہا تو بالآخر اس نے خود ہی اسے مخاطب کر لیا۔
    ”ہاں بس لفظوں کو جملوں میں پرونے کی کوشش کر رہا تھا۔” چونک کر شکستہ لہجے میں وہ متوجہ ہوا۔
    ”میرے لیے یہ بہت حیران کن بات ہے کہ لفظوں کا سحر پھونکنے والے انسان کو بھی اس کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔” ناجانے کیوں اسے اس کے سادگی بھرے لہجے میں طنز کی آمیزش محسوس ہوئی تھی۔
    ”میں جو بات کہنے جا رہا ہوں شاید وہ تمہارے لیے عجیب ہو اور ناگواری کا باعث بھی۔ تم اسے میری مجبوری یا ایک ریکویسٹ سمجھ لینا۔” وہ بہت ٹھہر ٹھہر کر اور سوچ کر بول رہا تھا اور مرم اس کا یہ تذبذب بھرا انداز دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ ہمیشہ پر اعتماد انداز میں بات کرنے والا بندہ ناجانے کیا کہنا چاہتا ہے جو یوں جھجک رہا تھا؟
    ”میں چاہتا ہوں کہ کل جب تم کیمرے کے سامنے آؤ تو اپنا سر ڈھانپ کر آنا۔ میرا مطلب حجاب…حجاب لے کر۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے ساتھ ٹی وی پر کوئی تمہیں جانچتی نظروں سے دیکھے۔” وہ اب بھی نظریں جھکا کر بات کر رہا تھا جب کہ مرم اسے دل چسپ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    ”میں ہمیشہ سے تم سے یہ بات کہنا چاہتا تھا، مگر حق نہیں رکھتا تھا۔ حق تو شاید ابھی بھی نہیں رکھتا مگر پھر بھی میں خود کو روک نہیں پایا تمہارے پاس آ کر یہ بات کہنے سے۔ تم چاہو تو میری اس التجا پر عمل کر لینا اور اگر نہیں تو مجھے گلا کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔” بات کے اختتام پر اس نے پہلی مرتبہ براہ راست اس کی جانب ملتجی نظروں سے دیکھا تھا۔
    ”کوئی اور ریکویسٹ؟ ” چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”نہیں بس یہی کہنا تھا۔ اتنی رات گئے تمہیں ڈسٹرب کرنے پر معذرت چاہتا ہوں۔ اب جانا چاہیے مجھے۔ اللہ حافظ۔” اس کا بے لچک اور سپاٹ انداز دیکھ کر جیف کو اپنی ساری بات بے کار اور غیرضروری لگی۔ اگلی کوئی بھی بات کیے بغیر وہ اٹھ کر تیزی سے دروازے کی سمت بڑھا۔
    یہاں آنے سے پہلے بھی وہ جانتا تھا کہ وہ کبھی بھی اس کی بات نہیں مانے گی، مگر پھر بھی وہ اپنے دل اور غیرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہاں چلا آیا۔ چاہے اس نے اپنی زندگی کے تیرہ سال ایک آزاد معاشرے میں گزارے تھے، مگر اندر سے وہ ایک روایتی دیہاتی مرد ہی تھا جو ”اپنی” عورت کو پردے میں دیکھنا پسند کرتا ہے، مگر شاید وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس عورت کو ”اپنی” بنانے سے اس نے خود انکار کیا تھا۔
    دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے مڑ کر ایک نظر بیڈ کے پاس کھڑی مرم کو دیکھا جو دونوں بازو باہم لپیٹے اسے ہی دیکھ رہی تھی اور اس کے پرکشش چہرے پر ایک کیف آگیں رنگ ٹھہرا ہوا تھا۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر جمی ہوئی تھیں۔ ایک کی لو دیتی کندن نظریں اور دوسرے کی نظروں میں جدائی کا کوئی گہرا پیغام تھا۔
    ہاتھ کی لکیروں میں
    زندگی کے ساتھ ساتھ
    ہجر کی لکیریں بھی
    اس طرح سے پنہاں ہیں
    جس طرح سے ”تم” میری
    زندگی میں پنہاں ہو!
    نہ جانے کیوں اسے یہ برسوں پہلے کی پڑھی نظم اس لمحے یاد آئی تھی۔ چند لمحے وہ یوں ہی ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر باہر نکل گیا۔
    ”مرد جس عورت کو چاہتا ہے اسے چھپا کر رکھنا چاہتا ہے۔ دنیا کی نظروں سے اوجھل۔” بند ہوتے دروازے کو دیکھتے ہوئے اس کی سماعت میں موری کی آواز گونج رہی تھی۔ چند سال پہلے ناجانے کس سے وہ یہ سب کہہ رہی تھیں اور یہ الفاظ اس کے لاشعور میں نقش ہو گئے تھے۔
    ”اور جس عورت کو وہ دنیا سے چھپاتا نہیں وہ اس کے دل میں اتری نہیں ہوتی۔ ایسی عورت کو وہ بس ایک ”شو پیس” کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ دنیا کو یہ جتانے کے لیے کہ وہ ایک زبردست اور خوبصورت ”چیز” کا ”مالک” ہے۔” مرم کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی۔
    ”میرے لیے یہ یقین بھی کافی ہو چلا ہے کہ تم بھی مجھے بے حد چاہتے ہو۔ مجبوری کا لفظ جو تم نے ابھی استعمال کیا، تو محبت سے بڑھ کر اور کیا مجبوری ہو گی؟ اور محبت میں ملن کبھی ناگزیر ہوتا ہے تو کبھی کبھی ناممکن۔ ”
    ٭…٭…٭
    ”میں اس وقت آئرلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں لسڈون وارنا میں واقع ایک چھوٹے مگر عالمی شہرت یافتہ ” میچ میکنگ کیفے” کے مالک کے ساتھ بیٹھا ہوں۔ان کا ماننا ہے کہ بے شک جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں مگر ان کی پہلی ملاقات ”میچ میکر” کیفے میں ہی ہوتی ہے اور آج کی یہ شام بہت دل چسپ ہو گی کیوں کہ میں نے مسٹر ڈیلی سے اپنے لیے پرفیکٹ میچ تلاش کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تو آیئے اب میں براہ راست آپ کی بات ان سے کراتا ہوں۔” اس کی اس بات پر کیمرا گھوم کر میز کی دوسری جانب بیٹھے لگ بھگ ساٹھ سال کی عمر کے آدمی پر مرکوز ہو گیا جو مسکرا کر اپنا تفصیلی تعارف کروا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر سے نظریں ہٹا کر جیف نے اپنے ہاتھ میں بندھی قیمتی گھڑی کی جانب دیکھا۔ وہ حسب عادت آج بھی لیٹ تھی۔
    ”پتا نہیں اب کون سا ضروری کام ہے محترمہ کو جو اب تک نہیں پہنچی ۔ یہ بندہ فالتو تو نہیں بیٹھا نا یہاں۔ ہمارے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی وقت دیا ہو گا اس نے، مگر وہ سر پھری لڑکی یہ باتیں کب سمجھتی ہے۔” وہ اب کوفت سے سوچ رہا تھا۔
    ”تو مسٹر جیف آپ مجھے بتائیں کہ آپ کو اپنے لیے کیسے ہم سفر کی تلاش ہے؟” اچانک مسٹر ڈیلی نے اسے مخاطب کیا۔ وہ ابھی جواب سوچ ہی رہا تھا جب وہ دبے قدموں چل کر اس کے برابر رکھی کرسی پر بیٹھی تھی۔ وہ بے یقینی سے مرم کے سراپے کو دیکھ رہا تھا جو اب بے نیازی سے بیٹھی سامنے دیکھ رہی تھی۔ اسے دیکھ کر بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ مرم اس کی گزارش پر عمل کر چکی ہے۔ اس نے ایپل گرین شرٹ کے نیچے رائل بلو لانگ اسکرٹ پہن رکھا تھا اور سر پر بڑے مناسب انداز میں میچنگ اسکارف بھی اوڑھا ہوا تھا۔ لائٹ میک اپ سمیت وہ بہت پرکشش، حسین اور باوقار لگ رہی تھی۔ جیف یہ بھول چکا تھا کہ اس کے چہرے پر جو کیمرا فوکس ہوا تھا وہ جیف کے ہر ایک تاثر کو اپنے اندر محفوظ کر رہا تھا۔ وہ یہ بھی بھول جانا چاہتا تھا کہ اس سے کوئی سوال پوچھا گیا تھا، مگر افسوس اس کی یادداشت ابھی ٹھیک ہی تھی۔ بڑی مشکل سے اپنے تاثرات نارمل کر کے اس نے اپنی نظریں مسٹر ڈیلی پر مرکوز کیں جو اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
    ”مجھے ایک ایسی ہم سفر کی خواہش ہے جو ایک سیاح کے طور پر میرے ساتھ زندگی کا سفر نہ کرے بلکہ ایک گائیڈ کے طور پر میرے ساتھ رہے۔ ایک ایسا گائیڈ جو ہزاروں سال میرے ساتھ سفر کرنے کے بعد بھی مجھ سے بور نہ ہو اور میری ذات میں پنہاں تمام خوبیوں اور خامیوں کو جاننے کے باوجود بھی مجھے چاہے۔ بالکل ویسی ہی پاکیزہ محبت جیسی ایک انسان اپنے دیس سے کرتا ہے کہ اپنے وطن کی لاکھوں خامیاں جاننے کے باوجود وہ وہیں بسنا چاہتا ہے۔ سو میں بھی کسی کا ” دیس” کسی کا ”گھر” بننا چاہتا ہوں۔” یہاں آنے سے پہلے اس سوال کا جو جواب اس نے سوچا تھا۔ وہ یہ ہرگز نہیں تھا۔ ناجانے کہاں سے اس کے ذہن نے یہ الفاظ ترتیب دیے تھے اور اس کی زبان نے رٹو طوطے کی طرح انہیں من و عن ادا بھی کر دیا تھا۔ اسے پیٹر، ڈینیل اور مرم تینوں کی حیران نظروں کا اندازہ اچھی طرح تھا تبھی اس نے کسی کی جانب دیکھنے سے احتراز برتا۔
    ”بہت خوب، عام لوگوں سے بہت مختلف انداز میں آپ نے اپنی ڈیمانڈز بتائیں۔ جو کچھ آپ کے منفرد انداز بیان کے بارے میں سنا تھا میں نے بالکل ویسا ہی پایا۔ بالکل ایک سچے اور پکے سیاح کا سا انداز ہے آپ کا۔ آئی مسٹ سے دیٹ آئی ایم امپریسڈ۔” مسٹر ڈیلی نے محظوظ مسکراہٹ سجا کر کہا۔ اس کے تاثرات بتا رہے تھے کہ جیف کے منفرد انداز کا خاصا مزہ لیا ہے اس نے۔
    ”بہت شکریہ سر مگر میرا نہیں خیال کہ میں نے کوئی انوکھی بات کی ہے۔ ہاں شاید انداز تھوڑا دل چسپ ہو، مگر کیا کیا جائے کہ میرے پروفیشن کی ڈیمانڈ ہی انفرادیت ہے۔” جیف نے سنجیدگی و متانت سے جواب دیا۔
    ”آپ کا انداز دیکھ کر میرا دل چاہ رہا ہے کہ آپ سے سیر و سیاحت کے متعلق کچھ منفرد سنا جائے۔ اگر آپ کو چند الفاظ میں ٹریولنگ کے بارے میں بولنے کو کہا جائے تو؟” مسٹر ڈیلی کی دل چسپی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔
    ”میں چاہتا ہوں آپ سفر کریں۔ جہاں تک اور جتنا بھی دور ممکن ہو۔” کچھ دیر سوچ کر وہ گویا ہوا۔
    ” فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور اسی طرح کی دوسری ضروری اشیا کے بغیر سفر کریں۔ اپنے کمفرٹ زون سے کچھ عرصہ دور رہ کر دیکھیں۔ مشاہدہ کریں کہ دنیا میں دوسرے لوگ کیسے رہتے ہیں؟ اور محسوس کریں کہ آپ کے اس چھوٹے سے ٹان سے باہر کی دنیا کتنی وسیع اور منفرد ہے اور جب اس سفر کے بعد آپ گھر واپس لوٹیں گے تو آپ کا گھر شاید پہلے جیسا ہی ہو اور پھر سے آپ کی وہی پرانی روٹین اور جاب ہو گی، مگر کہیں نہ کہیں آپ کے اندر کچھ تبدیل ہو چکا ہو گا۔ یہ تبدیلی آپ کی سوچ اور فکر میں بھی ہو سکتی ہے اور آپ کے انداز و اطوار میں بھی اور یقین مانیے کہ سیاحت اسی تبدیلی کا نام ہے۔” مسکراتے لب و لہجے میں بولتا ہوا وہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔
    ”آپ تو کامیاب ہو گئے مجھے متاثر کرنے میں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میں کس حد تک آپ کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوں گا۔ اتنا کہ آپ جھٹ پٹ اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کر لیں۔” توصیفی کلمات کہنے کے بجائے اس نے ایک غیر متوقع بات کی تھی۔
    ”کیسا فیصلہ؟”اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
    ”بھئی شادی کا فیصلہ جس کے لیے آپ آج آئے ہیں خاص طور پر میرے پاس۔”
    ”جی بالکل۔” گو کہ وہ پہلے ہی جانتا تھا کہ یہ سب ڈراما ہے، مگر پھر بھی اپنی شادی کی بات کرنا عجیب محسوس ہو رہا تھا۔
    ”ویسے کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟”
    ”بس یوںہی کوئی خاص وجہ تو نہیں اس کی۔”
    ”اور کوئی عام وجہ؟” وہ مسلسل مسکرا رہا تھا۔
    ”انسان دو چیزوں کے لیے شادی کرتا ہے یا تو اسے زندگی میں سکون اور آسودگی کی طلب ہوتی ہے یا اپنی زندگی میں تبدیلی کی خواہش جہاں تک میری بات ہے، تو میری زندگی پہلے ہی بہت پرسکون اور آسودہ ہے اور تبدیلی کی مجھے کوئی آرزو نہیں سو اسی لیے مجھے کبھی شادی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔” اس بار اس نے سامنے بیٹھے شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مضبوط لہجے میں جواب دیا۔
    ”آپ کی بات سے میں سو فیصد متفق ہوں۔ انسان سکون، آسودگی، خوشی، تبدیلی وغیرہ کے لیے ہی شادی کرتا ہے، مگر آپ نے ایک بہت اہم نقطہ نظرانداز کر دیا۔ شادی کی ایک اور اہم وجہ ”محبت”بھی ہوتی ہے۔ محبت جو ایک لازوال جذبہ ہے۔ کیا آپ کو کبھی محبت کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی؟”
    ”میرے خیال میں محبت بس ایک افسانوی احساس ہے۔ اصل چیز صرف ”ضرورت” ہوتی ہے۔ اگر کوئی انسان کسی شخص کے ساتھ خوشی، سکون وغیرہ محسوس کرتا ہے، تو دراصل وہ شخص اس کی ”عادت” یا پھر ”ضرورت” ہوتا ہے اور اسی چیز کو دنیا محبت کا نام دے دیتی ہے۔” بڑے ٹھوس لہجے میں اس نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ دل میں وہ حیران بھی تھا کہ ان سب باتوں کے بعد بھی اس کے ساتھ بیٹھا وجود خاموش کیوں تھا؟ اور اب تک اس نے کوئی چیز اٹھا کر جیف کا سر پھاڑنے کی کوشش کیوں نہیں کی تھی؟
    ”یہ تو آپ محبت کرنے والوں کی توہین کر رہے ہیں۔ میرے کیفے میں موجود لوگوں میں سے اگر کوئی یہ بات سن لے تو اچھا خاصا ہنگامہ ہو جائے یہاں۔” مسٹر ڈیلی کا لہجہ ہنوز پرسکون تھا۔
    ”میں نے صرف اپنی رائے ظاہر کی ہے۔”
    ”ہر انسان کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے، مگر اس انداز میں کہ کسی دوسرے کے جذبات مجروح نہ ہوں۔”
    ”میں معافی چاہتا ہوں اگر آپ کو میری بات بری لگی۔ شاید میں خود جذبات سے عاری انسان ہوں اس لیے کبھی کبھی مجھے دوسروں کے جذبات کی پروا نہیں رہتی۔” اس کی اس بات پر مرم نے بڑی گہری نگاہ سے اس کی جانب دیکھا۔ وہ اب پہلے کی طرح بے نیاز اور لاتعلق نہیں تھی بلکہ اس کی دل چسپی اس کے چہرے کے محظوظ تاثرات سے عیاں تھی۔
    ”میں اپنی بات نہیں کر رہا تھا۔ خیر بس یہی ایک وجہ تھی اب تک شادی نہ کرنے کی؟” اب کی بار جیف کو اس کا ضرورت سے زیادہ پرسنل ہونا ناگوار گزرا تھا، مگر وہ مجبور تھا سو اپنا غصہ دبا گیا۔
    ”نہیں ایک وجہ میرا پیشہ بھی ہے۔ سال کا زیادہ تر حصہ میں ملک سے باہر گزارتا ہوں ایسے میں اس طرح کے ریلیشن کو اچھے انداز میں نبھانا ناممکن ہوتا ہے۔”
    ”اور اگر میں یہ کہوں کہ میں آپ کو ایک ایسا ہم سفر تلاش کر کے دے سکتا ہوں جس کا پیشہ آپ کے پیشے سے ملتا جلتا ہو اور اسی وجہ سے اسے اعتراض بھی نہیں ہو گا آپ کے آدھا سال ملک سے باہر رہنے پر۔ بولیے منظور ہے تو میں آپ کے ناظرین سے ان کا تعارف کراؤں؟” وہ سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ جیف کو نہ جانے کیوں یہ محسوس ہوا کہ مسٹر ڈیلی کوئی ڈراما نہیں کر رہا بلکہ حقیقت میں اسے اپنا ایک کلائنٹ سمجھتے ہوئے اس سے اقرار لینا چاہ رہا ہے اور اس کے ”ہاں” کہنے کے بعد اس کے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہاں بیٹھے تمام لوگ اسی کے جواب کے شدت سے منتظر تھے۔ جب کہ وہ خود ٹیبل پر رکھے کرسٹل کے مجسموں پر نظر جمائے بیٹھا تھا۔ نو عمر لڑکے کا مجسمہ گھٹنوں کے بل بیٹھا سامنے کھڑی مسکراتی لڑکی کو انگوٹھی پہنا رہا تھا۔
    ”اتنا نہیں سوچتے جیف صاحب! اکثر بہت زیادہ سوچ بچار بھی نقصان کا باعث بنتی ہے۔” جب وہ بہت دیر تک خاموش رہا، تو مسٹر ڈیلی نے سمجھانے والے انداز میں اسے مخاطب کیا۔
    ”سچی اور پرخلوص محبت کو یوں بار بار ٹھکرا کر رسوا نہیں کرنا چاہیے۔ محبت صرف خوش قسمت انسانوں کے در پر یوں بار بار دستک دیتی ہے۔ محبت ایک ایسا شعلہ ہے کہ جیسی بھی ہوا چلے، کبھی مدھم نہیں ہوتا، ایسی آگ ہے جس کی تپش میں بدن جلتے ہیں تو روحیں مسکراتی ہیں۔ محبت ایسا پودا ہے جو تب بھی سرسبز رہتا ہے کہ جب موسم نہیں ہوتا۔ محبت ایک دریا کے مانند ہے۔ اگر بارشیں روٹھ بھی جائیں تو پانی کم نہیں ہوتا کہ یہ وہ سیلاب ہے جس کو دلوں کی بستیاں آواز دے کر خود بلاتی ہیں۔ ذات، روایات کی کسی بھی زنجیر کو محبت توڑ سکتی ہے کیوںکہ محبت ذات کی تکمیل کا نام ہے۔”

  • مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۳)

    مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۳)

    قلعہ اور اس سے منسلک باغات اتنے وسیع وعریض تھے کہ ایک ہی دن میں سب شوٹ کر لینا ممکن ہی نہیں تھا۔ سو ان کا یہاں کا دورہ تین سے چار دن پر مشتمل تھا۔ پہلے دن قلعے اور پتھر کی ویڈیو شوٹ کرنے کے بعد انہوں نے باقی کا کام کل پر اٹھا رکھنے کا ارادہ کر کے باقی جگہوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تاکہ صحیح طور پر اندازہ لگا سکیں کہ اسکرپٹ میں کیا کیا اور کس طرح سے لکھا جائے گا۔ پھر ان چاروں نے سب کام پس پشت ڈال کر اسی انداز سے اس جگہ کی سیر کی جیسے وہ کام کے سلسلے میں نہیں بلکہ اپنی دوستی کی جھولی میں چند یادگار سکے ڈالنے آئے تھے۔ ”پوائزن گارڈن” میں جا کر انہوں نے ہنسی مذاق کے دوران کئی خطرناک اور مہلک پودوں کا جائزہ لیا جنہیں چھونے یا سونگھنے سے موت واقع ہو سکتی تھی۔ پیٹر کا مکمل ارادہ تھا کہ وہ ان میں سے ایک پودا اپنے پڑوسی کے لیے بطور تحفہ لے جائے جس کے آدھی رات کو اونچی آواز میں گانے سننے سے وہ عاجز تھا، مگر پھر جیف اور ڈینیل کی دھمکیوں نے اسے باز رکھا کہ کہیں وہ ائیرپورٹ پر پکڑا ہی نہ جائے۔
    پھر ”راک کلوز” کے حصے سے گزرتے ہوئے ایک پتھر پر کئی سکے رکھے ہوئے تھے اور ڈینیل نے بڑی مہارت سے چند سکے اپنی جیب میں منتقل کر لیے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ کسی نے اسے نہیں دیکھا مگر آئرلینڈ کی جاسوس حسینہ اسے یہ کرتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔
    ”ڈینیل تمہیں پتا ہے یہ سکے یہاں کیوں رکھے ہیں؟” مرم نے اسے کڑے تیوروں سمیت گھورتے ہوئے استفسار کیا۔
    ”میرے لیے، انہیں پتا تھا میں کتنا کنگال ہوں اور…” مگر وہ اپنی بونگی مکمل نہ کر سکا۔
    ”یہ سکے بلارنی کی وچ کو خوش کرنے کے لیے قیمت کے طور پر دیے جاتے ہیں۔”
    ”وچ؟ کون سی وچ؟” ڈینیل نے آنکھیں سکیڑ کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”وہ جو یہاں اس پتھر میں قید ہے۔ تم نے چوری کی ہے نا اب دیکھنا وہ راتوں کو خواب میں آ کر تمہیں ڈرائے گی۔” اس نے ڈرامائی انداز میں بات مکمل کی۔ اس کی بات سن کر ڈینیل نے ڈرنے کی کامیاب اداکاری کی اور پھر ڈرتے ڈرتے ہی سکے واپس رکھ دیے۔پھر وہاں دیر تک کھڑا جناتی قہقہے لگاتا ”وچ” کو ڈراتا رہا تھا۔
    ”وشنگ سٹیپس” کے نزدیک سے گزرتے ہوئے پیٹر اور ڈینیل نے روایت کے مطابق آنکھیں بند کر کے الٹی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنی اپنی آرزوؤں کا اظہار بلارنی وچ کے سامنے کیا تھا۔ مرم ہیلز کی وجہ سے پہلے ہی منع کر چکی تھی۔ پھر ڈینیل اور پیٹر نے بہ مشکل جیف کو یہ رسم ادا کرنے پر آمادہ کیا اور جب اس نے چہرہ ان تینوں کی جانب کر کے آنکھیں بند کیں اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بلند آواز میں ” پلیز وچ آنٹی ڈینیل کو یہیں رکھ لیں تاکہ میری، پیٹر اور نینسی کی زندگی آسان ہو۔” دہرانا شروع کیا، تو پھر وہ تھا اور ڈینیل کے ”نازک” اور ”معصوم” گھونسے اور مکے۔
    ”کتنا خوب صورت اور مکمل منظر ہے نا۔” مرم ان تینوں کو ایک دوسرے سے لڑتے، جھگڑتے، ہنستے، کھیلتے دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ ” تین بہترین دوست۔ زندگی سے اپنی دوستی کا خراج وصول کرتے ہوئے۔ اللہ اس دوستی کو ہمیشہ سلامت رکھے۔آمین اور صدا کا خاموش اور سنجیدہ ابراہیم بھی کتنا مختلف لگ رہا ہے آج۔ زندگی سے بھرپور قہقہے لگاتا ہوا،خوش اور سرشار۔” وہ اب بہ غور ہنستے ہوئے جیف کو دیکھ رہی تھی جو پیٹر کے ساتھ مل کر ڈینیل کو قابو کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ ”اللہ ان روشن آنکھوں میں، میں کبھی دکھ اور محرومی کی پرچھائیں دوبارہ نہ دیکھوں۔”

    ”فرن گارڈن” میں آنکھوں کو ٹھنڈک اور تازگی بخشتا سبزہ اور چھوٹی بڑی ڈھلوانوں کے بیچ سے گزرتا بل کھاتا راستہ تھا۔
    ”یہاں کچھ دیر ٹھہریں؟” ایک خوب صورت سے لکڑی کے پل پر سے گزرتے ہوئے مرم نے سب کو متوجہ کیا۔ چشمے کے مانند بہتی آبشار، ندی کی صورت میں بلارنی جھیل میں گررہی تھی۔ صدا بہار درختوں اور سر سبز و شاداب پودوں میں گھری یہ جگہ مرم کو بہت مسحور کن محسوس ہو رہی تھی۔ بہتی آبشار کی دل کش و دل نشیں جلترنگ سنتی، وہ پانی کے قطروں کو محو رقصاں دیکھ رہی تھی۔ پھر آنکھیں بند کر کے اس نے پانی،گیلی مٹی اور سبزے کی ملی جلی خوشبو کو اپنے اندر اتارا۔ نہ جانے کتنے لمحے یوں ہی گزر گئے جب کلک کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر اپنے بائیں جانب دیکھا۔ جیف ہاتھ میں پکڑے کیمرے کی اسکرین پر نظریں جمائے چند سیکنڈ قبل لی گئی تصویر کو جانچ رہا تھا۔ سیاہ جینز، گرے شرٹ اور سیاہ ویسٹ کوٹ میں اپنے رف اینڈ ٹف حلیے میں اس کا دراز قد اور بھی نمایاں لگ رہا تھا۔ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھا بلکہ بے نیاز بنا مزید تصاویر کھینچنے لگا تھا۔
    ”تمہیں فوٹو گرافی سے کچھ زیادہ ہی دل چسپی نہیں ہے؟ جب بھی دیکھو تم ہاتھ میں کیمرا لیے یہاں سے وہاں گھوم رہے ہوتے ہو۔”
    ”ہاں مجھے جنون کی حد تک شوق ہے اس کا اسی لیے تم کہہ سکتی ہو کہ یہ میری ہابی ہے۔ میرے نزدیک فوٹوگرافی بھی ایک آرٹ ہے جس کی بنیاد گہرا مشاہدہ ہے۔ اہم یہ نہیں کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ آپ کس زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک اچھا فوٹوگرافر تصاویر ”لیتا” نہیں بلکہ ”بناتا” ہے۔” اس شعبے سے متعلق اس کی معلومات خاصی وسیع معلوم ہو رہیں تھیں۔
    ”یہ آرٹ تم نے سیکھار بھی ہے یا بس ایک مہنگا کیمرا لے کر اپنی زور آزمائی شروع کر دی؟” اس بار اس کے لہجے میں شرارت چھپی تھی۔
    ”باقاعدہ ڈگری تو نہیں ہے، مگر فوٹو گرافی سے متعلق بہت سے کورسز کر رکھے ہیں میں نے۔” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
    ”کیا تم صرف ٹریول اور لینڈ سکیپ فوٹو گرافی کا شوق رکھتے ہو یا پھر غلطی سے انسانوں کی تصاویر بھی ”بنانے” میں دل چسپی ہے؟” ٹھنڈا، میٹھا طنز۔
    ”کبھی کبھار یہ غلطی سرزد ہو ہی جاتی ہے مجھ سے۔” ٹھنڈے، میٹھے طنز کا جواب ٹھنڈے میٹھے انداز میں ہی دیا گیا تھا۔
    ”ویسے ایک راز کی بات بتاؤں ؟ مجھے وہ لوگ انتہائی بے وقوف اور کم عقل لگتے ہیں جولاکھوں کے ڈی ایس ایل آر کیمرے سے بھی اپنی تصاویر ہی کھینچتے ہیں جو کام ایک فون کے کیمرے سے ہو سکتا ہے بھلا اس کے لیے اتنے پیسے ضائع کرنا بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟ اب اس جوڑے کو ہی دیکھ لو۔” اس نے نزدیک کھڑے کپل کی طرف اشارہ کیا۔
    ”اپنے ارد گرد کی تصاویر لینے کے بہ جائے وہ ہر ہر زاویے سے اپنی تصاویر ہی کھینچ رہے ہیں۔ ان کم عقلوں کو کوئی سمجھائے بھائی کہ اگر اپنی ہی تصویر لینی تھی تو اتنے پیسے خرچ کر کے یہاں آنے کی تک ہی کیا تھی۔ یہ کام گھر بیٹھ کر کرتے، کیوں کہ جیسی شکل یہاں آرہی ہے ویسی ہی اس قیمتی کیمرے میں وہاں بھی آتی۔” اس کے انداز پر مرم بے ساختہ ہنسی۔
    ”مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم لوگوں کو پوائنٹ آؤٹ کر کے ایسی باتیں بھی کر سکتے ہو۔” اپنی ہنسی پر قابو پا کر اس نے حیرت کا اظہار کیا۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مرم مسلسل اسے ہی دیکھتی رہی۔ بالآخر سوچ بچار کے بعد ایک نتیجے پر پہنچتے ہوئے اس نے جیف سے اپنے اور اس کے متعلق کھل کر گفتگو کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے خیال میں یہ حسین جادو نگری ہی وہ بہترین جگہ تھی جہاں ان کے حسین مستقبل کو ترتیب دیا جانا چاہیے تھا۔ اس نے ایک نظر مڑ کر پیٹر اور ڈینیل کو دیکھا جو اپنے اپنے موبائل کان سے لگائے محو گفتگو تھے۔
    ”ابراہیم پھر تم کب چل رہے ہو موری اور ددا سے ملنے؟” اپنے کام میں مگن جیف نے کچھ چونک کر کیمرا چہرے سے ہٹا کر اسے دیکھا پھر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ ایک اور کلک کی آواز۔
    ”دیکھو اگر موقع ملا ٹور کے بعد تو کوشش کروں گا۔” اس نے سرسری انداز میں مبہم سا جواب دیا۔
    ”کیا مطلب ہے کوشش کروں گا؟ ظاہر ہے تمہیں ملنا تو ہے ہی۔” مرم نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”کہیں تم اب پھر پہلے کی طرح زبردستی ان سے ملانے پر قائل تو نہیں کرنے والی؟ جس طرح تم نے آئر لینڈ گھومنے پر ہمیں آمادہ کیا تھا؟” جیف نے اس بار مسکراتے ہوئے مصنوعی حیرت سے پوچھا۔
    ”میں چاہتی ہوں مجھے تمہیں اس بار فورس نہ کرنا پڑے بلکہ تم خود اپنی مرضی سے وہاں جاؤ اور…” اس نے بات ادھوری چھوڑدی۔
    ”اور؟” وہ اب مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ تھا۔
    ”اور…” وہ جھجکی۔
    ”اور ہمارے متعلق بات کرو۔” بات کے اختتام پر وہ کھل کر مسکرائی اور اس کی روشن آنکھیں بھی اس کے لبوں کا ساتھ دے رہیں تھیں۔
    ”بات؟ کون سی بات؟”’وہ اب تک ناسمجھی سے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
    ”جیف ایسا کیوں بول رہے ہو؟ تم جانتے ہو میں کیا بات کر رہی ہوں۔” وہ اب بھی پر اعتماد دکھائی دے رہی تھی۔
    ”نہیں میں نہیں جانتا۔ وضاحت کرو۔” اب اس کے لہجے میں معمولی سی تلخی شامل تھی۔
    ”جب تک تم ان سے ملو گے نہیں تب تک کیسے بات آگے بڑھے گی ہماری شادی کی۔” اس بار وہ بھی سنجیدہ ہو چکی تھی۔
    ”واٹ؟ شادی؟ ہماری؟ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟” وہ حیرت کی زیادتی سے چلا اٹھا۔
    ”تم پاگل ہو کیا؟ کب میں نے تمہیں کہا کہ مجھے شادی کرنی ہے تم سے؟ میرے کون سے عمل، کون سی بات سے تمہیں یہ لگا کہ مجھے تم میں دل چسپی ہے؟ ذرا سی دوستی اور ہنسی مذاق کو نہ جانے تم نے کیا سمجھ لیا۔” وہ سر جھٹک کر تلخی سے بڑبڑایا۔ جیف کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسا بھی کچھ سوچ سکتی ہے۔ وہ اسے خاصی سمجھ دار اور عقل مند لڑکی سمجھا تھا۔ باقیوں سے قدرے مختلف اس قسم کی جذباتی حرکت کا اسے بالکل اندازہ نہیں تھا۔
    مرم پھٹی پھٹی آنکھوںسے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ سامنے کھڑا شخص اسے دنیا کا جھوٹا اور بے حس ترین انسان لگ رہا تھا۔
    ”کون سا عمل؟ بتاؤں تمہیں کون سا عمل؟” وہ اونچی آواز میں چلائی۔ ذرا فاصلے پر کھڑے پیٹر اور ڈینیل اب حیرت سے ان دونوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔
    ”اگر دل چسپی نہیں تھی مجھ میں تو یہ کیوں دی مجھے؟ بولو۔” وہ غصے اور ہتک کے احساس سے پاگل ہو رہی تھی۔ اس نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر اس کے چہرے کے بالکل نزدیک کیا۔
    ”کیوں دی یہ رنگ مجھے؟ جواب دو؟ صرف میرے جذبات سے کھیلنے کے لیے۔ تم…تم۔” اس کے دماغ میں چلتے جھکڑ اسے کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے محروم کر چکے تھے۔
    انگوٹھی پر نظر پڑتے ہی اگلے لمحے جیف کی حیرانی ختم ہو گئی، انگوٹھی؟ اس کے نظروں کے سامنے دنیا گھومنے لگی۔ وہ کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ یہ کیا کر دیا اس نے؟ کتنی بڑی بے وقوفی کی جو یہ دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی کہ وہ دے کیا رہا ہے۔ وہ لڑکی اسے بتانا بھی چاہتی تھی، مگر اس نے ڈپٹ کر اسے خاموش کرا دیا۔ اوہ میرے اللہ یہ کیا ہو گیا مجھ سے؟ کیا کیا نہ سوچا ہو گا اس نے؟ کتنی آگے پہنچ چکی ہے یہ؟ اس انگوٹھی کا مطلب اس نے وہی لیا جو عموماً لیا جاتا ہے۔ آج اسے پیٹر اور ڈینیل کی محظوظ کن پراسرار مسکراہٹ کی وجہ سمجھ آئی تھی جب مرم نے انہیں اس کا دیا تحفہ دکھایا تھا۔ تب بھی وہ نہ دیکھ پایا کہ کیا ہے اس ڈبے میں۔ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اس وقت تو بس اس لڑکی پر غصہ تھا اسے سو۔
    ”اب کیوں خاموش ہو بولو؟ جواب دو؟” اس کی سوچوں سے ناواقف وہ مسلسل چلا رہی تھی۔ ڈینیل آگے بڑھنا چاہتا تھا، مگر پیٹر نے اسے اشارے سے خاموش رہنے کا کہا تاکہ یہ معاملہ کسی انجام کو تو پہنچے، چاہے برا ہی صحیح۔
    ”یہی رنگ کیوں دی مجھے؟ جانتے ہو اس کا مطلب کیا ہے؟ ان ہاتھوں کا؟ اس دل کا؟ اس تاج کا؟” اس کے ایک مرتبہ پھر مخاطب کرنے پروہ چونک کر مرم کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ اب تک ہاتھ اس کے چہرے کے قریب کیے ہوئے تھی۔ اس کی بات سمجھ آتے ہی جیف کی نظریں انگوٹھی پر جم سی گئیں۔ اس نے اب غور کیا کہ وہ کس طرح کی انگوٹھی تھی۔ اب وضاحت کرنا ضروری ہو گیا تھا۔
    ”دیکھو یہ صرف تمہاری سالگرہ کا تحفہ تھا۔ مجھے لگا تمہیں یہ پسند آئی ہے تو بس اسی لیے دے دی۔ باقی اور کوئی مطلب نہیں تھا۔ یہ صرف ایک انگوٹھی ہی تو ہے۔” اس کا انداز معذرت خواہانہ ضرور تھا، مگر اس میں بے پروائی اور بے حسی کا تاثر جھلک رہا تھا۔ جیسے کوئی سنگین غلطی کر کے بغیر شرمندگی کے سوری بول دیا جائے۔ یوں ہی سرسری سا سوری کہ اب یہی ہے کہنے کو میرے پاس تو اسے ہی قبول کرنا ہوگا تمہیں۔ اس انداز پر مرم کا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا۔
    ”صرف انگوٹھی؟” وہ رو دینے کو تھی۔ اسے اس کی بے حسی پر غصے کے بجائے اب دکھ ہو رہا تھا۔
    ”یہ صرف انگوٹھی نہیں ہے جیف ابراہیم… یہاں کے کلچر میں یہ انگوٹھی کوئی لڑکا ایک لڑکی کو اسی وقت دیتا ہے جب وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہو۔” وہ اب بھی تیز اور ترش لہجے میں بول رہی تھی۔
    ”ان ہاتھوں کا مطلب یقین، دوستی اور ساتھ ہے، عمر بھر کا ساتھ اور اس تاج کا مطلب وفاداری ہے اور…اور اس دل کا مطلب۔آہ چھوڑو تم کیا سمجھو گے۔” طنزیہ لب و لہجے میں کہتی وہ اب ہاتھ نیچے کر چکی تھی۔ شدت ضبط کے باعث اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور ہونٹ بھینچے ہوئے تھے۔ بالآخر ضبط کا دامن چھوٹا اور ایک ننھا سا قطرہ گالوں پر سے پھسلتا چلا گیا۔ ان دونوں میں سے کسی کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں بچا تھا۔
    مرم نے بے دردی سے اپنی آنکھیں رگڑیں۔
    ”مجھے تمہاری اس عنایت کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم جیسا بے حس شخص میرے سچے جذبوں کے قابل ہی نہیں تھا۔” انگوٹھی اتار کر اس کی طرف اچھالی گئی اور پھر وہ تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔ آبشار کی صورت گرتا پانی اب بین کرتا معلوم ہو رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”تم جیسا بے حس شخص میرے سچے جذبوں کے قابل ہی نہیں تھا۔” تلخی بھرا لہجہ ایک بار پھر اس کی سماعت میں گونجا۔ کی پیڈ پر تیزی سے چلتے اس کے ہاتھ ایک بار پھر ساکت ہوئے تھے۔ ایک بار پھر کرب اور اذیت سے اس نے آنکھیں میچ لیں۔
    ”گاڈ میں کیا کروں کے یہ جملہ میرا پیچھا چھوڑ دے۔ ”اِس نے اپنے بالوں کو جکڑتے ہوئے بے بسی سے سوچا۔
    ”وہ کیا جانے کہ میں نے اسے وہی لوٹایا جو مجھے ہمیشہ دوسروں سے ملتا رہا۔ وہ کیا جانے کہ جو چیز ساری زندگی سمیٹی ہے میں نے، وہی آگے منتقل کروں گا نا میں۔ اسے کیا معلوم یہ بے حسی مجھے ورثے میں ملی ہے۔ میری رگ رگ میں یہی ایک جذبہ تو پوری طرح سے سمایا ہوا ہے۔ پر وہ کیا جانے۔” تھکی تھکی سی سانس فضا کے سپرد کر کے وہ صوفے پر ہی نیم دراز ہو گیا۔
    ”کہتی ہے شادی کرنی ہے تم سے، میرے بزرگوں سے ملو۔ جیسے مجھے اِدراک ہی نہیں کہ مجھ جیسے کو پہلی نظر دیکھنے پر ان کا ردعمل کیا ہو گا؟ ایک بار پھر مسترد ہونے کی ذلت نہیں اٹھا سکتا میں۔ اب اپنا تماشا بنوانے کا حوصلہ نہیں مجھ میں۔اس کے سر پر جو محبت کا بھوت سوار ہے وہ اسی لمحے اتر جائے گا جس وقت لوگ پہلا طنز اور تمسخر بھرا نشتر اس کی جانب پھینکیں گے۔میں تو شاید اپنی اسی خوبی (بے حسی) کی وجہ سے برداشت کر جاؤں، مگر وہ نہیں سہ پائے گی۔ تب عمر بھر کا ساتھ، وفاداری اور وہ دل، اس کا مطلب… جو میں جانتا تو ہوں پر سمجھنا نہیں چاہتا۔ سب ایک پل میں ختم ہو جائے گا جس چیز کو وہ آج میرے پیروں کی بیڑیاں بنانا چاہتی ہے کل وہی پیروں کی دھول بن جائے گی۔ ہاں میں جانتا ہوں ایسا ہی ہو گا، تو پھر کیوں میں…” اس کی سوچوں کو اسی لمحے تھمنا پڑا۔ کوئی مستقل بیل پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا ۔ وقفے وقفے سے دروازہ بھی بجایا جا رہا تھا۔ ناجانے کون ایسا بے صبرا تھا ۔ اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔
    ”اوہ ڈین تم۔ مجھے لگا پتا نہیں کون ہے۔ اتنے جنگلی کیوں بن رہے ہو تم لوگ؟ ”
    ”بتاؤں کیوں؟ کیوں کہ آج میں تم سے تمہاری زبان میں بات کرنے آیا ہوں۔” ڈینیل کے ترش لہجے میں غصہ نمایاں تھا۔
    ”ڈینیل آرام سے۔” پیٹر نے اسے پرسکون رہنے کو کہا۔
    ”کیوں رہوں میں پرسکون؟ اس سب کے بعد بھی جو اس نے آج کیا ہے؟ کیا چاہتا ہے یہ ؟ کیوں اپنا ہی دشمن بنا ہوا ہے یہ ؟” بالآخر وہ پھٹ پڑا۔
    ”آج چاہے ہماری دوستی کا آخری دن ہو، مگر آج میں کھل کر بات کروں گا۔ پھر چاہے زندگی بھر یہ میری شکل نہ دیکھے۔پھر مجھے افسوس نہیں ہو گا کہ میں نے اپنے دوست کو کنویں میں گرنے سے روکا نہیں۔” پیٹر نے اس کی تائید میں سر ہلایا جب کہ وہ گم صم کھڑا ڈینیل کو تک رہا تھا۔
    ”مجھے بتاؤ تم اپنے ہی دشمن کیوں ہو ؟ کیوں تم سے برداشت نہیں ہو رہی اپنی زندگی کی واحد خوشی؟ کیوں کیا اس کے ساتھ ایسا؟ کیا تم ابنارمل ہو جیف جو اپنی جانب بڑھنے والی ہر خوشی، ہر سکھ کو روک دیتے ہو؟کیا سمایا ہوا ہے تمہارے دماغ میں بتاؤ مجھے؟ کیوں اپنے ماضی کی وجہ سے اپنا مستقبل تباہ کر رہے ہو تم؟ کیوں سینے سے لگا رکھا ہے تم نے اپنے ماضی کی تلخ یادوں کو؟”
    ”تم،تم…کیسے جانتے ہو سب؟ تمہاری یہ جرأت؟ کس نے تمہیں حق دیا کہ تم میرے ماضی کو کھوجو؟ اس کے حوالے سے کوئی بات کرو مجھ سے؟” وہ جو شروع میں سب کچھ خاموشی سے سن رہا تھا اچانک ماضی کا ذکر آنے پر چلا اٹھا۔
    ”ہاں مجھے حق ہے کیوں کہ میں خود کو تمہارا دوست کہتا نہیں بلکہ مانتا بھی ہوں۔ اسی لیے حق رکھتا ہوں تم سے اس حوالے سے بات کرنے کا۔” ڈینیل نے خود اعتمادی سے جواب دیا۔ اس کی اس بات پر جیف لب بھینچ گیا۔
    ”دیکھو جیف ہم صرف تمہارا بھلا چاہتے ہیں۔ وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔اس کا ہاتھ تھام لو۔مجھے یقین ہے وہ تمہیں سنبھال لے گی۔” اس بار پیٹر نے اسے رسان سے سمجھانا چاہا تھا۔
    ”مجھے کسی کی ضرورت نہیں۔” اس نے تلخی سے جتایا۔
    ”وہ اچھی لڑکی ہے میں جانتا ہوں، مگر میں اچھا نہیں سو یہ بحث یہیں ختم کرو ورنہ…”
    ”ورنہ کیا ہاں؟ کیا کرو گے؟ ہم سے دوستی ختم کر لو گے؟ سب چھوڑ کر چلے جاؤ گے؟ یا پھر اس کے پاس جا کر اسے بے عزت کرو گے دوبارہ؟” ڈینیل نے تیز لہجے میں کہا۔
    ” نہیں میں خود کو ختم کر لوں گا۔” اس کے سپاٹ لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔ جیسے وہ جو کہہ رہا تھا سو فیصد وہی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ وہ دونوں پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کے بے تاثر چہرے کو دیکھنے لگے
    ٭…٭…٭

  • مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۲)

    مور پنکھ کے دیس میں — حرا بتول (قسط نمبر ۲)

    اگلے روز وہ چاروں تاریخی کیٹ کیارنی(kate kearney) کاٹیج کیفے کی کھلی فضا میں لنچ کے لیے بیٹھے تھے۔
    ”جلدی جلدی بتا کیا آرڈر کرنا ہے؟ ہمیں گھنٹے کے اندر اندر نکلنا ہے یہاں سے آگے کے لیے۔” پیٹر نے مینو دیکھتے ہوئے سب ہی کو مخاطب کیا۔ ویٹر مستعدی سے کھڑا آرڈر کا انتظار کر رہا تھا۔
    ”میں صرف مشروم سوپ لوں گی۔” مرم نے کارڈ پر نظر دوڑاتے ہوئے بتایا۔
    ”اوکے اور تم جیف ہمیشہ کی طرح بینز، مکئی اور سبزیوں کی سلاد ہی نوش فرماؤ گے۔” ڈینیل نے پوچھا تو جیف نے سنجیدگی سے سر ہلا کر اپنی مطلوبہ ڈش کا نام ویٹر کو بتایا۔ پھر کھانا آنے تک وہ یہاں کی جگہوں پر تبصرہ کرتے رہے۔
    ”ویسے مرم یہ جو کل کاٹجِز ہم نے دیکھے تھے تمہارے خیال میں کتنے کے ہوں گے؟ میں سوچ رہا ہوں کہ نینسی کو شادی کے گفٹ کے طور پر انہیں میں سے کوئی دے دوں۔ تمہاری طرح اسے بھی اس قسم کے بچگانہ رومانوی کاٹیج بہت پسند ہیں۔” ڈینیل نے شرارتی لہجے میں دریافت کیا، تو مرم نے اسے آنکھیں سکیڑ کر تیز نظروں سے گھورا۔ وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ ڈینیل اس کی کہی بات کا مذاق اڑا رہا ہے۔
    ”ہاں پھر ہنی مون کے لیے تم دونوں یہیں آجانا۔ آئیڈیل جگہ ہے یہ اس طرح کے ٹرپ کے لیے۔” یہ پیٹر کا مشورہ تھا۔
    ”مجھ سے زیادہ نینسی کو اس جگہ میں دل چسپی ہو گی سو میں تو کبھی اسے یہاں نہ لاؤں۔” وہ تو ویسے بھی دیوانی ہے قدرتی نظارے دیکھنے کی۔ میں نے جب اسے یہاں کیلارنی آنے کا بتایا تو اسے افسوس ہوا کہ میری آفر کے باوجود وہ یہاں کیوں نہیں آئی میرے ساتھ۔ ”
    ”ہاں تو پھر یہاں گھر خریدنے کا فائدہ؟ ویسے بھی وہ سب بکنے کے لیے نہیں ہیں۔” مرم نے وثوق سے بتایا۔
    ”سب بک جاتا ہے اگر دام اچھا ملیں تو۔” ڈینیل نے بھی اسی کے انداز میں جتایا۔ ویٹر اب کھانا لگا رہا تھا اس لیے مرم قصداً خاموش رہی اس کے جانے تک۔
    ”یہاں کے لوگ لالچی نہیں ہیں بلکہ بہت قناعت پسند اور اپنے بازوؤں پر بھروسا کرنے والے ہیں۔ یہ کاٹیج یہاں کے لوگوں کے قدیم اثاثے ہیں جو ان کے آباء و اجداد کی طرف سے انہیں ملے ہیں۔ وہ کبھی انہیں نہیں بچیں گے۔” مرم نے ابرو اچکا کر ڈینیل کی طرف دیکھا۔ بڑی مشکلوں سے اس نے کوئی سخت لفظ استعمال کرنے سے خود کو روکا تھا۔ اپنے ملک اور قوم کے متعلق کوئی ایک بھی غلط لفظ وہ برداشت نہیں کرتی تھی بالخصوص کسی غیر ملکی کے منہ سے۔ ایک دو مرتبہ غلطی سے ڈینیل کے منہ سے کسی جگہ کے متعلق ”بس ایویں” اور ”فضول” جیسے الفاظ نکل گئے تھے۔ بس پھر مرم تھی اور اپنے ملک کے دفاع میں بولی جانے والی اس کی تاریخی تقریر تھی۔اپنے ملک کے لیے وہ لڑنے مرنے کو ہر وقت تیار رہتی تھی۔ وہ تینوں ہی اس کی اس عادت کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے اور بہت متاثر بھی تھے، مگر ڈینیل کبھی کبھی شرارت میں اسے کوئی نا کوئی بات کر دیتا، تو اس کا غصہ دیکھنے والا ہوتا۔ ورنہ بہت ہی کم وہ غصے میں آتی تھی۔

    ”یار پلیز تم لوگ زبانیں کم اور ہاتھ زیادہ چلاؤ۔ وہ بگھی کا مالک وہاں کھڑا ہمیں گھور رہا ہے۔ اس نے آدھے گھنٹے رکنے کا کہا تھا یہاں اور اب ڈیڑھ گھنٹا ہونے والا ہے۔ ہمیں آگے بھی جانا ہے سو ذرا جلدی کرو دس منٹ کے اندر اندر نکلو یہاں سے۔” لمبی بحث چھڑتی دیکھ کر پیٹر نے انہیں تنبیہ کی تو وہ سب اپنی اپنی پلیٹوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔
    ”تم لوگ بیٹھو میں آتی ہوں ابھی۔” اپنا سوپ جلدی جلدی ختم کر کے مرم نے بنچ پر سے اٹھتے ہوئے کہا۔
    ”تم پھر کہیں غائب ہو رہی ہو؟ مجھے سمجھ نہیں آتی تم جاتی کہاں ہو؟ ہم جہاں بھی گئے اب تک وہاں بھی تم ایسے ہی کچھ دیر کے لیے گم ہو جاتی ہو، چکر کیا ہے آخر یہ؟” ڈینیل نے اسے اٹھتے دیکھا، تو کہے بنا نہ رہ سکا۔ وہ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا، اس دن غار میں بھی وہ ”ابھی آئی” کہہ کر نہ جانے کہاں چلی گئی تھی اور آج بھی بنا کچھ وضاحت کے کہیں جا رہی تھی۔
    ”میری فطرت میں بھی رازداری ہے۔” ڈینیل کو اسی کی کہی بات لوٹا کر وہ چلی گئی۔
    ”اس لڑکی کی حرکتیں کبھی کبھی مجھے مشکوک لگتیں ہیں۔” ڈینیل نے جیف اور پیٹر کی توجہ اس گمبھیر مسئلے کی طرف دلانا چاہی۔
    ”چھوڑو یار ہمیں کیا گئی ہو گی کسی کام سے۔ ہو سکتا ہے واش روم میں جا کر اپنا میک اپ وغیرہ ٹھیک کرتی ہو۔” پیٹر جو کہ اپنے موبائل میں مگن تھا سرسری انداز میں بولا۔
    ”میک اپ ؟ کون سا میک اپ؟ آج تک لپ اسٹک تک تو لگی دیکھی نہیں میں نے۔ ہمیشہ سادہ ہی رہتی ہے۔ ٹام بوائے قسم کی لڑکی ہے یہ۔ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ اس طرح کے کاموں میں اس کی دل چسپی صفر ہو گی۔”
    ”ڈینیل بس بھی کر دو یار۔ اتنا کیوں کرید رہے ہو ہمیں کیا؟” جیف نے اسے ٹوکا۔
    ”یار جیف ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی جاسوسی ایجنٹ ہو اور اب رپورٹ دینے گئی ہو اپنے باس کو۔” ڈینیل دور کی کوڑی لایا۔
    ”ہاں یہ بتائے گی نا کہ مشہور ترین ہستی ڈینیل دی گریٹ کیمرا مین نے آج فلاں فلاں بونگیاں ماریں اور کھانے میں سالم مچھلی ہڑپ کی۔” جیف نے ہنستے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا۔
    ”یار جا کر دیکھو تو سہی کہ کہاں گئی ہے اور جا کر بات بھی کر لو اس سے۔” ڈینیل نے آنکھوں کے اشارے سے اسے یاد دلانا چاہا کہ اس نے اب تک سوری نہیں بولا تھا مرم کو۔
    ”تم ایک انتہائی فضول شخصیت ہو۔” اس کے بار بار کے اشاروں پر جیف بڑبڑاتا ہوا اٹھ گیا۔”
    ”کیا ہوا وہ معاملہ اب تک سلجھا نہیں۔” جیف کے جانے کے بعد پیٹر نے استفسار کیا تو ڈینیل مسکرایا۔
    ”فکر نہ کرو سلجھ جائے گا۔ مجھے لگتا ہے یہ کہانی نیا موڑ لینے والی ہے۔” اس نے پر سوچ انداز میں کہا۔
    ٭…٭…٭
    جیف اسے ڈھونڈتا ہوا پہلے کیفے کے اندر گیا۔ وہاں ہال نما دو کمرے تھے۔ ایک میں ریستوران بنا تھا اور دوسرا بار کے لیے مخصوص تھا۔ سامنے ریستوران میں تو وہ اسے نظر نہیں آئی اور بار میں دیکھنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا کیوں کہ اب تک اس نے مرم کے کردار میں کوئی جھول نہیں دیکھا تھا۔ اسے یقین تھا وہ ایسا کوئی شوق نہیں رکھتی ورنہ ایک دو مرتبہ جب پیٹر اور ڈینیل بار گئے تھے، تو وہ بھی کبھی چلی ہی جاتی ان کے ساتھ۔ پھر وہ کیفے کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھ گیا جو ایک چھوٹے سے لان میں کھلتا تھا۔
    وہاں اس وقت مکمل خاموشی اور ویرانی تھی۔ ابھی وہ واپسی کے لیے پلٹ ہی رہا تھا کہ اسے اپنے پیچھے موجود گھنے سدا بہار درخت میں سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔ اسے لگا کہ وہاں کوئی کھڑا ہے۔ کچھ سوچ کر وہ درخت کی جانب بڑھنے لگا۔ یہ ایک قدیم سدا بہار درخت تھا جس کا تنا کافی چوڑا اور کئی فٹ لمبا تھا۔ اس درخت کی گھنی شاخوں نے آدھے لان کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ وہ اب درخت کے نزدیک پہنچ گیا۔ اسے پھر سے اس درخت کے پیچھے سرسراہٹ محسوس ہوئی۔ یقینا وہاں کوئی موجود تھا۔
    پھر ایک قدم بڑھ کر اس نے درخت کے تنے پر ہاتھ رکھا اور پیچھے جھانکا۔ وہ یک دم چونک گیا اور بے یقینی اور حیرت سے سامنے دیکھتا رہا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ وہاں یہ منظر دیکھنے والا ہے۔ وہ بلاشبہ مرم ہی تھی۔ اس کی لانگ اسکرٹ جو وہ بہت مرتبہ اسے پہنے نوٹ کر چکا تھا۔ شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی اور وہ جس انداز میں وہاں موجود تھی اور جو کر رہی تھی۔وہ بے یقینی سے اسے سجدے کے انداز میں جھکا دیکھ رہا تھا۔ پیشانی کو ایک سفید رومال پر سجدے کے انداز میں رکھے وہ دنیا سے بے خبر نہ جانے کیا کرنے میں مصروف تھی۔ وہ درخت کے متوازی، جنوب مشرق کے رخ میں تھی اور اس انداز میں بیٹھی تھی کہ چوڑے درخت نے اسے مکمل طور پر چھپا لیا تھا۔
    ”یہ کیا کر رہی ہے۔” پہلا خیال اس کے ذہن میں یہی آیا تھا۔
    ”پتا نہیں اس کے مذہب میں سجدے جیسی کوئی عبادت تھی بھی یا نہیں، مگر اس کا مذہب کون سا ہے؟”اور اپنے ہی اندر سے جو جواب ملا اس پر وہ ایک بار پھر چونک گیا۔
    ”مگر میں تو سمجھا تھا کہ اس ملک کے نوے فیصد لوگوں کی طرح یہ بھی تین خداؤں پر ایمان رکھتی ہے۔تو پھر یہ چرچ کے بہ جائے یہاں کیا کر رہی ہے؟ مگر اس وقت کون سی نماز کا وقت ہے؟ تو کیا اس درخت کو،مگر نہیں اس کا رخ تو…” وہ الجھا الجھا سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ مرم اب سجدے سے اٹھ رہی تھی اس لیے وہ تیزی سے پیچھے ہٹا۔ پھر پیشانی مسلتے ہوئے کچھ سوچ کر واپس کیفے کے دروازے کی طرف چل پڑا۔
    ٭…٭…٭
    مئی کے وسط کی اس بھیگی دوپہر میں انہوں نے درہ ڈنلوہ(gap of dounloe) اور کیلارنی کی پرکشش جھیلوں کی طرف اپنا سفر شروع کیا تھا۔ یہ درہ دراصل آئر لینڈ کے دو مشہور پہاڑی سلسلوں کے درمیان گہرا ، خطرناک اور تنگ کئی سو سالہ قدیم راستہ تھا۔ سات میل لمبے،بل کھاتے اس راستے میں آنکھوں کو خیرہ کرتے کئی قدرتی مناظر تھے۔کہیں بلند و بالا پہاڑ اور گہری کھائیاں۔ کہیں بہتی ندیوں کا شفاف پانی، کہیں سرسبز وادیاں اور چراگاہیں، تو کہیں پہاڑوں کے بیچ و بیچ بنی خوبصورت جھیلیں۔
    ڈینیل نے ضروری بات کا بہانہ کر کے پیٹر کو اپنے ساتھ بیٹھا لیا، تو مجبوراً ان دونوں کو ایک ہی بگھی میں بیٹھنا پڑا۔ مرم غصے میں کھولتی ان حسین مناظر کو ٹھیک سے انجوائے بھی نہیں کر پا رہی تھی جب کہ جیف اپنے اندرونی خلفشار کا شکار، کھویا کھویا سا بیٹھا تھا۔ ارد گرد کے مناظر، ماضی کے جھروکوں سے بہت سے مناظر چرا کر اس کے ذہن کے کینوس پر ان کا عکس دکھا رہے تھے۔
    بہت دیر تک یوں ہی گم صم بیٹھنے کے بعد بالآخر اس نے سر جھٹک کر ماضی سے پیچھا چھڑایا اور گردن موڑ کر اپنے برابر خاموش بیٹھی مرم کو دیکھا جو چہرہ دوسری جانب موڑے ہوئے تھی۔
    ”مجھے معاف کر دو مرم اس دن کے لیے۔ میں نے بہت غلط باتیں کہیں تھیں تم سے۔ اس کے لیے میں واقعی شرمندہ ہوں۔” اس کی آواز پر چونک کر مرم نے اسے دیکھا پھر سر جھٹک کر دوبارہ منہ موڑ لیا۔
    ”مجھے ندامت کا احساس اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب میں غار سے باہر آیا، مگر یہ احساس افسوس اور شرمندگی میں اس وقت تبدیل ہوا جب ڈینیل نے مجھے تمہارے جانے کے بارے میں بتایا۔ آئی ایم ایکسٹریملی سوری فار ایوری تھنگ۔” اس کے دھیمے، گمبھیر لہجے میں ندامت اور شرمندگی صا ف محسوس ہورہی تھی۔ اس کی بات سن کر مرم غصے سے پھٹ پڑی۔ اپنی توہین اور ہتک کا احساس ایک بار پھر حاوی ہوا۔
    ”تم مشہور ہو اور چند لوگ تمہارا شو دیکھتے ہیں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تم کوئی بہت ہی توپ چیز ہو۔ سلیبرٹی ہو گے تم اپنے ملک میں۔ یہاں کوئی تمہیں نہیں پہچانتا۔ سیڑھی…ہونہہ۔” وہ لب بھینچ کر چپ ہو گئی ورنہ دل تو کر رہا تھا اسے خوب ٹھیک ٹھاک سنائے۔
    ”مجھے اندازہ ہے میرے الفاظ بہت سخت تھے۔ مجھے معاف کر دو۔” وہ دل سے شرمندہ تھا تبھی اس نے مرم کے لہجے اور الفاظ کو درگزر کیا تھا۔
    ”اٹس اوکے۔” گہری سانس لے کر اس نے اپنے غصے پر قابو پایا اور سر جھٹک کر گویا ہوئی۔
    ”مگر ایک بات میں ضرور کہنا چاہوں گی کہ میں اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر تم سے دوستی اور بات کرنے کی کوشش کیا کرتی تھی۔ ورنہ اور کوئی مقصد نہیں چھپا تھا اس بے تکلفی کے پیچھے۔ اس رات تم نے میری جان بچائی بس یہی سوچ کر میں نے دوستانہ رویہ اپنانا چاہا جسے تم نے نہ جانے کیا سمجھا۔ میری کوئی بات تمہیں بری لگی اس کے لیے میں بھی معذرت خواہ ہوں۔ ” مرم نے سنجیدگی سے سامنے دیکھتے ہوئے وضاحت کی۔ وہ فطرتاً صلح جو اور ملنسار لڑکی تھی۔ دل میں بغض اور عناد رکھنا اسے آتا ہی نہیں تھا۔غصے میں اپنی بھڑاس نکال کر وہ سب بھول بھال جاتی تھی۔ اس لیے ایک مرتبہ کی معافی پر اس نے بھی اپنا دل صاف کر لیا۔
    ”نہیں تمہیں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں بس یہ بتا ؤکہ اب تم واپس تو نہیں جا رہی نا۔” جیف اس کا تبدیل شدہ فیصلہ اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
    ”نہیں واپس تو میں جا ہی رہی ہوں آج کے ٹرپ کے بعد۔” مرم نے گہری سانس لیتے ہوئے بتایا، تو جیف حیران ہوا۔
    ”مگر کیوں ؟ تم میری وجہ سے جا رہی تھی نا؟ تو ابھی میں نے معافی مانگی جو تم نے قبول بھی کر لی؟ پھر اب کیوں؟” اُس نے اچنبھے سے پوچھا۔
    ”بس مجھے ددا اور موری یاد آ رہے ہیں۔ مجھے ان سے ملنے جانا ہے اور پھر یہ تم تینوں دوستوں کا ٹرپ ہے۔ اس میں، میں نہ جانے کیا کر رہی ہوں۔”
    ”تم ہماری گائیڈ اور دوست کے فرائض بھی انجام دے رہی ہو۔” جیف نے اس بار مسکراتے ہوئے کہا۔
    ”گائیڈ تک تو ٹھیک ہے، مگر دوستی کا پتا نہیں۔” مرم نے پھیکی سی مسکراہٹ سے کہا، تو جیف سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد دوبارہ گویا ہوا۔
    ”کیا ہم اچھے دوست بن سکتے ہیں؟” لہجہ نارمل بناتے ہوئے اس نے مرم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ مرم نا سمجھی سے کبھی اسے اور کبھی اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔
    ”دیکھو نا ابھی تم نے کہا کہ دوستی کا پتا نہیں تو پتا کرنے کے لیے ہی میں تمہیں آفر کر رہا ہوں۔” جیف نے سادگی سے کہا۔
    ”ہاں تاکہ چند دن بعد پھر تم یہ بولو کہ میں سیڑھی سمجھ رہی ہوں تمہیں۔” مرم نے سر جھٹک کر جلے کٹے انداز میں کہا۔
    ”کسی مشہور ہستی نے کہا ہے کہ جب سوال کے جواب میں ”طعنے” ملنے لگیں تو سمجھ لو کہ دوستی پکی ہو چکی ہے۔” ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے اس نے خوبصورتی سے بات گھمائی۔ مرم نے جواباً کچھ نہیں کہا جس کا مطلب تھا وہ اس کی بات سے اتفاق کرتی ہے۔ چند منٹ اِن کے بیچ خاموشی چھائی رہی۔ ایک مرتبہ پھر جیف اسے پر سوچ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔بالآخر اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے تجسس کا گلا مزید نہیں گھونٹ سکتا۔
    ”مرم ایک بات پوچھوں تم مائنڈ تو نہیں کرو گی؟ نہ بتانا چاہو تو مت بتانا۔”
    ”ابراہیم تم ہر ایک کو اپنے جیسا کیوں سمجھتے ہو؟” وہ اپنے ازلی پراعتماد اور دوستانہ انداز میں گویا ہوئی۔
    ”تم… تم وہاں اس درخت کے پیچھے کیا کر رہی تھی۔ میرا مطلب ہے کہ ابھی…” وہ جھجک کر رک گیا۔ پتا نہیں یہ سوال مناسب تھا یا نہیں۔ یورپ میںزندگی گزارنے کے بعد اس نے یہی سیکھا تھا کہ وہاں کسی کے مذہب کے بارے میں پوچھنا بدتہذیبی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
    ”تمہارے خیال میں، میں درخت کو سجدہ کر رہی تھی؟ ہے نا ابراہیم؟ مگر یقین جانو وہ کوئی مقدس، پاک اور نایاب درخت نہیں تھا جسے میں سجدہ کرتی اور اگر تم نے نوٹ کیا ہو تو میں اس درخت کے برابر بیٹھی ہوئی تھی نہ کہ سامنے۔” تو گویا وہ جانتی تھی کہ جیف اسے وہاں دیکھ چکا ہے اس لیے چونکنے کے بہ جائے اس نے تحمل سے جواب دیا۔